Translater

08 اکتوبر 2026

ووٹ چھیننا آئین کے خلاف!

پچھلے تین چار مہینے سے پورے دیش میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ان کے ذریعے ووٹ چوری کو لیکر تحریکیں چل رہی ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کا آندولن جون میں نیٹ پیپر لیک اور بڑے امتحانات کے پیپر لیک ہونے سے شروع ہوا یہ آندولن اس وقت تیزی پکڑ گیا۔ اب انڈین ایکسپریس نے چنائو کمشنروں میںاختلافات کو لیکر اپنی رپورٹ شائع کی اس سے پورے دیش میں آندولن چھڑ گیا اور یہ روز بروز تیز ہوتا جارہا ہے۔اس درمیان پورے دیش کی نظریں اب سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔ جہاں درجنوں عرضیاں چنائو پروسیس اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کےطریقہ کار کو لیکر ٹکی ہوئی ہیں۔ اس درمیان عزت مآب سپریم کورٹ کے ایک موجودہ جج کا اس پورے معاملہ پر ردعمل آیا تو پورے دیش میں امید کی کرن جاگی ہے۔میں بات کررہا ہوں سپریم کورٹ کے عزت مآب موجودہ جج جسٹس اجول گھنیاں کی۔ حیدر آباد کی نلسار لاء یونیورسٹی کے ایک لاء پروگرام میں انہوں نے کہا کہ ہندوستانی شہری کا ووٹ ڈالنے کا حق آئین کے بنیادی ڈھانچے کا اٹوٹ حصہ ہے۔اگر کسی رد عمل کے ذریعے بڑی تعداد میں شہریوں کوووٹ کےحق سے محروم کیا جاتا ہے تو ایسا ردعمل منمانا ہوگا۔ جسٹس گھنیاں نے کہا کہ کوئی بھی بہانا، شہریوں کا ووٹ کا حق چھیننے کو مناسب نہیں کا جاسکتا۔یہ آئین کی دفعہ14-اور326 کی خلاف ورزی ہوگی۔جسٹس گھنیا نے آگے کہا 18 سال کی عمر پوری کرنے والے شہری آئین میں مقرر تقاضوں کو چھوڑ کر چنائو میں ووٹ دینے کے حقدار ہیں۔ ان آئینی حدود کی خلاف ورزی کرنے والاقانوناًغیر تسلیم ہوگا۔ جسٹس نے کہا ووٹ کا حق شہریت کی روح ہے۔ عام شہری کے لئے دیش کی حکومت میں سانجھیداری کا سب سے اہم ترین حصہ پولنگ ہی ہے۔ حالانکہ انہوں نے سیدھے طورپر چنائو کمیشن کے ووٹر لسٹ میں تبدیلی کے پروسیس۔ایس آئی آر کا ذکر نہیں ہے۔جسٹس گھنیا نے ووٹرلسٹ سے نام ہٹانے کے معاملہ میں قانونی حفاظت کا بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے سپریم کورٹ کے لال بابو حسین و بنام الیکٹرولر رجسٹریشن حق معاملہ میں فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متوفی ووٹر کو چھوڑ کر کسی بھی ووٹر کا نام نوٹس اور سماعت کا مناسب موقعہ دئے بغیر ووٹر لسٹ سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔انہوں نے کہا ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کا حق شہریت سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔اسے شہریت سے الگ کرنا ایسا ہوگا جیسے جسم سے روح نکال دینا۔ عام شہری کے لئے دیش کی حکمرانی میں سانجھہ داری کا سب سے اہم ترین ذریعہ پولنگ ہے۔ جسٹس گھنیا نے نلسار کے طالبہ سے بات چیت میں کہا آپ نے دیش اور دنیا کو دکھایا ہےکہ یونیورسٹی اور خاص کر قانون کے طالبعلم کو کیسا ہونا چاہئے۔ آپ بااثر طریقے سے اور فیصلہ کن بہادر ہیں۔ یاد رہے یہی وہ یونیورسٹی ہے جسے کے کچھ طلبا نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کو سالانہ تقریب اسناد میں مجوزہ مہمان خصوصی بنانے کی مخالفت کی تھے۔ کانگریس نے جسٹس گھنیا کے نام پر کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے پاس عہدہ پر فائز رہنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔
(انل نریندر)

06 اکتوبر 2026

اس وقت بھی میں ہنومان چالیسا پڑھ رہا تھا!

یہ کہنا ہے ہندوستانی نژاد پائلٹ اسمت مچھارکا۔ جب وہ اپنے آپ کو اور 170 جہازی مسافروں کو بچانے کےلئےجدوجہد کررہے تھے۔پی ایم مودی نے جمعہ کو ہندوستانی پائلٹ اسمت مچھار سے نو منٹ تک ویڈیو کالنگ کی۔ پی ایم مودی نے کہا پورا دیش آپ پر فخر کرسکتا ہے کہ ہم ہندوستانی دوسروں کی جان بچانے کےلئے خود کوبھی خطرہ میں ڈالنے والے لوگ ہیں۔ اسمت نے اس پل کااحساس شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی لائف کےلئے ءڈر رہا تھا۔ میں نیچے گر گیا تھا۔چوٹ لگ گئی تھی اور میں پھنس گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی میں درد محسوس کرتا تو میں ہنومان چالیسہ ہی بولتا ہوں اور اس وقت بھی میں  ہنومان چالیسا کاہی جاپ کررہاتھا اور مجھے پتہ ہے کہ بھگوان ہنومان نے ہی مجھے بچایا۔دوبئی سے تل ابیب (اسرائیل) جارہی دوبئی فلائٹ میں کیپٹن اسمت مچھار نے جس ہمت کا ثبوت دیا، وہ واقعی ہی بے مثال ہے، اسمت نے بتایا کہ میں 17 سال سے جہاز اڑار ہا ہوں۔ میں پچھلے11 سال سے کیپٹن ہوں اور مجھے پتہ چلتا ہے، آنکھ بند کرکے بھی جہاز میں کہا ہورہا ہے۔جب میں نیچے گرا ہوا تھا تب مجھے احساس ہورہا تھا کہ ایئرکرافٹ نیچے جارہا ہے۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ اسمت بس اب ایک لاسٹ پش اور دروازہ کھول دیں، تب میں نے کسی طرح دروازہ کھولا اور باقی سب آگئے اور سب نے اپنا رول نبھایا۔مجھے پتہ تھا کہ میں ان سب کو مرنے نہیں دے سکتا۔ یو اے ای کی سرکاری نیوز ایجنسی ڈبلیو اے ایم کے مطابق متحدہ عر ب امارات کے پروسیکیوٹر جنرل نے ایتوار کو کہا کہ فلائٹ دوبئی کی اڑان ایف زیڈ 1073 کے معاون پائلٹ نے اڑان کے دوران آتنک وادی حملہ محسوس کیا اور جہاز کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا پائلٹ نے کوکپٹ کے اندر کریش ایکس سے پائلٹ پر حملہ کیا اور جہاز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تھی۔ کریش ایکس عام طورپر کاکپٹ میں رکھا جاتا ہے اور حادثہ جیسے ناگزیر حالات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا واردات کے حالات اور حملہ کے مقصد اور اس سے وابستہ کسی بھی تعلق کا پتہ لگانے کےلئے جانچ جاری ہے۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے کہا کہ کو۔ پائلٹ اومانی شہری ہے ۔ حالانکہ فلائی دوبئی نے ابھی سرکاری طور سے کو۔ پائلٹ کی شہریت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا لیکن بین الاقوامی میڈیا میںبھی کو۔ پائلٹ کو لیکر کئی طرح کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ اےوی بی پی نیوز نے لکھا ہے کہ کو۔ پائلٹ اومان کا شہری ہے۔ حکام نے بتایا کہ 2024 میں اومان ایئر میں کو۔ پائلٹ ٹرینی کے طور پر کام کرنے کے دوران کو۔ پائلٹ حمام الحمی کے پاس کٹر پسندی سے جڑا میٹر پایا گیا تھا۔ اس کے باوجود اسے ایئر لائنس میں انتظامیہ میں کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔اس واقعہ نے ایک بار پھر جہاز رانی سیکٹر کی اپنی سلامتی و انتظامات پر سنجیدگی سےنظرثانی کرنے پر مجبور کردیا ہے۔جہازی حفاظت کے سامنے ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوتا ہے۔اب تک سکیورٹی کا بڑا حصہ باہری خطرے کولیکر و روکنے پر مرکوز رہا ہے۔ 9/11 کے بعد کوکپٹ کے دروازے مضبوط کئے گئے، مسافروں کی بڑی اسکرینگ ہوئی، سامان کی جانچ کے طریقے بہتر کئے گئے اور مشتبہ سرگرمیوں پر نگرانی بڑھی لیکن فلائی دوبئی کا واقعہ بتاتا ہے سکیورٹی کے لئے چیلنج جہاز کے اندر موجود جیسے امکانی خطروں کی پہچان کی شکل میں سامنے آیا۔ ہوسکتا ہے پائلٹ کی بھی ذہنی صحت کی مسلسل جانچ کرنے کےلئے بہتر سسٹم کی ضرورت ہے لیکن یہ  ہوکیسے ؟ یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔بھارت میں آئے دن پائلٹوں کے نشے میں ہونے کی شکایتیں آتی رہتی ہیں۔ سی ایم ایم نے لکھا کہ فلائی دوبئی کی اڑان میں کیپٹن پر حملہ کرنے والے مشتبہ پائلٹ کو اومان کی قومی ایئر لائنس کی نوکری سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ایسااس کے شدت پسند نظریات کو لیکر کیا گیا تھا۔ پھر ا س کو فلائی دوبئی میں جہاز اڑانے کی اجازت کیوں دی گئی؟معاملہ کی جانچ ہورہی ہے۔ یو اے ای میں کئی لوگوں کو حراست میں لیکر پوچھ تاچھ جاری ہے۔ سوشل میڈیا میں ایک غلط کہانی چل رہی ہے تو یہ باریک جانچ سے ہی پتہ چلے؟ پتہ چلے بھی یا نہیں۔ ویسے کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے : سوری بولو: فلاپ اسے بینڈ ایکٹیویٹ ۔
(انل نریندر)

03 اکتوبر 2026

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟



ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھی دی۔ اپوزیشن کے لیڈر نے جنتا کے مینڈیٹ کی چوری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ وقت بھی آئے گا ہم آپ کو پکڑ لیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے صلاح دی کہ ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلی کے معاملہ میں سرکاری گواہ بن جائیں۔ یاد رہے راہل نے سب سے پہلے پچھلے سال ہوئے لوک سبھا چناؤ میں چناؤ کمیشن کو یہ چیتا ونی دی تھی۔ نو مہینے بعد، دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں چناؤ ئیشن کے اندر اختلافات ہونے کے بعد اپنی بات صحیح ہونے کا دعوی کرتے ہوئے اپوزیشن نے صاف طور پر گیا نیش کمار کی گرفتاری کی مانگ کی ہے۔ ایک طرف بی جے پی بچاؤ کر رہی ہے تو و میں اپوزیشن گرفتاری پر اڑی ہوئی ہے لیکن گرفتاری کی مانگ پر ایک آئینی تقاضہ بکرا رہا ہے اور وہ ہے دسمبر 2023 میں پارلیمنٹ سے پاس قانون کی دفعہ 161۔ سپریم کورٹ میں دائر ایک نئی عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس تقاضہ میں ایک شرط بھی ہے۔ نیا تنازعہ 23 ستمبر کو اس وقت شروع ہوا جب اخبار کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ گیا نیش کمار کے دو ساتھی کمشنروں سکھبیر سنگھ سدھو اور و یو یک جوشی نے 10 مہینوں میں کم سے کم 14 مرتبہ اور ایک ہی دن میں 4 مرتبہ مبینہ طور سے اپنے اعتراضات درج کرائے تھے۔ یہ اعتراضات چناؤ دور لسٹ اسپیشل انٹینسو رو چون (ایس آئی آر) جیسے اشو پر تھے۔ راہل گاندھی کے علاوہ سپالیڈ را علیش یادو ، آپ نیتا اروند کیجریوال اور ٹی ایم سی لیڈرممتا بنرجی جنہوں نے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لئے ووٹرلسٹ میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ کا کروچ جنتا پارٹی بھی اس مہم میں شامل ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ کئی ریاستوں میں اور مرکزی حکمراں ریاستوں میں ایس آئی آر پروسیس کے تحت اب تک 13 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام ہٹائے جاچکے ہیں جو بھارت کے کل ووٹروں کا تقریباً 13 فیصد ہے۔ بات کرتے ہیں گیا نیش کمار کو بچانے والی قانونی دیوار کی۔ اس قانونی زبان کو ہٹا کر دیکھیں تو چیف الیکشن کمشنر واٹر کمشنرا یکٹ 2023 کی دفعہ 16 کہتی ہے کہ کوئی بھی عدالت موجودہ یا سابق چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنر کے خلاف ان کے سرکاری کام کاج کے دوران کئے گئے کسی بھی کام کے لئے دیوانی یا کرمنل کیس کی سماعت نہیں کر سکتی۔ اس میں لکھا ہے فی الحال لاگو کسی بھی دوسرے قانون میں کچھ بھی لکھا ہونے کے باوجود کوئی بھی عدالت کسی ایسے شخص کے خلاف کوئی سول یا کرمنل کارروائی نہیں جاری کبھی جاسکتی جو چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنر ہے یا رہا ہے ۔ اگر اس نے اپنے سرکاری کام یا ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے کوئی کام کیا ہو یا کوئی چیز کی ہو یا کوئی بات کہی ہو یہ سیکیورٹی قانون کا حصہ تھی۔ اس کے تحت کمشنروں کو چننے کے لئے ایک کیٹی بنائی گئی تھی۔ 2023 سے پہلے چلنے کا کوئی بھی خاص پروسیس نہیں تھا کیونکہ کوئی قانون بناہی نہیں تھا اس لئے صدر سر کار کی صلاح پر تقرریاں کرتے تھے اس میں عدلیہ یا اپوزیشن کا کوئی رول نہیں ہوتا تھا۔ کیا سسٹم میں کوئی کمی ہے؟ حالانکہ یہ چھوٹ صرف ڈیوٹی کے دوران کئے گئے کاموں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ وکیل شیلیندرمینا ترپاٹھی نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے ووٹرلسٹ میں کوئی بھی ہیر پھیر کرنا کمشنر کے کام کا حصہ نہیں ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو کرمنل مقدمے سے کوئی چھوٹ نہیں ملتی ہے۔ اس میں مانگ کی گئی ہے کہ گیا نیش کمار کی جانچ ہو اور اس پر کسی بھی دوسرے کرمنل ملزم کی طرح مقدمہ چلایا جائے۔ اس میں رہ پر نیشن آف دی پیپل ایکٹ 1950 کی دفعہ 32 ریکارڈ میں ہیر پھیر سے وابستہ انڈین جوڈیشیل کورٹ کے تقاضوں کے تحت مقدمہ چلانے کی مانگ کی گئی ہے۔ عرضی میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئین صرف صدر اور گورنروں کو ہی کھلی چھوٹ دیتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پورے معاملہ میں بصد احترام سپریم کورٹ کیا رخ اپناتی ہے؟

01 اکتوبر 2026

چنائو کمیشن اور وضاحت؟

چنائو کمیشن (ای سی)نے اسپیشل انٹینسورویژن (ایس آئی آر) کو لیکر اٹھے تنازع کے درمیان سنیچر کو میٹنگ بلائی۔اس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، چنائو کمشنر سکھبیر سنگھ اور ویویک جوشی شامل ہوئے۔میٹنگ کے بعد الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایس آئی آر سے جڑے سبھی بڑے فیصلے اتفاق رائے سے لئے گئے تھے۔ چنائو کمیشن نے ایس آئی آر کی کارروائی میں کچھ تبدیلیوں کا بھی اعلان کیا ہےلیکن باوجود اس کے کانگریس اور دوسری اپوزیشن پارٹیوں کے سوال ختم نہیں ہوئے ہیں۔حالانکہ دوسری طرف بھاجپا اور اس کی ساتھی پارٹیوں نے چنائو کمیشن کی وضاحت کا خیر مقدم کیا ہے۔ایسے میں سوال ہے کہ تنازعہ اب کس سمت میں جائے گا؟ یہ میٹنگ انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ کے بعد ہوئی ہے جس میں چنائو کمشنروں کے درمیان ایس آئی آر ووٹر ڈاٹا اور فارم 6 سے جڑے معاملوں پر اختلافات کا دعوی کیا گیا تھا۔ چنائو کمیشن نے یہ بھی کہا کہ دو چنائو کمشنروں کی کیبنٹ سکریٹری کو بھیجے گئے خطوط چنائو کمیشن کی کسی پالیسی یا ایس آئی آر کے فیصلہ سے متعلق نہیں تھے لیکن کانگریس نے چنائو کمیشن کے بیان کو ٹال مٹولی والابتاتے ہوئے کہا کہ اس کے اٹھائے گئے بنیادی سوالوں کے جواب نہیں ملے ہیں۔ پارٹی نے ایس آئی آر روکنے اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کی مانگ دوہرائی ہے۔وہیں بی جے پی کا کہنا ہے چنائو کمیشن کے بیان سے صاف ہوگیا ہے کہ ایس آئی آر کو لیکر لگائے گئے الزامات میں کوئی دم نہیں ہے۔بی جے پی صدر نتن نبین نے اپوزیشن پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔کانگریس نیتا پون کھیڑا نے کہا کہ چنائو کمیشن اپنے اوپر لگے الزامات کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اگر دو چنائو کمشنروں نے فارم 6 میں تبدیلی کو غیر مجاز اور غیر قانونی کہا تھا تو اس پر کوئی وضاحتی جواب کیوں نہیں دیا گیا؟ پون کھیڑا نے اپنے ایکس پر چنائو کمیشن کے پریس نوٹس کو ڈائون لوڈ کیا اور ڈلیٹ بتایا۔کہا کہ پریس نوٹس نے تین بڑے سوالوں کے جواب نہیں دئے۔ فارم 6 میں تبدیلی، نوجوان ووٹروں کا سوال اور ای سی آئی ان ای ٹی۔ پون کھیڑا نے لکھا جب تک چنائو کمیشن خاص قانونی اعتراضات کا جواب نہیں دیتا تب تک کتنے بھی لمبے پریس نوٹس جاری کردئے جائیں، اتفاق رائے کا کتنا بھی دعوی کرلیا جائے یا اور کوئی اور تماشہ کرلیا جائےاس سے گیانتش کمار گپتا کی مشکلیں ختم نہیں ہوںگی۔ابھی بھی اس کے لئے انتظار نہیں ہوا ہے انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے اور سرکاری گواہ بن جانا چاہئے ورنہ جیل جانے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔سوال یہ بھی ہے کہ جن ریاستوں میں ایس آئی آر کے بعد چنائو ہو چکے ہیں وہاں نوجوان ووٹروں کا کیا ہوگا؟ پون کھیڑا نے خاص طور پر پوچھا کہ بہار اور مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے بعد بغیر ایس آئی آر چنائو ہوگئے، وہاں چھٹے نوجوان ووٹوں کا کیا ہوگا؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ جنوری 2024 کے بعد سے ایس آئی آر نہیں ہوا تو پرانے فارم6 کا جواز کیا ہے؟ادھر دیش کے 2 ہزار سے زیادہ شہریوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر ایس آئی آر پر روک لگانے کی مانگ کی ہے۔ساتھ ہی چنائو کمیشن سے از خود نوٹس لے کر کارروائی شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر کے جواز اور پروسیس کا جائزہ لینے تک اسے روکا جائے۔ووٹر رجسٹریشن سافٹ ویئراور فارم میں مبینہ تبدیلیوں کی کورٹ کی نگرانی میں جانچ ہونی چاہئے۔چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دیگر حکام کے خلاف قانونی کارروائی اور ای سی آئی نیٹ کا سپریم کورٹ کی مقرر آزادانہ کمیٹی سے سکیورٹی اورلیگل آڈٹ کرانے کی بھی مانگ کی گئی ہے۔خط پر دستخط کرنے والوں میں بحریہ کے سابق چیف ایڈمرل وشنو بھاگوت ، سابق آئی اے ایس افسر ادیتی مہتہ،سینئروکیل پرشانت بھوشن، تاریخ داں ادتیہ مکھرجی اور اداکار پرکاش راج سمیت کئی ماہر تعلیم وکیل ،صحافی اور سماجی رضاکار شامل ہیں۔ ویسے بھی کورٹ میں کئی عرضیاں لگی ہوئی ہیں۔ دیکھنا ہوگا اس معاملہ میں آگے کیا کیا ہوتا ہے؟ 2اکتوبر سے کاکروچ پارٹی نے آندولن کا اعلان کیا ہے۔
(انل نریندر)

29 ستمبر 2026

میڈیا میں چھائے گیانیش کمار!

الیکشن کمیشن کے اندر سے جوخبریں باہر آئی ہوئی ہیں اور انڈین ایکسپریس میں چھپی ہیں وہ تشوتشناک تو ہیں ہی لیکن اس سے کہیں زیادہ سنگین اس لئے ہیں کیونکہ وہ دیش کے اس آئینی ادارہ کے طریقہ کار پر سوال کھڑا کرتی ہیں جس پر آزادانہ منصفانہ و شفاف چنائو کرانے اور جمہوریت میں عوام کا بھروسہ بنائے رکھنے کی بھی اہم ذمہ داری ہے۔بھارت میں چنائو کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کی رپورٹ کا تذکرہ پورے دیش میں تو ہو ہی رہا ہے لیکن بین الاقوامی میڈیا میں بھی یہ خبریں چھائی ہوئی ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد پورے دیش میں چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمار سرخیوں میں آگئے ہیں۔ پورے دیش میں ان کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔ وہیں بین الاقوامی میڈیا میں اس پر رائے زنیاں بھی شائع ہورہی ہیں۔امریکی میڈیا آئوٹ لیٹ بلوم برگ نے اس اشو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایس آئی آر میں جائزووٹروں کے نام ہٹانے اور اس سے چناوی نتیجوں پر اثر پڑنے کا پورا پورا اندیشہ ہے۔ بلوم برگ نے لکھاہے : ستمبر کے آخر میں اس اشو پر پھر سوال اٹھے، جب ا خبار انڈین ایکسپریس نے خبر شائع کی کہ تین چنائو کمشنروں میں سے دو نے اس مہینے میں کم سے کم 14 مرتبہ اس پروسیس کو لیکر چیف الیکشن کمشنر کے سامنے تشویش جتائی تھی۔ چنائو کمشنر نے اس خبر کی تردید کردی ہے کہ چنائو کمشنروں کے درمیان مبینہ عدم اتفاق نے چنائوکی نگرانی کرانے والے ادارہ پر اور سوال کھڑے کردئے ہیں۔ پچھلے ایک سال میں ریاستی اسمبلی انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلسل جیت کے بعد ووٹر لسٹ میں صفائی کا سیاسی طور پر اشو بیحد حساس ترین ہوگیا ہے۔اپریل میں مغربی بنگال چنائو سے پہلے ووٹر لسٹ سے لاکھوں نام ہٹا دئے گئے تھے۔ اس کے بعدبی جے پی نے پہلی بار یہاں بڑی جیت حاصل کی۔پچھلے سال بہار میں بھی لاکھوں لو گوں کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹے گئے تھے اور پچھلے سال ہی اسمبلی چنائو سے پہلے اسی طرح ووٹر لسٹ کی نظرثانی کرائی گئی تھی۔ ووٹروں کے نام جوڑنے اور ہٹانے کے ساتھ ووٹ فہرست کے مینجمنٹ والے سسٹم کے بڑھتی مرکزیت کو لیکر تشویشات پر بلوم برگ نے لکھا ہے دونوں کمشنروں نے یہ بھی کہا کہ کچھ فیصلے لئے گئے اور احکامات جاری کئے گئے لیکن اس کی جانکاری انہیں نہیں دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایس آئی آر کے دوران قریب 13 کروڑ لوگوں کے نام ابتدائی ووٹر لسٹ سے ہٹا دئے گئے۔ان میں سے کئی لوگوں کے نام ہٹائے جانے کے خلاف اپیل کی گئی جو زیادہ تر ابھی بھی التوا میں پڑی ہے۔ اخبار نے لکھا وزیر اعظم نریندر مودی کو 2029 تک لوک سبھا چنائو میں ووٹ ڈالنے والے ووٹروں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن کچھ ہی مہینے بعد بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اترپردیش میں اسمبلی چنائو ہونے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں ہونے والے اسمبلی چنائو ان کی مقبولیت کےلئے ایک اہم سیاسی امتحان ہوگا۔ قطر کے اخبار الجزیرہ نے چنائو کمیشن سے وابستہ خبر شائع ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے نوجوان آندولن کاریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر دیش کے چیف الیکشن کمشنر سنیچروار تک استعفیٰ نہیں دیتے ہیں تو وہ دیش بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع کریں گے۔ اخبار نیویارک ٹائمس نے بھی اس مسئلہ پر بڑی اہمیت کے ساتھ خبر شائع کی ہے۔ ایس آئی آرسے لیکر اپوزیشن پارٹیوں میں تقسیم اور چناوی سمبل ضبط کرنے اور انہیں تسلیم ہونے تک کہ اشو چھائے۔ ہر جگہ اپوزیشن کو چنائو کمشنر پر سوال اٹھانے کا ایک موقعہ بیٹھے بٹھائے مل گیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے یہ اشو رکنے والا نہیں ہے اور ابھی کئی آندولن دیکھنے کو ملیںگے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جو الزام لگائے ہیں وہ بھی وضاحت کی مانگ کرتے ہیں۔ یہاں سپریم کورٹ کے جسٹس دیپانکردتتا کی رائے زنی بھی بیحد اہم ہے۔ ایک آئینی ادارہ پر اس طرح کے الزام بیحد تشویشناک ہیں۔جو سوال اٹھ رہے ہیں ان کا جواب ملنا ہی چاہئے۔ کیونکہ چنائو کمیشن کے بھروسے پر پوری جمہوری مشینری کے اعتماد کا سوال بھی ہے۔
(انل نریندر)

24 ستمبر 2026

دہلی میں ایس آئی آ ر کو لیکر سوال!

دہلی کی ووٹر لسٹ میں ایس آئی آر کو لیکر کئی سوال اور اعتراضات کھڑے ہو رہے ہیں۔ ایس آئی آر پروسسز میں لاکھوں ووٹروں کے ریکارڈ میں گڑ بڑیاں سامنے آئی ہیں۔ ان خامیوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم اور اس کے طریقہ کار پر سنگین سوال کھڑے کردئے ہیں۔ ویسے تو پورے دیش میں ایس آئی آر کا پروسس کو لیکر الگ الگ سوال اٹھ رہے ہیں۔ اور اسی درمیان دہلی ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے بعد سامنے آئے نوٹسوں نے اس بحث کو اور بھی بڑا کردیا ہے۔ دراصل دہلی میں ایس آئی آر کے تحت قریب 3.13 لاکھ ووٹروں کے ریکارڈ میں ملی الگ الگ طرح کی غلطیوں کی بنیاد پر نوٹس جاری کئے جارہے ہیں۔ نوٹس ملنے والے عام ووٹروں کے ساتھ ساتھ سابق نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی، وزیر خارجہ جے شنکر و سابق نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکڑ، الیکشن کمیشنر ایس ایس سندھو، دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال اور دہلی کے سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیہ، خارجہ سکریٹری وکرم مسٹری و نامور وکیل و سابق وزیر کپل سبل بھی شامل ہیں۔ سابق فوج کے چیف اپیندر دویدی، سی بی آئی ڈائریکٹرپروین سود اور کئی سینئر افسران بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ یہ فطری طور پر سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر ایسا کیسے ہوا؟ جیسا کہ میں نے بتایا کہ دہلی میں قریب 33.13 لاکھ ووٹروں کو نوٹس کےلئے نشا نزد کیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر معاملے ایسے ہیں جہاں موجودہ ووٹر ریکارڈ کو سال2002 میں ہوئی پچھلی ایس آئی آر کی ووٹر لسٹ سے لنک نہیں کیا گیا یا تفصیل میں گڑ بڑی ملی۔ حالانکہ چنائو کمیشن نے صاف کیا ہے کہ نوٹس ملنے کا مطلب ووٹر لسٹ سے نام ہٹانا نہیں ہے۔چنائو کمیشن کے مطابق ووٹر جواب ضروری دستاویزات جمع کر سکتے ہیں اور کسی کا نام سماعت کا موقعہ دئے بغیر اور مناسب حکم کے بغیر ہٹایا نہیں جاسکتا۔ کانگریس نے ایتوار کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ووٹر لسٹوں میں وسیع پیمانے پر نام ہٹانے کا اشو اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ دراصل ایس آئی آر امت شاہ کے اشارے پر ووٹروں کے نام ہٹانے کی ایک بڑی منشا ہے کارروائی اورآئین پر حملہ ہے۔ اس بات کے کافی ثبوت ہیں کے مختلف ریاستوں میں وسیع پیمانے پر ہٹائے گئے ناموں میں سب سے زیادہ تعداد سماج کے غریب اور اقتصادی طور پر کمزور طبقے سے آنے والے ووٹروں کی ہے۔راجیہ سبھا ایم پی کپل سبل نے ایتوار کو سوال کیا کہ اگر الیکشن کمیشن کا ارادہ بھاجپا کو اقتدار میں بنائے رکھنا ہی ہے تو چنائو کرانے کا کیا مطلب ہے؟ کپل سبل اور ان کی بیوی کو ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر کے دوران دی گئی تفصیل میں گڑ بڑیوں کے سبب نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔ اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا یہ کس طرح کی اسپیشل نظرثانی ہے؟ یہ جائز ووٹروں کو ہٹانے اور نا جائز ووٹروں کو جوڑنے کی کوشش ہے۔ اگر آپ بھاجپا کو ہی اقتدار میں بنائے رکھنا چاہتے ہیں تو چنائو کرانے کا کیا مطلب ہے؟ امید کی جاتی ہے کہ چنائو کمیشن جلد پورے معاملہ کی جانچ کر اپنی غلطیوں کو درست کرے گا کیونکہ اس کی ساکھ دائو پر لگی ہے۔
(انل نریندر)

22 ستمبر 2026

امت شاہ کا اعلان،مچ گیا گھماسان

اپنی سمجھ میں نہیں آیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے محکمہ میں کیا پلاننگ ہے جو ایسے وقت میں یو سی سی نافذ کرنے کا اعلان کیوں کیا؟ جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور پورا دیش کامیاب برکس سمٹ کی خوشیاں منارہا تھا اور سارے دیش میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کی خوشیاں منائی جارہی تھیںیہ کیا صحیح وقت تھا متنازعہ تجویز لانے کا؟عزت مآب امت شاہ جی ممبئی تو گئے تھے مودی سرکار کے 25 سالہ کارناموں کو گنانےاور وہاں پہنچ کر اچانک اعلان کردیاکہ 2029 کے لوک سبھا چنائوسے پہلے دیش کی سبھی 21 بھاجپا حکمراں (بی جے پی۔این ڈی اے) نے یکساں سول کوڈ نافذ کردیا جائے گا۔ ہمیں نہیں پتہ کہ یہ وزیر اعظم اور ان کی کیبنٹ کا اعلان ہے یا نہیں؟ امت شاہ جی کے بیان کے بعد دیش میں سیاسی ہلچل مچنا فطری ہی تھا اور ہنگامہ کھڑا بھی ہوگیا۔ایک طرف اپوزیشن پارٹیوں نے سرکار کو گھیرنا شروع کردیا تو دوسری طرف خود بی جے پی کی اتحادی پارٹی جے ڈی یو نے بھی اس کے خلاف کھل کر احتجاج شروع کردیا۔ ادھر تیلگو دیشم پارٹی اب سے نہیں اٹل جی سرکار کے وقت سے ہی اس کی کھلی مخالفت کررہی تھی۔بھاجپا پر الزام لگایا گیا کہ وہ پرسنل لاءاور یکساں اختیارات جیسے پیچیدہ اشوز کو چناوی ہتھیار بنا رہی ہے۔بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (مارکس وادی) نے کہا کہ پرسنل لاء اور یکساں حقوق جیسے پیچیدہ اشوز کو دیش میں نافذ کرنے کی تجویز عام چنائو سے پہلے بھاجپا کے اہم ہندوتو حمایتی بنیاد کو مضبوط کرنے کی ایک واضح سیاسی حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے۔ پارٹی نے سرکار کے جنسی برابری اور ایک شکل پر امکانی زور کو خارج کرتے ہوئے دلیل دی کہ اس مسئلہ کو صرف الگ الگ فرقوں کو ایک مشترکہ قانونی ڈھانچے کے تحت لانے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔اپوزیشن کا کہنا ہے ایک شکل کا مطلب یکساں نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا بھاجپا بےروزگاری ، مہنگائی اورر زرعی بحران اور طلبہ و زین جی کی پریشانیوں جیسے مسئلوں کو حل کرنے کے بجائے ایک اور بٹوارہ مہم کی تیاری کررہی ہے۔ یہ اعلان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس اعلان کے بعد آیا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔سابق ایم پی اور سینئرسی پی ایم لیڈر حنان ملا نے پیر کو ایک ٹی وی چینل سے کہا پرسنل لاء میں شادی و طلاق ، وراثت، گود لینےاور خاندانی حقوق سے وابستہ حساس ترین اشو شامل ہوتے ہیں اس لئے ان کے لئے ریاستوں یا فرقوں، قانونی ماہرین اور شہری سماج کے ساتھ ساتھ وسیع خیالات ، دماغی ضرورت سے اغراض مبنی ہوتی ہے۔ مرکز میں موجودہ بھاجپا این ڈی اے سرکار دو بیساکھیوں پر ٹکی ہوئی ہے۔ جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی جیسی پارٹیاں قومی سطح پر ایک طرفہ یکساں سول کوڈ قانون تھونپنے کے بجائے مقامی رضامندی اور حساسیت اپنانے کے حق میں رہے ہیں جے ڈی یو نیتا اس کے جائزے کی بات کہہ چکے ہیں۔سرکاروں کے ذریعے سے قانون نافذ کرنے پر مرکزی سرکار پر اتحادی پارٹیوں کی حمایت ضروری ہے۔ اتحادی پارٹیوں کی اپنی اپنی ریاستوں میں الگ مجبوریاں ہوسکتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ امت شاہ اسے کیسے لاگو کرتے ہیں؟
(انل نریندر)

ووٹ چھیننا آئین کے خلاف!

پچھلے تین چار مہینے سے پورے دیش میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ان کے ذریعے ووٹ چوری کو لیکر تحریکیں چل رہی ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کا آ...