Translater

BJP لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
BJP لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

27 مئی 2012

دنیا جھکتی ہے جھکانے والا چاہئے


بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن گڈکری اورآر ایس ایس دونوں پرگجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی بھاری پڑ گئے۔ پارٹی کو سنگھ کے چہیتی سنجے جوشی کو بھاجپا ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے پہلے باہر کا راستہ دکھانا پڑا۔ مودی کے دباؤ میں گڈکری اور سنگھ سرخم دکھے۔ پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ مودی نے صاف کہا کہ اگر ورکنگ کمیٹی میں سنجے جوشی آئے تو وہ میٹنگ سے خود کو دور رکھنے کے لئے مجبور ہوں گے۔ گڈکری نے بدھوار کی شام فون سے بات کی تھی۔ گڈکری نے کور کمیٹی کی میٹنگ میں مودی سے بات چیت کی تفصیل رکھی۔ ذرائع کے مطابق کچھ سینئر لیڈر بھاجپا نیتا مودی کی دھمکی کو قبول کرنے کے خواہش مند نہیں تھے مگر گڈکری اور آر ایس ایس کے دباؤ کے چلتے سنجے جوشی کو دو لائن کا استعفیٰ فیکس سے بھیجنا پڑا۔ دراصل مودی اور گڈکری میں سودے کی خوشبو آرہی ہے۔ مودی نے شرط رکھی کے جوشی کو باہر کرو اور گڈکری نے شرط رکھی کے مجھے دوسری میعاد دینے کیلئے آپ حمایت کریں۔ اب لگتا ہے کہ گڈکری کی دوسری میعاد ملنے میں تمام رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں۔ انہیں اب دوبارہ صدر بنانا طے ہوچکا ہے۔ گڈکری کی تین سالہ میعاد25 دسمبر کو پوری ہونے جارہی ہے۔ اس تجویز کے لئے باقاعدہ بھاجپا کے آئین میں ترمیم کی گئی جسے عملی جامہ پہنا دیا گیا ہے۔ پارٹی کے سابق صدر راجناتھ سنگھ نے رسمی طور پر میٹنگ میں صدر کی میعاد میں توسیع کے لئے ایک تجویز رکھی جس کی دوسرے سابق صدر وینکیانائیڈو توثیق کردی۔ جس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مرکزی لیڈرشپ میں جلدی ہی یہ منظور کرلی گئی۔یہ نہ تو بھاجپا کے لئے اچھا اشارہ ہے اور نہ ہی آر ایس ایس کے لئے۔ قومی پارٹی کی ساکھ کو لیکر جس بھاجپا کو قومیت اور ڈسپلن کے لئے جانا جاتا تھا اب وہ بے اصولی راستے پر چلتی نظر آرہی ہے۔ بھاجپا کی بونی ہوتی لیڈر شپ اور اس پر حاوی ہوتے ریاستی نیتا سنگھ کے لئے چنوتی بن گئے ہیں۔ راجستھان میں بیک فٹ پر وسندھرا راجے ،گجرات میں نریندر مودی، کرناٹک میں بی ایس یدی یروپا سے تو چنوتی مل رہی ہے وہ بھاجپا کو کانگریس کے متبادل کے طور پر ابھر نے میں آڑے آرہی ہے۔ بھاجپا صدر گڈکری کی میعاد کو بڑھا کر سنگھ بھاجپا پر اپنی پکڑ ضرور ثابت کرنا چاہ رہی ہے لیکن وہ شعور اور وہ استقبال نہیں نظر آرہا ہے جو بھاجپا میں پہلے ہوا کرتا تھا۔ بھاجپا کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے جب بھاجپا کو سنگھ کی جانب سے مقرر کرائے گئے شخص کو ہرانا پڑا ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے سنگھ کی بھاجپا پر پکڑ کمزور ہوتی جارہی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ بھاجپا کے اوپر ایسے بھی لیڈر ہیں جو چاہتے ہیں کہ سنگھ کی بھاجپا معاملوں میں دخل اندازی کم ہو۔ پورے معاملے میں جہاں نریندر مودی کی جیت ہوئی ہے وہیں آر ایس ایس کی ایک معنی میں ہار بھی ہوئی ہے۔ اس سے نریندر مودی کا عہدہ اور قد بڑھے گا اور دنیا کے سامنے انہوں نے ثابت کردیا ہے کہ دنیا جھکتی ہے جھکانے والا چاہئے۔
(انل نریندر)

26 مئی 2012

پیٹرول کی قیمتیں:سمجھیں اس سرکار کے بہانے،چھلاوے اور چالاکی... (1)


میں نے کئی بار اسی کالم میں لکھا ہے کہ دیش اس سرکار اور مٹھی بھر تیل کمپنیوں کی دھاندلی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ سرکار ہر مرتبہ پیٹرول کے دام بڑھا کر اپنا پلہ یہ کہہ کر نہیں جھاڑ سکتی کہ ہم کیا کریں یہ فیصلہ تو تیل کمپنیوں کا ہے۔ دیش چاہتا ہے کہ ان تیل کمپنیوں کی جھوٹی دلیلوں اور سرکار کی بدنیتی کا پردہ فاش ہو لیکن اس سے پہلے کہ میں تیل کمپنیوں کی بے بنیاد دلیلوں کی بات کروں میں چاہتا ہوں ہم اس حکومت کے سوچنے کے ڈھنگ کو سمجھیں۔ ماہر اقتصادیات اور وکیلوں سے بھری پڑی کانگریس قیادت والی یوپی اے سرکار پیٹرول کو امیروں کا ایندھن مان بیٹھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دیش کے60 فیصدی سے زائد اسکوٹر، آٹو رکشہ کی بکری چھوٹے شہروں اور دیہاتی علاقوں میں ہوتی ہے۔ میٹرو شہروں میں مختلف درمیانے طبقے ہی پیٹرول کا سب سے بڑا گراہک ہیں۔ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا اثر ہر اس طبقے پر پڑتا ہے۔ ان کی آمدنی تو اتنی بڑھی نہیں اور خرچ بے شمار بڑھتے جارہے ہیں۔ یہ اپنا گھر بار کیسے چلائیں، کیا کام پر جانا چھوڑدیں؟ کیا کریں۔ جہاں تک ان تیل کمپنیوں کی بات ہے تو بھارت کی یہ بدقسمتی ہے کہ 90 فیصدی تیل تجارت پر سرکاری کمپنیوں کا کنٹرول ہے اور سرکار کی مانیں تو یہ کمپنیاں عوام کو سستا تیل بیچنے کے سبب بھاری خسارے میں ہیں۔ دوسری طرف نامور میگزین فارچون کے مطابق دنیاکی بڑی500 کمپنیوں میں بھارت کی تینوں سرکاری کمپنیاں انڈین آئل(98)، بھارت پیٹرولیم (271) اور ہندوستان پیٹرولیم (355) شامل ہیں۔ تیل اور گیس کی تلاش سے وابستہ دوسری سرکاری کمپنی او این جی سی بھی فارچون کی 500 کی فہرست میں 360 ویں درجے پر ہے۔ پھر ہر سال یہ وزیر اعظم کو موٹے موٹے حقیقی منافع کے چیک بھی دیتی ہیں۔ آخر یہ کیا اتفاق ہے کہ سرکار خسارے کا دعوی کررہی ہے لیکن تیل کمپنیوں کی بیلنس شیٹ ٹھیک ٹھاک ہے؟ 2011ء کی سالانہ رپورٹ کے مطابق انڈین آئل کارپوریشن کی 7445 ایچ پی سی ایل کو 1539 اور بی پی سی ایل کو 1547 کروڑ کا فائدہ ہوا، وہ بھی ٹیکس چکانے کے بعد۔ اس حقیقت کے بعد بھی سرکار مسلسل ان کمپنیوں کے خسارے کی جھوٹی دلیلوں سے باز نہیں آرہی ہے۔ ہمیں اس سرکار کے بہانوں ،چھلاوے اور چالاکی کو سمجھنا ہوگا۔ ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں گراوٹ کی دلیل دی جارہی ہے۔ تیل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ 80 فیصد تیل بیرون ملک سے منگانا پڑتا ہے اور اس کی ادائیگی ڈالر میں کرنا پڑتی ہے۔ کیونکہ ڈالر اس وقت56 روپے کا ہوچکا ہے اس لئے زیادہ قیمت دینی پڑ رہی ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ15 مئی 2011ء کو جب پیٹرول پانچ روپے مہنگا ہوا تب بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمت 114 ڈالر فی بیرل تھی جبکہ ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت 46 روپے ۔ اس حساب سے ہمیں کچے تیل کے لئے 5244 روپے چکانے پڑتے تھے۔ آج کچا تیل 91.47 روپے بیرل ہے اور ایک ڈالر 56 روپے کا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آج کے بھاؤ سے ایک بیرل تیل 5056 روپے کا ہے یعنی کچا تیل148 روپے بیرل تب سے سستا ہے۔اب بات کرتے ہیں کچے تیل کے نام پر چھلاوے کی۔ کیونکہ تیل کمپنیوں نے 26 جون2010ء (جب پیٹرول کنٹرول سے آزاد ہوا تھا) تو کہا تھا کہ کچے تیل کی بین الاقوامی بازار میں قیمتوں کو ذہن میں رکھ کر دیش میں پیٹرول کے دام طے ہوں گے۔ سرکار اور کمپنیوں نے مل کر پچھلے دو سال میں14 مرتبہ کچے تیل کے نام پر پیٹرول کے دام بڑھائے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ پہلے جب عالمی منڈی میں کچے تیل کا دام 114 ڈالر فی بیرل تھا تب بھی تیل کمپنیاں خسارہ بتا رہی تھیں آج کچے تیل کا بھاؤ91.47 ڈالر ہے تو ابھی بھی گھاٹا ہورہا ہے۔ روپے کی قیمتیں گرنا بھی ایک طرح سے چھلاوا ہے کیونکہ15 مئی 2011ء سے اب تک ڈالر10 روپے مہنگا ہوا ہے اور کچا تیل 22 ڈالر سستا ہوچکا ہے لیکن اس دوران پیٹرول کی قیمتوں میں صرف تین بار معمولی کمی آئی ہے۔ خسارے کے نام پر چالاکی۔ کیونکہ سرکاری تیل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول کے علاوہ سرکار کے کنٹرول میں ہونے کی وجہ سے ڈیزل ، رسوئی گیس اور مٹی کے تیل کی قیمتیں نہیں بڑھنے سے بھی ان کا خسارہ بڑھا ہے۔ ڈیزل کی قیمت آخری بار 26 جون2011ء کو بڑھی تھی۔ تینوں کمپنیوں کا دعوی ہے انہیں اس سال 1.86 لاکھ کروڑ روپے کا خسارہ ہوگا۔ سچ کیا ہے؟ سچ یہ ہے کہ تیل کمپنیاں بھاری منافع کما رہی ہیں۔2011ء کی سالانہ رپورٹ کے مطابق او این جی سی کو 7445 کروڑ روپے ، ایچ پی سی ایل کو 1539 کروڑ روپے، بی پی سی ایل کو1547 کروڑ روپے کا منافع ہوا ہے۔ ویسے بھی ٹیکس دینے کے بعدڈیزل گیس اور مٹی کے تیل پر خسارے کی بات بھی جھوٹی ہے کیونکہ سرکار اس پر سبسڈی دے رہی ہے۔(جاری)
(انل نریندر)

02 مئی 2012

اس مرتبہ صدارتی چناؤ بہت پیچیدہ بن گیا



Published On 2 May 2012
انل نریندر

دیش کا اگلا صدر کون ہوگا یہ بحث آج کل سیاسی گلیاروں میں تیز ہوگئی ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ فیصلہ کرنے کا وقت آچکا ہے۔ صدارتی چناؤ اگلے مہینے جون میں ہونا ہے اور ابھی تک نہ تو یوپی اے نے اور نہ ہی این ڈی اے نے اور نہ ہی علاقائی پارٹیوں نے اپنا کوئی امیدوار سامنے پیش کیا ہے۔ فیصلہ خاص کر کانگریس پارٹی کو کرنا ہے لیکن مشکل یہ ہوگئی ہے کہ اکیلے اپنے دم خم پر اس مرتبہ کانگریس اپنا امیدوار جتانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پچھلی مرتبہ جیسے کانگریس صدر سونیا گاندھی نے اچانک محترمہ پرتیبھا پاٹل کا نام اعلان کرکے سب کو چونکا دیا تھا اس بار ایسا نہیں ہوسکتا۔ ایک بہت بڑا فرق تب اور اب میں علاقائی پارٹیوں کی بڑھتی طاقت ہے۔ ہونے والے صدارتی چناؤ میں علاقائی پارٹیوں کی دبنگئی صاف نظر آنے لگی ہے۔ ان کی پوری کوشش اس بات پر ہورہی ہے کہ اس مرتبہ راشٹرپتی بھون میں علاقائی پارٹیوں کا امیدوار پہنچے، اس کے لئے جوڑ توڑ شروع ہوچکا ہے۔ صدارتی چناؤ کو لیکر علاقائی پارٹیوں ک ی سرگرمی آنے والے دنوں میں دونوں کانگریس اور بھاجپا کے لئے ایک نئی تشویش کا سبب بن سکتی ہے۔علاقائی پارٹیاں اپنی طاقت کو پہچان رہی ہیں اس مرتبہ ان کی حمایت کے بغیر نہ تو کانگریس اور نہ ہی بھاجپا اپنی منمانی کرسکتی ہے۔ ان کے تعاون کے بغیر رائے سینا ہلس پر کون گدی نشین ہوگا اس کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ دراصل صدارتی چناؤ کے بہانے علاقائی پارٹیاں آنے والے لوک سبھا چناؤ کے سیاسی جائزوں کی عبارت بھی لکھنے کو تیار ہیں۔ سب سے زیادہ سرگرمی سماجوادی پارٹی میں نظر آرہی ہے۔ اس کے پیچھے ان کے اپنے سیاسی مفادات ہیں۔ اترپردیش میں اسمبلی چناؤ کے بعد سپا دیش کی قومی سیاست میں تبدیلی دیکھ رہی ہے۔ دونوں بڑی پارٹیاں کانگریس اور بھاجپا کی پکڑ کمزور ہوتی جارہی ہے اور علاقائی پارٹیوں کی طاقت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ سپا کی کوشش ہے کہ اگلا وزیر اعظم غیر کانگریس غیر بھاجپا کا بنے۔ اس کے لئے وہ ابھی سے تیاری میں لگ گئی ہیں۔ علاقائی پارٹیوں کو اکٹھا کرکے پہلے صدارتی چناؤ میں اپنی متحدہ طاقت کو آزمانا چاہتی ہیں۔ اگر وہ اس میں کامیاب رہتی ہیں تو یقینی طور سے لوک سبھا چناؤ میں نئی نئی تبدیلیاں نظر آئیں گی۔ صدارتی چناؤ میں اس مرتبہ سپا کے علاوہ ترنمول کانگریس ، این سی پی ، انا ڈی ایم کے، بسپا اور بیجو جنتا دل بھی اہم کردار نبھائیں گی۔ کسی غیر جانبدار امیدوار کے اترنے پر این ڈی اے میں شامل جنتا دل (یو) اور شرومنی اکالی دل کی حمایت بھی ان پارٹیوں کو مل سکتی ہے۔ علاقائی پارٹیوں کے اتحاد اگر کسی نام پر عام رائے بنا لیتا ہے تو دونوں بڑی پارٹیاں کانگریس اور بھاجپا کو اسے یکدم مستردکرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ نمبروں کی طاقت دیکھیں تو یوپی اے کے سبھی اتحادی اگر ایک ساتھ رہیں تو ان کے پاس 40فیصدی ووٹ ہیں جبکہ اکیلے کانگریس کے پاس71 فیصدی ووٹ ہیں۔ یہ ہی حال این ڈی اے کا ہے اس کے پاس کل ملا کر31 فیصدی ووٹ ہیں جبکہ اکیلے بھاجپا کے پاس 24 فیصدی ووٹ ہیں۔ ہاں کانگریس اور بھاجپا مل کر کوئی امیدوار طے کرے تو وہ امیدوار جیت سکتا ہے۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, President of India, Samajwadi Party, Trinamool congress, Vir Arjun

28 اپریل 2012

اگلے صدر کیلئے ریس شروع ہوچکی ہے



Published On 28 April 2012
انل نریندر
بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی صدارتی چناؤ کے بارے میں غور و خوض او ر بحث میں تیزی آنے لگی ہے۔ دیش کے اعلی عہدے پر اس بار کون بیٹھے گا؟ سیاسی پارٹیوں نے ابھی سے ایک دوسرے کو ٹٹولنا شروع کردیا ہے۔ پارٹیاں صدارتی چناؤ کو اپنی طاقت کے مظاہرے کی ایک سخت آزمائش مان رہی ہیں۔ موجودہ صدر محترمہ پرتیبھا پاٹل کے عہدے کی میعاد جولائی کے آخری ہفتے میں پوری ہورہی ہے۔ فروری مارچ کے مہینے میں اترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت پانچ ریاستو ں کے اسمبلی چناؤ کے نتائج اور پھر اس کے ٹھیک بعد58 راجیہ سبھا سیٹوں کے لئے ایک ساتھ چناؤ ہونے کے بعدسیاسی تجزیئے بدلنے لگے ہیں۔ سیاسی نتیجہ غیر کانگریس غیر بی جے پی پارٹیوں کے حق میں زیادہ رہے اور اس سے تھرڈ فرنٹ کی سمت میں کام شروع کر ملائم سنگھ یادو اور ممتا بنرجی جیسے لیڈر سرگرم ہوگئے ہیں۔ وہیں این سی پی لیڈر شرد پوار نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنی بات مضبوطی سے رکھیں گے۔ خود ساختہ تھرڈ فرنٹ کے لیڈروں کو سرگرم ہوتے دیکھ دونوں کانگریس اور بھاجپا بھی اب اپنی اپنی پسند کے امیدوار آگے بڑھانے میں لگ گئے ہیں۔ کانگریس ہائی کمان نے یوپی اے امیدوار کو ہی رائے سنہا ہلس (راشٹر پتی بھون) پہنچانے کی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ یہ آغاز سونیا گاندھی نے این سی پی لیڈر شرد پوار سے شروع کیا ہے۔ بھلے ہی کانگریس کے امیدوار کے نام پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوپایا ہے مگر قیاس آرائی یہ ہے کہ نمبروں کے کھیل کو دیکھتے ہوئے پرنب مکھرجی کانگریس کا چہرہ ہوسکتے ہیں۔ کانگریس جانتی ہے کہ ان کے نام پر غیرا ین ڈی اے پارٹیوں کو بھی راضی کیا جاسکتا ہے۔ اگر سپا ،بسپا ،ترنمول کا ساتھ کانگریس مل جاتا ہے تو کانگریس اپنا امیدوار جتا سکتی ہے۔ کسی کانگریسی امیدوار پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں موجودہ نائب صدر حامد انصاری کو ہی یوپی اے کا صدارتی امیدوار بنانے کے لئے پلان تیار ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پہلی پسند سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ہوسکتے ہیں۔ اس معاملے پر بھاجپا نے اپنی اتحادی پارٹیوں کے ساتھ غیر یوپی اے اور دیگر سیاسی پارٹیوں کا دل ٹٹولنے کی کارروائی آہستہ آہستہ شروع کردی ہے۔ بھاجپا کلام کے علاوہ کسی دوسرے نام پر اسی صورت میں غور کرے گی جب اسے جیتنے کے لئے ضروری حمایت ان کے نام پر ملتی نظر نہ آئے۔ صدارتی چناؤ کی گھڑی بھلے ہی سماج وادی پارٹی چیف ملائم سنگھ یادو بہت دور مان رہے ہیں لیکن پارٹی اپنا ہوم ورک پورا کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ 2014ء میں لوک سبھا چناؤ کی چناوی جنگ کو سامنے رکھتے ہوئے سپا پوری شدت کے ساتھ مسلم امیدوار کی تلاش میں لگی ہے۔ اسی سلسلے میں ملائم کی ہدایت پر سپا کے دو بڑے لیڈروں نے پیر کو چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی سے خفیہ ملاقات کی تھی۔ دوسری طرف سپا کی پسندیدہ فہرست سے عبدالکلام کا نام بھی تقریباً باہر ہوچکا ہے۔ قریشی کے ساتھ حامد انصاری کے نام پر بھی سپا میں سنجیدگی سے غور و خوض جاری ہے۔ کانگریس میں اور بھی کئی نام چل رہے ہیں لوک سبھا کی اسپیکر میرا کمار کو ذات پات کی حیثیت سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھایا جارہا ہے اور ڈاکٹر کرن سنگھ ، سشیل کمار شنڈے، فاروق عبداللہ اور سیم پترودہ جیسے نام بھی اچھالے جارہے ہیں۔ ریس شروع ہوچکی ہے فی الحال یہ پیشگوئی نہیں کی جاسکتی کہ ہندوستان کا اگلا صدر کون ہوگا۔
Anil Narendra, APJ Abdulkalam, BJP, Congress, Daily Pratap, Hamid Ansari, Mulayam Singh Yadav, Pranab Mukherjee, President of India, Samajwadi Party, Vir Arjun

24 اپریل 2012

بھاجپا میں اقتدار کی تین دھریاں



Published On 24 March 2012
انل نریندر

بھارتیہ جنتا پارٹی میں دہلی میونسپل کارپوریشن جیتنے کے بعد ایک نیا حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی بازی مار سکتی ہے لیکن سب سے بڑی کمی جو سامنے آرہی ہے وہ ہے کلیئر لیڈر شپ کی کمی۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں پارٹی کے ایک بڑے گروپ خاص کر ممبران پارلیمنٹ کے دل میں یہ ایک سوال بار بار گھر کر رہاتھا کہ آخر یوپی اے II- میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیاد ت والی حکومت مہنگائی، کرپشن اور گھپلوں کے اشو پر گھری رہی لیکن سرکار کی ناکامی کا بھاجپا کو توقع سے زیادہ فائدہ نہیں مل سکا۔ اس کے چلتے مرکزی سرکار کے خلاف ماحول کو بھنانے کے لئے پارٹی کو لوک سبھا چناؤ سے پہلے اپنا وزیر اعظم کا امیدوار اعلان کرنے ہے۔ یہ وقت اور یہ صورتحال ہے کہ بھاجپا تین دھریوں پر چل رہی ہے۔ سب سے پہلے شری نتن گڈکری جو پارٹی کے صدر ہیں انہیں آر ایس ایس کی حمایت ہے۔ دوسری طرف ڈی فور نیتا ان میں اڈوانی جی، سشما سوراج، ارون جیٹلی قابل ذکر ہیں تیسری دھری نریندر مودی ہیں جو اپنے آپ کو پارٹی سے بالاتر مانتے ہیں اور خود کو وزیر اعظم کے عہدے کا سب سے مضبوط دعویدارمانتے ہیں۔ ان تینوں دھریوں میں سبھی نیتا اپنی الگ الگ سمت میں چل رہے ہیں۔ نتن گڈکری کے ایک طرف نریندر مودی سے اختلافات ہیں اور دوسری طرف دیگر سے اکثر کھینچ تان ہوتی رہتی ہے۔ تازہ مثال سریندر سنگھ اہلووالیہ کی ہے جن کا پہلے راجیہ سبھا سے ٹکٹ کٹنا پھر جب ڈی فور نے زور دار مخالفت کی تو انہیں پھر سے امیدوار اعلان کرنا۔ کئی ماہ سے گڈکری اور نریندر مودی کے درمیان بات چیت تک نہیں ہورہی ہے۔ بات چیت کی کمی کی اس حالت کو گڈکری نے خود تسلیم کیا ہے۔ سوال یہ بھی کیا جارہا ہے کہ گڈکری نے مودی سے نہ ہوئی بات چیت کے بارے میں عام کیوں نہیں کیا؟ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ نریندر مودی بھاجپا کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری سنجے جوشی کو دوبارہ سے بھاجپا میں سرگرم کئے جانے کے فیصلے سے ناراض ہیں۔ گڈکری نے سنجے جوشی کو اترپردیش اسمبلی چناؤ میں خاص اہمیت دی تھی۔ اسی کے بعد دونوں میں 'کٹی' ہوگئی۔ اس سوال کا جواب بھاجپا کی جانب سے کون دے گا۔ وزیر اعظم کے امیدواری کے بارے میں بھاجپا کے سینئر لیڈر وینکیانائیڈونے حیدر آباد میں کہا کہ اگلے عام چناؤ سے پہلے پارٹی اپنے وزیر اعظم عہدے کے لئے امیدوار کا نام اعلان کردے گی ابھی اس کا صحیح وقت نہیں آیا ہے۔ادھر نریندر مودی نے مرکزی سیاست میں آنے کے واضح اشارے کردئے ہیں۔
پچھلے دنوں مجوزہ قومی انسداد دہشت گردی سینٹر کی مخالفت میں سارے وزراء اعلی دہلی میں جمع ہوئے تھے مودی نے خاص طور سے تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا اور بیجو جنتا دل کے چیف اور اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ حالانکہ اعلی سطح پرتو یہ میٹنگ مرکزی سرکار کے مجوزہ این سی ٹی سی کو لیکر تھی لیکن اندر خانے یہ وزراء اعلی 2014ء میں ہونے والے عام چناؤ کے بارے میں غور وخوص کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ مودی نے اپنے آپ کو وزیر اعظم کا امیدوار دکھانے کی چالیں چلنی شروع کردی ہیں۔ آنے والے دنوں میں رسہ کشی اور تیز ہونا ممکن ہے۔
Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Daily Pratap, Jayalalitha, L K Advani, Manmohan Singh, Narender Modi, NCTC, Nitin Gadkari, Sanjay Joshi, Sushma Swaraj, Tamil Nadu, UPA, Vir Arjun

19 اپریل 2012

بھاجپا کی جیت نہیں ووٹ تو مہنگائی اور کرپشن و گھوٹالوں کے خلاف ہے



Published On 19 March 2012
انل نریندر
دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت نے ایم سی ڈی کو تین ٹکڑوں میں بانٹنے کی جو چال چلی تھی وہ الٹی پڑ گئی ہے۔ بھاجپا نے تینوں کارپوریشنوں میں کانگریس کوہرادیا ہے۔ نارتھ ایسٹ میں بھاجپا اکثریت میں آگئی ہے جبکہ جنوبی دہلی میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میں یہ ہی کہوں گا کہ یہ کانگریس کے خلاف ایک منفی ووٹ ہے۔ اس میں بھاجپا کے کارناموں کے سبب ووٹ نہیں پڑا یہ تو لوگوں کا کانگریس سے غصے کی علامت کا ووٹ ہے۔ جنتا مہنگائی، کرپشن، گھوٹالوں سے تنگ آچکی ہے اور چونکہ دہلی میں سرکار بھی کانگریس کی ہی ہے اور مرکز میں بھی اسی پارٹی کی حکومت ہے اس لئے جنتا نے کانگریس کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے پارٹی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ یہ ووٹ شیلا دیکشت کی حکومت کے خلاف بھی ہے اور ساتھ ہی منموہن سنگھ حکومت کے بھی ہے۔ شیلا جی نے تو سوچا تھا کہ ایم سی ڈی کو تین حصوں میں بانٹ کر بی جے پی کو ہمیشہ کے لئے کمزور کردیں گی لیکن ان کا داؤ الٹا پڑ گیا اور ان کی پوزیشن خراب ہوئی ہے۔ کچھ لوگ اسے شیلا دیکشت کے خلاف ریفرنڈم بھی مان رہے ہیں۔کانگریس کہہ سکتی ہے کہ ہمارے اندر بہت پھوٹ تھی اور باغیوں نے ہمیں ہروادیا لیکن پھوٹ تو بھاجپا میں بھی آپ سے زیادہ تھی ، باغی تو وہاں بھی کھڑے تھے آپ کے تو کئی سرکردہ لیڈروں کو دھول چٹا دی گئی۔ لیڈر اپوزیشن جے کشن شرما نجف گڑھ سے ہار گئے۔ پچھلے تین بار سے کونسلر رہے کانگریس کے سینئر لیڈر چودھری اجیت دلشاد کالونی سے ہار گئے۔ تین بار کونسلر رہیں کانگریس کی انیتا ببر تلک نگر سے بی جے پی کی امیدوار ریتو ووہرا سے ہار گئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ دونوں کانگریس اور بی جے پی کے باغی زیادہ تر ہارے لیکن انہوں نے ووٹ کاٹنے کا کام کیا ہے۔ مشرقی دہلی کا چناؤ کانگریس کے لئے خاص اہمیت اور وقار کا سوال تھا اس لئے شیلا دیکشت، سندیپ دیکشت ، جے پرکاش اگروال، ڈاکٹر اشوک والیہ، اروندر سنگھ لولی سبھی کا وقار داؤ پر تھا۔ محترمہ شیلا دیکشت نے خود تو ہار پر کچھ رائے زنی نہیں کی لیکن ان کے صاحبزادے اور مشرقی دہلی سے ممبر پارلیمنٹ رہے سندیپ دیکشت نے مہنگائی اور ٹو جی جیسے گھوٹالوں کو ہار کا سبب مانا ہے۔ انہوں نے کہا سی اے جی کی رپورٹ اور انا ہزارے کی تحریک سے ایسا ماحول بنا کے لوگوں کو لگا کہ کانگریس ہی ساری غلطیوں کے لئے ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا ہم نے لوکل اشوز کو سامنے رکھا جبکہ پورے دیش اور دہلی میں ایسا ماحول تھاکہ بی جے پی نے مہنگائی اور ٹوجی گھوٹالے پر توجہ دی۔ کانگریس کے وزیر راجکمار چوہان بیان دیتے ہیں کہ اگر مہنگائی بڑھی ہے تو تنخواہیں بھی بڑھی ہیں۔ یہ بیان جنتا کو پسند نہیں آیا۔ پوری چناؤ مہم میں بھاجپا نے کہیں بھی ایم سی ڈی میں پچھلے پانچ سال کے اپنے ریکارڈ پر ووٹ نہیں مانگا۔ اس نے مرکزی سرکار اور شیلا سرکلار کو نشانے پر رکھا۔ اس سے بھی یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر بھاجپا جیتی ہے تو اپنے کارناموں سے نہیں بلکہ مرکز اور دہلی میں کانگریس کی سرکاروں کے خلاف منفی ووٹ پڑنے سے جیتی ہے۔ کیونکہ ان انتخابات میں مقامی سرکردہ لیڈر بھی اثر رکھتے ہیں اس لئے جنتا نے کئی مقامات پر دونوں بڑی پارٹیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے امیدوار کی شخصیت کو ووٹ دئے۔ تبھی تو 37 آزاد امیدوار جیت کر آئے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن میں بھاجپا کی جیت کا سہرہ نوجوان پردیش صدر وجیندر گپتا کے سر بندھتا ہے۔ انہوں نے جی توڑ محنت کی ہے۔ اس کامیابی سے کافی خوش پارٹی صدر نتن گڈکری نے کہا کہ یہ نتیجے کانگریس کی عوام مخالف جذبے کا نتیجہ ہیں۔ پکا ثبوت اور ان کی پارٹی آنے والے دہلی اسمبلی اور لوک سبھا چناؤ میں بھی کامیاب ہوگی۔ دہلی اسمبلی کا چناؤ تقریباً18 ماہ بعد ہونا ہے اور لوک سبھا کے انتخابات 2014ء میں ہونے ہیں۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا مرکزی حکومت اب بھی جاگے گی؟ یہ چناؤ ایک طرح سے مرکز کی پالیسیوں ، کارگزاریوں اور گھوٹالوں پر تھا۔
اس حکومت کو جنتا کے جذبات کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور اپنی عوام مخالف پالیسوں پر گامزن رہی ہے۔ جنتا کے پاس اپنا احتجاج کرنے کا ایک واحد ہتھیار اپنا ووٹ ہے اور اس نے کانگریس کے خلاف ووٹ دے کر اپنی ناراضگی اور تبدیلی کے جذبے کو صاف طور سے ظاہر کردیا ہے۔ باقی ان چناؤ نتائج کا تجزیہ تو کئی دنوں تک چلتا رہے گا۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Elections, MCD, Vir Arjun

14 اپریل 2012

میونسپل چناؤ سے ٹھیک پہلے ورکر کے قتل سے بھاجپا کوجھٹکا



Published On 14 March 2012
انل نریندر
دہلی میونسپل کارپوریشن چناؤ میں ووٹنگ کے کچھ دن پہلے بھاجپا کو ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ پہلے ہی سے اندرونی رسہ کشی کا شکار بھاجپا کی مشکلیں رکتی نظر نہیں آرہی ہیں۔ چناؤ مہم کے آخری دور میں ایم سی ڈی چناؤ تشدد آمیز بن گیا ہے۔منگل کی دیر رات لال باغ علاقے میں آزاد پور ریلوے پلیٹ فارم کے پاس جاری بھاجپا امیدوار کی چناؤ ریلی میں بھاجپا ورکر آپس میں ہی لڑ پڑے۔ اس میں بھاجپا ورکر جے پی یادو کو چاقو مار دیا گیا۔ جس سے اس کی ہسپتال میں موت ہوگئی۔ کرائم اینڈ ریلوے کے اڈیشنل پولیس ڈپٹی کمشنر بھیروسنگھ گرجر نے بتایا کے پرانی دہلی ریلوے تھانہ پولیس نے معاملہ درج کرکے بھاجپا امیدوار مادھو سنگھ اور اس کے ڈرائیور منوج عرف پنکی اور انل یادو کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس نے منوج کو ایک دن کے ریمانڈ میں لیا ہے جبکہ مادھو سنگھ اور انل کو جوڈیشیل حراست میں رکھا گیا ہے۔ وہیں پولیس نے دوسرے فریق کے خلاف مقدمہ درج کرملزم وریندر کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق مادھو پرساد آزاد پور کے سنگم پارک وارڈ نمبر 71 سے بھاجپا کے امیدوار ہیں۔ واردات قریب11 بجے لال باغ کوشل پوری ریلوے لائن کے پاس جھگی بستی میں مادھو پرساد کی چناؤ ریلی جاری تھی تبھی مخالف گروپ کے بھاجپا کے کچھ ورکر وہاں آگئے اور اس میں اس وارڈ کے ٹکٹ کے دعویدار رہ چکے جے پرکاش یادو ، وریندر ، بلرام اور سنتوش تھے، کچھ ہی دیر میں دونوں گروپوں کے ورکر آپس میں بھڑ گئے اسی دوران جے پی یادو کو چاقو ماردیا گیا۔ جھگڑے میں منوج بھی زخمی ہوا۔ پولیس جے پی یادو کو سندر لال جین ہسپتال لے گئے جہاں اس کی موت ہوگئی۔ پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ308 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس واردات کا علاقے کے ووٹروں پر کیا اثر پڑتا ہے۔ بھاجپا کے نیتا ارون جیٹلی نے اسے قانون نظم کی بگڑی صورتحال بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے لیکر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے لیکن کیا عوام اسے محض قانون و نظم کا معاملہ ماننے کو تیار ہے؟ اس واردات سے پتہ چلتا ہے کہ بھاجپا میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ پارٹی کے قریب دو درجن لیڈر ، کونسلر و ان کے واقف کار باغی ہوکر چناؤ میں کود پڑے ہیں تو پارٹی کے نیتا جگدیش مامگئی نے ٹکٹوں کی تقسیم میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے جھنڈا بلند کردیا ہے۔ قتل پر ردعمل سوشل نیٹورک پر بھی دکھائی پڑ رہا ہے۔ ٹوئٹر فیز بک پر اس قتل کانڈ کے خلاف لگاتار رد عمل سامنے آرہے ہیں اور اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بھاجپا جیت گئی تو جنتا کے لئے اور مصیبتیں کھڑی ہوسکتی ہیں۔ قتل کانڈ نے کانگریس کو ایک اور ٹھوس مدعا دے دیا ہے۔ کانگریس کے نیتا اجے ماکن نے کہا کے یہ قتل پارٹی کی اندرونی رسہ کشی کا نتیجہ ہے اس کا قانون و نظم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پردیش پردھان جے پرکاش اگروال کے مطابق یہ صاف ہوگیا ہے کہ بھاجپا نے ٹکٹوں کو لیکر گھوٹالے بازی کی ہے اورجرائم پیشہ کردار کے لوگوں کو ٹکٹ دینے میں کوئی گریز نہیں کیا ہے۔ بھاجپا کو اس واردات سے کئی جھٹکے لگے ہیں۔ ورکر کی جان چلی گئی ہے اور کونسلر مادھو پرساد جیل چلے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں میں مارے گئے ورکر کے تئیں ہمدردی ہے لیکن ساتھ ہی ان لوگوں کے تئیں غصہ بھی ہے جو مادھو پرساد کو ہرانے کے لئے بھڑکانے میں لگے تھے۔ مقامی لوگوں نے ایک پرچہ بھی نکالا ہے جس میں مادھو کو انصاف دلانے کی مانگ کی گئی ہے۔ پولیس نے تفتیش کے بعد مادھو پرساد اور دیگر کو پکڑا ہے لیکن مادھو کے حمایتیوں کا کہنا ہے قتل میں مادھو کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ کوئی پلان قتل نہیں ہے بلکہ اچانک ہوئی واردات ہے جس میں مادھو کا کوئی رول نہیں ہے۔ اس لئے پارٹی کو مادھو کا ساتھ دینا چاہئے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو آس پاس کی 8-10 سیٹوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف کانگریس نے کہا ہے بھاجپا میں جس طرح ٹکٹوں کو لیکر دھاندلے بازی ہوئی ہے اس سے پارٹی کا اصلی چہرہ سامنے آگیا ہے۔ پارٹی نے سوال کیا بھاجپا نے ابھی تک اپنے امیدوار کونسلر کو پارٹی سے کیوں نہیں نکالا ہے۔ اس کی امیدواری کیوں نہیں ختم کی ہے؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس واردات کا 15 اپریل کو ہونے والی پولنگ پر کیا اثر پڑتا ہے؟
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Elections, Vir Arjun

08 اپریل 2012

نتن گڈکری کو دوسراٹرم ملے گا یا نہیں؟



Published On 8 March 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کیصدر نتن گڈکری کو کیا ایک ٹرم اور ملے گا؟یہ سوال آج کل بھاجپا میں چرچا میں ہے۔ شری گڈکری عہدہ سنبھالتے ہی تنازعات سے گھرے رہے۔ تازہ حالت تو یہ ہے کہ بھاجپا میں معیشت سازی کا تڑکا لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔ پارٹی ادھیکش سے پارٹی کے چوٹی کے نیتاؤں نے دھیرے دھیرے دوری بنانی شرو ع کردی ہے۔ دو دن پہلے بھاجپا کے 32 ویں یوم قیام کے موقع پر ایک پروگرام 11 اشوک روڈ میں پارٹی ہیڈ کوارٹر پر منعقد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں پارٹی کے قریباً سبھی سینئر لیڈر پہلے سے طے پروگرام میں مصروف ہونے کے بہانے بناکر ندارد رہے۔
راجناتھ سنگھ دہلی میں موجود ہونے کے باوجود اپنی رہائش سے چند قدم کی دوری کے باوجود پارٹی کے پروگرام میں شامل نہیں ہوئے۔ نتن گڈکری کے فیصلے بھاجپا میں جھگڑے کا کارن بن رہے ہیں۔ چوٹی کے نیتاؤں کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں۔اجتماعی قیادت اور فیصلوں میں بھی اتفاق رائے کا دم بھرنے والی بھاجپا میں چوٹی کے نیتا غلط فیصلوں کا ٹھکرا خاموشی کے ساتھ ایک دوسرے کے سر پھوڑ کر خود کو پاک صاف دکھانے میں لگے ہیں۔ پارٹی میں ٹکراؤ کی وجہ بنے انشمن مشرا تو بیرون ملک چلے گئے لیکن بھاجپا رہنمائی میں بٹوارہ کروا گئے۔ مشرا کے بول بھاجپا کے مرکزی رہنما کو کانٹوں کی طرح چبھ رہے ہیں۔ پہلے اترپردیش کے چناؤ میں پارٹی کا افسوسناک مظاہرہ اور پھر راجیہ سبھا چناؤ میں انشمن مشرا معاملے نے گڈکری کے خلاف لام بندی کا ماحول تیار کردیا ہے۔ یوپی چناؤ میں بابو سنگھ کشواہا کو لینا ٹکٹوں کی تقسیم سمیت کئی ایک فیصلے گڈکری نے اپنے دم پر ہی لئے تھے۔ گڈکری کو دوسرا ٹرم دینے کے سنگھ کے فیصلے کو عمل میں لانا بھی کافی چیلنج بھرا ہوسکتا ہے۔ بھاجپا ودھان کے تحت ہر تین پر راشٹریہ کاری کرنی کی میٹنگ بھی نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح بھاجپاکی پالیسی پر چرچا کرنے والی سب سے بڑے فورم قومی کونسل کی گذشتہ سال کوئی میٹنگ نہیں ہوسکی۔ بھاجپا ادھیکش کا ٹرم اسی سال دسمبر میں ختم ہورہا ہے۔ ٹرم ختم ہونے سے پہلے یہ فیصلہ ہونا ہے کہ نتن گڈکری کو ایک اور ٹرم کے لئے پارٹی ادھیکش چنا جائے یا نہیں۔
پارٹی میں کچھ نیتاؤں کا ماننا ہے کہ گڈکری کو توسیع دینے کے بجائے تیز طرار ہندووادی چھوی والے گجرات کے مکھیہ منتری نریندر مودی کو ادھیکش بنایا جائے۔پارٹی میں مودی سمرتھکوں کے مطابق اکتوبر میں ہورہے گجرات ودھان سبھا چناؤ کے بعد مودی کو راجیہ کی سیاست سے نکال کر انہیں مرکز کی سیاست میں لایا جانا چاہئے۔ ویسے بھی گڈکری کا ٹرم دسمبر ماہ میں ختم ہورہا ہے جبکہ گجرات ودھان سبھا چناؤ اکتوبر میں مکمل ہوجائیں گے۔ بھاجپا کے کئی سینئر نیتا گڈکری کی رہنمائی میں 2014ء کا لوک سبھا چناؤ لڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ پارٹی کے اندر گڈکری کی جس طرح مخالفت ہورہی ہے اس سے تو آر ایس ایس کو بھی دوبارہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ بھاجپا کے آئین میں ایک شخص کو ایک ہی ٹرم دینے کا ضابطہ ہے جس سے گڈکری کو دوسرا ٹرم بھاجپا کے آئین میں ترمیم کے بغیر نہیں مل سکتا اور یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا۔ گڈکری کو دوسرا ٹرم ملے گا یا نہیں؟
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Nitin Gadkari, Vir Arjun

30 مارچ 2012

منوہرپاریکر نے سبھی راجیوں کو راستہ دکھا دیا



Published On 30 March 2012
انل نریندر
وزیر خزانہ نے صاف کہہ دیا ہے کہ دنیا میں ہورہے بدلاؤ اور اقتصادی مندی کے برے اثرات سے دیش بچ نہیں سکتا ہے۔ انہوں نے مستقبل میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی طرف اشارہ بھی کردیا ہے۔بجٹ بھاشن پر بحث کے دوران اپوزیشن کی تنقیدوں کا مقابلہ کرتے ہوئے پرنب مکھرجی نے کہا کہ بین الاقوامی حالات کی ان دیکھی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے شبہات پر کہا کہ ہم نے جون2011 کے بعد سے تیل کی قیمت نہیں بڑھائی ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر قیمتیں لگاتار بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ مجھ میں یہ صلاحیت نہیں تھی کہ میں بین الاقوامی سطح پر قیمتوں کو باضابطہ کرپاؤں۔ ادھر تیل کمپنیوں نے اشارے دے دئے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتوں میں تین سے لیکر پانچ روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بین الاقوامی تیل قیمت میں پچھلے دنوں اضافہ ہوا ہے اور ہمارے امپورٹ کا بل بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سارا بوجھ آپ عوام پر ڈال دیں۔ ہمارے سامنے گووا کے مکھیہ منتری (بھاجپا) منوہر پاریکر کی مثال ہے۔ سوموار کو پاریکر نے اپنے چناوی وعدے کے مطابق گووا کے سالانہ بجٹ میں 11.20 ویٹ گھٹا دیا ہے۔ اس وقت پنجی میں 65.61 پیسے فی لیٹر پیٹرول مل رہا ہے۔ 2 اپریل سے جب سے نئے ریٹ لاگو ہوجائیں گے یہی پیٹرول لگ بھگ55 روپے فی لیٹر ہوجائے گا۔ گووا کے مکھیہ منتری کے ذریعے اس اعلان کے 24 گھنٹے کے اندر راجستھان کے مکھیہ منتری اشوک گہلوت نے راجستھان میں پیٹرول پر ریٹ28.90 سے 26.20 کردیا ہے۔ اس سے راجستھان میں پیٹرول کی قیمت 69.83 روپے سے68.70 روپے ہوجائے گی۔ راجیہ سرکاروں کو پیٹرول اشیاء سے بہت پیسہ ملتا ہے۔
ایک اندازہ ہے کہ تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار کروڑ کی انکم سبھی راجیہ سرکاروں کو پیٹرول اشیاء پر ٹیکسوں سے ہوتی ہے۔آپ دہلی کو دیکھئے کیندریہ سرکار ایکسائز ڈیوٹی و ایجوکیشن سینس سے قریباً14.78 روپے فی لیٹر لے لیتی ہے۔یعنی دہلی میں پیٹرول اگر 65.64 پیسے فی لیٹر بک رہا ہے تو اس میں14.78 روپے فی لیٹر مرکزی سرکار ایکسائز میں لے رہا ہے۔ اگر مرکز و راجیہ سرکاروں کے مختلف ٹیکسوں کا حساب لیا جائے تو 50 فیصد قیمت کا تو ٹیکسوں میں جارہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں سبھی ٹیکسوں کو جوڑا جائے تو آدھے سے زیادہ لاگت تو اس کی ہے۔اگر انہیں ایک منٹ کے لئے ہٹا دیا جائے تو دہلی میں پیٹرول 30 روپے فی لیٹر بکے۔ مرکز اور دہلی سرکار کی جیب میں ہر لیٹر پیٹرول کی دہلی میں ہورہی سیل میں 25.72 روپے فی لیٹر جارہا ہے۔منوہر پاریکر نے راستہ دکھا دیا ہے۔ اگر مرکز اور راجیہ سرکاریں چاہیں تو یہ ایکسائز اور ویٹ وغیرہ گھٹا کر کچے تیل کی قیمتوں میں اضافے کو ایڈجسٹ کرسکتی ہیں۔ویسے بھی ان تیل کمپنیوں کی لاپرواہی اور فضول خرچی نے عام جنتا کی کمر توڑدی ہے۔پہلے سے پس رہی جنتا پر اب پیٹرول کی قیمتوں کو بڑھا کر نیا بوجھ ڈالنے پر تلی ہوئی ہے کیندریہ اور راجیہ سرکار۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Goa, Vir Arjun

29 مارچ 2012

ایم سی ڈی چناؤ: کہیں یہ وبھیشن کانگریس۔ بھاجپا کو ڈوبا نہ دیں



Published On 29 March 2012
انل نریندر
دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ کو لیکر ایک بار پھر سیاست میں گرمی آگئی ہے۔ ٹکٹوں کی مارا ماری سے جہاں کانگریس بری طرح الجھی ہوئی ہے وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی میں اتنی مارا ماری شاید پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہوگی۔ توقع کے مطابق دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ نامزدگی کے آخری دن مختلف پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو ملا کر ریکارڈ1785 لوگوں نے دہلی کے مختلف حصوں میں بنائے گئے68 مراکز پر اپنی نامزدگی داخل کی۔ ایک دن میں اتنے زیادہ امیدواروں کے ذریعے نامزدگی کا یہ ریکارڈ ہے۔ ایم سی ڈی کے امیدواروں کے انتخاب میں بھاجپا کے سبھی قاعدے قانون تار تار ہوگئے۔ پارٹی نے جہاں کئی سرکردہ لوگوں کو باہر کردیا وہیں پردیش صدر نے باغیوں سے نمٹنے میں کوئی موقعہ نہیں چھوڑا۔ خاص بات یہ رہی کہ قریب 55 کونسلروں کو پارٹی نے دوبارہ چناؤ میدان میں نہیں اتارا ہے۔ پارٹی نے اس بار17کونسلروں کو دوسرے وارڈوں سے چناؤمیدان میں اتارا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری امیدواروں کی فہرست میں قریب آدھا درجن اہم کمیٹیوں کے صدور کے نام غائب ہیں۔ ایم سی ڈی چناؤ میں امیدواروں کے انتخاب میں کانگریس کی ماہرین کی کمیٹی نے نہ صرف44 کونسلروں کو جیتنے کے اہل مانا اور ان پر بھروسہ کر چناؤ میدان میں اتارا ہے۔2007ء میں ایم سی ڈی چناؤ میں کانگریس کے67 کونسلروں جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔ کانگریس سلیکشن کمیٹی نے ان 67 میں سے43 کونسلروں کو ٹکٹ نہیں دیا ہے۔ ان میں کئی ایسے وارڈ ہیں جہاں تبدیلی ہوئی ہے وہ ریزرو ہوگئے ہیں۔248 نئے چہرے میدان میں اترے ہیں۔ حالانکہ کانگریس پردیش پردھان کا دعوی تھا کہ کسی ایسے شخص کے رشتے دار کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا جس کا وارڈ ریزرو نہ ہو۔ وہیں ایسا بھی شخص ٹک پانے کا حقدار نہیں ہوگا جو2007ء کے ایم سی ڈی چناؤ میں ایک ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہارا ہو۔ امیدواروں کے انتخاب میں جو پیمانے پردیش کانگریس کمیٹی نے بنائے تھے وہ بھی پھُس ثابت ہوئے۔ کانگریس کی اسی پالیسی کے چلتے بڑے پیمانے پر لوگوں نے کانگریس سے بغاوت کر دل بل کے ساتھ پرچے داخل کئے ہیں۔ بھاجپا اور کانگریس میں پرانے نیتا اور ورکروں کی وفاداری پر بڑے نیتاؤں کے چہیتوں کے ساتھ رشتے دار بھاری پڑے۔ بڑے برے نیتاؤں نے زمین کے دھندے سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ہی اپنے رشتے داروں میں ٹکٹ بانٹ دی۔ بھاجپا میں ٹکٹ بانٹنے والوں نے اپنی چلانے کیلئے موجودہ117 کونسلروں کے ٹکٹ کاٹ دئے۔ ان میں سے 22 کونسلر اپنی بیوی یا بہو کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ بھاجپا کے کل ملاکر عہدوں پر جمے 62 لیڈر اپنی اپنی بیوی اور بہو کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ یہ سب ان خاتون ورکروں پر بھاری پڑی ہیں جو طویل عرصے سے پارٹی کا جھنڈا اٹھا رہی تھیں۔ دہلی کی دونوں بڑی پارٹیوں کانگریس اور بھاجپا نے اتنی بڑی تعداد میں سیاسی وبھیشن کردئے ہیں جو امیدواروں کی لنکا اجاڑنے کا کام کریں گے۔ کانگریس میں امیدواروں کی فہرست ہمیشہ آخری وقت پر ہی جاری ہوتی تھی لیکن بغاوت کے چلتے ایک امیدوار کو ٹکٹ دے کر پھر دوسرا امیدوار بدلنا پارٹی کے لئے نئی مصیبت کھڑی کررہا ہے۔ ادھر بھاجپا پارٹی ود دی فیملی دکھائی دے رہی ہے۔ یہاں پارٹی کے ورکروں کو درکنار کر اپنے خاندان کو اہمیت دی گئی ہے۔ بغاوت دونوں ہی پارٹیوں کے لئے ایک نیا درد سر بن گیا ہے۔ کہیں یہ تجزیئے دونوں پارٹیوں کی لنکا نہ جلادیں۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Delhi, Elections, MCD, Vir Arjun

25 مارچ 2012

ضمنی چناؤ نتائج کانگریس اور بھاجپا کیلئے تشویش پیدا کرتے ہیں



Published On 25 March 2012
انل نریندر
تازہ ضمنی چناؤ نتائج اگر کانگریس کے لئے تشویش کا باعث ہیں تو آندھرا پردیش کی 7 اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی چناؤ میں اس کا صفایا ہونے کی خبر تو پارٹی کے لئے اچھااشارہ نہیں ہے۔ یہ ضمنی چناؤ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے بھی اچھے اشارے نہیں دے رہے ہیں۔ گجرات کو بھاجپا اپنا گڑھ مانتی ہے اور کرناٹک میں بھی وہ قریب چار سال سے اقتدار میں ہے لیکن ان ریاستوں میں اسے ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں کانگریس اور بھاجپا ہی خاص حریف ہیں۔ اس لئے بھی یہ ہار بھاجپا کیلئے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ کرناٹک کی اڈوپی ۔چکمگلور سیٹ وزیر اعلی سدانند گوڑا کی تھی، وزیر اعلی چنے جانے کے بعد انہوں نے ہی اس سیٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ظاہر ہے اس سیٹ کو برقراررکھنا بھاجپا کے لئے وقار کا سوال تھا۔ مگر یہاں اسے کانگریس کے ہاتھوں 45 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے مات کھانی پڑی۔ صاف ہے کہ اقتدار کے خاطر پارٹی کے اندر جاری جوڑ توڑ اور رسہ کشی اور کرپشن کے الزامات اور اسمبلی میں فحاشی ویڈیو دیکھے جانے کے واقعہ سے ساکھ خراب ہوئی اس کا خمیازہ پارٹی کو بھگتنا پڑا ہے۔ ڈسپلن کا دم بھرنے والی بھاجپا کے لئے آج ڈسپلن شکنی ہی سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
گجرات میں منسا اسمبلی سیٹ بھاجپا کے ہاتھ سے نکل کر کانگریس کی جھولی میں آنا وزیر اعلی نریندر مودی کے لئے بھی جھٹکا ہے۔ غورطلب یہ بھی ہے کہ منسا اسمبلی سیٹ گاندھی نگر لوک سبھا حلقے میں آتی ہے۔ جس کی نمائندگی لال کرشن اڈوانی کرتے ہیں لیکن یہ پہلا موقعہ نہیں جب بھاجپا کے اس گڑھ میں سیند لگانے میں کانگریس کو کامیابی ملی ہے۔ پچھلے سال نومبر میں میونسپل انتخابات میں بھی بھاجپا کی درگتی ہوئی تھی اس سال کے آخر میں ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، اس لئے منسا کی ہار جہاں نریندر مودی کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے وہیں کانگریس ضرور اس سے خوش ہوگی۔ آندھرا پردیش کانگریس کے لئے سب سے بڑا گڑھ رہا ہے۔ 2009ء کے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس یہاں 95 فیصدی سیٹیں جیت کر سیاست کے پنڈتوں کو چکمہ دے گئی تھی لیکن اس کے کرشمائی لیڈر سورگیہ راج شیکھر ریڈی سے اچانک موت اور ان کے صاحبزادے جگنموہن ریڈی کے کانگریس سے الگ ہونے کے بعد اس کا اثر شروع ہوگیا۔ اس کے بعد ریاست میں 17 اسمبلی اور 2 لوک سبھا سیٹوں پرضمنی چناؤ ہوچکا ہے، جس میں حکمراں کانگریس کا پوری طرح صفایا ہوگیا ہے۔ جہاں کانگریس ایک بھی سیٹ نہیں جیت پائی وہیں بھاجپا جیسی پارٹی جس کا صوبے میں زیادہ اثر نہیں ہے ، وہ بھی تین سیٹیں جیت چکی ہے۔ مرکزی سرکار میں بڑے گھوٹالوں کے انکشاف کے بعد کانگریس کو مہاراشٹر، راجستھان اور دہلی میں ہوئے ضمنی چناؤ میں بھی زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جہاں اس کی حکومتیں ہیں یہاں بھی ممبئی میونسپل چناؤ میں بھی اسے ہار کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ یعنی ہر اس جگہ سے کانگریس کو بری خبر مل رہی ہے جہاں اس کے پاس اچھی طاقت ہے۔ کیرل میں ہوئے ضمنی چناؤ میں کانگریس کی ساتھی پارٹی کانگریس(جیکب) نے اپنی سیٹ برقرار رکھی ہے۔ یہ نتیجہ کانگریس کے لئے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ریاست میں اس کی قیادت والی یوپی اے سرکار معمولی اکثریت پر ٹکی ہے۔ تملناڈو اور اڑیسہ میں بھی ایک ایک اسمبلی سیٹ پر ہوئے ضمنی چناؤ حکمراں پارٹی کے حق میں گئے ہیں۔ ویسے ضمنی چناؤ نتائج کو ہر حال میں عوامی رجحان کا اشارہ تو نہیں مانا جاسکتا لیکن کئی ریاستوں سے وہاں کے ووٹروں کے مزاج کا ضرور اشارہ ملتا ہے اور یہ اشارے نہ تو کانگریس کے لئے اچھے ہیں اور نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, By Poll, Karnataka, Andhra Pradesh, Gujarat, Modi, BJP, Congress,

23 مارچ 2012

گڈکری کی ہٹّی پھل پھول رہی ہے، پارٹی جائے بھاڑ میں!



Published On 23 March 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ادھیکش نتن گڈکری کے کام کرنے کے طور طریقوں سے زیادہ تر بھاجپا نیتا راضی نہیں ہیں۔ گڈکری کو آر ایس ایس کا نمائندہ مانا جاتا ہے۔ وہ سنگھ کے سمرتھن سے ہی بھاجپا ادھیکش بنے۔ گڈکری ایک تاجر ہیں جو بھاجپا کو اپنی نجی دکان کی طرح چلا رہے ہیں۔ تازہ بوال راجیہ سبھا کی ٹکٹوں کے بٹوارے کو لیکر ہے۔ راجیہ سبھا میں پارٹی کے صحیح امیدواروں کو درکنار کرنے اور مبینہ طور سے پیسے کے زور پر ٹکٹ دینے کے مدعے پر منگلوار کو بھاجپا ممبر پارلیمنٹ کی میٹنگ میں جم کر بوال ہوا۔ یشونت سنہا نے ایک تاجر انشومان مشرا کو سمرتھن دینے کو لیکر سیدھے پارٹی رہنمائی پر سوال اٹھادیا ہے۔ سنہا نے کہا کہ پارٹی ودھائکوں کو ہورس ٹریڈنگ کی منڈی میں نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اس میں پارٹی کا انوشاسن بھنگ ہوتا ہے اور امیج خراب ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جھارکھنڈ میں موجودہ راجیہ سبھا چناؤ میں پالیسی کو نہیں بدلا گیا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ زیادہ تر ممبر پارلیمنٹ ایم ایس اہلووالیہ کو دوبارہ جارکھنڈ سے ٹکٹ دینے پر ناراض تھے۔ بتاتے ہیں کہ اہلووالیہ پر سنگھ نے ویٹو لگادیا تھا۔میٹنگ میں ہماچل سے ممبر پارلیمنٹ شانتا کمار نے کہا کہ اہلووالیہ ایوان میں ایک اثردار نیتا ہیں اور انہیں ایک اور موقعہ ملنا ہی چاہئے تھا۔ نوادہ کے ممبر پارلیمنٹ بھولا سنگھ نے کہا کہ پارٹی کا ضمیر مر چکا ہے اور وہ پیسے کے سامنے جھک رہی ہے۔ بھاولا سے ممبر پارلیمنٹ مینکا گاندھی نے مرکزی رہنمائی سے کرناٹک کے سنکٹ کو ختم کرنے اور یدی یروپا کی مانگ پر دھیان دینے کی اپیل کی۔ اہلووالیہ کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ نہ ملنے سے کانگریس اور مایاوتی کی مراد پوری ہوگئی ہے۔ اہلووالیہ یوپی اے سرکار کو تمام مدعوں پر سب سے زیادہ گھیرتے رہے ہیں جن کی وجہ سے سرکار کئی بار پریشانی میں پڑی ہے۔مایاوتی بھی چاہتی تھیں کہ اہلووالیہ کا راجیہ سبھا سے پتا صاف ہوجائے تاکہ ممبر پارلیمنٹ نہ رہنے پر ان کو (اہلووالیہ) اپنا سرکاری بنگلہ 10 گورودوارہ رقاب گنج خالی کرنا پڑے۔ گڈکری چاہتے تو اہلووالیہ کو بھیج سکتے تھے انہیں جیتنے کے لئے بس11 ووٹ کی کمی پڑ رہی تھی جسے وہ جنتا دل (یو) سے پورا کرسکتے تھے لیکن گڈکری اور سشیل نے مل کر وہ سیٹ جنتادل (یو ) کے لئے چھوڑدی ۔جس پر بہار جنتا دل (یو) ادھیکش وششٹھ سنگھ نے نامزدگی کردی جبکہ اہلووالیہ نے اس سیٹ پر گڈکری سے پہلے سے ہی بات کررکھی تھی۔ ممبر پارلیمنٹ کی میٹنگ میں سب سے نازک حالت اڈوانی جی کی تھی۔ پوری میٹنگ میں وہ ایک تماشائی بنے رہے۔
ممبر پارلیمنٹ کے بغاوتی تیور کا اثر فوراً دیکھنے کو ملا۔ کہا جارہا ہے کہ جھارکھنڈ میں جب پارٹی راجیہ سبھا چناؤ میں اپنے ودھائکوں کو کسی آزاد امیدوار کے ووٹ دینے کے لئے دباؤ نہیں دے گی بلکہ کوشش ہورہی ہے کہ بھاجپا ودھائک چناؤ کا ہی بائیکاٹ کریں۔ ادھیکش نتن گڈکری نے اترپردیش ودھان سبھا چناؤ میں ہٹلری اسٹائل سے چناؤ مہم چلائی۔ سب سے پہلے گڈکری نے سپا کے سمرتھن کے بل پر پارٹی کے قد آور نیتا اور گجرات کے مکھیہ منتری نریندر مودی کی مخالفت کے باوجود سنگھ کے پرچارک رہے سابق سنگٹھن منتری سنجے جوشی کو یوپی چناؤ پرچار کا انچارج بنا دیا۔ دوسرا گڈکری نے سبھی پارٹی نیتاؤں کی مخالفت کے باوجود بسپا سے نکالے ہوئے بابو سنگھ کشواہا اور بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں شامل کیا۔
پارٹی نے بندیلکھنڈ سے جتنے بھی تجربے کئے سوائے اوما بھارتی کے سب فیل ہوئے۔ مسلم بھتوں کے پولارائزیشنکو روکنے کیلئے اپنے سبھی فائر برانڈ نیتاؤں ورون گاندھی،یوگی ادتیہ ناتھ کو جہاں اپنے حلقے تک محدود کردیا وہیں دوسری طرف ہندووادی چہرہ مانے جانے والے نریندر مودی کو دعوت نامہ بھیجا لیکن جب ان کی ناراضگی ظاہر ہوئی تو انہیں منانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔پارٹی کی سبھی کوششوں کے بعد بھی پارٹی مسلم بھتوں کا پولارائزیشنتو نہ روک سکی بلکہ اپنی اس کوشش میں اس نے اپنے روایتی ووٹ بھی گنوا دئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پارٹی 2007ء کا بھی مظاہرہ نہ دوہرا سکی۔ چاہے معاملہ اتراکھنڈ کا رہا ہو یا پنجاب کا دونوں ہی راجوں میں بھاجپا کی حالت خراب ہوئی ۔ گڈکری جب سے ادھیکش بنے ہیں بھاجپا کا گراف گرتا ہی جارہا ہے لیکن اس میں نتن گڈکری کو کوئی فرق نہیں پڑتا وہ تو پارٹی کو بطور ہٹّی (دکان) چلا رہے ہیں۔جس کا واحد مقصد ہے پیسہ بنانا اور یہ کام وہ بخوبی کررہے ہیں۔ گڈکری کی ہٹّی تو پھل پھول رہی ہے ،پارٹی جائے بھاڑ میں۔
Anil Narendra, Babu Singh Kushwaha, BJP, Daily Pratap, Jharkhand, Narender Modi, Nitin Gadkari, RSS, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Varun Gandhi, Vir Arjun

14 مارچ 2012

پھر شروع ہوئی تیسرے ،چوتھے فرنٹ کی آہٹ



Published On 14 March 2012
انل نریندر
اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کی سرکار بننے سے مرکز میں نئی ہلچل شروع ہوگئی ہے۔ ملائم سنگھ یادو نے ایک جھٹکے میں نوجوان اکھلیش کو نریندر مودی، نتیش کمار، ممتا بنرجی، جے للتا، پرکاش سنگھ بادل، بھوپندر سنگھ ہڈا، عمر عبداللہ، شیلا دیکشت، نوین پٹنائک، شیو راج سنگھ چوہان، رمن سنگھ، پرتھوی راج چوہان جیسے سینئر وزرائے اعلی کو نہ صرف برابر بلکہ اترپردیش جیسے دیش کے سب سے بڑے صوبے کا مکھیہ بنا کر ان سے آگے کھڑا کردیا ہے۔ ہمیشہ سیاست میں خطرہ مول لینے والے ملائم نے اکھلیش کو کمان سونپ کر سب سے پہلے اپنے خاندان میں وراثت کے سوال کا حل تو نکال لیا ہے ساتھ ساتھ انہوں نے سماجوادی پارٹی کو بھی اپنا مستقبل کا نیتا دے دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب ملائم سنگھ کیا کریں گے؟ ظاہر ہے کہ وہ اب مرکز کی سیاست کریں گے۔ اس کی آہٹ بھی شروع ہوگئی ہے اب تھرڈ فرنٹ ،چوتھے فرنٹ کی بحث شروع ہوگئی ہے۔ ترنمول کانگریس کی صدر ممتا کے ذریعے چوتھا مورچہ بنانے میں سرگرمیں دکھانے سے لیفٹ پارٹیوں کی تشویش بڑھنا فطری ہی ہے۔چناؤ میں کانگریس اور بھاجپا کی ناکامی کے بعد لیفٹ پارٹیاں تھرڈ فرنٹ کو ایک بار پھر سنجیونی دینے میں لگ گئی ہیں۔ سی پی آئی کے سکریٹری جنرل اے بی بردھن نے کہا کہ وقت آگیا ہے اب تیسرے مورچے کو ایک بار پھر سرگرم کیا جائے۔ انہوں نے کہا بھاجپا کو گووا اور کانگریس کو منی پور میں کامیابی حاصل ہوئی لیکن بھاجپا نے یوپی میں منہ کی کھائی۔ پنجاب میں7 سیٹیں پچھلے کے مقابلے کم ملیں۔ اتراکھنڈ میں دوسرے نمبر پر پہنچ گئی۔ اسی طرح کانگریس یوپی میں چوتھے نمبر پر رہی۔ پنجاب میں اقتدار کی واپسی نہیں کرپائی۔ اس لئے اب لوک سبھا چناؤ میں ان دونوں پارٹیوں کا دبدبہ مرکزی سیاست میں کم ہوگا۔ بردھن نے کہا یہ صحیح وقت ہے کہ2014ء کے عام چناؤ کے لئے ابھی سے تھرڈ فرنٹ کو سرگرم کیا جائے۔ دراصل لیفٹ پارٹیوں کو ممتا کی بڑھتی سرگرمی ستانے لگی ہے۔
ممتا اڑیسہ ، بہار، پنجاب، تاملناڈو کے وزرائے اعلی سے رابطہ قائم کرکے چوتھے مورچے کو قائم کرنے کی تیاری میں لگی ہیں۔ اسی مقصد سے ممتا نے کہا کہ وہ پنجاب اور یوپی کے وزرائے اعلی کی حلف برداری تقریب میں حصہ لیں گی لیکن گھبرائی کانگریس دھمکیوں پر اترآئی ہے۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے ممتا کو وارننگ تک دے ڈالی کہ وہ لکشمن ریکھا پار نہ کریں اور اپنی حد میں رہیں۔ کانگریس کی سختی سے ممتا پر اثر بھی فی الحال نظر آرہا ہے کیونکہ ممتا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اب وہ پنجاب اور یوپی کے وزراء اعلی کی حلف برداری میں نہیں جائیں گی۔ کانگریس ۔بھاجپا کو چھوڑ کر باقی سبھی پارٹیوں کو متحد کرایک تیسرا ، چوتھا مورچہ بنانے کی ایک بار پھر سرگرمی دکھائی پڑنے لگی ہے۔ فی الحال کانگریس اتحاد نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں اس کے پاس کافی نمبر ہیں اور انہیں کسی کی پریشانی نہیں۔ بجٹ اجلاس شروع ہوگیا ہے دیکھیں کیا رنگ کھلاتا ہے یہ بجٹ اجلاس۔ تیسرے ،چوتھے مورچے کی کوشش رنگ لائے گی یہ آگے پتہ چلے گا؟
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Mamta Banerjee, Third Front, Uttar Pradesh, Vir Arjun

10 مارچ 2012

بھاجپا کیلئے نتیجے زیادہ غم خوشی کم لیکر آئے ہیں



Published On 10 March 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ تھوڑی خوشی اور زیادہ غم لیکر آئے ہیں۔ خوشی کی وجہ یہ ہے گووا کا نتیجہ۔ گووا میں بھاجپا اور مہاراشٹر وادی گومنتک پارٹی کو واضح اکثریت مل گئی ہے۔ بھاجپا میں پہلی بار خوبصورت ساحلوں والی اس ریاست میں 21 سیٹیں جیت کر اکیلے اپنے دم خم پر اکثریت حاصل کی ہے۔ گووا میں بھاجپا کی اس کامیابی کے لئے اصل ہیرو سابق وزیر اعلی پاٹیکر ہیں۔چناوی کمان انہیں کے ہاتھوں میں تھی۔ گووا میں میری رائے میں ایک بہت بڑا کارنامہ بھاجپا کا یہ ہے کہ اس نے اقلیتوں کی حمایت سے اقتدار حاصل کیا ہے۔ گووا کے عیسائیوں نے یہ ثابت کردیا ہے بھاجپا ان کے لئے اچھوت نہیں ہے۔ جنوبی گووا کی 17 میں سے8 سیٹیں پارٹی ان حلقوں میں جیتی ہے جہاں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ بھاجپا نے خود 6 عیسائی امیدوار کھڑے کئے تھے اور 2 آزاد کی حمایت کی تھی۔ سبھی آٹھوں امیدواروں جیتے ۔ پارٹی کو سب سے بڑا جھٹکا اترپردیش میں لگا ہے۔ ریاست میں چناؤ نتائج بھاجپا کو 2014 ء میں مرکز تک این ڈی اے سرکار بنانے کی امیدوں پر بڑا جھٹکا ثابت ہوئے ہیں۔ بھاجپا اترپردیش کے اسمبلی چناؤ میں بوئے گئے بیج سے مرکز میں 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں کامیابی حاصل کرنے کا اندازہ لگا رہی تھی لیکن نتیجے آئے اس سے مایوس کن اور پریشانی ہی ہاتھ لگی۔ اترپردیش پھر ایک بار تاملناڈو کی راہ پر چلا گیا ہے جہاں قومی پارٹی کا کردار بے جواز ہوکر رہ گیا ہے۔ بھاجپا اور آر ایس ایس کی چناوی لیباریٹری بنے یوپی انتخابات میں جہاں ایک ایک کرکے سبھی تجربوں کو دھکا لگا ہے وہیں پارٹی کے کئی لیڈروں کو دھول چٹانے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ ناراض ووٹروں کو منانے کا ذمہ آر ایس ایس اور صدر نتن گڈکری نے مل کر اٹھایا تھا۔ سب سے پہلے گڈکری نے سنگھ کی حمایت کی بدولت پارٹی کے بڑے لیڈر اور گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کی مخالفت کے باوجود سنگھ کے پرچارک رہے سابق تنظیمی سکریٹری سنجے جوشی کو یوپی کے چناؤ میں سرگرم کیا۔ دوسرا نتن گڈکری نے سبھی پارٹی نیتاؤں کی مخالفت کے باوجود بسپا سے نکالے گئے بابو سنگھ کشواہا اور بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں شامل کیا۔ بڑھتی ناراضگی کے چلتے کشواہا کی ممبر شپ تو معطل کردی گئی لیکن کرپشن کے دوسرے ملزم بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں بنائے رکھا بلکہ ان کو مہوبہ سے چناؤ میدان میں اتاردیا۔ پارٹی نے بندیلکھنڈ کو لیکر جتنے بھی تجربے کئے سوائے اس میں ایک اما بھارتی کے علاوہ کوئی نہیں جیت سکا۔ مسلم ووٹروں کے پولارائزیشن کو روکنے کے لئے اپنے سبھی فائر بینڈ لیڈروں ورون گاندھی، یوگی ادتیہ ناتھ کو جہاں اپنے حلقے تک محدود کردیا وہیں دوسری طرف ہندو وادی چہرہ مانے جانے والے نریندر مودی کو دعوت تو بھیجی لیکن جب ان کی ناراضگی ظاہر ہوئی تو انہیں منانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ پارٹی کی سبھی کوششوں کے بعد بھی پارٹی مسلم ووٹوں کو بٹوانے میں کامیاب نہ ہوسکی بلکہ وہ اپنی اس کوشش میں اپنے روایتی ووٹ بھی گنوا بیٹھی جس کے چلتے پارٹی کو 2007ء کی کارکردگی کو دوہرانا تو دور رہا بلکہ اس سے بھی کم ہوگئی۔ ایودھیا میں 6 دسمبر1992ء کے متنازعہ ڈھانچہ گرنے کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی کا امیدوار للوسنگھ سپا کے تیج نارائن پانڈے عرف پون پانڈے سے ہار گیا۔ للو سنگھ 1991ء سے مسلسل یہ سیٹ جیت رہے تھے۔ اترپردیش کے لئے امیدوارں کا چناؤ بھی آر ایس ایس گڈکری اور سنجے جوشی نے کیا تھا۔ انہوں نے ایسے پھسڈی امیدوار کھڑے کئے جنہوں نے نہ صرف پارٹی کی بھد پٹوائی بلکہ مقابلے میں نہ رہ کرچوتھے میدان پر رہے۔ اور بہت سے امیدواروں نے اپنی ضمانت تک گنوا دی۔ 122 ایسے امیدوار ہیں جو چار مقابلوں کی لڑائی میں جگہ تک نہیں بنا سکے۔ بھاجپا پردھان نتن گڈکری نے یوپی کے اندر تبدیلی کے لئے لمبی تیاری کی تھی۔ پارٹی کے اندر پرانا روایتی رویہ رکھنے والے امیدواروں کی بجائے نئی نسل کے امیدواروں کو لانے کا تجربہ کیا گیا۔ یہ ہی نہیں گڈکری اینڈ کمپنی نے الگ سروے کرایا جس سے کہ اول امیدوار کا انتخاب ہوسکے۔ چناؤ کے بعد جو حالت بنی ہے اس میں بھاجپا کے چوتھے مقام پر قریب 122 امیدوار رہے جن میں سے زیادہ تر اپنی ضمانت بچانے کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔ کئی امیدوار تو ایسے تھے جن کو پانچ ہزار ووٹ لانے کے لالے پڑ گئے۔ اترپردیش میں بھاجپا حاشئے پر چلی گئی اور اس کے لئے ذمہ دار ہیں آر ایس ایس، نتن گڈکری اور سنجیو جوشی جیسے بڑے نیتا۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Elections, Goa, Nitin Gadkari, Punjab, RSS, Sanjay Joshi, State Elections, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Vir Arjun

06 مارچ 2012

کشواہا کی گرفتاری کیا کانگریس کی حکمت عملی کا حصہ ہے؟



Published On 6 March 2012
انل نریندر
اترپردیش چناؤ کے آخری مرحلے کی پولنگ کے آخری بٹن دبنے کے ساتھ ہی سی بی آئی نے این آر ایچ ایم گھوٹاے میں ملزم سابق وزیر بابو سنگھ کشواہا کوگرفتار کرنے کے وقت کو لیکر ضرور حیرانی ہوئی ہے۔ سی بی آئی اور کانگریس کی یہ حکمت عملی کسیبھی شخص کی سجھ سے پرے ہے۔ یہ گرفتاری محض جانچ کی کارروائی کا حصہ ہے۔ کشواہا کے ساتھ ہی بسپا کے ودھان پریشد کے ممبر رام پرساد جیسوال بھی اسی گھوٹالے میں گرفتار کرلئے گئے ہیں۔ دونوں کو پوچھ تاچھ کے لئے سی بی آئی دہلی ہیڈ کوارٹر میں بلایا اور قریب چار گھنٹے تک گہری پوچھ تاچھ کے بعد جب افسران نے انہیں گرفتار ہونے کی خبر دی تو کشواہا کے چہرے پر مایوسی دوڑ گئی۔ کشواہا کی گرفتاری سے لگتا ہے کانگریس کے اقتدار سنگرام کا نیا حصہ ہے۔ سیدھے سیدھے کہیں تو مایاوتی کے لئے یہ ایک بڑا اشارہ ہے۔ انہیں خوش کرنے کی کوشش بھی اور نتیجے کے نمبر گڑبڑانے کا ہتھیار بھی۔گرفتاری کو اسی انداز میں دیکھا جانا چاہئے اور اسی طرح ہی پوری چناؤ مہم میں کانگریس نے جس طرح پھوکے پھوکے پاؤں چلے اس کے نیتا ریزرویشن کا جھنجھنا دکھا کر مسلمانوں کو آزماتے رہے۔ چناؤ کمیشن تک کو نظر انداز کرتے رہے، تہائی اکثریت کے دعوؤں کے درمیان صدر راج کا خوف دکھاتے رہے۔ کشواہا کی گرفتاری اسی کڑی کا حصہ ہے اور ویسا ہی یہ داؤ ہے۔ بسپا کے لئے ساتھ آنے کی درپردہ دعوت بھی لیکن اس وارننگ کے ساتھ ان کا مہرہ انہی کے خلاف چل سکتا ہے۔ دیش کی سیاست کی سب سے بڑی اہم ریاست اترپردیش کا تاج ہتھیانے کیلئے کانگریس کی کوئی بھی نیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ ہر طرح کا متبادل کھلا رکھنا چاہتی ہے۔ دو کشتیوں میں سوار ہوکر چلنے سے بھی اسے کوئی پرہیز نہیں۔ سپا کو انگوٹھا دکھا کر کانگریس کا دامن تھامنے والے دل بدلو سماج وادیوں کا طاقتور طبقہ کسی بھی قیمت پر ملائم سنگھ یادو کے ساتھ دوستی نہیں ہونے دینا چاہتا۔ انہیں مایاوتی کو ساتھ لینے میں کوئی پریشانی نہیں نظر آتی۔ کانگریس کی جانب سے وزیر اعظم کے خودساختہ دعویدار بینی پرساد ورما اس کی اپنی طرف سے پیشکش کرچکے ہیں۔ اپنے پرانے ساتھی ملائم کو آڑے ہاتھوں لینے کا وہ کوئی موقعہ نہیں چھوڑتے لیکن حال ہی میں چونکایا مایاوتی کی تعریف کرکے۔ ساتھ ہی آف دی ریکارڈ یہ بھی کہا چناؤ کے بعد سونیا مایاوتی کو بھی چائے پر بلا سکتی ہیں۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کو پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں سب سے زیادہ بے صبری یوپی کے نتیجوں سے ہے۔ جہاں پنجاب، اتراکھنڈ ، منی پور اور گووا کو لیکر کانگریس ہیڈ کوارٹر آرہی اطلاعات میں بہت زیادہ فرق نہیں دکھائی دے رہا ہے وہیں اترپردیش کے نتیجوں کو لیکر کانگریس کے اندر بھاری اختلافات ہیں۔ سونیا کے سپہ سالار جو انہیں بتا رہے ہیں اور راہل گاندھی کے سپاہی جو دعوی کررہے ہیں دونوں کے نمبروں میں خاصا فرق ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا کہ راہل گاندھی نے یوپی چناؤ میں بہت محنت کی ہے۔ 200 سے زیادہ ریلیاں روڈ شو کرنا آسان نہیں تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ راہل خیمے کا ماننا ہے کانگریس کی سیٹیں بڑھیں گی اور یہ بڑھت 50 سے70 تک ہوسکتی ہے۔ پارٹی کے زیادہ تر لیڈروں اور مرکزی وزراء کی بھی یہ ہی رائے ہے۔ کچھ مایوس کانگریسی اور ایم پی تو پارٹی کو محض 30سے35 سیٹیں ہی دے رہے ہیں۔ راہل خیمے میں ایسے بھی نیتا ہیں جو کہہ رہے ہیں کانگریس اپنی سیٹیں کم سے کم 125 تک پہنچا سکتی ہے۔ دگوجے سنگھ تو کانگریس کی کم سے کم 125 سیٹیں آنے کی شرط لگانے کو بھی تیار ہیں۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس بارانتخابار میں 15 سے20 فیصدی مزید پولنگ ہوئی ہے۔ اس کا کم سے کم 80 فیصدی سے زیادہ کانگریس کو ملا ہے اور یہ ووٹر راہل گاندھی کی جارحانہ چناؤ مہم اور لوگوں کے درمیان ان کے بھروسے اور ترقی کے ایجنڈے پر ہوئی ہے۔ دگوجے سنگھ بھی یہ کہتے ہیں کہ اس بار یوپی کا ووٹر خاموش رہا ہے کیونکہ اس کے ارد گرد سپا۔ بسپا کے حمایتیوں کا دبدبہ ہے اس لئے اس نے چناؤ میں چپ چاپ پولنگ کی ہے جو نتیجوں کی شکل میں سامنے آئے گا۔ خیر نتیجوں کے لئے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ جلد دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ آخر میں ہم چناؤ کمیشن اور ووٹروں کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں کہ پانچ ریاستوں اور ڈھائی مہینے طویل چناوی عمل کے دوران بغیر بوتھ پر قبضے اور تشدد یا کسی گڑ بڑی سے پاک چناؤ پر امن طریقے سے مکمل ہوگیا۔ سب سے بڑی بات یہ رہی کہ بغیر کسی اشتعال یا کشیدہ ماحول کے سبھی ریاستوں میں ووٹروں نے ریکارڈ پولنگ کی۔ لوگوں نے پولنگ بوتھوں پر جاکر جمہوریت کے اس مہا پروو کے تئیں نہ صرف اپنی عقیدت جتائی بلکہ چناؤ کو بہت دلچسپ بھی بنا دیا۔
Anil Narendra, Babu Singh Kushwaha, Bahujan Samaj Party, BJP, CBI, Daily Pratap, NRHM, Vir Arjun

29 فروری 2012

باغی یدی یروپا بنے گڈکری کا درد سر



Published On 29 February 2012
انل نریندر
کرناٹک میں بھاجپا کے سامنے عجیب و غریب صورتحال کھڑی ہوگئی ہے۔ ابھی اسمبلی انتخابات میں تین ممبران کا ایوان کے اندر فحاشی فلمیں دیکھنے کا معاملہ رکا نہیں تھا کہ سابق وزیر اعلی بی ایس یدی یروپا نے نیا ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔ انہوں نے اپنا دوبارہ تقرر کئے جانے کے معاملے کو لیکر کھلی بغاوت کردی ہے۔ ادھر بھاجپا پردھان نتن گڈکری نے ان کی دھمکیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے صاف کہہ دیا ہے کرناٹک میں کوئی سیاسی بحران نہیں اور ریاست میں موجودہ وزیر اعلی ڈی وی سدانند گوڑا کو بدلنے کے امکان سے انکار کردیا ہے۔ حالانکہ گڈکری نے ناراض چل رہے یروپا کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ پارٹی ان کا احترام کرتی ہے اور سدانند گوڑا فی الحال سرکار کی قیادت کررہے ہیں اس لئے لیڈر شپ میں تبدیلی کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ یدی یروپا نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ممبران اسمبلی ، ودھان پریشدوں کے ممبروں اور ممبران پارلیمنٹ کو دوپہر کا ظہرانہ بھی دیا۔یدی یروپا نے بنگلورو میں پارٹی لیڈر شپ پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا پچھلے سال جب انہیں وزیر اعلی کا عہدہ چھوڑنے کیلئے کہا گیا تھا تب پارٹی اعلی کمان نے وعدہ کیا تھا کہ انہیں چھ مہینے میں پھر وزیر اعلی بنادیا جائے گا۔ پہلے پارٹی لیڈر شپ کو 27 فروری تک خود کو وزیر اعلی بنانے کا وقت دینے والے یدی یروپا نے کہا میں وزیر اعلی کے عہدے کا بھوکا نہیں ہوں لیکن مرکزی لیڈرشپ نے مجھے چھ مہینے کے بعد پھر وزیر اعلی کے عہدے پر بٹھانے کا وعدہ کیا تھا اس لئے میں کرسی پانے کے لئے دہلی گیا تھا۔ انہوں نے اپنی 70 ویں سالگرہ پر پسماندہ طبقہ فورم کی جانب سے منعقدہ ریلی کو خطاب کیا تھا۔
مرکزی لیڈر شپ سے ناراض سابق وزیر اعلی نے کہا وہ لیڈر شپ تبدیلی کا اشو سلجھانے کیلئے دہلی میں تین مارچ کو منعقدہ منتھن کور کمیٹی کی میٹنگ میں شامل نہیں ہوں گے۔اس کی جگہ وہ پوری ریاست کا دورہ کریں گے تاکہ پارٹی مضبوط ہو۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ کچھ کانگریسی لیڈر بھاجپا کو جھٹکا دینے کیلئے باغی یدی یروپا کو کانگریس میں شامل کرانے کیلئے زور دار کوشش میں لگ گئے ہیں۔
کانگریس میں آنے کی بات چیت بھی ان سے کی گئی ہے لیکن 10 جن پتھ نے کرناٹک کے اپنے لیڈروں کو صاف پیغام بھیج دیا ہے کہ کرپشن کی کیچڑ میں لت پت یدی یروپا کوکسی حالت میں کانگریس میں کسی حالت میں اینٹری نہیں دی جاسکتی۔ ذرائع کے مطابق ایک سابق مرکزی وزیر اور کرناٹک کانگریس کے سینئر لیڈر یدی یروپا کے سلسلے میں ایک سیاسی تجویز لے کر آئے تھے۔ انہوں نے پارٹی کے دو قومی جنرل سکریٹریوں کو بھی اس کے لئے تیار کرلیا تھا لیکن یدی یروپا کو کانگریس میں لیا جائے تو ریاست میں بھاجپا ہمیشہ کے لئے کمزور پڑ جائے گی لیکن ہائی کمان اس کے لئے تیار نہیں ہے۔ جو لوگ اس تجویز کی پیروی کررہے تھے انہیں ڈانٹ پڑی ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ اربوں روپے کے کرپشن میں شامل سابق وزیر اعلی کو کانگریس میں لے لیا گیا تو اس سے قومی سطح پر کانگریس کے لئے غلط پیغام جائے گا۔ بھاجپا لیڈر شپ کے لئے کرناٹک ایک چنوتی بن گئی ہے۔ جنوبی ہندوستان میں واحد بھاجپا سرکار کو بچانے کیلئے پارٹی لیڈر شپ کو اس معاملے میں جلد سے جلد صلح نامہ پارٹی کے مفاد میں ہی ہوگا۔ اقتدار کے بھوکے یدی یروپا کو کیسے کنٹرول کیا جائے یہ گڈکری کے لئے ایک چیلنج ہے۔
 Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Karnataka, Nitin Gadkari, Vir Arjun, Yadyurappa

کیجری ۔۔۔۔ بوال



Published On 29 February 2012
انل نریندر
ٹیم انا کے بڑبولے ممبر اروند کیجریوال نے تو ساری حدیں پار کردی ہیں۔ گریٹر نوئیڈا میں ایک چناؤ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں چور، لٹیرے اور آبروریز بیٹھے ہیں ان سے انہیں کوئی امید نہیں ہے۔ کیجریوال نے کہا پارلیمنٹ میں 163 ایم پی ایسے ہیں جن کے خلاف گھناؤنے جرائم کے مقدمے چل رہے ہیں۔ کیجریوال کے مطابق پارلیمنٹ دیش کا سب سے بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے اور جب تک اس کا کردار نہیں بدلا جائے گا دیش میں بہتری نہیں آسکتی۔ انہوں نے آر جے ڈی کے لالو پرساد یادو ، سپا کے ملائم سنگھ یادو پر جم کر نشانہ لگایا اور کہا کہ ایسے لوگ پارلیمنٹ میں کبھی بھی لوکپال بل پاس نہیں ہونے دیں گے۔ کیجریوال کے اس تلخ رویئے کے خلاف سبھی پارٹیوں نے ایک آواز میں ناراضگی ظاہر کی لیکن کیجریوال کو شاید اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ اگلے ہی دن انہوں نے ٹوئٹر پر لکھ دیا کہ پارلیمنٹ اور سرکار مجرموں کے ہاتھ یرغمال ہے۔
انہوں نے میڈیا سے کہہ دیا کے چناؤ ریلی میں کچھ بھی غلط نہیں کہا تھا ایسے میں معافی مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے دوہرایا کہ اگر پارلیمنٹ میں سینکڑوں جرائم پیشہ بیٹھے ہیں تو اس حقیقت کے بارے میں بولنا گناہ کیسے ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں چور، گریکٹ جیسے معمولی جرائم پیشہ نہیں وہاں تو 15 ایسے ایم پی ہیں جن پر قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔ 23 ایسے ایم پی ہیں جن پر اقدام قتل کے معاملے چل رہے ہیں،13 ایم پی ایسے ہیں جن پر اغوا کے مقدمے چل رہے ہیں،11 پر دھوکہ دھڑی کے معاملے ہیں۔ اروند کیجریوال کے اس بیان سے سیاسی پارٹیوں کا بھڑکنا سمجھ میں آتا ہے۔ کیجریوال نے ساری حدیں پار کردی ہیں۔ کچھ ایم پی مجرمانہ پس منظر کے ہو سکتے ہیں لیکن یہ کہنا کے پارلیمنٹ ہی چوروں اور لٹیروں کا ڈیرا ہے، غلط ہے۔ آخر یہ پارلیمنٹ پہنچے کیسے؟ جنتا نے انہیں کیونکر بھیجا۔قصور جنتا کا زیادہ ہے یا ان قوانان کا جو ایسے کردار کے امیدواروں کو چناؤ لڑنے سے نہیں روکتے۔ پھر پارلیمنٹ میں صاف ستھری ساکھ والے ممبران پارلیمنٹ کی بھی اکثریت ہے۔ ہر ایک کو ایک ہی تھالی کا چٹا بٹا کہنا غلط ہے اور یہ اخلاقیات سے پرے ہے۔ ظاہر ہے کہ جیسے ہی پارلیمنٹ کا اجلاس چلے گا پہلا کام ممبران اروند کیجریوال کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے اور انہیں سزا ملنا طے ہے۔ کانگری کے ترجمان راشد علوی نے کہا کہ کیجریوال کا بیان رائے زنی کے لائق نہیں لیکن اس طرح کے بیان جمہوریت اور پارلیمنٹ کی ہی نہیں جنتا کی بھی بے عزتی ہے۔ سپا کے سکریٹری جنرل موہن سنگھ کا کہنا ہے کیجریوال کے منہ سے ایسے الفاظ کا استعمال قابل مذمت ہے۔ باہری اشاروں پر اپنے این جی او کے لئے پیسے بٹورنے کے لئے وہ پارلیمنٹ کو بدنام کررہے ہیں۔ ان کی خبر لی جانی چاہئے کیونکہ کیجریوال تو جمہوری نظام کے ہی دشمن بن گئے ہیں۔ آر جے ڈی پردھان لالو پرساد یادو نے کل کہا کہ کیجریوال تو غیر ملکی ایجنٹ ہیں۔ لگتا ہے ان کی پارٹی لوک سبھا میں کیجریوال کے خلاف تحریک ملامت لائے گی۔ بھاجپا کے ترجمان پرکاش جاویڈکر نے بھی کیجریوال کے بیان کی نکتہ چینی کی ہے۔ اسے قابل مذمت اور لوگوں کی جمہوریت کے تئیں عقیدت کمزور کرنے والا بتایا ہے جبکہ ٹیم انا کے اہم ممبر کمار بشواس کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیجریوال کے بیان پر ہنگامہ کیوں برپا ہے؟
Anil Narendra, Arvind Kejriwal, BJP, Congress, Corruption, Daily Pratap, Lalu Prasad Yadav, Parliament, Vir Arjun

21 فروری 2012

مہاراشٹر کے منی چناؤ میں بھگوا بھاری پڑا


Published On 21st February 2012
انل نریندر
مہاراشٹر کے 10 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کی حالانکہ قومی سیاست میں اتنی اہمیت نہ ہو لیکن اس کا اثر ضرور پڑے گا۔ مہاراشٹر میں تو خیر یہ ایک طرح سے اسمبلی منی چناؤضرور مانا جاسکتا ہے ان انتخابات کے نتیجوں سے جہاں شیو سینا ۔ بھاجپا محاذ خوش ہوگا وہیں یہ کانگریس ۔ این سی پی محاذ کے لئے ایک جھٹکا ہے۔دیش کی آدھے سے زیادہ ریاستوں کے سالانہ بجٹ والی ملک کی سب سے بڑی میونسپل کارپوریشن ممبئی مہانگر پالیکا(بی ایم سی) کے اقتدار کے بالکل قریب پہنچ کر شیو سینا نے ایک بار پھر دکھا دیا ہے کہ چناؤ ہوا ہوائی دوروں سے نہیں بلکہ ووٹروں کو پولنگ مرکزوں پر لے جاکر جیتے جاتے ہیں۔ 10 میونسپل کارپوریشنوں کے چناؤ میں شیو سینا۔بھاجپا محاذ نے پانچ شہروں میں بھگوا پرچم لہرایا ہے۔ کانگریس اور این سی پی کو چار چہروں میں ہی کامیابی ملی ہے۔ راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نو نرمان سینا کی غیر متوقع طور سے ناسک میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ شیو سینا اور بھاجپا و آر پی آئی نے مل کر227 سیٹوں والی بی ایم سی میں 107 سیٹیں جیت کر سب سے بڑے محاذ کے طور پر کامیابی درج کرائی۔ کانگریس اور این سی پی نے پہلی بار یہاں مل کر چناؤ لڑا اور منہ کی کھائی۔ چناؤ نتائج آتے ہی کانگریس پارٹی میں رسہ کشی شروع ہوگئی ہے۔ پارٹی کے لیڈر ایک دوسرے پر ہار کار ٹھیکرا پھوڑ رہے ہیں۔ ممبئی کانگریس یونٹ کے پردھان کرپا شنکر کا مقامی ایم پی سنجے نروپم اور پریہ دت کو ہار کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ کرپا شنکر سنگھ وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کے سرپر ہار کار ٹھیکرا پھوڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پورا چناؤ شری چوہان کی لیڈر شپ میں لڑا گیا تھا تو پھر وہی ہار کے ذمہ دار مانے جانے چاہئیں جبکہ دہلی میں بیٹھے کانگریس کے دوسرے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ممبئی کو غیرمراٹھی لیڈروں کے حوالے کرنے کا خمیازہ اٹھانا پڑا ہے۔ مراٹھی مانش کے نام سے شیو سینا اور ایم این ایس جیسی پارٹیاں کامیاب رہی ہیں ان کا خیال ہے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مراٹھی لیڈر شپ کو ممبئی میں پنپنے نہیں دیا گیا۔ اسی وقت ممبئی کے دو کانگریسی لیڈر ہیں اور دونوں کرپا شنکر اور سنجے نروپم نارتھ انڈیا کے ہیں۔ مرلی دیوڑا راجستھان سے ہیں تو پریہ دت پنجاب سے ہیں۔ ایسے میں مراٹھا ووٹ کس وجہ سے کانگریس کو ملتا؟ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ممبئی کی ہار کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ اعلی کمان نے ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر حصوں میں ہار کے اسباب کی جانچ کے لئے ممبئی کانگریس کمیٹی، پردیش کانگریس کمیٹی اور وزیر اعلی سے الگ الگ رپورٹ مانگی ہے۔ پارٹی کا ایک گروپ آپسی گروپ بندی مان رہا ہے۔ کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے بطور وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کو صوبے میں بھیجے جانے کے فیصلے کو ریاست کی سیاست میں سرگرم اثر رکھنے والے تمام لیڈر ابھی تک پچا نہیں پائے ہیں۔ کانگریس این سی پی کے درمیان بہتر تال میل نہ رہنے کو بھی ہار کا سبب مانا جارہا ہے۔ سابق وزیر اعلی اشوک چوہان ، ولاس راؤ دیشمکھ کے الگ الگ خیمے میں صوبے میں پرتھوی راج چوہان کے کردار کو صحیح دل سے نہیں قبول کرپائے۔ تنازعات کے گھیرے میں آئے کرپا شنکر جیسے نیتاؤں کا بچاؤ بھی پارٹی کے حق میں نہیں گیا۔ چناؤ کے دوران صدر کے بیٹے راجندر سنگھ شیخاوت سے کروڑوں روپے ملنا بھی پارٹی کو تنازعوں میں ڈال دیا ہے۔ وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان نے چناؤ میں پوری طاقت جھونکی تھی۔ ان پر مخالفین چٹکی بھی لے رہے تھے کہ وہ گلی کوچوں کی خاک چھان رہے ہیں۔ نتیجے یوپی چناؤ کے دوران آئے ہیں لہٰذا پارٹی کے لئے یہ ایک مزید جھٹکا ہے۔ حالانکہ پارٹی نے اس بات سے انکار کیا کہ چناؤ نتیجوں کا اثر یوپی کے چناؤمیں پڑے گا۔پارٹی نے کہا راہل گاندھی کی کوششوں اور یوپی کے چناؤ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔ انچارج موہن پرکاش نے کہا کہ یہ اسمبلی چناؤ نہیں تھا بلکہ مقامی بلدیاتی چناؤ تھا جہاں نتیجے مقامی اسباب پر منحصر کرتے ہیں۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Maharashtra, MNS, Shiv Sena, Vir Arjun

16 فروری 2012

اترپردیش میں چل رہا ہے ایک سائلینٹ کرنٹ


Published On 16th February 2012
انل نریندر
ایسا کون سا اشوہے جسے یوپی کے لیڈر سمجھ نہیں پارہے ہیں اور جنتا سمجھ رہی ہے؟ منڈل کمنڈل کے بھڑکاؤ اور اشتعال آمیز ماحول میں بھی جب اترپردیش میں 57 فیصدی سے زیادہ پولنگ نہیں ہوئی لیکن اس مرتبہ پتہ نہیں کون سا کرنٹ انڈر کرنٹ چل رہا ہے کہ اتنی بھاری پولنگ ہورہی ہے۔ سطح پر بالکل امن ہے نہ کسی کااحتجاج اورنہ ہی کسی کے حق میں ہوا صاف چل رہی ہے۔ مگرپھر بھی پولنگ 60 فیصدی کے قریب رہی ۔ اترپردیش میں آزادی کے بعد پہلی مرتبہ یہ کرشمہ دکھائی دے رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ پہلے دومرحلے کی پولنگ میں اچھی آبادی کا ڈسٹنگ شن سے پاس ہونا؟پہلے مرحلے میں بارش کے باوجود مردوں سے زیادہ پولنگ فیصد عورتوں کا تھا۔زیادہ پولنگ کو اترپردیش میں حکمراں مخالف لہر کی شکل میں دیکھاجاتا ہے۔اس بے حد آسان سے کے خیال کے لئے پچھلی دہائیوں میں نتیجہ ہی ذمہ دار ہے 1985کے بعد کسی بھی حکمراں پارٹی مسلسل دوسری بار سرکار بنانے میں ناکام رہی۔ایسے میں بڑی پولنگ کو سپا بھاجپا وکانگریس ظاہری طورپرحکمراں بسپا مخالف لہر کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ کانگریس کو توراہل کا کرشمہ دکھائی دے رہاہے۔ سپا کو بسپا سرکار کا کرپشن تو بھاجپا کومرکزی حکومت کے خلاف یوپی کے لوگوں کاغصہ مگر ایسا کیا ہے کہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ووٹر بھاری تعداد سڑکوں میں اترے۔ آزادی سے اب تک ہوئے کل 15انتخابات میں کبھی اس طرح سڑکوں پر پولنگ کے نہیں نکلی۔ ایمرجنسی کے بعد 1977میں ہو یا پھر 1991میں رام جنم بھومی تحریک کی لہر نے بھی پولنگ فیصد 55فیصدی کے پاس ر ہی۔ بھاجپا کو روکنے کے لئے 1993 میں سماجی انصاف دلت سیاست کو کانشی رام اورملائم نے کٹھ جوڑ کر سماجی تبدیلی کابگل پھونکا۔ لیکن پولنگ 60 فیصدی کے جادوئی نمبر تک نہیں پہنچ سکی۔ 6 مارچ کو نتیجہ آنے سے پہلے تک سیاسی پنڈت اور پارٹی اپنی دلیل اورحساب کتاب پیش کرے گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہوا کے مزاج کوکوئی نہیں بھانپ رہا ہے۔ اگرپولنگ میں عورتوں اور نوجوانوں کی بڑھتی ساجھے داری سے ہماری جمہوریت کے مضبوط ہونے کے صاف اشارے ہیں کہ کرپشن کے خلاف انا ہزارے کی تحریک کااثر صاف دکھائی پڑرہا ہے تب ہی تو کچھ ووٹروں نے رائٹ ٹو ریجکیٹ( مسترد کرنے کا حق) کامتبادل بھی استعمال کیاہے لیکن اترپردیش کے مشرقی علاقے میں دومرحلوں میں ہوئی پولنگ سے جو ہوا چلی ہے وہ مغربی حصے تک آتے آتے بدل بھی سکتی ہے اس علاقے میں فیصلے کی چابی مسلمانوں اور جاٹوں کے ہاتھوں میں ہے ۔عام طورپر مغربی یوپی میں جاٹوں کا دبدبہ مانا جاتاہے جاٹوں کی لیڈر کی شکل میں چودھری اجیت سنگھ قریب دودہائیوں سے اپنادبدبہ بنائے ہوئے ہیں کانگریس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والے اجیت سنگھ کو کل 54 سیٹیں ملی تھی۔ اگرزمینی سطح پر یہ سمجھوتہ صحیح معنوں نافذ ہوتا تو دونوں کانگریس اور راشٹریہ لوک دل کو فائدہ ہوگا۔ مغربی یوپی میں مسلمانوں ووٹوں کی خاص اہمیت ہے حالانکہ حکمراں ہونے کے ناطے مغربی اترپردیش میں بی ایس پی کے تئیں ناراضگی پائی جاتی ہے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ اس علاقے کی زیادہ ترسیٹوں پر خاص مقابلہ بی ایس پی سے ہی ہے دراصل بی ایس پی کے 20 فیصدی دلت ووٹ اس کا بڑا ہتھیار ہے مقامی سطح پر دلتوں کے علاوہ سبھی ذاتیں اپنے درمیان کا امیدوار ڈھونڈرہی ہے۔ صرف دلت ہی بہن جی کے اشارے میں ووٹ دیتے ہیں ۔علاقے میں بسپا کے علاوہ مسلمان سپا اور کانگریس کو ووٹ دے سکتے ہیں۔ ایسا ہوا تو بسپا ہی فائدے میں رہے گی۔ اگرمسلمان ووٹ متحد ہوا بسپا ہی سب سے زیادہ خسارے میں رہے گی۔ پورے مغربی اترپردیش میں ہر سیٹ پر ذات پات تغذیہ الگ الگ ہے کچھ علاقوں میں بھاجپا بھی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ خاص طورپر شہری علاقوں میں اس کااثر صاف دکھائی پڑرہاہے اس مرتبہ کاچناؤ بہت کچھ امیدواروں پر منحصر کرے گا۔ کل ملا کر دیکھنا یہ ہے کہ جو ہوا پہلے دور کی پولنگ میں چلی وہ تیسرے دور میں بھی برقرار رہتی ہے.
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, BJP, Congress, Daily Pratap, Mayawati, Mulayam Singh Yadav, Samajwadi Party, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

10 فروری 2012

کرناٹک ودھان سبھا میں ’ڈرٹی پکچر‘ کا قصہ

بھاجپا زیر اقتدار کرناٹک سرکار نے ایک بار پھر پارٹی کی جم کر فضیحت کروادی ہے۔ وہ بھی ایسے وقت جب اترپردیش میں ودھان سبھا چناؤ کے ووٹ ڈلنے شروع ہوگئے ہیں۔سنسکرتک راشٹرواد کی جھنڈا بردار اس پارٹی کو کرناٹک کے اعلی نیتاؤں نے خاصہ کرارا جھٹکا دیا ہے۔ سرکار کے تین منتری ودھان سبھا میں ننگی لڑکیوں کی تصویریں یعنی بلو فلم دیکھتے ہوئے پکڑے گئے۔ ایک مقامی ٹی وی چینل نے اپنے کیمرے میں ان تین منتریوں کی کرتوت پکڑی۔اس سے جم کر ہنگامہ ہوا۔ اترپردیش کے چناؤ کو دیکھتے ہوئے پارٹی اعلی کمان نے بغیر دیری کے تینوں کے استعفے مانگ لئے جو منظور بھی ہوگئے ہیں۔ کرناٹک ودھان سبھا میں منگلوار کو جس وقت پاکستانی جھنڈا لہرانے پر بحث ہورہی تھی ٹھیک اسی وقت یہ تینوں نیتا اپنے موبائل کی کلیپنگ دیکھ رہے تھے۔ یہ ہی نہیں کچھ ہاٹ تصویریں دیکھ کر یہ ایک دوسرے سے اشلیل اشارے بھی کررہے تھے۔ یہ سب حرکتیں کیمرے میں قید ہوگئیں۔ مقامی چینل نے ان میں سے کچھ تصویریں شائع بھی کردیں۔ شرمسار کر دینے والی اس گھٹنا کے ایک دن پہلے ہی اس بات کو لیکر بحث جاری تھی کہ سرکار نے منگلور کے سمندری کنارے پر ریو پارٹی کی اجازت کیسے دی؟ الزام لگا تھا کہ ٹورزم کے بڑھاوے کے نام پر سرکار نے اس فحش ریو پارٹی کی اجازت دے دی۔ اسپارٹی میں ڈرگس اور شراب کا کھل کر استعمال کیا گیا۔ پارٹی میں کئی ودیشی لڑکیوں نے اپنے کپڑے اتار کر جشن منایا تھا۔ اس کی تصویریں بھی ایک چینل کے کیمرے میں آگئی تھیں،اسی درمیان اچھے کریکٹر کی دہائی دینے والی پارٹی کے منتریوں نے ودھان سبھا احاطے میں ہیں ڈرٹی پکچر دیکھ کر ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ اس تنازعے کے چلتے یوپی میں پارٹی کی چھوی کو دھکا لگ سکتا ہے۔اس معاملے سے شرمسار بھاجپا رہنماؤں نے پارٹی کی چھوی کو ہوئے نقصان کو کم کرنے کے لئے سہکارتا منتری لکشمن سابدی اور مہلا اور بال وکاس منتری سی سی پارٹل کو عہدہ چھوڑنے کے لئے کہا جبکہ تکنیکی منتری کرشنا پالیمر کو دونوں منتریوں کو مبینہ طور سے بلو فلم دینے کے لئے برخاست کردیا۔ اس سال یکم جنوری کو بیجا پور ضلع میں پاکستانی جھنڈا لہرانے پر منگلوار کو بحث چل رہی تھی اسی وقت سابدی اور پاٹل موبائل پر فحش فلم دیکھ رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق منتریوں کا استعفیٰ لینے کا دباؤ منگلوار رات میں لال کرشن اڈوانی نے بنایا تھا۔ اس کے بعد پارٹی ادھیکش نتن گڈکری نے تینوں سے استعفے مانگ لئے تھے۔ اعلی کمان نے مکھیہ منتری سے کہہ دیا تھا کہ آدھی رات تک تینوں منتریوں کے استعفے نہیں آتے تو انہیں برخاست کردیا جائے۔دہلی سے آئے اس فرمان کے بعد ہی تینوں نے آدھی رات کے بعد استعفیٰ بھیجا تھا۔ویسے کرناٹک کے سابق مکھیہ منتری بی ایس یدی یرپا نے میڈیا سے کہا تھا کہ منتریوں کے استعفے کے بعد اور چمتکار ہوجائے گا کیونکہ محض کچھ تصویریں دیکھنے کیلئے ہم نے اپنے منتریوں کو اتنی بڑی سزا دے دی ہے۔ یدی یرپا کے اس تبصرے کو لیکر دہلی میں بھاجپا کئی بڑے نیتا حیران ہیں۔ پارٹی ادھیکش نتن گڈکری نے کہا ہے کہ وہ ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والے اپنے کسی نیتا کو رعایت نہیں دینے والے جبکہ کانگریس ایسی ہمت نہیں دکھاتی۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Dirty Pictures, Karnataka, Nitin Gadkari, Sex, Sexy Photo, Vir Arjun, Yadyurappa

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...