Translater

08 مارچ 2014

لوک سبھا چناؤ دنگل: این ڈی اے بنام یوپی اے محاذ!

لوک سبھا چناؤ کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی پارٹیاں چناؤ سے پہلے اتحاد کو قطعی شکل دینے میں لگ گئی ہیں۔ فی الحال جو سیاسی حالات دکھائی دے رہے ہیں اس میں تین یا چار محاذ بننے کا امکان نظر آرہا ہے۔پہلا محاذ کانگریس کی رہنمائی والا یوپی اے ہے ، دوسرا بھاجپا کی رہنمائی والا این ڈی اے ہے اور تیسرا ممکنہ تیسرا مورچہ اور چوتھا ہے عام آدمی پارٹی۔کانگریس کی رہنمائی والے یوپی اے کی اگر بات کریں تو یہ محاذ پچھلے 10 سال سے اقتدار میں ہے لیکن مسلسل کرپشن اور گھوٹالوں اور مہنگائی ، بے روزگاری ، بگڑتا قانون و نظم کے الزامات اور کمزور پڑتی کانگریس کی اس مرتبہ پوزیشن بہت ڈانواڈول ہے۔ ڈوبتے جہاز کی حالت میں آیا یوپی اے محاذ سے کئی اتحادی پارٹیاں بھاگ چکی ہیں اور کئی پارٹیاں بھاگنے کی تیاری میں لگی ہیں۔ ان میں ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے خاص ہیں۔ بہار میں لالو نے کانگریس کو اپنی شرطوں پر تال میل کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ آندھرا پردیش میں ٹی آر ایس اور اترپردیش میں راشٹریہ لوک دل کے ساتھ اتحاد کی تیاری چل رہی ہے۔ کانگریس پارٹی اپنے امیدواروں کے نام کا اعلان کرنے اور چناؤ کمپین میں بھی بھاجپا سے پیچھے چل رہی ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی، نائب صدر راہل گاندھی کی چناؤ ریلی کا پروگرام ابھی تک طے نہیں ہوپایا۔ وہیں چناؤ کمپین کمیٹی کے ممبروں نے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے سامنے بھی سوال رکھا ہے کہ امیدواروں کے اعلان میں تاخیر ہوگئی ہے جبکہ بھاجپا کی پہلی فہرست آ چکی ہے۔ کانگریس کی طاقت کی بات کریں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے مسلسل 10 سال تک پائیدار سرکار دی ہے۔ کئی عوامی مفاد کی اسکیموں کو نافذ کیا ہے۔ کانگریس کو ان ریاستوں سے زیادہ امید ہے۔ جیسے جموں و کشمیر، ہریانہ، اتراکھنڈ، ہماچل، مہاراشٹر، جھارکھنڈ اور نارتھ ایسٹ کی ریاستیں کرناٹک، تلنگانہ وغیرہ شامل ہیں۔ دوسرا محاذ ہے بھاجپا کی قیادت والا این ڈی اے۔ اس نے چناؤ اعلان سے کچھ دن پہلے ہی رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی سے تال میل کرکے یہ تو ثابت کردیا کہ وہ اب نہ تو فرقہ پرست ہے اور نہ ہی اس کو لے کر اچھوت۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لوک سبھا چناؤ نریندر مودی بنام باقی ہے۔سبھی بھاجپا اور نریندر مودی کی بڑھتی مقبولیت اور ان کی ریلیوں میں آرہی بھیڑ سے پریشان ہیں۔ نریندر مودی 250 سے زیادہ ریلیوں سے خطاب کرچکے ہیں۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی کو چناؤ لڑانے کی ذمہ داری سونپنے جارہی ہے۔ جیٹلی کے علاوہ وینکیانائیڈو بھی لوک سبھا چناؤ نہیں لڑیں گے بلکہ چناوی مہا سمر میں بھاجپا ان کی نگرانی میں چناؤ میدان میں اترے گی۔ ساؤتھ کی ریاستوں میں چناؤ کو چلانے کی ذمہ داری وینکیانائیڈو دیکھیں گے۔ ڈی ایم کے اور ایم کروناندھی نے حال ہی میں نریندر مودی کی تعریف کرکے یہ اشارہ دیا کے وہ ان کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوسکے ہیں۔ انا ڈی ایم کے کی لیڈر جے للتا نے مارکسوادی پارٹی سے اتحاد توڑنے کا اعلان کرکے یہ اشارہ دیا ہے کہ ان کے متبادل کھلے ہیں۔ تاملناڈو کی ایم ڈی ایم کے اور پی ایم کے پہلے ہی اتحاد میں شامل ہوچکی ہے۔ پارٹی کے حکمت عملی سازوں کا خیال ہے کہ بھاجپا سرکار بنانے کی پوزیشن میں پہنچتی ہے تو یوپی اے کی کئی پارٹیاں بھی ان کے ساتھ آسکتی ہیں۔ مہاراشٹر میں شیو سینا، پنجاب میں اکالی دل، ہریانہ میں جن ہت کانگریس پہلے ہی این ڈی اے کی حصہ ہیں۔ ہریانہ کی بات کریں تو ہریانہ کانگریس کو بدھوار کو اس وقت زبردست جھٹکا لگا جب سابق مرکزی وزیر ونود شرما نے پارٹی سے اپنا پرانا رشتہ توڑ کر کلدیپ بشنوئی والی ہریانہ جن ہت کانگریس میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ونود شرما اور بھاجپا ہجکا محاذ کے درمیان ہوئے سمجھوتے کے تحت ونود شرما اب بھاجپا میں سیدھا نہ آکر ہجکا سے چناؤ لڑیں گے۔ ہجکا کا این ڈی اے سے گٹھ بندھن ہے اس سے پہلے کانگریس سے راؤ اندر جیت سنگھ آئے تھے اس طرح سے ہریانہ میں این ڈی اے کو مضبوطی ملے گی۔ این ڈی اے کی سب سے بڑی طاقت بلا شبہ نریندر مودی ہیں اور یوپی اے سے لوگوں کی ناراضگی کا فائدہ این ڈی اے کو ملے گا۔ مودی کی نوجوانوں میں بڑھتی مقبولیت اور بھاجپا سے جڑنا اچھا اشارہ ہے۔ تازہ سروے پر یقین کریں تو ٹی وی نیوز چینل سی این این، آئی بی این کے مطابق یوپی میں بھاجپا کو 80 میں سے41 سے49 سیٹیں مل سکتی ہیں جبکہ بہار میں بھاجپا ایل جے پی اتحاد کو کل40 سیٹوں میں سے22 سے23 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ این ڈی اے کی اگر کمزوریوں کی بات کریں تو دیش کی کئی ریاستوں میں اس کا کوئی مینڈیٹ نہیں ہے حالانکہ2002ء میں گجرات دنگوں میں مودی کو کلین چٹ مل چکی ہے لیکن مسلمانوں کا ووٹ ابھی بھی ان کے لئے چنوتی بنا ہوا ہے۔ جہاں تک این ڈی اے اور بھاجپا کو امید ہے کہ وہ پنجاب، یوپی، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، بہار، اتراکھنڈ، دہلی، گجرات ہیں جہاں بھاجپا کو اچھی کامیابی ملے گی۔ میں ابھی بھی مانتا ہوں کہ این ڈی اے مقبولیت میں سب سے آگے ہے لیکن کانگریس اور یوپی اے کو کمتر سمجھنا صحیح نہیں ہوگا۔ کل چوتھے مورچے اور ’’آپ‘‘پارٹی کی بات کروں گا۔
(انل نریندر)

اور اب شیلس رائس کا نیا گھوٹالہ!

اپنے دوسرے عہد کے دوران ایک کے بعد ایک گھوٹالوں کے سامنے آنے سے ہلکان ہورہی یوپی اے سرکار کی مشکلیں جاتے جاتے کم نہیں ہورہی ہیں۔ اپنے دیش میں ڈیفنس سازو سامان خرید میں کمیشن لینے کے الزام کا سب سے بڑا معاملہ بوفورس کا رہا۔ اس وقت راجیوگاندھی کی قیادت والی کانگریس سرکار کو اس کی قیمت چکانی پڑی۔اس تنازعے سے سبق لیتے ہوئے یہ قاعدہ بنایا گیا تھا کہ ہتھیاروں اور دیگر ڈیفنس سودوں میں بچولیوں کو کسی بھی سطح پر شامل نہیں کیا جائے گا۔ کوئی کمپنی بھارت میں دفاعی سازو سامان کی خرید میں کسی کو کمیشن ادا کرے تو یہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اس پابندی کے باوجود کمیشن دینے کا سلسلہ بنا رہا۔ اگستا ویسٹ لینڈ سے وی وی آئی پی ہیلی کاپٹروں کی خرید میں اس طرح کی حقیقت سامنے آنے کے بعد حکومت نے سخت کارروائی کرتے ہوئے جنوری میں وہ سودہ منسوخ کردیا۔ اب اسی طرح کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔ اے ایم ایل یعنی ہندوستان اروناٹکس لمیٹڈ نے برطانوی کمپنی شیلس رائس سے جہازوں کے انجن کی سپلائی کے لئے 10 ہزار کروڑ روپے کا سودا کیا تھا لیکن رشوت کا معاملہ سامنے آنے پر وزارت دفاع نے اس کمپنی سے سبھی موجودہ اور مستقبل میں ڈیفنس سودوں پر روک لگانے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی وزیر دفاع اے ۔کے انٹونی نے معاملے کی سی بی آئی جانچ کے احکامات دئے ہیں۔ اب سی بی آئی کی جانچ کے بعد ہی صاف ہوسکے گا کہ اس معاملے کی پوری سچائی کیا ہے کن ہندوستانی افسروں ۔ لیڈروں کو رشوت کی رقم ملی ہے ۔ لیکن اس معاملے کا سامنے آنا ہماری پہلے سے پچھڑی ہوئی ڈیفنس تیاریوں کے لئے زبردست جھٹکا ہے۔ غور طلب ہے کہ گذشتہ برسوں میں الزام لگتے رہے ہیں کہ ضروری جنگی سامانوں کی خرید کا کام اس لئے پچھڑتا جارہا ہے کیونکہ کسی گھپلے گھوٹالے کی تہمت سے بچنے کیلئے سرکار و وزارت دفاع بیحد چوکسی اپنائے ہوئے ہے ۔ اس کے باوجود اگر ڈیفنس سودوں سے متعلق گھوٹالے اجاگر ہورہے ہیں تو سوال اٹھنا جائز ہے کہ ایسی چوکسی کا فائدہ کیا ہے؟ برطانوی کمپنی شیلس رائس نے ہندوستان اروناٹکس لمیٹڈ کے ساتھ 10 ہزار کروڑ روپے کا سودا کرنے کے لئے مبینہ طور پر 600 کروڑ روپے کی کمیشن دی۔ وزارت دفاع نے سی بی آئی سے اس معاملے میں سچائی سامنے لانے کو کہا ہے۔ پچھلے پانچ سال میں ایچ اے ایل کو قریب 5 ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی کر چکی برٹش کمپنی نے قبول کیا ہے کہ اس نے سرکاری بالادستی والی اے ایم ایل کے ساتھ سودا کرنے کے لئے اشوک پاٹنی نامی شخص اور اس کی سنگا پور کمپنی آرامورے پرائیویٹ لمیٹڈ سے مدد لی تھی۔ ڈیفنس وزارت نے سوموار کو رشوت خوری کے الزام میں سی بی آئی جانچ لمبی ہونے کی وجہ سے شیلس رائس کے ساتھ سبھی موجودہ اور مستقبل کے سودوں پر روک لگادی اور برطانوی کمپنی کو ادا کی گئی رقم کو وصولنے کا بھی فیصلہ کیا۔ ڈیفنس سودوں کو روکنے سے ہماری ڈیفنس تیاری متاثر ہوتی ہے۔ سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم نے گھریلوں سطح پر ڈیفنس سازو سامان کی تیاری پر کبھی توجہ نہیں دی اور زیادہ ضرورتوں کے لئے ہمیں بیرونی ممالک کا منہ تاکنا پڑتا ہے۔ ڈیفنس سازو سامان میں رشوت یا کمیشن خوری تو چلے گی سب سے زیادہ اچھا راستہ ہے غیر ملکی کمپنیوں پر اپنے انحصار کو گھٹانا اور دیش میں ڈیفنس سازو سامان کو تیار کرنے میں مدد اور فروغ دیں۔
(انل نریندر)

07 مارچ 2014

لو بج گیالوک سبھا دنگل کا بگل!

لوک سبھا 2014 کا چناوی عمل شروع ہوگیا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک بھارت میں چناؤ کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ویسے تو لیڈروں کے دورے اور تابڑ توڑ ہورہی ریلیوں اور بڑھتی سیاسی الزام تراشیوں کو دیکھ کر پچھلے کچھ دنوں سے دیش میں چناوی ماحول بننے کا احساس ہوچکا تھا۔لیکن اب چناؤ کمیشن نے باقاعدہ طور پر لوک سبھا چناؤ کا اعلان کردیا ہے۔ جمہوریت کے اس مہا سمر کا بگل بج چکا ہے۔ پہلی بار چناؤ 9 مرحلوں میں ہونے جارہے ہیں۔16 ویں لوک سبھا کے لئے چناؤ 7 اپریل سے شروع ہوکر 12 مئی یعنی ڈیڑھ مہینے چلیں گے۔ ووٹوں کی گنتی 16 مئی کو ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی آندھرا پردیش ،اڑیسہ، سکم کے اسمبلی چناؤ بھی ہوں گے۔ یہ پہلی بار ہے کہ دیش کا کوئی عام چناؤ 9 مرحلوں میں کرایا جارہا ہے جبکہ2009 ء میں لوک سبھا چناؤ5 مرحلوں میں کرائے گئے تھے حالانکہ پچھلی مرتبہ چناؤ عمل پورا ہونے میں 75 دن لگے تھے وہیں اس بار یہ چناوی عمل 72دنوں میں پورا ہوجائے گا۔ اتنے ٹکڑوں میں ووٹنگ کرائے جانے کو لیکر چیف الیکشن کمشنر وی ایس سمپت کی دلیل یہ ہے کہ ووٹنگ کی تاریخوں کی سفارش مانسون تہواروں اور امتحانات کو دیکھتے ہوئے اور سیاسی پارٹیوں کی تجاویز کے مطابق کی گئی ہے۔ 16 ویں لوک سبھا کے لئے ہونے جارہے یہ چناؤ بھارت کے لئے بہت اہم ہیں۔ویسے دنیا کیلئے بھی ایک سنسنی خیز اشو بننے کے ساتھ نصیحت دینے والے بھی ہوں گے۔ تمام ملکوں کیلئے یہ ایک مثال ہے کہ 81 کروڑ سے زیادہ ووٹر نئی سرکار کو قائم کرنے جارہے ہیں ۔ کچھ دیشوں میں جو اقتدار خونی لڑائی اور گولی سے ہوتا ہے بھارت میں یہ ووٹ سے ہوتا ہے۔ یہ ہی ہمارے دیش کی جمہوریت کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اپنے قسم کی انوکھی اور حیران کرنے والی آئین سازیہ کی نمائندگی کرنے والا دیش کا وسیع ووٹر گروپ ایک ہی مقصد کے لئے اکٹھا ہوگا اور وہ ہو گا اپنی پسند کے امیدواروں کے ذریعے مرکزی سرکار کا انتخاب۔ لوک سبھا انتخاب میں پہلی بار ’نوٹا‘ کا متبادل ہوگا۔ پچھلے دنوں پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی چناؤ کے دوران پہلی بار اس کا متبادل رکھا گیا تھا۔ غور طلب ہے کہ اس بار قریب 81.4 کروڑ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ اس بار10 کروڑ نئے ووٹر ہیں ۔ ان میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے جو پہلی بار اپنے ووٹ ڈالیں گے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عام چناؤ میں نہ صرف سیاست بلکہ بدلتے سیاسی اور اقتصادی حالات کی بھی جھلک ملتی ہے۔ اس بار سوشل میڈیا کا بول بالاہے۔ سیاسی پارٹیوں میں اس پر کمپین کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ یہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ چناؤ میں پوسٹر ،بینر ہورڈنگ پر اتنی زیادہ توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ اس سے چناؤ خرچ میں کمی آئے گی اور ایک خاص بات اس چناؤ میں دیکھنے کو مل رہی ہے کہ اس بار چناؤ شخصیت پر مرکوز ہورہا ہے۔ پارٹی کے بجائے اس کے پی ایم امیدوار کی بات زیادہ ہورہی ہے۔ بی جے پی کے نریندر مودی کو پارٹی نے بہت پہلے ہی پی ایم امیدوار اعلان کرکے پارٹی نے لیڈ لے لی ہے۔ مودی اب تک250 سے زیادہ ریلیاں کرچکے ہیں۔ کانگریس نے ابھی تک راہل گاندھی کو پی ایم امیدوار نہیں بنایا لیکن چناؤ تو انہیں کی قیادت میں لڑا جارہا ہے اور یہ مان لیا گیا ہے کہ اگرکانگریس اقتدار میں آئی تو راہل ہی پی ایم امیدوار ہوں گے۔ چناؤ کا اعلان ہوتے ہیں اروند کیجریوال اوران کے حمایتی لیڈروں نے تشدد کا سہارا لے کر یہ اشارہ دے دیا ہے کہ اس بار چناؤ میں تشدد ہوگا۔ حالانکہ تیسرا مورچہ بھی بنا ہے لیکن ا سے ابھی تک کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔ ایک اسٹنگ آپریشن میں چناؤ سرووں پر جس طرح سے سوال اٹھے ہیں اس سے بھی کئی دعووں کی ہوا نکل گئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے ذریعے ایک نئی سیاست کا جو تجربہ شروع ہوا ہے اس کا اصلی امتحان بھی اس چناؤ میں ہوگا۔ چناؤ تجزیہ کار 10 کروڑ نئے ووٹروں کے موڈ کو نتیجوں کے لحاظ سے فیصلہ کن مان رہے ہیں۔ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ان کی موجودگی سے چناؤ نتائج کس طرح سے متاثر ہوتے ہیں۔ نکسلی اور آتنک واد جیسی چنوتیوں کے بیچ پر امن اور غیر جانبدار چناؤ کرا پانا چناؤ کمیشن کے لئے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اس کے لئے پیسہ، طاقت اور دبنگئی کے دخل کو کنٹرول کرنا بھی چناؤ کمیشن کی کسوٹی ہوگی۔ بیشک چناؤ کمشنر وی ایس سمپت نے کہا کہ ہم اپنے اختیارات کا استعمال کرنے میں ہچکچائیں گے نہیں لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ چناؤ کمیشن کے پاس اتنے اختیار ہیں نہیں اس لئے پہلے چناؤکی طرح اس بار بھی چناؤ آزادانہ، منصفانہ ہوں اور پیسہ ، طاقت اور دبنگئی کا استعمال کم ہو یہ سیاسی پارٹیوں پر منحصر کرے گا۔ سبھی پارٹیاں پیسے کا بیجا استعمال اور دیگر بدعنوانی کے طریقوں کوروکنے کے معاملے میں نصیحتیں تو خوب دیتے ہیں لیکن چناؤ میں ان کے استعمال سے دور رہتے ہیں۔
(انل نریندر)

سپریم کورٹ کے فتوے پر نپا تلا تبصرہ!

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا کہ مسلم عالم دین کے ذریعے جاری فتویٰ لوگوں پر تھونپا نہیں جاسکتا۔ یہ بات سپریم کورٹ نے مسلم فرقے کے ذریعے چلائی جارہی شرعی عدالتوں میں مداخلت کرنے کے تئیں اپنی بے چینی ظاہر کرتے ہوئے حال ہی میں کہا کہ سرکار کو ایسے شخص کو تحفظ دینا چاہئے جنہیں اس طرح کی ہدایتوں کی تعمیل نہ ہونے کے سبب پریشان کیا جاتا ہے۔عدالت نے شرعی عدالتوں کو ختم کرنے، فتوؤں پر روک لگانے کی مانگ والی عرضی پر فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ جسٹس سی۔ پرساد اور جسٹس پی ۔سی گھوش کی بنچ نے کہا عوام کی بھلائی کے لئے کچھ فتوے جاری کئے جاسکتے ہیں۔ کچھ مذہبی اور سیاسی اسباب ہوسکتے ہیں اور عدالت اس پر نہیں جانا چاہتی۔ غور طلب ہے عالمی لوین یدان نے 2005ء میں سپریم کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی جس میں شرعی عدالتوں اور فتوؤں پر روک لگانے کی مانگ کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے تبصر ے سے فتوے کے بارے میں غلط فہمیاں تو دور ہوتی ہیں مگر ان کے قانونی جواز کو لیکر بھی حالات واضح ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ اگر کوئی فتویٰ جاری کردیا گیا تو اس پر پابند ہونا ہوگا جب بھی کوئی فتویٰ جاری کیا جاتا ہے ایک خاص طرح کے ڈر کا احساس لوگوں میں پیدا ہوجاتا ہے۔ فتوے کو قانون سے اوپر یا اس کے یکساں تک مانا جارہا ہے۔ اس کی وجہ سے تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس طرح کی دقیانوسیت کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ فتوے کے حساس ترین تنازعے پر سپریم کورٹ کا تبصرہ سیکولر بھارت کو زیادہ مضبوط بنائے گا۔ ایسا ہمارا خیال ہے۔ عدالت کا کہنا ہے اگر شہریوں کے بنیادی حقوق پر کوئی فتویٰ مسلط ہوتا ہے تو عدلیہ مداخلت کرے۔ حالانکہ بھارت سرکار کے بڑے وکیل نے عدالت کو مطلع کیا تھا کہ فتویٰ ماننے کیلئے پابند نہیں ہے کیونکہ یہ محض ایک شرعی رائے ہے لیکن عرضی گزار کا کہنا تھا کہ دارالاقضا، دارالافتاہ کی شرعیت پر مبنی قانونی سسٹم یا مذہبی بنیاد پر ملککے عدلیہ نظام کے یکساں چل رہی ہے۔ عرضی میں واضح ہے کہ نادان مسلمانوں کو مذہب اور قرآن کے نام پر کچھ خودغرض لوگ فتویٰ کے ذریعے جھکاتے ہیں لیکن فتویٰ پر منتھن آج کے ماحول میں ضروری ہوجاتا ہے۔ ڈھائی لفظ والا الفاظ 17 ویں صدی سے شروع ہوا تھا۔ عربی میں فتوے کا مطلب ہے رائے یا تجویز۔ کئی لوگ اسے ضروری سمجھتے ہیں ،کچھ اسے صرف تہذیب اسلامی قاعدے قانون کے بارے میں ناواقفیت کے طور پر اس پر عمل کرانے والی دیوبند کے اسلامی ادارے دارالعلوم دیوبند کے عالم دین عبدالرؤف عثمانی کا کہنا ہے کہ فتویٰ پر عمل کرنا لازمی نہیں ہے کیونکہ یہ شرعی رائے ہے اس پر عمل کرنا نہ کرنا اس کے ضمیرپر منحصر کرے گا۔ سپریم کورٹ کی بھی یہی رائے ہے۔یہ لوگوں کی مذہبی عقیدت کا معاملہ ہے اس میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کی جاسکتی جب تک ان فتوؤں سے لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو اس فتویٰ سسٹم پر متوازن رائے دنیا کے سب سے بڑے دانشور ڈاکٹر علی گویا نے دی ہے۔ قاہرہ، مصر کے دارالافتاہ اور دارالامصرریاح کے چیئرمین نے بتایا کہ مذہبی کتاب اور انسانی تجربوں کے درمیان تال میل بٹھا کر ہی فتوی جاری ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر گویا کا مرکزروزانہ ساڑھے تین ہزار فتوے جاری کرتا ہے۔ کیا عرب علمائے دین کی رائے پر ہندوستانی علمائے دین متفق ہوں گے؟
(انل نریندر) 

06 مارچ 2014

چناؤ سے ٹھیک پہلے پھر ریزرویشن پر نہ ٹکنے والا فیصلہ!

جاٹ فرقے کو ریزرویشن ملے یا نہیں یا الگ اشو ہے سوال دیگر ہے کہ اگر یہ فرقہ طے کسوٹیوں پر پسماندہ ہے تو اسے اس کا حق ضرور ملنا چاہئے۔ مگر سوال یہاں یہ ہے کیا یوپی اے سرکار نے جاٹوں کو مرکزی سطح پر دیگر پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں رکھنے کا فیصلہ ان تقاضوں پر کیا ہے؟ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کیا یہ فیصلہ عدالت میں ٹک پائے گا؟ منموہن سنگھ کی کیبنٹ نے ایس سی ایس ٹی ترمیم بل پر آرڈیننس لاکر ضرور لوک سبھا چناؤ سے پہلے ایک بڑا سیاسی داؤ چلنے کی کوشش کی ہے۔ اس آرڈیننس کے ذریعے جاٹوں کو پسماندہ طبقے کی مرکزی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔ اس سے اس فرقے کے لوگوں کو مرکزی حکومت کے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے اور ملازمتوں میں ریزرویشن کا فائدہ ملے گا۔ اس بارے میں مرکزی وزیر منیش تیواری نے صاف کیا کہ سرکار کے اس فیصلے کے بعد راجستھان، یوپی ، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش، بہار، ہریانہ، ہماچل، گجرات اور دہلی کے جاٹ فرقے کے لوگوں کو فائدہ ملے گا۔ دراصل مظفر نگر فسادات کے بعد جاٹ فرقے میں پیدا ناراضگی کوروکنے کے لئے مرکزی سرکار نے چناؤ سے عین پہلے یہ فیصلہ لیا ہے ۔ عام چناؤ قریب آتے دیکھ حکومت نے قومی پسماندہ کمیشن این سی بی سی کے خلاف مخالفت کے باوجود 9 ریاستوں میں جاٹ فرقے کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ لیا۔ این سی بی سی کا نظریہ یہاں یہ تھا کہ شیڈول کاسٹ اور درجہ فہرست قبائل کو مرکزی فہرست میں جاٹوں کو ریزرویشن دینے کی مانگ کو اتفاق رائے سے مسترد کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ جاٹ فرقہ سماجی اور تعلیمی طور سے پسماندہ فرقہ نہیں ہے۔ کیبنٹ کی میٹنگ سے پہلے سرکار کو بھیجی گئی رپورٹ میں این سی بی سی نے کہا کہ جاٹ فرقہ تعلیمی و سماجی پسماندگی کے لحاظ سے او بی سی کی مرکزی فہرست میں شامل کرنے کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ہے۔ پچھلے سال قومی پچھڑا وگ کمیشن نے جاٹوں کی سماجی اور اقتصادی حالت جاننے کے لئے بھارتیہ سماج وگیان ریسرچ کونسل سے سروے کرانے کا فیصلہ کیا۔ اس سروے کی رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے۔ اس کے باوجود مرکزی حکومت ایسا فیصلہ کرے گی تو یہ سوال تو ضرور اٹھے گا کہ ایسا ریزرویشن کے اصول میں فائدے کی نیت کے تحت فیصلہ لیا گیا ہے یا اس کے پیچھے مقصد کئی ریاستوں میں نمبروں کی طاقت کے لحاظ سے اہم اور خوشحال اس فرقے کے ووٹ پکے کرنا ہے؟ آئینی نقطہ نظر سے ریزرویشن غریبی ہٹاؤ یا روزگار مہیا کرانے کا ایک ادارہ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے مقصد ان ذاتوں اور طبقات کو اقتدار اور فیصلے کی کارروائی میں نمائندگی دینا ہے جو تاریخی اسباب سے صدیوں سے سماجی اور تعلیمی طور سے پسماندہ ہیں لیکن بدقسمتی ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے ریزرویشن کو ایک جذباتی اشو میں تبدیل کردیا ہے۔ اس کی بنیاد پر ذات پات کی بنیاد پر ووٹ بینک بنانے میں لگی ہیں۔ جاٹ ریزرویشن کو عدالت میں جائز ٹھہرانا آسان نہیں ہوگا۔ جاٹوں کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ کرتے وقت حکومت نے عدالت کے ان سبھی فیصلوں کو بھلا دیا ہے جن میں پسماندگی کے اعدادشمار اکھٹے کئے بغیر ریزرویشن دینے کی ممانیت کی گئی ہے۔ لوک سبھا چناؤ کے وقت نافذ کئے گئے جاٹ ریزرویشن کا حشر کہیں اقلیتی ریزرویشن جیسا نہ ہو جس کا اعلان اترپردیش اسمبلی چناؤ سے پہلے مسلم ووٹروں کو رجھانے کے لئے کیا گیا تھا لیکن اس کا فائدہ مسلمانوں کو نہیں ملا۔ چناؤ میں یہ کتنا مفید ثابت ہوتا ہے جلد پتہ چل جائے گا۔
(انل نریندر)

ساکھ چمکانے بگاڑنے میں بڑھتی سوشل میڈیا کی اہمیت!

ایک زمانہ تھا جب زیادہ تر بھارت کی عوام انٹر نیٹ کا استعمال کرنا بھی نہیں جانتی تھی لیکن پچھلی ایک دہائی نے انٹرنیٹ اب ہر گھر میں کم سے کم ہندوستان کے بڑے شہروں میں استعمال ہورہا ہے۔دیہاتی سرزمین میں بھی انٹرنیٹ پہنچ گیا ہے۔ پرچار کمپین کا انٹرنیٹ ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ اس سے چاہے وہ فیس بک ہو ،ٹوئٹر ہو یا پھر دیگر نیٹ ورکنگ سائٹس ہوں۔ کمپنیاں اپنی مارکٹنگ کا فورا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ ایسے میں دیش کی بڑی سیاسی پارٹیاں ولیڈر سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرنے لگے ہیں۔ سوشل سائٹ پر اسمبلی چناؤ کے وقت سے ہی پارٹیوں سے لیکر اکیلے نیتاؤں تک کمپین کو تقویت ملی ہے۔ اب لوک سبھا چناؤ کا اعلان ہو گیا ہے۔یقیناًسوشل میڈیا اور بلاگنگ بھی اس چناؤ میں اہم کردار نبھا رہے ہیں یا نبھانے والے ہیں اور مین اسٹریم میڈیا چناؤ سے جڑی پل پل کی خبریں لوگوں تک پہنچانے میں اہم کردار نبھا رہا ہے۔ اشو کا باقاعدہ تجزیہ ہوتا ہے ، لوگ اپنے نظریئے لکھتے ہیں اور افواہیں پھیلانے تک کام ہورہا ہے۔ سوشل میڈیا میں پانی، بجلی جیسے اشو کے ساتھ ساتھ کئی ایسے اشو بھی زیر بحث ہوتے ہیں جو پورے دیش کی سیاست کو متاثر کرتے ہیں۔ جس پر ایک پارٹی اپنا نقطہ نظر،پالیسی اور نظریہ رکھنا چاہتی ہے۔ اس کو زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچانے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ سوشل سائٹ پر چھوٹے بڑے لیڈر اپنی مقبولیت صاف ستھری بنانے کے لئے ترقی کو جنتا تک پہنچانے کی حتی الامکان کوشش میں لگی ہیں جس کے لئے سوشل میڈیا سائٹ پر کبھی کبھی کچھ انوکھے طریقے و نئی تکنیک کا استعمال بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ سوشل میڈیا لوک سبھا چناؤ نتائج کو کافی حد تک متاثر کرسکتا ہے لیکن کبھی کبھی اس کا بیجا استعمال بھی ہوتا ہے۔ جھوٹی تصویریں لگاکر، غلط نعرے لگا کر دنگے تک بھڑکائے جاتے ہیں۔ غلط اعدادو شمار دیکر جھوٹی کمپین دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہ سچائی ہے کہ دیش کے ہر شہری کو کسی بھی سیاسی نظریئے میں بھروسہ رکھنے اور اسے ظاہر کرنے کا حق ہے اور اسی کا چناؤ میں استعمال ہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ لیکن بلاگنگ، فیس بک ،ٹوئٹر، گوگل پلان جیسے سوشل میڈیا کے ٹولز کا سوال ہے ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہم دیش کے مفاد کے لئے ان کا کیسا بہتر یا بیجا استعمال کررہے ہیں؟ انٹر نیٹ کے بھرپور استعمال اور اس کے ذریعے ٹھگی کے بھی کئی قصے سامنے آئے ہیں۔ ہندوستان میں پولنگ کا شرح فیصد ہمیشہ کم رہا ہے۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ پبلسٹی و ووٹروں کے اندر مایوسی بھی ہے۔ سوشل میڈیا کے آنے سے اس میں کمی آئی ہے اور اس کی وجہ سے ووٹ فیصد بڑھا ہے۔ خاص کر نوجوان طبقے میں۔ چناؤ کمیشن کو بھی اب سوشل میڈیا کو سیدھے طور پر استعمال کرنے کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ بیرونی ممالک میں تو آن لائن ووٹنگ کی بھی سہولت ہے۔ امریکہ میں سوشل میڈیا کا نیا کردار سامنے آیا ہے۔ اب ہمارے دیش میں بھی سوشل میڈیا کے استعمال کی سمجھ آہستہ آہستہ آرہی ہے اور اس کا اثر دیکھنے کو بھی مل رہا ہے۔ کچھ دن پہلے تفتیشی پورٹل کوبرا پوسٹ نے اسٹنگ آپریشن کے ذریعے انکشاف کیا کہ ساکھ چمکانے اور بگاڑنے کا دھندہ بھی انٹر نیٹ پر خوب چل رہا ہے۔ سرویلنس کمیشن نے پہلی بار سوشل میڈیا پر ہونے والی کمپین کو بھی اپنی نگرانی میں شامل کیا ہے اورپیسے کو چھپا کر ہر وقت ساکھ بہتر بنانے یا بگاڑنے کا جو بھی دھندہ چل رہا ہے اس پر لگام لگانا انتہائی ضروری ہے۔
(انل نریندر)

05 مارچ 2014

راہل کے ڈریم بلوں پر صدر کا عدم اتفاق!

ہم کانگریس پارٹی کی ہڑبڑاہٹ کو سمجھ سکتے ہیں۔ وہ لوک سبھا چناؤ سے پہلے اپنی کمان سے سارے تیر چلانا چاہتی ہے کیونکہ انہیں جو رپورٹ مل رہی ہے وہ حوصلہ افزا نہیں لگتی۔ لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کو مایوسی ملنے والی ہے۔ جاتے جاتے اس یوپی اے سرکار نے دونوں ہاتھوں سے ریوڑیاں بانٹنا شروع کردی ہیں۔ سوغات کی جھڑی لگادی ہے۔جو کچھ بھی وہ دے سکتی تھی اس نے دے دیا۔ ممکن ہے کسی بھی وقت چناوی تاریخوں کا اعلان ہونے والا ہے اور اسی کے ساتھ چناؤ ضابطے لگ جائیں گے۔ یوپی اے سرکار نے مرکزی ملازمین کا مہنگائی بھتہ موجودہ90 فیصد سے بڑھا کر100 فیصد کردیا ہے۔ امپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کی ملازمین پنشن اسکیم۔95 کے تحت کم از کم پنشن رقم1000 روپے کردی ہے۔ لوک سبھا چناؤ لڑنے والے امیدواروں کے چناوی خرچ کی حد بھی بڑھا کر70 لاکھ روپے کردی ہے لیکن پارٹی نائب صدر راہل گاندھی کے ڈریم بلوں میں رکاوٹ آگئی ہے۔ ان کے پسندیدہ 7 بلوں کو آرڈیننس کے ذریعے لاگو کرنے کا سارامنصوبہ صدر محترم پرنب دا نے ناکام کردیا ہے۔ کیبنٹ نے ایتوار کو ان بلوں کو آرڈیننس کے ذریعے قانون بنانے کے پلان کو ڈراپ کردیا ہے۔ یہ اس لئے ڈراپ یا منسوخ کرنا پڑا کیونکہ صدر پرنب مکھرجی نے ان پر دستخط کرنے سے صاف منع کردیا تھا۔ ذرائع کے مطابق صر پرنب مکھرجی نے وزیر قانون کپل سبل اور وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے کے ساتھ ہوئی ملاقات کے دوران اپنا موقف صاف کردیا۔ انہوں نے سرکار کے عہد کے آخری مرحلے میں اتنے اہم بل کو آرڈیننس کے ذریعے لانے کو لیکر اپنے خدشات ظاہر کرتے ہوئے ان کے مسودوں میں خامیوں کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ویسے بھی پہلے ہوئی کیبنٹ کی میٹنگ میں بھی شرد پوار اور کپل سبل جیسے وزیر بھی موجودہ صورت میں آرڈیننس پر اپنی تشویش اور اعتراض جتا چکے تھے۔ صدر نے آئین کی دفعہ123 کے تحت آرڈیننس لانے کی فوری ضرورت پر سوال اٹھائے۔ صدر کا نظریہ تھا کہ ایسے قانون پارلیمنٹ میں بحث کے بعد ہی بنائے جانے چاہئیں۔ ویسے ان آرڈیننس کی ضرورت پر کئی بار ماہر قانون نے پہلے ہی سوال اٹھائے تھے۔ وہیں اپوزیشن پارٹی پہلے سے ہی آرڈیننس لانے کی مخالفت کررہی تھی۔ دراصل یوپی اے سرکار یہ نہیں بتا پارہی ہے کہ کانگریس اور موجودہ منموہن سرکار دیش کو یہ دکھانا چاہتی تھی کہ وہ کرپشن سے لڑنے کو لیکر پابند ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ اس لڑائی کی رہنمائی اس کے وائس پریزینڈنٹ راہل گاندھی ہی کررہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے جوڈیشیل جوابدہی اور وقت پر خدمات فراہم کرنے کے آئینی بلوں کے ساتھ پانچ بلوں کو راہل گاندھی کی ترجیحاتی فہرست میں چوٹی پر بتایا جارہا ہے۔ بلا شبہ اگر ان میں پانچ بل پاس ہوجاتے تو کرپشن سے لڑنے میں آسانی ہوجاتی اور اس برائی کے خلاف ایک ماحول بھی تیار ہوتا۔ یہ سبھی بل مفاد عامہ کے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہاں پر یوپی اے سرکار اور کانگریس پارٹی سے ایک بہت بھاری بھول ہوگئی۔ انہیں لوک پال بل کے ساتھ ہی پارلیمنٹ سے پاس کرالینا چاہئے تھے کیونکہ یہ سب اسی سے متعلق ہیں۔ تب حکومت اور اپوزشین میں لوک پال بل کو لیکر اتفاق رائے بھی تھا۔ ایک تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ یوپی اے سرکار جس طرح سے ریوڑیاں بانٹ رہی ہے اس سے دراصل کروڑوں روپے کا فاضل بوجھ سرکاری خزانے پرپڑے گا جس سے اگلی سرکار کو نمٹنے میں کافی دقت آئے گی۔ شاید کانگریس نے سوچا کہ ہم تو ڈوب رہے ہیں تمہیں بھی لے ڈوبیں گے صنم۔
(انل نریندر)

یوکرین میں فوجی مداخلت کو لیکر روس اور امریکہ آمنے سامنے!

یوکرین اشو پر روس اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے تشویش کا باعث بنتی جارہی ہے۔ یوکرین نے سنیچر کو الزام لگایا کہ روس اس کے دائرہ اختیار کے علاقے میں اپنے ہزاروں فوجی بھیج رہا ہے۔ یوکرینی وزیر دفاع ایگور تینومخ نے نئی سرکار کی پہلی کیبنٹ میں کہا کہ روس کو مسلح فورسز نے 30 مسلح ملازمین اور 6 ہزار سے زیادہ فوجیوں کو کریمیا بھیجا ہے۔ان کو کریمیا میں روس حمایتی ملیشیا کی مدد کیلئے بھیجا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ روس نے جمعہ کو اپنے فوجی بغیر کسی وارننگ کے یا یوکرین کی اجازت کے بغیر بھیجنا شروع کردیا تھا۔ ادھر روس اور یوکرین کے درمیان ڈیڈ لاگ اس وقت بڑھ گیا جب ماسکو حمایتی یوکرینی لیڈر کریمیا علاقے میں فوج اور پولیس پر کنٹرول کا دعوی کیااور روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے امن قائم رکھنے میں مدد مانگی۔ واضح رہے کہ سارا جھگڑا یوکرین کے چانو کووچ جو روس حمایتی ہیں زبردستی 22 فروری کو معزول کردئے گئے۔ پارلیمنٹ نے ایک مغربی حمایتی سرکار کو معمور کردیا جس کا ایک مقصد روسی اثر والے علاقے سے ہٹ کر یوکرین کو یوروپی فیڈریشن کے قریب لانا ہے۔ صدر چانوکووچ نے روس کے ساتھ رشتوں کو ترجیح دیتے ہوئے یوروپی فیڈریشن کے ساتھ معاہدوں کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد یوکرین میں دھرنے اور مظاہرے کا دور شروع ہوگیا۔صدر کو معزول کردیا گیا۔ اپنے اثر والے علاقے سے نکلتے ہوئے روسی صدر پوتن نے فوجی مداخلت شروع کردی ہے۔ پچھلے جمعہ کو مسلح افراد نے کریمیا میں بڑے ہوائی اڈوں اور ایک ٹیلی کمیونی کیشن سینٹر کو قبضے میں لے لیا تھا۔ ان مسلح لوگوں کو روسی فوجی بتایا گیا ہے۔ یوکرین کی عوام دراصل دو گروپوں میں بٹی ہوئی ہے۔ دیش کا مغربی حصہ یوروپی فیڈریشن کے ساتھ قریبی رشتے کی پیروی کررہا ہے تو مشرقی اور جنوبی حصہ تعاون کے لئے روس کی طرف دیکھ رہا ہے۔ کریمیا میں زیادہ تر لوگ روسی زبان بولتے ہیں۔ یوکرین کے وزیر اعظم نے راجدھانی کیو میں کیبنٹ کی میٹنگ کر روس سے اپیل کی ہے کہ وہ کریمیا میں تعطل کو گہرا کرنے کا کام نہ کریں۔ اس دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن نے روسی پارلیمنٹ سے یوکرین میں اپنی فوج بھیجنے کے فیصلے پر مہر لگوالی ہے۔ پوتن کی درخواست کوروس کی پارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے مان لیا ہے۔ روس کی بحریہ قریب 50 سال سے کریمیا میں رہی ہے۔ قریب 20 لاکھ کی آبادی والے کریمیا پر روس حمایتی فوج کا کنٹرول ہے۔ علاقے کی ساری عمارتوں پر روسی پرچم لہرادیا گیا ہے اور ٹی بی سینٹروں کے ساتھ ساتھ ہوائی اڈوں پر بھی روسی فوج کا قبضہ ہوچکا ہے۔ روس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پوتن نے دیش کے ایوان بالا سے کہا تھا کہ وہ انہیں 4.6 کروڑ آبادی والے اس دیش یوکرین میں اس وقت تک فوجی طاقت کی اجازت دے جب تک وہاں سیاسی حالات ٹھیک نہیں ہوجاتے۔ پوتن نے یہ بھی کہا کہ روس کو کریمیا کے بین الاقوامی معاہدے کے تحت اپنی بلیک سی فلیٹ کی بھی حفاظت کرنی ہے۔ فیڈریشن کونسل نے ایک رائے سے پوتن کی درخواست مان لی ہے۔ ادھر امریکی صدر براک اوبامہ نے یوکرین کے حالات کے پس منظر میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن کو یوکرینی سرداری کی خلاف ورزی کو لیکر آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کریمیا علاقے سے ماسکو اپنی سکیورٹی فورسز کو واپس بلائے ورنہ سیاسی اور اقتصادی طور سے وہ الگ تھلگ پڑنے کے لئے تیار رہے۔اوبامہ کی پوتن سے 90 منٹ تک بات چیت کے بعد یہ بیان آیا ہے۔ یوروپی فیڈریشن پر اس مسئلے پر میٹنگ کررہی ہے۔ روس بنام مغربی کشیدگی آہستہ آہستہ بڑھتی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

04 مارچ 2014

36 برسوں میں ڈیڑھ لاکھ کروڑ کا امپائر کھڑا کرنے والے سبرت رائے!

سہارا گروپ کے چیف سبرت رائے سہارا کی زندگی کی کہانی کسی بلاک بسٹر فلمی اسٹوری سے کم نہیں۔ گورکھپور سے مکینیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ کورس کرنے والا یہ 30 سالہ نوجوان 1978 ء میں ہزار ڈیڑھ ہزار روپے سے کاروبار کی ابتدا کر 36 برسوں میں ڈیڑھ لاکھ کروڑ سے اوپر کا بزنس امپائر کھڑا کردیتا ہے۔یہ بزنس ٹائیکون کوئی اور نہیں سرمایہ کاروں کا 20 ہزار کروڑ کی ادائیگی نہ کرنے کا ملزم سہارا انڈیا پریوار کے چیئرمین سبرت رائے سہارا ہیں۔ فائننس، ریل اسٹریٹ، میڈیا، ہیلتھ کیئر، انٹرٹینمنٹ، کنزیومر گڈس، ٹورازم سمیت کئی سیکٹروں میں سرمایہ لگانے والے سبرت رائے کا بزنس آج بیرونی ممالک تک پھیل چکا ہے۔65 سالہ سبرت رائے نے 1978ء میں سہارا گروپ بنایا اور کاروبار کا آغاز گورکھپور سے ہی کیا تھا۔ اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انہوں نے گروپ کا آغاز سہارا بینکنگ سے کرکے بڑی تعداد میں بچت کھاتہ داروں کو جوڑا اور یہیں سے ان کی کہانی میں موڑ آیا۔ گورکھپور سے شروع ہوا سہارا کا سفر آج اربوں روپے تک پہنچ چکا ہے۔ سیاست ،بالی ووڈ، اسپورٹس میں اپنی چمک اور پیسہ بکھیر کر سہارا شری کے دبدبے کو ثابت کرتے رہے ہیں۔ چٹ فنڈ سے لیکر کئی نامی گرامی کمپنیاں چلانے کے ساتھ ہی سہارا نے ریئل اسٹریٹ اسپورٹس، بالی ووڈ میڈیا کے کاروبارمیں مضبوط پکڑ بنائی۔ یہ سبرت رائے کی سخت محنت اور سوجھ بوجھ کا ہی نتیجہ ہے۔ ان کی مختلف کمپنیوں نے دیش کے لاکھوں لوگوں کوروزگار دیا البتہ ایئرلائنس بیچنے اور ہندوستانی کرکٹ ٹیم سے اسپانسر شپ واپس لینے سے سہارا گروپ تنازعوں میں رہا ہے لیکن سیبی سے ٹکر لینا سبرت رائے کو مہنگا پڑا۔ سارا معاملہ سہارا گروپ کی دو کمپنیوں سہارا انڈیا ریئل اسٹریٹ کارپوریشن، سہارا ہاؤسنگ انویسٹمنٹ کارپوریشن نے ریل اسٹریٹ میں سرمایہ لگانے کے نام پر 2008 ء سے2011ء کے درمیان متبادل مکمل ٹرانسفر ڈبینچر(او ایس سی ڈی) کے ذریعے تین کروڑسے زیادہ سرمایہ کاروں سے 17400 کروڑ روپے اکھٹے کئے تھے۔ ستمبر2009ء میں سہارا پرائم سٹی نے آئی پی او لانے کے لئے ہندوستانی ایکسچینج ریگولیٹری بورڈ (سیبی) کے سامنے دستاویز پیش کئے جس میں سیبی کو کچھ گڑ بڑیاں ہونے کا اندیشہ لگا۔ اسی درمیان روشن لال سیبی کے پاس اپنی شکایت لیکر پہنچا کہ اسے پیسہ واپس نہیں لوٹایا جارہا ہے۔ سیبی کو موقعہ مل گیا اس نے اگست2010ء میں دونوں کمپنیوں کی جانچ کے احکامات دئے اور یہیں سے سیبی بنام سہارا کی لڑائی شروع ہوئی۔ سیبی پتہ نہیں کس کے کہنے پر سبرت رائے کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑ گئی۔ سیبی نے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے ساتھ سپریم کورٹ کو پورے معاملے میں شامل کرلیا۔ حالانکہ اگر سیبی چاہتی تو خود معاملے کی تفتیش سے لیکر شرائط نہ پورا ہونے تک معاملے خود نپٹا سکتی تھی۔ حکومت نے سیبی کو اور طاقت دینے کے لئے قانون میں ترمیم کرلی لیکن اس نے گیند سپریم کورٹ کے پالے میں ڈال دی۔ جب اتنا پیسہ آتا ہے اور اتنا رسوخ ہوجاتا ہے تو آدمی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب کوئی بھی طاقت اسے چھو نہیں سکتی۔ یہ ہی غلطی یا غرور کی وجہ سے سبرت رائے آج گرفتار ہوچکے ہیں۔ سپریم کورٹ کے غیر ضمانتی وارنٹ پر عمل کرتے ہوئے لکھنؤ پولیس نے سبرت رائے کو آخر کار گرفتار کرلیا۔ گومتی نگر پولیس نے رائے کو سہارا سٹی سے حراست میں لیا اور سی اے جی کے سامنے پیش کیا۔ کورٹ نے پولیس او ر رائے کو ان کے وکیل کی دلیل سننے کے بعد انہیں 4 مارچ تک پولیس حراست میں بھیج دیا۔ پولیس نے سکیورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے رائے کو فی الحال محکمہ جنگلات کے ککریل گیسٹ ہاؤس میں رکھا ہوا ہے اس سے پہلے کورٹ کے پوچھنے پر سبرت رائے نے اپنے گھر پر ہی رہنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ کچہری میں بھی پولیس نے پچھلے گیٹ سے انہیں اندر لے جاکر چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ آنند کمار کی عدالت میں پیش کیا۔ سبرت رائے نے لکھنؤ اور نئی دہلی میں ان کے بیٹے سیمانت رائے نے اپنے والد کی گرفتاری پر صفائی پیش کی اور کہا کہ سبرت رائے ماں کی میڈیکل رپورٹ لیکر لکھنؤ سے باہر ڈاکٹروں کے ایک پینل کے پاس صلاح لینے گئے تھے لوٹنے پر پتہ چلا کہ مجھے پولیس لینے آئی تھی ، میں فرار نہیں ہوا ۔بہت سے لوگوں نے مجھے صلاح دی کہ میں ہسپتال میں بھرتی ہوجاؤں، میں لکھنؤ میں ہوں اور ہاتھ جوڑ کر بڑی عجلت سے جج صاحبان سے التجا کرتا ہوں کہ عدالت مجھے 3 مارچ تک نظر بند کر مجھے بیمار ماں کے ساتھ رہنے کی اجازت دیں۔ نئی دہلی میں ٹھیک اسی وقت جب سبرت رائے گرفتار ہورہے تھے ان کے بیٹے سیمانت رائے اپنے والد کو دیش بھکت اور قانون کی تعمیل کرنے والا بتا رہے تھے۔ آناً فاناً میں جمعہ کو منعقدہ پریس کانفرنس میں سیمانتو رائے نے یہ صفائی دی کے ان کے والد نے اپنی مرضی سے لکھنؤ پولیس کے سامنے خود سپردگی کی اور وہ حکام کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ سبرت رائے کو امیدتھی کہ سپریم کورٹ سے ان کی ماں کی بیماری کو دیکھتے ہوئے تھوڑی راحت ملے گی۔ لیکن جب انہوں نے صبح اپنے فرار ہونے سے متعلق خبر پڑھی تو انہیں بہت تکلیف ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے خود سپردگی کا فیصلہ لیا۔ سہارا گروپ نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ سہارا نے سیبی کے پاس 5120 کروڑ روپے جمع کرائے ہیں۔ یہ رقم سرمایہ کاروں کو لوٹانے کے لئے ہے لیکن جب سیبی کے پاس یہ رقم جمع ہے اور پچھلے15 مہینوں میں سیبی نے صرف ایک کروڑ روپے ہی لوگوں کو دئے ہیں۔ جہاں تک 20 ہزار کروڑ روپے کی واپسی کی بات ہے سہارا پہلے ہی یہ رقم لوٹا چکا ہے۔ اس کے سپرد میں 100 سے بھی زیادہ بکسوں میں کاغذات سیبی کے پاس بھیج چکے ہیں جہاں ساری رات پارٹیاں چلتی تھیں، بالی ووڈ کا گلیمر بکھرتا تھا، فلمی ستارے تھرکنے کو جہاں بیتاب رہتے تھے ، کھیل دنیا کی نامی گرامی ہستیاں پکنک مناتی تھیں، آج سبرت رائے کی گرفتاری کے بعد سناٹا اور مایوسی چھائی ہوئی ہے۔ جو سہارا شہر سبرت رائے کی آن بان شان ہے جسے زندہ دلی اور رنگینیت کا دوسرا نام مانا جاتا تھا جمعہ کی صبح سے ہی اس شہر میں سناٹا چھایا ہوا ہے۔ سوا پانچ بجے سبرت رائے کی گرفتاری ہوتے ہی سہارا شہر ویران ہوگیا۔ سہارا شہر اور تمام سہارا حمایتیوں کو یقین نہیں تھا لیکن سبرت رائے جیسی شخصیت آج سلاخوں کے پیچھے ہے۔ ایک بات تو اس سے ثابت ہوتی ہے کہ قانون سے اوپر کوئی نہیں ہے۔ آج اگر سہارا شری کو یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے تو ان کے غرور ،غلطیاں اس کی بڑی وجہ ہیں۔ ہا یہ بھی کہنا ہوگا کہ سیبی بھی ان کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑی ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

02 مارچ 2014

کیا اس بار اترپردیش میں لوک سبھا چناؤ میں کمل کھلے گا؟

لوک سبھا چناؤ میں دہلی کی گدی تک پہنچے کے لئے راستہ اترپردیش سے جاتا ہے اس لئے کہنا غلط نہیں ہوگا کہ 80 سیٹوں والی اس ریاست میں سبھی نے اپنی اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ سبھی پارٹیاں زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنا چاہتی ہیں۔ لیکن مظفر نگر فرقہ وارانہ فساد نے سیاسی پارٹیوں کا حساب کچھ حد تک بگاڑ دیا ہے۔ پشچمی اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کو سائیکل کے پچھڑنے کا ڈر ہے تو وہیں راشٹریہ لوک دل کا غیر مسلم سمی کرن ٹوٹنے سے پارٹی کو جھٹکا لگا ہے۔ بھاجپااور بسپا خود کو فائدے میں مانتے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کا ووٹ کاٹو کھیل کس حدتک سمی کرن بگاڑ سکتا ہے یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے۔ بھاجپا کو مشن272+ کا نشانہ حاصل کرنے کے لئے یوپی میں زیادہ سے زیادہ سیٹ جیتنا پارٹی کے لئے بیحد ضروری ہے۔ پارٹی کی طرف سے پی ایم امیدوار نریندر مودی اور یوپی میں بھاجپا پربھاری امت شاہ کئی سبھائیں کر ماحول اپنے حق میں کرنے کے لئے دن رات ایک کررہے ہیں۔ یوپی میں ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہار جیت کے فیصلے میں مسلم ووٹراہم کردار نبھاتے ہیں اس لئے دنگے سے مکت پردیش کی بات کر مسلمانوں کا بھروسہ جیتنے میں جٹے ہیں۔ بھروسے کی بات کریں تو اترپردیش میں مکھیہ منتری اکھلیش یادو دعوی کررہے ہیں کہ سماجوادی پارٹی آئندہ لوک سبھا چناؤ میں اترپردیش میں سب سے زیادہ لوک سبھا سیٹیں جیتے گی کیونکہ پارٹی کبھی دھرم اور ذات کی بنیادپر سیاست نہیں کرتی۔ سماجوادی پارٹی صدر ملائم سنگھ یادونے راشٹریہ جنتا پارٹی کے خلاف سیدھی لڑائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یوپی میں سپا اور بھاجپا کی سیدھی لڑائی ہے۔ لوک سبھا چناؤ کے بعد مرکز میں تیسری طاقتوں کی سرکار بنانے کا دعوی کرتے ہوئے ملائم نے کہا کہ نریندر مودی کی سیاست بٹوارے کی ہے۔ وہ سپا کو کوئی چنوتی نہیں دے سکتے کیونکہ ہم بھید بھاؤ ختم کرنے، خاص کر مسلموں کے وکاس کی بات کرتے ہیں جبکہ بھاجپا مسلمانوں کو نفرت کی نظر سے دیکھتی ہے۔ ملائم سنگھ نے کہا کہ بسپا کی نیتا (مایاوتی )کہتی ہیں کہ یوپی سرکار کو برخاست کرو۔ ان کے پاس نہ کہنے کو کچھ ہے اور نہ ہی کوئی مدعا ہے۔ بسپا تو کہیں لڑائی میں ہی نہیں ہے۔ خیر اس بات سے بہن جی شاید ہی متفق ہوں ۔ مایاوتی کا ماننا ہے کہ اصل لڑائی بھاجپا اور بسپا میں ہے۔ سب سے بری حالت اترپردیش کے سیاسی دنگل میں کانگریس کی لگ رہی ہے۔ پارٹی کے لئے 2009ء کی کارکردگی دوہرانا آسان نہیں ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ سیٹ میں اضافہ کانگریس کی بنیاد پر ہی ہوگا۔ اس کے علاوہ عام آدمی پارٹی بھی ووٹ کاٹو کے کردار میں بڑی پارٹیوں کے نتیجوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگر ہم سرووں کی بات کریں تو اے بی این نیلسن کے تازہ سروے کے مطابق آئندہ لوک سبھا چناؤ میں اترپردیش اور بہار میں بی جے پی کی حالت کافی مضبوط ہونے والی ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں مودی کا میجک ووٹروں کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔اترپردیش میں عام آدمی پارٹی کو صرف ایک سیٹ ملنے کا اندازہ ہے۔کل ملاکر اترپردیش اور بہار میں 120 سیٹوں میں سے 61 سیٹوں پر بھاجپا کا کمل کھلنے والا ہے۔ اکیلی اترپردیش میں سروے کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کو 40 سیٹیں ملنے کی توقع ہے۔ کانگریس۔ آر ایل ڈی اتحاد کو11 ، بی ایس پی کو13 اور ایس پی کو 14 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے۔پر بھی چناؤ میں دو مہینے کے قریب بچے ہیں تب تک حالات بدل سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

چناؤ سروے بین کرنا صحیح نہیں اس میں سدھار کی ضرورت ہے!

چناؤ میں مختلف پارٹیوں کی ممکنہ نوعیت دکھانے والے اوپینین پول کی معتربیت پر ایک بار پھرسوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ایک نیوز چینل کے اسٹنگ آپریشن میں اوپینین پول کرنے والی ایجنسیوں کا جیسا چہرہ سامنے آیا ہے اس سے ایسے پولوں کی معتبریت اور معنونیت دونوں پر ہی سوال اٹھنے فطری ہیں۔ اسٹنگ میں جن ایجنسیوں کے کرتا دھرتا پولوں کے نتیجوں میں پول کرانے والی پارٹی کی مرضی کے مطابق نتیجوں میں ہیر پھیر کرنے کے لئے آسانی سے تیار دکھتی ہیں اور بدلے میں نقد رقم کو قبول کرنے کے لئے بھی تیار رہتی ہیں۔ اس سے پولوں سے عوام کا یقین اٹھ جائے گا۔ اسٹنگ میں سی۔ ووٹر کی سینئر افسر کو اس بات کے لئے راضی ہوتے دکھایا گیا ہے کہ من مطابق بھگتان ملنے پر اس کی ایجنسی مانگ کے مطابق آنکڑے پیش کرسکتی ہے۔ اس میں انہوں نے ایجنسی کے منیجنگ ڈائریکٹر کی مرضی بھی بتائی ہے۔اس اسٹنگ سے سودے بازی کے ساتھ ہی آنکڑوں کی ہیرا پھیری کے طریقوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔ پوچھا گیا کہ اگر سروے میں کسی پارٹی کو 10 سیٹیں ہی مل رہی ہوں تو اسے زیادہ کیسے دکھایا جاسکتا ہے۔ جواب تھا یہ مان کر چلا جاتا ہے کہ 3 سے5 فیصدی متوقعہ ووٹوں کی غلطی ہوسکتی ہے۔ اگر سیٹیں بڑھا کر دکھانے کی ضرورت ہو تو اس فرق کو جوڑدیا جائے گا۔ ایجنسی کی افسر ادائیگی کا بڑا حصہ نقد شکل میں لینے کو بھی تیار دکھائی دیں۔اس سے اشارہ ملتا ہے کہ رائے شماری کے دھندے میں کالے دھن کا بھی کردار ہوسکتا ہے۔ اگر پیڈ نیوز گناہ ہے تو اس طرح کی رائے شماری کیا ہے؟یہ بھی کہنا غلط نہیں ہوگا کہ عوامی رائے شماری کے کئی بار پہلے کے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ کانگریس اور ’آپ‘ پارٹی نے اس پر پوری طرح پابندی لگانے کی مانگ دوہرائی ہے۔ ’آپ‘ پارٹی نے چناؤ کمیشن سے کوڈ آف کنڈیکٹ جاری کر ایک ریگولیٹری اتھارٹی بنا کر اسے ریگولیٹ کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ ادھر چیف الیکشن کمشنر وی ایس سمپت نے کہا ہے کہ چناؤ کمیشن نے اوپینین پول پر اپنی سفارشیں 10 سال پہلے ہی سرکار کو بھیج دی تھیں اور اس پر کارروائی اب سرکار کو کرنی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اوپینین پول پر پابندی لگانا مناسب ہوگا؟ ہر ترقی یافتہ جمہوری دیش میں جنتا کا رجحان جاننے کے لئے سروے ہوتے ہیں۔ اس لئے ایسے سروے بنیادی طور سے برے ہیں اور ان پر پابندی لگنی چاہئے۔ ہماری رائے میں صحیح نہیں ہوگا۔ دراصل مسئلہ سروے نہیں بلکہ انہیں کرنے کے دوران ہونے والی مبینہ بے ایمانی ہے۔ سماج کے سبھی طبقوں کی طرح سروے ایجنسیاں بھی اچھی اور بری ہیں۔ ایسے میں بہتر تو یہی ہوگا کہ سرکار و چناؤ کمیشن ایسا ڈھانچہ بنائے جس سے سرووں میں ارادتاً چھیڑ چھاڑکرنے والی ایجنسی کو سزا دی جا سکے۔دراصل سروے کے میدان کے ماہرین بھی یہ مانتے ہیں کہ کسی چناؤ میں پارٹیوں کا متوقعہ ووٹ فیصد بتا پانا کافی حد تک ممکن ہے لیکن مسئلہ تب آتا ہے جب ووٹ فیصد کی بنیاد پر سیٹوں کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ یہ سبھی مانتے ہیں کہ اب تک کوئی بھی ایسا مکمل طریقہ تیار نہیں ہوا ہے جو ووٹ فیصد کی بنیاد پر پارٹیوں کو ملنے والی سیٹوں کا صحیح اندازہ بتا سکے۔ بہرحال اب سرکار اور سروے ایجنسیوں دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔سرکارکو فوراً ان کے ریگولیشن کے لئے ایک مناسب مکینیزم بنانا ہوگا اور سروے کرنے والی ایجنسیاں اپنے درمیان موجود غلط لوگوں اور پیسوں کے لالچ میں آنے والے غلط لوگوں کو پیشے سے باہر کا راستہ دکھائیں۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...