Translater

06 جولائی 2013

عشرت کیا لشکر کی آتنکی تھی مارنے کا مقصد کیا تھا؟

عشرت جہاں انکاؤنٹر معاملے میں پورے دیش کی نظریں لگی ہوئیں ہیں۔ اس مڈبھیڑ کے 9 سال بعد احمد آباد کے ایڈیشنل چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ ایچ ایس رٹورڈ کی عدالت میں سی بی آئی نے 179 گواہوں کے بیانات سمیت 1500 سے زیادہ صفحات پر مبنی چارج شیٹ داخل کی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے عشرت جہاں اور اس کے تین ساتھی جاوید شیخ عرف پرنیش پلئی، امجد علی اور امین جوہر کی اغوا کردہ سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل کیا گیا۔سی بی آئی نے 15 جون 2004ء کی صبح ہوئے اس فرضی انکاؤنٹر کے لئے معطل ڈی آئی جی ڈی جی بنجارا سمیت گجرات پولیس کے 7 اعلی افسروں کو اغوا اور قتل کا ملزم بنایا گیا ہے۔ چارج شیٹ میں اس فرضی مڈ بھیڑ کو گجرات پولیس اور سبسڈیری انٹیلی جنس بیورو کی ملی بھگت کا نتیجہ بتایا گیا ہے۔ سی بی آئی کی اس چارج شیٹ کو گجرات کی نریندر مودی سرکار کو پریشانی میں ڈالنے والا مانا جارہا ہے۔ اس کیس کے تین چار اہم پہلو ہیں یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے دیش کی دو بڑی ایجنسیوں آئی بی اور سی بی آئی کو آمنے سامنے کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ معاملہ سیدھے دیش کی سلامتی سے جڑتا ہے۔ اگر آئی بی کی اطلاعات پرجانچ ہونی شروع ہوگئی تو ہمارے پاس خفیہ اطلاعات آجائیں گی کیسے؟ ہمیں اپنے خفیہ اداروں کی اطلاعات پر بھروسہ کرنا ہوگا نہیں تو کام چلانا مشکل ہوجائے گا۔ اس سمت نظریئے سے ہر پولیس والے کا حوصلہ ٹوٹے گا جس کا سیدھا اثر قانون و نظم پر پڑے گا۔ مرکزی سرکار اور وزارت داخلہ یا جس کسی نے بھی اسے سیاسی شکل دینے کی زبردستی کوشش کی ہے اس نے اپنے دیش کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ دوسرا پہلو ہے کہ انکاؤنٹر کیا فرضی تھا؟ ابھی تک موصولہ اطلاعات اور جانچ رپورٹوں و گواہوں کے بیانوں سے لگتا تو یہ ہی ہے کہ انکاؤنٹر فرضی تھا اس میں گجرات پولیس کے سینئر افسر شامل تھے۔ سی بی آئی نے چارج شیٹ میں ساری سازش کا انکشاف کیا ہے۔ اس بات پر بھی ہمیشہ تنازعہ رہا ہے کہ اگر ایک نامی آتنک وادی ہے تو کیا اس کا انکاؤنٹر جائز ہے؟ تیسرا اہم پہلو جو سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے وہ ہے کیا عشرت جہاں آتنک وادی تھی یا نہیں؟ اس کے ساتھی آتنک وادی تھے یا نہیں؟ احمد آباد کی خصوصی عدالت میں دائر چارج شیٹ میں متنازعہ آئی بی افسر راجندر کمار کا نام ملزم کے طور پر شامل نہیں ہے۔ چارج شیٹ کے مطابق راجندر کمار کی فرضی مڈ بھیڑ کی سازش میں رول کی جانچ چل رہی ہے۔چارج شیٹ میں عشرت جہاں اور اس کے ساتھیوں کے آتنک وادی ہونے یا نہ ہونے پر کوئی شبہ نہیں ہے۔ اس پہلی چارج شیٹ میں قتل کے پیچھے مقصد کا ذکر نہیں ہے۔ ساتھ ہی اس میں کسی سیاستداں کا نام بھی شامل نہیں ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ سی بی آئی نے چارج شیٹ میں گجرات پولیس کے ان افسروں کے ساتھ آئی بی کے رول پر بھی سنگین انگلی اٹھائی ہے۔ اس آدھی ادھوری چارج شیٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مارے جانے والے چاروں لوگوں کا آتنک واد سے کوئی تعلق ہے یا نہیں اور نہ یہ بتایا گیا کہ فرضی مڈبھیڑ کا مقصد کیا تھا؟ ہر قتل کے پیچھے پہلا سوال ہوتا ہے مقصد اور یہاں مقصد کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ سی بی آئی نے چارج شیٹ میں ممبئی کے پاس کے علاقے میں رہنے والی عشرت جہاں اور اس کے ساتھیوں کے آتنکی ہونے یا نہ ہونے پر کچھ نہیں کہا ہے۔ سی بی آئی افسر نے صفائی یہ دی تھی کہ ہائی کورٹ نے صرف اسے جانچ کرنے کا حکم دیا ہے۔ مڈبھیڑ فرضی ہے یا اصلی؟ اس دائرے سے آگے جاکر جانچ کرنے کا اختیار اس کے پاس نہیں ہے۔ عشرت جہاں معاملے میں اس سرکار نے ایسا نمونہ پیش کیا ہے جو سیدھے قومی سلامتی کو ٹھیس پہنچانے کیلئے کافی ہے۔ پہلے تو عشرت معاملے میں خطرناک آتنک وادیوں سے مڈ بھیڑ پر تنازعہ کھڑا کرایا، پھر عشرت کے رول پر سوالیہ نشان لگایاگیا، پھر سی بی آئی کی جانچ کو سیاسی فائدے کے لئے ایک ایسی سمت دے دی گئی کہ عشرت کا بیگ گراؤنڈ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اب پوری طرح سے آتنک وادی سرگرمیوں کی جانکاری دینے والے اور آتنکیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے دونوں ایجنسیوں سے متعلق افسر پھنس گئے ہیں۔ عشرت جہاں مڈبھیڑ کے بعد دوسرے آتنکیوں کے خاندان والے انسانی حقوق کمیشن جاتے ہیں اور اسی طرح عشرت کے خاندان والے بھی گئے تھے۔ اس کے بعد ایک مجسٹریٹ نے جانچ کرکے مڈبھیڑ کومتنازعہ بتادیا۔ معاملہ ہائی کورٹ میں گیا اور اس کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی گئی۔ گجرات سرکار نے ہائی کورٹ میں دئے گئے جواب میں کہا عشرت ایک آتنکی تھی اور اس کے ساتھی بھی آتنکی تھے۔ گجرات پولیس کے انٹیلی جنس بیورو نے اطلاع دی تھی کہ وہ لشکر طیبہ کے ہدایت پر نریندر مودی اور لال کرشن اڈوانی کے قتل کی سازش کو انجام دینے والے ہیں۔6 اگست2009ء کو مرکزی وزارت داخلہ نے گجرات سرکار کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں حلف نامہ دائر کیا اور گجرات سرکار مرکزی وزارت داخلہ دونوں ہی اس معاملے کو بند کرنا چاہتے تھے لیکن دو مہینے بعد ہی اس وقت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم نے عشرت معاملے کو سیاسی رنگ دے دیا اور ہائی کورٹ میں دوسرا حلف نامہ دے کر کہا کہ عشرت اور اس کے ساتھیوں کے آتنکی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ سی بی آئی کی جانچ آگے بڑھی تو مرکزی سرکار کو لگا کہ اس میں نریندر مودی ، امت شاہ کو لپیٹا جارسکتا ہے۔ اس کے پیش نظر سی بی آئی کی جانچ کی سمت بدلنی پڑی اور یہ ثابت کرنے میں جٹ گئی کے عشرت اور اس کے ساتھی آتنکی نہیں بلکہ وہ عطر کے تاجر تھے، جنہیں گجرات پولیس نے مار ڈالا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اب سی بی آئی وزارت داخلہ سے ان دستاویزوں کی مانگ کررہی ہے جس میں عشرت و اس کے ساتھیوں کا ذکر ہے۔ دستاویز کے مطابق 15 جون 2004ء کو ایک مڈبھیڑ میں گجرات پولیس کی کرائم برانچ نے جن 4 آتنک وادیوں کو مار گرایا ان کے نام تھے امین جوہر عرف عبدالغنی، امجد علی عرف سلیم، جاوید غلام شیخ عرف پرنیش کمار پلئی، عشرت جہاں ۔مارے گئے لوگوں میں سے دو امین جوہر اور امجد علی پاکستانی شہری تھے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے جموں و کشمیر میں داخل ہوئے اور اودھم پور کے فرضی شناختی کارڈ بنوا لئے۔ امجد علی کو لشکر نے مہاراشٹر و گجرات میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی ذمہ داری سونپی تھی۔ غلام شیخ جو1994 ء دوبئی گیا جہاں اسے لالچ دے کر اس کا مذہب بدلوایا گیا۔ لشکر نے اسے اپنی سرپرستی میں لیا۔ دستاویزی ثبوت اس بات کے بھی ہیں کے لشکر نے جاوید اورعشرت کو ایک ساتھ لیا تھا۔جاوید اور عشرت دونوں میاں بیوی کی طرح دیش کے مختلف مقامات کا دورہ کروایا۔ اپنے دورہ کے دوران یہ لوگ عطر کا تاجر ہونے کا دعوی کرتے تھے اور ان دونوں کے لکھنؤ، فیض آباد، احمد آباد ساتھ ساتھ دورہ کرنے کا ثبوت ہے۔ وزارت داخلہ نے2009ء میں اپنے انہی دستاویزوں کو ثبوت کی بنیاد پر گجرات ہائی کورٹ میں کہا تھا کہ عشرت اور جاوید دونوں لشکر طیبہ کے آتنکی تھے۔ بہرحال مڈبھیڑ کے بعد ہی لاہور سے شائع ’غضبا ٹائمز‘ جو لشکر کا اہم اخبار ہے، نے اس بات کو تسلیم کیا کے عشرت جہاں لشکر کی ورکر تھی جسے ہندوستانی پولیس نے مارگرایا ہے۔ امریکی حکومت نے ڈیوڈ ہیڈلی سے پوچھ تاچھ کے بعد بھارت سرکار کو ایک خط بھیجاتھاجس میں صاف طور سے لکھا تھا کہ عشرت جہاں ایک خاتون سوسائڈ بمبار تھی جسے مجلم نے بھرتی کیا تھا۔ امریکی جانچ ایجنسی ایف بی آئی نے یہ بھی صاف کیا کہ لشکر کے اس دستے کی اسکیم تھی کے سومناتھ مندر ، اکشر دھام اور ونائک مندر پر حملے کئے جائیں۔ وہ سارے ثبوت دستاویزی ہیں لیکن وزارت داخلہ نے اس کے باوجود گجرات ہائی کورٹ میں غلط بیان دیا۔ صرف اس لئے کے جانچ سی بی آئی کو مل جائے اور جانچ کی ساری سمت بدل جائے۔ اب جب سی بی آئی کی جانچ ٹیم مرکزی وزارت داخلہ سے ہی دستاویز مانگ رہی ہے تو وزارت داخلہ کے ہوش اڑ گئے ہیں۔
(انل نریندر)


05 جولائی 2013

الوداع تیجندر کھنہ ،نجیب جنگ کاخیر مقدم!

دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر رہے تیجندر کھنہ جی الوداع اور ان کے جانشین نجیب جنگ صاحب کا خیر مقدم ہے۔ان کی تقرری ہوگئی ہے۔ آزادی کے 66 برس بعد دہلی کے سب سے اعلی ترین عہدے پر دہلی کے ہی کسی بنیادی باشندے کو مقرر کیا گیا ہے۔ نجیب جنگ صاحب کی والدہ آج بھی دریا گنج میں گولچہ سنیما کے پاس رہتی ہیں۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے پر رہتے ہوئے سبکدوش ہوئے تیجندر کھنہ نے 6 سال کے عہد میں کئی اہم فیصلے لئے۔ اپنی صاف گوئی اور کبھی کبھی سرکار کے خلاف فیصلوں کے سبب ان کے کبھی بھی دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت سے اچھے تعلقات نہیں رہے۔ ان کے کئی فیصلے یاد گار بن گئے ہیں۔ جمنا کے سیلاب متاثرہ زون میں تعمیرات پر پابندی لگانا، ناجائز تعمیرات کے خلاف اسپیشل ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ ان کے سخت منتظم ہونے کی علامت بن گیا۔ تیجندر کھنہ نے 9 اپریل2007ء کو اس عہدے کی ذمہ داری سنبھالی اور اب تک کوئی بھی شخص اس عہدے پرلمبی میعاد تک فائض نہیں رہا۔مسٹر تیجندر کھنہ ملنسار تھے اور سب کی بات سنا کرتے تھے اب وہ تو چلے گئے ان کے جانشین نجیب جنگ صاحب سے امید کی جاتی ہے کہ وہ بھی اپنے عہد میں خوش اسلوبی کی مثال پیش کریں۔ دہلی میں چناوی سال میں لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر اور سابق آئی اے ایس افسر نجیب جنگ کا تقرری کا فیصلہ سرکار کا بھلے ہی انتظامی ہو لیکن اس کے سیاسی معنی بھی نکالے جارہے ہیں۔دہلی میں اسمبلی چناؤ کے پیش نظر کانگریس مسلم ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ بات چاہے چناوی حکمت عملی سے جڑی ہو یا آئینی عہدے پر تقرری کی ہو، اقلیتوں کی خوش آمدی صاف طور پر دیکھی جارہی ہے۔ حال ہی میں دہلی پردیش کانگریس کے انچارج کے طور پر مقرر شکیل احمد اور اب دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے پر نجیب جنگ کی تقرری ہے۔ واقف کاروں کی رائے میں پچھلے سال ہوئے میونسپل کارپوریشن چناؤ میں کانگریس کی ہار کے لئے مسلمانوں کی دوری کانگریس کے لئے نقصاندہ ثابت ہوئی ہے اور کانگریس نے اس کو مان بھی لیا ہے۔ دہلی میں70 سیٹوں میں سے قریب آدھا درجن سیٹوں پر مسلمانوں کی آبادی فیصلہ کن ہے۔ مسٹر نجیب جنگ کے سامنے ویسے تو کئی چیلنج ہیں ان میں خاص ہیں دہلی کے ہر کونے میں ایک جیسا ڈولپمنٹ کرانا۔ اس کے لئے مقامی سطح پر پلان بنائے جانے کی اسکیم بنی ہے لیکن ماسٹر پلان کی طرز پر اب دہلی کے 272 وارڈوں میں سے محض33 وارڈوں کو ہی پلان بنانے کے لئے مشیر مقرر ہوسکے ہیں۔ دہلی کے قانون و نظام سیدھے دہلی سرکار کے دائرہ اختیار میں ہونا چاہئے یا نہیں اس پر نئے لیفٹیننٹ گورنر کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ حال ہی میں یہ معاملہ لیفٹیننٹ گورنر سے ہی جڑتا ہے۔ دہلی میں قانون و انتظام بہتر بنانا نجیب جنگ صاحب کی ترجیح ہونی چاہئے۔ عام آدمی سے متعلق معاملوں کی سیدھی سماعت کے لئے نجیب جنگ صاحب کا دربار ہمیشہ کھلا رہنا چاہئے کیونکہ ان کے وزیر اعلی شیلا دیکشت سے اچھے تعلقات ہیں۔ ہمیں نہیں لگتا کے دہلی سرکار اور لیفٹیننٹ گورنر میں کوئی ٹکراؤ کے حالات بنیں۔ نئے لیفٹیننٹ گورنر صاحب کو یہ یادرکھنا چاہئے کہ وہ کسی طبق�ۂ خاص یا پارٹی خاص کے گورنر نہیں ہیں بلکہ پوری دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ہیں۔ ہمیں خوشی ہے نجیب جنگ صاحب نے خود ہی کہا ہے کہ میں صرف مسلمانوں کا نمائندہ نہیں میں سبھی کا نمائندہ ہوں۔
(انل نریندر)

سیلاب سے ہندوستانی فوج کی تیاری بھی اثرانداز ہوئی

کیدارناتھ ٹریجڈی و اتراکھنڈ کی تباہی میں جو بچاؤ کام ہندوستان کی فوج یا ایئر فورس یا آئی ٹی وی پی اور دیگر فوجی فورس نے کیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ہزاروں لوگوں کو اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچایا ہے۔ یہ ہی صحیح معنوں میں بھگوان کے دوت بن کر سامنے آئے ہیں لیکن بدقسمتی تو یہ ہے کہ ہماری فوج بھی تباہی کی زدمیں آگئی۔ اتراکھنڈ کی قدرتی آفت سے چین کی سرحد سے لگے ضلعوں میں ہندوستانی فوج کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ 350 کلو میٹر میں پھیلی سرحد کو جوڑنے والی زیادہ تر سڑکیں جگہ جگہ بہہ گئی ہیں جبکہ زیر تعمیر سڑک پروجیکٹوں کی تکمیل کا نشانہ اگلے 6 برس تک اب پورا ہونا بھی ممکن نہیں رہا۔ اس سے سرحد پر فوج کے پھیلاؤ کے منصوبوں اور ریاست میں آزاد ماؤنٹین بریگیڈ قائم کرنے کی تیاریاں کئی برسوں پیچھے چلی گئی ہیں۔ چین سرحد پر فوجی ڈھانچہ مضبوط کرنے کے لئے فوج لداخ سے لیکر اتراکھنڈ اور سکم کے لئے ایک ماؤنٹین اسٹائک کور قائم کرنا چاہتی ہے۔ اس پروجیکٹ میں اتراکھنڈ ایک اہم کڑی ہے جس میں ایک آزاد ماؤنٹین بریگیڈ تعینات کی جانی ہے۔ اس کے لئے فوج نے ریاست کے پہاڑی علاقوں میں زمین ایکوائر کرنے کی تجویز ریاستی حکومت کو دی ہے جس میں سڑک تنظیم یعنی بی آر او کو 2018ء تک 45 سڑکوں کو بنانے کا نشانہ دیا گیا ہے۔ گنگوتری اور نندا دیوی میں فوج توپ خانے کی تیاری کے لئے فیلڈ فائرنگ رینج بنانا چاہتی ہے لیکن اس خطے میں بھاری بارش سے سارے روابط ٹوٹ گئے ہیں۔ فوج نے 67 جگہوں پر ہیلی پیڈ بنانے کی تجویز دی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف فوجی منصوبوں کے لئے 20 ہزار ایکڑ زمین کی ضرورت ہے۔ فوج خود مان رہی ہے کہ بھاری بارش نے جوشی مٹھ سے لیکر نیتی و مانا کے پاس اترکاشی میں گنگوتری تک سڑکوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ سڑک تنظیم کے پروجیکٹ شیوالک کے تحت ہرشل اور جوشی مٹھ میں دو ٹاسک فورس کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ پروجیکٹ ہیرک کے تحت چنداوت اور ٹکن پور میں زیر تعمیر سڑکیں متاثر ہوئی ہیں۔بھلاری سے باڑا ہوتی مانا گاؤں سے بھیرو وادی سے ناگا سونم کومالا ہوتے ہوئے ٹی چوکلا زیر تعمیر سڑکیں بنی ہیں جبکہ مانا کے پاس 56 کلو میٹر سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹ گئی ہے۔ فارچولا میں چین سرحد لپولیک تک زیرتعمیر 65 کلو میٹر سڑک راستے کو نقصان ہوا ہے۔ گنجی سے کٹی تک18 کلو میٹر سڑک نہیں ہے۔منرچاری سیملے کے بیچ65 کلو میٹر سڑک راستہ تباہ ہوگیا ہے۔ وہاں دھارچو سے گنگوتری تک 10 جگہ سے سڑک ٹوٹی ہوئی ہے۔ اس حادثے میں جو بڑی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں ان میں گپت کاشی سے کالی مٹھ موٹرمارگ، گپت کاشی سے ممالی موٹر مارگ اور گپت کاشی سے گوری کنڈ مارگ اور ردرپریاگ مارگ، گپت کاشی سے اکھی مٹھ موٹر مارگ ہے۔ سون پریاگ کا پل ،گپت کاشی اور اکھی مٹھ کو جوڑنے والی ریل لائن اور ودیا پیٹھ کا پل ، کانگڑا گڑھ کا پل، یوٹی ، چندرا پوری اور اگستمنی و تلواڑہ پل قابل ذکر ہیں جو اس تباہی سے آئے سیلاب میں ٹوٹ گئے ہیں یابہہ گئے۔
(انل نریندر)

04 جولائی 2013

باڑھ لے گئی پروہتوں کی چھٹی پیڑھی پرانی کھیتی! پوجا ارچنا پربھڑے سنت

کیداناتھ وادی میں آیا سیلاب تو گذر گیا لیکن پیچھے چھوڑ گیا ایسی تباہی جس کو بھرنے کے لئے پتہ نہیں کتنے برس لگ جائیں گے۔ بھجن کیرتن اور دیو ارادھنا سے گل گلزار رہنے والی اس وادی میں سناٹا چھا گیا ہے اور یہ شمشان بن چکی ہے۔ نہ گھنٹے نہ گھڑیال بج رہے ہیں اور نہ ہی سنائی دے رہا ہے کوئی شلوک۔ اگر کہیں سے آواز آرہی ہے تو وہ کراہٹوں اور بے چینی کی۔ اس سیلاب نے نہ صرف کیداروادی کو تباہ کیا بلکہ یہاں رہنے والے مقامی لوگوں کی روزی روٹی بھی تباہ ہوگئی ۔ان کی دوکان اور ہوٹل سب برباد ہوچکے ہیں۔ گھوڑے، خچر بھی بہہ چکے ہیں۔ یاترا سیزن ٹھپ ہونے سے اب پنڈتائی کا کام بھی ٹھپ ہوگیا ہے۔ سال بھر کے لئے خاندان کے گذر بسر پر اب پریشانی دکھائی دینے لگی ہے۔ اتراکھنڈ میں مچی تباہی کے گواہ کئی لوگ بنے ہیں۔ انہی میں سے ایک ہیں کیدارناتھ کے تیرتھ پروہت پنڈت وشنو کانت ۔ ان کی زندگی تو حادثے میں بچ گئی لیکن باقی سب کچھ ختم ہوگیا۔ ان کی ساری کھیتی باڑھ میں بہہ گئی۔ تیرتھ پروہت کی زبان میں کھیتی اس بہی کھاتے کو کہتے ہیں جو ان کے حصے میں آتی ہے۔ یہ بہی کھاتہ کیدارناتھ آنے والے سبھی شردھالوؤں کو ڈاٹا رکھتا ہے۔ وشنو کانت کہتے ہیں کہ انہیں اس بات کا زندگی بھر افسوس رہے گا کے انہوں نے اپنی زندگی تو بچا لی لیکن اپنی کھیتی نہیں بچا سکے۔ ان بہی کھاتوں میں شردھالوؤں کی چھ پیڑھی پرانی تفصیلات درج تھیں۔ یہ تفصیلات ان کے بزرگوں نے تیار کی تھیں۔ اگر کسی کے بزرگ کیدارناتھ پہلے آئے ہوں گے تو ان بہی کھاتوں میں ان کا نام ضرور درج رہا ہوگا۔ ان بہی کھاتوں میں آنے والے کا نام پتہ سب کچھ درج ہوتا ہے۔ پہلے کیدارناتھ میں 307 کنبے تھے یعنی 307 پروہت۔پھر ان کے بچوں کے درمیان بٹوارہ ہوا اور اب یہاں 600 سے زیادہ پروہت ہیں۔ وشنو بتاتے ہیں کہ ایک پروہت کے پاس تقریباً 10 سے12 کلو کے بہی کھاتے ہوتے ہیں۔ یہ پر وہت سال میں چھ مہینے کیدارناتھ میں رہتے ہیں۔14 مئی کو مندر کے کپاٹ کھلتے ہیں ۔سبھی پروہت اپنی کھیتی کے ساتھ یہاں آئی قدرتی آفت میں جان مال کے بھاری نقصان کے ساتھ ساتھ کھیتی کا بھی ایسا نقصان ہوا جس کی بھرپائی نہیں ہوسکتی۔ پروہتوں کی بات سے بات اٹھی کے اکھی مٹھ میں بابا کیدار کی پوجا پر واویلا کھڑا ہوگیا ہے۔ شاردا اور جیوتی پیٹھادھیشور جگت گورو شنکرآچاریہ، سوامی سروپ آنند سرسوتی نے وزیر اعلی اترا کھنڈ سے کیدارناتھ جانے کی اجازت مانگی ہے۔ انہوں نے اکھی مٹھ میں شروع کی گئی بھگوان شنکر کی پوجا کی مخالفت کی ہے۔ جگت گورو شنکر آچاریہ نے حال ہی میں کنکھل میں واقع مٹھ میں اکھاڑوں اور آشرموں کی سنتوں کی میٹنگ بلائی ہے۔ اس کو جگت گورو رامانند آچاریہ ،ہنس دیو آچاریہ نے بھی پوری حمایت کی ہے۔ میٹنگ میں ان کے سنتوں نے حصہ لیا۔ میٹنگ کے بعد شنکرآچاریہ نے بتایا کے کیدارناتھ مندر کی صفائی سادھو سنتوں کے ذریعے ہونی چاہئے۔ وہ اپنے نمائندوں کے ساتھ سنتوں کے ایک نمائندے کو صفائی کا کام پورا کر پوجا ارچنا کے لئے کیدارناتھ بھیجیں گے۔ سارا جھگڑا اکھی مٹھ کے اوکیشور مندر میں بھگوان کیدار کی پوجا شروع ہونے سے ہوا۔ بدری ناتھ کیدارناتھ مندر سمیتی کے سابق پردھان انوسوچا پرساد بھٹ نے بتایا کہ کیدارناتھ میں خودساختہ بھولے ناتھ ہیں۔ یہاں کی پوجا اومکیشور مندر میں کیسے ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا موجودہ حالات میں پردھان گنیش گووندیال کے دشرتھ کے گربھ گرہ میں فوٹو کھنچواکر کروڑوں روپے شردھالوؤں سے کروڑوں روپے اکٹھے کرکے آستھا کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔ ادھر کیدارناتھ کے راول یعنی (بڑے پجاری)بھیماشنکر لنک کے مطابق قدرتی آفت کے بعد کیدارناتھ مندر اشدھ ہوگیا اور اب جب تک اس کا شدھی کرن نہیں ہوتا تب تک وہاں پوجا نہیں جاسکتی۔ شاستروں کے مطابق پوجا کا سلسلہ نہیں ٹوٹنا چاہئے اسی بات سے شنکرآچاریہ سوامی سروپانند خفا ہیں اور ان کا دو ٹوک کہنا ہے کہ کپاٹ کھلنے کے بعد راول کو کسی بھی حالت میں مندر نہیں چھوڑنا چاہئے تھا۔ اس پر راول بھیما شنکر لنک کا کہنا ہے کہ سروپانند کو کیدارناتھ کی پوجا ارچنا اور روایت کا علم نہیں ہے۔ کیدارناتھ میں راول گورو گڑھی میں براجمان رہتے ہیں اور راول کے پانچ چیلوں میں سے ایک کیدارناتھ میں پوجا کرتے آئے ہیں۔پوجا و انتظام کو لیکر شنکرآچاریہ سروپانند کے بیان کو بے تکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتی عمر کے ساتھ وہ بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بیان بازی کررہے ہیں۔ایتوار کو ہری دوار میں شنکر آچاریہ سوامی سروپانند کی سربراہی میں ہوئی سنتوں کی میٹنگ میں راول کو ہرانے کے ساتھ مندر کمیٹی کے پردھان بھی سنتوں کے بیچ تال میل بنانے کی مانگ کی تجویز پاس کی گئی۔ راول نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ کیدارناتھ کے 324 ویں راول ہیں انہیں مندر کمیٹی اور انہیں برخاست کرنے کا مطالبہ بے جواز ہے۔ جب تک مندر کی صفائی اور اس کا شدھی کرن نہیں ہوجاتا وہاں پوجا ممکن نہیں ہے۔ سنتوں نے کیدارناتھ میں لاشوں کا انتم سنسکار ہندو ریتی رواج کے ساتھ کرانے کی مانگ کی ہے۔ کیمیکل سے کوئی متفق نہیں ہے۔ ایتوار کو کیدارناتھ سے لوٹے تین ڈاکٹروں نے علاقے میں تمام کاموں کو بند کرنے کی تجویز پیش کرکے حالات کی بنیادی حقیقت سے سرکار کو واقف کرادیا۔ گذشتہ ایک ہفتے میں محض36 لاشوں کا دہاسنسکار کیا گیا۔ ماہرین کی تجویز ہے لاشوں کو ایک جگہ اکٹھا کرکے کیمیکل ڈال کر گلا دینا واحد ایک قدم ہے۔ ڈی این اے سیمپل لینے کے لئے گئے تینوں ڈاکٹر وہاں سے بیمار ہوکر لوٹے ہیں۔ حالات کی نزاکت کا اندازہ وزیر اعلی کے اس بیان سے بھی ہوجاتا ہے کہ مرنے والوں کی اصلی تعداد ملنا مشکل ہے۔ ابھی تک کیدارناتھ کے علاوہ گوری کنڈ، رام باڑہ، جنگل بھٹی وغیرہ میں پڑی لاشوں کی گنتی تک نہیں ہوپائی۔انفکشن کے اندیشے کو دیکھتے ہوئے موسم محکمے کی تازہ بارش کی وارننگ سے لاشوں کو فوراً ٹھکانے لگانا ضروری ہوگیا ہے۔ محکمہ صحت کے ڈائریکٹریٹ میں تعینات جوائنٹ ڈائریکٹر و پبلک ہیلتھ ماہرین ڈاکٹر کیلاش جوشی نے بتایا کہ تیزاب ایک واحد راستہ ہے جس سے آسانی سے لاشوں کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ کیدارناتھ گھاٹی میں ابھی بھی بہت سے کام بچے ہوئے ہیں اب ساری توجہ وادی میں لگنی چاہئے۔ لاشوں کو ہٹانا ان کا انتم سنسکار کرنا ، مندر کمپلیکس کی صفائی کرنا اور اس کا شدھی کرن کرنا ، وہاں پوجا ارچنا پھر سے شروع کرنا، یہ سب کام جلدی ہونا چاہئیں۔ اگر پھر سے تیز بارش آتی ہے تو یہ کام اور بھی مشکل ہوجائے گا۔ جنگی پیمانے پر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر ہر مہا دیو۔
(انل نریندر)

03 جولائی 2013

اس تباہ کن ٹریجڈی کیلئے ذمہ دار کون؟ جانچ کرنا ضروری ہے

لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے اتراکھنڈ سرکار پر جم کر ہلا بولا ہے۔ انہوں نے تو وزیراعلی وجے بہوگنا کی حکومت کو برخاست کرنے کی مانگ کرڈالی ہے۔ برخاست تو کیا کروگے لیکن اتنا ضرور ہے کہ اتراکھنڈ ٹریجڈی سے سبق لینا جتنا ضروری ہے اس کے ذمہ دار لوگوں کو سبق سکھانا بھی ضروری ہے۔ اس حادثے کو قدرتی آفت کہہ کر پلہ جھاڑنے والوں سے حساب نہیں لیں گے تو دیش ان ہزاروں بدقسمتوں کا گنہگار بن کر رہ جائے گا جو ایک سنگین اور ناکام سسٹم کا شکاربن کر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اتراکھنڈ میں آئی تباہی کے بعد ریاستی حکومت سمیت موسم محکمہ اور قومی آفت ، کارروائی یعنی این ڈی آر اپنی اپنی صفائی پیش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ریاست کے محکمہ موسمیات کا دعوی ہے کہ ٹریجڈی کے دو دن پہلے سے تمام سرکاری محکموں کو امکانی آفت کو لیکر آگاہ کرنا شروع کردیا تھا اور کہا گیا تھا کہ چار دھام یاترا کو فوراً روک دیا جائے۔ اس آگاہی میں دو ٹوک کہا گیا تھا کہ جو تیرتھ یاتری پہنچ چکے ہیں انہیں فوراً محفوظ مقامات پر پہنچایا جائے۔ محکمہ موسمیات کی یہ آگاہی ریاست کے چیف سکریٹری سے لیکر تمام اعلی حکام کو پہلے ہی دے دی گئی تھی۔ یہاں تک کہ دہلی میں واقع محکمہ موسمیات کے ہیڈ کوارٹر تک یہ اطلاعات بھیجی جارہی تھیں لیکن نہ تو ریاستی حکومت اور نہ ہی مرکزی حکومت کی نیند کھلی۔ اتنا بھی نہیں ہوا کے جب16 جون کو بارش شروع ہوئی تو رشی کیش میں اوپر جانے والے مسافروں کو روک لیا جائے۔ ماتا ویشنو دیوی بھکت بتا سکتے ہیں کہ جب عمارت میں زیادہ بھیڑ ہوجائے تو مسافروں کو کچھ دن کٹرا میں رکنا پڑتا ہے اور جب کٹرا فل ہوجاتا ہے تو جموں میں ہیں روک لیا جاتا ہے اور آگے نہیں جانے دیا جاتا۔ اگر رشی کیش میں ہی مسافروں کو آگے بڑھنے سے روک دیا جاتا تو مرنے والے یا لاپتہ ہونے والے لوگوں کی تعداد اتنی نہ ہوتی۔ یہ سراسر لاپرواہی کا معاملہ ہے۔ آج محکمہ موسمیات کے چیف سکریٹری کا مذاق اڑ رہا ہے جب وہ یہ کہتے ہیں ایسی وارننگ برسوں سے دیکھی اور سنی جارہی ہے۔ یہ ہی نہیں کاش امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے 25 دن پہلے جاری کی گئی سیٹیلائٹ تصاویر سے ملے اشاروں کو بھانپ لیا جاتا تو کیدارناتھ وادی میں مچی تباہی سے شاید بچا جاسکتا تھا۔ناسا نے جو تصاویر جاری کی ہیں ان سے صاف ہورہا ہے کہ کس طرح کیدارناتھ کے اوپر موجود چوراباری کمپین گلیشیئر کی کچی برف معمول سے زیادہ مقدار میں پانی بن کر رسنے لگی ہے لیکن ہندوستانی سائنسداں یہ ناپنے میں ناکام رہے ہیں کے تیزی سے پگھل رہی گلیشیئر ایسی خوفناک تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ وارننگ کے ملنے بعدقدم اٹھانے کی بات تو دور رہی مسافروں کو ہوشیار کرنے کی کوئی کوشش بھی نہیں کی گئی۔ ریاست کی انتظامیہ سے یہ کون پوچھے گا کہ ایسی بربادی اور ہزاروں اموات کی ذمہ داری ان پر کتنی بنتی ہے؟ مقامی پولیس اور انتظامیہ کے کچھ افسران نے بیشک اپنے سطح پر مسافروں کو بچانے کی کوشش کی ہے گوری کنڈ کے چوکی انچارج ہیمراج راوت نے وقت رہتے خطرے کو بھانپ لیا اور اپنے افسروں کو لگاتار آگاہ کرتے ہوئے کچھ نہ بنا تو خود لاؤڈاسپیکر لیکر مسافروں کو آگاہ کرنے میں لگ گئے لیکن حکومت نے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ ہی مسافروں سے جیب بھر رہے ہوٹل اور دھرمشالاؤں نے ان کی سنی۔ اس کا نتیجہ کتنا خوفناک سامنے آیا وہ بہت تکلیف دہ تھا۔ یہ تو کیدارناتھ مندر میں بھرے 8-10 فٹ کے ملبے کو ہٹانے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ ردرپریاگ کے ضلع انتظامیہ نے کیدار وادی میں بکھری پڑی لاشوں کی حفاظت اور تباہی کو دیکھتے ہوئے لوگوں کے گوری کنڈ سے آگے جانے پر روک لگا دی ہے۔ 13 دن گذر جانے کے بعد بھی ان لاشوں کو نہ اٹھائے جانے سے وادی میں وبا جیسے حالات پائے جاتے ہیں ۔ موجودہ ٹریجڈی بھارت کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے۔ 1993ء میں لاتور زلزلے میں 20 ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔ 2001ء میں گجرات میں آئے زلزلے میں 30 ہزارلوگوں کی موت ہوئی تھی اور 1 لاکھ67 ہزار لوگ زخمی ہوئے تھے۔ 2004ء میں آئی سونامی میں 10 ہزار لوگ مارے گئے تھے لیکن کیدارناتھ ٹریجڈی میں کتنے لوگ مرے اس کا شاید کبھی پتہ چلے لیکن اتنا ضرور ہے یہ تعداد ہزاروں میں ہوگی۔ نقصان کا تو اندازہ نہیں لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس تباہی کو لیکر ابھی تک اتراکھنڈ حکومت نے کسی طرح کی جانچ کا اعلان نہیں کیا ہے۔ جانچ ہونے پر یہ بات سامنے آئے گی کے اس ٹریجڈی کی خاص وجہیں کیا رہیں؟انتظامیہ سے کہاں چوک ہوئی اور مستقبل میں اس سے کیا سبق سیکھا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

ابو سالم پر قاتلانہ حملہ: پیچھے کون اور کیوں؟

نویں ممبئی کے پاس تلوجا سینٹرل جیل میں بند مافیا ڈان ابوسالم پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔ ابو سالم ممبئی کے 1993 کے بم دھماکوں کا ملزم ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس پر حملہ ایک قیدی نے کیا ہے۔ اس کا نام جگتاپ بتایا جاتا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ابو سالم پر فائرننگ کی گئی اور گولی اس کے ہاتھ میں لگی۔ ابوسالم کی وکیل صبا قریشی نے بتایا کہ انہوں نے20 دن پہلے تلوجا جیل کے جیلرکو سالم پر امکانی حملے کے بارے میں آگاہ کیا تھا لیکن پھر بھی اس کی سکیورٹی نہیں بڑھائی گئی۔ سالم بھارت کی جیلوں میں محفوظ نہیں ہے اس لئے اسے پرتگال منتقل کیا جائے۔ آرتھر روڈ جیل میں2010ء میں ہوئے حملے کے دوران انہوں نے جیل حکام سے مل کر ابو سالم کو سخت حفاظت دینے کی مانگ کی تھی۔ اس وقت داؤد ابراہیم کے گرگے مصطفی دوسا نے سالم پر دھاردار ہتھیار سے حملہ کیا تھا۔ اسی کے بعد سالم کو سینٹرل جیل تلوجا میں شفٹ کیا گیا۔ عام خیال یہ ہے کہ انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم نے ابوسالم پر حملہ کروایا ہے۔ داؤد کا سپہ سالار چھوٹے شکیل نے کچھ میڈیا ہاؤس کو فون کرکے فائرننگ کے واقعے کی ذمہ داری لی ہے۔ ابو سالم شروعات میں ڈی کمپنی کے لئے کام کرتا تھا لیکن ٹی سیریز کیسٹ کنگ گلشن کمار قتل کے بعد وہ داؤد سے الگ ہوگیا تھا اور اپنا الگ سے گینگ بنا لیا تھا۔ جیل کے حکام نے بتایا کہ جگتاپ نے سالم پر دو گولیاں داغیں ۔ ایک پاس سے نکل گئی اور دوسری سالم کے ہاتھ میں لگی۔ کیونکہ قیدی دویندر جگتاپ نے دیسی کٹے سے فائرننگ کی تھی ،تیسری بار گولی چلانے کے وقت کٹا جام ہوگیا۔ جگتاپ کے وکیل شاہد اعظمی کے قتل میں بھی جیل کے ہی کسی قیدی کا ہاتھ رہا ہے۔ سالم پر فائرننگ کرنے والا دویندر جگتاپ عرف نیڈی بھارت نیپالی گینگ کا ممبر ہے۔ اس سازش کو انجام دینے کے لئے تلوجا جیل میں ایک مہینے پہلے ہی چپ چاپ طریقے سے ریوالور پہنچا دی گئی۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جگتاپ کو گینگ کے دیگر ممبر منوج لگانے سے ریوالور تب خریدی تھی جب جگتاپ عدالت میں حاضری دینے گیا تھا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جگتاپ کو ریوالور جنم دن کے کیک کے اندر چھپا کر دی گئی تھی۔ ابوسالم پر حملے کے معاملے میں تلوجا کے جیلر سنجے سابلے اور تین کانسٹیبلوں کو معطل کردیا گیا ہے۔ ان میں ڈیوٹی کے وقت لاپروائی برتنے کا الزام ہے۔1993ء کے ممبئی سیریل دھماکوں کے ملزم ابوسالم کو 11 نومبر2005ء کو پرتگال سے منتقل کرکے لایا گیا تھا۔ سالم پر تازہ حملے سے ایک بات تو یہ صاف ہوتی ہے کہ مافیا سرغنہ جیل میں نئے نئے گرگوں کی بھرتی کر اپنا کام بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں۔سرغنہ کا حکم ملتے ہی گرگے جیل کے اندر اپنے دشمنوں پر حملہ کرنے سے نہیں چوکتے۔ سالم پر پہلا حملہ بھی آرتھر روڈ جیل میں داؤد ابراہیم کے ساتھی مصطفی دوسا نے کیا ۔ ایک انگریزی اخبار سے بات چیت میں چھوٹا شکیل نے کہا کہ سالم بھائی (داؤد) کادشمن ہے اور چھوٹا راجن سے مل گیا ہے اس لئے ہم اسے مروانا چاہتے ہیں۔ شکیل نے دعوی کیا کہ اس مرتبہ وہ پھر بچ گیا لیکن کب تک بچے گا، اگلی بار سالم نہیں بچے گا۔
(انل نریندر)

02 جولائی 2013

کیا سرکار پنجرے میں بند ’طوطے‘ سی بی آئی کوکبھی آزاد کرے گی؟

حالانکہ سپریم کورٹ کی سخت جھاڑ کے بعد یوپی اے حکومت نے سی بی آئی کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے کی بات تو کی ہے لیکن کیا واقعی سرکاری پنجرے میں بند سی بی آئی آزاد ہوسکے گی؟ یہ چند دنوں میں سپریم کورٹ کے سامنے وہ رپورٹ رکھی جانی ہے جس میں اس نامور تفتیشی ایجنسی کو سرکار خاص کر سیاسی مداخلت سے آزادکرنے کی نکات پر بحث ہورہی ہے، سرکار کی سفارشیں بہت زیادہ مطمئن نہیں کرتیں اسی بنیاد پر سرکار کو سپریم کورٹ میں حلف نامہ دینا ہے اور اس پر سماعت کے بعد تصویر پوری طرح صاف ہوسکے گی۔ حکومت کی جانب سے سی بی آئی کو آزاد بنانے کے لئے جو اہم تجاویز سامنے آئی ہیں ان کے مطابق وزیر اعظم ، لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر اور دیش کے چیف جسٹس کا کولیجیم سی بی آئی ڈائریکٹرکی تقرری کرے۔ اس کے کام کاج پرریٹائرڈ ججوں کا پینل نگرانی رکھے اور مالی فیصلے لینے میں وزارت پرسنل پر اس کا انحصار کم کیا جائے۔ بیشک یہ تشریح پہلے سے بہتر ہوگی کیونکہ حکومت یا حکمراں پارٹی اب اپنا من پسند امیدوار اس اہم ترین کرسی پر نہیں تھونپ سکیں گے۔ جانچ کاموں میں نگرانی رکھنے کے لئے پہلی بار ریٹائرڈ ججوں کی تین ممبری کمیٹی بنانے کی اچھی تجویز ہے۔ وہ ایجنسی پر باہری خاص کر سیاسی مداخلت کا سایا کم کرے گی۔ اس تجویز میں حالانکہ ایک پینچ ضرور دکھائی پڑ رہا ہے۔ سی بی آئی جب کورٹ کے حکم کے تحت کوئی جانچ چلاتی ہے تب اس کی رپورٹ صرف متعلقہ عدالت کے سامنے ہی رکھی جاتی ہے۔ ایسے میں یہ کمیٹی کیسے اپنی ذمہ داری نبھاتی ہے یہ دیکھنے کی بات ہوگی۔ ایک طرف بات اتنے بھر سے سی بی آئی کا سرکار پر انحصار ختم نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کا مقدمہ چلانے والی برانچ تو قانون وزارت کے ماتحت کام کرتی ہے۔ ابھی یہ حالت ہے کہ سی بی آئی کے ڈائریکٹر کی تقرری سے لیکر ، مالی ضرورتوں اور مقدمات سے وابستہ کارروائی تک میں سرکار کی سیدھی مداخلت ہوتی ہے۔ کہنے کو سی بی آئی جن معاملوں میں جانچ کررہی ہے اس سے متعلق پیشرفت رپورٹ وہ صرف عدالت کو ہی دے سکتی ہے لیکن کول بلاک الاٹمنٹ کے معاملے میں دیکھا جاچکا ہے کہ اس جانچ ایجنسی کے کام کاج میں جس طرح دخل اندازی کی گئی ہے یہ بات بڑی عدالت کے نوٹس میں آنے اور اس کے ہدایت دینے کے بعدہی سرکار کی طرف سے سی بی آئی کو آزاد کرنے کی پہل کی گئی ہے۔ بھاجپا ترجمان سدھانشو چترویدی نے کہا ہمارا خیال ہے کہ سرکار کے ذریعے سی بی آئی کو آزادی دینے کی کوشش دیر سے بھی ہے اور درست بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیبنٹ کے ذریعے منظور تجاویز سے صاف ہے کہ ایک بار پھر سی بی آئی کو اصلی آزادی دینے کا مقصد پورا ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ سدھانشو نے کہا مجوزہ خاکے میں سی بی آئی کے حکام کی تقرری کا براہ راست اختیار اپنے پاس رکھنے جارہی ہے۔ اعلی ترین حکام و وزرا کے خلاف جانچ میں سی بی آئی کو اصلی آزادی دئے جانے کا امکان نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ یوپی اے ہی نہیں پورے سیاسی طبقے کی منشا صاف ہوتی تو سی بی آئی کی آج یہ حالت نہ ہوتی۔ سرکار پر اس کے سیاسی استعمال کے الزام لگتے ہیں تو اس کی وجہ بھی دکھائی دیتی ہیں مثلاً یوپی اے کو باہر سے حمایت دے رہے سپاچیف ملائم سنگھ یادو نے تو کھلے طور پر الزام لگایا ہے کہ سرکار سی بی آئی کے ذریعے ان پر دباؤ بناتی ہے۔ اگر حقیقت یہ ہے کے اپوزیشن بھی سی بی آئی کے بہانے سیاسی حملے کرنے میں پیچھے نہیں رہتی۔ جانچ کاموں میں قانون وزارت کی مداخلت سی بی آئی کے آگے ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ مقدمہ چلانے یا اس کی سمت طے کرنے سے لیکر بچاؤ فریق کی رہنمائی کون کرے گا جیسے حساس معاملوں میں قانون وزارت کیا ہتھوڑا چلا سکتی ہے ، سی بی آئی پر کنٹرول کا یہ سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ سی بی آئی کی ایک بڑی مجبوری یہ بھی ہے کہ اسے اپنے طریق�ۂ کار کی بنیاد پر حکام سے کام لینے پڑتے ہیں۔ سی بی آئی میں کام کرنے والے زیادہ تر افسر مختلف ریاستوں سے ڈیپوٹیشن پر آتے ہیں اور ایک محدود میعاد تک کام کرکے واپس لوٹ جاتے ہیں ایسے میں ان حکام پر سیاستداں اور افسر شاہ دباؤ بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس سلسلے میں سی بی آئی کیڈر کے افسران میں سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے اور الزام لگایا ہے کہ پارلیمانی کمیٹیوں کی سفارش کے باوجود سرکار جان بوجھ کر دیش کی اس نامور سراغ رساں ایجنسی کا اپنا کیڈر نہیں بننے دیتی۔ الزام یہ بھی ہے کہ پچھلے15 برسوں میں یو پی ایس سی کے ذریعے بھی ایک افسر کی تقرری سی بی آئی کیڈر میں نہیں ہوئی ہے۔ سی بی آئی کو سیاسی دباؤ سے آزادکرنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے بھی چناؤ کمیشن یا سی اے جی کی طرح پوری طرح سے مختار بنایا جائے۔ اس کے لئے ایک وسیع سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے جو فی الحال دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
 (انل نریندر)

پردیش کانگریس کی نئی ٹیم میں راہل نے جے پی کا قد بڑھایا

کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے پچھلے دنوں کانگریس تنظیم میں وسیع سطح پر کئی تبدیلیاں کی ہیں۔ کئی جنرل سکریٹریوں کی ذمہ داری بدلی گئی ہے، کئی ریاستوں کی پردیش کمیٹیاں بدلی گئی ہیں، پردھان بدلے گئے ہیں ان میں قابل ذکر ہے دہلی پردیش کی نئی ٹیم۔ اس میں راہل گاندھی کی چھاپ صاف دکھائی پڑتی ہے۔ پچھلے6 سال سے پرانی ٹیم کو برداشت کررہے پردیش پردھان جے پرکاش اگروال کی آخر ہائی کمان نے سن لی ہے۔ جمعہ کو کانگریس ہیڈ کوارٹر سے جاری لسٹ میں جے پرکاش اگروال کی ہی زیادہ چلی۔اگروال کو ہی مینی فیسٹو اور پبلسٹی کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا ہے۔ اس سے یہ بات پوری طرح صاف ہوگئی ہے کے اب نومبر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات جے پی کی رہنمائی میں ہیں لڑے جائیں گے۔ وزیر اعلی شیلا دیکشت کو دونوں کمیٹیوں میں مہمان ممبر بنایا گیا ہے۔ کمیٹیوں میں جے پرکاش اگروال کے لوگوں کو زیادہ ترجیح دے کر کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے ان کا قد اور بھی بڑھا دیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس ٹیم کے خاص مدعو ممبران میں سرکار کے وزرا کو جگہ نہیں دی گئی ہے۔ ٹیم میں پوری تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ قریب90 فیصدی عہدیداران کو بدل دیا گیا ہے۔ 68 ممبروں والی اس ٹیم میں بھاری ردوبدل ہوئی ہے اور برسوں سے کسی نہ کسی جگہ بنائے رکھنے والے کاغذی لیڈروں کو اس بار باہر کا راستہ دکھایا گیا ہے۔ پردیش کانگریس کی پرانی ٹیم کو پردیش پردھان جے پرکاش اگروال پچھلے6 برسوں سے دیکھ رہے تھے۔6 سال پہلے اس وقت کے پردھان رام بابو شرما نے اس ٹیم کو بنایا تھا اور جے پی چاہتے ہوئے بھی اس ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کرپائے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ٹیم کو لیکرہمیشہ جے پی اور وزیراعلی میں ٹھنی رہتی تھی جس کے بعد ہائی کمان نے ان میں کوئی تبدیلی کرنے کی اجازت پردھان کو نہیں دی تھی۔ آخر 6 سال بعد جب اس کی اجازت ملی تو جے پی کی پوری بات سنی گئی۔ خاص بات یہ رہی کہ ٹیم میں12 نئے اپ پردھان میں سے ایک کو بھی رپیٹ نہیں کیا گیا۔ دہلی کے زیادہ تر بڑے ناموں کو کانگریس ورکنگ کمیٹی میں مستقل مدعو کے طور پر رکھا گیا ہے۔ ان میں شیلا دیکشت کے ساتھ ساتھ تاجدار بابر، چودھری پریم سنگھ ، یوگانند شاستری، سبھاش چوپڑہ، سجن کمار ،جگدیش ٹائٹلر کو بھی لیا گیا ہے۔ دہلی کے سبھی ممبران پارلیمنٹ کپل سبل، سندیپ دیکشت، اجے ماکن، کرشنا تیرتھ، مہابل مشرا، رمیش کمار، کرن سنگھ، جناردن دویدی اور پرویز ہاشمی کو بھی رکھا گیا ہے ۔ اس تبدیلی کو بھی زیادہ تر ایم ایل اے کو باہر رکھا گیا ہے۔ اس کے پیچھے وجہ بتائی جارہی ہے کہ موجودہ ممبران اسمبلی کو کیونکہ چناؤ لڑنا ہے اس لئے انہیں ان ذمہ داریوں سے دور رکھا گیا ہے۔ حالانکہ اس لسٹ میں کچھ نام ایسے بھی ہیں جو پہلی بار سن رہے ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ پارٹی کے نوجوان لیڈر راہل گاندھی پردیش ٹیم کو لیکر کافی سنجیدہ دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے صاف ہدایت دی تھی کہ ٹیم میں رکار کے وزرا اور ممبران اسمبلی کو شامل کرنے کے بجائے بنیاد سے جڑے نیتاؤں کو ترجیح دی جائے اور شیلا بی جے پی کے بیچ صلاح کرنے کے لئے انہوں نے کئی میٹنگیں کیں اور دونوں کو ہدایت بھی دی تھی کہ تنظیم کی مضبوطی کے لئے دونوں ایک ساتھ اسٹیج پر آجائیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ جمعہ کو کانگریس کی نئی ورکنگ کمیٹی کی لسٹ جاری ہوگئی۔

 (انل نریندر)

30 جون 2013

کیا دھاری دیوی کی مورتی ہٹانا اتراکھنڈ کی بڑی تباہی کا سبب بنا؟

اسے کچھ ماڈرن خیال لوگ دقیانوسی کہہ سکتے ہیں کچھ کہیں کہ یہ ایک محض اتفاق ہے لیکن اتراکھنڈ بھی خاص کر شری نگر اور آس پاس کے لوگ اتراکھنڈ آئی قدرتی آفات کو ماتا دھاری دیوی کو ہٹانے کا نتیجہ ہے گڑھ وال کے باشندوں کاکہنا ہے ہے ماتا دھاری دیوی کے قہر سے یہ بڑی تباہی ہوئی ۔ مہا کالی کا روپ مانی جانے والی دھاری دیوی کی مورتی کو 16جون کی شام ان کے قدیم مندر سے ہٹائی گئی تھی اتراکھنڈ کے شری نگر میں ہائیڈر پاور پروجیکٹ کے لئے ایسا کیاگیا تھا لوگوں کاخیال ہے کہ پچھلے آٹھ سو برسوں سے دھاری دیوی الگنندہ کے درمیان بیٹھ کر ندی کی دھار کو قابو میں رکھتی تھی۔ دھاری دیوی کودیوبھومی رکھشک ماناجاتاہے۔ جو چاروں دھاموں کی شردھالوؤں کی رکھشک مانی جاتی ہے تعجب کی بات یہ ہے کہ اتنے قدیم مندر میں جو پہاڑی پر بناہوا ہے چھت نہیں ہے کئی بار ماتا کی مورتی پر چھت بنانے کی کوشش کی گئی۔لیکن ایسا نہیں ہوسکا آج بھی اس مورتی پر کوئی چھت نہیں ہے دھاری دیوی کے مندر کووہاں سے ہٹاکر اوپر محفوظ رکھنے کی اسکیم بنائی گئی لیکن مقامی لوگوں کی مخالفت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سخت احتجاج کو دیکھتے ہوئے اس کو ٹھنڈے بستے میں ڈالا جاتا رہا ہے۔ 2012میں ایل کے اڈوانی ، سشماسوراج، ارون جیٹلی نے وزیراعظم سے ملاقات کرکے درخواست بھی دی تھی کہ دھاری دیوی کے مندر سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے۔ محترمہ اوما بھارتی نے اسے لے کر باقاعدہ انشن بھی کیاتھا اورانشن تب توڑا جب جھاڑ کھنڈ اس وقت کے وزیراعلی نیشک یقین دہانی کرائی تھی کہ مندر کو نہیں ہٹایاجائے گا۔ مہا کالی کا روپ مانی جانے والی دھاری دیوی کی مورتی کو 16جون شام تقریبا ساڑھے سات بجے پجاری اورکچھ مقامی لوگوں نے انتظامیہ کے دباؤمیں الگنندہ ہالیڈرو پاور کمپنی کی درخواست پر پرتیما کو ہٹایا اور مندر کو شفٹ کرنے کی کارروائی شروع کی ۔ جس وقت وہ یہ کام کررہے تھے ٹھیک اسی وقت آسمان سے بجلی کڑکی اور موسلا دھار بارش شروع ہوگئی اور دیکھتے دیکھتے الگنندہ میں سیلاب آگیا۔ 16جون شام سے بارش نے آگے چل کر کیا تباہی مچائی یہ سب کو معلوم ہے لیکن کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ بدری کیدارناتھ ہیم کند صاحب جوتباہی ہوئی اس کاآغاز شری نگر میں دھاری دیوی کے مندر ہٹانے سے شروع ہوا۔ وشوہندوپریشد کے اشوک سنگھل نے کہا لوگوں نے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے خلاف مظاہرہ کیا اور دھاری دیوی کی مورتی ہٹائے جانے کی جم کر مخالفت کی تھی لیکن اس کے باوجود 16جون دھاری دیوی کی پرتیما کو ہٹایا گیا دھاری دیوی کے غصہ سے کیدار ناتھ اتراکھنڈاوردیگرعلاقوں میں تباہی مچی۔ دھاری دیوی دیش کے ناستک لوگوں کو سمجھانا چاہتی تھی کہ ہمالیہ میں بہہ رہی ندیوں کو نہ چھیڑا جائے اس علاقے میں دھاری دیوی کی بہت سی کہانیاں ہے لوگوں کاخیال ہے کہ دھاری دیوی کی پرتیمامیں ان کاچہرہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلا ہے ایک لڑکی سے ایک عورت کا چہرہ بنا۔ اور پھر ایک بزرگ عورت کاچہرہ بنا۔ قدیمی روایت ہیکہ ایک بار خوفناک سیلاب میں پورا مندر بہہ گیا تھا لیکن دھاری دیوی کی پرتیما ایک چٹان سے ملحق دھاری گاؤں میں بچی رہی ۔ گاؤں والوں کو دھاری دیوی کی اشوریہ آواز سنائی دی تھی ان کی پرتیما کو وہی قائم کیا جائے یہی وجہ ہیکہ دھاری دیوی کی پرتیما کو ان کے مندر سے ہٹائے جانے کی مخالفت کی جارہی تھی یہ مندرشری نگر( گڑھ وال) سے دس کلومیٹر دور پوری گاؤں میں واقع ہے یہاں 330 میگا واٹ والے الگنندہ ہائیڈروپروجیکٹ کا کام ابھی جاری ہے لوگوں کی مخالفت کے چلتے یہ پروجیکٹ جو 2010 تک پورا ہوجانا تھا ابھی تک اس پر کام چل رہا ہے جیسے ہی دھاری دیوی کی پرتیما کو منتقل کرنے کی بات شروع ہوئی تو پروجیکٹ کو لے کر لوگوں میں نئے سرے سے احتجاج شروع ہوگیا بیچ کاراستہ نکالتے ہوئے پروجیکٹ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیاگیااور پاور پروجیکٹ سے دور دھاری دیوی کے مندر کو منتقل کیاجائے گا۔
اس کے لئے پلیٹ فارم تک بن چکا تھا لیکن پاور پروجیکٹ کمپنی اور مندر کمیٹی کیلئے ان کی مورتی کو قائم کرنا مشکل ہوتا جارہا تھا۔ 16جون کو جب الگنندہ ندی میں سیلاب آناشروع ہوا تومندر کمیٹی نے دھاری دیوی کی پرتیما بچانے کے لئے فوری ایکشن لیا۔ دھاری دیوی کمیٹی کے سابق سکریٹری دیوی پرساد پانڈے کے مطابق شام تک مندر میں گھٹنوں تک پانی بھر گیا تھا ایسی خبریں آرہی تھی کہ رات تک بھاری بارش ہونے والی ہے۔ دھاری دیوی کی پرتیما ہٹانے کے علاوہ کوئی راستہے نہیں تھا ہم نے شام کو ساڑھے چھ بجے پرتیما کو ہٹایا اتراکھنڈ کے لوگوں اورچاروں دھام کی یاترا پرجانے والے شردھالوؤں کی رکھشک مانی جانے والی دھاری دیوی کی قدیم پرتیما کو 16جون کی شام 6 بجے ہٹایاگیا اور رات 8 بجے تک اچانک تباہی کا دنگا بج گیا اتراکھنڈ میںآئے اس سیلاب میں موت کا قہر مچا دیا اور سب کچھ تباہ کردیا جب کہ 2 گھنٹے پہلے موسم ٹھیک ٹھاک تھا اور قیاس آرائی جاری تھی کہ اتراکھنڈ آئی قدرتی آفات کا سبب دھاری دیوی کو اس لئے ماناجاتا ہے کہ دھاری لفظ کا مطلب ’’رکھنا‘‘ہوتا ہے جب کہ وہاں سے دھاری دیوی کو ہٹایا گیا پھر کیا تھا اس بحث کے بعد تمام میڈیا سوشل میڈیا سرگرم ہوگیا اور اس مسئلے پر طرح طرح کی تاویلیں سامنے آنے لگی ان سب باتوں میں کتنی سچائی ہے یہ تو بتا پانا مشکل ہے کیونکہ یہ اعتقاد کا موضوع ہے سائنس کا نہیں لیکن کچھ سوال آج بھی اترا کھنڈ کی پہاڑیوں میں گونج رہے ہیں اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے کیا وجہ تھی کہ اچانک ایک گلیشئر پھٹا اور اسی دوران گوری کنڈ اور رام پاڑہ کے درمیان ایک بادل بھی پھٹ گیا کیدار ناتھ کے آس پاس سب کچھ تباہ ہوگیا۔ صرف باباکیدارناتھ کے مندر کے پیچھے یہ سب کچھ ہوا آخر ایسا کیوں ہوا؟ جے دھاری دیوی ہر ہر مہادیو۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...