Translater

02 جولائی 2026

ٹرمپ اور میلونی کے بیچ بگڑتے رشتے !

اٹیلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی سے وابستہ کئی پوسٹ سوشل میڈیا پر گشت کررہے ہیں ۔ان میں سے کچھ میں تو ایسا دکھایا گیا ہے جیسے وہ کسی بریک اپ کے بعد اپنی زندگی بدلنے کی کوشش کررہی ہوں ۔ایک اے آئی فوٹو میں انہیں نئے ہمسفر کے ساتھ دکھایا گیا ہے ۔ایک دوسری تصویر میں انہیں سنگل ہولی ڈے بُچ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔یہ ساری تصویریں اصلی نہیں ہیں لیکن ان کا مذاق اس لئے بنایا جاریا ہے کیونکہ میلونی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کھلے طور پر تنازعہ اب سامنے آرہا ہے ۔پچھلے کچھ ماہ میں ٹرمپ اور میلونی کا رشتہ کبھی کھلے حملوں تک کیا گیا ۔کبھی نجی طعنے کسے گئے اور پھر یا تو یہ ٹھیک ہوا لیکن اس اتھل پتھل کی وجہ سے سب سے پاپولر سیاست سیاسی دوستی ٹھنڈی پڑ گئی ۔کچھ وقت پہلے تک لوگ میلونی کوٹرمپ وسپرر کہتے تھے ۔اس کی بانگی جنوری 2025 میں دیکھنے کو ملی جب ٹرمپ کی حلف برداری تقریب میں انہیں سب سے آگے بیٹھے کی جگہ ملی ۔تقریب میں یہ اہم جگہ پانے والی وہ اکیلی یوروپی لیڈر تھیں ۔پچھلی اپریل میں میلونی وائٹ ہاؤس گئی تھیں وہاں وہ اس مقصد کے لئے گئی تھیں تاکہ یوروپی سامان پر لگی امریکی ٹریڈ ٹیرف کو لے کر کشیدگی کم ہو لیکن ٹرمپ کی جیسی عادت ہے ، ان کی بے یقینی میلونی کے لئے مشکل بھری ثابت ہوئی اور ان کی ساکھ کو ملک و بیرون ملک دونوں جگہوں پر چوٹ پہنچی ہے ۔ٹرمپ اور میلونی میں پہلی بڑی درار مارچ کے آخر میں سامنے آئی ۔اٹلی کے وزار ت دفاع نے امریکی فوجی جہازوں کو سسلی کے سنگولنیلا نیٹو ایئر بیس استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ اس کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے ۔اٹلی نے یہ قدم اس لئے اٹھایا کیوں کہ ان کاقانون اور عوام دونوں ہی ایران جنگ کے خلاف تھے ۔یہ ٹکراؤ اور بڑھ گیا اپریل میں ٹرمپ نے ٹوٹھ شوشل پر پوپ لیو مداف پر حملہ بول دیا کیوں کہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ کی تلخ نکتہ چینی کی تھی ۔ٹرمپ نے انہیں کمزور بتایا ۔دنیا کے دیش کی لیڈر میلونی نے ٹرمپ کے بیان کو نامنظور والاقرار دیا ۔میلونی کے سخت رد عمل ٹرمپ کو راس نہیں آیا اور انہوں نے اٹلی کے اخبار کوریٹا ڈیلا میرا سے کہا کہ میں ہوں مجھے لگا تھا کہ ان میں ہی ہمت ہے لیکن میں غلط تھا وہ اب پہلے جیسی نہیں رہیں اور اٹلی بھی پہلے جیسا دیش نہیں رہا ۔فرانس میں جی -7 سمٹ میں ٹرمپ اور میلونی کو بات چیت کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا دونوں دیشوں کے حکام نے اس بات چیت کو مثبت اور ایک عام معمولاتی بتایا لیکن کچھ ہی دن بعد ٹرمپ نے اٹلی کے چینل کو کہا کہ میلونی نے سمٹ میں ان سے فوٹو کچوانے کے لئے منت کی تھی ۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ میرے ساتھ تصویریں چاہتی تھی ۔میں نہیں لیتا لیکن مجھے ان پر ترس آگیا ۔میلونی نے فوراً جواب دیا کہ انہوں نے ویڈیو جاری کر ٹرمپ کی بات کو پوری طرح من گھڑت بتایا انہوں نے بتایا کہ مجھے نہیں پتہ کہ امریکہ کے صدر اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایسا کیوں رویہ اپناتے ہیں ؟ میں بس اتنا کہہ سکتی ہوں کہ افسوس ہے اور وہ ایک مغرب کے دشمنوں کے خلاف ایسی مضبوطی نہیں دکھاتے لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے نا میں اور نہ ہی اٹلی کسی کی منت کرتا ہے اس کے فوراً بعد اٹلی کے وزیرخارجہ اسٹونیا لایانی نے اپنا مجوزہ امریکی دورہ منسوخ کر دیا اور اٹلی کے صدر سرجیومیٹرولانے میلونی کو فون کر ان کی حمایت کی ۔سرکار کے ساتھیوں اور ممبران پارلیمنٹ بھی ٹرمپ کے تبصروں کو توہین آمیز بتایا ۔اور معافی کی مانگ کی ۔اپوزیشن نے اسے پورےدیش کی بے عزتی کہا دوسری طرف ٹرمپ نے پھر دہرایا کہ میلونی نے بار بار تصویر کھچوانے کی مانگ کی تھی ۔میلونی پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ اب دوبار ہ میزبان بننے کی کوشش کررہی ہیں کیوں کہ امریکہ نے ایران کو فوجی نظریہ سے ہرا دیا ہے ۔جیسے ہی یہ تنازعہ ٹھنڈا پڑتا نظر آیا تو فوجی اڈوں کو لے کر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ یہ تنازعہ ایران جنگ میں آپریشن کیوری کے دوران اٹلی کے امریکی ایئربیس کو لے کر اٹھا ۔نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے نے بتایا کہ تقریباً 500 جنگی جہاز اٹلی میں امریکہ کے ٹھکانوں سے آپریشن ایپک کیوری میں اڑان بھری ۔لیکن اٹلی کو یہ بات اچھی نہیں لگی اور اس کے وزار دفاع نے اسے غلط اور گمراہ کن بتایا ۔مزیدار بات یہ بھی ہے کہ دونوں ٹرمپ اور میلونی کو جلد ہی اپنے دیش میں چناؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔اٹلی میں عام چناؤ ہونے ہیں تو امریکہ میں بھی مڈ ٹرم چناؤ ہیں دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور اٹلی کے رشتے سدھرتے ہیں یا اور بگڑتے ہیں؟
(انل نریندر)

30 جون 2026

الوداع آیت اللہ علی خامنہ ای !

28 فروری اس سال امریکہ اسرائیل کی جانب سے کئے گئے حملے میں ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے ۔انہوں نے کسی بنکر میں چھپنے کے بجائے اپنے دفتر میں ہی رہ کر شہید ہونا منظور کیا تاکہ ان کی قوم دشمنوں سے لوہا لے سکے ۔ان کی شہادت ہر وطن پرست کے لئے راہ عمل بنے ۔یہی ہوا ایت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایران کی عوام میں ایک ایسا جذبہ پیدا کیا اس نے دنیا کے سب سے طاقتور دیش امریکہ کو آخر کار :جھکنے پر مجبور کر دیا ۔ایران سے اب خبر آئی ہے کہ ان کی وفات نے 3 ماہ بعد ان کی آخری رسوم کی جائیں گی ۔یعنی 3 ماہ بعد سپرد خاک ہوں گے خامنہ ای ۔سرکار نے تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے ۔اور دیش کے کئی شہروں میں ان کا تعزیتی جلوس نکالاجائے گا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسوم کے لئے 3 دن کا پروگرام طے 4 جولائی ہوا ہے ۔تہران قوم اور مشہد میں ہونے والی اس تدفین میں دو کروڑ لوگوں کے آنے کی امید ہے ۔ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر بنایا گیا ہے ۔یہ پہلی بار ہوگا جب 28 فروری کے حملے کے بعد آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای عوام کے درمیان نظر آئیں گے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق راجدھانی تہران قوم اور مشہد میں بڑے پبلک پروگرام ہوں گے ۔اکیلئے تہران میں خاص پروگرام 24 گھنٹے چلے گا۔ انتظامیہ کے مطابق دو کروڑ لوگوں کو سنبھالنے وحفاظت کو لے کر تیاریاں کی جارہی ہیں ۔یہ اعلان خامنہ ای کی موت کے کئی دنوں بعد ہوا ۔اسلامی روایت کے مطابق دفنانے کا کام فوراً ہونا چاہیے تھا لیکن جنگ کے سبب اور حفاظت کی وجہ سے اسے ٹالنا پڑا۔آیت اللہ علی خامنہ ای 86 سال کے تھے ۔28 فروری کے حملے میں وہ شہید ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی ایران پر ان کا 30 سال سے زیادہ پرانی حکومت ختم ہو گئی ۔وہ دیش کے سب سے طاقتور اور باعزم لیڈر تھے ۔وحکمت عملی ساز بھی تھے ۔آیت اللہ خامنہ ای بھارت کے دوست بھی تھے اور ان کے نظریات کے بہت بڑے پرستار تھے ۔ان کے بیچ کا خاص طور پر تاریخی رہا ہے ۔سورگیہ پنڈت جواہر لال نہرو کی کتاب اور اس پر تبصرہ پر نظریہ خامنہ ای نے نہرو کے ذریعے لکھی سوانح حیات یا ول میسج گلمس پیسج آف ورلڈ اس کی کھل کر تعریف کی ۔انہوں نے اپنی تقریروں میں اکثر اس بات کا ذکر کیا کہ کیسے نہرو نے اپنی کتابوں میں تفصیل لکھا کہ انگلینڈ جیسے چھوٹے دیش نے بھارت جیسے وسیع ملک کے وسائل کا جائزہ لے کر خود کو کیسے محفوظ کیا ۔خامنہ ای کے مطابق یہ صرف بھارت کی کہانی نہیں بلکہ یہ تبصرہ اور سامراجواد طاقتوں کی سچائی تھی ۔2012 میں جب تہران نے چوٹی کانفرنس (نیم سمٹ ) کے دوران ہندوستانی وزیراعظم (ڈاکٹر منموہن سنگھ نے آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی تھی تو خامنہ ای نے خود جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی کو گلہائے عقیدت پیش کیا تھا ۔آیت اللہ خمینی کا ایک پرانا ویڈیو بھی دوبارہ سامنے آیا ہے جس میں وہ جنتا سے اپیل کررہے ہیں ۔: تہران کی کتاب گلمپس آف ورلڈ ہسٹری ضرور پڑھیں ۔انہوں نے تفصیل سے سمجھایا کہ انگریزوں نے بھارت میں کیا کیا کیا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانے سے صرف ایران یا اسلامی دنیا کو ہی نقصان نہیں پہنچا بلکہ دنیا کو ان کے جانے و خاص کر جس طریقہ سے ان کی شہادت ہوئی بھاری نقصان ہوا ہے ۔ایک نیک بندہ چلاگیا ۔ہم شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو اپنا خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)

27 جون 2026

عاصم منیر کے قتل کی سازش؟

جو لوگ بھی اسرائیل اور اس کی خونخوار خفیہ ایجنسی موساد سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ موساد سیاسی قتل کروانے میں ماہر ہے ۔اسرائیل کی تاریخ میں ایسے درجنوں معاملے ہیں جہاں اس نے اپنے دشمنوں کے لیڈروں کو موت کی نیند سلایا ہے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔28 فروری کو جب امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا تو سب سے پہلا کام موساد نے یہ کیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ و ایران کے ٹاپ ملیٹری کمانڈروں کو مروا دیا تھا ۔یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسرائیل امریکہ کی جنگ بندی سے بہت مایوس ہے اور اس ایم او یو کو تڑوانے کی پوری کوشش کررہا ہے ۔مشرق وسطیٰ میں کئی ملکوں میں حیرت انگیز حملے ہورہے ہیں ۔یہ کون کررہا ہے پتہ نہیں چلارہا ہے ۔کچھ حیرانی نہیں ہوئی جب ایک تازہ خبر آئی کہ موساد پاکستانی ملیٹری چیف عاصم منیر اور پاکستانی نمائندہ وفد کے جینوا میں قتل کا پلان بنا رہا تھا ۔میں نے اپنے 18 جون کے اداریہ میں جس کا عنوان تھا : کاغذوں پر دستخط : زمین پر دھویں کی آخری لائن میں لکھا تھا : آخر میں اسرائیل -موساد کچھ بھی کرسکتا ہے ۔سمجھوتہ تڑوانے کے لئے ایرانی لیڈر شپ کا قتل بھی کروا سکتا ہے تاکہ جنگ بندی ٹوٹ جائے۔ میری پیشگوئی اس معنی میں کامیاب ہوئی ۔حالانکہ تھوڑا ہٹ کر یہ رہا کہ موساد ایرانی لیڈروں کو تو نشانہ پر نہیں لے پایا لیکن اس نے پاکستانی نمائندہ وفد پر نشانہ لگانے کی کوشش ضرورکی ہے ۔بتادیں کہ برازیل کے ایک سینئراور جانے مانے صحافی پے پے ایسکودار کے اس سنسنی خیز دعوے نے بین الاقوامی سطح پر تنازعہ کھڑا کر دیا ہے ایسکوبار نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے پاکستانی کے فوجی چیف جنرل عاصم منیر اور سوئزرلینڈ دورہ پر گئے پاکستانی نمائندہ وفد کے قتل کی سازش رچی تھی ۔انہوںنے دعویٰ کیا کہ یہ پلان تب فیل ہو گیا جب پاکستان کی فوج کو بے حد بھروسہ مند خفیہ جانکاری ملی تھی کہ اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی ہدایت پر موساد جنرل عاصم منیر اور پوری پاکستانی نمائندہ ٹیم کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہا ہے ۔ایسکوبار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان نے عمان کے ذریعے سے اسرائیل کو سخت سندیش بھیجا تھا اگر پاکستانی نمائندہ وفد یا جنر ل عاصم منیر کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کا سخت جواب دیاجائے گا ۔یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پاکستان ایک نیوکلیائی کفیل ملک ہے اس کا مطلب صاف تھا ان دعوؤں کے سامنے آتے ہی پاکستان نے انہیں سرے سے مستر دکر دیا ۔اے آر وائی نیوز کے چیئرمین کامران خاں نے ایک سینئر پاکستانی سیکورٹی افسر کے حوالے سے بتایا کہ یہ رپورٹ پوری طرح بکواس اور بے بنیاد ہے ۔افسر نے صاف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کا سوئزرلینڈ دورہ پوری طرح محفوظ اور بغیر کسی سیکورٹی خطرے کے پورہ ہوا قتل کی سازش کا دعوے کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور پوری طرح بناوٹی ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی ملک ایسی خبروں کی کبھی بھی تصدیق نہیں کرتا اور انہیں خیالی بتاتا ہے ۔
(انل نریندر)

25 جون 2026

مذاکرات کودیامناب 168 نام

 
سوئزرلینڈ میں اتوار کوامریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے ایرانی نمائندہ وفد کو مناب 168 نام دیا گیا ہے ۔ماننا پڑے گا نریٹیو سیٹ کرنے میں ایرانیوں کا جواب نہیں ہے ۔جیسے اپنے شہیدوں کو ناتو بھولتے ہیں اور نہ ہی دنیا کو بھولنے دیتے ہیں ۔ایران چاہتا ہے کہ پوری دنیا ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مظالم داستان دیکھیں ۔اور سنیں ۔ایرانی پریس ٹی وی کے مطابق یہ نام مناب اسکول پر امریکی اسرائیلی میزائل حملے میں ماری گئی 168 اسکولی بچیوں کے احترام میں دیاگیا ۔اس اسکول (مناب) پر 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن حملہ ہوا تھا ۔دراصل ایران پچھلے 3 ماہ سے کمپین مناب چلارہا ہے ۔اور اسے خود نشر کررہا ہے ۔ہر اسٹیج پر ایران اس کمپین کے ساتھ نظر آتا ہے ۔سوئزرلینڈر اور یہاں تک کہ فیفا ورلڈکپ فٹبال میں بھی یہ نظر آیا۔ آئیے اس کے پیچھے کی کہانی بھی جانتے ہیں ۔۔سوئزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ معاہدہ مذاکرات کرنے سے پہلے ایران نے فیصلہ لے کر پوری دنیا کو چونکادیا ہے ۔دراصل ، ایران اور سوئزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ بات چیت کو مناب 168 نام دیا گیا ہے ۔امریکہ سے بات چیت کے لئے ایران کا نمائندہ وفد اسی جہاز میں پہنچاجس پر مناب 168 لکھا تھا ۔فیفا ورلڈ کپ 2026 میں بیلجیم کے خلاف میچ کھیلنے کے لئے میدان میں اترے ایران کے فٹبال کھلاڑیوں کی جرسی پر مناب 168 لکھاتھا ۔حملے میں ماری گئیں بچیوں کے احترام میں ایران دنیا کو ان کا پیغام دینے کی کوشش کررہا ہے کہ لڑائی کے پہلے دن ہی جس طرح امریکہ اسرائیل نے انسانیت کی ساری حدیں پارکرتے ہوئے بے قصور مناب اسکول کی بچیوں کو مارڈالا اور حملے میں ماری گئی 168 اسکولی بچیوں ان کے احترام میں اورا نہیں انصاف دلانے کے لئے مناب 168 کمپین چلائی جارہی ہے ۔آئی آر جی سی کے مبینہ ٹھکانہ پر حملے کی آڑ میں میزائل گرائی گئی تھی ، لیکن میزائل گراتے وقت یہ بھی نہیں دیکھا گیا میزائل ایک بچوں کے اسکول پر جاگری ۔امریکہ اس سے انکار کرتا رہا پہلے تو اس نے کہنا شروع کردیا کہ یہ میزائل خودا یران نے غلطی سے مار دی ۔لیکن پھر امریکی میڈیا نے اس کا پردہ فاش کرتے ہوئے ثابت کیا کہ یہ میزائل امریکی میزائل لانچر سے چھوڑی گئی تھی جو بحرین ایئر بیس سے لانچ ہوئی تھی ۔ایران نےجوابی کاروائی کرتےہوئے بحرین کے اس امریکی بیس کو نشانہ بنایا ۔اور تباہ کیا ۔ایرانی نمائندہ وفد پر پہلے رائٹ میں اسلام آباد پہنچنا تھا تو جس جہاز میں وہ آئے تھے اس کی کرسیوں پر شہید ہوئی بچیوں کے اسکو ل بیگ ،کتابیں ،کھانے کے ٹفن وغیرہ رکھے تھے تاکہ ساری دنیا ہوئے اس ظلم کو دیکھ سکے ۔ایران چاہتا ہے کہ پوری دنیا ایران پر اور اسرائیل کے مظالم کی داستان سنے اوردیکھے ۔یہ دونوں دیش اپنے فائدے کے لئے کس حد تک جاسکتے ہیں ۔اس لئے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں امریکی شہر لاس انجلس نے ایران اور بیلجیئم کے بیچ ہوئے میچ کے دوران کئی ایرانی سامعین نے مناب و حملے کے مارے گئے بچیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے والی تصویریں اورجرسی لہرائیں ۔ایران کے کھلاڑی مناب 168 اسٹیکروالی جرسی پہنے نظر آئے ۔ایک حمایتی نے ایک اسٹیکر دکھایا جس پر ایک اسکولی بیگ بنا تھا اور اس پر 168 لکھا تھا ۔ہیرائٹ اینجل گئے مینا ب اسکول کے 168 بچوں کی یاد رکھیں ۔بتادیں کہ بھارت میں اپریل میں ہوئی برکس سمٹ میں بھی ایران مناب 168 لکھے جہاز میں بھارت آیا تھا ۔امریکہ سے امن بات چیت کے لئے پاکستان کے دورہ سے پہلے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر واقر غالیباف نے ایران کے میناب کا اشارہ دیتے ہوئے ایکس پر تصویریں شیئر کیں ۔جس میں مناب حملے میں ماری گئیں اسکولی بچیوں کی ہوائی جہاز کی سیٹوں پر فوٹو چپکی ہوئی تھی ۔اور وہ ان کے سامنے کھڑے ہو کر مانو کہہ رہی ہوں اس فلائٹ میں میرے ساتھی مسافر ہیں ۔
(انل نریندر)

23 جون 2026

شانتی و امن کا دشمن :نیتن یاہو

جب بھی پچھلے 80 برسوں کی تاریخ لکھی جائے گی اس میں دو ناموں کا خاص تذکرہ ہوگا جب بھی انسانیت کے قتل عام کا ذکر آئے گا اس میں پہلا نام جرمنی کے تاناشاہ ڈولف ہٹلر کا ہوگا اور دوسرا نام اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کا ہوگا ۔نتین یاہو اس صدی کے نمبر 1 ولن بن کر ابھرے ہیں ۔جب بھی مشرق وسطیٰ میں امن کی بات ہوتی ہے تو اس میں نیتن یاہو کوئی نہ کوئی اڑنگا لگا دیتے ہیں۔ آپ تازہ مثال ہی دیکھ لیں امریکہ اور ایران کے بیچ امن بات چیت چل رہی ہے ۔ایم او یو پر بھی دستخط ہوگئے ہیں لیکن نیتن یاہو اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں اور اب تو وہ کھل کر اپنے اکلوتے دوست دیش امریکہ کو بھی کھل کر گالیاں دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کہنا پڑا کہ تم پاگل ہو چکے ہو اور میں اگر تمہیں نہ بچاتا تو آج تم جیل میں ہوتے ۔نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی کابینہ کے وزراء کو طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس طاقتور ساتھی پر حملہ نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ امریکہ کے علاوہ اس کے ساتھ آج کوئی نہیں ہے ۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شخصی تنقیدوں سے پریشان ہیں۔انہوں نے ٹرمپ کو پوری دنیا میں اسرائیل کے تئیں ہمدردی رکھنے والے ایک واحد سربراہ مملکت ہے ۔انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے ۔آخر نیتن یاہو کیوں کسی بھی امن معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے نیتن یاہو کے سیاسی وجود اور سروائیول اہم وجہ ہیں ۔نیتن یاہو اپنی گدی محفوظ رکھنے کے لئے کبھی غزہ پر حملے کررہے ہیں کبھی لبنان پر تو کبھی ایران پر ۔ان کے اس برتا ؤ پر ٹرمپ سختی سے بولتے بھی نہیں اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے ،۔ایپسٹین فائل ! دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل کے پاس وہ بدنام بلیک میل کرنے والی ایپسٹین فائل ہے جس میں ٹرمپ سمیت درجنوں سربراہ مملکت پھنسے ہوئے ہیں ۔یہ بات ٹرمپ سمجھتے ہیںتبھی تو اسرائیل کو روک نہیں پارہے ہیں ۔نیتن یاہو کی ایک مجبوری ہے وہ ہے ان کے خلاف چل رہے کرپشن کے کیس۔ نیتن یاہو کے خلاف مجرمانہ اور دیوانی مقدموں کے ساتھ باقاعدہ عدالتی کاروائی چل رہی ہے ۔نیتن یاہو نے اسے آگے بڑھنے سے یہ کہہ کر روک رکھا ہے کہ اسرائیل اس وقت جنگ لڑرہا ہے اور یہ پہلی ترجیح ہے اس لئے اسے فی الحال ٹالاجائے ۔نیتن یاہو اس سے اتنے پریشان ہیں کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے باقاعدہ اسرائیل کے صدر سے گزارش کی تھی کہ نیتن یاہو کے خلاف کیسوں کو ختم کردیں ، وہ معافی دے دیں لیکن اسرائیلی صدر نہیں مانے ۔ان مقدموں سے بچنے کے لئے اور امکانی جیل کی سزا سے بھی بچنے کے لئے نیتن یاہو کہیں نہ کہیں لڑائی جار ی رکھتے ہیں اب جب امریکہ ایران امن بات چیت جینیوا میں چل رہی ہے اور ایم او یو پر آگے مذاکرات جاری ہیں نتین یاہو نے اس میں بھانجی مارنے کے لئے لبنان پر جنگ چھیڑ دی ہے ۔نیتن یاہو کی تو اب اسرائیل کے اندر بھی مخالف شروع ہو گئی ہے ۔اسی سال کے آخر میںاسرائیل میں عام چناؤ ہونے ہیں جس میں نیتن یاہو کی سرکار جاسکتی ہے۔ بنجامن نیتن یاہو پر پچھلے کئی برسوں سے رشوت خوری ،جعلسازی ،بے اعتمادی کے سنگین الزام لگے ہیں ۔اسرائیل کی تاریخ میں نیتن یاہو پہلے ایسے وزیراعظم ہیں جو عہدے پر رہتے ہوئے عدالتی کاروائی کا سامنا کررہے ہیں ۔فروری کے آخر میں ایران کے ساتھ لڑائی زوروں پر تھی ۔اسرائیل ،امریکہ ایئر اسٹرائک کے بعد نیتن یاہو نے دیش میں ایمرجنسی لگا دی تھی اس دوران سیکورٹی وجوہات سے عدالتی کاروائی کو بھی ٹال دیا گیا تھا ۔اور یہ اب بھی ٹالی جارہی ہے ۔جب تک اسرائیل کسی سے لڑائی بند نہیں کرتا نیتن یاہو اسی بہانے عدالتی کاروائی ٹالتے رہیں گے جیسے میں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیلی صدر ہائجیک ہرگوس سے نیتن یاہو کو معافی دینے کی وکالت کی تھی ۔ ہرگوس نے صاف کیا کہ اسرائیل ایک قانون سے چلنے والامتحدہ ملک ہے او ر وہ بغیر کسی بھاری دباؤ کے اپنے جوڈیشیل فیصلے خود لے گا ۔
(انل نریندر)

18 جون 2026

کاغذوں پر دستخط:زمین پر دھواں

دنیا نے راحت کی سانس لی جب یہ اعلان ہوا کہ امریکہ ایران جنگ میں سیز فائر ہوگیا ہے ۔لیکن میں اسے صرف جنگ بندی ہی کہتا ہوں ، یہ جنگ کا خاتمہ نہیں ماناجاسکتا کیوں کہ ابھی صحیح معنوں میں دونوں طرف کی شرائط تسلیم کرنا بچی ہیں ۔فی الحال تو اس سے صرف امریکہ اور ایران کے درمیان بم باری ہی رکی ہے جنگ روکنے کے لئے ابھی بہت سے پینچ پھنسے ہیں۔ میں سب سے پہلے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ،صدر مسعود پزیشکیان ،وزیرخارجہ عباس عراغچی اور اسپیکر بانگر غالیباف کو مبارکباد دینا چاہتاہوں کہ جنگ میں بھاری پڑنے کے باوجود انہوں نے اس جنگ بندی ( سیز فائر ) روکنے میں قابل قدر کرادر نبھایا ۔میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کے لئے بدھائی نہیں دینا چاہتا کیوں کہ انہوں نے ہی یہ جنگ شروع کی تھی ۔جسے بلاوجہ جنگ شروع کی تھی اس میں جنگ بندی کرکے انہوں نے اپنی جان ہی چھڑائی ہے ۔کسی پر احسان نہیں کیا ۔ان کے حامی امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کہہ رہے ہیں ٹرمپ اب نوبل ایوارڈ کے حقدار ہیں ؟ کیوں بھئی کیسے ہوئے حقدار ؟ پہلے شروع کرو اور پھر پیٹو اور اب بنا شرائط کے بم باری روکنے کا اعلان کرو ؟ یہ جو ایم او یو پر دستخط ہونے جارہے ہیں وہ کتنا کارگر ثابت ہوتا ہے ۔یہ دیکھنا باقی ہے کیوں کہ سب سے بڑا پینچ تو نیتن یاہو بنے ہوئے ہیں ۔اسرائیل نے صاف اعلان کر دیا ہے کہ وہ اس سمجھوتہ کو نہیں مانتا اور نہ ہی وہ لبنان پر حملے بند کرے گا جبکہ ایران کی شرطوں میں یہ شامل ہے ۔ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود گالی گلوج کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسرائیل اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے اور اس پوری کوشش میں لگا ہوا ہے کہ یہ معاہدہ نہ ہو ۔ایران نے 14 نکاتی شرائط رکھی ہیں ۔ٹرمپ نے بھی دو بہت بڑی شرائط رکھیں ہیں ایران نے مانگ کی ہے کہ امن معاہدہ سے پہلے 24 ارب ڈالر کی ضبط پراپرٹی امریکہ ایران کو دے اس کا آدھا حصہ یعنی 12 ارب ڈالر بات چیت شروع ہونے سے پہلے ایران کو دیے جائیں وہیں امریکہ نے اس دعوے پر الگ رخ اپنایا ہے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو کسی بھی طرح کی مالی راحت تبھی ملے گی جب وہ سمجھوتہ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا۔ہرمز جل ڈروم پر بھی ابھی تنازعہ ہے ۔بیشک ایران نے ہرمز کو کھول دیا ہے لیکن ابھی صرف طے راستے سے ہی سمندر میں جہازوں کا آنا جانا شروع ہوا ہے ۔ہرمز کو پوری طرح سے کھولنے میں وقت لگے گا کیوں کہ اس نے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں جنہیں ہٹانے میں وقت لگ سکتا ہے ۔ایران ہر جہاز سے ٹول بھی وصول رہا ہے ۔جسے کٹ سروس چارج کہاجارہا ہے ۔امریکہ ایسا کرنے پر اعتراض کررہا ہے ۔خیر ، ہرمز کھولنے سے پوری دنیا نے راحت کی سانس ضرور لی ہے ۔ایران کے نیوکلیائی پروگرام اور افزودگی یورینیم کے مسئلے پر بھی ابھی رضامندی باقی ہے۔ ایران کے ذریعے اس کے میزائل پروگرام پر بھی امریکہ اور اسرائیل کو اعتراض ہے ۔اس مسئلے پر دونوں فریق 60 دنوں کی بات چیت میں کوئی فیصلہ کریں گے ایران کے نائب وزیرخارجہ قزام نے تحران نیوز ایجنسی سے بات میں کہا آخری سمجھوتے کو لے کر اگلے 60 دنوں میں بات چیت ہوگی۔ اور انہوں نے کہا یہ پروسیس اس بات پر منحصر کرے گا کہ امریکہ اپنے وعدوں پر کس حد تک ٹکا  رہتا ہے اور پورا کرتا ہے ؟ ایران کے اہم شرائط میں فوجی سرگرمیوں کو روکنا یعنی ہر جنگ کو پوری طرح سے روکنا ، اقتصادی ناکابندی ختم کرنا ،بیرون ممالک میں جمع ہوئے ایرانی فنڈس کو بحال کرنا شامل ہے ۔سمجھوتے میں لبنان میں جنگ بندی کی سہولت بھی شامل ہے۔ ونٹیج مسائل پر اختلافات کے باوجود کمرشیل سمجھوتے کو بین الاقوامی سطح پر مثبت رد عمل ملا ہے ۔برطانیہ ،جرمنی ،اسرائیل ،فرانس اور بھارت نے اس کا خیر مقدم کیا ہے ۔اس سمجھوتے کا اہم مقصد وسط مشرق میں مستقل امن قائم کرنا ہے ایسے میں اگر سمجھوتہ کامیاب رہتا ہے تو عالمی بازاروں کو بھی بڑی راحت مل سکتی ہے ۔تاوقت یہ ٹکا رہے ۔آخر میں اسرائیل -موساد کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اسرائیل لیڈر شپ کا قتل بھی کروا سکتا ہے تاکہ یہ جنگ بندی ٹوٹ جائے ۔
(انل نریندر)

16 جون 2026

اب فٹبال کا جادو

ایسے وقت پر جب مغربی ایشیا میں امریکہ اسرائیل بنام خطرناک جنگ چھڑی ہوئی ہے اور عالمی سطح پر ایندھن سپلائی کا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ساری دنیا کی معیشت اتھل پتھل ہو رہی ہے اسی وقت کھیل شائقین کے لئے زبردست راحت کا انعقاد ہورہا ہے ۔میں ورلڈ کپ فٹبال 2026 کی بات کررہا ہوں۔ امریکہ ،کنیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں منعقدہ اب تک سب سے بڑا فٹبال کپ چل رہا ہے ۔فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے افتتاحی تقریب نے جمعرات کو ایز ٹیکا اسٹیڈیم میں 85 ہزار فٹبال شائقین کے سامنے انوکھا سما باندھ دیا ۔اس بارے میں تین افتتاحی تقریب ہوئیں جن میں دو تقریب جمعہ کے روز کنیڈا کے ٹورنٹو اور امریکہ کے لاس اینجلس میں منعقدہوئی ۔39 دن تک جاری رہنے والے اس سب سے لمبے فٹبال مہا کمبھ میں ریکارڈ میچوں کے ساتھ ریکارڈ سامعین کے آنے سے فٹبال کی بڑی انجمن کو عالمی سطح پر بھاری منافع ہونے والاہے ۔فیفا کی کمائی کئی طریقوں سے ہوگی جس میں سب سے بڑا حصہ ٹیلی کاسٹ رائٹس کا ہوگا ۔اس کے علاوہ اسپانسر اور ٹکٹوں کی بکری اور اشتہارات ،سیاحت وغیرہ سے بھاری کمائی ہوگی ۔اس بار 48 ٹیموں کے دنیا بھر سے حصہ لینے سے کمائی امید سے زیادہ ہو سکتی ہے ۔ اور یہ تعداد شمار 76 ہزار کروڑ روپے ( 8.9ارب ڈالر سے بھی زیادہ پہنچ سکتی ہے۔ اصل میں 104 مقابلے تین دیشوں کے 16 شہروں میں ہونے سے کمائی میں کئی طرح کی اضافہ ہوگا۔بتادیں کہ 3 بار ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والامیکسیکو دنیا کا پہلا دیش ہے ۔میکسیکو نے اپنے یہاں افتتاح کرانے میں اپنی دیسی تہذیب کی جھلک دکھانے کا کوئی موقع نہیں گنوایا ۔ فیفا نے اس تقریب کے لئے دنیا بھر سے فنکار بلائے تھے ۔لیکن اصلی سما شکیرا کے دائی دائی گانے سے بندھا جس پر ناظرین جھوم اٹھے ۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ کھیل کی اس طاقت کو ثابت کر پائے گا جو اختلافات کے بیچ بات چیت و کشیدگی کے بیچ امید کی گنجائش پیش کرتی ہے ۔فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ دیکھیں تو امید کی جاسکتی ہے ۔بتادیں کہ اٹلی کے ڈکٹیٹر یونی سولونی کے عہدمیں 1934 میں اٹلی میں ہوا ورلڈ کپ رہا ۔یا پھر 1938 کئی مقابلے ، جب زمینی اور آسٹریا پر قبضہ کر چکا تھا ۔اس کھیل نے درد سے کراہتے ہوئے دیشوں کو ضرور کچھ تو راحت دی تھی ۔ہٹلر نے بھی ورلڈ کپ ہاکی کا انعقاد کرایا تھا جس میں بھارت کے میجر دھیان چند سب سے بڑے ستارے کی شکل میں ابھرے تھے ۔ دلچسپ یہ ہے کہ ایران کی ٹیم کو بھی میزبان امریکہ میں کھیلنے کا موقع ملے گا ۔حالانکہ ایران کو ویزا دینے میں بھی تنازعہ کھڑا ہوا تھا ۔قابل ذکر ہے کہ ایرانی کھلاڑی جب میکسیکو پہنچے تو انہوں نے وہ علامتی نشان پہنچا تھا جو مناب کی بچیوں کے اسکول پر امریکہ نے میزائل مارا تھا اور 138 چھوٹی بچیاں شہید ہو گئی تھیں ۔توقع کی جاتی ہے کہ اس انعقاد سے دیشوں میں محبت اور ایک دوسرے کی عزت بڑھے گی ۔اور بھائی چارہ بڑھے گا ۔دنیا میں شورش کے ماحول میں بھی کمی آئے گی۔
(انل نریندر)

ٹرمپ اور میلونی کے بیچ بگڑتے رشتے !

اٹیلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی سے وابستہ کئی پوسٹ سوشل میڈیا پر گشت کررہے ہیں ۔ان میں سے کچھ میں تو ایسا دکھایا گیا ہے جیسے وہ کسی بریک اپ...