Translater

01 اگست 2026

اور اب ایران بنام یوکرین

مغربی ایشیا کی دو بڑی لڑائیاں اب ایک دوسرے سے وابستہ دکھائی دے رہی ہیں ۔ایک طرف پچھلے کئی ماہ سے امریکہ ایران کے درمیان کشیدگی اور فوجی کاروائی چل رہی ہے وہیں اب دوسری طرف روس اور یوکرین کے درمیان جنگ پانچویں برس میں داخل ہو چکی ہے ۔اب ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے ان دونوں لڑائیوں کو آپس میں جوڑدیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر نئی تشویشات پیدا کر دی ہیں ۔تازہ تنازعہ کیسپیئر ساگر میں ایک ایرانی جہاز پر ہوئے حملے سے شروع ہو ا ۔یوکرین پر الزام ہے کہ اس نے کیپسین ساگر میں ایک ایرانی کمرشیل جہاز کو نشانہ بنایا ۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز روس اور ایران کے درمیان ہتھیاروں اور فوجی سامان کی سپلائی میں استعمال کیاجارہا تھا اسی وجہ سے اس جہاز پر حملہ کیا گیا ۔اس واقعہ کے بعد ایران نے سخت ناراضگی جتائی ہے۔ ایران کی راجدھانی تہران میں یوکرین کے سفیر کو طلب کیا اور سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ دے ڈالی ۔ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے یوروپی فیڈریشن کی خارجہ پالیسی چین کیلس سے بات کی اور اس حملے کے خلاف اپنی ناراضگی جتائی ۔انہوں نے یوکرین کے خلاف سخت کاروائی کی بھی مانگ کی ۔کیسپین ساگر میں کسی جہاز پر اس طرح کا حملہ پہلی بار ہوا ہے۔ کیسپین ساگر ایک ایسا سمندری خطہ ہے جو چاروں طرف سے زمین سے گھرا ہوا ہے ۔اس کے نارتھ ویسٹ میں روس اور ساؤتھ میں ایران ، مشرق میں قزاکستان اور ترکمانستان و مغرب میں آذر بائیجان واقع ہے ۔یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد روس اورایران کے رشتے اور مضبوط ہوئے ہیں ۔دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ،تکنیکی اشتراک اور ڈیفنس سیکٹر میں رابطہ بڑھا ہے ۔اسی وجہ سے لمبے عرصے سے یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ کیسپین ساگر کے راستے روس اور ایران کے درمیان فوجی سامان کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ۔حالانکہ اس بارے میں کبھی کھلے طور سے کوئی صاف تسلیم نہیں کی گئی ۔ایران کا کہنا ہے کہ جس جہاز پر حملہ ہوا وہ ایک جنرل کمرشیل جہاز تھا ۔ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں ایک ملاح کی موت ہو گئی جبکہ ایک دیگر ملاح زخمی ہوگیا تھا ۔حملے کے بعد صدر زیلنسکی نے شوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جہاز روس اور ایران کے درمیان فوجی سامان پہنچانے کا کام کررہا تھا ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس لمبے عرصہ سے ایران کی طر ف سے دستیاب کرائے گئے شہید نامی ڈرون کا استعمال یوکرین کے خلاف کررہا تھا ۔لڑائی کے آغاز کے مرحلے میں روس نے بڑی تعداد میں ایرانی ڈرون کا استعمال کیا تھا ۔جس سے اسے جنگ میں بڑھت حاصل کرنے میں مدد ملی تھی ۔زیلنسکی نے صرف جہاز پر حملے کا بچاؤ ہی نہیں کیا بلکہ اس پر ایک اور سنگین الزام بھی لگا دیا انہوں نے دعویٰ کیاکہ روس نے ایران کو خلیج خطہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ تصویریں اور خفیہ جانکاری دستیاب کرائی ہے ۔ان کے مطابق ماہ جولائی میں روسی سیٹلائٹ بحرین ،جارڈن اور کویت میں قائم امریکی فوجی ٹھکانوں کی نگرانی کررہے ہیں ۔زیلنسکی کا الزام ہے کہ ایران کے ذریعے امریکی اڈوں پر کئے گئے کچھ پختہ حملوں کے پیچھے بھی روس کی طرف سے دی گئی خفیہ جانکاری کا رول ہوسکتا ہے ۔یوکرین برائے نام ہے کہ اسے صرف یوکرین نے اس میں صرف روس صرف یوکرین میں جنگ نہیں لڑرہا ہے بلکہ پورے خطہ میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کررہا ہے ۔
انل نریندر

30 جولائی 2026

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یردن اور عراق میں بھی حملے کررہا ہے ۔چونکہ ایران یردن اور عراق میں بھی حملے کررہا ہے ۔ایران نے اس مرتبہ صرف امریکی بیس پر موجود ہی ہتھیاروں کو نشانہ بنایا ہے ۔بلکہ اگر خبر صحیح ہے تو ان حملوں میں امریکی فوجیوں کے مرنے اور زخمی ہونے کی بات ایران کررہا ہے ۔ایران کی فوج نے فی الحال حملے روک دیے ہیں نہیں تو وہ مسلسل 12-13 دن سے ہر روز ایران پر بم باری کررہا تھا ۔امریکہ نے تو ایک بار پھر بھاری بی بمباروں کا بھی استعمال کیا ۔ایران نے بھی تابڑ توڑ جوابی حملے کئے ۔جب امریکہ نے حملے روکے تو ایران نے بھی جوابی کاروائی روک دی۔ کہا جارہا ہے کہ امریکہ کے ایئر ڈیفنس میزائلوں کا اسٹاک کم ہورہا ہے جس سے عرب خطہ میں موجود امریکی اڈوں کی حفاظت کرنا مشکل ہوسکتا ہے ۔اس وجہ سے ٹرمپ کو پیچھے ہٹنا پڑاہے ۔دراصل ایران نے جنگ کی شروعات سے ہی سستے ڈرون سے لگاتارحملے کرنے کی حکومت عملی بنائی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکی پیڈوایئر میزائلوں کا استعمال بہت زیادہ کرنا پڑا اور چند دنوں میں ہی میزائلوں کا اسٹاک کم ہو گیا ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ، امریکہ پچھلے 13 دنوں سے اپنے تمام اڈوں کی حفاظٹ کے لئے پیڈوایئر میزائلوں کا استعمال کررہا تھا ۔13 دنوں کی جنگ کے بعد اب کہا جارہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس صرف 900 سے ہزار کے بیچ میزائلیں ہی بچی ہیں ۔دوسری طرف امریکی کمپنیاں ہر ماہ صرف 20 میزائل ہی بنارہی ہیں ۔دوسری طرف ایران نے اپنی میزائلیں اور ڈرون کا اسٹاک مسلسل بڑھا لیا ہے ۔اور وہ نئی میزائلوں اور ڈرونوں کو بھی بہت تیزی سے بنا رہا ہے ۔اب اگر ایران کی جانب سے اور حملے ہوتے ہیں تو امریکہ کی بچی کچی میزائلیں بھی ختم ہو جائیں گی ۔یہ وارننگ امریکہ کی سینٹکام کمپنی نے بھی ٹرمپ کو دی ہے ایسے میں امریکہ کو اپنے بیس کی حفاظت کی فکر ہے ۔ایران کے حملوں سے بھی امریکی ایئر ڈیفنس کو بھاری نقصان ہوا ہے ۔ حملوں کے دوران امریکی بیس پر 7 کمانڈ اینڈ کنٹرو ل سنٹر تباہ ہو چکے ہیں ۔اس کے علاوہ 6 پیٹیئر ایئر ڈیفنس راڈار تباہ ہو چکے ہیں ۔امریکی حملوں کی وجہ سے 3 ای پی ایس راڈار سسٹم گنوا چکا ہے ۔حملوں میں 5 لمبی دوری کے راڈار بھی تباہ ہو گئے ہیں ۔ایک طرف ہتھیاروں کی کمی ہے دوسری طر ف نقصان کی وجہ سے جنگ کا بڑھتا خرچ بھی ٹرمپ پر دباؤ بنا رہا ہے حملوں کے دوران امریکہ کا ایک ایف -15 جہاز تباہ ہو چکا ہے ایک ایف پی -8 جہاز بھی ضائع ہو چکا ہے ۔ایرانی حملوں کی وجہ سے سی -17 کارگو جہاز جل گیا ہے ۔ہوا میں تیل بھرنے والے جہاز بھی تباہ ہو گئے ہیں حملوں کے دوران 4 ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوئے ہیں ۔13 دنوں میں امریکہ کو اس لئے بھی بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران جارڈن اور عراق میں بھی حملے کرتا رہا ۔جس نے اس بار صرف امریکی بیس پر موجود ہتھیاروں جہاز وں کو نشانہ بنایا بلکہ دعویٰ کیاجارہا ہے زمین کی سیٹلائٹ کی مدد سے ایران نے پختہ نشانے سے حملہ کیا ۔کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ صرف ایئر ڈیفنس سسٹم پر ہی حملے نہیں ہوئے بلکہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے کئی اڈوں پر بھی  سیدھے حملے کئے تاکہ جو وہ خبریں دے رہے تھے ان کو روکا جاسکے ۔ایران کے حملوں میں امریکہ کے نقصان کا گراف بڑھتا گیا ۔ایران نے امریکی ایئرڈیفنس کو کھالی کرنے کی حکمت عملی کو آگے بڑھایا ایرا ن نے جہازوں کے کیمپ اور ہینگرس کو نشانہ بنایا ۔بحرین میں ہیلی کاپٹر مینٹننس سنٹر کو بھی تباہ کر دیا ۔ایران نے امریکی بیس پر 12 تیل ڈپو کو بھی تہس نہس کر دیا ۔سب سے بڑا دعویٰ تو ایران کے اربل بیس کو لے کر ہے ایرانی فوج کا دعویٰ ہے مسلسل حملوں کی وجہ سے عراق کے اربل میں امریکہ کا پورا ڈھانچہ ہی تباہ ہو چکا ہے اورا یران کے کئی جہازوں کی حملہ صلاحیت کافی حد تک ختم ہو چکی ہے ۔ یونہیں نہیں امریکہ کے صدر نے جنگ بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی باتوں پر اب شاید کوئی یقین کرے ؟ اس جنگ روکنے کے پیچھے بھی کوئی نیا کھیل ہوسکتا ہے ۔لیکن ایران ہر صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے ۔
(انل نریندر)

28 جولائی 2026

اور اب سعودی حوثیوں میں جنگ

مشرقی وسطیٰ میں ایک طرف امریکہ ایران کی جنگ تھم نہیں رہی ہے وہیں اب نیا مورچہ کھلتا نظر آرہا ہے ۔یہ ہے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان ۔سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سیدھا ٹکراؤ شروع ہو چکا ہے جمعہ کے روز لال ساگر میں ایک سعودی مال بردار جہاز پر حملہ ہوا جس کےبعد مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے ۔حملے کے کچھ ہی دیر بعد سعودی عرب نے حوثیوں کے کنٹرول والے یمن کے حودیدہ شہر پر جوابی حملے کئے ۔بتایاجارہا ہے کہ امریکی جنگی جہاز ایف -35 سے یہ حملے کئے گئے ۔اس کے جواب میں حوثیوں نے سعودی عرب کو بڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے جہنم کے دروازے کھول دیے ہیں حوثی باغیوں نے حالیہ حملے میں سعودی عرب کی فوجی کاروائی اور اپنی اعلانیہ بحریہ ناکابندی کا جواب بتایا ہے ۔ان کے مطابق سعودی عرب سے جڑے جہازوں کو اس لئے نشانہ بنایاگیا کیوں کہ وہ سعودی بندرگاہوں کے لئے مال ڈھورہے تھے یا حوثیوں کی اعلانیہ ناکابندی کی خلاف ورزی کررہے تھے بتادیں کہ حوثی باغی لمبے عرصہ سے سعودی عرب کو یمن جنگ کا اہم فریق مانتے ہیں ۔ان کا الزام ہے کہ سعودی کے فوجی کاروائیوں سے یمن میں بھاری تباہی ہوئی ہے اس لئے وہ سعودی عرب کے اقتصادی اور فوجی مفادات کو نشانہ بنارہے ہیں ۔لال ساگر بتادیں کہ دنیا کے سب سے اہم ترین سمندری تجارت راہداریوں میں سے ایک ہے ۔تیل ٹینکروں پر حملوں سے نہ صرف سعودی عرب کے ایکسپورٹ پر اثر پڑتا ہےبلکہ عالمی تیل سپلائی اور قیمتوں پر بھی دباؤ بنتا ہے حالیہ حملوں کے بعد کچے تیل کےداموں میں بھی اچھال دیکھا گیا ہے ۔دراصل ، یمن میں سرگرم حوثی باغی خاص طور سے دیش کے اقلیتی شہر حسین الحوثی کے نام پر پڑا ۔حوثی خود کو انصار اللہ یعنی ایشور کے حامی کہتے ہیں ۔سال 2003 میں امریکی رہنمائی میں عراق پر حملے کے بعد حوثی تحریک نے امریکہ اور اسرائیل مخالف رخ کی جانب موڑ دیا ۔تنظیم کے حمایتیوں کے درمیان امریکہ اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے گئے جو آج بھی ان کی پہچان کا حصہ مانے جاتے ہیں حوثی تنظیم خود کو حماس اور حزب اللہ جیسے گروپوں کے ساتھ مل کر ایران حمایتی ایکسس آف رسسٹنس یعنی مذاہمت کا پہیے کا حصہ مانتے ہیں ۔اُدھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثی باغیوں کو خبردار کیا کہ اگر جہازوں پر حملے جاری رہے تو ان کے خلاف بڑی  فوجی کاروائی کی جائے گی ۔حوثی باغیوں کے حملے سے مشرقی وسطیٰ میں ایک نیا مورچہ کھلنے کا امکان بڑھ گیا ہے ۔عالمی اقتصادی نظام کو پہلے ہی جھنجھوڑ کر رکھا ہے ۔اس تازہ لڑائی کے سبب دنیا بھر میں ایندھن سمیت دیگر چیزوں کی قیمتوں میں تیزی سے اُدھال آیا ہے وہیں ، خلیج فارس میں کشیدگی اور گہری ہو گئی ہے کیوں کہ امریکہ اور ایران سیاسی طور سے اہم ترین ہرمز آبی راستے پر دباؤ اور کنٹرول کو لے کر آمنے سامنے ہیں ۔اے پی کے مطابق سبا نیوز نے حوثیوں کے حوالے سے کہا کہ جمعرات کو لال ساگر میں سعودی عرب کے دو جہازوں این سیلیا اور لابھلا پر ڈرون اور میزائل سے حملے کئے گئے جس سے دونوں میں آگ لگ گئی ۔حوثی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے جوسالوں پرانی ناکابندی کر رکھی ہے اس کی مخالفت میں سعودی جہازوں کے لئے ناکابندی کر دی گئی ہے ۔اِدھر دونوں فریقین میں امن مذاکرات میں خبریں بھی آرہی ہیں ۔
(انل نریندر)

25 جولائی 2026

امریکہ -سعودی نیوکلیائی معاہدہ !

ایران امریکہ جنگ کے درمیان خلیج سے ایک ایسی خبر آئی ہے جو نہ صرف مشرقی وسطیٰ کو بلکہ پوری دنیا کو چونکا دے گی ۔جس یورینیم افزودگی کو لے کر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی سرزمین کو کپا رکھا ہے وہیں ایک ڈیل کے تحت سعودی عرب کو دینے والاہے ۔امریکہ نے بدھوار کو اعلان کیا کہ اس نے سعودی عرب کے ساتھ ایک اہم ترین معاہدہ کیا ہے اس معاہدے کے تحت سعودی عرب امریکی اشتراک سے اپنے غیر فوجی نیوکلیائی پروگرام کو ڈولپ کر سکے گا ۔امریکہ کے وزیر کرس رائٹ اور سعودی عرب کے وزیر پرنس عبدالعزیز بن سلما ن نے پر امن مقاصد کے لئے نیوکلیائی اشتراک سے وابستہ معاہدے 123 پر دستخط کئے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان نیوکلیائی سیکورٹی اقدامات سے متعلق ایک باہمی معاہدے پر بھی دستخط ہوئے ۔وائٹ ہاؤس نے کہا کہ یہ دونوں معاہدے مل کر کئی دہائیوں تک چلنے والی اور اربوں ڈالر کی ساجھیداری کے لئے قانونی بنیاد تیار کرتے ہیں۔ اس معاہدے کو اب جائزے کے لئے امریکی کانگریس کے پاس بھیجا جائے گا ۔سرکاری اعلان کے بعد امریکہ اور دنیا کے کئی ملکوں میں اس پر الگ الگ رد عمل سامنے آرہا ہے ۔اسرائیل کے اقتصادی وزیر نیر برکات نے کہا کہ اگر سعودی عرب نیوکلیائی گزر بسر کے استعمال اور پر امن مقاصد اور بجلی پروڈکشن تک محدود رکھتا ہے تو ان کے دیش کو اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے اگر وہ اس کا استعمال نیوکلیائی ہتھیار بنانے کے لئے کرتا ہے تو اسرائیل اسے کبھی قبول نہیں کرسکتا ۔وہیں اسرائیل کے سابق وزیر دفاع اور وزیرخارجہ لبن مین نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا کہ سعودی عرب کا غیر فوجی نیوکلیائی پروگرام آخر نیوکلیائی ہتھیار پروگرام میں بدل جائے گا انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے پورے مشرقی وسطیٰ میں نیوکلیائی ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہوسکتی ہے جسے انہوں نے ایک پاگل پن بھری ہتھیاروں کی دوڑ قرار دیا ۔اس معاہدے کے تحت سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی اجازت مل سکتی ہے اور امریکی کمپنیوں کے لئے اربوں ڈالر کی کمائی ہوسکتی ہے دی وال اسٹریٹ جرنل نے مجوزہ معاہدوں کو اس طرح سے تیار کیا گیا ہے کہ امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے ابھرتے ہوئے نیوکلیائی ڈھانچے کے مرکز میں ہے ۔اور غیر ملکی کمپنیاں اس سے باہر ہیں ۔ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ سیدھے امریکی دخل سے سعودی نیوکلیئر پروگرام پر واشنگٹن کا اثر بڑھے گا ۔دلیل ہے کہ امریکہ کی ساجھیداری سے نیوکلیائی ٹیکنالوجی کو فوجی مقاصد کے لئے استعمال ہونے سے روکنے میں بھی مدد ملے گی ۔یہ معاملہ پاکستان کی ٹنشن بھی بڑھانے والا ہے کیوں کہ اب تک مسلم ممالک میں صرف پاکستان ہی ہے جس کے پاس نیوکلیائی ہتھیار ہے اسی کے دم پر پاکستان اسلامی نیٹو بنانے کا خواب بھی دیکھتا ہے ۔سعودی عرب نے بھی اس کے ساتھ ڈیفنس ڈیل اس لئے کی تھی کہ ایسے میں اگر وہ خود ان ہتھیاروں تک پہنچ رکھ سکے گا تو اس کے لئے پاکستان کی اہمیت بھی ختم ہو جائے گی اس ڈیل کی امریکہ کے اندر بھی مخالفت ہو رہی ہے ۔امریکہ میں لوگوں کا کہنا ہے کہ کیا ٹرمپ یہ بھول گئے ہیں 9/11 حملے میں جو 19 آتنکی تھے اس میں سے 15 سعودی عرب سے آئے تھے ۔اب آپ انہیں سے اتنا خطرناک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں ۔اس سے نہ صرف مشرقی وسطیٰ میں ہی نیوکلیائی ہتھیار بنانے کی دوڑ مچے گی بلکہ پوری دنیا میں بھی ایسی کوشش ہوگی۔ ویسے ڈونلڈ ٹرمپ کب اپنی بات سے پلٹ جائیں کہا نہیں جاسکتا۔ ہم نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کا حال دیکھا ہے سمجھوتہ ہونے کے بعد دستخط ہونے کے باوجود ٹرمپ ایسی ایسی نئی شرائط جوڑ دیتے ہیں جس سے وہ سمجھوتے کھٹائی میں پڑ جائیں ۔کل کو یہ بھی ممکن ہے کہ اسرائیل کے دباؤ میں وہ ایسی نئی شرط جوڑ دیں جس سے یہ سمجھوتہ کھٹائی میں پڑ جائے ۔
(انل نریندر)

23 جولائی 2026

کیا نیتن یاہو نیویارک میں گرفتار ہوسکتے ہیں؟

بین الاقوامی سیاست اور ڈپلومیسی کے گلیاروں میں اس وقت نیویارک سے اٹھی ایک آواز نے ہلچل مچا دی ہے ۔نیویار ک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میٹنگ میں حصہ لینے کے لئے نیویارک آتے ہیں تو ان کی گرفتاری ممکن ہے ۔لیکن ان کا دفتر اب بھی غور کررہا ہے ۔دی نیویارک ٹائمس کے پوڈکاسٹ انٹرویو میں ممدانی نے کہا کہ ان کا محکمہ قانون نیتن یاہو کی امکانی گرفتاری کے قانونی پہلوؤں پر سرگرم طریقہ سے غور کررہا ہے ممدانی نے اپنی چناؤ مہم کے دوران ایسا کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا ۔ممدانی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی جگہ جیل میں ہے ۔وہ ایک جنگی مجرم ہیں جن پر بین الاقوامی کرائم عدالت (آئی سی سی ) نے الزام لگائے ہیں کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی کئی سالوں میں ان کے اقدامات کے سبب جو حالات پیدا ہوئے ہیں ۔اسے دیکھتے ہوئے بہت سے لوگ یہی رائے رکھتے ہیں جب ممدانی سے پوچھا گیا کہ قانون اسے اس معاملے میں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے تو انہوں نے جوا ب دیا کہ اس پر ہمارا قانونی محکمہ میں غور وخوض چل رہا ہے لیکن ہم نے قومی سطح پر کئی بار دیکھا ہے کہ کچھ لوگ اپنے حساب سے قانون تھوپنے یا قانونی دائر ےسے باہر جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ہماری منشا ایسا کرنا نہیں ہے ۔بتادیں کہ بین الاقوامی کرمنل کورٹ نے 2024 میں وزیراعظم بنجامن نتین یاہو اور اسرائیل کے کچھ دیگر لیڈروں کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا ان پر 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد غزہ میں جنگی جرائم کے الزام لگائے گئے ہیں ۔یہ صرف ایک ساسی بیان نہیں بلکہ غزہ میں جاری انسانی ٹریجڈی سے دکھی دنیا کے ایک بڑے حصہ کے ضمیر کی آواز ہے ۔میئر ممدانی کا عزم بین الاقوامی کرمنل عدالت نے بنجامن نتین یاہو کے علاوہ سابق وزیردفاع گیلنٹ کے خلاف بھی گرفتاری وارنٹ جاری کئے ہوئے ہیں ۔ان لیڈروں پر غزہ جنگ کے ایک طریقہ کی شکل میں خطرناک ہتھیار کا استعمال کرنے ،کھاناپانی ،ایندھن اور دوائیوں جیسی ضروری چیزوں کی سپلائی کو ٹھپ کرتے ہوئے روکنے اور شہریوں پر جان بوجھ کر حملے کرنے جیسے سنگین الزامات ہیں ۔ممدانی نے اپنا ارادہ صاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیویارک شہر کے شعبہ قانون کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہیں تاکہ یہ جانا جاسکے کہ ان کے پاس ایک غیر ملکی لیڈر و ایک سربراہ مملکت کو حراست میں لینے کا کتنا اختیار ہے ؟ انہوںنے کہا کہ نیویارک شہرمیں قانون مجھے جو کچھ بھی کرنے کی اجازت دے گا ، ہم وہی کریں گے ۔حالانکہ کچھ قانونی واقف کاروں کا خیال ہے کہ امریکی آئی سی سی کا ممبر نہیں ہے ۔اس لئے میئر کے لئے ایسا کرنا مشکل ہوسکتا ہے ۔یہ لاف لاء اسکول کے پروفیسر ہیرالڈ ہیگزو کے مطابق اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹر کے باہر شہر کی سڑکوں پر چلتے وقت نیتن یاہو کی حالت خراب ہوسکتی ہے ۔اس امکانی قدم پر نیتن یاہو نے سخت رائے زنی کی ہے ۔انہوں نے ممدانی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے انہیں حماس کا حمایتی اور خفیہ طور سے امریکہ سے نفرت کرنے والاتک کہہ ڈالا۔نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل امریکی اقدار کے ساتھ کھڑا رہنے والاجمہوری ملک ہے ۔اُدھر ممدانی ان الزاموں کو مسترد کرتے ہیں ۔اس درمیان ممدانی کےبیان پر شوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے ۔کئی لوگوں نے ممدانی کا اسے بڑبولاپن بتایا ہے ۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائک والٹ سے نے اس خبر پر پوسٹ کیا میئر ممدانی میں یہ چار وجہ ہیں کہ اقوام متحدہ اسمبلی کے دوران نیویارک میں وزیراعظم نیتن یاہو کو کیوں نہیں گرفتار کیاجاسکتا ۔پہلا امریکہ کا اس معاہدہ کا حمایتی نہیں ہے جس پر بین الاقوامی کرمنل کورٹ کی قانونی نظم پر مبنی ہے ۔دوسرا اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹر سمجھوتہ کے مطابق میٹنگوں میں آنے والے غیر ملکی سرکاروں کے سربراہوں کو سیاسی تحفظ فراہم کرتا ہے ۔تیسرا صدر کی قانونی ایمیونٹی بھی ایسے معاملوں میں نافذ ہوتی ہے ۔چوتھا خارجہ پالیسی ایسے معاملوں میں فیڈرل سرکار کا اختیار مقامی انتظامیہ سے بالاتر ہوتا ہے اس لئے نیویار کے میئر کی خواہش یا اعلان سے ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھایاجاسکتا ہے ۔
(انل نریندر)

21 جولائی 2026

ہرمز ایران کا ٹرمپ کارڈ

ایران نے ہرمز اسٹریٹ بند کر امریکہ کے سبھی حکمت عملی حساب کتاب اور عالمی مارکیٹ کو ہلادیا ہے ۔یہ ایران کا ایسا ترپ کا پتا ہے جس نے ٹرمپ کو چاروں کھانے چت کر دیا ہے۔ ایران نے بغیر کوئی بڑا نیوکلیئر قدم اٹھائے صرف ایک ہی سمندری راستے کی چابی اپنے ہاتھ میں لے کر امریکہ کی پوری جنگ کی حکمت عملی کوبدل دیا ہے ۔اب امریکہ ایران کے درمیان جنگ کا سب سے بڑا اشو ہرمز کو کھولنے ، کھلوانے کا بن گیا ہے ۔یاد رہے کہ 28 فروری سے پہلے یہ ہرمز کبھی بند نہیں ہوا تھا۔ یہ خیال تو ایران کو تب آیا جب امریکہ نے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کئے ۔ایران نے ہرمز کو تالالگا کر امریکہ کے سامنے یہ صاف کر دیا ہے کہ اگر بات چیت کرنی ہے تو شرطیں ایران کی ہوں گی ۔ہرمز کا بند ہونا نہ صرف مشرق وسطیٰ میں ہی اثر ڈال رہا ہے لیکن اس کا اثر امریکہ میں بھی سیدھا پڑرہا ہے ۔میں بات کررہاہوں امریکہ میں ہونے والے مڈ ٹرم چناؤ جن میں ٹرمپ کی سیاسی قسمت بہت حد تک ٹکی ہوئی ہے۔ایران نے ٹھیک اسی وقت ہرمز پر دباؤ بنایا ہے جب امریکی ڈپلومیٹک سب سے کمزور موڑ پر ہے ۔ایرا ن سے جنگ امریکی ڈپلومیسی کے لئے ایک بڑا مس کیلکولیشن ثابت ہوا ہے ۔سیز فائر ختم ہونے کے بعد سے ہی امریکہ ایران پر میزائلیں داغ رہا ہے ۔اور ایران جوابی حملے کررہا ہے لیکن ایران نے پھر امریکہ کو جھکانے کے لئے اپنے برہماستر کا استعمال کیا ہے اور بارودی دھماکوں کے بیچ ایرا ن نے ایک بار پھر ہرمز کو بند کر دیا ہے ۔یہ ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ میں وسط مدتی چناؤ سر پر ہیں اور امریکہ کی عوام سے پیٹرول کے دام گرنے کا دعویٰ کررہے تھے ۔ایران نے ٹھیک اسی وقت امریکی معیشت کی سب سے کمزور نس مانی کچے تیل کی سپلائی پر پیر رکھ دیا ہے ۔امریکہ -ایران کے درمیان حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ہرمز اسٹریٹ میں کشیدگی بڑھنے اور کچے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی چناؤ پر اس کا سیدھا اثر پڑنے والاہے ۔والٹ اینڈ ووٹ سبھی تجزیے امریکی سیاست کا کڑا سچ ہیں ۔کیوں کہ امریکی سیاست میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ راشٹر پتی چاہے کوئی بھی وعدہ کریں لیکن ووٹر اپنا فیصلہ پیٹرول پمپ پر تیل کی قیمتوں کو دیکھ کر ہی طے کر تا ہے ۔اس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی مخالف پارٹی رپبلکن پارٹی پر بھاری سیاسی دباؤ بڑھے گا ۔صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد پیٹرول کے دام 2.5ڈالر فی گیلن تک لانے کا وعدہ کیا ہے ۔لیکن ہرمز کرائسس کے سبب کچے تیل کی قیمتیں 80 ڈال سے 100 ڈالر فی بیرل کو پار چلی گئی ہیں ۔جس سے پیٹرول کے دام گھٹنے کے بجائے بڑھ رہے ہیں ۔پیٹرول مہنگا ہونے کا مطلب کہ عام امریکی خاندان کے بجٹ پر سیدھا دباؤ پڑے گا ۔امریکی عوام کی جیب پر سیدھی مار ہوگی اس سے امریکہ میں مہنگائی بڑھے گی ، ٹرانسپوٹیشن ڈھلائی بڑھنے سے سپر مارکیٹ کے سامان کو لے کر ہوائی ٹکٹ تک سب مہنگاہو جائے گا ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی چناؤ سے ٹھیک پہلے امریکہ میں ایندھن کے دام بڑھے ہیں تو حکمراں پارٹی کو چناؤ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔جیسے 1980 میں جمی کارٹر کے ساتھ ہوا تھا ۔ہرمز بند ہوتے ہی عالمی مارکیٹ میں کچے تیل کے دام تیزی سے بڑھنے لگے ہیں ۔انٹرنیشنل بنچ مارک بریٹ کروڈ 3.92 فیصد سے بڑھ کر 78.99 فی بیرل ہو گیا ہے اور امریکی کچا تیل 3.44فیصد سے برھ کر 77.87ڈالر فی بیرل ہو گیا ہے ۔اگر ہرمز لمبے عرصہ تک یونہی بند رہتا ہے تو اس کا اثر امریکہ پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر پڑے گا اور ایسا ہونے سے روکنے کی چابی صرف ایران کے ہاتھ میں ہے ۔
(انل نریندر)

18 جولائی 2026

ٹرمپ : مجتبیٰ خامنہ ای 90 فیصدی ختم ؟

ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسوم میں بھی نہیں نظر آئے تھے ۔اور تب سے ہی ان کی صحت کو لے کر کئی طرح کی قیاس آرائیاں جاری ہیں ۔اس درمیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات چیت میں کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای مارے جاچکے ہیں ۔اورا ن کے بیٹے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای بھی 90 فیصدی ختم ہو چکے ہیں ۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کے پاس اب کوئی بحری فوج نہیں بچی ہے ۔ان کی ایئر فورس بھی نہیں بچی ہے ۔سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ ان کا ایئر ڈیفنس سسٹم بھی تباہ ہو چکا ہے ۔ان کے سبھی لیڈر مارےجاچکے ہیں ۔ان کے سب سے بہترین لیڈر مارے جاچکے ہیں ۔ا س سے پہلے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے سنیچر کو جاری ایک تحریری بیان میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلالینے کی کھائی قسم بیان میں کہا گیا تھا کہ ہمیں اپنے پاک خون اور ان دونوں جنگوں میں شہید ہوئے سبھی لوگوں کے خون کا بدلہ لینے کی قسم کھاتے ہیں ۔دنیا بھر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بدلہ لینے کو تیارہیں ۔اسی سال 23 اپریل کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمس نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایاگیا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای امریکہ اسرائیل کے اس حملے میں شدید طور پر زخمی ہو گئے تھے جس میںان کے والد علی خامنہ ای کی موت ہو گئی تھی ۔حالانکہ وہ ذہنی طور سے پوری طرح سرگرم ہیں ۔اخبار نے حکام کے حوالے سے کہا کہ ان کے ایک پیر کا تین بار آپریشن کیا گیا ہے اور اب انہیں آرٹیفیشل پیر لگائے جانے کا انتظار ہے ۔ان کے ایک ہاتھ کی بھی سرجری ہوئی ہے اور اس کی کام صلاحیت آہستہ آہستہ لوٹ رہی ہے ان کے چہرے ہونٹ پوری طرح جھلس گئے ہیں جس سے انہیں بولنے میں دشواری ہوتی ہے ۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آخر کار انہیں پلاسٹک سرجری کی بھی ضرورت ہوگی بتادیں اسی سال 28فروری کو امریکی ،اسرائیل ہوائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کےبعد مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر بنایاگیا تھا ۔تقرری کے بعد سے ہی وہ پبلک میں سامنے نہیں آئے انہوں نے کوئی ویڈیو پیغام بھی جاری نہیں کیا ہے ۔اس سب کو لے کر سوال اٹھے ہیں کہ اسی حملے میں وہ کتنے زخمی ہوئے تھے ؟ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دیگر تین بیٹے مسعود ،مصطفیٰ اور میسم اتوار کو منعقدہ تعزیتی مجلس میں شامل ہوئے تھے ان کے ساتھ صدر مسعود پزیشکیان اور ریبولوشنری گارڈس کے چیف احمد وحیدی سمیت کئی سینئر افسر بھی موجود تھے ۔جون میں جاری ایک بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا تھا کہ اصولی طور سے وہ امریکہ کے ساتھ ڈیل کے حق میں نہیں تھے لیکن صدر مسعود پزشکیان کی یقین دہانیوں کے بعد ہی انہوں نے اس کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ۔کویتی اخبار الجریدہ نے مارچ 2026 میں ایک رپورٹ شائع کی تھی اس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو شروعات میں علاج کے لئے ماسکولے جایا گیا تھا اس کے بعد مجتبیٰ کی صحت کو لے کرکوئی خبرنہیں آئی ۔اس وقت ماسکوخود غیر محفوظ ہے ۔وہاں لگاتار یوکرین حملے ہورہے ہیں ۔ اس لئے اس وقت چین کو مجتبیٰ کے لئے محفوظ ماناجاتا ہے ۔ایرانی عوام چاہتی ہے کہ جلد آیت اللہ مجتبیٰ عوام کے سامنے آئیں تاکہ دنیا دیکھے کہ وہ ٹھیک ہیں اورمحفوظ ہیں ۔
(انل نریندر)

اور اب ایران بنام یوکرین

مغربی ایشیا کی دو بڑی لڑائیاں اب ایک دوسرے سے وابستہ دکھائی دے رہی ہیں ۔ایک طرف پچھلے کئی ماہ سے امریکہ ایران کے درمیان کشیدگی اور فوجی کارو...