امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی جوابی کاروائی روایتی نشانوں سے آگے بڑھ گئی ہے ، اس نے خلیجی ملکوں میں مسلسل حملے کئے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے ۔متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس پر میزائل اور ڈرون سے حملہ کیا ،جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم نے روکا۔ فوٹیج میں ایک تیل فیسلٹی پر ایک ڈرون گرنے سے آگ لگ گئی جس میں تین ہندوستانی زخمی ہو گئے ۔اس سے پہلے ٹینکر پر ڈرون حملے کی واردات سامنے آئی تھی ۔امریکہ -ایران کے درمیان سیز فائر کے بعد اس طرح کا پہلا حملہ ہے ۔الجزیرہ اخبار کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای کے وزارت دفاع نے پیر کی شام بتایا کہ دیش کے الگ الگ حصوں میں بیلسٹک میزائل ،کروز میزائل اور ڈرون کو انٹرسیپٹ کیا جارہا ہے ۔ایران نے خلیجی ملکوں میں امریکہ سے وابستہ ڈیجیٹل ہب ، کلائیڈ انفراسٹرکچر اور ڈیٹا سنٹرس کو نشانہ بنا کر جنگ کے دائرہ کو مزید پھیلا دیا ہے ۔ایران کی اسلامک ریبولیوشنری گارڈس کارف (آئی آر جی سی ) نے کہا کہ اس نے یو اے ای اور بحرین میں ڈیٹا سنٹرس پر ڈرون حملے کئے یہ آج کی جنگ میں ایک اہم ترین واقعہ ہے جس میں صرف سائبر دراندازی کے بجائے عام لوگوں سے جڑے کلائیڈ انفراسٹرکچر پر سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت حملے کئے گئے ہیں ۔ایرانی سرکار میڈیا نے بتایا کہ اس کا مقصد ان ڈیٹا سنٹروں کی ورمن کی فوجی اور دیگر سرگرمیوں میں مدد کرنے والے رول کو سامنے لانا اور اسے روکنا ہے ۔موجودہ دور میں کلائیڈ انفراسٹرکچر اب دہرے استعمال والی حکمت عملی ہب کے طور پر ابھرا ہے ۔یہ بینکنگ ایویشن ،ہیلتھ کیئر ،کارپوریٹ کام کاج اور ای گورنمنٹ جیسے سیکٹروں میں عام لوگوں کو خدمات دیتا ہے ۔اس کے علاوہ وہ فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے کاموں میں مدد بھی کرتا ہے جس میں اے-آئی پر مبنی تجزیہ ،سیٹلائٹ تصاویر کی پروسیسنگ ،لاجسٹکس کے پلان بنانا اور کمانڈ اینڈ کنٹرول میں مدد کرنا شامل ہے ۔امریکہ خاص طور پر بڑے پیمانہ پر کلائیڈ سیوائیں دینے والی کمپنیوں پر منحصر ہے ان میں ایمازون ،مائیکروسافٹ اور گوگل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل ہیں ۔ایران کا خیال ہے کہ ان سنٹروں کو نشانہ بنانے سے جنگ کی حکمت عملیاں پوری طرح بدل جائیں گی۔ اور اس سے لڑائی کی سمت پر گہرا اثر پڑسکتا ہے ۔یو اے ای اس لئے بھی ایران کے نشانہ پر ہے کیوں کہ اس کا ماننا ہے کہ یہ امریکہ ،اسرائیل کے اشاروں پر کام کرتا ہے اور اپنی زمین کا ایران پر امریکی حملوں کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ریسرچ کنندہ خالد ولید نے لندن سے شائع اخبار القدوس العربی میں لکھا : یہ دکھاتا ہے کہ ان کی حکمت عملی میں بہت سی تبدیلی آئی ہے اب جگہوں کو نہیں بلکہ اس سسٹم کو نشانہ بنایاجارہا ہے جو نگرانی کا کام کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا ، اس نظریہ سے دیکھیں تو یہ کمپنیاں اب صرف تکنیکی خدمات دینے تک محدود نہیں رہ گئی ہیں بلکہ وہ ایک سیدھے یا درپردہ طور سے فوج کے فیصلے لینے کی کاروائی کی چین کا حصہ بن گئی ہے ۔
(انل نریندر)