Translater

20 اکتوبر 2026

رجیم چینج بنام تختہ پلٹ !

سپریم کورٹ کے جانے مانے وکیل پرشانت بھوشن نے جمعرات کو دہلی میں پریس کلب میں منعقدہ کاکروچ جنتا پارٹی کی پریس کانفرس میں کہا کہ وہ اب رجیم یعنی اقتدار تبدیلی چاہتے ہیں۔اس کے بعد ہنگامہ ہوگیا۔ مجھے لگتا ہے کہ پرشانت بھوشن نے دیویندر یادو کے انڈین ایکسپریس میں لکھے ایک مضمون میں تحریر کیا تھا’ہم رجیم چینج نہیں چاہتے، ہم چنائو پروسیس میں سدھار چاہتے ہیں۔‘یادو کے بیان پر مظاہرین کو بہت برا لگا اور اپنی پوزیشن صاف کرنے کے مقصد سے پرشانت بھوشن نے اقتدار تبدیلی کی بات کہی۔ اس سے پہلے کہ  بی جے پی کا اس پر کیا جواب آیا میں بتانا چاہتا ہوں کہ رجیم چینج کا مطلب کیا ہوتا ہے اور کیوںوہ جمہوریت کی ایک اہم ترین کارروائی ہے۔ میں نے الگ مطلب : حکومت تبدیلی یا اقتدار تبدیلی ہوتا ہے۔ اس کا مطلب کسی دیش کی موجودہ حکمرانی نظام، سرکار یا لیڈر شپ کو ہٹا کر اس کی جگہ نئی قیادت لانا ہے۔ اس کا مطلب قطعی تختہ پلٹنا نہیں ہوتا۔ تختہ پلٹنے کا عام طور پر مطلب ہوتا ہے جب فوج منتخب سرکار کو زبردستی ہٹا کر خود حکمرانی سنبھال لیتی ہے۔ یہ ہم نے کئی بار پاکستان میں دیکھا ہے۔افریقہ کے کئی ملکوں میں بھی دیکھا ہے۔ جمہوریت میں سرکار یا اقتدار تبدیلی جمہوریت کا بنیادی حصہ ہے۔ انا آندولن کے بعد جنتا نے اقتدار بدلہ تھا اور بی جے پی کو بعد میں حکومت ملی۔ جب رجیم چینج کی بات کرتے ہیں تو موجودہ سرکار کو چنائو میں ہراکر اقتدار تبدیلی ہوتی ہے۔اگر ایسا نہ ہوتو ایک ہی سرکار بغیر چنائو جیتے اقتدار میں سالوں سال بنی رہے تو وہ تانا شاہی ہوجائے گی۔اس لئے یہ کہنا کے رجیم میں چینج کا مطلب تختہ پلٹنا نہیںہے خیر اس پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک چنائو اصلاحات کے لئے نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد بد امنی پھیلانا ہے۔ وہیں بی جے پی ترجمان سمبت پاترا نے کہا کہ پریس کانفرنس سے صاف ہوچکا ہے کہ ان لوگوں کی منشا ہے دیش میں تختہ پلٹ کرنا اور بغیر چنائو لڑے سرکار بنانا۔ اپوزیشن کا آندولن چنائو اصلاحات کے لئے نہیں ہے، بلکہ اقتدار تبدیلی کے لئے بنگلہ دیش کی طرز پر دیش میں تشدد اور بدامنی پھیلاناہے۔ اس پر کانگریس نے راجناتھ سنگھ کے بیان پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی حقیقت صاف ہےاور ہم چنائو کے ذریعے سرکار کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ کانگریس ایم پی پون کھیڑا بدامنی کے سہارے اقتدار تبدیلی کے راجناتھ کے الزام کو بھاجپا کا پاکھنڈ بتایا۔پریس کانفرنس میں پون کھیڑا نے وزیر دفاع کے بیان پر جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سرکار کو ہٹانا ہے اور اس نظام کو بدلنا ہے۔ کھیڑا نے مزید کہا چنائو کے ذریعے سے سرکار بدلنا جمہوریت کاایک عام پروسیس ہے۔ کھیڑا نے 1977 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو کہہ رہے ہیں کہ رجیم بدلنا ہے۔1977 میں کیاہوا تھا؟ ہر بار جب اپوزیشن سڑک پر آتی ہے اور کوئی بھی آندولن ہوتا ہے تو اقتدار تبدیلی ہوتی ہے۔ چنائو کے ذریعے ہی رجیم چینج ہوتا ہے۔ کھیڑا نے کہا بھاجپا جمہوریت کی تعمیل کرنے کی عادت بھول چکی ہے۔پرشانت بھوشن نے کہا کہ اب سرکار کہہ رہی ہے کہ یہ تو اپوزیشن کا رجیم چینج کاآپریشن ہے۔ہم تو ابھی چنائو، جمہوریت ٹھیک کرنے کی اپیل کررہے تھے لیکن سرکار اس بربریت سے چلے گی تو ضرور رجیم چینج ہوگا۔رجیم چینج کے الزامات پر انہوں نے کہا : ہاں ہم رجیم چینج کرنا چاہتے ہیں، اس میں کیا غلطی ہے؟ بی جے پی رجیم چینج کے لئے بار بار الزامات لگاتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ لوگ رجیم چینج کے نام پر سازش رچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا رجیم چینج کرنا ہر شہری کا جمہوری حق ہے۔ہمارے آئین میں سرکار کے خلاف احتجاج کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ 
(انل نریندر)

17 اکتوبر 2026

اپوزیشن کا سپریم مارچ!

لوک سبھا میںاپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی اورمختلف اپوزیشن لیڈروں نے بھارت کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت سے ملاقات کا وقت مانگاتھا لیکن چیف جسٹس نے ملنے سے انکار کردیا۔اپوزیشن لیڈروں نے چیف جسٹس کو خط بھیج کر کہا کہ وہ ان سے مل کر چنائو کمیشن اور مبینہ ووٹ چوری سمیت کئی اشوز پر اپنی تشویشات ان کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے اس ملاقات کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ جن اشوز کو لیکر ملاقات کی درخواست کی گئی ہے ان سے جڑے معاملہ پہلے سے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ایسے معاملوں پر الگ ملاقات کرنا عدلیہ تقاضوں کے مطابق نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے اپوزیشن لیڈروں کو مشورہ دیا کہ وہ ایک عرضی دائر کردیںاس پروہ سماعت کریںگے۔ چیف جسٹس کی اس تجویز پر رائے زنی کرتےہوئے تمام اپوزیشن لیڈ پیر کو ایک مارچ کرتے ہوئے سپریم پہنچے۔ 12اکتوبر کو یہ مارچ کیا گیا۔اتفاق سے مجھے اس جلوس کو دیکھنے کا موقعہ ملا۔ ہوا یوں کہ میں تقریباً تین بجے اپنے دفتر پرتاپ بھون ،بہادرشاہ ظفر مارگ جا رہا تھا، جب ہم انڈیا گیٹ پر پہنچے تو تلک مارگ کا راستہ بند تھامجبوراً ہمیں وہاں سے نکل کر منڈی ہائوس مارگ کے راستے جانا پڑا۔ منڈی ہائوس پہنچنے پر میں نے دیکھا کہ وہ پوری طرح گھرا ہوا ہے۔ وہاں سینکڑوں مظاہرین پہنچے ہوئے تھے۔ وہاںسے لیڈی ارون کالج والاتلک برج تک کا روڈ بلاک تھامجبوراً ہم بارہ کھمبا روڈ سے جانے لگے۔ بارہ کھمبا روڈ پر بھی سینکڑوں لوگ سڑک پر تھے۔ ان میں زیادہ تر وکیل تھے وہ پہلے سے کھڑے تھے یا سڑک پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے میری گاڑی کو راستہ دیا اور بھیڑ میں میں للت ہوٹل ہوتے ہوئے دفتر پہنچا۔میں نے اپنی زندگی میں اتنی بھیڑ ایک بار پہلے دیکھی تھی جب رام لیلا گرائونڈ میں انا آندولن ہوا تھا لیکن بعد میں میں نے ٹی وی پر بھیڑ دیکھی تو میں حیران ہوگیا۔ دہلی میں برسوں بعد ایسی بھیڑ دیکھی۔ یہ بھیڑ کوئی کرائے پر لائے گئے لوگ نہیں تھے، جو بسوں میں  دبائو کے چلتے آنے پر مجبور ہوئے۔بھیڑ میںبزرگ ، درمیانی عمر کے لوگ، لڑکے لڑکیاں سبھی طرح کے لوگ تھے جو اپنے پیسوں سے ، اپنی مرضی سے اس مارچ میں شامل ہوئے۔ پولیس نے بھی اس مرتبہ بہت کنٹرول، سمجھداری سے کام کیا۔انہوں نے کہیں بھی کسی طرح کی زور زبردستی نہیںکی۔ بھیڑ اتنی تھی کہ راہل گاندھی، پرینکا کی جان کو خطرہ ہوسکتا تھا۔ حالانکہ ان کو زیڈ پلس سکیورٹی ملی ہوئی ہے جس میں 41 سے 50 سکیورٹی ملازم ہوتے ہیں۔ اس دن مشکل سے چار پانچ ہی نظر آئے۔ راہل ۔ پرینکا کو تھوڑا اپنی حفاظت پر بھی دھیان دینا ضروری ہے۔ایسی بے کنٹرول بھیڑ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ خیر! 11 اپوزیشن لیڈروں نے ایس آئی آر بڑے سطح پر نام کاٹنے اور گڑ بڑی کے الزام لگاتے ہوئے مشترکہ عرضی دائر کی۔اس میں چنائو کمیشن ، سی ای سی، گیا نیش کمار اور دونوں الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو، وویک جوشی فریق بنائے گئے ہیں۔ووٹ چوری کو لیکر دہلی کی سڑکوں پر سات دن سے مظاہرے جاری ہیں۔ اس سے پہلے بارہ کھمبا روڈ سے اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ شروع ہوا تو راہل گاندھی نےاکھلیش یادو، تیجسوی یادو، سپریا سلے سمیت کئی دوسرے لیڈروں کو بھی بلایا ۔ ایس آئی آر رضاکار نیہاوہرہ بھی ذاتی طور پر موجود تھی۔مارچ کے دوران راہل گاندھی پیدل آگے بڑھنے کے لئے نکلے تو ان کے آس پاس لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ جس سے کچھ دیر تک دھکا مکی جیسی حالت بن گئی۔بھیڑ کو کنٹرول کرنا چیلنج بن گیا۔اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ دیش میں ایک اہم مسئلہ پر لوگوں کو سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے اور کوئی جوابدہی کو تیار نہیں تو اب ایک ہی راستہ انصاف کے لئے بچتا ہے وہ ہے سپریم کورٹ کو دروازہ اور یہی اپوزیشن نے کیا۔ سپریم کورٹ میں انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
(انل نریندر)

15 اکتوبر 2026

ناراضگی کیا صرف چنائو کمیشن سے ہے یا ؟

10 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاجی مظاہروں کو لیکرسرکار کی کارروائی اور مظاہرین کو جس بربریت سے روکنے کی کوشش ہوئی اس پر سوال اٹھ رہے ہیں۔2026 میں نوجوانوں سے وابستہ احتجاجی مظاہروں کا دائرہ اب صرف روزگار یا امتحان تک محدود نہیں رہا ہے۔ امتحان اور روزگار کے سوالوں سے شروع ہوا زین جی آندولن کےبعد اب ووٹر لسٹ اور چنائو کمیشن کو لیکر بھی زین جی اور اپوزیشن پارٹیوں کے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ نوجوان کن اشوز پر سڑکوں پر اتر رہے ہیں اور کیوں؟کیا روزگار کی پریشانی آہستہ آہستہ چھوٹے اداروں پر بھروسے کی تشویش میں بدل رہی ہے؟ کیا امتحان میں غیر جانبداری کا سوال اور چنائو میں منصفانہ کا سوال، دونوں کے پیچھے سسٹم سے انصاف ملنے کے بھروسے کا سوال ہے؟ یہ کچھ سوال تھے جن کو لیکر 10 اکتوبر کو راجدھانی دہلی میں ایسا مظاہرہ ہوا جو کبھی پہلے نہیں دیکھا گیا تھا۔ جس طریقے سے انتظامیہ۔ حکومت نے اس سے نمٹنے کےلئے ہتھکنڈے اپنائے اس سے ساری دنیا میں بھارت کی ساکھ خراب ہوئی۔ غیر ملکی میڈیا نے اس واقعہ کو بڑی کوریج دی۔اور تو اور پاکستان کے اخبار ’دی ڈان‘ نے اپنی رپورٹ میں اس مظاہرے کو بھارت کے پی ایم مودی کے خلاف نوجوانوں کا ایک ودھرو قرار دیا۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ پہلی بار ہے جب کوئی وائرل آن لائن یوتھ مومنٹ سوشل میڈیا سے نکل کر سیدھے سڑکوں پر آگئی ہے۔ ’دی ڈان‘ نے سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے کے 2.2 کروڑ انسٹاگرام فال اوورس اور نوجوانوں کے درمیان بڑھتی مقبولیت کو بھی ہائی لائٹ کیا ہے۔امریکی اخبار ’دی نیویارک ٹائمز‘ نے لکھا ہے کہ ایک طرف دہلی کی سڑکوں پر افراتفری کا ماحول تھا دوسری طرف پارلیمنٹ میں مسکراتے ہوئے مسٹر مودی امن کی ساکھ پیش کرنے کی کوشش کررہے تھے اور انہوں نے مظاہرین کی مانگوںسے متعلق کچھ نہیں بولا۔ اخبار نے مزید لکھا ہے کہ حکمراں بی جے پی نے بھارت کے نوجوانوں کے بھاری غصے کو کمتر سمجھنے کی غلطی کی ہے۔ساتھ ہی رپورٹ میں کہا گیا ہےپی ایم مودی کی ایک مـضبوط شخصیت والی امیج میں بھی اب دراریں پڑتی نظر آرہی ہیں۔نیویارک ٹائمس نے سرکار حمایتی ٹی وی چینلوں پر بھی طنز کسا ہے جنہوں نے پہلے اس مظاہرہ کو نظر انداز کیا بعد میں پارلیمنٹ کے آس پاس دہشت کا ماحول دکھاتے نظر آئے۔بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں جنتر منتر پر ترنگا اور تختیاں لئے مظاہرین اور پارلیمنٹ کی طرف جانے والے راستوں پر سکیورٹی فورسز کی گھیرا بندی کے درمیان ٹکرائو کو دکھایا ہے۔رپورٹ میں ذکر ہے پولیس کے پیچھے دھکیلنے پر مظاہرین کے سر سے خون بہتے ہوئے یا لنگڑاتے ہوئے جنتر منتر کی طرف لوٹے۔بی بی سی کے مطابق یہ آندولن پی ایم مودی کے خلاف حالیہ برسوں میں ناراضگی کا سب سے بڑا چہرہ بن گیا ہے۔فائنینشیل ٹائمس کے مطابق پولیس نے بھیڑ پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے ، لاٹھیاں برسائیں۔ اخبار کا خیال ہے کہ یہ مظاہرے مودی سرکار کے سامنے ایک بڑی چنوتی بن سکتے ہیں۔ رپورٹ میں مظاہرین کے اس نعرہ کا خاص طور پر ذکر ہے جس میں وہ چلا رہے تھے: ’جب بھی مودی ڈرتا ہے، پولیس کو آگے کرتا ہے۔ بزنس نیوزولمرگ کے مطابق مظاہرین نے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا ہے اس سے سرکار پر دبائو بڑھ گیا ہے۔ ولمرگ نے خبردار کیا ہے بڑھتی ناراضگی اگلے سال مئی میں ہونے والے یوپی کے اسمبلی چنائو میں بی جے پی کےلئے ایک بڑا امتحان ثابت ہوگی۔وہیں ایک جرنل والاسٹریٹ نے بھی اسے پی ایم مودی کے سامنے برسوں کی سب سے بڑی چنوتی قراردیا ہے۔برطانوی اخبار دی گارجین نے اپنی ہیڈ لائن میں لکھاہزاروں سی جے پی مظاہرین نے پولیس کو چنوتی دیتے ہوئے دہلی میں مارچ کیا۔ اس بھیڑ میں خاص طور سے طالبعلم اور زین جی لڑکے شامل تھے جو مودی سرکار سے اس بات کو لیکر بیحد ناراض ہیں کہ سرکار نے نوجوانوں کو مایوس کیا ہے۔دی گارجین نے نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ملکوں میں نوجوانوں کے ذریعے سرکاریں گرائے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ بھارت میں اس شدت کےاحتجاجی مظاہرے حال کے برسوں میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔سکیورٹی فورس کی بربریت اور سختی سے احتجاج کی آوازیں بیشک کچھ وقت تک خاموش کی جاسکتی ہیں لیکن اب یہ آندولن رکنے والانہیں لگتا، مسئلہ کا حل تو بات چیت سے ہی ممکن ہے جس کی پہل کرنی ہوگی۔فی الحال سرکار کی طرف سے کوئی ایسا امکان نظر نہیں آرہا ہے۔
(انل نریندر)

13 اکتوبر 2026

اپوزیشن مہامہم کی شرن میں!

اپوزیشن انڈیا اتحاد کے نمائندہ وفد نے جمعہ کی رات مہامہم صدر جمہوریہ سے ملاقات کی ہے۔ محترمہ صدر دروپتی مرمو سے ملنے والوں میں کانگرسی صدر ملیکا ارجن کھڑگے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی،ترنمول کانگریس چیف ممتا بنرجی، جموں کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ ، این سی پی (شرد پوار) ایم پی سپریہ سلے، آر جےڈی ایم پی منوج جھاو دیگر اپوزیشن لیڈر شامل تھے۔اپوزیشن نمائندہ وفد کی یہ اہم مانگیں تھیں جو انہوں نے صدر جمہوریہ کے سامنے رکھیں ۔پہلی، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ،سی ای سی کو تاحیات قانونی چھوٹ دینے والے 2023 کے قانون کو منسوخ کیا جائے۔ دوسرا، ایس آئی آر پر فوراً روک لگے اور ووٹر لسٹ سے مبینہ طور پرہٹائے گئے 3.30 کروڑ ووٹروں کے نام بحال کئے جائیں۔تیسرا، سبھی چنائو میں بیلٹ پیپر استعمال کا نظام واپس لایا جائے۔ چوتھا، پچھلے دو برسوں میں ہوئے ان سبھی انتخابات (اسمبلی) کو منسوخ کیا جائے، جس میں اپوزیشن کے مطابق ووٹ چوری کے فیصلہ کن ثبوت پیش کئے گئے ہیں۔اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے صدرسے ملاقات کو تسلی بخش بتایا۔ اس سے پہلے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈرمارچ نکالتے ہوئے راشٹرپتی بھون کی طرف بڑھے توپولیس نے صرف 10 لوگوں کی اجازت ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں وجے چوک پر ہی روک دیا۔ اپوزیشن کے 158 ایم پیز کے ساتھ وفد ملنا چاہتا تھا۔اپوزیشن لیڈر مطالبات منوانے کےلئے دھرنے پربیٹھ گئے۔ بعد میں ایک نمائندہ وفد کو صدر جمہوریہ کے پاس بھیجنے پر راضی ہوگئے۔ صدر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے مخاطب لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ہم نے صدر جمہوریہ کو سونپے گئے میمورنڈم میں ایس آئی آر کو ملتوی کرنے اور 3.30کروڑ ووٹروں کے ناجائز طریقے سے کاٹے گئے ناموں کو پھر سےبحال کرنے کی مانگ کی۔ صدر کو سونپے گئے میمورنڈم میں صاف طور پر الزام ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ہندوستانی جمہوریت کو برباد کرنے کی سازش رچی ہے۔راہل نے بعد میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ صدر جمہوریہ نے ہماری بات کی بالکل تردید نہیں کی۔ انہوں نے (راہل کے مطابق)چنائو میں دھاندلی کے ثبوت مانگے، جو انہیں سونپ دئے جائیںگے۔ووٹ چوری کی گئی ہے انہوں نے کہا ہریانہ ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، بہارو دہلی اور مغربی بنگال اسمبلی چنائو میں دھاندلی کرکے جیت حاصل کی اور اب تک 24 چنائو چوری ہوئے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا مجھے امید تھی کہ صدر جمہوریہ اس بات سے انکار کریںگی کہ ووٹ چوری ہورہی ہے لیکن میں حیران رہ گیا کہ انہوں نے ہماری بات مان لی۔ بتادیں کہ یہ نیتا اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا کہنا ہے ،راشٹرپتی بھون سے ایسی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔دیکھنا اب یہ ہوگاصدر جمہوریہ دروپتی مرمو کا اس پر کیا رد عمل ہوتا ہے؟ بتادیں کہ آئین کے مطابق چنائو کمیشن صدر جمہوریہ کو رپورٹ کرتا ہے۔ ممکن ہے صدر یہ میمورنڈم چنائو کمیشن کو بھیجیں اور ان سے جواب طلب کریں۔
(انل نریندر)

08 اکتوبر 2026

ووٹ چھیننا آئین کے خلاف!

پچھلے تین چار مہینے سے پورے دیش میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ان کے ذریعے ووٹ چوری کو لیکر تحریکیں چل رہی ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کا آندولن جون میں نیٹ پیپر لیک اور بڑے امتحانات کے پیپر لیک ہونے سے شروع ہوا یہ آندولن اس وقت تیزی پکڑ گیا۔ اب انڈین ایکسپریس نے چنائو کمشنروں میںاختلافات کو لیکر اپنی رپورٹ شائع کی اس سے پورے دیش میں آندولن چھڑ گیا اور یہ روز بروز تیز ہوتا جارہا ہے۔اس درمیان پورے دیش کی نظریں اب سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔ جہاں درجنوں عرضیاں چنائو پروسیس اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کےطریقہ کار کو لیکر ٹکی ہوئی ہیں۔ اس درمیان عزت مآب سپریم کورٹ کے ایک موجودہ جج کا اس پورے معاملہ پر ردعمل آیا تو پورے دیش میں امید کی کرن جاگی ہے۔میں بات کررہا ہوں سپریم کورٹ کے عزت مآب موجودہ جج جسٹس اجول گھنیاں کی۔ حیدر آباد کی نلسار لاء یونیورسٹی کے ایک لاء پروگرام میں انہوں نے کہا کہ ہندوستانی شہری کا ووٹ ڈالنے کا حق آئین کے بنیادی ڈھانچے کا اٹوٹ حصہ ہے۔اگر کسی رد عمل کے ذریعے بڑی تعداد میں شہریوں کوووٹ کےحق سے محروم کیا جاتا ہے تو ایسا ردعمل منمانا ہوگا۔ جسٹس گھنیاں نے کہا کہ کوئی بھی بہانا، شہریوں کا ووٹ کا حق چھیننے کو مناسب نہیں کا جاسکتا۔یہ آئین کی دفعہ14-اور326 کی خلاف ورزی ہوگی۔جسٹس گھنیا نے آگے کہا 18 سال کی عمر پوری کرنے والے شہری آئین میں مقرر تقاضوں کو چھوڑ کر چنائو میں ووٹ دینے کے حقدار ہیں۔ ان آئینی حدود کی خلاف ورزی کرنے والاقانوناًغیر تسلیم ہوگا۔ جسٹس نے کہا ووٹ کا حق شہریت کی روح ہے۔ عام شہری کے لئے دیش کی حکومت میں سانجھیداری کا سب سے اہم ترین حصہ پولنگ ہی ہے۔ حالانکہ انہوں نے سیدھے طورپر چنائو کمیشن کے ووٹر لسٹ میں تبدیلی کے پروسیس۔ایس آئی آر کا ذکر نہیں ہے۔جسٹس گھنیا نے ووٹرلسٹ سے نام ہٹانے کے معاملہ میں قانونی حفاظت کا بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے سپریم کورٹ کے لال بابو حسین و بنام الیکٹرولر رجسٹریشن حق معاملہ میں فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متوفی ووٹر کو چھوڑ کر کسی بھی ووٹر کا نام نوٹس اور سماعت کا مناسب موقعہ دئے بغیر ووٹر لسٹ سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔انہوں نے کہا ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کا حق شہریت سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔اسے شہریت سے الگ کرنا ایسا ہوگا جیسے جسم سے روح نکال دینا۔ عام شہری کے لئے دیش کی حکمرانی میں سانجھہ داری کا سب سے اہم ترین ذریعہ پولنگ ہے۔ جسٹس گھنیا نے نلسار کے طالبہ سے بات چیت میں کہا آپ نے دیش اور دنیا کو دکھایا ہےکہ یونیورسٹی اور خاص کر قانون کے طالبعلم کو کیسا ہونا چاہئے۔ آپ بااثر طریقے سے اور فیصلہ کن بہادر ہیں۔ یاد رہے یہی وہ یونیورسٹی ہے جسے کے کچھ طلبا نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کو سالانہ تقریب اسناد میں مجوزہ مہمان خصوصی بنانے کی مخالفت کی تھے۔ کانگریس نے جسٹس گھنیا کے نام پر کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے پاس عہدہ پر فائز رہنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔
(انل نریندر)

06 اکتوبر 2026

اس وقت بھی میں ہنومان چالیسا پڑھ رہا تھا!

یہ کہنا ہے ہندوستانی نژاد پائلٹ اسمت مچھارکا۔ جب وہ اپنے آپ کو اور 170 جہازی مسافروں کو بچانے کےلئےجدوجہد کررہے تھے۔پی ایم مودی نے جمعہ کو ہندوستانی پائلٹ اسمت مچھار سے نو منٹ تک ویڈیو کالنگ کی۔ پی ایم مودی نے کہا پورا دیش آپ پر فخر کرسکتا ہے کہ ہم ہندوستانی دوسروں کی جان بچانے کےلئے خود کوبھی خطرہ میں ڈالنے والے لوگ ہیں۔ اسمت نے اس پل کااحساس شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی لائف کےلئے ءڈر رہا تھا۔ میں نیچے گر گیا تھا۔چوٹ لگ گئی تھی اور میں پھنس گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی میں درد محسوس کرتا تو میں ہنومان چالیسہ ہی بولتا ہوں اور اس وقت بھی میں  ہنومان چالیسا کاہی جاپ کررہاتھا اور مجھے پتہ ہے کہ بھگوان ہنومان نے ہی مجھے بچایا۔دوبئی سے تل ابیب (اسرائیل) جارہی دوبئی فلائٹ میں کیپٹن اسمت مچھار نے جس ہمت کا ثبوت دیا، وہ واقعی ہی بے مثال ہے، اسمت نے بتایا کہ میں 17 سال سے جہاز اڑار ہا ہوں۔ میں پچھلے11 سال سے کیپٹن ہوں اور مجھے پتہ چلتا ہے، آنکھ بند کرکے بھی جہاز میں کہا ہورہا ہے۔جب میں نیچے گرا ہوا تھا تب مجھے احساس ہورہا تھا کہ ایئرکرافٹ نیچے جارہا ہے۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ اسمت بس اب ایک لاسٹ پش اور دروازہ کھول دیں، تب میں نے کسی طرح دروازہ کھولا اور باقی سب آگئے اور سب نے اپنا رول نبھایا۔مجھے پتہ تھا کہ میں ان سب کو مرنے نہیں دے سکتا۔ یو اے ای کی سرکاری نیوز ایجنسی ڈبلیو اے ایم کے مطابق متحدہ عر ب امارات کے پروسیکیوٹر جنرل نے ایتوار کو کہا کہ فلائٹ دوبئی کی اڑان ایف زیڈ 1073 کے معاون پائلٹ نے اڑان کے دوران آتنک وادی حملہ محسوس کیا اور جہاز کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا پائلٹ نے کوکپٹ کے اندر کریش ایکس سے پائلٹ پر حملہ کیا اور جہاز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تھی۔ کریش ایکس عام طورپر کاکپٹ میں رکھا جاتا ہے اور حادثہ جیسے ناگزیر حالات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا واردات کے حالات اور حملہ کے مقصد اور اس سے وابستہ کسی بھی تعلق کا پتہ لگانے کےلئے جانچ جاری ہے۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے کہا کہ کو۔ پائلٹ اومانی شہری ہے ۔ حالانکہ فلائی دوبئی نے ابھی سرکاری طور سے کو۔ پائلٹ کی شہریت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا لیکن بین الاقوامی میڈیا میںبھی کو۔ پائلٹ کو لیکر کئی طرح کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ اےوی بی پی نیوز نے لکھا ہے کہ کو۔ پائلٹ اومان کا شہری ہے۔ حکام نے بتایا کہ 2024 میں اومان ایئر میں کو۔ پائلٹ ٹرینی کے طور پر کام کرنے کے دوران کو۔ پائلٹ حمام الحمی کے پاس کٹر پسندی سے جڑا میٹر پایا گیا تھا۔ اس کے باوجود اسے ایئر لائنس میں انتظامیہ میں کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔اس واقعہ نے ایک بار پھر جہاز رانی سیکٹر کی اپنی سلامتی و انتظامات پر سنجیدگی سےنظرثانی کرنے پر مجبور کردیا ہے۔جہازی حفاظت کے سامنے ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوتا ہے۔اب تک سکیورٹی کا بڑا حصہ باہری خطرے کولیکر و روکنے پر مرکوز رہا ہے۔ 9/11 کے بعد کوکپٹ کے دروازے مضبوط کئے گئے، مسافروں کی بڑی اسکرینگ ہوئی، سامان کی جانچ کے طریقے بہتر کئے گئے اور مشتبہ سرگرمیوں پر نگرانی بڑھی لیکن فلائی دوبئی کا واقعہ بتاتا ہے سکیورٹی کے لئے چیلنج جہاز کے اندر موجود جیسے امکانی خطروں کی پہچان کی شکل میں سامنے آیا۔ ہوسکتا ہے پائلٹ کی بھی ذہنی صحت کی مسلسل جانچ کرنے کےلئے بہتر سسٹم کی ضرورت ہے لیکن یہ  ہوکیسے ؟ یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔بھارت میں آئے دن پائلٹوں کے نشے میں ہونے کی شکایتیں آتی رہتی ہیں۔ سی ایم ایم نے لکھا کہ فلائی دوبئی کی اڑان میں کیپٹن پر حملہ کرنے والے مشتبہ پائلٹ کو اومان کی قومی ایئر لائنس کی نوکری سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ایسااس کے شدت پسند نظریات کو لیکر کیا گیا تھا۔ پھر ا س کو فلائی دوبئی میں جہاز اڑانے کی اجازت کیوں دی گئی؟معاملہ کی جانچ ہورہی ہے۔ یو اے ای میں کئی لوگوں کو حراست میں لیکر پوچھ تاچھ جاری ہے۔ سوشل میڈیا میں ایک غلط کہانی چل رہی ہے تو یہ باریک جانچ سے ہی پتہ چلے؟ پتہ چلے بھی یا نہیں۔ ویسے کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے : سوری بولو: فلاپ اسے بینڈ ایکٹیویٹ ۔
(انل نریندر)

03 اکتوبر 2026

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟



ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھی دی۔ اپوزیشن کے لیڈر نے جنتا کے مینڈیٹ کی چوری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ وقت بھی آئے گا ہم آپ کو پکڑ لیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے صلاح دی کہ ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلی کے معاملہ میں سرکاری گواہ بن جائیں۔ یاد رہے راہل نے سب سے پہلے پچھلے سال ہوئے لوک سبھا چناؤ میں چناؤ کمیشن کو یہ چیتا ونی دی تھی۔ نو مہینے بعد، دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں چناؤ ئیشن کے اندر اختلافات ہونے کے بعد اپنی بات صحیح ہونے کا دعوی کرتے ہوئے اپوزیشن نے صاف طور پر گیا نیش کمار کی گرفتاری کی مانگ کی ہے۔ ایک طرف بی جے پی بچاؤ کر رہی ہے تو و میں اپوزیشن گرفتاری پر اڑی ہوئی ہے لیکن گرفتاری کی مانگ پر ایک آئینی تقاضہ بکرا رہا ہے اور وہ ہے دسمبر 2023 میں پارلیمنٹ سے پاس قانون کی دفعہ 161۔ سپریم کورٹ میں دائر ایک نئی عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس تقاضہ میں ایک شرط بھی ہے۔ نیا تنازعہ 23 ستمبر کو اس وقت شروع ہوا جب اخبار کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ گیا نیش کمار کے دو ساتھی کمشنروں سکھبیر سنگھ سدھو اور و یو یک جوشی نے 10 مہینوں میں کم سے کم 14 مرتبہ اور ایک ہی دن میں 4 مرتبہ مبینہ طور سے اپنے اعتراضات درج کرائے تھے۔ یہ اعتراضات چناؤ دور لسٹ اسپیشل انٹینسو رو چون (ایس آئی آر) جیسے اشو پر تھے۔ راہل گاندھی کے علاوہ سپالیڈ را علیش یادو ، آپ نیتا اروند کیجریوال اور ٹی ایم سی لیڈرممتا بنرجی جنہوں نے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لئے ووٹرلسٹ میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ کا کروچ جنتا پارٹی بھی اس مہم میں شامل ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ کئی ریاستوں میں اور مرکزی حکمراں ریاستوں میں ایس آئی آر پروسیس کے تحت اب تک 13 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام ہٹائے جاچکے ہیں جو بھارت کے کل ووٹروں کا تقریباً 13 فیصد ہے۔ بات کرتے ہیں گیا نیش کمار کو بچانے والی قانونی دیوار کی۔ اس قانونی زبان کو ہٹا کر دیکھیں تو چیف الیکشن کمشنر واٹر کمشنرا یکٹ 2023 کی دفعہ 16 کہتی ہے کہ کوئی بھی عدالت موجودہ یا سابق چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنر کے خلاف ان کے سرکاری کام کاج کے دوران کئے گئے کسی بھی کام کے لئے دیوانی یا کرمنل کیس کی سماعت نہیں کر سکتی۔ اس میں لکھا ہے فی الحال لاگو کسی بھی دوسرے قانون میں کچھ بھی لکھا ہونے کے باوجود کوئی بھی عدالت کسی ایسے شخص کے خلاف کوئی سول یا کرمنل کارروائی نہیں جاری کبھی جاسکتی جو چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنر ہے یا رہا ہے ۔ اگر اس نے اپنے سرکاری کام یا ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے کوئی کام کیا ہو یا کوئی چیز کی ہو یا کوئی بات کہی ہو یہ سیکیورٹی قانون کا حصہ تھی۔ اس کے تحت کمشنروں کو چننے کے لئے ایک کیٹی بنائی گئی تھی۔ 2023 سے پہلے چلنے کا کوئی بھی خاص پروسیس نہیں تھا کیونکہ کوئی قانون بناہی نہیں تھا اس لئے صدر سر کار کی صلاح پر تقرریاں کرتے تھے اس میں عدلیہ یا اپوزیشن کا کوئی رول نہیں ہوتا تھا۔ کیا سسٹم میں کوئی کمی ہے؟ حالانکہ یہ چھوٹ صرف ڈیوٹی کے دوران کئے گئے کاموں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ وکیل شیلیندرمینا ترپاٹھی نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے ووٹرلسٹ میں کوئی بھی ہیر پھیر کرنا کمشنر کے کام کا حصہ نہیں ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو کرمنل مقدمے سے کوئی چھوٹ نہیں ملتی ہے۔ اس میں مانگ کی گئی ہے کہ گیا نیش کمار کی جانچ ہو اور اس پر کسی بھی دوسرے کرمنل ملزم کی طرح مقدمہ چلایا جائے۔ اس میں رہ پر نیشن آف دی پیپل ایکٹ 1950 کی دفعہ 32 ریکارڈ میں ہیر پھیر سے وابستہ انڈین جوڈیشیل کورٹ کے تقاضوں کے تحت مقدمہ چلانے کی مانگ کی گئی ہے۔ عرضی میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئین صرف صدر اور گورنروں کو ہی کھلی چھوٹ دیتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پورے معاملہ میں بصد احترام سپریم کورٹ کیا رخ اپناتی ہے؟

رجیم چینج بنام تختہ پلٹ !

سپریم کورٹ کے جانے مانے وکیل پرشانت بھوشن نے جمعرات کو دہلی میں پریس کلب میں منعقدہ کاکروچ جنتا پارٹی کی پریس کانفرس میں کہا کہ وہ اب رجیم ی...