Translater

22 ستمبر 2026

امت شاہ کا اعلان،مچ گیا گھماسان

اپنی سمجھ میں نہیں آیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے محکمہ میں کیا پلاننگ ہے جو ایسے وقت میں یو سی سی نافذ کرنے کا اعلان کیوں کیا؟ جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور پورا دیش کامیاب برکس سمٹ کی خوشیاں منارہا تھا اور سارے دیش میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کی خوشیاں منائی جارہی تھیںیہ کیا صحیح وقت تھا متنازعہ تجویز لانے کا؟عزت مآب امت شاہ جی ممبئی تو گئے تھے مودی سرکار کے 25 سالہ کارناموں کو گنانےاور وہاں پہنچ کر اچانک اعلان کردیاکہ 2029 کے لوک سبھا چنائوسے پہلے دیش کی سبھی 21 بھاجپا حکمراں (بی جے پی۔این ڈی اے) نے یکساں سول کوڈ نافذ کردیا جائے گا۔ ہمیں نہیں پتہ کہ یہ وزیر اعظم اور ان کی کیبنٹ کا اعلان ہے یا نہیں؟ امت شاہ جی کے بیان کے بعد دیش میں سیاسی ہلچل مچنا فطری ہی تھا اور ہنگامہ کھڑا بھی ہوگیا۔ایک طرف اپوزیشن پارٹیوں نے سرکار کو گھیرنا شروع کردیا تو دوسری طرف خود بی جے پی کی اتحادی پارٹی جے ڈی یو نے بھی اس کے خلاف کھل کر احتجاج شروع کردیا۔ ادھر تیلگو دیشم پارٹی اب سے نہیں اٹل جی سرکار کے وقت سے ہی اس کی کھلی مخالفت کررہی تھی۔بھاجپا پر الزام لگایا گیا کہ وہ پرسنل لاءاور یکساں اختیارات جیسے پیچیدہ اشوز کو چناوی ہتھیار بنا رہی ہے۔بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (مارکس وادی) نے کہا کہ پرسنل لاء اور یکساں حقوق جیسے پیچیدہ اشوز کو دیش میں نافذ کرنے کی تجویز عام چنائو سے پہلے بھاجپا کے اہم ہندوتو حمایتی بنیاد کو مضبوط کرنے کی ایک واضح سیاسی حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے۔ پارٹی نے سرکار کے جنسی برابری اور ایک شکل پر امکانی زور کو خارج کرتے ہوئے دلیل دی کہ اس مسئلہ کو صرف الگ الگ فرقوں کو ایک مشترکہ قانونی ڈھانچے کے تحت لانے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔اپوزیشن کا کہنا ہے ایک شکل کا مطلب یکساں نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا بھاجپا بےروزگاری ، مہنگائی اورر زرعی بحران اور طلبہ و زین جی کی پریشانیوں جیسے مسئلوں کو حل کرنے کے بجائے ایک اور بٹوارہ مہم کی تیاری کررہی ہے۔ یہ اعلان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس اعلان کے بعد آیا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔سابق ایم پی اور سینئرسی پی ایم لیڈر حنان ملا نے پیر کو ایک ٹی وی چینل سے کہا پرسنل لاء میں شادی و طلاق ، وراثت، گود لینےاور خاندانی حقوق سے وابستہ حساس ترین اشو شامل ہوتے ہیں اس لئے ان کے لئے ریاستوں یا فرقوں، قانونی ماہرین اور شہری سماج کے ساتھ ساتھ وسیع خیالات ، دماغی ضرورت سے اغراض مبنی ہوتی ہے۔ مرکز میں موجودہ بھاجپا این ڈی اے سرکار دو بیساکھیوں پر ٹکی ہوئی ہے۔ جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی جیسی پارٹیاں قومی سطح پر ایک طرفہ یکساں سول کوڈ قانون تھونپنے کے بجائے مقامی رضامندی اور حساسیت اپنانے کے حق میں رہے ہیں جے ڈی یو نیتا اس کے جائزے کی بات کہہ چکے ہیں۔سرکاروں کے ذریعے سے قانون نافذ کرنے پر مرکزی سرکار پر اتحادی پارٹیوں کی حمایت ضروری ہے۔ اتحادی پارٹیوں کی اپنی اپنی ریاستوں میں الگ مجبوریاں ہوسکتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ امت شاہ اسے کیسے لاگو کرتے ہیں؟
(انل نریندر)

19 ستمبر 2026

مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو جائے گی ۔سعودی عرب نے دعویٰ کیا کہ ہے کہ ایران حمایتی یمن کے حوثی باغیوں نے اسلام کے سب سے مقدس شہر مکہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔سعودی عرب نے ایران حمایتی حوثی باغیوں پر مکہ کی طرف ڈرون بھیجنے کی کوشش کا بھی الزام لگایا ہے ۔سعودی عرب نے مکہ میں حملے کو اپنی ریڈ لائن بتایا ہے ۔لیکن حوثی باغیوں نے حملے سے انکار کیا ہے کہا ہم نے کوئی ایسا حملہ نہیں کیا ہے ۔سعودی عرب وہی پرانا گھسا پٹا الزام لگارہا ہے ۔حوثی باغیوں کی نیوز ایجنسی سبا کے مطابق تنظیم سے مکہ یا دیگر کسی مقدس مقامات کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔سعودی حکام کے مطابق ڈرون کو مکہ کے ایئر اسپیس میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا ۔سعودی عرب نے منگل کے روز مکہ اور دیش کے دوسرے بڑے شہر جدہ سمیت کئی علاقوں کے لئے سیکورٹی الرٹ جاری کیا ہے ۔مکہ وہ شہر ہے جہاں مسلمانوں کے لئے مقدس کعبہ موجود ہے ۔کعبہ کی طرف ہی منہ کرکے دنیا بھرکے مسلمان روزانہ پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ 57سے زیادہ مسلم ممالک کی نمائندگی کرنے والی آرگنائزیشن اسلام کوآردڈینیشن نے بھی مقدس مقامات کی پاکیزگی کی خلاف ورزی کی کوشش کی مذمت کی ہے ۔مکہ ڈرون تنازہ کے بیچ حوثی کے  فوجی ترجمان یحیٰ ساریا نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ پچھلے 24 گھنٹے میں سعودی عرب کے جنگی جہازوں نے یمن کے پانچ صوبوں پر 52 ہوائی حملے کئے ہیں ۔ایف -15 اور ٹاؤفن جنگی جہازوں نے کئی شہروں الزیف ،البیدا ، سادہ اور عمران میں حملے کئے ہیں ۔اسکولوں ، پلوں ، سڑکوں اور دوسرے شہری سہولیات کو نشانہ بنایا گیا ۔حوثی گروپ نے ان حملوں کا جواب دینے کی بھی دھمکی دی ہے ۔چونکہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے سے انکار کر دیا ہے ۔اس لئے اس واقعہ کی جانچ ضروری ہے ۔امریکہ -ایران لڑائی کے دوران بھی ایسے حالات بن چکے ہیں ۔اس پورے خطہ میں ایسی طاقت موجود ہے جو لڑائی کو بڑھائے رکھنا چاہتی ہے ۔ایسے میں کسی بھی طرح کے غلط تجزیہ کا نتیجہ خطرناک ہو سکتا ہے ۔خیال رہے کہ یمن کے قریب 20 فیصد علاقہ میں حوثیوں کا قبضہ ہے ان کی تنظیم کا نام انصار اللہ یعنی اللہ کے مددگار ہے اوریہ شیعیٰ اکثیریتی انجمن ہے اور یمن میں اپنا الگ حصہ مانگ رہا ہے ۔امریکہ اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیم مانتا ہے لیکن بھارت سمیت زیادہ تر مسلم ممالک بھی اسے آتنکی نہیں مانتے ۔حوثیوں کو فوری طور پر قابو میں کرنے کی صلاحیت سعودی عرب میں نہیں لگتی ۔بہت سوں کو یہ غلط فہمی ہوگی لیکن تذکرہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی مدد اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں اطلاعات کے ذریعے کررہی ہیں ۔ہر جنگ کی قیمت آخرکار جنتا کو ہی بھگتنی پڑتی ہے ہمارے سامنے امریکہ ایران ،اسرائیل لبنان ، جنگ ہے ۔ساڑے چھ ماہ بعد بھی کوئی صلح کی راہ نظر نہیں آرہی ہے اس سے پہلے سعودی اور حوثیوں کی جنگ نہایت خطرناک موڑ پر پہنچے اس بیچ بچاؤکرکے رکوانا ضروری ہے ۔اور کسی بھی قیمت پر مقدس مذہبی مقامات کی حفاظت ہونی چاہیے ۔
(انل نریندر)

17 ستمبر 2026

کیا بھارت کی خارجہ پالیسی بدل رہی ہے؟

نئی دہلی میںاختتام پذیر ہوئی 18ویں برکس سمٹ میں جاری مشترکہ اعلانیہ میں مڈل ایسٹ کو لیکر اپنایا گیا رخ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس اعلانیہ میں بغیر کسی دیش کا نام لئے ایسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے جس کی شاید امید بہت کم لوگوں کو تھی اور یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہے کہ بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کرنا شروع کردی ہے۔ اس اعلانیہ دستاویز میں جس پر سبھی متعلقہ ممالک نے اپنی منظوری دی ہےاور جوائنٹ اعلانیہ پر دستخط کئے ہیں مطلب سب ممالک کی اس میں رضامندی ہے۔ اعلانیہ دستاویز میں دو تین نقطہ ایسے ہیں جو اب تک کی ہندوستان کی خارجہ پالیسی سے میل نہیں کھاتے۔ اس اعلانیہ دستاویز میں اسرائیل اور امریکہ کا نام لئے بغیر فلسطین اور لبنان کا ذکرکیا گیاہے اور مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات کا پر امن حل تلاشنے کی اپیل کی گئی ہے۔ دلچسپ یہ بھی تھا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ میں ایک دوسرے کے برعکس دونوں محاذ میں کھڑے ایران اور یو اے ای بھی مشرق وسطیٰ کے حالات پرامن طریقے سے حل کرنے کی اپیل کرنے والے ملکوں میں شامل تھا۔برکس اعلانیہ دستاویز میں ٹرمپ امریکی ٹیرف کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن کہا گیا کہ کئی ملکوں کو نا انصافی پر مبنی ، ایک طرفہ منمانے قدموں سے نقصان ہوا ہے ۔ چونکہ اعلانیہ دستاویز میں بھارت نے بھی دستخط کئے ہیں اس کا مطلب صاف ہے کہ پہلی بار امریکہ اور ٹرمپ کا نام لئے بغیر بھارت ٹیرف کی کھل کر مخالفت کررہا ہے۔ اب اسے بھارت کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی مانا جائے؟ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ٹرمپ کا اس پر کیا اثر اور رد عمل ہوتا ہے۔ اسی طرح اعلانیہ دستاویز میں غزہ اور قبضے والے فسلطینی علاقوں انسانی حالات پر بھی توجہ گئی اور تشویش جتائ گئی۔ اس میں غزہ میں سیز فائر بنائے رکھنے اور بغیر کسی رکاوٹ کے انسانی مدد پہنچانے کی اپیل کی گئی۔اس میں فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کئے جانے کی بھی مخالفت کی گئی۔ اس میں بین الاقوامی انسانی حقوق قانون میں ایسے سبھی ذکر کرکے مذمت کی گئی ہے۔اعلانیہ دستاویز میں جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف دائر معاملہ میں بین الاقوامی انصاف عدالت کے انترم احکامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اعلانیہ میں دو ملک ’ٹو نیشن تھیوری‘کی حمایت کو دوہرایا گیا ہے اس کے تحت 1967 کی سرحدوں کو یقینی بنائے رکھنا شامل ہے۔ اس میں اسرائیل سے لبنان میں جنگ بندی کی تعمیل کرنے اور لبنان میں بچے ہوئے علاقوں سے اپنی فوج واپس بلانے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ برکس اعلانیہ دستاویز میں بیشک اسرائیل کا سیدھے طور پر نام نہیں لیا گیا لیکن فلسطین اور لبنان کا ذکر کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے مسئلہ کا پرامن حل نکالنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ایک سفارتی ماہر نے پوچھا کے بھارت اسرائیل رشتے کتنے مضبوط ہیں یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس اعلان کے بعد اسرائیل اور بھارت کے رشتوں پر کوئی اثر ہوگا یا نہیں یہ تو آنے والے دنوں میں ہی پتہ چلے گا۔ اسی طرح ٹرمپ کے ٹیرف اور دادا گیری پر برکس میں لئے گئے موقف پر بھارت اور امریکہ کے رشتوں پر کیا اثر ہوگا یہ بھی آنے والے دنوںمیں پتہ چلے گا۔ایران ۔ امریکہ جنگ پر صاف طور پر برکس اعلانیہ دستاویز میں ایران کی حمایت کی گئی ہے۔ بیشک اعلانیہ دستاویز میں امریکہ کا نام نہیں لیا گیا، لیکن امریکہ کی جانب سے ایک طرفہ اقتصادی پابندیوں اور پرامن نیوکلیائی اداروں پر حملوں کی نکتہ چینی کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے خلاف لگائی گئی ایک طرفہ پابندیوں کی مذمت کی جاتی ہے۔ ان کا وسیع طور پر اثر ہوتا ہے اور ان میں غریب لوگوں پر عام طور پر زیادہ اثر پڑتا ہے۔ برکس کے وہ دو دلچسپ ممبر ملکوں روس اور ایران پر بھی سخت پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ٹرمپ کی برکس مخالفت جگ ظاہر ہے ۔ وہ کئی بار برکس کو امریکہ مخالف بتا چکےہیں اور برکس کے ساتھ جڑنے والے ملکوں پر مزید ٹیکس لگانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ سوال یہاں یہ ہے کہ اگر بھارت نے بھی اس برکس اعلانیہ پر دستخط کئے ہیں تو کیا بھارت امریکہ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیںاور کیا ہم یہ مانیں کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں اب زبردست تبدیلی آنے والی ہے۔ کیا محض ایک ایوینٹ تھا اور  فوٹو اپیل چنی تھی؟
(انل نریندر)

15 ستمبر 2026

ووٹ دو ڈالر لو!

بھارت میں حکومتوں کے ذریعے ریوڑیاں بانٹنے کا چلن اب امریکہ میں بھی پھیل چکا ہے۔ دنیا کے سب سے پرانے اور ترقی یافتہ جمہوری ملک امریکہ میں بھی لوگوں کو سیدھے نقلی یا مفت تحفہ دینے کی سیاست چل نکلنی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں کہا ہے کہ اگر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی چنائو میں ان کی ریپبلکن پارٹی جیت حاصل کرلیتی ہے تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر کی ادائیگی کریںگے۔ یہ ایک بہت مہنگی اسکیم ہے جس میں ایک ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ خرچ آئے گا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار امریکی ڈالر دیئے جائیںگے۔ ٹرمپ نے اسے ڈیویڈینٹ کا نام دیا ہے۔انہوں نے کہا امریکہ کی مالی طاقت اور کامیابی کو دیکھتے ہوئے وہ ہر ایک بالغ شہری کو یہ ادائیگی کریںگےبشرطیکہ نومبر کےچنائو میں ریپبلکن پارٹی دونوں ایوانوںمیں جیتے۔ ٹرمپ نے ادائیگی کی ایک شرط بھی بتائی انہوں نے کہا کہ اس رقم کو امریکہ کے اندر ہی خرچ کرنا ہوگا۔ یعنی فیض یافتہ ان پیسوں کودیش کے باہر خرچ نہیں کرسکتا حالانکہ انہوں نے یہ صاف نہیں کیاکہ اسکیم کوکس طرح سے لاگو کیا جائے گا اور اس کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا۔امریکہ میں ماہ نومبر میںہونے والے مڈ ٹرم چنائو کے نتیجے ٹرمپ کے لئے تاریخی ہونے والے ہیں۔اس لئے اب وہ ریوڑیاں بانٹنے پر اتر آئے ہیں۔لگتا ہے کہ انہوں نے بھی بھارت میں چلی ریوڑی پراتھا کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔کچھ سال پہلے انہوں نے بھارت کے چناوی سسٹم کی تعریف کی تھی۔ کہیں اب یہ نہ کریںکہ بھارت کے چنائو کمیشن کو امریکہ میںچنائو کروانے کے لئے بلا لیں اور کہیں کہ یہاں بھی ایس آئی آر کروادو؟5 ہزار ڈالر دینے کی ریوڑی کے پیچھے دو اہم پہلو نظرآتے ہیں۔ پہلا ٹرمپ کی مقبولیت نچلی سطح پر آگئی ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرز؍ سی این این ؍ایس ایس آر ایس و انوائٹی سروے کے اوسط میں ٹرمپ کے خلاف 60 فیصد امریکیوں نے ووٹ دیا ہے۔مقبولیت کی گراوٹ کی وجہ بڑھتی مہنگائی ، گھٹتے روزگار اور ایران جنگ سے ہار ہے۔دوسرا: اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس جیتے تو دونوں ایوان میں اکثریت ملنے کے بعد وہ ٹرمپ کے خلاف مقدمہ لائیںگے ایسے میں ٹرمپ کو اقتدار گنوانے کا خطرہ ہے۔ اس سے پہلے ٹرمپ جیت کی کوشش میں ایس آئی آر کی طرز پر ووٹر لسٹ کی جانچ کروانے کا اعلان کرچکے ہیں۔سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں مفت اسکیموں کے اعلان کی پرانی روایت ہےاگر ایسی ہی روایت امریکہ میں شروع ہورہی ہے تو اس کا اثر پوری دنیا پر ہوگا۔سوال یہ بھی ہے کیا اس کے لئے امریکی پارلیمنٹ منظوری دے گی؟ کیا یہ وہاں کی عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جائے گا؟ سب سے بڑی بات کے کیا ووٹر اس کے جھانسے میں آئیں گے؟ یہ رقم امریکی بجٹ کا 17 فیصدی ہے۔ بتادیں ایران جنگ کی وجہ سے پہلے ہی ہر امریکی خاندان پر 3 ہزار ڈالر کا مزید بوجھ بڑھ چکا ہے۔
(انل نریندر)

09 ستمبر 2026

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی ورکر بتانے والےملزم سوتنتر بھاردواج کو دہلی پولیس نے جمعہ کو مغربی اترپردیش کے ضلع بلند شہر سے گرفتار کیا۔ لوک تنتر کے خلاف پاسکو ایکٹ کے تحت ایک نئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ کچھ گھنٹے پہلے ہی ملزم کی گرفتاری کی مانگ پر کاکروچ جنتا پارٹی، یوتھ کانگریس نے دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے پر مظاہرہ کیا تھا۔ پولیس نے72 گھنٹے میں کارروائی کے بھروسے کے بعد یہ واردات ختم ہوئی۔ طالبہ کا الزام تھا کے 23 جون کوجنتر منتر پر مظاہرے کے دوران اس کے والد سے مار پیٹ کی گئی تھی۔ اس درمین ملزم کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں ملزم مبینہ طور پر سر پر حملہ کی بات قبول کرتے ہوئے نظر آیا تھا۔ 7اگست کو سوتنتربھاردواج کے پوٹ کاسٹ کی کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس میں مبینہ طور پر ایک شخص پر حملہ کرنے کی بات کرتے ہوئے دکھائی دیا۔ اس نے دعوی کیا کہ اس نے اس شخص کے سر پر وار کیا تھا، جس کے بعد زخمی شخص کے سر پر ٹانکے لگے تھے۔زخمی شخص نے بتایا کہ اس شخص نے دعوی کیا کہ دہلی کے وزیر کپل شرما کے ایک فون پر پولیس نے اس کے خلاف ساری کارروائی روک دی اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان ان کے بھائی کے برابر ہیں اور مودی جی ان کے بڑے بھائی ہیں۔یہ بھی دعوی کیا میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتاہے۔اپوزیشن پارٹیوں اور سی جے پی سے جڑے لوگوں نے الزام لگایا کہ سوتنتربھاردواج کو سیاسی سرپرستی ملی ہوئی ہے۔ حالانکہ چراغ پاسوان نے سوتنتر بھاردواج سے خود کو الگ کرلیا اور بھاردواج کے خلاف ان کے نام کا غلط استعمال کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کروادی۔اس مبینہ ہندوتو حمایتی دعویدار نے شیخی کے چکر میں ایسا بہت کچھ کہہ دیا، جو سراسر کرائم کا اقبال کرنا ہی ہے۔ اس بارے میں وہ بولے کہ لڑکے کے خلاف اے پی ایس ٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج ہوگیا اور ممکن ہے اقدام قتل کا مقدمہ بھی درج ہوجائے۔ دھرم کے نام پر اپنے خیالات اپنی جگہ ہیں لیکن دھرم ایسے بے تکے الفاظ کو قبول نہیں کرتا۔یہ لڑکا جو کھل کر چینلوںمیں دعوی کرتا رہا ہے اس کی ضروری جانچ ہونی چاہئے اور قانونی کارروائی ہونی چاہئے لیکن سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ اس لڑکے میں ایسی بیہودہ باتیں کرنے کی ہمت کہاں سےآئی؟ اس کو کس کی شے حاصل ہے؟20 جولائی کو جنترمنتر مظاہرے میں مبینہ غنڈے کی حرکت والے لوگ مظاہرے میں کیسے شامل ہوئے؟ انڈین ایکسپریس کی ایک سنسنی خیز رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ چہرہ پہچان سسٹم سے 25 ایسے جرائم پیشہ کے نام سامنے آئے ہیں جو اس وقت تہاڑ جیل میں بند بتائے جاتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ کئی سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ یہ جرائم پیشہ جنتر منتر پر مظاہرے میں کیسے پہنچے؟ سوال تو یہ بھی کیا جارہا ہے کہ سفید کپڑوں میں ہاتھ میں جھنڈے لئے وہ کون لوگ تھے جو طلبہ پر لاٹھیاں برسا رہے تھے؟ ان میں سے یہ سوتنتر بھاردواج بھی ایک تھے۔ اب قانون اپنا کام کرے گا اور امید کی جاتی ہے کہ کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی۔
(انل نریندر)

05 ستمبر 2026

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور الٹانئی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں ۔جنگ سے جان ومال کا بھاری نقصان ،مالی بربادی اور بے گھری اور سماجی عدم استحکام کی شکل میں سامنے آتے ہیں ۔روس یوکرین اور مغربی ایشیا میں برادری تعلق اس کی مثالیں ہیں ۔بھارت ہمیشہ امن عالم کا حمایتی رہا ہے اور جنگ کی جگہ پر بھائی چارگی اور مہاتما گاندھی کے امن کے راستے پر چلنے کا سندیش دے رہا ہے اسی عزم کو ظاہر کرتے ہوئے کرغستان کی راجدھانی بشکیک میں شنگھائی اشتراک انجمن کی چوٹی کانفرنس کے موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم نریندرمودی نے ختم نہ ہونے والی جنگ کے بجائے اس کے خاتمہ کی طرف بڑھنے کی وکالت کی ہے ۔بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کو ختم کرانے کی اپیل کی ہے ۔پی ایم مودی نے پیر کو کہا کہ جنگ میں گزرا ہر دن انسانیت کو پیچھے دھکیلتا ہے اور امن کی سمت میں اٹھایاگیا ہر قدم انسانیت کو نئی امید جگانے اور حوصلہ بھردیتا ہے ۔یوکرین جنگ  ختم کرنے کے لئے پی ایم مودی کی رائے زنیاں حیران کرنے والی نہیں ہیں اور میں بھارت کی خارجہ پالیسی میں کسی بھی قسم کی فوجی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیتی ہے ۔دراصل لڑائی شروع ہونے کے بعد سال 2022 میں ریجنل چوٹی کانفرنس کے بعد تقریر کرتے ہوئے مودی نے پوتن سے کھلے طور سے کہا تھا کہ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے ۔لیکن یہ کہنا بہت آسان ہوگا کہ جنگ پر مودی کے ابھی یا پہلے کے بیانوں کو پوتن یا روسی حکمت عملی کو جواب دینے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔مغربی ممالک نے مودی پر واضح رخ اپنانے کے لئے کافی دبا ؤ ڈالاہے لیکن بھارت کافی حد تک وہ نیوٹرل رہا ہے ۔بھارت نے اس کے بجائے جنگ کو ختم کرنے کے لئے بات چیت کی درخواست کی ہے ۔بیشک اس موقف سے کئی مغربی دیش خوش نہیں ہیں لیکن انہوں نے بھارت کو لبھانا جاری رکھا ہے کیوں کہ بھارت اتنی بڑی اور تیزی سے بڑھتی معیشت ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ۔یہ پہلی بار نہیں جب کسی غیر ملکی لیڈر نے کھلے طور سے پوتن سے یوکرین میں جنگ ختم کرنے کی درخواست کی ہو ۔محض پانچ ہفتے پہلے قزاکستان کے صدر قاسم جویابھائی ٹوکا میف نے پوتن کو تجویز دی تھی کہ لڑائی کو روک دیں اور بات چیت پر لوٹ آئیں ۔امن کے لئے ان کھلی اپیلوں سے پوتن کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آنے کے اشارے نظر نہیں آتے ۔مودی کے ذریعے جنگ بندی کی اپیل پر روسی لیڈر نے جواب دیا کہ بہت بہت شکریہ ، وزیراعظم جی ہم اسی راہ پر آگے بڑھ رہے ہیں ۔روسی لیڈر کا کہنا ہے کہ یہ یہاں بھی ہوسکتا ہے سارے ثبوت بتاتے ہیں کہ روس کی لیڈرشپ کو اب یقین ہے کہ وہ جنگ میں یوکرین سے ملیٹری جیت کی راہ پر ہے اور اسے امن کے معاملے میں کہیں تو روس کی شرائط پر ملیٹری کامیابی سے طے امن کی طرف آگے بڑھنا اس لئے بڑھنا مشکل ہے اس لئے فی الحال لڑائی جاری ہے ۔اس حقیقت کے باوجود ساڑھے چار سال سے زیادہ کی جنگ اور بھاری فوجی نقصان کے باوجود کرملن یعنی روس کو ابھی تک جیت حاصل نہیں ہو پائی ہے اور یوکرین نے جنگ کو روسیوں کے گھر تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے ۔
(انل نریندر)

03 ستمبر 2026

نیپال ٹریجڈی کے پیچھے چین ذمہ داری

نیپال میں فیلش فلرڈ میں مرنے والوں کی تعداد 700 سے آگے بڑھ گئی ہے ،2500 سے زیادہ لاپتہ ہیں جن میں متعدد ہندوستانی بھی شامل ہیں وزیراعظم آفس کے مطابق نیپال کی فوج نے اب تک 883 لوگوں کو محفوظ طور پر بچایا ۔لاپتہ لوگوں میں 517 غیر ملکی بھی شامل ہیں ۔نیپال میں چین کے رویہ کو لے کر بھاری ناراضگی ہے اور سوال اٹھنے لگے ہیں بدھوار کو تبت میں بنی بیریئر لیک ٹوٹنے کے بعد چین نے نیپال سے اطلاع شیئر کرنے میں لاپرواہی برتی جس سے نیپالی شہریوں میں ناراضگی پھیل گئ ہے ۔تبت میں 20 لاکھ گیلن پانی ضائع ہوگیا تھا۔لیکن الرٹ تب بھیجا گیا جب جھیل پھوٹ چکی تھی ۔شہر رسوا کے چیف ضلع افسر نریندر پریار نے بتایا کہ انہیں جھیل ٹوٹنے کی جانکاری نیپالی میڈیا کے ذریعے سے ملی ۔چین کے وزارت آب نے کوئی اطلاع شیئر نہیں کی ۔جھیل بننے کے بعد اوور فلو شروع ہوا اور شام کو چین نے تبت میں بچاؤ کاروائی شروع کی ۔بدھوار کی صبح 8.40بجے بوٹو کوشی ندی میں آبی سطح کا نمبر بھیجا گیا اسی درمیان تبت میں آیا تیزی سے بہاؤ نیپال میں داخل ہوگیا ۔نیپال کو اس کی جانکاری 16 منٹ بعد اس وقت ملی جب سیلاب تباہی مچانے لگا۔ الزام لگائے جارہے ہیں کہ چین کی جانب سے نیپال میں جان و مال کے نقصان کو کم کیا جاسکتا ہے حالانکہ نیپال میں واقع چینی سفارت خانہ نے الزامات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی خبروں کی تردید کی ۔اس درمیان بین الاقوامی میڈیامیں بھی چین کے رول کو لے کر بحث جاری ہے ۔نیپالی نیوز آؤٹ لیٹس سے لے کرچینی میڈیا نے اس مسئلے کو شائع کیا ہے ۔نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مئی میں ہی چین سےگلیشیئر اور پانی کی سطح و دیگر امکانی خطروں کی جانکاری وقت سے پہلے ہی شیئر کرتے ہوئے اپیل کی تھی ۔ان کا خیال ہے سرحد پار سے ملنے والی مسلسل وارننگ کئی زون بچانے میں مدد کر سکتی تھی ۔اس سال 27 مئی کو کاٹھمانڈو میں نیپال اور چین کے ماحولیاتی ماہرین کی میٹنگ ہوئی تھی اس میٹنگ میں گلیشیئر جھیلوں کی فہرست تیار کرنے اور پہلے وارننگ سسٹم مضبوط کرنے پر بھی زور دیا گیا ۔حالانکہ نیپالی حکام کے مطابق میٹنگ کے بعد انہیں چین سے متوقع طور پر گلیشیئر اور آبی سطح سے متعلق کوئی معلومات نہیں مل سکی ۔چینی ورلڈ ویدر سائنس سنٹر  نے قدرتی آفت آنے سے پہلے نیپالی حکام کو ای میل سے 14 اور 19 اگست کے بیچ بھاری بارش اور چٹانیں کھسکنے کا اندیشہ بتایا تھا ۔لیکن نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی وارننگ گلیشیئر ٹوٹنے جیسے اشارے نہیں دیتی ۔نیپال کے لوگوں کا کہنا ہے موت کا یہ سیلاب چین سے آیا جہاں گلیشیئر پھٹا وہ حصہ نیپال سے 50 کلو میٹر دوری پر واقع ہے ۔باڑ کے پانی کو نیپال تک پہنچنے میں 30 سے 40 منٹ لگے اگر چین یہ اطلاع وقت رہتے نیپال کو دے دیتا تو ہزاروں لوگوں کی جان بچائی جاسکتی تھی ۔لوگوں کو محفوظ مکامات تک پہنچائے جانے کے لئے آدھا گھنٹہ کافی تھا ۔لیکن چین نے یہ اطلاع شیئر نہیں کی ۔پانی کے بہاؤ کا نتیجہ اور پانی کے ساتھ آیا ملبہ اتنا خطرناک تھا کہ راستے میں جو کچھ بھی آیا عمارتیں ، پُل ، سڑکیں سب کچھ بہا کر لے گیا ۔لیکن خطرہ ابھی بھی ٹلا نہیں ہے اگر چین کا ڈیم ٹوٹا تو وہاں سے دوسرا فلیش فلڈ آسکتا ہے ۔چین سے بھیجی گئی اس تباہی کو نیپالی کبھی نہیں بھولیں گے ۔
(انل نریندر)

امت شاہ کا اعلان،مچ گیا گھماسان

اپنی سمجھ میں نہیں آیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے محکمہ میں کیا پلاننگ ہے جو ایسے وقت میں یو سی سی نافذ کرنے کا اعلان کیوں کیا؟ جبکہ وزیر اعظ...