Translater

18 اگست 2012

با بارام دیو کی تحریک کا کیا اثرہوگا؟


بابا رام دیو کی تحریک شانتی سے ختم ہوگئی۔ لگتا ہے کہ پچھلی بار اسی رام لیلا میدان کے واقعہ سے بابا نے کچھ سبق سیکھا ہے اور اس پر عمل بھی کیا ہے۔ اتنی بھیڑ کو ہر پل قابو میں رکھنا آسان کام نہیں تھا، جس میں بابا رام دیو کامیاب رہے۔ بابا نے انا ہزارے کی تحریک کو ایک طرح سے ہائی جیک کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ انہوں نے ان سبھی اشوز کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا جسے لیکر انا چل رہے تھے۔ ویسے راجدھانی میں10 دنوں کے اندر دو تحریک اپنے قطعی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہوگئیں۔ دونوں ہی تحریک مرکز میں یوپی اے سرکار کے خلاف رہیں ہیں۔ انا ہزارے کی تحریک سیاسی متبادل پر آکر ختم ہوئی لیکن بابا کی تحریک یوپی اے کے متبادل این ڈی اے کے طور پر ختم ہوتی نظر آئی۔ انا کی تحریک تہاڑ جیل سے شروع ہوئی تھی اور رام دیو کی تحریک عارضی جیل امبیڈکر پہنچ کر ختم ہوگئی۔ رام دیو کے اسٹیج پر جس طرح سے این ڈی اے کے لیڈر پہنچے اور بابا کی کھل کر حمایت کی اس سے یہ ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اگلے عام چناؤ میں باباکو این ڈی اے کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ بابا روز مرہ گرگٹ کی طرح اس بار رنگ بدلے نظر آئے۔ رام دیو نے پہلے تین دن انشن کا اعلان کیا ، تین دن بعد سنیچر کو اگلی حکمت عملی اپنالی پیرکو صبح 10 بجے انشن ختم کریں گے اور اعلان کیا کہ انہیں سیاسی پارٹیوں کی حمایت مل رہی ہے۔ ادھر بال کرشن کی ضمانت نہیں ہوئی تو بابا نے سوا دس بجے پارلیمنٹ کوچ کا اعلان کردیا۔ حراست میں لیا تو کہا جیل میں توڑیں گے انشن۔ امبیڈکر اسٹیڈیم میں پہلے بولے کہ کھانے پانی پر انشن توڑیں گے۔ لوگوں کی بھیڑ امڑی تو مانگے مانے جانے تک انشن جاری رہے گا، پھر بولے 15 اگست کو اسٹیڈیم میں جھنڈا لہرائیں گے۔ آخر میں انشن بھی توڑدیا اور ہری دوار بھی چلے گئے۔ دیکھا جائے تو مرکزی حکومت انا کی طرح رام دیو کی تحریک سے بھی نمٹنے میں کامیاب رہی۔ حکومت نے پہلی بار کی گئی غلطیوں سے سبق سیکھا۔ پہلی بار تو چار چار وزیر بابا کو ہوائی اڈے لینے گئے۔ اس مرتبہ سرکار نے بابا کو کوئی بھاؤ نہیں دیا نہ کوئی وزیر آیا اور نہ کوئی وعدہ کیا۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ جنتا کی آواز اٹھانے والی تحریکوں کے دوران عام لوگ ہی سب سے زیادہ پریشان ہوتے ہیں۔ کالی کمائی کا اپنے طریقے سے علاج کرنے پر اڑے بابا رام دیو کی تحریک نے پیر کو دہلی کو جام کردیا۔ ہزاروں گاڑیاں جام میں پھنس گئیں ۔ ضروری کام کاج کے لئے نکلے لوگ اور مریض گھنٹوں پریشان ہوتے رہے۔ لاکھ ٹکے کا سوال ہے کہ اتنا دباؤ بنانے کے باوجود کیا بابا رام دیو کالی کمائی اور اپنی دیگر مانگوں کے اشو پر کوئی ٹھوس کامیابی حاصل کر پائیں گے؟ انہوں نے سی بی سی اور چناؤ کمیشن کو مکمل آزادی دینے کا اشو اٹھایا اور اس کے ساتھ ہی لوکپال کے اشو پر بھی زور دیا۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ تین چار دن کے الٹی میٹم میں اتنی مانگوں کو پورا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ضد کچھ کچھ ٹیم انا جیسی ہے جو ایک وقت میں چاہتی تھی کے پارلیمنٹ اور سرکار ان کے ذریعے بنائے گئے لوکپال کے مسودے کو فوری طور پر منظور کرلے۔ ان دونوں تحریکوں کو یہ سہرہ ضرور جاتا ہے کہ کرپشن اور کالی کمائی کا اشو آج سیاست کے مرکز میں جگہ لے چکا ہے مگر یہ بھی سمجھنا پڑے گا کہ آج کے سیاستدانوں میں چاہے وہ کسی بھی پارٹی کے کیوں نہ ہوں ، انہیں پورا کرنے کا نہ تو کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی قوت ارادی۔ ایسا نہ ہو کہ بڑے مقصد کے لئے شروع ہوا بابا کا یہ آندولن محض کانگریس کی مخالفت تک سمٹ کر رہ جائے۔
(انل نریندر)

پاکستان میں اقلیتیں کتنی محفوظ ہیں؟


پاکستان سے بھارت آنے کے لئے جمعہ کو نکلے 300 ہندو اور سکھوں کے جتھے کو پاکستان نے اٹاری واگھہ بارڈر پر روک دیا۔سبھی سے لوٹنے کے لئے تحریری وعدہ لیا گیا۔ اس کے بعد ان میں سے150 لوگوں کو بھارت آنے دیا گیا۔ بھارت جانے کے لئے سرحد پر پہنچے تقریباً300 ہندو و سکھوں کو پاکستانی حکام نے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ صبح سے ہی بارڈر پر بیٹھے ان شردھالوؤں میں سے زیادہ تر کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑا جبکہ کچھ گورودوارہ ننکانا صاحب میں ٹھہر گئے اور دیر شام تقریباً 150 لوگوں کے جتھے کو بھارت آنے کی اجازت دے دی گئی۔ پاکستان منتظمین نے ان سے لکھ کر لیا ہے کہ وہ بھارت میں اپنے رشتے داروں کے پاس نہیں رہیں گے اور مذہبی تیرتھ استھانوں کے درشن کے بعد وطن لوٹ آئیں گے۔ اس سے پہلے ان لوگوں سے تقریباً سات گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی گئی۔ پاکستان میں ہندو ۔ سکھوں پر مظالم مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ حال ہی میں ایک ہندو لڑکی کو زبردستی مسلمان کرنے کی خبر پوری دنیا نے دیکھی۔ ہندو ۔ سکھوں کی دکانیں لوٹنے اور ان پر حملے اور عورتوں کو زبردستی اسلام قبول کرانے جیسے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں اقلیتوں اور خاص طور پر ہندوؤں کے ساتھ ہونے والے امتیاز پر حال ہی میں امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ آئی ہے۔ پاکستان میں کل آبادی کا پانچ فیصد سے بھی کم حصہ اقلیتوں کا مانا جاتا ہے جن میں ہندو بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کا دعوی ہے کہ زبردستی تبدیلی مذہب روکنے کے لئے سرکار کی طرف سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے۔ پاکستان انسانی حقوق کونسل کے اعدادو شمار کے مطابق ہر مہینے 20 سے25 ہندو لڑکیاں اغوا کرلی جاتی ہیں اور انہیں زبردستی اسلام قبول کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے رپورٹ میں مثال کے طور پر ایک واقعہ کا بھی ذکر کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے پچھلے سال 9 نومبر کو چار ہندو ڈاکٹروں کی سندھ صوبے میں گولی مار کر ہتیا کردی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے یہ حملہ ایک ہندو مرد اور مسلم عورت کے درمیان تعلقات کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس معاملے کی جانچ پڑتال ایک سال سے التو میں ہے ۔کوئٹہ سے آئے باگھا بارڈر سے پرانی دہلی اسٹیشن پر 70سالہ سرنجیت سنگھ نے بتایا کہ آج پاکستان نے ہمارے لئے کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں بچا ہے جو بھی تھا وہ سب دہشت گرد لے گئے ہیں صرف جان بچی ہے ان کی سلامتی کے لئے ہندوستان میں رہ رہے رشتہ داروں کے یہاں پناہ لی ہے پھر وہ کہتی ہے کہ اب بھروسہ نہیں رہا ہے کہ اب وہاں فضا بدلیں گی دہشت گردوں کا ظلم اس قدر بڑھ گیا ہے کہ وطن واپسی کے نام سے ہی روح کانپ اٹھی ہے۔سمرن جیت کور اور دوسرے چار ہندو کنبے بھی پرانی دہلی اسٹیشن پہنچیں۔ جنرل اسٹور چلانے والے وکی باک واسی کہتے ہیں کہ پچھلے دو سال میں شاید کوئی ایسا لمحہ رہا ہوگا جو سکون سے گزرا۔ ہندو کنبوں کے ساتھ مار پیٹ اورزرفدیہ کے لئے اغوا کے واقعات عام ہوگئے ہیں۔ ہروقت یہ ہی ڈر لگتا رہتا ہے کہ آج کہیں ہماری بیٹی تو نہیں نشانہ بنے گی۔آخر کارمیں اندور میں رہنے والے اپنے موسا موسی کے پاس پناہ لینے آیا ہوں ۔ چھ مہینے کی لمبی جدوجہد کے بعد 35دنوں کاہندوستانی ویزا ملا ہے ۔خدا کاشکر ہے کہ اب اگلے کچھ دن سکون سے گزرے گے۔ کوئٹہ( پلوچستان) میں شراب کی دکان چلانے والے نریش کمار نے بتایا کہ مذہبی تشدد کے چلتے جب بات کنبے کی عصمت پر آگئی تو سمجھوتہ کئے بغیر ہم نے ہندوستان میں پناہ لینے کی سوچی۔ لیکن مجھے آج بھی پلوچستانی ہونے پر فخر ہے لیکن وہاں کی پھیلی دہشت نے مجھے اب پورے خاندان کے ساتھ اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ پاکستان سے ہندو سکھ ہجرت پر بھارت سرکار کو معاملے کوسنجیدگی سے لینا چاہئے۔ پاکستان ہندو کونسل نے بھی کراچی میں میٹنگ کرکے اس پر تشویش جتائی ہے۔ پاکستان میں بھی کئی لیڈروں نے اقلیتوں پر زیادتی کی بات قبول کی ہے اس معاملے کو پرزور طریقہ سے پاکستان کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھاناچاہئے۔ بھارت کو اس مسئلے کو نئے پس منظر میں دیکھ کر حکمت عملی بنانی ہوگی۔ پاکستان سے ان اقلیتی کنبوں کو بھارت میں شرنارتھی کادرجہ دیاجاناچاہئے جو خاندان ابھی بھی بچے ہے ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے بھارت سرکار پاکستان پر دباؤ بنائے آخر کار پاکستان میں رہ رہے اقلیتوں کی ذمہ داری پاک سرکار کی ہے جو اسے اٹھانی ہی چاہئے۔ (انل نریندر)

17 اگست 2012

سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ممبئی میںآگ بھڑکائی گئی


کیا ممبئی میں پچھلے سنیچر کو بھڑکا تشدد ایک منظم واردات تھی؟ اس دن آسام اور میانمار میں مسلمانوں پر ہوئے حملوں کے خلاف آزاد میدان میں ایک احتجاجی ریلی کا انعقادہوا تھا۔ اس کو انعقاد کرنے والی تنظیم رضا اکاڈمی اور مدینہۃ الرحیم فاؤنڈیشن نے کیا تھا۔ ممبئی پولیس اس ریلی میں ہوئے تشدد کو منظم مان رہی ہے۔ پولیس کی گرفت میں آئے 23 فسادیوں سمیت منتظمین کے خلاف دفعہ302 کے تحت قتل کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ان عناصر پر دیگر دفعات میں بھی مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔ کرائم برانچ کے جوائنٹ کمشنر ہیمانشو رائے نے بتایا پولیس ایکٹ کے تحت تشدد اور آتشزدگی سے ہوئے نقصان کا ہرجانا بھی رضا اکاڈمی سے ہی وصولہ جائے گا۔ تشدد بھڑکانے والوں اور اس کے اسباب کا پتہ لگانے کے لئے کرائم برانچ کی 12 نکاتی خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ آزاد میدان میں آتشزدگی اور بھڑکیلی تقریروں کے ویڈیو فوٹیج کا مطالع کیا جارہا ہے۔ سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعے باقی فسادیوں کو حراست میں لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پولیس نے گرفتار بلوائیوں کومیٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا ہے جہاں ان سبھی کو19 اگست تک ریمانڈ میں بھیج دیا گیا ہے۔ ریمانڈ کے لئے عدالت میں دی گئی درخواست میں پولیس نے تشدد کو طے شدہ قراردیا ہے۔ ہیمانشو رائے کے مطابق جس طریقے سے آزاد میدان ریلی میں پہنچنے کے لئے فیس بک اور ایس ایم ایس کے ذریعے پیغامات بھیجے گئے اس سے صاف ہے تشدد کا پلان پہلے ہی سے تھا۔ فیس بک پر کئی دنوں سے مسلمانوں پر آسام اورمیانمار میں ہوئی ذیادتیوں کا پروپگنڈہ ہورہا تھا اور انہیں اکسانے کی کوششیں ہورہی تھیں۔ الیکٹرانک میڈیا اور پرینٹ میڈیا پر بھی الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ جان بوجھ کر ان ذیادتیوں کی خبریں نہیں دے رہے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے صاف ہے کئی مظاہرین ڈنڈوں اور لوہے کی چھڑوں سے مسلح تھے اور گاڑیاں پھونکنے کے لئے پیٹرول کے ڈبے لیکر آئے تھے ۔ ان کا کہنا تھا فیس بک ، انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس پیغام بھیجنے والوں کا پتہ لگانے کے لئے سائبر کرائم سیل کی مدد لی جائے گی۔ خیال رہے کہ رضا اکاڈمی اور سنی جماعت العلماء سمیت24 تنظیموں کے ذریعے منعقدہ ریلی کے دوران ہوئے تشدد میں دو لوگوں کی موت ہوگئی۔ 45 پولیس ملازمین سمیت100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ کسی حساس اشو کو غیر ضروری طول دینے کے معاملے کا خطرناک نتیجہ ہوتا ہے۔ ممبئی میں ہوا تشدد اسی کی ایک مثال ہے۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ممبئی میں آسام تشدد کے خلاف دھرنے کے منتظمین نے یہ نتیجہ کیسے نکال لیا کہ آسام میں صرف مسلم فرقے کے لوگ ہی نشانہ بنے؟ یہ جو تصور پیش کیا گیا ہے کہ آسام میں صرف مسلمان فرقے کو ہی نشانہ بنا یا گیا اور راحت رسانی اور باز آبادکاری میں ان کو نظر انداز کیا جارہا ہے اس کے لئے ایک حد تک آسام سرکار اور مرکزی حکومت بھی ذمہ دار ہے جو اس بارے میں کچھ واضح نہیں کرسکی کہ تشدد کیوں بھڑکا اور اسکے لئے کون ذمہ دار تھا، اصلی اشو کیا تھا، کتنے لوگ متاثر ہوئے ، کتنے لوگوں کو گھر چھوڑنا پڑا اور راحت رسانی اور بازآبادکاری کی کیا پوزیشن ہے؟ بدقسمتی سے کچھ غیر سماجی عناصر اور سیاستدانوں نے اپنی روٹیاں سینکنے کے لئے دیش میں عدم استحکام اور بدامنی پیدا کرنے کے لئے یہ پروپگنڈہ کیا۔ آسام میں مسلم فرقہ کے ساتھ مظالم کیا گیا اور یہ ہی نہیں ان کا پارلیمنٹ میں بھی کچھ ممبران پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر آسام میں مسلم فرقے کو نہ صرف نشانہ بنایا گیا بلکہ راحت کیمپوں میں ان کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ یہ تشویش کا باعث ہے کہ سیاستدانوں کا ایک طبقہ ابھی بھی یہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے کہ آسام میں جو تشدد بھڑکا اس کے پیچھے بنگلہ دیش سے ہونے والی دراندازی کا کوئی رول نہیں ہے۔ ایک طرح سے انہیں اس بات کی بھی پرواہ نہیں تھی کہ بنگلہ دیش سے آئے مسلمان ناجائز طریقے سے گھس پیٹھ کررہے ہیں۔ ان کے لئے بس ان کا مسلم ہونا کافی ہے۔ بھلے ہی وہ غیر ملکی ہوں۔ دکھ تو اس بات کا بھی ہے کہ کئی دنوں سے یہ سازش جاری تھی اور ممبئی پولیس اس وقت اسے روکنے میں ناکام رہی۔ آخر یہ اندازہ کیوں نہیں لگایا گیا کہ ممبئی میں عام سے زیادہ لوگ سازو سامان کے ساتھ اکٹھا ہورہے ہیں اور ان کے ارادے صحیح نہیں ہیں؟ یہ اچھی بات ہے کہ دھرنے کا انعقاد کرنے والی تنظیموں نے اپنی غلطی قبول کرلی ہے اور معافی مانگی ہے لیکن انہیں اس پر غور فکر کرنا چاہئے کہ ان اسباب کے چلتے ان کے انتظام میں شرارتی اور فسادی گھس آئے؟ یہ ماننے کی بھلے ہی اچھی وجوہات ہوں کہ یہ عناصر پوری تیاری سے آئے تھے اور پلان کے مطابق انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں گاڑیوں کو آگ لگادی اور پولیس پر حملہ کردیا۔ (انل نریندر)

آسام میں تشدد کے پیچھے کہیں غیر ملکی سازش تو نہیں؟


آسام میں تشدد کے واقعات کے درمیان منموہن سرکار نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ مذہب اور زبان کی بنیاد پر ریاست کی ووٹر لسٹوں سے 40 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹانا ممکن نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنا غیر آئینی ہوگا۔ مرکزی حکومت نے ووٹر لسٹ میں 40 لاکھ بنگلہ دیشی دراندازوں کے نام شامل ہونے سے متعلق ایک غیر سرکاری تنظیم آسام پبلک ورکرس کے الزامات کو مسترد کردیا ہے ۔یہ تنظیم چاہتی ہے کہ مشتبہ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹے جائیں اور انہیں فوراً واپس بھیجا جائے۔ آسام میں جو بات مرکز کی یوپی اے سرکار اور آسام میں ترون گگوئی سرکار کو قابل قبول نہیں وہ ہے ووٹوں کی سیاست ۔ یہ 40 لاکھ ناجائز بنگلہ دیشیوں کے ووٹوں پر ہی گگوئی سرکار ٹکی ہوئی ہے۔ آسام اور بنگلہ دیش کے درمیان 270کلو میٹر لمبی سرحد میں سے قریب50 کلومیٹر لمبی کھلی سرحد ہے۔ یہیں سے ناجائز گھس پیٹھ ہورہی ہے۔ طویل عرصے سے ان ناجائز گھس پیٹھیوں کی وجہ سے مقامی آبادی کا تناسب بگڑ رہا ہے۔ اس میں کل آبادی بنیادی آسامی لوگوں کی فیصد مسلسل کم ہورہا ہے۔ آسام میں معاملہ آسامی بنام بنگلہ دیشیوں کا نہیں اور نہ سوال ہندو بنام مسلم ہے ۔ اصل اشو ہے بھارتیہ بنام غیر ملکی۔ 1985ء میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کے عہد میں آسام سمجھوتہ ہوا تھا جس میں بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کی پہچان کرکے انہیں واپس بھیجنے کی بات کہی گئی تھی اس سمجھوتے کے تقاضوں کو کبھی بھی سنجیدگی سے لاگو نہیں کیا گیا۔ آسام سرکار پر دباؤ بنانے کے لئے بھی مقامی آسامیوں نے یہ تحریک چھیڑ رکھی ہے۔ آج وہ اپنے گھروں سے باہر نکال دئے گئے ہیں اور شرنارتھی بن کر اپنے دیش میں کیمپوں میں ہی رہنے کو مجبور ہیں۔ ترون گگوئی سرکار نے وقت رہتے احتیاطی قدم فوری طور پر نہیں اٹھائے۔ اگر تشدد شروع ہوتے ہیں وہ قانون و نظام کو بنائے رکھنے کے لئے مناسب فورس تعینات کرتے تو شاید اتنے بڑے پیمانے پر دنگا نہ ہوتا۔ اس وقت بھی شرنارتھی کیمپوں میں 3 لاکھ60 ہزار لوگ رہ رہے ہیں۔ تشدد میں 73 لوگ مارے جاچکے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔ آسام میں20 جولائی سے شروع ہوئے فرقہ وارانہ فساد کے پیچھے نارتھ ایسٹ میں سرگرم پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ ہونے کی بات سامنے آرہی ہے۔ سکیورٹی ایجنسیوں نے ایک رپورٹ وزارت داخلہ کو بھیجی ہے اس میں کہا گیا ہے تشدد کے پیچھے مقصد آسام ، مغربی بنگال و بہار کے کچھ ضلعوں کو ملا کر گریٹر بنگلہ دیش بنانا ہے۔ ذرائع کے مطابق 1979ء میں اس سازش کو جنم دیا گیا۔ اس میں جمعیت المجاہدین، خلت مجلس، اسلامی لبریشن ٹائیگر، حرکت المجاہدین، مسلم ایکشن فورس، صدام واہنی اور اہل سنت وغیرہ وغیرہ تنظیموں نے 1992ء سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اس کے بعد آسام کے سرحدی علاقوں میں مسلسل تشدد بڑھ رہا ہے۔ ان تنظیموں کے 300 سے زیادہ سلیپر سیل ریاست میں سرگرم ہیں۔ اس میں صرف ایک مخصوص ذات نہیں بلکہ سبھی ذاتوں کے لڑکوں کو ٹریننگ دی گئی ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کیلئے 40 سے30 سال کی عمر کے لڑکوں کے پینل تیار کئے گئے ہیں۔ ٹریننگ کے دوران ان کا میانمار، بنگلہ دیش کے ہنگاڑی ،کھاگڑا چاری و جینا گھاٹی سے مسلسل رابطہ رہتا ہے۔ انہیں آسام، تریپورہ، میگھالیہ و میزوم کی سرحدوں سے داخلہ دلایا جاتا ہے۔ آسام میں جاری تشدد کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ہونے کا پختہ امکان بھی ہے۔
(انل نریندر)

15 اگست 2012

الوداع! لندن اب 2016ء میں ریومیں پھر ملیں گے


لندن میں پچھلے 17 دنوں سے جاری 30 ویں اولمپک کھیل موسیقی کی سرلہریوں اور کلچرل کی بانگی پیش کرتے ہوئے رنگا رنگ پروگرام اور آسمان میں روشنی کی چکاچوند والی آتش بازی چھوڑے جانے کے درمیان دنیا بھر کے کھلاڑیوں نے ایتوار کے روز لندن کو الوداع کہہ دیا۔ اب 2016ء میں برازیل کے شہر ریو میں پھر ملیں گے۔ تیسری مرتبہ اولمپک کی میزبانی کرنے والے واحد شہر لندن میں ہوئے ان کھیلوں میں 204 ملکوں کے 10500 کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ امریکہ اور چین نے ایک بار پھر اپنا دبدبہ قائم رکھتے ہوئے پہلے اور دوسرے مقام پر قبضہ جمایا جبکہ برطانیہ نے اپنا بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسرے مقام پر رہا۔ یوں تو لندن اولمپکس میں ہرجیتنے والا ہیرو ہے لیکن کچھ ایک کھلاڑیوں کا نام خاص طور پر ابھر کر آیا۔ لندن اولمپک میں 4 کھلاڑی اصل چمپئن بن کر ابھرے ہیں۔ اس جیت کے لئے کسی نے سنگین بیماری کو ہرایا تو کسی نے پریکٹس اور مشکل چیلنجوں کو بونا کردیا۔ان کی جدوجہد کی مثال ہے جذبے اور لگن کی ۔ لندن اولمپکس کے سب سے تیز ایتھلیٹ بنے جمیکا کے اوسین بولٹ۔ انہوں ن ے تین طلائی تمغے جیتے 100-200 اور چار گنا سو رلے۔ بولٹ بچپن میں کرکٹ کے دیوانے تھے وہ دنیا کی سب سے تیز بال پھینکنے کا خواب دیکھتے رہے۔ ان کے ہیرو تھے پاکستانی تیز گیند باز وقار یونس۔ ہائی اسکول میں بورٹ کو بالنگ رن اپ پر دوڑتے ہوئے دیکھ وہاں کے ایتھلیٹکس کوچ پابلو میکلین نے انہیں 200 میٹر ریس کے لئے چنا۔ لیکن انہیں تو 200 میٹر ریس کا گلیمر پسندتھا۔ کوچ سے خواہش ظاہر کی توجواب ملا پہلے 200 میٹرریس جیت کر دکھاؤ۔ جولائی 2007ء میں بولٹ نے200 میٹرریس میں قومی ریکارڈ بنایا۔ پہلے ہی اولمپک میں 100 میٹرریس میں انہوں نے 10.33 سیکنڈ میں جیت کر سبھی کو چونکادیا۔امریکہ کے مائیکل کیلس نے بیجنگ اور لندن کے دونوں اولمپکس میں 20 میڈل جیتے ہیں جو آج تک کا ریکارڈ ہیں۔ وہ رات کے اندھیرے میں تیراکی کرتے، صرف اس لئے تاکہ وہ گن سکیں کے کتنے ہاتھ مارنے سے پول کی لمبائی طے ہورہی ہے تاکہ بنا دیکھے ہی دیوار کود کر واپس لوٹ سکیں۔مقابلے کے دوران تیرتے ہوئے پول کا کور دیکھنا وقت کو واضح کرنا تھا تو تیاری بیجنگ اولمپک میں کام آگئی۔ کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ یہاں انہوں نے 200 میٹر بٹرفلائی کا ورلڈ ریکارڈ اندھے پن کی حالت میں بنایا۔ دراصل اس مقابلے کے فائنل کے دوران ان کے چشمے میں پانی بھر گیا ایسے میں بلائنڈ پریکٹس کام آگئی۔امریکہ کی ونیہ رچرڈ راس بیجنگ اولمپک کی400 میٹرریس میں تانبے کا میڈل جیت پائی تھی۔ پچھلے چال برسوں میں راس کو ان کی ناکامی کے ڈپریشن کے علاوہ بیروٹس سنڈروم سے بھی شکار ہونا پڑا جس سے ان کے منہ میں خوفناک چھالے ہوجاتے ہیں اور جبڑے درد کرنے لگتے ہیں۔ 2010ء میں طویل علاج کے بعد وہ دوبارہ ٹریک پر لوٹی ہیں۔ ان کی واپسی میں نیشنل باسکٹ لیگ کھلاڑی اور ان کے شوہر ایٹون راس نے ساتھ دیا۔ راس کہتے ہیں یہ واپسی ان کی جسمانی سے زیادہ ذہنی تھی۔ لندن میں انہوں نے 400 میٹر کی ریس میں امریکہ کو 28 سال بعد طلائی میڈل دلوایا۔امریکی تیراک ڈانا وولچر کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔2003 ء میں ان کے دل کی دھڑکنیں چار گنا تیز ہونے لگیں۔ ڈانا کی ہارٹ سرجری ہوئی لیکن ڈاکٹروں نے خبردار کردیا کہ ڈانا کو کبھی بھی ہارٹ اٹیک ہوسکتا ہے۔ ڈانا نے اس کی کبھی پرواہ نہیں کیا اور ایسا ظاہر کیا کہ انہیں کچھ ہوا ہی نہیں۔ ہمیشہ وہ ہلکے پھلکے دورے کے بعد شاک دینے والی مشین اپنے ساتھ رکھتی ہیں۔2004ء میں ایٹھیلکس اولمپکس میں جب انہوں نے طلائی میڈل جیتا تب بھی ناظرین میں اس مشین کے ساتھ موجود تھی۔ لندن میں بھی یہ ہی ہوا۔ یوں تو سینکڑوں کہانیاں ہیں۔ میں نے محض تین چار کا ذکر کیا ہے۔ اب بات کرتے ہیں بھارت کی۔ میری شخصی رائے میں بھارت کا کھیل کا مظاہرہ اچھا رہا۔ بیشک ہم اتنے میڈل نہیں جیت سکے لیکن ہم ان کھیلوں کو محض میڈلوں سے تول نہیں سکتے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ جتنے بھی کھلاڑی حصہ لیتے ہیں سبھی تمغہ جیتنا چاہتے ہیں۔اس کے لئے ٹریننگ لی تھی۔ہر کھلاڑی یہ ضروری ہے کہ وہ فٹنس کے اعلی معیار پرکھرے اتریں کیونکہ طلائی میڈل جیتنے والے اور سلور میڈل جیتنے والے کے درمیان اکثر بیحد کم فرق ہوتا ہے۔ عام طور پر چار پانچ ایسے مقابلہ جاتی امیدوار ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے تقریباً برابر ہوتے ہیں۔ اس لئے فیصلہ تھوڑے بہت فرق سے ہوتا ہے۔ ایک نمبر کے فرق سے ہار جیت طے ہوجاتی ہے۔ میں بھارت کے لئے لندن اولمپک کو اس لئے تاریخی مانتا ہوں کہ ہم نے اپنی اولمپک تاریخ میں سب سے زیادہ 6 میڈل جیتے ہیں۔ حالانکہ بہت سارے کھیل شائقین کو امریکہ اور پڑوسی چین تمغوں کی تعداد دیکھ کر تھوڑی مایوسی ہوسکتی ہے۔ لیکن گلوبل اسپورٹس سمجھے جانے والے گیمس تیر اندازی، شوٹنگ، کشتی، باکسنگ میں ہمارے پاس کم سے کم20 ایسے کھلاڑی ہیں جنہیں ورلڈ کے ٹاپ 20 کھلاڑیوں میں رکھا جاسکتاہے۔گوانگو میں2010ء میں ہوئے ایشیارڈ کے ایتھلیٹکس میں بھارت نے5 گولڈ سمیت کل 12 میڈل حاصل کئے تھے اور چین کے بعد دوسرے نمبر پر رہا تھا۔ ان ایوینٹس میں تکوریا اور جاپان جیسے دیش ہم سے پیچھے رہے۔ خاص بات یہ رہی کہ بھارت نے جو بھی میڈل جیتے وہ شخصی مقابلے میں جیتے۔ کشتی، بیٹ منٹن، شوٹنگ، باکسنگ شامل ہیں۔ ہم کسی بھی ٹیم ایوینٹ میں نہیں جیت کسے۔ سب سے خراب کارکردی ہاکی میں رہی جب ہم آخری مقام پر رہے۔ باکسنگ میں ہم اور میڈل جیت سکتے تھے لیکن ہمارے ساتھ بے ایمانی ہوئی اور زبردستی ہمارے باکسروں کو ہٹا دیا گیا۔ لندن میں میری رائے میں سب سے عمدہ کارکردگی پہلوان سشیل کمار کی رہی جو 2 اولمپک میڈل جیتے اور نئی تاریخ بنائی۔ یوگیشور دت کی جیت کمال کی تھی۔ بیٹ منٹن میں چین کے دبدبے کو آج تک کوئی نہیں توڑ سکتا تھا۔ سائنا نے پہلی بار چین کو چیلنج کیا۔ ہم نے کبھی یہ تصور نہیں کیا ہوگا کہ لندن اولمپکس میں پہلی بار عورتوں کی مکے بازی میں میری کام تانبے کا میڈل لائیں گی۔ شوٹنگ میں جہاں ابھینیو بندرا سوڑی کا اچھا کھیل نہیں رہا وہیں بجندر سنگھ سے باکسنگ میں امیدروں پر پانی پھر گیا۔ ٹینس اور تیر اندازی میں ہمیں بہت امید تھی لیکن وہ بھی کھرے نہیں اترپائے۔ اس بار ہمارے81 کھلاڑیوں نے اولمپک میں حصہ لیا تھا جن کی تعداد پچھلی مرتبہ محض58 تھیں۔ کیا یہ بڑی بہتری نہیں ہے۔ ایتھلیٹوں کی تعداد قریب25 فیصدی بڑھی ہے اور کل تمغوں کی تعداد 100 فیصد بڑھی ہے۔ ہم ہمیں 2016 ء کے اولمپک جو برازیل کے شہر ریو میں ہوگے ،پر توجہ دینی چاہئے اور اس اولمپک میں ہم نے کہاں کہاں بھول کی اس کا پوسٹ مارٹم کر آگے بڑھنا ہے۔ لندن اولمپک بلا شبہ ایک نہایت کامیاب ایوینٹ تھا۔ حالانکہ تنازعوں سے نہیں بچ سکا لیکن کل ملاکر اچھا ہی رہا۔ میں نے پورے17 دن اولمپک کھیلوں کا مزہ لیا۔ الوداع لندن۔ اب ریو کا انتظار رہے گا۔
(انل نریندر)

14 اگست 2012

موہن بھاگوت کے نتیش پریم کے پیچھے کیا حکمت عملی ہے؟


بھاجپا لیڈرشپ والی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) میں مجوزہ وزیر اعظم کے عہدے کے امیدواروں کو لیکر مچا گھمسان رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ مودی بنام نتیش لڑائی کھل کر سامنے آچکی ہے۔ نتیش کی نریندر مودی کی مخالفت کو لیکر اب بھاجپا لیڈروں میں بھی ناراضگی پیدا ہونے لگی ہے۔ سابق مرکزی وزیر اور سینئر لیڈر یشونت سنہا نے پٹنہ میں ہی نتیش کا نام لئے بغیر نشانہ قائم کرتے ہوئے کہا کہ ذات پات کی سیاست کرنے والے لوگ سیکولر ازم کے علمبردار نہیں ہوسکتے۔ان سب کے درمیان آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے اچھے انتظامیہ میں بہار کو گجرات سے بڑھیا بتا کر ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ بھاگوت نے نئی دہلی میں بیرونی میڈیا کے کچھ صحافیوں سے بات چیت میں عمدہ انتظامیہ والی ریاستوں کی گنتی گنائی تو اس میں سب سے پہلے بہار کا نام لیا۔ بہار ترقی کے معاملوں میں گجرات سے بھی اچھا کام کررہا ہے۔ بہار کے بعد انہوں نے گجرات،مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر کا نام لیا۔ موہن بھاگوت کی رائے سامنے آتے ہی پہلے کی طرح ان کے اس بیان پر لیپا پوتی شروع ہوگئی ہے۔کچھ عرصے پہلے انہوں نے یہ کہہ کر بھاجپا ۔ جنتادل (یو ) کے درمیان یہ کہہ کر تلخی بڑھا دی تھی کہ بھارت کی باگ ڈور کسی ہندوتو وادی نیتا کے ہاتھ میں کیوں نہیں ہونی چاہئے؟ انہوں نے یہ بیان نتیش کمار کی اس رائے پردیا تھا کہ کوئی سیکولر لیڈر وزیر اعظم ہونا چاہئے۔ موہن بھاگوت کے تازہ بیان پر سیاسی ہلچل مچتے ہی سنگھ صفائی دینے لگ گیا ہے۔ انہوں نے بہار میں نتیش کمار کی سرکار کو گجرات کے نریندر مودی کی حکومت سے زیادہ نمبر نہیں دئے اور سنگھ کے لیڈر رام مادھو نے اسے میڈیا کے سر تھوپتے ہوئے کہا بھاگوت کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ آر ایس ایس بغیر سوچے سمجھے بیان نہیں دیتا۔ شری بھاگوت کے اس بیان کے پیچھے بھی کوئی حکمت عملی ہوگی۔ یہ ممکن ہے موہن بھاگوت نے ایسا بیان نتیش کمار کو خاموش کرنے کے لئے دیا ہو۔ موہن بھاگوت نے بہار میں سنگھ پرچارک کے عہدے پر تقریباً دس سال کام کیا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ اب جب لوک سبھا چناؤ میں دو سال سے بھی کم کا وقفہ رہ گیا ہے بھاجپا اور این ڈی اے کی سب سے بڑی اتحادی جماعت جنتا دل(یو) میں دراڑ بڑھے، اس سے کانگریس کو فائدہ ہوگا ۔ موہن بھاگوت نے اس بیان سے نتیش کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ این ڈی اے کے اہم لیڈر ہیں اور این ڈی اے میں اب کسی طرح کا بکھراؤ نہیں ہونا چاہئے۔ موہن بھاگوت کے اس بیان پر اس لئے بھی شبہ ہوتا ہے کیونکہ سنگھ فیصلہ کرچکی ہے کہ نریندر مودی2014ء میں بھاجپا کے وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے۔نتیش کی تعریف کرنا تھوڑا مضحکہ خیز لگتا ہے۔ دلچسپ یہ بھی ہے کہ بہار کے بھاجپا لیڈر سنگھ کے چیف کے تجزیئے کو صحیح بتانے میں جٹ گئے ہیں۔ بہار بھاجپا کے پردیش پردھان سی پی ٹھاکر کا کہنا ہے بھاگوت کا تجزیہ ٹھیک ہے۔ بہار میں سبھی سیکٹر میں ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ گجرات میں ترقی نہیں ہورہی ہے، وہاں بھی ہورہی ہے لیکن اگر بھاگوت بہار کی بہتر انتظامیہ کو نمبرایک دے رہے ہیں تو یہ لائق خیر مقدم ہے۔ موہن بھاگوت کے بیان کو اس لئے نتیش کو منانے کی کوشش کی شکل میں بھی دیکھا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

کورٹ فیس میں 10 گنا اضافے کا تغلقی فرمان


دہلی حکومت کی جانب سے ہٹلری فرمان کے دہلی کی عدالتوں میں جوڈیشری فیس 10 گنا اضافہ کیا جارہا ہے، کی سبھی سطحوں پر جم کر مخالفت ہورہی ہے۔قومی راجدھانی کی 6 ضلع عدالتوں میں وکیلوں نے منگل سے بھوک ہڑتال شروع کررکھی ہے۔ آل انڈیا بار ایسوسی ایشن کی تال میل کونسل نے یہ کہتے ہوئے بھوک ہڑتال شروع کی ہے کہ جوڈیشری فیس میں دس گنا اضافہ نامناسب ہے کیونکہ اس سے مقدمہ ڈالنے والے بری طرح سے متاثر ہوں گے۔ ایسوسی ایشن کے صدر راجیو جے نے بتایا کہ وکیل دہلی سرکار کے عدالتی فیس بڑھانے کے فیصلے کو واپس لینے کے لئے دباؤ کی خاطر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ دہلی سرکار نے کیبنٹ اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کے بعدیکم اگست سے دہلی میں بڑھی کورٹ فیس لاگو کردی ہے۔ سرکار کا کہنا ہے کہ نئی شرحیں ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق ہیں۔ سرکار کا یہ بھی کہنا ہے راجدھانی میں 55 سال کے بعد کورٹ فیس میں اضافہ کیا گیا ہے اور اس کے لاگو ہونے سے دیگر شہروں میں بھی نافذ کورٹ فیس کے برابر ہوگئی ہے۔ وزیراعلی شیلا دیکشت نے وکیلوں کی ہڑتال پررائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ عدالت فیس کو مختلف عدالتی تقاضوں کی بنیاد پر ترمیم کی گئی ہے تاکہ انہیں پریکٹیکل بنایا جاسکے۔ اس ترمیم کا مقصد سرکار کے خزانے کو بھرنا نہیں ہے بلکہ سرکار کے ذریعے کورٹ فیس (ترمیم ) قانون 2012ء پر ہائیکورٹ نے روک لگا دی ہے۔ عدالت نے سرکار سے کہا ہے کہ اس بارے میں وکیل تنظیموں سے بات کر کے دو ہفتے کے اندر پیدا تعطل کو ختم کیا جائے۔ بنچ نے یہ بھی حکم دیا کہ اس عرضی کی سماعت کے دوران جس میں دہلی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اسے خارج کرنے کی مانگ کرتے ہوئے اس ترمیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سرکار کے دائرہ اختیار کو چنوتی دی تھی۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ سرکار کا یہ قدم عوام مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ ریاست کی فلاحی بہبودی کے مقصد کے خلاف بھی ہے۔ نگراں چیف جسٹس اے کے سیکڑی کی سربراہی والی ڈویژن بنچ نے کہا کہ تنازعے کے پیش نظر دہلی سرکار اس مسئلے کا حل ہفتے کے اندر نکالے۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل اور ڈی ایس سی بی اے کے صدر اے ایس چڑیموک نے کہا کہ وہ یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ سرکار کا یہ فیصلہ آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔ حالانکہ عدالت نے دہلی سرکار کے سرکاری وکیل نجمی وزیری کی اس دلیل پر اتفاق ظاہر کیا سرکار کی آئین سازیہ اختیار کو چنوتی نہیں دی جاسکتی۔ کورٹ فیس میں بے تحاشہ اضافے کو ایک فلاحی ریاست کے ان مقاصد کے خلاف بتایا گیا جس میں عام جنتا کو سستا انصاف دلانے کی بات کہی جاتی ہے۔ عرضی میں دلیل دی گئی ہے کہ سرکار کا مقصد صرف محصول اکٹھا کرنا نہیں ہوتا اور اس طرح سے انصاف کو بیچنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے سے صاف ہے کہ کورٹ فیس تقریباً دس گنا بڑھانے کا دہلی سرکار کا فیصلہ صحیح نہیں ہے۔مثال کے طور پر 26 لاکھ روپے کے باؤنس چیک کا کیس کورٹ میں لڑنے کے لئے 1 لاکھ سے زیادہ کی فیس دینی پڑے گی۔ 50 لاکھ کی وصیت پر 2 لاکھ روپے کورٹ فیس ہوگی۔ ضمانت کی عرضی داخل کرنے کے لئے سوا روپے کے پیپر کی جگہ 50 روپے سیشن کورٹ میں 100 روپے اور ہائی کورٹ میں 250 روپے کا اب اسٹامپ پیپر لگے گا۔دہلی سرکار کے ذریعے کورٹ فیس میں اضافہ سے وکیلوں کو تو کم غریبوں کو انصاف کے لئے قانونی لڑائی لڑنا مشکل ہوجائے گا۔
(انل نریندر)

13 اگست 2012

موہن بھاگوت کے نتیش پریم کے پیچھے کیا حکمت عملی ہے؟


بھاجپا لیڈرشپ والی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) میں مجوزہ وزیر اعظم کے عہدے کے امیدواروں کو لیکر مچا گھمسان رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ مودی بنام نتیش لڑائی کھل کر سامنے آچکی ہے۔ نتیش کی نریندر مودی کی مخالفت کو لیکر اب بھاجپا لیڈروں میں بھی ناراضگی پیدا ہونے لگی ہے۔ سابق مرکزی وزیر اور سینئر لیڈر یشونت سنہا نے پٹنہ میں ہی نتیش کا نام لئے بغیر نشانہ قائم کرتے ہوئے کہا کہ ذات پات کی سیاست کرنے والے لوگ سیکولر ازم کے علمبردار نہیں ہوسکتے۔ان سب کے درمیان آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے اچھے انتظامیہ میں بہار کو گجرات سے بڑھیا بتا کر ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ بھاگوت نے نئی دہلی میں بیرونی میڈیا کے کچھ صحافیوں سے بات چیت میں عمدہ انتظامیہ والی ریاستوں کی گنتی گنائی تو اس میں سب سے پہلے بہار کا نام لیا۔ بہار ترقی کے معاملوں میں گجرات سے بھی اچھا کام کررہا ہے۔ بہار کے بعد انہوں نے گجرات،مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر کا نام لیا۔ موہن بھاگوت کی رائے سامنے آتے ہی پہلے کی طرح ان کے اس بیان پر لیپا پوتی شروع ہوگئی ہے۔کچھ عرصے پہلے انہوں نے یہ کہہ کر بھاجپا ۔ جنتادل (یو ) کے درمیان یہ کہہ کر تلخی بڑھا دی تھی کہ بھارت کی باگ ڈور کسی ہندوتو وادی نیتا کے ہاتھ میں کیوں نہیں ہونی چاہئے؟ انہوں نے یہ بیان نتیش کمار کی اس رائے پردیا تھا کہ کوئی سیکولر لیڈر وزیر اعظم ہونا چاہئے۔ موہن بھاگوت کے تازہ بیان پر سیاسی ہلچل مچتے ہی سنگھ صفائی دینے لگ گیا ہے۔ انہوں نے بہار میں نتیش کمار کی سرکار کو گجرات کے نریندر مودی کی حکومت سے زیادہ نمبر نہیں دئے اور سنگھ کے لیڈر رام مادھو نے اسے میڈیا کے سر تھوپتے ہوئے کہا بھاگوت کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ آر ایس ایس بغیر سوچے سمجھے بیان نہیں دیتا۔ شری بھاگوت کے اس بیان کے پیچھے بھی کوئی حکمت عملی ہوگی۔ یہ ممکن ہے موہن بھاگوت نے ایسا بیان نتیش کمار کو خاموش کرنے کے لئے دیا ہو۔ موہن بھاگوت نے بہار میں سنگھ پرچارک کے عہدے پر تقریباً دس سال کام کیا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ اب جب لوک سبھا چناؤ میں دو سال سے بھی کم کا وقفہ رہ گیا ہے بھاجپا اور این ڈی اے کی سب سے بڑی اتحادی جماعت جنتا دل(یو) میں دراڑ بڑھے، اس سے کانگریس کو فائدہ ہوگا ۔ موہن بھاگوت نے اس بیان سے نتیش کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ این ڈی اے کے اہم لیڈر ہیں اور این ڈی اے میں اب کسی طرح کا بکھراؤ نہیں ہونا چاہئے۔ موہن بھاگوت کے اس بیان پر اس لئے بھی شبہ ہوتا ہے کیونکہ سنگھ فیصلہ کرچکی ہے کہ نریندر مودی2014ء میں بھاجپا کے وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے۔نتیش کی تعریف کرنا تھوڑا مضحکہ خیز لگتا ہے۔ دلچسپ یہ بھی ہے کہ بہار کے بھاجپا لیڈر سنگھ کے چیف کے تجزیئے کو صحیح بتانے میں جٹ گئے ہیں۔ بہار بھاجپا کے پردیش پردھان سی پی ٹھاکر کا کہنا ہے بھاگوت کا تجزیہ ٹھیک ہے۔ بہار میں سبھی سیکٹر میں ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ گجرات میں ترقی نہیں ہورہی ہے، وہاں بھی ہورہی ہے لیکن اگر بھاگوت بہار کی بہتر انتظامیہ کو نمبرایک دے رہے ہیں تو یہ لائق خیر مقدم ہے۔ موہن بھاگوت کے بیان کو اس لئے نتیش کو منانے کی کوشش کی شکل میں بھی دیکھا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

12 اگست 2012

انا ہزارے کے بعد اب بابا رام دیو


کہاں پر رکنا ہے اور کس بات کو دم دار طریقے سے کہنا ہے اور کتنی جارحیت قائم رکھنی ہے، یوگ گورو بابا رام دیو نے اس بار رام لیلا میدان میں سب کچھ صاف کردیا۔اس بار ان کی باتوں میں وہ تلخی نظر نہیں آرہی تھی جوپچھلی بار دیکھنے کوملی تھی۔ بابا پر دو باتوں کا خاص اثر نظر آیا وہ پچھلی بار رام لیلا میدان میں پولیس لاٹھی چارج کو نہیں بھولے اور پھر ان کے سب سے قریبی ساتھی بال کرشن اس وقت جیل میں ہیں۔ بابا پر بال کرشن کی گرفتاری کا اتنا اثر ہے کہ انہوں نے اپنی تحریک کے پہلے دن بینر پر شہیدوں کے درمیان بال کرشن کی چھپی تصویر لگادی اور احتجاج ہونے پر صفائی دینی پڑی۔ بعد میں بینر کو ہٹا دیا گیا۔ بابا نے انا کے جن لوکپال سمیت کرپشن مٹانے اور کالی کمائی کی واپسی کی بات تو کہی لیکن منظم طریقے سے ان کے نشانے پر نہ تو کانگریس ہے اور نہ ہی اس کے نیتا۔ بلکہ اس بار تو وہ سونیا کو ماتا اور راہل کو بھائی بول رہے ہیں۔ صاف ہے بابا رام دیو سرکار کی دبنگئی پچھلی بار اسی میدان میں دیکھ چکے ہیں اس لئے اب اس مرتبہ سرکار کے لوگوں سے ماتا اور بھائی کارشتہ جوڑرہے ہیں۔ رام لیلا میدان میں بابا کے ایک بزرگ کے یہ تبصرے تھے اس سے بڑھیا تو انا کے تھے جس نے کسی بھی تحریک میں کانگریسی لیڈروں کی تعریف تو نہیں کی۔ انہوں نے آگے کہا جب تک دیش میں تبدیلی اقتدار نہیں ہوگا تب تک یہ سرکار نہ انا کی آواز سنے گی اور نہ ہی بابا کی۔ میرے سینے میں نہ صحیح کہیں بھی آگ ضرور لگی ہے۔ لیکن آگ جلنی چاہئے۔کویتا کی ان لائنوں کے اقتصابات کے ساتھ انا کی تحریک کا خاتمہ ہوا تھا۔ محض چھ دنوں کے بعد بابا رام دیو نے اسی آگ سے مشعل جلاتے ہوئے کرپشن اور کالی کمائی کی واپسی کو لیکر تحریک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا ہے۔اس بار بابا رام دیو کی اہم مانگیں ہیں مضبوط لوکپال بل لایا جائے، سی بی آئی و سی بی سی کو آزاد کیا جائے، چناؤ کمشنر اور سی جی اے کی تقرری کا عمل غیر جانبدار ہو، بیرونی اور گھریلو ذرائع سے کل 400 لاکھ کروڑ روپے کا کالا دھن ہے قدرتی وسائل کی ہورہی لوٹ اس پر لگام لگے۔ بھیڑ کے لحاظ سے بابا کی تحریک میں اس بار زیادہ بھیڑ نظر نہیں آرہی ہے۔ بابا کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے رام لیلا میدان میں ایک نہیں ہزاروں عورتیں پہنچ رہی ہیں۔ پچھلے برس اسی رام لیلا میدان میں گوڑگاؤں کی باشندہ راج بالا پولیس لاٹھی چارج میں شدید طور پر زخمی ہوئی تھی اور علاج کے بعد ان کی موت ہوگئی۔ اس سے بابا کی بھکت عورتوں پر زیادہ اثر نہیں دکھائی دیا اور وہ بہت بڑی تعداد میں تحریک میں آرہی ہیں۔ انہیں لگ رہا ہے کہ بابا رام دیو کی تحریک اس بار کوئی نہ کوئی رنگ ضرور لائے گی۔ رام دیو اور انا ہزارے کی تحریک اب الگ الگ رنگ میں دکھائی پڑنے لگی ہے۔ حمایتیوں میں بھی اختلاف کھل کر دکھائی دینے لگا ہے۔ رام لیلا میدان سے انا ٹوپی اور انا ٹی شرٹ غائب ہے۔ اتنا ہی نہیں انا کے حمایتیوں کی موجودگی بھی ندارد ہے جبکہ پہلے کی سبھی تحریکوں میں بیشک انا ہزارے اور رام دیو اسٹیج پر ایک ساتھ آئے یا نہیں مگر حمایتی ضرور پہنچتے تھے۔ سرکار کا رویہ قانون منتری سلمان خورشید کے اس تبصرے سے پتہ چلتا ہے کہ رام لیلا میدان میں رام لیلا ہر سال ہوتی ہے ویسی ہی جمہوریت میں علیحدہ علیحدہ نظریات والے لوگ وقتاً فوقتاً مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔رام لیلا تو ہر سال ہوتی ہے۔
(انل نریندر)

راہل کے بعد اب پرینکا کو سرگرم سیاست میں لانے کی تیاری


برعکس سیاسی حالات اور اترپردیش میں کمزور تنظیم کو دیکھتے ہوئے آنے والے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کیا اپنے پارلیمانی حلقے رائے بریلی سے کنارہ کرنے کا من بنا رہی ہیں یا پھر اپنی صاحبزادی پرینکا گاندھی واڈرا کو سیاست میں اتارنے کی تیاری کررہی ہیں؟ یہ سوال ہم اس لئے پوچھ رہے ہیں کیونکہ سونیا گاندھی اب رائے بریلی کی دیکھ بھال کا ذمہ پرینکا گاندھی کو دے رہی ہیں ہو سکتا ہے کہ سونیا کی بگڑتی صحت بھی انہیں ایسا کرنے پر مجبور کررہی ہو۔ خیر جو بھی وجہ ہو پرینکا گاندھی واڈرا نے رائے بریلی کا مورچہ سنبھال کر واضح اشارہ دے دیا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں سرگرم سیاست میں اترنے کی تیاری کررہی ہیں۔ اس کا ایک اور مطلب یہ بھی نکالا جاسکتا ہے وہ یہ کہ راہل گاندھی کی مانگ اور مقبولیت میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے اور کانگریس ورکروں کو اب کیا پرینکا سے راہل کے مقابلے زیادہ امیدیں ہیں؟ پرینکا نے رائے بریلی میں اپنا دربار شروع بھی کردیا ہے۔ رائے بریلی میں کانگریس کی حالت خراب ہوتی جارہی ہے۔ حالیہ اسمبلی چناؤ میں کانگریس نے نہ صرف رائے بریلی کی سبھی اسمبلی سیٹیں ہاریں بلکہ ایک کو چھوڑ کر ان کے امیدوار دوسرے مقام پر بھی نہیں پہنچ پائے۔ لوگوں کے خلاف ہوتے ہوئے بھی اس رجحان کو بھانپ کر ہی سونیا گاندھی نے پرینکا کو رائے بریلی کے لوگوں کے مسئلے سننے کے لئے دہلی میں جنتا دربار لگانے کو کہنا پڑا بلکہ وہاں جاکر لوگوں کے دکھ درد بھی بانٹنے کی ہدایت دی۔ خیال یہ ہے کہ پرینکا کو رائے بریلی میں چناؤ میں اتارنے کی تیاری بھی ہوسکتی ہے اس صورت میں ممکن ہے سونیا خود رائے بریلی سے2014ء میں کنارہ کر یا تو چناؤ میں حصہ نہ لیں یا پھر کرناٹک کے بلاری پارلیمانی حلقے سے چناؤ لڑیں۔سب کچھ طے حکمت عملی کے مطابق چلا تو سونیا گاندھی اپنے بیٹے راہل گاندھی اور بیٹی پرینکا کو نئی ذمہ داری سونپ کر چناوی سیاست سے سنیاسبھی لے سکتی ہیں؟ بھلے ہی وہ کبھی کبھار پارٹی کے لئے چناؤ پرچار میں جاتی رہیں یا پھر اوپری طور پر پارٹی کو مارگ درشن کرتی رہیں۔ سونیا گاندھی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سونیا گاندھی اس وقت اپنے کو سیاست سے الگ کرنے کے لئے مناسب وقت اور ماحول ڈھونڈ رہی ہیں اور وہ مناسب موقعے پر اچانک رخصت ہونے کے بجائے عزت کے ساتھ اس سے دوری بنانا چاہتی ہیں۔اگر پارٹی اور پریوار نے دباؤ بنایا تو ممکن ہے کہ وہ پارٹی کو مضبوطی دینے کی غرض سے جنوبی ہندوستان کے کرناٹک کے پارلیمانی حلقے بلاری سے چناؤلڑیں۔ پرینکا کے لئے بھی یہ راستہ آسان نہیں۔ اس کا ثبوت ہے اترپردیش کے پچھلے اسمبلی چناؤ میں کانگریس کا توقع کو مطابق کامیابی نہ مل پانا۔ پچھلے اسمبلی چناؤ کے پرچار مہم میں پرینکا بھی تھیں اور ان کی سرگرمی کے باوجود کانگریس کو جس طرح رائے بریلی اور راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقے امیٹھی میں توقع کے حساب سے کامیابی نہیں مل سکی اس سے یہ صاف ہوجاتا ہے کہ محض ان کی سرگرمی سے کچھ زیادہ ہونے والا نہیں ہے۔ اب جس طرح پرینکا واڈرا کو رائے بریلی کی ذمہ داری دے کر سرگرم سیاست میں اتارنے کی تیاری سے کہیں نہ کہیں اس تصور کو تقویت ملتی ہے کہ نہرو گاندھی خاندان کا کرشمہ اب ہوا ہوتا جارہا ہے اور سونیا گاندھی بھی اس سے بخوبی واقف ہیں۔
(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...