Translater

29 ستمبر 2026

میڈیا میں چھائے گیانیش کمار!

الیکشن کمیشن کے اندر سے جوخبریں باہر آئی ہوئی ہیں اور انڈین ایکسپریس میں چھپی ہیں وہ تشوتشناک تو ہیں ہی لیکن اس سے کہیں زیادہ سنگین اس لئے ہیں کیونکہ وہ دیش کے اس آئینی ادارہ کے طریقہ کار پر سوال کھڑا کرتی ہیں جس پر آزادانہ منصفانہ و شفاف چنائو کرانے اور جمہوریت میں عوام کا بھروسہ بنائے رکھنے کی بھی اہم ذمہ داری ہے۔بھارت میں چنائو کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کی رپورٹ کا تذکرہ پورے دیش میں تو ہو ہی رہا ہے لیکن بین الاقوامی میڈیا میں بھی یہ خبریں چھائی ہوئی ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد پورے دیش میں چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمار سرخیوں میں آگئے ہیں۔ پورے دیش میں ان کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔ وہیں بین الاقوامی میڈیا میں اس پر رائے زنیاں بھی شائع ہورہی ہیں۔امریکی میڈیا آئوٹ لیٹ بلوم برگ نے اس اشو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایس آئی آر میں جائزووٹروں کے نام ہٹانے اور اس سے چناوی نتیجوں پر اثر پڑنے کا پورا پورا اندیشہ ہے۔ بلوم برگ نے لکھاہے : ستمبر کے آخر میں اس اشو پر پھر سوال اٹھے، جب ا خبار انڈین ایکسپریس نے خبر شائع کی کہ تین چنائو کمشنروں میں سے دو نے اس مہینے میں کم سے کم 14 مرتبہ اس پروسیس کو لیکر چیف الیکشن کمشنر کے سامنے تشویش جتائی تھی۔ چنائو کمشنر نے اس خبر کی تردید کردی ہے کہ چنائو کمشنروں کے درمیان مبینہ عدم اتفاق نے چنائوکی نگرانی کرانے والے ادارہ پر اور سوال کھڑے کردئے ہیں۔ پچھلے ایک سال میں ریاستی اسمبلی انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلسل جیت کے بعد ووٹر لسٹ میں صفائی کا سیاسی طور پر اشو بیحد حساس ترین ہوگیا ہے۔اپریل میں مغربی بنگال چنائو سے پہلے ووٹر لسٹ سے لاکھوں نام ہٹا دئے گئے تھے۔ اس کے بعدبی جے پی نے پہلی بار یہاں بڑی جیت حاصل کی۔پچھلے سال بہار میں بھی لاکھوں لو گوں کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹے گئے تھے اور پچھلے سال ہی اسمبلی چنائو سے پہلے اسی طرح ووٹر لسٹ کی نظرثانی کرائی گئی تھی۔ ووٹروں کے نام جوڑنے اور ہٹانے کے ساتھ ووٹ فہرست کے مینجمنٹ والے سسٹم کے بڑھتی مرکزیت کو لیکر تشویشات پر بلوم برگ نے لکھا ہے دونوں کمشنروں نے یہ بھی کہا کہ کچھ فیصلے لئے گئے اور احکامات جاری کئے گئے لیکن اس کی جانکاری انہیں نہیں دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایس آئی آر کے دوران قریب 13 کروڑ لوگوں کے نام ابتدائی ووٹر لسٹ سے ہٹا دئے گئے۔ان میں سے کئی لوگوں کے نام ہٹائے جانے کے خلاف اپیل کی گئی جو زیادہ تر ابھی بھی التوا میں پڑی ہے۔ اخبار نے لکھا وزیر اعظم نریندر مودی کو 2029 تک لوک سبھا چنائو میں ووٹ ڈالنے والے ووٹروں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن کچھ ہی مہینے بعد بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اترپردیش میں اسمبلی چنائو ہونے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں ہونے والے اسمبلی چنائو ان کی مقبولیت کےلئے ایک اہم سیاسی امتحان ہوگا۔ قطر کے اخبار الجزیرہ نے چنائو کمیشن سے وابستہ خبر شائع ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے نوجوان آندولن کاریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر دیش کے چیف الیکشن کمشنر سنیچروار تک استعفیٰ نہیں دیتے ہیں تو وہ دیش بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع کریں گے۔ اخبار نیویارک ٹائمس نے بھی اس مسئلہ پر بڑی اہمیت کے ساتھ خبر شائع کی ہے۔ ایس آئی آرسے لیکر اپوزیشن پارٹیوں میں تقسیم اور چناوی سمبل ضبط کرنے اور انہیں تسلیم ہونے تک کہ اشو چھائے۔ ہر جگہ اپوزیشن کو چنائو کمشنر پر سوال اٹھانے کا ایک موقعہ بیٹھے بٹھائے مل گیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے یہ اشو رکنے والا نہیں ہے اور ابھی کئی آندولن دیکھنے کو ملیںگے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جو الزام لگائے ہیں وہ بھی وضاحت کی مانگ کرتے ہیں۔ یہاں سپریم کورٹ کے جسٹس دیپانکردتتا کی رائے زنی بھی بیحد اہم ہے۔ ایک آئینی ادارہ پر اس طرح کے الزام بیحد تشویشناک ہیں۔جو سوال اٹھ رہے ہیں ان کا جواب ملنا ہی چاہئے۔ کیونکہ چنائو کمیشن کے بھروسے پر پوری جمہوری مشینری کے اعتماد کا سوال بھی ہے۔
(انل نریندر)

24 ستمبر 2026

دہلی میں ایس آئی آ ر کو لیکر سوال!

دہلی کی ووٹر لسٹ میں ایس آئی آر کو لیکر کئی سوال اور اعتراضات کھڑے ہو رہے ہیں۔ ایس آئی آر پروسسز میں لاکھوں ووٹروں کے ریکارڈ میں گڑ بڑیاں سامنے آئی ہیں۔ ان خامیوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم اور اس کے طریقہ کار پر سنگین سوال کھڑے کردئے ہیں۔ ویسے تو پورے دیش میں ایس آئی آر کا پروسس کو لیکر الگ الگ سوال اٹھ رہے ہیں۔ اور اسی درمیان دہلی ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے بعد سامنے آئے نوٹسوں نے اس بحث کو اور بھی بڑا کردیا ہے۔ دراصل دہلی میں ایس آئی آر کے تحت قریب 3.13 لاکھ ووٹروں کے ریکارڈ میں ملی الگ الگ طرح کی غلطیوں کی بنیاد پر نوٹس جاری کئے جارہے ہیں۔ نوٹس ملنے والے عام ووٹروں کے ساتھ ساتھ سابق نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی، وزیر خارجہ جے شنکر و سابق نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکڑ، الیکشن کمیشنر ایس ایس سندھو، دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال اور دہلی کے سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیہ، خارجہ سکریٹری وکرم مسٹری و نامور وکیل و سابق وزیر کپل سبل بھی شامل ہیں۔ سابق فوج کے چیف اپیندر دویدی، سی بی آئی ڈائریکٹرپروین سود اور کئی سینئر افسران بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ یہ فطری طور پر سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر ایسا کیسے ہوا؟ جیسا کہ میں نے بتایا کہ دہلی میں قریب 33.13 لاکھ ووٹروں کو نوٹس کےلئے نشا نزد کیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر معاملے ایسے ہیں جہاں موجودہ ووٹر ریکارڈ کو سال2002 میں ہوئی پچھلی ایس آئی آر کی ووٹر لسٹ سے لنک نہیں کیا گیا یا تفصیل میں گڑ بڑی ملی۔ حالانکہ چنائو کمیشن نے صاف کیا ہے کہ نوٹس ملنے کا مطلب ووٹر لسٹ سے نام ہٹانا نہیں ہے۔چنائو کمیشن کے مطابق ووٹر جواب ضروری دستاویزات جمع کر سکتے ہیں اور کسی کا نام سماعت کا موقعہ دئے بغیر اور مناسب حکم کے بغیر ہٹایا نہیں جاسکتا۔ کانگریس نے ایتوار کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ووٹر لسٹوں میں وسیع پیمانے پر نام ہٹانے کا اشو اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ دراصل ایس آئی آر امت شاہ کے اشارے پر ووٹروں کے نام ہٹانے کی ایک بڑی منشا ہے کارروائی اورآئین پر حملہ ہے۔ اس بات کے کافی ثبوت ہیں کے مختلف ریاستوں میں وسیع پیمانے پر ہٹائے گئے ناموں میں سب سے زیادہ تعداد سماج کے غریب اور اقتصادی طور پر کمزور طبقے سے آنے والے ووٹروں کی ہے۔راجیہ سبھا ایم پی کپل سبل نے ایتوار کو سوال کیا کہ اگر الیکشن کمیشن کا ارادہ بھاجپا کو اقتدار میں بنائے رکھنا ہی ہے تو چنائو کرانے کا کیا مطلب ہے؟ کپل سبل اور ان کی بیوی کو ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر کے دوران دی گئی تفصیل میں گڑ بڑیوں کے سبب نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔ اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا یہ کس طرح کی اسپیشل نظرثانی ہے؟ یہ جائز ووٹروں کو ہٹانے اور نا جائز ووٹروں کو جوڑنے کی کوشش ہے۔ اگر آپ بھاجپا کو ہی اقتدار میں بنائے رکھنا چاہتے ہیں تو چنائو کرانے کا کیا مطلب ہے؟ امید کی جاتی ہے کہ چنائو کمیشن جلد پورے معاملہ کی جانچ کر اپنی غلطیوں کو درست کرے گا کیونکہ اس کی ساکھ دائو پر لگی ہے۔
(انل نریندر)

22 ستمبر 2026

امت شاہ کا اعلان،مچ گیا گھماسان

اپنی سمجھ میں نہیں آیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے محکمہ میں کیا پلاننگ ہے جو ایسے وقت میں یو سی سی نافذ کرنے کا اعلان کیوں کیا؟ جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور پورا دیش کامیاب برکس سمٹ کی خوشیاں منارہا تھا اور سارے دیش میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کی خوشیاں منائی جارہی تھیںیہ کیا صحیح وقت تھا متنازعہ تجویز لانے کا؟عزت مآب امت شاہ جی ممبئی تو گئے تھے مودی سرکار کے 25 سالہ کارناموں کو گنانےاور وہاں پہنچ کر اچانک اعلان کردیاکہ 2029 کے لوک سبھا چنائوسے پہلے دیش کی سبھی 21 بھاجپا حکمراں (بی جے پی۔این ڈی اے) نے یکساں سول کوڈ نافذ کردیا جائے گا۔ ہمیں نہیں پتہ کہ یہ وزیر اعظم اور ان کی کیبنٹ کا اعلان ہے یا نہیں؟ امت شاہ جی کے بیان کے بعد دیش میں سیاسی ہلچل مچنا فطری ہی تھا اور ہنگامہ کھڑا بھی ہوگیا۔ایک طرف اپوزیشن پارٹیوں نے سرکار کو گھیرنا شروع کردیا تو دوسری طرف خود بی جے پی کی اتحادی پارٹی جے ڈی یو نے بھی اس کے خلاف کھل کر احتجاج شروع کردیا۔ ادھر تیلگو دیشم پارٹی اب سے نہیں اٹل جی سرکار کے وقت سے ہی اس کی کھلی مخالفت کررہی تھی۔بھاجپا پر الزام لگایا گیا کہ وہ پرسنل لاءاور یکساں اختیارات جیسے پیچیدہ اشوز کو چناوی ہتھیار بنا رہی ہے۔بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (مارکس وادی) نے کہا کہ پرسنل لاء اور یکساں حقوق جیسے پیچیدہ اشوز کو دیش میں نافذ کرنے کی تجویز عام چنائو سے پہلے بھاجپا کے اہم ہندوتو حمایتی بنیاد کو مضبوط کرنے کی ایک واضح سیاسی حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے۔ پارٹی نے سرکار کے جنسی برابری اور ایک شکل پر امکانی زور کو خارج کرتے ہوئے دلیل دی کہ اس مسئلہ کو صرف الگ الگ فرقوں کو ایک مشترکہ قانونی ڈھانچے کے تحت لانے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔اپوزیشن کا کہنا ہے ایک شکل کا مطلب یکساں نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا بھاجپا بےروزگاری ، مہنگائی اورر زرعی بحران اور طلبہ و زین جی کی پریشانیوں جیسے مسئلوں کو حل کرنے کے بجائے ایک اور بٹوارہ مہم کی تیاری کررہی ہے۔ یہ اعلان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس اعلان کے بعد آیا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔سابق ایم پی اور سینئرسی پی ایم لیڈر حنان ملا نے پیر کو ایک ٹی وی چینل سے کہا پرسنل لاء میں شادی و طلاق ، وراثت، گود لینےاور خاندانی حقوق سے وابستہ حساس ترین اشو شامل ہوتے ہیں اس لئے ان کے لئے ریاستوں یا فرقوں، قانونی ماہرین اور شہری سماج کے ساتھ ساتھ وسیع خیالات ، دماغی ضرورت سے اغراض مبنی ہوتی ہے۔ مرکز میں موجودہ بھاجپا این ڈی اے سرکار دو بیساکھیوں پر ٹکی ہوئی ہے۔ جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی جیسی پارٹیاں قومی سطح پر ایک طرفہ یکساں سول کوڈ قانون تھونپنے کے بجائے مقامی رضامندی اور حساسیت اپنانے کے حق میں رہے ہیں جے ڈی یو نیتا اس کے جائزے کی بات کہہ چکے ہیں۔سرکاروں کے ذریعے سے قانون نافذ کرنے پر مرکزی سرکار پر اتحادی پارٹیوں کی حمایت ضروری ہے۔ اتحادی پارٹیوں کی اپنی اپنی ریاستوں میں الگ مجبوریاں ہوسکتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ امت شاہ اسے کیسے لاگو کرتے ہیں؟
(انل نریندر)

19 ستمبر 2026

مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو جائے گی ۔سعودی عرب نے دعویٰ کیا کہ ہے کہ ایران حمایتی یمن کے حوثی باغیوں نے اسلام کے سب سے مقدس شہر مکہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔سعودی عرب نے ایران حمایتی حوثی باغیوں پر مکہ کی طرف ڈرون بھیجنے کی کوشش کا بھی الزام لگایا ہے ۔سعودی عرب نے مکہ میں حملے کو اپنی ریڈ لائن بتایا ہے ۔لیکن حوثی باغیوں نے حملے سے انکار کیا ہے کہا ہم نے کوئی ایسا حملہ نہیں کیا ہے ۔سعودی عرب وہی پرانا گھسا پٹا الزام لگارہا ہے ۔حوثی باغیوں کی نیوز ایجنسی سبا کے مطابق تنظیم سے مکہ یا دیگر کسی مقدس مقامات کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔سعودی حکام کے مطابق ڈرون کو مکہ کے ایئر اسپیس میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا ۔سعودی عرب نے منگل کے روز مکہ اور دیش کے دوسرے بڑے شہر جدہ سمیت کئی علاقوں کے لئے سیکورٹی الرٹ جاری کیا ہے ۔مکہ وہ شہر ہے جہاں مسلمانوں کے لئے مقدس کعبہ موجود ہے ۔کعبہ کی طرف ہی منہ کرکے دنیا بھرکے مسلمان روزانہ پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ 57سے زیادہ مسلم ممالک کی نمائندگی کرنے والی آرگنائزیشن اسلام کوآردڈینیشن نے بھی مقدس مقامات کی پاکیزگی کی خلاف ورزی کی کوشش کی مذمت کی ہے ۔مکہ ڈرون تنازہ کے بیچ حوثی کے  فوجی ترجمان یحیٰ ساریا نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ پچھلے 24 گھنٹے میں سعودی عرب کے جنگی جہازوں نے یمن کے پانچ صوبوں پر 52 ہوائی حملے کئے ہیں ۔ایف -15 اور ٹاؤفن جنگی جہازوں نے کئی شہروں الزیف ،البیدا ، سادہ اور عمران میں حملے کئے ہیں ۔اسکولوں ، پلوں ، سڑکوں اور دوسرے شہری سہولیات کو نشانہ بنایا گیا ۔حوثی گروپ نے ان حملوں کا جواب دینے کی بھی دھمکی دی ہے ۔چونکہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے سے انکار کر دیا ہے ۔اس لئے اس واقعہ کی جانچ ضروری ہے ۔امریکہ -ایران لڑائی کے دوران بھی ایسے حالات بن چکے ہیں ۔اس پورے خطہ میں ایسی طاقت موجود ہے جو لڑائی کو بڑھائے رکھنا چاہتی ہے ۔ایسے میں کسی بھی طرح کے غلط تجزیہ کا نتیجہ خطرناک ہو سکتا ہے ۔خیال رہے کہ یمن کے قریب 20 فیصد علاقہ میں حوثیوں کا قبضہ ہے ان کی تنظیم کا نام انصار اللہ یعنی اللہ کے مددگار ہے اوریہ شیعیٰ اکثیریتی انجمن ہے اور یمن میں اپنا الگ حصہ مانگ رہا ہے ۔امریکہ اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیم مانتا ہے لیکن بھارت سمیت زیادہ تر مسلم ممالک بھی اسے آتنکی نہیں مانتے ۔حوثیوں کو فوری طور پر قابو میں کرنے کی صلاحیت سعودی عرب میں نہیں لگتی ۔بہت سوں کو یہ غلط فہمی ہوگی لیکن تذکرہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی مدد اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں اطلاعات کے ذریعے کررہی ہیں ۔ہر جنگ کی قیمت آخرکار جنتا کو ہی بھگتنی پڑتی ہے ہمارے سامنے امریکہ ایران ،اسرائیل لبنان ، جنگ ہے ۔ساڑے چھ ماہ بعد بھی کوئی صلح کی راہ نظر نہیں آرہی ہے اس سے پہلے سعودی اور حوثیوں کی جنگ نہایت خطرناک موڑ پر پہنچے اس بیچ بچاؤکرکے رکوانا ضروری ہے ۔اور کسی بھی قیمت پر مقدس مذہبی مقامات کی حفاظت ہونی چاہیے ۔
(انل نریندر)

17 ستمبر 2026

کیا بھارت کی خارجہ پالیسی بدل رہی ہے؟

نئی دہلی میںاختتام پذیر ہوئی 18ویں برکس سمٹ میں جاری مشترکہ اعلانیہ میں مڈل ایسٹ کو لیکر اپنایا گیا رخ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس اعلانیہ میں بغیر کسی دیش کا نام لئے ایسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے جس کی شاید امید بہت کم لوگوں کو تھی اور یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہے کہ بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کرنا شروع کردی ہے۔ اس اعلانیہ دستاویز میں جس پر سبھی متعلقہ ممالک نے اپنی منظوری دی ہےاور جوائنٹ اعلانیہ پر دستخط کئے ہیں مطلب سب ممالک کی اس میں رضامندی ہے۔ اعلانیہ دستاویز میں دو تین نقطہ ایسے ہیں جو اب تک کی ہندوستان کی خارجہ پالیسی سے میل نہیں کھاتے۔ اس اعلانیہ دستاویز میں اسرائیل اور امریکہ کا نام لئے بغیر فلسطین اور لبنان کا ذکرکیا گیاہے اور مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات کا پر امن حل تلاشنے کی اپیل کی گئی ہے۔ دلچسپ یہ بھی تھا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ میں ایک دوسرے کے برعکس دونوں محاذ میں کھڑے ایران اور یو اے ای بھی مشرق وسطیٰ کے حالات پرامن طریقے سے حل کرنے کی اپیل کرنے والے ملکوں میں شامل تھا۔برکس اعلانیہ دستاویز میں ٹرمپ امریکی ٹیرف کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن کہا گیا کہ کئی ملکوں کو نا انصافی پر مبنی ، ایک طرفہ منمانے قدموں سے نقصان ہوا ہے ۔ چونکہ اعلانیہ دستاویز میں بھارت نے بھی دستخط کئے ہیں اس کا مطلب صاف ہے کہ پہلی بار امریکہ اور ٹرمپ کا نام لئے بغیر بھارت ٹیرف کی کھل کر مخالفت کررہا ہے۔ اب اسے بھارت کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی مانا جائے؟ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ٹرمپ کا اس پر کیا اثر اور رد عمل ہوتا ہے۔ اسی طرح اعلانیہ دستاویز میں غزہ اور قبضے والے فسلطینی علاقوں انسانی حالات پر بھی توجہ گئی اور تشویش جتائ گئی۔ اس میں غزہ میں سیز فائر بنائے رکھنے اور بغیر کسی رکاوٹ کے انسانی مدد پہنچانے کی اپیل کی گئی۔اس میں فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کئے جانے کی بھی مخالفت کی گئی۔ اس میں بین الاقوامی انسانی حقوق قانون میں ایسے سبھی ذکر کرکے مذمت کی گئی ہے۔اعلانیہ دستاویز میں جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف دائر معاملہ میں بین الاقوامی انصاف عدالت کے انترم احکامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اعلانیہ میں دو ملک ’ٹو نیشن تھیوری‘کی حمایت کو دوہرایا گیا ہے اس کے تحت 1967 کی سرحدوں کو یقینی بنائے رکھنا شامل ہے۔ اس میں اسرائیل سے لبنان میں جنگ بندی کی تعمیل کرنے اور لبنان میں بچے ہوئے علاقوں سے اپنی فوج واپس بلانے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ برکس اعلانیہ دستاویز میں بیشک اسرائیل کا سیدھے طور پر نام نہیں لیا گیا لیکن فلسطین اور لبنان کا ذکر کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے مسئلہ کا پرامن حل نکالنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ایک سفارتی ماہر نے پوچھا کے بھارت اسرائیل رشتے کتنے مضبوط ہیں یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس اعلان کے بعد اسرائیل اور بھارت کے رشتوں پر کوئی اثر ہوگا یا نہیں یہ تو آنے والے دنوں میں ہی پتہ چلے گا۔ اسی طرح ٹرمپ کے ٹیرف اور دادا گیری پر برکس میں لئے گئے موقف پر بھارت اور امریکہ کے رشتوں پر کیا اثر ہوگا یہ بھی آنے والے دنوںمیں پتہ چلے گا۔ایران ۔ امریکہ جنگ پر صاف طور پر برکس اعلانیہ دستاویز میں ایران کی حمایت کی گئی ہے۔ بیشک اعلانیہ دستاویز میں امریکہ کا نام نہیں لیا گیا، لیکن امریکہ کی جانب سے ایک طرفہ اقتصادی پابندیوں اور پرامن نیوکلیائی اداروں پر حملوں کی نکتہ چینی کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے خلاف لگائی گئی ایک طرفہ پابندیوں کی مذمت کی جاتی ہے۔ ان کا وسیع طور پر اثر ہوتا ہے اور ان میں غریب لوگوں پر عام طور پر زیادہ اثر پڑتا ہے۔ برکس کے وہ دو دلچسپ ممبر ملکوں روس اور ایران پر بھی سخت پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ٹرمپ کی برکس مخالفت جگ ظاہر ہے ۔ وہ کئی بار برکس کو امریکہ مخالف بتا چکےہیں اور برکس کے ساتھ جڑنے والے ملکوں پر مزید ٹیکس لگانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ سوال یہاں یہ ہے کہ اگر بھارت نے بھی اس برکس اعلانیہ پر دستخط کئے ہیں تو کیا بھارت امریکہ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیںاور کیا ہم یہ مانیں کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں اب زبردست تبدیلی آنے والی ہے۔ کیا محض ایک ایوینٹ تھا اور  فوٹو اپیل چنی تھی؟
(انل نریندر)

15 ستمبر 2026

ووٹ دو ڈالر لو!

بھارت میں حکومتوں کے ذریعے ریوڑیاں بانٹنے کا چلن اب امریکہ میں بھی پھیل چکا ہے۔ دنیا کے سب سے پرانے اور ترقی یافتہ جمہوری ملک امریکہ میں بھی لوگوں کو سیدھے نقلی یا مفت تحفہ دینے کی سیاست چل نکلنی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں کہا ہے کہ اگر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی چنائو میں ان کی ریپبلکن پارٹی جیت حاصل کرلیتی ہے تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر کی ادائیگی کریںگے۔ یہ ایک بہت مہنگی اسکیم ہے جس میں ایک ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ خرچ آئے گا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار امریکی ڈالر دیئے جائیںگے۔ ٹرمپ نے اسے ڈیویڈینٹ کا نام دیا ہے۔انہوں نے کہا امریکہ کی مالی طاقت اور کامیابی کو دیکھتے ہوئے وہ ہر ایک بالغ شہری کو یہ ادائیگی کریںگےبشرطیکہ نومبر کےچنائو میں ریپبلکن پارٹی دونوں ایوانوںمیں جیتے۔ ٹرمپ نے ادائیگی کی ایک شرط بھی بتائی انہوں نے کہا کہ اس رقم کو امریکہ کے اندر ہی خرچ کرنا ہوگا۔ یعنی فیض یافتہ ان پیسوں کودیش کے باہر خرچ نہیں کرسکتا حالانکہ انہوں نے یہ صاف نہیں کیاکہ اسکیم کوکس طرح سے لاگو کیا جائے گا اور اس کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا۔امریکہ میں ماہ نومبر میںہونے والے مڈ ٹرم چنائو کے نتیجے ٹرمپ کے لئے تاریخی ہونے والے ہیں۔اس لئے اب وہ ریوڑیاں بانٹنے پر اتر آئے ہیں۔لگتا ہے کہ انہوں نے بھی بھارت میں چلی ریوڑی پراتھا کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔کچھ سال پہلے انہوں نے بھارت کے چناوی سسٹم کی تعریف کی تھی۔ کہیں اب یہ نہ کریںکہ بھارت کے چنائو کمیشن کو امریکہ میںچنائو کروانے کے لئے بلا لیں اور کہیں کہ یہاں بھی ایس آئی آر کروادو؟5 ہزار ڈالر دینے کی ریوڑی کے پیچھے دو اہم پہلو نظرآتے ہیں۔ پہلا ٹرمپ کی مقبولیت نچلی سطح پر آگئی ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرز؍ سی این این ؍ایس ایس آر ایس و انوائٹی سروے کے اوسط میں ٹرمپ کے خلاف 60 فیصد امریکیوں نے ووٹ دیا ہے۔مقبولیت کی گراوٹ کی وجہ بڑھتی مہنگائی ، گھٹتے روزگار اور ایران جنگ سے ہار ہے۔دوسرا: اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس جیتے تو دونوں ایوان میں اکثریت ملنے کے بعد وہ ٹرمپ کے خلاف مقدمہ لائیںگے ایسے میں ٹرمپ کو اقتدار گنوانے کا خطرہ ہے۔ اس سے پہلے ٹرمپ جیت کی کوشش میں ایس آئی آر کی طرز پر ووٹر لسٹ کی جانچ کروانے کا اعلان کرچکے ہیں۔سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں مفت اسکیموں کے اعلان کی پرانی روایت ہےاگر ایسی ہی روایت امریکہ میں شروع ہورہی ہے تو اس کا اثر پوری دنیا پر ہوگا۔سوال یہ بھی ہے کیا اس کے لئے امریکی پارلیمنٹ منظوری دے گی؟ کیا یہ وہاں کی عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جائے گا؟ سب سے بڑی بات کے کیا ووٹر اس کے جھانسے میں آئیں گے؟ یہ رقم امریکی بجٹ کا 17 فیصدی ہے۔ بتادیں ایران جنگ کی وجہ سے پہلے ہی ہر امریکی خاندان پر 3 ہزار ڈالر کا مزید بوجھ بڑھ چکا ہے۔
(انل نریندر)

09 ستمبر 2026

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی ورکر بتانے والےملزم سوتنتر بھاردواج کو دہلی پولیس نے جمعہ کو مغربی اترپردیش کے ضلع بلند شہر سے گرفتار کیا۔ لوک تنتر کے خلاف پاسکو ایکٹ کے تحت ایک نئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ کچھ گھنٹے پہلے ہی ملزم کی گرفتاری کی مانگ پر کاکروچ جنتا پارٹی، یوتھ کانگریس نے دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے پر مظاہرہ کیا تھا۔ پولیس نے72 گھنٹے میں کارروائی کے بھروسے کے بعد یہ واردات ختم ہوئی۔ طالبہ کا الزام تھا کے 23 جون کوجنتر منتر پر مظاہرے کے دوران اس کے والد سے مار پیٹ کی گئی تھی۔ اس درمین ملزم کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں ملزم مبینہ طور پر سر پر حملہ کی بات قبول کرتے ہوئے نظر آیا تھا۔ 7اگست کو سوتنتربھاردواج کے پوٹ کاسٹ کی کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس میں مبینہ طور پر ایک شخص پر حملہ کرنے کی بات کرتے ہوئے دکھائی دیا۔ اس نے دعوی کیا کہ اس نے اس شخص کے سر پر وار کیا تھا، جس کے بعد زخمی شخص کے سر پر ٹانکے لگے تھے۔زخمی شخص نے بتایا کہ اس شخص نے دعوی کیا کہ دہلی کے وزیر کپل شرما کے ایک فون پر پولیس نے اس کے خلاف ساری کارروائی روک دی اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان ان کے بھائی کے برابر ہیں اور مودی جی ان کے بڑے بھائی ہیں۔یہ بھی دعوی کیا میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتاہے۔اپوزیشن پارٹیوں اور سی جے پی سے جڑے لوگوں نے الزام لگایا کہ سوتنتربھاردواج کو سیاسی سرپرستی ملی ہوئی ہے۔ حالانکہ چراغ پاسوان نے سوتنتر بھاردواج سے خود کو الگ کرلیا اور بھاردواج کے خلاف ان کے نام کا غلط استعمال کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کروادی۔اس مبینہ ہندوتو حمایتی دعویدار نے شیخی کے چکر میں ایسا بہت کچھ کہہ دیا، جو سراسر کرائم کا اقبال کرنا ہی ہے۔ اس بارے میں وہ بولے کہ لڑکے کے خلاف اے پی ایس ٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج ہوگیا اور ممکن ہے اقدام قتل کا مقدمہ بھی درج ہوجائے۔ دھرم کے نام پر اپنے خیالات اپنی جگہ ہیں لیکن دھرم ایسے بے تکے الفاظ کو قبول نہیں کرتا۔یہ لڑکا جو کھل کر چینلوںمیں دعوی کرتا رہا ہے اس کی ضروری جانچ ہونی چاہئے اور قانونی کارروائی ہونی چاہئے لیکن سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ اس لڑکے میں ایسی بیہودہ باتیں کرنے کی ہمت کہاں سےآئی؟ اس کو کس کی شے حاصل ہے؟20 جولائی کو جنترمنتر مظاہرے میں مبینہ غنڈے کی حرکت والے لوگ مظاہرے میں کیسے شامل ہوئے؟ انڈین ایکسپریس کی ایک سنسنی خیز رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ چہرہ پہچان سسٹم سے 25 ایسے جرائم پیشہ کے نام سامنے آئے ہیں جو اس وقت تہاڑ جیل میں بند بتائے جاتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ کئی سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ یہ جرائم پیشہ جنتر منتر پر مظاہرے میں کیسے پہنچے؟ سوال تو یہ بھی کیا جارہا ہے کہ سفید کپڑوں میں ہاتھ میں جھنڈے لئے وہ کون لوگ تھے جو طلبہ پر لاٹھیاں برسا رہے تھے؟ ان میں سے یہ سوتنتر بھاردواج بھی ایک تھے۔ اب قانون اپنا کام کرے گا اور امید کی جاتی ہے کہ کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی۔
(انل نریندر)

میڈیا میں چھائے گیانیش کمار!

الیکشن کمیشن کے اندر سے جوخبریں باہر آئی ہوئی ہیں اور انڈین ایکسپریس میں چھپی ہیں وہ تشوتشناک تو ہیں ہی لیکن اس سے کہیں زیادہ سنگین اس لئے ...