Translater

23 جون 2026

شانتی و امن کا دشمن :نیتن یاہو

جب بھی پچھلے 80 برسوں کی تاریخ لکھی جائے گی اس میں دو ناموں کا خاص تذکرہ ہوگا جب بھی انسانیت کے قتل عام کا ذکر آئے گا اس میں پہلا نام جرمنی کے تاناشاہ ڈولف ہٹلر کا ہوگا اور دوسرا نام اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کا ہوگا ۔نتین یاہو اس صدی کے نمبر 1 ولن بن کر ابھرے ہیں ۔جب بھی مشرق وسطیٰ میں امن کی بات ہوتی ہے تو اس میں نیتن یاہو کوئی نہ کوئی اڑنگا لگا دیتے ہیں۔ آپ تازہ مثال ہی دیکھ لیں امریکہ اور ایران کے بیچ امن بات چیت چل رہی ہے ۔ایم او یو پر بھی دستخط ہوگئے ہیں لیکن نیتن یاہو اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں اور اب تو وہ کھل کر اپنے اکلوتے دوست دیش امریکہ کو بھی کھل کر گالیاں دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کہنا پڑا کہ تم پاگل ہو چکے ہو اور میں اگر تمہیں نہ بچاتا تو آج تم جیل میں ہوتے ۔نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی کابینہ کے وزراء کو طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس طاقتور ساتھی پر حملہ نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ امریکہ کے علاوہ اس کے ساتھ آج کوئی نہیں ہے ۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شخصی تنقیدوں سے پریشان ہیں۔انہوں نے ٹرمپ کو پوری دنیا میں اسرائیل کے تئیں ہمدردی رکھنے والے ایک واحد سربراہ مملکت ہے ۔انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے ۔آخر نیتن یاہو کیوں کسی بھی امن معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے نیتن یاہو کے سیاسی وجود اور سروائیول اہم وجہ ہیں ۔نیتن یاہو اپنی گدی محفوظ رکھنے کے لئے کبھی غزہ پر حملے کررہے ہیں کبھی لبنان پر تو کبھی ایران پر ۔ان کے اس برتا ؤ پر ٹرمپ سختی سے بولتے بھی نہیں اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے ،۔ایپسٹین فائل ! دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل کے پاس وہ بدنام بلیک میل کرنے والی ایپسٹین فائل ہے جس میں ٹرمپ سمیت درجنوں سربراہ مملکت پھنسے ہوئے ہیں ۔یہ بات ٹرمپ سمجھتے ہیںتبھی تو اسرائیل کو روک نہیں پارہے ہیں ۔نیتن یاہو کی ایک مجبوری ہے وہ ہے ان کے خلاف چل رہے کرپشن کے کیس۔ نیتن یاہو کے خلاف مجرمانہ اور دیوانی مقدموں کے ساتھ باقاعدہ عدالتی کاروائی چل رہی ہے ۔نیتن یاہو نے اسے آگے بڑھنے سے یہ کہہ کر روک رکھا ہے کہ اسرائیل اس وقت جنگ لڑرہا ہے اور یہ پہلی ترجیح ہے اس لئے اسے فی الحال ٹالاجائے ۔نیتن یاہو اس سے اتنے پریشان ہیں کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے باقاعدہ اسرائیل کے صدر سے گزارش کی تھی کہ نیتن یاہو کے خلاف کیسوں کو ختم کردیں ، وہ معافی دے دیں لیکن اسرائیلی صدر نہیں مانے ۔ان مقدموں سے بچنے کے لئے اور امکانی جیل کی سزا سے بھی بچنے کے لئے نیتن یاہو کہیں نہ کہیں لڑائی جار ی رکھتے ہیں اب جب امریکہ ایران امن بات چیت جینیوا میں چل رہی ہے اور ایم او یو پر آگے مذاکرات جاری ہیں نتین یاہو نے اس میں بھانجی مارنے کے لئے لبنان پر جنگ چھیڑ دی ہے ۔نیتن یاہو کی تو اب اسرائیل کے اندر بھی مخالف شروع ہو گئی ہے ۔اسی سال کے آخر میںاسرائیل میں عام چناؤ ہونے ہیں جس میں نیتن یاہو کی سرکار جاسکتی ہے۔ بنجامن نیتن یاہو پر پچھلے کئی برسوں سے رشوت خوری ،جعلسازی ،بے اعتمادی کے سنگین الزام لگے ہیں ۔اسرائیل کی تاریخ میں نیتن یاہو پہلے ایسے وزیراعظم ہیں جو عہدے پر رہتے ہوئے عدالتی کاروائی کا سامنا کررہے ہیں ۔فروری کے آخر میں ایران کے ساتھ لڑائی زوروں پر تھی ۔اسرائیل ،امریکہ ایئر اسٹرائک کے بعد نیتن یاہو نے دیش میں ایمرجنسی لگا دی تھی اس دوران سیکورٹی وجوہات سے عدالتی کاروائی کو بھی ٹال دیا گیا تھا ۔اور یہ اب بھی ٹالی جارہی ہے ۔جب تک اسرائیل کسی سے لڑائی بند نہیں کرتا نیتن یاہو اسی بہانے عدالتی کاروائی ٹالتے رہیں گے جیسے میں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیلی صدر ہائجیک ہرگوس سے نیتن یاہو کو معافی دینے کی وکالت کی تھی ۔ ہرگوس نے صاف کیا کہ اسرائیل ایک قانون سے چلنے والامتحدہ ملک ہے او ر وہ بغیر کسی بھاری دباؤ کے اپنے جوڈیشیل فیصلے خود لے گا ۔
(انل نریندر)

18 جون 2026

کاغذوں پر دستخط:زمین پر دھواں

دنیا نے راحت کی سانس لی جب یہ اعلان ہوا کہ امریکہ ایران جنگ میں سیز فائر ہوگیا ہے ۔لیکن میں اسے صرف جنگ بندی ہی کہتا ہوں ، یہ جنگ کا خاتمہ نہیں ماناجاسکتا کیوں کہ ابھی صحیح معنوں میں دونوں طرف کی شرائط تسلیم کرنا بچی ہیں ۔فی الحال تو اس سے صرف امریکہ اور ایران کے درمیان بم باری ہی رکی ہے جنگ روکنے کے لئے ابھی بہت سے پینچ پھنسے ہیں۔ میں سب سے پہلے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ،صدر مسعود پزیشکیان ،وزیرخارجہ عباس عراغچی اور اسپیکر بانگر غالیباف کو مبارکباد دینا چاہتاہوں کہ جنگ میں بھاری پڑنے کے باوجود انہوں نے اس جنگ بندی ( سیز فائر ) روکنے میں قابل قدر کرادر نبھایا ۔میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کے لئے بدھائی نہیں دینا چاہتا کیوں کہ انہوں نے ہی یہ جنگ شروع کی تھی ۔جسے بلاوجہ جنگ شروع کی تھی اس میں جنگ بندی کرکے انہوں نے اپنی جان ہی چھڑائی ہے ۔کسی پر احسان نہیں کیا ۔ان کے حامی امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کہہ رہے ہیں ٹرمپ اب نوبل ایوارڈ کے حقدار ہیں ؟ کیوں بھئی کیسے ہوئے حقدار ؟ پہلے شروع کرو اور پھر پیٹو اور اب بنا شرائط کے بم باری روکنے کا اعلان کرو ؟ یہ جو ایم او یو پر دستخط ہونے جارہے ہیں وہ کتنا کارگر ثابت ہوتا ہے ۔یہ دیکھنا باقی ہے کیوں کہ سب سے بڑا پینچ تو نیتن یاہو بنے ہوئے ہیں ۔اسرائیل نے صاف اعلان کر دیا ہے کہ وہ اس سمجھوتہ کو نہیں مانتا اور نہ ہی وہ لبنان پر حملے بند کرے گا جبکہ ایران کی شرطوں میں یہ شامل ہے ۔ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود گالی گلوج کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسرائیل اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے اور اس پوری کوشش میں لگا ہوا ہے کہ یہ معاہدہ نہ ہو ۔ایران نے 14 نکاتی شرائط رکھی ہیں ۔ٹرمپ نے بھی دو بہت بڑی شرائط رکھیں ہیں ایران نے مانگ کی ہے کہ امن معاہدہ سے پہلے 24 ارب ڈالر کی ضبط پراپرٹی امریکہ ایران کو دے اس کا آدھا حصہ یعنی 12 ارب ڈالر بات چیت شروع ہونے سے پہلے ایران کو دیے جائیں وہیں امریکہ نے اس دعوے پر الگ رخ اپنایا ہے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو کسی بھی طرح کی مالی راحت تبھی ملے گی جب وہ سمجھوتہ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا۔ہرمز جل ڈروم پر بھی ابھی تنازعہ ہے ۔بیشک ایران نے ہرمز کو کھول دیا ہے لیکن ابھی صرف طے راستے سے ہی سمندر میں جہازوں کا آنا جانا شروع ہوا ہے ۔ہرمز کو پوری طرح سے کھولنے میں وقت لگے گا کیوں کہ اس نے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں جنہیں ہٹانے میں وقت لگ سکتا ہے ۔ایران ہر جہاز سے ٹول بھی وصول رہا ہے ۔جسے کٹ سروس چارج کہاجارہا ہے ۔امریکہ ایسا کرنے پر اعتراض کررہا ہے ۔خیر ، ہرمز کھولنے سے پوری دنیا نے راحت کی سانس ضرور لی ہے ۔ایران کے نیوکلیائی پروگرام اور افزودگی یورینیم کے مسئلے پر بھی ابھی رضامندی باقی ہے۔ ایران کے ذریعے اس کے میزائل پروگرام پر بھی امریکہ اور اسرائیل کو اعتراض ہے ۔اس مسئلے پر دونوں فریق 60 دنوں کی بات چیت میں کوئی فیصلہ کریں گے ایران کے نائب وزیرخارجہ قزام نے تحران نیوز ایجنسی سے بات میں کہا آخری سمجھوتے کو لے کر اگلے 60 دنوں میں بات چیت ہوگی۔ اور انہوں نے کہا یہ پروسیس اس بات پر منحصر کرے گا کہ امریکہ اپنے وعدوں پر کس حد تک ٹکا  رہتا ہے اور پورا کرتا ہے ؟ ایران کے اہم شرائط میں فوجی سرگرمیوں کو روکنا یعنی ہر جنگ کو پوری طرح سے روکنا ، اقتصادی ناکابندی ختم کرنا ،بیرون ممالک میں جمع ہوئے ایرانی فنڈس کو بحال کرنا شامل ہے ۔سمجھوتے میں لبنان میں جنگ بندی کی سہولت بھی شامل ہے۔ ونٹیج مسائل پر اختلافات کے باوجود کمرشیل سمجھوتے کو بین الاقوامی سطح پر مثبت رد عمل ملا ہے ۔برطانیہ ،جرمنی ،اسرائیل ،فرانس اور بھارت نے اس کا خیر مقدم کیا ہے ۔اس سمجھوتے کا اہم مقصد وسط مشرق میں مستقل امن قائم کرنا ہے ایسے میں اگر سمجھوتہ کامیاب رہتا ہے تو عالمی بازاروں کو بھی بڑی راحت مل سکتی ہے ۔تاوقت یہ ٹکا رہے ۔آخر میں اسرائیل -موساد کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اسرائیل لیڈر شپ کا قتل بھی کروا سکتا ہے تاکہ یہ جنگ بندی ٹوٹ جائے ۔
(انل نریندر)

16 جون 2026

اب فٹبال کا جادو

ایسے وقت پر جب مغربی ایشیا میں امریکہ اسرائیل بنام خطرناک جنگ چھڑی ہوئی ہے اور عالمی سطح پر ایندھن سپلائی کا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ساری دنیا کی معیشت اتھل پتھل ہو رہی ہے اسی وقت کھیل شائقین کے لئے زبردست راحت کا انعقاد ہورہا ہے ۔میں ورلڈ کپ فٹبال 2026 کی بات کررہا ہوں۔ امریکہ ،کنیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں منعقدہ اب تک سب سے بڑا فٹبال کپ چل رہا ہے ۔فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے افتتاحی تقریب نے جمعرات کو ایز ٹیکا اسٹیڈیم میں 85 ہزار فٹبال شائقین کے سامنے انوکھا سما باندھ دیا ۔اس بارے میں تین افتتاحی تقریب ہوئیں جن میں دو تقریب جمعہ کے روز کنیڈا کے ٹورنٹو اور امریکہ کے لاس اینجلس میں منعقدہوئی ۔39 دن تک جاری رہنے والے اس سب سے لمبے فٹبال مہا کمبھ میں ریکارڈ میچوں کے ساتھ ریکارڈ سامعین کے آنے سے فٹبال کی بڑی انجمن کو عالمی سطح پر بھاری منافع ہونے والاہے ۔فیفا کی کمائی کئی طریقوں سے ہوگی جس میں سب سے بڑا حصہ ٹیلی کاسٹ رائٹس کا ہوگا ۔اس کے علاوہ اسپانسر اور ٹکٹوں کی بکری اور اشتہارات ،سیاحت وغیرہ سے بھاری کمائی ہوگی ۔اس بار 48 ٹیموں کے دنیا بھر سے حصہ لینے سے کمائی امید سے زیادہ ہو سکتی ہے ۔ اور یہ تعداد شمار 76 ہزار کروڑ روپے ( 8.9ارب ڈالر سے بھی زیادہ پہنچ سکتی ہے۔ اصل میں 104 مقابلے تین دیشوں کے 16 شہروں میں ہونے سے کمائی میں کئی طرح کی اضافہ ہوگا۔بتادیں کہ 3 بار ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والامیکسیکو دنیا کا پہلا دیش ہے ۔میکسیکو نے اپنے یہاں افتتاح کرانے میں اپنی دیسی تہذیب کی جھلک دکھانے کا کوئی موقع نہیں گنوایا ۔ فیفا نے اس تقریب کے لئے دنیا بھر سے فنکار بلائے تھے ۔لیکن اصلی سما شکیرا کے دائی دائی گانے سے بندھا جس پر ناظرین جھوم اٹھے ۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ کھیل کی اس طاقت کو ثابت کر پائے گا جو اختلافات کے بیچ بات چیت و کشیدگی کے بیچ امید کی گنجائش پیش کرتی ہے ۔فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ دیکھیں تو امید کی جاسکتی ہے ۔بتادیں کہ اٹلی کے ڈکٹیٹر یونی سولونی کے عہدمیں 1934 میں اٹلی میں ہوا ورلڈ کپ رہا ۔یا پھر 1938 کئی مقابلے ، جب زمینی اور آسٹریا پر قبضہ کر چکا تھا ۔اس کھیل نے درد سے کراہتے ہوئے دیشوں کو ضرور کچھ تو راحت دی تھی ۔ہٹلر نے بھی ورلڈ کپ ہاکی کا انعقاد کرایا تھا جس میں بھارت کے میجر دھیان چند سب سے بڑے ستارے کی شکل میں ابھرے تھے ۔ دلچسپ یہ ہے کہ ایران کی ٹیم کو بھی میزبان امریکہ میں کھیلنے کا موقع ملے گا ۔حالانکہ ایران کو ویزا دینے میں بھی تنازعہ کھڑا ہوا تھا ۔قابل ذکر ہے کہ ایرانی کھلاڑی جب میکسیکو پہنچے تو انہوں نے وہ علامتی نشان پہنچا تھا جو مناب کی بچیوں کے اسکول پر امریکہ نے میزائل مارا تھا اور 138 چھوٹی بچیاں شہید ہو گئی تھیں ۔توقع کی جاتی ہے کہ اس انعقاد سے دیشوں میں محبت اور ایک دوسرے کی عزت بڑھے گی ۔اور بھائی چارہ بڑھے گا ۔دنیا میں شورش کے ماحول میں بھی کمی آئے گی۔
(انل نریندر)

13 جون 2026

کیوبا ہے ٹرمپ کا اگلا نشانہ؟

بھارت میں ایک کہاوت ہے’ وناش کالے وپریت بدھی ‘یعنی جب آپ کا دماغ خراب ہوتا ہے تو آپ کی سب سے پہلے بدھی بھرشٹ ہوتی ہے ۔ یہی حال ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے وزیر دفاع پیٹر ہیگسیتھ کا ۔ انہوں نے تازہ بیان دیا ہے جس سے لگتاہے کہ ٹرمپ کا اگلانشانہ کیوبا ہے ۔ پیٹر ہیگسیتھ نے حال ہی میں گوانتا ناموبے کا دورہ کیا اور کیوبا کو سخت الفاظ میں وارننگ دے ڈالی ۔ہیگسیتھ نے کیوبا کو صاف کر دیا کہ امریکہ کے خلاف کسی بھی طرح کی دھمکی برداشت نہیں کی جائے گی ۔انہوں نے مزید صاف کیا کہ تحران کے بعد یا ساتھ ساتھ کیوبا بھی ٹرمپ کے نشانہ پر ہیں ۔لگتا ہے کہ ٹرمپ اپنے پڑوسی ملک کیوبا کے خلاف جنگ چھیڑنے کے موڈ میں ہیں۔ ایران جنگ میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور باہر نکلنے کے لئے بے تاب ہیں اور اب کیوبا کو قبضانے کی دھمکی دے رہے ہیں ۔انہوں نے کیوبا کی اینرجی سپلائی کاٹنے کے بعد اب ایئر کرافٹ کیریئر یو ایس ایس نمیٹیج کو پورے کیریئر گروپ کے ساتھ تعینات کر دیا ہے ۔یہ تعیناتی ٹھیک اسی طرح کی ہے جسے انہوں نے وینزویلا پر حملہ کرنے سے پہلے وہاں کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کے لئے چاروں جانب تعینات کیا تھا ۔کیوبا پر حملے کی تیاری میں امریکہ نے کیوبا کے 94 سالہ سابق صدر رائل کاسترو پر قتل کا الزام بھی لگایاہے اس کے بعد قیاس آرائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں کہ امریکہ کی تختہ پلٹ فہرست میں اگلانام کیوبا کا ہوسکتا ہے ۔امریکہ میں کسی وقت پریشر پالیسی کی وجہ سے کیوبا دہائیوں کا سب سے بڑا ایندھن اور بجلی بحران پیدا کرنے والا ہوگیا ہے ۔اسی درمیان ٹرمپ اور ان کے افسران مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ 66 سال سے اقتدار میں موجود کمیونسٹ سرکار کا خاتمہ ہونا چاہیے ۔ وائٹ ہاؤس نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساحل سے 144 کلو میٹر دوری پر کسی باغی دیش کو برداشت نہیں کرے گا ۔اب یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ رائل کاسترو کو کوئی فوجی کاروائی چلاکر مادورو کی طرح گرفتار کرکے امریکہ لاسکتا ہے ۔انہیں امریکہ لاکر ان پر مقدمہ چلا سکتا ہے ۔اس سال کے آغاز میں ایک ایگزیکٹو حکم میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ کیوبا میں روس کا سب سے بڑا غیر ملکی جاسوسی سنٹر موجود ہے ۔بائیڈن انتظامیہ نے چین پر بھی الزام لگایا تھا کہ اس نے امریکہ کے ساحلوں سے صرف 90 میل دوری پر واقع اس کمیونسٹ جزیرہ پر جاسوسی سنٹر کھول رکھا ہے ۔یہی نہیں ٹرمپ انتظامیہ نے قریب 30 سال پرانے ایک معاملے کو اچانک تازہ کرکے کیوبا کے سابق صدر رائل کاسترو پر سنگین الزام لگا دیا ۔اصل میں 1996 میں سمندر میں پھنسے لوگ اور کیوبا سے بھاگ کر امریکہ آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی ایک آرگنائزیشن چھوٹے شہری ریگولیشن کے ذریعے ریسکیو مشن چلارہا تھا اس کے دو شہری جہازوں کو کیوبا سے فوجی جہازوں نے مار گرایا اس میں 4 امریکی شہریوں کی موت ہو گئی تھی اس واردات کے بعد دونوں ملکوں کے رشتوں میں مزید کشیدگی بڑھ گئی تھی ۔اب تین دہائی بعد امریکی افسران نے سابق کیوبائی صدر رائل کاسترو پر قتل ،سازش رچنے اور جہاز گرانے سے وابستہ الزامات لگائے ہیں ۔رائل کاسترو کیوبا کی سیاست کے سب سے طاقتور چہروں میں سے ایک ہیں ۔انہوں نے اپنے بھائی فیدل کاسترو کے بعد دیش کی سیاست سنبھالی تھی ۔اب سوال ہے کہ آخر 30 سال بعدا س معاملے کو کیوں اٹھانا چاہتا ہے ؟ 
(انل نریندر)

11 جون 2026

کیا اسرائیل امریکہ کی جاسوسی کررہا ہے ؟

ایران جنگ کو لے کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے درمیان ٹکراؤ بڑھتا حکمت عملی نظریہ نے پینٹاگن کی پریشانی بڑھا دی ہے ۔امریکی وزارت دفاع کو اسرائیلی جاسوسی کا خوف لگنے لگا ہے ۔اس نے خبردار کیا ہے کہ سینئر امریکی افسران سخت اسرائیلی نگرانی کا نشانہ بن سکتے ہیں ؟ این بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے دوموجود و ایک سابق افسر نے بتایا کہ پینٹاگن کی ڈیفنس انٹیلی جینس ایجنسی ڈی آئی اے نے حال ہی میں اسرائیل کے لئے کاؤنٹر انٹیلی جینس خطرے کے سطح کو کریٹیکل یعنی سنگین قرار دیا ۔یہ ان کا سب سے اونچا اندرونی تجزیاتی معیار ہے ۔ایک موجودہ افسر نے امریکی صحافی کو بتایا کہ امریکہ پہلے ہی سے اسرائیل کا سرکاری دوروں کے دوران سیکورٹی اقدامات کرتا ہے کیوں کہ اسرائیلی جاسوسی ایجنسیوں کو معلومات اکٹھاکرنے کے معاملے میں بہت ہی جارحانہ اور چالاک ماناجاتا ہے ۔پینٹاگن کی نئی تشویشات سے پتہ چلتا ہے کہ ا سرائیل مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے سلسلے میں امریکی حکمت عملی مباحثوں فیصلوں کی جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اسرائیلی جاسوسی نیٹورک خاص کر ان کی خفیہ ایجنسی ایسے کاموں کے لئے دنیا میں بدنام ہے ۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ اسرائیلی جاسوسی ایجنسی موساد نے اپنے سب سے بھروسہ مند ساتھی امریکہ کو بھی نہیں بخشا ہے ۔
(انل نریندر)

صحافی بولا:بے ایمان اور بے وقوف!

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سربراہ مملکت سے تو بے عزتی سے پیش آتے ہی ہیں لیکن اپنے دیش کے صحافیوں خاص کر خاتون صحافیوں سے کیسے پیش آتے ہیں تازہ واقعہ سے پتہ چلتا ہے ۔ ٹرمپ نے این بی سی جیسے بڑے ٹی وی نیٹور ک سے ایک انٹرویو کے دوران اچانک بات چیت درمیان میں ہی ختم کر دی ۔پروگرام کی میزبان ترشٹن ویلکر بار بار ان کے (ٹرمپ ) کے دعووں پر سوال اٹھارہی تھیں ۔اتوار کو ٹیلی کاسٹ ہوئے پروگرام ’’ میٹ دی پریس‘‘ میںٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کیلیفورنیا میں چل رہے پرائمری چناؤ سال 2020 کا امریکی صدارتی چناؤ دونوں ہی دھاندلی بھرے تھے ۔جب ویلکر نے چناؤ میں دھاندلی کے دعوے کی حمایت میں ثبوت مانگے تو ٹرمپ نے کہا ’’ مجھے بس دیکھنا اور سننا ‘‘ بھر ہے ۔اس پر ویلکر نے کہا یہ ثبوت نہیں ہے ۔اس کے بعد ٹرمپ نے میڈیا کو بے ایمان ہونے کا الزام لگایا اور انٹرویو ختم کرتے ہوئے کہا ،معاف کیجئے ،اب اسے یہیں ختم کرتے ہیں ۔معاف کیجئے اب اسے یہیں ختم کرتے ہیں ۔میرے لئے بہت ہو گیا اب انٹرویو ختم ہے ۔انٹرویو شروع ہونے کے تقریباً 50 منٹ بعداسے چھوڑ دیا ۔ویلکر کے سوالوں کے جواب میں ٹرمپ نے کہا امریکہ کو ایران کے نیوکلیائی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لئے کاروائی کرنی ضروری تھی اور یہ آخر جنگ نہیں ہوگی ۔ہم وہاں کچھ ماہ کے لئے رہیں گے اور اس کے بعد خطرہ کافی حد تک ختم ہو جائے گا ۔اس کے بعد بات چیت ان دنگوں پر پہنچی اور جب ٹرمپ نے سال 2020 کے چناؤ میں دھاندلی کا اپنا پرانا بغیر ثبوت والاوعدہ دہرایا تو ترسٹن ویلکر نے انہیں چیلنج کیا ۔ٹرمپ نے پھر کیلیفورنیا کے بلدیاتی چناؤ کا ذکر کیا جہاں گورنر سمیت کئی عہدوں کے لئے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی چناؤ میں کون سے دو امیدوار ہوں گے ، یہ طے کرنے کے لئے ووٹوں کی گنتی جاری تھی ۔پھر انہوں نے الزام لگایا کہ وہ چناؤ میں دھاندلی کررہے ہیں ۔پلٹ کر ویلکر نے پوچھا کیا آپ کے پاس اس کی حمایت میں کوئی ثبوت ہے ؟ ٹرمپ : مجھے صرف دیکھنا اور سننا ہے ۔ویلکر نے بیچ میں ٹوکا ، لیکن یہ کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ ٹرمپ نے ناراضگی سے کہا کہ وہ بے ایمان ہے بالکل آپ کی طرح اس پر ویلکر نے جواب دیا منصفانہ بات کریں تو میں بے ایمان نہیں ہوں لیکن بات چیت جاری رکھیں ۔اس پر ٹرمپ نے کہا یا تو آپ بے ایمان ہیں یا پھر بے وقوف اور یہ کہتے ہوئے ٹرمپ اٹھ گئے اور کہا اسے یہیں ختم کرتے ہیں میرے لئے بہت ہوگیا۔ شکریہ ڈارلنگ ۔آپ کو اپنے پریس کو سدھارنا چاہیے کیوں کہ ایک دیش کبھی مہان نہیں بن سکتا اگر اس کی پریس بے ایما ن ہو ۔ہم اس مہان پترکار کو سلام کرتے ہیں جنہوں نے اپنی بے عزتی کے باوجود ڈٹی رہیں ۔
(انل نریندر)

09 جون 2026

جنگ بندی کے نام پر دھوکہ؟

کیا امریکہ ایران پر زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے اور سیز فائر کے نام پر ایران کو بے وقوف بنارہا ہے ؟ امریکی وارشپ یو ایس ایس تریپولی بیڑے کی تعیناتی کے بعد یہ سوال پھر اٹھ گیا ہے کہ امریکہ کی اصل نیت کیا ہے ؟ تریپولی کی تعیناتی کے بعد یہ سوال بھی اٹھنا لازمی ہے ۔امریکی فوجی نے سنیچر کو اس نے ایران کی جانب سے لانچ کئے گئے ڈرون کو تباہ کر دینے کا دعویٰ کیا ۔وہیں اب ہرمز میں یو ایس ایس تریپولی کی تعیناتی کی تازہ خبر آئی ہے ۔سوال اٹھتا ہے کہ اب ایران پر زمینی حملہ ہونے جارہا ہے ؟ امریکہ اور ایران کے بیچ امن مذاکرات کہنے کو تو ابھی جاری ہیں لیکن زمین اور سمندر پر جو حالات نظر آرہے ہیں وہ کچھ اور ہی کہانی کی جانب اشارہ کررہے ہیں ۔پچھلے 72 گھنٹوں میں ہوئی کئی فوجی کاروائیوں نے مغربی ایشیا میں نئے سوال کھڑے کر دئیے ہیں ۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ صرف ایران پر دباؤ بنارہا ہے یا پھر ہرمز جل ڈروم وسط پر بالادستی حاصل کرنے کی تیاری کررہا ہے ؟ کیوں کہ جو تیاری امریکہ کررہا ہے اسے دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ اب ایران کے آئی لینڈ پر قبضہ کرنے جارہا ہے ؟ ان واقعات کی شروعات اس خبر سے ہوئی جس میں بتایاگیا کہ ایرانی جھنڈے والے چار تیل ٹینکر ہرمز پار کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔یہ جہاز مبینہ طور پر قریب 70 لاکھ بیرل تیل لے کر نکلے تھے اور بندشوں کے باوجود آگے بڑھ گئے ۔لیکن اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعدا مریکی انڈو پیسفک کمانڈ نے اعلان کیا کہ اس نے بحر ہند میں ممنوعہ تیل ٹینکر ، ڈیبینا کو روک کر اس پر قبضہ کر لیا ہے ۔فی الحال یہ صاف نہیں ہے کہ قبضہ میں لیا گیا جہاز انہیں 4 ٹینکروں میں سے ایک تھا یا نہیں ۔لیکن ٹائمنگ نے کئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے ۔اس مسئلے پر سنبھل ہی رہا تھا کہ اس پر امریکہ نے حملہ کر دیا ۔سنیچر کو ہی امریکی سنٹرل کمان نے دعویٰ کیا کہ اس نے ہرمز کی جانب بڑھ رہے 4 ایرانی حملہ آور ڈرون مار گرائے ۔اس کے فوراً بعد امریکی فوج نے ایران کے گوشک اور کیشم جزیرہ پر موجود ساحلی راہار ٹھکانوں پر حملے کئے ۔یہ پہلی بار نہیں ہے جب کیشم کو نشانہ بنایاگیا ہے ۔لیکن موجودہ حالات میں اس جزیرہ کا نام بار بار سامنے آنا فوجی تجزیہ کاروں کی توجہ کھینچ رہا ہے ۔جواب میں ایران نے بھی کویت اور بحرین کی جانب سات میزائلیں داغی اس میں سے چھ کو امریکہ نے روکنے کا دعویٰ کیا ۔اسی بیچ امریکہ نے یو ایس ایس تریپولی کی بحر عرب اور ہرمز خطہ میں تعیناتی کی ہے۔ یو ایس ایس تریپولی کوئی عام جنگی بیڑا نہیں ہے یہ ایک عمار حملہ آور جہاز ہے ، جس کا مطلب ہے کہ یہ جہاز پانی سے تو حملہ کر ہی سکتا ہے ضرورت پڑنے پر زمین کے بے حد قریب جاکر فوجیوں کو اتار بھی سکتا ہے ۔ایسے جہاز سمندر سے سیدھے فوجی آپریشن چلائے جانے کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔ اِدھر کیشم ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اوریہ ہرمز کے مہانے پر موجود ہے ۔اسے نہ ڈوبنے والاایئر کرافٹ کیریئر بھی کہاجاتا ہے ۔ایران نے یہ برسوں سے راڈار سسٹم ، ڈرون بیس ، اینٹی شپ میزائلیں ، انڈر گراؤنڈ سرنگیں اور بحری اڈے بنائے ہوئے ہیں اگر امریکہ اس جزیرہ پر قبضہ کر لیتا ہے تو اسے کئی اسٹریٹجک فائدے مل سکتے ہیں ویسے امریکہ کے لئے کیشم پر قبضہ بالکل بھی آسان نہیں ہونے والاہے ۔اس کا مطلب ہوگا کہ سیدھے انگاروں کو ہاتھ میں لینا ہے ۔کیشم ایرانی زمین سے بے حد قریب ہے اگر امریکہ اپنے فوجیوں کو یہاں اتارتا ہے تو اسے ایران کی میزائلیں، ڈرون اور بحری حملوں اور امکانی گوریلا جنگ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یو ایس ایس تریپولی کی موجودگی کیشم پر مسلسل حملے اور تیاریوں کو روکنے جیسی کاروائیوں نے یہ بحث تیز کر دی ہے کہ امریکہ ہرمز پر حکمت عملی بڑھت لینے کی کوشش کررہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ امن بات چیت کرنے کے باوجود مغربی ایشیا میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے ۔
(انل نریندر)

شانتی و امن کا دشمن :نیتن یاہو

جب بھی پچھلے 80 برسوں کی تاریخ لکھی جائے گی اس میں دو ناموں کا خاص تذکرہ ہوگا جب بھی انسانیت کے قتل عام کا ذکر آئے گا اس میں پہلا نام جرمنی...