Translater

Crime لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Crime لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

27 اپریل 2012

راجدھانی میں بچیوں کے سوداگروں کا دھندہ



Published On 27 March 2012
انل نریندر

راجدھانی دہلی میں چھوٹی بچیوں کے ان سوداگروں کو آفت مچا رکھی ہے۔ پچھلے دنوں ایسی اٹھائی گئی 8 بچیوں کو چھڑایا گیا۔ایک پلیسمنٹ ایجنسی پر چھاپہ مار کر جن 8 بچیوں کو چھڑایا گیا انہوں نے آپ بیتی 'چائلڈ ویلفیئر کمیٹی '(سی ڈبلیو سی) کو بتائی۔ اس کے بعد سی ڈبلیو سی نے پولیس کو حکم دیا کے ان لڑکیوں سے ملے سراغوں کی بنیاد پر پلیسمنٹ ایجنسیوں اور اس ریکٹ میں شامل لوگوں کی پہچان کی جائے اور ان پر سخت کارروائی کی جائے۔ سی ڈبلیو سی لاجپت نگر نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ٹریفکنگ کے جال میں پھنسی باقی بچیوں کو بھی آزاد کرایا جائے۔ واضح ہے کہ پچھلے دنوں سی ڈبلیو سے کے حکم پر دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے ایک پلیسمنٹ ایجنسی پر چھاپہ مارکر 8 بچیوں کو آزاد کرایا تھا۔ ان بچیوں کو مغربی بنگال کے الگ الگ گاؤں سے یہاں لایا گیا تھا۔ پلیسمنٹ ایجنسی نے انہیں نوکرانی کے کام پر لگادیا تھا۔ الزام ہے کہ وہاں ان کا استحصال ہورہا تھا۔ ذرائع کے مطابق کم سے کم 20 بچیاں ان کے جال میں ہیں۔ وسنت وہار جیسے پاش علاقے سے پچھلے دنوں ایک 8 سال کی بچی کو ایک گھر سے چھڑایا گیا۔ یہ بچی یہاں نوکرا نی تھی۔ بٹرفلائی چائلڈ ہیلپ لائن نے وسنت وہار تھانے میں اس بارے میں شکایت کی تھی۔ ایڈیشنل ڈی سی پی (ساؤتھ) پرمود کشواہا نے بتایا کہ بچی بہار کے چھپرا کی رہنے والی ہے۔ جس گھر سے بچی کو چھڑایا گیا ہے اس کے مالک کا کہنا ہے کہ بچی ان کی دور کی رشتے دار ہے اور 10 دن پہلے ہی اس کی دادی اسے وہاں چھوڑ کر آئی تھی۔ چھڑائی گئی 8 لڑکیوں کو سی ڈبلیو سی کے سامنے پیش کیا گیا۔دو لڑکیوں نے صاف بتایا کہ ان کے ساتھ بہت بے رحمی برتی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایمپلائر نے فزیکلی ایبیوز کیا ہے ۔ پلیسمنٹ ایجنسی کے مالک کے خلاف بھی شکایت ہے کہ اس نے بچیوں کو کوئی محنتانہ بھی نہیں دیا۔ایک لڑکی نے بتایا کہ مالویہ نگر میں جہاں وہ کام کرتی تھی اس کی مالک اسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر پیٹتا تھا۔ اسے کبھی پیسے نہیں دیتا تھا۔ دوسری لڑکی نے بتایا کہ اسے بری طرح سے مارا جاتا تھا۔اس نے دائیں آنکھ پر چوٹ کے نشان بھی دکھائے۔ اس نے بتایا کہ کس طرح مالک کا بیٹا کئی بار اس کے جسم کو چھوتا اور سیکسول ہیرس کرتا تھا۔ جب کوئی گھر میں نہیں ہوتا تھا تو وہ مجھے اپنے کمرے میں بلاتا تھا۔ جب میں نے یہ سب کرنے سے منع کردیا تو اس نے برا برتاؤ شروع کردیا۔ میں نے ڈر کے مارے کسی کو کچھ بھی نہیں بتایا۔ ایک نابالغ لڑکی جو میڈ کا کام کرتی تھی، اس کو پولیس اور 'بچپن بچاؤ آندولن' کے ورکروں نے گیتا کالونی سے چھڑایا۔ علاقے کے گھر میں نوکرانی کا کام کرنے والوں پر مالک کا ڈر اتنا حاوی تھا کہ اس نے چار سال پہلے اپنی ماں کو ہی پہچاننے سے انکار کردیا۔بدھوار کو جب وہ اپنے پریوار کو ملی تو اس کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ راجدھانی میں میڈوں کے نام پر ٹریفکنگ کا دھندہ پھل پھول رہا ہے اور اس میں کچھ پلیسمنٹ ایجنسیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اسے کیسے روکا جائے یہ پولیس کے علاوہ ماں باپ اور سماج کی ذمہ داری بنتی ہے۔
Anil Narendra, Crime, Daily Pratap, Delhi, delhi Police, Trafficking, Vir Arjun

18 اپریل 2012

جرم کی دنیا میں خواتین کی بڑھتی سرگرمی



Published On 18 March 2012
انل نریندر
راجدھانی دہلی اور این سی آر میں کرائم کی دنیا میں خواتین کی سرگرمی تشویش کا موضوع بنتا جارہا ہے۔ ایک وقت تھا جب جرم کی دنیا میں مرد بگ باس ہوا کرتے تھے لیکن پچھلے کچھ دنوں سے ایسی خبریں آرہی ہیں کے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اب اس علاقے میں صرف مرد ہی سرغنہ نہیں رہا عورتیں بھی کودتی جارہی ہیں۔ وجے وہار تھانہ پولیس نے جمعہ کو کمپیوٹر کی مدد سے گھر میں نقلی نوٹ چھاپ کر انہیں سپلائی کرنے والی ایک خاتون کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم خاتون کی پہچان 22 سالہ الکا گروور کی شکل میں ہوئی ہے۔ اس کے پاس سے 25 ہزار800 روپے کے نقلی نوٹ و چھپائی میں استعمال سامان بھی ضبط کیا گیا ہے۔ اس کے دو فرار ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔ خاتون دہلی سے پنجاب تک یہ نقلی نوٹ سپلائی کیا کرتی تھی۔ پولیس ڈپٹی کمشنر بھولا شنکر نے بتایا کہ جمعہ کو خبر ملی تھی کے وجے وہار سی بلاک کے ایک گھر میں نقلی نوٹ چھاپے جارہے ہیں۔
پولیس نے چھاپہ مار کر گھر سے 500 روپے کے 46 ،100 روپے کے 27 ،50 روپے کے دو نقلی نوٹ برآمد کئے۔شوہر کے جیل میں ہونے کی وجہ سے عورت کی اقتصادی حالت بیحد خراب تھی۔ اس کے بچے پنجاب کے اسکول میں پڑھتے ہیں وہ جیل میں جب اپنے شوہر سے ملاقات کرنے گئی تو وہاں اسے تیجندر اور ونود ملے۔ اس کی اقتصادی حالت کے بارے میں جانکارکر اسے اپنے گروہ میں شامل کرلیا۔ اور یہیں سے شروع ہوا اس کے گھر میں نقلی نوٹ چھاپنے کا دھندہ۔ چھان بین کررہی پولیس نے جب نوٹ ضبط کئے تو اس کے نقلی ہونے کا اسے بھی یقین نہیں ہوا۔ دراصل ان نوٹوں کو بنانے میں بہترین کوالٹی کے کاغذ کا استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ واٹر مال اور سکیورٹی دھاگا بھی نوٹ میں ہونے کی وجہ سے اس کے نقلی ہونے کا کسی کو شبہ نہیں ہوتا تھا۔
کچھ دن پہلے خبر آئی کے دہلی میں شراب اسمگلنگ میں ایک عورت لیڈی ڈان کو گرفتار کیا۔ باہری دہلی پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ روہنی علاقے میں لیو ان ریلیشن میں رہنے والا ایک جوڑا شراب کی اسمگلنگ کے دھندے کو انجام دے رہا ہے۔ دیررات پولیس نے چھاپہ ماری کر شیوانی ، برج موہن اور ونود نامی لڑنے کو گرفتار کرلیا۔ ذرائع کے مطابق شیوانی اور برج موہن لیو ان ریلیشن میں رہتے تھے۔ برج موہن اور ونود ہریانہ سے دیسی شراب لانے کا کام کرتے تھے پھر عورت کے اشارے پر اسے لیلا ،جانی واکر وغیرہ مہنگی برانڈ کی بوتلوں میں بھرا جاتا تھا اور اسمگلنگ پر شک ہونے پر اس کے لئے شیوانی خود ہی گراہک ڈھونڈنے اور ڈلیوری کرنے کا کام کیا کرتی تھی۔
لاکھوں کی تعداد میں برآمد شراب کی بوتلوں کو پولیس نے ضبط کیا ہے۔ پوچھ تاچھ میں پتہ چلا ہے کہ بھاری مقدار میں برآمد شراب ایم سی ڈی چناؤ میں بانٹی جانی تھی۔ ان دونوں قصوں کے علاوہ بھی جرم کی دنیا میں خواتین کی بڑھتی سرگرمی کے قصے سامنے آئے ہیں۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ ناجائز دھندوں میں اب عورتیں بھی بڑھ چڑھ کر شامل ہونے لگی ہیں۔
Anil Narendra, Crime, Criminals, Daily Pratap, Vir Arjun, Women in Crime

03 مارچ 2012

درندگی کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے دہلی کے شہری



Published On 3 March 2012
انل نریندر

پچھلے کئی دنوں سے اخبارات میں دہلی کے بدنام زمانہ لوگوں کی درندگی کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔ان میں بچیوں سے بدفعلی کے واقعات نے ایک بار پھر دہلی واسیوں کو شرمسار کردیا ہے۔ ان واقعات سے سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر دہلی میں اتنی درندگی کیوں بڑھ رہی ہے؟ منڈکا کے ایک سکیورٹی گارڈ پر ایک چھ سال کی بچی سے بد تمیزی کا الزام ہے۔ پولیس نے اجے پرساد نامی مجرم کو گرفتار کرلیا ہے۔ 20 سالہ اجے ایتوار کی شام 4 بجے ایک پھل فروش کی بچی کو مچھلی کھلانے کے بہانے لے گیا۔ بچی کے والد کو پہلے اس پر شبہ نہیں ہوا لیکن جب معاملہ ہوا تو وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ پولیس کے مطابق اجے بچی کو ایک کھلے میدان میں لے گیا وہاں اس کے ساتھ بدفعلی کی کوشش کی گئی بعد میں بچی روتی ہوئی آئی اور اپنی ماں کو سارے واقعے کے بارے میں بتایا۔ اس سے ایک دن پہلے دوارکا علاقے میں ایک 16 سال کی لڑکی کے ساتھ آبروریزی کا معاملہ سامنے آیا۔ ایک فارم ہاؤس کے 50 سالہ سکیورٹی گارڈ نند کمار نے پاس میں مقیم لڑکی کو اغوا کرلیا اور پاس کے میدان میں لے جاکر اس کی آبروریزی کی۔ اس نے لڑکی کو دھمکی دی کہ اگر اس نے گھر پر بتایا تو وہ اسے جان سے ماردے گا۔ پولیس کے مطابق نندکمار لڑکی کا رشتے دار ہے اور اسے کافی وقت سے جانتا تھا۔ دہلی چھاؤنی میں ایک فوج کے ملازم پر اپنے دوست کی بیوی کے ساتھ آبروریزی کا الزام ہے۔ پولیس کے مطابق روندر فوج میں سول محکمے میں کام کرتا ہے اور خاتون اور اس کے شوہر کو پہلے سے جانتا تھا۔ واقعہ پیر کی صبح قریب11:30 بجے کا ہے۔ روندر صدر بازار میں واقع اپنے دوست کے یہاں گیا تھا۔ وہاں اس کی بیوی گھر میں اکیلی تھی پولیس کے مطابق آبروریزی کے بعد روندر غائب ہوگیا لیکن پولیس نے اسے پکڑ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ خاتون کا شوہر فوج میں ہیڈ کانسٹیبل ہے۔ روندر خاتون کے گاؤں کا رہنے والا ہے اور وہ اکثر گھر پر آتا جاتا تھا۔ گوڑگاؤں میں مالک کی ہونڈا سٹی کار میں ہی ڈرائیور نے نوکرانی کے ساتھ آبروریزی کردی۔ پولیس نے ایک گاؤں سے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا ہے اسے 14 دن کی جوڈیشیل ریمانڈپر بھیج دیا گیا ہے۔ سیکٹر 48 کے باشندے ایئر فورس سے ریٹائرڈ افسر مکیش کی بیٹی کی شادی ایتوار کی رات ڈھولہ کنواں میں ہورہی تھی ۔ شادی کے بعد مکیش ناتھ نے اپنے ڈرائیور سونی کے ساتھ تین گھریلو نوکروں کو گوڑ گاؤں بھیجا۔ اس میں اس کی ساس کی نوکرانی بھی تھی۔ سونو نے دونوکروں کو ساہنا روڈ پر اتاردیا۔ الزام ہے کہ اس کے بعد ڈرائیور نے ان کے ساتھ آبروریزی کی۔ دہلی کی ایک عدالت نے پچھلے دنوں پارک میں بنی چھتری کے نیچے رہ رہی 50 سالہ خاتون کو اغوا کر اور آبروریزی معاملے میں19 سالہ لڑکے پرہلاد کو10 سال کی قید مشقت کی سزا سنائی ہے۔ایڈیشنل سیشن جج کامنی لا کی عدالت نے قصوروار پر17 ہزار روپے کا جرمانہ بھی کیا ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے دہلی میں حیوانیت کی ساری حدیں پار ہورہی ہیں اور اب تو راجدھانی کو 'ریپ کیپیٹل ' کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ خواتین سے متعلق کرائم تو ساری دنیا میں ہوتے ہیں لیکن 6 سال کی بچی سے لیکر80 سال کی بوڑھیا کے ساتھ جب آبروریزی یا بد فعلی ہو تو یہ چونکا دیتا ہے کہ ہم کس طرف جارہے ہیں۔ اس طرح تو آدمی اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔
Anil Narendra, Crime, Criminals, Daily Pratap, Delhi, delhi Police, Vir Arjun

24 جنوری 2012

اترپردیش چناؤ میں دبنگی کے معاملے میں سب کادامن داغدار


Published On 23th January 2012
انل نریندر
 چناؤ کمیشن چاہے جتنے بھی قانونی سختی برتے اترپردیش اسمبلی چناؤ میں ان دبنگیوں کو نہیں روک سکتاہے ۔ یہ کوئی نہ کوئی راستے ضرور نکال لیتے ہیں ۔ان دبنگیوں کا آخر مقصد شاید ایک اسمبلی ممبر بننا ہوتا ہے اور ایسا کرنے کے لئے پہلے تو وہ بڑی سیاسی پارٹیوں کو ٹٹولتے ہیں۔ جب انہیں وہاں جگہ نہیں ملتی تو وہ کوئی چھوٹی پارٹی ڈھونڈتے ہیں چونکہ اسے پارٹی کے بل پر چناؤ جیتنا نہیں بلکہ انہیں تو وہ اس پارٹی کا چناؤ نشان چاہئے۔ ایسی ہی ایک پارٹی اپنا دل ہے۔ اس دل سے ہی الہ آباد کے عتیق احمد کا ممبراسمبلی بننے کا خواب پورا ہوا تھا۔ یہ بات دیگر ہے کہ اس کے بعد سماج وادی پارٹی نے انہیں اپنے یہاں جگہ دے کر لوک سبھا تک پہنچایا اور وہ بھی پنڈت جواہر لال نہرو کے پارلیمانی حلقے سے 2004میں اپنادل کے بانی سونے لال پٹیل ببلو سری واستو کو سیتا پور سے اپنا دل کا امیدوار بنایا تھا۔یہ ہی نہیں ان کی کتاب ''ادھورا خواب ''کااجراء بھی پٹیل نے کیا تھا۔اب جب دوسرے مافیا منا بجرنگی کو ممبر اسمبلی بننے کی خواہش ہوئی ہے۔ تب اس کے خواب کو بھی اپنا دل ہی پنکھ لگارہا ہے۔ منا بجرنگی جونپور کے بھیڑیاؤ سے اپنا دل کے امیدوار ہیں ۔عتیق احمد پھر ایک بارالہ آباد کے شہر وریشمی سے اپنا دل کے ٹکٹ پر اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔ کچھ ایسی حالت پیس پارٹی کی بھی ہے۔ کانگریس پردیش پردھان ڈاکٹر ریتا بہوگنا جوشی کا گھر جلانے کے ملزم جتیندر سنگھ ببلو کو پیس پارٹی نے اپنا یہاں جگہ دی تھی۔ مایا وتی بعد میں انہیں نکال پائی۔ اب وہ بیکا پور سے میدان میں ہیں۔ یہی نہیں اپنے بوتے پر سونیاگاندھی پارلیمانی حلقے رائے بریلی سے آزاد امیدوار کی شکل میں چناؤ جیتتے آرہے اکھلیش سنگھ کو بھی پیس پارٹی میں نہ صرف سیاسی پناہ ملی بلکہ انہیں قومی جنرل سکریٹری کا عہدہ بھی دے دیاگیا۔ داغیوں کو چناؤ سے دور رکھنے کی بات سبھی پارٹیاں کرتی ہیں لیکن ان پر عمل دھیلے بھر کابھی نہیں ہوتا۔ وارانسی کے اجے رام مشہور دبنگی ہیں۔یہ پہلے بھاجپا میں تھے ۔لوک سبھا میں چناؤ کاٹکٹ نہیں ملاتو سماج وادی پارٹی میں چلے گئے۔ اس مرتبہ وہ وارانسی کی پنڈرا سیٹ سے کانگریس کے امیدوار ہیں۔ آزاد امیدوار رگھوراج پرتاپ سنگھ عرف راجہ بھیا سماج واری پارٹی کے قریب ہیں اس مرتبہ وہ کنڈا سیٹ سے پھر چناؤ لڑرہے ہیں۔ رائے بریلی ضلع سے امید وار محمد مسلم کے خلاف مارپیٹ بلوا جیسے کئی معاملے درج ہیں۔ سپا میں بھی داغیوں کی کمی نہیں۔ متر سین یادو کو حال ہی میں عدالت سے ایک معاملے میں سزا ہوئی ہے۔ یادو کے بیٹے آنند سین یادو ایک دلت طالبہ سے بدفعلی اورقتل کے معاملے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ سپا نے متر سین کو فیض آبادکی بیکا پور سیٹ سے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ دبنگی ابھے سنگھ بھی فیض آبادکی گوشئی گنج سیٹ سے سپا کے امیدوار ہیں۔ کابینہ وزیر نند گوپال نندی پر حملے کے ملزم وجے مشرا کو سپا نے ٹکٹ دیا ہے۔ وہ بدھوئی سے کھڑے ہوئے ہیں۔گڈو پنڈت اور ونود سنگھ عرف پنڈت سنگھ بھی سپا کے بینر تلے چناؤ لڑرہے ہیں۔ فہرست بہت لمبی ہے کس کس کی کہانی بتائیں۔ چناؤ ہرحال میں جیتنے کی چاہ میں سبھی پارٹیاں یہ نہیں دیکھتیں کہ وہ کس شخص کو ٹکٹ دے رہے ہیں اس کا کردار اور ریکارڈ کیاہے؟ یہی وجہ ہے کہ سیاست میں جرائم کا بول بالا بڑھتا جارہا ہے۔ چناؤ کمیشن کیا کرے۔ جب یہ سیاسی پارٹیاں خود ہی پرہیز نہیں کرتی؟
Anil Narendra, Crime, Criminals, Daily Pratap, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

23 جون 2011

یوپی میں خراب ہوتا قانون و نظم 72 گھنٹوں میں11 وارداتیں

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
23جون 2011 کو شائع
انل نریندر
 اس سال ماہ مئی میں حکمراں بہوجن سماج پارٹی کے دو ممبران اسمبلی کو قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی تو بسپا نے اپنی پیٹھ تھپتھپائی تھی کہ اس نے ریاست میں کرمنل جسٹس کا ریکارڈ درست کرلیا ہے لیکن یہ مثبت ساکھ پچھلے11 دن میں ملیا میٹ ہوگئی۔ 72 گھنٹوں میں گھناؤنے الزامات کی 11 وارداتوں نے بہن جی کی سرکار کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لکھیم پور کھیری ، بارہ بنکی، کنوج میں لڑکیوں کے ساتھ ہوئی آبروریزی و قتل زیاتیوں کے بعد ریاست میں آبروریزی کی چار اور وارداتیں ہوگئیں۔ تازہ واردات میں ایٹہ میں جہاں ایک35 سالہ خاتون کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کا واقعہ رونما ہوا تو وہیں گونڈا، فیروز آباد اور کانپور میں بھی لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔ ایٹہ میں دبنگوں نے اپنی ہوس کا شکار بنی بیوہ کو جلا کر مار ڈالا۔ گونڈا میں تین لڑکوں نے آبروریزی کے بعد نابالغ لڑکی کو مار ڈالا۔ فیروز آباد میں منچلوں نے ایسی ہی ایک نابالغ لڑکی کو نشانہ بنایا۔ کانپور میں نشیلی چیز کھلاکر لڑکی سے دو دن تک ہوٹل میں آبروریزی کرتا رہا ۔بدفعلی اور فروق نگر میں چھیڑ چھاڑ کی مخالفت کرنے پر عورت کو گولی ماردی گئی۔ علیگڑھ میں پولیس حراست میں خاتون سے بد تمیزی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ علیگڑھ میں تو اکبر آباد علاقے میں ایک عورت نے پولیس کانسٹیبل اور اس کے ساتھیوں پر آبروریزی کا الزام لگایا۔ چوری کے الزام میں زیر حراست خاتون نے بتایا کہ پوچھ تاچھ کے بہانے ایتوار کی رات اسے کسی دوسری چوکی لے جاکر اس سے بدفعلی کی گئی۔
بہن جی نے ان معاملوں کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے دو سب سے بھروسے مند افسران کو ڈیمیج کنٹرول میں لگا دیا ہے۔ انفارمیشن سکریٹری پرشانت دویدی اور اسپیشل ڈائریکٹر جنرل پولیس برج لال ہیں۔ دویدی نے بتایا کہ قنوج واردات کے پیچھے سماجوادی پارٹی کے ایک ورکر ہیں۔ قابل ذکر ہے قنوج اکھلیش یادو کے پارلیمانی حلقے میں پڑتا ہے۔ ایٹہ آبروریزی کیس میں برج لال نے ایک ملزم کا نام ملائم سنگھ یادو بتایا ہے۔ دونوں سابق وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو اور ان کے بیٹے اکھلیش یادو نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ برج لال پر جان بوجھ کر انہیں بدنام کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔برج لال نے کہا کہ میں کیا کروں اگر ایک ملزم کا نام ملائم سنگھ یادو ہے۔ اپوزیشن نے قانون و نظم کی بگڑتی صورتحال پر ہنگامہ مچایا۔ چاہے وہ سپا ہو یا کانگریس ہو، چاہے بھاجپا ہو، سبھی نے بسپا سرکار کی ناک میں دم کردیا ہے۔ ریاست میں ہورہی آبروریزی اور عورتوں سے زیادتیوں کے واقعات کو لیکر چوطرفہ گھری یوپی کی وزیر اعلی مایاوتی نے سخت رویہ اختیارکرلیا ہے اور صوبے میں حال میں ہوئے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے بہن جی نے منگلوار کو اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت نے ایسے واقعات پر موثر طریقے سے لگام لگانے کے لئے سی آر پی سی میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے۔
کچھ ضلعوں میں عورتوں اور نابالغ لڑکیوں سے ہوئے آبروریزی اور قتل کے واقعات سے دکھی مایا سرکار نے مستقبل میں ایسے واقعات سے نمٹنے کے لئے سی آرپی سی کی دفعہ437 اور439 میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی اس سیکشن کی ضمانتی دفعہ 354 کو بھی غیر ضمانتی بنانے کا آرڈیننس گورنر کو بھیج دیا ہے۔ قانونی واقف کارو ں کا خیال ہے ریاستی حکومت کو سی آر پی سی میں تبدیلی کا پورا حق ہے کیونکہ اس میں ترمیم کا اختیار مرکز کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومت کو بھی ہے۔ اس ریاست سے متعلق معاملے میں سپریم کورٹ اسی قانون کے تحت سماعت کرتا ہے۔ ترمیم میں ایسی سہولت ہے کہ ملزم کو تب تک ضمانت نہیں مل پائے گی جب تک وہ بے قصور ثابت نہیں ہوجاتا۔ وزیر اعلی نے بتایا کہ ملزم کے خلاف سخت کارروائی کیلئے انہوں نے 27 جون کو ریاستوں کے ضلع مجسٹریٹ، ایس پی، کمشنر ، ڈی آئی جی، آئی جی کی میٹنگ بلائی ہے۔ میٹنگ میں وہ ہدایت دیں گی کہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ اس کے لئے ہر تھانہ علاقے میں بد کردار مطلوب لوگوں کی فہرست تیار کرکے انہیں سدھارنے کا موقعہ دیا جائے گا۔ وزیر اعلی یہ اچھی طرح سمجھ رہی ہیں چناؤ جلد ہونے والے ہیں اور انہیں قانون و نظم درست کرنا ہوگا۔ اپوزیشن ہر موقعہ کا فائدہ اٹھائے گی، چھوٹے سے چھوٹے معاملے کو اچھالا جائے گا۔ اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ بہن جی اپنا گھر درست کریں اور اچانک آئی جرائم کی لہر کو ہر حالت میں روکنا ہوگا۔
Tags: Anil Narendra, Crime, Daily Pratap, Mayawati, Uttar Pradesh, Vir Arjun

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...