Translater

25 جنوری 2024

غزہ میں اب تک 25000 سے زیادہ اموات!

اسرائیل اور حماس کے درمیان تین ماہ سے زیادہ عرصہ سے جاری جنگ میں 25 ہزار سے زیادہ فلسطینوں کی موت ہو چکی ہے ۔غزہ کی وزارت صحت نے اتوار کو یہ اطلاع دی ہے ۔اس کے ترجمان اشرف القطرہ کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں میں غزہ کے اسپتالوں میں 178 لاشیں اور تقریباً 300 زخمی افراد لائے گئے ۔اقوام متحدہ کے مطابق اسرائل - حماس جنگ میں خاتون اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر اچانک حملہ کر قریب 1200 لوگوں کو مار ڈالا تھا ان میں زیادہ تر عام شہری تھے ۔حملہ آوروں نے مردوں ،عورتوں ،بچوں سمیت تقریباً 25 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا ۔اسرائیل نے ایئر آپریشن کے ساتھ جوابی حملے شروع کئے اورپھر شمالی غزہ میں زمینی حملہ کیا جس سے پورا علاقہ تقریباً تباہ ہو گیاہے ۔اسرائیلی فورسز کی زمینی کاروائی اب جنوبی شہر خص یونس اور وسطی غزہ میں تیار پناہ گزیں کیمپوں پر مرکوز ہے ۔غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک علاقہ میں کل 25,105 فلسطینی مارے گئے ہیں جبکہ 62681 دیگر زخمی ہوئے ہیں ۔ترجمان نے کہا کئی لوگ اسرائیلی حملوں کے سبب ملبوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں ۔یہاںڈاکٹر ان تک نہیں پہونچ سکے ہیں ۔وزارت نے مرنے والوں میں شہریوں اور لڑاکوں کی تعداد کے درمیان فرق کے بارے میں کوئی پختہ جانکاری نہیں دی ہے ۔حالانکہ کہا ہے کہ مارے گئے لوگوں میں تقریباً دو تہائی عورتیں اور نابالغ افراد شامل ہیں۔اسرائیلی فوج نے بغیر کوئی ثبوت دئیے حملہ کیا ہے ۔اور تقریباً 9 ہزار انتہا پسندوں کو مار گرایا ہے ۔ادھر کپالا میں ناوابسطہ تحریک کانفرنس میں شامل ہوئے سربراہ مملکت نے غزہ میں جاری اسرائیل کی فوجی کاروائی کو سنیچر کے روز غیر قانونی قرار دیا ہے اور ساتھ ہی فلسطین کے شہریوں اور بنیادی ڈھانچوں پر حملوں کی سخت مزمت کی ہے ۔ناوابسطہ چوٹی کانفرنس کے اختتام پر ایک بیان جاری کر غزہ پٹی تک انسانی مدد پہونچانے کیلئے جنگ بندی کی مانگ کی گئی ۔اور 1967 سے پہلے کی حدود کی بنیاد پر ہی ملک کی حل کی اپیل کی گئی ہے ۔تب اس اسرائیل اور پڑوسی عرب دیشوں کے درمیان ہوئی جنگ کے بعد اسرائیل نے غزہ ویسٹ بینک اور مشرقی یوروشلم پر قبضہ کر لیا تھا ۔اس گروپ نے فلسطین کی اقوام متحدہ میں شامل کرنے کی مانگ یوگانڈہ کی راجدھانی کمپالہ میں ہفتہ بھر چلی ناوابسطہ تحریک کانفرنس میں 120 ملکوں کے 30 سربراہ مملکت کے 90 نمائندوں نے شرکت کی اس کا اختتام جمعہ اور سنیچر کو سربراہ مملکت چوٹی کانفرنس کے ساتھ ہوا ۔اسرائیل غزہ میں اتنی تباہی مچانے کے بعدبھی رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔7 اکتوبر کے حماس حملے میں بیشک 1200 اسرائیلی مارے گئے پر اس کے بدلے اسرائیل تو 25 ہزار سے زیادہ لوگوں کو مار چکا ہے ۔لاکھوں لوگوں کے گھر تباہ ہو گئے ہیں وہ دردر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔حماس کی کاروائی کوئی جائز نہیں ٹھہرا سکتا لیکن اسرائیلی جواب کو بھی جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

ایودھیا سے چھوڑا چناوی اشو میگھ کا گھوڑا!

ایودھیا میں رام پران پرتیشٹھا کا پروگرام پورا ہو گیا ہے اور اسی کے ساتھ پردھان منتری نریندر مودی نے چناوی اشو میگھ کا گھوڑا چھوڑ دیاہے ۔یعنی کہ 2024 کے لوک سبھاچناو¿ کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے ۔وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو رام للا کی پران پرتیشٹھا ہی نہیں کی بلکہ 2024 کے لوک سبھا چناو¿ کے پیش نظر مدوں کی شکل میں چناوی اشو میگھ کا گھوڑا بھی چھوڑ کر پورے دیش میں گھوم گھوم کر چناوی حریفوں کو چنوتی دینے کا پروگرام بنا لیا ہے ۔چناوی تیاری میںبھاجپا سبھی دیگر پارٹیوں سے آگے ہے ۔انڈیا اتحاد تو ابھی تک سیٹ شیئرنگ فارمولہ بھی طے نہیں کر پایا ہے اور بھاجپا اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کرنے والی ہے ۔لوک سبھا چناو¿ میں بھاجپا نے ٹکٹ کیلئے جو سخت شرائط طے کی ہیں اس کا اثر پارٹی کے 40 فیصدی موجودہ ایم پیز پر پڑ سکتا ہے ۔پارٹی نے اس بار بے حد کم فرق سے جیت حاصل کرنے والے ، لگاتار تین چناو¿ جیتنے والے ، 70 سے زیادہ عمر والے اورانتہائی محفوظ ترین سیٹ پر غیر متنازعہ کے سبب ہی موجودہ ممبران پارلیمنٹ کو اتارنے کامن بنایا ہے ۔حال ہی میں ایسے ممبر پارلیمنٹ کی تعداد قریب 130 ہے ۔مشن 2024 کی تیاریوں کوقطعی شکل دینے میں لگی پارٹی نے مسلسل تیسری جیت حاصل کرنے والے کیلئے ٹکٹ تقسیم میں سب سے زیادہ احتیاط برتنے کا فیصلہ کیا ہے ۔پارٹی کی اسکیم کم از کم فرق سے جیت والی سیٹوں اور مشکل سیٹوں پر مدھیہ پردیش کی طرز پر سرکردہ چہروں کو اتارنے کا ہے ۔اقتدار برقرار رکھنے کیلئے پارٹی کا خاص فوکس ان 344 سیٹوں پر جہاں پارٹی کو پچھلے تین چناو¿ میں کبھی نہ کبھی جیت حاصل ہوئی ہے ۔پارٹی کے ذرائع کے مطابق پچھلے چناو¿ میں پارٹی کو 27 سیٹوں پر محض 1 فیصدی کے فرق سے تو 48 سیٹوں پر محض 2 فیصدی کے فرق سے کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ان میں سے زیادہ تر سیٹوں پر پارٹی امیدوار بدلے گی ۔اس کے علاوہ حال ہی میں پارٹی کے 61 ایم پی کی عمر 70 سال سے زیادہ ہے جبکہ لگاتار تین مرتبہ چناو¿ جیتنے والے ایم پی کی تعداد 20 ہے ۔ان سیٹوں پر بھی اپواد کے پیش نظر ہی ممبران پارلیمنٹ کو پھر سے ٹکٹ ملے گا ۔لوک سبھا چناو¿ کیلئے دیش کی تقریباً ہر بوتھ پر چاک و چوبند حکمت عملی بنا رہی بھاجپا نے وہاں کے ووٹروں سے مو¿ثر ڈھنگ سے رابطہ کرنے کیلئے نئی سماجی حکمت عملی کو اپنانا ہے ۔اس سے وہ 4 طبقات عورتیں ، یوتھ ،غریب اور کسان کو مرکز میں رکھ کر بات چیت کررہی ہے ۔نئی حکمت عملی میں بھاجپا ان سماجی طبقات تک بھی ٹھوس رابطہ بنا سکے گی جن کا زیادہ حمایت اس کی مخالف پارٹیوں کو ملتی ہے اس میں مسلم فرقہ بھی شامل ہیں ۔دیش کی سیاست میں ذات ایک بڑا پہلو ہے ۔اور اپوزیشن اسی پر اپنے امکان اتحاد کو لیکر بھاجپا سے 2-2 ہاتھ کرنے کی تیاری میں ہے ۔دوسری طرف اپوزیشن کی اس حکمت عملی کی دھار کند کرنے کیلئے نیا فارمولہ تیار کیا ہے ۔پچھلے دنوں دیش کی اہم 300 لیڈروں کے ساتھ میٹنگ میں بھاجپا لیڈرشپ نے یہ بھی صاف کر دیا ہے ۔اس میں کہا گیا ہے کہ مودی سرکار مختلف اسکیموں کے سینٹر میں کوئی ایک فرقہ اور ذات نہیں ہے بلکہ وہ چار طبقات خاتون ، یوتھ ،غریب اور کسان کو مرکز میں رکھ کر بنائی گئی ہے ۔اسے ہر کسی کو بتانا ہے اور ہر گھر تک پہونچانا ہے ۔رام مندر کے ماحول میں بھاجپا کیلئے بھلے ہی کوئی بڑی چنوتی نظر نہیں آرہی ہو لیکن بھاجپا ہر چناو¿ کو بھی پوری طاقت سے لڑ رہی ہے ۔بھاجپا کا خیال ہے کہ اپوزیشن کو ہلکے سے نہیں لیا جا سکتا ۔اسے پوری تیاری ،حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔ (انل نریندر)

23 جنوری 2024

یوپی میں سپا اور آر ایل ڈی میں اتحاد!

اپوزیشن اتحاد انڈیا میں شامل پارٹیوں سے متعلق دو معلومات سامنے آئی ہیں ۔ایک طرف سماج وادی پارٹی (سپا) اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) نے لوک سبھا چناو¿ کیلئے اتحاد کا باقاعدہ اعلان کیا تھا اور د وسری طرف پٹنہ میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے صدر لالو پرساد یادو نے بہار کے وزیراعلیٰ اور جنتا دل (متحدہ) کے چیف نتیش کمار سے ان کے گھر پر جا کر ملاقات کی ۔اس موقع پر لالو پرساد یادو کے بیٹے اور نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادو بھی ان کے ساتھ تھے ۔ملاقات کے بعد اپنی رہائش گاہ پر تیجسوی یادو نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ درار کی افواہیں زمینی حقیقت سے دور ہیں ۔ادھر سپا چیف اکھلیش یادو اور آر ایل ڈی چیف جینت چودھری نے شوشل میڈیا میں X کے ذریعے اتحاد کا اعلان کیا ۔یادو نے اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ راشٹریہ لوک دل اور سپا اتحاد کی سبھی کو بدھائی ۔جیت کیلئے سبھی متحدہو جائیں اور لگ جائیں وہیں جینت چودھری نے X پر لکھا قومی و آئینی مفادات کی حفاظت کیلئے ہمیشہ عہدبند ہیں ۔ہمارے اتحاد کے سبھی ورکروں سے امید ہے کہ اپنے حلقہ کی ترقی اور خوشحالی کیلئے قدم آگے بڑھیں ۔جینت چودھیری نے اپنی پوسٹ کے ساتھ تصویریں بھی ڈالی ہیں جن میں وہ اور اکھلیش یادو ہاتھ ملاتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔آر ایل ڈی کے ترجمان انل دوبے نے بتایا کہ دونوں لیڈروں کے درمیان ہوئی ملاقات میں سیٹ بٹوارے کو قطعی شکل دے دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا آر ایل ڈی مغربی اترپردیش میں 7 سیٹوں پر چناو¿ لڑے گی ۔دونوں پارٹیوں نے 2022 کا اسمبلی چناو¿ اتحاد کے ساتھ لڑا تھا ۔جس میں سپا نے 403 سیٹوں والی یوپی اسمبلی میں 111 سیٹیں جیتی تھی جبکہ آر ایل ڈی کو 8 سیٹیں ملی تھیں ۔2019 کے چناو¿ میں آر ایل ڈی کا سپا بسپا سے اتحاد تھا ۔آر ایل ڈی کو متھرا ،باغپت اور مظفر نگر سیٹ ملی تھی ۔جبکہ وہ تینوں سیٹ پر ہار گئی تھی ۔جبکہ سپا اور بسپا نے پانچ اور 10 سیٹیں جیتی تھیں ۔تازہ اتحاد میں ابھی تک یہ صاف طے نہیں ہوا کہ آر ایل ڈی کونسی 7 سیٹوں پر چناو¿ لڑے گی ۔لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ آر ایل ڈی کے ساتھ سپا کا جن سات سیٹوں پر سمجھوتہ ہونے کی بات کہی جا رہی ہے ۔ان میں متھرا ،ہاتھرس ،بجنور، مظفر نگر،باغپت ، امروہہ ،اور کیرانہ لوک سبھا سیٹیں ہیں اس لئے دونوں لیڈروں نے سیٹوں کا الائنس فی الحال نہیں کیا ہے ۔اتحاد کے بعد سپا - آر ایل ڈی اب کانگریس پر اپنی سیٹوں کے بارے میں واضح کرنے کا زیادہ دباو¿ ڈالے گی ۔مایاوتی اتحاد میں شامل ہونے کا امکان ختم ہونے کے بعد کانگریس کو یوپی میں سپا اور آر ایل ڈی اتحاد کے برابر الگ تھلگ پڑنے کا اندیشہ لگنے لگا ہے ۔کانگریس مایاوتی کے اتحاد میں آنے کے امکان بتا کر سپا پر دباو¿ ڈال رہی تھی لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے ۔سپا کو لگتا ہے کہ اب اس کے سامنے اب کوئی متبادل نہیں ہے ۔2دن پہلے سپا نے کانگریس کو پیغام بھیجا کہ وہ جلد پوزیشن صاف کرے ۔اب سپا آر ایل کو ڈی کو سات سیٹیں دے کر کانگریس پر اور دباو¿ بڑھا دیا ہے ۔کانگریس سیٹ بٹوارے کو لیکر بہت دیر کررہی ہے ۔کہیں ایسا نا ہو کہ ادھر لوک سبھا چناو¿ کا اعلان ہو جائے اور کانگریس ہاتھ پر ہاتھ رکھ کررہ جائے ، اکھلیش نے اتحاد کا راستہ دکھا دیا ہے ۔سمجھنے والے ابھی نہیں سمجھیں تو کیا کریں گے ؟ (انل نریندر)

منی پور میں تشدد رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے !

منی پور میں گزشتہ کچھ دنوں میں الگ الگ جگہ پر ہوئے تشدد میں پانچ شہریوں سمیت دو سیکورٹی جوانوں کی موت ہوئی ہے اس میں سے ایک وشنو پور ضلع کا ہے ۔یہاں مشتبہ ہتھیار بند انتہا پسندوں نے جمعرات کی شام ایک باپ بیٹے سمیت چار لوگوں کو مار ڈالا ،مرنے والوں کی شناخت نتھائے سوچین سنگھ اوئنم باما ایجو سنگھ اور ان کے بیٹے اوئنم منی تومبا سنگھ وغیرہ کی شکل میں ہوئی ہے ۔وہیں بدھوار کی رات امپھال مغربی ضلع کے کانگچپ میں حملہ آوروں نے ایک نتائی اور سریتی گاو¿ں کے گرام محافظ کا قتل کر دیا ۔بدھوار کو ہی مشتبہ انتہا پسندوں نے ٹیگنو دل ضلع میں میانمار سے لگے موریح شہر میں سیکورٹی فورسز پر حملہ کیا تھا اس میں پولیس کے دوجوانوں کی موت ہو گئی تھی ۔تشدد کے ان الگ الگ واقعات میں مارے جانے والے سبھی لوگ میتائی فرقہ کے تھے ۔اس کے بعد راجدھانی امپھال سے لیکر بشنپور جیسے متئی اکثریتی علاقوں میں سیکورٹی انتظام کو لیکر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں ۔منی پور میں 3 مئی سے رک رک کر ہو رہی جھڑپوں کے دوران پچھلے کچھ دنوں سے امن کا ماحول بنا ہوا تھا لیکن بدھوار کو یورہے شہر سے پھر تشدد شروع ہوا اس نے ریاست میں خوف اور دہشت کا ماحول پیدا کر دیا ہے ۔منی پور میںقانون نظام کو لیکر سوال اٹھ رہے ۔کیا آخر تازہ تشدد کے پیچھے وجہ کیا ہے ؟ کیوں پچھلے 8 ماہ سے یہاں تشدد رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ؟ پچھلے 8 ماہ میں منی پور کے جن شہری علاقوں میں وسیع پیمانہ پر ہوئے تشدد ، اس میں سرحدی شہر بھی ایک ہے ۔کوکی برادری اکثریتی اس شہر میں تشدد کے دوران متئی لوگوں کے زیادہ تر گھروں جلا دیا گیا تھا ۔اس وقت موریح شہر میں ایک بھی متئی پریوار نہیں ہے ۔یہاں آسام رائفل اور بی ایس ایف کے ساتھ منی پور پولیس کمانڈوں کی تعیناتی کو لیکر احتجاج ہوتا رہا ہے ۔وہاں کوکی برادری کے لوگ منی پور کمانڈوں کو علاقہ سے ہٹانے کی مانگ کرتے آرہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ منی پور پولیس کمانڈو میں متئی فرقہ کے جوان ہیں جس کے سبب وہ لوگ محفوظ محسوس نہیں کرتے ۔ان کا یہ بھی الزام ہے پولیس کمانڈوں کے ساتھ کچھ متئی حملہ آور بھی علاقہ میں آچکے ہیں ۔کوکی برادری کی بڑی تنظیم کوکی انگ پی کے سینئر لیڈر تھانگملن وجین کی مانیں تو اس لڑائی کو روکنے کیلئے بھارت سرکار کی مداخلت ضروری ہے ۔انہوں نے کہا ریاست میں کلی طور پر امن تھا لیکن مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جی نے کہا تھا کہ پہاڑی علاقوں میں قانون و نظام و ہ خود دیکھیں گے اور وادی والے علاقوں کو بیرن سنگھ سنبھالیں گے ۔اب تشدد اس لئے بڑھ گیا ہے کہ منی پور سرکار متئی فرقہ پولیس کمانڈوکو ہیلی کاپٹر کے زریعے سے موریح بھیج رہی ہے ۔ریاستی سرکار کو امن قائم کرنے کیلئے ان کمانڈوکو واپس بلانے کی ضرورت ہے ۔متئی سماج کے مفادات کیلئے بنی کوآرڈینشن منی پور انٹیگریٹی کے سینئر لیڈر کرین کمار مانتے ہیں کہ مرکز اور ریاستی حکومت منی پور میں حالات کو سنبھالنے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہے ۔وہ کہتے ہیں سرکار کوکی دہشت گردوں پر کنٹرول نہیں کر پا رہی ہے ۔کوکی بارڈر ٹاو¿ن موریح پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔میانمار کے باغی ان کوکی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر آر پی جی دھماکہ سے حملہ کرررہے ہیں ۔کسی بھی نسلی تشدد میں آر پی جی چلانے کی بات کسی نے نہیں سنی ہوگی ۔ریاست میں امن قائم کرنے کے سوال پر متئی لیڈر کیرن کمار کہتے ہیں پردیش میں امن صرف بھارت سرکار کی مداخلت سے ہی قائم ہوسکتاہے ۔تشدد کو شروع ہوئے 8 ماہ سے زیادہ ہو چکے ہیں ۔بیرن سرکار پوری طرح فیل ہو گئی ہے ۔لوگوں کا قتل کیا جا رہا ہے ۔گھروں کو جلایا جا رہا ہے ۔لیکن منی پور کسی کو بھی فکر نہیں ہے ۔ (انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...