Translater

Valadimir Putin لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Valadimir Putin لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

12 مئی 2012

مظاہروں کے درمیان پتن تیسری مرتبہ صدر بنے



Published On 11 May 2012
انل نریندر
روس میں بڑا مینڈیٹ حاصل کرنے والے مقبول لیڈر ولادیمیر پتن نے پیر کے روز تیسری بار روس کے صدر کی ذمہ داری سنبھال لی۔ کبھی روس کو خوشحالی کی بلندیوں پر لے جانے کا خواب دکھانے والے اس لیڈر نے اس مرتبہ جمہوری اقدار کو مضبوطی دینے کا اعلان کیا۔ یہ تیسرا موقعہ ہے جب پتن نے روس کا اقتدار سنبھالا ہے۔ اس سے پہلے 2000 سے 2008ء تک وہ صدر تھے۔ اس کے بعد چار سال تک وہ وزیر اعظم کی شکل میں اقتدار کا ایک بڑا مرکز بنے رہے ۔پتن کا کہنا ہے جب میں روسی صدر کے طور پر حلف لیتا ہوں تومیں اپنے شہریوں کے حقوق اور آزادی کا احترام اور سلامتی بنائے رکھوں گا۔حلف لینے کے فوراً بعد پتن نے وزیر اعظم کی شکل میں میدوف کا نام تجویز کیا۔ یہ دونوں لیڈروں کے درمیان اقتدار کی سانجھے داری کو لیکر ہوئے سمجھوتے کے تحت کیا تھا۔ مانا جارہا ہے کہ روسی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان ڈوما کا ایک خصوصی اجلاس بلا کر وزیر اعظم کی شکل میں میدوف کے نام پر باقاعدہ طور سے توثیق ہوجائے گی لیکن پتن کی حلف برداری تقریب تنازعوں سے بچ نہیں سکی۔ حلف برداری تقریب کے دوران ماسکو میں لوگوں نے جم کر احتجاج اور مظاہرے کئے۔ اپوزیشن کے لیڈر بورس نمتسوت سمیت 120 ورکروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ ایتوار سے ابھی تک 400سے زیادہ لوگ گرفتار ہوچکے ہیں۔ کچھ مغربی ممالک بھی پتن کی نکتہ چینی کررہے ہیں۔ وہ اقتدار سے چپکنے کی پتن کی کوششوں کی نکتہ چینی ہورہی ہے لیکن پتن نے ان کی کبھی پرواہ نہیں کی۔ حلف لینے کے بعد انہوں نے اپنی مختصر تقریر میں کہا کہ روس قومی ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔ ہمیں اپنے معیار ات و نشانو ں کو مقرر کرنا ہوگا۔ آنے والے برسوں میں روس کا مستقبل طویل عرصے کے لئے طے ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا میدوف نے جدیدی کرن کو نئی رفتار دی ہے اور اس میں تبدیلی جاری رہے گی۔ جمہوریت کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روسی جمہوریت اور آئینی اختیارات کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ میں اسے اپنی زندگی کا مقصد مانتا ہوں۔ اپنے لوگوں کی خدمت کرنا ہمارا عزم ہے۔ صدر منتخب ہونے کے بعد پتننے اپنی پہلی تقریر میں امریکہ سے کہا کہ وہ اس بات کی گارنٹی دے کہ اس کا میزائل سسٹم روس کے خلاف نہیں ہے۔ حلف برداری کے فوراً بعد روس کا نیوکلیائی سوٹ کیس پتن کے سپرد کردیا گیا ہے۔
انہوں نے اپنی سرکار کا نظریہ صاف کردیا اور نئے فرمان کے مطابق روس امریکہ کے ساتھ اور گہرے رشتے چاہتا ہے لیکن وہ اپنے اندرونی معاملوں میں کسی طرح کی کوئی دخل اندازی قطعی برداشت نہیں کرے گا۔ روس امریکہ کے ساتھ رشتوں کو صحیح طور پر بالائی سطح تک لے جانا چاہتا ہے لیکن وہ ایسا ایک برابری کے رشتے کی بنیاد پر کرنا چاہتا ہے جہاں دونوں دیش ایک دوسرے کے مفادات کا احترام کریں۔ جہاں روسیوں کو پتن سے بہت امیدیں ہیں وہیں ان کے سامنے چیلنج بھی کم نہیں ہیں۔ دیش کے اندر اور باہر دونوں سطحوں پر پتن کو ہوشیاری سے قدم رکھنے ہوں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کے پتن نے روس کی گرتی ساکھ کو کچھ حد تک سنبھالا ہے۔ سبھی روسی دیش کو مضبوط اور ایک متحد دیش دیکھنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کی بڑھتی دادا گری کو چیک کرنے کے لئے بھی ایک مضبوط روس کی ضرورت ہے اور پتن یہ کام کرسکتے ہیں لیکن اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ دیش کے اندر پیدا ناراضگی کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ جنتا کی جائز مانگوں پر توجہ دیں۔ روس کی عوام نے جو بھروسہ پتن پر ظاہر کیا ہے امید ہے کہ وہ اس پر کھرا اتریں گے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Russia, Valadimir Putin, Vir Arjun

06 مارچ 2012

روس میں پتن کا جیتنا ہی سب سے اچھا متبادل ہے



Published On 6 March 2012
انل نریندر
ایتوار کو روس میں صدارتی عہدے کے لئے پولنگ ہوئی۔ اس چناؤ میں موجودہ صدر پتن کے علاوہ چار دیگر امیدوار میدان میں تھے۔ ولادیمیر پتن 2000ء میں پہلی بار صدر چنے گئے تھے۔ انہوں نے اپنے دو عہد پورے کرلئے ہیں اور پھر روسی قانون کے تحت انہوں نے صدارتی عہدہ چھوڑا تھا۔ اس درمیان دامیتری میدوف نے صدر کا عہدہ سنبھالا تھا اور پتن خود وزیر اعظم بن گئے تھے۔ 59 سالہ پتن جو کبھی روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی کے جاسوس تھے، کا صدر بننا اب یقینی لگتا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ پتن دو تہائی اکثریت سے جیتیں گے لیکن اس بار کا عہد پہلے کے عہد سے زیادہ چیلنج بھرا ہونے کا امکان ہے۔ کیونکہ پچھلے کچھ دنوں سے روس میں ناراضگی کی لہر جاری ہے۔ پتن کے خلاف جگہ جگہ مظاہرے ہوئے ہیں حالیہ دنوں میں پارلیمانی چناؤ میں گڑ بڑی کے الزامات اور ان کی حکومت کے خلاف وسیع پیمانے پرمظاہرے ہوئے ہیں۔ پولیس بھی چناؤ کے بعد کسی طرح کی گڑ بڑی سے نمٹنے کے لئے تیاری کررہی ہے۔ امریکہ کے گھٹتے رتبے و اقتصادی بحران کا شکار یوروپ کے ساتھ نیٹو دنیا اپنی چمک تیزی سے کھوتی جارہی ہے۔ دنیا کی مشرقی ایشیا بحری خطے کی طرف کھسک رہی ہے۔ اسی پس منظر سے ایک پائیدار روس پورے خطے کو تقویت فراہم کرسکتا ہے۔ پتن نے روس کو مضبوط کیا اور آہستہ آہستہ لائن سے اتری روسی گاڑی کو کچھ حد تک واپس لائن پر لانے میں کامیابی پائی ہے۔ بھارت کے لئے بھی ایک مضبوط روس اس کے مفاد میں ہوگا۔ صدر پتن کے لئے ایک بہت بڑی چنوتی آبادی میں گراوٹ ہے۔ عالمی بازار میں کچے تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پتن کے لئے درد سر بڑھا دیا ہے لیکن اس کی زیادہ تر تشویش آبادی اور شرح پیدائش میں گراوٹ ہے۔ مرد کٹر پسندوں ، مزدوروں میں موت کی شرح سے سیاسی خلاپیدا ہورہا ہے۔ فی الحال پتن نے خاص کر مردو ں میں شراب نوشی کو روکنے کیلئے ایک نئی مہم چلائی ہے۔ انہوں نے ان عورتوں کو خصوصی بھتہ دینے کا اعلان کیا ہے جن کے دو سے زیادہ بچے ہیں۔ پتن کے پیکیج میں سبھی روسی شہریوں کو رہائش اور تعلیم کی بہتر سہولیات فراہم کرنا شامل ہے۔ انہوں نے ایک اسمارٹ آبزرویشن پالیسی اپنانے کی بات کہی ہے جس کے ذریعے بیرون ملک میں مقیم روسی نژاد لوگوں کو مادرِ وطن لوٹنے کے لئے راغب کیا جائے گا۔ مردم شماری کے تازہ نتیجوں میں وزیر اعظم ولادیمیر پتن کے صدر کے عہدے کے لئے ہوئے چناؤ میں دو تہائی ووٹوں سے واضح کامیابی کی بات کہی گئی ہے۔ روس میں چناوی رجحان کے بیحد پختہ جائزہ دینے والی ایک ایجنسی نے بتایا کہ پتن کواس چناؤ میں 63 سے66فیصدی ووٹ مل سکتے ہیں۔ روس اور یوکرین کی سکیورٹی ایجنسیوں نے روس میں ہوئے صدارتی چناؤ میں ولادیمیر پتن کے قتل کی سازش کو ناکام کردیا ہے۔ سماچار ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق سازشی مجرموں کے ایک گروہ کو یوکرین کے شہر اوڈوسو میں حراست میں لیا گیا ہے۔ گروہ صدارتی چناؤ کے ٹھیک بعد ماسکو میں پتن کو قتل کرنے کی سازش رچ رہا تھا۔ بتایا جاتا ہے چیچن باغیوں کے مبینہ سرغنہ ایڈم اوسومیوف نے قبول کیا ہے کہ سازش اسی کے حکم پر رچی گئی جو نارتھ کراکس علاقے میں روس کے عہد کے خلاف تحریک چلا رہی اسلامی سرگرمیوں کے کرتا دھرتا ہیں۔ چینل ون نے اوسویومیوف کو حراست میں لیکر یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ آخری مقصد ماسکو کا دورہ اور پتن کا قتل تھا۔ پتن کی کوشش ہے کہ وہ روس کو اس کے تاریخی وقار کو پھر سے بحال کریں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Russia, Valadimir Putin, Vir Arjun

15 دسمبر 2011

کیا روس میں ہورہے مظاہروں کے پیچھے امریکی ہاتھ ہے؟



Published On 15th December 2011
انل نریندر
روس میں موجودہ وزیر اعظم ولادیمیر پوتن کے چھ سالہ عہد اور حال ہی میں ڈوما کے لئے ہوئے انتخابات میں ہوئی دھاندلیوں کو لیکر جنتا میں ناراضگی رکتی نہیں دکھائی پڑ رہی ہے اور اپوزیشن پارٹیوں نے ایتوار کو بھی احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ غور طلب ہے کہ روس میں 4 دسمبر کو منعقد ہوئے ڈوما چناؤ میں کل ملاکر سات پارٹیوں نے حصہ لیا تھا۔ چناؤ نتائج کے اعلان ہونے کے بعد پوتن کی سربراہی والی یونائیٹڈ رشیا والی پارٹی کو سب سے زیادہ تقریباً50 فیصدی ووٹ اور ڈوما میں 238 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ ان انتخابات میں روسی کمیونسٹ پارٹی 20 فیصدی ووٹ اور 92 سیٹوں کے ساتھ بڑی اپوزیشن پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ روس کے صدر دمیتری میدوف نے حالیہ چناؤ میں ووٹوں کی گنتی میں دھاندلی کے الزامات پر ہزاروں لوگوں کے مظاہرے کے بعد ایتوار کو معاملے کی جانچ کے احکامات دے دئے ہیں۔ میدوف نے فیس بک پر لکھا ہے''میں نہ تو ان ریلیوں میں لگائے جانے والے نعروں سے متفق ہوں اور نہ ہی بیانوں سے حالانکہ میں نے پولنگ مراکز پر چناوی قانون کی تعمیل سے متعلق سبھی اطلاعات کی جانچ کے احکامات دئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پچھلے ہفتے ہوئے پارلیمانی چناؤ میں وزیر اعظم پوتن کے حلاف 50 ہزار سے زیادہ شہری سڑکوں پر اتر آئے اور انہیں اقتدار سے ہٹانے اور منصفانہ چناؤ کرانے کی مانگ کررہے ہیں۔ اس پر میدوف نے لکھا ہے '' لوگوں کے پاس اپنے نظریات رکھنے کا پورا حق ہے جو انہوں نے کیا یہ اچھا ہے کہ سب قانون کے دائرے میں ہو''۔
سوال یہ ہے کہ کیا عوام کا غصہ جائز ہے اور واقعی چناؤ میں دھاندلی ہوئی ہے یا پھر کوئی سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت پوتن کے خلاف بنے ماحول کو ہوا دینے میں لگے ہیں۔ وزیر اعظم ولادیمیر پوتن نے ملک میں ہورہے وسیع مظاہروں کے لئے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کوذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ پوتن نے الزام لگا یا کہ مغربی ممالک دیش میں چناؤ کو متاثر کرنے کیلئے کروڑوں ڈالر خرچ کررہے ہیں۔پوتن نے کہا یوروپی مبصرین آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن کی رپورٹ دیکھنے سے پہلے ہی ہلیری نے چناؤ کے منصفانہ ہونے پر سوالیہ نشان لگادئے ہیں۔ انہوں نے کہا امریکی وزیر خارجہ نے اپوزیشن ورکروں کے سر میں سر ملایا اور ان کی پیٹھ پر امریکی محکمہ خارجہ کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ کو روس کا نیوکلیائی طاقت ہوناپچ نہیں رہا ہے اس لئے وہ گھریلو سیاست میں مداخلت کررہے ہیں۔ انہوں نے خبردار بھرے لہجے میں کہا ''ہم اپنی گھریلو کارروائی کو متاثر کرنے نہیں دے سکتے اور اپنی سرداری کی حفاظت کے لئے پر عزم ہیں''۔ پوتن کے الزامات میں کتنا دم ہے یہ تو ہم نہیں جانتے لیکن ہاں امریکہ کا یہ اسٹائل رہا ہے گذشتہ مہینوں میں مشرقی وسطی میں ایسے مظاہرے ہی ہوئے تھے اور کہا یہ ہی جاتا ہے کہ امریکہ کا ان کے پیچھے ہاتھ ہے۔ اور حمایت دے رہا ہے امریکہ کا مقصد اور روس کا مقصد یکساں ہے۔ امریکی حکمرانی کی آزادانہ پالیسی پسند نہیں تھی۔ موجودہ عہد کا وہ تختہ پلٹنا چاہتے تھے۔روس بھی پوتن کے کچھ اشوز پر لئے گئے موقف سے امریکی محکمہ خارجہ خوش نہیں ہے۔ ویسے روس میں سرکار نواز ایک ویب سائٹ نے امریکی سرکار اور آزاد چناؤ مبصر ''گالوسے'' کے درمیان ای میل کے تبادلے کی تفصیلات شائع کی ہیں۔ لاؤ نیوز کی ویب سائٹ پر گلوس کو ملنے والی امریکی مدد کا تبصرہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم پوتن نے جمعرات کو امریکی محکمہ خارجہ پر روس میں مخالف مظاہروں کو ہوا دینے کے الزام کے بعد یہ انکشاف کیا ہے۔ ویب سائٹ نے لکھا ہے پہلے صرف یہ کہا جاتا تھا گلوس کو مدد ملتی ہے اور اب ہمارے پاس ثبوت ہیں۔ ادھر ایک ماہر سیاسیات میکسس گوناچاروف نے کہا کہ مائیکرو بلاننگ ویب سائٹ ٹیوٹر پر حملہ روسی انتظامیہ کی ملی بھگت سے ہوا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سوویت روس کے ٹوٹنے کے بعد کمزور روس کو ایک متحدہ روس بنانے میں اہم کردار نبھانے والے پوتن کے خلاف لوگ سڑکوں پر اتر آئے ہیں؟ سوویت روس کے زمانے میں جب ریڈیو یا ٹیلی ویژن اور مقامی لوک سنگیت کے علاوہ کچھ اور نہیں چلتا تھا تو اس کا مطلب یہ سمجھا جاتا تھا کہ دیش میں کوئی سیاسی بحران آنے والا ہے۔ اس کا موازنہ آج کے اس حالات سے کیا جاسکتا ہے کہ اگر روس میں جب بھی کوئی انٹر نیٹ کھولتا تو ویب برائزر ڈینیل آف سروس بتلاتا ہے۔ یہاں کہا جاسکتا ہے کہ ایک بار پھر روس میں سیاسی بحران کے اشارے مل رہے ہیں۔ حالانکہ مظاہرین میں 100 سے زیادہ لوگ گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ ماسکو سمیت دیش کے 50 شہروں میں وسیع مظاہرے پوتن اور میدوف کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ پچھلے12 برسوں میں روس میں جب بھی مظاہرے ہوئے ان میں لوگ شامل نہیں ہوا کرتے تھے۔ لوگ سیاست کو کم اہمیت دیا کرتے تھے۔ ان کا واحد مقصد اپنی زندگی میں پائیداری لانا ہوتا تھا۔روسی عوام سوویت روس کی تقسیم سے پہلے علاقے کو کنٹرول کرنے والی سرکار اور 90 کی دہائی میں کڑوی یادوں کو بھلا دینا چاہتی ہے لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ جب اس بار چناؤ ہوئے تو لوگوں کو لگا کہ حکمراں طبقہ ان کی حالت کا فائدہ اٹھا رہا ہے اور چناؤ میں واقعی دھاندلی ہوئی ہے یا یہ امریکہ کا پوتن کے خلاف ہتھیار ہے کہنا مشکل ہے لیکن اتنا طے ہے کہ روس میں ایک بار پھر عدم استحکام کے دور کا آغاز ہوچکا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ ولادیمیر پوتن اور میدوف اس کو کنٹرول میں لا سکیں گے۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Russia, Valadimir Putin, Vir Arjun

09 دسمبر 2011

روس میں ولادیمیر پوتن کی مقبولیت کا گرتا گراف


Published On 9th December 2011
انل نریندر
مخائل گورباچیف کی اصلاحاتی پالیسیوں وا قتصادی اصلاحات کے سبب اور برسوں سے دبی سیاسی مخالفت کی چنگاری کی وجہ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک سوویت روس کا بٹوارہ ہوگیا اور بڑی سوویت ایمپائر 15 آزاد ضمنی ریاستوں میں بٹ گئی۔ ان حالات میں 31 دسمبر1999ء کو اچانک صدر بورس یلتسن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جس سے ولادیمیر پوتن دیش کے نگراں صدر بن گئے۔ فروری2000ء میں طویل لڑائی کے بعد روسی لیڈروں نے چیچن باغیوں کو شکست دیتے ہوئے راجدھانی گروزنی پر اپنا حق جمالیا۔ پوتن کے اس قدم سے ان کی مقبولیت میں بھاری اضافہ ہوا۔ 26 مارچ2000ء کو پوتن نے صدارتی چناؤ جیت لیا۔ اس کے بعد انہوں نے اقتدار کی لامرکزیت بحال کرنا شروع کردی۔ صوبائی گورنروں اور کاروباری گھرانوں کی بڑھتی طاقت پر روک لگائی۔ اگرچہ اقتصادی نکتہ نظر سے روس نے پوتن کے عہد میں کوئی خاص ترقی تو نہیں کی لیکن ولادیمیر پوتن نے سوویت کے خاتمے کے بعد روس کو پہلی بار سیاسی پائیداری کا ماحول ضرور فراہم کیا۔ اسی وجہ سے پوتن مارچ2004ء میں پھر روس کے صدر بنے۔ گذشتہ ہفتے روس میں پارلیمانی چناؤ ہوئے۔ اس میں بھی وزیراعظم ولادیمیر پوتن کی یونائیٹڈ رشیا پارٹی کو زبردست جھٹکا لگا۔ پارلیمنٹ کے نچلے ایوان ڈوما میں تازہ اعدادو شمار کے مطابق اسے 50فیصد ووٹ بھی نہیں ملے ہیں البتہ 450 ممبری ہاؤس میں اسے238 سیٹوں کی معمولی اکثریت ضرور حاصل ہوگئی ہے مگر پہلے کی طرح اتنی اکثریت نہیں کہ جس کی طاقت پر وہ اپنی خواہش سے کوئی آئین میں ترمیم کرا سکے۔ چار سال پہلے64 فیصد ووٹ اور 315 سیٹوں سے اگر موازنہ کریں تو صاف ہے کہ پوتن اور ان کی پارٹی کی مقبولیت کافی گھٹی ہے۔ دوسری طرف کمیونسٹ پارٹی کا ووٹ فیصد 11 سے بڑھ کر 20 کے آس پاس پہنچ گیا ہے اس پر بھی یہ دلیل کے مخالف پارٹیوں اور یوروپی چناؤ مشاہدین نے چناؤ میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ ڈوما چناؤ میں دھاندلیوں کا الزام لگاتے ہوئے پیر کو روس کی راجدھانی ماسکو میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین دیش میں پچھلے12 برسوں سے چلے آرہے پوتن کی ایک واحد عہد کی مخالفت کررہے تھے۔ مظاہرین نے پوتن بغیر روس اور انقلاب جیسے نعروں سے ماسکو کی پرانی سبیلوں کو گنجاکر رکھ دیا ہے۔ ڈوما چناؤ میں روس کی دوسری سب سے بڑی اور اپوزیشن پارٹی بن کر ابھری روسی کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری جنرل گیترادی کگنوف نے پیر کو اخباری نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ ان کی پارٹی چناؤ میں بڑے پیمانے پر ہوئی دھاندلیوں کو لیکر فکر مند ہے سبھی اعدادو شمارکی جانچ کررہی ہے۔بدقسمتی سے امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی چناؤ کے منصفانہ ہونے پر سوال اٹھا دئے ہیں۔ جسے روس کے سب سے بڑے طاقتور لیڈر ولادیمیر پوتن شاید ہی برداشت کریں۔ان چناؤ نتیجوں کا اثر اگلے سال مارچ میں ہونے والے صدارتی چناؤ پر بھی پڑ سکتا ہے جس میں پوتن کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ پوتن دو بار سے زیادہ صدر نہیں رہ سکتے اس لئے انہوں نے2008ء میں دمیتر میدوف کو صدر بنوادیا اور خود ان کے وزیر اعظم بن گئے۔ تب تھی دنیا جانتی تھی کہ اصلی طاقت تو پوتن کے ہی پاس ہے۔
پچھلے کچھ عرصے سے پوتن امریکہ کی لائن پر نہیں چل رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے اسی وجہ سے امریکہ انہیں پسند نہیں کررہا۔ حالانکہ پوتن کا وہ کرشمہ تو نہیں رہا جو پہلے کبھی تھا لیکن آج بھی وہ اکیلے نیتا نظرآتے ہیں جو روس کے وقار کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ روس کو امریکہ کو جواب دینے کے لئے پوتن جیسا نیتا چاہئے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس پارلیمانی چناؤ کے نتیجوں سے لیکر اگلے صدارتی چناؤ تک ولادیمیر پوتن کیسے اپنی گرتی مقبولیت کو بچا پاتے ہیں اور پھر صدر بنتے ہیں؟ روس کے مفاد میں تو ہے کہ روس ایک مضبوط ملک بن کر پھر دنیا میں اپنی جگہ بنائے لیکن بھارت اور غیر مغربی ممالک کے لئے بھی ایک مضبوط روس فائدے مند ہوگا۔ ایسا کرنے کے لئے فی الحال پوتن سے بہتر کوئی اور روسی نیتا نہیں دکھائی دے رہا۔ پوتن کو اپنی غلطیوں پر غور کرنا چاہئے اور انہیں سدھارنے کی کوشش کرنی ہوگی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Russia, Valadimir Putin, Vir Arjun,

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...