جمہوری حکومت کی بری شکل ہے سوائےان سبھی دیگر شکلوں کے جنہیں پہلے انجام دیا جاچکا ہے۔ یہ بات ونگزٹن چرچل نے1947 میں برطانیہ کے نچلے ہائوس آف کامن میں کہی تھی ۔ گزشتہ منگل کی رات اسرائیل کے چنائو نتیجے سامنے آنے لگے تو چرچل کا یہ قول یاد آگیا۔ اسرائیل کے پارلیمانی چنائو میں وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کی پوزیشن کمزور نظر آرہی تھی۔ اپوزیشن سے مل رہی کڑی چنوتی نے پھر مخلوط پارلیمنٹ کے آثار بڑھا دئے ہیں۔آخری نتیجے 4نومبر کو آئیں گے ۔ یہ لکھے جانے تک تقریباً 95فیصدی ووٹوں کی گنتی ہوچکی تھی۔ اسرائیل سینٹرل الیکشن کمیٹی کے مطابق وزیر اعظم نتن یاہو اور اپوزیشن اتحاد کے لیڈر گیدی آئنزن کوٹ دونوں ہی اکثریت سے دور ہیں۔نتن یاہو اتحاد کو 53 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے جبکہ گیدی آئزن کوٹ اتحاد کو 48سیٹیں ملنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ارب اتحاد کو 19سیٹیں مل سکتی ہیں۔ 120سیٹوں والی پارلیمنٹ (جیسنٹ)1973 کے بعد سب سے زیادہ پولنگ ہوئی ہے۔ اس چنائو نے مشرقی وسطیٰـ کے سب سے مضبوط جمہوریت میں نئی سرکار کی تشکیل کا کوئی واضح راستہ نہیں دکھایا۔ نتیجے غیر فیصلہ کن رہے اور پارلیمنٹ میں کسی بھی گروپ کو اکثریت نہیں ملی۔ بتادیں کہ اسرائیل میں کبھی بھی ایک پارٹی سرکار نہیں رہی۔ وہاں کا چنائو نظام ایسا ہے کہ الگ الگ پارٹیوں کو مل کر اتحادی سرکار بنانی پڑتی ہے۔ 17 اکتوبر 2023 کے خطرناک حملوں کا جواب کیسے دیا جائے اسے لیکر بھی اختلافات تھے۔ یرغمالوں کو بچایا جائے یا حماس کو تباہ کردیا جائے۔ اس کے بعد غزہ جنگ میں بڑی تعداد میں اسرائیلی رزیدی فوجی مارے گئے۔ایسے میں انتہائی کٹر پسند یہودی لوگوں کو فوج میں بھرتی سے ملی چھوٹ کو لیکر تنازعہ اور بڑھ گیاتھا۔ بنجامن نتن یاہو کی لیووڈ پارٹی کو بھاری نقصان ہوا ہے۔پھر بھی وہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی پارٹی بننے کی راہ پر ہے۔یہ سب ایسے وزیر اعظم نتن یاہو کی قیادت میں ہورہا ہے جن پر کرپشن اور اپنے اقتدار کو بنائے رکھنے کےلئے دیش کو جنگ میں جھونکنے کے الزام ہیں۔ ارب لوگوں کی اسرائیل کی کل آبادی کا قریب 20 فیصد ہے۔ان کی نمائندگی کرنے والی ارب پارٹیوں کو بھی بڑی کامیابی ملی ہے۔ انہیں قریب15فیصد ووٹ ملنے کا اندازہ ہے وہیں اپوزیشن گروپ میں گیڈی آئزن کوٹ کی قیادت والی وسطی نظریاتی کٹرپسند اور سائوتھ پنتھی پارٹیوں کے ممبر شامل تھے۔لیکن وہ اپنی خواہش کے مطابق تبدیلی لانے میں ناکام رہے۔ اتنے الگ الگ نظریات اور سیاسی مفادات کو ایک سرکار کی شکل میں ساتھ لانا اب اسرائیلی سیاست کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ کیا نتن یاہو اپنے مذہبی ساتھیوں کو چھوڑ کر اپوزیشن گروپ کے سائوتھ پنتھی لیڈروں کے ساتھ اتحاد بنانے کو راضی ہیں۔ ان کے ساتھ سرکار میں شامل ہونے کے لئے تیار ہوں گے؟ دیکھنا یہ بھی ہوتا ہے کہ فلسطینی لیڈر شپ والی ارب پارٹیاں کنگ میکر بن سکتی ہیں۔ رجحانوں نے انہویں 19سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے۔ چنائو کمپین کے دوران دونوں ہی اتحادوں نے ارب پارٹیوں کی حمایت لینے کے امکان کو مسترد کردیا تھا۔ ارب پارٹیوں کی بڑھتی طاقت نے پوری دنیا کو چونکا دیا ہے۔ اسرائیل کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے جب ارب پارٹیوں کوا تنی بھاری کامیابی ملی ہے۔ اب یہ ایک طرح سے سرپرائز ہی ہورہا ہے کہ نتن یاہو اور آئزن کوٹ مل کر سرکار بنائیں اور آدھی آدھی میعاد کے لئے اقتدار میں رہیں۔ اس سیاسی گروپ بندی کو سمجھنے میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے اور اس سے ٹرمپ کو بھی بھاری جھٹکا لگا ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ جب امریکہ کے کسی صدر نے اتنا کھل کر کسی وزیر اعظم کی حمایت کی ہو، جیسا ٹرمپ نے نتن یاہو کےلئے کی ہے۔ ٹرمپ نے تو یہاں تک دعوی کیا ہے کہ ان کی وجہ سے نتن یاہو یہاں تک پہنچے ہیں نہیں تو وہ چنائو ہار چکے ہوتے۔ خیر! اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اسرائیل میں کوئی سرکار بنتی ہے یا نہیں اور کیاپھر سے چنائو کرانے ہوںگے ؟
(انل نریندر)