Translater

10 دسمبر 2016

تو کہاں گیا کالا دھن

دیش کے سینٹرل بینک ریزرو بینک آف انڈیا نے کہا ہے کہ دیش میں 14.5 لاکھ کروڑ کے 500 اور 1000 کے پرانے نوٹ میں سے12 لاکھ کروڑ روپے بینکنگ سسٹم میں آچکے ہیں اور امید کی جارہی ہے 30 دسمبر تک کی میعاد میں باقی رقم بھی بینکوں میں جمع ہوجائے گی۔ ویسے تو 31 مارچ 2017ء تک ریزرو بینک میں پرانی کرنسی جمع ہوسکتی ہے۔ ریزرو بینک کے اس بیان کے بعد یہ سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ جب ساری رقم بینک میں جمع ہوجائے گی تو کالا دھن کہاں چلا گیا اور کالے دھن کو باہر لانے کے لئے کی گئی نوٹ بندی کا خمیازہ بھارت کے عوام و غریب جنتا کو بلا وجہ ہی بھگتنا پڑا؟ اپنا دوسرا کرنسی جائزہ پیش کرتے ہوئے ریزرو بینک کے گورنر ارجت پٹیل نے کہا کہ پرانے نوٹ 14.5 لاکھ کروڑ روپے کے نوٹوں میں سے 12 لاکھ کروڑ روپے واپس بینکنگ سسٹم میں لوٹ آئے ہیں اور باقی جلد جمع ہوجائیں گے۔ ارجت پٹیل نے ان سوالوں کو اپنی پریس کانفرنس میں ٹال دیا جن میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ بند کئے گئے سارے نوٹ تقریباً بینکوں میں واپس آچکے ہیں تو کیا اب اس کا مطلب ہے کہ معیشت میں کالا دھن نہیں ہے؟ بدھوار کو کرنسی جائزہ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد میڈیا کو خطاب کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوٹ بندی سے درمیانے اور طویل المدت نتیجے اچھے آئیں گے جبکہ قلیل المدت کے لئے پریشانی ہورہی ہے۔ پٹیل نے کہا کہ اس سے معیشت میں کافی شفافیت آئے گی اور ٹیکس بڑھے گا۔ نقلی نوٹ بننا مشکل ہوجائے گا کیونکہ نئے فیچرس جوڑے گئے ہیں اور معیشت کا ڈیجیٹلائزیشن ہوگا۔ یہ پوچھے جانے پر کیا نوٹ بندی سے پہلے اس کے فائدے اور اس پر آنے والے خرچ کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اگر بند کئے گئے سارے پرانے نوٹ بینک سسٹم میں واپس جمع ہوگئے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دیش میں کالے دھن کا اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آر بی آئی گورنر نے سوال کے دوسرے حصے کا جواب دینا پسند نہیں کیا۔ آر بی آئی گورنر ارجت پٹیل اور ڈپٹی گورنر آر گاندھی سے سوال جواب کی تفصیل کچھ اس طرح رہی۔ نوٹ بندی کے بعد اب تک بینکوں میں لوگوں کا کتنا پیسہ آچکا ہے؟ نوٹ بندی سے 14.5 لاکھ کروڑ روپے کے نوٹ چلن سے باہر کئے گئے تھے۔ اب تقریباً82 فیصد یعنی 11.85 لاکھ کروڑ روپے بینکوں میں جمع ہوچکے ہیں۔ 82 فیصدی رقم بینکوں میں آچکی ہے۔ جمع کرانے کے ابھی23 دن باقی ہیں ۔تو کیا سسٹم میں کالا دھن نہیں تھا؟ ارجت پٹیل سوال ٹال گئے اور کہا نوٹ بندی سے لانگ ٹرن فائدہ ہوگا۔ اور بازار میں کتنی کرنسی آئی ہے؟ 4 لاکھ کروڑ کے نئے نوٹ جاری ہوچکے ہیں۔ نئے نوٹ تیزی سے چھاپے جارہے ہیں۔ تو کیا نوٹ بندی جلد بازی میں ہوئی؟ نہیں یہ فیصلہ جلدی میں نہیں لیا گیا۔ عام لوگوں کو ہونے والی دقتوں پر بھی سرکار سے تبادلہ خیال ہوا تھا؟عام لوگ ہمارے راڈار میں سب سے اوپر تھے۔ نوٹ جمع کرنے کی تاریخ بڑھے گی؟ فی الحال 30 دسمبر ہے ،وقت کے ساتھ اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ اترپردیش میں حکمراں پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو نے دعوی کیا کہ 500-1000 روپے کے پرانے نوٹ بند کئے جانے سے کالے دھن والوں پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے مگر چھوٹے تاجر ، کسان اور غریبوں کو اس سے پریشانی ضرور ہوئی ہے۔ اس فیصلے کے چلتے دیش میں 105 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ ایسے قدموں سے کالا دھن باہر نہیں آتا۔ دیش میں کل 100 کنبوں کے پاس ہی کالا دھن ہے۔ وزیر اعظم کو بتانا چاہئے کہ ان کے دوستوں کے پاس کتنا کالا دھن ہے جن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہورہی ہے اور نہ ہی نوٹ بندی سے وہ متاثر ہیں۔ نوٹ بندی سے کالا دھن باہرآئے گا یہ اسکیم ہی غلط ہے۔ نوٹ بندی کے فیصلے کی حمایت کرنے والوں نے دعوی کیا تھا کہ اس سے کالے دھن پر شکنجہ کسے گا اور بڑی مقدار میں کالا دھن لوگوں کے پاس سے نکل جائے گا یا سرکار ضبط کر لے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ دیش کا سب سے بڑا کالا دھن صنعت کاروں کے پاس ہے جنہوں نے اسے بیرونی ممالک میں لگایا ہوا ہے۔ افسروں اور نیتاؤں میں کالا دھن بے نامی پراپرٹیوں میں لگایا ہوا ہے۔ نوٹ بندی سے تو بہتر ہوتا کہ سرکار بے نامی پراپرٹی پر پہلے ہاتھ ڈالتی اگر وہ صحیح میں کالا دھن نکالنا چاہتی تھی۔لہٰذا نوٹ بندی سے دیش کے اندر زیادہ کالا دھن نہیں مل سکے گا اور نوٹ بندی کی یہ اسکیم اس نظریئے سے فیل ہے۔
(انل نریندر)

جے للتا کی املاک اور سیاسی جانشین کون ہوگا

تاملناڈو کی سورگیہ نیتا و وزیر اعلی جے للتا کی املاک کے مالکانہ حق کو لیکر قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ سوال اٹھنے لگے ہیں جے للتا کی وراثت کا وارث کون ہوگا؟ جانکاری کے مطابق جے للتا کے پاس 21.28 کلو سونا( ریاستی حکومت کے قبضے میں) اور 1250 کلو چاندی تھی۔ اس کے علاوہ ان کے پاس 2 ٹوئیٹا پراڈو ایس یو بی، ایمبسڈر کارڈ، مہندرا بولیرو اور کچھ دیگر گاڑیاں بھی تھیں۔ جے للتا کے گھر سے پولیس کو کچھ سال پہلے مارے گئے چھاپے میں 800 کلو چاندی ،28 کلو سونا ،750 جوڑی جوتے، 10500 ساڑیاں، 91 گھڑیاں اور 41 ایئر کنڈیشنر ملے تھے۔ جے للتا کا ہندوستانی سیاست میں اپنا قد ضرور تھا اس کا علم پہلے بھی تھا اور ان کی موت کے بعد بھی صاف ہوگیا لیکن اس طاقتور لیڈر کا سیاسی سفر کرپشن کے دھبے سے داغدار رہا۔ بھاجپا نیتا ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے 1966ء میں آمدنی سے زیادہ وسائل سے املاک کو لیکر جے للتا کے خلاف مورچہ کھولا تو اس وقت کی ڈی ایم کے سرکار نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی تھی۔ جے للتا پر پانچ سال کے اندر 66 کروڑ کی ناجائز پراپرٹی بنانے کے سنگین الزام لگے تھے اور معاملہ نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔ جے للتا اور ان کے قریبیوں پر 1991ء سے 1996 کے درمیان 32 کمپنیاں بنانے کا الزام بھی لگا۔ عدالت میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ جے للتا کے 36 پوز گارڈن میں واقع مکان پر 12 گاڑیاں استعمال ہوتی تھیں جن کی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے 6 ڈرائیور موجود رہتے تھے۔
کرناٹک کے سرکاری وکیل اور سینئر اٹارنی بی وی اچاریہ حال تک انہیں بری کرنے کے فیصلے کے خلاف مورچہ لے رہے تھے۔ اچاریہ نے سپریم کورٹ میں سوال اٹھایا تھا کہ سال1991 سے 1996 کے درمیان 27 مہینے تک وہ ہر ماہ 1 روپیہ تنخواہ لے رہی تھیں ایسے میں ان کے پاس کروڑوں روپے کہاں سے آگئے؟ 2 ستمبر 2014ء میں نچلی عدالت میں جے للتا، ششی کلا اور الا وارثی اور سدھاکرن کو قصوروار پایا تھا۔ سزا کاٹنے کیلئے چاروں کو بنگلورو کے پرپننا اگرہ جیل بھیج دیاگیا تھا۔حالانکہ جیل پہنچنے کے 20 دن بعد ہی انہیں سپریم کورٹ سے ضمانت مل گئی اور مئی2015ء میں کرناٹک ہائی کورٹ نے انہیں کرپشن کے سبھی الزامات سے بری کردیا اور وہ ایک بار پھر وزیر اعلی کے عہدے پر لوٹ آئیں۔ جے للتا کا جانشین کون ہوگا؟ واقف کاروں کا کہنا ہے دیر سویر پارٹی کی کمان جے للتا کی قریبی ششی کلا نٹراجن کے ہاتھوں میں جاسکتی ہے۔ پچھلے20 سال سے بھی زیادہ وقت تک جے للتا کے ساتھ ہمیشہ سائے کی طرح رہیں ششی کلا اماں کی موت کے بعد بھی ساتھ کھڑی دکھائی دیں۔ یہ سبھی کو اشارہ ہے کہ جے للتا کی املاک اور سیاسی وراثت ششی کلا کو ہی جائے گی؟
(انل نریندر)

09 دسمبر 2016

نوٹ بندی کے 30 دن بعد ۔۔۔؟

نوٹ بندی کو ایک مہینہ ہوگیا ہے۔ نئے نوٹوں کی قلت میں رتی بھر بھی بہتری نہیں آئی ہے۔ 8 نومبر کو وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ جنتا 54 دن کے لئے میرا ساتھ دے۔ لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ان 54 دنوں میں سے30 دن گزرنے کے بعد بھی کرنسی کی قلت کم نہیں ہوئی ہے۔ بینک کھاتوں میں سیلری و بزرگوں کی پنشن آئے 8 دن ہوچکے ہیں لیکن لوگوں کوگھنٹوں لائنوں میں لگ کر بیرنگ لوٹنا پڑرہا ہے۔ بینکوں کو آر بی آئی کے ذریعے بیحد کم نقدی دی جارہی ہے۔ اگرچہ 100 لوگوں کو بھی آر بی آئی کے قواعد و ہدایت کے مطابق 24 ہزار روپے نکالنے دیا جاتا ہے تو برانچ کی نقدی کچھ گھنٹوں میں ہی ختم ہوجاتی ہے۔ بینک کھلنے سے پہلے ہی اس سردی میں لوگوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ اے ٹی ایم کا بھی برا حال ہے۔ اکا دکا اے ٹی ایم چلتے ہیں اور گھنٹوں لوگوں کا قیمتی ٹائم برباد ہورہا ہے۔ ایک پرائیویٹ بینک کے سینئر افسر نے مجھے بتایا کہ نئی کرنسی اس تناسب میں نہیں چھپ رہی ہے جتنی اس کی مانگ ہے۔ ریزرو بینک کے گورنر ارجت پٹیل نے دعوی کیا تھا کہ ریزرو بینک اس بات کا خیال رکھ رہا ہے کہ نوٹ پرنٹنگ پریس اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کریں تاکہ نئے نوٹوں کی مانگ پوری کی جاسکے۔ یہ وعدہ انہوں نے پچھلے ہفتے ایک انٹرویو میں کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ بینک اور اے ٹی ایم کے باہر قطاریں کم ہوتی نظر آرہی ہیں لیکن آل انڈیا بینک امپلائز ایسوسی ایشن کے سکریٹری جنرل سی ایم وینکٹ چلم ان دعوؤں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریزرو بینک سے نوٹوں کی سپلائی بہت کم ہے اور مانگ بہت زیادہ ہے۔ صرف 20-25 فیصدی مانگ ہی پوری ہورہی ہے۔ریزرو بینک اور سرکار کا یہ دعوی غلط ہے کہ ان کے پاس کیش کی کمی نہیں ہے۔ کیش کی کمی کے سبب گراہکوں اور کرمچاریوں کو کافی دقتیں آرہی ہیں۔ بدھوار کو تو ٹی وی پر دکھا رہے تھے کہ پنجاب میں تو وردی پہنے پولیس اپنی تنخواہ لینے کیلئے بینکوں، اے ٹی ایم کے باہر لائن میں کھڑے ہیں۔ اگر پولیس والوں کو بھی لائن میں لگنا پڑے گا تو قانون و نظام کون سنبھالے گا؟ بینکوں میں گراہکوں اور ملازمین میں جھڑپیں ہونے لگی ہیں۔وینکٹ چلم کا کہنا ہے کہ نوٹوں کی سپلائی کی شفافیت بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ صورتحال نہیں سدھری تو بینک یونین 10 دنوں کے بعد ہڑتال پر جانے پر غور کرسکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ زیادہ تر اے ٹی ایم ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئے ہیں اس لئے لوگوں کو بہت تکلیف ہورہی ہے۔ بینکوں کا کام لوگوں کو کیش دینا ہے جو نہیں دے پارہے ہیں۔ یہ بہت شرم کی بات ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریزرو بینک آف انڈیا ، سرکار اور آر بی آئی کو لکھے ان کے خطوط پر دوسری طرف سے کوئی رد عمل نہیں آیا ہے۔ نوٹ بندی کے سبب کیش بحران کا اثر ابھی پوری طرح سے عام آدمی کی زندگی میں دکھائی دے رہا ہے۔ مہینے کی 7 تاریخ تک بھی دیش کی زیادہ تر فیکٹریوں میں ورکروں کو سیلری نہیں دی جاسکی ہے۔ فیکٹری مالک اپنے ورکروں کو صرف چیک کے ذریعے پیمنٹ کررہے ہیں لیکن جن ورکروں کے بینک اکاؤنٹ نہیں ہیں انہیں سیلری نہیں مل پائی ہے۔ سب سے بری حالت بہار، یوپی، مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں ہے۔ ایکسپورٹ انجمن کے مطابق اس سے ایکسپورٹ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ سیلری وقت سے نہ ملنے کے سبب ورکر نوکری چھوڑ کر جارہے ہیں۔ ورکروں کے نوکری چھوڑنے سے فیکٹریاں بند ہورہی ہیں اور اس سے پیداوار بری طرح سے متاثر ہورہی ہے۔ کچھ فیکٹری مالک تو ہفتے میں ایک دن فیکٹری چلانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ نوٹ بندی کا اب تو اثر باہری ملکوں میں بھی دکھائی دینا شروع ہوگیا ہے۔ روس نے بھارت میں نوٹ بندی کو لیکر سیاسی سطح پر سختی پر احتجاج جتاتے ہوئے بدلے کی کارروائی کرنے تک کی وارننگ دے دی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے دہلی میں اس کے سفارتکاروں کو نقدی کی قلت کا سامنا کر نا پڑرہا ہے۔ دہلی میں واقع روسی سفارتخانے میں قریب200 لوگ کام کرتے ہیں۔ روسی حکومت سے وابستہ ذرائع نے نوٹ بندی کے بعد سے سفارتخانے کے ذریعے ہفتے بھر میں زیادہ تر 50 ہزار روپے نکالنے کی میعاد طے کئے جانے کو بین الاقوامی چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ذرائع نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ اس کے سفیر الیگزینڈر کلاکن نے 2 دسمبر کو ہندوستانی وزارت خارجہ کو خط لکھا تھا۔اس پر جواب کا انتظار کررہے ہیں۔ روسی حکومت نوٹ بندی پر احتجاج جتانے کے لئے ہندوستانی سفیر کو طلب بھی کر سکتی ہے۔ کلاکن نے اپنے خط میں لکھا کہ سرکار کے ذریعے طے کردہ یہ حد سفارتخانہ چلانے کے اخراجات کے لئے پوری طرح ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیسے تو ایک ٹھیک ٹھیک ڈنر کا بل چکانے کے لئے بھی کافی نہیں ہیں۔ وزارت خارجہ نے روس حکومت کے اس اعتراض پر افسران سے کوئی تبصرہ نہیں کی ہے۔نوٹ بندی کے اشو پر وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے اتراکھنڈ کے وزیر اعلی ہریش راوت نے کہا کہ ان کی طرف سے ایسے دو تین فتوے اور آجائیں تو 2019ء کے لوک سبھا چناؤ کے بعد راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس مرکز میں اقتدار میں ہوگی۔
(انل نریندر)

’’ونس اگین سنگھ از کنگ‘‘

’’سنگھ از کنگ ونس اگین‘‘ جسٹس جگدیش سنگھ کھیر بھارت کے اگلے چیف جسٹس ہوں گے۔ سپریم کورٹ کے 44 ویں چیف جسٹس کے طور پر وہ اگلے سال 4 جنوری کو حلف لیں گے۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے منگل کو خط لکھ کر اپنے جانشیں کے طور پر جسٹس کھیر کے نام کی سفارش کردی ہے۔ جسٹس کھیر سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج ہیں۔ جسٹس ٹھاکر کی میعاد 3 جنوری 2017ء تک ہے۔ 64 سال کے جسٹس کھیر دیش کا چیف جسٹس بننے والے ملک کے پہلے سکھ ہوں گے۔ ان کی میعاد قریب 7 مہینے (27 اگست 2017 تک) ہوگی۔ جسٹس کھیر ایک انتہائی اہم ترین سیاسی دور میں یہ عہدہ سنبھالیں گے۔ کنٹروورشیل نیشنل جوڈیشیل کمیشن ایکٹ سے وابستہ معاملے کی سماعت جسٹس کھیر کی سربراہی والی پانچ نفری آئینی بنچ نے کی تھی۔ یہ ایکٹ سپریم کورٹ نے خارج کردیا تھا۔ جسٹس کھیر سرکارکے خلاف فیصلہ سنانے سے کتراتے نہیں ہیں۔ اروناچل پردیش میں اس سال جنوری میں صدر راج لگانے کا فیصلہ منسوخ کرنے والی سپریم کورٹ کی بنچ کے چیئرمین بھی جسٹس کھیر ہی تھے۔ سہارا چیف سبرت رائے کو جیل بھیجنے والی بنچ کا بھی وہ حصہ تھے۔ انہوں نے سینئر عدالت کی اس بنچ کی بھی سربراہی کی تھی جس میں حال ہی میں یکساں کام کیلئے یکساں تنخواہ کے اصول کا اہم ترین فیصلہ سنایا تھا۔ یہ فیصلہ ان سبھی یومیہ اجرت پانے والوں اور عارضی اور ٹھیکے پر ملازمین پر لاگوہوگا جو ریگولر ملازمین کی طرح کام کا نپٹارہ کرتے ہیں۔سینئر عدالت کے جج صاحبان کی تقرری کو لیکر جب عدلیہ کے ساتھ ٹکراؤ کی صورتحال تھی تب 26 نومبر کو یوم آئین پر جسٹس کھیر نے اٹارنی جنرل مکل روہتکی کا یہ کہہ کر جواب دیا تھا کہ عدلیہ اپنی لکشمن ریکھا میں رہ کر ہی کام کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو سبھی اشخاص، شہریوں اور غیر شہریوں کو اقتدار کے امتیاز اور بیجا استعمال سے بچانے کا اختیار دیا گیا ہے۔ دیش میں عدلیہ کے سرگرم رول کے سبب ہی شہریوں کی آزادی اور برابری، وقار اتنا ڈولپ ہوسکا ہے۔ سنگ از کنگ۔ جسٹس کھیر کا خیر مقدم ہے۔
(انل نریندر)

08 دسمبر 2016

الوداع اماں،تمہاری کمی پر نہیں کی جاسکتی!

75 دنوں سے اسپتال میں زندگی کی آخری جنگ لڑتی تاملناڈو کی وزیر اعلی جے جے للتا آخر کارہار گئیں۔ پیر کی رات ان کی دیہانت ہوگیا۔ تین دہائی تک تاملناڈو کی سیاست کا ستارہ رہی جے للتا کے جانے کے ساتھ ہی ایک دور کا خاتمہ بھی ہوگیا۔ برہمن پریوار میں پیدا ہوئیں جے للتا اس ریاست کی سیاست کی بڑی طاقتور بن کر ابھری تھیں، جہاں آزادی سے بھی پہلے برہمن مخالف تحریک شروع ہوئی تھی۔ جے للتا نے ہمیشہ اپنی شرائط پر زندگی گزاری اور اپنی شرطوں پر سیاست کی اور اپنیوصیت پر ہی انہیں دفنایا گیا۔ساری عمر انہوں نے دراوڑ سیاست کی تھی اور براہمن واد کی مخالفت کی تھی۔ ذات سے برہمن جے للتا کا ہندو ریتی رواج سے دہا سنسکار نہیں کیا گیا بلکہ انہیں دفنانے کی دو وجہ بتائی جاتی ہیں پہلی انہوں نے دراوڑوں کی سیاست کی جنہیں ناستک مانا جاتا ہے۔ پریر ،انا دورے ، ایم جی آر سمیت سبھی بڑے دراوڑ نیتاؤں کو بھی دفنایا گیا۔ جے للتا کے آخری درشن کرنے کیلئے جس طرح لاکھوں لوگ سڑکوں پر آگئے اس سے پتہ چلتا ہے کہ تاملناڈو کی جنتا میں ان کے لئے کتنا پیار اور احترام تھا۔ کیا شاندار انتم یاترا رہی۔ جے للتا کی اچانک موت نے تاملناڈو کی سیاست میں گہرا خلا پیدا کردیا ہے۔ ان کی مقبولیت اور خاص کر ساؤتھ انڈیا کی ریاستوں کی شخصی پوجا پر مبنی سیاست کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ نئے منتخب وزیر اعلی پنیرسیلوم کے لئے اس خلا کو پرکرنا آسان نہیں ہوگا۔جے للتا اپنی بات کو بہت موثر طریقے سے رکھنے والی اور مضبوط قوت ارادی کی سیاستداں تھیں۔ تامل سیاست کی سویکاریہ دھارا کے خلاف پانچ بار ریاست کی وزیراعلی بننا ان کے سخت اور پختہ عزم اورمزاج کا ثبوت ہے۔ ہندوستانی سیاست جے للتا کو بھلے ہی ایک سنکی اور پراسرار اور غصے والی سیاستداں کی شکل میں جانیں لیکن ان کو قریب سے جاننے والے مانیں گے کہ کنبہ جاتی نظراندازی اور مردوں کے برتاؤ نے ان کی ایک ایسی شخصیت بنا دی جس میں نہ صرف باہری آدمی کا داخلہ ممنوع تھا بلکہ قریبی لوگوں کیلئے بھی وہ نایاب اور نا قابل دید تھیں۔ ایک ٹیلنٹ یافتہ اور حساس مزاج لڑکی کو اداکارہ ماں کی مرضی سے زبردستی فلموں میں جانا پڑا تھا البتہ فلموں کے برعکس سیاست میں جیہ نے اپنی جگہ خود بنائی، بیشک اس میں ایم ۔ جی رام چندرن کا تعاون تھا لیکن جس انا ڈی ایم کے نے انہیں پیر جمانے میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کچھ برس بعد وہ پارٹی ہی ان کی علامت بن گئی، تو یہی ایک سیاستداں کی شکل میں جے للتا کے قد کے بارے میں بتانے کے لئے کافی تھا۔ وزیر اعلی بننے کے بعد انہوں نے غریبوں اور بے سہارا لوگوں کے لئے کئی فلاحی اسکیموں کی شروعات کی جس میں غریبوں کو مفت علاج کا انتظام تھا۔ اسی اسکیم کے چلتے انہیں ’اماں‘ کہا جانے لگا تھا۔ راشن کارڈ ہولڈروں کو 20 کلو چاول مفت دینے کی فلاحی اسکیموں کے لئے انہیں کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ تاملناڈو میں ان کے مقابلے کا کرشمہ کسی اور میں نہیں دیکھا گیا۔
(انل نریندر)

بھارت میں کتنی محفوظ ہے کیش لیس ڈیجیٹل ایکونامی

ایک طرف بھارت سرکار ڈیجیٹل انڈیا اور کیش لیس ایکونامی کی طرف قدم بڑھا رہی ہے جبکہ دوسری طرف سائبر سکیورٹی پر خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ بینکوں میں اکاؤنٹ ہیک ہورہے ہیں۔ کریڈٹ کارڈ کلون ہورہے ہیں۔ میں اپنی ہی آپ بیتی بتاتا ہوں۔ تقریباً تین برس پہلے آئی سی آئی سی آئی بینک میں میرے کھاتے (سیونگ) میں سے 40 ہزار روپے کسی انجانے شخص نے نکال لئے تھے۔ بنگلورو سے اس نے میرے اکاؤنٹ سے 5 ہزار روپے کی 8 بار ٹرانزیکشن کر یہ روپیہ اپنے کھاتے میں کرلیا۔ یہ کام بینک کی ملی بھگت سے ہوا ہوگا۔ میں نے مجبوراً ریکوری کا کیس کنزیومر کورٹ میں ڈال رکھا ہے جو ابھی بھی چل رہا ہے۔ مجھے یہ پیسے ابھی تک نہیں ملے۔ حال ہی میں کوٹک مہندر بینک کریڈٹ کارڈ کھاتے میں سے کسی نے 5 ہزار روپے نکال لئے۔ میں نے بینک کو بار بار درخواست کی لیکن اس نے ہاتھ کھڑے کردئے اور مجھے یہ پیسہ دینا پڑا۔ جب ہمارا سائبر سسٹم اتنا لچر ہو تو ڈیجیٹل انڈیا اور کیش لیس ایکونامی کتنی کامیاب ہوگی ،کہنا مشکل ہے۔ نوٹ بندی کے بعد نقدی لین دین کو بڑھاوا دینے کی سرکار کی کوششوں کے درمیان ماہرین کی وارننگ پر توجہ دینی ہوگی۔ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کو محض 6 سیکنڈ میں ہیک کیا جاسکتا ہے۔امریکی اکیڈمک میگزین آئی ای ای سکیورٹی اینڈ پرائیویسی نے ایک ریسرچ رپورٹ شائع کی ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آن لائن لین دین میں کس طرح سے آسانی سے دھوکہ دھڑی کی جاسکتی ہے۔ برطانیہ کے نیوک مل یونیورسٹی کی ٹیم نے ویزا اجراء سسٹم میں خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے پایا کہ کسی بھی کارڈ کے ذریعے سے گڑبڑی کرنے والوں کا نہ ہی نیٹ ورک اور نہ ہی بینک اس کا پتہ لگانے کے لئے اہل ہے۔ آٹومیٹک طور سے اور ارینجمنٹ کارڈ سکیورٹی ڈاٹا کی مختلف شکلوں سے ہیکروں کو ایک اشارہ ملتا ہے جس سے ایک سیکنڈ کے اندر وہ سبھی ضروری سکیورٹی ڈاٹا ویریفائی کرنے کے لئے اہل ہیں۔ لیپ ٹاپ اور انٹر نیٹ کنکشن کے ذریعے سے کارڈوں کے ڈاٹا کو ہیک کیا جاسکتا ہے۔ کارڈ نمبر و ایکسپائری ڈیٹ، سی وی وی کے بارے میں مختلف طرح سے جانکاری مانگی جارہی ہے۔ امریکہ کے سائبر سکیورٹی کمپنی فائر آئی نے دعوی کیا ہے کہ کچھ ٹھگوں نے بھارت کے 26 بینکوں کے کئی گراہکوں کی خفیہ معلومات اڑا لی ہیں۔ 2017ء سکیورٹی لین اسکیپ ایشیا پیسیفک کی اپنی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آنے والے برسوں میں بھارت دنیا میں فشنگ گاؤں ہے اور ہیکنگ کے معاملے میں سب سے زیادہ نشانے پر رہنے والا ہے۔ ظاہر ہے سائبر سکیورٹی کو مضبوط کرنا ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے لوگوں سے موبائل کو ہی اپنا ای بٹوا بنانے کی بات کہی ہے لیکن یہ بٹوا کتنا محفوظ ہے؟ اگر کوئی کسی کو ٹھگ بھی لیتا ہے تو پولیس ملزمان کو پکڑنے میں کتنی چوکس اور سہولیت سے لیس ہے یہ کہنا مشکل ہے۔
(انل نریندر)

07 دسمبر 2016

کیا کسی نے این آر آئی کا بھی سوچا ہے

بیشک حکومت اور ریزرو بینک دن رات نئی کرنسی کی سپلائی کرنے کے لئے زور لگا رہے ہیں لیکن 28 دن ہونے کے بعد بھی اے ٹی ایم اور بینکوں کے باہر لائنیں بند نہیں ہورہی ہیں۔ کل ہمارے ایک ملازم نے 24 ہزار روپے اپنے کھاتے سے نکلوائے۔ اسے 22 ہزار تو 2 ہزار کے نوٹوں کی شکل میں ملے باقی 2 ہزاراسے 10 کے سکوں کی تھیلیوں میں ملے۔ بینک بھی پریشان ہے وہ اکثر اپنے باہر لکھ کر لگا رہے ہیں بینک میں پیسہ نہیں ہے، بیکار لائن میں کھڑے نہ ہوں۔ ایک اور پریشانی دیکھنے کو مل رہی ہے لوگوں کو جو پیسے مل رہے ہیں وہ انہیں خرچ کرنے سے پرہیز کررہے ہیں۔ نوٹ بندی سے لوگوں کی حالت ہی بدل گئی ہے۔ سیلری ملی ہوگی لیکن جیب میں نوٹ نہیں ہوں گے۔ بھلے دھن پتی ہو، کھاتے میں پیسہ ہو مگر دماغ میں پریشانی ہے کہ نقدی ملے تو اسے بچا کر گھر میں محفوظ رکھیں۔ یکم نومبر بنام یکم دسمبرکا فرق یہ ہے کہ بھارت کے شہری سے آج غیر اعلانیہ طور پر یہ قانونی آئینی حق چھنا ہوا ہے کہ بینک کو اس کا پیسہ دینے کو مجبور نہیں کرسکتا۔ اپنے ہی پیسے پر اس کا آج حق نہیں ہے۔ وہ کینسر سے مر رہا ہو، شوگر کا مریض ہو، امراض قلب کا مریض ہو ،دمے سے متاثر ہو ،بینک اسے علاج کے لئے نقدی پیسہ نہیں دے گا اس لئے وہ کنجوسی سے اور ہوشیاری سے آئے پیسے کو خرچ کررہا ہے۔جن کالے دھن والے افسروں ، نیتاؤں ،کاروباریو ں، دلالوں کا پیسہ سفید ہوکر بینکوں میں جمع کروادیا ہے، جن کا پیسہ سفید ہوگیا ہے وہ یہ جلدی نہیں کریں گے کہ پیسہ مستقبل قریب میں باہر نکلے یا تو وہ اسے بینک میں رکھیں گے یا پھر اس کے بدلے جتنی 2 ہزار روپے کی نئی گڈیاں لی ہیں وہ تہہ خانے میں یا محفوظ مقام پر رکھوا دیں گے۔ دوسرے الفاظ میں بینکوں میں جمع ہوا کالہ دھن ہو یا پرانے کے بدلے نئے نوٹ لیکر محفوظ بنا لیا پیسہ ہو، سب 6-8 مہینے خریداری کے لئے باہر نہیں نکلے گا۔ دہلی کے ایک سرکاری بینک کے اعلی افسر نے بتایا کہ ان کی برانچ میں کسی دن 5 لوگ بھی 10-20 اور 50 اور 100 روپے کے پرانے نوٹ یا 500-2000 کے نئے نوٹ جمع کرانے نہیں پہنچ رہے ہیں۔ دوسری طرف 500-1000 کے پرانے نوٹ جمع کرنے والوں کی مارا ماری ہے۔ رائج نوٹ واپس بینکوں کے پاس نہ آنے کے سبب گراہوں کو نقدی اختیار کرنا چیلنج بھرا ثابت ہورہا ہے۔ نوٹ بندی سے دیش میں تو عام جنتا متاثر ہوئی ہے لیکن بیرونی ممالک میں ا س کا گہرا اثر پڑا ہے۔ شاید ہی سرکار نے این آر آئی کا خیال کیا ہوگا۔ این آر آئی کہیں کہ بھی ہوں امریکہ، انگلینڈ، آسٹریلیا، دوبئی وبھارت آتے جاتے رہتے ہیں اور ہر پریوار کچھ انڈین کرنسی ضرور رکھتا ہے ۔ دہلی، ممبئی، چنئی یا کولکتہ کہیں بھی ایئرپورٹ پر اترتے ہیں نوٹ نہ بدلوانے پڑیں یہ سوچتے ہوئے بہتوں کے پاس 1000-500 کے پرانے نوٹوں کی گڈیاں 2لاکھ ،5 لاکھ کرنسی ہے۔ یہ سب نوٹ ڈالر دے کر خریدے گئی انڈین کرنسی ہے لیکن بیرونی ممالک میں کہیں بھی انڈین بینکوں میں رہ گئے نوٹ جمع نہیں ہو رہے ہیں۔ اب یہ لوگ شکوہ کررہے ہیں کہ دیش کے لئے ہم نے کیا کچھ نہیں کیا۔ہمیں اس کا یہ صلہ مل رہا ہے؟ تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ امریکہ، کنیڈا، انگلینڈ میں لاکھ لاکھ ، دو لاکھ روپے کی ہندوستانی کرنسی لئے لوگ کالے دھن والے قطعی نہیں ہیں۔ بہرحال امریکہ ، برطانیہ، کینیڈا کے این آر آئی کے مسئلے کو ایک منٹ کے لئے بھول جائیں لیکن پاس کے ملکوں کو لے کر بھی غور نہیں ہوا۔ 8 نومبر کو وزیر اعظم نے نوٹ بندی کا جو اعلان کیا اس میں نیپال، بھوٹان میں بھارت کی کرنسی کے 500-1000کے نوٹوں کا کیا ہوگا؟ خیال رہے کہ دونوں ملکوں میں بھارت کی کرنسی کا برابری سے جائز چلن ہے پھر بھی سیاحوں کا کیا ہوگا؟ میرے ایک واقف کار حال ہی میں (نوٹ بندی سے پہلے) دہلی آئے تھے انہوں نے بھارت دورہ کے دوران 40 ہزار روپے کے نوٹ ڈالر دے کر بدلے تھے۔ اس دوران نوٹ بندی کا اعلان ہوگیا۔ جب وہ واپس گئے تو ایئرپورٹ پر ان کے کل 5 ہزار روپے کے نوٹ ڈالروں میں بدلے گئے۔ مجبوراً انہیں اپنے باقی روپے یہیں چھوڑنے پڑے۔ اس کا سیاحت پر کیا اثر ہوگا یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
(انل نریندر)

ہزاروں کروڑ کا خلاصہ کرنے والے

محکمہ انکم ٹیکس نے ستمبر میں ختم آمدنی انکشاف یوجنا کے تحت ممبئی کے ایک خاندان کے 2 لاکھ کروڑ روپے اور احمد آباد کے تاجر کے کنٹروورشیل طریقے سے 13860 کروڑ روپے کے اعلان کو خارج کردیا ہے۔ اس درمیان سرکار نے آئی ڈی ایس کے تحت ایک مہینے کی میعاد پر اعلان کردہ کالہ دھن کو ترمیم کر 67382 کروڑ روپے کردیا ہے۔ پہلے اس کے 65250 کروڑ روپے ہونے کی بات کہی گئی تھی۔ 13860کروڑ روپے کے کالے دھن کا انکشاف کرنے والے کاروباری مہیش شاہ کو سنیچر کی شام ایک چینل کے اسٹوڈیو سے گرفتار کرلیا گیا۔ کئی دنوں سے مفرور بتائے جارہے پراپرٹی ڈیلرشاہ نے دعوی کیا کہ یہ پیسہ ان کا نہیں ہے۔ شاہ نے آمدنی اعلان کے آخری دن 30 ستمبر کو قریب 13860 کروڑ روپے کے کالے دھن (سرسری نقدی) کا اعلان کر چونکا دیا تھا۔ کئی دنوں کی گمشدگی کے بعد سنیچر کی شام اچانک ای ٹی وی گجراتی کے اسٹوڈیو میں پہنچے۔ اسی دوران پولیس اور محکمہ انکم ٹیکس نے ڈرامائی انداز سے اسٹوڈیو سے انٹرویو کے درمیان ہی انہیں دبوچ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پیسہ کئی لوگوں کا ہے۔ شاہ نے کہا مجھے کسی کا ڈر نہیں ہے۔ بہت جلد سبھی لوگوں کے نام کے بارے میں انکم ٹیکس محکمے کو بتا دیں گے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے ایتوار کو اندرونی پوچھ تاچھ کے بعد چھوڑدیا۔ انکم ٹیکس افسر پی ۔ سی مودی نے بتایا کہ شاہ کوجزوی پوچھ تاچھ کے بعد فی الحال چھوڑا گیا ہے۔ وہ جانچ میں تعاون دے رہے ہیں۔ پوچھے جانے پر کیا شاہ نے کچھ لوگوں کا نام ظاہر کیا ہے، مودی نے اس معاملے میں یہ کہتے ہوئے اور رائے زنی کرنے سے انکار کردیا کہ اس سے جانچ متاثر ہوسکتی ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ ساری تفصیلات کون افشاں کررہا ہے اور کیوں کررہا ہے؟ جہاں تک ہم سمجھے تھے یہ خفیہ جانکاری تھی۔ دوسری بات کہ کیا دیش کو کبھی پتہ چلے گا کہ یہ کالا دھن کس کس کا ہے جو مہیش شاہ کھپا رہے تھے؟ دوسرا قصہ ممبئی کے ایک خاندان کے 2 لاکھ کروڑ روپے کا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ممبئی میں ایک پریوار کے 4 افراد نے کل 2 لاکھ کروڑ روپے کی آمدنی کا انکشاف کیا تھا۔ ان میں عبدالرزاق، محمد سعید اس کا بیٹا محمد عارف، عبدالرزاق سعیدکی بیوی رخسانہ اور بہن نور جہاں محمد سعید شامل ہیں۔ ان لوگوں نے اپنا پتہ باندرہ میں لونگ روڈ پر جوبلی کورٹ کے پاس 269 بی ٹی پی این ۔3 فلیٹ نمبر 4 درج کرایا ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے 30 نومبر کو ا کا دعوی خارج کردیا۔ محکمے نے اس کا اعلان کرنے والوں کے خلاف جانچ شروع کردی ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ اس جھوٹے اعلان کے پیچھے کیا ارادہ تھا۔
(انل نریندر)

06 دسمبر 2016

بہار کے چانکیہ نتیش نے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے

نوٹ بندی پر بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے وزیراعظم نریندر مودی کی اقتصادی سرجیکل اسٹرائک کی کھلی حمایت کرکے نئی سیاسی بحث اور نئے سیاسی تجزیئے بننے کے دور کو ہوا دی ہے۔ حالانکہ نتیش نے این ڈی اے سے قریب کے سوال پر چھڑی بحث کی صفائی دیتے ہوئے نوٹ بندی کو اشو بیس حمایت بتا کر اٹھ رہی قیاس آرائیوں پر لگام لگانے کی کوشش کی ہے۔دراصل نتیش نے نوٹ بندی کے بہانے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ لالو پرساد یادو کی آر جے ڈی کی حمایت سے بنی اتحادی سرکار نے اپنے ایک سال کے عہد میں ملے جلے اشارے دئے ہیں۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ نتیش لالو کے دباؤ میں کام کررہے ہیں۔ لا اینڈ آرڈر کے نام پر نتیش پر سنگین سوال اٹھے ہیں۔ برینڈ نتیش راڈار پر رہا ہے اور ان پر لالو کا اثر دیکھا گیا ہے۔ نتیش کمار کو نوٹ بندی کی شکل میں ایسا موقعہ دے دیا کہ جب وہ بڑا سندیش دے سکتے تھے ایسے میں انہوں نے اپنی اتحادی پارٹی سے الگ سخت موقف اپنایا۔ اس سے نہ صرف لالو پرساد کو انہوں نے پیغام دے دیا بلکہ دباؤ میں نہ جھکنے والے نیتا کی حیثیت سے اپنی ساکھ بچانے کی پہل کی ہے۔ دراصل بہار کی سیاست میں نتیش کمار کا اپنا کوئی کور ووٹ بینک نہیں ہے اور ان کی امیج ہی سب سے بڑی مضبوطی رہی ہے۔ نتیش ہمیشہ سے صاف ستھری سیاست کرنے کے حمایتی رہے ہیں اور ابتدا سے ہی ان کا زور کرپشن اور کالی کمائی کے خلاف رہا ہے۔ ایسے میں اگر وہ نوٹ بندی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں تو عوام میں ان کی سابقہ سادگی اور ایمانداری کی ساکھ کو دھکا لگتا ہے۔ اس لئے نتیش نے نوٹ بندی کی پہلی دھار کا تجزیہ بخوبی کرلیا اور اس پر ڈٹے رہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ حمایت کی بات انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر کی ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے فیصلے سے آر جے ڈی اور کانگریس دونوں آگاہ بھی کرایا ہے۔ ہاں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نتیش نے نوٹ بندی کی حمایت میں اسٹینڈ لے کر لالو کے خلاف دباؤ کی پریکٹس کا بھی استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔نوٹ بندی پرنتیش کی بار بار حمایت کرنے سے ایک بار پھر این ڈی اے میں ان کی گھر واپسی کی بحث ہونا فطری ہی ہے لیکن نتیش کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ نتیش پورے دیش میں نریندر مودی کے متبادل کی شکل میں مانے جاتے ہیں۔ ایسے میں وہ این ڈی اے میں لوٹنے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔انہوں نے کہا اگر نتیش نوٹ بندی کی مخالفت کرتیتو بی جے پی بہار میں احتجاج پر اتر آتی لیکن اب انہیں من مار کر نتیش کی تعریف کرنی پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقف کے بعد پورے دیش میں نتیش کی ساکھ اور مقبولیت میں اضافہ ہوگا اور آگے جب کسی دوسرے اشو پر مودی سرکار کی مخالفت کریں گے تو ان کی بات کو زیادہ سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ بہار کی سیاست کے چانکیہ نتیش کمار نے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔
(انل نریندر)

منوج تیواری نے پہن لیا ہے کانٹوں کا تاج

پچھلے کئی سال سے جاری طویل سسپینس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی اعلی کمان کے ذریعے مشرقی دہلی سے ممبر پارلیمنٹ منوج تیواری کو دہلی بھاجپا کی باگ ڈور جس اعتماد کے ساتھ سونپی گئی ہے اس سے ان کے لئے چنوتیاں کم نہیں ہیں۔ بھاجپا لیڈر شپ کے ساتھ ساتھ دہلی بھاجپا کے نئے پردھان و بھوجپوری گلوکار منوج تیواری کے سامنے اس فیصلے کو صحیح ثابت کرنے کی بھاری چنوتی ہے۔یہ خطرہ زیادہ ہے کہ کہیں فروری 2015ء کے اسمبلی چناؤ کے ٹھیک پہلے وزیر اعلی کے امیدوار اعلان کی گئیں کرن بیدی کی طرح منوج تیواری کا بھی حال نہ ہوجائے۔10 سال سے تینوں میونسپل کارپوریشنوں میں اقتدار پر قابض بھاجپا کو محض چار مہینے بعد ہونے والے دہلی میونسپل کارپوریشنوں میں جتانے کی تیواری کے سامنے اپنے کیریئر کی سب سے بڑی چنوتی ہے وہ یہ ہے کہ دوبارہ کمل کھلانا اور پچھلے ریکارڈ کو دوہرانا ان کے لئے بڑا ٹارگیٹ ہوگا۔ فی الحال یہ اتنا آسان نظر نہیں آرہا ہے۔ غیر منقسم کارپوریشن میں 2002ء میں ہوئے میونسپل کارپوریشن چناؤ کانگریس نے جیتکر 134 میں سے108 سیٹیں لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار سے باہر کردیا تھا لیکن 2007ء کے ایم سی ڈی چناؤ میں ڈاکٹرہرش وردھن کے پردیش پردھان رہتے بھاجپا نے شاندار کامیابی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واپسی کی تھی اس کے بعد 2011ء میں ویجیندر گپتا کی قیادت میں بھی بھاجپا تینوں کارپوریشنوں میں اقتدار میں واپسی میں کامیاب رہی۔ اب موجودہ حالات میں ایم سی ڈی چناؤ بہت اہمیت کے حامل ہوں گے۔ نئے بھاجپا پردھان کو نہ صرف مخالف پارٹیوں کو جواب دینا ہے بلکہ تنظیم میں گروپ بندی کو دیکھ کر سبھی گروپوں کو ساتھ لیکر ورکروں کو سرگرم کرنا ہوگا۔ ایسا کرنے میں اگر وہ کامیاب ہوجاتے ہیں تبھی ایم سی ڈی چناؤ میں بھاجپا واپسی کرسکتی ہے۔ بھاجپا نے پہلی بار کسی پوروانچل کے لیڈر کو یہ ذمہ داری سونپی ہے۔ پارٹی ہائی کمان کے لئے منوج تیواری پر قطعی فیصلہ لینا آسان نہیں تھا کیونکہ مخالف رہے سیاست کا نیا کھلاڑی بتاتے ہوئے احتجاج کررہے تھے۔ مخالفین کی دلیل تھی کہ تیواری کو نہ تو تنظیم سنبھالنے کا تجربہ ہے اور نہ ہی دہلی میں کام کرنے کا۔ منوج تیواری کے سامنے اب دوہری چنوتی ہے۔ ایک طرف تو عام آدمی پارٹی ہے تو دوسری طرف کانگریس۔ عام آدمی پارٹی اسمبلی چناؤ میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی تھی لیکن پچھلے کچھ عرصے سے پارٹی کے بھروسے پر بٹا لگا ہے۔ عام آدمی کی دہلی سرکار سے جنتا کا کریز ختم ہونے کا زیادہ فائدہ کانگریس کو ہوا ہے۔ کانگریس دہلی میں کافی سرگرم ہے اور اپنی کھوئی ہوئی زمین واپس پانے کے لئے پوری طاقت جھونک رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے لئے بھی یہ چناؤ وقار کاسوال ہے۔ وہ یہ جتانا چاہے گی کہ دہلی اسمبلی میں اس کی جیت محض ایک تکا نہیں تھی اور وہ اپنے پروگراموں کے بل پر چناؤ جیتنا چاہے گی۔ کل ملا کر منوج تیواری کے سر پر کانٹوں کا تاج ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...