Translater

‏Osama Bin Ladin لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Osama Bin Ladin لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

01 جون 2012

لادن کی خبر دینے والے ڈاکٹر افریدی کو 33 سال کی قید


پچھلے سال القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کو مارگرانے کی کارروائی میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ساتھ دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل افریدی کو ایک عدالت نے ملکی بغاوت کا قصوروار قرار دیتے ہوئے 33 سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ سن کر تعجب بھی ہوا اور عجیب غریب بھی لگا۔ خبر قبائلی علاقے کے سیاسی نمائندے مطاہر زیب خان نے پاکستانی اخبار ڈان کو بتایا کہ شکیل کو چار نفری قبائلی عدالت میں پیش کیاگیا۔ عدالت نے انہیں33 سال کی قید اور 3.2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ سزا سنائے جانے کے بعد شکیل کو پیشاور کی سینٹرل جیل میں بھیج دیا گیا۔ شکیل کو پاکستان جرائم دفعہ کے بجائے برطانوی قانون فرنٹئر کرائم ریگولیشن ایکٹ کے تحت قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت دیش سے بغاوت کے معاملے میں موت کی سزا کی سہولت نہیں ہے۔ ڈاکٹر شکیل نے سی آئی اے کی ہدایت پر ایبٹ آباد میں ایک ٹیکا مہم چلائی تھی تاکہ اس کی مدد سے اسامہ اور اس کے خاندان کے لوگوں کے ڈی این اے نمونے لئے جاسکیں۔ مہم سے ملے ثبوتوں کی بنیاد پر ہی امریکہ نے اسامہ بن لادن کے خلاف گذشتہ مئی مہینے میں کارروائی کرکے مار گرایا تھا۔ پاکستان کے ذریعے اٹھائے گئے اس قدم سے یہ ثابت ہوجاتا ہے پاکستان آتنک واد سے لڑنے کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اندر خانے پاکستان ہر طبقے کے آتنک وادی چاہے وہ القاعدہ کا ہو یا پھر لشکر طیبہ سے وابستہ، اس سے ہمدردی رکھتا ہے۔ پاکستان اس آدمی سے بدلہ لے رہا ہے جس نے دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گرد کو ختم کرنے میں مدد کی تھی۔ دنیا کے کسی اور کونے میں شاید ڈاکٹر افریدی کا سنمان کیا جاتا ہو لیکن پاکستان میں وہ ایک ملک دشمن ہے جس نے دیش کے خلاف غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد کی تھی۔ اگر پاکستان کے دوہرے گیم اس قصے سے بے نقاب ہوتے ہیں تو امریکہ پر بھی سوال اٹھتے ہیں کہ وہ اپنے ذرائع یعنی مخبر کو بچا نہیں پایا۔ اس قصے سے پاکستان اور امریکی رشتوں میں مزید کشیدگی بڑھے گی۔ امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری بل کلنٹن نے فیصلے کو غیر انصافی اور دشمنی پر مبنی بتایا۔ ساتھ ہی امریکی سینیٹ کے ایک پینل نے اسلام آباد کو دی جانے والی مدد میں کٹوتی بھی کردی ہے۔ ہلیری نے کہا کہ افریدی کے ساتھ جو کیا گیا ہے وہ انصاف پر مبنی نہیں ہے انہیں قصوروار ٹھہرائے جانے پر افسوس ہے، انہوں نے جو مدد کی وہ دنیا کے سب سے خطرناک قاتلوں میں سے ایک کا خاتمہ کرنے میں کی، یہ صاف طور پر پاکستان کے اور ہمارے اور پوری دنیا کے مفاد میں تھا۔ دوسری طرف پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرنا کسی بھی دیش کے قانون کے خلاف ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے پر عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ ہماری آزادانہ عدلیہ ہے جس کو پاکستان پیپلز پارٹی بحال کیا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے پہلے سے کشیدہ رشتوں میں ایک اور باب جڑ گیا ہے۔ ہماری رائے میں پاکستان کا یہ قدم آتنک وادیوں کے حوصلے کو بڑھانے والا ہے۔
(انل نریندر)

01 مئی 2012

یوں ہوا اسامہ بن لادن کا خاتمہ



Published On 1 May 2012
انل نریندر
امریکہ کی نامور میگزین دی ٹائم نے پہلی مرتبہ اسامہ بن لادن کے متعلق ایک خفیہ رپورٹ شائع کی ہے جس میں صدر براک اوبامہ نے لادن کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔ حالانکہ اس پورے آپریشن کی ساری کارروائی پہلے بھی منظر عام پر آچکی ہے لیکن میگزین ٹائم کی رپورٹ ایک طرح سے پختہ رپورٹ مانی جاسکتی ہے۔ خفیہ میمو میں اوبامہ نے بحریہ کے سیلس کمانڈو کی ایک ٹیم کو لادن کے ایبٹ آباد میں واقع ٹھکانے سے پکڑنے کے احکامات دئے تھے۔ اس میمو پر سی آئی اے کے اس وقت کے چیف لیون پینیٹا نے بھی دستخط کئے ہیں۔ اسامہ کے ٹھکانے پر نہ ملنے کی صورت میں اس کو تلاش کرنے کے بعد ہی لوٹنے کا دیا تھااب جبکہ اسامہ بن لادن کی موت کو ایک سال ہوجائے گا میمو میں مزید کہا گیا تھا کہ وقت اور آپریشن کے چلانے اور فیصلے اور حملے کے کنٹرول سے متعلق سبھی معاملات کی کمان ایڈمرل میکربین کے ہاتھوں میں ہوں گی۔ اسامہ پر فیصلہ لئے جانے سے پہلے وائٹ ہاؤس میں مہینوں چلی خفیہ و مشکل تبادلہ خیالات پر ٹائم میگزین نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس کے لئے اوبامہ صدارتی عہدے کا داؤ لگا رہے تھے۔ دنیا کے انتہائی مطلوب شخص کو پاکستان میں امریکی کمانڈو بھیج کر پکڑنے کا فیصلہ اتنا آسان نہیں تھا۔ اسامہ کے ساتھ آخری مڈبھیڑ پر ٹائم میگزین نے لکھا ہے کہ اندھیری رات تھی ،بجلی گل تھی اورگھپ اندھیرا تھا اس نے اسامہ کی بے چینی بڑھا دی۔اس نے اس گیٹ کو کھولا جو اس کے کمرے تک پہنچنے کے سبھی راستوں کو بند کرتاتھا اور گیٹ کو صرف اندر سے ہی کھولا جاسکتا تھا۔اس نے یہ دیکھنے کیلئے سر باہر نکالا کہ وہاں کیا ہورہا ہے؟ فوراً وہ سیلس کمانڈوں کی نظروں میں آگیا اور وہ سیڑھیوں پر چڑھ گئے۔ اسامہ نے ایک بڑی غلطی اور کردی، وہ دروازہ بند کرنا بھول گیا جس سے کمانڈو سیدھے اس کے کمرے میں دھابہ بول دیا۔ کمانڈو نے لادن کے سینے اور بائیں آنکھ میں گولیاں مالیں۔ اس سے اسے موقعہ پر ہی ماردیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے یہ ایک ناقابل بیاں منظر تھا۔ اس کے دماغ کے پرخچے اڑ گئے اور چھت سے جا چپکے۔ اس کا کچھ حصہ آنکھوں سے باہر نکل آیا۔ بستر کے نزدیک کی جگہ بھی اسامہ کے خون سے لت پت ہوگئی۔ ایک دہائی سے چھپتا پھر رہا اسامہ بیحد تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ بچ کر نکلنے کی اس نے کئی اسکیمیں نہیں بنائی تھیں اس کے گھر سے کوئی خفیہ راستہ باہر نہیں جاتا تھا۔ لادن مارے جانے سے پہلے پاکستان میں کئی حملوں کی اسکیم بنا رہا تھا۔ ایبٹ آباد کمپلیکس سے ملے دستاویز سے ایک بات سامنے آئی ہے۔ میڈیا میں شائع رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ لادن نے القاعدہ کے نمبر دو سرغنہ ایمن الظواہری اور بڑے آتنکیوں کے ساتھ مل کر پاکستان پر بہت سے حملوں کی اسکیم بنائی تھی۔ ادھر امریکہ کی ایک فیڈرل عدالت نے لادن کو تقریباً ایک برس پہلے پاکستان میں مارے جانے کے ویڈیو اور تصویریں جاری کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ ایبٹ آباد میں مارے جانے کے بعد لادن کی لاش کو سمندر میں دفنا دیا گیا لیکن سکیورٹی وجوہات سے اس آپریشن سے وابستہ ویڈیو اورتصویریں پبلک کے سامنے نہیں لائی گئی تھیں۔ اسامہ بن لادن کی برسی سے چند دن پہلے پاکستان نے اس کی تین بیوہ بیویوں سمیت 14 رشتے داروں کو ملک سے نکال کر سعودی عرب بھیج دیا ہے۔ سخت حفاظت کے درمیان لادن کے خاندان کو درمیانی رات میں راولپنڈی کے چکلال فوجی ہوائی اڈے سے لیجایا گیا جہاں سے خاص جہاز سے انہیں سعودی عرب بھیج دیاگیا۔ لادن پچھلے سال 2 مئی کو مارا گیا تھا۔
Abbotabad, Anil Narendra, Daily Pratap, Obama, Osama Bin Ladin, Pakistan, Vir Arjun

07 اپریل 2012

نوٹنکی باز پاکستان


Published On 7 March 2012
انل نریندر
جب میں نے یہ خبر پڑھی کہ پاکستان کی ایک عدالت نے القاعدہ کے سابق سرغنہ اسامہ بن لادن کے خاندان کے14 افراد کو9 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے ، کیونکہ ان پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے پاکستان آئے اوررہے تو مجھے ہنسی آگئی۔ پاکستان کو نوٹنکی کرنے کی عادت سی بن گئی ہے۔ بن لادن کی تین بیویوں دو بیٹیوں کو باقاعدہ طور سے 3 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تین بیویوں میں سے سب سے چھوٹی یمن کی ہے اور باقی دو سعودی عرب کی باشندہ ہیں۔
پچھلے سال2 مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز نے لادن کو مار گرایا تھا۔ انہیں وہیں سے پکڑا گیا تھا۔ اب یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسامہ بن لادن برسوں سے پاکستان میں ہی رہ رہا تھا۔ اس کا سیدھا رابطہ پاکستان خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے بنا ہوا تھا۔ برطانیہ کے اخبار دی ٹیلی گراف نے دوبارہ سرگرم ہوئی انٹر نیٹ ویب سائٹ وکی لکس کے ذریعے شائع کردہ 50 لاکھ نئے دستاویزات سے اس کی تصدیق کی ہے۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے کم سے کم 12 افسران کو لادن کے ایبٹ آباد میں واقع محفوظ مقام پر چھپے ہونے کی خبر تھی اور وہ اپنی موت سے پہلے اسامہ جس مکان میں رہ رہا تھا اسے بنوانے کے لئے آئی ایس آئی نے خاص طور سے ایک آرکیٹیکٹ مقرر کیا تھا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ لادن کے اس ٹھکانے پر لشکر طیبہ کے لوگ بھی آتے جاتے رہتے تھے۔ رپورٹ میں آگے بتایا گیا پاکستان کی فوجی اکیڈمی کے پاس بنے لادن کے ایبٹ آباد میں واقع ٹھکانے کے اصلی دستاویزتو غائب ہیں لیکن اس کے آرکیٹیکٹ کو آئی ایس آئی نے باقاعدہ طور پر مقرر کیا تھا۔ آرکیٹیکٹ کو یہ کہہ کر مقرر کیا گیا تھا کہ ایک معزول انتہائی اہم شخص اس مکان میں رہنے آرہا ہے ۔ یہ ہی نہیں اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں اپنے چار بچوں کے ساتھ رہتا تھا اور اس کے دوبچوں کی پیدائش ایبٹ آباد کے سرکاری ہسپتال میں ہوئی تھی اور پھر بھی پاکستان یہ دعوی کرے کے اسے اسامہ کے پاکستان میں رہنے کی جانکاری نہیں تھی، مضحکہ خیز نہیں ہے تو یہ کیا ہے؟ یہ کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں؟ آج تک پاکستان نے کسی بھی بات کو قبول کیا ہے؟
یہ تو داؤد ابراہیم کو بھی نہیں جانتے۔ بار بار یہ ہی کہتے ہیں کہ داؤد پاکستان میں نہیں ہے جبکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ کراچی کے کلکٹن ایریا میں برسوں سے رہتا ہے اور وہیں سے اپنی سرگرمیاں چلا رہا ہے۔ اب لادن کی بیوی اور بچوں کو جیل میں یہ کہہ کر ڈالنا کے وہ غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں رہ رہے تھے، یہ نوٹنکی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ لیکن اب پاکستان کی نوٹنکی بے نقاب ہوچکی ہے۔ ساری دنیا اسے جان چکی ہے اس لئے شاید ہی کوئی اب یہ مانے کے پاکستانی فوج آئی ایس آئی اور پاک سرکار کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ایبٹ آباد میں کون رہ رہ ہے۔
Abbotabad, Anil Narendra, Daily Pratap, Osama Bin Ladin, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

04 جنوری 2012

نہایت خطرناک چوراہے پر کھڑا پاکستان


Published On 4th January 2012
انل نریندر
2012 کا سال پاکستان کے لئیبہت اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔ پاکستان ایک ساتھ کئی محاذ پر جدوجہد کررہا ہے۔ سیاسی مورچے پر صدر آصف علی زرداری بنام عمران خان کی تحریک انصاف پارٹی کھلی جنگ چھڑ گئی ہے۔ عمران خان کی مقبولیت کا گراف بڑھ رہا ہے۔ دوسرا محاذ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف شجاع احمد پاشا کے درمیان کھلا ہوا ہے۔ حالانکہ جنرل کیانی کا کہنا ہے پاکستان میں فوجی حکومت کا امکان نہیں ہے لیکن جس طریقے سے دونوں فریقین کے درمیان فاصلہ اور اعتماد بڑھا ہے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ ادھر پاکستانی پارلیمانی کمیٹی نے میموگیٹ کی جانچ زور شور سے شروع کردی ہے۔ امریکی حکومت کو بھیجے گئے خفیہ خط (میموگیٹ) معاملے کی جانچ کررہی پاکستانی پارلیمانی کمیٹی نے اس وقت کے سفیرحسین حقانی ، پاکستانی نژاد کے امریکی تاجر منصور اعجاز اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا کو سمن بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ 10 جنوری کو کمیٹی کی اگلی میٹنگ میں ان تینوں کو شخصی طور پر حاضر ہونا پڑ سکتا ہے۔ گذشتہ2 مئی کو امریکی کارروائی کے بعد اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد پاکستان کی سیاست میں مانو ایک زلزلہ سا آگیا ہے۔ اندرونی سیاست میں اس کارروائی کے بعد پاکستان میں فوجی تختہ پلٹ کے اندیشوں کو لیکر صدر آصف علی زرداری نے اوبامہ انتظامیہ کو مدد کے لئے خط لکھا تھا۔ اس انکشاف کے بعد پاکستان کی سیاست میں ایسا زلزلہ آیا کہ وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ادھر پاک سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز میمو معاملے کی جانچ کے لئے پارلیمانی کمیٹی سے تحقیقات کرانے کے حکومت کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی تحقیقات کے لئے تین نفری کمیشن تشکیل کی ہے اور چار ہفتوں میں اسے اپنی جانچ پوری کرنے کو کہا ہے۔ تینوں ممبران اسلام آباد، بلوچستان اور سندھ ہائیکورٹ کے جج صاحبان ہیں۔ حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی اس حکم سے خوش نہیں اور حکومت سپریم کورٹ سے اپنے حکم پر نظرثانی کرنے کی درخواست کرے گی لیکن سب سے سنگین معاملہ ہے پاکستان اور امریکہ کے بگڑتے رشتے۔نیویارک ٹائمس نے پیر کے روز اپنی شائع رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ اب اس سچائی کا سامنا کررہا ہے کہ اس کی پاکستان کے ساتھ وسیع سکیورٹی سانجھے داری کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ ایسے میں امریکی حکام ایک بیحد محدود دور میں دہشت گرد مخالف اتحاد کو بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ انہیں یہ احساس بھی ہے کہ اس سے دہشت گردوں کے خلاف حملہ کرنے کی ان کی (امریکہ) صلاحیت پیچیدہ ہوجائے گی اور افغانستان میں سپلائی بھی متاثر ہوگی۔ امریکہ کے ایک تھنک ٹینک نے تو ساری حدیں پار کردیں ہیں۔ امریکہ میں ایک اثر دار ایسے ہی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ سال2012ء میں امریکہ جن ممکنہ خطرات سے سب سے زیادہ لڑ رہا ہے ان میں پاکستان کے ساتھ سنگھرش بھی شامل ہے۔ امریکہ نے دی کونسل آف فارن ریلیشن سینٹر فار کری ایٹو ایکشن نے امریکی حکام اور ماہرین سے بات چیت کی بنیاد پر ان ممکنہ خطرات کی فہرست تیار کی ہے جن سے نئے سال میں امریکہ کو محاذ آرا ہونا پڑے گا۔ کسی حملے یا دہشت گرد مخالف آپریشن کے جاری رہتے پاکستان سے لڑائی اس فہرست میں کافی اوپر ہے۔ امریکہ کی یہ فہرست اس وقت عام ہوئی ہے ، جب پاکستان میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکہ اور نیٹو کو کھلی وارننگ دے دی ہے۔ فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کے بعد گیلانی نے امریکہ اور نیٹو ممالک کو آگاہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں اپنی سرداری پر کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دیں گے کیونکہ ان کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ پاکستان نے موجودہ حالات میں ناٹو کی سپلائی روک دی ہے اور مستقبل میں اس پر کوئی بھی فیصلہ کیبنٹ لے لے گی۔کل ملاکر پاکستان ایک نہایت خطرناک دوراہے پر کھڑا ہوا ہے۔ ہم امیدکرتے ہیں کہ پاکستان کے سیاستداں ان سنگین چنوتیوں سے نمٹنے میں کامیاب رہیں گے اور سارے اندیشات غلط ثابت ہوں گے۔
America, Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, General Kayani, Haqqani Network, ISI, Osama Bin Ladin, Pakistan, USA, Vir Arjun

09 اگست 2011

طالبان نے لادن کے قتل کا بدلہ لیا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 9th August 2011
انل نریندر
افغانستان میں طالبان نے امریکہ سے اسامہ بن لادن کی موت کا بدلہ لے لیا ہے۔ گذشتہ جمعہ کو طالبان نے ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔ اس کارروائی میں 31 امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔
یہ عام فوجی نہیں تھے۔ اس ہیلی کاپٹر میں 31 امریکی فوجیوں میں نیوی سیل کے کمانڈو، تین ایئرفورس کے کنٹرول، 7 افغان فوجی موجود تھے جو 22 نیوی سیل کمانڈو ہیں جو اس تباہ ہیلی کاپٹر میں مارے گئے ہیں یہ اس سیل ٹیم کا دستہ تھا جو160 ویں اسپیشل آپریشن ایوی ایشن ریجمنٹ کا تھا جس نے پاکستان میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو مارنے کی کارروائی میں حصہ لیا تھا۔ اسامہ کو مارنے کے بعد سے ہی امریکی فورسز کا یہ یونٹ طالبان کے نشانے پر تھا۔ سال 2001 ء میں افغانستان میں جنگ شروع ہوجانے کے بعد غیر ملکی فوجیوں کے لئے یہ سب سے بڑا نقصان تھا۔ اس ہیلی کاپٹر کو افغانستان کے مشرقی وارداک صوبے کے دہشت گردی سے متاثرہ ایک ضلع میں طالبان مخالف کارروائی کے دوران نشانہ بنا یا گیا۔ وار داک صوبے کے گورنر کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ طالبان کی جانب سے داغے گئے راکٹ نے ہیلی کاپٹر کو پوری طرح سے تباہ کردیا۔ اس واقعہ کے بعد ہیلی کاپٹر کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور وہ پوری طرح تباہ ہوگیا۔
امریکی صدر براک اوبامہ نے اپنے فوجیوں کی موت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری سکیورٹی فورسز کی بڑی قربانی کی ایک اور مثال ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے بھی اوبامہ کو فون کر اس واقعہ پر افسوس ظاہر کیا۔ اس کارروائی کے ایک چشم دید گواہ محمد صابر نے بتایا کہ اس کے گاؤں میں دیر شام ہوئی کارروائی کے دوران ایک ہیلی کاپٹر اچانک گر گیا۔ اس نے قریب رات 10 بجے اڑتے دیکھا تھا۔ ہم گھر میں تھے، ایک ہیلی کاپٹر ایک طالبان کمانڈر کے گھر پر اترا اور تابڑ توڑ گولی باری شروع ہوگئی۔ ہیلی کاپٹر نے پھر اڑان بھری لیکن اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد وہ گر گیا۔ وہیں دوسرے ہیلی کاپٹر بھی اڑ رہے تھے۔ اس درمیان نیٹو کے ایک ترجمان نے بتایا کہ دراصل ہوا کیا ہے اس سلسلے میں وہ موزوں بیان وقت آنے پر دیں گے۔
ادھر طالبان کے ترجمان نجیب اللہ مجاہد نے کہا کہ اس کی تنظیم ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کیلئے ذمہ دار ہے۔ اس نے کہا کہ یہ امریکی یونک (ہیلی کاپٹر) تھا ۔ اس نے امریکی کارروائی میں آٹھ دہشت گردوں کے مرنے کی بات کہی ہے۔ حالانکہ مغربی فوج کے ایک ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ایک مخصوص قسم کا ہیلی کاپٹر ہے جس کا استعمال افغانستان میں نیٹو فوجیوں کو لانے اور مال لیجانے کے لئے کیا جاتا ہے۔
طالبان نے اسامہ بن لادن کی 2 مئی کو پاکستان کے ایبٹ آباد شہر میں کئے گئے قتل کا ایک طرح سے بدلہ لے لیا ہے۔ اس 160 ویں اسپیشل آپریش ایوی ایشن ریجمنٹ کے نیوی سیل کے فوجیوں نے لادن کو مار گرایا تھا۔ اسامہ کو مارنے والے اسکواڈرن کا نام گولڈ اسکواڈرن اور سیل ٹیم 6 بھی رکھا ہوا تھا۔ کہا جارہا تھا کہ یہ ہیلی کاپٹر کسی مخصوص مشن پر گیا تھا اس لئے اس میں امریکی فوج کے سب سے بڑے فوجی یونٹ کے نیوی سیل شامل تھے۔ طالبان نے اسے راکٹوں سے اڑایا۔ امریکہ کے لئے یہ بہت بڑا نقصان ہے۔ 2001ء سے اب تک یہ واحد سب سے بڑی ٹریجڈی مانی جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔
Tags: America, Anil Narendra, Daily Pratap, Osama Bin Ladin, Taliban, Vir Arjun

15 جولائی 2011

ایک بار پھر ممبئی شہر بنا آتنکیوں کا نشانہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 15th July 2011
انل نریندر
پچھلے کافی عرصے سے ہندوستان پرکوئی دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا تھا۔ حملے تو ہوتے رہے ہیں لیکن کوئی سلسلہ وار ٹائم بلاسٹ نہیں ہوئے تھے۔ یوں تو تین دن پہلے آسام کے کام روپ دیہات ضلع کے رانگیا کے پاس ایک دھماکے کے بعد گوہاٹی پوری حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔ لیکن اس کے پیچھے مقامی شرپسندوں کا ہاتھ تھا۔ اس حادثے میں 50 سے زیادہ مسافر زخمی ہوئے تھے۔ بدھ کے روز ممبئی میں جیسا دہشت گرد حملہ ہوا ، ایسا حملہ کافی دنوں کے بعد ہوا ہے۔ ہم بھول گئے تھے کہ ایسے حملے پھر ہوسکتے ہیں۔ شاید یہ ہی وجہ تھی کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کو اس سلسلہ وار دھماکے کے بارے میں کوئی بھنک تک نہ لگ سکی۔ وزارت داخلہ نے مانا ہے کہ ممبئی میں ہوئے سلسلہ وار دھماکوں کے بارے میں مرکز یا ریاستی حکومت کی خفیہ مشینری کو ذرا بھی بھنک نہ لگ سکی اور بدھ کی شام بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر ہوئے ان تین دھماکوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ پچھلے چھ مہینے کے دوران دہشت میں کوئی دہشت گردی کی واردات نہیں ہونے کے بعد سکیورٹی و خفیہ مشینری کافی حد تک بے پرواہ ہوگئی تھی۔ دیش کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں سلسلہ وار دھماکے تین مقامات پر 10 منٹ کے اندر ہوئے جس میں21 لوگ مارے گئے، 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ سانتاکروز میں ایک غیر استعمال شدہ بم ملا جو نہیں پھٹا تھا۔ پچھلے 18 سال میں بدھوار کو 14 ویں مرتبہ ممبئی آتنکی حملے کا شکار ہوئی۔ قریب 6.15 بجے جھاویری بازار میں واقع چاندی و زیورات کے کاروباری دیپک سین نے اپنے نوکر سے میل منگوائی۔ وہ میل کی پڑیا کھول رہا تھا کہ ایک زور دار دھماکے نے اس کی دوکان کی ٹیوب لائٹیں، شوکیس کے کانچ توڑ دیا۔ سین نے آگ کا ایک بڑا گولہ سا اوپر کی طرف جاتا دیکھا۔ سامنے کی کھانے پینے کی دوکانیں آگ پکڑ چکی تھیں۔ سامنے سڑک پر کھڑے پاپڑ بیچ رہے خوانچے والے کے پرخچے اڑ گئے تھے۔ تین درجن سے زیادہ لوگ بری طرح جھلس کر زمین پر گر پڑے اور لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ لیکن کچھ ہی پلوں میں لوگ پھر چوکس ہوگئے اور زمین پرپڑے بے سہارا زخمیو ں کو لیکر مطلوبہ گاڑیوں سے کے کے جی ٹی ہسپتال کی طرف جانے لگے۔ چشم دید گواہوں کے مطابق جھاویری بازار میں کچھ لمحوں میں دو دھماکے ہوئے۔ بتایا جاتا ہے یہ دونوں دھماکے ایک موٹر سائیکل و ایک اسکوٹر میں رکھے گئے آتشی سامان سے ہوئے۔ تقریباً یہ ہی منظر کچھ منٹ کے اندر پہلے اوپرا ہاؤس پر پھر دادر ریلوے اسٹیشن کے پاس دوہرایا گیا۔ اوپرا ہاؤس ہیروں کے کاروبار کانہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں بڑا مرکز ہے۔یہاں ہوا دھماکہ پنچ رتن بلڈنگ و پرساد چیمبر کے درمیان ٹاٹا روڈ کی کھاؤ گلی میں ہوا جبکہ دادر کا دھماکہ بیسٹ کے ایک بس اسٹاپ کی چھت پر کیا گیا۔ جھاویری بازار کو پچھلے 18 برسوں میں تیسری مرتبہ آتنکی حملے کا شکار ہونا پڑا ہے جبکہ دادر اور اوپرا ہاؤس میں پہلی بار دھماکہ کیا گیا ہے۔ بدھوار کو جھاویری بازار میں ہوئے دھماکے میں سب سے زیادہ لوگ مارے گئے اور زخمی ہوئے ہیں۔ ایسے موقعوں پر جب ایک شہر میں دھماکے ہوں تو دوسرے بڑے شہروں میں دہشت پھیل جاتی ہے۔ میرے پاس کئی ایس ایم ایس آئے کہ دہلی کے ساکیت اور ڈیفنس کالونی میں بھی بم ملے ہیں۔ یہ سب ایک افواہ تھی اور دہلی میں اوپر والے کے رحم و کرم سے کوئی بم نہیں ملا۔
سوال یہ اٹھتا ہے یہ دھماکے کس نے کروائے اور کیوں؟ جہاں تک یہ کس نے کروائے اس کی صحیح معلومات تو بعد میں حاصل ہوگی شاید کبھی یقینی طور سے نہ مل سکے لیکن مقصد کا تھوڑا اندازہ ضرور ہوسکتا ہے۔ جس طرح سے بار بار جھاویری بازار کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ بزنس کو متاثر کرنا مقصد ہے۔ اوپرا ہاؤس بھی ایک ایسا ہی بزنس سینٹر ہے۔ دونوں ہی مقامات پر بھیڑ ہوتی ہے۔ دھماکوں سے زیادہ لوگوں کو نقصان پہنچانے کا ارادہ صاف جھلکتا ہے۔ ممبئی میں سیریل دھماکوں میں جیسی تباہی پہلے مچتی رہی ہے ویسی اس بار نہیں ہوسکی، اس کی وجہ دھماکوں کا اتنا طاقتور نہ ہونا ہے۔ اس میں خراب پلاننگ بھی ہوسکتی ہے لیکن کیونکہ ان دھماکو ں میں آئی ڈی تکنیک کا استعمال ہوا ہے اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے پیچھے کسی بڑی دہشت گرد تنظیم کا ہاتھ ہے۔ یہ مقامی انڈر ورلڈ کا کھیل نہیں ہے۔ہو سکتا ہے اس کے پیچھے آئی ایس آئی، لشکر طیبہ، داؤد ابراہیم گروہ کا ہاتھ ہو؟ یہ کسی ایسی تنظیم نے بھی کروائے ہوں جو ہند۔ پاک مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنا چاہتی ہو۔ پاکستان سے رشتے بہتر بنانے کے لئے بات چیت کا دور طویل عرصے کے بعد شروع ہوا ہے۔ یہ حملہ اسے توڑنے کی سازش بھی ہوسکتی ہے۔
اخباروں میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ان کے پیچھے داؤد ابراہیم کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے۔ آئی ایس آئی کے اشارے پر ہوئے اس دھماکے میں انڈر ورلڈ ڈان داؤد نے اس کام کو انجام دینے کا بیڑا اٹھایا۔ اس میں حزب المجاہدین، انڈین مجاہدین نے ساتھ دیا۔ ذرائع کے مطابق بدھوار کو ممبئی میں ہوئے آتنکی حملے اسامہ بن لادن کی موت کے بعد بھارت میں کچھ کرنے کے لئے آئی ایس آئی نے داؤد سے کہا ۔آئی ایس آئی کی پہل پر داؤد اپنے گرگوں کے ساتھ چار ماہ پہلے ہی لشکر طیبہ میں شامل ہوگیا تھا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایس آئی نے داؤد کے کئی لوگوں کو لاہور کے بہاولپور میں ہتھیار چلانے اور کمانڈو ٹریننگ بھی دلوائی اور جو ابھی بھی جاری ہے۔جس طرح ممبئی میں دھماکہ ہوا ہے اس میں کم اور درمیانی صلاحیت والے بم کا استعمال کیا گیا۔ اس میں آئی ای ڈی کا بھی استعمال ہوا ہے۔ اس طرح کے بم کا استعمال انڈین مجاہدین کرتے ہیں۔ حزب کی عادت ہے کہ بم دھماکے میں کسی ہندومذہبی مقام پر درمیانی صلاحیت کے بم کا استعمال کرتا ہے۔ ممبئی میں جھاویری بازار میں ممبا دیوی مندر کے پاس بم پھٹا ہے۔ اس کے علاوہ حزب المجاہدین بھی بم میں گاڑی کا استعمال کرتا ہے جو ممبئی میں ہوا۔انڈین مجاہدین ایک طرح سے لشکر کی سلیپر سیل کی طرح کام کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں شاید اس پر اور مزید معلومات ملیں۔ بھارت کی خفیہ اور سکیورٹی مشینری کو چست درست کرنا ہوگا۔ ورنہ ایسے حملے اور بھی ہوسکتے ہیں۔ ہمیں پوری طرح سے تیار رہنا ہوگا۔
Tags: 13/7, Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Dawood Ibrahim, Hizbul Mujahid, India, Indian Mujahideen, ISI, Lashkar e Toeba, Mumbai, Osama Bin Ladin, P. Chidambaram, Terrorist, Vir Arjun

22 جون 2011

افغانستان میں 10 سال پہلے امریکہ گھسا کیوں تھا؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
22جون 2011 کو شائع
انل نریندر
افغانستان میں تیزی سے سیاسی حالات بدل رہے ہیں۔ امریکہ نے اب وہاں سے بھاگنے کے اقدامات پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ حالیہ دنوں میں دو خبریں ایسی آئی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں کچھ کھیل چل رہا ہے۔ پہلی خبر جو آئی تھی وہ یہ کہ بھارت سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سبھی 15 ممبردیشوں میں پابندیوں کے لحاظ سے ایک ایسی فہرست کو منظوری دی ہے جس میں طالبان اور القاعدہ کو الگ الگ نظریئے سے دیکھا جائے گا۔ اس کا مقصد طالبان اور افغانستان میں صلاح کرانے کی کوششیں بتائی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں سکیورٹی کونسل نے گذشتہ جمعرات کی رات مکمل اکثریت سے ریزولیشن پاس کئے ہیں۔ ان میں پابندیوں کو لیکر طالبان کے لئے القاعدہ سے الگ فہرست بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس اہم قدم کے بعد القاعدہ اور طالبان آتنکیوں کو الگ الگ پیمانوں میں تولا جائے گا۔ دوسرا واقعہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا یہ کہنا کہ امریکہ طالبان سے بات چیت کررہا ہے، اس بارے میں پہلی بار سرکاری طور پر توثیق ہوئی ہے۔ کرزئی نے کابل میں ایک کانفرنس میں کہا طالبان کے ساتھ بات چیت شروع ہوگئی ہے اور اچھی پیشرفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی فوجیں خاص کر امریکہ خود ہی بات چیت کرارہا ہے۔ امریکہ میں لیڈر شپ میں افغانستان میں جاری جنگ10 ویں سال میں داخل ہوگئی ہے اور وہاں پر لڑائی کے سیاسی حل کی آوازیں بھی تیز ہونے لگی ہیں۔
افغان صدر حامد کرزئی نے جو انکشاف کیا ہے وہ افغانستان کے لئے جتنا خطرناک ہے اتنا ہی امریکہ کے مفاد پرمبنی ہے اور یہ دوہرے پن کا ایک ثبوت بھی ہے۔ افغانستان کے خلاف امریکہ نے آخر جنگ کیوں چھیڑی تھی؟ جہاں تک ہم سمجھ سکے ہیں 9/11 حملے کے لئے القاعدہ اور طالبان کو ذمہ دار مانتے ہوئے انہیں سبق سکھانے کے لئے یہ جنگ چھیڑی گئی تھی۔ پچھلے10 برسوں میں پہلے تو امریکہ نے اسی طالبان حکومت کو اقتدار سے معذول کیا تھا اور اب وہی طالبان اسے اچھے لگنے لگے ہیں اور ان سے دوبارہ اقتدار سنبھلوانے کی تیاری ہورہی ہے۔ ہم صدر براک اوبامہ اور امریکہ کی مجبوری کو سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ اعلان کررکھا ہے کہ 2014 ء ادطعرتتک افغانستان سے امریکی فوج کی پوری واپسی ہونی ہے اس لئے اناً فاناً میں مسئلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں۔ اسی کے تحت طالبان سے بات چیت شروع کی ہے جو حالانکہ ابھی ابتدائی دور میں ہے۔ امریکہ کے کٹھ پتلی ادارے اقوام متحدہ نے طالبان اور القاعدہ پر اس لئے پرانا سسٹم روکتے ہوئے جو پیغام دیا ہے اس کا لب لباب یہ ہی ہے کہ اگر القاعدہ کا ساتھ چھوڑ کر طالبان افغانستان کا دوبارہ تعمیر نو میں معاون بنتا ہے تو اسے معافی دے دی جائے گی۔ ہمیں تھوڑا تعجب اس بات پر بھی ہوا ہے کہ آخر بھارت نے کیا سوچ کر سلامتی کونسل کے ریزولیشن پر اپنی مہر لگائی تھی۔ بھارت کی نظروں میں یہ طالبان ایک اچھی تنظیم بن گئی ہے جس سے بھارت کو اب کوئی خطرہ نہیں ہے؟ سوال یہ نہیں کہ طالبان کیسا ہے، سوال یہ ہے ایک آتنکی تنظیم جس نے اپنا ایجنڈا عام کردیا ہو، ا س سے آپ سمجھوتے کی بات کررہے ہوں وہ بھی بکواس شرطوں پر؟ معاملہ تو یہ ایک آتنکی تنظیم سے بات چیت کر امریکہ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے اس کے تمام فیصلوں کے پیچھے صرف اسکا اپنا مفاد ہوتا ہے۔ اسے اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کہ اس گھوٹالے کا بھارت، پاکستان، ایران ملکوں پر کیا اثر پڑنے والا ہے؟ نہ ہی اسے اب عالمی آتنک واد سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی کوئی سروکار۔ اس لئے بات چیت میں افغان سرکار کو شامل نہیں کیا گیا۔ خود افغانی مانتے ہیں کہ یہ انتہائی خطرناک قدم ہوگا اور ملک پھر2001 ء سے پہلے کے حالات میں چلا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا نقصان بھارت کو بھی ہوگا۔ بھارت کے ذریعے افغانستان میں جاری مختلف تعمیراتی اسکیموں کو جھٹکا لگے گا۔ اس سے کرزئی حکومت کی ساکھ اور طریقہ کار اور مستقبل پر نامناسب اثر پڑے گا۔ لیکن امریکہ کو ان سب سے کیا لینا دینا۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ ایک دہائی پہلے جو امریکہ ’وار آن ٹیرر‘ کا نعرہ دیکر افغانستان میں اس لئے داخل ہوا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کو وہ ختم کرسکے، آج وہ اسے نہیں آتنکیوں کے حوالے کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے تاکہ افغانستان سے اسے بھاگنے کا راستہ مل جائے؟
Tag: 9/11, Afghanistan, Al Qaida, America, Anil Narendra, Daily Pratap, India, Iran, Osama Bin Ladin, Pakistan, Security Council, Taliban, UNO, USA, Vir Arjun

19 جون 2011

الظواہری کے آنے سے امریکہ کی مشکلیں بڑھیں گی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
19 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
اسامہ بن لادن کے مرنے کے بعد امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر پتہ نہیں کیا اثربڑے گا؟ اس کے افغانستان اور پاکستان میں اور دنیا کے دیگر حصوں میں مسئلہ کم ہوگا یانہیں۔ اس میں ایک بار پھر اضافہ ہوگا۔ یہ کچھ سوالات ہے جو امریکی حکام کو ضرور پریشان کررہے ہوں گے۔ القاعدہ ایک بار پھر منظم ہوتا جارہا ہے۔ القاعدہ کے نئے چیف کااعلان ہوچکاہے ۔ پیشہ سے آنکھوں کے ڈاکٹر اورمصرکی ’’اسلامی جہاد کی کٹر تنظیم کی تشکیل میں اہم کردار نبھانے والا ابن الظواہری کو اب القاعدہ کاچیف بنادیا گیا ہے۔ اسامہ بن لادن کا داہنہ ہاتھ مانے جانے والے الظواہری لادن سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ 9/11 حملوں کے الظواہری کا ہی دماغ کار فرما تھا۔ سال 2001میں جن 22مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست جاری کی گئی تھی۔ اس میں اسامہ بن لادن کے بعد الظواہری کا دوسرانمبر تھا۔ امریکہ نے الظواہری کے سر پر 25ملین ڈالر کا انعام رکھاہوا ہے بتایا جاتا ہے الظواہری آخری مرتبہ اکتوبر 2001میں افغانستان کے شہر قوس میں نظر آیا تھا۔ افغانستان میں طالبان کے خاتمے کے بعد سے وہ روبوش ہے۔ حالیہ برسوں میں الظواہری القاعدہ کا بڑا ترجمان بن کر سامنے آیا۔ ایک خط لکھاہے کہ اور اس نے 1974میں قاہرہ کے میڈیکل کالج سے ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کی اور 4 سال بعد یہی سے سرجری میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسے عرب دنیا کے سب سے خطرناک کٹر تنظیم مسلم بردر ہڈ کے لڑنے کے سبب محض پندرہ سال کی عمر میں پہلی بار گرفتار کیاگیاتھا۔
الظواہری کی تاج پوشی سے پریشان امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ اس کابھی وہی حشر ہوگا جو اس نے اسامہ کے ساتھ کیاہے۔ امریکہ کے جوائنٹ ا سٹاف مائک ملون نے کہا جیسا ہم نے لادن کو پکڑنے اور مارنے کی دونوں کی کوشش ہم الظواہری کے ساتھ بھی یقینی طور پر ایسا ہی طریقہ اپنائے گے۔امریکہ کی مشکل بڑھ سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں حالات دن بہ دن بس سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ اسامہ بن لادن آپریشن سے پاکستان میں حل چل بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستانی فوجی چیف اشفاق کیانی آئی ایس آئی کے چیف پاشا پر دباؤ بڑھتا جارہاہے۔ جنرل کیانی کو امریکہ کے تئیں نرم رویہ اپنانے کے الزام میں ہٹانے کی مہم چل رہی ہے۔ آئی ایس آئی نے لادن کے ٹھکانے کے بارے میں امریکی حکام کو ٹھوس جانکاری دینے کے الزام میں پانچ جاسوسوں کو گرفتار کرلیاہے۔ان میں ایک پاکستانی فوج کامیجر بھی شامل ہے۔ ادھر ایک امریکی سیلٹر نے میٹنگ میں سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل مورل کاپوچھا کہ پاکستان امریکہ کو آتنک واد سے لڑنے کے مسئلے پر کتنی حمایت دے رہاہے؟ تو جواب میں مورل نے کہا کہ دس میں تین نمبر کا مطلب امریکہ پاکستان کی سرگرمیوں سے بالکل نہ خوش ہے۔ انگریزی اخبار ڈا نیویارک ٹائم کے مطابق امریکہ میں اس بات کی سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔ پاک سرکار نے ان لوگوں پر تو کوئی کارروائی نہیں کی جنہوں نے اسامہ بن لادن کو چھپانے میں مدد کی تھی۔ لیکن جن لوگوں نے اسامہ بن لادن کو مارنے میں مدد کی تھی۔ انہیں ہی گرفتار کرلیا ہے۔آنے والے دن امریکہ کے لئے اس معاملے میں چنوتی سے بھرے ہوں گے۔
Tags:Afghanistan, Aiman Al Zawahiri, Al Qaida, America, Anil Narendra, CIA, Daily Pratap, Osama Bin Ladin, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

01 جون 2011

پاکستان کا تو وجود ہی خطرے میں پڑنے لگا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

1جون 2011 کو شائع
انل نریندر
پاکستان کا تو وجود ہی خطرے میں پڑنے لگا ہے کیونکہ طالبان نے خبردار کردیا ہے کہ پاکستان کے نیوکلیائی ٹھکانوں پر حملے کرنے کاکوئی منصوبہ نہیں ہے ان کا تو مقصد پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں سمیت ملک پر قبضہ کرنے کا ہے۔ طالبان نے اسامہ بن لادن کے مارے جانے کا بدلہ لینے کیلئے پاکستان میں تشدد پر مبنی مہم چھیڑ رکھی ہے۔ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا کہ طالبان کا اب مقصد پاکستان اور اس کے ہتھیاروں پر قبضہ کرنا ہے۔ کراچی کے بحریہ کے بڑے اڈے پر طالبان نے پورے تال میل کے ساتھ حملہ کیا تھا۔ ایک انگریزی جریدے ’دی وال اسٹریٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق جب اس مسئلے پر میگزین کے نمائندے نیطالبان کے ترجمان سے ٹیلی فون پر بات کی تو احسان نے کہا پاکستان نیوکلیائی اہلیت رکھنے والا واحد مسلم ملک ہے اور طالبان کا ارادہ ہتھیاروں کو تباہ کرنے کا نہیں بلکہ پورے ملک اور نیوکلیائی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لینے کا ہے۔
طالبان کی دھمکی کو معمولی طریقے سے نہیں لیا جاسکتا۔ پچھلے دنوں کراچی کے بحری اڈے مہران پر مٹھی بھر آتنک وادیوں کو کامیابی اس لئے ملی کیونکہ پاکستانی فوج میں طالبان نواز افسران بیٹھے ہوئے ہیں۔ پاکستانی بحریہ کے ساتھ غیر فوجی مبصر عائشہ صدیقی نے ڈان اخبار کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا کہ بحریہ کا یہ اڈہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ بحریہ اور ایئر فورس دونوں میں انتہا پسندوں کی پوری طرح گھس پیٹھ ہے۔ وہ کہتی ہیں بحریہ میں آتنک وادیوں کی گھس پیٹھ ایک پرانی داستان ہے۔ عائشہ کا یہ تبصرہ ایسے وقت آیا جب ڈیفنس ماہرین کا تجزیہ ہے کہ پاکستانی بحریہ و ایئر فورس اور بری فوج تینوں میں طالبان داخل ہوچکے ہیں تو مہران ہوائی اڈے پر ان کی مدد سے ہی طالبان کویہ حملہ کرنے میں مدد ملی۔ جس جگہ حملہ ہوا تھا اس سے مشکل سے 24 کلو میٹر دور نیوکلیائی ہتھیاروں کا ڈپو تھا۔ پی این ایس مہران پاکستان کے سب سے اہم بحری ایئر بیس میں سے ایک ہے۔ بغیر اندرونی شخص کی مدد کے آتنک وادیوں کو اس اڈے میں ایئر کرافٹ کی موجودگی کا پتہ نہیں لگ سکتا تھا۔ جس طرح سے وہ دو گھنٹے ڈٹے رہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پختہ معلومات کے ساتھ آئے تھے۔
آج جب پاکستان خانہ جنگی جیسے حالات سے لڑ رہا ہے تو طالبان کی دھمکی ایک ڈراؤنی حقیقت میں نہ بدل جائے؟ پردے کے پیچھے پاکستان میں اصل اقتدار چل رہا ہے۔ پاک فوج آتنکیوں کے مقابلے پست نظر آرہی ہے۔ عام پاکستانی نہ توفوج پر اب یقین رکھتا ہے اور نہ ہی پاکستانی سیاستدانوں پر۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سرکاراسلام آباد سمیت مٹھی بھر بڑے شہروں تک محدود رہ گئی ہے۔حالات اتنے خراب ہیں اس کا اندازہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وارننگ سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ ہمیشہ بات چیت سے مسائل کو سلجھانے کی پہل کرنے والے منموہن سنگھ کو پڑوسی دیش کو سنبھل کر چلنے کی وارننگ دینی پڑی۔ پاکستان کو طالبانی ہاتھوں میں جانے سے فی الحال صرف امریکہ ہی روک سکتا ہے۔ امریکہ کی دونوں پاکستان اور افغانستان میں موجودگی ہے اس سے پہلے کے طالبان کے ہاتھ پاکستانی ایٹمی ہتھیار لگیں امریکہ کو بلا تاخیر ان ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لے لینا چاہئے۔ ایسا کرنے کے بعد کم سے کم ایک بہت بڑا خطرہ تو ٹلے گا اور بعد میں دیکھا جائے گا۔
Tags: Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, ISI, Manmohan Singh, Nuclear Arms, Osama Bin Ladin, Pakistan, Taliban, Vir Arjun, Yousuf Raza Gilani

25 مئی 2011

اوبامہ کی دھمکی کا پاکستان نے اسی انداز میں دیا جواب

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

25مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان لفظی جنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے امریکہ آپریشن اسامہ کارروائی دوہرانے میں دیر نہیں کرے گا۔ ایک انٹرویو کے دوران اوبامہ نے کہا اپنی سلامتی کے لئے وہ پاکستان میں دوبارہ اپنی فوج بھیجنے سے نہیں چوکیں گے۔ بی بی سی کو دئے گئے انٹرویو میں اوبامہ نے کہا کہ وہ پاکستان کی سرداری کا احترام کرتے ہیں لیکن امریکہ کی سلامتی ان کی پہلی ترجیح ہے وہ کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ ان کے خلاف سازش اور رچی جائے،اس پر امریکہ کارروائی نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طالبان کا سرغنہ پاکستان میں پایا جاتا ہے تو امریکہ فوج کو دوبارہ بھیجنے میں کوئی قباحت نہیں دکھائے گا۔ انہوں نے پاکستان کو نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے تئیں پاکستان کا جو دوہرا پیمانہ اس کی بڑی بھول ہے۔ اسی وجہ سے بھارت اسے اپنے وجود کے لئے خطرہ محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس ذہنیت سے دور ہٹ کر کام کرے تو بہت اچھا ہوگا۔ انہوں نے کہا امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس بات کو محسوس کرے اس کے لئے سب سے بڑا خطرہ باہر سے نہیں بلکہ اس کے گھر کے اندر ہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف احمد شجاع پاشا نے امریکہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے نہیں روکے تو پاکستان اس کا جواب دے گا۔ پاشا نے سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل موٹیل کے ساتھ سنیچر کو ہوئی بات چیت میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاشا نے موٹیل سے کہا کہ اگر آپ ڈرون حملے نہیں روکیں گے تو ہم جواب دینے کیلئے مجبور ہوں گے۔ پاشا نے حال ہی میں پاکستانی ہوائی سرحد میں نیٹو ہیلی کاپٹروں کی دراندازی کا ذکر کرتے ہوئے اس واقعہ کو امریکہ اور پاکستان کے فوجی اشتراک کو ایک جھٹکا بتایا۔ پاکستان کے دورے پر آئے موٹیل سی آئی اے کے آپریشنل افسر اور آئی ایس آئی افسروں کے ساتھ بات چیت کے لئے آئے ہوئے ہیں۔
دراصل ہمیں لگتا ہے کہ امریکہ اب پاکستان کی دوہری پالیسی کو سمجھ گیا ہے۔ ایک طرف تو وہ ’وار آن ٹیرر‘ میں امریکہ کا سب سے بڑا بھروسے مند اتحادی بتاتا ہے ، دوسری جانب آتنکوادیوں کو پوری سکیورٹی اور ٹریننگ ، پیسہ دیتا ہے۔ وہیں امریکہ کو آنکھیں دکھانے کے لئے چین کو آگے کردیتا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اپنے حالیہ دورۂ چین کے دوران چین کے تئیں دکھائی گئی بھائی چارگی نے کچھ امریکی ممبران کی بھنویں چڑھا دی ہیں اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ چین کو اپنا سب سے اچھا دوست بتانے والا پاکستان امریکہ سے زیادہ سے زیادہ مدد کیوں مانگ رہا ہے؟ سینیٹ کی خارجی معاملوں کی کمیٹی میں سینیٹر جم رش نے کہا ہمارے ذریعے خرچ کئے گئے ایک ڈالر میں سے 40 فیصد ادھر سے آتے ہیں۔ امریکی لوگوں کو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ہم سے 40 فیصد ادھار لیکر اسے پاکستان کو نہیں دینا چاہئے۔اس کے بعد بھی پاکستان سرکار چین کو اپنا بھروسے مند دوست مانتا ہے۔

Tags: America, Anil Narendra, China, CIA, Daily Pratap, ISI, Obama, Osama Bin Ladin, Pakistan, Shuja Pasha, Vir Arjun

24 مئی 2011

القاعدہ کا مصری کنکشن: سیف العدیل

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
 
24مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کے مرنے کے بعد اس انتہا پسند تنظیم نے اپنا نیا لیڈر چن لیا ہے۔ القاعدہ کا مصری رابطہ کار سامنے آگیا ہے۔ بن لادن کا جانشین ہے مصر کا ایک سابق فوجی افسر اس کا نام ہے سیف العدیل۔ یہ بن لادن کے مارے جانے کے قریب 15 روز بعد عارضی طور پر لیڈر چنا گیا ہے۔عدیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ1981 ء میں مصر کے سابق صدر انور سعادات کے قتل کے لئے ذمہ دار تنظیم اسلامک جہاد کا ممبر رہ چکا ہے۔ وہ افغانستان میں 1980 کی دہائی میں سوویت روس کی فوج کے خلاف لڑائی میں بھی شامل رہا۔2001ء میں طالبان کے زوال کے بعد وہ ایران بھاگ گیا تھا۔ سی این این میں دو دہائی سے زیادہ وقت سے القاعدہ سے واقف نعمان کے حوالے سے بتایا کہ سیف العدیل القاعدہ کا روپوش لیڈر ہے۔ خبر کے مطابق العدیل کی تنظیم میں طویل عرصے سے اہم کرداررہا ہے۔
ادھر اسامہ کو زندہ یا مردہ پکڑنے سے امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ 25 لاکھ ڈالر یعنی11 کروڑ روپے کا انعام کسی کو نہیں دیا جارہا ہے۔ امریکی حکام نے یہ سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اسامہ کے خاتمے کی وجہ کوئی مخبر نہیں بلکہ جدید ترین مشینیں اور خفیہ ایجنسیاں تھیں۔ اس فیصلے سے ان قیاس آرائیوں پر روک لگ گئی جن میں دعوی کیا گیا تھا کہ انتہا پسند تنظیم سے وابستہ کسی شخص نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو اسامہ تک پہنچایا۔ اسامہ بن لادن امریکہ کی موسٹ وانٹڈ دہشت گردوں کی فہرست میں سب سے اوپر شامل تھا۔
ویب سائٹ بی بی سی ، کوم کو ڈاٹ یو کے نے اسامہ کے ذریعے ان کی موت سے کچھ عرصے پہلے مبینہ طور پر ریکارڈ کیا گیا ایک آڈیو ٹیپ جاری کیا ہے۔ لادن کا یہ آڈیو ٹیپ 12 منٹ کا ہے جسے ایک اسلامی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے۔ ٹیپ میں لادن نے تیونس اور مصر کے مخالف مظاہرین کو نصیحت دی ہے لیکن شام اور لیبیا اور یمن کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ لادن نے کہا مجھے لگتا ہے کہ اللہ کی مرضی سے پوری مسلم دنیا میں تبدیلی کی لہر چلے گی۔ آپ کے سامنے دو راہیہ ہے۔ مسلم فرقے کے ساتھ کھڑے ہونے اور خود کو حکمرانی کی توقعات ، انسانی قوانین اور مغربی بالا دستی سے نجات کرانے کا ایک واحد اور سنہرہ تاریخی موقعہ ہے۔ لادن نے کہا توآپ کس کا انتظار کررہے ہیں؟
لادن کی موت کے بعد القاعدہ کے عارضی چیف سیف العدیل نے دھمکی دینے میں زیادہ وقت نہیں لگایا۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق سیف نے لادن کی موت کا بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے۔ اخبار نے طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کے حوالے سے کہا ہے کہ ہمارے لیڈر لندن میں بڑے حملے کی تیاری کررہے ہیں۔ احسان کے مطابق العدیل کا خیال ہے برطانیہ یوروپ کی ریڑھ ہے اور اسے توڑنے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں لندن پر بڑا حملہ کرکے یوروپ سمیت پوری دنیا کو ہلایا جاسکتا ہے۔ اس درمیان یہ بھی خبر ہے کہ طالبان القاعدہ لیڈر پاک سرحد سے ملحق افغانستان کے علاقوں میں ملے ہیں اور آگے کی حکمت عملی پر غور خوض ہوا ہے۔ العدیل کو ایمن الظواہری اور الیاس کشمیری کو نئی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
Tags: Al Qaida, Anil Narendra, Vir Arjun, Daily Pratap, Egypt, Osama Bin Ladin, Aiman Al Zawahiri,

چنائو کمیشن اور وضاحت؟

چنائو کمیشن (ای سی)نے اسپیشل انٹینسورویژن (ایس آئی آر) کو لیکر اٹھے تنازع کے درمیان سنیچر کو میٹنگ بلائی۔اس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کم...