Translater

23 جولائی 2026

کیا نیتن یاہو نیویارک میں گرفتار ہوسکتے ہیں؟

بین الاقوامی سیاست اور ڈپلومیسی کے گلیاروں میں اس وقت نیویارک سے اٹھی ایک آواز نے ہلچل مچا دی ہے ۔نیویار ک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میٹنگ میں حصہ لینے کے لئے نیویارک آتے ہیں تو ان کی گرفتاری ممکن ہے ۔لیکن ان کا دفتر اب بھی غور کررہا ہے ۔دی نیویارک ٹائمس کے پوڈکاسٹ انٹرویو میں ممدانی نے کہا کہ ان کا محکمہ قانون نیتن یاہو کی امکانی گرفتاری کے قانونی پہلوؤں پر سرگرم طریقہ سے غور کررہا ہے ممدانی نے اپنی چناؤ مہم کے دوران ایسا کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا ۔ممدانی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی جگہ جیل میں ہے ۔وہ ایک جنگی مجرم ہیں جن پر بین الاقوامی کرائم عدالت (آئی سی سی ) نے الزام لگائے ہیں کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی کئی سالوں میں ان کے اقدامات کے سبب جو حالات پیدا ہوئے ہیں ۔اسے دیکھتے ہوئے بہت سے لوگ یہی رائے رکھتے ہیں جب ممدانی سے پوچھا گیا کہ قانون اسے اس معاملے میں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے تو انہوں نے جوا ب دیا کہ اس پر ہمارا قانونی محکمہ میں غور وخوض چل رہا ہے لیکن ہم نے قومی سطح پر کئی بار دیکھا ہے کہ کچھ لوگ اپنے حساب سے قانون تھوپنے یا قانونی دائر ےسے باہر جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ہماری منشا ایسا کرنا نہیں ہے ۔بتادیں کہ بین الاقوامی کرمنل کورٹ نے 2024 میں وزیراعظم بنجامن نتین یاہو اور اسرائیل کے کچھ دیگر لیڈروں کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا ان پر 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد غزہ میں جنگی جرائم کے الزام لگائے گئے ہیں ۔یہ صرف ایک ساسی بیان نہیں بلکہ غزہ میں جاری انسانی ٹریجڈی سے دکھی دنیا کے ایک بڑے حصہ کے ضمیر کی آواز ہے ۔میئر ممدانی کا عزم بین الاقوامی کرمنل عدالت نے بنجامن نتین یاہو کے علاوہ سابق وزیردفاع گیلنٹ کے خلاف بھی گرفتاری وارنٹ جاری کئے ہوئے ہیں ۔ان لیڈروں پر غزہ جنگ کے ایک طریقہ کی شکل میں خطرناک ہتھیار کا استعمال کرنے ،کھاناپانی ،ایندھن اور دوائیوں جیسی ضروری چیزوں کی سپلائی کو ٹھپ کرتے ہوئے روکنے اور شہریوں پر جان بوجھ کر حملے کرنے جیسے سنگین الزامات ہیں ۔ممدانی نے اپنا ارادہ صاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیویارک شہر کے شعبہ قانون کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہیں تاکہ یہ جانا جاسکے کہ ان کے پاس ایک غیر ملکی لیڈر و ایک سربراہ مملکت کو حراست میں لینے کا کتنا اختیار ہے ؟ انہوںنے کہا کہ نیویارک شہرمیں قانون مجھے جو کچھ بھی کرنے کی اجازت دے گا ، ہم وہی کریں گے ۔حالانکہ کچھ قانونی واقف کاروں کا خیال ہے کہ امریکی آئی سی سی کا ممبر نہیں ہے ۔اس لئے میئر کے لئے ایسا کرنا مشکل ہوسکتا ہے ۔یہ لاف لاء اسکول کے پروفیسر ہیرالڈ ہیگزو کے مطابق اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹر کے باہر شہر کی سڑکوں پر چلتے وقت نیتن یاہو کی حالت خراب ہوسکتی ہے ۔اس امکانی قدم پر نیتن یاہو نے سخت رائے زنی کی ہے ۔انہوں نے ممدانی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے انہیں حماس کا حمایتی اور خفیہ طور سے امریکہ سے نفرت کرنے والاتک کہہ ڈالا۔نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل امریکی اقدار کے ساتھ کھڑا رہنے والاجمہوری ملک ہے ۔اُدھر ممدانی ان الزاموں کو مسترد کرتے ہیں ۔اس درمیان ممدانی کےبیان پر شوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے ۔کئی لوگوں نے ممدانی کا اسے بڑبولاپن بتایا ہے ۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائک والٹ سے نے اس خبر پر پوسٹ کیا میئر ممدانی میں یہ چار وجہ ہیں کہ اقوام متحدہ اسمبلی کے دوران نیویارک میں وزیراعظم نیتن یاہو کو کیوں نہیں گرفتار کیاجاسکتا ۔پہلا امریکہ کا اس معاہدہ کا حمایتی نہیں ہے جس پر بین الاقوامی کرمنل کورٹ کی قانونی نظم پر مبنی ہے ۔دوسرا اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹر سمجھوتہ کے مطابق میٹنگوں میں آنے والے غیر ملکی سرکاروں کے سربراہوں کو سیاسی تحفظ فراہم کرتا ہے ۔تیسرا صدر کی قانونی ایمیونٹی بھی ایسے معاملوں میں نافذ ہوتی ہے ۔چوتھا خارجہ پالیسی ایسے معاملوں میں فیڈرل سرکار کا اختیار مقامی انتظامیہ سے بالاتر ہوتا ہے اس لئے نیویار کے میئر کی خواہش یا اعلان سے ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھایاجاسکتا ہے ۔
(انل نریندر)

21 جولائی 2026

ہرمز ایران کا ٹرمپ کارڈ

ایران نے ہرمز اسٹریٹ بند کر امریکہ کے سبھی حکمت عملی حساب کتاب اور عالمی مارکیٹ کو ہلادیا ہے ۔یہ ایران کا ایسا ترپ کا پتا ہے جس نے ٹرمپ کو چاروں کھانے چت کر دیا ہے۔ ایران نے بغیر کوئی بڑا نیوکلیئر قدم اٹھائے صرف ایک ہی سمندری راستے کی چابی اپنے ہاتھ میں لے کر امریکہ کی پوری جنگ کی حکمت عملی کوبدل دیا ہے ۔اب امریکہ ایران کے درمیان جنگ کا سب سے بڑا اشو ہرمز کو کھولنے ، کھلوانے کا بن گیا ہے ۔یاد رہے کہ 28 فروری سے پہلے یہ ہرمز کبھی بند نہیں ہوا تھا۔ یہ خیال تو ایران کو تب آیا جب امریکہ نے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کئے ۔ایران نے ہرمز کو تالالگا کر امریکہ کے سامنے یہ صاف کر دیا ہے کہ اگر بات چیت کرنی ہے تو شرطیں ایران کی ہوں گی ۔ہرمز کا بند ہونا نہ صرف مشرق وسطیٰ میں ہی اثر ڈال رہا ہے لیکن اس کا اثر امریکہ میں بھی سیدھا پڑرہا ہے ۔میں بات کررہاہوں امریکہ میں ہونے والے مڈ ٹرم چناؤ جن میں ٹرمپ کی سیاسی قسمت بہت حد تک ٹکی ہوئی ہے۔ایران نے ٹھیک اسی وقت ہرمز پر دباؤ بنایا ہے جب امریکی ڈپلومیٹک سب سے کمزور موڑ پر ہے ۔ایرا ن سے جنگ امریکی ڈپلومیسی کے لئے ایک بڑا مس کیلکولیشن ثابت ہوا ہے ۔سیز فائر ختم ہونے کے بعد سے ہی امریکہ ایران پر میزائلیں داغ رہا ہے ۔اور ایران جوابی حملے کررہا ہے لیکن ایران نے پھر امریکہ کو جھکانے کے لئے اپنے برہماستر کا استعمال کیا ہے اور بارودی دھماکوں کے بیچ ایرا ن نے ایک بار پھر ہرمز کو بند کر دیا ہے ۔یہ ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ میں وسط مدتی چناؤ سر پر ہیں اور امریکہ کی عوام سے پیٹرول کے دام گرنے کا دعویٰ کررہے تھے ۔ایران نے ٹھیک اسی وقت امریکی معیشت کی سب سے کمزور نس مانی کچے تیل کی سپلائی پر پیر رکھ دیا ہے ۔امریکہ -ایران کے درمیان حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ہرمز اسٹریٹ میں کشیدگی بڑھنے اور کچے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی چناؤ پر اس کا سیدھا اثر پڑنے والاہے ۔والٹ اینڈ ووٹ سبھی تجزیے امریکی سیاست کا کڑا سچ ہیں ۔کیوں کہ امریکی سیاست میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ راشٹر پتی چاہے کوئی بھی وعدہ کریں لیکن ووٹر اپنا فیصلہ پیٹرول پمپ پر تیل کی قیمتوں کو دیکھ کر ہی طے کر تا ہے ۔اس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی مخالف پارٹی رپبلکن پارٹی پر بھاری سیاسی دباؤ بڑھے گا ۔صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد پیٹرول کے دام 2.5ڈالر فی گیلن تک لانے کا وعدہ کیا ہے ۔لیکن ہرمز کرائسس کے سبب کچے تیل کی قیمتیں 80 ڈال سے 100 ڈالر فی بیرل کو پار چلی گئی ہیں ۔جس سے پیٹرول کے دام گھٹنے کے بجائے بڑھ رہے ہیں ۔پیٹرول مہنگا ہونے کا مطلب کہ عام امریکی خاندان کے بجٹ پر سیدھا دباؤ پڑے گا ۔امریکی عوام کی جیب پر سیدھی مار ہوگی اس سے امریکہ میں مہنگائی بڑھے گی ، ٹرانسپوٹیشن ڈھلائی بڑھنے سے سپر مارکیٹ کے سامان کو لے کر ہوائی ٹکٹ تک سب مہنگاہو جائے گا ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی چناؤ سے ٹھیک پہلے امریکہ میں ایندھن کے دام بڑھے ہیں تو حکمراں پارٹی کو چناؤ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔جیسے 1980 میں جمی کارٹر کے ساتھ ہوا تھا ۔ہرمز بند ہوتے ہی عالمی مارکیٹ میں کچے تیل کے دام تیزی سے بڑھنے لگے ہیں ۔انٹرنیشنل بنچ مارک بریٹ کروڈ 3.92 فیصد سے بڑھ کر 78.99 فی بیرل ہو گیا ہے اور امریکی کچا تیل 3.44فیصد سے برھ کر 77.87ڈالر فی بیرل ہو گیا ہے ۔اگر ہرمز لمبے عرصہ تک یونہی بند رہتا ہے تو اس کا اثر امریکہ پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر پڑے گا اور ایسا ہونے سے روکنے کی چابی صرف ایران کے ہاتھ میں ہے ۔
(انل نریندر)

18 جولائی 2026

ٹرمپ : مجتبیٰ خامنہ ای 90 فیصدی ختم ؟

ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسوم میں بھی نہیں نظر آئے تھے ۔اور تب سے ہی ان کی صحت کو لے کر کئی طرح کی قیاس آرائیاں جاری ہیں ۔اس درمیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات چیت میں کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای مارے جاچکے ہیں ۔اورا ن کے بیٹے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای بھی 90 فیصدی ختم ہو چکے ہیں ۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کے پاس اب کوئی بحری فوج نہیں بچی ہے ۔ان کی ایئر فورس بھی نہیں بچی ہے ۔سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ ان کا ایئر ڈیفنس سسٹم بھی تباہ ہو چکا ہے ۔ان کے سبھی لیڈر مارےجاچکے ہیں ۔ان کے سب سے بہترین لیڈر مارے جاچکے ہیں ۔ا س سے پہلے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے سنیچر کو جاری ایک تحریری بیان میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلالینے کی کھائی قسم بیان میں کہا گیا تھا کہ ہمیں اپنے پاک خون اور ان دونوں جنگوں میں شہید ہوئے سبھی لوگوں کے خون کا بدلہ لینے کی قسم کھاتے ہیں ۔دنیا بھر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بدلہ لینے کو تیارہیں ۔اسی سال 23 اپریل کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمس نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایاگیا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای امریکہ اسرائیل کے اس حملے میں شدید طور پر زخمی ہو گئے تھے جس میںان کے والد علی خامنہ ای کی موت ہو گئی تھی ۔حالانکہ وہ ذہنی طور سے پوری طرح سرگرم ہیں ۔اخبار نے حکام کے حوالے سے کہا کہ ان کے ایک پیر کا تین بار آپریشن کیا گیا ہے اور اب انہیں آرٹیفیشل پیر لگائے جانے کا انتظار ہے ۔ان کے ایک ہاتھ کی بھی سرجری ہوئی ہے اور اس کی کام صلاحیت آہستہ آہستہ لوٹ رہی ہے ان کے چہرے ہونٹ پوری طرح جھلس گئے ہیں جس سے انہیں بولنے میں دشواری ہوتی ہے ۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آخر کار انہیں پلاسٹک سرجری کی بھی ضرورت ہوگی بتادیں اسی سال 28فروری کو امریکی ،اسرائیل ہوائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کےبعد مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر بنایاگیا تھا ۔تقرری کے بعد سے ہی وہ پبلک میں سامنے نہیں آئے انہوں نے کوئی ویڈیو پیغام بھی جاری نہیں کیا ہے ۔اس سب کو لے کر سوال اٹھے ہیں کہ اسی حملے میں وہ کتنے زخمی ہوئے تھے ؟ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دیگر تین بیٹے مسعود ،مصطفیٰ اور میسم اتوار کو منعقدہ تعزیتی مجلس میں شامل ہوئے تھے ان کے ساتھ صدر مسعود پزیشکیان اور ریبولوشنری گارڈس کے چیف احمد وحیدی سمیت کئی سینئر افسر بھی موجود تھے ۔جون میں جاری ایک بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا تھا کہ اصولی طور سے وہ امریکہ کے ساتھ ڈیل کے حق میں نہیں تھے لیکن صدر مسعود پزشکیان کی یقین دہانیوں کے بعد ہی انہوں نے اس کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ۔کویتی اخبار الجریدہ نے مارچ 2026 میں ایک رپورٹ شائع کی تھی اس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو شروعات میں علاج کے لئے ماسکولے جایا گیا تھا اس کے بعد مجتبیٰ کی صحت کو لے کرکوئی خبرنہیں آئی ۔اس وقت ماسکوخود غیر محفوظ ہے ۔وہاں لگاتار یوکرین حملے ہورہے ہیں ۔ اس لئے اس وقت چین کو مجتبیٰ کے لئے محفوظ ماناجاتا ہے ۔ایرانی عوام چاہتی ہے کہ جلد آیت اللہ مجتبیٰ عوام کے سامنے آئیں تاکہ دنیا دیکھے کہ وہ ٹھیک ہیں اورمحفوظ ہیں ۔
(انل نریندر)

16 جولائی 2026

آنکھ کے بدلے آنکھ !

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آنکھ کے بدلے آنکھ نام سے ایک فوجی آپریشن شروع کرتے ہوئے خلیجی خطہ میں موجود اڈوں پر میزائل حملے کئے ہیں ۔ایران کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کاروائی حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے ۔اس دعوے کے بعد پورے خطہ میں جنگ تیز ہو گئی ہے ۔امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصہ سے معاملہ چلاآرہا ہے اور کشیدگی اب ایک بار پھر کھلی جنگ کی شکل لے چکی ہے ۔یہ لڑائی اب صرف محدود علاقوں تک ہی نہیں رہی بلکہ پورے مشرقی وسطیٰ میں ، عالمی تیل مارکیٹ اور بین الاقوامی تجارت تک پھیل چکی ہے ۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگاکہ اب یہ جنگ بڑھتی جارہی ہے اور خوفناک رخ اختیار کر سکتی ہے ۔ایران کے سرکار ی میڈیا کے مطابق اس آپریشن کے تحت خلیجی خطہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایاگیا ہے ۔ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد ان اڈوں پر کاروائی کرنا تھا جہاں سے اس کے خلاف فوجی کاروائی کی گئی تھی ۔ایرا ن نے اس فوجی کاروائی کو آنکھ کے بدلے آنکھ ’’آئی فار این آئی ‘‘ کا نام دیاہے۔ اس نام کا سیدھا پیغام ہے کہ وہ اپنے خلاف ہوئی ہر فوجی کاروائی کا جواب دے گا ۔ایران طویل عرصہ سے کہتاآرہا ہے کہ اگر اس کے دیش کی سلامتی یا اس کے فوجی اڈوں پر حملہ ہوگا تو وہ جوابی کاروائی کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا اسی پالیسی کے تحت اس نے پہلے بھی کئی بار جوابی کاروائی کا اعلان کیا ہے ایران کی آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آئی فار این آئی آپریشن کے تحت یردن ،بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے ۔پہلے مرحلے میں یردن کے پرنس حسن ایئربیس پر میزائل اور ڈرون سے حملے کئے گئے ہیں دوسرے مرحلے میں بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئربیس پر حملہ کر ہیلی کاپٹر اور ڈرون سہولیات کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔تیسرے مرحلے میں کویت کے علی السلیم ایئر بیس اور احمد الزبر ایئر بیس پر حملے کا دعویٰ گیا ہے ۔ایران نے کہا کہ یہ کاروائی امریکی فوجی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے ۔خلیجی خطہ دنیا کو ایندھن سپلائی کا سب سے اہم مرکز ماناجاتا ہے ۔یہیں سے دنیا کے بڑے حصے میں کچے تیل اورنیچرل گیس کی سپلائی ہوتی ہے ۔اگر امریکہ ایران کے بیچ جنگ اور تیز ی پکڑتی ہے تو اس کا سیدھا اثر ہرمز اسٹریٹ پر پڑے گا بلکہ پڑنا بھی شروع ہو گیا ہے ۔امریکہ کے لگاتار حملوں کے جوا ب میں ایران نے ہرمز بند کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے ۔اس کا سیدھا اثر بین الاقوامی بازار میں قیمتوں اور شپنگ لاگت اور عالمی سپلائی چین پر پڑے گا۔ بھارت جیسے دیش جو اپنی تیل ضرورتوں کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے پورا کرتا ہے ۔وہ بھی اس سے متاثر ہو سکتا ہے ۔یہ پہلی بار نہیں جب ایران نے بدلے کے لئے فوجی کاروائی کا وعدہ پورا کر نے کی کوشش کی ہے ۔جنوری 2020 میں جنرل قاسم سلیمانی کی موت کے بعد ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغی تھیں ۔اپریل 2024 میں دمشق میں قائم ایرانی سفارت خانہ پر حملے کے بعد بھی ایرا ن نے پہلی بار سیدھے اپنی زمین سے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے کئے تھے اس سے صاف ہے کہ ایران اپنی سیکورٹی پالیسی میں جوابی کاروائی کو اہم ترین حکمت عملی مانتا ہے ۔
(انل نریندر)

14 جولائی 2026

ٹرمپ کے قتل کی سازش!

اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ ایسی نئی معلومات دینے کا دعویٰ کیا ہے ، جس میں ایران پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی سازش تیار کرنے کا الزام لگایا ہے ۔امریکی میڈیا میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے ٹرمپ اس پر بھڑک گئے اور اپنا آپا کھو بیٹھے ہیں ۔امریکہ کے مشہور اخبار دی وال اسٹریٹ جنرل میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے مطابق ،اسرائیل نے امریکہ کو بتایاہے کہ اس کے پاس خفیہ رپورٹ ہے اور خفیہ جانکاری ہے جس کے مطابق تہران ٹرمپ کے قتل کی نئی پلاننگ بنا رہا ہے ۔موساد نے یہ انٹیل شیئر کی ہے اور ٹرمپ سے کہا ہے کہ ایران کے ٹارگیٹ نمبر 1 پر ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا نیٹو کی سمٹ کے بعد ٹرمپ نے ڈر کر اپنا ایئرفورس وین بدل ڈالی اور امریکہ سے پرانا ایئر فورس 1 جہاز منگوایا اور اس میں واپس امریکہ پہنچے ۔اِدھر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران ان کے قتل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو انہوں نے پہلے ہی ایک حکم دے رکھا ہے کہ اگر ایران امریکہ پر حملہ کرتا ہے جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا ایسا جواب دیاجائے گا ۔ٹرمپ نے کہا کہ 1000 میزائلیں ایران کو اپنے نشانہ پر لیے ہوئے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران ان کا قتل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو انہوں نے پہلے ہی ایک حکم دے رکھا ہے ۔نیویارک پوسٹ میں دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اس حکم کے مطابق ایران پر اتنا بڑا جوابی حملہ کریں جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا ۔سوال اٹھتا ہے کہ کیا ٹرمپ ایسا کوئی حکم دے بھی سکتے ہیں یا پھر تاریخ میں کسی لیڈر نے ایسا حکم دیا تھا۔امریکی آئین کے تحت کوئی بھی صدر ایسا حکم نہیں چھوڑ سکتا کہ اس کی موت کے بعد اپنے آپ کسی دیش پر حملہ کر دیاجائے ۔کسی بڑی فوجی کاروائی کا فیصلہ اس وقت جو صدر ہوتا ہے وہی تب فیصلہ کرے گا کیوں کہ کمانڈر ان چیف کے حکم پر ہی امریکی فوج ایسا کچھ کرسکتی ہے ۔ٹرمپ کا یہ بیان صرف ایران کے لئے نہیں ،بلکہ امریکی عوام کے لئے بھی ایک سیاسی پیغام ماناجارہا ہے ایک طرف وہ اپنے حمایتیوں کے سامنے یہ ایمیج بنانا چاہتے ہیں کہ وہ نڈر ہیں اور وہ سخت لیڈر ہیں جو کسی بھی دھمکی کے آگے نہیں جھکیں گے ۔دوسری طرف ایران کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر اس کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی تو جواب پورے دیش کو ملے گا۔ سبھی جانتے ہیں کہ اسرائیل امریکہ ایران کے درمیان امن مذاکرات سے پریشان ہے اور اسے ہر حالت میں توڑنا چاہتا ہے۔ وہ ٹرمپ کتنے بہادر ہیں یہ بھی جانتا ہے اس سے بہتر کیا ہوسکت ہے کہ یہ خبر چلا دو کہ آپ ایران کے ٹارگیٹ نمبر 1 ہیں اس سے ٹرمپ ایران پر مجبوراً حملہ کر دیں گے اورا یک بار پھر جنگ شروع ہو جائے گی ۔ہوا بھی یہی امریکہ نے ایران پر تابڑ توڑ حملے کر دئیے اور ایران نے بھی زبردست جوابی کاروائی شروع کر دی ہے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا گیا ہے۔ ویسے ہم ٹرمپ اور نتین یاہو سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب آپ نے 28 فروری کو آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے تقریباً پورے خاندان کو نشانہ بنایا تھا جس میں ان کی 14 ماہ کی معصوم بچی بھی شامل تھی 40 سے زائد بڑے ملیٹری کمانڈروں کو بھی نشانہ بنایاگیا تھا تب آپ کو یہ خیال نہیں آیا تھا کہ ایران بھی ایسا کرسکتا ہے۔ اور اپنے سپریم لیڈر کے قتل کا بدلہ لے سکتا ہے ؟ اب جب اپنے اوپر پڑی تو آپ کو نانی یاد آگئی ۔ویسے بھی اسرائیل کے وزیر نے کھلے عام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو قتل کرنے کی کھلی دھمکی دی تھی ۔شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ کس طرح کروڑوں لوگوں نے اپنے رہبر کے قتل کا بدلہ لینے کی قسم کھائی تھی ۔ایران آپ سے بدلہ لے سکتا ہے اور لے بھی رہا ہے لیکن اس طرح نہیں جیسے نیتن یاہو اور موساد آپ کو بے وقوف بنا کر اپنے مفاد کی تکمیل کررہا ہے ۔
(انل نریندر)

11 جولائی 2026

20 دن بھی نہیں ٹک پائی جنگ بندی


امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر بنی رضامندی بنے ہوئے 20 دن بھی نہیں ہوئے کہ دونوںدیش پھر سے آمنے سامنے آگئے ہیں ،بلکہ امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا کہ میرے حساب سے اب جنگ بندی ختم ہو چکی ہے ۔دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر تباہ کن حملے شروع کر دئیے ہیں ۔یہ جنگ بندی بے اعتمادی کے ساتھ ہوئی تھی کہ دونوں ہی فریق ایک دوسرے پر بھروسہ نہیںکرتے تھے ۔امریکہ یہ جنگ بندی اس لئے چاہتا تھا کہ ٹرمپ امریکی عوام کے دباؤ کو جھیلنے میں مشکل کا سامنا کررہے تھے ۔اور وہ کسی بھی حالت میں اس جنگ کو روکنا چاہتے تھے ۔ چاہتے تو وہ یہ بھی تھے کہ کسی بااعتماد طریقہ سے وہ اس سے باہر نکلیں دوسری جانب ایران اس لئے تیار ہوا کہ اس نے سوچا کہ 20 دن کی جنگ میں جو نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی کر سکے اور اتنا ہی دباؤ امریکہ پر بنا سکے کہ وہ اس کی شرائط پر سمجھوتہ کر لے ۔حالانکہ وہ جانتا تھا کہ ٹرمپ جنگ بندی کی شرطوں پر ٹک نہیں سکیں گے لیکن پھر بھی اس نے جوا کھیلا ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان پھر سے جنگ چھڑ گئی ہے ۔ٹرمپ شاید اب اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ یہ جنگ اب ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ سکتی ہے اب وہ باامید ہوگئے ہیں اور ٹرمپ نے لمبے عرصہ کے بعد پھر سے حملے شروع کر دئیے ہیں ۔ٹرمپ کے اعلان کے بعدا مریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کئے ہیں فوج نے خود بیان جاری کر اس کی اطلاع دی ہے ایران کے الگ الگ علاقوں میں حملے کئے جارہے ہیں ۔اب جنگ موسیٰ آئیکلینڈ ، بندرعباس جیسے ایرانی اہم ترین ٹھکانوں پر امریکہ دھماکے کررہا ہے۔ چابہار میں بھی حملے ہوئے ہیں جس کے بعد اب یہاں بجلی سپلائی ٹھپ ہو گئی ہے ۔امریکہ کا کہنا ہے اسٹریٹ آف ہرمز میں ہوئے جہازوں پر حملے کا یہ بدلاہے ۔امریکہ سینٹرل کمان نے ہرمز اسٹریٹ آبی راستے میں آمد ورفت کو خطرے میں ڈالنے کو ایران کی صلاحیت اور کمزور کرنے کے لئے اس کے خلاف مزید حملے شروع کر دیے ہیں اب امریکہ اہم ترین بین الاقوامی آبی راستے پر آزادانہ طور پر آجارہے جہازوں اور شہری ٹیم کے خلاف حال ہی میں کئے گئےحملے کے لئے ایران کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے ۔جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں 85 جگہ میزائل اور ڈرون داغے ہیں ۔زیادہ تر حملے بحرین اور کویت میں امریکی بیس پرہوئے ۔ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ دھوکہ دینا امریکہ کی فطرت میں شامل ہے ۔لیکن ایران اپنا حق لے کر رہے گا ۔امریکہ کے حملوں کے بعد ایرانی صد ر اس افراتفری کے دوران عراق کے کربلا سے تحران لوٹ گئے ہیں اس درمیان دیر رات ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اگر حملہ کرتا ہے تو ہرمز کو پوری طرح سے بند کردیاجائے گا اس درمیان امریکہ نے ایران پر ایک بار پھر کچے تیل برآمدات پر روک لگا دی ہے ۔امریکہ نے معاہدے کے تحت ایران کو تیل بیچنے کی چھوٹ دی تھی ۔2019 کے بعد پہلی بار ایران کے ڈالر کے بدلے تیل بیچنے کی منظوری ملی تھی ۔ترکیہ میں ناٹو سمٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی لوگ بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں ان کے ساتھ آگے بات چیت کرنا وقت کی بربادی ہے ۔میں نے امن لانے کی کوشش کی لیکن اب جلد ہی قہر ٹوٹے گا۔ ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد بدھوار کی صبح ایران کے اہم بندرگاہ عباس سمیت 80 ٹھکانوں پر تابڑتوڑ ہوائی حملے کئے گئے ۔ایران کے 8 فوجی مارے گئے ہیں جبکہ 60 بجلی گھر ت باہ ہو گئے ہیں ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد بقر غالیباف نے ان حملوں پر رائے زنی کرتے ہوئے لکھا کہ امریکہ نے اب تک یہ نہیں سیکھا ہے کہ دھمکانے اور خود وعدے توڑنے کی قیمت اب اسے چکانی پڑے گی۔ میں صاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر آپ حملے کریں گے تو جوابی حملے بھی ہوں گے ۔یہ سنانے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں جیسے ایران اسٹریٹ آف ہرمز پر زیادہ بالادستی جمانے کی کوشش کررہا ہے ویسے ہی امریکی صدر بھی دنیا اور اپنے دیش واسیوں کو یہ دکھانے کے لئے بے چین ہے کہ وہ ایران کو اپنی شرطوں پر جھکنے پر مجبور کرسکتے ہیں ۔اب یہ جنگ لمبی کھچنے کا پورا امکان ہے ۔شاید اسرائیل بھی یہی چاہتا ہے کہ جنگ بندی ٹوٹے اور ایک بار پھر ایران پر مکمل حملہ ہو ۔
(انل نریندر)

09 جولائی 2026

ٹرمپ کا طنز: آنسو نقلی ہیں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ ایران میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتم سنسکار میں رو رہے تھے ۔ایکسیونس کا دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں لگا تھا کہ ایران کی عوام خامنہ ای سے نفرت کرتی ہے ۔ اس پر انہوں نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ شاید یہ آنسو نقلی ہوں ۔جنازے میں ایران کے اعلیٰ قیادت کے موجود ہونے کے سوال پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ چاہے تو ایک ہی حملے میں ایران کے موجودہ قیادت کو ختم کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ سبھی وہاں موجود ہیں ۔ایک ہی حملے میں سبھی کو ختم کر سکتے ہیں ، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے کیوں کہ پھر ہمارے پاس بات چیت کرنے کے لئے کوئی نہیں بچے گا ۔ایران نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خامنہ ای کی موت کے بعد چھائے گہرے شوک کو سمجھ نہیں پائے گا ، کیوں کہ نہ تو اس کی کوئی تہذیب ہے ، نہ ہی تاریخ اور نہ ہی سمان ۔ادھر ،ٹرمپ کے بیان پر سخت رد عمل دیتے ہوئے ارمونیا میں قائم ایرانی قونصل خانہ نے سوشل میڈیا پر کہا ، لوگوں کو مارا جاسکتا ہے پر نظریات کو نہیں ۔ آپ نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو مارڈالاپر اصل میں اپنے عطر کی ایک ایسی شیشی توڑ دی جس کی خوشبو ہر جگہ پھیل گئی ہے ۔بتادیں کہ ایران میں 36 سال تک حکومت میں رہے خامنہ ای کی 28 فروری کو امریکہ اسرائیلی حملے میں موت ہو گئی تھی ۔97 سال کے شیعہ مذہبی پیشوا آیت اللہ جعفر سومانی نے تہران کی گرینڈ مسلح میں آیت اللہ علی خامنہ ای ، و ان کے پریوار کے متوفی افراد کے لئے دعا کرائی ۔ یہاں آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مسعود ، میسام و مصطفیٰ بھی موجود تھے ۔ انہیں جنگ شروع ہونے کے بعد سے نہیں دیکھا گیا تھا ۔موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہیں دیکھے گئے ۔ ریوشنری گارڈ کے چیف جنرل احمد وحیدی بھی جنگ کے بعد پہلی بار دکھے ۔صدر مسعود پزیشکیان ، سنسد کے اسپیکر محمد باگھیر غالیباف و قدس بلوں کی قیادت کرنے والے اسماعیل تھانی بھی موجود تھے ۔ گرینڈ مسلح میں لگے پوسٹر وں و دیواروں پر لکھے پیغامات میں ٹرمپ و اسرائیل وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو مارنے کی مانگ کی گئی ۔کوی رسولی نے دعا سے قبل پروگرام کو چلایا اور امریکہ اسرائیل مراد آباد کے نعرے لگائے ۔اُدھر ،ایران کے سینئر آرمی افسر علی شادمانی نے امریکہ اور اسرائیل کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کاروائی کا اس کی مسلح افواج سخت جواب دیں گی ۔ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بھی دہرایا کہ دیش کی عوام یا قیادت کسی بھی خطرے کا فوری اور مضبوط جواب دیاجائے گا ۔یہ بیان اسرائیل کے وزیر دفاع کی ایرانی سپریم لیڈر کو مارنے کی دھمکی سے جڑے تبصرے کے بعد آیا ۔بتادیں کہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخر ی رسوم میں ان کے آخری دیدار کرنے کروڑوں لوگ سڑکوں پر اترے ۔ ایسی انتم یاترا دنیا میں پہلے کہیں بھی نہیں دیکھی گئی ۔انتم سنسکار میں بھارت سمیت 70 سے زیادہ دیشوں کے نمائندگان شامل ہوئے ۔وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ 70 سے زائد دیشوں کے نمائندگان سپریم لیڈر گریٹ آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتم سنسکار میں شامل ہوئے ۔ان میں ہمارے وفادار عرب بھائی بھی شامل ہیں ۔
(انل نریندر)

کیا نیتن یاہو نیویارک میں گرفتار ہوسکتے ہیں؟

بین الاقوامی سیاست اور ڈپلومیسی کے گلیاروں میں اس وقت نیویارک سے اٹھی ایک آواز نے ہلچل مچا دی ہے ۔نیویار ک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ...