Translater

15 اگست 2026

بھاگ ٹرمپ بھاگ !

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ پچھلے ماہ ترکیہ میں نیٹو سمٹ سے روانہ ہوتے وقت انہوں نے چپ چاپ جیمس بانڈ اسٹائل میں جہاز بدل لیا تھا ایسا امکانی خطرے کی وجہ سے کیا گیاتھا۔ ٹرمپ نے منگلوار کو اخبارنویسوں سے بات چیت میں کہا کہ میں سیکریٹ سروس اور فوج کی بات مانتا ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں دوسرے پرواز اور دوسرے جہاز سے جاؤں ۔مجھے وہی کرنا تھاجو انہوں نے کہا ۔ٹرمپ نے یہ اعتراف کیا کہ وہ چھپ کر اپنے جہاز ایئر فورس 1 سے بھاگ کر ایک دوسرے جہاز سے نکلے ۔یہ بتانا ضروری ہے کہ چھپ کر بھاگنے سے پہلے انہوں نے نہ تو مارکو روبیو ، دیگر سینئر حکام کو جہازبدلنے کا پلان بتایا اور نہ ہی ان کے ساتھ گئے اخباروں کو۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی نظروں میں ان کی قیمت ہے ؟ خیر میں آپ کو پرانی کہانی بتاتا ہوں کہ کیا ہوا؟ ڈونلڈ ٹرمپ پچھلے ماہ ترکیہ نیٹو سمٹ میں گئے تھے ۔نیٹو سمٹ سے نکلتے وقت ایران کے امکانی خطرے کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ نے چپ چاپ طریقہ سے جہاز بدل لیا تھا ۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹیلی ویژن کیمروں کی موجودگی میں ایئر فورس 1 میں سوار ہوئے پھر انہیں چپکے سے ایک اونچے ایئر پورٹ کیٹرنگ (ٹرک میں لے جایا گیا اور ایک دیگر فوجی جہاز تک پہنچایا گیا ۔اس دوران ایئر فورس 1 جہاز میں سوار اخبار نویسوں اور وائٹ ہاؤس کے کچھ ملازمین و امریکی نائب صدر مارکو روبیو کو اس کی جانکاری تک نہیں تھی ۔حکام نے سی بی ایس نیوز و وی بی سی کو بتایا کہ امریکہ نے جہاز پر میزائل داغنے کی امریکہ کی بھروسہ مند دھمکی کا پتایا لگایا تھا حالانکہ وائٹ ہاؤس نے اس خفیہ طریقہ سے جہاز بدلنے کی تصدیق نہیں کی ۔حالانکہ بعد میں خود ٹرمپ نے اس کی تصدیق کر دی۔ آخری وقت میں جہاز بدلنے کے اس فیصلے سے سوال اٹھے ہیں۔ کیا جس جہاز کو ریپلیس کے لئے استعمال کیا گیا تھااس میں موجود لوگوں کو خطرے میں ہی چھوڑ دیا گیا تھا؟ جہاز میں سوار اخبار نویسوں اور وائٹ ہاؤس کے حکام کو پتہ تک نہیں تھا کہ امکانی ایرانی خطرے کے جواب میں ایک پلان کے تحت امریکی صدر کو وہاں سے چپ چاپ نکال لیا گیا تھا ۔ٹرمپ پہلے کہہ چکے ہیں کہ انقرا میں ہوئی سمٹ کے دوران وہ ایران کے ٹارگیٹ نمبر 1 تھے ۔ٹرمپ نے منگلوارکو کہا میرا اندازہ ہے کہ کوئی خطرہ تھا میں نے اس کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں مانگی ۔مجھے بہت ساری دھمکیاں ملتی ہیں ۔جن کے بارے میںآپ کو شاید پتہ بھی نہیں ہے ۔پچھلے ماہ بھی یہ خفیہ کاروائی تب ہوئی جب جنگ ختم کرنے کی بات چیت ٹوٹنے کے بعدا مریکہ نے ایران پر پھر سے حملے شروع کئے تھے ۔اس کے ایک دن بعد ٹرمپ نے جہاز بدلاتھا۔ٹرمپ قطر کی طرف سے دیے گئے جہاز بوئنگ 747-8سے ترکیہ پہنچے تھے ۔لیکن انہوں نے کہا کہ وہ پرانے ایئر فورس 1 سے واپس جائیں گے ۔8 جولائی کو انہوں نے کیسے ڈر کے مارے جہاز بدلا۔یہ سب نے دیکھا ہی ہے ۔اخبار کے مطابق وزیر دفاع ہیک سیتھ بھی الگ سے باہری سیڑھیوں کے ذریعے سی -32Aمیں سوار ہوئے تھے اُدھر ایئر فورس 1 پر بیٹھے اخبار نویسوں سے کہا گیا کہ وہ کھڑکیوں کے پردے میں بند رکھیں ۔شاید اس لئے کہ وہ باہر کا منظر نہ دیکھ سکیں ۔وہ یہ نہ دیکھ سکیں کہ صدر ٹرمپ جہاز کے خفیہ دروازے سے جہاز چھوڑ چکے ہیں اس لئے کہا بھاگ ٹرمپ بھاگ ۔
(انل نریندر)

13 اگست 2026

ہرمز میں امریکی جہازوں کی تعیناتی

امریکہ نے ایران پر دبا ؤ بڑھاتے ہوئے مڈل ایسٹ میں 20 سے زیادہ جنگی بیڑے تعینات کر دیے ہیں اور ہرمز جل ڈروم سنٹرل میں ناکہ بندی سخت کر دی ہے ۔ایران نے آبی راستے کو کھولنے کے لئے معاوضہ ،پانبدی ہٹانے اور ناکہ بندی ختم کرنے جیسی شرطیں رکھی ہیں ۔عمان کے ساتھ امکانی معاہدہ آخری مرحلے میں ہے ، لیکن دونوں دیشوں کے بیچ کشیدگی ابھی بھی انتہا بنی ہوئی ہے ۔امریکہ نے مڈل ایسٹ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھاتے ہوئے 20 سے زیادہ جنگی بیڑے تعینات کر دیے ہیں ۔یہ قدم ایران پر ناکابندی کو سختی سے لاگو کرنے میں ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ اٹھایاگیا ہے ، جہاں کچے تیل سپلائی کی سب سے اہم لائن گزرتی ہے ۔امریکی سنٹرل کمانڈ ،سیٹکام ) نے پیر کے روز ایکس پر لوڈ کئے ایک پوسٹ میں بتایا کہ یہ جنگی بیڑا سیدھے طور پر ایران کے خلاف لگائے گئے بلاکڈ کو لاگو کرنے کے مشن میں لگے ہوئے ہیں ۔تعینات جہازوں میں امریکی بحریہ کا ڈیسٹ ٹو ڈائر یو ایس ایس راس بھی شامل ہے ۔جس کے ذریعے سعودی نگرانی اور انٹرویشن آپریشن چل رہے ہیں ۔سیٹکام نے اسی کی تصویر شیئر کی تھی ۔سنٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ 9 اگست تک 55 کمرشیل جہازوں کو راستہ بدلنے پر مجبور کیا گیا تھا ۔دو جہازوں کو روکا گیا اور اس پر چڑھ کر جانچ کی گئی یہ صاف اشارہ ہے کہ امریکہ صرف وارننگ نہیں دے رہا ہے بلکہ سیدھے سمندر میں اپنا کنٹرو ل کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔اُدھر ایران امریکی جنگ میں سب سے بڑی لیکن نظر انداز یان بیج ٹریجڈیوں میں سے ایک سمندر کے بیچ پھنسے ہزاروں ملاح ہیں ۔اقوام متحدہ کی سمندری ایجنسی(آئی ایم او) کے مطابق قریب 6 ہزار ملاح اب بھی خلیج میں جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں کئی ملاح تو 4 ماہ سے گھر بھی نہیں لوٹ پائے ہیں ۔میں یو ایس ابراہم لنکن کے بارے میں ایک ایسی رپورٹ پڑھ رہا تھا اس میں بتایا گیا تھا کہ پچھلے تقریباً 200 دنوں سے زیادہ عرصہ سے یہ سمندری جہاز سمندر میں ہے جہاز کے اندر اب کھانے کی قلت ہو گئی ہے ۔دوائیں کم پڑ گئی ہیں ۔ٹوائلٹ خراب ہو چکے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔جہاز کے ڈاکٹر اب کہنے لگے ہیں کہ اگر جلد یہ فوجی گھر نہیں لوٹے تو راستے میں ہی کئی ذہنی اذیت کے شکار ہو جائیں گے ۔ویسے بھی دیکھاجائے جب لنکن جہاز میں ایسی خوفناک صورتحال بنی ہوئی ہے تواس پر تعینات تقریباً پانچ ہزار فوجی جنگ کیسے لڑیں گے ؟ کئی ملاحوں کا باہری رابطہ تقریباً ٹوٹ چکا ہے ۔انہیں ہر کچھ دن میں صرف تیس منٹ انٹرنیٹ ملتا ہے ۔کچھ جہازوں پر محدود راشن ہونے سے ملاح دن میں صرف ایک بار چاول اور دال کھا رہے ہیں ۔لگاتار میزائل اورڈرون حملے کے خوف میں نیند بھی پوری طرح نہیں لے پارہے ہیں ۔کئی لوگ اس تیاری کے ساتھ سوتے ہیں کہ حملہ ہوتے ہی بھاگ سکیں ۔ماہرین کے مطابق ملاح جہاز کو نہیں چھوڑ سکتے ۔محفوظ اخراج بے حد مشکل ہے اورکئی ملاح قلیل المدتی معاہدے پر کام کررہے ہیں ۔انہیں ڈر ہے کہ اگر وہ خطرناک ڈیوٹی چھوڑنے کی مانگ کرتے ہیں تو انہیں دوبارہ نوکری نہیں ملے گی ۔جنگ کے بیچ پھنسے ملاحوں کی ذہنی صحت اور نیند اور اقتصادی حالت پر بھی برا اثر پڑا ہے ۔جنگ کی شروعات میں 36 سے 38 ہندوستانی جہازوں پر 100 ہندوستانی ملاح ہرمز کے آس پاس پھنس گئے تھے ۔بعد میں زیادہ تر جہاز نکل گئے ۔ذرائع کے مطابق 125 ہندوستانی ملاح ابھی بھی ہندوستانی جہازوں پر خلیج فارس میں موجود ہیں ۔
(انل نریندر)

11 اگست 2026

اور اب اسلامی نیٹو!

حال ہی میں پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط ہوئے ہیں جس کے تحت اگر تینوں میں سے کسی ایک دیش پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں پر حملہ ماناجائے گا ۔اس معاہدے کا مقصد ڈیفنس اشتراک بڑھانا ،جوائنٹ سیکورٹی حکمت عملی بنانا اور خطہ میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ اجتماعی طاقت دکھانا ہے ۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ اتحاد مغربی ایشیا میں بدلتے حالات ،خاص طور پر ایران ،امریکہ اور اسرائیل کے مابین بڑھتے ٹکراؤ کے درمیان ایک نئے پاور بلاک کی شکل میں ابھر سکتا ہے ۔اسلامی نیٹو مسلم اکثریتی ملکوں کے بیچ ایک مجوزہ یا غیر خانہ پوری فوجی اتحاد کو دیا نام ہے جس کا موازنہ مغربی ممالک کی فوجی انجمن نیٹو سے کیاجاتا ہے ۔ اس معاہدے کے پیچھے اہم رول سعودی عرب کا ہے ۔وہ ایک طرف ایران کے حملوں سے پرشان ہے اور دوسری طرف یمن کے حوثیوں کا تعلق زبردست لڑائی چھڑنے سے ہے ۔ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں خلیجی سیکٹر میں جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے اور لڑائی کو پورے خلیجی خطہ میں پھیلنے کے اندیشات نے سعودی عرب کی حفاظتی تشویشات بڑھا دی ہیں ۔دہائیوں تک ریاض اپنی حفاظت کے لئے خاص طور سے امریکہ پر منحصر تھا لیکن 28 فروری کے بعداس نے دیکھ لیا کہ امریکہ تو اپنے حفاظتی اڈوں کو بھی بچا نہیں پارہا ہے وہ سعودی عرب کو کیسے بچائے گا ۔رہا سوال پاکستان کا تو سعودی عرب کا پہلے سے ہی پاکستان سے دفاعی معاہدہ ہوا ہوا ہے ۔لیکن کیا پاکستان سعودی عرب کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون سے بچا سکا ؟ کیا پاکستان سعودی عرب پر حملہ ہونے پر ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟ یہ سب ڈرامہ بنا ہوا ہے ۔رہا سوال اسرائیل اور امریکہ کا تو اسرائیل اس معاہدے کی جم کر مخالفت کررہا ہے اور اسے اپنے لئے خطرہ مانتا ہے ۔ سوال یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ اسرائیل سعودی یا ترکیہ پر حملہ کرتا ہے تو کیا پاک فوجی چیف جنرل عاصم منیر میں اتنی ہمت ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف جاکر اسرائیل پر حملہ کرے ؟ یہ صرف پیسے اینٹھنے کا کھیل ہے ۔پھکڑ ہوا پاکستان کہیں سے بھی بھیک مانگنے کو تیار ہے ۔اور اس کے عوض میں جو چاہے وعدہ کروا لو ؟ رہا سوال ایران کا تو صدر مسعود پزشکیا ن نے مسلم اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ سنی کو ساتھ رہنا چاہیے ۔پزشکیا ن نے کہا امریکہ اور اسرائیل مل کر خلیج فارس کے دیشوں کو ایران کے خلاف کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔قابل غور بات یہ ہے سعودی ،ترکیہ اور پاکستان تینوں ہی ملک سنی اکثریتی ہیں ۔وہیں ایران شیعہ ملک ہے رہا یہ بھارت کے لئے تشویش کی بات ہے ؟ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس ڈیفنس معاہدے کا بھارت پر سیدھے طور پر کوئی اثر نہیں ہوگا ۔ایسا اس لئے کیوں کہ سعودی عرب پہلے بھی کہتا رہا ہے کہ پاکستان ہمارا اہم ترین حکمت عملی ساجھیدار ہے لیکن کبھی اس نے بھارت سے جنگ کے موقع پر ساتھ نہیں دیا ۔ جہاں تک ترکیہ کا سوا ل ہے وہ تو آپریشن سندھور میں بھی کھلے عام پاکستان کے ساتھ تھا اور آگے بھی رہے گا ۔بھارت کے لئے تشویش کی بات نہیں ہے کیوںکہ بھارت ڈیفنس صلاحیت میں تینوں ملکوں سے آگے ہے ۔
(انل نریندر)

08 اگست 2026

کیا پاکستان اندر سے ٹوٹ رہا ہے ؟



پاکستان اس وقت سنگین اندرونی جدوجہد ،سیاسی عدم استحکام اور صوبوں میں مسلح بغاوت جیسی سنگین اندرونی چنوتیوں سے لڑرہا ہے ۔فوج کے بڑھتے دخل ، اقتصادی بحران اور دہشت گردوں کے تابڑتوڑ حملوں کے سبب دیش کے اندر خانہ جنگی جیسے حالات بنے ہوئے ہیں ۔پاکستان کے 4 صوبے ہیں ان میں سے بلوچستان صوبہ میں علیحدگی پسند بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) نے بغاوت کا جھنڈا بلند کیا ہوا ہے ۔خیبر پختونخواہ صوبہ میں افغان طالبان کا دبدبہ بڑھتا جارہا ہے ۔آئے دن طالبان کے حملوں سے یہاں پاک فوج کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں ۔پی او کے میں پاکستانی فوج کی بربریت پر بغاوت کی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔چلیے تفصیل سے ساری صورتحال کو بتاتے ہیں ۔بلوچستان پاک کا سب سے بڑا پھیلا ہوا تقریباً 45 فیصدی سب سے بڑا خطہ ہے ۔ایران سے اس کی سرحد لگتی ہے ۔بلوچستان کے بی ایل اے لڑاکے الگ دیش کی مانگ کررہے ہیں ۔حالت یہ ہے بلوچ لڑاکوں اور پستو (پٹھان ) باغیوں کا بلوچستان صوبہ میں تقریباً 70 فیصد حصے میں قبضہ ہوچکا ہے ۔اصلی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی سرکار پولیس اسٹیشن کھلا رخ رکھ سکتی ہے۔ سارے صوبہ پر ٹریفک چلاسکتی ہے بازار اور کاروبار بحال رکھ سکتی ہے اور لوگوں کو بغیر ڈر کے سفر کرنے کی سیکورٹی دے سکتی ہے ؟ خیبر پختونخواہ پاکستان کا سرحدی علاقہ ہے ۔ڈورنٹ لائن پاک اور افغانستان کو الگ کرتی ہے ۔ افغانستان میں طالبان سرکار کے پانچ سال میں خیبر کے زیادہ تر علاقہ میں انہیں کا دبدبہ ہے ۔خیبر میں پاک سرکار کا قانون نہیں بلکہ طالبان کا شرعی قانون چلتا ہے ۔دراصل اس علاقہ میں تقسیم کے وقت سے ہی قبائلی نظام لاگو رہا ہے ۔سوات اور سیدو چنگورا اور مردن میں لویا جرگا کے ذریعے قانون چلتا ہے ۔یہ جرگا اصل میں شرعیہ قانون کو لاگو کرتی ہے ۔افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) تنظیم کو اپنے اڈوں میں پناہ دیتا ہے ۔عمران خان کی سرکار نے 2021 میں ٹی ٹی پی کے ساتھ صلح کی کوشش کی لیکن عمران کی گدی جاتے ہی ٹی ٹی پی نے خیبر میں اپنےدبدبہ کواور بڑھا لیا ۔خیبر کے وزیرستان میں پاکستان فوج کئی فوجی کاروائیاں کر چکی ہے ۔لیکن یہاں ابھری ٹی ٹی پی قابض ہے ۔آئے دن ٹی ٹی پی کے حملوں کے سبب اسکول اور کالج بند رہتے ہیں ۔پنجاب اور سندھ کے اصل باشندے نگراں خیسر میں اپنی پوسٹنگ نہیں چاہتے ۔پاکستان کے قبضہ والے کشمیر (پی او کے) اور دیگر علاقوں میں کچلنے والی پالیسیوں اور اختیارات کی عدولی کو لے کر جنتا میں بھاری ناراضگی اور زبردست مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔بڑی تعداد میں مظاہرین مارے جا چکے ہیں ۔اگر ہم سیاسی پش منظر کی بات کریں تو سرکار فوج کےبیچ اقتدار کے تجزیوں اور حالیہ آئینی ترامیم کو لے کر عدلیہ اور سیاسی گلیاروں میں تلخ کھینچ تان اور بغاوت کا ماحول ہے ۔کل ملا کر پاکستان کے اندرونی حالات بہت خراب ہو رہے ہیں ۔اگر یہی صورتحال رہی تو پاکستان کے کئی ٹکڑوں میں بٹنے کے امکان سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔
(انل نریندر)

06 اگست 2026

پھر پلٹے ٹرمپ : ایران میں ذہنی جنگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کی دھمکی کےبعد ایک بار پھر پلٹ گئے ہیں ۔ٹرمپ کی یہ تو پلٹنے کی عادت بن گئی ہے ۔یہ4تھی مرتبہ بار ہے جب ٹرمپ دھمکی دے کر پلٹے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اب ان کی دھمکی کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔ان کا کھلے عام مذاق اڑایاجاتا ہے ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مغربی ایشیا کے ساتھی ملکوں نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کے لئے ایک معاہدے کی شکل میں لائن پر رضامندی بنا لی ہے۔ فی الحال وہ پانچ ماہ سے جاری اس لڑائی میں ایران پر نئے فوجی حملے کا حکم نہیں دیں گے ۔اُدھر ،ایران نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو ذہنی جنگ بتایا ہے۔ ٹرمپ نے سنیچر کو کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں ہرمز جل ڈروم وسط کو فوراً پوری طرح کھولنا و اس کے نیوکلائی خطرے کا خاتمہ شامل ہوگا ۔کہاں اس درخواست کی بنیاد پر میں نے مستقبل کے مفاد میں حملوں کو روکنے کی رضامندی دی تھی بشرطیکہ جلد ہی کوئی سمجھوتہ ہو سکے ۔ٹرمپ نے سمجھوتے میں اسرائیل کی رضامندی کی بات بھی کہی ہے ۔کیا ٹرمپ ایران پر نیوکلیائی حملہ کرنے کے بارےمیں سوچ رہا ہے ؟ جب ٹرمپ یہ کہتے ہیں کہ میں نے دنیا کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے سے بچنے کے لئے فی الحال ایران پر حملے کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نکالیں کہ ٹرمپ ایران پر ایٹم بم مارنے کی سوچ رہے ہیں ؟ ویسے بھی ٹرمپ اتنی بار اپنے بیانوں سے پلٹے ہیں کہ اب انہیں شایدہی کوئی سنجیدگی سے لیتا ہو؟ ایران نے ٹرمپ کے حملے ٹالنے کے فیصلے کا مذاق بھی اڑایا ہے ۔ایرانی میڈیا نے ٹرمپ کے دعووں کو جھوٹ بتاتے ہوئے لکھا کہ تہران میں کبھی حملے روکنے کی اپیل نہیں کی ۔ایرانی میڈیا نے ٹرمپ کے دعوؤں کو جھوٹا بتاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی میزائلوں کی کمی اور بڑھتے دباؤ کے سبب ٹرمپ پیچھے ہٹے ہیں ۔ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا امریکہ نے اپنی کمزور ی چھپانے کے لئے پوری کہانی گھڑی ہے ۔ٹرمپ کی ہوا ایک بار پھر ایران نے نکال دی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں پہلے بھی ٹرمپ دھمکی دے کر اپنے قدم پیچھے کر چکے ہیں ۔ایران کی مرف سرکاری نیوز ایجنسی فارم نے ٹرمپ پر طنز کرتے ہوئے لکھا کے بے وقوف ٹرمپ کی ساری ہوا نکل گئی ہے ۔وہیں مہر نیوز ایجنسی نے کہا کہ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی کھوکھلی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ کر اسے دنیا کے سامنے احسان کی طرح پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ایجنسی مہر نے فوجی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج پوری طرح چوکس ہے اور کسی بھی صورتحال کا جواب دینے کےلئے تیار ہے ۔ایجنسی نے ٹرمپ کے دعوؤں کو ایک اور جھوٹ بتایا ۔ایران نے امریکہ کو ایک بار پھر وارننگ دی ہے ایران نے کہا کہ اگر امریکی فوج نے ایرانی ٹھکانوں پر نئے حملے کئے تو وہ اس کا زوردار جواب دےگا اس سے پورے مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ جائے گی ۔یہ وارننگ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد آئی ہے ، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ تہران کے ساتھ بات چیت سے ان کا بھروسہ کم ہورہا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ ان پر حملہ کرے گا ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے فوجی چیف عاصم منیر وترکیہ کے وزیر خارجہ حکن فدان اور سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان کے ساتھ الگ الگ فون پر بات چیت کے ذریعے اس کی جانکاری دی ۔ٹرمپ ایک بار پھر پلٹ گئے ۔
(انل نریندر)

04 اگست 2026

امریکہ میں 7 جگہ حملے کس نے کئے ؟

امریکہ کے 7 ریاستوں میں ایک کے بعد ایک زبردست اٹیک ہوئے ہیں یہ حملے سیدھے اس لائف لائن پر ہوئے ہیں ،جس کی درد سے عام جنتا کراہ اٹھی ۔اس حملے کے بعد ٹرمپ کا ایسا حال ہو گیا ہے کہ وہ ایران کا نام بھی نہیں لے پارہے ہیں ۔ٹرمپ الٹے اپنے ہی لوگوں کو بدنام کرنے میں لگ گئے ہیں ۔لیکن اپنے سب سے بڑے دشمن کی چالاکی دنیا کے سامنے یہ قبول نہیں کر پارہے ہیں ۔ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکہ میں اچانک کچھ ایسا ہوگیا ہے جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے پسینے چھڑا دیے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے طاقتور ملک کی چھاتی پر ایک نہیں دو بلکہ ایک کے بعد ایک پورے سات بڑے حملے ہوئے ہیں ۔یہ حملے کسی عام جگہ نہیں ہوئے بلکہ سیدھے امریکی عوام کی لائف لائن پر ہوئے ہیں ۔شبہ ہے کہ اس پورے کھیل کے پیچھے امریکہ کا سب سے بڑا دشمن ایران ہی ہے ۔لیکن ٹرمپ کھلے عام اس کا نام لے رہے ہیں ۔اگر ٹرمپ نے دنیا کے سامنے یہ مان لیا کہ حملہ ایران نے ہی کیا ہے تو ثابت ہو جائے گا کہ تکنیکی معاملے میں وہ امریکہ سے آگے نکل چکا ہے ۔دراصل یہ حملے امریکہ کی پانی سپلائی کرنے والی سب سے اہم پائپ لائن اور پلانٹس پر ہوئے ہیں ۔اس سرکاری انفراسٹرکچر پر سات جگہ سے سائبر اٹیک کئے گئے ۔حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کئی ریاستوں میں پانی سسٹم کو بچانے کے لئے ڈومیٹک سسٹم بند کرکے ہاتھوں سے کام سنبھالنا پڑا۔ اب اس پورے کھیل میں سب سے بڑا جھٹکا امریکی سیاست اور ڈونلڈ ٹرمپ کو لگا ہے ۔کیوں کہ جب دنیا کی نظریں ایران پر ٹکی رہی ہیں تب ٹرمپ سیدھے طور پر ایران کا نام لینے سے بچ رہے ہیں۔ اس بڑے سنسنی خیز سائبر حملے کی پہلی منیسوٹا اسٹیٹ سے لگی 26 اور 27 جولائی کے درمیان یہاں سے 30 سے زیادہ کمیونٹی واٹر سسٹم کو ہیکرس نے اپنا نشانہ بنایا ۔منے سوٹا آئی ٹی سروس نے جب آناً فاناً میں جانچ شروع کی تو پتہ چلا کہ کسی نے جان بوجھ کر پانی کی سپلائی لائن کنٹرو ل کرنے والے سسٹم کا ایکسس ہتھیا لیا تھا ۔ترجمان ایملی نیمر کا کہنا تھا کہ معاملے کی جانچ بہت تیزی سے چل رہی ہے ۔جس طریقہ سے اس معاملے کو انجام دیا گیا وہ ٹھیک ویسا ہی ہے جیسا ہمارے فیڈرل پوٹرلس نے پہلے کریٹیبل انفراسٹرکچر پر ہوئے حملوں میں دیکھا تھا ۔ہیکرس نے بہت ہی چالاکی سے پانی کے پلانٹس میں لگے پروگرام ویل لیکج کنٹرولرس کو اپنا شکا ر بنایا ۔امریکہ کی جانچ ایجنسیاں مان رہی ہیں کہ اس حملے کا پیٹرن ایران کے پرانے سائبر حملوں سے کافی ملتا جلتا ہے لیکن سب سے بڑا ڈرامہ تب شروع ہوا جب صدر ڈونلڈ  ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ۔ٹرمپ نے اس خوفناک حملے کا قصور سیدھے ایران پر ڈالنے کے بجائے اپنے ہی سسٹم پر پھوڑ دیا ۔کابینہ میٹنگ کے دوران ٹرمپ نے ایران کا بچاؤ کرتے جیسا بیان دیا اور کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ منیسوٹا کے 30 واٹر پلانٹس پر جو حملہ اس کے پیچھے ایران ہے ۔مجھے ایسا بالکل نہیں لگتا میں اس کے لئے منیسوٹا کے ناکام انتظامیہ اور وہاں کے کرپٹ گورنر کو ذمہ دار مانتاہوں ۔ایران کے پاس منیسوٹا کےبارے میں سوچنے سے بہت بڑے اشوہیں ۔ٹرمپ کے اس رویہ سے ہر کوئی حیران ہے ۔جہاں ایکسپرٹرس اسے سیدھے طور پر ایران سے جوڑ رہے ہیں وہی ٹرمپ ایران کا نام لینے سے کترا رہے ہیں ۔اور اپنے ہی حکام کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں اس پر منیسوٹا کے گورنر نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو اچھی طرح پتہ ہے کہ حملہ آور کون ہے وہ سچائی سے بھاگ رہے ہیں ۔
(انل نریندر)

01 اگست 2026

اور اب ایران بنام یوکرین

مغربی ایشیا کی دو بڑی لڑائیاں اب ایک دوسرے سے وابستہ دکھائی دے رہی ہیں ۔ایک طرف پچھلے کئی ماہ سے امریکہ ایران کے درمیان کشیدگی اور فوجی کاروائی چل رہی ہے وہیں اب دوسری طرف روس اور یوکرین کے درمیان جنگ پانچویں برس میں داخل ہو چکی ہے ۔اب ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے ان دونوں لڑائیوں کو آپس میں جوڑدیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر نئی تشویشات پیدا کر دی ہیں ۔تازہ تنازعہ کیسپیئر ساگر میں ایک ایرانی جہاز پر ہوئے حملے سے شروع ہو ا ۔یوکرین پر الزام ہے کہ اس نے کیپسین ساگر میں ایک ایرانی کمرشیل جہاز کو نشانہ بنایا ۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز روس اور ایران کے درمیان ہتھیاروں اور فوجی سامان کی سپلائی میں استعمال کیاجارہا تھا اسی وجہ سے اس جہاز پر حملہ کیا گیا ۔اس واقعہ کے بعد ایران نے سخت ناراضگی جتائی ہے۔ ایران کی راجدھانی تہران میں یوکرین کے سفیر کو طلب کیا اور سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ دے ڈالی ۔ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے یوروپی فیڈریشن کی خارجہ پالیسی چین کیلس سے بات کی اور اس حملے کے خلاف اپنی ناراضگی جتائی ۔انہوں نے یوکرین کے خلاف سخت کاروائی کی بھی مانگ کی ۔کیسپین ساگر میں کسی جہاز پر اس طرح کا حملہ پہلی بار ہوا ہے۔ کیسپین ساگر ایک ایسا سمندری خطہ ہے جو چاروں طرف سے زمین سے گھرا ہوا ہے ۔اس کے نارتھ ویسٹ میں روس اور ساؤتھ میں ایران ، مشرق میں قزاکستان اور ترکمانستان و مغرب میں آذر بائیجان واقع ہے ۔یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد روس اورایران کے رشتے اور مضبوط ہوئے ہیں ۔دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ،تکنیکی اشتراک اور ڈیفنس سیکٹر میں رابطہ بڑھا ہے ۔اسی وجہ سے لمبے عرصے سے یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ کیسپین ساگر کے راستے روس اور ایران کے درمیان فوجی سامان کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ۔حالانکہ اس بارے میں کبھی کھلے طور سے کوئی صاف تسلیم نہیں کی گئی ۔ایران کا کہنا ہے کہ جس جہاز پر حملہ ہوا وہ ایک جنرل کمرشیل جہاز تھا ۔ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں ایک ملاح کی موت ہو گئی جبکہ ایک دیگر ملاح زخمی ہوگیا تھا ۔حملے کے بعد صدر زیلنسکی نے شوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جہاز روس اور ایران کے درمیان فوجی سامان پہنچانے کا کام کررہا تھا ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس لمبے عرصہ سے ایران کی طر ف سے دستیاب کرائے گئے شہید نامی ڈرون کا استعمال یوکرین کے خلاف کررہا تھا ۔لڑائی کے آغاز کے مرحلے میں روس نے بڑی تعداد میں ایرانی ڈرون کا استعمال کیا تھا ۔جس سے اسے جنگ میں بڑھت حاصل کرنے میں مدد ملی تھی ۔زیلنسکی نے صرف جہاز پر حملے کا بچاؤ ہی نہیں کیا بلکہ اس پر ایک اور سنگین الزام بھی لگا دیا انہوں نے دعویٰ کیاکہ روس نے ایران کو خلیج خطہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ تصویریں اور خفیہ جانکاری دستیاب کرائی ہے ۔ان کے مطابق ماہ جولائی میں روسی سیٹلائٹ بحرین ،جارڈن اور کویت میں قائم امریکی فوجی ٹھکانوں کی نگرانی کررہے ہیں ۔زیلنسکی کا الزام ہے کہ ایران کے ذریعے امریکی اڈوں پر کئے گئے کچھ پختہ حملوں کے پیچھے بھی روس کی طرف سے دی گئی خفیہ جانکاری کا رول ہوسکتا ہے ۔یوکرین برائے نام ہے کہ اسے صرف یوکرین نے اس میں صرف روس صرف یوکرین میں جنگ نہیں لڑرہا ہے بلکہ پورے خطہ میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کررہا ہے ۔
انل نریندر

بھاگ ٹرمپ بھاگ !

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ پچھلے ماہ ترکیہ میں نیٹو سمٹ سے روانہ ہوتے وقت انہوں نے چپ چاپ جیمس بانڈ اسٹائل میں جہاز بدل لیا تھا...