Translater

Corruption لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Corruption لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

24 جولائی 2012

آچاریہ بال کرشن کی گرفتاری کے پیچھے اصل مقصد کیا ہے؟

یوگ گورو بابا رام دیو اور انا ہزارے کے کرپشن اور کالی کمائی کے خلاف آئندہ مشترکہ مہم کے ٹھیک پہلے جمعہ کو رام دیو کے خاص ساتھی آچاریہ بال کرشن کو سی بی آئی نے پتنجلی یوگ پیٹھ ہری دوار سے گرفتار کرلیا ہے۔ اس کے خلاف فرضی پاسپورٹ معاملے میں عدالت میں مقدمہ دائر ہونے کے بعد سمن جاری کیا گیا تھا۔ ذرائع نے کہا بال کرشن کو جمعہ کو سی بی آئی کی اسپیشل عدالت میں حاضر ہونا تھا لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے اس کے بعد انہیں ہری دوار میں بابا رام دیو کے آشرم سے وہاں موجود لوگوں کی مخالفت کے درمیان گرفتار کیا گیا۔ فرضی پاسپورٹ اور دوہری شہریت اور فرضی ڈگری معاملے میں سی بی آئی نے پچھلے سال 23 جولائی کو ایک ایف آئی آر درج کی تھی۔ اسی مہینے 10 جولائی کو بال کرشن کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔ عدالت میں انہیں پیش ہونے کے لئے20 جولائی تک کا وقت دیا تھا۔ سی بی آئی نے جانچ میں پایا کہ بال کرشن نے اترپردیش کے خرجہ سنسکرت یونیورسٹی کے پرنسپل سے مل کر جعلی سرٹیفکیٹ لیا ، جس سے پاسپورٹ بنوایا۔ دونوں کے خلاف دھوکہ دھڑی سمیت دوسری دفعات میں معاملے درج کئے گئے۔ بال کرشن کے خلاف پاسپورٹ قانون کے تحت بھی معاملہ درج کیا گیا۔ سمپورن آنند سنسکرت یونیورسٹی سے ویریفائی کرنے سے پتہ چلا کہ بال کرشن کا نام ان کے ریکارڈ میں نہیں ہے۔ سی بی آئی نے بال کرشن کو سرٹیفکیٹ میں دئے گئے نام اور سیریل کو ادارے کے ریکارڈ سے ملایا جس میں یہ نمبر کسی دوسرے طالبعلم کا پایا گیا۔ اسی یونیورسٹی کی جعلی ڈگری بال کرشن نے بنوائی تھی۔ بال کرشن کی شہریت کے بارے میں بھی نیپال سے معلومات مانگی گئی ہے لیکن وہاں سے ابھی کوئی جواب نہیں آیا۔ آچاریہ کے حمایتیوں نے ان کی گرفتاری کا دہرہ دون اور ہری دوار میں جم کر احتجاج کیا، نعرے بازی کی اورا ن کی کار کے آگے لیٹ گئے اور پتنجلی پیٹھ کے سامنے ہائی وے جام کردیا۔ پولیس کو حالات سنبھالنے کے لئے طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ آچاریہ بال کرشن کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے بابا رام دیو نے کہا سرکار نے 9 اگست کی تحریک کو کچلنے کے لئے سازش کے تحت آچاریہ کو سی بی آئی کے ذریعے گرفتار کروایا ہے۔ انہوں نے کہا تحریک سے گھبرائی مرکزی حکومت نے آتنک وادیوں کی طرز پر آچاریہ بال کرشن کی گرفتاری کی ہے لیکن اس سے تحریک کمزور نہیں ہوگی۔ جمعہ کی رات سہارا گرین زون میں اخبار نویسوں سے بات چیت میں بابا نے کہا پہلے سی بی آئی کے ذریعے سرکار نے نیپال سرکار پر دباؤ بنایا وہ بال کرشن کو نیپالی شہریت سے متعلق سرٹیفکیٹ دیں لیکن جب نیپال سرکار نے صاف کہہ دیا کہ آچاریہ بال کرشن بھارت کا شہری ہے تو پھر نقلی جرم کی سازش رچی گئی اور اس کو رچ کر بال کرشن کو گرفتار کرلیا۔ رام دیو کا کہنا ہے کہ آئین میں گیانیوں کو بھی پاسپورٹ حاصل کرنے کا حق ہے تو آچاریہ کو پاسپورٹ بنوانے کے لئے فرضی ڈگری حاصل کرنے کے الزام میں بال کرشن کی گرفتاری پر سوال اٹھایا اور پوچھ تاچھ میں رام دیو کی بھی معاشی اور کاروباری سرگرمیوں کے بارے میں بھی سی بی آئی کو مدد ملے گی۔ اس میں جہاں بدلے کی کارروائی کی بو آتی ہے وہیں اصل نشانہ بابا لگتے ہیں۔ بال کرشن تو محض دباؤ بنانے کے لئے ایک مہرہ ہیں۔ انا ہزارے اور بابا رام دیو میں بہت فرق ہے۔ انا ہزارے ایک فقیر ہے جو بہت سادی زندگی بسر کرتے ہیں جبکہ بابا ہائی پروفائل صنعت کار بن گئے ہیں جن کا کروڑوں کا کاروبار ہے اور اربوں کی اسٹیٹ ہے۔ اصل نشانہ تو بابا رام دیو ہی ہیں۔

18 مئی 2012

مدھیہ پردیش کے یہ بھرشٹ افسر

اس دیش میں لگتا ہے کہ افسروں نے بھرشٹاچار کے سارے ریکارڈ تور دئے۔ مدھیہ پردیش کے بھرشٹ افسروں اور کاروباریوں کی تجوریوں سے بے پناہ پیسہ نکل رہا ہے۔ گذشتہ ایک سال کے آنکڑوں پر نظر ڈالیں تو 120 کروڑ روپے سے زیادہ کی جائیداد منظر عام پر آچکی ہے۔ یعنی ہر ماہ 100 کروڑ روپے بھرشٹوں کی جیب سے نکلے ہیں۔ انکم ٹیکس لوکایکت سمیت دوسری ایجنسیوں کے ذریعے ڈالے گئے چھاپوں میں یہ رقم منظر عام پر آئی ہے۔ انکم ٹیکس اور لوکایکت افسروں نے کہا ہے کہ اگر انہیں اور ادھیکار دے دئے جائیں تو وہ اس منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کو اور بھی پکڑ سکتے ہیں جو بھرشٹ طریقے سے اکٹھا کی گئی ہے یا جس میں کالے دھن کا استعمال کیا گیا ہے۔ سال2011-12 میں مختلف ایجنسیوں کی چھاپہ مار کارروائی میں اندور، بھوپال، جبلپور اور گوالیار میں کی گئی 17 چھاپہ مار کارروائیوں میں انویسٹی گیشن ونگ نے 482 کروڑ روپے سرنڈر کرائے ہیں۔سریش بھد بنسل گروپ ، ساگر گروپ، سگریٹ گروپ،اوکھابلڈر۔جامدار، امبیکا سالویکس وغیرہ گروپوں پر کارروائی ہوئی۔ نقد اور منقولہ جائیداد 45 کروڑ کی ضبط کی گئی۔ آندھرا پردیش میں182 سروے کئے گئے۔ بھوپال میں 87 اور اندور میں 95 سروے میں باالترتیب 56 کروڑ اور 323 کروڑ روپے سرنڈر ہوئے۔ یہ سروے بیوپاریوں ، اداروں اور بزنس گروپوں پر کئے گئے۔یہ ہی اس دیش کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے کہ جو پیسہ ترقی کے منصوبوں پر لگانا چاہئے تھا وہ ان بھرشٹ افسروں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔جتنے پیسے ان افسروں نے لوٹے اس سے توپردیش میں گاؤں اور قصبوں تک 7 میٹر چوڑائی کی 3 ہزار کلو میٹر سڑک بنائی جاسکتی تھی یا فٹ پاتھوں پر رہنے والے یا غریبوں کے لئے1.20 لاکھ گھر بن سکتے ہیں۔پرائمری تعلیم کیلئے 8 ہزار اسکول کی عمارتیں بنائی جاسکتی تھیں۔ سبھی سہولیات سے آراستہ جدید 5 ہسپتال بن سکتے تھے۔پردیش میں کم سے کم ایک اچھا ہسپتال بن سکتا تھا۔
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Lokayukta, Madhya Pradesh, Vir Arjun, 

03 مئی 2012

ججوں کی جوابدہی کا سوال



Published On 3 May 2012
انل نریندر

مرکزی اطلاعاتی کمیشن نے قانون وزارت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ججوں کے خلاف شکایتو ں کے ساتھ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں بھیجے گئے خطوط کا خلاصہ کرے۔ اس قدم کے بعد ان ججوں کے نام سامنے آسکتے ہیں جن کے خلاف شکایتیں آئیں ہیں۔ انگریزی کے اخبار ''ہندوستان ٹائمز'' نے اپنی ایک جامع رپورٹ میں کہا ہے کہ پچھلے ایک سال میں کم سے کم 75 ایسی شکایتیں موجودہ ججوں کے خلاف بھارت سرکار نے چیف جسٹس اور چیف جسٹس آف انڈیا کو بھیجی ہیں جن پر انہیں اس پر مناسب کارروائی کرنے کوکہا گیا ہے اور یہ سبھی جج سپریم کورٹ ہائی کورٹ میں اس وقت جج ہیں۔ محکمے نے سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف15 شکایتیں، مختلف ہائی کورٹوں کے 9 چیف جسٹس اور مختلف ہائی کورٹ کے 51 سٹنگ ججوں کے خلاف شکایتوں کو بھیجا ہے۔ زیادہ تر شکایتیں جنتا ، وکیلوں اور سماجی رضاکار تنظیموں کے رضاکاروں نے بھیجی ہیں۔ یہ جانکاری پہلی بار ایک آر ٹی آئی سے ملی ہے جو دہلی کے سبھاش اگروال نے مانگی تھی۔ وزارت نے پہلے دعوی کیا تھا وہ اس لئے شکایتوں کی کاپی نہیں دے سکتی کیونکہ ان شکایتوں کو ہندوستان کے چیف جسٹس اور متعلقہ معاملوں میں دیگر عدالتوں کے چیف جسٹسوں کو بھیجا گیا ہے۔ وزارت نے یہ بھی کہا ہے کہ وزارت ان شکایتوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتی۔ آر ٹی آئی رضاکار سبھاش اگروال کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی اطلاعاتی کمیشن نے پایا کہ خطوط میں ان کی مانگ جائز ہے۔ کمیشن نے حکم دیا ہے کہ ایک سال پہلے کی تاریخ سے ان خطوط کو بھی دیا جائے۔ اطلاعاتی کمشنر سشما سنگھ نے وزارت کو اس طرح کا ریکارڈ رکھنے کی ہدایت بھی دی کہ درخواست دہندہ کو ان کی عرضی پر انہیں دیا جاسکے۔
ججوں کی جوابدہی پر حال ہی میں ایک میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ گلاب تلسیانی کو رشوت خوری معاملے میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اسپیشل جج وی کے مہیشوری نے تلسیانی کو سزا سناتے ہوئے کہا کہ جوڈیشیل آفس پر لوگوں کو بھروسہ ہے۔ جٓج کا برتاؤ بھی کافی اچھا ہونا چاہئے۔ سوسائٹی جج میں ان تمام خوبیوں کو دیکھنا چاہتی ہے اور ججوں میں یہ تمام خوبیاں ہونی چاہئیں۔ عدالت نے کہاانصاف کے عمل کو صاف رکھنے کی ضرورت ہے اس کے لئے جج کو فراخ دلانہ رویہ دکھانا ہوگا۔ سی بی آئی کے مطابق موجودہ معاملے میں قصوروار گلاب تلسیانی دراصل1986ء میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ ہوا کرتے تھے اس معاملے میں شکایت کنندہ سے فیکٹری چالان نپٹانے کے عوض میں دو ہزار روپے کی رشوت لی تھی۔ اس بارے میں کی گئی شکایت کے بعد سی بی آئی نے تلسیانی کے گھر سے رشوت کی رقم برآمد کی تھی۔ تلسیانی نے شکایتی سے اپنے چیمبر میں رشوت مانگی تھی اس پر سی بی آئی نے شکایت کنندہ کی جیب میں ایک ٹیپ ریکارڈر رکھ دیا تھا اور ساتھ ہی نوٹوں پر کیمیکل لگا دئے گئے تھے۔ 7 جون 1986ء کو شکایتی ملزم جج کے گھر پہنچا اور وہاں رقم جج کے حوالے کردی۔اسی دوران لین دین کی بات ریکارڈ ہوگئی۔تلسیانی اب ریٹارڈ ہو چکے ہیں اور وہ اس وقت 74 برس کے ہیں۔ ان کی اہلیہ بیمار ہیں تمام حالات کو دیکھتے ہوئے عدالت نے ملزم کو تین سال کی سزا سنائی اور 50 ہزار روپے جرمانہ کیا ہے۔
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Judiciary, Vir Arjun

04 اپریل 2012

مہنگائی منہ پھاڑے جات ہے۔۔۔


Published On 4 April 2012
انل نریندر
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر فیصلہ بیشک کچھ دنوں کے لئے ٹل جانے سے بھلے ہی لوگوں کے لئے تھوڑی راحت مل گئی ہو لیکن نئے کاروباری سال کے آغاز میں تقریباً سبھی چیزوں کے دام بڑھنے سے ہورہا ہے۔ بجٹ میں بڑھی ایکسائز ڈیوٹی اور سروس ٹیکس بڑھنے سے کھانا پینا، گھومنا پھرنا سب کچھ مہنگا ہونے جارہا ہے۔ عام آدمی کو ڈس رہی مہنگائی ڈائن کا ڈنک اور تیز ہوگیا ہے۔ سرکار کے بجٹ میں وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے پروڈکشن ٹیکس میں اضافہ اور سروس ٹیکس کی شرح کا دائرہ دونوں بڑھا کر عام جنتا کی پیٹھ پر 45 ہزار کروڑ روپے کے ٹیکس کا بوجھ لاد دیا ہے۔ ان دونوں ٹیکسوں میں اضافہ ایتوار سے لاگو ہوگیا ہے۔ پروڈکشن ٹیکس کی شرح کو 10 سے بڑھا کر12 فیصدی کرنے کا اثر بازار میں دستیاب تمام سامان پر ہوگا۔ سیمنٹ برانڈڈ ،ریڈیمیٹ گارمینٹ سے لیکر سونا اور زیورات سبھی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ پروڈکشن ٹیکس کے ساتھ سروس ٹیکس بھی صارفین پر بھاری پڑ رہا ہے۔ اب اس کے دائرے میں ان علاقوں کی سرکاری خدمات بھی جڑ رہی ہیں جہاں وہ نجی سیکٹر سے مقابلہ آرا ہیں۔ اس کے تحت ٹرینوں میں AC1-AC2 ٹائر میں سفر کرنے والے مسافروں کو ایتوار سے زیادہ کرایہ دینا پڑے گا۔ پلیٹ فارم ٹکٹوں کے لئے بھی 3 روپے کے بجائے5 روپے ادا کرنے پڑیں گے۔ بجلی، زمین، فلیٹ و موٹر سائیکل، کار کے لئے زیادہ پیسے چکانے ہوں گے۔ سونا ،چاندی خریدنا مہنگا ہوگیا ہے۔ شراب مہنگی ہوگئی ہے، چیک ڈرافٹ و پوسٹل آرڈر کی میعاد 6 مہینے سے گھٹا کر 3 مہینے کردی گئی ہے۔ پوسٹ آفس میں ڈپازٹ، پی پی ایف ،این ایم سی میں زیادہ سود ملے گا۔ لائف انشورنس سے بنے رہنے کے ساتھ آٹو انشورنس میں بھی اضافہ ہوگا۔ مہنگائی کی مار جھیل رہے عام آدمی کو اب موٹربیمہ کی بڑھی ہوئی شرحوں کا بوجھ بھی اٹھانا ہوگا۔ بھارتیہ بیمہ ریگولیٹری ڈولپمنٹ اتھارٹی نے مختلف زمروں میں تھرڈ پارٹی موٹر پریمیم چارج 5 سے 20 فیصدی تک بڑھایا ہے۔ تھرڈ پارٹی بڑھی ہوئی قسط شرحوں کے پریمیم کے ساتھ صارفین کو دو فیصدی بڑھا ہوا سروس ٹیکس بھی چکانا ہوگا۔ نئی شرحیں جمعہ سے نافذ العمل ہوگئی ہیں۔ مہلائیں بھی اس سے اچھوتی نہیں۔ ان کے بیوٹی سامان سمیت بیوٹی پارلر کا خرچ بھی مہنگا ہوا ہے۔ دیش کے نامی گرامی ایسوسی ایشن ایسوچیم نے بھی مہنگائی کے بارے میں سروے کرایا ہے۔ اس سے زیادہ تر عورتوں نے کہا ہے کہ گھریلو بجٹ کے قابو میں رکھنے کے لئے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ بڑھتے خرچ پر لگام لگانا مشکل ہورہا ہے۔
70 فیصدی عورتوں کا خیال ہے کہ زیادہ سروس ٹیکس کے سبب فون سروس سمیت سبھی ضروری چیزیں مہنگی ہوں گی۔ اتنا ہی نہیں پروڈکشن ٹیکس میں اضافے سے عام آدمی کی روز مرہ کی زندگی متاثر ہوگی۔ آمدنی تناسب کے حساب سے نہیں بڑھے گی۔ جس حساب سے خرچ بڑھ جائے گا ۔ مہنگائی آنے والے دنوں میں اور بڑھے گی۔ اگر پیٹرول ،رسوئی گیس وغیرہ کے دام بڑھتے ہیں تو ان کا سیدھا اثر عام آدمی پر پڑے گا۔ پہلے سے ہی مہنگائی کی مار سے پریشان عام آدمی کی کمر ٹوٹ جائے گی لیکن اس سرکار کو عام آدمی کی فکر کہاں ہے؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ جو جانے مانے ماہر اقتصادیات ہیں ،کی پالیسیوں نے غریب آدمی کا تو بیڑا غرق کردیا ہے دوسری طرف گھوٹالے پر گھوٹالہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ یہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟ غریب جنتا کی جیب میں ڈاکے سے ہی تو آرہا ہے۔
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Inflation, Petrol Price, Price Rise, Scams, Vir Arjun

28 مارچ 2012

ٹیم انا نے ایک بار پھرزوردار انگڑائی لی



Published On 28 March 2012
انل نریندر
انا ہزارے نے ایتوار کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ایک دن کا اپواس رکھ کر جن لوک پال تحریک کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی۔ کرپشن اور مجرمانہ معاملوں کا سامنا کر رہے سیاستدانوں کے خلاف اگست تک ایف آئی آر درج نہ ہونے پر جیل بھرو تحریک شروع کرنے کی بھی دھمکی دی۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت کو خبردار کیا کہ 2014 ء تک لوک پال بل لاؤ یا کرسی چھوڑنے کو تیار رہو۔ ایتوار کو جنترمنتر پر وہی پرانا ماحول نظر آیا جو پچھلے سال اپریل۔ اگست میں رام لیلا میدان میں دیکھنے کوملا تھا۔ ٹیم انا دہلی میں پھر سے عوامی حمایت پانے میں کامیاب رہی۔ کرپشن کے خلاف لڑنے والے لوگوں کی سلامتی کو لیکر ایک روزہ دھرنے کے دوران ٹیم انا نے مضبوط جن لوک پال کی مانگ دوہرائی۔ اس دوران ٹیم انا نے کرپشن کے خلاف لڑ رہے لوگوں کی سلامتی کو لیکر سیاستدانوں پر تلخ تبصرے کئے۔ پارلیمنٹ کی توہین کا الزام جھیل رہے اروند کیجریوال پرلگتا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کے قانونی نوٹس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ بیہڑو میں تو چیتے پائے جاتے ہیں ،ڈکیت تو پارلیمنٹ میں بنتے ہیں۔ حال ہی میں آئی اداکار عرفان خان اور ہدایت کارتگمانشو دھلیا کی فلم'پان سنگھ تومر' کا یہ ڈائیلاگ اروند کیجریوال کو اتنا پسند آیا کہ انہوں نے فلم کو تین بار دیکھا۔ لیکن جب انہوں نے اس بات کو سچائی کے ساتھ کہاتو کچھ نیتاؤں کو برا لگ گیا اور سپریم کورٹ کا سہارا لیکرانہیں مراعات شکنی کا نوٹس دے دیا گیا۔ جب چور ہیں تو چور کہنے سے کیوں ڈرتے ہیں۔ جبکہ سچائی تو یہ ہے کہ جنتا کے ذریعے چن کر پارلیمنٹ کے اندر پہنچنے والے قریب50 فیصدی ایم پی ایسے ہیں جن پر مجرمانہ معاملے چل رہے ہیں، یہ کہنا تھا کیجریوال کا۔ اسمبلی میں تال ٹھونکنے والے ہزاروں ممبران اسمبلی جرائم پیشہ نظریئے کے تھے۔سیڑھی چڑھ کر نیتا گری کا چولا اوڑھنے میں کامیاب ہیں۔ اروند کیجریوال کے مطابق میڈیا سائٹس اور اخباروں کے ذریعے سے اس بات کی وضاحت ہوچکی ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں وقار اور اخلاقیات کی بات کرنے والے قریب162 ممبران پرالیمنٹ پرمجرمانہ معاملے درج ہیں۔ 34 کیبنٹ وزیروں میں سے قریب14 کے اوپر کرپشن کے سنگین الزام لگے ہیں۔ کیجریوال کے مطابق جن وزراء پر کرپشن کے الزامات ہیں وہ ہیں پی چدمبرم(ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ) اجیت سنگھ (وکی لکس کے مطابق انہوں نے 10 کروڑ روپے فی ایم پی بانٹے) فاروق عبداللہ (جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے گھپلوں کا الزام) جی کے واسن نے دو لاکھ ایکڑ زمین تاملناڈو میں محض44 کروڑ روپے میں کچھ چہیتی کمپنیوں کو بیچ دی۔ کملناتھ نے ممبران کے ووٹ خریدنے کے لئے پیسہ بانٹا۔ کپل سبل پر ٹو جی گھوٹالے میں شامل ہونے کا الزام ہے۔ شرد پوار کا نام ٹیلی اسکیم میں اچھلا۔ شری جے پرکاش جیسوال پر 10 لاکھ کروڑ کوئلہ اسکینڈل میں شامل ہونے کا شبہ ہے۔ آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں سشیل کمار شنڈے کا نام بھی آیا ہے۔ ولاس راؤ دیشمکھ کا بھی اسی اسکینل میں نام اچھلا ہے۔ ایم کے آلاگیری نے 20 کروڑ روپے کی زمین محض 85 لاکھ روپے میں خریدی۔ ویر بھدر سنگھ پر ایف آئی اے ایس افسر کو رشوت دینے کا معاملہ چل رہا ہے۔ ایس ایم کرشنا کا نام مائننگ اسکینڈل میں آچکا ہے اور پرفل پٹیل پر ایئر انڈیا کو ڈوبانے کا الزام ہے۔ کیجریوال نے آگے کہا کہ 14 ممبران پارلیمنٹ ایسے ہیں جن پر قتل کا مقدمہ چل رہا ہے، وہیں 20 ممبران پارلیمنٹ پر قتل کی کوشش کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ 11 ممبران پارلیمنٹ پر ٹھگی اور زمین ہڑپنے وغیرہ میں شامل کورٹ میں ابھی معاملے چل رہے ہیں۔ 73 ایسے ایم پی ہیں جو اغوا کر زرفدیہ کے معاملے میں مطلوب چل رہے ہیں۔
دیش کی سبھی ریاستوں میں کل ملاکر 4120 ممبر اسمبلی چنے جاتے ہیں۔ ان میں قریب 1176 ممبران اسمبلی ایسے ہیں جن پر مجرمانہ معاملے تھانوں میں درج ہیں۔ 513 ممبران پر اغوا قتل ،اقتدام قتل اور زرفدیہ مانگنے کا مقدمہ فائلوں میں دھول چاٹ رہا ہے۔ کیجریوال نے کہا کے ایک چپڑاسی کی نوکری پارنے کے لئے لوگوں کو کریکٹر سرٹیفکیٹ دینا پڑتا ہے ،اس کے خلاف ایک کیس بھی درج ہوتا ہے تو اسے نوکری نہیں دی جاسکتی۔ ممبئی میں انا تحریک تھوڑی کمزور دکھائی پڑی تو سرکار نے یہ مان لیا کے ٹیم انا اب سرکار کے لئے زیادہ خطرہ نہیں ہوگی لیکن جس طریقے سے جنتر منترپر جنتا آئی، اس سے لگتا ہے کہ ایک بار پھر سرکار میں بے چینی دکھائی دے گی اور کیجریوال کا انتہائی سنگین بیان پر رد عمل ضرور سامنے آئے گا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Civil Society, Corruption, Daily Pratap, Jantar Mantar, Lokpal Bill, Vir Arjun

13 مارچ 2012

ایک اور ایماندار افسر کھدان مافیا کا شکار بنا



Published On 13 March 2012
انل نریندر
مرینہ ضلع میں ایک نوجوان آئی پی ایس افسر نریندر کمار کے بے رحمانہ قتل سے ایک بار پھر واضح ہوگیا کہ غیر قانونی کھدائی مافیہ سے ٹکرانا کتنا خطرے کا کام ہے۔ مافیہ سے ٹکرانے کی قیمت نریندر کمار جیسے ایماندار افسر کو اپنی جان گنوا کر چکانی پڑی ہے۔ مدھیہ پردیش کے بانمور میں جانباز پولیس افسر نریندر کمار سنگھ کے قتل سے وابستہ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کرپٹ اور مجرمانہ عناصر کی سسٹم کے اندر کتنی گہری گھس پیٹھ ہے کہ وہ اپنا مفاد پورا کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اس نوجوان افسر کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اس علاقے میں ہورہی اندھا دھند غیر قانونی کھدائی پر اعتراض کیا تھامگر بلوا پتھر سے لدی ایک ٹریکٹر ٹرالی کے ڈرائیور کو یہ ناگوار گذرااور اس نے انہیں روندھ ڈالا۔ وہ بھی پولیس چوکی سے محض 500 میٹر کی دوری پر۔ 2009ء بیچ کے آئی پی ایس افسر نریندر کمار سنگھ کی پوسٹنگ 16 جنوری کو مرینا کے بانمورمیں ایس ڈی او پی کی شکل میں ان کی تقرری ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک مہینے میں ناجائز کھدائی کے 20 سے زیادہ معاملے درج کئے تھے۔ یہ کھدائی مافیا کی آنکھوں میں کرکری بن گئے تھے۔ اسی وجہ سے قتل کی سازش کی قیاس آرائیاں بھی لگائی جارہی ہیں۔ نریندر کمار جمعرات کو سرکاری جیپ میں گشت پر نکلے تھے۔ انہوں نے بولڈروں سے بھرا ایک ٹریکٹر اے بی روڈ پر دیکھا اس کا پیچھا کیا۔ ان کے کہنے پر ڈرائیور منوج گرجر نے ٹریکٹر روکا جیسے ہی نریندر ٹریکٹر کے پاس پہنچے ڈرائیور نے ٹریکٹر اسٹارٹ کرکے آگے دوڑا دیا۔ نریندر نے کسی طرح ٹریکٹر پر قبضہ جما لیا۔ منوج نے گاڑی کو کچے راستے پر اتاردیا۔ نریندر جھٹکا لگ کے نیچے گر پڑے اور پہئے کے نیچے آگئے اور کچھ دور جاکر ٹرالی بھی پلٹ گئی۔ شدید زخمی نریندر کو گوالیار کے ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں مردہ قراردے دیا۔ نریندر کا نام اس فہرست میں ایک اور نام ہے جنہوں نے اپنی فرض کی ادائیگی کو دلیری سے انجام دیا لیکن سسٹم اور مافیا کے گٹھ جوڑ کے آگے وہ بھی شہید ہوگئے بدقسمتی سے پچھلے مہینوں میں ایسے درجنوں معاملے سامنے آئے ہیں جن میں سینئر سے اور کلرک کرمچاری کے یہاں انکم ٹیکس چھاپے میں کروڑوں روپے کی ناجائز املاک کر پردہ فاش ہوا ہے وہیں ایماندار سرکاری ملازمین کی پراسرار موتیں ہورہی ہیں۔ اس سب کی گھناؤنے مثال تو اترپردیش کا این ایچ آر ایم گھوٹالہ ہے جس میں اب تک 9 افسر کرمچاری کی جانیں جاچکی ہیں۔ 2003 ء میں بہار میں انجینئر ستیندر دوبے کے قتل سے شروع ہوا یہ سلسلہ آئی پی ایس افسر نریندر کمار تک جڑ گیا ہے۔ اسی دوران کرپٹ مشینری کی پول کھولنے والے کئی آر ٹی آئی ورکروں کے بھی قتل سے صاف ہے کہ کرپشن کے خلاف لوہا لینا مسلسل مشکل ہوتا جارہا ہے۔
شیوراج سنگھ چوہان بھلے ہی کسی سازش سے انکار کررہی ہے مگر جیسا کہ متوفی افسر کے والد نے الزام لگایا ہے کہ انہیں مقامی سطح پر پولیس اور دیگر محکموں کی مدد نہیں مل رہی تھی حال ہی میں نریندر سنگھ کی حاملہ آئی پی ایس بیوی کا تبادلہ بھی سیاسی دباؤ میں کیا گیا تھا اس لئے بھی تشویش کی بات ہے کیونکہ کھدائی مافیا نے جس طرح سے اپنا جال بچھایا ہے اس کا پتہ لگانا کسی بھی افسر کے لئے بہت مشکل ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سیاسی سرپرستی کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش سرکار آج کٹہرے میں کھڑی ہے ۔ جوڈیشیل انکوائری تو ٹھیک ہے لیکن ایماندار افسروں کی سلامتی کی ذمہ داری آخر کس کی ہے۔ کتنے اور نریندر سنگھ کی قربانی دینی پڑے گی؟
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, IPS Officer Killing, Madhya Pradesh, Vir Arjun

29 فروری 2012

کیجری ۔۔۔۔ بوال



Published On 29 February 2012
انل نریندر
ٹیم انا کے بڑبولے ممبر اروند کیجریوال نے تو ساری حدیں پار کردی ہیں۔ گریٹر نوئیڈا میں ایک چناؤ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں چور، لٹیرے اور آبروریز بیٹھے ہیں ان سے انہیں کوئی امید نہیں ہے۔ کیجریوال نے کہا پارلیمنٹ میں 163 ایم پی ایسے ہیں جن کے خلاف گھناؤنے جرائم کے مقدمے چل رہے ہیں۔ کیجریوال کے مطابق پارلیمنٹ دیش کا سب سے بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے اور جب تک اس کا کردار نہیں بدلا جائے گا دیش میں بہتری نہیں آسکتی۔ انہوں نے آر جے ڈی کے لالو پرساد یادو ، سپا کے ملائم سنگھ یادو پر جم کر نشانہ لگایا اور کہا کہ ایسے لوگ پارلیمنٹ میں کبھی بھی لوکپال بل پاس نہیں ہونے دیں گے۔ کیجریوال کے اس تلخ رویئے کے خلاف سبھی پارٹیوں نے ایک آواز میں ناراضگی ظاہر کی لیکن کیجریوال کو شاید اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ اگلے ہی دن انہوں نے ٹوئٹر پر لکھ دیا کہ پارلیمنٹ اور سرکار مجرموں کے ہاتھ یرغمال ہے۔
انہوں نے میڈیا سے کہہ دیا کے چناؤ ریلی میں کچھ بھی غلط نہیں کہا تھا ایسے میں معافی مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے دوہرایا کہ اگر پارلیمنٹ میں سینکڑوں جرائم پیشہ بیٹھے ہیں تو اس حقیقت کے بارے میں بولنا گناہ کیسے ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں چور، گریکٹ جیسے معمولی جرائم پیشہ نہیں وہاں تو 15 ایسے ایم پی ہیں جن پر قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔ 23 ایسے ایم پی ہیں جن پر اقدام قتل کے معاملے چل رہے ہیں،13 ایم پی ایسے ہیں جن پر اغوا کے مقدمے چل رہے ہیں،11 پر دھوکہ دھڑی کے معاملے ہیں۔ اروند کیجریوال کے اس بیان سے سیاسی پارٹیوں کا بھڑکنا سمجھ میں آتا ہے۔ کیجریوال نے ساری حدیں پار کردی ہیں۔ کچھ ایم پی مجرمانہ پس منظر کے ہو سکتے ہیں لیکن یہ کہنا کے پارلیمنٹ ہی چوروں اور لٹیروں کا ڈیرا ہے، غلط ہے۔ آخر یہ پارلیمنٹ پہنچے کیسے؟ جنتا نے انہیں کیونکر بھیجا۔قصور جنتا کا زیادہ ہے یا ان قوانان کا جو ایسے کردار کے امیدواروں کو چناؤ لڑنے سے نہیں روکتے۔ پھر پارلیمنٹ میں صاف ستھری ساکھ والے ممبران پارلیمنٹ کی بھی اکثریت ہے۔ ہر ایک کو ایک ہی تھالی کا چٹا بٹا کہنا غلط ہے اور یہ اخلاقیات سے پرے ہے۔ ظاہر ہے کہ جیسے ہی پارلیمنٹ کا اجلاس چلے گا پہلا کام ممبران اروند کیجریوال کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے اور انہیں سزا ملنا طے ہے۔ کانگری کے ترجمان راشد علوی نے کہا کہ کیجریوال کا بیان رائے زنی کے لائق نہیں لیکن اس طرح کے بیان جمہوریت اور پارلیمنٹ کی ہی نہیں جنتا کی بھی بے عزتی ہے۔ سپا کے سکریٹری جنرل موہن سنگھ کا کہنا ہے کیجریوال کے منہ سے ایسے الفاظ کا استعمال قابل مذمت ہے۔ باہری اشاروں پر اپنے این جی او کے لئے پیسے بٹورنے کے لئے وہ پارلیمنٹ کو بدنام کررہے ہیں۔ ان کی خبر لی جانی چاہئے کیونکہ کیجریوال تو جمہوری نظام کے ہی دشمن بن گئے ہیں۔ آر جے ڈی پردھان لالو پرساد یادو نے کل کہا کہ کیجریوال تو غیر ملکی ایجنٹ ہیں۔ لگتا ہے ان کی پارٹی لوک سبھا میں کیجریوال کے خلاف تحریک ملامت لائے گی۔ بھاجپا کے ترجمان پرکاش جاویڈکر نے بھی کیجریوال کے بیان کی نکتہ چینی کی ہے۔ اسے قابل مذمت اور لوگوں کی جمہوریت کے تئیں عقیدت کمزور کرنے والا بتایا ہے جبکہ ٹیم انا کے اہم ممبر کمار بشواس کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیجریوال کے بیان پر ہنگامہ کیوں برپا ہے؟
Anil Narendra, Arvind Kejriwal, BJP, Congress, Corruption, Daily Pratap, Lalu Prasad Yadav, Parliament, Vir Arjun

19 فروری 2012

یوپی کے ہیلتھ مشن گھوٹالے نے لی ساتویں بلی


Published On 19th February 2012
انل نریندراترپردیش میں ہوا 5700 کروڑ روپے کا نیشنل رورل ہیلتھ مشن (این آر ایچ ایم) گھوٹالہ ایک کے بعد ایک زندگی لے رہا ہے۔ محکمہ صحت کے 7 فروری سے لاپتہ خزانچی مہندر شرما 50 سال ، کی خون سے لت پت لاش بدھوار کی رات لکھیم پور ضلع سے برآمد ہوئی ہے۔ بمشکل 24 گھنٹے گذرے کے جمعرات کی رات دہلی کے کاروباری سردار رنجیت سنگھ (50 سال ) نے لکھنؤ کے ایک ہوٹل میں نشیلی گولیاں کھا کر خودکشی کرلی۔ بدھ کو ہی سی بی آئی نے این آر ایچ ایم گھوٹالے کے سلسلے میں ان سے لمبی پوچھ تاچھ کی تھی۔ ان کی لاش کے پاس دو صفحات کا خود کشی نامہ ملا ہے۔ اس 5700 کروڑ روپے کے گھوٹالے میں پہلے کئی لوگوں کی جان جاچکی ہے۔ 20 اکتوبر 2010ء کو لکھنؤ کے محکمہ خاندانی بہبود کے سی ایم او ڈاکٹر ونود آریہ کو دن دہاڑے مار ڈالا گیا۔ اسی محکمے کے دوسرے سی ایم او ڈاکٹر وی پی سنگھ کو 2 اپریل 2011ء کو قتل کردیا گیا۔ ڈاکٹر آریہ کے قتل کے بعد ڈاکٹر سنگھ اسی محکمے کے تھے۔ فروری2011ء میں سی ایم او بنے تھے۔ ان قتلوں کے الزام میں گرفتار ڈپٹی سی ایم او ڈاکٹر سچان جون2011ء میں مشتبہ حالت میں لکھنؤ کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ سنیل کمار ورما جو این آر ایچ ایم کے پروجیکٹ منیجر تھے نے جنوری2011ء میں لکھنؤ میں اپنے گھر میں خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔ بنارس میں ڈپٹی سی ایم او سلیش یادو کی پچھلے مہینے ایک سڑک حادثے میں موت ہوگئی تھی۔ اس گھوٹالے میں ریاستی حکومت کے دو وزراء اننت کمارمشر، بابو سنگھ کشواہا کے نام آنے پر انہیں عہدے سے ہٹنا پڑا۔ این آر ایچ ایم گھوٹالے کی جانچ جس تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے ٹھیک اسی طرح سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ سی بی آئی کا شکنجہ جب کھیری کے افسروں پر کسنے لگا تو ان کے دل کے مطابق کام پورا نہ کرنے پر دسگواں سی ایم سی کے سینئر کلرک مہندر شرما کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ الزامات کے گھیرے میں محکمے کے سربراہ سمیت کئی میڈیکل افسر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ کلرک یونین کے پردھان پر بھی رشتے داروں نے نشانہ لگاتے ہوئے سمجھوتہ کرانے کے لئے دباؤ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ خاندان والوں نے پورے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کی مانگ کی ہے تاکہ سازش اجاگر ہوسکے۔ این آر ایچ ایم گھوٹالے سے وابستہ چھٹی موت کو سی بی آئی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ اس نے صاف کردیا ہے کہ محکمہ صحت کے خزانچی مہندر شرما کے قتل کی اترپردیش سی آئی ڈی جانچ کررہی ہے اور ہماری اس پر نظر ہے۔ ضرورت پڑنے پر وہ اسے اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے۔ ادھر مایا کیبنٹ سے ہٹائے گئے وزیر بابو سنگھ کشواہا نے کہا کہ قتلوں کے پیچھے مایاوتی، ان کے وزیر نسیم الدین ، کیبنٹ سکریٹری ششانک شیکھر، داخلہ سکریٹری کنور فتح بہادر و آئی اے ایس افسروں کی سانٹھ گانٹھ ہے۔ میں نے اس سازش کے بارے میں مایاوتی کو بتایا تو انہوں نے مجھے دھمکایا اور زبان بند رکھنے کو کہا۔ پتہ نہیں اس گھوٹالے کو لیکر ابھی کتنی جانیں اور جائیں گی؟ اب تک ہوئی اموات میں سے پانچ کا قتل کیا گیا ، ایک نے خودکشی کی اور تین مشتبہ حالت میں مارے گئے ہیں۔
Anil Narendra, CBI, Corruption, Daily Pratap, Dr. Sachan, NRHM, Uttar Pradesh, Vir Arjun

18 فروری 2012

اور اب ایک سرکاری ڈاکٹر جوڑے سے ملے 35 کروڑ روپے



Published On 18th February 2012
انل نریندر
سرکاری محکموں میں کرپشن کا بول بالا چونکانے والا ہے۔ کچھ سرکاری افسران نے تو ناجائز املاک بنانے کی دوڑ کی ساری حدیں پار کردی ہیں۔ ایک ایسی مثال ہمیں پچھلے دنوں مدھیہ پردیش سے ملی ہے۔ مدھیہ پردیش لوک آیکت ٹیم نے پچھلے دنوں ایک سرکاری ڈاکٹر جوڑے کے اجین اور ناگدہ میں واقع گھر پر چھاپہ مارا۔ ضلع کے محکمہ صحت میں کام کررہے ڈاکٹر ونود و ڈاکٹر ودیا لہری کے پاس آمدنی سے زیادہ کروڑوں روپے کی املاک ملی ہے۔پانچ مکان، ایک پیٹرول پمپ، گودام، 150 بیگھہ زمین،پوہا فیکٹری کا پتہ چلا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ان کی املاک کی کل مالیت35 کروڑ روپے مانی جارہی ہے۔ لوک آیکت ایس پی ارون مشرا نے بتایا کہ اندرا نگر کے باشندے ڈاکٹر ونود لہری اور ان کی اہلیہ ودیا لہری 22 برسوں سے سرکاری ملازمت میں ہیں۔ دونوں ہی دو برس سے معطل ہونے کے سبب جوائنٹ ڈائریکٹر دفتر اجین میں رہ رہے ہیں۔ انہیں اب تک کی اس سرکاری نوکری میں قریب80 لاکھ روپے تنخواہ ملی ہے۔ ڈاکٹر جوڑے کی اتنی آمدنی ہوتی ہے کہ وہ ہاتھوں سے نوٹ نہیں گن پاتے تھے۔ ان کے گھر پر نوٹ گننے کی مشین بھی ملی ہے۔ لوک آیکت کی دوسری ٹیم جب ناگدہ میں ڈاکٹر لہری کے اسپتال روڈ پر واقع مکان کی تلاشی لی گئی تو وہ مکان دیکھ کر چونک پڑا کیونکہ وہاں مکان نہیں بلکہ محل بنا ہوا تھا۔ کافی عرصے سے بند پڑے اس محل کے اندر جدید نرسنگ ہوم اور ایک سوئمنگ پول بھی ملا ہے۔ جوڑے پر بدعنوانی انسداد ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔جوڑے کی املاک کی مالیت کے تخمینے کے بعد اس کی قیمت کا صحیح اندازہ لگ سکے گا۔ ادھر ذرائع کے مطابق لوک آیکت املاک کی قیمت 35 کروڑ سے زیادہ مانتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ڈاکٹر جون 2010 ء سے معطل چل رہے ہیں۔ ناگدہ سروس سینٹر میں شکایتوں کے چلتے معطل ہوئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ سرکار اب اس ڈاکٹرجوڑے کے خلاف کیا کارروائی کرے گی؟ ان معاملوں میں بہار نے اچھی پہل کی ہے۔ حال ہی میں پٹنہ کی مونیٹرنگ عدالت کے اسپیشل جج رمیش چندر مشر نے ایک فروری کو بہار کے سابق ڈی جی پی نارائن مشر کی آمدنی سے قریب ایک کروڑ40 لاکھ روپے سے زیادہ کی املاک ضبط کرنے کے احکامات دئے۔ بہار میں کرپشن کے خلاف جاری مہم میں یہ پہلا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ایک طرف جہاں ٹوجی اسپیکٹرم لائسنس کو منسوخ کروانے کے لئے لوگوں کو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے وہیں بہار سرکار نے ایک نیا قانون بنوا کر اپنی مسلح پولیس کے افسر کی املاک کو ضبط کروانے میں کامیابی پائی ہے۔ اس سے پہلے بھی پٹنہ کی مونٹیرنگ عدالت بہار کیڈر کے آئی ایس افسر ایس ایس ورما سمیت کئی سرکاری ملازمین کی املاک ضبط کرچکا ہے۔ ورما کے پٹنہ میں واقع نجی مکان میں اب سرکاری اسکول چل رہا ہے۔ نگرانی عدالت پٹنہ فائننشیل آفس کے سابق افسر گریش کمار، گیانگم کے سابق افسر یوگیندر سنگھ اور محکمہ جنگلات کے افسر بھولا پرساد جیسے کئی دیگر متنازعہ افسروں کی بھی املاک ضبط کرنے کے بھی احکامات دے چکی ہے۔ سوال صرف سیاسی قوت ارادی کا ہے اور بہار نے راستہ دکھا دیا ہے۔ مدھیہ پردیش سرکار کو بھی بہار سے سبق لینا چاہئے۔
Anil Narendra, Black Money, Corruption, Daily Pratap, Lokayukta, Madhya Pradesh, Vir Arjun

17 فروری 2012

لالواُبائے:رشوت کھائی تو وہ پیسہ کہاں ہے؟


Published On 17th February 2012
انل نریندر
بہار کے سابق وزیراعلی وسابق ریل وزیر لالو پرساد یادو منگل کے روز سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہوئے ان پر 950 کروڑ روپے کے چارہ گھوٹالہ کا الزام ہے۔ سماعت کے دوران لالو اسی انداز میں پیش آئے جس طرح وہ پارلیمنٹ میں جرح کرتے وقت دکھائی پڑتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خاص انداز میں پونے دوگھنٹے تک سی بی آئی کے اسپیشل جج پی کے سنگھ کی عدالت میں بیان درج کرایا۔ اسی دوران لالو جی نے خود پر لگائے الزامات کو پوری طرح سے مستردکرتے ہوئے الٹے سی بی آئی کے خلاف کارروائی کرنے کی مانگ کرڈالی؟ لالو نے کہا کہ ''چارہ گھوٹالے بازوں نے رشوت میں ہم کو کروڑوں روپے دیا تو او پیسہ کہا ہے ؟بھئی میرے پاس تو نہیں ہے۔ سی بی آئی دعوی کررہی ہے کہ میرا پیسہ ہے تو لا کر مجھے دے دیں۔ شام بہاری سنہا تو سورگ میں ہیں ان کو بلایا جائے۔ تب ہی نہ بتائیں گے۔ ہم کو کتناپیسہ گھوس میں دیا ہے لالو پرساد کے پیٹ میں کوئی بات نہیں پچتا ہے ہم کو گھوس ملا ہوتا تو کورٹ میں بھی سچ سچ بتا دیتے۔ دراصل ہم کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے یہ سب کچھ سازش رچی گئی ہے'' عدلیہ اور بھگوان پر عقیدت ظاہر کرتے ہوئے لالو کہتے ہیں اوپر والا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ میرے پر ایسا آروپ لگایا ہے کہ دھرتی پھٹ جائے۔ اور ہم اسی میں سماجائیں۔ جانتے ہیں حضورت سی بی آئی والا لوگ میرا گھینی، کنگھا، بھینسیں سب کا خرچہ میری املاک میں جوڑ لیا ہے۔یہ کیسا انصاف ہے حضور۔مدعی ہم اور مدعالیہ بھی ہم بن گئے۔ ہم ہی نے جانچ کی تمناکی۔ کاغذ پتر دستیاب کرایا اور ہم ہی کو پھنسا دیا گیا۔ ہم سازش کرتے تو سارے کاغذ میں آگ نہیں لگادیتے۔ جب جج موصوف نے لالو سے سوال کیا تو لالو بولے۔ حضور جو سوال ہم کو دیا گیا وہ انگریزی میں ہے۔ ہمارا انگریزی کمزور ہے۔ جب پڑھنے کاٹائم تھا تب ہم گائے گؤ چراتے تھے ۔ ہندی میں لکھنے سے بات ٹھیک سے سمجھ میں آجائے گی۔ کورٹ نے آپ کو ہندی میں ہی دیا جائے گا۔ تاکہ صحیح بات سامنے آسکے۔ لالو پرساد نے کہا کہ سر میں نے بھی پٹنہ لاء کالج سے قانون کی ڈگری لیا ہے۔ جج صاحب نے کہا کہ میں بھی وہیں کا اسٹوڈینٹ رہا ہوں۔ آپ سے جونیئر ہوں آپ کو اپنی بات رکھنے کا پورا موقعہ دیاجائے گا۔ لالو بولے۔ حضور ۔ ای لوگ کہتاہے کہ ہم سوئز بینک میں پیسہ رکھے ہیں۔ سوئز جانا کو دور ہے؟ این ڈی اے والا لوگ یوا ین وشواس کو بولا ہم گورنر بنادیں گے۔ اور ہم کو پھنسا دیں گے۔ جج نے پوچھا آپ پر چارہ گھوٹالہ بازوں سے ہوائی ٹکٹ اورہوٹل میں ٹھہرنے کاخرچ لینے کا الزام ہے۔ لالو نے کہا کہ بہار سرکار کااپنا ہیلی کاپٹر ہے ٹی اے اور ڈی اے بھی ملتا تھا۔ ہم کیوں خرچہ لیتے؟ وزیراعلی اور وزیر خزانہ کی حیثیت سے میں نے کیا کیا یہ فائل پر لکھا ہوا ہے۔ سی بی آئی کہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ لالو نے کورٹ کو بتایا کہ بھارت کی تاریخ میں یہ پہلاموقعہ ہے جب میری گرفتاری کے لئے فوج کو بلانے کے لئے خط لکھا گیا تھا۔ جب کہ میں خود سرینڈر کی بات کہہ چکا تھا۔ فوج نے آنے سے انکار کردیاتھا۔ لالو نے جیسے ہی پوچھ ڈالا۔ حضور سی بی آئی کو سزا دینے کاکوئی پراؤ دھان ہے ہی نہیں جس کو چاہے اسے پھنسا دیتی ہے۔ کہیں کاروڑا کہیں کاپتھر جوڑ کر ہم کو پھنسادیا۔ یہ لوگ انداز پر گریاپکڑرہاہے۔
CBI, Corruption, Fodder Scam, Lalu Prasad Yadav

08 فروری 2012

اور اب پرفل پٹیل پر رشوت لینے کا الزام



Published On 8th February 2012
انل نریندر
وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی دوسری پاری مشکلات سے بھری لگتی ہے۔ ایک پریشانی ختم نہیں ہوتی کہ دوسری سامنے آکر کھڑی ہوتی ہے۔ اگر پی چدمبرم معاملے میں تھوڑی راحت ملی تو لمبی چین کی سانس لینے کا زیادہ وقت نہیں ملا۔ اسی کڑی میں اب باری ہے مرکزی وزیر پرفل پٹیل کی یہ معاملہ کیا گل کھلائے گا؟ کینیڈا کے ایک بڑے انگریزی اخبار ''گلوب اینڈ دی میل'' نے پرفل پٹیل کو لیکر ایک سنسنی خیزخبر شائع کی ہے۔ اس میں الزام لگایا ہے کہ چار سال پہلے اس وقت کے وزیر شہری ہوابازی کی شکل میں پٹیل نے کروڑوں روپے رشوت کی شکل میں لئے تھے اس کے بعد بھی وہ کام نہیں کیا گیا جس کے لئے یہ موٹی رقم لی گئی تھی۔ کینیڈا پولیس نے اوٹاوا کی ایک عدالت میں پرفل پٹیل کو رشوت دینے کے الزام میں ہندوستانی نژاد کینیڈیائی شہری کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔اخبار کے مطابق کینیڈا میں ہندوستانی نژاد ایک تاجر نظیرکاریگر نے سابق وزیر شہری ہوا بازی پرفل پٹیل پر قریب 1.2 کروڑ روپے کی رشوت لینے کا الزام لگایا ہے۔ اس نے ایئر انڈیا سے متعلق ایک ٹھیکہ حاصل کرنے کے لئے پٹیل کو یہ رقم دی تھی۔ یہ رقم اس وقت دی گئی تھی جب وہ ہندوستان کے وزیر شہری ہوا بازی تھے۔ ممبئی کے سابق پولیس کمشنر حسن غفور کے دوست بتائے جارہے کاریگر کا کہنا ہے کہ اس نے وزیر کے قریبی لکشمن ڈھوبلے کے ذریعے ان تک رشوت پہنچائی تھی۔ کینیڈا کا فیڈرل انصاف محکمہ کاریگر کے خلاف کرپشن آف فارن پبلک آفیشیل ایکٹ کی خلاف ورزی کو لیکر مقدمہ چلائے گا۔اس ایکٹ کے تحت بیرون ملک میں رشوت دینا ممنوع ہے۔ مانا جارہا ہے کہ مقدمے میں پرفل پٹیل پھنس سکتے ہیں۔ معاملے کی آئندہ ستمبر میں سماعت ہوگی۔ ایئر انڈیا میں ای سکیورٹی کمپیوٹری کرن سسٹم کی سپلائی کے لئے گلوبل ٹینڈر مانگے گئے تھے۔ یہ ٹینڈر 100 ملین ڈالر کا تھا۔ اسے کینیڈا کی کمپنی کرائپٹو میڈرکس حاصل کرنا چاہتی تھی۔ نظیر کاریگر ہندوستان میں اس کمپنی کے مارکٹنگ انچارج تھے۔
انہوں نے اپنے پرانے دوستوں کے ذریعے رشوت دیکر ٹنڈر لینے کی تیاری کی تھی۔ نظیر نے پٹیل کو کروڑوں روپے کا رعایتی ٹیکس دیا تھا۔ دعوی کیا گیا ہے کہ نظیر نے پٹیل کو ڈھائی لاکھ ڈالر دئے تھے۔ اب کمپنی نے نظیر کے خلاف دعوی ٹھونک دیا ہے۔ منموہن سرکار برسوں سے ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے چلتے بے چین ہے۔ اس گھوٹالے کے نائک اس وقت کے وزیر مواصلات اے ۔راجہ تھے۔ اس معاملے میں نئی نئی الجھنیں سامنے آرہی ہیں۔ اسی درمیان پٹیل پر لگا الزام لیڈر شپ کو ڈرانے لگا ہے۔ اب ہمارے وزیر صنعت پرفل پٹیل نے رشوت کے الزام کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے اس معاملے کی جانچ کرنے کی درخواست کی ہے۔ پٹیل نے کاریگر کے الزام کو بے بنیاد اور مضحکہ خیز بتایا اور کہا کہ جب ایسا کوئی سمجھوتہ ہوا ہی نہیں تو رشوت کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ پٹیل نے وزیر اعظم سے کہا کہ جانچ اس لئے کرائی جائے تاکہ ان کا کردار صاف ہوسکے۔ پٹیل نے لکھا ہے دستاویزوں کی جانچ کرنے سے پتہ چل جائے گا کہ وزارت یا ان کے ذریعے کو ئی بھی ٹھیکہ دینے میں مداخلت نہیں کی گئی تھی۔ سچ کیا ہے اس کا جانچ سے ہی پتہ چل سکتا ہے۔
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Praful Patel, UPA, Vir Arjun

03 فروری 2012

کرپٹ جن سیوکوں کے خلاف راستہ کھلا


Published On 3rd February 2012
انل نریندر
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ میں صاف کردیا ہے کہ کرپشن کے الزامات سے گھرے وزراء اور ایم پی و ممبراسمبلی واعلی حکام اب کارروائی کی منظوری لمبی ہونے کی آڑ میں زیادہ دن تک بچ نہیں پائیں گے۔ سپریم کورٹ نے اپنے یہ دوررس فیصلہ جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی ایک عرضی پر دیا جس میں بتایاگیا تھا کہ کس طرح سے پی ایم او نے اے راجہ کے خلاف کرپشن کامقدمہ مہینوں لٹکا کر رکھا۔ اور کوئی جواب نہیں دیا لوک سیوکوں پر مقدمہ درج کرنے کے لئے میعاد مقرر کرنے سے متعلق ڈاکٹر سوامی کی اس عرضی کو قبول کرلیا اور عدالت نے جہاں مرکزی سرکار کو جھٹکا دیا وہیں اس کے رخ کی دوررس اہمیت یہ ہے کہ اس سے عام آدمی کو کسی بھی عوامی نمائندے کے خلاف وزیراعظم یا عدالت کے پاس جانے کا راستہ کھل گیا ہے۔ بڑی عدالت نے صاف صاف کہا ہے کہ کرپشن انسداد قانون کے کسی بھی عوامی نمائندے کے خلاف شکایت درج عام آدمی کا آئینی حق ہے درصل وزیراعظم دفتر نے سپریم کورٹ میں دائر حلف نامہ میں کہاتھا کہ سوامی کا خط صحیح نہیں تھا کیونکہ سوامی کو طویل عرصے کے بعد پی ایم او سے ملے جواب پر اعتراض تھا۔ اس لئے عزت مآب عدالت نے یہ بھی کہا تھاکہ اگر چار مہینے کے اندر ملزم شخص کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں ملتی تو مان لیا جانا چاہئے کہ متعلقہ اتھارٹی نے اجازت دے دی ہے۔ یہ معاملہ ماہ نومبر 2008کا ہے جب ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں اس وقت کے وزیرمواصلات کے کردار کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے وزیراعظم کو خط لکھ کراے راجہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بارے میں کہاتھا وزیراعظم کے دفتر سے اس کا جواب قریب سولہ مہینے کے بعد مارچ 2010کوملاتھا۔ جس میں کہاگیا تھا کہ ان کی عرضی قبل ازوقت ہے۔ یعنی تب حکومت معاملے کی تہہ میں جانے کی خواہش مند نہیں تھی۔ صرف یہی نہیں ٹوجی گھوٹالے کے متعلق اہم مقدموں کو سوامی عدالت میں لے گئے ہیں۔ یہ بھی کہ سوامی کی پہل کے بعد اے راجہ کو وزارت چھوڑنی پڑی تھی۔ اور ان کی گرفتاری ہوئی سپریم کورٹ اس فیصلے سے وزراء واعلی افسروں کی ایک بڑی سیکورٹی دیوار ضرور ٹوٹ گئی ہے جس کی آڑ میں وہ عام طور پر کرپٹ جن سیوک کرپشن کامعاملہ ہوتے ہوئے بھی بچ نکلتے تھے اب تک ہوتا یہ تھا کہ کسی سرکاری افسر یا عوامی نمائندے کے خلاف کرپشن کا معاملہ درج کرنے سے پہلے سرکار سے اجازت لینی پڑتی ہے اور اکثر ایسی اجازت کی عرضیوں پر یاتو کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تھا یا اجازت نہیں دی جاتی ہے اگر اجازت نہ ہونے کی کوئی ٹھوس وجہ نہ ہوتو آسان طریقہ کوئی فیصلہ نہ لیناہوتا تھا۔ تازہ فیصلے نے دوبڑے پیمانے رائج کردیئے ہیں پہلا یہ کرپشن کامعاملہ چلانے کی عرضی کو حکومت یقینی لمبی میعاد تک نہیں ٹال سکتی اور دوسرا ہمارے جمہوریت میں ہر شہری کو یہ حق ہے وہ سرکار پر کرپشن کے معاملوں میں کارروائی کے لئے دباؤ ڈالے یہ ایک دوررس اثر ڈالنے والے اہم فیصلہ ہے۔
 Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, P. Chidambaram, Subramaniam Swamy, Supreme Court, Vir Arjun

28 جنوری 2012

انا ہزارے نے کہا بدعنوان کو پکڑ کرتھپڑ مارو


Published On 28th January 2012
انل نریندر
کچھ ماہ پہلے ناسک کی ایک ریلی میں انا ہزارے نے کہا تھا کہ وہ گاندھی جی کے نظریات پر بھروسہ کرتے ہیں لیکن لوگوں کو گاندھی کے راستے پر چل کر نہ سمجھایا جاسکے تو شیوا جی کے راستے کو اپنانے میں کوئی گریز نہ کرنا چاہئے۔ جن لوکپال مسئلے پر سرکار سے بار بار ملے دھوکے کے بعد اب انا خود بھی شیواجی کے راستے پر چلنے کی تیاری کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تبھی تو انہوں نے تشدد کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب کرپشن برداشت کرنے میں عام آدمی کی قوت جواب دے جاتی ہے تو اس کے پاس تھپڑ مارنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔ انا نے منگلوار کی رات اپنے گاؤں رالے گن سدھی میں کرپشن کے اشو پر بنی فلم 'گلی گلی چور ہیں' دیکھنے کے بعد یہ متنازعہ رائے زنی کی ۔ یہ پہلی بار نہیں جب انا نے تھپڑ پر کوئی تبصرہ کیا ہو۔ کچھ ہفتے پہلے دہلی میں وزیر زراعت شرد پوار کو ایک شخص کے ذریعے تھپڑ مارے جانے کی اطلاع ملنے کے بعدانانے تبصرہ کیا تھا تو انہوں نے بڑے طمطراق سے پوچھا تھا کہ 'صرف ایک ہی تھپڑ' انا کے اس بیان پر کافی تنقید ہوئی تھی اور ان کے مخالفین کے ذریعے انہیں فرضی گاندھی واد اور تشدد کا حمایتی قراردیا گیا تھا۔ انا کے تازہ بیان کا سیاسی پارٹیوں میں ردعمل ہونا لازمی تھا۔ کانگریس سکریٹری جنرل کا تبصرہ تھا کہ یہ تشدد پر مبنی بیان سنگھ کی سنگت کا نتیجہ ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد میرے من میں ان کے تئیں احترام گھٹا ہے۔ میں انہیں ایک گاندھی وادی کے طور پر دیکھتا ہوں لیکن وہ جس طرح سے تشدد کی باتیں کررہے ہیں اس سے ان کا احترام کم ہوا ہے۔
بھاجپا کے سابق صدر راجناتھ سنگھ کہتے ہیں میں ان سے متفق نہیں ہوں۔ ایک صحتمند جمہوری نظام میں مریاداؤں پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ کرپشن کے خلاف انا کی تحرک کی حمایت کرتا ہوں لیکن تحریک میں مریاداؤں کو ٹھیس نہیں پہنچائی جانی چاہئے۔ سماجوادی پارٹی کے سکریٹری جنرل اعظم خاں کا کہنا تھا کہ انا کا جمہوریت میں بھروسہ نہیں ہے۔ جب کمانڈر ہی تشدد کی بات کرتا ہے تو ٹیم کیا کرے گی؟ انا اپنے راستے سے بھٹک گئے ہیں۔ کرپشن کے اشو پر ٹیم انا کی انتہائی سرگرمی اور سیاسی پارٹیوں پر کی جارہی تنقیدیں اب لوگوں کے گلے سے نہیں اتر رہی ہیں۔ عام آدمی کے علاوہ سیاسی پارٹیوں کو بھی ٹیم انا کا رویہ راس نہیں آرہا ہے۔ کچھ ماہ پہلے تک دہلی میں اپنے انشن کے دوران ملک بھر میں زبردست حمایت ملنے سے گد گد ٹیم انا کی زیادہ ہی سرگرمی اور آئے دن غیرموزوں تبصروں سے ٹیم انا کو لیکر اب زیادہ سنجیدگی نظر نہیں آرہی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو بار بار خط لکھنے اور تمام سوالوں پر جواب طلب کرنے کی حکمت عملی پر اب رائے زنی ہونے لگی ہے۔ یہ اس بات کے اشارے ہیں کہ آنے والے دنوں میں کہیں ایسا نہ ہو کہ لوکپال جیسے اشو پر ٹیم انا الگ تھلگ پڑجائے۔ پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ سے پتہ چل جائے گا کہ جنتا میں انا کی تحریک کا کیا اثر ہوا؟ اگر ایسے نتیجے آتے ہیں جن سے یہ لگتا ہے کہ انا کی باتوں کا اثر جنتا پر نہیں ہوا تو انا کا آگے کا راستہ مشکل ہوجائے گا اور اگر یہ لگا کہ کرپشن ایک اشو بنا ہے تو یقینی طور پر لوکپال بننے کا راستہ آسان ہوجائے گا۔ لیکن تشدد کی بات کرنا انا کو زیب نہیں دیتا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Corruption, Daily Pratap, Vir Arjun

20 جنوری 2012

چھتیس برس کی نوکری،22 لاکھ تنخواہ اور 29 کروڑ کی املاک؟



Published On 20th January 2012
انل نریندر
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمارے دیش میں سیاستداں تو بلیک منی کے لئے ضرورت سے زیادہ بدنام ہیں اصل تو ناجائز کمائی افسر شاہوں کے پاس ہے۔ مدھیہ پردیش میں پچھلے کچھ عرصے سے افسر شاہی برادری پر چھاپے پڑ رہے ہیں۔ ان چھاپوں کے نتیجوں سے تو یہی لگتا ہے کہ لوگ جو سوچتے ہیں وہ صحیح ہے۔ نچلی افسرشاہی نے اتنی لوٹ کھسوٹ مچا رکھی ہے جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ منگلوار کو اجین میں لوک آیکت کی ٹیم نے پی ایچ آئی (عوامی صحت نگرانی محکمہ) کے ایک اسسٹنٹ انجینئر رمیش کمار ولد کندن لال دویدی کے گھر چھاپہ مارا اور تلاشی میں زرعی زمین، مکان، سونے چاندی کے زیورات ، لکژری گاڑیوں سمیت قریب20 کروڑ روپے کی املاک ہونے کے دستاویز ملے۔ لوک آیکت ایس پی ارون مترا نے بتایا کہ دویدی کی 1976 میں ڈپٹی سکریٹری کے عہدے پر نوکری لگی تھی۔ اسے 2010ء تک کل 22 لاکھ روپے تنخواہ ملی۔ کورٹ کے ایک فیصلے کے سبب ڈیڑھ برس سے تنخواہ نہیں لی ہے۔ دویدی کے گھر تلاشی لینے گئی ٹیم کو جب طبیلے میں واقع گھر میں جانا پڑا تو وہ چونک گئے اور انہیں لگا کہ وہ غلط گھر میں تو نہیں گھس آئے۔ بعد میں 20 کروڑ کی املاک کی تفصیل ملی اور طبیلے کی چھان بین ہوئی تب جاکر انہیں لگا کہ وہ صحیح جگہ پر آئے ہیں۔ لوک آیکت کی تلاشی میں دویدی کے گھر پر ایک کار ڈرائیور اور دو نوکر ہونے کا بھی ریکارڈ ملا ہے۔ ان تینوں ملازمین کو دویدی تقریباً15 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دیتا تھا جبکہ اس کی خود تنخواہ 24 ہزار روپے ماہانہ تھی۔ چھاپے میں کیا کیا ملا اس پر غور فرمائیں۔86 بیگھہ زمین قیمت17 کروڑ روپے، 4مکان (اندور، اجین) ڈیڑھ کروڑ روپے، 3 لکژری کاریں21 لاکھ روپے، دو ڈمپر، ٹریکٹر25 لاکھ روپے، دو بائک 1 لاکھ روپے، 13 تولہ سونا 3.64 لاکھ روپے، 2.5 کلو چاندی قیمت85 ہزار روپے،بیوی سادھنا، لڑکاپرینک، پیوش ، اور بہو میگھا کے نام سے بینکوں میں16 کھاتوں میں4 لاکھ روپے۔ دویدی کی9 لاکھ کی بیمہ پالیسی ملی۔
ابھی کچھ عرصے پہلے ہی اندور میں مدھیہ پردیش پولیس کی کرائم جانچ بیورو (ای او ڈبلیو) نے ٹرانسپورٹ محکمے کے ایک کلرک کی 40 کروڑروپے سے زیادہ کی بے حساب املاک کا پردہ فاش کیا تھا۔ زونل ٹرانسپورٹ دفتر میں کلرک کی شکل میں مقرر رمیش عرف رمن پھلدوہے کے خلاف مبینہ کرپشن سے بے حساب دولت بنانے کی شکایت ملی تھی۔ اس شکایت پر اس کے تین مقامی ٹھکانوں پر ایک ساتھ چھاپے مارے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ کلرک کی بے حساب املاک میں الگ الگ مقامات پر کل 49 بیگھہ زمین، 4 پلاٹ، اعلی شان بنگلہ،ایک ہوٹل ، ایک مکان شامل ہے۔ چھاپوں کے دوران پھلدوہے کے ٹھکانے پر زیورات کی شکل میں تقریباً1 کلو سونا اور ساڑھے چار کلو چاندی ملی۔ اس کے علاوہ پانچ بینک کھاتوں اور بیمہ اسکیموں میں سرمایہ کاری کے دستاویز بھی برآمد ہوئے۔ چار مہنگی گاڑیاں، اسکوٹر بھی کلرک کی بے حساب املاک کی فہرست میں ہیں۔ پھلدوہے 1996ء میں سرکاری ملازمت میں آیا تھا اور فی الحال اس کی تنخواہ قریب16 ہزار روپے ماہانہ ہے۔16 ہزار روپے تنخواہ پانے والے نے40 کروڑ روپے کی املاک کیسے بنا لی؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ پکڑی گئی ایسی املاک کا کیا کیا جائے؟ ایک حل تو بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے دکھایا ہے۔ ایک کرپٹ ملازم گریش کمار کے پٹنہ میں واقع عالیشان بنگلے میں اب نتیش کمار نے لڑکیوں کا رہائشی اسکول کھول دیا ہے۔ پچھلے کئی مہینوں سے یہ بنگلہ بند تھا۔ پارک روڈ پر واقع اس 28 کمروں والے بنگلے کو پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی طالبات کی کلاس و رہائشی اسکول میں تبدیل کیا گیا ہے ۔ یہاں 6 سے10 برس تک کی 140 طالبات رہیں گی اور سبھی کلاسیں اسی عمارت میں ہوں گی۔ گریش کا مکان آمدنی سے زیادہ املاک معاملے میں سرکار نے ضبط کیا تھا۔ گریش کمار نے سال1992ء سے 2004ء کے درمیان آمدنی سے 96 لاکھ روپے کی زیادہ املاک بنائی تھی۔ عدالت نے15 نومبر کو ضلع افسر کو گریش کی پراپرٹی ضبط کرلینے کا حکم دیا تھا۔ ڈیڑھ کٹا زمین جو اس کی بیوی کے نام تھی، کو بھی ضبط کرلیا گیا۔ اس اسکول کی پہلی گھنٹی نئے سال (2012ء) میں 2 جنوری کو بجی۔ پسماندہ طبقے کی طالبات جب نئے اسکول کے کمروں میں پہنچیں تو وہ چوک گئیں۔ 10 ویں طالبہ سونی کا کہنا ہے کہ کتنی بڑی الماری ہے؟ ٹیچر میرا آریہ نے ٹوکا: یہ الماری نہیں وارڈ روب ہے ۔ پہلی بار یہ لفظ سن رہی سونی نے الٹا سوال داغا۔ یہ وارڈروب کیا ہوتا ہے؟
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Lokayukta, Madhya Pradesh, Vir Arjun

02 دسمبر 2011

پارلیمنٹ کا تعطل توڑنے کیلئے بیچ کا راستہ نکالنے میں حکومت ناکام


Published On 2nd December 2011
انل نریندر
خوردہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو لیکر کھڑے ہوئے واویلے سے نکلنے کے راستے کو لیکر منموہن سنگھ حکومت شش و پنج میں مبتلا ہے۔ سرکار کی جانب سے پھینکے گئے سارے پانسے بے اثر ثابت ہورہے ہیں۔ کانگریس کے اندر شروع ہوئی کھلی مخالفت میں بھی حکومت کے لئے مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ پہلے مہنگائی، کرپشن اور اب ایف ڈی آئی کے مسئلے پر گھری منموہن حکومت اور کانگریس کو بحران سے نکالنے کے لئے ایک طرف کانگریس صدر سونیا گاندھی کھل کر میدان میں آگئی ہیں۔ وہیں دوسری طرف ایف ڈی آئی کو لیکر اپوزیشن کے حملوں کی دھار کو کند کرنے کے لئے اترپردیش کے ایم پی اور سونیا کے قریبی سنجے سنگھ نے اس مسئلے پر وزیر اعظم اور سونیا گاندھی سے دوبارہ سے نظرثانی کرکے کسانوں ، تاجروں اور صارفین کے مفادات کی سلامتی کے کوچ کے ساتھ ایف ڈی آئی لانے کی درخواست کی ہے۔ جہاں کیبنٹ کی میٹنگ میں اے کے انٹوٹی ، جے رام رمیش سمیت وزرا کی غیر رضامندی دنیا کے سامنے ظاہر ہوچکی ہے وہیں اب سلطانپور کے ایم پی سنجے سنگھ نے حکومت اور پارٹی کو اس پر دوبارہ سے غور کرنے کی اپیل کرکے اترپردیش میں پارٹی کے ڈیمیج کنٹرول کی پہل کروادی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے یوپی کے زیادہ تر لیڈروں اور ممبران پارلیمنٹ کی رائے ہے کہ راہل گاندھی کے دورہ کے بعد کانگریس کے حق میں ماحول کو لیکر ایف ڈی آئی کے فیصلے سے نقصان ہوسکتا ہے۔ اس لئے سنجے سنگھ نے پہل کرکے کانگریس کے خلاف بسپا، سپا، بھاجپا کے ذریعے پیدا کی جارہی عوامی ناراضگی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ممکن ہے سنجے سنگھ نے سونیا گاندھی کی پہل پر ہی یہ بیان دیا ہو تاکہ منموہن سنگھ کو سمجھ میں آجائے کہ ان کی ضد پارٹی پر بھاری پڑ سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے وزیر خزانہ اور کانگریس کے سنکٹ موچن پرنب مکھرجی بھاجپا کی شرن میں گئے تھے۔ انہوں نے بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی سے ملاقات کرکے کوئی بیچ کا راستہ نکالنے اور تعطل کو ختم کرانے کی اپیل کی تھی لیکن اس میں انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ بھاجپا نے بدھوار کو الزام لگایا کہ سرکار نے یہ فیصلہ امریکہ ، فرانس اور برطانیہ جیسے ملکوں کے دباؤ میں لیا ہے۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ دنیا کی خوردہ کمپنیوں میں اس کے لئے کافی لابنگ کی ہے اور پیسہ بھی دیا ہے۔ بھاجپا نے کہا کہ سرکار پارلیمنٹ کی کارروائی چلانے کا راستہ ہموار کرنے کیلئے اپنے فیصلے کو واپس لے یا پھر کام کو ملتوی کرنے کے پرستاؤ کے تحت اس موضوع پر بحث کرانے کے پارلیمنٹ کے جذبے کو قبول کرے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے کہا ملٹی برانڈ خوردہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری یعنی ایف ڈی آئی کی اجازت دئے جانے کی سبھی پارٹیوں اور حکومت میں شامل اتحادی پارٹیوں نے بھی مخالفت کی ہے لیکن حکومت نے ملک کے مفاد کے خلاف ایک طرفہ طور سے پارلیمنٹ اجلاس کے دوران یہ فیصلہ لیا۔ انہوں نے کہا سرکار کو دو تجویزیں دی گئی ہیں یا تو وہ اس فیصلے کو واپس لے کر پارلیمنٹ کے کل مہنگائی، کالی کمائی پر بحث شروع کروائے ، یا پھر خوردہ سیکٹر میں ایف ڈی آئی پر تحریک التوا کے تحت بحث کرائے۔انہی حالات میں پارلیمنٹ چل سکتی ہے اس میں بیچ کا اب کوئی راستہ نہیں ہے۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Corruption, Daily Pratap, FDI in Retail, Inflation, Manmohan Singh, Murli Manohar Joshi, Sonia Gandhi, Vir Arjun

22 اکتوبر 2011

نہ تو میں مہنگائی کیلئے ذمہ دار ہوں نہ ہی اسے کم کرسکتا ہوں




Published On 22nd October 2011
انل نریندر
مسٹر منموہن سنگھ کی یہ یوپی اے حکومت کمال کی ہے۔ اس حکومت میں کسی بھی وزیر کے جو نظریات ہوں وہ انہیں کہہ ہی دیتا ہے اور اس کے لئے وہ کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم ایسے بیانوں کو اتحادی مجبوری کہہ کر ٹال دیتے ہیں لیکن ان سے پتہ چلتا ہے کہ منموہن سنگھ کی کیبنٹ میں ان کی کتنی عزت ہے اور وہ کتنے طاقتور ہیں۔ ضمنی چناؤ میں ملی کراری شکست کے بعد اب کانگریس کی ساتھی پارٹیوں نے بھی وزیر اعظم اور کانگریسی پارٹیوں کو ہار کے لئے ذمہ دار ٹھہرانا شروع کردیا ہے۔ مہاراشٹر کی کھڑک واسلا اسمبلی سیٹ پر ملی ہار سے بوکھلا گئے وزیر ذراعت شرد پوار نے براہ راست وزیر اعظم پر ہی حملہ بول دیا ہے۔پوار نے ایک مراٹھی روزنامے کی طرف سے ممبئی میں منعقدہ ایک تقریب میں کہا کہ پچھلے دنوں مختلف گھوٹالوں کے سلسلے میں سرکار نے مضبوط لیڈر شپ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پوار نے کہا کہ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کے سلسلے میں جنتا یہ سوال پوچھ رہی تھی کہ پردھان منتری پورے معاملے میں مداخلت کیوں نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ایسے وقت جبکہ لیڈرشپ کو مضبوطی کے ساتھ اس کی صفائی دینی چاہئے تھی مرکزی حکومت کی طرف سے کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے آگے کہا مختلف گھوٹالوں کے سبب عوامی رائے مرکزی حکومت کے خلاف گئی ہے اور اس سے سرکار کی ساکھ کو دھکا لگا۔ سرکار کی سست روی کا نتیجہ یہ ہوا کہ عدلیہ نے انتہائی سرگرمی دکھاتے ہوئے مختلف قدم اٹھائے۔ انا ہزارے اور یوگ گورو بابا رام دیو کے بھرشٹاچار مخالف آندولن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں منتخب نمائندوں کو پوری طاقت سے اپنا کردار نبھانا چاہئے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو دیگر طاقتوں کو سامنے آنے کا موقعہ ملے گا جو جمہوری نظام کے لئے اچھی بات نہیں ہے۔ شرد پوار یہیں نہیں رکے، بدھوار کو نئی دہلی میں اقتصادیات کے مدیروں کی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے پوار نے کہا کہ نہ تو میں مہنگائی کے لئے ذمہ دار ہوں اور نہ ہی اسے کم کرنا میرا کام ہے۔ میں وزیر زراعت یعنی ایک کسان ہوں اور میرا کام اناج پیدا کرنا ہے۔ میری وزارت کی یہ بھی کوشش رہتی ہے کسان کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے۔
ہم کو شرد پوار کی باتیں سن کر زیادہ حیرانی نہیں ہوئی۔ یہ پہلے بھی کانگریس لیڈرشپ پر سیدھے حملے کرچکے ہیں۔ اگر ایسے بیانوں کا اپوزیشن پارٹی فائدہ اٹھائے تو حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ بھاجپا پوار کے بیان سے خوش ہیں۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ یوپی اے ڈوبتا جہاز ہے اور اب اس سے بھاگنے کی سبھی پارٹیاں کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے وزیر اعظم کے ساتھ بنگلہ دیش جانے سے انکار کے بعد اب ایسا لگتا ہے کہ بڑی اتحادی پارٹی اور وزیر زراعت شرد پوار یوپی اے کو چھوڑنے کی تیاری میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک سینئر وزیر اپنے ہی وزیر اعظم اور سرکار کی پالیسیوں پر اس طرح کے سوال اٹھاتا ہے تو مجموعی ذمہ داری کہاں گئی؟ ذمہ داری کی بات کریں تو شری پوار تو صاف کہتے ہیں کہ مہنگائی کم کرنا میرا کام نہیں۔ اگر یہ کام شرد پوار کا نہیں تو کس کا ہے؟ اور اگر وہ اپنی سرکار کی پالیسیوں سے اتنے ناخوش ہیں اور متفق ہیں تو انہیں سرکار میں رہنے کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا۔ کیوں نہیں شرد پوار منموہن سنگھ سرکار سے استعفیٰ دے دیتے۔ ہمیں پردھان منتری پر بھی رحم آتا ہے جو وزیر اعظم اپنے سینئر وزرا پر لگام نہیں کس سکتا وہ پورے دیش کو کیسے چلا سکتا ہے؟ جیسے دیش چل رہا ہے وہ سب کے سامنے ہی ہے۔
Anil Narendra, Baba Ram Dev, BJP, Congress, Corruption, Daily Pratap, Inflation, Manmohan Singh, Price Rise, Sharad Pawar, UPA, Vir Arjun

07 اکتوبر 2011

ایک بار پھر انا ہزارے اور کانگریس آمنے سامنے



Published On 7th October 2011
انل نریندر
سماجی کارکن انا ہزارے نے سخت الفاظ میں کانگریس کو وارننگ دے ڈالی ہے ۔ سدھی رالے گن میں خطاب کرتے ہوئے انا نے کہا اگر مرکزی حکومت پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں جن لوک پال بل پاس کرنے میں ناکام رہی تو حکمراں کانگریس پارٹی کو پانچ ریاستوں میں ہونے جارہے چناؤ میں زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انا ہزارے نے حصار ضمنی چناؤ کو اپنی اس مہم کا پہلا مرحلہ قراردیتے ہوئے کہا کہ وہ ہریانہ کے حصار لوک سبھا کے ضمنی چناؤ حلقے میں ووٹروں سے اپیل کریں گے کے کانگریس امیدوار کو ووٹ نہ دیں کیونکہ پارٹی جان بوجھ کر جن لوک پال بل پارلیمنٹ میں نہیں لا رہی ہے۔ حصار میں13 اکتوبر کو ضمنی چناؤ ہونا ہے۔اپنے گاؤں میں اخبار نویسوں سے خطاب میں انا نے کہا ہم لوگوں سے یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ انہیں کس کو ووٹ دینا چاہئے ہم لوگوں سے کانگریس کو چھوڑ کر کسی بھی پارٹی کو ووٹ دینے اور صاف ستھرے کردار والے امیدوار کو چننے کو کہیں گے۔ انا ہزارے نے یہ بھی اعلان کیا کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ شروع ہونے سے تین دن پہلے لکھنؤ میں چار دن کا انشن کریں گے۔ ادھر ٹیم انا نے سرکار و پارلیمنٹ پر جن لوک پال بل کے حق میں دباؤ بڑھانے کے مقصد سے گاندھی جینتی کے موقع پر دیش بھر میں بل پر ریفرنڈم کرانے کی مہم شروع کردی۔ اس عوامی ریفرنڈم میں صرف دو سوال پوچھے جارہے ہیں پہلا کیا ان کے حلقے کے ایم پی اور ان کی پارٹی کو پارلیمنٹ میں انا کے جن لوک پال بل کی حمایت کرنی چاہئے یا نہیں۔ دوسرا یہ کہ اگر ان کے حلقے کے ایم پی نے پارلیمنٹ میں انا کے جن لوک پال بل کی حمایت نہیں کی تو کیا آپ اگلے چناؤ میں اس ایم پی یا اس کی پارٹی کو ووٹ دیں گے یا نہیں۔ اس مہم کے آغاز کے لئے اترپردیش کے بڑے لیڈروں کے چناؤ حلقوں کو چنا گیا ہے۔ جن میں کانگریس صدر سونیا گاندھی ، کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی، بھاجپا نیتا راجناتھ سنگھ، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی اور سپا کے ملائم سنگھ یادو شامل ہیں۔ گاندھی جینتی پر جن علاقوں میں ریفرنڈم کا آغاز کیا گیا ہے ان میں غازی آباد، کوشامبی، حمیر پور، مین پوری، رائے بریلی، امیٹھی، وارانسی، لکھنؤ اور امبیڈ کر نگر شامل ہیں۔
کانگریس میں انا کی وارننگ کا کتنا اثر پڑا یہ کہنا تو مشکل ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ پارٹی نے انا پر جوابی حملہ کرنا شروع کردیا ہے۔ارلیمانی وزیر پون بنسل نے کہا آپ کسی کی گردن پر پستول رکھ کر کوئی مقصد حاصل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی جن لوک پال بل پر غور کررہی ہے اور اس پر ممبران کے نظریات لے رہی ہے۔ بنسل نے کہا بل کو آنے والے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش کی جائے گی لیکن یہ اس بات پر منحصر ہے کمیٹی کتنا کام کرنے میں اہل ہے۔
کمیٹی میں سبھی پارٹیوں کے ممبر ہیں اور انہیں مختلف لوگوں سے نظریات مل رہے ہیں جو اس کے سامنے آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا اگر کمیٹی طے وقت میں اپنی رپورٹ دینے میں کامیاب ہوگی تو اگلے اجلاس میں بل کو پیش کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔ کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے انا کے اعلان کے جواب میں کہا کہ اگر آپ کرپشن سے لڑنا چاہتے ہیں تو آپ کو سیاست میں اترنا پڑے گا۔ جمہوری طریقے سے ہی سسٹم کو درست کیا جاسکتا ہے۔ جنرل سکریٹری اور میڈیا محکمے کے انچارج جناردن دویدی نے کہا کہ انہیں دیش کے مجموعی ضمیر جس کی نمائندگی پارلیمنٹ کرتی ہے اس پر پورا بھروسہ رکھنا چاہئے اور ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے جس سے ان کے اشو کا کوئی سیاسی مفاد کے لئے بیجا استعمال کرے۔ دویدی نے کہا کہ پارلیمنٹ سے جو لوک پال بل سامنے آئے گا وہ اثر دار ہوگا اور اسے لیکر انہیں پہلے کوئی رائے نہیں بنا لینی چاہئے۔ انا ہزارے ایک منجھے اور تجربہ کار شخص ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں جمہوریت اور اس کے تقاضوں پر بھروسہ ہے۔
انا کی وارننگ اور کارروائی سے اترپردیش اور ہریانہ میں اثر ہونا فطری ہے۔ اس سے کانگریس کی پریشانی یقینی طور سے بڑھے گے تو ضرور۔ پردیش پردھان ڈاکٹر ریتا بہوگنا نے کہامجھے انا کا بیان تو معلوم نہیں لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ سب کا نشانہ کانگریس کی طرف ہی کیوں ہے چناؤ تو چناؤ ہے دیکھا جائے گا۔
ٹیم انا کے اہم ساتھی اروند کیجریوال کے آبائی حلقے حصار میں بھی انا کے اعلان کا اثر نظر آنے لگا ہے۔ شہر کے بنگلوں سے لیکر گاؤں دیہات کے چودھری انا کے اعلان پر غور و خوض کرنے لگے ہیں۔ ان سب کے درمیان یہ سوال بڑا ہے کہ ایماندار، اچھا، شفاف امیدوار کسے چنیں؟ دیہاتیوں کا کہنا ہے یہ معاملہ تو مشکل ہے کسے ووٹ دینا ہے۔ایسے میں اچھا برا چھانٹنا پڑے گا۔ انا 9 یا10 اکتوبر کو حصار آنے والے ہیں۔ امیدواروں پر نظر ڈالیں تو سبھی پر کچھ نہ کچھ الزام ہے۔ حالانکہ انا نے کانگریس کا بائیکاٹ کرنے کو کہا ہے لیکن حصار کے لوگوں نے امیدوار جے پرکاش کو بھی پلڑے میں رکھ لیا ہے۔ کہتے ہیں یہ امیدوار تین بار ایم پی بن چکا ہے لیکن ہر بار الگ الگ پارٹی کا ممبر بنا۔ دیگر الزام بھی لگتے رہے ہیں۔ دوسرے امیدوار ہریانہ جن شکتی کانگریس بھاجپا کے کلدیپ بشنوئی کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی کے پانچ ممبران اب کانگریس میں ہیں،نے الزام لگا دئے ہیں کہ یہ ان کو بیچنے کا سودا کررہے تھے۔ تیسرے امیدوار انڈین نیشنل لوک دل سے اجے سنگھ چوٹالہ ہیں۔ ان کے بارے میں دوسری پارٹی کے لوگ آمدنی سے زیادہ اثاثہ رکھنے کے معاملے میں قصوروار ہونے کی بات کہتے ہیں۔ لیکن اپنا خیال یہ ہے کہ مقابلہ اجے چوٹالہ۔ کلدیپ بشنوئی کے درمیان ہے۔ جے پرکاش تیسرے نمبر پر چل رہے ہیں۔
بھاجپا کو انا ہزارے کی کانگریس مخالفت تو راس آرہی ہے لیکن گجرات میں اپنی سرکار کے خلاف انا کے تیوروں نے اسے بغلیں جھانکنے کے لئے مجبور کردیا ہے۔ پارٹی نے حالانکہ انا اور اپنے بیچ کسی طرح کا تال میل ہونے سے صاف انکار کردیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان نرملا سیتا رمن نے کہا کہ انا اور بھاجپا دونوں ہی کانگریس کے خلاف اس لئے ہیں کیونکہ کانگریس پوری طرح سے کرپٹ ہوچکی ہے۔
انا ہزارے کی تحریک کو بھاجپا بھلے ہی سیاسی طور سے بھنانے کی کوشش کرے لیکن انا مسلسل کہہ رہے ہیں بھاجپا اور آر ایس ایس ان کی تحریک سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اب انہوں نے گجرات میں آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کی گرفتاری کی مخالفت کرکے صاف کردیا ہے کہ آنے والے دنوں میں انا ہزارے اور کانگریس کے درمیان لفظی جنگ تیز ہوسکتی ہے۔ انا کی اپیل کا پہلا ٹیسٹ حصار لوک سبھا ضمنی چناؤ میں ہوسکتا ہے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Congress, Corruption, Daily Pratap, Lokpal Bill, Uttar Pradesh, Vir Arjun, RSS, BJP,

28 ستمبر 2011

اب کیا ہوگا آگے: نظریں سپریم کورٹ پر لگیں



Published On 28th September 2011
انل نریندر
دیش کے لئے کتنے دکھ کی بات ہے کہ امریکہ میں وزیراعظم اور وزیر مالیات سے ٹو جی گھوٹالے پر سوال پوچھے جارہے تھے ۔ ساری دنیا میں گھوٹالوں کی اس حکومت نے پورے دیش کی عزت مٹی میں ملا دی ہے۔ پتہ نہیں دنیا بھارت کے بارے میں کیا سوچتی ہوگی؟ ادھر دیش میں اس حکومت کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ ٹوجی گھوٹالے میں روز نئی پرتیں کھل رہی ہیں جیسے جیسے نئے نئے معاملے سامنے آرہے ہیں پتہ چل رہا ہے کہ اس گھوٹالے کی اوپر سے نیچے تک سب کو خبر تھی لیکن کسی نے بھی اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ بیشک وزیر اعظم ، وزیر خزانہ بھلے ہی خود گھوٹالے میں شامل نہ رہے ہوں لیکن اس سے تو اب وہ انکار نہیں کرسکتے کہ سب کچھ ان کی جانکاری میں اور کچھ حد تک ان کی رضا مندی سے ہوا ، بیشک وزیر اعظم اس وقت کے وزیر خزانہ کو کلین چٹ دے رہے ہوں اور کہہ رہے ہوں کہ انہیں وزیر داخلہ پر پورا بھروسہ ہے لیکن اس سے اب تک بات بننے والی نہیں۔ٹوجی گھوٹالے پر پوری طرح سے گھر چکی حکومت کے سنکٹ موچکوں کے قدم اب ختم ہونے لگے ہیں۔ سرکار کی سینئر لیڈر شپ کو اب اس گھوٹالے کے جال سے بچانے کیلئے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ سابق وزیر مواصلات اے راجہ کے فیصلے سے دیش کے خزانے کو کسی طرح کا نقصان نہیں ہوا ہے۔ گذشتہ ہفتے عدالت کے سامنے پیش ٹی آر اے آئی کی رپورٹ اسی کوشش کا حصہ تھی جو اوندھے منہ گر پڑی۔ گھوٹالے کی جانچ کررہی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی اس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔ راجہ کے فیصلوں میں سرکار کی سینئر لیڈر شپ کی رضامندی کو ثابت کرنے والے تمام دستاویزی ثبوت دیش اور عدالت کے سامنے ہیں۔اے راجہ کے فیصلوں سے جو محصول کو نقصان ہوا اس کے بارے میں پہلے اگر قانونی طور پرثابت ہوجاتا تو پھر وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خزانہ اس نقصان کی درپردہ ذمہ داری سے بچ سکیں۔ لائسنس لینے والی ایک کمپنی ایئر ٹیل کی ایک چٹھی سرکار کے لئے مصیبت بنے گی۔ وزیر اعظم کو معلوم تھا کہ کمپنیاں ٹوجی اسپیکٹرم کی اونچی قیمت دینے کو تیار تھیں۔ نومبر 2007 میں سیدھی منموہن سنگھ کو لکھی چٹھی میں ایئرٹیل نے اسپیکٹرم کے لئے 6 ہزار کروڑ روپے دینے کی پیشکش کی تھی۔ کمپنی نے بعد میں اسے بڑھا کر13752 کروڑ روپے تک کردیا تھا۔ بازار میں ان اشاروں کے باوجود راجہ نے اسپیکٹرم کو کم قیمت پر فروخت کردیا اور پی ایم او اس فیصلے میں راجہ کے ساتھ کھڑا رہا۔ اسپیکٹرم میں کل کتنا خسارہ ہوا یا گھوٹالہ ہوا اس نقصان کے اندازہ میں کیگ نے ایئر ٹیل کی چٹھی میں مجوزہ قیمت کو ہی اہمیت اشو بنایا ہے۔ راجہ کے فیصلے سے وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خزانہ کی بے توجہی کی دلیل سامنے آگئی۔ راجہ کے فیصلوں سے بدعنوانی تو صاف ہے البتہ اس فیصلے سے محصول کو نقصان کی دلیل ابھی تنازعات میں ہے۔ کیگ 1 لاکھ76 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ لگا چکی ہے جس کو سرکار نے مسترد کردیا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں تازہ جانکاری کے بعد یہ ثابت کرنے کی آخری کوشش ہوگی کہ 2001 کی قیمتوں پر2008 میں اسپیکٹرم بیچنے سے خزانے کو کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ یہ ہی آخری راستہ ہے جس سے بدعنوانی کا ٹھیکرا اے راجہ کے سر پھوٹے گا اور سرکار کی لیڈر شپ دیش کا نقصان کرنے کے الزام سے بچ سکے گی۔ ویسے سی بی آئی نے اے راجہ پر کرپشن کا جو مقدمہ چلایا اس میں یہ درج ہے کہ وزیر مواصلات کے فیصلوں سے دیش کو قریب 30 ہزار کروڑروپے کا نقصان ہوا۔ سی بی آئی کو سابق وزیر مواصلات یا بے ضابطگی پر مقدمے کے لئے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ راجہ کے فیصلے سے خزانے کو بھاری چپت لگی ہے۔ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ آج وزیر داخلہ پی چدمبرم کی اسپیکٹرم میں کردار کی جانچ کو لیکر کیا فیصلہ لیتی ہے۔ یوپی اے اور کانگریس ایک ناگزیں بحران میں پھنس گئی ہیں۔ جس کا فی الحال توکوئی توڑ نہیں نکل پارہا ہے۔ کانگریس صرف اس بات سے فکر مند نہیں چدمبرم پر حملہ کیا جارہا ہے بلکہ اس کی اصلی پریشانی بھاجپا کی وزیر اعظم کو لپیٹنے کی اسکیم سے ہے۔ اگر بھاجپا ایک بار پھر چدمبرم کے خلاف جانچ شروع کرانے میں کامیاب ہوگئی تو اس جانچ کی آنچ اپنے آپ وزیر اعظم تک پہنچ جائے گی۔منگلوارکو سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت ہوئی ہے۔ لیکن تازہ اطلاع کے مطابق یہ معاملہ آج تک یعنی بدھوار تک کے لئے ملتوی ہوگیا ہے۔ دیکھیں عدالت میں آج کیا ہوتا ہے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, CAG, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Prime Minister, Scams, Supreme Court, Vir Arjun

25 ستمبر 2011

راکشسوں کو مارنے کیلئے لکشمن ریکھا پار کرنی پڑتی ہے



Published On 25th September 2011
انل نریندر
ایسا لگ رہا ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ منموہن سنگھ سرکار پر بھاری پڑ رہا ہے۔ جی ہاں ایک طرف سرکار کے اندر سینئر وزرا کی کھینچ تان بڑھتی جارہی ہے وہیں سرکار اور سی بی آئی میں اختلافات ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ مرکزی سرکار میں نمبر دو کی حیثیت رکھنے والے پرنب مکرجی جو اس وقت وزیر مالیات ہیں، کے پرانے وزیر مالیات پی چدمبرم جو کہ اس وقت وزیر داخلہ ہیں کے درمیان سرد جنگ اب منظر عام پر آچکی ہے۔ ایک سینئر کانگریسی لیڈر کے اس گھمسان سے پارٹی اور سرکار میں جس طرح سے عجب صورتحال بنی ہوئی ہے وہ کانگریس پارٹی اور منموہن سرکار کے لئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ پارٹی اس مرتبہ معاملے کو پہلے سے کہیں زیادہ حساس مان رہی ہے کیونکہ ٹو جی معاملہ سرکار کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے اگر سپریم کورٹ وزارت مالیات کے خط پر اپنی طرف سے کوئی فیصلہ لیتی ہے تو حالت سرکار کے لئے انتہائی سنگین بن سکتی ہے۔ کانگریس کے ایک جنرل سکریٹری کے مطابق اس مرتبہ سرکار میں نمبر دو کے وزیر کے محکمے کی جانب سے متنازعہ جو ثبوت سامنے آئے ہیں لہٰذا یہ معاملہ آسانی سے نمٹایا نہیں جاسکے گا۔ پارٹی کا خیال ہے کہ پرنب اور پی چدمبرم کی آپسی کھینچ تان سے سرکار کی پہلے ہی سے خراب ہوچکی ساکھ مزید خراب ہورہی ہے۔
ادھر ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کی جانچ پر سپریم کورٹ کی نگرانی کو لیکر عدالت مرکزی حکومت اور سی بی آئی میں اختلافات بھی سامنے آگئے ہیں۔ مرکز نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں جانچ پر نگرانی رکھنے کی مخالفت کی تھی وہیں سی بی آئی نے دلیل دی تھی کہ نگرانی جاری رہنی چاہئے۔ مرکزی حکومت نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ (سپریم کورٹ) ٹو جی گھوٹالے کے معاملے میں وزیر داخلہ پر سماعت نہیں کرسکتی۔ اس نے عدالت سے کہا کہ وہ اس معاملے میں آرڈر پاس کر’’ لکشمن ریکھا ‘‘ پار نہ کرے۔ یہ سرکار کی جانب سے سپریم کورٹ کے اختیارات کو چنوتی دینا تھا لیکن سپریم کورٹ نے دو ٹوک کہا کہ آپ لکشمن ریکھا کی بات کررہے ہیں ،اگر سیتا نے لکشمن ریکھا پار نہیں کی ہوتی تو راون مارا نہیں جاتا۔ لکشمن ریکھا راکشسوں کو مارنے کے لئے ہی پار کی جاتی ہے۔ ایسا لوگ کہتے ہیں۔ جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس اے کے گانگولی کی بنچ نے یہ ہی نہیں کہا بلکہ سرکار اور سی بی آئی کے معاملے میں ہو رہی جانچ میں ٹال مٹول کرنے پر بھی اس کو جھاڑ پلائی۔ اس کے بعد سی بی آئی کے وکیل نے کہا کہ عدالت جانچ کا آدیش دیتی ہے تو وہ اس کی تعمیل کرے گی۔ اس نے یہاں تک یقین دہانی کرائی کہ وہ سبرامنیم سوامی کے کردار کے بارے میں عدالت میں پیش دستاویزوں کی بھی جانچ کرنے کو تیار ہے۔ دراصل عدالت میں درپردہ طور پر اشارہ دیا کہ اعلی عہدوں پر بیٹھے ملزمان کو سزا دلانے کے لئے وہ پرانے فیصلوں کو نظرانداز کر جانچ جاری رکھ سکتی ہے۔اس سے پہلے جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس اے کے گانگولی کی بنچ کے سامنے مرکز کے سامنے پیش ہوئے سینئر وکیل پی پی راؤ نے بڑی عدالت کی بنچ کے پرانے فیصلوں کا حوالہ دیکر نگرانی کی مقرر لکشمن ریکھا ہونے کی دلیل دی تھی۔ بنچ نے راؤ سے یہ بھی پوچھ لیا کہ آخر کیوں عدالت کی جانب سے جانچ کی نگرانی کا چلن شروع ہوا؟ ونت نارائن معاملے تک ہم نے یہ نہیں سنا تھا کہ یہ چلن اس لئے شروع ہوا کیونکہ کے بدنیتی کا دائرہ بڑا ہوتا گیا اور روایتی طریقے کمزور پڑ گئے۔ جہاں ایک طرف تو سرکار اس گھوٹالے میں عدالت کی نگرانی جاری رکھنے پر اعتراض کررہی ہے، وہیں دوسری طرف سی بی آئی کی جانب سے دیش کے سینئر وکیل کے کے وینوگوپال نے کہا کہ جانچ عدالت کی نگرانی میں ہی جاری رہنی چاہئے۔ اس پر بنچ نے مرکز سے پوچھا کہ سالیسٹر جنرل نے پہلے عدالت کی جانب سے نگرانی پر اتفا ق رائے ظاہر کی تھی۔ اب اگر سرکار اپنا بیان واپس لے رہی ہے تو بتائے؟ جواب میں راؤ نے کہا کہ وہ سالیسٹر جنرل کے بیان کو واپس نہیں لے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں ہوئی کارروائی سے جہاں سپریم کورٹ اور مرکزی سرکار کے درمیان اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں وہاں حکومت اور سی بی آئی کے اختلافات بھی سامنے آگئے ہیں۔
وزیر مالیات پرنب مکرجی اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کے درمیان جنگ اب کھل کر سامنے آچکی ہے۔ ٹوجی اسپیکٹرم معاملے میں سی بی آئی کے ذریعے چارج شیٹ دائر کرنے کے ایک ہفتے پہلے ہی وزارت مالیات کے اس خط کا باہر آنا جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اس وقت کے وزیر مالیات پی چدمبرم ٹوجی اسپیکٹرم کی قیمت کو لیکر اے راجہ سے متفق تھے، آنے والے واقعات اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں۔ اور یہ بھی کہ وزیر مالیات پرنب مکرجی کے دفتر میں جاسوسی کے معاملے کے بعد کس طرح سے پرنب اور چدمبرم کے درمیان یہ تلخ جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔ سبھی کی نظریں اب وزیر اعظم منموہن سنگھ کے امریکہ سے لوٹنے پر لگی ہوئی ہیں۔ دیکھیں وزیر اعظم اور کانگریس صدر سونیا گاندھی اس نئے جھنجھٹ سے کیسے نمٹتے ہیں؟
2G, Anil Narendra, CBI, Corruption, Daily Pratap, Supreme Court, Vir Arjun

21 ستمبر 2011

مودی کے سدبھاونا مشن پر ’’ٹوپی‘‘ پہنانے کی کوشش



Published On 21th September 2011
انل نریندر
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کا تین روزہ انشن پیر کو ختم ہوگیا۔ گجرات یونیورسٹی کے کنونشن ہال میں تین دنوں کے لئے سدبھاونا برت پر بیٹھے مودی نے پیر کی شام 6:15 بجے دھرم گوروؤں کے ہاتھوں لیموں پانی پی کر انشن ختم کردیا۔ نریندر مودی کے اپواس کو جس طرح سے پارٹی کے اندر سے لیکر پورے دیش میں حمایت ملی ہے اس سے صاف ہے کہ لال کرشن اڈوانی کے بعد وہ بھاجپا کے سب سے بڑے لیڈربن کر ابھرے ہیں۔ حالانکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے مودی اب بھاجپا کی جانب سے اگلے وزیر اعظم بننے کے سب سے قد آور نیتا بن گئے ہیں اور شری مودی نے اپنی خواہش بھی نہیں چھپائی۔ وزیراعظم بننے کی خواہش کھل کر ظاہر کئے بغیر مودی نے سنیچر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک نیا نعرہ دیا ۔’’سب کا ساتھ ۔سب کا وکاس‘‘ اگلے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی پرچار کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اپنا اپواس توڑنے کے ساتھ ہی نریندر مودی نے گجرات میں چناؤ سے ایک سال پہلے ہی اپنی مہم کا رتھ شروع کردیا ہے۔ تین دن کے اپواس کے بعد گجرات کے سبھی 26 ضلعوں میں باری باری سے سارا دن اپواس پر بیٹھنے کے پلان کے ساتھ نریندر مودی نے اب بڑے مشن کا بھی شری گنیش کردیا ہے۔منفی سیاست کے مقابلے ترقی کے مورچے پر خوشحالی رپورٹ کارڈ کی بدولت آگے بڑھنے کے ایجنڈے کو بھی مودی نے دیش کے سامنے رکھ دیا۔ اتنا ہی نہیں اپواس کے تینوں دنوں میں وزیر اعظم کے عہدے پر اپنی دعویداری کی ہوا بنا کر گجراتیوں کے وقار کی شکل میں بھی خود کو ابھارا ہے۔ ساتھ ہی سدبھاونا مشن کے سہارے ایک پاؤں مسلموں کی طرف بڑھایا لیکن کہیں بھی اپنی بنیادی طاقت ہندوتو کی زمین نہیں چھوٹنے دی۔ احمد آباد شہر کے پاس واقع پیرانا گاؤں میں ایک چھوٹی سی درگاہ کے شاہی امام مولانا سید نے ایتوار کو مودی کے اپواس کی جگہ اسٹیج پر جاکر ان سے ملاقات کی تھی۔ مولانا نے مودی کو ایک ٹوپی پہننے کی پیشکش کی لیکن وزیر اعلی نے بڑی معذوری سے ٹوپی پہننے سے منع کردیا اور اس کے بجائے شال اڑھانے کو کہا۔ امام نے مودی کو شال اڑھایا جسے انہوں نے منظور کرلیا۔ نریندر مودی نے بغیر کسی پر الزام لگائے اور حملے کئے اور خود پر لگنے والے فرقہ وارانہ الزامات کا جواب گجرات میں ترقی اور امن کے ریکارڈ کے ساتھ دیا۔ مودی نے صاف کہا کہ لیڈر شپ کی کسوٹی ایکشن پر منحصر کرتی ہے۔ آج ہم نے دنیا کو دکھا دیا کہ یہ راستہ ہے سب کو جوڑ کر، سب کو ساتھ لیکرچلنے کا۔ جب تک ووٹ بینک کی سیاست سے اٹھ کر ترقی کی سیاست نہیں اپناتے تب تک بھارت اوپر نہیں اٹھ پائے گا۔ اسی کڑی میں گجرات کے وزیر اعلی نے ہی سچر کمیٹی کے ساتھ کچھ سال پہلے ہوئی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میری سرکار اقلیتوں یا اکثریتوں کے لئے کچھ نہیں کرتی میری سرکار چھ کروڑ گجراتیوں کے لئے کام کرتی ہے۔ میں ہر چیز کو اکثریتی یا اقلیتی میں نہیں تولتا۔ میرے ساتھ میری ریاست کے شہری سبھی ایک ہیں۔
مودی کے اپواس ختم ہونے کے دن پیر کے روز بھاجپا نے زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اب کانگریس کی باری ہے۔ مودی کے اپواس کے خلاف گاندھی آشرم کے سامنے جوابی انشن پر بیٹھے کانگریس لیڈر شنکر سنگھ واگھیلا نے منگل کی صبح اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی۔ کانگریس کے مرکزی عہدیدار کی شکل میں گجرات کانگریس کے انچارج موہن پرکاش نے مودی سرکار پر جم کر حملہ بولا۔ گجرات سرکار پر برستے ہوئے موہن پرکاش نے کہا کہ 100 کروڑ روپے قرض لیکر نریندر مودی کونسی سدبھاونا دکھانا چاہتے ہیں۔ موہن پرکاش نے کہا مودی سرکار بدعنوانی میں انتہا تک ڈوبی ہوئی ہے۔ کیگ کی رپورٹ میں گجرات سرکار کا کرپشن پوری طرح اجاگر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کانگریس مودی سرکار کے بھرشٹاچار کو اجاگر کرنے کیلئے جنتا کی عدالت میں جائے گی۔ واگھیلا نے کہا اخباروں میں بڑے بڑے اشتہار دیکر اپواس نہیں کیا جاتا۔ مودی کا اپواس محض ایک دکھاوا ہے اور ایک سیاسی تکڑم بازی ہے۔ واگھیلا الزام لگایا کہ مودی نے پہلے 72 گھنٹے کے اپواس کا اعلان کیا تھا لیکن 55 گھنٹوں میں ہی انہوں نے انشن توڑدیا۔ کل ملاکر دیکھا جائے تو نریندر مودی کا یہ سیاسی انشن ویسے تو کامیاب رہا۔ جہاں تک اس کے ہندوستانی سیاست میں اثر کا سوال ہے وہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
Anil Narendra, BJP, CAG, Congress, Corruption, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...