Translater

19 مئی 2026

چین سے کیا لے کر لوٹے ٹرمپ

2025 میں امریکہ کے اقتدار میں واپس لوٹے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پوری دنیا کے ساتھ رنگ باز کی طرح پیش آرہے تھے ۔ایک سال میں کئی ملکوں نے ٹرمپ کی داداگیری کے تیور دکھانے والے ٹرمپ بیجنگ بھی انہیں تیوروں کے ساتھ پہنچے تھے لیکن جب لوٹے یہ تیور ٹھنڈے پڑ گئے ۔ان کا بھروسہ کچھ یوں غائب ہوا جیسے فری کے وائی فائی کا نیٹورک ۔ایسے میں جاننا ضروری ہو جاتا ہے کہ چین گئے ٹرمپ کیا دے کر آئے ہیں اور کیا لے کر لوٹے ہیں ؟ باہر سے چہرے پر مسکان کے پیچھے نقصان ہے یا فائدہ ؟ جتنی بڑی باتیں اتنی بڑی ڈیل ہمیں تو یہ نظر نہیں آئی ۔بیجنگ چھوڑنے سے پہلے ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہوئے معاہدے کو شاندار ٹریڈ سودہ بتایا ۔انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں سے دونوں ملکوں کو بڑا فائدہ ہوگا ۔ساتھ ہی ٹرمپ نے اسٹریٹ آف ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لئے چین کی مدد قبول کرنے کی بھی بات کہی ۔ٹرمپ نے کہا : ہم نے کچھ شاندار ڈیل کی ہیں جو دونوں ملکوں کے لئے بہت اچھی ہیں ۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس بات چیت کے دوران کئی مسائل بھی سلجھائے گئے ہیں ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین نے 200 بوئنگ طیاروں کی ڈیل پر بھی حامی جتائی ہے ۔یہ ایک محض ٹھوس ڈیل کہی جاسکتی ہے جو اس دورہ پر ہوئی لیکن اس پر ہی چین نے کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔اس دورہ میں ٹرمپ کا کیا رویہ پوری طرح بدلا ہوا تھا ۔عام طور پر جارحانہ اور ٹکراؤ والی سیاست کے لئے جانے جاتے ٹرمپ اس دورہ میں کافی نرم گو اور صبر وتحمل میں نظر آئے ۔انہوں نے شی جن پنگ کی تعریف میں اتنے قصیدے پڑھے جتنے شاید کسی اور وزیراعظم ،صدر کے لئے پڑھے ہوں ۔جن پنگ کی تعریف میں چند پڑھے قصیدے زیلنسکی ہوں یا سابق صدر جوبائیڈن ، 1 سال میں ٹرمپ نے کئی ملکی ،غیر ملکی لیڈروں کی بے عزتی کرنے اور ان کا مذاق اڑانے میں کوئی قصر نہیں چھوڑی ۔ٹرمپ نے کہا -اگر آپ ہالی ووڈ جائیں اور چین کے لیڈروں کے کردار نبھانے کے لئے کسی اداکار کو ڈھونڈیں تو شی جن پنگ بالکل اسی طرح فٹ بیٹھیں گے ۔ٹرمپ کے چین دورہ میں ایک اہم ترین اشو تھا تائیوان وہاں بیجنگ اسے اپنا حصہ مانتا ہے جبکہ امریکہ لمبے عرصے سے تائیوان کی حمایت کرتا رہا ہے ۔لیکن حیرانی کی بات یہ رہی کہ پورے دورہ میں ٹرمپ نے تائیوان کا نام تک نہیں لیا ۔الٹا شی جن پنگ نے ٹرمپ کے منہ پر سنا دیا کہ آج تائیوان کی مدد کرنا بند کریں ۔اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو ہم آپ سے جنگ تک کرنے پر مجبور ہوں گے ۔اس پر بھی ٹرمپ نے کوئی رد عمل نہیں دیا ۔شی جن پنگ نے خبردار کیا کہ تائیوان کا اشو چین ،امریکہ رشتوں میں سب سے حساس ترین ، اہم ترین اشو ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسے صحیح طریقہ سے نہیں سنبھالاگیا تو دونوں ملکوں کے درمیان ٹکراؤ اور یہاں تک کہ جنگ بھی ہوسکتی ہے ۔ٹرمپ نے اپنے شوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوتھ سوشل پر بھی ایسا ہی بیان دیا جس نے لوگوں کو چونکا دیا ۔انہوں نے امریکہ کو گرتا ہوا ملک کہنے والی شی جن پنگ کی بات سے عدم اتفاق جتایا ۔حالانکہ ٹرمپ نے کہا کہ شی کا اشارہ بائیڈن انتظامیہ کے چار سالوں کے بھاری نقصان کی طرف تھا ۔ایک برطانوی تجزیہ نگار نے اپنے کالم میں ٹرمپ کے رویہ پر تلخ نکتہ چینی کی تھی ۔انہوں نے لکھا سودے کی کلا اب اس وقت چاپلوسی کی کلا جیسی لگتی ہے ۔جب دوسرے آدمی کے پاس سارے پتے ہوں انہوں نے کہا شی جن پنگ یہ بات جانتے تھے کہ دنیا کا سب سے بڑا تاجر بھی جانتا تھا لیکن شاید کمرے میں موجود ایک مسافر شخص جسے اس کا احسا س نہیں ہوا ، وہ خود ٹرمپ تھے ۔
(انل نریندر)

16 مئی 2026

ایران کی نیوکلیئر دھمکی

امریک کی طرف سے امن تجویز پر ایران کے جواب کو مسترد کئے جانے کے بعد مغربی ایشیا میں پھر سے جنگ کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے ۔امریکہ کی تجاویز کا ایران کی جانب سے دیے گئے جواب سے صدر ٹرمپ بوکھلا گئے ہیں ۔انہیں ایران کا جواب بالکل پسند نہیں آیا ۔اُدھر ایران نے امریکہ کو ایسی دھمکی دے دی ہے جو ٹرمپ کے لئے کسی بڑے کرائسس سے کم نہیں ہے۔ پہلے سے ہی جو امن مذاکرات وینٹی لیٹر پر تھے ، وہ اب اور نازک حالات میں پہنچ سکتے ہیں اس بار ایران نے صاف کر دیا ہے کہ وہ ویپنس گریڈ نیوکلیئر بم بنانے سے صرف ایک قدم دور ہے اور اسے حاصل کرنے کا حکم قریب ہی دے سکتا ہے ۔نیوکلیائی حملے کو لےکرایران نے سخت وارننگ دیتے ہوئے لحظہ میں 90 فیصد تک افزودگی یورینیم کو صاف کرنے کی بات کہی ہے ۔ایران کی پارلیمنٹ کے ترجمان ابراہیم رضائی نے منگلوار کو کہا ہے کہ ا گر ایران پر پھر حملہ ہوا تو وہ یورینیم کو 90 فیصد صاف کرسکتا ہے ۔ایسے میں یہ یورینیم نیوکلیئر ہتھار کے لئے کارگر ہوگا ۔یہ وارننگ انہوں نے ایکس کے ذریعے سے دی ہے ۔پچھلے جون 2025 میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملے کی وجہ سے ایران کے یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو نقصان پہنچا تھا ۔فی الحال جو متعلقہ یورینیم 60 فیصد ایران کے پاس ہے جس کی مقدار تقریباً 400 کلو ہے ۔فی الحال اس کے بارے میں کسی طرح کی جانکاری نہیں ہے ۔امریکہ مسلسل ایران سے نیوکلیائی پروگرام ترک کرنے کی مانگ کررہا ہے ۔ادھر امریکی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جب تک ایران کے اس یورینیم افزودگی کو نہیں ہٹایاجاتا تب تک کسی طرح کا اثر ایران نیوکلیائی پروگرام پر نہیں پڑے گا ۔28 فروری سے جاری جنگ میں فی الحال سیز فائر چل رہا ہے لیکن یہ بے حد ہی حساس ترین سیز فائر ماناجارہا ہے ۔ایسے میں دونوں فریق کسی بھی ٹھوس نتیجہ پر نہیں پہنچے ہیں ۔امریکہ لگاتار مانگ کررہا ہے کہ ایران اپنے نیوکلیائی پروگرا م کو چھوڑ دے ۔لیکن ایران بھی اپنی شرطوں پر اڑا ہوا ہے ۔ایران بولا -امریکہ کے پاس تجویز تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے ۔وہیں امریکہ کے پاس ایران کی طرف سے بتائے گئے 14 نکاتی تجویز کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ایسا ایران کے اسپیکر محمد باقر غالیباف نے کہا جتنا امریکہ دیر کرے گا وہاں کے ٹیکس دہندگان کو اتنی ہی بڑی قیمت چکانی پڑے گا ۔انہوں نے ساتھ کہا ہے کہ ایران ہر متبادل کے لئے راضی ہے ۔پلٹوار کرنے کو تیار ہے ۔ایسا حملہ کرے گا کہ امریکہ بھی چونک جائے گا ۔ایران اور جھکنے کے موڈ میں نہیں نظر آرہا ہے ۔سابق صدر حسن روحانی نے بھی کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم 90 فیصد تک جائیں گے اب جب ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں ہیں اور تہران کے خلاف سخت رخ اپنا رہے ہیں تو میں نیوکلیئر کانڈ کی پوری دنیا کو ایک ایسی جنگ میں جھو نک سکتا ہے ۔اسے روکنا شاید کسی کے بس میں نہیں ہوگا ۔
(انل نریندر)

14 مئی 2026

نیتن یاہو کی کھلی وارننگ: ابھی جنگ ہو سکتی ہے

ایران او ر امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے باوجود مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کی لپٹیں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں ۔اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایک امریکی ٹی وی چینل پر ایک دھمکاکو انٹرویو دیتے ہوئے صاف کر دیا ہے کہ ایران کا نیوکلیائی خطرہ ٹلا نہیں ہے ۔نیتن یاہو کا یہ پیغام نہ صرف ایران بلکہ ٹرمپ انتظامیہ اور پوری بین الاقوامی برادری کے لئے ایک بڑی وارننگ ہے ۔وزیراعظم نیتن یاہو نے سی بی ایس کے صحافی اسکارٹ پیلی کو دیے 18 منٹ کے انٹرویو میں پہلی بار ایران کے نیوکلیائی ذخیرے کی تفصیلات پیش کیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ابھی بھی 440 کلو گرام 60 فیصد افزودگی یورینیم کا ذخیرہ ہے ۔نیتن یاہو نے سخت لحظہ میں کہا جنگ بندی اپنی مرضی ہے لیکن نیوکلیائی خطرہ ختم نہیں ہوا ہے ۔آپ وہاں جائیں گے اور اسے ہٹا دیتے ہیں ابھی کام پورا ہونا باقی ہے ۔نیتن یاہو نے ایک اہم ترین بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اب امریکہ کی فوجی مدد 3.8  بلین ڈالر سالانہ پر اپنی ایکسپورٹ میں کمی کرنی چاہیے انہوںنے اشارہ دیا کہ اسرائیل اپنی حفاظت کے لئے پوری طرح آزاد ہونے کا پلان بنارہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر بغیر کسی باہری دباؤ کے کاروائی کر سکے ۔ اس انٹرویو کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹوٹھ سوشل پر لکھا : ہم اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں ۔بنجامن ایک بڑے ایک مہان لیڈر ہیں اور ہم دونوں ایک پیج پر ہیں ۔اس سے صاف ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پالیسی اور بھی جارحانہ ہوسکتی ہے ۔ایران نے پاکستان کے ذریعے جو امن تجویز بھیجی تھی اسے اسرائیل نے بھی ایک خانہ پوری قرار دیا ہے ۔اسرائیل کا ایک ہی موقف ہے جب تک سارا افزودگی یورینیم دیش سے باہر نہیں جاتا تو کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔نیتن یاہو کے اس موقف نے صاف کر دیا ہے کہ اسرائیل ایک طرفہ کاروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا ۔یہاں ایک طرف دنیا امن کی امید لگائے بیٹھی ہے ،وہی نیتن یاہو یہ بیان دے کر یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مغربی ایشیا کی سیاست اور سیکورٹی کے لئے فیصلہ کن ہونے والی ہوسکتی ہے ۔کیا یہ محض ایک ڈپلومیٹک دباؤ ہے یا اسرائیل سچ میں کسی بڑی فوجی کاروائی کی تیاری میں ہے ؟ امریکہ جہاں ایران کے ساتھ امن چاہتا ہے وہیں اسرائیل اس سمت میں بڑا روڑا بنتا دکھائی دے رہا ہے ۔امریکہ بیشک ایران سے جنگ ختم کرنا چاہتا ہو لیکن اسرائیل ہے کہ اسے یہ کرنے نہیں دے رہا ہے ۔امریکہ ایک طرفہ چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ اس کی صلح ہو جائے ، وہیں اسرائیل ایسا ہونے نہیں دے گا اور لڑائی جاری رکھنے میں بنجامن نیتن یاہو کے ذاتی مفاد بھی ہیں اس پر کرپشن کے الزام لگے ہوئے ہیں اور اسرائیلی عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمے چل رہے ہیں ان سے بچنے کے لئے نیتن یاہو کہیں نہ کہیں جنگ کو بڑھاوا دیتا ہے اور اس کی آڑ میں عدالتوں سے بچتا رہتا ہے اس لئے اگر ایران سے جنگ بندی ہو تو وہ لبنان میں جنگ شروع کر دیتا ہے ۔جب ایران اور امریکہ کی سیز فائر کی بات ہوئی تب بھی نیتن یاہو نے صاف کہا کہ اس میں اسرائیل-لبنان جنگ شامل نہیں ہے ۔وہ مشرقی وسطیٰ میں کسی بھی سمجھوتہ کو توڑنے میں لگا رہتا ہے۔ اصل جنگ کا قصوروار نیتن یاہو ہے ۔
(انل نریندر)

12 مئی 2026

سیز فائر اور جنگ

ایک طرف تو امریکہ ایران کے درمیان کہنے کے تو سیز فائر یعنی جنگ بندی چل رہی ہے ۔وہیں دوسری طرف جنگ بھی جاری ہے ۔یہ سیز فائر اپنی سمجھ سے تو باہر ہے ۔دعویٰ کیاجارہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے بیچ اگلے ہفتے اسلام آباد میں بات چیت ہو سکتی ہے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان 14 نکاتی معاہدے پر کام چل رہا ہے ۔جس میں نیوکلیائی پروگرام ،ہرمز کشیدگی جیسے اشوز شامل ہیں اس درمیان ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے رول کو لے کر بھی نئی جانکاری سامنے آئی ہے ۔امریکی ایجنسیاں انہیں جنگ اور بات چیت میں اہم مان رہی ہیں ۔رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے بیچ اگلے ہفتے اسلام آباد میں جو بات چیت ہونی ہے اس میں ایک اہم اشو ایک ماہ چلنے والی بات چیت کے خاکے کوتیار کرنا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے بیچ کشیدگی اور جنگ ختم کی جاسکے ۔رپورٹ کے مطابق اس تجویز میں ایران کے نیوکلیائی پروگرام اور ایران کے پاس موجودہ ہائی اینرچ یورینیم کو کسی دوسرے دیش میں بھیجنے جیسے اشوز شامل ہیں ۔حالانکہ کئی اہم معاملوں پر ابھی بھی اتفاق رائے نہیں ہوپایا ہے ۔سب سے بڑا تنازعہ نیوکلیائی پروگرام اور امریکہ کی طرف سے ایران پر لگی پابندیوں میں راحت کو لے کر ہے ۔اس درمیان ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو لے کر جانکاری بھی سامنے آئی ہے ۔امریکی خفیہ ایجنسیوں کا خیال ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگ کی حکمت عملی طے کرنے اور امریکہ سے بات چیت کو سنبھالنے میں بڑا رول نبھا رہے ہیں ۔اہم ترین یہ ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ٹھیک ہیں اور انہوں نے اپنی کمان سنبھال لی ہے ۔ایک طرف تو سیز فائر جاری ہے اور ڈیل کی بات ہورہی ہے دوسری طرف ہرمز کو لے کر خطرناک جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کو ایک بار پھر جھٹکا لگا ہے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو امریکہ اور ایران کے بیچ حملے پھر شروع  ہو گئے ہیں ۔حملے کے درمیان 8 اپریل 2026 سے چلی آرہی نازک جنگ بندی ٹوٹنےکے دہانے پر پہنچ گئی ہے ۔یہ حملے ہرمز ، کیرام اور بدر عباس علاقہ میں ہوئے ہیں ۔اسٹریٹ آف ہرمز میںہوئی اس جھڑپ کے بعد پورے علاقہ میں کشیدگی پھر سے انتہا پر پہنچ چکی ہے ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ بدتمیزی کی ہے ۔حالانکہ انہوں نے یہ بھی امید جتائی ہے کہ سمجھوتہ اب بھی ممکن ہے ۔امریکہ کے سنٹرل کمان (سنٹکام ) کے مطابق ایرانی فوج نے اسٹریٹ آف ہرمز میں تعینات تین امریکی جہازوں پر میزائلوں اور ڈرون اور چھوٹی بحری کشتیوں سے حملہ کیا ہے ۔حالانکہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے ۔اور جوابی کاروائی میں ایران کے ان فوجی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے جہاں سے یہ حملے شروع ہوئے تھے ۔دوسری جانب ، ایرانی میڈیا تہران ٹائمس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کے سبب ان کے جہازوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا ہے ۔ایرانی فوج کے ترجمان نے واشنگٹن پر سیز فائر خلاف ورزی کا سیدھا الزام لگایا ہے اور ساری دنیا کی نظریں اب مجوزہ اسلام آباد میں امن بات چیت پر ٹکی ہیں ۔تمام دنیا چاہ رہی ہے کہ یہ جنگ رکے اور خطہ میں امن چین پھر سے قائم ہو ۔
(انل نریندر)

09 مئی 2026

ایران نے خلیجی ملکوں پر حملہ کیوں کیا؟

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی جوابی کاروائی روایتی نشانوں سے آگے بڑھ گئی ہے ، اس نے خلیجی ملکوں میں مسلسل حملے کئے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے ۔متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس پر میزائل اور ڈرون سے حملہ کیا ،جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم نے روکا۔ فوٹیج میں ایک تیل فیسلٹی پر ایک ڈرون گرنے سے آگ لگ گئی جس میں تین ہندوستانی زخمی ہو گئے ۔اس سے پہلے ٹینکر پر ڈرون حملے کی واردات سامنے آئی تھی ۔امریکہ -ایران کے درمیان سیز فائر کے بعد اس طرح کا پہلا حملہ ہے ۔الجزیرہ اخبار کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای کے وزارت دفاع نے پیر کی شام بتایا کہ دیش کے الگ الگ حصوں میں بیلسٹک میزائل ،کروز میزائل اور ڈرون کو انٹرسیپٹ کیا جارہا ہے ۔ایران نے خلیجی ملکوں میں امریکہ سے وابستہ ڈیجیٹل ہب ، کلائیڈ انفراسٹرکچر اور ڈیٹا سنٹرس کو نشانہ بنا کر جنگ کے دائرہ کو مزید پھیلا دیا ہے ۔ایران کی اسلامک ریبولیوشنری گارڈس کارف (آئی آر جی سی ) نے کہا کہ اس نے یو اے ای اور بحرین میں ڈیٹا سنٹرس پر ڈرون حملے کئے یہ آج کی جنگ میں ایک اہم ترین واقعہ ہے جس میں صرف سائبر دراندازی کے بجائے عام لوگوں سے جڑے کلائیڈ انفراسٹرکچر پر سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت حملے کئے گئے ہیں ۔ایرانی سرکار میڈیا نے بتایا کہ اس کا مقصد ان ڈیٹا سنٹروں کی ورمن کی فوجی اور دیگر سرگرمیوں میں مدد کرنے والے رول کو سامنے لانا اور اسے روکنا ہے ۔موجودہ دور میں کلائیڈ انفراسٹرکچر اب دہرے استعمال والی حکمت عملی ہب کے طور پر ابھرا ہے ۔یہ بینکنگ ایویشن ،ہیلتھ کیئر ،کارپوریٹ کام کاج اور ای گورنمنٹ جیسے سیکٹروں میں عام لوگوں کو خدمات دیتا ہے ۔اس کے علاوہ وہ فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے کاموں میں مدد بھی کرتا ہے جس میں اے-آئی پر مبنی تجزیہ ،سیٹلائٹ تصاویر کی پروسیسنگ ،لاجسٹکس کے پلان بنانا اور کمانڈ اینڈ کنٹرول میں مدد کرنا شامل ہے ۔امریکہ خاص طور پر بڑے پیمانہ پر کلائیڈ سیوائیں دینے والی کمپنیوں پر منحصر ہے ان میں ایمازون ،مائیکروسافٹ اور گوگل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل ہیں ۔ایران کا خیال ہے کہ ان سنٹروں کو نشانہ بنانے سے جنگ کی حکمت عملیاں پوری طرح بدل جائیں گی۔ اور اس سے لڑائی کی سمت پر گہرا اثر پڑسکتا ہے ۔یو اے ای اس لئے بھی ایران کے نشانہ پر ہے کیوں کہ اس کا ماننا ہے کہ یہ امریکہ ،اسرائیل کے اشاروں پر کام کرتا ہے اور اپنی زمین کا ایران پر امریکی حملوں کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ریسرچ کنندہ خالد ولید نے لندن سے شائع اخبار القدوس العربی میں لکھا : یہ دکھاتا ہے کہ ان کی حکمت عملی میں بہت سی تبدیلی آئی ہے اب جگہوں کو نہیں بلکہ اس سسٹم کو نشانہ بنایاجارہا ہے جو نگرانی کا کام کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا ، اس نظریہ سے دیکھیں تو یہ کمپنیاں اب صرف تکنیکی خدمات دینے تک محدود نہیں رہ گئی ہیں بلکہ وہ ایک سیدھے یا درپردہ طور سے فوج کے فیصلے لینے کی کاروائی کی چین کا حصہ بن گئی ہے ۔
(انل نریندر)

07 مئی 2026

مناب اسکول پر حملے کیلئے پینٹاگن کی خاموشی

سابق سرکردہ فوجی وکیل سمیت امریکہ کے پانچ سابق حکام نے اس سال کی شروعات میں ایران کے ایک اسکول پر ہوئے خوفناک حملے میں امکانی امریکی رول کو تسلیم کرنے پر پینٹاگن (امریکی وزارت دفاع) کی نکتہ چینی کی ہے ۔ان میں سے کچھ نے کہا کہ اتنے لمبے عرصہ بعد بھی حملے کی بنیادی تفصیلات تک جاری نہ کرنا بے حد غیر موضوع ہے ۔ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری کو امریکہ ،اسرائیل جنگ کی شروعاتی کاروائی کے دوران مناب میں ایک پرائمری اسکول پر میزائل گری جس میں قریب 110 بچوں سمیت 168 لوگوں کی موت ہوئی تھی ۔اس کے بعد گزرے دو ماہ میں پینٹاگن نے صرف اتنا کہا ہے کہ اس واقعہ کی جانچ جاری ہے ۔مارچ کے آغاز میں امریکی میڈیا نے خبر دی تھی کہ امریکی فوجی جانکاروں کا خیال ہے کہ شاید امریکی فورس انجانے میں اسکول پر حملے کے لئے ذمہ دار تھے لیکن آخری نتیجہ تک نہیں پہنچے تھے ۔بی بی سی نے اس حملے اور اس کی شفافیت کی کمی کے الزامات پر کئی سوال پوچھے جس پر پینٹاگن کے ایک افسر نے بتایا کہ اس واقعہ کی جانچ جاری ہے ۔لیفٹننٹ کرنل ریملائی وین لینگڈز کہتی ہیں کہ امریکہ کی موجودہ حالات عام رد عمل سے صاف طور پر الگ ہے ۔انہوں نے امریکی ایئر فورس میں جج ایڈوکیٹ جنرل رہ چکی ہیں نے بتایا کہ پچھلی حکومتوں نے کم سے کم جنگ قانون کے تئیں وفاداری اور عزم دکھائی تھی ۔موجودہ انتظامیہ کے بیانوں میں جوابدہی کے عزم غائب ہے ۔سب سے اہم یہ یقینی کرنا بھی کہ ایسا دوبارہ نہ ہو ۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے 7 مارچ کو کہا تھا کہ ان کے نظریہ میں مناب حملے کے لئے ایران ذمہ داری ہے لیکن انہوں نے کوئی ثبوت نہیں دیا ۔کچھ دن بعد جب ان سے مناب اسکول کے پاس فوجی اڈے پر امریکی ٹام ہاک میزائل گرنے کا ویڈیو دکھائے جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : میں نے یہ نہیں دیکھا ساتھ ہی ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس بھی ٹام ہاگ میزائلیں تھیں ۔11 مارچ کو جب ان سے ان خبروں کے بارے میں پوچھا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ شروعاتی فوجی ملیٹری جانچ میں پایا گیا کہ امریکن اسکول پر حملہ کیا تھا ۔تو ٹرمپ نے کہا مجھے اس کے بارے میں نہیں پتہ ۔امریکہ کے وزیر دفاع ویٹ ہیگ سیتھ سے چار مارچ کو بی بی سی نے اس حملے پر سوال کیا تھا تو انہوں نے کہا کہ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس کی جانچ کررہے ہیں ۔یہی نہیں امریکی محکمہ دفاع نے اس حملے پر کئی سوالوں کے جواب دینے سے انکار کر دیا ۔پچھلے مہینے بی بی سی نے آزادانہ طور سے حملے کے ویڈیو کی تصدیق کی تھی جس میں اسکول کے پاس ایرانی ریوولوشنری گارڈس کور (آر آر جی سی) کے اڈے پر امریکی ٹام ہاگ میزائل گرتی نظر آرہی تھی ۔پینٹاگن کے ایک سینئرسابق مشیر ویس برانچر نے بھی بی وی سی کو بتایا تھا کہ شرعاتی فوجی جانچ عام طور پر دو باتیں طے کرنے کے لئے ہوتی ہیں ۔پہلی کہ کیا شہری نقصان حقیقت میں ہوا ؟دوسرا کیا اس وقت علاقہ میں امریکہ سرگرم تھا یا نہیں ؟ جب دونوں شرطیں پوری ہو جاتی ہیں تبھی باقاعدہ جانچ شروع کی جاتی ہے ۔پروسیس کے لحاظ سے یہ اور بھی صاف اشارہ دیتا ہے کہ وہ پہلے سے جانتے ہیں کہ یہ امریکہ کی وجہ سے ہوا نہیں تو وہ یہ جانچ نہیں کررہے ہوتے وہ بس اسے تسلیم کرنا چاہتے ہیں یا اس پر بولنا نہیں چاہتے ۔پچھلے سال امریکہ کے ڈیفنس محکمہ نے نوکریوں کی چھٹنی کی تھی اس میں فوجی عملہ بھی شامل تھے ۔امریکہ قبول کرے نہ کرے اس نے انسانیت کا قتل کیا ہے۔ جسے کبھی معاف نہیں کیاجاسکتا ۔
(انل نریندر)

05 مئی 2026

آپ اور ٹرمپ لگاتار جھوٹ بول رہے ہیں

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی ایران جنگ پر جنتا کو جھوٹ بولنے اور گمراہ کرنے و سینئر فوجی افسران کو ہٹانے کے الزامات کو لے کر نمائندہ سبھا کی مسلح سروس کمیٹی میں سماعت ہوئی ۔پہلی بار جنگ شروع ہونے کے بعد وزیر دفاع پیٹ ہیگس سیدھ کو ایران جنگ پر ڈیموکریٹک ممبران کا سامنا کرنا پڑا ۔گزشتہ بدھوار کو وہ ہاؤس آف آرمڈ سروس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے ان کے ساتھ جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اور وزارت دفاع کے چیف فائنانشیل افسر جولس ہسرٹ بھی موجود تھے ۔بحث کی شروعات میں ہیگ سیتھ نے ڈیموکریٹس اور کچھ رپبلکن نمائندوں کے بیان کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تبصرے امریکہ کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔اس دوران ہیگس سیتھ اور ڈیموکریٹ ایم پیز سے تلخ بحث ہو گئی ۔چھ گھنٹے کی سماعت میں ماحول گرم رہا ۔پارلیمنٹ کی نچلی ایوان میں ٹرمپ انتظامیہ کے 1500 ارب ڈالر کے ڈیفنس بجٹ پر بحث کے دوران یہ نوک جھونک ہوئی ۔پینٹاگون کے ذریعے جنگ کی تخمینہ لاگت 25ارب ڈالر بتانے پر ڈیموکریٹ بھڑک گئے اور انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دماغی صحت پر ہی سوال کھڑے کر دئیے ۔اس پر ہیتھ سیتھ نے پلٹ وار کیا کہ ٹرمپ سب سے تیز اور سوجھ بوجھ والے کمانڈر ان چیف ہیں ۔انہوں نے ڈیموکریٹ ممبر سے الٹا سوال کیا کہ کیا انہوں نے سابق صدر جوبائیڈن کی صلاحیت پر کمی کے سوال اٹھائے ۔ڈیموکریٹ ممبران نے امریکہ کے ذریعے شروع کی گئی ایران جنگ کو وار آف مائس بتایا ۔جسے کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کیا گیا ۔کیلکو ڈیموکریٹ ایم پی جون گرامینڈی نے کہا کہ آپ اور صدر شروع سے ہی اس جنگ کے بارے میں امریکی جنتا سے جھوٹ بول رہے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ وسط مشرق کی ایک اور جنگ کے دلدل میں پھنس گئے ہیں ۔ہیگ سیتھ نے اس بیان کو لاپرواہی بھرا بتایا اور کہا کہ ٹرمپ کسی دلدل میں نہیں ہیں ۔انہوں نے آگے کہا کہ صدر ٹرمپ کے تئیں آپ کی نفرت آپ کو اندھا کررہی ہے ۔حالانکہ کمیٹی کے کئی رپبلکن ممبران نے پینٹاگون کی حمایت کی ہے ۔فلوریڈا کے ایم پی کارلوس جی مینیل نے کہا کہ ایران سے امریکہ کے وجود کو خطرہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی 47 سال سے کہہ رہا ہے کہ وہ ہمیں مارنا چاہتے ہیں تو میں اس کی بات کو سنجیدگی سے لوں گا ۔تیل کی قیمتوں میں اضافے اور اس کی وجہ سے چیزوں کی قیمتوں پر اثر پر ایک ایم پی نے کہا کہ آپ کو شرم آنی چاہیے کہ آپ نے مناب میں ہوئے حملے میں 168 لوگ مارے گئے جن میں قریب 110 بچے شامل تھے ۔آج ہر امریکن بڑھتی مہنگائی سے پریشان ہیں ۔تیل کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھ رہی ہیں اور اس کے ذمہ دار آپ کے صدر اور آپ جیسے مشیر ہیں ۔کمیٹی کے سینئرڈیموکریٹ ممبر ایڈم اسمتھ نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی اور جنگ میں ایسا ہوتا ہے لیکن دو ماہ تک چپ رہ کر ہم نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہمیں پرواہ نہیں ہے ۔کیلیفورنیا کے بھارت نژاد ایم پی روکھنّا نے اس حملے کی لاگت پر سوال اٹھایا ۔اس پر ہیگ سیتھ نے کہا یہ حملہ ابھی انصاف کے دائرے میں ہے اور وہ اس کی لاگت پر رائے زنی نہیں کریں گے ۔اس کے علاوہ ڈیموکریٹ ایم پی سارا جیکس نے وزیر دفاع پیٹھ گیس سیتھ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دماغی حالت پر بھی سوال کھڑا کیا اس سوال پر پیٹھ گیس سیتھ اور سارا جیکف کے درمیان تلخ بحث ہوئی ۔ خبر ہے کہ اپوزیشن ڈیموکریٹ ممبر نے ہیگ سیتھ کے خلاف ہاؤس آف نمائندگان میں مقدمہ چلانے کی تجویز بھی لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس تجویز کے آنے کےبعد ایران جنگ معاملے میں ٹرمپ اور ہیگ سیتھ کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں ۔میگزین آؤٹ لیٹ ایکسس کے مطابق ہاؤس آف ڈیموکریٹس میں پانچ سنگین الزام لگاتے ہوئے ہیگ سیتھ کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ دیا ۔وزیر دفاع کوکابینہ سے ہٹانے کے لئے سینٹ اور ہاؤس میں دو تہائی ممبران پارلیمنٹ کی ضرورت ہوگی ۔
(انل نریندر)

چین سے کیا لے کر لوٹے ٹرمپ

2025 میں امریکہ کے اقتدار میں واپس لوٹے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پوری دنیا کے ساتھ رنگ باز کی طرح پیش آرہے تھے ۔ایک سال میں کئی ملکوں نے ٹر...