Translater

29 اکتوبر 2026

مارکو روبیو سیدھے جام نگر کیوں گئے؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روگیو حال ہی میں بھارت آئے حالانکہ وہ غیر رسمی دورہ پر آئے تھے،لیکن وہ پروٹوکول کے مطابق راجدھانی نئی دہلی نہیں آئے ، عام طور پر ایسا ہوتا ہے۔ نہ تو وزیر اعظم سے ملے اور نہ ہی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات ہوئی وہ سیدھے ممبئی گئے۔وہاں انہوں نے صنعت کار ،بزنس مین مکیش امبانی سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ ہی جام نگر امبونی کی آئل ریفائنری دیکھنے چلے گئے۔جام نگر جانا امریکہ کے پلان کا بڑا حصہ ہے۔ امریکہ ریلائنس انڈسٹریز (آئی آئی ایل) کی بڑی ریفائنری کمپلیکس کی صلاحیت کو بہت اچھے سے سمجھتا ہے۔وینزوئلا کے کچے تیل کو دنیا میں پہنچانے کےلئے یہ کمپلیکس بہت بڑا رول نبھا سکتا ہے۔ایسے میں مارکوروگیو کو جام نگر کا دورہ یوں ہی نہیں ہے۔روبیوکا یہ دورہ ایسے وقت ہواجب امریکہ۔وینزویلا کے کچے تیل کے لئے نئے بازار تلاش رہا ہے۔امریکہ بھارت پر زور دینے میں لگا ہوا ہے کہ وہ روس سے ایندھن درآمدات کو کم کرکے اپنے انرجی وسائل میں کامیابی لائے۔ مارکو نے جام نگر میں مکیش امبانی اور ممبئی میں ٹاٹا اور اڈانی گروپ سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہندوستانی معیشت میں سرمایہ دار اب اہم حصہ بن رہے ہیں۔ جام نگر بھارت کی انرجی سے جڑی پیچیدہ سیاست کی ایک کھڑکی ہے۔ اسی سیاست نے حال میں امریکہ ،روس و ایران کے ساتھ بھارت کے رشتوں کو نئی شکل دی ہے۔بحث سے کہیں آگے جام نگر بھارت کے ایندھن سے وابستہ پیچیدہ سیاست کی ایک کھڑکی ہے۔روبیو کا امبانی ، ٹاٹا اور اڈانی گروپ سے بات کرنا یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستانی سرمایہ اور دیش کی خارجہ پالیسی کے درمیان گہرا ہوتا جارہا ہے۔ہندوستانی کمپنیوں کا مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ان کی پہنچ دنیا بھر میںپھیل رہی ہے۔ایسے میں وہ بھارت کی ڈپلومیٹک کے ترکش کا ایک تیز تیر بنتا جارہا ہے۔امریکی کاروبار اور خارجہ پالیسی کے رشتے کو ایک پرانی کہاوت بخوبی بیان کرتی ہے جو جنرل مقاصد کے لئے اچھا ہے وہ امریکہ کے لئے بھی اچھا ہے۔ یعنی جو بھی امریکی کمپنی اچھی ہے وہ امریکہ کے لئے اچھی ہےدنیا کے لیڈروںکے ساتھ مکیش امبانی کو دیکھنا ہندوستانی لوگوں کو شاید عجیب لگتا ہے۔ لیکن یہ ایک لمبی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔کچھ سال پہلے بھارت آنے والے غیر ملکی لیڈر اکثر بینگلورو میں انفوسس کیمپس جاتے تھےلیکن اب منظر بدل گیا ہے۔ اب لگتا ہے غیر ملکی مہمانوں کا زیادہ فوکس جام نگر و گجرات پر ہے۔جام نگر میں ہائیڈروکاربن پرانی معیشت ہے۔ ہائیڈرو کابن یعنی تیل و گیس جیسے ایندھن اس دنیا کا سب سے بڑا ریفائننگ کمپلیکس ہے۔یہاں الگ الگ قسم کے کچے تیل کو صاف کیا جاسکتا ہے اور تیار ایندھن دنیا بھر کے بازاروں میں بھیجا جاسکتا ہے۔2022 یوکرین پر روس کے حملہ کے بعد جام نگر کی اہمیت وہی ہے جو ہرموز اسٹیٹ سے ہونے والی تیل سپلائی میں گوادر کی بھی اہمیت بڑھائی ہے۔بین الاقوامی معیشت صرف دیش نے نہیں بنائی سرمایہ اور تکنیک لمبے عرصے سے سرکاروں کے پاس موجود متبادلوں پر اثر ڈالتی آئی ہے۔سمجھدار دیش اپنے یہاں سرمائے کو کچھ ہاتھوں میں ضرورت سے زیادہ سمیٹنے ہی دیتے ہیں اور دنیا میںاس کا رول شرطیں طے کرتے ہیں۔ہندوستانی کمپنیاں اب سرحدوں کے پاس کام کرنے اور جغرافیائی سیاسی اتھل پتھل سے نمٹنے کا پیمانہ حاصل کررہی ہیں۔ایسے میں بھارت کے خارجی رشتوں کےزیادہ اہم کھلاڑی بنیں گی۔ روبیو کا جام نگر دورہ یاد دلاتا ہے کہ آج کی ہندوستانی خارجہ پالیسی کو سمجھنے کےلئے سرمایہ داری اور موجودہ بین الاقوامی رشتوں کے الجھے ہوئے اور کبھی نہ ٹوٹنے والے رشتوں کو بہتر سمجھنا ہوگا اور اس کا مطلب ہے کہ دہلی کی الجھی ہوئی خارجہ پالیسی والی بحثوں میں ممبئی کا کاروباری تک اوربنگلورو کی تکنیکی ضرورت بھی تولی جائے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی صاف ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی واضح ہے؟
(انل نریندر)

27 اکتوبر 2026

اب بھی چین سے جھڑپیں ہو رہی ہیں!

آئی ٹی بی پی کے جوانوں کے لئےہر سال منعقد ہونے والاسنمان سماروہ ہمریڈسنمان میں جمعرات کو آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شبھ جیت کپور نے چونکانے والاانکشاف کیا ہے کہ اروناچل پردیش سرحد پر اب بھی جھڑپیں جاری ہیں۔ٹکرائو کے دوران آئی ٹی بی پی کے بہادر کمانڈوز نے چینی فوجیوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ جنرل کپور نے انکشاف کیا کہ اروناچل پردیش میں پچھلے کچھ مہینوں میں بھارت اور چین کے فوجیوں کا آمنا سامنا ہوا ہے۔ کئی جگہ ٹکرائو کی صورتحال بھی بنی۔ پچھلے کچھ دنوںمیں ایسی صورتحال بنی جب کئی جگہوں پر بھارت چین آمنے سامنے آگئے۔انہوں نے بہادر کمانڈوں کے غیر معمولی کام کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ٹی بی پی روایتی ہتھیاروں کا استعمال کرتی ہے ۔ڈرون اور ڈرون انسداد تکنیک میں سرمایہ لگانے اور اسے جدید بنانے پر زور دیا۔انہوں نے خبردار بھی کیا کہ روایتی ہتھیاروں نے چین کا مقابلہ شاید ممکن نہ ہوکیونکہ چین نے اپنی سکیورٹی فورس کی جدیدکاری میں بھاری پیسہ خْرچ کیا ہے۔یہ پہلی بار ہے کہ جب سرکاری طور پر ان جھڑپوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ جنرل کپور کے بیان کو لے کر کانگریس اور اپوزیشن نے مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ بتادیں کہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نےپہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ چین بھارت سرحد پر قبضہ کررہا ہے۔ اس پر وزیر اعظم نے جواب دیا تھا کہ نہ تو کوئی گھسا ہے اور نہ ہی کوئی آیا ہے۔آج راہل گاندھی کی واررننگ صحیح ثابت ہوئی ہے۔جہاں اروناچل میں بھارت چین فوج ٹکرارہی ہےوہیں بھارت سرکار آئی ٹی بی پی کے جوانوں کو دہلی کے جنترمنتر پر اور کناٹ پلیس میں مظاہرین کو روکنے میں لگا دی گئی ہے یہ عجب صورتحال ہے۔ خیر! کانگرسی نے کہا ہے کہ اس سال جولائی سے ہی چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ کی خبریں آرہی ہیں، لیکن مودی سرکار ان خبروں کو دبانے میں لگی رہی۔ یہاں تک کہ چین کو لال آنکھ دکھانے کی جگہ نریندر مودی چین کے صدرشی جن پنگ کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے آئے۔بریکس سمٹ ایک طرف چین ہمارے فوجیوں کے ساتھ جھڑپ کررہا تھا دوسری طرف مودی چین کے صدر کا استقبال کررہے تھے۔ یہ ہمارے فوجیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے جیسا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رنبھیر جیسوال نے کہا کہ اصل کنٹرول لائن (ایل اےسی) سے جڑے اشوز کو سلجھانے کے لئے بھارت۔ چین مسلسل بات چیت کررہے ہیں۔جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ بھارت چین بارڈر پر حالات وقتاً فوقتاً بگڑ جاتے ہیں۔ جب چینی فوجی اپنے طے راستے سے الگ گشت کرنے لگتے ہیں۔ ایل اے سی پر بچے ہوئے معاملوں کو سلجھانےکی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور کسی بھی گڑبڑی سے بچنے کےلئے دونوں فریق مسلسل بات چیت اور فوجی راستوں کو استعمال کررہے ہیں۔کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے نے کہا کہ پی ایم مودی دیش اور پارلیمنٹ کو سرحد کی اصل حالت کے بارے میں بتائیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ڈھوکلام و گلوان کے بعد ایک اور سنگین ٹکرائو کی صورتحال بنی رہی؟ کانگریس جنرل سکریٹری جےرام رمیش نے الزام لگایا گلوان کے بعد چین کو دی گئی کلین چٹ کا خمیازہ دیش بھگت رہا ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ چین کی فوج پی ایل اے ہم سے بہت آگے ہے۔ہم اس کا مقابلہ نہیں کرپارہے ہیں۔آئی ٹی بی پی کے جنرل کے اس بیان کے بعد لال آنکھیں دکھانے کی باتیں کہی گئیں یہ کھوکھلے دعوئوں اور 2020 میں چین کو دی گئی اس متنازعہ کلین چٹ کے پیچھے سچائی صاف ہے۔ انگریزی اخبار’ دی ہندو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ایل اے اونچائی والے علاقہ میں بھارت کے نظریئے کے مطابق ، بھارت کے 6-7 کلو میٹر سرحد میں اندر گھس چکی ہے۔آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان سے پہلے ہی مشکلوں میں گھری بھارت کی فوج کا جدید بنانا انتہائی ضروری ہے۔ فوج طاقتور فورس سے لڑ نے کےلئے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے میز پر اپنا موقف مضبوطی سے بھی رکھنا ضروری ہے۔
(انل نریندر)

24 اکتوبر 2026

جلتا فرانس!

فرانس میں پچھلے کئی دنوں سے تشدد آمیزآندولن ہورہا ہے۔ دیش بھر میں ہوئے مظاہروں کے دوران 2300 سے زائد لوگوں کو حراست میں لیا گیا جو نوجوانوں ہیں۔ آندولن میں قریب ایک ہزار سکیورٹی جوان زخمی ہوئے ہیں۔ کئی شہروں میں دوکانوں کی لوٹ پاٹ ،آگزنی، پبلک عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔مہنگائی سے شروع ہوا یہ آندولن قریب چار ہفتے پہلے اس وقت شروع ہوا جب اسکولوں کی بدتر حالت کے خلاف طلبا نے مظاہرے شروع کئے۔یعنی فرانس میں بھی جین زی کے ذریعے آندولن شروع کیا گیابعد میں مہنگائی، ایندھن اور غذائی اجناس کے بڑھتے داموں کے خلاف جنتا کی ناراضگی بھی اس میں جڑ گئی۔سنیچر کے روز قریب پانچ لاکھ لوگ سڑکوں پر اترے تھے۔ اس درمیان مظاہرین نے پیرس کے مشہورلبرو میوزیم کے اینٹری گیٹ کو بند کردیاجس کے چلتے میوزیم نہیں کھل سکا۔ فرانس کے پیرس،مسیم اور لائوچ سمیت کئی شہروں میں رات کے کرفیو سے حالات کچھ نرم پڑے۔رات میں پولیس ہیلی کاپٹر سے گشت کرتی رہی۔ پیرس کے آندولن میںسب سے زیادہ متاثرہ پیرس۔ڈی لاریپبلکن علاقہ میں عملہ کی مددسے لگی مورتی سے پیلی جیکٹ ہٹائی گئی۔اس آندولن میں مظاہرین نے جم کر لوٹ مار کی۔لوئی ویتان، ایپل اسٹور سمیت کئی بین الاقوامی برانڈ کے شوروم لوٹ لئے گئے۔ اس سیاسی بحران سے صدر میکرو نے قریب ایک دہائی پہلے کے سیاسی سسٹم بدلنےاور مالی اصلاحات کو تیزی سے لاگو کرنے اور دیش میں انتظام ٹھیک کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن عہد کے صرف چھ مہینے باقی رہتے، مظاہرین نے انہیں کمزور صدر ثابت کردیا ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے تشدد دکھاتا ہے کہ اب سرکاری مشینری کا اثر کتنا کم رہ گیا ہے۔ایک ایسے لیڈر کی لاچاری کھل کر سامنے آئی ہے جو نہ تو جنتا کے غصے کو روک پا رہا ہے ، جس کے پاس خرچ کرنے کے لئے پیسہ نہیں بچا ہے۔سیاسی حمایت کمزور ہوچکی ہےاور قانون و نظام پر گرفت لگاتار ڈھیلی ہوتی جارہی ہے۔ فرانس کے بڑھتے تشددکے درمیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر امینول میکرو کی نکتہ چینی کی ہے۔ٹرمپ نے دعوی کیا کہ پیرس جلدہی ایک مسلم شہر بن جائے گا۔انہوں نے فرانس میں جاری تشدد کے لئے مہاجرین کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ میکرو کو کافی پہلے ہی دیش کی سرحدی بند کردینی چاہئے تھیں۔ میں نے ان سے ایسا کرنے کوکہا بھی تھا۔ نیوہسوے سینٹررپورٹ کے مطابق فرانس میں 46 فیصدی لوگ عیسائی ہیں اور قریب43 فیصدی لوگ کسی مذہب کو نہیں مانتے۔مسلم آبادی قریب9 فیصد ہے۔فوکس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق کمیونسٹ، سماجوادی، مسلم، طلبعلم اور فلسطین حمایتی سمیت کئی گروپوں نے  مظاہروں کو بڑھاوا دیا ہے۔رپورٹ کے مطا بق ان 54 انجمنوں نے میں 16 طلبعلم یا نوجوان گروپ ہیں۔باقی میں کٹر پنتھ سیاسی پارٹی مزدور فیڈریشن ،کسان انجم، شہری حقوق گروپ اور بین الاقوامی میڈیا گروپ شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ نے مظاہروں میں حصہ لیا جبکہ دیگر نے انٹرنیٹ میڈیا یا نیوز کوریج کے ذریعے آندولن کی حمایت کی۔28 کمیونسٹ، سماجوادی، یوتھ اتحاد12 یوروپی ملکوں میں مظاہروں کی تیاری کررہے ہیں۔ فرانس کے علاوہ اٹلی و دیگر ملکوں میں بھی آندولن ہورہے ہیں۔
(انل نریندر)

22 اکتوبر 2026

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ انڈرورلڈ کی دہشت ختم نہیں ہوئی ہے۔2018 میں لارینس بشنوئی کی پہلی دھمکی کے بعد آٹھ سال سے اس کا فلمی دنیا سے وابستہ ہستیوں کے لئے خوف اور دہشت کا سبب بنا ہوا ہے۔ اداکار سلمان خان کو دھمکی سے شروع ہوا سلسلہ کئی اداکاروں اور گلوکاروں پر حملے ہوئے ہیں جبکہ سلمان کے مددگار مانےجانے والے این سی پی لیڈر بابا صدیقی کا قتل بھی ہوچکا ہے۔ ہر واردات میں بشنوئی گینگ کی وا بستگی ہونے سے بالی ووڈ ستارے خوفزدہ بتائے جارہے ہیں۔بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شراف پر ایتوار کی شام قریب 7.30 بجے بمبئی میں قاتلانہ حملہ ہوا۔ جوہو پولیس اسٹیشن سے محض350 میٹر دوری پر تین بدمعاشوں نے ان کی کار پر پانچ گولیاں چلائیں۔شکر ہے کہ گولیاں کار کے گلاس پر لگیں اس لئے ٹائیگر شراف بال بال بچ گئے۔ حالانکہ ان کے ڈرائیور فردوس کے بائیں ہاتھ میں چوٹ آئی ہے جبکہ پاس ہی ویڈیو بنا رہے ایک فین یوگیش چوہان زخمی ہوگئے۔پولیس کی 15 ٹیموں نے حملہ آوروںکی تلاش شروع کردی۔ اس معاملہ میں ایک تازہ خبر آئی کہ راجستھان پولیس کی اینٹی بدمعاش ٹاسک فورس اور کوٹہ پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 19 اکتوبر کو تین ملزمان کو کوٹہ ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کرلیا ہے۔ابتدائی اطلاع کے مطابق تینوں ملزم ممبئی سے دہلی جارہی ٹرین میں سوار تھےپولیس نے کوٹہ ریلوے اسٹیشن پر انہیں دبوچ لیا۔موصولہ اطلاع کے مطابق گرفتار ملزمان میں دو ہریانہ اور ایک بہار کا رہنے والاہے۔ تینوں میں سے دو حملہ آوروں کی پہچان بیگوسرائےباشندہ ملک کمار اور سونی پت کے ریحان کی شکل میں ہوئی ہے جبکہ ایک تیسرا نابالغ ملزم بھی سونی پت سے ہے۔بتادیں کہ پچھلے چار سال میں لارینس بشنوئی گینگ نے ان حملوںکی ذمہ داری لی ہے۔سدھو موسے والا، مئی 2022 سندھی اداکار گریوال نومبر2022، سلمان خان اپریل2024، اے بی ڈھلو(گلوکار) ستمبر2024، بابا صدیقی اکتوبر2024 اور روہت شیٹی(ڈائریکٹر) فروری2026۔اداکار سلمان کو دھمکی سے شروع سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔سلمان خان کے مددگار مانےجانے والے بابا صدیقی سے لیکر ٹائیگر شراف سبھی نشانہ پر رہے۔ بالی ووڈ سے لارینس بشنوئی گینگ کی عداوت کی شروعات 2018 میں تب ہوئی تھی جب لارینس نے جودھپور کورٹ میں پیشی کے دوران کھلے طور پر سلمان خان کو جان سے مارنےکی دھمکی دے ڈالی تھی۔بتایا جاتا ہے کہ اس نے تب اپنے ایک گرگے کو ممبئی بھیج دیا تھا۔ جو سلمان خان کے گھر کی ٹوہ بھی لے چکا تھا۔ اس کے بعد سلمان کے گھر پر فائرنگ سے لیکر ساری بالی ووڈ کی ہستیوں خاص طور پر سلمان خان سے وابستہ لوگوں کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔اپریل 2024 میں سلمان کے باندرہ میں واقع گھر گلیکسی اپارٹمنٹ کے باہر پانچ رائونڈ فائرنگ کروائی تھی۔ٹائیگر شراف پر فائرنگ کے بعداپوزیشن ریاستی حکومت پر حملہ آور ہیں۔اپوزیشن لیڈروں نے الزام لگایا کہ دوبئی اور پورے مہاراشٹر میں قانون و انتظام کے حالات بگڑ گئے ہیں۔کانگریس نیتا سچن راوت نے کہا کہ ممبئی بدامنی کی زد میںآگئی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی ، وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس پر الزام لگایا کہ وہ قانون و انتظام بنائے رکھنے میں پوری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ممبئی کانگریس صدر ورشا گائیکواڑ نے مہاراشٹر کیلئے علیحدہ وزیر داخلہ دینے کی مانگ کی اور اس صو رتحال کےلئے فڑنویس کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ این سی پی ممبر اسمبلی روہت پوار نے کہا کہ اگر وزیر اعلی حالات کو سنبھال نہیں پا رہے ہیں تو محکمہ داخلہ کسی دیگر وزیر کو سونپ دیں۔ادھر بالی ووڈ میں دہشت کا ماحول بن گیا ہے۔سب کو اب اپنی جان و مال کا خطرہ ہوگیا ہے۔ایک بار پھر ممبئی انڈر ورلڈ کے قبضے میں نہ آجائے؟
(انل نریندر)

20 اکتوبر 2026

رجیم چینج بنام تختہ پلٹ !

سپریم کورٹ کے جانے مانے وکیل پرشانت بھوشن نے جمعرات کو دہلی میں پریس کلب میں منعقدہ کاکروچ جنتا پارٹی کی پریس کانفرس میں کہا کہ وہ اب رجیم یعنی اقتدار تبدیلی چاہتے ہیں۔اس کے بعد ہنگامہ ہوگیا۔ مجھے لگتا ہے کہ پرشانت بھوشن نے دیویندر یادو کے انڈین ایکسپریس میں لکھے ایک مضمون میں تحریر کیا تھا’ہم رجیم چینج نہیں چاہتے، ہم چنائو پروسیس میں سدھار چاہتے ہیں۔‘یادو کے بیان پر مظاہرین کو بہت برا لگا اور اپنی پوزیشن صاف کرنے کے مقصد سے پرشانت بھوشن نے اقتدار تبدیلی کی بات کہی۔ اس سے پہلے کہ  بی جے پی کا اس پر کیا جواب آیا میں بتانا چاہتا ہوں کہ رجیم چینج کا مطلب کیا ہوتا ہے اور کیوںوہ جمہوریت کی ایک اہم ترین کارروائی ہے۔ میں نے الگ مطلب : حکومت تبدیلی یا اقتدار تبدیلی ہوتا ہے۔ اس کا مطلب کسی دیش کی موجودہ حکمرانی نظام، سرکار یا لیڈر شپ کو ہٹا کر اس کی جگہ نئی قیادت لانا ہے۔ اس کا مطلب قطعی تختہ پلٹنا نہیں ہوتا۔ تختہ پلٹنے کا عام طور پر مطلب ہوتا ہے جب فوج منتخب سرکار کو زبردستی ہٹا کر خود حکمرانی سنبھال لیتی ہے۔ یہ ہم نے کئی بار پاکستان میں دیکھا ہے۔افریقہ کے کئی ملکوں میں بھی دیکھا ہے۔ جمہوریت میں سرکار یا اقتدار تبدیلی جمہوریت کا بنیادی حصہ ہے۔ انا آندولن کے بعد جنتا نے اقتدار بدلہ تھا اور بی جے پی کو بعد میں حکومت ملی۔ جب رجیم چینج کی بات کرتے ہیں تو موجودہ سرکار کو چنائو میں ہراکر اقتدار تبدیلی ہوتی ہے۔اگر ایسا نہ ہوتو ایک ہی سرکار بغیر چنائو جیتے اقتدار میں سالوں سال بنی رہے تو وہ تانا شاہی ہوجائے گی۔اس لئے یہ کہنا کے رجیم میں چینج کا مطلب تختہ پلٹنا نہیںہے خیر اس پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک چنائو اصلاحات کے لئے نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد بد امنی پھیلانا ہے۔ وہیں بی جے پی ترجمان سمبت پاترا نے کہا کہ پریس کانفرنس سے صاف ہوچکا ہے کہ ان لوگوں کی منشا ہے دیش میں تختہ پلٹ کرنا اور بغیر چنائو لڑے سرکار بنانا۔ اپوزیشن کا آندولن چنائو اصلاحات کے لئے نہیں ہے، بلکہ اقتدار تبدیلی کے لئے بنگلہ دیش کی طرز پر دیش میں تشدد اور بدامنی پھیلاناہے۔ اس پر کانگریس نے راجناتھ سنگھ کے بیان پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی حقیقت صاف ہےاور ہم چنائو کے ذریعے سرکار کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ کانگریس ایم پی پون کھیڑا بدامنی کے سہارے اقتدار تبدیلی کے راجناتھ کے الزام کو بھاجپا کا پاکھنڈ بتایا۔پریس کانفرنس میں پون کھیڑا نے وزیر دفاع کے بیان پر جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سرکار کو ہٹانا ہے اور اس نظام کو بدلنا ہے۔ کھیڑا نے مزید کہا چنائو کے ذریعے سے سرکار بدلنا جمہوریت کاایک عام پروسیس ہے۔ کھیڑا نے 1977 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو کہہ رہے ہیں کہ رجیم بدلنا ہے۔1977 میں کیاہوا تھا؟ ہر بار جب اپوزیشن سڑک پر آتی ہے اور کوئی بھی آندولن ہوتا ہے تو اقتدار تبدیلی ہوتی ہے۔ چنائو کے ذریعے ہی رجیم چینج ہوتا ہے۔ کھیڑا نے کہا بھاجپا جمہوریت کی تعمیل کرنے کی عادت بھول چکی ہے۔پرشانت بھوشن نے کہا کہ اب سرکار کہہ رہی ہے کہ یہ تو اپوزیشن کا رجیم چینج کاآپریشن ہے۔ہم تو ابھی چنائو، جمہوریت ٹھیک کرنے کی اپیل کررہے تھے لیکن سرکار اس بربریت سے چلے گی تو ضرور رجیم چینج ہوگا۔رجیم چینج کے الزامات پر انہوں نے کہا : ہاں ہم رجیم چینج کرنا چاہتے ہیں، اس میں کیا غلطی ہے؟ بی جے پی رجیم چینج کے لئے بار بار الزامات لگاتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ لوگ رجیم چینج کے نام پر سازش رچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا رجیم چینج کرنا ہر شہری کا جمہوری حق ہے۔ہمارے آئین میں سرکار کے خلاف احتجاج کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ 
(انل نریندر)

17 اکتوبر 2026

اپوزیشن کا سپریم مارچ!

لوک سبھا میںاپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی اورمختلف اپوزیشن لیڈروں نے بھارت کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت سے ملاقات کا وقت مانگاتھا لیکن چیف جسٹس نے ملنے سے انکار کردیا۔اپوزیشن لیڈروں نے چیف جسٹس کو خط بھیج کر کہا کہ وہ ان سے مل کر چنائو کمیشن اور مبینہ ووٹ چوری سمیت کئی اشوز پر اپنی تشویشات ان کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے اس ملاقات کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ جن اشوز کو لیکر ملاقات کی درخواست کی گئی ہے ان سے جڑے معاملہ پہلے سے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ایسے معاملوں پر الگ ملاقات کرنا عدلیہ تقاضوں کے مطابق نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے اپوزیشن لیڈروں کو مشورہ دیا کہ وہ ایک عرضی دائر کردیںاس پروہ سماعت کریںگے۔ چیف جسٹس کی اس تجویز پر رائے زنی کرتےہوئے تمام اپوزیشن لیڈ پیر کو ایک مارچ کرتے ہوئے سپریم پہنچے۔ 12اکتوبر کو یہ مارچ کیا گیا۔اتفاق سے مجھے اس جلوس کو دیکھنے کا موقعہ ملا۔ ہوا یوں کہ میں تقریباً تین بجے اپنے دفتر پرتاپ بھون ،بہادرشاہ ظفر مارگ جا رہا تھا، جب ہم انڈیا گیٹ پر پہنچے تو تلک مارگ کا راستہ بند تھامجبوراً ہمیں وہاں سے نکل کر منڈی ہائوس مارگ کے راستے جانا پڑا۔ منڈی ہائوس پہنچنے پر میں نے دیکھا کہ وہ پوری طرح گھرا ہوا ہے۔ وہاں سینکڑوں مظاہرین پہنچے ہوئے تھے۔ وہاںسے لیڈی ارون کالج والاتلک برج تک کا روڈ بلاک تھامجبوراً ہم بارہ کھمبا روڈ سے جانے لگے۔ بارہ کھمبا روڈ پر بھی سینکڑوں لوگ سڑک پر تھے۔ ان میں زیادہ تر وکیل تھے وہ پہلے سے کھڑے تھے یا سڑک پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے میری گاڑی کو راستہ دیا اور بھیڑ میں میں للت ہوٹل ہوتے ہوئے دفتر پہنچا۔میں نے اپنی زندگی میں اتنی بھیڑ ایک بار پہلے دیکھی تھی جب رام لیلا گرائونڈ میں انا آندولن ہوا تھا لیکن بعد میں میں نے ٹی وی پر بھیڑ دیکھی تو میں حیران ہوگیا۔ دہلی میں برسوں بعد ایسی بھیڑ دیکھی۔ یہ بھیڑ کوئی کرائے پر لائے گئے لوگ نہیں تھے، جو بسوں میں  دبائو کے چلتے آنے پر مجبور ہوئے۔بھیڑ میںبزرگ ، درمیانی عمر کے لوگ، لڑکے لڑکیاں سبھی طرح کے لوگ تھے جو اپنے پیسوں سے ، اپنی مرضی سے اس مارچ میں شامل ہوئے۔ پولیس نے بھی اس مرتبہ بہت کنٹرول، سمجھداری سے کام کیا۔انہوں نے کہیں بھی کسی طرح کی زور زبردستی نہیںکی۔ بھیڑ اتنی تھی کہ راہل گاندھی، پرینکا کی جان کو خطرہ ہوسکتا تھا۔ حالانکہ ان کو زیڈ پلس سکیورٹی ملی ہوئی ہے جس میں 41 سے 50 سکیورٹی ملازم ہوتے ہیں۔ اس دن مشکل سے چار پانچ ہی نظر آئے۔ راہل ۔ پرینکا کو تھوڑا اپنی حفاظت پر بھی دھیان دینا ضروری ہے۔ایسی بے کنٹرول بھیڑ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ خیر! 11 اپوزیشن لیڈروں نے ایس آئی آر بڑے سطح پر نام کاٹنے اور گڑ بڑی کے الزام لگاتے ہوئے مشترکہ عرضی دائر کی۔اس میں چنائو کمیشن ، سی ای سی، گیا نیش کمار اور دونوں الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو، وویک جوشی فریق بنائے گئے ہیں۔ووٹ چوری کو لیکر دہلی کی سڑکوں پر سات دن سے مظاہرے جاری ہیں۔ اس سے پہلے بارہ کھمبا روڈ سے اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ شروع ہوا تو راہل گاندھی نےاکھلیش یادو، تیجسوی یادو، سپریا سلے سمیت کئی دوسرے لیڈروں کو بھی بلایا ۔ ایس آئی آر رضاکار نیہاوہرہ بھی ذاتی طور پر موجود تھی۔مارچ کے دوران راہل گاندھی پیدل آگے بڑھنے کے لئے نکلے تو ان کے آس پاس لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ جس سے کچھ دیر تک دھکا مکی جیسی حالت بن گئی۔بھیڑ کو کنٹرول کرنا چیلنج بن گیا۔اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ دیش میں ایک اہم مسئلہ پر لوگوں کو سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے اور کوئی جوابدہی کو تیار نہیں تو اب ایک ہی راستہ انصاف کے لئے بچتا ہے وہ ہے سپریم کورٹ کو دروازہ اور یہی اپوزیشن نے کیا۔ سپریم کورٹ میں انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
(انل نریندر)

15 اکتوبر 2026

ناراضگی کیا صرف چنائو کمیشن سے ہے یا ؟

10 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاجی مظاہروں کو لیکرسرکار کی کارروائی اور مظاہرین کو جس بربریت سے روکنے کی کوشش ہوئی اس پر سوال اٹھ رہے ہیں۔2026 میں نوجوانوں سے وابستہ احتجاجی مظاہروں کا دائرہ اب صرف روزگار یا امتحان تک محدود نہیں رہا ہے۔ امتحان اور روزگار کے سوالوں سے شروع ہوا زین جی آندولن کےبعد اب ووٹر لسٹ اور چنائو کمیشن کو لیکر بھی زین جی اور اپوزیشن پارٹیوں کے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ نوجوان کن اشوز پر سڑکوں پر اتر رہے ہیں اور کیوں؟کیا روزگار کی پریشانی آہستہ آہستہ چھوٹے اداروں پر بھروسے کی تشویش میں بدل رہی ہے؟ کیا امتحان میں غیر جانبداری کا سوال اور چنائو میں منصفانہ کا سوال، دونوں کے پیچھے سسٹم سے انصاف ملنے کے بھروسے کا سوال ہے؟ یہ کچھ سوال تھے جن کو لیکر 10 اکتوبر کو راجدھانی دہلی میں ایسا مظاہرہ ہوا جو کبھی پہلے نہیں دیکھا گیا تھا۔ جس طریقے سے انتظامیہ۔ حکومت نے اس سے نمٹنے کےلئے ہتھکنڈے اپنائے اس سے ساری دنیا میں بھارت کی ساکھ خراب ہوئی۔ غیر ملکی میڈیا نے اس واقعہ کو بڑی کوریج دی۔اور تو اور پاکستان کے اخبار ’دی ڈان‘ نے اپنی رپورٹ میں اس مظاہرے کو بھارت کے پی ایم مودی کے خلاف نوجوانوں کا ایک ودھرو قرار دیا۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ پہلی بار ہے جب کوئی وائرل آن لائن یوتھ مومنٹ سوشل میڈیا سے نکل کر سیدھے سڑکوں پر آگئی ہے۔ ’دی ڈان‘ نے سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے کے 2.2 کروڑ انسٹاگرام فال اوورس اور نوجوانوں کے درمیان بڑھتی مقبولیت کو بھی ہائی لائٹ کیا ہے۔امریکی اخبار ’دی نیویارک ٹائمز‘ نے لکھا ہے کہ ایک طرف دہلی کی سڑکوں پر افراتفری کا ماحول تھا دوسری طرف پارلیمنٹ میں مسکراتے ہوئے مسٹر مودی امن کی ساکھ پیش کرنے کی کوشش کررہے تھے اور انہوں نے مظاہرین کی مانگوںسے متعلق کچھ نہیں بولا۔ اخبار نے مزید لکھا ہے کہ حکمراں بی جے پی نے بھارت کے نوجوانوں کے بھاری غصے کو کمتر سمجھنے کی غلطی کی ہے۔ساتھ ہی رپورٹ میں کہا گیا ہےپی ایم مودی کی ایک مـضبوط شخصیت والی امیج میں بھی اب دراریں پڑتی نظر آرہی ہیں۔نیویارک ٹائمس نے سرکار حمایتی ٹی وی چینلوں پر بھی طنز کسا ہے جنہوں نے پہلے اس مظاہرہ کو نظر انداز کیا بعد میں پارلیمنٹ کے آس پاس دہشت کا ماحول دکھاتے نظر آئے۔بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں جنتر منتر پر ترنگا اور تختیاں لئے مظاہرین اور پارلیمنٹ کی طرف جانے والے راستوں پر سکیورٹی فورسز کی گھیرا بندی کے درمیان ٹکرائو کو دکھایا ہے۔رپورٹ میں ذکر ہے پولیس کے پیچھے دھکیلنے پر مظاہرین کے سر سے خون بہتے ہوئے یا لنگڑاتے ہوئے جنتر منتر کی طرف لوٹے۔بی بی سی کے مطابق یہ آندولن پی ایم مودی کے خلاف حالیہ برسوں میں ناراضگی کا سب سے بڑا چہرہ بن گیا ہے۔فائنینشیل ٹائمس کے مطابق پولیس نے بھیڑ پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے ، لاٹھیاں برسائیں۔ اخبار کا خیال ہے کہ یہ مظاہرے مودی سرکار کے سامنے ایک بڑی چنوتی بن سکتے ہیں۔ رپورٹ میں مظاہرین کے اس نعرہ کا خاص طور پر ذکر ہے جس میں وہ چلا رہے تھے: ’جب بھی مودی ڈرتا ہے، پولیس کو آگے کرتا ہے۔ بزنس نیوزولمرگ کے مطابق مظاہرین نے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا ہے اس سے سرکار پر دبائو بڑھ گیا ہے۔ ولمرگ نے خبردار کیا ہے بڑھتی ناراضگی اگلے سال مئی میں ہونے والے یوپی کے اسمبلی چنائو میں بی جے پی کےلئے ایک بڑا امتحان ثابت ہوگی۔وہیں ایک جرنل والاسٹریٹ نے بھی اسے پی ایم مودی کے سامنے برسوں کی سب سے بڑی چنوتی قراردیا ہے۔برطانوی اخبار دی گارجین نے اپنی ہیڈ لائن میں لکھاہزاروں سی جے پی مظاہرین نے پولیس کو چنوتی دیتے ہوئے دہلی میں مارچ کیا۔ اس بھیڑ میں خاص طور سے طالبعلم اور زین جی لڑکے شامل تھے جو مودی سرکار سے اس بات کو لیکر بیحد ناراض ہیں کہ سرکار نے نوجوانوں کو مایوس کیا ہے۔دی گارجین نے نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ملکوں میں نوجوانوں کے ذریعے سرکاریں گرائے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ بھارت میں اس شدت کےاحتجاجی مظاہرے حال کے برسوں میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔سکیورٹی فورس کی بربریت اور سختی سے احتجاج کی آوازیں بیشک کچھ وقت تک خاموش کی جاسکتی ہیں لیکن اب یہ آندولن رکنے والانہیں لگتا، مسئلہ کا حل تو بات چیت سے ہی ممکن ہے جس کی پہل کرنی ہوگی۔فی الحال سرکار کی طرف سے کوئی ایسا امکان نظر نہیں آرہا ہے۔
(انل نریندر)

مارکو روبیو سیدھے جام نگر کیوں گئے؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روگیو حال ہی میں بھارت آئے حالانکہ وہ غیر رسمی دورہ پر آئے تھے،لیکن وہ پروٹوکول کے مطابق راجدھانی نئی دہلی نہیں آ...