Translater

18 جون 2026

کاغذوں پر دستخط:زمین پر دھواں

دنیا نے راحت کی سانس لی جب یہ اعلان ہوا کہ امریکہ ایران جنگ میں سیز فائر ہوگیا ہے ۔لیکن میں اسے صرف جنگ بندی ہی کہتا ہوں ، یہ جنگ کا خاتمہ نہیں ماناجاسکتا کیوں کہ ابھی صحیح معنوں میں دونوں طرف کی شرائط تسلیم کرنا بچی ہیں ۔فی الحال تو اس سے صرف امریکہ اور ایران کے درمیان بم باری ہی رکی ہے جنگ روکنے کے لئے ابھی بہت سے پینچ پھنسے ہیں۔ میں سب سے پہلے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ،صدر مسعود پزیشکیان ،وزیرخارجہ عباس عراغچی اور اسپیکر بانگر غالیباف کو مبارکباد دینا چاہتاہوں کہ جنگ میں بھاری پڑنے کے باوجود انہوں نے اس جنگ بندی ( سیز فائر ) روکنے میں قابل قدر کرادر نبھایا ۔میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کے لئے بدھائی نہیں دینا چاہتا کیوں کہ انہوں نے ہی یہ جنگ شروع کی تھی ۔جسے بلاوجہ جنگ شروع کی تھی اس میں جنگ بندی کرکے انہوں نے اپنی جان ہی چھڑائی ہے ۔کسی پر احسان نہیں کیا ۔ان کے حامی امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کہہ رہے ہیں ٹرمپ اب نوبل ایوارڈ کے حقدار ہیں ؟ کیوں بھئی کیسے ہوئے حقدار ؟ پہلے شروع کرو اور پھر پیٹو اور اب بنا شرائط کے بم باری روکنے کا اعلان کرو ؟ یہ جو ایم او یو پر دستخط ہونے جارہے ہیں وہ کتنا کارگر ثابت ہوتا ہے ۔یہ دیکھنا باقی ہے کیوں کہ سب سے بڑا پینچ تو نیتن یاہو بنے ہوئے ہیں ۔اسرائیل نے صاف اعلان کر دیا ہے کہ وہ اس سمجھوتہ کو نہیں مانتا اور نہ ہی وہ لبنان پر حملے بند کرے گا جبکہ ایران کی شرطوں میں یہ شامل ہے ۔ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود گالی گلوج کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسرائیل اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے اور اس پوری کوشش میں لگا ہوا ہے کہ یہ معاہدہ نہ ہو ۔ایران نے 14 نکاتی شرائط رکھی ہیں ۔ٹرمپ نے بھی دو بہت بڑی شرائط رکھیں ہیں ایران نے مانگ کی ہے کہ امن معاہدہ سے پہلے 24 ارب ڈالر کی ضبط پراپرٹی امریکہ ایران کو دے اس کا آدھا حصہ یعنی 12 ارب ڈالر بات چیت شروع ہونے سے پہلے ایران کو دیے جائیں وہیں امریکہ نے اس دعوے پر الگ رخ اپنایا ہے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو کسی بھی طرح کی مالی راحت تبھی ملے گی جب وہ سمجھوتہ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا۔ہرمز جل ڈروم پر بھی ابھی تنازعہ ہے ۔بیشک ایران نے ہرمز کو کھول دیا ہے لیکن ابھی صرف طے راستے سے ہی سمندر میں جہازوں کا آنا جانا شروع ہوا ہے ۔ہرمز کو پوری طرح سے کھولنے میں وقت لگے گا کیوں کہ اس نے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں جنہیں ہٹانے میں وقت لگ سکتا ہے ۔ایران ہر جہاز سے ٹول بھی وصول رہا ہے ۔جسے کٹ سروس چارج کہاجارہا ہے ۔امریکہ ایسا کرنے پر اعتراض کررہا ہے ۔خیر ، ہرمز کھولنے سے پوری دنیا نے راحت کی سانس ضرور لی ہے ۔ایران کے نیوکلیائی پروگرام اور افزودگی یورینیم کے مسئلے پر بھی ابھی رضامندی باقی ہے۔ ایران کے ذریعے اس کے میزائل پروگرام پر بھی امریکہ اور اسرائیل کو اعتراض ہے ۔اس مسئلے پر دونوں فریق 60 دنوں کی بات چیت میں کوئی فیصلہ کریں گے ایران کے نائب وزیرخارجہ قزام نے تحران نیوز ایجنسی سے بات میں کہا آخری سمجھوتے کو لے کر اگلے 60 دنوں میں بات چیت ہوگی۔ اور انہوں نے کہا یہ پروسیس اس بات پر منحصر کرے گا کہ امریکہ اپنے وعدوں پر کس حد تک ٹکا  رہتا ہے اور پورا کرتا ہے ؟ ایران کے اہم شرائط میں فوجی سرگرمیوں کو روکنا یعنی ہر جنگ کو پوری طرح سے روکنا ، اقتصادی ناکابندی ختم کرنا ،بیرون ممالک میں جمع ہوئے ایرانی فنڈس کو بحال کرنا شامل ہے ۔سمجھوتے میں لبنان میں جنگ بندی کی سہولت بھی شامل ہے۔ ونٹیج مسائل پر اختلافات کے باوجود کمرشیل سمجھوتے کو بین الاقوامی سطح پر مثبت رد عمل ملا ہے ۔برطانیہ ،جرمنی ،اسرائیل ،فرانس اور بھارت نے اس کا خیر مقدم کیا ہے ۔اس سمجھوتے کا اہم مقصد وسط مشرق میں مستقل امن قائم کرنا ہے ایسے میں اگر سمجھوتہ کامیاب رہتا ہے تو عالمی بازاروں کو بھی بڑی راحت مل سکتی ہے ۔تاوقت یہ ٹکا رہے ۔آخر میں اسرائیل -موساد کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اسرائیل لیڈر شپ کا قتل بھی کروا سکتا ہے تاکہ یہ جنگ بندی ٹوٹ جائے ۔
(انل نریندر)

16 جون 2026

اب فٹبال کا جادو

ایسے وقت پر جب مغربی ایشیا میں امریکہ اسرائیل بنام خطرناک جنگ چھڑی ہوئی ہے اور عالمی سطح پر ایندھن سپلائی کا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ساری دنیا کی معیشت اتھل پتھل ہو رہی ہے اسی وقت کھیل شائقین کے لئے زبردست راحت کا انعقاد ہورہا ہے ۔میں ورلڈ کپ فٹبال 2026 کی بات کررہا ہوں۔ امریکہ ،کنیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں منعقدہ اب تک سب سے بڑا فٹبال کپ چل رہا ہے ۔فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے افتتاحی تقریب نے جمعرات کو ایز ٹیکا اسٹیڈیم میں 85 ہزار فٹبال شائقین کے سامنے انوکھا سما باندھ دیا ۔اس بارے میں تین افتتاحی تقریب ہوئیں جن میں دو تقریب جمعہ کے روز کنیڈا کے ٹورنٹو اور امریکہ کے لاس اینجلس میں منعقدہوئی ۔39 دن تک جاری رہنے والے اس سب سے لمبے فٹبال مہا کمبھ میں ریکارڈ میچوں کے ساتھ ریکارڈ سامعین کے آنے سے فٹبال کی بڑی انجمن کو عالمی سطح پر بھاری منافع ہونے والاہے ۔فیفا کی کمائی کئی طریقوں سے ہوگی جس میں سب سے بڑا حصہ ٹیلی کاسٹ رائٹس کا ہوگا ۔اس کے علاوہ اسپانسر اور ٹکٹوں کی بکری اور اشتہارات ،سیاحت وغیرہ سے بھاری کمائی ہوگی ۔اس بار 48 ٹیموں کے دنیا بھر سے حصہ لینے سے کمائی امید سے زیادہ ہو سکتی ہے ۔ اور یہ تعداد شمار 76 ہزار کروڑ روپے ( 8.9ارب ڈالر سے بھی زیادہ پہنچ سکتی ہے۔ اصل میں 104 مقابلے تین دیشوں کے 16 شہروں میں ہونے سے کمائی میں کئی طرح کی اضافہ ہوگا۔بتادیں کہ 3 بار ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والامیکسیکو دنیا کا پہلا دیش ہے ۔میکسیکو نے اپنے یہاں افتتاح کرانے میں اپنی دیسی تہذیب کی جھلک دکھانے کا کوئی موقع نہیں گنوایا ۔ فیفا نے اس تقریب کے لئے دنیا بھر سے فنکار بلائے تھے ۔لیکن اصلی سما شکیرا کے دائی دائی گانے سے بندھا جس پر ناظرین جھوم اٹھے ۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ کھیل کی اس طاقت کو ثابت کر پائے گا جو اختلافات کے بیچ بات چیت و کشیدگی کے بیچ امید کی گنجائش پیش کرتی ہے ۔فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ دیکھیں تو امید کی جاسکتی ہے ۔بتادیں کہ اٹلی کے ڈکٹیٹر یونی سولونی کے عہدمیں 1934 میں اٹلی میں ہوا ورلڈ کپ رہا ۔یا پھر 1938 کئی مقابلے ، جب زمینی اور آسٹریا پر قبضہ کر چکا تھا ۔اس کھیل نے درد سے کراہتے ہوئے دیشوں کو ضرور کچھ تو راحت دی تھی ۔ہٹلر نے بھی ورلڈ کپ ہاکی کا انعقاد کرایا تھا جس میں بھارت کے میجر دھیان چند سب سے بڑے ستارے کی شکل میں ابھرے تھے ۔ دلچسپ یہ ہے کہ ایران کی ٹیم کو بھی میزبان امریکہ میں کھیلنے کا موقع ملے گا ۔حالانکہ ایران کو ویزا دینے میں بھی تنازعہ کھڑا ہوا تھا ۔قابل ذکر ہے کہ ایرانی کھلاڑی جب میکسیکو پہنچے تو انہوں نے وہ علامتی نشان پہنچا تھا جو مناب کی بچیوں کے اسکول پر امریکہ نے میزائل مارا تھا اور 138 چھوٹی بچیاں شہید ہو گئی تھیں ۔توقع کی جاتی ہے کہ اس انعقاد سے دیشوں میں محبت اور ایک دوسرے کی عزت بڑھے گی ۔اور بھائی چارہ بڑھے گا ۔دنیا میں شورش کے ماحول میں بھی کمی آئے گی۔
(انل نریندر)

کاغذوں پر دستخط:زمین پر دھواں

دنیا نے راحت کی سانس لی جب یہ اعلان ہوا کہ امریکہ ایران جنگ میں سیز فائر ہوگیا ہے ۔لیکن میں اسے صرف جنگ بندی ہی کہتا ہوں ، یہ جنگ کا خاتمہ ن...