Translater

07 جولائی 2026

خامنہ ای کی آخر ی رسوم کی رسمیں شروع

گزشتہ 28 فروری کو امریکی ،اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم 4 ماہ بعد جولائی سے تہران میں شروع ہو گئی ہیں ۔ایرانی حکام اسے صدی کی آخری رسوم بتارہے ہیں ۔ان کے مطابق 1.2کروڑ سے زائد لوگوں کی شرکت کی امید ہے۔ ان تیاریوں کی رہنمائی تہران میں واقع محمد رسول اللہ کور کررہا ہے ۔یہ اسلامی ریولیوشنری گارڈ کی اہم یونٹ ہے ۔قریب 800 غیر ملکی صحافی اس پروگرام کی کوریج کے لئے تہران میں موجود ہیں ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم کئی دنوں تک چلنے والی الوداعی آخری رسوم کی رسمیں جمع کو شروع ہو گئیں ۔تہران میں جگہ جگہ بینر لگائے گئے ہیں جس میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس تباہ کن جنگ کے بعد اسلامی رپبلک کی حمایت میں متحد ہوں ۔ان کے جنازے کو ایرانی شہروں اور پڑوسی دیش عرا ق لے جایا جائے گا ۔خامنہ ای اور ان کے کنبہ کے افراد کے تابوت ایرانی جھنڈے میں لپیٹ کر تہران کی گرینڈ مسلح مسجد میں رکھے گئے ہیں ۔متوفین میں ان کے داماد ، ان کی سب سے بڑی بیٹی شیر ایک چھوٹا تابوت ان کی 14 ماہ کی پوتی کا ہے جسے دیکھ کر سبھی دل دہل گیا ۔تابوت میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی بیوی بھی شامل ہے۔ پروگرام میں شامل ہونے کے لئے تقریباً 50 ملکوں کے نمائندہ وفد تہران پہنچا ہے ۔بھارت اور سعودی عرب کا نمائندہ وفد بھی ان میں شامل ہے۔ اس درمیا ن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ہے ۔انہوں نے ایران پر تلخ طنز کسا ہے تو وہیں دوسری طرف ایرانی عوام نے امریکہ مرد ہ آباد کے نعرے لگائے اور خامنہ ای کے قاتلوں سے بدلہ لینے کی قسمیں کھائی گئیں ۔ٹرمپ نے تہران پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہاں امریکہ نے ایران کو آخری رسوم کے لئے ایک ہفتہ کا وقت اس لئے دیا کیوں کہ واشنگٹن اچھا دیش ہے ۔انہون نے امریکی انتظامیہ کی کاروائی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا جنگ میں ایران کی بری طرح ہار ہو ئی ہے ۔ایرانی حکام نے آخری رسوم کا نعرہ ’دی مسٹ رائز‘ رکھا ہے ۔جس کے ساتھ مٹھی نیچے ہوئے ہاتھ کی علامت جوڑا گیا ہے ۔حسن زادے نے کہا کہ خامنہ ای کا تابوت ایک اونچے اسٹیج پر رکھا گیا ہے ۔بھیڑ کا انتظام اس طرح سے کیا گیا ہے کہ لوگ 15 سے 20 منٹ کے اندر جاکر باہر نکل سکیں ۔بدھوار کو خامنہ ای کا جسد خاکی نجف لے جایا جائے گا ۔وہاں شیعہ اسلام کے پہلے امام علی کی درگاہ سے جلوس کا انعقاد کیاجائے گا اس کے بعد خراج عقیدت تقریب کربلا میں جاری رہے گی ، پھر جسد خاکی کو واپس ایران لایاجائے گا ۔ایک بڑا سوال یہ ہے کہ جنازے کی نما ز کون پڑھائے گا ؟ شیعہ روایت میں یہ ذمہ داری مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے اہم ترین مانی جاتی ہے ۔ایران کے سپریم لیڈر بننے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای جو کہ اب ایران کے سپریم لیڈر ہیں کو ابھی تک پبلک میں نہیں دیکھا گیا ہے ۔ابھی تک یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنے والد کی آخری رسوم میں شامل ہوں گے یا نہیں ؟ امریکہ اسرائیل جنگ کے درمیان یہ ایک اپنی طرح کی انوکھی آخری رسوم ہے ۔ایرانی خفیہ ایجنسیوں نے مجتبیٰ سے آخری رسوم میں شامل ہونے سے منع کیا ہے ۔کیوں کہ اسرائیل کے ایک وزیر نے کھلے عام دھمکی دی ہے کہ مجتبیٰ کو ہم مار کر رہیں گے۔ حالانکہ مجتبیٰ خامنہ ای ڈرنے والوں میں سے نہیں ہیں ۔یہ بھی ممکن ہے کہ اتنے دن چلنے والی اس آخری رسوم میں کہیں نہ کہیں بغیر شور مچائے مجتبیٰ اپنے والد کو خراج عقیدت پیش کرنے پہنچ جائیں ۔حالانکہ بھارت میں ایران کے سرکاری نمائندہ آیت اللہ حکیم الہی نے بتایا کہ مجتبیٰ خود حمایتیوں اور ملک کی عوام کے بیچ جانے کے لئے بے حد خواہشمند ہیں ۔لیکن ایران کی ٹاپ خفیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں نے اس پر ویٹو لگا دیا ہے ۔موجودہ حالات میں مجتبیٰ کا پبلک کے سامنے آنا کسی بڑے خطرے سے خالی نہیں ماناجاسکتا ہے ۔دراصل اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی اپنی انتہا پر ہے اور خفیہ جو جانکاری ہے کہ اس بڑی بھیڑ کا فائدہ اٹھا کر دشمن دیش ایران کے بیچ نئے سینئرلیڈر شپ کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔اسی خطرے کے ماحول کی وجہ سے مجتبیٰ خامنہ ای کو نظروں سے دور رکھنے کی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے ۔
(انل نریندر)

04 جولائی 2026

کہاں ہے ایران کی 100 ارب ڈالر کی پراپرٹی ؟

بیرونی ممالک میں ایران کی کل ضبط ، پابندی شدہ پراپرٹی کا اندازہ تقریباً 100 ارب ڈالر ہے اس نے منجمد کھاتوں میں تیل سے ہونے والی کمائی، غیر ملکی کرنسی ذخیرہ ،بینکنگ پراپرٹی و دیگر دعوے شامل ہیں ۔پہلی بار وسیع پیمانہ پر اثاثہ تب فریز کئے گئے جب ایران میں اسلامک انقلاب آیا اور امریکی سفارتخانہ میںیرغمال بحران کھڑا ہوا ۔14 نومبر 1979 کو ایرانی انقلابیوں نے فوراً تہران میں امریکی سفارتخانہ پر قبضہ کرنے کے بعد اس وقت کے صدر جلی کوٹر نے امریکی دائرہ اختیار میں موجود ایرانی سرکار کے اثاثہ کو بلاک کر دیا ۔1980 میں ایران سرکار نقد ، سونا اور دیگر املاک شامل تھیں جن میں سے زیادہ تر پراپرٹی 198.1 الجیریس سمجھوتہ کے تحت جاری کی گئی تھی جس سے یرغمالی کا بحران ختم ہوا تھا ۔تقریبا 4 ماہ کی جنگ کے بعدا مریکہ ایران امن سمجھوتہ کی شکل میں لائن پر متفق ہوئے اور اس کے باوجود ایران کی ضبط پراپرٹیوں پر رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔ایک طرف ایران نے 14 نکاتی سمجھوتہ کے حوالہ سے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ بات چیت شروع ہونے سے پہلے ضبط اثاثے جاری کرنے پر متفق ہولیکن ٹرمپ کے کئی متضاد بیانوں نے حالات کو شش وپنج میں ڈال رکھا ہے ۔
(انل نریندر)

ایران کو جلد ملیں گے 6 ارب ڈالر !

ایران -امریکہ جنگ میں کتنی تباہی ہوئی ہے بتانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ممکن ہے کہ ایران کو اصل میں اس جنگ سے فائدہ ہوسکتا ہے ۔یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے حال ہی میں بڑا اعلان کیا اور دعویٰ کیا گیا کہ قطر میں پھنسی ایران کی 12 ارب ڈالر کی رقم میں سے 6 ارب ڈالر جلد جاری کر دیے جائیں گے ۔قوم شہر میں ایک پروگرام کے دوران انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ معاہدے کے تحت اثاثے ریلیز کرنے کی پہلی شرط ہوگی ۔جو اسے قطر سے ملیں گے ۔انہوں نے یہ اہم ترین اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سوئزرلینڈ میں ہوئی بات چیت اور اسلام آباد میں ہوئے معاہدے کے تحت یہ رقم جاری ہو رہی ہے ۔باقی چھ ارب ڈالر کی واپسی کے لئے بھی سرکار مسلسل کوششیں کررہی ہے ۔ایرانی صدر پزشکیان نے بتایا کہ امن معاہدے کے تحت ایران کے تیل اور پیٹرولیم سیکٹر پر لگی پابندیاں بھی ہٹا دی گئی ہیں ۔انہوں نے اسے ایرانی عوام کی بڑی جیت بتایا ۔انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کو ہٹنے سے دیش کی معیشت کو بڑی راحت ملے گی ۔ایران کی ارتھ سرکاری نیوز ایجنسی مہر نے صدر کے بیان کو اہمیت سے شائع کیا ہے ۔صدر نے حالیہ لڑائی کا ذکر کرتےہوئے ایرانی عوام کی تعریف کی ۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر ، وزراء ،فوجی کمانڈر ،دانشور اور عام شہری بھی مشکل کے وقت متحد رہے۔ صدر نے بتایا کہ لڑائی کے بعد سرکار بساست کا کام شروع کر چکی ہے ۔عام لوگوں کو راحت دینے کے لئے خوراک ،رعایت بڑھانے اور مزید مالی مدددینے کی اسکیمیں لاگو کی جارہی ہیں ۔ایران کے اس دعوے سے امید ہے کہ دیش کی معیشت کو کچھ راحت ملے گی ۔قطر میں پھنسا پیسا ریلیز ہونے سے تیل ایکسپورٹ اور دیگر سیکٹروں میں بہتری آسکتی ہے ۔یہ تازہ واقعہ میں ایران کی خارجہ پالیسی اور اقتصادی حکمت عملی میں نئی سمت دکھاتی ہے ۔حالانکہ اب تک ایران میں ہونے والے 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کو لے کر کوئی بات صاف نہیں ہوئی ہے ۔یہ فنڈ کہاں سے آئے گا ، کب آئے گا اس پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔
(انل نریندر)

02 جولائی 2026

ٹرمپ اور میلونی کے بیچ بگڑتے رشتے !

اٹیلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی سے وابستہ کئی پوسٹ سوشل میڈیا پر گشت کررہے ہیں ۔ان میں سے کچھ میں تو ایسا دکھایا گیا ہے جیسے وہ کسی بریک اپ کے بعد اپنی زندگی بدلنے کی کوشش کررہی ہوں ۔ایک اے آئی فوٹو میں انہیں نئے ہمسفر کے ساتھ دکھایا گیا ہے ۔ایک دوسری تصویر میں انہیں سنگل ہولی ڈے بُچ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔یہ ساری تصویریں اصلی نہیں ہیں لیکن ان کا مذاق اس لئے بنایا جاریا ہے کیونکہ میلونی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کھلے طور پر تنازعہ اب سامنے آرہا ہے ۔پچھلے کچھ ماہ میں ٹرمپ اور میلونی کا رشتہ کبھی کھلے حملوں تک کیا گیا ۔کبھی نجی طعنے کسے گئے اور پھر یا تو یہ ٹھیک ہوا لیکن اس اتھل پتھل کی وجہ سے سب سے پاپولر سیاست سیاسی دوستی ٹھنڈی پڑ گئی ۔کچھ وقت پہلے تک لوگ میلونی کوٹرمپ وسپرر کہتے تھے ۔اس کی بانگی جنوری 2025 میں دیکھنے کو ملی جب ٹرمپ کی حلف برداری تقریب میں انہیں سب سے آگے بیٹھے کی جگہ ملی ۔تقریب میں یہ اہم جگہ پانے والی وہ اکیلی یوروپی لیڈر تھیں ۔پچھلی اپریل میں میلونی وائٹ ہاؤس گئی تھیں وہاں وہ اس مقصد کے لئے گئی تھیں تاکہ یوروپی سامان پر لگی امریکی ٹریڈ ٹیرف کو لے کر کشیدگی کم ہو لیکن ٹرمپ کی جیسی عادت ہے ، ان کی بے یقینی میلونی کے لئے مشکل بھری ثابت ہوئی اور ان کی ساکھ کو ملک و بیرون ملک دونوں جگہوں پر چوٹ پہنچی ہے ۔ٹرمپ اور میلونی میں پہلی بڑی درار مارچ کے آخر میں سامنے آئی ۔اٹلی کے وزار ت دفاع نے امریکی فوجی جہازوں کو سسلی کے سنگولنیلا نیٹو ایئر بیس استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ اس کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے ۔اٹلی نے یہ قدم اس لئے اٹھایا کیوں کہ ان کاقانون اور عوام دونوں ہی ایران جنگ کے خلاف تھے ۔یہ ٹکراؤ اور بڑھ گیا اپریل میں ٹرمپ نے ٹوٹھ شوشل پر پوپ لیو مداف پر حملہ بول دیا کیوں کہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ کی تلخ نکتہ چینی کی تھی ۔ٹرمپ نے انہیں کمزور بتایا ۔دنیا کے دیش کی لیڈر میلونی نے ٹرمپ کے بیان کو نامنظور والاقرار دیا ۔میلونی کے سخت رد عمل ٹرمپ کو راس نہیں آیا اور انہوں نے اٹلی کے اخبار کوریٹا ڈیلا میرا سے کہا کہ میں ہوں مجھے لگا تھا کہ ان میں ہی ہمت ہے لیکن میں غلط تھا وہ اب پہلے جیسی نہیں رہیں اور اٹلی بھی پہلے جیسا دیش نہیں رہا ۔فرانس میں جی -7 سمٹ میں ٹرمپ اور میلونی کو بات چیت کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا دونوں دیشوں کے حکام نے اس بات چیت کو مثبت اور ایک عام معمولاتی بتایا لیکن کچھ ہی دن بعد ٹرمپ نے اٹلی کے چینل کو کہا کہ میلونی نے سمٹ میں ان سے فوٹو کچوانے کے لئے منت کی تھی ۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ میرے ساتھ تصویریں چاہتی تھی ۔میں نہیں لیتا لیکن مجھے ان پر ترس آگیا ۔میلونی نے فوراً جواب دیا کہ انہوں نے ویڈیو جاری کر ٹرمپ کی بات کو پوری طرح من گھڑت بتایا انہوں نے بتایا کہ مجھے نہیں پتہ کہ امریکہ کے صدر اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایسا کیوں رویہ اپناتے ہیں ؟ میں بس اتنا کہہ سکتی ہوں کہ افسوس ہے اور وہ ایک مغرب کے دشمنوں کے خلاف ایسی مضبوطی نہیں دکھاتے لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے نا میں اور نہ ہی اٹلی کسی کی منت کرتا ہے اس کے فوراً بعد اٹلی کے وزیرخارجہ اسٹونیا لایانی نے اپنا مجوزہ امریکی دورہ منسوخ کر دیا اور اٹلی کے صدر سرجیومیٹرولانے میلونی کو فون کر ان کی حمایت کی ۔سرکار کے ساتھیوں اور ممبران پارلیمنٹ بھی ٹرمپ کے تبصروں کو توہین آمیز بتایا ۔اور معافی کی مانگ کی ۔اپوزیشن نے اسے پورےدیش کی بے عزتی کہا دوسری طرف ٹرمپ نے پھر دہرایا کہ میلونی نے بار بار تصویر کھچوانے کی مانگ کی تھی ۔میلونی پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ اب دوبار ہ میزبان بننے کی کوشش کررہی ہیں کیوں کہ امریکہ نے ایران کو فوجی نظریہ سے ہرا دیا ہے ۔جیسے ہی یہ تنازعہ ٹھنڈا پڑتا نظر آیا تو فوجی اڈوں کو لے کر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ یہ تنازعہ ایران جنگ میں آپریشن کیوری کے دوران اٹلی کے امریکی ایئربیس کو لے کر اٹھا ۔نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے نے بتایا کہ تقریباً 500 جنگی جہاز اٹلی میں امریکہ کے ٹھکانوں سے آپریشن ایپک کیوری میں اڑان بھری ۔لیکن اٹلی کو یہ بات اچھی نہیں لگی اور اس کے وزار دفاع نے اسے غلط اور گمراہ کن بتایا ۔مزیدار بات یہ بھی ہے کہ دونوں ٹرمپ اور میلونی کو جلد ہی اپنے دیش میں چناؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔اٹلی میں عام چناؤ ہونے ہیں تو امریکہ میں بھی مڈ ٹرم چناؤ ہیں دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور اٹلی کے رشتے سدھرتے ہیں یا اور بگڑتے ہیں؟
(انل نریندر)

30 جون 2026

الوداع آیت اللہ علی خامنہ ای !

28 فروری اس سال امریکہ اسرائیل کی جانب سے کئے گئے حملے میں ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے ۔انہوں نے کسی بنکر میں چھپنے کے بجائے اپنے دفتر میں ہی رہ کر شہید ہونا منظور کیا تاکہ ان کی قوم دشمنوں سے لوہا لے سکے ۔ان کی شہادت ہر وطن پرست کے لئے راہ عمل بنے ۔یہی ہوا ایت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایران کی عوام میں ایک ایسا جذبہ پیدا کیا اس نے دنیا کے سب سے طاقتور دیش امریکہ کو آخر کار :جھکنے پر مجبور کر دیا ۔ایران سے اب خبر آئی ہے کہ ان کی وفات نے 3 ماہ بعد ان کی آخری رسوم کی جائیں گی ۔یعنی 3 ماہ بعد سپرد خاک ہوں گے خامنہ ای ۔سرکار نے تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے ۔اور دیش کے کئی شہروں میں ان کا تعزیتی جلوس نکالاجائے گا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسوم کے لئے 3 دن کا پروگرام طے 4 جولائی ہوا ہے ۔تہران قوم اور مشہد میں ہونے والی اس تدفین میں دو کروڑ لوگوں کے آنے کی امید ہے ۔ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر بنایا گیا ہے ۔یہ پہلی بار ہوگا جب 28 فروری کے حملے کے بعد آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای عوام کے درمیان نظر آئیں گے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق راجدھانی تہران قوم اور مشہد میں بڑے پبلک پروگرام ہوں گے ۔اکیلئے تہران میں خاص پروگرام 24 گھنٹے چلے گا۔ انتظامیہ کے مطابق دو کروڑ لوگوں کو سنبھالنے وحفاظت کو لے کر تیاریاں کی جارہی ہیں ۔یہ اعلان خامنہ ای کی موت کے کئی دنوں بعد ہوا ۔اسلامی روایت کے مطابق دفنانے کا کام فوراً ہونا چاہیے تھا لیکن جنگ کے سبب اور حفاظت کی وجہ سے اسے ٹالنا پڑا۔آیت اللہ علی خامنہ ای 86 سال کے تھے ۔28 فروری کے حملے میں وہ شہید ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی ایران پر ان کا 30 سال سے زیادہ پرانی حکومت ختم ہو گئی ۔وہ دیش کے سب سے طاقتور اور باعزم لیڈر تھے ۔وحکمت عملی ساز بھی تھے ۔آیت اللہ خامنہ ای بھارت کے دوست بھی تھے اور ان کے نظریات کے بہت بڑے پرستار تھے ۔ان کے بیچ کا خاص طور پر تاریخی رہا ہے ۔سورگیہ پنڈت جواہر لال نہرو کی کتاب اور اس پر تبصرہ پر نظریہ خامنہ ای نے نہرو کے ذریعے لکھی سوانح حیات یا ول میسج گلمس پیسج آف ورلڈ اس کی کھل کر تعریف کی ۔انہوں نے اپنی تقریروں میں اکثر اس بات کا ذکر کیا کہ کیسے نہرو نے اپنی کتابوں میں تفصیل لکھا کہ انگلینڈ جیسے چھوٹے دیش نے بھارت جیسے وسیع ملک کے وسائل کا جائزہ لے کر خود کو کیسے محفوظ کیا ۔خامنہ ای کے مطابق یہ صرف بھارت کی کہانی نہیں بلکہ یہ تبصرہ اور سامراجواد طاقتوں کی سچائی تھی ۔2012 میں جب تہران نے چوٹی کانفرنس (نیم سمٹ ) کے دوران ہندوستانی وزیراعظم (ڈاکٹر منموہن سنگھ نے آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی تھی تو خامنہ ای نے خود جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی کو گلہائے عقیدت پیش کیا تھا ۔آیت اللہ خمینی کا ایک پرانا ویڈیو بھی دوبارہ سامنے آیا ہے جس میں وہ جنتا سے اپیل کررہے ہیں ۔: تہران کی کتاب گلمپس آف ورلڈ ہسٹری ضرور پڑھیں ۔انہوں نے تفصیل سے سمجھایا کہ انگریزوں نے بھارت میں کیا کیا کیا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانے سے صرف ایران یا اسلامی دنیا کو ہی نقصان نہیں پہنچا بلکہ دنیا کو ان کے جانے و خاص کر جس طریقہ سے ان کی شہادت ہوئی بھاری نقصان ہوا ہے ۔ایک نیک بندہ چلاگیا ۔ہم شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو اپنا خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)

27 جون 2026

عاصم منیر کے قتل کی سازش؟

جو لوگ بھی اسرائیل اور اس کی خونخوار خفیہ ایجنسی موساد سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ موساد سیاسی قتل کروانے میں ماہر ہے ۔اسرائیل کی تاریخ میں ایسے درجنوں معاملے ہیں جہاں اس نے اپنے دشمنوں کے لیڈروں کو موت کی نیند سلایا ہے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔28 فروری کو جب امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا تو سب سے پہلا کام موساد نے یہ کیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ و ایران کے ٹاپ ملیٹری کمانڈروں کو مروا دیا تھا ۔یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسرائیل امریکہ کی جنگ بندی سے بہت مایوس ہے اور اس ایم او یو کو تڑوانے کی پوری کوشش کررہا ہے ۔مشرق وسطیٰ میں کئی ملکوں میں حیرت انگیز حملے ہورہے ہیں ۔یہ کون کررہا ہے پتہ نہیں چلارہا ہے ۔کچھ حیرانی نہیں ہوئی جب ایک تازہ خبر آئی کہ موساد پاکستانی ملیٹری چیف عاصم منیر اور پاکستانی نمائندہ وفد کے جینوا میں قتل کا پلان بنا رہا تھا ۔میں نے اپنے 18 جون کے اداریہ میں جس کا عنوان تھا : کاغذوں پر دستخط : زمین پر دھویں کی آخری لائن میں لکھا تھا : آخر میں اسرائیل -موساد کچھ بھی کرسکتا ہے ۔سمجھوتہ تڑوانے کے لئے ایرانی لیڈر شپ کا قتل بھی کروا سکتا ہے تاکہ جنگ بندی ٹوٹ جائے۔ میری پیشگوئی اس معنی میں کامیاب ہوئی ۔حالانکہ تھوڑا ہٹ کر یہ رہا کہ موساد ایرانی لیڈروں کو تو نشانہ پر نہیں لے پایا لیکن اس نے پاکستانی نمائندہ وفد پر نشانہ لگانے کی کوشش ضرورکی ہے ۔بتادیں کہ برازیل کے ایک سینئراور جانے مانے صحافی پے پے ایسکودار کے اس سنسنی خیز دعوے نے بین الاقوامی سطح پر تنازعہ کھڑا کر دیا ہے ایسکوبار نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے پاکستانی کے فوجی چیف جنرل عاصم منیر اور سوئزرلینڈ دورہ پر گئے پاکستانی نمائندہ وفد کے قتل کی سازش رچی تھی ۔انہوںنے دعویٰ کیا کہ یہ پلان تب فیل ہو گیا جب پاکستان کی فوج کو بے حد بھروسہ مند خفیہ جانکاری ملی تھی کہ اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی ہدایت پر موساد جنرل عاصم منیر اور پوری پاکستانی نمائندہ ٹیم کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہا ہے ۔ایسکوبار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان نے عمان کے ذریعے سے اسرائیل کو سخت سندیش بھیجا تھا اگر پاکستانی نمائندہ وفد یا جنر ل عاصم منیر کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کا سخت جواب دیاجائے گا ۔یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پاکستان ایک نیوکلیائی کفیل ملک ہے اس کا مطلب صاف تھا ان دعوؤں کے سامنے آتے ہی پاکستان نے انہیں سرے سے مستر دکر دیا ۔اے آر وائی نیوز کے چیئرمین کامران خاں نے ایک سینئر پاکستانی سیکورٹی افسر کے حوالے سے بتایا کہ یہ رپورٹ پوری طرح بکواس اور بے بنیاد ہے ۔افسر نے صاف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کا سوئزرلینڈ دورہ پوری طرح محفوظ اور بغیر کسی سیکورٹی خطرے کے پورہ ہوا قتل کی سازش کا دعوے کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور پوری طرح بناوٹی ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی ملک ایسی خبروں کی کبھی بھی تصدیق نہیں کرتا اور انہیں خیالی بتاتا ہے ۔
(انل نریندر)

25 جون 2026

مذاکرات کودیامناب 168 نام

 
سوئزرلینڈ میں اتوار کوامریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے ایرانی نمائندہ وفد کو مناب 168 نام دیا گیا ہے ۔ماننا پڑے گا نریٹیو سیٹ کرنے میں ایرانیوں کا جواب نہیں ہے ۔جیسے اپنے شہیدوں کو ناتو بھولتے ہیں اور نہ ہی دنیا کو بھولنے دیتے ہیں ۔ایران چاہتا ہے کہ پوری دنیا ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مظالم داستان دیکھیں ۔اور سنیں ۔ایرانی پریس ٹی وی کے مطابق یہ نام مناب اسکول پر امریکی اسرائیلی میزائل حملے میں ماری گئی 168 اسکولی بچیوں کے احترام میں دیاگیا ۔اس اسکول (مناب) پر 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن حملہ ہوا تھا ۔دراصل ایران پچھلے 3 ماہ سے کمپین مناب چلارہا ہے ۔اور اسے خود نشر کررہا ہے ۔ہر اسٹیج پر ایران اس کمپین کے ساتھ نظر آتا ہے ۔سوئزرلینڈر اور یہاں تک کہ فیفا ورلڈکپ فٹبال میں بھی یہ نظر آیا۔ آئیے اس کے پیچھے کی کہانی بھی جانتے ہیں ۔۔سوئزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ معاہدہ مذاکرات کرنے سے پہلے ایران نے فیصلہ لے کر پوری دنیا کو چونکادیا ہے ۔دراصل ، ایران اور سوئزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ بات چیت کو مناب 168 نام دیا گیا ہے ۔امریکہ سے بات چیت کے لئے ایران کا نمائندہ وفد اسی جہاز میں پہنچاجس پر مناب 168 لکھا تھا ۔فیفا ورلڈ کپ 2026 میں بیلجیم کے خلاف میچ کھیلنے کے لئے میدان میں اترے ایران کے فٹبال کھلاڑیوں کی جرسی پر مناب 168 لکھاتھا ۔حملے میں ماری گئیں بچیوں کے احترام میں ایران دنیا کو ان کا پیغام دینے کی کوشش کررہا ہے کہ لڑائی کے پہلے دن ہی جس طرح امریکہ اسرائیل نے انسانیت کی ساری حدیں پارکرتے ہوئے بے قصور مناب اسکول کی بچیوں کو مارڈالا اور حملے میں ماری گئی 168 اسکولی بچیوں ان کے احترام میں اورا نہیں انصاف دلانے کے لئے مناب 168 کمپین چلائی جارہی ہے ۔آئی آر جی سی کے مبینہ ٹھکانہ پر حملے کی آڑ میں میزائل گرائی گئی تھی ، لیکن میزائل گراتے وقت یہ بھی نہیں دیکھا گیا میزائل ایک بچوں کے اسکول پر جاگری ۔امریکہ اس سے انکار کرتا رہا پہلے تو اس نے کہنا شروع کردیا کہ یہ میزائل خودا یران نے غلطی سے مار دی ۔لیکن پھر امریکی میڈیا نے اس کا پردہ فاش کرتے ہوئے ثابت کیا کہ یہ میزائل امریکی میزائل لانچر سے چھوڑی گئی تھی جو بحرین ایئر بیس سے لانچ ہوئی تھی ۔ایران نےجوابی کاروائی کرتےہوئے بحرین کے اس امریکی بیس کو نشانہ بنایا ۔اور تباہ کیا ۔ایرانی نمائندہ وفد پر پہلے رائٹ میں اسلام آباد پہنچنا تھا تو جس جہاز میں وہ آئے تھے اس کی کرسیوں پر شہید ہوئی بچیوں کے اسکو ل بیگ ،کتابیں ،کھانے کے ٹفن وغیرہ رکھے تھے تاکہ ساری دنیا ہوئے اس ظلم کو دیکھ سکے ۔ایران چاہتا ہے کہ پوری دنیا ایران پر اور اسرائیل کے مظالم کی داستان سنے اوردیکھے ۔یہ دونوں دیش اپنے فائدے کے لئے کس حد تک جاسکتے ہیں ۔اس لئے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں امریکی شہر لاس انجلس نے ایران اور بیلجیئم کے بیچ ہوئے میچ کے دوران کئی ایرانی سامعین نے مناب و حملے کے مارے گئے بچیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے والی تصویریں اورجرسی لہرائیں ۔ایران کے کھلاڑی مناب 168 اسٹیکروالی جرسی پہنے نظر آئے ۔ایک حمایتی نے ایک اسٹیکر دکھایا جس پر ایک اسکولی بیگ بنا تھا اور اس پر 168 لکھا تھا ۔ہیرائٹ اینجل گئے مینا ب اسکول کے 168 بچوں کی یاد رکھیں ۔بتادیں کہ بھارت میں اپریل میں ہوئی برکس سمٹ میں بھی ایران مناب 168 لکھے جہاز میں بھارت آیا تھا ۔امریکہ سے امن بات چیت کے لئے پاکستان کے دورہ سے پہلے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر واقر غالیباف نے ایران کے میناب کا اشارہ دیتے ہوئے ایکس پر تصویریں شیئر کیں ۔جس میں مناب حملے میں ماری گئیں اسکولی بچیوں کی ہوائی جہاز کی سیٹوں پر فوٹو چپکی ہوئی تھی ۔اور وہ ان کے سامنے کھڑے ہو کر مانو کہہ رہی ہوں اس فلائٹ میں میرے ساتھی مسافر ہیں ۔
(انل نریندر)

خامنہ ای کی آخر ی رسوم کی رسمیں شروع

گزشتہ 28 فروری کو امریکی ،اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم 4 ماہ بعد جولائی سے تہر...