Translater

State Elections لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
State Elections لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

13 مئی 2012

ایسے لیپا پوتی جائزے سے کانگریس کا کوئی بھلا نہیں ہوگا



Published On 13 May 2012
انل نریندر
اترپردیش میں کانگریس چناؤ ہاری اس کا جائزہ لینے کے لئے پچھلے کئی دنوں سے کانگریس میں غور و خوض چل رہا ہے۔ کئی میٹنگیں ہوئیں ، کئی کمیٹیاں بنیں لیکن آخر میں نتیجہ وہی صفر نکلا۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے لیپا پوتی کرتے ہوئے پارٹی میں گروپ بندی اور ڈسپلن شکنی کو برداشت نہ کرنے کی تنبیہ کی اور کہا کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ہم نے سوچا تھا کہ سونیا جی پارٹی کے لئے ہار کے ذمہ دار لوگوں پر سخت کارروائی کریں گی لیکن انہوں نے ایسا نہ کرنا بہتر سمجھا اور ڈرا دھمکاکر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی۔ ایسی وارنگ سونیا پہلے بھی دے چکی ہیں۔ براڑی میں دو سال پہلے ہوئے کانگریس اجلاس میں سونیا گاندھی نے ورکروں سے گروپ بندی چھوڑ کر کمر کسنے کو کہا تھا۔ پچھلے سال دہلی میں بھی پارٹی کے ایک اجلاس میں سونیا نے عہدے کا لالچ رکھنے والوں پر چٹکی لیتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس میں سب کا نمبر آتا ہے۔ سونیا کے قول کا کانگریسیوں پر کوئی اثر نہیں ہوا، نہ ہی انہوں نے سونیا کی بات کو سنجیدگی سے لیا۔ نتیجہ سامنے ہے ۔ کانگریس پچھلے دو سال سے بہار، یوپی، پنجاب ،گووا ہار چکی ہے۔ آندھرا پردیش میں بھی اس کی حالت خستہ ہے۔ راجستھان میں گہلوت سرکار کی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن رہی ہو یا پچھلا دہلی میونسپل چناؤ ، سب جگہ کانگریس کو جھٹکے پر جھٹکے لگ رہے ہیں۔ بہار یوپی میں تو چناوی کمان راہل گاندھی کے ہاتھوں میں تھی لیکن سونیا نے خود پر اور راہل پر ذمہ داری لے کر ایک نئے تنازعے کو جنم لینے سے پہلے ہی ختم کردیا اور اس سے پہلے کے کوئی راہل گاندھی پر انگلی اٹھائے معاملے کو ہی ختم کردیا گیا۔ یہ ٹھیک ہے جمہوری نظام کا پہیہ چناؤ ہے لیکن جس بنیاد پر چناوی کمیابی ملتی ہے اور اس کی سوچ طریقہ کار بھی معنی رکھتی ہے۔ اس کے ذریعے ہی اقتدار ملتا ہے جو عوامی کام کو کرا پاتے ہیں۔ کانگریس کو یہ نظریہ وراثت میں ملا ہے پھر بھی وہ حالیہ دہائی میں اگر اس سے ڈگماتی ہوئی لگتی ہے تو اس پر اس کو سنجیدگی سے غورکرنا چاہئے لیکن خود جائزہ ایسا نہیں ہونا چاہئے جس کا کوئی مطلب نہ نکلے۔موجودہ حالات میں یہ کہنا تکلیف دہ ہے کہ کانگریس بھی اپنی کمزوری اور ہار کے اسباب پر منتھن کہنے بھر کے لئے کرتی ہے۔ حقیقی معنی میں وہ ایسا کرنے سے ہچکچاتی ہے۔ اگر کانگریس سنجیدہ ہوتی تو مختلف ریاستوں میں وقتاً فوقتاً ہوئی شکستوں اور اس کے جائزے کے لئے تشکیل کمیٹیوں کی طرف سے گنائے جانے والے اسباب ابھی تک دور نہیں کئے گئے۔یقینی طور سے کانگریس کسی سینئر لیڈر شپ کو یہ معاملوں ہے کہ پردیش میں علاقائی سطح کے اپنے اپنے گروپ ہیں اور عام ورکروں کی جگہ ان کے چاپلوس ہیں ،جس سے وہ گھرے رہتے ہیں ۔وہ عام ورکروں کے بھی نیتا ہیں ایسا نہیں مانتے۔ ممکنہ طور پر اس کی ایک وجہ نیتاؤں کے ورکروں میں جوش بھرنے کی جگہ اپنے مفادات حاوی ہوئے ہیں۔ وہ یہ مان کر چلتے ہیں کہ ووٹ ڈلوانے کے لئے گاندھی خاندان کافی ہے۔ اس کے آگے نہ تو انہیں مہنگائی کا نہ کرپشن کا اور نہ ہی بڑھی بے روزگاری کا اشو ہوتا ہے۔ ان کے سامنے بنیادی پریشانیاں جیسے بجلی پانی کے مسئلوں پر حل کے لئے لوکپال ، لوک آیکت کی تقرری ضروری ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کانگریسی چھٹ بھیا یہ بھی نہیں سمجھنا چاہتے کہ اب گاندھی خاندان کا وہ کرشمہ نہیں رہا۔ پہلے بہار اور اترپردیش میں یہ جتادیا ہے کہ گاندھی خاندان ووٹ کھینچو یا چناؤ جیتنے کی گارنٹی اب نہیں ہے۔ سارا زور لگاکر بھی گاندھی خاندان کی تین پیڑھیوں کے وارث اترپردیش کے چہیتے نہیں ہوسکے۔ بہار بے تو سرے سے راہل گاندھی کو ٹھکرا ہی دیا ہے۔ اس لئے ان کی ٹیم کے باقی لیڈروں نے کچھ ٹھوس کام ہی نہیں کئے۔ عوام میں وہ یہ بھروسہ پیدا نہیں کر سکے کہ کانگریس کو ووٹ دینے میں ہی ان کی بھلائی ہے۔ غورتو اس بات پر ہونا چاہئے کہ ٹیم راہل زمین پر کم ہوائی زیادہ کیوں ہورہی ہے؟ لیکن پارٹی صدر نے راہل گاندھی کو مرکز میں رکھ کر چناوی جائزہ نہیں لیا ۔اگر کانگریس واقعی ہی پارٹی میں اصلاح چاہتی ہے تو ہار کے صحیح اسباب پر بحث کرنے کی ہمت دکھائے اور قصوروار لیڈروں پر سخت کارروائی کرے تاکہ پارٹی کے باقی لیڈروں میں ایک خوف پیدا ہوسکے۔ کانگریس کو اگر اس سال ہونے والے گجرات، ہماچل سمیت کئی ریاستوں میں چناؤ میں فتح حاصل کرنی ہے تو اسے مرکز میں اپنی لنج پنج منموہن سرکار کی کمیوں پر غور کرنا چاہئے۔ ڈسپلن شکنی اور گروپ بندی سے پرہیز کی نصیحت کے لائق بنانے کے لئے مثالوں کو ایسی بنیاد دی جانی چاہئے تاکہ اس پر پارٹی ایمانداری سے عمل پیرا ہوسکے۔ اس لیپا پوتی جائزے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, State Elections, Vir Arjun

08 اپریل 2012

راہل لگے یوپی چناؤ کے پوسٹ مارٹم میں



Published On 8 March 2012
انل نریندر
اترپردیش ودھان سبھا چناؤمیں کراری ہار سے کانگریس ہائی کمان ابھی تک ابھر نہیں سکا۔ راہل گاندھی تو ایسے کوپ بھون میں گئے ہیں کہ اب وہ یوپی کے کسی دلت کے گھر کھانا کھاتے نظر نہیں آرہے۔ ہار کے ایک مہینے بعد اب راہل نے چناؤ کا پوسٹ مارٹم کرنے کی ہمت جٹائی ہے۔ پہلے دو دنوں سے راہل ہارے ہوئے سپاہیوں کو بلا کر پوچھ رہے ہیں کہ آخر ہم کیوں ہارے؟ ہار کی وجوہات کی تلاش میں جٹے راہل نے ہارے ہوئے امیدواروں سے یہ پوچھا کہ آخر کار کیا وجہ رہی کے پوری محنت کے بعد بھی پارٹی کا شرمناک مظاہرہ رہا۔ ہارے ہوئے امیدوروں نے کئی وجوہات گنائیں۔ تقریباً سبھی نے کچھ مدعوں پر بہت زوردیا۔ پہلا تو تھا کہ کمزور سنگٹھن بہت بھاری پڑا۔ غلط امیدواروں کا چناؤہار کی ایک وجہ بنی اس کے ساتھ پرچار میں سیاسی چوک کا مدعا اٹھا کر ہارے ہوئے سپاہیوں نے کچھ مرکزی وزیروں پر جم کر بھڑاس نکالی۔ ہارے ہوئے امیدواروں نے قانون منتری کومسلم ریزرویشن کا وعدہ کرنا پارٹی پر بہت بھاری پڑا۔ اسی طرح شری پرکاش جیسوال کا یہ بیان کے اگر کسی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی تو راجیہ میں صدر راج لگایا جائے گا۔ ووٹروں کو بہت لبھایا ہے انہوں نے ردعمل کے طور پر سماجوادی پارٹی کو واضح اکثریت دے دی۔
بینی پرساد ورما کا مسلم کوٹے میں سب کوٹا بھی ووٹروں خاص کر مسلموں کو بیوقوف بنانے کی ایک ناکام کوشش مانی گئی۔ کمزور سنگٹھن کے مدعوں پر امیدوار رہے سریندر گوئل نے کہا کہ دوسری قطار کے بڑے نیتاؤں نے بیکاربیان بازی کی۔اس میں کافی نقصان ہوا۔کچھ سینئروں نیتاؤں نے بھی یہی الزام دوہرایا۔ اشارہ دگوجے سنگھ، بینی پرساد ورما ،سلمان خورشید، شری پرکاش جیسوال جیسے نیتاؤں کے متنازعہ بیانوں کی طرف تھا۔ باہری لوگوں کو ٹکٹ دینے کا مسئلہ میٹنگ میں آیا تو آپس میں ہی بحث ہوگئی۔ کیونکہ زیادہ ترفوج چناؤ میں باہر سے ہی اکٹھا ہوئی تھی۔ تبصرہ میٹنگ میں آئے لوگوں میں بھی زیادہ ایسے ہی تھے جو چناؤ کے دوران کانگریسی ہوئے تھے۔ جمعرات کو راہل نے ان ہارے ہوئے امیدواروں سے بات چیت کی جنہوں نے اس چناؤ میں 20 ہزار یا اس سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ ہارے ہوئے امیدواروں کو ایک سوال نامہ بھی دیا گیا جس میں 13 سوال پوچھے گئے۔جیسے انہیں چناؤ میں مرکزی رہنمائی پردیش کانگریس سمیتی ،پردیش ادھیکش، مہلا کانگریس اور سیوا دل سے کیا تعاون ملا؟حالانکہ پورے صوبے میں گھومنے والے اور کڑی محنت کرنے والے راہل گاندھی کو کسی نے سیدھا نشانہ تو نہیں بنایا پر ان کے انتظامیوں پر سوال ضرور اٹھائے گئے۔
پردیش ودھان سبھا کے چناؤ میں اپنے اوٹ پٹانگ بیانوں کے لئے چرچا میں رہے کانگریس کے نیتاؤں کی واٹ لگنے طے ہے۔ سونیا اور راہل دونوں نے صاف کردیا ہے کہ ان بیانوں سے چناؤ میں پارٹی کو نقصان ہوا اور اب نئے اور محنتی چہروں کو آگے لایا جائے گا۔ راہل کو اس بات کے لئے سخت تنقید سہنی پڑی کے وہ صرف نیتاؤں سے ہی گھرے رہتے تھے جس سے پورا معاملہ ان کے سامنے نہیں آپاتا تھا۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Rahul Gandhi, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

25 مارچ 2012

کیا کہتی ہے یوپی کی ہار پر کانگریس کی خفیہ رپورٹ؟



Published On 25 March 2012
انل نریندر
حال ہی میں اختتام پذیر اترپردیش اسمبلی چناؤ میں کانگریس کی کراری ہار پارٹی لیڈر شپ ہضم نہیں کرپارہی ہے۔ باوجود سخت مشقت کے پارٹی کو کراری ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ پارٹی کو سب سے زیادہ تشویش سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے اور یووراج راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقے میں ہار کی ہے۔ اس ہار کے اسباب کو جاننے کیلئے پارٹی نے کئی رپورٹ تیار کرائی ہیں۔ راہل گاندھی کے کرشمے کا فائدہ نہ مل پانے کے لئے جہاں کانگریس لیڈر شپ کمزور تنظیم، ٹکٹو کی غلط تقسیم مان رہی ہے بلکہ حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ پارٹی صدر سونیا گاندھی کی رہنمائی میں سینٹرل الیکشن کمیٹی کے لئے بنی ایک خاص رپورٹ میں کہا گیا ہے پارٹی کے یووراج راہل گاندھی کی منڈلی بھی ہار کے لئے ذمہ دار ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایک دوسرے سے بیحد تعصب رکھنے والے لوگوں کے چھوٹے لیکن بااثر گروپ اور سیاسی پارٹی کے دم خم میں کمی والے امیدواروں کو ٹکٹ دئے جانے سے چناؤ کے نتیجے پارٹی کے لئے مایوس کن رہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ذات پات اور سینئر لیڈروں کا غرور بھی ہار کا سبب مانا گیا ہے اس کی وجہ سے بنیادی ورکر چناؤ میں پوری طاقت لگانے کے بجائے علیحدہ رہا۔ کانگریس کی اس ہار کا پوسٹ مارٹم سے متعلق اس پہلی رپورٹ میں صوبے کی 33 سیٹوں پر توجہ دی گئی ہے۔ ان سبھی سیٹوں پر کانگریس کی کارکردگی خراب رہی ہے جہاں راہل گاندھی کے قریبیوں نے مداخلت کرکے اپنی مرضی کے امیدواروں کو ٹکٹ دلائے تھے۔ ان سبھی سیٹوں پر کانگریس کے مبصرین کے ذریعے چنے گئے امیدواروں اور مقامی ورکروں کو نظرانداز کیا گیا۔ فیروز آباد میں سسرا گنج سیٹ کی مثال سامنے ہے جہاں کانگریس امیدوار ہری شنکر یادو محض 4 ہزار 224 ووٹ لیکر پانچویں مقام پر رہے۔ مبصرین اور مقامی ورکروں کی پہلی پسند ٹھاکر دلبیرسنگھ تومر تھے۔ راہل نے خاص زور دیکر یادو کو ٹکٹ دلوایا۔ اسی طرح ایٹہ ضلع میں علی گنج سیٹ پر پارٹی کے امیدوار رنجن پال سنگھ 8 ہزار160 ووٹوں کے ساتھ پانچویں مقام پررہے۔اس سیٹ پر پارٹی کے آبزرور نے بزنس مین سبھاش ورما کو ٹکٹ کی وکالت کی تھی۔وہ اس اسمبلی حلقے میں لودھ فرقے سے واحد امیدوار تھے جو 27 ہزار لودھ ووٹوں کے زیادہ تر ووٹ حاصل کرسکتے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کانگریس ورکروں کو نظرانداز کرنے سے انہوں نے پارٹی امیدوار کے خلاف ہی کام کیا اور اسے ہروانے میں لگ گئے۔ ریاست کے ایک مسلم ممبر پارلیمنٹ نے کہا جو رپورٹ اب مل رہی ہے ہم لوگوں کو تو پہلے ہی اس بارے میں پتہ تھا۔ راہل گاندھی کو بھی اشارہ کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس پر توجہ نہیں دی۔ مسلم لیڈر کی شکل میں صرف سلمان خورشید کو آگے برھایا گیا جبکہ مسلم انہیں اپنا لیڈر مانتے ہی نہیں ہیں۔ اس لئے راہل گاندھی نے سماجوادی پارٹی سے آئے رشید مسعود بینی پرساد ورما کو اہمیت دی۔ جبکہ یہ لوگ دوسری پارٹیوں سے آئے تھے اور اسی وجہ سے کانگریس ورکر اس چناؤ سے دور رہا۔ ریاست کے کئی ایم پی اور نیتا یہ ہی چاہتے ہیں کہ ہار کے ذمہ دار لوگوں کو سزا دی جائے جن لوگوں نے اس چناؤ میں درجہ فہرست ذاتوں، پسماندہ ذاتوں اور اقلیتوں والی سیٹوں کو جیتنے کے لئے لگایا تھا ان پر کارروائی کی جانی چاہئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Congress, Uttar Pradesh, State Elections, Elections, Rahul Gandhi, Bahujan Samaj Party, Ajit Singh, Samajwadi Party,

11 مارچ 2012

یوپی کے مسلم ووٹروں نے بڑی سمجھداری و ہوشیاری سے ووٹ دیا



Published On 11 March 2012
انل نریندر
اترپردیش کے مسلمانوں نے یوپی اسمبلی چناؤ میں کچھ حد تک ٹیکنیکل ووٹنگ کی یہ کہیں تو یہ کہنا شایدغلط نہ ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کے پہلی بار انہوں نے مسلم بڑی سمجھداری سے اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر ووٹنگ کی ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ کونسی پارٹی سے کونسا مسلم امیدوار جیت سکتا ہے اسے ہی ووٹ دو نتیجوں نے مسلم مٹھادھیشوں کو دھول چٹانے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ قومی علماء کونسل سے لیکر شاہی امام سید احمد بخاری کے سفارش کردہ امیدواروں کو نہ منظور کردیا۔ علماء کونسل تو ریاست میں اپنا کھاتہ تک نہیں کھول پائی۔ اپنے گڑھ اعظم گڑھ کی نظام آباد سیٹ پر کھڑے کونسل کے جنرل سکریٹری طاہر مدنی چوتھے مقام پر رہے۔ بہٹ سیٹ سے امام بخاری کے داماد اور سپا امیدوار علی خاں چناؤ ہار گئے ہیں وہیں لکھیم پور کھیری سے سپا امیدوار عمران ہار گئے۔ پیشے سے بلڈر عمران کو ٹیلے والی مسجد کے امام مولانا شاہ فضل الرحمن وحیدی ندوی نے ٹکٹ دلوایا تھا۔ مسلم ووٹروں کا یہ فیصلہ پارٹی نہیں بلکہ امیدواروں کے خلاف تھا۔ سماجوادی پارٹی زیادہ تر مسلم اکثریتی سیٹوں پر کامیاب رہی ہے۔ اس کا نمونہ ہے اعظم گڑھ کی 10 سیٹوں میں سے 9 پر سپا امیدوار کامیاب رہے۔ غور طلب ہے کہ یوپی کی چناوی بساط میں قریب150 سیٹیں ایسی تھیں جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن کردار میں تھے اس کے لئے سیاسی پارٹیوں ک ے درمیان رسہ کشی بھی خوب چلی۔ چناوی فائدے کے لئے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی دوڑ سے لیکر ادبی میلے میں سلمان رشدی کی آمد تک کے اشو اٹھائے گا۔ اترپردیش کی403 ممبروں والی اسمبلی میں اس مرتبہ63 مسلمان چن کر آئے ہیں 2007 میں یہ تعداد52 تھی۔ سپا کے کل 224 امیدوار جیتے ہیں جن میں مسلم امیدواروں کی تعداد40 ہے۔ بہوجن سماج پارٹی نے 83 تو سپا نے81 مسلم امیدوار میدان میں اتارے تھے۔ دونوں پارٹیوں نے سبھی403 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کئے تھے ۔ کانگریس اپنے359 امیدواروں میں 58 مسلمانوں کو ٹکٹ دئے تھے۔ مسلم اکثریتی علاقے میں بھاری پولنگ ہوئی ان میں مسلم خواتین نے اچھا حوصلہ دکھایا۔ سہارنپور ،اعظم گڑھ کے مسلم اکثریتی علاقے میں 70 فیصدی سے زیادہ پولنگ ہوئی۔ بسپا کے 14 مسلم امیدوار جیت کر آئے۔ پچھلی بار 29 امیدوار جیتے تھے۔ پچھلے چناؤ میں سپا کے مسلم ممبران کی تعداد 17 تھی۔ پیس پارٹی کے4 امیدوار جیتیہیت جن میں 3 مسلمان ہیں۔ پارٹی کے صدر ڈاکٹر ایوب خلیل آباد سیٹ سے چناؤ جیتے ہیں۔قومی ایکتا دل کی طرف سے مافیہ سے سیاستداں بنے مختار انصاری مؤ سیٹ سے جیتے ہیں۔ سپا کے سینئر لیڈر اعظم خاں رامپور سے اور وقار احمد شاہ بہرائج سے جیتے ہیں۔ کانگریس کے قاضی علی خاں رامپور کی سیٹ سے جیتے ہیں کل ملاکر دیکھا جائے تو نوجوان طبقے کے مسلم ووٹروں نے بڑی سوچ سمجھ کر اور حساب سے پولنگ کی ہے جس نے یوپی کی سیاست کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Muslim, Muslim Reservation, Samajwadi Party, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

10 مارچ 2012

بھاجپا کیلئے نتیجے زیادہ غم خوشی کم لیکر آئے ہیں



Published On 10 March 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ تھوڑی خوشی اور زیادہ غم لیکر آئے ہیں۔ خوشی کی وجہ یہ ہے گووا کا نتیجہ۔ گووا میں بھاجپا اور مہاراشٹر وادی گومنتک پارٹی کو واضح اکثریت مل گئی ہے۔ بھاجپا میں پہلی بار خوبصورت ساحلوں والی اس ریاست میں 21 سیٹیں جیت کر اکیلے اپنے دم خم پر اکثریت حاصل کی ہے۔ گووا میں بھاجپا کی اس کامیابی کے لئے اصل ہیرو سابق وزیر اعلی پاٹیکر ہیں۔چناوی کمان انہیں کے ہاتھوں میں تھی۔ گووا میں میری رائے میں ایک بہت بڑا کارنامہ بھاجپا کا یہ ہے کہ اس نے اقلیتوں کی حمایت سے اقتدار حاصل کیا ہے۔ گووا کے عیسائیوں نے یہ ثابت کردیا ہے بھاجپا ان کے لئے اچھوت نہیں ہے۔ جنوبی گووا کی 17 میں سے8 سیٹیں پارٹی ان حلقوں میں جیتی ہے جہاں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ بھاجپا نے خود 6 عیسائی امیدوار کھڑے کئے تھے اور 2 آزاد کی حمایت کی تھی۔ سبھی آٹھوں امیدواروں جیتے ۔ پارٹی کو سب سے بڑا جھٹکا اترپردیش میں لگا ہے۔ ریاست میں چناؤ نتائج بھاجپا کو 2014 ء میں مرکز تک این ڈی اے سرکار بنانے کی امیدوں پر بڑا جھٹکا ثابت ہوئے ہیں۔ بھاجپا اترپردیش کے اسمبلی چناؤ میں بوئے گئے بیج سے مرکز میں 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں کامیابی حاصل کرنے کا اندازہ لگا رہی تھی لیکن نتیجے آئے اس سے مایوس کن اور پریشانی ہی ہاتھ لگی۔ اترپردیش پھر ایک بار تاملناڈو کی راہ پر چلا گیا ہے جہاں قومی پارٹی کا کردار بے جواز ہوکر رہ گیا ہے۔ بھاجپا اور آر ایس ایس کی چناوی لیباریٹری بنے یوپی انتخابات میں جہاں ایک ایک کرکے سبھی تجربوں کو دھکا لگا ہے وہیں پارٹی کے کئی لیڈروں کو دھول چٹانے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ ناراض ووٹروں کو منانے کا ذمہ آر ایس ایس اور صدر نتن گڈکری نے مل کر اٹھایا تھا۔ سب سے پہلے گڈکری نے سنگھ کی حمایت کی بدولت پارٹی کے بڑے لیڈر اور گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کی مخالفت کے باوجود سنگھ کے پرچارک رہے سابق تنظیمی سکریٹری سنجے جوشی کو یوپی کے چناؤ میں سرگرم کیا۔ دوسرا نتن گڈکری نے سبھی پارٹی نیتاؤں کی مخالفت کے باوجود بسپا سے نکالے گئے بابو سنگھ کشواہا اور بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں شامل کیا۔ بڑھتی ناراضگی کے چلتے کشواہا کی ممبر شپ تو معطل کردی گئی لیکن کرپشن کے دوسرے ملزم بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں بنائے رکھا بلکہ ان کو مہوبہ سے چناؤ میدان میں اتاردیا۔ پارٹی نے بندیلکھنڈ کو لیکر جتنے بھی تجربے کئے سوائے اس میں ایک اما بھارتی کے علاوہ کوئی نہیں جیت سکا۔ مسلم ووٹروں کے پولارائزیشن کو روکنے کے لئے اپنے سبھی فائر بینڈ لیڈروں ورون گاندھی، یوگی ادتیہ ناتھ کو جہاں اپنے حلقے تک محدود کردیا وہیں دوسری طرف ہندو وادی چہرہ مانے جانے والے نریندر مودی کو دعوت تو بھیجی لیکن جب ان کی ناراضگی ظاہر ہوئی تو انہیں منانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ پارٹی کی سبھی کوششوں کے بعد بھی پارٹی مسلم ووٹوں کو بٹوانے میں کامیاب نہ ہوسکی بلکہ وہ اپنی اس کوشش میں اپنے روایتی ووٹ بھی گنوا بیٹھی جس کے چلتے پارٹی کو 2007ء کی کارکردگی کو دوہرانا تو دور رہا بلکہ اس سے بھی کم ہوگئی۔ ایودھیا میں 6 دسمبر1992ء کے متنازعہ ڈھانچہ گرنے کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی کا امیدوار للوسنگھ سپا کے تیج نارائن پانڈے عرف پون پانڈے سے ہار گیا۔ للو سنگھ 1991ء سے مسلسل یہ سیٹ جیت رہے تھے۔ اترپردیش کے لئے امیدوارں کا چناؤ بھی آر ایس ایس گڈکری اور سنجے جوشی نے کیا تھا۔ انہوں نے ایسے پھسڈی امیدوار کھڑے کئے جنہوں نے نہ صرف پارٹی کی بھد پٹوائی بلکہ مقابلے میں نہ رہ کرچوتھے میدان پر رہے۔ اور بہت سے امیدواروں نے اپنی ضمانت تک گنوا دی۔ 122 ایسے امیدوار ہیں جو چار مقابلوں کی لڑائی میں جگہ تک نہیں بنا سکے۔ بھاجپا پردھان نتن گڈکری نے یوپی کے اندر تبدیلی کے لئے لمبی تیاری کی تھی۔ پارٹی کے اندر پرانا روایتی رویہ رکھنے والے امیدواروں کی بجائے نئی نسل کے امیدواروں کو لانے کا تجربہ کیا گیا۔ یہ ہی نہیں گڈکری اینڈ کمپنی نے الگ سروے کرایا جس سے کہ اول امیدوار کا انتخاب ہوسکے۔ چناؤ کے بعد جو حالت بنی ہے اس میں بھاجپا کے چوتھے مقام پر قریب 122 امیدوار رہے جن میں سے زیادہ تر اپنی ضمانت بچانے کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔ کئی امیدوار تو ایسے تھے جن کو پانچ ہزار ووٹ لانے کے لالے پڑ گئے۔ اترپردیش میں بھاجپا حاشئے پر چلی گئی اور اس کے لئے ذمہ دار ہیں آر ایس ایس، نتن گڈکری اور سنجیو جوشی جیسے بڑے نیتا۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Elections, Goa, Nitin Gadkari, Punjab, RSS, Sanjay Joshi, State Elections, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Vir Arjun

نہرو گاندھی خاندان کا ہوائی کرشمہ ہوا ہوا ہوائی



Published On 10 March 2012
انل نریندر
پانچ ریاستوں کے چناؤ نتائج جہاں کانگریس کے لئے مایوس کن ہیں وہیں اترپردیش کے یہ چناؤ نہرو خاندان کے لئے شخصی طور پر بہت بڑا جھٹکا ہیں۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی سے جب ان کا رد عمل جانا گیا تو انہوں نے میڈیا سے کہا کہ اترپردیش میں امیدواروں کا انتخاب غلط اورکمزور تنظیم ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے ہم رائے بریلی اور امیٹھی میں پہلے بھی ہارے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ادھر ان کے صاحبزادے راہل گاندھی نے ہار کی ساری ذمہ داری لے لی ہے۔ اگر یہ ہار عام نہیں ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ جائزہ لینے کی ضرورت کیا ہے؟ ویسے بھی راہل نے ذمہ داری لے لی ہے تو معاملہ ختم ہی ہوگیا ہے ۔ لیکن جس بات کا سونیا نے جواب نہیں دیا کیا یہ ہار نہرو گاندھی خاندان پر سیدھی آنچ نہیں لاتی؟ کانگریس نے موجودہ اور مستقبل کیلئے اترپردیش میں اپناسب کچھ داؤ پر لگادیا۔ راہل نے پوری ریاست کی مہم اپنے کندھوں پر لے رکھی تھی تو امیٹھی ، رائے بریلی کا گھریلو قلعہ بچانے کے لئے پورا پرینکا گاندھی خاندان (بچے بھی شامل تھے) میدان میں اتر گئے۔ اترپردیش کی عوام نے نہرو، گاندھی ،واڈرا خاندان کو سرے سے مسترد کردیا۔ راہل گاندھی کی حتی الامکان کوششوں کے باوجود اترپردیش میں کانگریس 2007 کی حالت میں ہی پہنچ گئی ہے۔ وہیں پرینکا نے جن علاقوں میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ چناؤ مہم کی کمان سنبھالی وہاں تو کانگریس کے لئے عزت بچانا مشکل ہوگئی ہے۔ راہل گاندھی نے 200 سے زیادہ ریلیاں کیں۔ سونیا گاندھی نے بھی ریلیاں کیں۔2007 کے اسمبلی چناؤ میں 22 سیٹوں کے مقابلے پارٹی کو پہلے سے بھی زیادہ سیٹیں ملی ہیں لیکن اگر سال2009 ء کے لوک سبھا چناؤ کو دیکھیں تو یہ کانگریس اور خود راہل گاندھی کو پریشان کرنے کے لئے نتائج کافی ہوں گے۔ راہل لہر کا اثر نہ ہونا کانگریس کے لئے ایک اچھا اشارہ نہیں ہے۔ ایسے میں جبکہ ان پانچ ریاستوں کے چناؤ کو سال2014ء کے اقتدار کے تاج کا سیمی فائنل مانا جارہا تھا تو منی پور کو چھوڑ کر دیگر جگہ پارٹی کو جھٹکا لگنا اس بات کا اشارہ ہے کہ مرکز کی یوپی اے سرکار خاص کر کانگریس کو لیکر لوگوں میں بہت زیادہ جذبہ نہیں تھا۔ گاندھی خاندان کے لئے یہ بھی ایک جھٹکا ہے کہ چناؤ کی بات کرنے والے راہل گاندھی پر سپا کے یوا لیڈر اکھلیش یادو بھاری پڑے۔ دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ فی الحال تو نہرو گاندھی خاندان پر ملائم یادوخاندان بھاری پڑ گیا۔کانگریس کے لئے تشویش کی بات صرف نوجوان ہی نہیں ہوگی بلکہ جن مسلم ووٹروں کو اپنے پالے میں لانے کے لئے کانگریسی لیڈروں نے دن رات ایک کیا اس میں بڑی تعداد میں کانگریس کی جگہ سپا کو چنا۔ بہار کے بعد اترپردیش میں راہل گاندھی کی کرشمائی ساکھ کو جھٹکا لگنا پارٹی کے اندر تشویش کا موضوع بن گیا تھا۔ اب اترپردیش کے نتائج نے تو اس پر ایک طرح سے مہر لگادی کہ نہرو گاندھی خاندان کا جادو اب ختم ہوگیا ہے۔ راہل نے بڑی دھوم دھام سے اجیت سنگھ کی راشٹریہ لوکدل سے اتحاد کیا تھا اور اس اتحاد سے الٹے پارٹی کو ہی نقصان پہنچا ہے۔ پارٹی کے لئے نہرو گاندھی خاندان کے گڑھ مانے جانے والے امیٹھی رائے بریلی میں کانگریس کی کارکردگی کو اس لحاظ سے بھی بڑا جھٹکا ہے کہ پچھلے انتخابات میں جب مایاوتی کی آندھی چلی تھی تب بھی اس حلقے سے پارٹی نے 7 سیٹیں جیت لی تھیں لیکن اس بار کانگریس صدر سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے رائے بریلی کی پانچوں اسمبلی سیٹیں چھن گئی ہیں اور راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقے میں محض 2 سیٹیں ہی جیتنا اور سلطانپور ضلع میں پارٹی کا صفایا ہونا نہرو گاندھی خاندان کی شخصی ہار ہے۔ راہل گاندھی نے یہاں دن رات ایک کردیا تھا۔ انہوں نے اترپردیش میں مسلسل 48 دن ڈیرا ڈال کر 211 ریلیاں،18 بڑے روڈ شو کئے۔ اس شرمناک نتیجے کی بے شک راہل گاندھی نے ذمہ داری لے لی ہو لیکن کانگریس کے دوسرے لیڈر اسے گاندھی خاندان کی ہار ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ بڑ بولے جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے ان نتیجوں پر خوشی ظاہر کی ہے اور کہا کہ کرپٹ بسپا کی ہار ہوئی ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ چناؤ کے دوران کانگریس کے خاص نشانے پر بسپا سے زیادہ سپا تھی۔ جس الہ آباد کے پاس پھولپور سے پنڈت جواہر لعل نہرو ، رائے بریلی سے اندرا گاندھی، امیٹھی سے سنجے گاندھی اور راجیو گاندھی لوک سبھا چن کر پہنچتے رہے وہاں سے بھی پارٹی ناکام رہی ہے۔ لگتا ہے پارٹی کی ہلتی نیا کی بھنک پارٹی کے منیجروں کو پہلے ہی لگ گئی تھی اس لئے یہاں پر پرینکا گاندھی کو اتارا لیکن سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے میں پارٹی کا کھاتہ تک نہیں کھل پایا۔ ریاست کی عوام نے گاندھی خاندان کے ہوائی کرشمے کو جس طرح سے مسترد کیا ہے اس کے مرکز تک میں خاصے اثرات مرتب ہوں گے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Goa, Priyanka Gandhi Vadra, Punjab, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, State Elections, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Vir Arjun

23 فروری 2012

امریکہ کا ریزولیوشن:بلوچستان ایک آزاد ملک بنے



Published On 23rd February 2012
انل نریندر

امریکہ نے اب نیا واویلا کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے شورش زدہ جنوبی بلوچستان صوبے میں حق ارادیت کے اختیار کایہ ایک نیا تنازعہ امریکہ کے تین ممبران پارلیمنٹ نے ایوان نمائندگان میں ایک ریزولیوشن پیش کرکے کھڑا کردیا ہے۔ ری پبلکن ایم پی ڈین روہیرا بیکر اور دیگر ممبران نے ریزولیوشن پیش کرتے ہوئے کہا فی الحال پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان بٹے بلوچ شہریوں کو حقِ خود ارادیت اور اپنی سرداری ملک کا اختیار ہونا چاہئے۔ انہیں خود کا اپنا معیار طے کرنے کا موقعہ ملنا چاہئے۔ خارجی امور کی ایوان کی ایک سب کمیٹی کے چیئرمین روہیرا بیکر نے پچھلے ہفتے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملے میں کانگریس میں ایک مباحثے کا انعقاد کیا تھا۔ممبر پارلیمنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ جو سیاسی اور نسلی امتیاز سہہ رہے ہیں وہ بہت سنگین ہے۔ حالات اس لئے بھی اور زیادہ بگڑ گئے ہیں کیونکہ امریکہ اسلام آباد میں ان کو کچلنے والوں کو اقتصادی مدد دے رہا ہے، ہتھیار بیچ رہا ہے۔ بلوچستان فی الحال تو پاکستان کا حصہ ہے لیکن پاکستان بننے کے ساتھ ہی اس کو آزاد دیش بنانے کی مانگ شروع ہوگئی تھی۔ بلوچستان کے جنوب مغرب میں واقع ایران کی سرحد ہے جس سے ملحق یہ علاقہ سب سے شورش زدہ مانا جارہا ہے۔ مغربی حصہ افغانستان سے لگا ہوا ہے اور باقی پاکستان سے۔ بلوچ کی آزادی کی جنگ میں امریکہ اور نیٹو کی حمایت حاصل ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کے 2013ء تک بلوچستان ایک آزاد ملک بن جائے۔
ہماری رائے میں بیشک بلوچستان ایک شورشزدہ علاقہ ہے اور وہاں پاکستان کھلے عام انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہا ہے۔ تازہ مثال عبدالکبیر نامی ایک شخص کا دعوی ہے کہ اس کا بیٹا 2009ء میں غائب ہوگیا تھا اس کی لاش نومبر 2011ء میں ملی ہے۔ عبدالکبیربلوچ کا 29 سالہ بیٹا عبدالجلیل ریکی 13 فروری2009ء کو لاپتہ ہوگیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اس کا اغوا کیا تھا۔گذرے سال 22 نومبر کو ایرانی سرحد سے ملحق پاکستانی علاقے مند میں عبدالجلیل ریکی کی گلی سڑی لاش ملی تھی۔ عبدالکبیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بیٹے کو تین گولیاں سینے میں لگی تھیں اور اس کی پیٹ کا کوئی حصہ خالی نہیں تھا جہاں لوہے کو گرم کرکے اور سگریٹ سے اس کی پیٹ کو داغا نہ گیا ہو۔ عبدالکبیر بلوچ کا قصور اتنا تھا کہ وہ پاکستانی فوج و آئی ایس آئی کے خلاف احتجاج کرتے تھے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں 14 ہزار کے قریب لوگ ابھی بھی غائب ہیں جن میں 200 سے زائد خواتین ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کا ریکارڈ بہت خراب ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ اس میں مداخلت کرے اور اسے دیش سے الگ کرنے کی سازش چھوڑ دے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ دراصل امریکہ کی اصل نیت ایران میں خفیہ نظر رکھنے کی ہے اور اسی مقصد کے حصول کے لئے وہ بلوچستان میں اپنا اڈہ قائم کرنا چاہتا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بلوچ کی عوام حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے کے لئے ریزولیوشن پیش کرکے دباؤ بنانا چاہتا ہے۔ پاکستانی میڈیا میں ایک افسر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ ہماری زمین کا استعمال کرنا چاہتا ہے جس کی ہم قطعی اجازت نہیں دے سکتے۔ پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں کے دو افسران اور سیاسی حلقوں کے زیادہ تر افسران نے تصدیق کی ہے کہ امریکی سفارتکار اور فوجی لیڈروں نے بلوچستان میں ایرانی سرحد کے پاس اپنے ایجنٹوں کو اپنی سرگرمیاں چلانے کی اجازت مانگی تھی۔ یہ انکشاف پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں پر بلوچستان میں اغوا اور زیادتیوں کے بارے میں امریکی ایوان نمائندگان میں ریزولیوشن پیش ہونے کے فوراً بعد ہواہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی یعنی نچلے ایوان نے بھی بلوچستان سے متعلق امریکی ریزولیوشن کی مذمت کی ہے۔ پاکستان کی کٹر پنتھی تنظیموں کے سب سے بڑے گروپ نے پیر کو ایک زبردست مظاہرہ کیا۔ اس میں لشکر طیبہ کے بانی حافظ محمد سعید بھی شامل ہیں جس نے پابندی کے باوجود فیڈرل راجدھانی اسلام آباد میں تقریر کی۔ امریکی ریزولیوشن کی پاکستانی حکومت اور فوج اور عوام سبھی مل کر مخالفت کررہے ہیں۔ سبھی کا خیال ہے کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملوں میں براہ راست مداخلت ہے اور اس کی اصل وجہ اور ہی ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Rahul Gandhi, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

کیاراہل گاندھی اب گرفتار ہوں گے؟



Published On 23rd February 2012
انل نریندر

کانگریس کے سکریٹری جنرل یووراج راہل گاندھی چناؤ ضابطے کی خلاف ورزی کے معاملے میں بری طرح پھنس گئے ہیں۔ تین دن تک جاری رسہ کشی کے بعد پیر کے روز 35 کلو میٹر لمبا روڈ شو نکال کر راہل گاندھی ضلع انتظامیہ کے نشانے پر آگئے ہیں۔ انتظامیہ نے اسے چناؤ ضابطے کی خلاف ورزی مانتے ہوئے چھاؤنی تھانے میں راہل اور کانگریس ضلع پردھان مہیش دیکشت سمیت 40 کے خلاف دفعہ188,283 اور290 کے تحت ایک ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ اس معاملے میں جو ایف آئی آر درج ہوئی ہے اس میں ایسی دفعات لگائی گئی ہیں جس میں گرفتاری کا خطرہ ہے۔ لہٰذا راہل گاندھی بھی گرفتارکئے جاسکتے ہیں اس سے بچنے کے لئے انہیں پیشگی ضمانت لینی پڑ سکتی ہے۔ اس معاملے کولیکر سیاسی کھینچ تان کا بڑھنا فطری ہی ہے۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی کا کہنا ہے کسی بھی طرح کا غیر قانونی کام روڈ شو میں نہیں ہوا اور جائز چناؤ مہم جمہوری اختیار کا بنیادی حصہ ہے۔ ایسے میں اترپردیش سرکار منمانی نہیں کرسکتی۔ یوپی کانگریس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بسپا حکومت کے اشارے پر کی گئی ہے۔ ڈی ایم نے پورے معاملے کی جانکاری متعلقہ چناؤ افسر و مبصر اور انتظامیہ کو دے دی تھی۔ کانگریس کی ضلع یونٹ نے روڈ شو کے لئے انتظامیہ سے اجازت مانگی تھی لیکن ضلع افسر نے اس کو مسترد کردیا تھا۔ کانگریس کے سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ کے تیور تلخ ہوگئے ہیں انہوں نے کل میڈیا سے کہا کہ وزیر اعلی مایاوتی کے اشارے پر ضلع انتظامیہ ان کی پارٹی کے خلاف فریب میں لگا ہوا ہے۔راہل گاندھی نے لکھنؤ میں کامیاب روڈ شو کیا تھا اس سے کانگریس کی ہوا بنی تھی۔ اسی کو لیکر کانپور انتظامیہ کو لکھنؤ سے احکامات دئے گئے تھے کہ کسی بھی حالت میں کانپور میں لکھنؤ جیسا کامیاب روڈ شو نہ ہوپائے۔ اس کے باوجود یہ روڈ شو کامیاب ہوگیا اس سے چڑھ کر انتظامیہ نے تمام مجرمانہ دفعات میں مقدمہ درج کیا ہے۔ کانگریس کو چیلنج کیا ہے کہ اگر حکام نے اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کیا تو انہیں مہنگا پڑے گا۔ جن دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے ان میں ملزموں کو چھ مہینے کی سزا ہوسکتی ہے۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاملے میں راہل اور ان کے ساتھیوں کو پیشگی ضمانت لینی پڑے گی ورنہ گرفتاری کا خطرہ بنا رہے گا۔ خبر آئی ہے کہ آر پار کی لڑائی کے لئے تیار کانگریس راہل کے خلاف درج ایف آئی آر کو خارج کرانے کیلئے ہائی کورٹ تک جائے گی کیونکہ معاملہ اب سیاسی بن گیا ہے اس لئے بھاجپا بھی اس میں کود پڑی ہے۔ بھاجپا کے ترجمان شاہنواز حسین کا کہنا ہے کہ کانگریسی نیتاؤں کی عادت بن گئی ہے کہ بار بار چناؤ کمیشن کے ضابطوں کو ٹھینگا دکھانا۔ پہلے وزیر قانون سلمان خورشید نے کارنامہ انجام دیا اس کے بعد مرکزی وزیر بینی پرساد ورما نے چناؤ ضابطے کی دھجیاں اڑائیں اور اب کانپور میں راہل گاندھی نے روڈ شو کے نام پر چناؤ کمیشن کے ضابطے توڑے۔ اس پر انتظامیہ نے کارروائی کی تو کانگریس داداگری پر اتر آئی ہے۔ یہ جمہوریت کے لئے اچھا نہیں ہے۔ معاملہ اب آگے بڑھے گا دیکھیں کیا ہوتا ہے؟
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Rahul Gandhi, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

16 فروری 2012

اترپردیش میں چل رہا ہے ایک سائلینٹ کرنٹ


Published On 16th February 2012
انل نریندر
ایسا کون سا اشوہے جسے یوپی کے لیڈر سمجھ نہیں پارہے ہیں اور جنتا سمجھ رہی ہے؟ منڈل کمنڈل کے بھڑکاؤ اور اشتعال آمیز ماحول میں بھی جب اترپردیش میں 57 فیصدی سے زیادہ پولنگ نہیں ہوئی لیکن اس مرتبہ پتہ نہیں کون سا کرنٹ انڈر کرنٹ چل رہا ہے کہ اتنی بھاری پولنگ ہورہی ہے۔ سطح پر بالکل امن ہے نہ کسی کااحتجاج اورنہ ہی کسی کے حق میں ہوا صاف چل رہی ہے۔ مگرپھر بھی پولنگ 60 فیصدی کے قریب رہی ۔ اترپردیش میں آزادی کے بعد پہلی مرتبہ یہ کرشمہ دکھائی دے رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ پہلے دومرحلے کی پولنگ میں اچھی آبادی کا ڈسٹنگ شن سے پاس ہونا؟پہلے مرحلے میں بارش کے باوجود مردوں سے زیادہ پولنگ فیصد عورتوں کا تھا۔زیادہ پولنگ کو اترپردیش میں حکمراں مخالف لہر کی شکل میں دیکھاجاتا ہے۔اس بے حد آسان سے کے خیال کے لئے پچھلی دہائیوں میں نتیجہ ہی ذمہ دار ہے 1985کے بعد کسی بھی حکمراں پارٹی مسلسل دوسری بار سرکار بنانے میں ناکام رہی۔ایسے میں بڑی پولنگ کو سپا بھاجپا وکانگریس ظاہری طورپرحکمراں بسپا مخالف لہر کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ کانگریس کو توراہل کا کرشمہ دکھائی دے رہاہے۔ سپا کو بسپا سرکار کا کرپشن تو بھاجپا کومرکزی حکومت کے خلاف یوپی کے لوگوں کاغصہ مگر ایسا کیا ہے کہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ووٹر بھاری تعداد سڑکوں میں اترے۔ آزادی سے اب تک ہوئے کل 15انتخابات میں کبھی اس طرح سڑکوں پر پولنگ کے نہیں نکلی۔ ایمرجنسی کے بعد 1977میں ہو یا پھر 1991میں رام جنم بھومی تحریک کی لہر نے بھی پولنگ فیصد 55فیصدی کے پاس ر ہی۔ بھاجپا کو روکنے کے لئے 1993 میں سماجی انصاف دلت سیاست کو کانشی رام اورملائم نے کٹھ جوڑ کر سماجی تبدیلی کابگل پھونکا۔ لیکن پولنگ 60 فیصدی کے جادوئی نمبر تک نہیں پہنچ سکی۔ 6 مارچ کو نتیجہ آنے سے پہلے تک سیاسی پنڈت اور پارٹی اپنی دلیل اورحساب کتاب پیش کرے گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہوا کے مزاج کوکوئی نہیں بھانپ رہا ہے۔ اگرپولنگ میں عورتوں اور نوجوانوں کی بڑھتی ساجھے داری سے ہماری جمہوریت کے مضبوط ہونے کے صاف اشارے ہیں کہ کرپشن کے خلاف انا ہزارے کی تحریک کااثر صاف دکھائی پڑرہا ہے تب ہی تو کچھ ووٹروں نے رائٹ ٹو ریجکیٹ( مسترد کرنے کا حق) کامتبادل بھی استعمال کیاہے لیکن اترپردیش کے مشرقی علاقے میں دومرحلوں میں ہوئی پولنگ سے جو ہوا چلی ہے وہ مغربی حصے تک آتے آتے بدل بھی سکتی ہے اس علاقے میں فیصلے کی چابی مسلمانوں اور جاٹوں کے ہاتھوں میں ہے ۔عام طورپر مغربی یوپی میں جاٹوں کا دبدبہ مانا جاتاہے جاٹوں کی لیڈر کی شکل میں چودھری اجیت سنگھ قریب دودہائیوں سے اپنادبدبہ بنائے ہوئے ہیں کانگریس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والے اجیت سنگھ کو کل 54 سیٹیں ملی تھی۔ اگرزمینی سطح پر یہ سمجھوتہ صحیح معنوں نافذ ہوتا تو دونوں کانگریس اور راشٹریہ لوک دل کو فائدہ ہوگا۔ مغربی یوپی میں مسلمانوں ووٹوں کی خاص اہمیت ہے حالانکہ حکمراں ہونے کے ناطے مغربی اترپردیش میں بی ایس پی کے تئیں ناراضگی پائی جاتی ہے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ اس علاقے کی زیادہ ترسیٹوں پر خاص مقابلہ بی ایس پی سے ہی ہے دراصل بی ایس پی کے 20 فیصدی دلت ووٹ اس کا بڑا ہتھیار ہے مقامی سطح پر دلتوں کے علاوہ سبھی ذاتیں اپنے درمیان کا امیدوار ڈھونڈرہی ہے۔ صرف دلت ہی بہن جی کے اشارے میں ووٹ دیتے ہیں ۔علاقے میں بسپا کے علاوہ مسلمان سپا اور کانگریس کو ووٹ دے سکتے ہیں۔ ایسا ہوا تو بسپا ہی فائدے میں رہے گی۔ اگرمسلمان ووٹ متحد ہوا بسپا ہی سب سے زیادہ خسارے میں رہے گی۔ پورے مغربی اترپردیش میں ہر سیٹ پر ذات پات تغذیہ الگ الگ ہے کچھ علاقوں میں بھاجپا بھی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ خاص طورپر شہری علاقوں میں اس کااثر صاف دکھائی پڑرہاہے اس مرتبہ کاچناؤ بہت کچھ امیدواروں پر منحصر کرے گا۔ کل ملا کر دیکھنا یہ ہے کہ جو ہوا پہلے دور کی پولنگ میں چلی وہ تیسرے دور میں بھی برقرار رہتی ہے.
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, BJP, Congress, Daily Pratap, Mayawati, Mulayam Singh Yadav, Samajwadi Party, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

14 فروری 2012

کانگریس کے جب ایسے دوست ہو تو دشمنوں کی ضرورت نہیں


Published On 14th February 2012
انل نریندر
چناوی ماحول میں الٹے سیدھے بیان دینا کوئی خاص بات نہیں ہوتی چناوی مہم کے دوران ووٹوں کی خاطر نیتا لوگ بہت غیرضروری بیان دے دیتے ہیں۔ لیکن اترپردیش میں جس طرح کے بیان کچھ کانگریسی نیتا دے رہے ہیں وہ حیرت انگیز اور کچھ حد تک چونکانے والے ضرور ہیں۔ ہمیں نہیں لگتا کہ یہ بیان یا تنازعہ کسی حکمت عملی کے تحت دیئے جارہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان سے کانگریس اعلی کمان خوش تو نہیں ہوسکتا کیونکہ ایسے دوست ہو تو دشمنوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ان شیخ چلی ٹائپ کے بیانات سے کانگریس کی مشکلیں ہی بڑھی ہے کانگریس نے جن لوگوں کو یوپی میں پارٹی کی نیا پار لگانے کے لئے مقرر کیا ہے وہی اس کی لوٹیا ڈبونے پر تلے ہوئے ہیں۔ اور ہائی کمان کے ذریعہ کئے جارہے اشارے کے باوجود بھی اپنی غلطی نہیں سدھاررہے ہیں۔ ان لوگوں میں پہلا نام سلمان خورشید کاہے ۔وہ وزیرقانون ہے اور چناؤ ضابطہ کے بارے میں بخوبی جانتے ہوئے بھی وہ نوفیصدی اقلیتی ریزرویشن کا مسلسل راگ الاپ رہے ہیں۔ چناؤ کمیشن کی تنقید کے بعد بھی وہ باز نہیں آرہے ہیں۔ کہتے ہیں چناؤ کمیشن چاہے پھانسی پر چڑھا دے یا کچھ بھی کرے میں پسماندہ مسلم فرقے کے لوگوں کو ان کا حق دلا کر ہی رہوں گا۔ مجھ میں بہت ساری پابندیاں لگا دی گئی ہے۔ کیا میں پسماندہ لوگوں کے حق کے بارے میں بول نہیں سکتا۔ پسماندہ لوگوں کو ریزرویشن نہیں ملے گا۔ تو کسے ملے گا۔ کانگریس کے پاس اس کاجواب نہیں بن پارہا ہے۔ جب کہ میڈیا ان سے خورشید کے بیان کے بارے میں سوال کرتا ہے کہ سلمان خورشید کے بعد دوسرا نام آج کل یوپی میں راہل گاندھی کی ناک کا بال بنے بینی پرساد ورما کا ہے وہ کبھی اپنے ہی ایم پی پی ایل پنیا کو یوپی کے بجائے باہری ( پنجاب) کابتا رہے ہیں تو کبھی وزیراعظم پر رائے زنی کرتے ہیں کہ دیش کے وزیراعظم بوڑھے ہو چلے ہیں وہ اب دیش چلانے کے لائق نہیں ہے موجودہ عہد ختم ہوتے ہوتے ان کی عمر میں دوسال کا اضافہ اور ہوجائے گا ایسے میں دیش کی باگ دوڑ نوجوان کے ہاتھ میں آنی چاہئے۔ یہ باتیں مرکزی وزیر فولاد بینی پرساد ورما گزشتہ جمعہ کو شہر کے مڈیاڈو اسمبلی حلقہ سے کانگریس امیدوار پرمندرسنگھ کی حمایت میں منعقدہ چناوی ریلی کے بعد میڈیا سے کہی انہوں نے کہا کہ دیش وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ 80 برس کے ہوچکے ہیں۔ اپنے بڑ بولے پن سے دونوں دن سرخیوں میں رہنے والے ورما نے کہا کہ دیش کی کمان اب نوجوان ہردے سمراٹ وکانگریس کی یورراج ایم پی راہل گاندھی کے ہاتھ میں آنی چاہئے۔ اعظم گڑھ میں چناؤ کے ٹھیک پہلے سلمان خورشید نے ایک اورہنگامہ کھڑا کرا دیا ہے کہ ایک چناوی ریلی میں آپ نے فرمایا کہ کانگریس صدر سونیاگاندھی نے جب بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی تصویریں دیکھی تھیں تو وہ رو پڑی تھی۔ اس پر کانگریس سکریٹری جنرل دگ وجے سنگھ خورشید کے اس بیان کو غلط مانتے ہوئے یہ کہا تھا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نہیں روئی تھی۔ اس کے بعد دگ وجے سنگھ نے ریاست میں صدر راج لگانے کی بات کہہ کر لوگوں کو چونکا دیا۔ سلمان خورشید کے ساتھ مانو مسلمانوں کے نیتا بننے کے لئے جم کر مقابلہ چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی وزیرغلام نبی آزاد کہتے ہیں کہ پارٹی کو 100سیٹیں ملے گی۔ وہی جے پرکاش جیسوال فرماتے ہیں کہ یوپی میں کانگریس کی سرکار بننے جارہی ہیں۔ اور پردیش میں چاہے کانگریس کا وزیراعلی بھلے کوئی بنے۔ لیکن ریمورٹ کنٹرول راہل گاندھی کے ہاتھ میں ہی ہوگا۔ رابرٹ وڈرا کہتے ہیں کہ پرینگا سیاست میں آئے گی۔ اور پرینکا کہتی ہے کہ میراکوئی ایساارادہ نہیں۔ اس لئے کہتا ہوں کانگریس کے جب ایسے دوست ہو تودشمنوں کی ضرورت نہیں ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Salman Khursheed, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا مستقبل؟


Published On 14th February 2012
انل نریندر
بحرانوں سے گھرے پاکستانی وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے ستارے آج کل گردش میں چل رہے ہیں۔پچھلے کئی مہینوں سے پاکستان سپریم کورٹ اور گیلانی کے درمیان زبردست کشمکش جاری ہے۔ جیسے لگتا ہے شاید اب گیلانی صاحب کو تھوڑی راحت ملے۔ ویسے ہی سپریم کورٹ ایسے احکامات دے دیتی ہے جس سے حالات کشیدہ بن جاتے ہیں۔ جمعہ کو پاکستانی سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے ان کی اپیل خارج کردی تھی۔ اور ساتھ ہی صاف الفاظ میں انہیں 13 فروری کو عدالت میں حاضر ہونے کو کہاتھا جس پر تعمیل کرتے ہوئے وزیراعظم مسٹر گیلانی عدالت میں حاضر ہوئے۔ ان پرالزامات طے ہوگئے ہیں ۔لیکن تازہ اطلاعات کے مطابق مسٹر گیلانی معاملے کی سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی گئی ہے۔ اس روز اگرعدالت ان پر مقدمہ چلانے کی اجازت دیتی ہے تو انہیں کرسی چھوڑ نی پڑسکتی ہے ۔ 13فروری کوعدالت نے معاملے کو ٹال دیا ہے۔ جس سے انہیں تھوڑی راحت ضرورملی ہے۔ قابل ذکر ہے مسٹر گیلانی نے اپنے خلاف توہین عدالت کے الزام طے کرنے کے لئے انہیں طلب کرنے والے حکم کو منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ عدالت عظمی نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے معاملے پھر سے کھولنے میں ناکام رہنے پر گیلانی کو سمن بھیج کر 13فروری کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کو کہاتھا۔ گیلانی کے وکیل اعتزازا حسن کی جانب سے 200 صفحات کی اپیل میں کورٹ میں وزیراعظم کے 13فروری کو بذات خود پیش ہونے کے متعلق حکم پر روک لگانے کی اپیل کی تھی۔ جسے جمعہ کو خارج کردیا تھا۔ 13فروری کو صدر آصف زرداری کے خلاف رشوت خوری کے معاملوں کو پھر سے کھولنے کے حکم کی تعمیل نہ کرنے کے لئے وزیراعظم گیلانی پر الزامات طے کئے گئے ہیں۔گیلانی کی اپیل خارج کرنے سے پہلے سپریم کورٹ کی 8رکنی بنچ کے چیف اورچیف جسٹس افتخار چودھری نے گیلانی کے وکیل سے صاف جواب مانگا تھا ۔کیا وزیراعظم صدر زرداری کے خلاف رشوت کے معاملوں کو پھر سے کھولنے کے لئے سوئز حکومت کو خط لکھیں گے یا نہیں؟ انہوں نے کہا ''ہم آپ کو فون پر وزیراعظم سے بات کرنے کے لئے دس منٹ کاوقت دیتے ہیں اور آپ ہمیں بتائیں لیکن گیلانی کے وکیل نے جواب میں کہا ہے کہ مجھے ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اپیل خارج کی جاتی ہے۔'' سوال یہ اٹھا ہے کہ اب آگے کیاہوگا؟ کیاگیلانی اب استعفی دیں گے؟ گیلانی اگرہٹتے ہیں تو سرکار نہیں گرے گی کیونکہ حکمراں محاذ کے پاس مطلوب اکثریت ہیں وہ گیلانی کی جگہ کسی اورکو وزیراعظم مقرر کرسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ سے چل رہی تکرار سے حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی کمزور ضرور ہوئی ہے اور اگلے عام چناؤ 2013میں ہوسکتے ہیں چاروں طرف مشکلات سے گھیرے پاکستان میں اگر سیاسی عدم استحکام بڑھ جاتا ہے تو یہ اچھا اشارہ نہیں مانا جاسکتا۔ ایک طرف طالبانی معاملہ دوسری طرف بڑھتی غریبی ، بے روزگاری ، آج پاکستان سب طرف سے گھرتا جارہا ہے حکمراں محاذ سرکار پر ایک طرف سنگین الز ام لگائے جارہے ہیں ۔ٹرانسپرینسی انٹر نیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے تازہ رپورٹ میں کہاہے کہ وزیراعظم گیلانی کے عہد میں پاکستان کو 805 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ یہ نقصان کرپشن، ٹیکس چوری وخراب انتظامیہ کی وجہ سے ہوا ہے ڈی نیوز سے ٹی آئی پی کے مشیر عادل گیلانی نے کہا کہ کرپشن کے اثر کافی سنگین ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت جو سال 2008میں برسراقتدارآئی ہے ۔اب تک یہ سب سے کرپٹ حکومت ہے یہ سرکار کے عہد میں کرپشن کے سارے پچھلے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں اور دیش سب سے کرپٹ ملکوں کی فہرست میں اوپر پہنچ گیا ہے۔ پاکستان میں سرکار اور عدلیہ کے درمیان ٹکراؤ کی ایک اور وجہ سے بھی تیز ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ نے تین وزراء سمیت 28 نمائندوں کو معطل کردیا ہے معاملہ کی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ سینٹ، نیشنل اسمبلی اورصوبائی اسمبلیوں کے لئے 28 ضمنی چناؤ ادھورے کمیشن نے کرائے تھے۔ ان چناؤ کے وقت کمیشن کے کچھ ممبران کے عہدے خالی پڑے تھے اس لئے کورٹ نے ان ضمنی انتخابات کو غیر آئینی قرار دے کر سبھی ممبران کو معطل کردیا تھا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا سیاسی مستقبل اندھیرے میں ہیں ممکن ہے انہیں وزیراعظم کے عہدے سے استعفی دینا پڑے وہ بھی 6مہینے کے لئے جیل بھی جاسکتے ہیں۔بہرحال دیکھیں 13فروری کو عدالت نے معاملے کو 28فروری تک ٹال دیا ہے۔ اس روز عدالت کیا فیصلہ سناتی ہیں۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Salman Khursheed, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

11 فروری 2012

پہلے مرحلے کی پولنگ سے کانگریس اور سپا میں زیادہ جوش

اترپردیش میں اسمبلی چناؤ کا پہلا دور پورا ہوگیا ہے۔بارش کے باوجود بدھوار کے روز ووٹوں کی بھی برسات ہوئی۔ اسمبلی چناؤ کے پہلے مرحلے میں پولنگ کے دوران بارش اور سرد ہوائیں بھی ووٹروں کا جوش ٹھنڈا نہیں کرسکیں۔ اسے ووٹروں کی بیداری کہیں یا انا ہزارے و چناؤ کمیشن کی مہم کا نتیجہ۔ آزادی کے بعد ریاست میں پہلی بار 62 فیصدی پولنگ ہوئی ہے۔ خاص بات یہ بھی رہی کہ پولنگ پوری طرح پرامن رہی نہیں تو یوپی چناوی تشدد کے لئے مشہور ہے لیکن پہلے فیس میں کہیں سے بھی تشدد تو دور چھوٹے موٹے جھگڑوں کی بھی شکایت نہیں ملی۔ بھاری پولنگ کو سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے ڈھنگ سے لے رہی ہیں اور اپنے انداز سے مطلب نکال رہی ہیں۔ پہلی بات تو یہ مانی جارہی ہے کہ ساری پولنگ کبھی بھی حکمراں پارٹی کو نہیں بھاتی مانا یہ ہی جاتا ہے کہ ووٹر اقتدار کے تئیں ناراضگی جتانے کیلئے ہمیشہ جذبہ دکھاتا ہے۔اس بار کے چناؤ میں سب سے بڑی پہیلی یہ ہے کہ اترپردیش کے قریب 46 فیصدی نوجوان ووٹر (18 سے39 برس) سے تقریباً55 لاکھ ووٹر 18 برس کے ہیں ۔ ایک کروڑ سے اوپر ایسے ووٹر ہیں جو پہلی بار اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ اہم اشو یہ بھی ہے کہ نوجوان طبقے کا یہ ووٹ کیا کرشمہ دکھائے گا؟ اس طبقے کو سیاست میں کم دلچسپ ہی بلکہ اپنے کیریئر اور مستقبل ، نوکری وغیرہ زیادہ اہم ہیں۔ نوجوان طبقہ چاہے شہری علاقے کا ہو یا دیہی علاقے کا وہ اپنے مستقبل کو لیکر کہیں زیادہ بے چین رہتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ وہ سیاست میں جھاڑو لگاکر کچھ صفائی کا کام کرسکتا ہے۔ کرپشن یا سیاست کے جرائمی ٹرینڈ کو قبول کرنے کے بجائے اس کو ختم کرنے میں دلچسپی دکھاتا ہے۔ اسی طبقے میں ریاست کی خوشحالی اور سرکار کے استحکام اور روز گار کے نئے مواقع جیسے اشو کو ترجیح دے کر تبدیلی لانے کی اہلیت ہے۔ اس لئے شاید ہر بڑی سیاسی پارٹی نے چاہے روزگار ہو یا مفت لیپ ٹاپ جیسے لالچ نوجوانوں کے سامنے رکھے ہیں۔ اس نئے طبقے کے ووٹروں کی وجہ سے اگر راہل گاندھی کانگریس کو تقویت دے رہے ہیں تو اکھلیش یادو سپا کے ترپ کے پتے بن گئے ہیں۔ بسپا اور بھاجپا میں اس طبقے کے طاقتور لیڈروں کی کمی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ اترپردیش میں چناؤ کا آخری سیاسی نتیجہ جو بھی ہو پہلے مرحلے کی پولنگ نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ عام طور پر مایوس رہنے والے ووٹروں کا زمانہ گیا۔ ان امیدواروں کے لئے بھی امید کی کرن مدھم ہوگئی ہے جو محض 20-20 فیصدی ووٹ لیکر کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ امید یہ جتائی جارہی ہے کہ باقی کے چھ مرحلوں میں60فیصدی کو بھی پار کرسکتا ہے۔ بہرحال ریاست کی 55 سیٹوں پر پر امن پولنگ کے باوجود چیلنج کم نہیں ہوئے ہیں۔ اترپردیش میں اب تک جن 15 لاکھ سے زیادہ مشتبہ افراد کو پکڑا گیا ہے ان میں سے دو لاکھ سے زیادہ ان سیٹوں والے حلقوں کے ہیں۔ پوری ریاست میں اب تک 33 کروڑ نقدی کے ساتھ ساتھ 4345 غیر قانونی ہتھیار،6636 کارتوس اور 243415 لیٹر غیر قانونی شراب ضبط کی گئی ہے۔
بدھ کے روز ہوئے پہلے مرحلے کے چناؤ کے دوران کانگریس۔ سپا اوربسپا جیسی پارٹیوں کی سانسیں اٹکی رہیں۔ دوپہر سے پہلے بیحد دھیمی پولنگ رہی جس سے کانگریس کافی تشویش میں پڑ گئی لیکن شام کو آئی اچانک تیزی نے پارٹی میں نیا جوش بھردیا۔پہلے مرحلے کی پولنگ میں جن سیٹوں پر ووٹ پڑے ان میں کانگریس کو اچھی خاصی امید ہے۔ان 10 ضلعوں میں اسمبلی کی 55 سیٹیں آتی ہیں جن میں سے کانگریس کو 10سے15 سیٹیں ملنے کی امید ہے۔ اس علاقے میں پارٹی کو دیگر پسماندہ طبقے اور مسلمان ووٹروں سے کافی امید ہے وہ کانگریس کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔ پہلے مرحلے کی پولنگ کو کانگریس اس لئے بھی اہم مان رہی ہے کیونکہ اس سے صوبے کا ٹرینڈ پتہ چلے گا۔ اس مرحلے میں کانگریس کی طرف سے ووٹروں کا رجحان بھی دکھائی دیا تو یہ باقی مرحلوں میں بھی اپنا اثر دکھا سکتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی کرم کانڈی ٹوٹکے جیسی وجہ ہی لگتی ہے۔ جن 10 ضلعوں میں 55 سیٹوں کے لئے پولنگ ہوئی ان علاقوں میں 2007 کے اسمبلی چناؤ اور 2009 کے لوک سبھا چناؤ کے نتیجوں کا تجزیہ اس کی ایک وجہ ہے۔ اس علاقے میں مسلم، دلت اور انتہائی پسماندہ طبقات کے ووٹ زیادہ ہیں جن پر کانگریس نے پورے چناؤ کے دوران زور دیا ہے۔ کانگریس پولنگ سے ٹھیک پہلے یہ صاف اشارہ دینے میں لگی ہے کہ پارٹی اس بار اپنے دم پر ہی سرکار بنا لے گی۔ راہل گاندھی نے کئی جلسوں میں اور سونیا گاندھی نے اوناؤ میں اپنی آخری چناؤ ریلی میں کہا کانگریس کسی کے ساتھ تال میل نہیں کرے گی۔ اس سے صاف اشارہ دینا تھا کہ کانگریس سرکار بنانے کے لئے کافی مطمئن ہے۔ اس کے پیچھے ان موقعہ پرست ووٹروں کو بھی پٹانا تھا جو آخر تک دیکھتے رہتے ہیں کہ سرکار کس کی بنے گی۔ اگر کانگریس بہت حوصلہ افزا ہے تو جوش سماج وادی پارٹی میں بھی انتہا پر ہے۔ سپا کا دعوی ہے کہ اگلی سرکار اس کی ہی بنے گی۔ اکثریت میں کمی رہی تو اس کا بھی انتظام ہوجائے گا۔ پارٹی کا دعوی ہے اکھلیش یادو کی چناؤ ریلیوں میں جس قدر بھیڑ اکھٹی ہورہی ہے اس سے مستقبل کے اشارے صاف دکھائی پڑ رہے ہیں۔ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کو پارٹی سے الگ رکھنے کے اکھلیش یادو کے فیصلے سے تمام ان طبقوں میں بھی پارٹی سے قربت بڑھی ہے جو سپا سے ماضی میں دور رہے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ اس بار بہوجن سماج پارٹی کے تمام قلعے ڈھہ جائیں گے۔کہنا ہوگا کہ یہ چناؤ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہوگا کے سبھی پارٹیوں نے اپنے روایتی ووٹ بینک کے علاوہ دوسروں پر خاص توجہ دی ہے۔ ان ووٹروں میں برہمن، راجپوت جیسی بڑی قومیں ، یادوں کو چھوڑ کر دوسرے پسماندہ طبقات وغیرہ وغیرہ ، مسلم ووٹ شامل ہیں۔ اور ان سبھی کے درمیان زبردست غور وخوض چل رہا ہے۔ کانگریس اور سپا کی طرف سے دلت قومیں بھی جاٹوں بنام غیر جاٹوں کی بنیاد پر اس منتھن کی کوشش ہوئی ہے۔ راہل گاندھی کا دلت خاندانوں کے بیچ جا کر اٹھنا بیٹھنا اسی نظریئے سے دیکھا جارہا ہے۔ بہرحال ان سبھی کی کوششوں کے آخری نتیجوں کو اپنے حق میں لیکر جو پارٹیاں دعوی کررہی ہیں ان میں کانگریس سب سے آگے ہے۔ اس کی وجہ بھی ہے کہ کانگریس کے پاس اس چناؤ میں پانا ہی پانا ہے کھونا کچھ نہیں ہے۔ کانگریس کے تجزیہ نگار اسی بنیاد پر مان رہے ہیں کہ اس مرحلے میں پڑے ووٹوں کواس کے حق میں مان لیا جائے تو اگلے مرحلے میں بھی ووٹروں کارجحان اثر دکھا سکتا ہے۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Samajwadi Party, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

07 فروری 2012

پنجاب۔ اتراکھنڈ میں37 دنوں کیلئے حکومت و انتظامیہ ٹھپ



Published On 7th February 2012
انل نریندر
بھارت کے چناؤ کمیشن نے اپنے فیصلے سے پنجاب اور اتراکھنڈ ریاستوں کے انتظامیہ کو ایک مہینے سے زیادہ وقت کے لئے پنگو بنادیا ہے۔ حالانکہ دونوں ریاستوں میں پولنگ ہوچکی ہے لیکن چناؤ ضابطہ ابھی بھی لاگو ہے۔ یہ چناؤ ضابطہ 37 دن کے لئے یعنی 6 مارچ تک چالو رہے گاجس دن ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ ایک پنجاب کے افسرکا تبصرہ تھا کہ ہم تو اپنا سارا وقت ٹی وی دیکھ کر گذار رہے ہیں، کام تو کوئی ہے ہی نہیں۔ پنجاب، اتراکھنڈ و منی پور تینوں ریاستوں میں چناؤ ہوچکے ہیں اور کسی کو صحیح سے معلوم نہیں کہ ریاست کا مالک کون ہے؟ وزیر اعلی،گورنر اور چیف الیکٹرول آفیسر یا چیف الیکشن کمیشن دہلی کون ہے، جس کے احکامات پر ریاست کا انتظام چلے؟ بدقسمتی یہ ہے کہ اس حالت کو پیدا ہونے سے بچایا جاسکتا اگر چناؤ کمیشن تھوڑی سی توجہ دیتا۔اگر پنجاب اتراکھنڈ میں چناؤ 3 مارچ کو ہوتے اور نتیجہ6 مارچ کو آتا تو اس بے یقینی کی صورتحال سے بچا جاسکتا تھا۔ سوال یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ ایسی کونسی مجبوری تھی جس کی وجہ سے ریاستوں کے انتظامیہ کو پوری طرح ٹھپ کردیا گیا۔ چناؤ کمیشن بیشک یہ دلیل دے کہ ہم وہاں جلد ہی چناؤ کروانا چاہتے تھے کیونکہ چناؤ کی تاریخوں کو بہت سی باتوں کو دیکھ کر ہی طے کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سیاسی پارٹیوں کی رائے ،دوسرے ریاستوں میں چناؤ کے انتظامات کو دیکھنا، موسم و اسکول امتحانات و چھٹیاں،تہوار وغیرہ وغیرہ؟ اکالی دل کے ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ ہم تھوڑا حیران ضرور ہوئے ہیں جب 30 جنوری کو پولنگ کی تاریخ کا اعلان ہوا۔ کیونکہ ہم امید کررہے تھے کہ چناؤ 10 سے15 فروری کے درمیا ن ہوں گے کیونکہ پچھلے اسمبلی چناؤ 2002 اور 2007 میں13 فروری کو ہوئے تھے۔
اتراکھنڈ کی چناوی تاریخ میں یہ پہلی بار تھا جب چناؤ ایسے وقت ہوئے جب ریاست میں کڑاکے کی سردی تھی۔ پہاڑی علاقوں میں برف پڑی ہوئی تھی۔ ریاست بننے کے بعد 2002 اور 2007 میں دو بار اسمبلی انتخابات ہوئے۔ 2002 ء میں چناؤ14 فروری کو ہوئے تھے اور نتیجہ24 فروری کو اعلان کردیا گیا۔ اسی طرح2007ء میں چناؤ21 فروری کو ہوئے تھے اور چھ دن بعد نتیجہ 27 فروری کو اعلان ہوا تھا۔ چناؤ کمیشن کے حکام نے کہا کہ ابھی تک وزیر اعلی نے چناؤ ضابطے کو نرم کرنے کی کوئی خواہش نہیں ظاہر کی ہے۔ بیشک وزیر اعلی ابھی بھی نگراں وزیر اعلی ہیں لیکن وہ کسی بھی افسر کا ٹرانسفر نہیں کرسکتے اور نہ ہی صحیح معنوں میں جواب طلبی کرسکتا ہے۔ افسر شاہی اس لئے بھی وزیر اعلی کو سنجیدگی سے نہیں لیتی کیونکہ وہ کہتے ہیں پتہ نہیں یہ دوبارہ اقتدار میں آئیں بھی یا نہیں؟ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی بھون چند کھنڈوری نے چناؤ کمیشن کے ذریعے طے کردہ چناؤخوف پر اعتراض کیا تھالیکن چناؤ کمیشن نے اسی نظرانداز کردیا۔ ایسی صورت سے بچایا جاسکتا تھا اگر ان دونوں ریاستوں میں چناؤ نتائج آنے سے کچھ دن پہلے ہوتے۔اس لئے سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے حساب سے چناؤ کمیشن کے اس فیصلے کا مطلب نکال رہی ہیں۔ اکالی بھاجپا کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمیشنر نے کانگریس کو خوش کرنے کے لئے یہ کہہ دیا تاکہ پارٹی ان کے ریٹائرمنٹ کے بعد کہیں نہ کہیں ایڈجسٹ کردے۔
Akali Dal, Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Punjab, State Elections, Uttara Khand, Vir Arjun

03 فروری 2012

بھاری پولنگ ووٹروں میں بیداری کی علامت ہے


Published On 3rd February 2012
انل نریندر
پانچ ریاستوں کے لئے اسمبلی کی تشکیل کاعمل شروع ہوچکاہے۔ پنجاب، اتراکھنڈ، منی پور میں پولنگ ختم ہوچکی ہے۔تینوں ریاستوں میں پولنگ سے جہاں ہماری جمہوری نظام کو مضبوطی ملتی ہے وہی چناؤ کمیشن کو اس کااطمینان ہوگا کہ ان ریاستوں میں برائے نام تشدد کے نہ صرف چناؤ مکمل ہوئے بلکہ ان میں بھاری پولنگ بھی ہوئی۔ منی پور پولنگ کافیصدہمیشہ39 فیصد رہا یہی 80 فیصدی ووٹ پڑنا غیر معمولی بھلے نہ ہو بلکہ توجہ دینے کی بات ہے کہ کچھ انتہا پسند تنظیموں کی سرگرمی بے اثر رہی۔ جنتا نے بلٹ کے بجائے بیلٹ کوترجیح دی۔ پنجاب اور اتراکھنڈ دونوں میں پولنگ فیصد 77 اور 70 رہا۔ اب ا میدیہی ہے کہ اترپردیش میں یہی ٹرینڈ جاری رہے گا۔ اتراکھنڈ میں 2007میں 63.72 فیصد ووٹ پڑا تھا۔ عام طور پر ماناجاتا ہے کہ بھاری پولنگ کامطلب اقتدار مخالف لہر یہ بھی کہاجاتا ہے کہ وہاں کی جنتا نے تبدیلی اقتدار کے نام پر زیادہ تعداد میں ووٹ دیئے لیکن ہمارا خیال ہے کہ بھاری پولنگ ہونے سے کوئی اندازہ لگانا ٹھیک نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ حکمراں پارٹی اپنے ووٹ ڈالوا لیتی ہے پنجاب میں اس بار 70فیصدی سے زیادہ پولنگ ہوئی ہے۔ کئی سیٹوں پر تو یہ 85 فیصد تک پہنچ گئی۔ وزیراعظم اعلی پرکاش سنگھ بادل کے حلقہ لمبی میں 85فیصد جب کہ مالیرکوٹلہ میں 88 فیصد پولنگ ہوئی۔ اتنی پولنگ کاکوئی مطلب نکالنا پنجاب میں بے حد مشکل سودا ہے۔ پچھلے چار اسمبلی چناؤ کے اعداد وشمار دیکھیں تو یہ کہنا مشکل ہے کہ کس پارٹی کی سرکار مارچ میں بنے گی۔ 2007 میں گزشتہ اسمبلی چناؤ کے دوران صوبے میں 75.45 فیصدی پولنگ ہوئی تھی۔ اکالی بھاجپا محاذ اقتدار میں آیا تھا اس وقت 117 ممبری پنجاب اسمبلی میں اکالی دل کو49 اور اس کی اتحادی بھاجپا کو 19 سیٹیں ملی تھی۔ کانگریس کوتب44 سیٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑاتھا۔ تینوں ریاستوں میں بھاری پولنگ سے صاف ہے کہ ووٹ کی طاقت نوٹ سے زیادہ ہے۔ اس میں بھاری پولنگ کاایک مطلب یہ نکالا جاسکتا ہے کہ ووٹرو ں میں اپنے حق اورجمہوریت کے تئیں احساس بڑھا ہے وہ اپنے حق کااستعمال کرنے آگے آئے ہیں۔ عوامی مشینری کے پہیوں کو رفتار دینے میں ان کی ساجھے داری سے صحت مند جمہوریت کی بنیاد مضبوط کرے گی۔ ووٹ کی طاقت کیاہے یہ بتانے میں اناہزارے میڈیا اور اطلاعاتی مشینری کے دوسرے وسائل کا کردار کو درکنار نہیں کیا جاسکتا۔ اناہزارے کی مہم کم سے کم پولنگ کرنے میں ضرور اثر دکھارہی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ جب ووٹ کامطلب نیتا تک محدود ہوا کرتا تھا۔ سیاسی پارٹی ووٹروں کو گھر سے اس کی جی حضوری کرتے ہوئے پولنگ مرکز تک گھوڑا گاڑی رکشا کا انتظام کیا کرتے تھے۔ اور ووٹ کی پرچی ہاتھ جوڑ کر اس کے گھر کے پہنچادیا کرتے تھے۔ دونوں ہاتھ جوڑ کرکہتے تھے کہ ہمارا خیال رکھنا۔ ہماری عزت آپ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن اب ووٹربیدار ہوگیا ہے ووٹر نے نیتا کی بانگی کو ٹول کر فیصلہ اپنے بل پرکرنے کی جو پہل کی ہے اس کا خیرمقدم ہے کل ملاکر پولنگ میں اس بار نئی اور عجوبہ ٹرینڈ دیکھنے کو ملے ہے۔ جو ہمارے دیش کی جمہوریت کے لئے اچھا اشارہ ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Manipur, Punjab, State Elections, Uttara Khand, Vir Arjun

24 جنوری 2012

اترپردیش چناؤ میں دبنگی کے معاملے میں سب کادامن داغدار


Published On 23th January 2012
انل نریندر
 چناؤ کمیشن چاہے جتنے بھی قانونی سختی برتے اترپردیش اسمبلی چناؤ میں ان دبنگیوں کو نہیں روک سکتاہے ۔ یہ کوئی نہ کوئی راستے ضرور نکال لیتے ہیں ۔ان دبنگیوں کا آخر مقصد شاید ایک اسمبلی ممبر بننا ہوتا ہے اور ایسا کرنے کے لئے پہلے تو وہ بڑی سیاسی پارٹیوں کو ٹٹولتے ہیں۔ جب انہیں وہاں جگہ نہیں ملتی تو وہ کوئی چھوٹی پارٹی ڈھونڈتے ہیں چونکہ اسے پارٹی کے بل پر چناؤ جیتنا نہیں بلکہ انہیں تو وہ اس پارٹی کا چناؤ نشان چاہئے۔ ایسی ہی ایک پارٹی اپنا دل ہے۔ اس دل سے ہی الہ آباد کے عتیق احمد کا ممبراسمبلی بننے کا خواب پورا ہوا تھا۔ یہ بات دیگر ہے کہ اس کے بعد سماج وادی پارٹی نے انہیں اپنے یہاں جگہ دے کر لوک سبھا تک پہنچایا اور وہ بھی پنڈت جواہر لال نہرو کے پارلیمانی حلقے سے 2004میں اپنادل کے بانی سونے لال پٹیل ببلو سری واستو کو سیتا پور سے اپنا دل کا امیدوار بنایا تھا۔یہ ہی نہیں ان کی کتاب ''ادھورا خواب ''کااجراء بھی پٹیل نے کیا تھا۔اب جب دوسرے مافیا منا بجرنگی کو ممبر اسمبلی بننے کی خواہش ہوئی ہے۔ تب اس کے خواب کو بھی اپنا دل ہی پنکھ لگارہا ہے۔ منا بجرنگی جونپور کے بھیڑیاؤ سے اپنا دل کے امیدوار ہیں ۔عتیق احمد پھر ایک بارالہ آباد کے شہر وریشمی سے اپنا دل کے ٹکٹ پر اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔ کچھ ایسی حالت پیس پارٹی کی بھی ہے۔ کانگریس پردیش پردھان ڈاکٹر ریتا بہوگنا جوشی کا گھر جلانے کے ملزم جتیندر سنگھ ببلو کو پیس پارٹی نے اپنا یہاں جگہ دی تھی۔ مایا وتی بعد میں انہیں نکال پائی۔ اب وہ بیکا پور سے میدان میں ہیں۔ یہی نہیں اپنے بوتے پر سونیاگاندھی پارلیمانی حلقے رائے بریلی سے آزاد امیدوار کی شکل میں چناؤ جیتتے آرہے اکھلیش سنگھ کو بھی پیس پارٹی میں نہ صرف سیاسی پناہ ملی بلکہ انہیں قومی جنرل سکریٹری کا عہدہ بھی دے دیاگیا۔ داغیوں کو چناؤ سے دور رکھنے کی بات سبھی پارٹیاں کرتی ہیں لیکن ان پر عمل دھیلے بھر کابھی نہیں ہوتا۔ وارانسی کے اجے رام مشہور دبنگی ہیں۔یہ پہلے بھاجپا میں تھے ۔لوک سبھا میں چناؤ کاٹکٹ نہیں ملاتو سماج وادی پارٹی میں چلے گئے۔ اس مرتبہ وہ وارانسی کی پنڈرا سیٹ سے کانگریس کے امیدوار ہیں۔ آزاد امیدوار رگھوراج پرتاپ سنگھ عرف راجہ بھیا سماج واری پارٹی کے قریب ہیں اس مرتبہ وہ کنڈا سیٹ سے پھر چناؤ لڑرہے ہیں۔ رائے بریلی ضلع سے امید وار محمد مسلم کے خلاف مارپیٹ بلوا جیسے کئی معاملے درج ہیں۔ سپا میں بھی داغیوں کی کمی نہیں۔ متر سین یادو کو حال ہی میں عدالت سے ایک معاملے میں سزا ہوئی ہے۔ یادو کے بیٹے آنند سین یادو ایک دلت طالبہ سے بدفعلی اورقتل کے معاملے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ سپا نے متر سین کو فیض آبادکی بیکا پور سیٹ سے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ دبنگی ابھے سنگھ بھی فیض آبادکی گوشئی گنج سیٹ سے سپا کے امیدوار ہیں۔ کابینہ وزیر نند گوپال نندی پر حملے کے ملزم وجے مشرا کو سپا نے ٹکٹ دیا ہے۔ وہ بدھوئی سے کھڑے ہوئے ہیں۔گڈو پنڈت اور ونود سنگھ عرف پنڈت سنگھ بھی سپا کے بینر تلے چناؤ لڑرہے ہیں۔ فہرست بہت لمبی ہے کس کس کی کہانی بتائیں۔ چناؤ ہرحال میں جیتنے کی چاہ میں سبھی پارٹیاں یہ نہیں دیکھتیں کہ وہ کس شخص کو ٹکٹ دے رہے ہیں اس کا کردار اور ریکارڈ کیاہے؟ یہی وجہ ہے کہ سیاست میں جرائم کا بول بالا بڑھتا جارہا ہے۔ چناؤ کمیشن کیا کرے۔ جب یہ سیاسی پارٹیاں خود ہی پرہیز نہیں کرتی؟
Anil Narendra, Crime, Criminals, Daily Pratap, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

22 جنوری 2012

کیا اومابھارتی کی اینٹری ہندوتوپولارائزیشن کی کوشش ہے؟



Published On 22th January 2012
انل نریندر
نانا کرتے ہوئے بھی آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی کی فائر بینڈ لیڈر مس اوما بھارتی اترپردیش اسمبلی انتخابات میں کود گئی ہیں۔ اس سے بھاجپا میں ان کے دوبارہ سرگرم ہونے کا عمل بھی پورا ہوگیا ہے۔ یوں تو پارٹی صدر نتن گڈکری نے اوما کو چھ سال کے بنواس کے بعد پچھلی جون میں پارٹی میں شامل کیا تھا لیکن صحیح معنی میں اوما کی سیاست میں دوبارہ اینٹری بندیلکھنڈ کے مہوبہ ضلع کی چرخاری اسمبلی سیٹ پر اپنی نامزدگی داخل کرنے سے ہوئی ہے۔ اوما بھارتی بنیادی طور سے بندیلکھنڈ کی ہی رہنے والی ہیں لیکن ان کاحلقہ مدھیہ پردیش ہی رہا ہے۔ چرخاری حلقہ لودھ فرقے کی اکثریت والا ہے۔مس اوما بھارتی بھی لودھ برادری سے ہیں۔ اوما بھارتی کو بھاجپا میں شامل کرنے کے پیچھے نتن گڈکری کو یہ ہی امید تھی کے وہ کلیان سنگھ کے پارٹی چھوڑنے کے بعد پارٹی کو پھر سے منظم کرکے جتائیں گی۔ اوما بھارتی ہمیشہ تنازعوں کا مرکز رہی ہیں۔ جب وہ پارٹی میں لوٹیں تو بحث شروع ہوگئی کے کیا پارٹی انہیں وزیر اعلی کے عہدے کا چہرہ پروجیکٹ کرے گی؟ 90 کی دہائی جیسا سیاسی جلوہ دکھانے کے چکر میں لگی بھاجپا پسماندہ کارڈ کے بہانے پھر ہندوتو کا ڈنکا بجانے کی تیاری میں ہے۔ مسلم ریزرویشن کی مخالفت اور اوما بھارتی کو آگے کر پسماندہ ووٹ بینک میں سیند کو بھاجپا نے اپنے چناوی ایکشن پلان کا کام شروع کردیا ہے۔ چناوی اشو کی تلاش میں بٹھک رہی بھاجپا کا کام کانگریس نے کچھ حد تک کردیا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پسماندہ طبقہ (او بی سی) کوٹے سے 4.5 فیصد کوٹہ مذہبی بنیاد پر اقلیتوں کو دینے کے فیصلے میں بھاجپا کو چناوی فائدہ نظر آیا اس لئے پارٹی نے لائن آف ایکشن ہی بدل ڈالا۔ کرپشن، بدانتظامی اور مہنگائی ، کالی کمائی جیسے معاملوں کو پیچھے چھوڑ کر مسلم ریزرویشن مخالفت کو ہی بنیادی اشو بنا لیا۔ اتنا ہی نہیں پسماندہ طبقوں کی ہمدردی لینے کی جلد بازی میں این آر ایچ ایم گھوٹالے میں ملزم وزیر بابو سنگھ کشواہا کو گلے لگالیا۔ کشواہا معاملہ بھاجپا کے گلے کی ہڈی بنتا دکھائی دیا تو مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلی اوما بھارتی کو چناؤ میدان میں اتار دیا۔ پسماندہ طبقات کے مفاد کو بچانے کو مسلم مخالف مہم کی پٹری پر لوٹتی بھاجپا نے جمعہ کو پوری ریاست میں اسمبلی حلقے سطح پرستا پریورتن پد یاترائیں نکالنا شروع کردیں۔پسماندہ طبقات کو لبھانے کے لئے سال2000 میں اس وقت کے وزیر اعلی راجناتھ سنگھ نے سماجی انصاف کمیٹی رپورٹ نافذ کرکے انتہائی پسماندہ طبقات کو او بی سی کوٹہ دینے کا داؤ بھی نہیں چل پایا۔ 1996 میں 174 سیٹیں جتانے والی بھاجپا 2002ء میں88 سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی تھی۔ کلیان سنگھ کی وجہ سے لودھ ووٹ بینک بھاجپا کے ساتھ طویل عرصے تک جڑا رہا ہے۔
پردیش میں یہ ووٹ بینک 4 سے6 فیصدی مانا جاتا ہے۔ بندیلکھنڈ میں تو اس ووٹ بینک کی حصے داری 9 فیصدی تک مانی جارہی ہے۔ 2007ء میں تو بھاجپا بندیلکھنڈ سے اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول پائی تھی۔ مندر تحریک کے دوران اوما نے بندیلکھنڈ کی دھرتی میں کمل کو کھلانے کے لئے جم کر محنت کی تھی۔اس کے لئے گاؤں گاؤں میں ان کا نیٹ ورک قائم ہے۔ لمبے عرصے تک ، گنگا ابھیان جیسی غیر سیاسی تحریک میں اپنی طاقت لگاتی آئیں اوما ایک بار پھرجارحانہ چناوی انداز میں نظر آ نے لگی ہیں۔ دو دن پہلے تو ان کے نشانے پر کانگریس کے یووراج راہل گاندھی آگئے تھے۔ دراصل بندیلکھنڈ کے چناؤ میدان میں اوما زور شور سے اتریں تو راہل نے ان کو نشانہ بنایا تھا۔ ایک ریلی میں انہوں نے اوما پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہہ ڈالا کہ مدھیہ پردیش سے بھاگ کر آئیں ایک نیتا اچانک آپ کے درمیان مسیحا بننے کی کوشش کررہی ہیں۔ جب آپ تکلیف میں تھے تب ساتھ دینے کے لئے اکیلے کانگریس ہی آئی تھی۔ راہل کے اس تلخ بیان کا زور دار جواب اپنے فائر بینڈ اسٹائل میں اوما نے یوں دیا: ان کی ماں تو اٹلی سے آئی ہیں پھر بھی یہاں کے لوگوں نے انہیں قبول کرلیا ۔ جبکہ وہ تو پڑوسی ریاست سے ہی آئی ہیں۔ ایسے میں راہل کچھ بولنے سے پہلے سوچ سمجھ لیاکریں تو اچھا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں اوما بھارتی کے میدان میں کودنے سے کانگریس میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ کانگریس نے اکیلے بندیلکھنڈ میں ہی 19 میں سے10 سیٹیں جیتنے پر امید لگائی ہوئی ہے۔ اوما بھارتی کے آنے سے جہاں کانگریس کا تجزیہ بدل سکتا ہے وہیں آہستہ آہستہ پارٹی پھر ہندوتو پر لوٹ سکتی ہے۔ اوما بھارتی کی کوشش ہوگی ایک بار پھر اترپردیش میں ووٹوں کا دھارمک لائن پر پولارائزیشن ہورجائے۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Elections, State Elections, Uma Bharti, Uttar Pradesh, Vir Arjun

20 جنوری 2012

پنجاب میں کانٹے کی ٹکر میں تیسرے مورچے کا کردار اہم ہوسکتا ہے


Published On 20th January 2012
انل نریندر
پنجاب کے نائب وزیر اعلی و شرومنی اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل نے فاضلکا میں ایک میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے ورکروں اور لیڈروں کو ہدایت دی کہ وہ اکالی ۔ بھاجپا اتحاد کے امیدواروں کی پوری حمایت کریں۔ اتحاد کے امیدواروں کی حمایت نہ کرنے والوں کو پارٹی سے باہر کردیا جائے گا۔ وہ ایتوار کو فاضلکا میں بھاجپا امیدوار و وزیر ٹرانسپورٹ سرجیت جیانی کی حمایت میں ریلی کو خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے ساتھ ہی آزاد امیدواروں کو بھی خبردار کیا اور کہا کہ جو آزاد امیدوار ورکروں کو دھمکائیں گے ان سے پنجاب پولیس اور وہ خود نمٹنا جانتے ہیں۔بادل نے کہا کہ کانگریس صدر کیپٹن امریندر سنگھ دی ڈریم سنڈروم (دن میں خواب دیکھنا) سے متاثر ہیں۔ اس لئے وہ شرومنی۔ بھاجپا کو 33 سیٹوں تک محدودرہنے اور کانگریس کے کھاتے میں 75 سیٹیں آنے کا دعوی کررہے ہیں۔ لگتا ہے کیپٹن کو دن میں خواب دیکھنے کی بیماری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2002ء میں جب پنجاب میں کانگریس کی لہر تھی تب بھی اکالی بھاجپا اتحاد کو48 سیٹیں ملی تھیں اب تو حالات بالکل برعکس ہیں۔
پنجاب کے ووٹر 30 جنوری کو117 اسمبلی سیٹوں کے لئے ووٹ ڈالیں گے لیکن کونسی پارٹی یا اتحاد سرکار بنائے گی اس بارے میں نہ تو حکمراں شرومنی اکالی دل ۔ بھاجپا اتحاد ی پرامیدہے اور نہ ہی کانگریس ۔50 سال پہلے 1966ء میں ریاستوں کی تشکیل کے بعد سے پنجاب صوبے کے عوام نے کسی بھی سیاسی پارٹی کو مسلسل دوسری مرتبہ جتا کر پنجاب میں حکومت کی کمان نہیں سونپی ہے۔ پنجاب کا سیاسی ماحول اس کی پڑوسی ریاست ہریانہ سے میل نہیں کھاتا کیونکہ ہریانہ آیا رام گیا رام کے سبب پورے ملک میں بدنام ہوچکا ہے۔ وہاں سرکار بنانے کے لئے ممبران کی خریدو فروخت کا بھی ماحول نہیں ہے۔ چاہے کانگریس ہو یا اکالی اتحاد ہو۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بار پنجاب میں اکالیوں کی چناوی نیا بھاجپا کے بھروسے ہے۔ ریاست میں بھاجپا کی حالت کافی پتلی ہے۔ اگر پارٹی پچھلی بار کے مقابلے میں آدھی سیٹیں بھی جیت پانے میں کامیاب رہتی ہے تو اکالی محاذ کی حکومت بن سکتی ہے۔ ویسے ریاست میں کرپشن ،کالی کمائی یا لوکپال چناوی اشو نہیں بن پائے ہیں۔تازہ جائزے کے مطابق کانگریس کے ساتھ اکالی۔ بھاجپا محاذ میں کانٹے کی ٹکرہے۔ اگر بھاجپا کو 10 سیٹیں بھی حاصل ہوگئیں تو اتحادی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتا ہے۔پچھلی مرتبہ بھاجپا کو19 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی اس مرتبہ ایک دوسرا فیکٹر تیسرا مورچہ بھی ہوگا جسے سانجھہ مورچہ کا نام دیا گیا ہے۔ اکالی ۔ بھاجپا اتحاد اور کانگریس دونوں پارٹیوں کے لئے پنجاب کے سابق وزیر مالیات منپریت بادل ایک ایسی سیاسی شخصیت بن گئے ہیں جنہیں وہ نہ چاہ کر بھی اپنے کندھوں پر لادے اور اپنا اپنا سیاسی داؤ بنا رہے ہیں۔ منپریت بادل پرکاش سنگھ بادل کے بھتیجے ہیں اور سکھبیر کے چچیرے بھائی۔ انہیں اکتوبر2010ء میں وزیر مالیات و شرومنی اکالی دل سے برخاست کیا گیا تو انہوں نے اپنی پیپلز پارٹی آف پنجاب بنا لی اور تب سے وہ چناوی حکمت عملی میں لگے ہوئے ہیں۔ اس سانجھہ مورچے میں پیپلز پارٹی آف پنجاب، لیفٹ پارٹیاں اور چھوٹی موٹی پارٹیاں شامل ہیں۔ سانجھہ مورچے نے سبھی 117 سیٹوں پر چناؤ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور کئی سیٹوں پر مضبوط امیدوار بھی اتارے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پنجاب میں ابھی تک نہ تو بہوجن سماج پارٹی اور نہ ہی لیفٹ پارٹیوں کا کھیل بگاڑ سکے۔ بسپا کے بانی کانشی رام پنجاب کے ہی تھے اور یہاں دلتوں کی آبادی قریب 30 فیصد ہے۔ بہرحال مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی بھی سانجھہ مورچہ میں ہے۔ سانجھہ مورچہ آنے والے چناؤ میں کیا رول نبھاتا ہے اس کا پتہ تو چناؤ نتیجے ہی بتائیں گے لیکن کانگریس ۔ اکالی ۔ بھاجپا اتحاد کی کانٹے کی ٹکر میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔اور ہوسکتا ہے کہ تیسرا مورچہ کنگ میکر کے کردار میں سامنے آجائے؟
Akali Dal, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Punjab, State Elections, Vir Arjun

19 جنوری 2012

یوپی میں ہوگا سوشل انجینئرنگ کا اصلی امتحان

اترپردیش چناؤ میں ہرسیاسی پارٹی کی خودساختہ سوشل انجینئرنگ کا امتحان ہونے والا ہے۔ بسپا چیف مایاوتی نے اسمبلی چناؤ کے لئے پارٹی کے 403 امیدواروں کی فہرست جاری کرتے ہوئے گنانا شروع کیا۔درجہ فہرست ذاتوں88، اوبی سی113، برہمن 74،33 ٹھاکر وغیرہ اور 85 مسلمان وغیرہ غیرہ۔ بسپا کی جانب سے اپنی فہرست میں ذات پات کی تفصیل دینا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ نئی بات یہ رہی کہ بہن جی کی پریس کانفرنس کے کچھ گھنٹوں بعد ہی بھاجپا کی پریس کانفرنس میں پارٹی کے قومی نائب صدر مختار عباس نقوی نے بھی تفصیلات پیش کیں کے اب تک جاری بھاجپا کی فہرست میں کتنی پسماندہ ذاتوں اور درجہ فہرست ذاتوں کی حصے داری کی گئی ہے۔ یہ بانگی اس لئے کہ اترپردیش اسمبلی کا یہ چناؤ ہر پارٹی اپنی سوشل انجینئرنگ اور کافی حد تک منڈل واد سے حوصلہ افزا اقدامات کو آزمانے کے امتحان میدان میں بھی ثابت ہونے جارہے ہیں۔کانگریس پر غور فرمائیے۔ راہل گاندھی کی کمان والے دور میں پارٹی نے اب تک اعلان شدہ325 امیدواروں میں سے 87 او بی سی کے لوگوں کو نمائندگی دی ہے۔ سماجوادی پارٹی کی بیٹ مانے جانے والی مین پوری، ایٹا، فیروز آباد میں پارٹی نے سپا سے ناراض ہوکر نکلے یادوؤں کو ٹکٹ سے نوازا ہے۔ یہ منڈل واد کا ہی اثر مانا جائے گا۔ اب تک اعلان شدہ 325 امیدواروں میں سے بڑی ذاتوں خاص کر برہمنوں کی پارٹی مانی جانے والی کانگریس نے ابھی تک 39 براہمنوں کو ہی ٹکٹ دیا ہے۔ ٹھاکروں کے کھاتے میں51، درجہ فہرست کھاتے میں 82 اور مسلمانوں کو اب تک52 ٹکٹ دئے گئے ہیں۔ اشارہ صاف ہے کہ پسماندہ ذاتوں کے ووٹوں کے لئے گھماسان شباب پر ہے۔ تبھی تو بھاجپا نیتا مختار عباس نقوی نے اپنی پارٹی کے اعدادو شمار دیتے ہوئے فخر کے ساتھ بتایا کہ اب تک اعلان شدہ381 امیدواروں میں پسماندہ کو123 ، درجہ فہرست ذاتوں کے83 امیدوار شامل ہیں۔ سماجوادی پارٹی نے بھی ٹکٹ بٹوارے میں اپنی سوشل انجینئرنگ کا پورا خیال رکھا ہے۔ پارٹی تقریباً400 سیٹوں کے امیدوار اعلان کرچکی ہے اور اس میں اپنے ووٹ بینک مسلم پسماندہ طبقوں کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ پارٹی نے80 مسلمانوں کو میدان میں اتارا ہے۔
چناؤ سے پہلے جائزوں کی سچائی پر اکثر نکتہ چینی ہوتی ہے۔لیکن ایک تازہ سروے ہوا ہے۔ امر اجلا۔سی ووٹر انڈیا ٹی وی کے دوسرے دور کے اوپینین پول کے مطابق اترپردیش میں بہوجن سماج پارٹی۔ سماج وادی پارٹی میں کانٹے کی ٹکر نظر آرہی ہے۔ پنجاب میں اکالی۔ بھاجپا محاذ اور کانگریس میں سخت مقابلہ ہے جبکہ اتراکھنڈ میں بسپا کنگ میکر بننے کی راہ پر ہے۔ سروے کے نتیجوں کے مطابق یوپی میں بسپا اب تک اندازاً 145 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آتی دکھائی دے رہی ہے۔ سپا 138 سیٹوں اور کانگریس 48 سیٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر اپنی جگہ پکی کررہی ہے۔ بھاجپا کو اب تک 41 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے۔
بھاجپا کو چوتھے مقام پر چھوڑ کر کانگریس کنگ میکر ہونے کی طاقت ضرور حاصل کرتی نظر آرہی ہے۔ پردیش کا سورن کانگریس اور بھاجپا کے ساتھ کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ کشواہا معاملے سے بھاجپا کو نقصان ہوتا نظر آرہا ہے اور اس کافائدہ اٹھانے میں کانگریس کافی دلچسپی سے کام کررہی ہے۔مسلم یا تو سپا کے ساتھ ہیں اور جہاں سپا کمزور ہے وہاں وہ کانگریس کے ساتھ ۔ مورتی معاملے سے بسپا کے دلت ووٹر متحد ہوئے ہیں۔ اتراکھنڈ میں پارٹی کی لڑائی کے چلتے کانگریس نے اپنی ابتدائی بڑھت کھو دی ہے۔ یوپی کے برعکس یہاں کانگریس کا کھیل خراب کر بسپا کنگ میکر بنتی جارہی ہے۔وزیراعلی بی ۔ سی کھنڈوری کی اچھی ساکھ کا فائدہ بھاجپا کو ہوتا دکھائی پڑ رہا ہے لیکن وہ پارٹی کو اکثریت کے اعدادو شمار تک شاید ہی لے جا پائے۔ کل ملاکر دلچسپ صورتحال بنی ہوئی ہے۔ دیکھیں یوپی میں سوشل انجینئرنگ کتنی کارگر ثابت ہوتی ہے یا کسی پارٹی کا ذات تجزیہ فٹ بیٹھتا ہے۔
Anil Narendra, BC Khanduri, Daily Pratap, Mayawati, State Elections, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Vir Arjun

15 جنوری 2012

یوپی چناؤ میں نریندر مودی و نتیش کمار آمنے سامنے


Published On 15th January 2012
انل نریندر
یوپی کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس ، بھاجپا، سپا و بسپا کے اہم کمپینر کون کون ہوں گے۔ لوگوں کی اس کو لیکر دلچسپی بنی ہوئی ہے۔ خاص طور سے اترپردیش میں۔ مشن 2012ء فتح پر دیو بھومی اتراکھنڈ و یوپی میں کانگریس کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی۔ امیدواروں کے نام کے اعلان کے ساتھ پارٹی اب چناؤ مہم کیلئے اشتہار کمپینروں کی فہرست بنانے میں لگ گئی ہے۔ ظاہرہے محترمہ سونیا گاندھی ، راہل گاندھی خاص کشش کا مرکز ہوں گے۔ مسلم ووٹروں کو رجھانے کیلئے سلمان خورشید دگوجے سنگھ، راشد علوی، رشید مسعود کا استعمال ہوسکتا ہے۔ پتہ نہیں وزیر اعظم بھی جائیں گے یا نہیں؟ اس کے علاوہ دہلی ۔
راجستھان کے وزرائے اعلی کا بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ ہریانہ کے وزیر اعلی بھی چناؤ مہم میں شامل ہوسکتے ہیں۔ نوجوانوں کو راغب کرنے کیلئے راہل کے ساتھ سچن پائلٹ، جوتر ادتیہ سندھیہ، جتن پرساد بھی عوام سے خطاب کرسکتے ہیں۔ جہاں تک بھاجپا کا سوال ہے پارٹی صدر نتن گڈکری،ایل کے اڈوانی، سشما سوراج،ارون جیٹلی اہم کمپینر ہوسکتے ہیں۔ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی پر بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ وہ یوپی میں ضرور چناؤ پرچار کے لئے آئیں گے۔ نتیش کمار اور نریندر مودی سیاست میں ایک دوسرے سے نظریں ملانے سے بھی پرہیز کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ اترپردیش میں دونوں آمنے سامنے ہوں گے۔
بھاجپا کے ذریعے وقاری سیٹیں نہ دئے جانے کے سبب پہلے نتیش نے اترپردیش سے الگ رہنے کا فیصلہ لیا تھا۔ اب جبکہ ان کی پارٹی (جنتا دل یو) سبھی403 سیٹوں پر تنہا لڑنے کی کوشش کررہی ہے تو چناؤ مہم کے لئے ان کا یوپی آنا طے مانا جارہا ہے۔ ادھر بھاجپا نے نریندر مودی کو اپنے سٹار کمپینر کے طور پر پیش کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔بہار اسمبلی چناؤں میں بھاجپا نے وزیر اعلی نتیش کمار کی شرط کو قبول کرلیا تھا اور چناؤ مہم چلانے کیلئے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو بہار نہیں آنے دیا تھا۔ مودی کی ساکھ کٹر پسند ہندو لیڈر کی رہی ہے اس وجہ سے نتیش ان سے پرہیز کرتے ہیں۔ نتیش کو اقلیتوں کی بھاری حمایت ملتی رہی ہے اور وہ کسی قیمت پر اس مینڈیڈ کو کھونا نہیں چاہتے۔
ماضی میں بھی این ڈی اے کے وزراء اعلی کی کانفرنس میں نتیش اور مودی آمنے سامنے ایک اسٹیج پرتھے۔ دونوں لیڈروں کے ساتھ والی تصویر سے سیاست میں طوفان کھڑا ہوگیا تھا۔ بھاجپا کی قومی ایگزیکٹوکمیٹی کی میٹنگ کے دوران اس تصویر کے چھپنے پر نتیش اتنے ناراض ہوگئے کہ انہوں نے بھاجپا کی ریلی میں شرکت کرنے سے منع کردیا۔ یہ ہی نہیں نتیش نے گجرات سرکار کے دئے پانچ کروڑ بھی واپس لوٹا دئے جو سیلاب راحت کے لئے مودی نے بھیجے تھے۔ حالانکہ اب بھی بہار میں دونوں پارٹیوں کا اتحاد قائم ہے۔ ان دونوں سیاستداں حریفوں کے درمیان ایک چناؤ میں آمنے سامنے دیکھیں کیا حالات بنتے ہیں؟ سماجوادی پارٹی کے اسٹار کمپینرملائم سنگھ یادو ان کے بیٹے اکھیلیش یادو اور اعظم خاں اہم ہوں گے۔ بسپا میں تو ایک ہی اسٹار کمپینر ہیں بہن جی۔ مایاوتی اکیلے اپنے ہی دم خم پر پارٹی کو جتانے کی کوشش کریں گی۔ یوپی میں ان بڑی پارٹیوں کے علاوہ درجنوں چھوٹی پارٹیاں بھی چناؤ میدان میں ہیں۔ وہ سب ہی اپنی تال ٹھوکیں گی۔ کل ملا کر دلچسپ ہوگا ان سٹار کمپینروں کے آپس میں بھڑنے کا نظارہ۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Elections, Narender Modi, Nitish Kumar, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

14 جنوری 2012

دگوجے جیسے دوست ہوں تو کانگریس کو دشمنوں کی ضرورت نہیں


Published On 14th January 2012
انل نریندر
اپنے متنازعہ بیانات کے لئے مشہور کانگریس لیڈر دگوجے سنگھ نے ایک بار پھر ایسا بیان دے دیا ہے جس سے ان کی اپنی پارٹی اور حکومت ہی کٹہرے میں کھڑی ہوگئی ہے۔ اترپردیش چناؤ میں مسلم ووٹوں کے پولارائزیشن کی کانگریسی جدوجہد میں آخرکار جنوبی دہلی کا بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کا جن بوتل سے باہر نکل ہی آیا ہے۔ دگوجے سنگھ کا پروجیکٹ اعظم گڑھ بدھوار کو اس وقت خلاف ہوگیا جب مسلم لڑکوں کی زبردست مخالفت کے بعد انہیں بغیر ریلی کئے وہاں سے بھاگنا پڑا۔ اس واقعے سے پریشان دگوجے سنگھ نے کہا کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر فرضی تھا لیکن وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کا خیال ہے کہ انکاؤنٹر صحیح تھا اس وجہ سے ہم نے اس بات کو آگے نہیں بڑھایا۔ دگوجے سنگھ نے یہ بھی بیان اسی اعظم گڑھ میں دیا جو اس انکاؤنٹرکے بعد آتنکی نرسری کی شکل میں دکھایاجانے لگاتھا اس دورے میں مسلم ووٹوں کے پولارائزیشن کی کوشش کررہی کانگریس کے اسٹار کمپینر راہل گاندھی کو اعظم گڑھ کے شبلی کالج سے بغیر ریلی کے واپس جانا پڑا۔ علماء کونسل کے ورکروں نے سال2008ء میں دہلی میں ہوئے بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑ کانڈ کی جانچ کی مانگ کرتے ہوئے شبلی کالج کے دروازے پر نعرے بازی کی اور راہل گاندھی کا پتلا تک جلایا۔ راہل شبلی کالج کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ کونسل کے صدر عامرارشادی نے اس بارے میں بتایا کہ انہوں نے راہل کو پہلے ہی آگاہ کیا تھا کہ اگر راہل بٹلہ ہاؤس کی جانچ ہوئے بغیر اعظم گڑھ آئے تو انہیں شہر میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔دگوجے سنگھ نے پھر دوہرایا کہ میں مانتا ہوں بٹلہ ہاؤس مڈبھیڑ فرضی تھی لیکن پردھان منتری و وزیر داخلہ اسے جائز مانتے ہیں اس لئے ہمیں اپنی جانچ کی مانگ کو چھوڑنا پڑا۔
سیدھے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو کٹہرے میں کھڑا کر اترپردیش میں بھلے ہی دگوجے سنگھ نے اپنے جائزے محسوس کرلئے ہوں لیکن مرکز میں کانگریس اس سے تھوڑا ضرور بے چین ہوگی۔ وہیں مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید نے اقلیتی ریزرویشن کو دوگنا کرنے کا اعلان کر خود کو اور حکومت دونوں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ اعظم گڑھ میں مسلمانوں نے دگوجے سنگھ کی اس صفائی کوکتنا سچ مانا یہ تو نہیں پتہ لیکن انہوں نے اپنی ہی سرکار کے دونوں بڑے لیڈروں کو ضرور کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ یوپی چناؤ کے چلتے مسلمانوں کو خوش کرنے کیلئے دگوجے سنگھ نے منموہن سنگھ اور پی چدمبرم کو کیوں نشانہ بنایا؟ اس پر کانگریس نے کچھ بھی بولنے سے منع کردیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ کانگریس پہلے ہی اس مڈ بھیڑ پر اپنی رائے دے چکی ہے۔ نئے معاملے پر اسے کچھ نہیں کہنا۔ دراصل کانگریس پارٹی دگوجے سنگھ کے اس بیان سے بری طرح پھنس گئی ہے۔ ادھر کنواں تو ادھر کھائی۔ نہ تو وہ دگوجے سنگھ کی مخالف کرسکتی ہے کیونکہ ان کے سر پر راہل گاندھی کا ہاتھ ہے اور نہ ہی اپنے منموہن سنگھ ، چدمبرم جیسے سینئر لیڈروں کی مخالفت میں جاسکتی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے وزیر قانون سلمان خورشید کا بیان بھی تنازعات میں گھر گیا ہے۔ انہیں چناؤ کمیشن کا نوٹس بھی مل گیا ہے لیکن سیاسی نقصان یہی ہے کہ پسماندہ طبقات پر داؤ لگا رہی کانگریس کے خلاف یہ بات جاسکتی ہے کیونکہ اگر اقلیتوں کا ریزرویشن کوٹہ دوگنا ہوتا ہے تو اس سے پسماندہ طبقے کا حق مارا جائے گا لہٰذا پارٹی کے لئے ان کا بیان بھی گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔
Anil Narendra, Batla House Encounter, Daily Pratap, Digvijay Singh, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...