Translater

08 اپریل 2017

رام جیٹھ ملانی کے 3.8 کروڑ کے بل کی ادائیگی کون کرے

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور تنازعوں کی پوری تاریخ رہی ہے۔ جب سے وہ دہلی کے وزیر اعلی بنے ہیں شاید ہی کوئی ایسا دن گیا ہو جب وہ کسی نہ کسی تنازعہ میں نہ پھنسے ہوں۔ اشتہار کے نام پر سرکاری پیسے کی بربادی کا معاملہ ابھی رکا نہیں تھا کہ رام جیٹھ ملانی کو فیس دینے کے معاملے میں کیجریوال بری طرح گھر گئے ہیں۔ مسئلہ دہلی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) میں کرپشن اور کروڑوں کے گھوٹالے کا ہے۔ الزام سیدھے 13 سال تک ڈی ڈی سی اے کے چیئرمین رہے ارون جیٹلی پر لگائے گئے۔ الزام در الزام کا لمبا دور چلا۔
آخر کار جیٹلی نے کیجریوال پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا۔ پھانس میں آکر یہ معاملہ پھنس گیا ہے کہ کیجریوال کے وکیل رام جیٹھ ملانی کی فیس کون دے گا؟ دہلی سرکار یا اروند کیجریوال؟ ہوا یوں جیٹھ ملانی نے اپنی فیس وصولی کے لئے دسمبر 2016ء میں قریب 3.8 کروڑ روپے کا بل کیجریوال کے پاس بھیجا تھاجس میں 1 کروڑ روپے ریٹینر فیس اور 22 لاکھ روپے فی سماعت کا ذکر تھا۔ یہ بل نائب وزیر اعلی منیش سسودیہ نے پاس کرکے سرکاری خزانے سے ادائیگی کرنے کے احکامات کے ساتھ متعلقہ افسران کو بھیج دیا۔ افسران نے اسے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کی منظوری کے لئے بھیجا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے قانونی رائے لی تو اس میں یہ بات صاف ہوئی کہ یہ مقدمہ ایک شخص پر ہوا ہے، نہ کہ کسی وزیر اعلی پر۔ خود کیجریوال نے صفائی دی کہ ڈی ڈی سی اے میں بڑے پیمانے پر کرپشن تھا اور کھلاڑیوں کے سلکشن کی شکایت لے کر بچے ان کے پاس آتے تھے۔ دہلی سرکار نے جب اس پرجانچ بٹھائی تو بھاجپا والوں نے کیس کردیا۔ رام جیٹھ ملانی عدالت میں اس کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ رام جیٹھ ملانی کی فیس وہ اپنی جیب سے کیوں دیں گے؟ جنتا بتائے کہ سرکار کو پیسہ دینا چاہئے یا نہیں؟ کیجریوال نے یہ بھی کہا کہ میں نے جو بھی الزام لگائے تھے وہ پبلک مفاد میں اور پبلک عہدے پر وزیر اعلی کی حیثیت سے لگائے تھے اس لئے اس میں کچھ بھی نجی نہیں ہے۔ اس درمیان جیٹھ ملانی نے کہا کہ وہ یہ مقدمہ مفت میں لڑنے کو تیار ہیں کیونکہ کیجریوال ان کے غریب موکل ہیں اور وہ ایسے لوگوں کے لئے مفت خدمات پہلے بھی دیتے رہے ہیں لیکن پہلی بات اگر رام جیٹھ ملانی کومفت میں سیوا دینی ہی تھی تو انہوں نے اتنا لمبا چوڑا بل بھیجا ہی کیوں؟ دوسری بات یہ کہ شاید شری کیجریوال یہ بھول رہے ہیں کہ کورٹ میں جسٹس پی ایس تیجی کی عدالت نے ان کی اس عرضی کو خارج کردیا تھا جو جیٹلی کے ذریعے درج کرائی گئی تھی۔مجرمانہ ہتک عزت کی شکایت میں ٹرائل کورٹ کی طرف سے سمن جاری کئے جانے کے خلاف عرضی داخل کی گئی تھی پچھلے سال19 اکتوبر کو دئے گئے کورٹ کے اس فیصلے نے وزیر اعلی کی طرف سے یہ مانگ اس بنیاد پر کی گئی اس کی تفصیل درج ہے۔ ہائی کورٹ کے ریکارڈ میں کیجریوال نے کہا کہ میں جو لڑائی لڑ رہا ہوں وہ نجی حیثیت سے نہیں لڑ رہا ہوں۔ ویسے بھی یہ دلیل بے معنی ہے کیونکہ یہ سرکاری لڑائی ہے اور سول معاملے دو لوگوں کی نجی لڑائی ہوتی ہے۔ اس میں کہیں سے بھی عہدے کا سوال نہیں آتا۔ یہاں تک کہ جیٹلی نے سول ہتک عزت کا کیس اروند کیجریوال کے خلاف دائر کیا ہے نہ کہ وزیر اعلی کیجریوال کے خلاف۔ مضحکہ خیز حقیقت یہ ہے کہ سیاست میں جس آدرش واد کی دہائی دے کر اور ایمانداری کے سبز باغ دکھا کر کیجریوال مکھیہ منتری بنے تھے اس اخلاقیت کے مبینہ چولے کو انہوں نے کافی کم وقت میں تار تار کردیا۔ 
یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ ارون جیٹلی نے جو ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے وہ انہوں نے اپنی نجی حیثیت سے کیا ہے جس میں وکیلوں کی فیس سمیت سارا خرچ وہ خود اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک پیسہ بھی مالیات وزارت یا کسی اور وزارت سے نہیں لیا ہے۔ اروند جی کے نو سکھئے پن کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان پر فی الحال قریب آدھا درجن ہتک عزت کے کئی دوسرے معاملے عدالت میں چل رہے ہیں۔ دراصل کیجریوال کا سرکاری پیسہ کے بیجا استعمال کا معاملہ کوئی نیا نہیں ہے۔ اس سے پہلے چائے سموسے کے بل پر کروڑوں روپے خرچ ہوچکے ہیں یہاں تک کہ خود کے اشتہار جاری کر انہوں نے اخلاقی اور مریادا کے تقاضوں کی دھجیاں پہلے ہی اڑا رکھی ہیں۔ علاج کے نام پر انہوں نے کروڑوں روپے پھونک دئے جبکہ کیجریوال خود دہلی کے سرکاری اسپتال کوعالمی معیار کا بنانے کا دعوی کرتے ہیں۔ ایسے قدم غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں کہ جنتا کو بھڑکا کر ان کے پیسوں کو خود کاموں میں استعمال کرنے کے دن اب لد گئے ہیں۔ یہ بات جتنی جلد اروند کیجریوال سمجھ لیں بہتر ہوگا۔
بھاجپا نے کیجریوال پر پبلک پیسے کی لوٹ اور ڈکیتی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ نجی معاملے میں ادائیگی ٹیکس دہندگان کے پیسے سے کیسے کی جاسکتی ہے؟ ادھر عام آدمی پارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کیجریوال نے جو بھی الزام لگائے تھے وہ پبلک مفاد میں اور پبلک عہدے پر رہتے ہوئے لگائے تھے اس لئے اس میں کچھ بھی نجی نہیں ہے۔ نجی خلاصے سے عام آدمی پارٹی کی ساکھ کو چوٹ پہنچی ہے۔ عام آدمی پارٹی ہائی کمان کلچر کو ختم کرنے اور اقتدار کے بیجا استعمال کو بند کرنے کے وعدے پر وجود میں آئی تھی بدقسمتی یہ ہے کہ خود اپنی ہی کسوٹیوں پر آج یہ کٹہرے میں کھڑی ہے۔
(انل نریندر)

07 اپریل 2017

رام نومی پر کسانوں کو ملی قرض معافی کی سوغات

اترپردیش کیلئے رام نومی کا دن اچھا احساس لیکر آیا ہے۔ صوبے میں برسراقتدار یوگی آدتیہ ناتھ سرکار نے اپنی دو ہفتے کی میعاد کے دوران پہلی کیبنٹ میٹنگ میں کسانوں کو قرض معافی کی سوغات دے دی ہے۔ ریاست کے چھوٹے اور منجھولے کسانوں کے 1 لاکھ روپے تک کا فصلی قرض معاف کرنے کا بڑا فیصلہ تو لیا ہے، یہ قدم اٹھا کر بھاجپا نے اپنا وعدہ بھی نبھایا ہے۔ 1 لاکھ روپے تک کی اس قرض معافی سے تقریباً86 لاکھ چھوٹے اور منجھولے کسانوں کو راحت ملی۔ بھاجپا نے اپنے سنکلپ پتر میں کہا تھا کہ اگر وہ صوبے میں اقتدار میں آئی تو کسانوں کا قرض معاف ہوگا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی چناوی ریلیوں میں یہاں تک وعدہ کیا تھا کہ کیبنٹ کی پہلی میٹنگ میں ہی کسانوں کا قرض معاف ہوجائے گا۔ قرض معافی کے دائرے میں وہ کسان آئیں گے جنہوں نے سرکاری یا کوآپریٹیو بینکوں سے قرض لیا ہوا ہے۔ اصل میں کچھ علاقوں میں بجلی کے مد میں ہیں بہت سے کسانوں کا یہاں لاکھوں کا بقایا ہے۔ اس کے علاوہ کئی طرح کے قرض کسانوں پر دوہرے ٹیکس رہے ہیں۔ خاص کر پچھلے 3 سال سے لگاتار خوشک سالی اور بے رخے موسم نے بھی کسانوں کی کمر توڑدی تھی۔ تجزیئے کے مطابق قریب 2.30 کروڑ کسان موسم کی مار سے متاثر ہیں اس لئے چناؤ کے دوران کانگریس ۔بسپا اور یہاں تک کہ سابق اکھلیش سرکار نے بھی کسانوں کے قرض معاف کرنے کے وعدے کئے تھے لیکن لوگوں کو شاید سب سے زیادہ بھروسہ وزیر اعظم کے کئے ہوئے وعدے پر تھا کہ پہلی ہی میٹنگ میں کسانوں کے قرض معاف کردئے جائیں گے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے پہلی ہی کیبنٹ میں وزیر اعظم کا وعدہ پورا کردکھایا۔ اس کے علاوہ ناجائز بوچڑ خانوں کو بند کرنے اور اینٹی رومیودستے کی تشکیل کو باقاعدہ منظوری دے دی۔ پوروانچل کو ترقی کی مکھیہ دھارا میں لانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جائے گا۔ غازی پور میں اسپورٹ کمپلیکس بنانے کا فیصلہ، ناجائز کھدان کی تجارت پر جس طرح ایک کمیٹی بنی ہے اس سے صاف ہے کہ یوگی سرکار صوبے کے مسائل کو لیکر کافی فکر مند ہے۔ کسانوں کی صد فیصد گیہوں فصل خریدنے کا نہ صرف بھروسہ دیا گیا ہے بلکہ ہزاروں خرید سینٹر بنانے کا بھی وعدہ کیا ہے جس کا خیر مقدم ہے۔ کسانوں کو اصل فصل کے مناسب دام ملیں اس کے لئے تین نفری کمیٹی بنائی گئی ہے۔ کسانوں کا بقایا قرض 62 ہزار کروڑ روپے بتایا جاتا ہے اس لئے اس کا کوئی توڑ نکالنا ضروری تھا جس سے لگے کہ وعدہ بھی پورا ہوا اور ریاست کے خزانے کی حالت بھی خراب نہیں ہوئی۔ اس سال بھی گرمی بے تحاشہ پڑنے اور خوشک سالی کے اندیشے سے یوگی سرکار کا بندیل کھنڈ کیلئے بھی راحت پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ سرکار نے روزگار بڑھانے کے لئے نئی صنعتی پالیسی بنانے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ بھی لائق خیر مقدم ہے۔ لیکن اس کو صحیح سمت میں لے جانے کی چنوتی ہے۔ پچھلے کچھ برسوں سے اترپردیش پچھڑ گیا ہے اور اس کی بہ نسبت دوسری ریاستی زیادہ ترقی کرگئی ہیں۔ اکھلیش سرکار نے بھی ایسے ہی وعدے کئے تھے لیکن وہ پروان نہیں چڑھ سکے مگر یوگی سرکار ریاست میں سرمایہ کاری لانے میں اہل ہو اور نوجوانوں کو روزگارکیلئے بھٹکنا نہ پڑے تو ریاست کی تصویر بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے قدم آگے بڑھا دئے ہیں۔ رام نومی پر اپنی پہلی ہی کیبنٹ میں یوگی آدتیہ ناتھ نے جو وعدہ وزیر اعظم نے کیا تھا اسے پورا کردکھایا ہے۔
(انل نریندر)

ایم سی ڈی چناؤ: باغی بنے کانگریس اور بھاجپا کیلئے چنوتی

دہلی میونسپل کارپوریشن میں پرچہ داخل کرنے کے آخری دن پیر کو دہلی میونسپل کارپوریشن کی سبھی پارٹیوں کے مجاز اور پارٹی سے بغاوت کر میدان میں اترے امیدواروں نے دیر رات تک اپنے پرچے داخل کئے۔ چناؤ کیلئے پرچہ داخل کرنے والے امیدواروں کی تعداد 4598 تک پہنچ گئی ہے۔ چناؤ کمیشن کے افسران اعدادو شمار اکھٹے کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ابھی اس تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ 5 اپریل کو کاغذات کی جانچ ہوگی اور 8 اپریل تک نامزدگی واپس لی جا سکے گی۔ تینوں ایم سی ڈی کے 272 وارڈوں کے لئے 4598 پرچے داخل کئے گئے اس کا مطلب یہ ہے ہر وارڈ کے لئے 16 سے17 امیدوار کھڑے ہوئے ہیں۔ ایم سی ڈی چناؤ کے ٹکٹ کے بٹوارے سے ناراض کانگریس اور بھاجپا کے باغی امیدواروں نے پارٹی کے سینئر لیڈروں کی راتوں کی نیند حرام کردی ہے۔ دونوں پارٹیوں کے لیڈر باغیوں کو منانے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ مسئلہ کانگریس کے لئے زیادہ پریشان کن ظاہر ہوتا ہے۔ کانگریس میں ٹکٹ کے بٹوارے کو لیکر جہاں سرکردہ لیڈر خفا ہیں وہیں کچھ کارپوریٹروں اور پارٹی عہدیداران نے آزاد پرچے داخل کر ہائی کمان کی مصیبت اور بڑھا دی ہے۔ آزاد امیدواروں کے میدان میں اترنے والوں میں سب سے مضبوط کانگریس کے کونسلررمیش دتہ دلی گیٹ، جنتا کالونی وارڈ سے ذاکر خان، ساگر پور سے اوشا گپتا کے علاوہ کئی سرکردہ لیڈروں نے پرچہ بھرا ہے۔ میں رمیش دتہ کو برسوں سے جانتا ہوں اور دعوے سے کہہ سکتا ہوں تمام دہلی کانگریس میں ان سے وفادار ورکر کوئی نہیں ہے۔ ا نہوں نے اپنی ساری زندگی کانگریس کے لئے وقف کردی۔ ہسپتال میں اوپن ہارڈ سرجری کراکر میدان میں اتر آتے ہیں۔ انہیں ٹکٹ نہ دینا کانگریس اعلی کمان کے کھوکھلے پن کا سندیش دیتا ہے۔ ڈاکٹر اشوک والیا جو ایک وقت سے وزیر اعلی عہدے کے دعویداروں میں تھے ،کو اس ڈھنگ سے نظر انداز کرنا کانگریس کو بھاری نہ پڑجائے۔ بتادیں رمیش دتہ کانگریس کے سب سے طویل عرصے تک کونسلر رہے ہیں اور منٹو روڈ وارڈ سے کامیاب ہوتے آرہے ہیں۔ حد بندی کے بعد وارڈ بٹا تو دلی گیٹ وارڈ سے ٹکٹ چاہتے تھے لیکن یہاں سے سابق ممبر اسمبلی شعیب اقبال کے بیٹے آل محمد کو ٹکٹ دیا گیا۔ رمیش دتہ پہلے بھی بطور امیدوار چناؤ جیت چکے ہیں۔ کانگریس پارٹی میں نیتا اپنے رشتہ داروں کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ بیشک اجے ماکن کہہ رہے ہیں ہم نے نئے چہروں پر داؤں کھیلا ہے لیکن اچھے ماحول میں کہیں ٹکٹ بٹوارہ پارٹی پر بھاری نہ پڑجائے۔ شیلا دیکشت نے بھی ٹکٹ بٹوارے پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ دلی کانگریس نے سبھی ضلع صدروں سے بطور باغی پرچہ داخل کرنے والے پارٹی سے جڑے عہدیداران و ورکروں کی فہرست بنانے کو کہا ہے۔ ایسے باغیوں کو منانے کا کام شروع ہوچکا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ پارٹی ان کو منا پاتی ہے یا نہیں؟
(انل نریندر)

06 اپریل 2017

اور اب روس کی میٹرو میں آتنکی حملہ

روس کے دوسرے سب سے بڑے شہر سینٹ پٹرس برگ میں پیر کو زیر زمین میٹرو میں زبردست دھماکہ ہوا۔ اس میں کم سے کم 10 لوگوں کی موت اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق سینایا فلوشت اور ٹکنولوجی یسکی اسٹیشنوں کے درمیان دوپہر بعد مقامی وقت 2:40 منٹ پر انڈر گراؤنڈ میٹرو میں یہ دھماکہ ہوا۔ سکیورٹی ایجنسیوں نے اسے آتنکی حملہ مانتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہے۔ جانچ افسر نگرانی کیمرے میں آئے اس شخص کی تلاش کررہے ہیں جس پر دھماکہ کرنے کا شبہ ہے۔ روسی خبر رساں ویب سائٹ فونٹانکا نے مشتبہ حملہ آور کی تصویر جاری کی ہے اس میں ایک ادھیڑ شخص کو کالی ٹوپی پہنے دیکھا جاسکتا ہے۔ حملے کے وقت روسی صدر ولادیمیر پوتن شہر میں ہی تھے اور بیلاروس کے لیڈر الیگزنڈر لوکاشنکو سے ملاقات کرنے یہاں آئے تھے۔ روس پچھلے کچھ وقت سے آتنکیوں کے نشانے پر ہے۔20 مارچ 2010ء کو ماسکو میٹرو میں دو عورتوں کے فدائی حملہ میں 40 لوگ مارے گئے تھے اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔یمن لیڈر گواکوامارؤف نے حملہ کی ذمہ داری لی ہے۔ 27 نومبر 2009ء کو ماسکو کے سینٹ پیٹرس برگ کے درمیان ہائی اسپیڈ ٹرین میں دھماکہ ہوا جس میں 26 لوگ مارے گئے تھے۔ یمن باغیوں نے ہی اس کی ذمہ داری لی تھی۔ 24 جنوری 2011ء کو ماسکو کے دمیدوف ایئرپورٹ پر فدائی حملے میں 37 لوگ مارے گئے تھے اور 180 زخمی ہوئے تھے۔ اگست 2004ء میں اسی جگہ پر جہاز میں دھماکہ ہوا تھا اس میں 90 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے دھماکہ کے بعد بیان دیا کہ ہم قصورواروں کو کسی بھی صورت میں نہیں بخشیں گے۔ پوتن اس وقت پیٹرز برگ میں بیلاروس کے صدر کے ساتھ ملاقات کرنے جارہے تھے۔ انہوں نے میٹنگ کو کچھ وقت کے لئے ٹال دیا اور سرکاری ٹی وی پر آکر انہوں نے کہا سکیورٹی ایجنسیوں کو پوری طاقت سے ایسے خطروں کو کچلنے کا اختیار ہے۔ 50 لاکھ کی آبادی والا سینٹ پٹرز برگ ماسکو کے بعد روس کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے اور مشہور ٹورسٹ مقام ہے۔ حالانکہ کسی نے اس دھماکہ کی ذمہ داری فی الحال نہیں لی ہے لیکن یہ دھماکہ ایسے وقت ہوا ہے جب روس۔ شام میں وہاں کی بشرالاسد حکومت کے ساتھ مل کر آئی ایس کے دہشت گردوں کے صفائے میں لگا ہوا ہے۔ ویسے روس میں یمن باغیوں کے حملے کی تاریخ رہی ہے۔ پوتن نے یمن کے باغیوں کو سختی سے کچلنے کی مہم چلا رکھی ہے۔ روس کی دہشت گردی انسداد کمیٹی نے کہا ہے کہ میٹرو میں جو دھماکہ ہوا تھا وہ آئی ای ڈی سے کیا گیا تھابم دھماکے کے بعددہلی میٹرو میں سکیورٹی سخت کرنا فطری ہی ہے۔ سکیورٹی نظام میں کوئی کمی نہ رہ جائے اس کے لئے سی آئی ایس حکام کے ذیعے مسلسل میٹرو اسٹیشنوں کا جائزہ لیا جارہا ہے اور مسافروں کی بھی دوہری جانچ جاری ہے۔ مسافروں کے سامان کی جانچ مشینوں سے ہونے کے باوجود لوگوں کی تلاشی بھی لی جارہی ہے۔ خیال رہے کہ دہلی میٹرو کے قریب 160 میٹرو اسٹیشنوں میں روزانہ 30 لاکھ مسافر آتے جاتے ہیں۔ اس کی ذمہ داری و سکیورٹی سی آئی ایس ایف کے ذمہ ہے۔ زیادہ بھیڑ کی وجہ سے دہلی میٹرو آتنکی تنظیموں کے نشانے پر ہے۔ پچھلے دنوں خفیہ ایجنسیوں کا دہشت گردوں کے ذریعے دہلی میٹرو میں دھماکے کرنے کے پلان سے متعلق انپٹ بھی مل چکا ہے۔ تعینات سکیورٹی ملازم چوکسی میں کوئی کمی نہ آنے دیں۔
(انل نریندر)

اجمیر بم دھماکہ کے معاملے میں اندریش و سادھوی پرگیہ کو کلین چٹ

اجمیر درگاہ بم دھماکہ معاملے میں سکیورٹی ایجنسی این آئی اے کورٹ نے پیر کو اپنی فائنل رپورٹ داخل کردی ہے۔ اس رپورٹ میں این آئی اے نے سادھوی پرگیہ اور آر ایس ایس کے پرچارک اندریش کمار کو معاملے میں کلین چٹ دے دی ہے۔ اب عدالت اس رپورٹ پر 17 اپریل کو سماعت کرے گی جس میں طے ہوگا کہ اس رپورٹ کا کیا کرنا ہے۔ کورٹ اس معاملے میں2 قصورواروں کو عمر قید کی سزا سنا چکی ہے۔ اندریش کمار اور سادھوری پرگیہ کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے یہ فیصلہ پہلے ہی سنایا جاچکا ہے۔ این آئی اے نے صاف کہا ہے کہ اسے اندریش کمار اور سادھوی پرگیہ ، راجندر رمیش عرف پرنس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے۔ حالانکہ این آئی اے کورٹ کے جج دنیش کمار گپتا نے جانچ کی اور سندیپ ڈانگے کے نہ پکڑے جانے پر ناراضگی ظاہر کی۔ عدالت نے 8 مارچ کو مہاویش پٹیل ،دویندر گپتا اور سنیل جوشی کو قصوروار ٹھہرایا تھا اور سوامی اسیما نند کو بری کردیا تھا۔ جوشی کے سماعت کے دوران جیل میں موت ہوگئی۔ معاملے میں 149 گواہ پیش ہوئے اور 451 دستاویز کورٹ کے سامنے رکھے گئے۔ این آئی اے نے کیس میں تین بار ضمنی چارج شیٹ داخل کی۔ واردات والے دن 11 اکتوبر 2007ء کو خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی درگاہ میں دھماکہ ہوا تھا اس میں 3 لوگ مارے گئے تھے اور 15 زخمی ہوگئے تھے۔ راجستھان اے ٹی ایس نے معاملے کی جانچ کے بعد این آئی اے کو معاملہ سونپ دیا تھا۔ این آئی اے نے 6 اپریل 2011 ء کو پھر مقدمہ درج کیا تھا۔ کورٹ کی سماعت انہیں 13 لوگوں کے خلاف ہوئی جنہیں این آئی اے نے جانچ ایجنسی رپورٹ میں ملزم مانا تھا۔ جبکہ اس کانڈ میں سادھوی پرگیہ اور اندریش کمار کا نام بھی آرہاتھا۔جانچ ایجنسی نے ان دونوں کو فائنل رپورٹ میں کلین چٹ دے دی ہے۔ اسی کورٹ میں سماعت کے دوران این آئی اے کی فائنل رپورٹ پر سوال کھڑے کئے گئے تھے جس میں ان دونوں کلین چٹ کیوں دی گئی ، اس پر کورٹ نے ملزمان میں تین کو قصوروار مانتے ہوئے سزا سنائی اور این آئی اے کو فائنل رپورٹ کورٹ میں پیش کرنے کو کہا تھا۔ اس کے بعد ہی پیر کو یہ رپورٹ پیش کی گئی تھی۔ کورٹ نے این آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو فرار اور 3 ملزمان کی تلاش معاملے میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کو بھی کہا۔ عدالت نے کیرل کے چیف سکریٹری کوزی کوٹ اور اندور ضلع کے حکام کو خط لکھ کر یہ بھی پوچھا کہ نائر اور کالا سنگارن کی منقولہ یا غیر منقولہ املاک کی تفصیل نہ سونپے جانے کو لیکر اس کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ کورٹ نے فروری میں رپورٹ مانگی تھی۔
(انل نریندر)

05 اپریل 2017

ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کے الزامات پر چناؤ کمیشن کا جواب

الیکٹرانک ووٹنگ مشین یعنی ای وی ایم پر تنازعہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پچھلے مہینے پانچ ریاستوں میں ختم ہوئے اسمبلی چناؤ و مہاراشٹر میں میونسپل چناؤ میں ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کئے جانے کے الزامات لگے۔ ای وی ایم میں گڑ بڑی کے کئی سوال کھڑے کئے گئے ہیں اب ایک بار پھر گڑ بڑی کا جن بوتل سے باہر آگیا ہے۔ تنازعہ کا مرکز مدھیہ پردیش کا منڈاجہاں دو اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں، اس ضمنی چناؤ کیلئے ریہرسل پروگرام میں ووٹر ویریفائڈ پیپر آڈٹ ٹرائل ( وی وی پیٹ) سے صرف کمل کا نشان والی پرچیاں نکل رہی تھیں۔اٹیر ضمنی چناؤ سے پہلے مدھیہ پردیش کی چیف الیکٹرول آفیسر سلینا سنگھ نے پچھلے جمعہ کو ای وی ایم مشین کا جائزہ لیتے وقت ای وی ایم کے دو الگ الگ بٹن دبائے تو وی وی پی اے ٹی سے کمل کے پھول کا پرنٹ باہر آیا۔ حالانکہ چناؤ کمیشن کے ذریعے طلب کئے جانے پر ریاستی الیکشن کمیشن نے اس طرح کی کسی بات سے انکارکیا۔ وہیں ڈیمو کے وقت موجود صحافیوں کے سوال اٹھانے پر چیف الیکٹرول آفیسر نے آپا کھودیا اور انہیں جیل میں بند کرنے تک کی دھمکی دے ڈالی۔ اترپردیش میں بھاجپا کی حیرت انگیز کامیابی پر سب سے زیادہ جارحانہ نظر آئی تھیں مایاوتی ، جنہوں نے ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا تھا۔ ادھر دہلی کے چیف منسٹر اروند کیجریوال بار بار یہی الزام لگا رہے ہیں اور مانگ کررہے ہیں کہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ میں بیلٹ پیپروں کا استعمال ہو۔ چناؤ کمیشن نے عام آدمی پارٹی کے الزامات کو پھر سے مسترد کردیا اور کہا کہ چناؤمیں خراب کارکردگی کے لئے ای وی ایم میں گڑ بڑی کو ذمہ دار ٹھہرانا بہت غلط حرکت ہے۔ چناؤ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ ای وی ایم مشین پوری طرح سے نہ صرف بھروسے مند ہے بلکہ اس میں کسی بی طرح کی چھیڑچھاڑ ممکن نہیں ہے۔ سکیورٹی کے نقطہ نظر سے چناؤ کمیشن ای وی ایم سے پوری طرح مطمئن ہے۔ اس درمیان ہی چناؤ کمیشن نے یہ بھی بتایا کہ اس میں ایم3 ٹائپ ای وی ایم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ نئی ای وی ایم سے کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ ایم3 ای وی ایم مشینوں کی پائیداری کے لئے ایک سیلف ڈاگنوسٹک سسٹم لگا ہوا ہے۔ یہ مشینیں ایک جاپانی سرٹیفائڈ سسٹم کے ساتھ آئیں گی۔ صرف ایک صحیح ای وی ایم کے علاقہ کی دوسرے ای وی ایم کے ساتھ تال میل کرسکتی ہے۔اس کی تیاری برقی سیکٹر پی ایس یو ای سی آئی ایل یا ڈیفنس سیکٹر کی پی ایس یو وی ای ایل کے ذریعے کنٹرول کیا جانا چاہئے۔ کسی بھی دیگر کمپنی کے ذریعے بنائی گئی ای وی ایم و دیگر مشینوں سے کنورسیشن نہیں کر پائے گی۔ اس طرح غلط مشینوں کا پردہ فاش ہوجائے گا۔ یہ تو اچھی بات ہے کہ لوک سبھا 2019ء کے چناؤ سے پہلے یہ نئی جدید ترین مشینیں آجائیں گی۔ لیکن کیا چناؤ کمیشن کے اس بیان کا یہ مطلب نکالا جائے کہ حال ہی میں جو ای وی ایم مشینیں استعمال ہورہی ان میں گڑ بڑی ہوسکتی ہے؟ چھیڑ چھاڑ ممکن ہے؟ جب چناؤ کمیشن یہ دعوی کرتا ہے کہ نئی مشینوں میں اگر چھیڑ چھاڑ ہوئی تو وہ خود بخود کام کرنا بند کردیں گی تو اس کا مطلب ہے کہ موجودہ مشینوں میں یہ چھیڑچھاڑ ممکن ہے؟ کسی بھی جمہوری سسٹم میں منصفانہ ،آزادانہ چناؤ سسٹم انتہائی ضروری ہے۔ یہ ڈیموکریسی کی بنیاد ہے جس پر عمارت ٹکی ہوئی ہے۔ اس کو صحیح سے کرنے کے لئے ہی ایک آزاداور منصفانہ چناؤ کمیشن کی تشکیل کی گئی ہے جو کسی بھی طرح کے دباؤ میں کام نہیں کرتا۔ انڈین چناؤ کمیشن کا صرف یہی کام ہے اگر موجودہ ای وی ایم مشینوں میں کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ ممکن ہے تو چناؤ کمیشن کو یہ تسلیم کرنا چاہئے۔ اسے اس پر لگے الزامات کو یہ ثابت کرنے کا موقعہ دینا چاہئے کہ وہ چھیڑ چھاڑ کے اپنے اوپر لگے الزامات کو ثابت کریں۔ چناؤ کمیشن کو ہماری رائے میں سیاسی بیانوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اسے یہ نہیں کہنا چاہئے کہ فلاں پارٹی کو اپنی ہار کے سبب اپنے ہار کے اسباب کا تجزیہ کرنا چاہئے نہ کہ ای وی ایم مشینوں پر چھیڑ چھاڑ کے الزام لگائے جائیں۔ معاملہ سپریم کورٹ میں جا چکا ہے، چناؤ کمیشن کو بڑی عدالت (سپریم کورٹ)کے سامنے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ موجودہ ای وی ایم مشینوں میں چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں ہے۔
(انل نریندر)

آخر برطانیہ نے یوروپی یونین سے ناطہ توڑا

لمبی جدوجہد کے بعد آخر کار برطانوی وزیر اعظم ٹیریسا نے یوروپی یونین کونسل سے باہر جانے کے (برگزٹ) کی بدھوار کو سرکاری طور پر اعلان کردیا۔ اسی کے ساتھ 1973ء میں یوروپی یونین کے ممبر بنے برطانیہ کا گروپ سے 40 سال پرانا رشتہ ختم ہوگیا ہے۔ یوروپی یونین نے برطانیہ میں مستقل نمائندے ٹیم بیرو میں یوروپی قومی چیئرمین ڈونلڈٹسک کو اس بارے میں ایک خط سونپا۔ برطانیہ نے لسبن معاہدے کی دفعہ50 کو نافذ کرنے کی جانکاری دی۔ اب برطانیہ یوروپی نونین سے تجارت اور امیگریشن اور دیگر ایشو پر نئے سرے سے بات ہوگی۔ برگزٹ کی بات چیت وسط مئی میں شروع ہوگی اور دو سال میں پوری ہوگی۔ 9 ماہ پہلے جون 2016ء میں ہوئے ریفرنڈم میں برطانوی عوام نے یوروپی یونین سے الگ ہونے کے لئے مہرلگائی تھی۔ برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ یوروپ کا اہم ساتھی اور دوست بنے رہنا چاہتا ہے اگر یوروپی یونین نے غیر ضروری روڑے اٹکائے تو اس سے سبھی کا نقصان ہوگا۔ ادھر جرمن چانسلر انجیلا مارکل نے کہا کہ ہم یقینی کریں گے کہ برطانیہ میں رہ رہے یوروپی لوگوں پر برا اثر نہ پڑے ۔ ہمیں امید ہے کہ برطانیہ۔ یوروپ مضبوط ساتھی بنے رہیں گے۔ برگزٹ انگریزی کے ’برٹن‘ اور ’ایگزٹ‘ لفظ سے مل کر بنا ہے اس کا مطلب ہے برطانیہ کا نکلنا۔ اسے برطانیہ کے یوروپی یونین سے الگ ہونے کے سلسلے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ برطانیہ کے یوروپی یونین سے الگ ہونے کے کئی اسباب بتائے جارہے ہیں۔ تارکین وطن، اقتصادی ترقی اور یوروپی یونین کے سخت قواعد سے برطانیہ کے شہری ناراض تھے لہٰذا انہوں نے یوروپی یونین سے الگ ہونے کی مانگ کی اور 23 جون2016ء کو وہاں ریفرنڈم کرایا گیا۔ ریفرنڈم میں 57.9 فیصدی ووٹروں نے یونین سے الگ ہونے کے حق میں ووٹ ڈالا۔ وہیں 48.1 فیصدی نے ووٹ کے ذریعے یوروپی یو نین کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہرکی تھی۔ ریفرنڈم کے نتیجے برگزٹ کے حق میں آتے ہی اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو عہدہ چھوڑنا پڑا۔ سابق وزیر داخلہ ٹیریزا نے وزیر اعظم کی کرسی سنبھالی۔ واضح ہوکہ یوروپی یونین 28 یوروپی ملکوں کی انجمن ہے۔ روم معاہدے کے ذریعے 1951 ء میں اس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس وقت صرف 6 دیشوں نے اقتصادی تعاون کے لئے ہاتھ ملا تھا۔ 1993ء میں یہ مانیٹرچ معاہدے کے ذریعے نیدر لینڈ میں موجودہ یوروپی یونین کی بنیاد رکھی گئی۔ سارے ممبر ملک ایک کرنسی، ایک بازار اور ایک حد کے اصول پر کام کرتے ہیں۔ 19 دیشوں کی سرکاری کرنسی یوروہے۔ یورو کو سرکاری کرنسی نہ بنانے والے ملکوں میں برطانیہ بھی شامل ہے۔ سیکشن 50 لاگو کرنے کے بعد دونوں فریقین کو دو سال کے اندر الگ ہونے کی شرطوں پر متفق ہونا ہوگا۔ برطانیہ کا یہ بہت بڑا فیصلہ ہے ،دیکھیں اس پر کیسے عمل کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں فریقین کے لئے چنوتی ہے۔
(انل نریندر)

04 اپریل 2017

چاہے جیل بھیج دو پر اگلی تاریخ پر نہیں ہوں گا پیش

یہ پہلا موقع ہے جب کسی توہین کا ملزم کوئی ہائی کورٹ کا کام سپریم کورٹ میں پیش ہوا ہو. میں بات کر رہا ہوں کولکتہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس سی ایس کرنن کی چیف جسٹس جے ایس کھیرکی صدارت والی سات ججوں کی بنچ کے سامنے جمعہ کو پیش ہونے کی. عدالتی تاریخ میں ایسا یہ پہلا واقعہ ہے. صورت میں سات ججوں کی آئین پیٹھ کے سامنے 50 منٹ سماعت جاری رہی. اس دوران جسٹس کرنن نے معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی جج ہوں. پر مجھے دہشت گرد جیسا دکھایا جا رہا ہے. بنچ نے کرنن کو چار ہفتے میں جواب دینے کو کہا ہے کہ وہ معافی مانگنے کو تیار ہیں یا نہیں؟ جواب میں جسٹس کرنن نے پیٹھ کے ساتوں ججوں کے عدالتی حقوق چھیننے اور تمام تنخواہ سے ہر ماہ 50۔50 ہزار روپے کاٹنے کا حکم سنا دیا. اگرچہ اس حکم پر عمل نہیں کرے گا کیونکہ سپریم کورٹ نے پہلے ہی ?رن کے تمام عدالتی حقوق چھین لئے ہیں. سپریم کورٹ میں دونوں اطراف میں بہت تیکھی بحث ہوئی. صبح سوا 10 بجے کورٹ نمبر ون کا تالا کھلتے ہی کورٹ روم کھچا کھچ بھر گیا. چیف جسٹس جے ایس ?ھے?ر کی صدارت میں سات ججوں کی آئین پیٹھ بیٹھی اور کارروائی شروع ہوئی. چیف نے کہا 246 مسٹر کرنن آپ توہین کیس میں زبانی طور پر جو چاہیں کہہ سکتے ہیں. جسٹس کرنن نے بھی آئینی عہدے پر ہوں. بغیر طرف جانے میرا کام چھین لیا گیا ہے. 20 ججوں کے خلاف شکایت دی تھی. اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی. میں الزام ثابت کر سکتا ہوں. کورٹ کی کارروائی سے میری شہرت چلی گئی. میرا کام لوٹا دیں. جسٹس جے ایس کھیرجب تک کیس چل رہا ہے، عدالتی کام نہیں لوٹا سکتے. آپ الزامات سے کورٹ کی توہین ہوئی ہے. آپ نے وزیر اعظم کو خط لکھا. پریس کانفرنس کی. کہنے پر بھی کورٹ نہیں آئے. اوپر سے کورٹ کے خلاف خط جاری کر دیا. جسٹس کرنن مجھے میرا کام لوٹاے تبھی میں اس پر غور کروں گا. کام نہیں لوٹایا تو میں پہلے کی طرح عام نہیں ہو پاوگا. جسٹس دیپک مشرا 246 مسٹر ?رن، کیا آپ غیر مشروط استغفار؟ ایسا کریں گے تو راحت دینے پر غور ہو سکتا ہے. جسٹس کرنن س کارروائی سے آرٹیکل ۔19 اور 21 کے تحت ملے حقوق روکنا ہوئے ہیں. جسٹس جے ایس کھیرمسٹر کرنن نے کیا ججوں پر لگائے الزام واپس لینا چاہتے ہیں؟ معافی مانگنے کو تیار ہیں یا نہیں؟ جسٹس کرنن شکایت پر کارروائی نہ کرکے مجھے ہی معافی مانگنے کو کہہ رہے ہیں. میرا کام بحال کیا تو غیر مشروط معافی مانگنے پر اپنے خیالات رکھوں گا. جسٹس جے ایس کھیرآپ ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہیں تو کسی ڈاکٹر سے دوا اور مشاورت لے سکتے ہیں. کورٹ میں میڈیکل ریکارڈ پیش کر سکتے ہیں. جسٹس کرنن مجھے کسی ڈاکٹر سے دوا یا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے. میں مکمل طور پر ٹھیک ہوں. آئین پیٹھ آپ کے خلاف سماعت کر رہی ہے. یہ آئین پیٹھ مکمل طور پر غیر آئینی ہے جسٹس کرنن میں نے آئین پیٹھ اور جسٹس کرنن درمیان سوال جواب، الزام تراشیوں کا جو دور چلا اس اہم اقتباسات پیش کر دیئے ہیں. معاملہ پیچیدہ ہے. سپریم کورٹ نے اپنے طویل عدالتی تاریخ میں ایسا کیس پہلے نہ سنا اور نہ ہی اس پر فیصلہ دینے کی ضرورت پڑی. ہندوستانی جمہوریت میں سپریم کورٹ سپریم ادارہ ہے جسے چیلنج نہیں دی جا سکتی. ہماری رائے میں تو یہ معاملہ جسٹس کرنن کے معافی مانگنے سے ختم ہو سکتا ہے. جسٹس کرنن پہلے غیر مشروط مانگیں تو پھر باقی مسائل پر سپریم کورٹ غور کر سکتا ہے. جسٹس کرنن کو ہماری رائے میں سپریم کورٹ کی آئینی پیٹھ کو چیلنج دینا نہ صرف حماقت ہے بلکہ غلط روایت ہے. ایک بار جسٹس ?رن غیر مشروط معافی مانگ لیں تو سپریم کورٹ کو ان جائز شکایات پر غور کرنا چاہئے. خیر یہ تو ہمارے خیالات ہیں ملاحظہ سپریم کورٹ آگے کیا کرتا ہے؟ 
(انل نریندر)

ہائی وے کنارے شراب کی دکانوں پر پابندی

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد قومی شاہراہوں کے 500 میٹر کے دائرے میں آنے والی شراب کی دکانیں بند ہوں گی. یہ حکم ایک اپریل سے لاگو ہونا ہے. اسی حکم کے تحت 500 میٹر کے دائرے میں آنے والی شراب کی دکانوں کو کوئی ریلیف نہیں دی لیکن سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن علاقوں میں آبادی 20 ہزار سے کم ہو گی تو وہاں شراب کی دکانوں کے فاصلے ہائی وے سے 220 میٹر ہوگی. ساتھ ہی سپریم کورٹ نے نیشنل اسٹیٹ ہائی وے سے 500 میٹر کے دائرے میں تمام ہوٹل۔ریستوران اور پب بھی شراب دکھائے نہیں کر سکیں گے. اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے سپریم کورٹ سے کہا کہ شراب کی دکانوں کے علاوہ ہوٹلوں۔ریستورانوں پر حکم لاگو نہیں کیا جانا چاہئے لیکن عدالت عظمی نے اٹارنی جنرل کی اس رائے کو مسترد کر دیا. چیف جسٹس جے ایس کھیر کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ شراب پی کر گاڑی چلانے کی وجہ ہونے والے سڑک حادثوں کے پیش نظر یہ حکم دیا گیا ہے. گرگرام میں تو اس نئے حکم کے سبب کئی پانچ ستارہ ہوٹل بھی متاثر ہوں گے. نامی ہوٹل جیسے لیلا، ٹرارڈیٹ، ووسٹن، اوبرائے اور کرونی پلازہ میں بھی اس کا اطلاق ہوگا. اس کے علاوہ کئی پب ایسے ہیں جہاں شراب پر سارہ دھندہ ٹکا ہوا ہے اور یہ نوجوانوں کا مقبول پب ہے. سوال یہ اٹھتا ہے کہ کون سا ادارہ 500 میٹر کے اندر آتا ہے؟ یہ طے ایکسائز ڈپارٹ کو کرنا ہوگا. پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ کون کون نیشنل اسٹیٹ ہائی وے کے 500 میٹر کے دائرے میں آتا ہے. ان اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کا کیا ہوگا؟ کیا اس سے بے روزگاری نہیں بڑھے گی. کچھ لوگ اس فیصلے کا خیر مقدم بھی ہیں. وہ کہتے ہیں کہ شراب کے ٹھیکوں کی وجہ سے شام ڈھلتے ہی سماج دشمن عناصر فعال ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے.
شراب پی کر یہ لوگ آفس اور دکانوں کے آگے خالی بوتلیں اور دیگر اسی پھینک کر گندگی پیدا کرتے ہیں. مارکیٹ میں کھلی شراب کی دکانوں کی وجہ سے ارد گرد کے دکانداروں اور باہر سے آنے والے لوگ پریشان ہو جاتے ہیں۔شام ڈھلتے ہی مارکیٹ میں شرابیوں کی بھیڑ لگنا شروع ہو جاتی ہے۔اس سے یہاں آنے والوں خاص کر عورتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ جاتا ہے۔اور کئی بار ؂تو شرابی عورتوں و لڑکیوں پر گندے فقرے کستے ہیں جس وجہ سے کئی بار جھگڑے ہو جاتے ہیں۔ اس پابندی کے بعد دوسرے دوکاندار خوش ہیں وہیں ان ٹھیکوں کے آس پاس نمکین سوڈا و کھانے پینے کا سامان بیچنے والے مایوس ہیں ۔ان کا کہنا ہے پابندی سے ان کی روزی روٹی پر لات لگ جائیگی۔ہمارا دھندا تو ان شراب کی دکانوں سے ہی چل رہا ہے۔
 (انل نریندر)

02 اپریل 2017

اف! ابھی سے مئی جون کی گرمی جھلسانے لگی

مارچ کا مہینہ اب گزرا بھی نہیں کہ سورج کی تپش نے آنکھیں دکھانی شروع کر دی ہیں. اتر پردیش، ہریانہ، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں پارا 40 کے پار پہنچ رہا ہے. پیر کے بعد سے ہی دہلی سمیت نو ریاست لو کی زد میں آ گئے ہیں. بھارتی محکمہ موسمیات نے مہاراشٹر میں لو کی وارننگ جاری کی ہے. محکمہ کے مطابق مہاراشٹر، یوپی، ہریانہ، مدھیہ پردیش، اڑیسہ، راجستھان، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور گجرات کے زیادہ تر حصوں میں لو چل رہی ہے. راجستھان کے مغربی اور مشرقی علاقوں کی صورت حال اب سے سنگین ہونے لگی ہے. مہاراشٹر کے وزیر صحت نے بتایا کہ ریاست کے اورنگ آباد اور شعلہ پور اضلاع میں لو سے لوگوں کے مرنے کی خبر ہے. مہاراشٹر میں ہی پانچ لوگوں کی موت ہو گئی ہے. ادھر دہلی قومی دارالحکومت علاقہ میں درجہ حرارت بڑھنے شروع ہو گیا ہے. دو دنوں سے بڑھ رہے ہیں درجہ حرارت نے اپنے سارے پرانے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، ساتھ ہی گرم ہواؤں کے تھپیڑو نے موسم کے پیٹرن میں ابال لا دیا ہے. محکمہ موسمیات نے جمعرات کو بادل چھانے کا امکان ظاہر کیا تھا، لیکن اس کے برعکس دن بھر کی تپش سے لوگ پسینہ پسینہ رہے. جمعرات کے دن کے آغاز ہی عام دنوں کے مقابلے میں چھ ڈگری سے زیادہ درجہ حرارت سے ہوئی اور رات آٹھ بجے تک زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ بنا ہوا تھا. یہ اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ مرکری اپنے گزشتہ ریکارڈ توڑنے پر آمادہ ہے. ابھی سے بہت ساری جگہوں کا پارہ 42 ڈگری سینٹی گریڈ کے پار نکل گیا ہے. مانا جا رہا ہے کہ اس سال موسم گرما لمبی چلے گی. موسم کے ماہرین کا خیال ہے کہ گرمی کا یہ دور ال Ni241o کی وجہ سے ہو رہا ہے. جس مارچ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34۔35 ڈگری سے آگے نہیں جاتا تھا وہ اب سے 42 ڈگری سے تجاوز کر رہا ہے. گلوبل وارمنگ کے سلسلے میں خدشہ تو پہلے ہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہی رفتار رہی تو اگلے 50 سے 100 سال میں زمین کے درجہ حرارت اتنا بڑھ چکا ہوگا کہ اس کا مقابلہ ناممکن ہو جائے گا. اس خطرے کے لئے ہم خود مجرم ہیں. ہماری اپنی طرز زندگی، جنگل تو کٹے ہی، گھروں میں صحن کیا، پودوں کی کیاری بھی ختم ہو گئی ہے. فلیٹ کلچر نے اس بحران کو اور بڑھا دیا ہے. بجلی کی ابھی سے ڈیمانڈ انتہائی پر پہنچ گئی ہے. ایک طرف گرمی کے بحران دوسری طرف بجلی کٹوتی نے لوگوں کا جینا مشکل ہو جائے گاموسم کے رد و بدل سے بیماریاں پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ادھر مانسون کی کمی بھی ظاہر کی جا رہی ہے اور خشک سالی اور ہنگامی حالات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے سبھی کو ابھی سے طے کرنا ہوگا کہ اس گرمی میں فصل اور زندگی کیسے محفوظ رہ سکے گی؟گھروں میں کاروں کے چلتے اور ائیر کنڈیشنگ سے گرمی میں ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے لیکن اس سے نکلنے والی گرمی گرین ہاؤس کے اثر کو بڑھا رہی ہے۔ 

انل نریندر

واٹس ایپ سے سرحد پار کے ایما سے پتھر بازی

کشمیر میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز کے جوانوں کو مقامی نوجوانوں کے احتجاج اور تشدد کا مسلسل سامنا ہے وہ انتہائی سنگین اور لمحہ معاملہ ہے. گزشتہ منگل کو بڑگاو کے ایک گاؤں میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے سیکورٹی فورس کے جوانوں کو پتھر بازی کا سامنا کرنا پڑا جس سے 60 سے زائد جوان زخمی ہو گئے تو جوابی کارروائی میں تین مظاہرین بھی مارے گئے. یہ اعداد و شمار بتاتا ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ میں سیکورٹی فورسز کے خلاف مقامی لوگوں کے متشدد احتجاج کی وجہ سے 25 دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے. وادی میں موجودہ حالات بہت سنگین ہیں. سری نگر اور اننت ناگ لوک سبھا سیٹوں پر ضمنی انتخابات نے اور معاملہ گرم کر دیا ہے. وادی میں تازہ تشدد اور پتھر بازی کے واقعات کے پیچھے پاکستان تائید دہشت گرد گروہوں کا ہاتھ مانا جا رہا ہے. حکومت کو ملی معلومات کے مطابق وادی میں علیحدگی پسند عناصر اور پاک تائید دہشت گرد ملی بھگت کرکے سری نگر اور اننت ناگ میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں خلل ڈالنے کرنا چاہتے ہیں. وادی میں علیحدگی پسند پتتھرباجو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. کشمیر میں پتھر بازی کے واقعات کو لے کر کشمیر پولیس کی پریشانی کا عالم ہے کیونکہ و?اٹسیپ گروپوں کے ذریعے اب کشمیر کی پتھر بازی کی آن لائن اور لائیو رپورٹنگ ہونے سے سرحد پار بیٹھے کھانا آقا دہشت گردوں کی ہی طرح اب پتتھرباجو کو بھی و?اٹسیپ سے کنٹرول کر ان پتھر بازی کو کام کرنے لگے ہیں. حال ہی میں سرینگر میں درج ایک معاملے میں جموں و کشمیر پولیس نے الزام لگایا ہے کہ پتھر بازی کے لئے کئی و?اٹسیپ گروپ بنائے گئے ہیں، جن کے منتظم پاکستانی ہیں. افسر بتاتے ہیں کہ ان گروپوں میں سیکورٹی فورسز کی طرف سے چلائے جا رہے انکاؤنٹر کے عین مطابق لوکیشن اور وقت بھیجا جاتا ہے، پھر نوجوانوں سے وہاں پہنچنے کے لیے کہا جاتا ہے. کشمیر پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ جیسے ہی انکاؤنٹر شروع ہوتا ہے پاکستان کے دہشت گرد تنظیموں کے لوگ لوکیشن کے بارے میں درست معلومات بھیج کر نوجوانوں کو ایک جگہ جمع ہونے کو کہتے ہیں. ان و?اٹسیپ گروپوں میں ایک ایر?ے کے نوجوانوں کو اگلے ایر?ے کے نوجوانوں سے شامل کرنے کے لئے بھی لنک ڈالے جاتے ہیں. ڈی جی پی ایس پی جائز کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال ملک کے دشمنوں کی طرف سے کیا جا رہا ہے. اس دوران جموں و کشمیر میں پیلیٹ گن کے استعمال کو لے کر ہونے والی تنقید اور سپریم کورٹ کی جانب سے اس کے متبادل تلاش کرنے کی ہدایات کے درمیان منگل کو مرکز نے اس معاملے پر اپنا رخ واضح کرتے ہوئے کہا کہ فسادیوں کو قابو کرنے کے تمام اختیارات کے ختم ہونے کی صورت میں ہی سیکورٹی فورس پیلیٹ گن کا استعمال کر سکتے ہیں. لوک سبھا میں ایک سوال پوچھا گیا تھا کہ کشمیر میں پیلیٹ گن سے سینکڑوں لوگوں کی آنکھوں کی روشنی جانے کی رپورٹ کے پیش نظر حکومت اس استعمال کا جائزہ لے رہی ہے؟ مرکزی داخلہ وزیر مملکت ہنس راج گگارام نے بتایا کہ 26 جولائی 2016 کو ایک ماہر کمیٹی تشکیل دی تھی. اس کمیٹی کو ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ غیر مہلک ہتھیاروں کے طور پر پیلیٹ گن کے دیگر ممکنہ اختیارات تلاش کرے. کمیٹی نے اپنی رپورٹ سونپ دی ہے اور مناسب عمل کے لئے حکومت نے اس کی سفارشات پر نوٹس لیا ہے. انہوں نے بتایا 246 اسی کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سیکورٹی فورس فسادیوں مانے کے لئے مختلف اقدامات کا استعمال کریں گے. ان میں گولے اور دستی بم، آنسو گیس کے گولے شامل ہیں. اگر یہ اقدامات ناکافی ثابت ہوتے ہیں تو پیلیٹ گن کا استعمال کیا جا سکتا ہے. 
انل نریندر

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...