جموں کشمیر میں بےشک دفع 370ختم کر دی گئی لیکن اس معاملہ میں اپوزیشن پارٹی کانگریس کے تقسیم ہونے کی خبریں آنا تکلیف دہ ضرور ہے ۔کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں جموں کشمیر سے وابسطہ ممبر پارلمینٹ طارق احمد کارا نے یہا ں تک کہہ دیا کہ اگر پارٹی دفع370پر نظریاتی سمجھوتہ کرتی ہے تو ان کے لئے حریت میں شامل ہونے یا دپشت گر د بننے کے سوائے کوئی راستہ نہیں بچتا۔میٹنگ میں پارٹی سیکریٹری جنرل اور راہل گاندھی کے قریبی نیتا جوترادتیہ سندھیا اور دپیندرہڈا نے جب اسے قوم کا جزبہ بتا یا تو ان کی غلام نبی آزاد سے بحث ہو گئی ۔اس سلسلے میں پہلے دن سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے گھر پر کور گروپ کی میٹنگ ہوئی جب حل نہیں نکلا تو کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلائی گئی ۔پارٹی اس مسئلہ کو لیکر گہرے بہران میں ہے کیونکہ پارٹی کی ریاستی یونٹ اور کئی نیتا کہہ رہے ہیں کہ عوام کی رائے ہے کہ 370کو ہٹانے کا خیر مقدم کیا جائے اگر کانگریس اس مسئلہ پر اڑی رہی تو اسے بہت بڑا سیاسی نقصان ہوگا اس مسئلہ پر پہلے راجیہ سبھا میں پارٹی کے چیف وہیپ بھونیشور کلیتا نے پارٹی چھوڑی پھر جناردھن دیویدی اور دپندر ہڈا،ملند دیوڑانے پارٹی لائن کے خلاف جا کر 370ہٹانے کو دیش کے جزبات کے مطابق بتایا ۔رھیں غلام نبی آزاد نے اپنے نیتاﺅں کی رائے سے نا اتفاق ظاہر کیا ہے اور اسے پارٹی لائن کے خلاف بتایا ۔انہوں نے نصیحت دی کہ ایسے افراد کو پہلے کشمیر اور کانگریس کی تاریخ کرنی چاہیئے ۔سابق وزیر انل ساستی کا کہنا کہ کانگریس کا دیش کا موڈ سمجھنا چاہئے ۔370سے چپکے رہ کر کانگریس پورے دیش کی عوامی حمایت گنواں دیگی۔وھیں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ٹویٹ میں کہا کہ جموں کشمیر کو ایک طرفہ فیصلے میں ٹکڑے میں بانٹنے اور عوام کے نمائندوںکو جیل بھیج نے اور آئین کے خلاف ورزی کرنے سے قومی اتحاد نہین بن جا تا یہ غلط ہے یا صحیح اس پر بحث ہوگی کانگریس پارلیمانی نیتا ادھیر رنجن چودھری نے کہا جموں کشمیر کواقوام متحدہ مونیٹر کرتا ہے اور اسے شملہ اور لاہو ر سمجھوتہ کی طرح باہمی مسئلہ مانا گیا ہے تو آپ فیصلہ کر سکتے ہیں ؟ان کے ساتھ بیٹھی سونیا گاندھی بھوکھلا گئیں سچھ تو یہ ہے کہ حالات قابلے رحم ہے دفع370کا خاتمہ اور جموں کشمیر کو دو حصوں میں بانٹنا اور مرکزی ریاست بنانے کے مسئلے پر کانگریس قومی مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا موقوف واضح کر دینا چاہئے اس وقت کانگریس کی جو حالت وہ قیادت نہ ہونے کی صورت حال ذمہ دار ہے کیونکہ راہل کے استعفی کے بعد سے پارٹی کی کوئی قیادت نہیں ہے اس کا اثر پارٹی کی حکمت عملی سے لیکر پوری تنظیم پر پڑ رہا ہے امید کی جاتی ہے کہ کانگریس پارٹی جلد اپنے نئے صدر کا فیصلہ کرگی اور ہر اشو پر اپنا واضح موقوف اپنا کرخودہی مذاق نہ بن جائیگی۔ جیساآج ہو رہا ہے ۔
(انل نریندر)Translater
10 اگست 2019
اگلے سات دن جموں کشمیر کے لئے چیلینج بھرے متوقع
آنے والے سات دن کشمیر وادی اور دیش کےلئے کافی حساس ہیں اس ہفتہ جموں کشمیر کے عوام کا خاص کر وادی کے لوگوں کا نظریہ پتہ چلے گا اور ہماری سیکورٹی فورس کی حکمت عملی بھی دیکھنے کو ملے گی۔دفع 370ہٹانے کے بعد حالات کیسے رہتے ہیں اس پر سیکورٹی ایجنسیوں اور مرکز کی سخت نگاہ رہے گی ۔در اصل 9اگست کو انگریزروبھارت چھوڑو تحریک کی 76ویں سالگرہ ہے ،اور 8اگست کو جمعہ کی نماز بھی تھی اس کے بعد 12اگست کو عید الا ضحی منائی جانی ہے ۔پاکستان 14اگست کو اپنی آزادی کا جشن مناتا ہے اس پہلے 13اگست کو بھی پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں بھارت مخالف پروگرام ہوتے ہیں۔اس موقع پر کشمیر وادی میں دہشتگر د تنظیم پاکستان کا جھنڈہ لہرانے کی کوشش کر تے ہیں ،اس میعادمیں حج کر کے لوٹنے والے حاجیوں کے استقبالیہ پروگرام ہوتے ہیں ۔جموں کشمیر کا جھنڈہ اتریگا بس ترنگا ہی لہرائے گا اور جموں کشمیر کا اپنا الگ جھنڈہ اب نہیں ہوگا۔ہالانکہ سری نگر سیکریٹرئٹ میں ترنگے کے ساتھ ساتھ ریاست کا الگ جھنڈہ لہرارہاتھا اور یہ جھنڈہ 13جولائی 1931سے لہرایاجا رہاہے اب جلد ہی سری نگر سے بھی جموں کشمیر کا جھنڈہ اتر جائیگا ۔ ڈی جی پی دلباغ سنکھ کے مطابق حالات کو دیکھ تے ہوئے جلد ہی پابندیاں ہٹنا شروع ہوجائی گی ،ساتھ ہی وہ چاہتے ہیں کہ لوگ عید ساتھ منائے اور حاجی لوٹ رہے ہیں وہ بھی جشن میں شامل ہوں ۔مرکزی سرکار بقرعید کے دن 12اگست کو پابندیوں میں ڈھیل دے سکتی ہے ۔ادھرپاکستان کی راجدھانی اسلام آباد کے کئی علاقوں اور ریڈ زون میں شیوسینا کے نیتا کے سندیش والے پوسٹر لگے دیکھے گئے پولیس کے مطابق کئی جگہ چھاپہ مارے گئے اور کچھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ۔اس پوسٹر کا عنوان ہے مہابھارت ،اے اسٹیپ پاروڈ،370پر دنیا بھر کے اخباروںکے کوریج میں اس قدم کو زیادہ حمایت نہیں ملی امریکہ کے نامور اخبار نیویارک ٹائمس نے لکھا کہ بھارت سرکارنے ایک طرفہ طورس ے کشمیر ریاست کی مختاری کو ختم کردیا ہے اور امکانی جھکڑے سے بجنے کے لئے فوج کے ہزاروں جوان وہاں بھیجے گئے ہیں ۔متنازع علاقے میں ایسا قدم کشیدگی ہی برھائیگا ۔وہاں پر نیٹ اور موبائل فون وغیرہ بند کردئے گئے ہیں۔اس سے کسی کو پتہ نہیں چل پا رہا ہے کہ آخر وہاں کیا ہو رہا ہے ؟ برطانیہ کے مشہور اخبا ر دی ٹیلی گراف کا کہنا ہے کہ وہ کشمیر کے لوگوں کے لئے ہر ممکن کوشش کرےگا ۔جموں کشمیر سے اسپیشل ریاست کا درجہ چھین لئے جانے سے پاکستان غصہ میں ہے۔ پاک پی ایم عمران خان نے کہاکہ کشمیر میں فضائی حملے بڑھ سکتے ہےں ۔پاک فوج کے چیف جنرل قمر باجوا نے کہا ہے کہ پاک فوج کشمیریوں کے ساتھ آخری سانس تک لڑے گی ۔فرانس کے ایک انگریزی اخبار کا کہنا ہے کہ کشمیر سے خصوصی ریاست کا درجہ چھین نا بھارت کے وزیر اعظم کا بڑا قدم ہے اس فیصلہ سے دنیا میں سب سے زیادہ فوج کی موجودگی والے علاقہ میں تکرﺅ کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور اس سے وادی کو ملے مخصوص اختیا رات پوری طرح ختم ہو گئے ہیں ۔اس کے بعد وادی کشمیر سے گئے ہندو شرنارتھیوں کو لوٹنے میں مدد ملے گی ۔وھیں چین کے اخبا ر گلوبل ٹائمس نے لکھا ہے کہ بھارت کے وزیر داخلہ نے کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی سہولت کو ہٹانے کی تجویز کی پاکستان نے مزمت کی ہے ۔اس کے مطابق یہ علاقہ متنازع ہے ۔یہ بات علم برادری بھی جانتی ہے کہ بھارت کی ایک طرفہ کاروائی کشمیر کے حالات کو نہیں بدل سکتی ۔بیجنگ نے فیصلے پر ناراضگی ظاہر کر تے ہوئے کہا چین کی علاقائی سرداری کو کمتر دیکھا گیا ۔ جیسا کہ میں کہا کہ آنے والے کچھ دن جموں کشمیر کے لئے چیلنج بھرے ہوں گے ۔
(انل نریندر)
09 اگست 2019
کروڑوں لوگوں کی مشعل راہ سشما جی چلی گئیں !
محترمہ سشماسوراج کی وفات کے ساتھ ایک ایسی شخصیت چلی گئیں جس سے ہر شخص پیار کرتا تھا ،انہوں نے ہمیشہ سبھی کی مدد کی انہوں نے یہ کبھی نہیں دیکھا کہ مدد مانگنے والا شخص کس ذات کا ہے کس مذہب یا طبقہ کاہے جس کسی نے ان سے مدد مانگی انہوں نے دل سے اس کی پوری مدد کی ایسی شخصیت کے جانے سے کس کو دکھ نہیں ہوگا۔اور ہمیں تو بہت زیادہ دکھ پہنچا انہوں نے ہمیشہ بہن جیسا پیار دیا۔ جب میرے مرحوم والد جناب کے نریندرکا دیہانت ہوا تو ہم نے اپنے گھر 6ٹالسٹائے مارگ پر تعذیتی میٹنگ رکھی جس میںسشما جی نہ صر ف آئیں بلکہ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر تسلی دی کہ بھائی تم فکر مت کرو میں ہوں نا۔ان میں کبھی بھی اقتدار کی اپنی پوزیشن کا غرور نہیں دیکھا ۔میرے ساتھ کئی سیا سی اشوز پر بحث ہو جا تی تھی لیکن وہ پیا ر اور نرم گوئی سے اپنا موقوف رکھ دیا کرتی تھی۔ یہ محض اتفاق ہی ہے کہ ایک مہینہ سے کم وقت میں دلی نے اپنے 2سابق وزرائے اعلی کو کھو دیا ۔سشما جی کا دیہانت دل کا دورہ پڑنے سے ہوا وہ 67برس کی تھی اور دبنگ لیڈروں میں شمار کی جاتی تھی ۔اپنے نرم گو رویہ اور دمدار تقریروںسے ہندوستانی سیاست میںاپنی الگ پہچان بنانے والی سشما سوراج مرکزی وزیر بنے سے پہلے دہلی کی پہلی خاتون سی ایم بنیں۔غور طلب ہے سشماسوراج اکتوبر سے دسمبر1998دہلی کی وزیر اعلی رہیں۔اس سے پہلے پچھلے ماہ دہلی کی تین بار وزیر اعلی رھیں محترمہ شیلا دکشت کا دہانت ہو گیا تھا ۔انہوںنے 20جولائی کو دہلی کے مشہو ر اسپتال میں آخری سانس لی تھی ۔ان کی عہدہ کی میعاد 15سال رہی وہ 1998سے 2013تک وزیر اعلی تھیں اور دہلی والوں میں کافی مقبول تھیں سا تھ ہی دہلی والوں کے لئے ہر دلعزیز رہے مدن لال کھورانا جی کا دیہانت پچھلے سا ل اکتو بر میں ہوا وہ کافی عرصہ سے بیمار تھے ۔انہیں راجستھا ن کا گورنر بنایاگیا اس طرح دہلی نے اپنے 3سابق وزیر اعلی کھو دئے ۔ایک وقت تھا جب بھاجپا میں اٹل بہاری واجپا ئی کے بعد سشما سوراج اور پرمود مہاجن سب سے مقبو ل مقرر تھے پھر بات ہو پارلمینٹ کی یا سڑک کی ۔سشما کی گنتی دہلی کے ڈی سائڈ میں ہوتی تھی سشما سوراج وزیر خارجہ تھیں ۔ان سے پہلے اندرا گاندھی نے وزیر اعظم رہتے ہوئے یہ عہدہ سنبھا لا تھا ۔ہندستانی سیاست کے تیز ترار مقررین میں شمار کی جاتی تھی۔اپنی ولولہ انگیز تقریر میں وہ جتنی جارحانہ دکھائی پڑتی تھی اتنی ہی ذاتی زندگی میں نرم اور مہذت شخصیت تھیں۔بطور وزیر خارجہ شوشل میڈیا پر لوگوں کی پریشانیوں کو فورن حل کر نے کے لئے چھا ئی رہتی تھی۔ان کے دیہانت سے قریب ساڑھے تین گھنٹہ پہلے دفعہ 370اور جموں کشمیر نو تشکیل بل پر پار لمینٹ کی مہر لگتے ہی انہوں نے آخری ٹویٹ 7:23منٹ پر کیا تھا جس میں سشما جی لکھتی ہیں کہ پردھان منتری جی آپ کا دلی خیر مقدم ۔میں ز ندگی بھر اس دن کو دیکھ نے کےلئے انتظار کر رہی تھی ،سشما کا ٹویٹر پر 1.31کروڑ پرستاروں کے ساتھ دنیا کی سب سے خاتون لیڈر تھیں ۔انہوں نے دیش دنیا میں 80ہزار لوگوں کی مدد کی ۔پاسپورٹ بنوانے سے لیکر بیرونی ملک میں پھنسے ہند وستانیوں کو گھر واپس لا نا اور ہر طرح کی انہیں مدد دینا ان کا فلاحی کا م تھا۔ لوگ ان کے کام کو کیسی بھو ل سکتے ہیں ؟بیرونی ملک میں بسے ہندوستا نی اگرمشکل میں ہوتے تو وہ ایک اپنے آپ کو ایک سنکٹ موچک کے طور پر فوری ان کو مدد دیتی تھی ۔سشما کو یاد کر تے ہیں ۔جون 2017میں انہوں نے ٹویٹ کیا تھا کہ اگر آپ منگل گرہ پر بھی پھنس گئے ہیں تو وہاں ہندوستانی سفارت خانہ مدد کریگا ۔دہلی کی وزیر اعلی شیلا دکشت کی دیہانت کے بعد ایک ٹرولر کو کرارہ جواب دیا تھا ،انہوں نے اس ٹرو لر عرفان اے خان نے ٹویٹ کر تے ہوئے لکھا ہے کی آپ کی بہت یاد آئے گی ۔ایک شیلا دکشت کی طرح اماں اس پر سشما نے جوا ب دیا اس جذبہ کے لئے پیشگی مبا رک با د۔سشما سوراج بھاجپا کی ایک واحد لیڈر تھی جنہوںنے نارتھ اور ساﺅتھ ہند وستان دونوں خطوں سے چناﺅ لڑا اور ان کو غیر معمولی ایم پی چنا گیا وہ بھی سیا ست کے کسی بھی پارٹی کی پہلی ترجمان بھی تھیں ۔ان کے دیہانت کے ساتھ ہندو ستانی سیا ست کا ایک باب ختم ہو گیا ۔ان کے دیہانت پر وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی کہا کہ سیاست کا ایک سنہرا باب ختم ۔اور وہ ایک بہتر ین مقرر اور ایک ہونہار ایم پی تھی اسی وجہ سے پارٹی لائن سے اوپر اٹھ کر تمام پارٹی لیڈروں نے انہیں شردھانجلی دی ۔اور محترمہ سشما سوراج مشعل راہ تھیں،ان کا ندھن میرے لئے ذاتی نقصان ہے ۔ راہل گاندھی نے کہا سشما جی عظیم مقرر اور ایک غیر معمو لی سیاست داں کے ندھن سے میں صدمے میں ہوں۔وہ سبھی پارٹیوں میں مقبول تھیں ۔ہم سشماجی کے ندھن پر انہیں شردھانجلی دیتے ہوئے کہنا چاہتے ہیں کہ دیش واسیوں نے ایک عظیم لیڈر کھو دیا ۔
(انل نریندر)08 اگست 2019
کشمیر سے کنیاکماری تک ایک دےش ایک آئین
دےش کے لئے پےرکا دن ایک تاریخی تھا۔ جموں و کشمیر میں سیکیورٹی انتظامات میں اضافہ۔ وادی میں امرناتھ یاتریوںو سےاحوں کو فوری لوٹ جانے کی ہدایات کے بعد د ، تمام سیاحوں کی فوری واپسی کو لے کر طرح طرح کی افواہیںشروع ہوگئیں۔ سب کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا کہ جموں و کشمیر میں کچھ ہونے والا ہے۔ جو ہونا تھا اس پر سسپنس برقرار رہا۔ پیر کو بم پھٹا۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں مودی سرکار کے اس تاریخی فیصلے کا اعلان کیا۔ مودی سرکار نے پیر کے روز ایک جرات مندانہ فیصلہ لیتے ہوئے جموں و کشمیر کو خودمختاری جیسا خصوصی درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کردیا۔ اس کے ساتھ ہی ، جموں و کشمیر کے شہریوں کو 70 سالہ قدیم آرٹیکل 370 سے وابستہ مراعات دینے والے آرٹیکل 35A کو بھی ختم کردیا گیا۔ صرف یہی نہیں ، آزادی کے 72 سال بعد ، کنیاکماری سے کشمیر تک ملک میں اب آئین کی تشکیل نو کا بل راجیہ سبھا کے بعد اب لوک سبھا میں منظور کیا گیا تھا اور صدر کی مہر بھی لگ گئی۔ بل کے مطابق ریاست جموں وکشمیر کو دو مرکزی علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جموں وکشمیر یونین ٹیریٹریری میں دہلی اور پڈوچیری جیسی اسمبلی ہوگی ، جبکہ لداخ میں چندی گڑھ کی طرز پر اسمبلی نہیں ہوگی۔ یہ شیکشن صدر کے نوٹیفکیشن کے نفاذ کے بعد 1954 کے حکم نفاذ آرٹیکل 370 کی جگہ لے گا آئین میں 370کی کیا اہمیت ہے ۔صدر رام ناتھ کووند کے دستخط کے ساتھ بدل دے گا .... آئین میں 370 کیا ہے؟ جموں وکشمیر کی خصوصی ریاستی حیثیت آرٹیکل 37 370 کے تحت دی گئی تھی۔ سن 1949 میں اس دفع کو آئین سے منسلک کیا گیا۔ ریاست کا اپنا آئین ہے۔ ملک کا قانون یہاں لاگو نہیں ہوتا تھا۔ ہندوستانی حکومت ریاست میں دفاع اور خارجہ امور میں صرف مداخلت نہیںکرسکتی ہے۔ دوسری وجہ جموں کشمیر کوخصوصی حیثیت کی وجہ سے ، آئین کے آرٹیکل 356 کا اطلاق ریاست جموں وکشمیر پر نہیں ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ، صدر کو اختیار نہیں ہے کہ وہ ریاست کے آئین کو مسترد کردیں۔ 1976 کا شہری قانون جموں وکشمیر میں نافذ نہیں ہوتا جس وجہ سے کوئی بھی شخص یہاں زمین خرید نہیں سکتا آئین کا آرٹیکل -335A ، جو ملک میں خصوصی ایمرجنسی نافذ کرنے کا بندوبست کرتا ہے وہ جموں کشمیر سرکا ر کو یہ بھی حق دیتا ہے کہ کون رےاست کا مستقل باشندہ ہے اورکس شخص کو سرکاری شعبے کی ملازمتوں میں خصوصی ریزرویشن دیا جائے گا اور کون ریاست میں زمین خرید سکتا ہے۔ وہاں کے اسمبلی انتخابات مےں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے و دیگر عوامی امداد و سماجی بہبود کے پروگراموں مےں کون شامل ہوسکتا ہے اس آر ٹیکل کے تحت یہ بھی سہولت ہے کہ اگر رےاستی حکومت کو اپنے مطابق ترمیم کرتی ہے تو پھر اس ملک کو کسھی ملک میں چلینج نہیں کیا جاسکتا ہے اس کا مطلب یہ تھا کہ بھارتی پارلیمنٹ سے منظور شدہ بنیادی مسائل سے جڑے بل ناقابل تسلیم تھے۔ صرف یہی نہیں ، ریاست سے باہر کے شہریوں کو بھی جائیداد خریدنے کا حق نہیں تھا ، یہاں تک کہ جموں و کشمیر کی ایک عورت ریاست سے باہر شادی کرنے کی صورت میں اپنی ہی ریاست میں جائیداد نہیں خرید سکتی ہے۔ پاکستان سے متصل ہونے کی وجہ سے ، اس مسلم اکثریتی ریاست کی حساسیت میں سمجھا جاسکتا ہے ، جو ایک عرصے سے سرحد پار دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کا سامنا کررہی ہے۔ یقیناوزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی جوڑی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے سیاست کا سب سے بڑا پیغام دیا ہے۔ لیکن جب کہ اس کی وجہ سے پورے ملک میں جشن کا ماحول ہے اور بی جے پی نے اپنے منشور کا ایک اہم وعدہ پورا کیا ہے ، اس فیصلے کی راہ میں آگے آنے والے چیلنجز کم نہیں ہیں۔ یہ قدم منفی رد عمل کا سبب بن سکتا ہے۔ اس رد عمل کو تین نکات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ کشمیر کے رہائشی اس قانون کو چیلنج کریں گے ، پہلے وادی کشمیر میں ، دوسرا پاکستان میں اور تیسرا بین الاقوامی برادری میں (خاص طور پر اسلامی ممالک میں)۔ وہ عدالت میں جائے گا جہاں اس قانون کے قانونی پہلوو ¿ںپر تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سینئر ایڈووکیٹ ایم ایل لوہانی کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 370 (3) میں کہا گیا ہے کہ صدر صرف آئین ساز اسمبلی کی رضامندی سے خصوصی حیثیت واپس لے سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نئے آئینی حکم میں آئین ساز اسمبلی کی رضامندی ہے؟ کیونکہ یہ سبھا 1956 ہی میں تحلیل ہوگئی تھی؟ ایک اور سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے کا کہنا ہے کہ دفعہ 370 میں سہولت تھی کہ یہ اس کا نفاذ عارضی ہوگی جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے ، وہاں پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گردی کے حملوں میں اضافے کا خطرہ ہے۔ پاکستان نے ہندوستانی حکومت کے اس تاریخی فیصلے سے اس فیصلے کو غیر قانونی اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے ناجائز کہا ہے اور وہ اس فیصلہ پر غور و غوض کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں بھی پیش کرنے کی اپیل کر رہا ہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کشمیر پاکستان کے لئے سپورٹنگ فورس کا کام کرتا ہے اور ساری پریشانیوں مےں علیحدگی پسندی کو بڑھاوا دینے مےں اگر یہ سپورٹنگ فورس ہٹا لی گئی ہے تو بلوچستان ، سندھ سمیت متعدد ریاستیں ایک عرصے سے علیحدگی کا مطالبہ کررہی ہیں۔ پاک فوج کے ہاتھوں میں کشمیر سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کیا وہ اسے اتنی آسانی سے چھوڑ سکتا ہے؟ وہ کسی بھی حد تک کشمیر کو روکنے کے لئے جا سکتا ہے۔ آئی ایس آئی کچھ کرنے یا مرنے کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ، امریکہ کا رخ دیکھنا ہوگا۔ امریکہ کو افغانستان سے بھاگنا پڑتا ہے تو کہ ایسا کرنے کے لئے اسے پاکستان کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اسی منظر نامے میں ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی دو بار بار کہی ہے دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اور عرب ممالک کا رویہ کیا ہے۔ بھارت ہر طرح کے روڈ بلاک کو عبور کرنے کے لئے تیار ہے۔ پھرمقبوضہ کشمیر کی بھی۔سوال ہے۔ ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے پیر کو کہا کہ آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد حکومت کا اگلا ایجنڈا مقبوضہ کشمیر کو حاصل کرنا ہوگا۔ لیکن مقبوضہ کشمیر میں چین کی موجودگی ایسا کرنے میں ایک مختلف چیلنج ہوگا۔ میں نے یہ سارے امکانات بتا دیئے ہیں ، شاید اگر ان میں سے کچھ نہ ہوا تو پھر بھی ہندوستان کو ان کا سختی سے مقابلہ کرے گا…. آرٹیکل 370 کو ختم کرنے اور ریاست کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ نہ صرف تاریخی ہے بلکہ انتہائی جرا ¿تمندانہ بھی ہے۔ مودی سرکارنوب بندی اور مقبوضہ کشمیر کے علاقے مےں سرجیکل اسٹرائیک اور ہوائی حملے جیسے سخت فیصلے کیے ہیں ، نے ایک بار دکھا دیا ہے کہ وہ کہ اس میں کسی بھی مسئلے سے نمٹنے کے لئے سیاسی قوت کا فقدان نہیں ہے۔ سات دہائیوں سے چلے آرہے موجودہ جموں کشمیر کے نظام کے خاتمے نے وادی ، پاکستان میں کچھ منفی ردعمل کو ملے لیکن اس فیصلے پر پورا ملک حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔
(انل نریندر)07 اگست 2019
اسرائیلی پی ایم نیتن یاہو پر کرپشن کا سایہ !
اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو آج کل ایک بار پھر اپنے چناوی مہم میں لگے ہوئے ہیں اپنے سیاست کی چوٹی کو چھوتے نیتن یاہو ایک بار پھر چناو ¿ جیتنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ وہ پچھلے اپریل میں چناو ¿ جیتنے کے بعد بھی وہ اسرائیل میں سرکار نہیں بناپائے تھے ۔اب اگلے مہینہ ایک اور چناو ¿ مہم کی تیاری میں لگے ہیں تل ابیب (راجدھانی )ایک سائیبر کانفرنس میں انہوں نے تفصیل سے بتایا انکی پالیسییوں نے کس طرح اسرائیل میں مضبوط ٹکنالوجی صنعت کی بنیاد رکھی ہے ۔اسرائیل کے پاس اس وقت جہازوں پر حملہ روکنے کی سب سے پائید ار ٹکنالوجی ہے ۔اپنی فوجی طاقت بڑھا کر اسرائیل نے تاریخ میں منفرد جگہ بنائی ہے انھوں نے مشہور ٹائم میگزین سے بات چیت میں کہا کہ اپنا نہیں بلکہ دیش کے وجود کو دیکھتا ہوں اپریل میں چناو ¿ کے دوران یہودیوں اور اسرائیل میں رہ رہے فلسطینیوں کے درمیا ن کشید گی کو پھیلا یاتھا وہ کہتے ہیں اسرائیل صرف یہودیوں کا ملک ہے اور اسرائیلی ووٹرو ںکا جھکاو ¿ ساو ¿تھ نظریہ کے طرف ہونے کی سبب وہ چناو ¿ جیت گئے لیکن انہوں نے عرب انتہا پسند میر کہانے کی پارٹی سے پا چناو ¿ سمجھوتہ کرکے بیرونی ممالک خاص کر امریکہ میں بسے یہودیوں سے تھوڑا الگ راستہ اپنا یا ہے ایک دوسری میگزین گلیپ کے تازہ سروے کے مطابق نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ریبلکن پارٹی سے اسرائیل کے رشتے جوڑکر امریکی یہودیوں کو ناراض کرلیا ہے اصلیت یہ ہے کہ چوٹی کو چھوتے نیتن یاہوکے سامنے خطرے بھی کم نہیں ہے اسرائیلی وکلا نے ان کے خلاف کرپشن کے الزاما ت پر مقدمہ چلانے کی دھمکی دی ہے جبکہ نیتن یاہو نے کرپشن کے سبھی الزامات کو حالانکہ مسترد کردیاہے اسرائیل کے اٹورنی جنرل نے کہا کہ اکتوبر میں سماعت کے بعد ان کا پلان نیتن یاہو پر مقدمہ چلانے کاہے انکے خلاف تین الگ الگ تحقیقات چل رہی ہیں ۔دھوکہ دھڑی اور رشوت خوری بھروسے کو توڑنے کے الزامات میں کہا گیاہے کہ وزیر اعظم نے بہتر پبلک کے لئے اخبار وں کے مالکان او رٹیلی کام کمپنی سے سودے کئے ہیں ہالی ووڈ کے فلم پروڈوسروں سے مہنگے تحفے لئے ۔نیتن یاہو نے ایک بار پھر ان سبھی الزامات کو سرے سے خارج کردیا ہے پہلے چناو ¿ کے بعد سے ان کی ساتھی پارٹیوں کے پلان ایسا قانون بنا نے کا ہے جس سے انہیں مقدموں سے نجات مل جائے اور سپریم کورٹ بھی قانون کو منسوخ نہ کرپائے اسرائیل کے بانی ڈیوڈ بین گرین نے سامراجی معیشت کی بیاد کھری کر انکی لیول پارٹی نے 30سال تک حکومت کی تھی نیتن یاہو کی ساو ¿تھ پنتھی لکوڈ پارٹی کا چیف چار دہائی سے بنا ہوا ہے وہ فوج پر زیادہ منحصر ہے معیشت کے بعد نیتن یاہو کا سب سے زیادہ دھیان ایران پر ہے ۔
(انل نریندر )
کیا بجلی مفت دینے کا اعلان کجریوال کا ماسٹر اسٹروک ہے ؟
کیا راجدھانی کے باشندوں کیلئے 200یونٹ بجلی مفت دینے کا اعلان کرکے دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے ماسٹر اسٹروک کھیلاہے ۔اسمبلی چناو ¿ سے پہلے کجریوال نے قریب 50لاکھ ووٹروں کو سیدھا فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔ویسے یہ اس سال کا تیسرا بڑا راحتی اعلان ہے عورتوں کیلئے فری بس ،میٹرو اور غیر منظور کالونیوں میں جلد رجسٹری اب 200یونٹ تک مفت بجلی کا اعلان شامل ہے ۔عآم آدمی پارٹی کے کھسکتے ووٹ بینک کو روکنے کی کوشش میں وزیر اعلی کجریوال اور ان کے وزیر ووٹروں کو لبھانے میں لگ گئے ہیں ۔یہاں مسلسل نئی نئی راحتوں کا اعلان کیا جارہا ہے تووہیں مودی مخالف ساکھ کو بدلنے کی کوشش میں لگے ہیں کجریوال بجلی ہاف اور پانی معاف کے نعرے سے اقتدار میں قابض ہوئے عآپ کے چیف کجریوال دوسری پاری کی بھی اسی کشتی پر سواری کرکے اپنی نیا پار لگانے کی کوشش دکھائی پڑ رہے ہیں ۔جولائی میں انہوں نے کتنی فری اسکیموں کا اعلان کیا اور وعدوں کو پوار کرنے میں تیزی دکھائی ہے اس کے سیاسی فائدہ صاف جھلک رہے ہیں ۔اپوزیشن پارٹیاں بھاجپا ،کانگریس بھی ان اعلانات کو سیاسی کہنے کے علاوہ کسی طر ح ووٹروں میں اپنی پکڑبناتی دکھا نہیں دیکھ رہی ہے اس کا اثر سیاسی منظر پڑ سکتا ہے اکتوبر سے فروری تک جب اے سی کا استعمال کم ہوتا ہے تو زےادہ تر گھروں میں بجلی کھپت گھٹتی ہے جس سے 200یونٹ کا فائدہ کافی لوگوں کو مل سکتا ہے ۔کجریوا ل کا کہنا ہے کہ بڑی افسران ونیتاو ¿ں کو فری بجلی مل رہی ہے اس لئے عام لوگوں کو بھی اس کا فائدہ ملنا چاہئے اگر خاص لوگوں کو سہولت مل رہی ہے تو میں اس کو عام آدمی تک پہنچا رہا ہوں تو یہ غلط ہے ؟اپوزیشن بھی اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ رہی ہے کہ بجلی کا اشو ہر گھر سے جڑا ہے ۔اےسے میں بجلی بلوں میں کمی کا یہ فیصلہ اپوزیشن پارٹیوں کیلئے مصیبت کا سبب بن سکتا ہے دراصل حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ہی پتہ ہے کہ بجلی بل کا اشو چناو ¿ میں کافی اثر ڈال سکتا ہے تاریخ بھی اس بات کی گواہ رہی ہے کہ بجلی پانی کے اشو پر جنتا کسی بھی سرکار کی قسمت کا فیصلہ کرسکتی ہے ۔کجریوال سرکا رنے دہلی بھاجپا کے دباو ¿ میں آکر فیکس ولوڈ سب چارج گھٹاےا ہے یہ دعوی دہلی بھاجپا صدر منو ج تیواری نے کیا تھا اور ہم نے ایل جی سے پہلے ہی مانگ کی تھی کجریوال نے بجلی کمپنیوں کی لوٹ کو قبول کرلیا ہے تازہ قدم چناوی ہتھ کنڈہ ہے یا چناو ¿چیتانے والا انقلابی قدم ۔یہ تو آنے والے دہلی اسمبلی چناو ¿ میں ہی پتہ چلے گا ؟
(انل نریندر)
06 اگست 2019
تین طلاق کی منمانی دقیانوسی روائت سے نجات !
طلاق بد عت یعنی تین طلاق سے متعلق شادی تحفظ بل 2089کے راجیہ سبھا سے پاس کے بعد اس منمانی دقیانوسی روایت کا خاتمے سے مسلم خواتین کو نجا ت کار استہ حاصل ہوگیا ہے یہ ایک تاریخی قدم بھارت جیسے ملک میں جہاں سیاسی پارٹیوں کی بڑی پریشانی ووٹ بینک ہوتی ہے وہاں ایک فرقہ کے بڑے طبقے کی مخالفت کو برداشت کرتے ہوئے ایسے ترقی پسند انصاف پر مبنی قانون بنانے کا کچھ برس پہلے تصور تک نہیں کیا جاسکتا تھا ۔یہی دیش ہے جہاں ایک بوڑھی خاتون شاہ بانو کو سپریم کورٹ کے ذریعہ دیئے گئے گذرا بتھے کے حکم کو پارلیمنٹ نے ایک فرقہ دباو ¿ میں آکر پلٹ دی تھا ۔دوبرس پہلے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں صاف کردیا تھا ایک ساتھ تین طلاق غیر اسلامی ،غیر قانو نی اور آئین کے منافی ہے یعنی اب ایک ساتھ تین طلاق کہنے پر نہیں ہوگی ۔اس کے باوجود تین طلاق ہوتی رہی ہیں راجیہ سبھا میں بل پاس ہونے کے بعد بھارت میں بھی طلاق پر پابندی لگ گئی ہے دنیا کے 19اسلامی ملکوں میں پہلے سے ہی ممنوع ہے ۔مصر دنیا کا ایسا پہلا ملک ہے جہاں طلاق سال 1929میں مسلم جج صاحبان کی بنچ نے اتفاق رائے سے تین طلاق کو غیر آئین قرار دیا تھا ۔مصر کی نظیر کو اپناتے ہوئے سوڈان کی عدالت بھی اپنے ملک میں تین طلاق پر پابندی لگائی ہوئی ہے ۔پاکستان میں 1956سے ہی تین طلاق پر پابندی عائد ہیں اس کے بعد بنگلہ دیش نے بھی آئین میں ترمیم کر فوری طور پر تین طلا ق پر پابندی لگادی تھی ۔عراق نے 1959میں طلاق پر پابندی لگاکر دنیا کا پہلا دیش بنا تھا وہاں کی شرعی عدالت کے قوانین کو سرکاری عدالت کے قوانین کے ساتھ ردوبدل کرکے تین طلاق کی روایت کو ختم کیا ۔شام میں قریب 74فیصدی مسلم آبادی ہے وہاں تین طلاق کے فائدے کو اس طرح سے تیار کیا گیا ہے کہ کوئی بھی مرد آسانی سے بیوی سے الگ نہیں ہوسکتا ۔ملائشیا اور انڈونیشیا:ملائشیانے اگر کسی شوہر کو طلاق لینی ہے تو اسے عدالت میں اپیل دائر کرنی ہوتی ہے ۔یہاں عدالت کے باہر طلاق کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ترکی میں طلاق تبھی ہوسکتی ہے جب شادی کا رجسٹریشن دفتر میں کرایا گیا ہو پھر طلاق کی کوئی کارروائی سول عدالت میں ہوگی شام ،یردن ،الجزائر ایران مراقش ،قطر ،اور سعودی عرب ومتحدہ عرب امارات میں بھی فورطور پر تین طلاق پر پابندی ہے ۔میں نے ان ملکوں کا اس لئے حوالہ دیا کہ بھارت اگر تین طلاق کو اپنے موجودہ خاکے میں پالن کررہاہے تو وہ ایسا کرنے والا پہلا دیش نہیں ہے بیشک اس میںکوئی شبہ نہیں کہ بھارت سرکا رنے نیا قانون لاکر تاریخی او رہمت والا کام کیا ہے ۔ اس نیا قانون کے کچھ تقاضوں کو لیکر مسلمانوں کا ایک طبقہ اور کچھ سیاسی پارٹیاں اس کی کھل کر مخالفت کررہی ہیں راجیہ سبھا کے ذریعہ پاس قانون میں تین طلاق کو جرم بنانے کی سہولت پر محض ایک غیر معمولی سوال کے چاروں طرف گھومتی نظر آئی ۔جب شادی ایک سماجی معاہد ہے اور سپریم کورٹ پہلے ہی تین طلاق کو نامنظور کرچکا ہے تو قانون کے ذریعہ منظوری حاصل نہ ہونے پر اپنی بیوی کو طلاق دینے کی کوشش کرنے والے کو سزا دینے کی ضرورت کیا ہے ؟اب یہ بل باقاعدہ قانون بن چکاہے بیوی کو ایک بار میں طلاق دینا قابل جرم بن چکا ہے اس کے لئے تین سال کی جیل کی سزا اور جرمانہ بھی ہوسکتا ہے قانون سے کیا واقعی مسلم خواتین کو راحت ملے گی یا شوہر کا جیل جانا اس کے لئے بھی مشکلوں کا سبب بنے گا ؟قومی خواتین کمیشن کی چیئر پرسن ریکھا شرمانے نیا قانون کا خیرم مقد کیا ہے اور مسلم خواتین کافی عرصے سے اس کا انتظار کرہی تھی ۔اس تین طلاق کی وجہ سے مسلم عورتوں کو ناجانے کیا کیا برداشت کرنا پڑ تا تھا ۔منٹوں میں گھر سے باہر ہونا پڑتا تھا سرکار کا نیا قانون ایک تاریخی قدم ہے جو مسلم خواتین کے ساتھ ہونے والی انصافی کو روکے گا ۔اقلیتی خاتون رضاکار کا کہناہے کہ مجھے نہیں لگتا کہ اس قانو ن پرکوئی مطلب بھی ہے سپریم کورٹ نے تین طلاق کو غیر آئین قرار دیاتھا جس لحاظ سے قانو ن میں کوئی جواز نہیں ہے او راسے طلاق کو ایک جرم بنائے جانے کا بھی کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آتا اگر شوہر کو جیل بھیجا گیا تو بیوی اور بچوں کی دیکھ بھال کون کرےں گا ؟کیسے ثابت ہوتاہے تین طلاق مسلمان عورتوںکا سب سے بڑااشوہے ؟ دوسرے لفظوں میں ایک ظالم مسلم شوہر اپنی بیوی کو چھوڑنا چاہتاہے تو وہ طلاق دیے گا ہی ہندو سکھ عیسائی جیسے بودھ سکھ کی طرح کرتے ہیں اسے سسرال سے باہر نکال دیں وہ اس سے گالی گلوج بھی کرسکتا ہے او راسے بتا بھی سکتا ہے کہ ازدواجی رشتہ ختم ہوگیا ہے اور اس سے کسی مالی مدد کی امید نہیں کرنی چاہئے جب تک کہ وہ اردوکے تین طلاق کو ناجائز نہیں کہتا تب تک کوئی بھی جیل کی سزا بھگنے سے بچ جائے گا ۔اس طرح کا قانون ایک ہندو شوہر کیلئے ہے جو اپنی بیوی کو ایک بغیر طلاق دیئے کہتا ہے کہ یہ شادی ختم ہوگئی ہے اب باہر نکلو اگر اس کے دل میں مذا ق اڑا نے کا خیا ل ہے تو وہ ایک غیر مسلم کی شکل میں اسے دروازے سے باہر نکالتے ہوئے طلاق طلاق طلاق کہہ کر طعنہ مار سکتا ہے ۔کچھ مخالفین کا خیال ہے کہ اس قانون کا سیدھا نشانہ مسلم مرد ہے قانون سے مسلم خواتین کی کوئی بھلا ئی شاید نہ ہو شادی اور طلاق سماجی معاملے میں ہیں بھارت میں پہلی بار ان معاملوں میں باقاعدہ سزا کا اعلان کیوں ہوا ہے ۔سماجی دقیانوسی روایت کو نہیں بدلا جاسکتا اس لئے ضروری ہے سماجی نظریہ بدلے ۔موجودہ وقت میں جب مسلمان فرقہ پہلے سے ہی ڈرا ہوا ہے اوردوسرے درجہ شہری جیسا محسوس کررہاہے آج دیش میں کسی نا کسی دن ہجومی مار پیٹ کے واقعات پڑھنے سننے کو مل رہے ہیں تو ایسے میں سرکار کواچانک مسلم خواتین کی فکر کیوں ستانے لگی ؟وزیر اعظم نریند رمودی نے تین طلاق بل عورتوںکو بااختیار بنانے کی سمت میں ایک بہت بڑا قدم بتایا ہے خوش آمدی کے نام پر دیش کی کروڑوں ماں بہنوں کو انے حق سے محروم رکھنے کا پاپ کیا ہے مجھے اس بات کا فخر ہے کہ مسلم خواتین کو ان کا حق دینے کا فخر ہماری حکومت کو حاصل ہوا ہے مودی نے اس بل کو تاریخی قرار دیا اور صدیوں سے چلی آرہی روایت سے متاثرہ مسلم خواتین کو انصاف ملا ہے ۔
(انل نریندر)
04 اگست 2019
ٹائیگر زندہ ہے :بھارت نے پیش کی مثال
کہا جا تا ہے کہ ایک وقت میں دنیا میں جتنے شیر تھے اب اس کے پانچ فیصد رہ گئے ہیں مسلسل ٹائیگرس کی گھٹتی تعداد کو لے کر کافی عرصہ سے تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے ۔اور اس میں بہتری کے لئے تمام مہم چلائی گئی ایسے وقت میں جب دنیا میں شیروں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے بھارت میں ان کی تعداد بڑھنا ایک اچھی خبر ہے ۔پیر کے روز ورلڈ ٹائیگرس ڈے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے شیروں کی شماری کے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس محاذ پر اتنے برسوں کے دوران جو کوشش کی گئی اس کا اچھا نتیجہ اب سامنے آنے لگا ہے ۔جنگلاتی تحفظ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق دیش بھر میں ٹائیگرس کی تعداد اس سال 2967پائی گئی ہے یہ 2014میں کل ٹائیگرس کی تعداد کے مقابلے 741زیادہ ہے یعنی پچھلے پانچ برسوں میں ان کی تعداد میں 33فیصد یعنی ایک تہائی اضافہ ہوا ہے ۔ظاہر ہے ٹائیگرس کی کم تعداد کو دیکھتے ہوئے ان کے تحفظ کو لے کر جس طرح کی تشویش جتائی جا رہی تھی اس لحاظ سے یہ اعداد و شمار کافی راحت بھرے ہیں حالانکہ تعداد بڑھنے کی یہ امید شیر شمار شروع ہوتے وقت ہی تھی چونکہ پہلے انتظام ٹھیک نہ ہونے کے سبب نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں شیروں کی شماری نہیں مل پاتی تھی لیکن اس مرتبہ ان کی گنتی کرانے کے لئے ٹھیک انتظامات ہوئے ۔حالانکہ دیش میں ان ٹائیگرس کی تعداد بڑھنے کی یہ اکیلی وجہ نہیں ہے ۔چھتیس گرھ میزورم کو چھوڑ کر دیش کے تقریبا سبھی حصوں میں ٹائیگرس کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔خاص کر مدھیہ پردیش کرناٹک،اتراکھنڈ،شامل ہیں۔دنیا بھر میں ٹائیگرس کی تعداد گھٹنے کی جو وجوہات ہیں وہ ہمارے سامنے موجو دہیں عام طور پر دو وجوہات مانی جاتی ہیں ۔ایک تو ان جنگلوں میں لگاتار کٹائی اور جنگلوں کا گھٹنا شامل ہے جو شیروں یا ٹائیگرس کی قدرتی رہائش گاہ ہے ۔دوسرا شیروں کا ناجائز کاروبار اور اسکی وجہ سے ان کا شکار ہے تازہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ محکمہ جنگلات ان کے بچاﺅ کے لئے کافی سرگرم ہوا ہے ۔اور اس نے ناجائز شکار اور کاروبار پر سختی برتی ہے ۔جس کے اچھے نتیجے ملے ہیں ابھی بھارت میں شیروں کی پناہ گاہوں کا کل رقبہ 3لاکھ 80ہزار مربہ کلو میٹر ہے جبکہ گنی گئی تین ہزار ٹائیگرس کو رہنے کے لئے دو سو مربہ کے حساب سے تقریبا چھ لاکھ مربہ میٹر یعنی دو گنا جگہ کی ضرورت ہے جگہ کم ہونے کے تین اثرات دیکھے جاتے ہیں ۔اور جگہ کی تنگی کے سبب شیر یا ٹائیگر س آپس میں لڑ کر مر جاتے ہیں ۔دوسرا اپنی خوراک پوری کرنے کے لئے انسانی بستیوں میں چلے جاتے ہیں اور لوگوں کے غصے کا شکار بنتے ہیں ۔کئی مرتبہ تک فاقہ کشی سے شکار ہو کر مرے ہوئے پائے جاتے ہیں ۔بے شک شیروں کی نئی تعداد کے شمارات اچھی خبر دے رہے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ابھی خطرہ ٹلا نہیں ہے ۔ٹائیگرس کی بساست والے علاقوں میں انسانی آبادی سے الگ الگ طریقہ سے پھیلنے کی وجہ سے مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے ۔اور یہ آج بھی بڑا چیلنج ہے اس کے علاوہ جس سندر بن کو ٹائیگرس کے لئے سب سے بہتر مقامات میں سے ایک مانا جا رہا ہے ۔وہاں بھی بڑھتی سمندری سطح کی وجہ سے ایک بڑے جنگل کے حصہ کے ڈوب جانے کا خطرہ منڈرا رہا ہے ۔اگر یہ حالت سامنے آتی ہے تو پھر ٹائیگرس انسان کی رہائش کی طرف رخ کر سکتے ہیں اور پھر شیروں اور انسان کی لڑائی بڑھ جائے گی ظاہر ہے تازہ کارنامے کی رفتار بنائے رکھنے کے لئے ضروت اس بات کی ہے کہ ٹائیگرس کی بساوٹ کو آسان بنانے کے علاوہ ان کے تحفظ کے اقدامات یا متابادل پر بھی کام کیا جائے ۔ٹائیگرس کی بڑھتی تعدا د کے لئے ذمہ دار سبھی محکموں کو بدھائی کم سے کم بھارت میں تو ہمارے بچے شیروں کو دیکھنے سے نہیں رہیں گے ۔
(انل نریندر)
بھارت کی معیشت ڈھلان پر بے روزگاری بڑھنے لگی ہے
ہندوستان کی معیشت کی حالت تشویش ناک بنتی جا رہی ہے ۔پچھلے کچھ عرصے سے صاف اشارے مل رہے ہیں کہ اقتصادی محاذ پر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔ریٹنگ ایجنسی کیریسل نے مالی سال 2019-20میںہندوستان کی اقتصادی رفتار کے اپنے انداز ے میںترمیم کی ہے ۔کیریسل میں رواں مالی سال کے لئے جی ڈی پی اضافی شرح کو 0.2فیصد تک گھٹا دیا ہے ۔ایجنسی کے مطابق جی ڈی پی گروتھ ریٹ 7.1فیصد کے بجائے 6.9فیصد رہ سکتی ہے ۔ریٹنگ ایجنسی نے صلاح دی ہے کہ مستقبل میعاد میں ترقی کے لئے حکومت کو فوری قدم اُٹھانے ہوں گے بدھ کے روز جاری سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جون 2019میں آٹھ بڑی انڈسٹریز میں ترقی پیداوار میں گراوٹ آئی ہے ۔جولائی 2019میں اسٹاک مارکیٹ کے لئے سترہ سال میں سب سے بری ثابت ہوئی ہے ۔بجٹ کے بعد کارپوریٹ کمائی ،لیکویڈیٹی کے مسئلے کے چلتے بازار میں گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے ۔بلو مارگ کے ڈیٹا کے مطابق پچھلے سترہ سال میں محض چار مرتبہ اگست ماہ میں جولائی ماہ سے بہتر اچھی پرفارمینس دی ہے ۔جون کے ابتدا میں ریکارڈ فی سطح کے مقابلے ابھی بازار قریب آٹھ فیصد نیچے ہے ۔بازار میں ٹیکس بڑھانے ترقی شرح پر کم توجہ دینے کے سبب بازار میں مایوسی چھائی ہوئی ہے ۔دیش کی سب سے بڑی کار کمپنی ماروتی سوزوکی نے جولائی مہینے کے دوران 33.5فیصد بکری میں گراوٹ کی بات کہی ہے ۔آٹو انڈسٹریز کی خراب حالت کے درمیان آٹو کی فروخت میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے ۔ماروتی سوزوکی کی فروخت جولائی مہینے میں گراوٹ آنے سے بے روزگاری بڑھنے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے ۔ہزاروں نوکریاں ختم ہونے کا اندیشہ ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق بجاج آٹو کی کل فروخت جولائی مہینے میں 5فیصد تک کم ہو کر 38530گاڑیوں کی فروخت تک نیچے آگئی ہے ۔دو سال پہلے بازار میں پہلی بار گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے ۔کار کمپنی ہونڈئی موٹر انڈیا لیمیٹیڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ جولائی میں اس کی کاروں کی بکری 3.8فیصد کم ہو کر 57310رہ گئی ہے ۔ہنڈا کار لیمیٹیڈ کے مطابق جولائی میں اس کے کاروں کی بکری میں 49فیصدی کی گراوٹ آئی ہے ۔یہ 10250پر آگئی ہے ۔جو سال بھر پہلے اسی معیاد میں یہ تعداد 19970ہوا کرتی تھی ۔کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر دگ وجے سنگھ نے وقفہ سوالات کے دوران پارلیمنٹ میں خستہ حالی کا شکار آٹو سیکٹر کا اشو اُٹھایا تھا ۔انہوںنے کہا تھا کہ دیش کی معیشت ڈھلان پر ہے ۔اور بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے حکومت کو آٹو موبائل صنعت کو خستہ حالی سے نکالنے کے لئے قدم اُٹھانے چاہیں ۔انہوں نے بتایا کہ سو سے زیادہ کار ڈیلر اپنی دوکانیں بند کر چکے ہیں ۔چاروں طرف ابھرتے منفی اشاروں سے کارو باری دنیا مایوسی کے ماحول میں کام کر رہی ہے ان منفی اشاروں کے درمیان مودی سرکار دیش کی آٹو موبائل اور کار کمپنیوں کی حالت کو نظر انداز نہیں کر سکتی ۔وہیں کیفے کافی ڈے کے بانی وی وی سدھارتھ کی خود کشی نے دکھا دیا ہے کہ ہماری صنعت کس کس پریشانی کے دور سے گزر رہی ہے ۔ایک طرف مندی کی مار دوسری طرف انفورس مینٹ ڈاکٹریٹ کی مار بھلے ہی سدھارتھ کی خود کشی کی بنیادی وجہ ہو یا اور کچھ بھی ہو لیکن ان کی موت کو جس طرح ایک مناسب کاروباری ماحول سے جوڑا جا رہا ہے اس سے سرکار کی غلط اقتصادی پالیسیوں کا بھی ضرور پردہ فاش ہو اہے ۔پالیس سازوں وک اس بات سے با آور ہونا چاہیے کہ مودی سرکار کے دوسرے عہد کا پہلا عام بجٹ صنعت ،تجارت،دنیا کو حوصلہ دینے سے تو دور رہا سچ تو یہ ہے کہ عام بجٹ کے کچھ تقاضوں نے کاروباری دنیا کو مایوس کرنے کا کام کیا ہے اگر صنعتی ترقی کم ہوگی تو دیش کی اقتصادی رفتار کیسے بڑھے گی ؟اس سے پہلے سے بڑھتی بے روزگاری اور بڑھے گی ویسے بھی بے روزگاری کی سطح سال در سال بڑھتی جا رہی ہے ۔ہمیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ مودی سرکار کا نظریہ آخر کیا ہے ؟اگر مودی سرکار نے بلا تاخیر مثبت قدم نہیں اُٹھائے تو اس سے دیش کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...