Translater

13 اکتوبر 2012

پچھڑے اوبامہ کو دوسری بحث میں حاوی ہونا ضروری ہوگا


امریکہ میں صدارتی چناؤ کی مہم زوروں پر ہے۔ چناؤ کی تاریخ جیسے جیسے قریب آرہی ہے بیشک اوبامہ کا چناوی تجزیہ بگڑتا جارہا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی کانفرنس کے بعد اور پہلی بحث سے پہلے مضبوط دکھائی دے رہے اوبامہ پر اب ان کے حریف مٹ رومنی حاوی ہوتے جارہے ہیں۔ بحث کے بعد آئے 16 سرووں کے نتیجے رومنی کے حق میں دکھائی پڑتے ہیں۔ پہلی بحث میں شاندار کارکردگی کے بعد مٹ رومنی امریکہ کی پہلی پسند بنتے جارہے ہیں اور اوبامہ کی مایوس کن پرفارمینس نے ان کا جادو بے اثر کردیا ہے۔ غور طلب ہے کہ امریکہ میں صدارتی چناؤ 6 نومبر کو ہونا ہے یعنی اب مشکل سے چناؤ میں 23 دن ہی باقی بچے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق الیکشن زون میں رومنی کی جیت کی امید28.8 فیصدی ہے جو 29 اگست کے بعد سب سے زیادہ مانی جاتی ہے۔ ادھر اوبامہ کی چناؤ مہم سست نہیں پڑی ہے۔ کھوئے مینڈیٹ کو واپس لانے اور اوبامہ کی جیت کو یقینی کرنے کے لئے اگلی بحث کی تیاری زوروں پر جاری ہے۔ پچھلے ہفتے ڈینیور میں ری پبلکن حریف مٹ رومنی کے ساتھ پہلی بحث میں پھیکی پرفارمینس دکھانے کے باوجود امریکی صدر براک اوبامہ دوسری بحث کو لیکر کافی پر امید ہیں اور دوسری بحث 16 اکتوبر کو نیویارک میں ہوگی۔ اوبامہ کے قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ صدر نے پہلی بحث سے سبق لیا ہے۔ اوبامہ چناؤ مہم کے ترجمان زین پساکی نے کہا پہلی بحث سے پتہ چل گیا ہے کہ رومنی کس طرح کے تجرمان ہیں اس سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ رومنی بحث میں کس طرح غلط حقائق کا استعمال کرتے ہیں۔اوبامہ اگلی بحث میں ان باتوں پر توجہ دیں گے۔ امریکی صدارتی چناؤ میں پیسوں کا بھی بڑا کھیل ہوتا ہے۔ بیشک اوبامہ اس بحث میں آگے لگتے ہیں۔ پچھلے مہینے ان کی جانب سے18.10 کروڑ ڈالر (قریب 9 ارب روپے) چندہ اکٹھا کیا گیا جو اب تک امریکی صدارتی چناؤ مہم کو لیکر 94.70 کروڑ ڈالر (یعنی 49 ارب روپے ) کی رقم اکٹھا کی جاچکی ہے جو کہ ریکارڈ توڑنے کے لئے ضروری ایک ارب ڈالر (قریب52 ارب روپے)کے برابر ہے۔ اوبامہ کی چناؤ مہم سے وابستہ لوگوں کو امید ہے کہ صدر ایک ارب ڈالر کے جادوئی نمبر کو پارکرجائیں گے ایسا پہلی بار ہوگا جب کوئی امیدوار ایک ارب ڈالر سے زیادہ چندہ حاصل کرے گا۔ امریکی چناؤ میں اس بار اقتصادی مسئلے اس قدر حاوی ہیں کہ یکساں سیکس والوں کی شادی، شہری حقوق اور امیگریشن جیسے سماجی اشوز کا ذکر کم ہی ہوا ہے۔ دھیمی اقتصادی ریکوری والی امریکی معیشت میں بے روزگاری کی شرح 8 فیصدی ہے۔ اقتصادی مورچے پر مایوسی اور لاچاری امریکی عوام کے آگے اوبامہ کو اپنا بچاؤ کرنا ہوگا۔ وہ امیرلوگوں پر ٹیکس میں بڑھوتری اور ٹیکس میں خامیوں کو دور کرنے اور بجٹ میں کمی کرنے جیسے اپنے وعدے پورے نہیں کرپائے۔ اوبامہ کیریئر کے نام سے مشہور ہیلتھ کیئر پروگرام بھی زیادہ تر امریکیوں کو پسند نہیں آیا۔ اس کے برعکس رومنی بالکل ری پبلکن پارٹی پر ہوئے خرچ میں کٹوتی کرنے اور ٹیکس گھٹانے جیسے اصلاحات کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ انہیں کاروبار کرنے کا بخوبی تجربہ ہے جسے وہ اپنی خاصیت بتاتے ہیں۔ اوبامہ کیئر کے مخالف رومنی کو اس معاملے میں ہوشیاری برتنی ہوگی کیونکہ میتھس یونسٹیٹس کے گورنر رہتے ہوئے انہوں نے کچھ ہیلتھ اصلاحات کی تھیں جنہیں رومنی کیئر کہا گیا تھا دونوں میں کانٹے کی ٹکر جاری ہے۔ دوسری بحث کے بعد پھر تصویر بدل سکتی ہے کیونکہ مقابلہ اتنا قریبی ہے۔
(انل نریندر)

کرکٹ میچ میں فکسنگ کا بھوت پھر باہر نکلا


کرکٹ اور میچ فکسنگ کا بھوت وقتاً فوقتاً بوتل سے باہر نکلتا رہتا ہے۔ اب یہ ہے امپائروں میں فکسنگ کا بھوت۔ حال ہی میں ختم ہوئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور اگست میں ہوئے سری لنکا پریمئر لیگ میں فکسنگ کے ایک نئے انکشاف سے کرکٹ دنیا میں پھر سے کھلبلی مچ گئی ہے۔ لیکن اس بار فکسنگ کا سیاح داغ کھلاڑیوں پر نہیں بلکہ امپائروں کے دامن پر لگا ہے۔ ایک ہندوستانی ٹی وی چینل نے اسٹنگ آپریشن میں 6 انٹر نیشنل امپائروں کو پیسے لیکر فکسنگ کے لئے تیار ہونے کا سنسنی خیز خلاصہ کیا ہے۔ ان 6امپائروں میں سری لنکا، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تین امپائر گامنی دسنائکے، مارس وسٹن، ساگرا گالگے، بنگلہ دیش کے دو امپائرندیم غوری وغیرہ شامل ہیں اور پاکستان کے انیس صدیقی ہیں۔ یہ معاملہ کچھ ایسے وقت میں آیا ہے ٹی وی چینل کے انڈرکور ایجنٹ نے اسپورٹس مینجمنٹ کمپنی کے نمائندے کے طور پر ان امپائروں سے رابطہ قائم کیا۔ اس اسٹنگ میں 90 ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی میچوں میں امپائرنگ کر چکے نادر شاہ انٹرنیشنل گھریلو سطح کے کسی بھی میچ کو فکس کرنے کے لئے راضی ہوگئے۔سری لنکائی امپائر گالگے تو صرف 50 ہزار روپے میں فکسنگ کے لئے تیار ہوگئے۔ آئی سی سی کے سابق بنگلہ دیشی امپائر ندیم غوری نے انڈر کور ایجنٹ سے وعدہ کیا کہ وہ پیسوں کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ غوری نے43 ون ڈے اور 14 ٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ کی ہے۔ پاکستان کے داغی امپائرانیس صدیقی بھارت کے حق میں فیصلہ دینے کے لئے تیار نظر آئے۔ انڈر کور ایجنٹ نے بنگلہ دیش کے امپائر شریف الدولہ ابن شاہد سے بھی رابطہ قائم کیا لیکن شریف الدولہ نے پیسوں کے بدلے کسی طرح کی مدد کرنے سے انکار کردیا۔ حالانکہ ان امپائروں میں سے صرف دو پینل میں ہیں۔ مورس وسٹن آسٹریلیا ۔انگلینڈ کے 17 ستمبر کو ہوئے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پچ، موسم، ٹاسک وغیرہ کی جانکاری دینے کے لئے صرف50 ہزار روپے میں تیار ہوگئے۔ دیسانائک نے تو ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے کہا اگر انہیں اچھا پیسہ دیا جاتا ہے تو وہ سری لنکا کرکٹ کے خلاف بھی جانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سری لنکائی کرکٹ بورڈ کے حکام کو شراب اور سیر سپاٹا کراکر کچھ بھی کام لیا جاسکتا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بدھوار کو میچ فکسنگ کے لئے رضامندی جتانے والے سبھی امپائروں کو معاملے کی جانچ پوری ہونے تک معطل کردیا ہے۔ اپنے بیان میں آئی سی سی کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور اس کے سبھی ممبر اس بات کے لئے راضی ہوگئے ہیں کہ جانچ پوری ہونے تک انڈیا ٹی وی کے اسٹنگ آپریشن میں پکڑے گئے کسی بھی امپائر کو گھریلو یا انٹرنیشنل میچ کی امپائرنگ کرنے نہیں دی جائے گی۔ بی سی سی آئی کے وائس چیئرمین راجیو شکلا نے آئی سی سی کے اس قدم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امپائروں کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار صرف آئی سی سی کے پاس ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ آئی سی سی نے اس طرح کا قدم اٹھایا ہے۔
(انل نریندر)

10 اکتوبر 2012

واڈرااثاثہ تنازعہ میں پھنستی حکومت اور کانگریس پارٹی


رابرٹ واڈرا بنام اروند کیجریوال لڑائی تیز ہوتی جارہی ہے۔ ڈی ایل ایف کے ساتھ مبینہ سودوں کے الزام کو لیکر تنازعوں میں گھرے واڈرا نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ وہ سبھی طرح کی بیہودہ باتوں سے نمٹنے کی قوت رکھتے ہیں۔ اپنے فیس بک اکاؤنٹ میں رابرٹ واڈرا نے پوسٹ کیا ’مینگو پیپل ان بنانا ریپبلک‘‘ اس کے بعدانڈیا اگینسڈ کرپشن نے اپنے تیور مزید سخت کرلئے۔ کیجریوال کے ساتھی کمار وشواس نے مطالبہ کیا ہے بھارت کو بنانا ریپبلک کہہ کر واڈرا نے دیش کی توہین کی ہے اور اس پر وہ معافی مانگیں۔ ادھر واڈرا کے خلاف الزام لگانے والے اروند کیجریوال نے کہا کہ اگر ان کے الزامات غلط ثابت ہوئے تو وہ ہتک عزت کے مقدمے کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔ کیجریوال نے ٹوئٹ کیا ہے وہ جلد اس معاملے میں مزید جانکاری دیں گے۔ الزامات کی بات کریں تو بھارتیہ جنتا پارٹی کے نائب صدر شانتا کمار نے اروندکیجریوال کو لکھے خط میں محترمہ سونیا گاندھی کی صاحبزادی پرینکا گاندھی کی شملہ میں پراپرٹی ہونے کے بارے میں پتہ لگانے کی درخواست کی ہے۔ حالانکہ اس خط کے جواب میں آئی اے سی نے کہا کہ ہماچل پردیش میں اس وقت ان کی پارٹی کی سرکار ہے اس لئے شری شانتا کمار جی کے لئے لڑکی پرینکا گاندھی کے اثاثے کے بارے میں پتہ کرنا زیادہ آسان نہیں ہوگا۔ خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس بات کا خلاصہ ہونا چاہئے کہ زمین خریدنے کی اجازت کس حکومت نے دی؟ قابل ذکر ہے کہ ہماچل میں کوئی غیر ہماچلی زمین بغیر اجازت کے نہیں خرید سکتا؟ ادھر ایک سینئر اعلی افسرنے اپنا نام شائع نہ کرنے کی شرط پر ایک اخبار کو بتایا کہ رابرٹ واڈرا نے تین سال میں راجستھان کے بیکانیر میں 311 ایکڑ زمین خریدی ہے۔ اسکے علاوہ جیسلمیر میں بھی انہوں نے کئی بیگھہ زمین خریدی ہے۔یہ زمین واڈرا کی الگ الگ کمپنیوں کے نام پر ہے۔ریاستی سرکار کو اس خریدو فروخت کی پوری جانکاری تھی اس میں ناجائز طور پر مدد بھی کی گئی۔ اس کے لئے بیکانیر کے افسر بھی بدلے گئے۔ یہ زمین ریئل ارتھ اسٹیٹس پرائیویٹ لمیٹڈ، اسکائی لائٹ ریالٹی اور اسکائی لائٹ ہاسپٹلٹی پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام پر خریدی گئی ہے۔ منموہن سنگھ سرکار اس معاملے کی جانچ نہیں کرے گی۔ وزیر خزانہ نے نئی دہلی میں سالانہ معاشیاتی مدیروں کی کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شری واڈرا اور ڈی ایل ایف کے درمیان ہوئے سودے ذاتی نوعیت کے ہیں اور اس میں سرکاری سطح پر کرپشن کی کوئی بات نہیں ہے اس لئے سرکاری سطح پر جانچ کرانے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ان کا کہنا ہے دیش کی کوئی بھی پرائیویٹ کمپنی کسی بھی شخص کے ساتھ سودہ کر سکتی ہے اور یہ ذاتی پیسہ ہوتا ہے۔ مسٹر رابرٹ واڈرا پر لگ رہا الزام ہمیں نہیں لگتا کے اتنی آسانی سے دب سکے گا جتنا یہ سرکار چاہ رہی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے یو ٹیوب میں بہت وقت پہلے ایک فلم دیکھی تھی جس میں ایک معمولی شخص سے ارب پتی کیسے بنا دکھایا گیا تھا۔ یہ فلم کسی غیر ملکی نے بنائی تھی۔ ایسے ہی رابرٹ واڈرا ایک معمولی شخص سے صنعت کار کیسے بن سکتے ہیں ہیں ، اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔ لیکن سوال یہاں یہ ہے کیا انہوں نے ایسا کرنے میں اپنی رشتہ داری کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے؟ مجھے لگتا ہے کیجریوال کے پاس اور بھی معلومات ہیں جو وہ آنے والے دنوں میں عام کریں گے۔ یہ بھی سوچنے کا موضوع ہے کہ رابرٹ واڈرا کانگریس پارٹی کے نہ تو کوئی لیڈر ہیں اور نہ ہی پارٹی ورکر ، پھر بھی ان کے بچاؤ میں وزیر اور کانگریسی نیتا کیوں اترے ہوئے ہیں؟ کانگریس کے حکمت عملی ساز بھی مان رہے ہیں کہ رابرٹ واڈرا معاملے میں اروند کیجریوال جعل میں پھنس گئے ہیں۔ اب طے کیا گیا ہے کہ وزرا اور سینئر لیڈروں کو اس معاملے میں انتہائی سرگرمی دکھانے سے بچنا چاہئے۔ کانگریس کے ایک سینئر ذرائع کے مطابق کیجریوال کے الزامات پر ایک ساتھ کئی وزرا اور نیتاؤں نے واڈرا کے بچاؤ میں اترنے کی پارٹی یا سرکار کی طرف سے کوئی اسکیم نہیں تھی۔ انہوں نے کیجریوال کی پریس کانفرنس کے فوراً بعد ہی خاص کر وزیر قانون سلمان خورشید ،وزیر ماحولیات جینتی نٹراجن، پارٹی کے ترجمان منیش تیواری کا رد عمل ان کا ذاتی جذبہ بتایا جاتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ایسے تلخ رد عمل پر پارٹی اور سرکار ایک طرح سے کیجریوال کے جعل میں پھنس گئی ہے۔
(انل نریندر)

اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی


یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ سپریم کورٹ کو ان معاملوں میں دخل دینا پڑ رہا ہے جو کام مرکز اور ریاستی حکومتوں کا ہے۔مجبوراً عدالت عظمیٰ کو ایسے معاملوں میں گائڈ لائنس دینی پڑتی ہیں۔ یہ معاملہ ہے سبھی اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق۔ عدالت نے مرکز اور ریاستی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ 6 مہینے کے اندر اندر سبھی اسکولوں میں پینے کے پانی اور رٹوائلٹ سمیت سبھی بنیادی سہولتیں مہیا کرائے۔ جسٹس کے ایس رادھا کرشن کی سربراہی والی بنچ نے وقت اور میعاد طے کرتے ہوئے سرکاروں سے کہا ہے دیش بھر کے اسکولوں میں یہ بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے بلا تاخیر قدم اٹھائے جائیں۔ بڑی عدالت نے پچھلے 18 اکتوبر کو سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام پردیشوں کو سبھی سرکاری اسکولوں میں خاص کر لڑکیوں کے لئے ٹوائلٹ بنانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ بنیادی سہولیات فراہم نہیں کرنا آئین کی دفعہ21(A) کے تحت بچوں کو مفت اور ضروری تعلیم کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ راجدھانی کے اسکولوں کی اگر بات کریں تو راجدھانی کے2675 سرکاری اسکولوں میں آدھے سے زائد میں ٹوائلٹ اور پانی کی قلت ہے۔ راجدھانی میں گرلز اسکولوں میں طالبہ کی موجودگی اس لئے کم رہتی ہے کیونکہ ان اسکولوں میں یہ سہولیات نہیں ہیں۔ ان اسکولوں میں 946 اسکول دہلی حکومت،1729 اسکول ایم سی ڈی کے ماتحت چلتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے چھ مہینے کی میعاد مقرر کی ہے۔ دہلی سرکار اور ایم سی ڈی کے لئے یہ بڑی چنوتی ہے۔ دہلی کے وزیر تعلیم پروفیسر کرن والیہ نے ہدایت دی ہے کہ سرکاری اسکولوں میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ٹیوب ویل کھدوائے جائیں اور اس پانی کے ٹریٹمنٹ کے لئے پلانٹ لگائیں۔ انہوں نے بتایا مشرقی دہلی کے اسکولوں میں پانچ پروجیکٹ تھے جو شمسی توانائی سے چلنے والے ہیں۔ جو بہت کامیاب ہورہے ہیں۔ یہاں صرف بچوں کو اسکول میں پینے کے لئے پانی خوب دستیاب ہے بلکہ وہ ہر روز کین بھر کر گھر بھی پانی لے جارہے ہیں۔ راجدھانی میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کچھ علاقوں کے اسکولوں میں پانی کی لائن بچھانے کے ایک دو دن بعد ہی پائپ چوری ہوجاتا ہے۔ کلاسوں سے پنکھے نکال لئے جاتے ہیں۔ انہیں دوبارہ لگوانے یا مرمت کروانے کا عمل اتنا سست ہے کہ بڑی دقت آتی ہے۔ کئی بار اسکول انتظامیہ اسے لگانے کے لئے کوشش بھی نہیں کرتا۔ تلخ سچائی یہ بھی ہے بڑی تعداد میں سرکاری اسکول ایسے ہیں جہاں بلیک بورڈ اور ٹاٹ پٹی تک نہیں ہے۔ اسی طرح کئی اسکول ایسے بھی ہیں جہاں دھنگ کی عمارت بھی نہیں ہے۔ یہ دنیا جانتی ہے کہ تمام اسکولوں میں درکار ٹیچر بھی نہیں ہیں اور جہاں ہیں بھی وہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ تمام اسکولوں میں کلاس میں چار یا پانچ بچے بیٹھے دکھائی پڑتے ہیں اور کچھ ایسے بچے بھی ہیں جو پڑھ تو رہے ہیں لیکن اپنا نام تک نہیں لکھ پاتے۔ اگر اسکولوں کی حالت بہتر بنانی ہے تو مرکز اور ریاستی سرکار کو اپنے فرائض کے تئیں زیادہ چست رہنا ہوگا۔
(انل نریندر)

09 اکتوبر 2012

گجرات اسمبلی چناؤ نتائج ریاست اور مرکز دونوں کیلئے سیاست طے کریں گے


چناؤ کمیشن نے گجرات اور ہماچل پردیش میں انتخابات کا اعلان کردیا ہے۔ گجرات اسمبلی چناؤ نتائج وزیراعلی نریندر مودی کے لئے خاص اہمیت رکھتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ دیش کے مستقبل کی سیاست کی سمت بھی طے کرسکتے ہیں۔ امید جتائی جارہی ہے کہ گجرات میں نریندر مودی ہیٹ ٹرک بنا لیں گے۔ چناؤ یہ بھلے ہی ریاستی اسمبلی کا ہو لیکن مودی کے لئے یہ مرکز کی لڑائی بھی بن گئی ہے۔ پارٹی کے اندر سیاسی کامیابی کے لئے دوبارہ اقتدار میں آنا ہی نہیں بلکہ پہلے سے بھی بڑی کامیابی حاصل کرنا کچھ معنوں میں زیادہ ضروری ہوسکتا ہے ورنہ گجرات جیت کر بھی وہ مرکز کی لڑائی ہار سکتے ہیں۔ یوں تو 2007 کا چناؤ مودی کے لئے بہت مشکل تھا لیکن اس بار ان پر دو مورچوں کو فتح کرنے کی چنوتی ہے۔ دراصل اپوزیشن ہی نہیں خود بھاجپا بھی ان کی سیاست سے پرہیز کرنے کا اشارہ دینے لگے ہے۔ سورج کنڈ میں قومی ایگزیکٹو کی حالیہ میٹنگ میں ہی یہ صاف ہوگیا تھا جب لال کرشن اڈوانی اور قومی صدر نتن گڈکری نے بھی اس سیکولر ازم کی ساکھ کی بات کی تھی جس سے دوسری پارٹیاں باآور ہوسکیں۔ پارٹی کے اندر بھی انہیں لے کر خیمہ بٹا ہوا ہے۔ ایسے لیڈروں کی کمی نہیں جو مودی کو مرکز کی سیاست سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں اگر گجرات میں بھاجپا کی سیٹیں کم ہوئیں تو مودی جیت کربھی پارٹی کے اندر ہارے ہوئے مانیں جائیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ 12 سال کے اقتدار کے بعد 182 میں سے 122 سیٹوں کی موجودہ تعداد بھی کم مشکل نہیں ہے۔کچھ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مودی کی طاقت ا س بار کچھ کم ہوگی۔ اگر اپنی سرکار کو بچا لے گئے تو سیٹوں میں ضرور کمی آئے گی اس کا اندازہ انہیں بھی ہے۔ لہٰذا وہ بیحد جارحانہ انداز میں مرکزی لیڈر شپ پر حملہ کررہے ہیں۔ اگر کانگریس کے پاس کوئی مقامی سطح پر طاقتور لیڈر موجود ہوتا تو لڑائی مشکل ہوجاتی ہے۔ حالانکہ اس بار تیسرا مورچہ بھی گجرات کی لڑائی کو دلچسپ بنا سکتا ہے۔ 
ممتا بنرجی ایک اتحاد کی بات کی ہے جو تی پارٹیوں کو ملا کر بن سکتا ہے اور مسلمانوں کا ووٹ اس مورچے کو مل سکتا ہے لیکن اس سے گجرات میں تبدیلی اقتدار شاید ہی ہوسکے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اگر مودی چناؤ جیت جاتے ہیں تو بھاجپا کے لئے 2014 ء چناؤ میں نئی مشکلیں آسکتی ہیں۔ تب وزیر اعظم کے طور پر نہ صحیح لیکن مودی کو سب سے بڑے چناؤ کمپینرکی شکل میں تو جگہ دینی ہی ہوگی۔ اس سے مرکزی سطح پر این ڈی اے کا اتحاد بھی ٹوٹے گا اور مسلم ووٹروں کی مخالفت کے چلتے پارٹی کو اپنی پوزیشن کا نقصان بھی ہوسکتا ہے اس لئے نریندر مودی کے لئے آگے کا راستہ خطروں سے بھرا ضرور ہے۔ جیتنا پڑے گا اور وہ بھی اچھے مارجن اور سیٹوں سے۔ گجرات چناؤ نتیجہ اس نقطہ نظر سے قومی اہمیت رکھتا ہے۔
(انل نریندر)

مہلا کی عزت کے تئیں سماج کی مجرمانہ بے رخی


نیشنل کرائم بیورو کے تازہ اعدادو شمار چونکانے والے ہیں۔ آبروریزی جیسے گھناؤنے جرائم میں پچھلے سال 29.27 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق یومیہ 50 عورتوں سے ملک بھر میں آبروریزی کے واقعات ہوتے ہیں۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اعدادو شمار سرکاری رپورٹ کے مطابق ہیں لیکن بہت سے ایسے معاملے ہیں جو دبادئے جاتے ہیںیا بدنامی کے ڈر سے ان کی شکایت نہیں ہوتی۔ آبروریزی کی شکار لڑکیوں کی کیا دردشا ہوتی ہے گذشتہ دنوں دہلی ہائی کورٹ کے باہر ایک آبروریزی کا شکار عورت نے خودکشی کی کوشش کی۔ خاتون ملزمان کی دھمکی اور اپنے شوہر سے پریشان تھی۔ واردات کے وقت وہ معاملے کی سماعت کے لئے عدالت آئی ہوئی تھی۔ سنیتا(نام تبدیل) پانی پت میں خاندان کے ساتھ رہا کرتی تھی۔ بتایا جاتا ہے 2011ء میں کسی نے نوکری دلانے کا وعدہ کرکے انٹرویو کے لئے بلایا تھا۔ عورت انٹرویو کے لئے آئی تو پرمجیت نام کے ایک شخص نے اسے نشیلی چیز پلا کر اس سے آبروریزی کی۔ عورت کی شکایت پر پولیس نے معامہ درج کر ملزم کو جیل بھیج دیا۔ عورت کا الزام ہے کہ اس کے بعد اس کے شوہر نے بھی اسے چھوڑدیا لیکن عورت نے ملزم کو سزا دلانے کی ٹھان لی۔ وہ لگاتار کورٹ میں آکر اس کے خلاف گواہی دے رہی تھی۔ ملزم پرمجیت کے بھائی اس معاملے میں عورت کو گواہی سے روک رہے تھے اور نہ ماننے کی صورت میں اسے سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔ عورت یکم اکتوبر کو ایک بار پھر عدالت میں آئی تھی جہاں ملزم کے بھائی نے پہلے اسے دھمکایا۔ جب وہ نہیں مانیں تو پٹائی کردی۔ اس سے تنگ آکر عورت نے ہائی کورٹ کے دروازے کے باہر خودکشی کی کوشش کی۔ ایڈیشنل سیشن جج کامنی لا نے شہرمیں بڑھتے آبروریزی کے واقعات پر سماج کی لاچاری پر تشویش ظاہر کی۔ جج کا کہنا تھا کہ عورت کی عزت کے تئیں سماج کی بے رخی چونکانے والی ہے۔ انہوں نے کہا عام جنتا کا یہ رویہ مجرمانہ قسم کا ہے۔ جج صاحبہ کامنی لا نے فرمایا کہ عوام اگر بیدار اور چوکس رہیں تو کئی لڑکیوں کی بروقت مدد کی جاسکتی ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ معاملے میں نہیں ہوسکا۔قصوروار کو 10 کی سزا سناتے ہوئے کہا کہ معاملے میں متاثرہ عورت پاس کھڑے لوگوں سے مدد مانگتی رہی لیکن کوئی سامنے نہیں آیا۔ جج کا کہنا تھا کہ یہ بہت ہی شرم کا باعث ہے کہ واردات کی جگہ پر کام کررہے مزدور متاثرہ عورت کی مدد کے لئے نہیں آئے۔فیکٹری مالک کو بھی خبر دیر سے لگی۔
پولیس کے رویئے پر بھی عدالت نے تعجب ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی جانچ لچر طریقے سے کی گئی۔ سماعت کے بعد عدالت نے قصوروار پر 52 ہزار روپے کا جرمانہ بھی ٹھونکا۔ جج کامنی لا نے متاثرہ کو ایک لاکھ روپے کی مدد دینے کا بھی حکم دیا۔ انہوں نے کہا معاوضے کے بعد سرکار اس کا نام کسی اسکول میں درج کرائے۔ اس واقعہ میں لڑکی اسکول کے بعد اپنے گھر جارہی تھی کہ راستے میں اسے اس کے ساتھی نے روک لیا اور پاس میں ایک فیکٹری میں لے گیا وہاں اس کے ساتھ آبروریزی ہوئی ۔ لڑکی پاس کھڑے مزدوروں سے مدد مانگتی رہی لیکن کوئی اسے بچانے نہیں آیا۔
(انل نریندر)

07 اکتوبر 2012

گجرات وہماچل میں کانگریس ۔ بھاجپا کی اگنی پریکشا


گجرات اور ہماچل پردیش میں نومبر اور دسمبر میں چناؤ کا اعلان ہوتے ہی کانگریس اور بھاجپا میں گجرات کی جنگ جیتنے کے لئے ایک دوسرے کے خلاف مورچہ بندی شروع ہوچکی ہے۔ کانگریس کی طرف سے اس کی صدر محترمہ سونیا گاندھی نے راجکوٹ میں وزیر اعلی نریندر مودی پر حملہ بولا اور لوگوں سے کہا کہ وکاس کے نام پر لوگوں کو گولیاں ملتی ہیں پھر کیا تھا۔ نریندر مودی جو اپنے تنقیدی لہجہ اپنانے کے لئے مشہور ہیں انہوں نے مہنگائی اور ان کے علاج پر سرکاری خرچ کا معاملہ چھیڑ کر چناؤ ماحول کو گرمادیا ہے۔
اس وقت دونوں صوبوں گجرات۔ ہماچل میں بھاجپا کی حکومتیں ہیں اس مرتبہ گجرات میں سیاسی سرگرمی زیادہ ہے کیونکہ نریندر مودی دوبار وزیر اعلی رہ چکے ہیں اور کیا وہ وکاس کے نعرے کے نام پر تیسری بار ہیٹ ٹرک بنائیں گے لیکن اس بار کے حالات ان کے خلاف ہیں کیونکہ انہیں اپنی پارٹی حریفوں کیشو بھائی پٹیل وغیرہ سے زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ان کے حریفوں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے کام کا طریقہ ڈکٹیٹرانہ رہا ہے۔ جنتا ان کے اس رویہ سے کافی ناراض لگتی ہے۔
اس وقت تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ جب لڑائی وزیر اعلی بنام مرکزی حکومت چل رہی ہے۔ چناؤ میں ریاستی اشوز نہ اٹھاکر ملکی اشوز خوردہ سیکٹر میں ایف ڈی آئی۔رسوئی گیس، ڈیزل کے دام وغیرہ کو اچھالا جارہا ہے۔ نشانہ وزیر اعظم اور یوپی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کو بنایا جارہا ہے۔ دونوں ریاستوں میں بھاجپا حکمراں ہے اس لئے اس کے سامنے چیلنج زیادہ ہے۔ ان انتخابات میں جیت کے بعد بھاجپا لوک سبھا چناؤ میں خود کو مرکز ملیں کانگریس کا متبادل پیش کرسکتی ہے۔ کانگریس سے وابستہ سبھی لیڈر مان رہے ہیں کہ گجرات اور ہماچل میں ہار کا مطلب ہے لوگوں کا بھروسہ کھودینا۔ مہنگائی، کرپشن اور اب ایف ڈی آئی کو لیکر بھارتیہ جنتا پارٹی جس طرح سے گرج رہی ہے اس سے وہ لوگوں میں حکمراں کانگریس کے خلاف منفی رائے قائم کرنا چاہتی ہے اس کے سہارے بھاجپا کو ان دونوں ریاستوں میں کامیابی کی امید بھلے ہی ہو لیکن اس کے لئے ان ریاستوں میں چناؤ جیتنا ایک بڑی آزمائش ہوگی۔ یہاں نریندر مودی کا وقار داؤں پر لگا ہے اس لئے انہوں نے بھاجپا ہائی کمان سے کئی بڑے لیڈروں کو ریاست بھیجنے کی اپیل کی ہے مگر بھاجپا ہائی کمان نریندر مودی کی درخواست پر حیران ہیں۔ پارٹی مان کر چل رہی ہے کہ نریندر مودی اس کے لوک سبھا چناؤ میں وزیر اعظم کے امیدوار ہوں تو وہ ان کے سہارے مرکز میں اقتدار میں لوٹ سکتی ہے مگر مودی کو گجرات میں اپنے سیاسی حریفوں سے کم بھاجپا کے ناراض لیڈروں کی مخالفت کا سامنازیادہ ہے جو ان کے خلاف منفی مہم میں لگے ہیں۔پہلی مرتبہ کیشو بھائی پٹیل اپنی نئی پارٹی کے ساتھ چناوی اکھاڑے میں اتر رہے ہیں۔ بھلے ہی وہ جیت نہ پائیں لیکن بھاجپا کی راہ میں کانٹے ضرور بوسکتے ہیں اس کا فائدہ کانگریس کو پہنچے گا۔ہماچل میں کانگریس اندرونی رسہ کشی کے بعد سنبھل گئی ہے۔ پارٹی ویر بھدر سنگھ کی قیادت میں اپنی قسمت آزما رہی ہے۔ وہیں بھاجپا چناوی تیاریوں میں پچھڑی نظر آرہی ہے۔ اس لئے وہاں ٹکٹوں کو لیکر گھمسان تھما نہیں ہے۔
دونوں ریاستوں کے چناؤ نتائج ملک کے مستقبل کی ہوا طے کریں گے۔ اس وقت گھوٹالوں اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے سبب نشانے پر رہی کانگریس اگر نتائج اپنے حق میں کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو یہ ایک طرح سے یوپی اے کو کلین چٹ ہوگی۔ اس کے بعد وہ بڑھے ہوئے حوصلے کے ساتھ لوک سبھا کے چناؤ کیتیاریوں میں جٹ سکے گی۔ وہیں بھاجپا کے سامنے چیلنج عوام تک اپنی بات صحیح طریقہ سے پہنچانے کا ہے۔ گجرات و ہماچل کے چناؤ دونوں پارٹیوں کانگریس۔ بھاجپا کیلئے سخت اگنی پریکشا ہیں اسی کے سہارے لوک سبھا چناؤ کے لئے آگے کی راہ آسان ہوگی۔

اوبامہ بنام مٹ رومنی


امریکی صدارتی چناؤ کی پہلی بحث میں الجھانے والی الزام تراشیوں کی سچائی کو اس حقیقت کے ذریعہ سے سمجھا جاسکتا ہے کہ صدر براک اوبامہ کے پاس قرضہ سے نپٹنے کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔ جو تجویزیں انہوں نے رکھی ہیں ان سے امریکہ پر قرض بڑھے گا۔ وہیں ری پبلکن امیدوار مٹ رومنی کے پاس تو اوبامہ سے بہتر پلان ہیں۔ اس سخت تجزیہ کو سمجھنے کیلئے آپ کو مٹ رومنی کی چناؤ کنویسنگ میں کی گئی تقریروں سے اندازہ لگانا پڑے گا۔امریکی صدارت کے لئے دونوں امیدواروں کے آمنے سامنے مباحثہ ہوا اس میں رومنی کے سوالوں کے سامنے براک اوبامہ ہلکے پڑے ۔ ان کے سامنے ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لئے کوئی متبادل منصوبہ نہیں ہے۔ رومنی کے سامنے پراپرٹی ٹیکس کو ختم کرنے سمیت ان کے پاس تبدیلی کے کئی پرستاؤ ہیں۔ اگر وہ لاگو ہوتے ہیں امریکی حکومت پر ان کا خرچ10 برسوں میں پانچ کھرب ڈالر بیٹھے گا جبکہ رومنی کا دعوی ہے کہ ان کے پاس سرکار پر قرض بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ قانونی اڑچنوں کو دور کرکے پیسہ بچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکیوں کو جن خامیوں کی وجہ سے امیروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے ان کو بند کریں گے تاکہ غریبوں کو اس کی قیمت نہ چکانی پڑے لیکن اگر امیر طبقوں کو فائدہ پہنچانے والی تمام گڑ بڑیوں کو دور کریں گے تو تب بھی اتنی رقم جمع نہیں کر پائیں گے جن سے وہ لوگوں سے کئے وعدے پورے کرسکی۔ وہیں امریکی چناؤ اور وہاں کی سیاست پر باریکی سے نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ رومنی اوبامہ سرکار کی غلطیاں سامنے لانے کے لئے یہ سب وعدے کررہے ہیں ۔ اب تک کے اوپینین پول سے پتہ لگتا ہے کہ ابھی تک صدر براک اوبامہ اپنے حریف رومنی سے آگے ہیں کیونکہ سیاہ فام امریکی مانتے ہیں براک اوبامہ نے امریکہ کیلئے خطرہ بنے القاعدہ لیڈر اوسامہ بن لادن کا صفایا کرکے خوف کے ماحول سے نکالا ہے اور مانتے ہیں کہ اب امریکی بے خوف ماحول میں جی سکیں گے اور دیش کی معیشت میں استحکام آسکے گا۔ جہاں تک مندی کا سوال ہے اس کو دور کرنے کے لئے اوبامہ کے پاس کئی اسکیمیں ہیں جن کو وہ اگلے عہد میں نافذ کرکے ایک خوشحال امریکہ بنانے کا خواب تعبیر کرسکیں گے۔

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...