ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگی کے سبب امن بات چیت کھٹائی میں پڑتی نظر آرہی ہے اس پورے واقعہ میں پاکستان ثالث کے رول میں سرگرم ہے ۔ہرمز کو تازہ ٹکراؤ کو دیکھتے ہوئے پاکستانی ثالثی ٹیم واپس اسلام آباد لوٹ چکی ہے ۔پاکستان میں پہلے دور کی امن بات چیت کے بعد امریکہ نے ہرمز بلاکڈ لاگو کر دیا ہے۔ وہیں ایران نے اسے اپنی سرداری پر حملہ بتایا ہے ۔سمندر میں ایرانی جہازوں تک کو بھی روکا اور نشانہ بنایاجارہا ہے ۔تیل مارکیٹ میں عدم استحکام بڑھ گیاہے ۔دنیا کی نظر اب اس پر لگی ہے کہ اس ٹکراؤ کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ سال یہ بھی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تقریبا 40 دنوں تک زبردست جنگ چلی ۔اس کے بعد بڑی مشکل سے سیز فائر کا اعلان کیا گیا اور اسلام آباد میں امن بات چیت کے لئے میٹنگ بلائی گئی لیکن یہ بات چیت بے نتیجہ رہی۔ بات چیت ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہرمز رہا ۔ہرمز پر کس کا دبدبہ رہے گا اس کا فیصلہ نہیں ہو پایا ۔فی الحال تو امن بات چیت کے بعد ایران اور امریکہ کے بیچ ہرمز پر قبضہ کو لے کر سسپنس کی آگ دہک رہی ہے ۔ امریکہ اور ایران نے اپنےہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں ۔دنیا میں تیل کے اس اہم راستے پر کس کا قبضہ ہے کس کے ہاتھ میں ہے ؟ سوال ہر کسی کو پریشان کررہا ہے ۔دونوں خیمے اپنے اپنے دعووں پراڑیل ہیں ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سختی نے ماحول کو اور خراب کر دیا ہے کئی ملکوں کی معیشت اسی راستے پر ٹکی ہوئی ہے ۔بتادیں کہ دنیا کی آدھی سے زیادہ تیل کی سپلائی اسی راستے پر منحصر ہے ۔ایک چھوٹی سی غلطی بھی عالمی معیشت کو ہلا سکتی ہے ۔امریکہ کی ناکے بندی کتنی کارگر ثابت ہورہی ہے؟ یا ایران کی دھمکی میں دم ہے ؟ سسپنس ہر گھنٹے بڑھتا جارہا ہے ۔جمعرات کو ایرانی جہاز کو امریکہ نے ہرمز واپس لوٹا دیا ہے اس کے بعد کشیدگی انتہا پر پہنچ گئی ہے ۔سیز فائر کے باوجود امریکہ کی اس حرکت سے ایران کا غصہ ساتویں آسمان پر ہے ۔ایران نے امریکہ کو جوابی کاروائی کی سخت وارننگ دے دی ہے ۔ڈر اس کا ہے کہ جنگ بندی جو 23 اپریل کو ختم ہونے جارہی ہے یعنی آج وہ آگے بڑھے گی یا نہیں ؟ ہرمز کے بندہونے سے اب یہ ٹکراؤ صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہا اس کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر نظر آنے لگا ہے ۔تیل بازار میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔جہاز رانی کمپنیاں چوکس ہو گئی ہیں ۔ہر دیش چاہتا ہے کہ یہ اہم راستہ کھلا رہے لیکن زمین اور سمندر پر چل رہی حکمت عملی چالیں اس راستے کو سب سے بڑا فلیگ پوائنٹ بنارہا ہے ۔ٹرمپ نے رائٹرس کو دئیے ایک اور یبان میں دعویٰ کیا کہ بلاکیڈ پوری طرح لاگو ہے اور ایران اب کھلے طور پر تجارت نہیں کرپارہا ہے۔ سیٹکام کے مطابق اب تک 10 جہازوں کو واپس بھیجاجاچکا ہے اس بیچ خبر یہ بھی آئی ہے کہ پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر نے ٹرمپ کو تجویز بھیجی ہے کہ اگر امن بات چیت آگے بڑھانی ہے تو ہرمز سے بلاکیڈ ختم کرنا ہوگا ۔کہاجارہا ہے ٹرمپ نے کہا میں اس پر غور کروں گا ۔
(انل نریندر)