پچھلے تین چار مہینے سے پورے دیش میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ان کے ذریعے ووٹ چوری کو لیکر تحریکیں چل رہی ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کا آندولن جون میں نیٹ پیپر لیک اور بڑے امتحانات کے پیپر لیک ہونے سے شروع ہوا یہ آندولن اس وقت تیزی پکڑ گیا۔ اب انڈین ایکسپریس نے چنائو کمشنروں میںاختلافات کو لیکر اپنی رپورٹ شائع کی اس سے پورے دیش میں آندولن چھڑ گیا اور یہ روز بروز تیز ہوتا جارہا ہے۔اس درمیان پورے دیش کی نظریں اب سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔ جہاں درجنوں عرضیاں چنائو پروسیس اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کےطریقہ کار کو لیکر ٹکی ہوئی ہیں۔ اس درمیان عزت مآب سپریم کورٹ کے ایک موجودہ جج کا اس پورے معاملہ پر ردعمل آیا تو پورے دیش میں امید کی کرن جاگی ہے۔میں بات کررہا ہوں سپریم کورٹ کے عزت مآب موجودہ جج جسٹس اجول گھنیاں کی۔ حیدر آباد کی نلسار لاء یونیورسٹی کے ایک لاء پروگرام میں انہوں نے کہا کہ ہندوستانی شہری کا ووٹ ڈالنے کا حق آئین کے بنیادی ڈھانچے کا اٹوٹ حصہ ہے۔اگر کسی رد عمل کے ذریعے بڑی تعداد میں شہریوں کوووٹ کےحق سے محروم کیا جاتا ہے تو ایسا ردعمل منمانا ہوگا۔ جسٹس گھنیاں نے کہا کہ کوئی بھی بہانا، شہریوں کا ووٹ کا حق چھیننے کو مناسب نہیں کا جاسکتا۔یہ آئین کی دفعہ14-اور326 کی خلاف ورزی ہوگی۔جسٹس گھنیا نے آگے کہا 18 سال کی عمر پوری کرنے والے شہری آئین میں مقرر تقاضوں کو چھوڑ کر چنائو میں ووٹ دینے کے حقدار ہیں۔ ان آئینی حدود کی خلاف ورزی کرنے والاقانوناًغیر تسلیم ہوگا۔ جسٹس نے کہا ووٹ کا حق شہریت کی روح ہے۔ عام شہری کے لئے دیش کی حکومت میں سانجھیداری کا سب سے اہم ترین حصہ پولنگ ہی ہے۔ حالانکہ انہوں نے سیدھے طورپر چنائو کمیشن کے ووٹر لسٹ میں تبدیلی کے پروسیس۔ایس آئی آر کا ذکر نہیں ہے۔جسٹس گھنیا نے ووٹرلسٹ سے نام ہٹانے کے معاملہ میں قانونی حفاظت کا بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے سپریم کورٹ کے لال بابو حسین و بنام الیکٹرولر رجسٹریشن حق معاملہ میں فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متوفی ووٹر کو چھوڑ کر کسی بھی ووٹر کا نام نوٹس اور سماعت کا مناسب موقعہ دئے بغیر ووٹر لسٹ سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔انہوں نے کہا ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کا حق شہریت سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔اسے شہریت سے الگ کرنا ایسا ہوگا جیسے جسم سے روح نکال دینا۔ عام شہری کے لئے دیش کی حکمرانی میں سانجھہ داری کا سب سے اہم ترین ذریعہ پولنگ ہے۔ جسٹس گھنیا نے نلسار کے طالبہ سے بات چیت میں کہا آپ نے دیش اور دنیا کو دکھایا ہےکہ یونیورسٹی اور خاص کر قانون کے طالبعلم کو کیسا ہونا چاہئے۔ آپ بااثر طریقے سے اور فیصلہ کن بہادر ہیں۔ یاد رہے یہی وہ یونیورسٹی ہے جسے کے کچھ طلبا نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کو سالانہ تقریب اسناد میں مجوزہ مہمان خصوصی بنانے کی مخالفت کی تھے۔ کانگریس نے جسٹس گھنیا کے نام پر کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے پاس عہدہ پر فائز رہنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔
(انل نریندر)