Translater

‏Salman Khursheed لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Salman Khursheed لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

24 فروری 2012

چناؤ کمیشن کے اختیارات میں کٹوتی کا ارادہ

اترپردیش چناؤ میں دیگر پارٹیوں کے خلاف زور آزمائش کررہی کانگریس کا ایک مورچہ چناؤ کمیشن کے خلاف بھی نظر آرہا ہے۔ دراصل کانگریس پارٹی کانپور کے ضلع افسر کی جانب سے پارٹی سکریٹری جنرل راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات سے سخت نالاں ہیں۔ پارٹی جہاں اس حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی وہیں چناؤ کمیشن کے دائرہ اختیار کو بھی کترنے کی تیاری کررہی ہے۔ بتاتے ہیں کہ کیبنٹ گروپ کی میٹنگ میں چناؤ ضابطے کو چناؤ کمیشن کے دائرہ اختیار سے ہٹانے کا ایجنڈا تیار ہورہا ہے۔ اس سے پہلے مرکزی وزیر سلمان خورشید اور دوسرے وزیر بینی پرساد ورما بھی چناؤ ضابطے کے معاملے میں چناؤ کمیشن کو درپردہ طور پر چیلنج کرچکے ہیں۔ ابتدائی دور میں چناؤ کمیشن بھلے ہی بسپا اور اکالی دل کے لیڈروں کے نشانے پر رہا ہو لیکن اب لڑائی چناؤ کمیشن بنام کانگریس ہوگئی ہے۔ کانگریس کے اب نشانے پر چیف الیکشن کمشنر ایس۔ وائی قریشی ہیں۔ ویسے چیف الیکشن کمشنر نے اپنے اکھڑ رویئے سے ایک بار پھر ٹی این شیشن کی یاد دلادی ہے۔ ایک دور میں جس طرح سے چیف الیکشن کمشنر شیشن نے اپنی دھاک سے تمام پارٹیوں کو چناؤ کمیشن کی طاقت دکھا دی تھی کچھ اسی طرح کا کام قریشی کررہے ہیں۔ شاید یہ ہی بات کانگریس کے بڑے لیڈروں کو ہضم نہیں ہورہی ہے۔ ایسے میں چناؤ کمیشن کے پر کترنے کی چپ چاپ تیاریوں کی خبر سے تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ایک انگریزی اخبار نے دو دن پہلے خلاصہ کیا تھا کہ مرکزی سرکار ماڈل چناؤ ضابطہ وغیرہ کے معاملے میں چناؤ کمیشن کے اختیار کو کم کرنے کی پہل کرنے والی ہے۔ اس خبر میں قریشی کی رائے بھی بتادی گئی تھی قریشی نے کہا کہ اگر سرکار ایسی کوئی کوشش کرے گی تو اسے چناؤ ضابطے کی تعمیل کرانا اور مشکل کام ہوجائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا چناؤ کمیشن کے اختیارات کو کم کرنے کی کوئی کوشش جنتا پسند نہیں کرے گی۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ سرکار کی ایسی کوشش سراسر سیاسی بے شرمی ہے۔ ایسا اس لئے کیا جارہا ہے کیونکہ حال ہی میں چناؤ کمیشن نے وزیر قانون سلمان خورشید کو بھی چناؤ ضابطے کی خلاف ورزی کے معاملے میں کٹہرے میں کھڑا کردیا تھا۔ اس پر انہیں معافی بھی مانگنی پڑی تھی۔ ایک اور معاملے میں مرکزی وزیر بینی پرساد ورما بھی پھنسے ہیں۔ راہل گاندھی بھی کانپور میں چناؤ ضابطے کو ٹھینگا دکھا کر پھنس گئے ہیں۔ اسی چڑ کو اترانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کے منموہن سرکار کیا واقعی ایسا کوئی قدم اٹھانے کے بارے میں غور کررہی ہے؟ اگر سوچ رہی ہے تواس کا نظریہ غلط ہے۔ چناؤ کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اس کا کام آزادانہ، منصفانہ اور صاف ستھرے چناؤ کرانا ہے اور ایسا وہ کر بھی رہا ہے۔ ایسا نہیں کہ چیف الیکشن کمیشنر ایس۔ وائی قریشی خاص طور پر کانگریس کو ہی نشانہ بنا رہے ہیں ان کے نشانے پر سبھی پارٹیاں ہیں جو چناؤ ضابطے کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ ہندوستان کی جمہوریت کی مضبوطی کی ایک بڑی وجہ ہے آزادانہ اور منصفانہ چناؤ ۔ اس کام میں سب سے اہم کردار چناؤ کمیشن کا ہے۔جنتا چناؤ کمیشن کے اختیارات میں کٹوتی منظور نہیں کرسکتی بہتر ہے سرکار اگر ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اسے ترک کر دے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Rahul Gandhi, S.Y. Qureshi, Salman Khursheed, Vir Arjun

14 فروری 2012

کانگریس کے جب ایسے دوست ہو تو دشمنوں کی ضرورت نہیں


Published On 14th February 2012
انل نریندر
چناوی ماحول میں الٹے سیدھے بیان دینا کوئی خاص بات نہیں ہوتی چناوی مہم کے دوران ووٹوں کی خاطر نیتا لوگ بہت غیرضروری بیان دے دیتے ہیں۔ لیکن اترپردیش میں جس طرح کے بیان کچھ کانگریسی نیتا دے رہے ہیں وہ حیرت انگیز اور کچھ حد تک چونکانے والے ضرور ہیں۔ ہمیں نہیں لگتا کہ یہ بیان یا تنازعہ کسی حکمت عملی کے تحت دیئے جارہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان سے کانگریس اعلی کمان خوش تو نہیں ہوسکتا کیونکہ ایسے دوست ہو تو دشمنوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ان شیخ چلی ٹائپ کے بیانات سے کانگریس کی مشکلیں ہی بڑھی ہے کانگریس نے جن لوگوں کو یوپی میں پارٹی کی نیا پار لگانے کے لئے مقرر کیا ہے وہی اس کی لوٹیا ڈبونے پر تلے ہوئے ہیں۔ اور ہائی کمان کے ذریعہ کئے جارہے اشارے کے باوجود بھی اپنی غلطی نہیں سدھاررہے ہیں۔ ان لوگوں میں پہلا نام سلمان خورشید کاہے ۔وہ وزیرقانون ہے اور چناؤ ضابطہ کے بارے میں بخوبی جانتے ہوئے بھی وہ نوفیصدی اقلیتی ریزرویشن کا مسلسل راگ الاپ رہے ہیں۔ چناؤ کمیشن کی تنقید کے بعد بھی وہ باز نہیں آرہے ہیں۔ کہتے ہیں چناؤ کمیشن چاہے پھانسی پر چڑھا دے یا کچھ بھی کرے میں پسماندہ مسلم فرقے کے لوگوں کو ان کا حق دلا کر ہی رہوں گا۔ مجھ میں بہت ساری پابندیاں لگا دی گئی ہے۔ کیا میں پسماندہ لوگوں کے حق کے بارے میں بول نہیں سکتا۔ پسماندہ لوگوں کو ریزرویشن نہیں ملے گا۔ تو کسے ملے گا۔ کانگریس کے پاس اس کاجواب نہیں بن پارہا ہے۔ جب کہ میڈیا ان سے خورشید کے بیان کے بارے میں سوال کرتا ہے کہ سلمان خورشید کے بعد دوسرا نام آج کل یوپی میں راہل گاندھی کی ناک کا بال بنے بینی پرساد ورما کا ہے وہ کبھی اپنے ہی ایم پی پی ایل پنیا کو یوپی کے بجائے باہری ( پنجاب) کابتا رہے ہیں تو کبھی وزیراعظم پر رائے زنی کرتے ہیں کہ دیش کے وزیراعظم بوڑھے ہو چلے ہیں وہ اب دیش چلانے کے لائق نہیں ہے موجودہ عہد ختم ہوتے ہوتے ان کی عمر میں دوسال کا اضافہ اور ہوجائے گا ایسے میں دیش کی باگ دوڑ نوجوان کے ہاتھ میں آنی چاہئے۔ یہ باتیں مرکزی وزیر فولاد بینی پرساد ورما گزشتہ جمعہ کو شہر کے مڈیاڈو اسمبلی حلقہ سے کانگریس امیدوار پرمندرسنگھ کی حمایت میں منعقدہ چناوی ریلی کے بعد میڈیا سے کہی انہوں نے کہا کہ دیش وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ 80 برس کے ہوچکے ہیں۔ اپنے بڑ بولے پن سے دونوں دن سرخیوں میں رہنے والے ورما نے کہا کہ دیش کی کمان اب نوجوان ہردے سمراٹ وکانگریس کی یورراج ایم پی راہل گاندھی کے ہاتھ میں آنی چاہئے۔ اعظم گڑھ میں چناؤ کے ٹھیک پہلے سلمان خورشید نے ایک اورہنگامہ کھڑا کرا دیا ہے کہ ایک چناوی ریلی میں آپ نے فرمایا کہ کانگریس صدر سونیاگاندھی نے جب بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی تصویریں دیکھی تھیں تو وہ رو پڑی تھی۔ اس پر کانگریس سکریٹری جنرل دگ وجے سنگھ خورشید کے اس بیان کو غلط مانتے ہوئے یہ کہا تھا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نہیں روئی تھی۔ اس کے بعد دگ وجے سنگھ نے ریاست میں صدر راج لگانے کی بات کہہ کر لوگوں کو چونکا دیا۔ سلمان خورشید کے ساتھ مانو مسلمانوں کے نیتا بننے کے لئے جم کر مقابلہ چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی وزیرغلام نبی آزاد کہتے ہیں کہ پارٹی کو 100سیٹیں ملے گی۔ وہی جے پرکاش جیسوال فرماتے ہیں کہ یوپی میں کانگریس کی سرکار بننے جارہی ہیں۔ اور پردیش میں چاہے کانگریس کا وزیراعلی بھلے کوئی بنے۔ لیکن ریمورٹ کنٹرول راہل گاندھی کے ہاتھ میں ہی ہوگا۔ رابرٹ وڈرا کہتے ہیں کہ پرینگا سیاست میں آئے گی۔ اور پرینکا کہتی ہے کہ میراکوئی ایساارادہ نہیں۔ اس لئے کہتا ہوں کانگریس کے جب ایسے دوست ہو تودشمنوں کی ضرورت نہیں ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Salman Khursheed, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا مستقبل؟


Published On 14th February 2012
انل نریندر
بحرانوں سے گھرے پاکستانی وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے ستارے آج کل گردش میں چل رہے ہیں۔پچھلے کئی مہینوں سے پاکستان سپریم کورٹ اور گیلانی کے درمیان زبردست کشمکش جاری ہے۔ جیسے لگتا ہے شاید اب گیلانی صاحب کو تھوڑی راحت ملے۔ ویسے ہی سپریم کورٹ ایسے احکامات دے دیتی ہے جس سے حالات کشیدہ بن جاتے ہیں۔ جمعہ کو پاکستانی سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے ان کی اپیل خارج کردی تھی۔ اور ساتھ ہی صاف الفاظ میں انہیں 13 فروری کو عدالت میں حاضر ہونے کو کہاتھا جس پر تعمیل کرتے ہوئے وزیراعظم مسٹر گیلانی عدالت میں حاضر ہوئے۔ ان پرالزامات طے ہوگئے ہیں ۔لیکن تازہ اطلاعات کے مطابق مسٹر گیلانی معاملے کی سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی گئی ہے۔ اس روز اگرعدالت ان پر مقدمہ چلانے کی اجازت دیتی ہے تو انہیں کرسی چھوڑ نی پڑسکتی ہے ۔ 13فروری کوعدالت نے معاملے کو ٹال دیا ہے۔ جس سے انہیں تھوڑی راحت ضرورملی ہے۔ قابل ذکر ہے مسٹر گیلانی نے اپنے خلاف توہین عدالت کے الزام طے کرنے کے لئے انہیں طلب کرنے والے حکم کو منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ عدالت عظمی نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے معاملے پھر سے کھولنے میں ناکام رہنے پر گیلانی کو سمن بھیج کر 13فروری کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کو کہاتھا۔ گیلانی کے وکیل اعتزازا حسن کی جانب سے 200 صفحات کی اپیل میں کورٹ میں وزیراعظم کے 13فروری کو بذات خود پیش ہونے کے متعلق حکم پر روک لگانے کی اپیل کی تھی۔ جسے جمعہ کو خارج کردیا تھا۔ 13فروری کو صدر آصف زرداری کے خلاف رشوت خوری کے معاملوں کو پھر سے کھولنے کے حکم کی تعمیل نہ کرنے کے لئے وزیراعظم گیلانی پر الزامات طے کئے گئے ہیں۔گیلانی کی اپیل خارج کرنے سے پہلے سپریم کورٹ کی 8رکنی بنچ کے چیف اورچیف جسٹس افتخار چودھری نے گیلانی کے وکیل سے صاف جواب مانگا تھا ۔کیا وزیراعظم صدر زرداری کے خلاف رشوت کے معاملوں کو پھر سے کھولنے کے لئے سوئز حکومت کو خط لکھیں گے یا نہیں؟ انہوں نے کہا ''ہم آپ کو فون پر وزیراعظم سے بات کرنے کے لئے دس منٹ کاوقت دیتے ہیں اور آپ ہمیں بتائیں لیکن گیلانی کے وکیل نے جواب میں کہا ہے کہ مجھے ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اپیل خارج کی جاتی ہے۔'' سوال یہ اٹھا ہے کہ اب آگے کیاہوگا؟ کیاگیلانی اب استعفی دیں گے؟ گیلانی اگرہٹتے ہیں تو سرکار نہیں گرے گی کیونکہ حکمراں محاذ کے پاس مطلوب اکثریت ہیں وہ گیلانی کی جگہ کسی اورکو وزیراعظم مقرر کرسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ سے چل رہی تکرار سے حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی کمزور ضرور ہوئی ہے اور اگلے عام چناؤ 2013میں ہوسکتے ہیں چاروں طرف مشکلات سے گھیرے پاکستان میں اگر سیاسی عدم استحکام بڑھ جاتا ہے تو یہ اچھا اشارہ نہیں مانا جاسکتا۔ ایک طرف طالبانی معاملہ دوسری طرف بڑھتی غریبی ، بے روزگاری ، آج پاکستان سب طرف سے گھرتا جارہا ہے حکمراں محاذ سرکار پر ایک طرف سنگین الز ام لگائے جارہے ہیں ۔ٹرانسپرینسی انٹر نیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے تازہ رپورٹ میں کہاہے کہ وزیراعظم گیلانی کے عہد میں پاکستان کو 805 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ یہ نقصان کرپشن، ٹیکس چوری وخراب انتظامیہ کی وجہ سے ہوا ہے ڈی نیوز سے ٹی آئی پی کے مشیر عادل گیلانی نے کہا کہ کرپشن کے اثر کافی سنگین ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت جو سال 2008میں برسراقتدارآئی ہے ۔اب تک یہ سب سے کرپٹ حکومت ہے یہ سرکار کے عہد میں کرپشن کے سارے پچھلے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں اور دیش سب سے کرپٹ ملکوں کی فہرست میں اوپر پہنچ گیا ہے۔ پاکستان میں سرکار اور عدلیہ کے درمیان ٹکراؤ کی ایک اور وجہ سے بھی تیز ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ نے تین وزراء سمیت 28 نمائندوں کو معطل کردیا ہے معاملہ کی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ سینٹ، نیشنل اسمبلی اورصوبائی اسمبلیوں کے لئے 28 ضمنی چناؤ ادھورے کمیشن نے کرائے تھے۔ ان چناؤ کے وقت کمیشن کے کچھ ممبران کے عہدے خالی پڑے تھے اس لئے کورٹ نے ان ضمنی انتخابات کو غیر آئینی قرار دے کر سبھی ممبران کو معطل کردیا تھا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا سیاسی مستقبل اندھیرے میں ہیں ممکن ہے انہیں وزیراعظم کے عہدے سے استعفی دینا پڑے وہ بھی 6مہینے کے لئے جیل بھی جاسکتے ہیں۔بہرحال دیکھیں 13فروری کو عدالت نے معاملے کو 28فروری تک ٹال دیا ہے۔ اس روز عدالت کیا فیصلہ سناتی ہیں۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Salman Khursheed, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

24 ستمبر 2011

چدمبرم حکومت اور پارٹی دونوں کے لئے لائبلٹی بن گئے ہیں



Published On 24th September 2011
انل نریندر
پونے دو لاکھ کروڑ روپے کے ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں ایک اہم موڑ آگیا ہے۔ اب اس گھوٹالے کے گھیرے میں اس وقت کے وزیر مالیات اور موجودہ وزیر داخلہ پی چدمبرم آگئے ہیں۔ ان پرالزام اپوزیشن یا جانچ ایجنسی سی بی آئی نے نہیں بلکہ موجودہ وزیر پرنب مکھرجی کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔ پرنب مکھرجی کی جانب سے25 مارچ2011 کو وزیر اعظم کے دفتر کو لکھے خط میں کہا گیا ہے کہ اگر چدمبرم چاہتے تو ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ روک سکتے تھے لیکن انہوں نے 30 جنوری 2008 کو اے راجہ سے ملاقات میں انہیں پرانی شرحوں پر اسپیکٹرم کرنیں بیچنے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے کہا میں اب اینٹری فیس یا ریوینیو شیرینگ کی شرحوں کو ریوزٹ یعنی جائزہ نہیں لینا چاہتا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر چدمبرم چاہتے تو اسپیکٹرم کی پہلے آؤ اور پہلے پاؤں کی جگہ مناسب قیمت پر نیلامی کی جاسکتی تھی۔ گیارہ صفحات پر مبنی یہ خط آنے والے وقت میں چدمبرم کے لئے مصیبت کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ خط آر ٹی آئی کے تحت وویک گرگ نے حاصل کی ہے۔ جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے یہ خط سپریم کورٹ میں جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس اے کے گانگولی کی بنچ کے سامنے دستاویز کے طور پر پیش کیا ہے۔ وزارت مالیات میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر مامور ڈاکٹر پی جی ایس راؤ نے وزیر اعظم کے دفتر میں جوائنٹ سکریٹری ونی مہاجن کو25 مارچ 2011 کو یہ خط بھیجا تھا۔ اس خط سے صاف ہے کہ پرنب مکھرجی یہ اشارہ دینا چاہ رہے ہیں کہ اگر پی چدمبرم اڑ جاتے تو شاید ٹیلی کام گھوٹالے کے چلتے دیش کو لاکھوں کروڑوں روپے کا نقصان نہ ہوتا۔ وزارت پی ایم او کو بھیجے ہوئے خط میں کہتی ہے کہ وزارت مالیات 31 دسمبر2008 تک کے لائسنس 2001 کے دام پر بیچنے کے لئے تیار ہوگئی۔
چدمبرم پر سیدھا الزام لگتا ہے کہ اے راجہ جو کچھ کررہے تھے ان کو وزیر داخلہ کی رضامندی حاصل تھی۔ یہ ہی نہیں 30 جنوری2008 کو انہوں نے اے راجہ سے میٹنگ کرکے انہیں پرانی شرحوں پر اسپیکٹرم بیچنے کی اجازت دی۔ اے راجہ بھی شروع سے یہ ہی کہہ رہے ہیں کہ میں نے جو کچھ بھی کیا وہ پی ایم او اور وزارت داخلہ کی منظوری اور علم میں لاکر کیا۔ اب یہ الزام تو کچھ سرکاری دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے۔ پہلے آؤ پہلے پاؤ کی جگہ زیادہ قیمت پر اسپیکٹرم کی نیلامی کی جاسکتی تھی لیکن پی چدمبرم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ کمپنیوں کو دئے گئے یو اے ایس لائسنس کی سہولیت 5.1 سرکار کو لائسنس کی شرائط کو کسی بھی وقت بدلنے کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ یہ مفاد عامہ میں ہو یا سلامتی کے لئے ضروری ہو لیکن چدمبرم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ وزارت مالیات نے ٹیلی کام سیکٹر میں پیداوار کی تناسب فیس طے کرنے کی بات کی تھی۔ راجہ اس سے متفق نہیں تھے۔ چدمبرم نے اس کی بھی مخالفت نہیں کی۔ وزارت مالیات 4.4 میگا ہارٹس سے اوپر کی اسپیکٹرم کرنوں کو بازار کے بھاؤ بیچنا چاہتی تھی۔ راجہ نے یہ حد 6.2 میگا ہارٹس کردی۔ چدمبرم اسی پر مان گئے لیکن کسی بھی کمپنی کو6.2 میگاہارٹس سے اوپر اسپیکٹرم کرنیں نہیں دی گئیں۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ سرکار4.4 میگاہارٹس سے اوپر کی نیلامی والے موقف پر قائم رہتی اور کمپنیوں سے نئے داموں پر پیسہ وصولتی لیکن یہ بھی نہیں ہوا۔ یوپی اے کے اندر ایک طرح سے چھڑی خانہ جنگی سے وزیر اعظم کا پریشان ہونا فطری ہی ہے۔ وزیراعظم آج کل امریکہ میں کار فرماں ہیں۔ منموہن سنگھ نے پرنب مکھرجی اور چدمبرم دونوں سے فون پر بات چیت کی ہے۔ جمعرات کی شام وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ایک بیان جاری کر دونوں لیڈروں سے بات ہونے کی جانکاری دی۔ انہوں نے کہا میں نے وزیر اعظم کو پورے معاملے سے باآور کیا ہے کہ جب تک وہ غیر ملکی دورے سے لوٹتے ہیں میں اس موضوع پر کوئی بیان نہیں دوں گا۔ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ 27 ستمبر کو نیویارک سے بھارت واپس آئیں گے۔ ادھر وزیر خزانہ نے بھی نیویارک سے میڈیا سے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لئے میں کچھ نہیں کہوں گا۔ وزیر مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید نے کہا کہ چدمبرم پر سوال نہیں کھڑے کئے جاسکتے ہیں۔ وہ سرکار کی حمایت کے حقدار ہیں۔ مرکزی وزیر اطلاعات امبیکا سونی نے بھی سرکار میں دراڑ کے پیدا ہونے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا جو بھی رپورٹیں آرہی ہیں ان میں سچائی نہیں ہے۔ ٹوجی اسپیکٹرم معاملے کی جانچ کرنے والی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور بھاجپا کے سینئر لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے کہا کہ چدمبرم فوراً استعفیٰ دیں یا انہیں برخاست کیا جائے۔ سی پی ایم نے چدمبرم کے کردار کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی ہے۔ ادھر تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے کہا کہ چدمبرم ٹو جی کیس میں ملوث ہیں اور یہ صاف ہوچکا ہے۔ نیویارک سے وزیر اعظم نے کہا انہیں چدمبرم پر پورا بھروسہ ہے۔ چوطرفہ پریشانیوں سے گھری یہ یوپی اے حکومت کے لئے وقت دن بدن مشکلوں بھرا ہوتا جارہا ہے کیونکہ اس مرتبہ سارے الزام ایک سرکاری دستاویز کی بنیاد پر لگ رہے ہیں۔ اس لئے اس سرکار کے لئے اس سے نکلنا آسان نہ ہوگا ۔ رہا سوال پی چدمبرم کا وہ تو اب سرکار اور کانگریس پارٹی کیلئے ایک لائبلٹی بنتے جارہے ہیں۔
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Salman Khursheed, UPA, Vir Arjun,

جلتا فرانس!

فرانس میں پچھلے کئی دنوں سے تشدد آمیزآندولن ہورہا ہے۔ دیش بھر میں ہوئے مظاہروں کے دوران 2300 سے زائد لوگوں کو حراست میں لیا گیا جو نوجوانو...