Translater

London Riots لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
London Riots لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

13 اگست 2011

جس برطانوی سامراج میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا،وہاں اندھیری رات ختم نہیں ہورہی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 13th August 2011
انل نریندر
جب انگریزوں کی حکومت بھارت پر تھی تو انگریز یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ’دی سن نیورسیٹس‘ یعنی سورج کبھی بھی غروب نہیں ہوگا۔برطانوی سامراج یعنی برطانوی عہد میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ وہ اتنا پھیلا ہوا تھا کہ دنیا کے ایک بڑے حصے میں انگریزوں کا راج ہوا کرتا تھا۔ انگریزوں نے راج کرنے کیلئے ہر طرح کے ہتھکنڈے اپنائے۔ آہستہ آہستہ حالات بدلتے گئے۔ آج حالت یہ ہے کہ انگلینڈ میں سورج نکلنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ وہاں ایسی کالی رات چھائی ہوئی ہے کہ روشنی کا موقعہ تک نہیں مل رہا ہے۔پچھلے پانچ چھ دنوں سے انگلینڈ میں ایسا خوفناک فساد بھڑکا ہوا ہے جو اس کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے جمعرات کے روز کہا کہ پولیس نے مانا کہ فسادات سے نمٹنے کیلئے اس کی حکمت عملی غلط تھی۔ انہوں نے کہا تشدد کے لئے اب تک 1300 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انگلینڈ کی لوک سبھا ہاؤس آف کامن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ تشدد کے دوران کئی شہروں میں ہوئے نقصان کی بھرپائی کیلئے ایک کروڑ پاؤنڈ کے راحت پیکیج کا اعلان کیاگیا ہے۔ گذشتہ 4 اگست کو پولیس کی فائرنگ میں ایک لڑکے مارک ڈگن جو افریقی نژاد سیاہ فام ہیں ، کے مرنے کے بعد 6 اگست کو ناٹنگھم سے شروع ہوئے دنگے آہستہ آہستہ مانچسٹر،سیلفرڈ، لیورپول، ناٹنگھم، لیسٹر اور بکنگھم تک پھیل گئے۔
انگلینڈ کے لوگ مہذب مانے جاتے ہیں لیکن سنیچر سے بھڑکے فسادات نے ثابت کردیا ہے کہ یہ سب سے بڑے لٹیرے بھی ہیں۔ جن 1300 لوگوں کو کو اب تک گرفتار کیا گیا ہے ان میں ایسے لوگ ہیں جن سے فساد بھڑکانا، لوٹ مار کرنے کی امید تک نہیں کی جاسکتی تھی۔ ان میں سے شاید ہی کسی کے خلاف پہلے جرائم کا ریکارڈ درج ہوا ہے۔ ان میں سب سے چھوٹا ایک11 سالہ بچہ بھی ہے تو ان میں کروڑپتی ماں باپ کی اولاد 19 سالہ ایک لڑکی لاراجنسن بھی ہے۔ ایک ٹیچر بھی پکڑا گیا ہے۔ گرفتار لوگوں میں ایک ہاؤس وائف بھی ہیں۔ زیادہ تر کو لندن کی عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔ امید تو تھی کہ کورٹ انہیں رہا کردے گی لیکن دنگوں میں ملزمان کو کورٹ نے ابھی بری نہیں کیا ہے۔ان لٹیروں میں سب سے چونکانے والا نام لارا جانسن کا ہے۔لارا ابھی جیل میں ہے ۔ ان لٹیروں میں سب سے چونکانے والا نام سارا جانسن کا ہے۔اس کے والد رابرٹ جانسن ارپنگٹن میں ایک بڑے مکان میں رہتے ہیں۔ اس میں سوئمنگ پول ، ٹینس کوٹ سمیت سبھی سہولیات مہیا ہیں۔ لارا لندن کے سب سے مہنگے اسکولوں میں سے ایک اولوے گریمر اسکول میں پڑھی ہے لیکن اس کے کار لوٹ کے مال سے بھری ہوئی پائی گئی۔ اس کی کار میں پانچ ہزار پاؤنڈ کی مالیت کا سامان بھرا ہوا تھا۔ اس میں سے ایک توشیبا ٹی وی، مائیکرو یو اور موبائل فون بھی تھا۔ لندن اور دوسرے شہروں میں جیسے غنڈوں کا راج چل رہا ہو۔ انگلینڈ کے آبائی لوگ ہی لوٹ مار میں آگے نظر آئے۔ ان لٹیروں غنڈوں نے ایشیائی نژاد لوگوں کو بھی اپنا نشانہ بنایا۔بکنگھم میں اپنے فرقے کے لوگوں کو فسادیوں سے بچانے کی کوشش کررہے تین برطانوی ایشیائی شہریوں کو (پاکستانی مسلمان) ایک تیز آتی کار نے کچل ڈالا۔ مرنے والوں کی شناخت شہزاد ، ہیری حسین اور منور علی کے طور پر کی گئی ہے۔ شہزاد اور حسین آپس میں بھائی ہیں۔ بکنگھم سے آئی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں پھیلے تشدد کے دوران تینوں مسجد سے باہر نکل کر اپنی کار کی دھلائی کرنے کیلئے سڑک پرکھڑے تھے۔ فسادیوں کی ایک تیز کار نے انہیں کچل دیا۔ تینوں متوفین کی عمریں 30-31 اور 20 سال بتائی جاتی ہیں۔ برطانیہ کے ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ مانچسٹر میں ہوئے فسادات اور لوٹ مار کے واقعات بیحد شرمناک جرائم ہے جو اتنے وسیع پیمانے پر پچھلے 30 برسوں میں نہیں ہوا۔ اتنے خونریزی کبھی نہیں دیکھی گئی۔
انگلینڈ میں جب فساد پھیلا اور ایشیائی نژاد برطانوی شہریوں نے دیکھا کہ پولیس انہیں قابو نہیں کرپا رہی ہے تو لٹل انڈیا کہے جانے والے لندن کے بیچ میں بسا ساؤتھ ہال میں ہندوستانی، پاکستانی ، بنگلہ دیشی چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان یا وہاں کے سرکاری ملازم ہوں سبھی اکٹھے ہوگئے اور انہوں نے مورچہ سنبھال لیا۔ کرپانیں اور ہاکی لیکر یہ سب سڑکوں پر اتر آئے۔ پیر کی رات کو ان سیاہ فام فسادیوں نے ساؤتھ ہال کی ایک زیور کی دکان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ دکان ایک پنجابی خاندان کی تھی جو ویسٹ ایلنگ میں رہتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارے ساؤتھ ہال میں یہ خبر پھیل گئی کہ ایشیائی دکانوں پر خاص کر جوہری کی دکانوں پر حملہ اور لوٹ مار کا امکان ہے۔ تقریباً300 افراد سڑکوں پر آگئے اور انہوں نے شری گورو سنگھ سبھا گورودوارہ و ایک بڑی مسجد کے باہر مورچہ سنبھال لیا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے تسلیم کیا ہے کہ پولیس نے فسادات کو ٹھیک ڈھنگ سے ہینڈل نہیں کیا۔ جب انگریزوں کے اپنے گھر کی بات آتی ہے تو وہ گولی چلانے تک سے کتراتے ہیں۔ قارئین کو تعجب ہوگا کہ اتنے خوفناک فسادات میں بھی پولیس کو گولی چلانے کی چھوٹ نہیں تھی۔ اب جاکر ربڑ کی گولیاں یا پانی کی بوچھاریں استعمال کی جارہی ہیں۔ یہ وہی انگریز ہیں جنہوں نے جلیانوالا باغ میں سینکڑوں امن پسند ہندوستانیوں پر گولیاں برسائیں تھیں۔ تحریک آزادی میں دیش بھکتوں کو طرح طرح کی اذیتیں دی گئی تھیں اور اب اپنے گھر میں گولی چلانے تک پر بھی پابندی ہے۔ آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ پورے لندن شہر میں محض 350500 پولیس جوان ہیں۔ ان میں سے صرف 2740 کے پاس ہتھیار ہیں باقی سب ڈنڈوں سے ہی دنگے پر قابو پانے میں لگے ہیں۔ فوج تک کو نہیں بلایا گیا ہے۔ جب ہم یہ سب دیکھتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم بھارت میں دنگوں سے انگریزوں سے کہیں بہتر نمٹنے میں اہل ہیں۔
برطانیہ میں بھڑکے دنگوں نے ایک بار یہ سوال ضرور کھڑے کردئے ہیں اور صاف کردیا ہے کہ یہ صرف قانون اور نظم کا ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ٹوری او ر لبرل ڈیموکریٹک محاذ حکومت کی پالیسیاں اور اس کی لاپرواہی کافی حد تک ذمہ دار ہے۔ اصل میں کبھی دنیا بھر میں اپنی حکومت پھیلانے والا برطانیہ خود آج ایک جوالہ مکھی پر بیٹھا ہوا ہے۔ تقریباً50 لاکھ لوگ دوسرے ملکوں سے آکر نہ صرف بسے ہیں بلکہ وہاں کے شہری بھی بن گئے ہیں اور یہ تعداد برطانیہ کی کل آبادی کی 8 فیصدی کے قریب ہے۔ انگریزوں کے موازنے میں ایشیائی اور افریقی اور کریبیائی لوگوں کی معیار زندگی سے لیکر اقتصادی حالت میں بھی بھاری فرق ہے۔ انگریزوں کے مقابلے میں وہاں سیاہ فام لوگوں میں بے روزگاری کی شرح تین گنا ہے۔ بہت سے ایشیائی اور دوسری نسل کے لوگوں نے وہاں خوشحالی کے جھنڈے بھی گاڑھ رکھے ہیں۔لیکن عام انگریز اب بھی اپنے یہاں رہ رہے دوسرے دیش کے لوگوں کو آسانی سے قبول نہیں کرپا رہے ہیں۔ ابھی جو فساد بھڑکا ہوا ہے اس کے پیچھے افریقی کریبیائی نژاد کے ایک لڑکے مارک ڈگن کی پولیس فائرنگ سے ہوئی موت کو سبب بتایا جارہا ہے۔ بیشک اس واقعہ نے چنگاری کو بھڑکانے کا کام کیا مگر چار دنوں میں لندن سمیت مختلف شہروں میں پھیل چکے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اندر ہی اندر جو آگ سلگ رہی تھی وہ بھڑک اٹھی ہے۔ جن علاقوں میں فساد پھیلا ہے وہاں ہندوستانی ، پاکستانی اور بنگلہ دیشی نژاد لوگ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ فسادیوں نے جس طرح سے ہڑدنگ مچا رکھا ہے اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ ان فسادات میں ایسے عناصر بھی شامل ہوگئے ہیں جنہیں صرف لوٹ مار سے مطلب ہے۔ کچھ شوقیہ لوگ جنہیں ایسے کاموں میں شامل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تھی وہ بھی اس میں کود پڑے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے ان فسادات کے لئے برطانیہ کی حکومت بھی کم ذمہ دار نہیں ہے۔ اس نے بجٹ اور دیگر خرچوں میں جو کٹوتی کی تھی اس کا خمیازہ وہاں کے غریب ،بیروزگار نوجوانوں کو زیادہ بھگتنا پڑا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر وقت دیش خاص کر ترقی یافتہ ملکوں کے لئے ایک چیلنج ہے۔ اس بات پر غور کرنا اس لئے ضروری ہے کیونکہ دنیا میں جن جمہوری ممالک کی دہائی دی جاتی ہے ان میں انگلینڈ بھی ایک ہے۔ بھارت کے لئے بھی اس میں ایک سبب ہے۔ ہیو ناٹس اور ہیونس کا بڑھتا فرق نہ تو دیش کے لئے ٹھیک ہے اور نہ ہی ہماری جمہوریت کیلئے۔ امیری بڑھتی جارہی ہے غریبوں اور امیروں میں فرق کم نہیں ہورہا ہے۔ بہرحال انگلینڈ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کیلئے سب سے بڑی چنوتی یہ ہے کہ وہ ان فسادات کو جلد سے جلد روکیں اور سرکار کی ان پالیسیوں پر پھر سے غور کریں جن کے سبب یہ فساد بھڑکے ہیں اور یہ کام جلد کرنا ہوگا کیونکہ 2012ء میں لندن میں اولمپک کھیل ہونے والے ہیں۔ اگر ہندوستانی ٹیم جو ان دنوں انگلینڈ کے دورے پر ہیں وہ بھی کہیں دنگوں کے سبب بیچ میں ہی ٹور منسوخ کرکے ملک واپس لوٹ آئے جیسا انگلینڈ ٹیم نے ممبئی فسادات کے دوران کیا تھا تو انگریزوں کو کیسا لگے گا؟
Anil Narendra, Daily Pratap, London, London Riots, Vir Arjun

10 اگست 2011

فسادات کی زد میں آیا لندن

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 10th August 2011
انل نریندر
لندن میں پچھلے تین دنوں سے دنگوں کا دور دورہ جاری ہے۔ نارتھ لندن کے ٹوٹنہم علاقے میں جمعرات کو پولیس فائرنگ میں ایک شخص کی موت سے بھڑکے فسادات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ خیال رہے جمعرات کو مبینہ طور پر پولیس فائرنگ میں 29 سالہ شخص مارگ ڈگن کی موت واقع ہوگئی تھی۔ جس کے بعد احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ لیکن سنیچر کے بعد ان مظاہروں نے فساد کی شکل اختیار کرلی۔ افریقی نژاد کے سیاہ فام لوگوں نے پولیس پر جم کر پتھراؤ کیا۔ اخبار دی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو مارگ ڈگن نامی شخص کے قتل کے بعد مقامی سیاہ فاموں نے انصاف کی مانگ کرتے ہوئے سنیچر کی شام پانچ بجے کے قریب ٹوٹنہم کے ہائی وے روڈ پر ایک پرامن مظاہرہ کیا۔ چشم دید گواہوں نے بتایا کہ لوگوں کا غصہ دیکھتے دیکھتے تشدد میں بدل گیا۔ موقعے پر سینکڑوں مظاہرین جمع ہوگئے۔
فسادیوں کو قابو کرنے کے لئے دنگا پولیس نے قابو پانے کی کوشش کی لیکن جب ایسا کیا تو فسادیوں نے پولیس کی گاڑیوں پر حملہ بول دیا اور ان کو آگ کے حوالے کردیا۔ معاملہ یہیں نہیں رکا، فسادیوں نے دکانوں کے شیشے توڑ کر اندر رکھا سامان لوٹنا شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی دکانیں لٹ گئیں۔ فسادیوں کو ٹرکوں میں سامان لاد کر بھاگتے دیکھا گیا۔ ٹوٹنہم میں بڑی تعداد میں افریقی اور کیربیا فرقے کے لوگ رہتے ہیں۔ اس خطے میں باقی لندن کے مقابلے میں بیروزگاری زیادہ ہے۔ ٹوٹنہم میں پہلی بار تشدد ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ فسادات قریب 25 سال پہلے 1985 میں ہوئے برطانیہ کے خوفناک دنگوں سے ملتے جلتے ہیں۔پولیس افسر بلیک لاک کو قتل کردیا تھا۔500 سے زیادہ لڑکوں نے سڑکوں پر اترکر پولیس پر حملے ، بسوں میں آگ لگانے، دکانیں لوٹنے جیسی حرکتوں کو انجام دیا تھا۔ سڑکوں پر گشت لگا رہیں پولیس کی دو کاروں کو بھی نذر آتش کردیا تھا۔ اس بار کے فسادات حالانکہ 1985 کے فسادات جتنے خوفناک نہیں لیکن تقریباً اسی طرح کے ہیں۔
یہ فساد ابھی بھی جاری ہے۔ بی بی سی ٹی وی کے کچھ ملازمین اور سیٹلائٹ ٹرک بھی حملے کے شکار ہوئے ہیں۔ واقعہ پر موجودہ بی بی سی کے نمائندے نے بتایا کہ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں جاری ہیں۔ فائر برگیڈ کی گاڑیاں بھی تشدد کا شکار بنی ہیں۔ ایک چشم دید گواہ نے کچھ یوں سڑک کا منظر بیان کیا ہے۔ یہ علاقہ اس وقت جنگ کا منظر پیش کررہا ہے۔ میں نے پانچ لڑکوں کو دیکھا جنہوں نے اپنے چہروں کو ڈھکا ہوا تھا۔ا نہوں نے کچرے کی ٹرالی کو آگ لگادی اور اسے پولیس کی طرف پھینک دیا۔ پولیس کے مطابق پولیس نے ایک گاڑی کو روکا جس میں لڑکا مارگ ڈگن بیٹھا ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق مارگ نے پولیس پر بغیر وجہ فائرننگ شروع کردی۔ اس کے بعد پولیس نے گولی چلائی۔ یہاں سے معاملہ شروع ہوا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس نے مارگ ڈگن کو بغیر وجہ مارا اور انہیں انصاف چاہئے۔ ٹوٹینہم سے بھڑکے تشدد این فیلڈ، بکسن، ڈاسٹون، اسلنگٹنگ، مستابو تک پھیل گئے ہیں۔ حملوں کے سلسلے میں اب تک100 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حملوں میں تقریباً دو درجن سے زیادہ پولیس والے بھی زخمی ہوچکے ہیں۔ انگلینڈ ایک جوالہ مکھی پر بیٹھا ہوا ہے۔ پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ جہادیوں کا بھی برطانیہ سب سے بڑا اڈہ بن گیا ہے۔ کچھ دن پہلے میں نے پڑھا تھا کہ کچھ لندن کے شہریوں نے وہاں شرعی قانون نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی نژاد سیاہ فام تشدد نظریئے کے ہوتے ہیں۔ یہ فسادات کہیں اور زیادہ نہ پھیل جائیں ابھی تک تو ہندوستانی ۔ پاکستانی نژاد کے لوگ بچے ہوئے ہیں لیکن اگر فساد بڑھتا ہے تو وہ بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔
Tags: Anil Ambani, Daily Pratap, London, London Riots, UK, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...