امریکی وزیر خارجہ مارکو روگیو حال ہی میں بھارت آئے حالانکہ وہ غیر رسمی دورہ پر آئے تھے،لیکن وہ پروٹوکول کے مطابق راجدھانی نئی دہلی نہیں آئے ، عام طور پر ایسا ہوتا ہے۔ نہ تو وزیر اعظم سے ملے اور نہ ہی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات ہوئی وہ سیدھے ممبئی گئے۔وہاں انہوں نے صنعت کار ،بزنس مین مکیش امبانی سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ ہی جام نگر امبونی کی آئل ریفائنری دیکھنے چلے گئے۔جام نگر جانا امریکہ کے پلان کا بڑا حصہ ہے۔ امریکہ ریلائنس انڈسٹریز (آئی آئی ایل) کی بڑی ریفائنری کمپلیکس کی صلاحیت کو بہت اچھے سے سمجھتا ہے۔وینزوئلا کے کچے تیل کو دنیا میں پہنچانے کےلئے یہ کمپلیکس بہت بڑا رول نبھا سکتا ہے۔ایسے میں مارکوروگیو کو جام نگر کا دورہ یوں ہی نہیں ہے۔روبیوکا یہ دورہ ایسے وقت ہواجب امریکہ۔وینزویلا کے کچے تیل کے لئے نئے بازار تلاش رہا ہے۔امریکہ بھارت پر زور دینے میں لگا ہوا ہے کہ وہ روس سے ایندھن درآمدات کو کم کرکے اپنے انرجی وسائل میں کامیابی لائے۔ مارکو نے جام نگر میں مکیش امبانی اور ممبئی میں ٹاٹا اور اڈانی گروپ سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہندوستانی معیشت میں سرمایہ دار اب اہم حصہ بن رہے ہیں۔ جام نگر بھارت کی انرجی سے جڑی پیچیدہ سیاست کی ایک کھڑکی ہے۔ اسی سیاست نے حال میں امریکہ ،روس و ایران کے ساتھ بھارت کے رشتوں کو نئی شکل دی ہے۔بحث سے کہیں آگے جام نگر بھارت کے ایندھن سے وابستہ پیچیدہ سیاست کی ایک کھڑکی ہے۔روبیو کا امبانی ، ٹاٹا اور اڈانی گروپ سے بات کرنا یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستانی سرمایہ اور دیش کی خارجہ پالیسی کے درمیان گہرا ہوتا جارہا ہے۔ہندوستانی کمپنیوں کا مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ان کی پہنچ دنیا بھر میںپھیل رہی ہے۔ایسے میں وہ بھارت کی ڈپلومیٹک کے ترکش کا ایک تیز تیر بنتا جارہا ہے۔امریکی کاروبار اور خارجہ پالیسی کے رشتے کو ایک پرانی کہاوت بخوبی بیان کرتی ہے جو جنرل مقاصد کے لئے اچھا ہے وہ امریکہ کے لئے بھی اچھا ہے۔ یعنی جو بھی امریکی کمپنی اچھی ہے وہ امریکہ کے لئے اچھی ہےدنیا کے لیڈروںکے ساتھ مکیش امبانی کو دیکھنا ہندوستانی لوگوں کو شاید عجیب لگتا ہے۔ لیکن یہ ایک لمبی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔کچھ سال پہلے بھارت آنے والے غیر ملکی لیڈر اکثر بینگلورو میں انفوسس کیمپس جاتے تھےلیکن اب منظر بدل گیا ہے۔ اب لگتا ہے غیر ملکی مہمانوں کا زیادہ فوکس جام نگر و گجرات پر ہے۔جام نگر میں ہائیڈروکاربن پرانی معیشت ہے۔ ہائیڈرو کابن یعنی تیل و گیس جیسے ایندھن اس دنیا کا سب سے بڑا ریفائننگ کمپلیکس ہے۔یہاں الگ الگ قسم کے کچے تیل کو صاف کیا جاسکتا ہے اور تیار ایندھن دنیا بھر کے بازاروں میں بھیجا جاسکتا ہے۔2022 یوکرین پر روس کے حملہ کے بعد جام نگر کی اہمیت وہی ہے جو ہرموز اسٹیٹ سے ہونے والی تیل سپلائی میں گوادر کی بھی اہمیت بڑھائی ہے۔بین الاقوامی معیشت صرف دیش نے نہیں بنائی سرمایہ اور تکنیک لمبے عرصے سے سرکاروں کے پاس موجود متبادلوں پر اثر ڈالتی آئی ہے۔سمجھدار دیش اپنے یہاں سرمائے کو کچھ ہاتھوں میں ضرورت سے زیادہ سمیٹنے ہی دیتے ہیں اور دنیا میںاس کا رول شرطیں طے کرتے ہیں۔ہندوستانی کمپنیاں اب سرحدوں کے پاس کام کرنے اور جغرافیائی سیاسی اتھل پتھل سے نمٹنے کا پیمانہ حاصل کررہی ہیں۔ایسے میں بھارت کے خارجی رشتوں کےزیادہ اہم کھلاڑی بنیں گی۔ روبیو کا جام نگر دورہ یاد دلاتا ہے کہ آج کی ہندوستانی خارجہ پالیسی کو سمجھنے کےلئے سرمایہ داری اور موجودہ بین الاقوامی رشتوں کے الجھے ہوئے اور کبھی نہ ٹوٹنے والے رشتوں کو بہتر سمجھنا ہوگا اور اس کا مطلب ہے کہ دہلی کی الجھی ہوئی خارجہ پالیسی والی بحثوں میں ممبئی کا کاروباری تک اوربنگلورو کی تکنیکی ضرورت بھی تولی جائے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی صاف ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی واضح ہے؟
(انل نریندر)