Translater

22 اکتوبر 2011

نہ تو میں مہنگائی کیلئے ذمہ دار ہوں نہ ہی اسے کم کرسکتا ہوں




Published On 22nd October 2011
انل نریندر
مسٹر منموہن سنگھ کی یہ یوپی اے حکومت کمال کی ہے۔ اس حکومت میں کسی بھی وزیر کے جو نظریات ہوں وہ انہیں کہہ ہی دیتا ہے اور اس کے لئے وہ کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم ایسے بیانوں کو اتحادی مجبوری کہہ کر ٹال دیتے ہیں لیکن ان سے پتہ چلتا ہے کہ منموہن سنگھ کی کیبنٹ میں ان کی کتنی عزت ہے اور وہ کتنے طاقتور ہیں۔ ضمنی چناؤ میں ملی کراری شکست کے بعد اب کانگریس کی ساتھی پارٹیوں نے بھی وزیر اعظم اور کانگریسی پارٹیوں کو ہار کے لئے ذمہ دار ٹھہرانا شروع کردیا ہے۔ مہاراشٹر کی کھڑک واسلا اسمبلی سیٹ پر ملی ہار سے بوکھلا گئے وزیر ذراعت شرد پوار نے براہ راست وزیر اعظم پر ہی حملہ بول دیا ہے۔پوار نے ایک مراٹھی روزنامے کی طرف سے ممبئی میں منعقدہ ایک تقریب میں کہا کہ پچھلے دنوں مختلف گھوٹالوں کے سلسلے میں سرکار نے مضبوط لیڈر شپ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پوار نے کہا کہ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کے سلسلے میں جنتا یہ سوال پوچھ رہی تھی کہ پردھان منتری پورے معاملے میں مداخلت کیوں نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ایسے وقت جبکہ لیڈرشپ کو مضبوطی کے ساتھ اس کی صفائی دینی چاہئے تھی مرکزی حکومت کی طرف سے کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے آگے کہا مختلف گھوٹالوں کے سبب عوامی رائے مرکزی حکومت کے خلاف گئی ہے اور اس سے سرکار کی ساکھ کو دھکا لگا۔ سرکار کی سست روی کا نتیجہ یہ ہوا کہ عدلیہ نے انتہائی سرگرمی دکھاتے ہوئے مختلف قدم اٹھائے۔ انا ہزارے اور یوگ گورو بابا رام دیو کے بھرشٹاچار مخالف آندولن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں منتخب نمائندوں کو پوری طاقت سے اپنا کردار نبھانا چاہئے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو دیگر طاقتوں کو سامنے آنے کا موقعہ ملے گا جو جمہوری نظام کے لئے اچھی بات نہیں ہے۔ شرد پوار یہیں نہیں رکے، بدھوار کو نئی دہلی میں اقتصادیات کے مدیروں کی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے پوار نے کہا کہ نہ تو میں مہنگائی کے لئے ذمہ دار ہوں اور نہ ہی اسے کم کرنا میرا کام ہے۔ میں وزیر زراعت یعنی ایک کسان ہوں اور میرا کام اناج پیدا کرنا ہے۔ میری وزارت کی یہ بھی کوشش رہتی ہے کسان کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے۔
ہم کو شرد پوار کی باتیں سن کر زیادہ حیرانی نہیں ہوئی۔ یہ پہلے بھی کانگریس لیڈرشپ پر سیدھے حملے کرچکے ہیں۔ اگر ایسے بیانوں کا اپوزیشن پارٹی فائدہ اٹھائے تو حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ بھاجپا پوار کے بیان سے خوش ہیں۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ یوپی اے ڈوبتا جہاز ہے اور اب اس سے بھاگنے کی سبھی پارٹیاں کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے وزیر اعظم کے ساتھ بنگلہ دیش جانے سے انکار کے بعد اب ایسا لگتا ہے کہ بڑی اتحادی پارٹی اور وزیر زراعت شرد پوار یوپی اے کو چھوڑنے کی تیاری میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک سینئر وزیر اپنے ہی وزیر اعظم اور سرکار کی پالیسیوں پر اس طرح کے سوال اٹھاتا ہے تو مجموعی ذمہ داری کہاں گئی؟ ذمہ داری کی بات کریں تو شری پوار تو صاف کہتے ہیں کہ مہنگائی کم کرنا میرا کام نہیں۔ اگر یہ کام شرد پوار کا نہیں تو کس کا ہے؟ اور اگر وہ اپنی سرکار کی پالیسیوں سے اتنے ناخوش ہیں اور متفق ہیں تو انہیں سرکار میں رہنے کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا۔ کیوں نہیں شرد پوار منموہن سنگھ سرکار سے استعفیٰ دے دیتے۔ ہمیں پردھان منتری پر بھی رحم آتا ہے جو وزیر اعظم اپنے سینئر وزرا پر لگام نہیں کس سکتا وہ پورے دیش کو کیسے چلا سکتا ہے؟ جیسے دیش چل رہا ہے وہ سب کے سامنے ہی ہے۔
Anil Narendra, Baba Ram Dev, BJP, Congress, Corruption, Daily Pratap, Inflation, Manmohan Singh, Price Rise, Sharad Pawar, UPA, Vir Arjun

بدسے بدتر ہوتے پاکستان کے حالات




Published On 22nd October 2011
انل نریندر
پاکستان کی حالت دن بدن ابتر ہوتی جارہی ہے۔ دیش کے اندر حالات خراب ہیں تو سرحد پر دھماکہ خیز صورتحال بنی ہوئی ہے۔ راولپنڈی جیسے شہر میں لوہے کی راڈ سے مسلح 60 سے زیادہ نقاب پوش (کٹر پسندوں) نے لڑکیوں کے ایک اسکول میں زبردستی گھس کر طالبات و ٹیچروں کی بری طرح سے پٹائی کی ہے۔ راولپنڈی ضلع انتظامیہ نے روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا ہے کہ جمعہ کے اس واقعہ کے بعد سے شہر میں دہشت کا ماحول بنا ہوا ہے۔ واردات کی خبر ملنے کے بعد سبھی اسکول بند کردئے گئے ہیں۔ اس ورادات کا خوف سبھی ماڈل اسکولوں میں پڑھنے والی طالبات میں اس حد تک بیٹھ گیا ہے کہ اسکول کی400 طالبات میں سے محض25 لڑکیاں ہی اسکول آئیں۔ آس پاس کے اسکولوں کے طالبعلم بھی اس واردات سے اس قدر سہمے ہوئے ہیں کہ کوئی بھی طالبات کی مدد کے لئے موقعہ واردات پر نہیں پہنچ سکا۔ نیوٹاؤن تھانے کے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ اس معاملے میں کوئی کارروائی نہ کرنے کے سخت احکامات ملے ہیں۔ کٹر پسند حملہ آوروں نے طالبات اور دیگر اسکولوں کو حجاب پہننے کی وارننگ بھی دے دی ہے۔
ادھر امریکہ نے پاکستان کے شورش زدہ قبائلی نارتھ وزیرستان علاقے کے ساتھ لگے افغان علاقے میں بھاری گولہ بارود اور توپیں اور ہیلی کاپٹروں کے ساتھ سینکڑوں نئے فوجیوں کو بھیج دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی علاقے میں آمدو رفت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے سنیچر ،ایتوار کی رات کو پاکستان کے غلام خاں سے لگے علاقوں میں امریکی فوجیوں کو نئے مورچوں پر تعینات کردیا گیا ہے۔ جی ای او ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سرحدی علاقوں میں مقیم قبائلی لوگوں نے بتایا کہ افغان اور امریکن حکام نے مشرقی خوست صوبے کے کئی حصوں میں کرفیو لگادیا ہے اور گھر گھر کی تلاشی لی جارہی ہے۔ دی نیوز نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ لگتے سرحدی علاقوں میں امریکی دستوں کی اچانک تعیناتی سے آتنک واد سے متاثرہ نارتھ وزیرستان میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔ کیونکہ امریکی دستوں نے فوراً پاکستان کے سرحدی قصبے غلام خان اور خوست کو جوڑنے والے بڑے راستوں پر ٹریفک بند کردیا ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں نے پاکستان کی ناک میں دم کررکھا ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع احمد مختار نے امریکہ کووارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان سرکار کا صبر ختم ہوتاجارہا ہے اور واشنگٹن کو اس کی سرحد پار نہیں کرنی چاہئے۔ پاکستان مسلسل ایک کے بعد ایک ڈرون حملوں کی مخالفت کرتا آرہا ہے۔ مختار نے کہا کہ ان کی سرکار جلد ہی ڈرون حملوں پر ترمیمی پالیسیوں کا خلاصہ کرے گی۔
پاکستان میں ڈرون حملوں پر حال ہی میں آئی رپورٹ کے مطابق جون2004 سے جاری حملوں میں اب تک173 بچوں سمیت 775 لوگ مارے جاچکے ہیں۔ امریکہ نے اتنے برسوں میں یومیہ برس 33 حملوں کے حساب سے 300 ڈرون حملے کئے ہیں۔ یہ رپورٹ لندن میں واقع بیورو آف انویسٹی گیٹو جرنلزم نے حال ہی میں جاری کی ہے ۔ امریکہ اور پاکستان میں کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف ایک طرف فوجی کارروائی کے بڑھتے اندیشے کے درمیان امریکہ کو سخت وارننگ دی ہے۔ کیانی نے کہا کہ واشنگٹن ان کے دیش کو عراق یا افغانستان سمجھنے کی بھول نہ کرے۔ اور کسی بھی حملے سے پہلے وہ دس بار سوچ لے۔
پاکستانی ہیڈ کوارٹر میں ہوئی ڈیفنس کمیٹی کی میٹنگ میں پاکستانی فوج کے چیف نے زور دیکر کہا کہ شورش زدہ نارتھ وزیرستان میں آتنکیوں کے خلاف کارروائی کرنے اور کب کرنی ہے اس کا فیصلہ صرف اور صرف پاکستان کرے گا۔ انہوں نے کہا پاکستان نیوکلیائی طاقت ہے اور اس کا موازنہ عراق یا افغانستان سے نہیں کیا جاسکتا۔ جنرل کیانی نے امریکہ کو نیوکلیائی بم کی دھونس دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرفہ کسی بھی کارروائی کرنے سے پہلے امریکہ کو دس بار سوچنا ہوگا۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Haqqani Network, ISI, Pakistan, USA, Vir Arjun

21 اکتوبر 2011

کیا نریندر مودی پارٹی سے اوپر ہوچکے ہیں؟




Published On 21st October 2011
انل نریندر
کچھ وقت پہلے سے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی اور ان کی پارٹی بھاجپا کے درمیان کچھ حساب کتاب ٹھیک نہیں لگ رہا ہے۔ بھاجپا میں مودی کو لیکردونوں ناراضگی اور علیحدگی پسندی کا جذبہ پیدا ہونے لگا ہے۔ بھاجپا کی لیڈر شپ کا ماننا ہے کہ نریندر مودی کو اب غرور ہوگیا ہے اور وہ اپنے آپ کو پارٹی سے اوپر ماننے لگے ہیں۔ پارٹی نے مودی کو ان کی حیثیت کا احساس کروانا شروع کردیا ہے۔ لال کرشن اڈوانی کی جن چیتنا یاترا پر آنکھیں دکھانے والے نریندر مودی کو اس یاترا میں بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے۔ وہ کہیں نظر نہیں آرہے ہیں اور اب اخباروں میں ان کی سرخیاں بھی کم دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ اڈوانی جی نے اپنی یاترا میں بھاجپا کی طرف اور تمام وزیر اعلی کے کام کاج اور کارناموں کا ذکر کیا ہے لیکن انہوں نے ابھی تک کسی بھی بڑے جلسے میں نریندر مودی کا نام تک نہیں لیا ہے۔ یہ ہی اڈوانی پہلے نریندر مودی کو ایک مثالی وزیر اعلی کے طور پر پیش کرتے نہیں تھکتے تھے۔ بھاجپا لیڈر شپ کا خیال ہے کہ مودی کا سیاسی قد کافی بڑا ہوسکتا ہے اور انہیں احساس کرانے کی ضرورت ہے ۔پارٹی ان کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ پارٹی سے ہیں۔ اس مسئلے پر اب غور کیا جارہا ہے کہ اگلے سال اترپردیش و دیگر ریاستوں میں اسمبلی انتخابات میں مودی کو پرچار کے لئے نہ بلایا جائے۔ پارٹی کو لگتا ہے کہ وہ اپنی کٹر پسند ہندوتو ساکھ کے سبب اگر مودی پرچار کرتے ہیں تو تمام مسلمان بکھرجائیں گے۔ بھاجپا کا مودی کی وجہ سے اختلاف کرنا شروع کردیں گے۔ بھاجپا کو یہ معلوم ہے ایک بھی مسلمان ووٹ اسے ملنے والا نہیں لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتی کہ بلاوجہ مسلمان پارٹی کے خلاف جارحانہ رویہ اختیارکرلے۔ پارٹی اترپردیش میں پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقے کو اپنے ساتھ جوڑنے کیلئے نتیش کمار کی مدد لینا بہتر متبادل سمجھنے لگی ہے۔ نتیش کمار نریندر مودی کے کٹر مخالف مانے جاتے ہیں یہ محض اتفاق نہیں کہ مسٹر اڈوانی نے اپنی جن چیتنا یاترا کو بہار سے شروع کیا اور اس یاترا کو ہری جھنڈی بھی نتیش کمار نے ہی دکھائی تھی۔ بہار اسمبلی چناؤ کے دوران بھی انہوں نے مودی کو ریاست میں نہ بھیجنے کی وارننگ دی تھی۔ بھاجپا نے اس پر عمل کیااور نتیجے سب سامنے ہیں۔آج نتیش کمار این ڈی اے کے سب سے طاقتور امیدوار بن کر ابھرے ہیں۔ بھاجپا کو بھی یہ اچھا لگتا ہے کہ وہ این ڈی اے کو آگے بڑھائے اور اس راستے سے وہ اقتدار تک پہنچے۔ مودی کا قد چھوٹا کرنے کے لئے بھاجپا لیڈر شپ اور سنگھ نے مل کر جان بوجھ کر سنجے جوشی کو ذمہ داری سونپی ہے۔ نریندر مودی سنجے جوشی کو بیحد نا پسند کرتے ہیں۔ انہیں تنظیمی سکریٹری کے عہدے سے ہٹوانے میں ان کا بہت اہم کردار رہا۔ ویسے تو لال کرشن اڈوانی بھی سنجے جوشی کو پسند نہیں کرتے کیونکہ جناح معاملے میں سنجے جوشی نے ہی اڈوانی کو پارٹی صدارت سے استعفیٰ دینے کو کہا تھا۔ عام طور پر پردھان اپنا استعفیٰ نائب پردھان کو دیتا ہے لیکن اڈوانی نے اپنا استعفیٰ سنجے جوشی کو بھیجا تھا۔
شری نریندر مودی کی پریشانیاں بڑھتی جارہی ہیں وہ اپنے گھر میں ہی گھرتے جارہے ہیں۔ گجرات دنگوں کے معاملے میں نریندر مودی کو پھنسانے کے لئے جھوٹے ثبوت گھڑنے والے معطل اور پھر گرفتار کئے گئے آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو مقامی عدالت نے تمام اختلاف کے باوجود ضمانت دے دی۔ عدالت نے اس معاملے پرشبہ ظاہر کیا جس کے تحت اسے گرفتار کیا گیا۔ رہا ہوتے ہی بھٹ نے مودی پر حملہ بول دیا اور ان کو مجرم بتاتے ہوئے کہا کہ میرے لئے مودی صرف ایک مجرم ہیں جو وزیر اعلی بن گئے ہیں۔ مودی اور ان کے لوگ خود کو بچانے کے لئے میرا قتل کروا سکتے ہیں جیسا کہ ہریند پانڈیہ کا کرایا گیا تھا۔
یہ یقینی ہے کانگریس جو سنجیو بھٹ کو اکسارہی ہے۔ ان کو ضمانت پر چھڑوانے اور باہر آنے کا پورا فائدہ وہ اٹھائے گی۔ حیرانگی تو اس بات پر بھی ہے کہ گجرات کے تین سینئر پولیس افسران نے سنجیو بھٹ کی کھلی حمایت کی ہے۔ 30 ستمبر کو بھٹ کی گرفتاری کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب افسران بھٹ کے خاندان سے ملنے گھر گئے اور سنجیو کی بیوی شویتا سے ملاقات کی، جو دو گھنٹے چلی۔ شویتا نے بتایا کہ تینوں افسران نے سنجیو کے ساتھ ہورہی نا انصافی پر افسوس ظاہر کیا اور مدد کا یقین دلایا۔ آنے والے دنوں میں لگتا ہے کہ نریندر مودی کی پریشانیاں بڑھنے والی ہیں گھٹنے والی نہیں۔
Anil Narendra, Bihar, BJP, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Nitin Gadkari, Nitish Kumar, Rath Yatra, Sanjay Joshi, Sanjeev Bhatt, Vir Arjun

20 اکتوبر 2011

بھارت کی پہلی ایف ون گران پری ریس



Published On 21st October 2011
انل نریندر
دیش میں رفتار کے جادو کی تاریخ بنانے کے لئے گریٹر نوئیڈا میں واقع بدھ انٹرنیشنل سرکٹ کاٹریک لانچ ہوچکا ہے۔ میڈیا کے سامنے ریڈ بل کی کار دوڑا کر اس کے کرنامے سے روبرو کرایا گیا۔ تقریباً400 ملین ڈالر(تقریباً دو ہزار کروڑ روپے) سے تیار ہوا یہ ٹریک دنیا کے عالیشان ٹریکوں میں سے ایک ہے۔ اس کا ٹریک 5.4 کلو میٹر لمبا اور10 سے14 میٹر چوڑا ہے جو 875 ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے۔ اس میں 16 موڑ ہیں اور اس میں ناظرین کی بیٹھنے کی صلاحیت تقریباً1 لاکھ10 ہزار ہے۔ اس میں زیادہ تر رفتار 320 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ جس ایک F-1 کار نارتھ سے ایسٹ کے درمیان 1.4 کلو میٹر کے سیدھے حصے میں حاصل کرسکتی ہے۔ بدھ انٹر نیشنل فارمولہ ون سرکٹ 24 دولہوں کا خیر مقدم کرنے کو تیار ہے۔ یہ دعوی پہلی انڈین گراپری F1 ریس کے انعقاد کرنے والے جے پی گروپ نے کیا ہے۔ لیکن میزبانی کا اصل انتظار 28 اکتوبر کو ریہرسل اور کوالیفائنگ دوڑوں اور پھر 30 اکتوبر کو بڑی دوڑ کے دوران ہوگی۔اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ سرکٹ بنانے والی کمپنی جے پی گروپ نے بھارت کو دنیا کے F1 نقشے میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔ تین سال پہلے کسی نے شاید یہ تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ اتنا خوبصورت ٹریک بھارت میں بھی بن سکتا ہے۔ جب تین سال پہلے جے پی گروپ کو دیش میں فارمولہ ون سرکٹ بنانے کا نشانہ ملا تو یہ ایک بڑا چیلنج مانا جارہا تھا لیکن اس نے اس چیلنج کو قبول کیا اور وقت سے پہلے ٹریک کھڑا کردیا۔ جیسا کہ جے پی گروپ کے چیئرمین منوج گوڑ بتاتے ہیں جب ان کے والد و گروپ کے بانی نے اس کی خواہش ظاہرکی تب یہ کام بہت چیلنج بھرا تھا کیونکہ اس کے لئے وسائل حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ یہ سرکٹ ان لوگوں کی کڑی محنت کا نتیجہ ہے جو پچھلے ڈھائی برسوں سے اسے قطعی شکل دینے میں لگے رہے۔ اس ٹریک کی تعمیر پر تقریباً 5 ہزار لوگوں نے اپنا تعاون دیا جن میں 300 انجینئر تھے۔ ٹریک کا جائزہ لینے 50 مرسڈیز پر سوار ہوکر بھارتیہ اور غیر ملکی میڈیا نے ٹریک کا جائزہ لیا۔ جہاں ہم امید کرتے ہیں کے F1 ریس کی تمام اڑچنیں ریس آنے تک دور ہوجائیں گی ۔جس میں کسانوں کا احتجاج، ٹکٹوں کی بکری و سپریم کورٹ کی طرف سے ٹیکس فری کرنے کا نوٹس شامل ہے، وہیں قارئین کو یہ بھی بتانا چاہیں گے کہ یہ دوڑ یا کھیل دنیا کے خطرناک کھیلوں میں شامل ہے۔ امریکہ کے لاس ویگاس موٹر اسپیڈ وے نامی ایک ریس ایتوار کو ہوئی ۔ انڈیکا300 نامی اس ریس کے 13 ویں لیپ میں 15 کاریں آپس میں ٹکرا گئیں۔ جس وقت یہ کاریں بھڑیں اس وقت ان کی رفتار تقریباً362 کلومیٹر فی گھنٹہ کی تھی۔ ان میں ایک ڈرائیور ڈین کی کارہوا میں اچھلی اور آگ کا گولہ بن گئی اس کی اس حادثہ میں موت ہوگئی۔ اس لئے اس کارنامے کے ساتھ ساتھ یہ کھیل خطروں بھرا بھی ہے۔ اس کے ڈرائیور بہت قابل اور بہت اچھی ٹریننگ لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ بدھ انٹرنیشنل سرکٹ پر F1 ریس دیکھنے کیلئے تین دن تک موٹی رقم خرچ نہ کرریس دیکھنے کی آس لگائے لوگوں کے لئے خوشخبری ہے کچھ اسٹینڈ کے تین دن ٹکٹوں کو ایک دن کے لئے دستیاب کروادیا گیا ہے۔ آئی جی پی کے آخری دن یعنی 30 اکتوبر کو35 ہزار روپے کا مین گران اسٹینڈ کا ٹکٹ15 ہزار روپے میں مل سکتا ہے۔ اسی طرح کلاسک اسٹینڈ کا ٹکٹ6500 روپے کی جگہ 4000 روپے اور پکنک اسٹنڈ کا ٹکٹ 6000 کی جگہ3000 میں ملے گا۔ جے پی ایس آئی کے سی ای او ایم ڈی سمیر گوڑ نے بتایا کہ ہندوستان میں یہ پہلی کار دوڑ ہورہی ہے اس لئے ہر کوئی اسے دیکھنا چاہتا ہے۔ غیر ملکوں سے بھی بہت سے لوگ اس ریس کو دیکھنے آرہے ہیں۔ اسپانسر اور انعقاد کرنے والے یا حصہ لینے والے سبھی کو ہماری نیک خواہشات اور امید کرتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہے گا اور دنیا ٹی وی پر دیکھے گی بھارت گران پری کی پہلی ریس۔
Budh Circuit, Car Race, F1, Greater Noida, JP Group, Supreme Court, Uttar Pradesh, Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun,

انا اور ان کی ٹیم پر چوطرفہ حملے



Published On 20th October 2011
انل نریندر
انا ہزارے اور ان کی ٹیم پچھلے کچھ دنوں سے چاروں طرف سے مسائل سے گھرتی جارہی ہے۔ ایک ایک کرکے کئی مسئلے کھڑے ہوگئے ہیں۔ انا نے خود مون برت اختیار کیا ہوا ہے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے کہا ہے کہ سوالوں سے پریشان انا نے جواب نہ دینے کیلئے مون برت کیا ہے۔ان کے سپہ سالاراروند کیجریوال پر لکھنؤ میں ایک شخص نے چپل پھینکی۔ اترپردیش میں انا کا سندیش لے کر دورہ کررہے کیجریوال راجدھانی میں گومتی ندی کے کنارے جھولے لال پارک میں منعقدہ ایک پروگرام میں حصہ لینے کیلئے کار سے اترکر اسٹیج کی طرف بڑھ رہے تھے کہ 40 سالہ شخص جتیندر پاٹھک نے ان پر چپل پھینک دی۔ حملہ آور کا الزام ہے کہ کیجریوال لوگوں کو ورغلا رہے ہیں ۔اس لئے ان پر حملہ کیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کسی تنظیم کے علاوہ سیاسی پارٹی سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ فی الحال جتیندر پاٹھک پولیس حراست میں ہے۔
ٹیم انا کے دو بڑے ممبر پی وی راج گوپال اور راجندر سنگھ نے تحریک کے سیاسی رنگ اختیار کرنے پر اعتراض ظاہرکرتے ہوئے کور کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ غلط فہمی کا شکار ہوگئی ہے۔ ادھر منگلوار کو ہی کانگریس سے صلح کرنے کی کوشش پر اس وقت پانی پھر گیا جب انا ہزارے کے گاؤں کے سرپنج اور ان کے ساتھی خاص طور سے دہلی آئے تاکہ راہل گاندھی سے ملاقات ہوسکے لیکن ان کے ہاتھوں مایوسی لگی۔ جب وقت دے کر راہل گاندھی انا کے نمائندوں سے نہیں ملے۔ سوموار کو یوگ گورو بابا رام دیو نے ٹیم انا پر ہی حملہ کردیا اور انہوں نے کہا پرشانت بھوشن کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ بابا رام دیو نے کہا کہ اظہار آزادی کے نام پر دیش کو توڑنے والی بیان بازی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا سماجی تحریک میں شامل لوگ بھی دیش کو توڑنے والے بیان دیتے ہیں۔ جو دیش اور تحریکوں کے لئے بہت خطرناک ہے۔ انہوں نے انا ہزارے کو پرشانت بھوشن کے بیان پر اپنا موقف واضح کرنے کی صلاح دی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں رام دیو نے کہا کہ پرشانت بھوشن کے خلاف معاملہ درج ہونا چاہئے۔
آخر میں ٹیم انا کے خلاف ایک اور جھٹکا لگا جب سپریم کورٹ نے انا ہزارے کے ہند سوراج ٹرسٹ کو ملنے والے سرکاری پیسے کا غلط استعمال معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ والی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے لئے منظوری دے دی۔ جسٹس آفتاب عالم ، جسٹس رجنی دیسائی کے بنچ نے سرکاری وکیل منوہر لال شرما کی جانب سے دائرعرضی پر سرکار سے جواب طلب کیا۔ شرما نے الزام لگایا کہ سال 1995 میں ہزارے ٹرسٹ بنا تھا لیکن اسے غیر قانونی بتاتے ہوئے ایک مالی سال پہلے اقتصادی مدد دے دی گئی تھی۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ صاف ہے کہ یہ دھوکہ دھڑی سرکاری خزانے کے بیجا استعمال کا معاملہ ہے جومدعالیہ نمبر چار کی جانب سے کیا گیا۔ ساونت کمیشن کی 2005 میں آئی رپورٹ میں اس کا خلاصہ کیا گیا ہے۔ ان کے کچھ ساتھیوں یا گروپ سیاسی دوستوں نے ایسا کیا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹ نے غیر قانونی طریقے سے ایک کروڑ روپے سے بھی زیادہ کی رقم کونسل فار ایڈوانسمینٹ آف پیپلز ایکشن اینڈ رورل ٹیکنالوجی سے حاصل کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 1995 میں انا نے کپارٹ سے 75 لاکھ روپے لئے تھے۔ عرضی گذار نے کہا کہ 2001 میں کپارٹ نے 5 کروڑ روپے دیہی ہیلتھ کے نام پر جاری کئے تھے۔ کل کتنی رقم ٹرسٹ کو غیر قانونی طریقے سے دی گئی اس کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جانی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کرنے پر اپنی حامی بھردی ہے اور مرکز و مہاراشٹر سرکار کو جواب دینے کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ ٹیم انا پر چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں۔ انا خود تو بے داغ ہیں لیکن ان کے ساتھی یقینی طور سے انا کی تحریک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Baba Ram Dev, CBI, Daily Pratap, Digvijay Singh, Lokpal Bill, Prashant Bhushan, Supreme Court, Vir Arjun

حصار سے اٹھی تبدیلی اقتدار کی آندھی کانگریس روک پائے گی؟



Published On 20th October 2011
انل نریندر
حصار لوک سبھا ضمنی چناؤ کانگریس کے لئے دوررس اثر ڈال سکتے ہیں۔دونوں ٹیم انا اور اپوزیشن پارٹیوں کے حوصلے بلند ہیں۔ ہریانہ کے حصار اور پارلیمانی حلقے سمیت جن پانچ ریاستوں کی اسمبلی سیٹوں کے لئے 13 اکتوبر کو ضمنی چناؤ ہوئے تھے ان میں چار کے نتیجے کانگریس کے خلاف گئے۔ یہ ہی نہیں حصار میں کانگریس امیدوار کی ضمانت بھی ضبط ہوگئی۔ ان میں آندھرا پردیش، مہاراشٹر، بہار ریاستیں شامل تھیں۔ حصار پارلیمانی حلقے کو کانگریس نے اپنے وقار کا اشو بنا لیا تھا۔ انا کی اپیل کو پنکچر کرنے کے لئے کانگریس نے اپنی پوری طاقت لگا دی تھی۔ اپنے امیدوار جے پرکاش کی ساکھ بتانے کے لئے پارٹی نے پیسہ پانی کی طرح بہایا اور اغل بغل تین وزرائے اعلی اور ہریانہ کے سبھی وزیر اور دہلی سے اسٹار کمپینر کو حصار بھیجا گیا۔ راجستھان سے اشوک گہلوت، دہلی سے شیلا دیکشت گئیں اور خود ہریانہ کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا بھی وہیں ڈیرا ڈالے رہے۔ ساری انتظامی مشینری کا استعمال اور پلاٹ بانٹے گئے۔ وظیفے تقسیم کئے گئے۔ ہیڈ کوارٹر سے کئی جنرل سکریٹریوں نے حصار میں اپنی حکمت عملی بنائی۔ اسٹار کمپینر راج ببر نے خود ریلیاں کیں ، نتیجہ رہا صفر ۔جے پرکاش اپنی ضمانت بھی نہیں بچا سکے۔ مہاراشٹر کی کھڑک واسلا اسمبلی سیٹ کے لئے کانگریس نے مشترکہ امیدوار اتارا۔ سورگیہ رمیش واگلے کی بیوہ شردھا واگلے کو ٹکٹ دیا گیا تاکہ انہیں ہمدردی کی لہر مل سکے لیکن بھاجپا امیدوار بھیم راؤ نے کانگریس اور این سی پی کے مشترکہ امیدوار کو چاروں خانے چت کردیا۔ راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نو نرمان سینا کے ممبر اسمبلی رمیش واگلے کی موت کے بعد یہ سیٹ خالی ہوئی تھی۔ ان کی بیوی شردھا کو این سی پی کا امیدوار مرکزی وزیر شرد پوار کی خاص ہدایت کے بعد بنایا گیا تھا اور ان کے بھتیجے ریاست کے نائب وزیر اعلی اجیت پوار نے شردھا کے حق میں چناؤ مہم کرنے کے لئے دن رات ایک کردی تھی۔ان کے ذریعے کھڑک واسلا سیٹ پر اپنا امیدوار اعلان نہ کئے جانے اور کانگریس این سی پی کے امیدوار کی حمایت کردئے جانے کے بعد یہ سیٹ حکمراں محاذ کے لئے کسوٹی بن گئی تھی۔ شرد پوار اور ان کے بھتیجے اجیت پوار کی اپنے ہی گڑھ میں ہوئی اس مار کا مہاراشٹر کی سیاست پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ وہیں پہلے سے بھاجپا شیو سینا محاذ میں آر پی آئی کے جڑ جانے سے ریاست کی سیاست میں کھڑک واسلا سیٹ کے نتیجے آنے والے دنوں کی چناوی لہر کا پہلا بڑا اشارہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ انا کی کانگریس ہٹاؤ اپیل سے حصار میں تبدیلی کی جو آندھی اٹھی ہے یہ ویسی ہی ہے جیسی 1974ء میں جبلپور اور 1989ء میں الہ آباد ضمنی چناؤ سے اٹھی تھی۔
حصار کا نتیجہ کرپٹ راج کے خاتمے کی کہیں شروعات تو نہیں ہے ؟ اب تبدیلی کا یہ سلسلہ اگر اترپردیش میں ان چار ریاستوں میں بھی جاری رہتا ہے۔ جہاں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں تو یہ کانگریس کے لئے بڑی تشویش کا موضوع بن جاتا ہے۔ 1989ء میں تاریخ نے الہ آباد کے چناؤ میں تبدیلی اقتدار کی اپیل وشوناتھ پرتاپ سنگھ نے بوفورس گھوٹالے کے بعد بھی اپوزیشن وی پی سنگھ کے پیچھے متحد ہوئی تھی۔ ضمنی چناؤ میں کانگریس کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ اس ضمنی چناؤ سے اٹھی کانگریس مخالف ہوا کو اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی روک نہیں سکے تھے۔ آج تو راجیو جی کے مقابلے ایک بہت کمزور وزیر اعظم ہیں اور رہا سوال گھوٹالوں کا تو پوچھئے مت۔ کانگریس خوش فہمی پال سکتی ہے کہ اہم چناؤ ابھی دور ہیں تب تک گھر سنبھال لیا جائے گا لیکن ساکھ گنوا چکی سرکار کو حصار کا مینڈیڈ چاروں طرف سے گھیرے گا۔ یہ مینڈیڈ اپوزیشن بکھراؤ کو روکے گا۔ حصار 1974ء اور 1989 ء کی طرح اپوزیشن اتحاد کی ایک دھری بن سکتا ہے۔ کانگریس اگر اب بھی نہیں جاگی تو اسے بھاری خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Ashok Gehlot, Congress, Daily Pratap, Elections, Hissar By Poll, Sheila Dikshit, State Elections, Vir Arjun

19 اکتوبر 2011

سیکس اسکینڈل میں پھنسے وزیر مہیپال مدیرنا کی چھٹی



Published On 19th October 2011
انل نریندر
نرس بھنوری دیوی کے پراسرار حالات میں لاپتہ ہونے کے معاملے میں راجستھان کے متنازعہ وزیر مہیپال مدرینا کو وزیر اعلی اشوک گہلوت نے اپنی کیبنٹ سے باہر کردیا۔ انہوںنے گورنر شیو راج پاٹل کو اپنے فیکس میں مدرینا کی برخاستگی کی سفارش کی تھی جس کی بنیاد پر گورنر نے انہیںبرخاست کردیا۔ گہلوت نے پہلے ریاستی وزیر آبی وسائل مدرینا کو راضی کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہنے پر انہوں نے یہ قدم اٹھایا۔ ہم وزیر اعلی اشوک گہلوت کے ذریعے اٹھائے گئے اس حوصلہ افزا قدم کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ جودھپور ضلع میںبلاڑا کے ہیلتھ سینٹر میں کام کرنے والی نرس بھنوری دیوی گذشتہ یکم ستمبر سے پراسرار حالت میں لاپتہ ہے۔ اس کے شوہر امرچند بلاڑا میں بھنوری دیوی کے لاپتہ ہونے اور اسکی گمشدگی میں وزیرصحت و آبی وسائل مہیپال مدرینا کا ہاتھ ہونے سے متعلق بلاڑا تھانے میں معاملہ درج کرایا۔لیکن پولیس نے یہ معاملہ درج نہیں کیا۔ اس پر بھنوری دیوی کے شوہر نے بلاڑا کی سول عدالت میں مہیپال کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔ عدالت نے 23 ستمبر کو معاملے کی سماعت کرتے ہوئے پولیس کو اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی۔ نرس بھنوری دیوی 36 سال جودھپور ضلع کے جالیواڑہ گاﺅں کے ہیلتھ مرکز میں مقرر تھی۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے نرس عیش و آرام کی زندگی بسر کرتی ہے۔ اس کے سیاستدانوں سے گہرے تعلقات ہیں۔ وزیر مدرینا سے اس کے اچھے تعلقات تھے اور ان کے گھر آنا جانا تھا۔ بار بار فون کرنے پر بھنوری کے شوہر امر چند نے اس پر اعتراض جتایا تھا۔دو لڑکیاں اور ایک لڑکے کی ماں بھنوری کچھ مقامی سنگیت ویڈیو البم میںبھی کام کرچکی ہے۔ گمشدگی کے بعد پولیس نے ایک ٹھیکیدار سوہنا لال بشنوئی کو گرفتار کیا ہے۔ بھنوری نے بشنوئی کو ایک کار بیچی تھی اور یکم ستمبر کو اس سے پیسے لیکر لوٹتے ہوئے لاپتہ ہوگئی۔
دراصل وزیر اعلی اشوک گہلوت اپنے وزیر کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر کچھ حد تک مجبور تھے۔ ایک طرف عدالت کا دباﺅ دوسری طرف سی بی آئی جانچ کے سبب انہیں مدرینا کو ہٹانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ سنیچر کو گہلوت نے مہیپال کو طلب کیا اور ان سے عہدے چھوڑنے کی نصیحت دی تھی کیونکہ پیر کو ہائیکورٹ میں اس معاملے میں اہم کارروائی ہونے جارہی تھی۔ وہیںسی بی آئی اب مہیپال پر ہاتھ ڈالنے کی تیاری میں تھی لیکن وہ اپنے اڑیل رویئے پر قائم رہے اور استعفیٰ نہیں دیا اور الٹے وہ دہلی روانہ ہوگئے۔ کہا جارہا ہے کہ وہ پارٹی اعلی کمان کے سامنے اپنا موقف رکھنا چاہتے تھے۔ پچھلے قریب ڈیڑھ مہینے سے جاری بھنوری دیوی معاملے میں مہیپال کو کیبنٹ سے ہٹانا اب گہلوت کی مجبوری ہوگئی تھی۔ کورٹ کے حکم کے بعد بھنوری دیوی معاملے میں مہیپال کے خلاف قتل اور اغوا کا معاملہ پولیس میں درج ہوچکا تھا۔
 سی بی آئی نے معاملے کی جانچ شروع کردی ہے اور پولیس نے معاملہ درج کرنے کے بعد ایک مرتبہ بھی مہیپال سے پوچھ تاچھ نہیں کئے جانے پر راجستھان ہائی کورٹ نے یہاں تک رائے زنی کی کہ اس سے زیادہ ناکارہ راجستھان سرکار اس نے اب تک نہیں دیکھی۔ دوسری طرف کانگریس اعلی کمان نے بھی مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے گہلوت کو دہلی طلب کیا جہاں وہ اپنی صفائی دینے پر مجبور ہوگئے۔ دوسری طرف مہیپال اپنے رویئے پر اڑے ہوئے تھے۔ اپنے والد پرس رام مدرینا کے جنم دن کے بہانے اپنی طاقت کا مظاہرہ بھی کرچکے تھے۔ ایسے میں مہیپال سے کیبنٹ سے روانگی کے علاوہ اشوک گہلوت کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔ بھنوری دیوی کہاں ہے ، کس حالت میں ہے؟ اس کا ابھی کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں اس کا بھی پتہ نہیں۔ امید ہے کہ راجستھان پولیس اور سی بی آئی بھنوری دیوی کا کچھ پتہ لگا لے گی تبھی پورے معاملے کی سچائی سامنے آسکے گی۔
Anil Narendra, Ashok Gehlot, Bhanwri Devi, Daily Pratap, Rajasthan High Court, Vir Arjun

کیا کانگریس حصار ضمنی چناﺅسے سبق لے گی؟



Published On 19th October 2011
انل نریندر
ہریانہ کی حصار لوک سبھا سیٹ پر ہوئے ضمنی چناﺅ پر سارے دیش کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ اس سیٹ پر ہریانہ جن ہت کانگریس کے ایم پی و سابق وزیراعلی چودھری بھجن لال کی موت کے سبب یہ سیٹ خالی ہوئی تھی۔حصار میں جنتا کی نظریں اس لئے بھی لگی تھیں کیونکہ یہاں بھجن لال کے بیٹے کلدیپ بشنوئی اور سابق وزیراعلی و انڈین لوکدل کے صدر اوم پرکاش چوٹالہ کے بیٹے اجے چوٹالہ میدان میںتھے کیونکہ ہریانہ میں کانگریس کا راج ہے اس لئے وزیراعلی بھوپندر سنگھ ہڈا و کانگریسی امیدوار جے پرکاش کی ساکھ بھی داﺅ پر لگی تھی۔ انا ہزارے بھی یہاں کانگریس کو ہرانے کےلئے ڈٹے ہوئے تھے۔ دیش یہ بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ انا کا کتنا اثر ووٹوں پر پڑتا ہے۔چناﺅ انتہائی چیلنج بھرا تھا اور اس پروقار چناﺅ میںبازی ماری بھاجپا اور ہجکا محاذ کے امیدوار کلدیپ بشنوئی نے اپنے قریبی حریف اجے سنگھ چوٹالہ کو 6323 ووٹوں سے ہرا کر یہ سیٹ جیت لی۔ کانگریس تیسرے نمبر پر رہی۔ پردیش میں حکمراں کانگریس امیدوار اورتین بار ایم پی رہے جے پرکاش 149785 ووٹ لیکر تیسرے مقام پر رہے اور ان کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ مقابلہ اتنا کانٹے دار تھا کہ ہار جیت میں صرف6323 ووٹوں کا ہی فرق رہا۔ بشنوئی کو 355941 ووٹ ملے تو چوٹالہ کو349681 ووٹ ملے۔ سال2009 کے چناﺅ میں بھی کانگریسی امیدوار جے پرکاش تیسرے مقام پر تھے اس لئے کانگریس دلیل دے سکتی ہے ہم پہلے بھی تیسرے مقام پر تھے اور اب بھی تیسرے پر رہے لیکن فرق یہ ہے کہ2009 میں جے پرکاش کو204539 ووٹ حاصل ہوئے تھے جو اس مرتبہ149785 رہ گئے۔
 کانگریس کا ووٹ فیصد گرا ہے۔ انا فیکٹر کتنا حاوی رہا کہنا مشکل ہے۔ حالانکہ انا ہزارے نے کہا حکمراں پارٹی کو چناﺅ نتیجے سے سبق لینا چاہئے ورنہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں بھی وہ خود کانگریس کے خلاف پروپگنڈہ کرےںگی۔ ہزارے نے کہا حصار لوک سبھا سیٹ پر ضمنی چناﺅ کانگریس ہار گئی۔ اب کانگریس ٹیم انا کو قصوروار نہ ٹھہراکر آئندہ پالیمنٹ کے اجلاس میں سخت بدعنوانی انسداد قانون بنانا چاہئے کیونکہ بدعنوانی نے عام آدمی کا جینا حرام کردیا ہے۔ جنتا کی قوت برداشت کم ہوگئی ہے اور اس لئے اس نے کانگریس کو مسترد کردیا ہے۔
 انا نے اپنے بلاگ میں سخت لہجے میں کہا کہ کانگریس نے اس چناﺅ سے اگر سبق نہیں لیا تو دیش میں اس کی یہی حالت ہوگی۔ حالانکہ قومی سیاست کے پس منظر میں اس ضمنی چناﺅ کی کوئی اہمیت نہیں لیکن اس سے جنتا کی کانگریس کے خلاف ناراضگی ضرور ظاہر ہوتی ہے۔ حصار میں چودھری بھجن لال کا کافی اثر تھا جس کا فائدہ اور ہمدردی کا ووٹ بشنوئی کو ہوا لیکن چوٹالہ کو اتنے ووٹ ملنے کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ چودھری اوم پرکاش چوٹالہ نے کچھ حد تک اپنی ساکھ پھر سے بنا لی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا کے لئے یہ ضرور اشارہ ہے کہ ہریانہ میں وہ اور ان کی حکومت اتنی مقبول نہیں ہے جتنا وہ سمجھے بیٹھے تھے۔ مستقبل قریب میں اور کئی چناﺅ ہونے ہیں کانگریس کو دیوار پر لکھی وارننگ کو سمجھنا چاہئے کہ ماحول اب اس کے خلاف چل رہا ہے۔
Ajay Chautala, Anil Narendra, Anna Hazare, Civil Society, Congress, Daily Pratap, Haryana, Hissar By Poll, Kuldeep Bishnoi, Lokpal Bill, Vir Arjun

18 اکتوبر 2011

امریکہ ہر برس 120 ارب ڈالر مختلف جنگوں پر خرچ کرتا ہے



Published On 18th October 2011
انل نریندر
کارپوریٹ گھرانوں کی لوٹ مار کے خلاف امریکہ میں پچھلے کئی دنوں سے مظاہرے جاری ہیں۔ "اوکوپائی وال سٹریٹ" نامی اس تحریک کو ملک گیر حمایت حاصل ہونے لگی ہے۔ یوروپ، امریکہ اور ایشیا میں قریب80 ملکوں کے 950 شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اترآئے ہیں۔ اوکوپائی وال سٹریٹ تحریک کے ہزاروں مظاہرےن نے نیویارک میں واقع تاریخی ٹائمس اسکوائر پر زبردست مظاہرہ کیا۔ اس سے مین ہیٹن میں ٹریفک ٹھپ ہوگیا اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ کم سے کم 88 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے24 لوگ سٹی بینک کی ایک برانچ میں زبردستی گھس گئے تھے جبکہ45 لوگوں کو ریلی نکالنے کو لیکر گرفتار کیا گیا۔ یہ لوگ کارپوریٹ گھرانوں میں لوٹ مار، مالی راحت پیکیج کے خلاف پچھلے ایک ماہ سے مظاہرہ کررہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے آک لینڈ شہر میں ہزاروں لوگوں اور آسٹریلیا کے سڈنی شہر میں تقریباً دو ہزارلوگوں نے مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ ٹوکیو، تائیپے، منیلا میں بھی لوگوں نے فیس بک پر مظاہروں کو حمایت دیتے ہوئے اقتصادی نا انصافی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ ایسے میں ایک مظاہرے میں شامل شخص جورالی نے کہا کہ ہم صرف حکومت بدلنے کی بات نہیں کررہے ہیں زیادہ تر لوگ سسٹم میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں جس طرح سیاست پر پیسہ حاوی ہے وہ سسٹم بدلے۔ بڑے بڑے کاروباری ادارے اور بڑی بڑی کمپنیاں سیاست پر قبضہ کئے بیٹھی ہیں۔ یہ سب ختم ہونا چاہئے۔
امریکہ کی طاقتور فوجی پارلیمانی کمیٹی نے وزیر دفاع لیون پنیٹا کے لئے اس وقت اپنا بچاﺅ مشکل ہوگیا جب کمیٹی کے دیگر ممبران نے انہیں گھیرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب دیش اقتصادی بحران کا شکار ہے تو ہر برس 120 ارب ڈالر سالانہ مختلف ملکوں میں جنگ پر خرچ کرنے کا کیا جواز ہے؟ اپوزیشن ری پبلیکن تیز طرار لیڈر چیلی پنگری نے پینیٹا سے سوال کیا کہ جب مالی خسارے کی وجہ سے دیش مالی بحران کا سامنا کررہا ہے تو امریکہ جنگوں پر اربوں ڈالر کیوں خرچ کررہا ہے؟ وزیر دفاع نے اپنا بچاﺅ کرتے ہوئے کہا 2014ءتک افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی پوری ہوجانے کی امید ہے۔ امریکہ پر 9/11 کے آتنکوادی حملوں کے دس برس بعد فوج اور ڈیفنس اشو پر سماعت کے دوران بنیادی طور سے ڈیفنس بجٹ پر بحث ہوئی۔ میٹنگ سے پہلے 15 منٹ تک جنگ مخالف مظاہرین کی نعرے بازی کے سبب میٹنگ ٹھپ پڑی رہی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان، یمن، صومالیہ کے آتنک وادی دیش کے لئے خطرہ پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا امریکہ کی خاص توجہ اس طرف ہے۔ افغانستان القاعدہ اور دیگر آتنکیوں کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ نہ بننے پائے۔ اس لئے اگر امریکہ جلدی میں وہاں سے اپنی فوجیں ہٹا لیتا ہے تو حالات پھر سے خراب ہوںگے اور القاعدہ کا وہ ٹھکانہ بن جاتا ہے تو عالمی دنیا امریکہ سے ہی سوال کرے گی۔ ان کا مطلب صاف تھا کہ بجٹ خرچ کرو گے تو گھاٹا تو ہوگا۔ ادھر نوسک کلب آف نیویارک کو خطاب کرتے ہوئے امریکہ کی وزیر خارجہ کلنٹن نے دیش میں پالیسی سازوں کو بھارت اور برازیل جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں والے دیش سے سبق لینے کے لئے کہا۔ جنہوں نے معیشت کو اپنی خارجہ پالیسی کے مرکز میں رکھا۔ محترمہ کلنٹن نے کہا کہ جب ان کے لیڈر خارجہ پالیسی سے وابستہ چنوتیوں پر کوئی فیصلے کی بات کرتے ہیں تو ان کا پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ ان کی معاشی ترقی میں کیسے مدد گار ہوگا۔ کلنٹن کا مطلب صاف تھا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کافی حد تک امریکی معیشت پر حاوی ہورہی ہے اور یہ جنگیں امریکہ کو بھاری پڑ رہی ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, America, Occupy Wall Street, Times Square,Australila, Afghanistan,

اڈوانی جی کی جن چیتنا یاترا کو لگ رہے ہیں جھٹکے



Published On 18th October 2011
انل نریندر
جن چیتنا یاترا پر نکلے شری لال کرشن اڈوانی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یاترا کے آغاز میں ہیں انہیںمشکلوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ کبھی رتھ میں تکنیکی خرابی آجاتی ہے تو کبھی پل سے گذرنے میں اسے دقت آتی ہے۔ جیسے جیسے یاترا آگے بڑھتی گئی نئی نئی مصیبتیں آتی گئیں۔ پہلے مدھیہ پردیش کے ستنا میں یاترا کی اچھی کوریج کے لئے اخبار نویسوں کو لفافے میں پیسے دینے کا معاملہ بے نقاب ہوا۔ اب زمین گھوٹالے میں کرناٹک کے سابق وزیر اعلی یدی یرپا کی گرفتاری سے جن چیتنا یاترا کو جھٹکا لگا ہے کیونکہ اڈوانی جی نے اپنی جن چیتنا یاترا کا مقصد کرپشن کے اشو کو بنایا ہے۔ لہٰذا ان حالات میں پارٹی کی کرکری ہونا فطری ہے۔ بدعنوانی پر سخت رویہ اپنانے کا اشارہ دینے کے لئے پارٹی نے ستنا سے وابستہ مدھیہ پردیش کے پبلک ورکس وزیر یعنی ناگیندر سنگھ پر کڑی کارروائی کا ارادہ بنا لیا ہے۔ صاف ستھری ساکھ رکھنے والے شری اڈوانی اس واقعے سے بہت خفا ہیں۔ اڈوانی جی نے وزیراعلی شیو راج سنگھ چوہان و پردیش چوہان پربھات جھا کو اس کی گہری جانچ کے آدیش دے دئے ہیں۔ان کے غصے کی وجہ بھی ہے کہ مدھیہ پردیش میں یاترا کے دوران بھاری عوامی حمایت ملنے کے باوجود اس واقعے نے سارے جذبے پر پانی پھیردیا ہے۔ اڈوانی جی نے اپنی یاترا میں سب سے زیادہ وقت مدھیہ پردیش کے لئے دیا ہے۔ ریاست میں اس کے لئے زبردست تیاریاں کی گئی ہیں لیکن ابتدا میں ہیں ۔اس واقعے نے سارا مزہ خراب کردیا ہے۔ یاترا کی کوریج کے لئے پیسہ بانٹنے کے الزام میں کٹہرے میں کھڑے پردیش سرکار کے وزیر ناگیندر سنگھ و ممبر پارلیمنٹ گنیش سنگھ نے حالانکہ ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے لیکن اپنی ریلیوں میں لوگوں کو رشوت دینے یا لینے سے پرہیز کرنے کا بھروسہ دلا رہے اڈوانی کویہ واقعہ بےحد ناگوار گذرا ہے۔
کرناٹک کے سابق وزیر اعلی بی ایس یدی یرپا کی گرفتاری ایسے وقت ہوئی جب اڈوانی اپنی جن چیتنا یاترا پر نکلے ہوئے ہیں۔ یدی یرپا بھاجپا کے پہلے سابق وزیر اعلی ہیں جنہیں جوڈیشیل حراست میں بھیجا گیا ہے۔ کرناٹک میں لوک آیکت عدالت نے یدی یرپا کو ایسے موقع پر جیل بھیجا ہے جب اڈوانی کرپشن، کالی کمائی اور بدانتظامی اور صاف ستھری سیاست کو لیکر اپنی یاترا کررہے ہیں۔ ان کا رتھ 30 اکتوبر کو بینگلور پہنچے گا۔ ایسے میں اب شری اڈوانی سمیت بھاجپا نیتاﺅں کو یدی یروپا کے معاملے پر اٹھنے والے تلخ سوالوں سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ بھاجپا اب تک ٹو جی اسکینڈل، کامن ویلتھ گیمس اور نوٹ کے بدلے ووٹ جیسے معاملوں کی مثالیں دے کر کانگریس سمیت یوپی اے سرکار پر حملہ کرتی رہی ہے اب یدی یروپا کے جیل جانے سے کانگریس کو حملہ کرنے کا ایک اور موقعہ مل گیا ہے۔ کانگریس طویل عرصے سے کرپشن کے مسئلے پر بچاﺅ میں رہی ہے۔ اب نوٹ بانٹنے کا موقعہ اس کے لئے کارگر ثابت ہوگا۔ پارٹی نے حملہ بولنے میں کوئی دیری نہیں کی۔ پارٹی کے ترجمان ابھیشیک سنگھوی کا کہنا ہے کہ یہ مثال بھاجپا کی قول و عمل میں فرق بتاتی ہے۔ ان کے ساتھی منیش تیواری نے کہا کہ زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ اڈوانی کی کرپشن مخالف یاترا پہلے کرناٹک، اتراکھنڈ ،پنجاب سے نکالی جاتی جہاں بھاجپا کے وزیرو عہدیداران پر کرپشن کے الزامات لگے ہیں۔ بھاجپا میں اڈوانی کی اس یاترا کو لیکر پہلے سے ہی کوئی جوش نہیں تھا۔ اس واقعے کے بعد پارٹی کوجواب دینا مشکل ہورہا ہے۔ منیش تیواری نے کہا نیتاﺅں کا یہ بھی اندیشہ ہے کہ یدی یروپا کی گرفتاری کے بعد کرناٹک میں پارٹی و سرکار کا بحران بڑھ سکتا ہے۔ریاست کی سیاست میں یدی یروپا کے کٹر مخالف مانے جانے والے اننت کمار جن چیتنا یاترا کے کرتا دھرتا ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ جب تک اڈوانی جی کا رتھ کرناٹک میںداخل ہو جنوبی ہندوستان کی واحد بھاجپا سرکار کی حالت ڈانواڈول ہو رہی ہو۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Punjab, Rath Yatra, Uttara Khand, Vir Arjun

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...