Translater

05 مئی 2026

آپ اور ٹرمپ لگاتار جھوٹ بول رہے ہیں

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی ایران جنگ پر جنتا کو جھوٹ بولنے اور گمراہ کرنے و سینئر فوجی افسران کو ہٹانے کے الزامات کو لے کر نمائندہ سبھا کی مسلح سروس کمیٹی میں سماعت ہوئی ۔پہلی بار جنگ شروع ہونے کے بعد وزیر دفاع پیٹ ہیگس سیدھ کو ایران جنگ پر ڈیموکریٹک ممبران کا سامنا کرنا پڑا ۔گزشتہ بدھوار کو وہ ہاؤس آف آرمڈ سروس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے ان کے ساتھ جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اور وزارت دفاع کے چیف فائنانشیل افسر جولس ہسرٹ بھی موجود تھے ۔بحث کی شروعات میں ہیگ سیتھ نے ڈیموکریٹس اور کچھ رپبلکن نمائندوں کے بیان کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تبصرے امریکہ کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔اس دوران ہیگس سیتھ اور ڈیموکریٹ ایم پیز سے تلخ بحث ہو گئی ۔چھ گھنٹے کی سماعت میں ماحول گرم رہا ۔پارلیمنٹ کی نچلی ایوان میں ٹرمپ انتظامیہ کے 1500 ارب ڈالر کے ڈیفنس بجٹ پر بحث کے دوران یہ نوک جھونک ہوئی ۔پینٹاگون کے ذریعے جنگ کی تخمینہ لاگت 25ارب ڈالر بتانے پر ڈیموکریٹ بھڑک گئے اور انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دماغی صحت پر ہی سوال کھڑے کر دئیے ۔اس پر ہیتھ سیتھ نے پلٹ وار کیا کہ ٹرمپ سب سے تیز اور سوجھ بوجھ والے کمانڈر ان چیف ہیں ۔انہوں نے ڈیموکریٹ ممبر سے الٹا سوال کیا کہ کیا انہوں نے سابق صدر جوبائیڈن کی صلاحیت پر کمی کے سوال اٹھائے ۔ڈیموکریٹ ممبران نے امریکہ کے ذریعے شروع کی گئی ایران جنگ کو وار آف مائس بتایا ۔جسے کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کیا گیا ۔کیلکو ڈیموکریٹ ایم پی جون گرامینڈی نے کہا کہ آپ اور صدر شروع سے ہی اس جنگ کے بارے میں امریکی جنتا سے جھوٹ بول رہے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ وسط مشرق کی ایک اور جنگ کے دلدل میں پھنس گئے ہیں ۔ہیگ سیتھ نے اس بیان کو لاپرواہی بھرا بتایا اور کہا کہ ٹرمپ کسی دلدل میں نہیں ہیں ۔انہوں نے آگے کہا کہ صدر ٹرمپ کے تئیں آپ کی نفرت آپ کو اندھا کررہی ہے ۔حالانکہ کمیٹی کے کئی رپبلکن ممبران نے پینٹاگون کی حمایت کی ہے ۔فلوریڈا کے ایم پی کارلوس جی مینیل نے کہا کہ ایران سے امریکہ کے وجود کو خطرہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی 47 سال سے کہہ رہا ہے کہ وہ ہمیں مارنا چاہتے ہیں تو میں اس کی بات کو سنجیدگی سے لوں گا ۔تیل کی قیمتوں میں اضافے اور اس کی وجہ سے چیزوں کی قیمتوں پر اثر پر ایک ایم پی نے کہا کہ آپ کو شرم آنی چاہیے کہ آپ نے مناب میں ہوئے حملے میں 168 لوگ مارے گئے جن میں قریب 110 بچے شامل تھے ۔آج ہر امریکن بڑھتی مہنگائی سے پریشان ہیں ۔تیل کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھ رہی ہیں اور اس کے ذمہ دار آپ کے صدر اور آپ جیسے مشیر ہیں ۔کمیٹی کے سینئرڈیموکریٹ ممبر ایڈم اسمتھ نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی اور جنگ میں ایسا ہوتا ہے لیکن دو ماہ تک چپ رہ کر ہم نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہمیں پرواہ نہیں ہے ۔کیلیفورنیا کے بھارت نژاد ایم پی روکھنّا نے اس حملے کی لاگت پر سوال اٹھایا ۔اس پر ہیگ سیتھ نے کہا یہ حملہ ابھی انصاف کے دائرے میں ہے اور وہ اس کی لاگت پر رائے زنی نہیں کریں گے ۔اس کے علاوہ ڈیموکریٹ ایم پی سارا جیکس نے وزیر دفاع پیٹھ گیس سیتھ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دماغی حالت پر بھی سوال کھڑا کیا اس سوال پر پیٹھ گیس سیتھ اور سارا جیکف کے درمیان تلخ بحث ہوئی ۔ خبر ہے کہ اپوزیشن ڈیموکریٹ ممبر نے ہیگ سیتھ کے خلاف ہاؤس آف نمائندگان میں مقدمہ چلانے کی تجویز بھی لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس تجویز کے آنے کےبعد ایران جنگ معاملے میں ٹرمپ اور ہیگ سیتھ کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں ۔میگزین آؤٹ لیٹ ایکسس کے مطابق ہاؤس آف ڈیموکریٹس میں پانچ سنگین الزام لگاتے ہوئے ہیگ سیتھ کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ دیا ۔وزیر دفاع کوکابینہ سے ہٹانے کے لئے سینٹ اور ہاؤس میں دو تہائی ممبران پارلیمنٹ کی ضرورت ہوگی ۔
(انل نریندر)

02 مئی 2026

خلیجی ممالک میں ابھرتے اختلافات



امریکہ ایران جنگ کے بعد سے خلیجی ممالک میں آپسی اختلافات تیزی سے بڑھتے نظر آنے لگے ہیں ۔ ہر مونز اسٹریٹ کے بند ہونے سے صورتحال دھما کہ خیز ہوتی جارہی ہے۔ اس راستہ کے بند ہونے سے خلیج کے وہ ملک جن کا اقتصادی نظام تیل کی درآمدات پر منحصر ہے وہ خاصے ناراض ہیں۔ اس کا ایک نتیجہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا اہم ترین تیل پروڈکشن ممالک کے گروپ او پیک اور او پیک پلس سے باہر جانے کا فیصلہ ایران جنگ کی وجہ سے تاریخی طور سے دنیا بھر میں ایندھن کو لیکر بڑا بحران پیدا ہوا ہے جس نے عالمی معیشت کو بلا کر رکھ دیا ہے۔ یو اے ای اور بدلتی انرجی پروفائل کا دکھاوا پن ہے۔ یواے ای کے وزیر توانائی سبیل الامظروئی نے کہا ہے

ان گروپوں کے تحت کسی ثالثی سے نجات ملنے پر دیش کو زیادہ لچیلا پن ملے گا۔ او پیک کو 60 سال بعد چھوڑنے کا فیصلہ یو اے ای نے اچانک نہیں لیا، بلکہ اس کے پیچھے لمبے عرصے سے پنپ رہی ناراضگی ہے۔ اب تمہی کو مسلسل یہ کھٹک رہا تھا کہ سعودی عرب او پیک کے ذریعے تیل پیداوار کو کنٹرول کرتا ہے اور یوں اے ای کو اپنی صلاحیت کے حساب سے زیادہ تیل نکالنے نہیں دیتا۔ جب یواے ای زیادہ پیداوار کرنا چاہتا تھا تب سعودی کم پیداوار پر زور دیتا رہا۔ جس سے دونوں میں کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ اس کشیدگی کو اور ہوا تب ملی جب پاکستان کا رول سامنے آیا۔ یو اے ای کو پاکستان کا رویہ بالکل پسند نہیں آیا۔ خاص کر تب جب امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایم ایس ٹی فائنشیل میں انرجی ریسرچ کی ٹیم شاؤل کو انک نے کہا کہ یہ اتحاد کے خاتمے کی شروعات ہو سکتی ہے۔ یو اے ای کے ساتھ جانے کے او پیک کے ساتھ ساتھ اس گروپ کے کرتا دھرتا مانے جانے والے سعودی عرب کے لئے جھٹکا مانا جارہا ہے۔ یو اے ای کا باہر جانا امریکہ کے صدر ڈونل ٹرمپ کے لئے ایک جیت مانا جارہا ہے جنہوں نے پہلے او پیک پر دنیا کا استحصال کرنے کا الزام لگایا تھا۔ جنوری میں انہوں نے سعودی عرب اور دیگر او پیک ملکوں سے تیل کی قیمت کم کرنے کو کہا تھا اور ٹیرف لگانے کی اپنی دھمکی کو بھی دوہرایا تھا۔ یو اے ای کا او پیک سے الگ ہونے کا فیصلہ صرف ایک ممبر ملک کی تجویز نہیں ہے بلکہ عالمی توانائی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب مغربی ایشیا میں جغرافیائی کشیدگی ، ہرموز قبل ڈروم پر غیر یقینی اور عالمی افراط زر پہلے سے ہی تیل بازار کو کمزور بنائے ہوئے ہے۔ یو اے ای او پیک کا تیسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ممبر ملک تھا اور گروپ کی پیداوار میں قریب 12 فیصدی کا تعاون کرتا تھا۔ ایسے میں اس کا باہر نکلنا او پیک کی سپلائی صلاحیت کو ضرور متاثر کرے گا لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اگر او پیک کی شرطوں سے آزاد یو اے ای عالمی تیل بازار کو مزید سپلائی کرتا ہے تو اس سے تیل کی قیمتوں میں کمی آسکتی ہے۔ یہ حالت بھارت جیسے ملکوں کے لئے خاص طور پر فائدہ مند ہے جو انرجی درآمدات پر ہی منحصر ہیں۔ غور طلب ہے کہ بھارت اپنے سکیورٹی متعلق حقائق سے نمٹنے کے لئے لمبے عرصے سے او پیک ملکوں سے تیل کی پیداوار میں اضافہ کرنے کی مانگ کرتا رہا ہے۔
بھارت کی کل تیل ضرورتوں کا تقریباً 40 فیصدی حصہ او پیک ممالک سے آتا ہے۔ حالانکہ یہ دیکھتے ہوئے عالمی انرجی مارکیٹ کبھی کمزور نہیں رہتی وہ مسلسل جغرافیائی سیاست اور اقتصادی پس منظر میں تبدیلیوں سے متاثر ہوتی رہتی ہے سعودی عرب کے لئے اب باقی او پیک کو متحد رکھنا بڑی چنوتی بن گیا ہے۔ یو اے ای نے شروعات کر دی ہے اب دیکھنا ہو گا کہ اور کون کون سادیش اس کے نقش قدم پر چلتا ہے۔
انل نریندر 

30 اپریل 2026

پاگلوں کی دنیا:مجھے مرنے کا ڈر نہیں

یہ کہنا تھا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ۔وائٹ ہاؤس نے صحافیوں کے ایک عشائیہ میں ایک فائرنگ کے واقعہ کے بعد ٹرمپ نے بتایا کہ واردات کے بعد سی بی ایس کو دئیے گئے انٹرویو میں بتاتے ہوئے کہا کہ جب فائرنگ ہوئی تو میں زمین پر گر گیا اور فرسٹ لیڈی بھی سیکورٹی فورسز کے فوراً حرکت میں آنے پر ٹرمپ نے کہا میں دیکھنا چاہتا تھا کہ آخر ہوکیارہا ہے ۔ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ شوٹر کے نشانہ پر تھے ؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا مجھے نہیں پتہ میں نے ایک مینوفیسٹو پڑھا وہ ریڈی کلائزڈ ہے وہ کرشچین باشندہ تھا ۔اور وہ پھر اینٹی کرشچن بن گیا اور اس میں بہت تبدیلی آئی ۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے ڈنر کے دوران ہوئی فائرنگ میں نشانہ پر ٹرمپ اور ان کے حکام تھے ۔یہ بات نگراں یو ایس اٹارنی جنرل ٹارڈ بلانشن نے کہی ۔مشتبہ کی پہچان 31 سالہ کولس ٹامس ایلن کی شکل میں کی گئی ہے ۔ادھر گولہ باری معاملے میں گرفتار مشتبہ کول ایلن نے مبینہ طور پر اعلانیہ میں کئی سنگین الزام لگائے ہیں ۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایلن نے واردات سے کچھ منٹ پہلے اپنے خاندان کے ایک فرد کو ایک مبینہ منشور نامہ بھیجا ۔فوکٹ خط بھیجا تھا جس میں اس نے اپنے ارادوں اور خیالات کا ذکر کیا ۔اس مبینہ دستاویز میں ایلن نے دعویٰ کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے وابستہ لوگوں کو نشانہ بنانے کا پلان بنارہا تھا ۔حالانکہ اس نے ایف بی آئی ڈائرکٹر مسٹر پٹیل کو چھوڑنے کی بات بھی کہی ۔اس نے لکھا کہ انتظامیہ کے حکام کو ترجیحاتی بنیاد پر ثبوت بنائے گا ۔لیکن یہ صاف نہیں ہے کہ اس کے الفاظ کا پورا مطلب کیا ہے ؟ ڈکلیریشن لیٹر میں ایلن بے حد مشکل زبان کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے لوگوں کو قبول نہیں کرسکتا جنہیں وہ مجرم یا ملک دشمن مانتا ہے ۔رپورٹوں کے مطابق اس نے کچھ ایسے لفظوں کا بھی استعمال کیا جس میں اس نے ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ تنازعات اور الزامات کا ذکر کیا اس نے سیکورٹی انتظام کو لے کر بھی رائے زنی کی اور دعویٰ کیا کہ ڈنر کے انعقاد کی جگہ پر سیکورٹی کی توجہ خاص طور سے مظاہرین اور دیگر مہمانوں پر تھی ناکہ کسی امکانی خطرے پر ۔اس حادثہ سے یہ تو صاف ہو جاتا ہے کہ سیکورٹی کی کمی تھی ۔کسی ہتھیار مسلحہ شخص کا صدر کے پروگرام میں اتنے قریب پہنچنا بے حد سنگین لاپرواہی ہے ۔وہاں ٹرمپ کی ہی نہیں ، ان کے انتظامیہ سے وابستہ سبھی اہم ترین لوگ موجود تھے جو نشانہ بن سکتے تھے۔ مبینہ حملہ آور بھی کوئی ان پڑ ،گنوار بھاڑے کا قاتل نہیں ہے ۔وہ مکینیکل انجینئرنگ تعلیم حاصل کر چکا ہے اور باعزت ایک بااحترام ٹیچر تھا ۔بدقسمتی یہ ہے کہ امریکی صدر عہدہ جتنا طاقتور ماناجاتا ہے اس سے وابستہ خطرے اتنے ہی بڑے ہیں ۔ابراہم لنکن سے لے کر جان ایف کینیڈی تک امریکہ کے چاروں صدور کا قتل ہو چکا ہے ۔ٹرمپ پر یہ تیسرا ناکام حملہ ہے ۔اتفاق یا کچھ اور ؟ وائٹ ہاؤس کی ترجمان لیور کے فائرشارٹ والے بیان کے بعد سے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے ۔لوگ حیران ہیں کہ آخر انہوں نے ایسے لفظوں کا استعمال کیوں کیا جو بعد میں حقیقت بن گئے حالانکہ ان کے حمایتیوں کا کہنا ہے لیدر کا مطلب ٹرمپ کی تلخ بیان بازی سے تھا ناکہ اصلی غلطیوں سے ۔سوشل میڈیا میں کچھ لوگ اسے اسٹیج رچا ہوا ڈرامہ بھی بتا رہے ہیں ان کا کہنا ہے چاروں طر ف سے گھرے ٹرمپ نے امریکی عوام کی ہمدردی لینے کے لئے یہ ڈرامہ کروایا ہے ۔ممکن ہے کہ اس واقعہ کے بعد اس بار بھی مختلف امور پر چنوتی جھیل رہے ٹرمپ انتظامیہ کو تھوڑی راحت مل جائے باقی سچائی کبھی سامنے آئے گی یا نہیں یہ نہیں کہاجاسکتا ۔ایسے واقعات کو کسٹم شاید ہی سامنےآتا ہے ؟ 
(انل نریندر)

28 اپریل 2026

ڈیل ہونے کا امکان

پچھلے کچھ دنوں کے واقعات سے امید کی جاتی ہے کہ اگلے کچھ دنوں میں امریکہ ایران میں کوئی ڈیل ہو جائے اور جنگ مستقبل میں ہونے سے ٹل جائے ۔جس طرح سے ایران کے وزیرخارجہ عباس عراغچی 48 گھنٹے میں دو مرتبہ اسلام آباد گئے وہاں سے مسقط (عمان) گئے اور وہاں سے ماسکو چلے گئے اس سے لگتا ہے ایران نے ڈیل کی شرطیں طے کر لی ہیں اور ایران بھی امریکہ سے بات چیت کو تیار ہے ۔دوسری جانب امریکی صدر نے بھی تھوڑی نرمی دکھائی اور جنگ بندی کو بے میعاد تک بڑھا دیا ہے اور ایران کے نمائندہ وفد سے اسلام آباد میں اپنے نمائندہ وفد کو بھیجنے کی اجازت دی ۔اس سے صاف ہے کہ ٹرمپ اس جنگ سے ہر حالت میں باہر نکلنا چاہتے ہیں ۔وہ جانتے ہیں کہ وہ یہ جنگ ہار چکے ہیں ۔آگے لڑنے کے لئے نہ تو ان میں مادہ ہے اور نہ ہی جنگ لڑنے کے وسائل ہیں ؟ ٹرمپ کی ایک بڑی مجبوری یہ بھی ہے کہ انہیں دو مئی تک امریکی کانگریس ( پارلیمنٹ ) سے ایران جنگ کو جاری رکھنے کے لئے منظوری بھی لینی ہوگی جو کہ شاید مشکل ہو کیوں کہ امریکہ کے 63 فیصدی شہری ٹرمپ کے اس جنگ کے خلاف ہیں او ر وہ نہیں چاہتے امریکہ اسرائیل جنگ لڑیں ۔اس کے علاوہ امریکی فوج نے صاف کر دیا ہے اس کے پاس اب ہتھیاروں کا ذخیرہ آدھا رہ گیا ہے اور یہ وہ کسی مستقبل کی ایمرجنسی کے لئے رکھنا چاہتاہے اس لئے مجھے نہیں لگ رہا کہ ٹرمپ میں اب مادہ ہے ۔کہ یہ جنگ جاری رکھیں ۔دیکھاجائے تو عد م رضامندی کے بھی دو تین اشوز بچے ہیں ۔ہرمز اسٹیٹ کو کھولنا ،ایران کے نیوکلیئرپروگرام پر کنٹرول اور میزائلوں کو محدود کرنا ،ہرمز پر ٹول لینا ؟ وغیرہ وغیرہ ۔یہی اہم اشو بچے ہیں ۔ایران کے وزیرخارجہ کے اتنی بار اسلام آباد کے چکرلگانا یہ پیغام دے رہا ہے کہ ایران بھی اب کوئی سمجھوتہ چاہتا ہے۔ ٹرمپ کو اپنے اکساوے والے فضول بیان بند کرنے ہوں گے ۔خامخواہ وہ الٹے سیدھے بیان دے کر ماحول خراب کرتے ہیں ۔دو دن پہلے بھی ہوئے جان لیو احملے کا بھی ٹرمپ پر ضروری اثر ہوگا ۔فوجی ٹکراؤ سے دونوں فریق جتنا حاصل کر سکتے تھے وہ کر لیا ہے ۔امریکہ نے جن مقاصد کو لے کر یہ جنگ چھیڑی تھی وہ اب بھی دور ہے اور پتہ نہیں وہ لڑائی سے انہیں پورا کر بھی سکتے ہیں یا نہیں ؟ اسی طرح ایران کو بھی اندازہ ہوگا کہ وہ ٹرمپ کی ضد پر ایک حد تک ہی جھک سکتا ہے ۔ایسے میں ایک ہی راستہ بچا ہے امن ۔تیل اور نیچر ل گیس کو لے کر انٹرنیشنل اینرجی ایجنسی کی بھی وارننگ ان کی سپلائی 2027 تک بھی پوری طرح بحال نہ ہو پائے گی۔ جنگ کے سنگین نتائج کا بس ایک ہی پہلو ہے ۔تعطل لمبا کھچنے سے عالمی مندی آسکتی ہے اور اس کی سب سے زیادہ قیمت عام آدمی کو چکانی پڑتی ہے ویسے بھی جنگ میں بھی مرتا تو عام آدمی ہی ہے چاہے وہ کس بھی دیش کا ہو اس لئے کل ملا کر ڈیل ہو جائے تو اس کا ساری دنیا خیر مقدم کرے گی۔ دیکھیں یہ معجزہ کیا اسلام آباد کر دکھائے گا؟ 
(انل نریندر)

25 اپریل 2026

ہارا ہوا کیس طے کرسکتا ہے جنگ کی شرائط

سیز فائر کی میعاد وقت غیر یقینی وقت بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے صاف کیا ہے کہ امریکی فوج پوری طرح سے تیار ہے ، اور جنگ بندی صرف تب تک ہے جب تک بات چیت کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ جاتی اسے ایران نے نہ صرف مسترد کر دیا ،بلکہ اسے امریکہ کی کمزور ی بتایا ۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر مشیر محبی محمد ی نے سخت الفاظ میں کہا کہ جنگ کے میدان میں ہارا دیش اپنی شرائط نہیں تھوپ سکتا ۔پچھڑنے والادیش کیسے شرائط طے کرسکتا ہے؟ انہوں نے لکھا ٹرمپ کے جنگ بندی توسیع کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔بندرگاہوں کی گھیرا بندی جاری رکھنا بم باری کرنے سے الگ نہیں ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ایران جنگ میں امریکہ کو بری طرح سے فلاپ ہونے کے ثبوت سامنے آنے لگے ہیں ۔جنگ میں کامیابی نہ دلانے کی وجہ سے امریکہ میں پچھلے 25 دنوں سے فوج کے 4 بڑے افسروں کو برخواست کر دیا گیا ہے ۔لسٹ میں تازہ نام نیول سیکریٹری جان فیلن کا ہے۔ ہرمز میں ایرانی ناکہ بندی کو ختم نہ کر پانے کی وجہ سے پینٹاگون نے صرف فیلن کو برخواست ہی نہیں کیا بلکہ فیلن سے پہلے آرمی چیف جنرل ٹے ڈی جارج ،میجر جنرل ڈیوڈ ہانڈلے اور میجر جنرل ولیم گرین جونیئر کو برخواست کیاجاچکا ہے ۔تینوں کو ہی جنگ میں کامیابی نہ دلانے کے سبب برخواست کیا گیا ہے ۔فیلن صدر ٹرمپ کے بے حد قریبی افسر مانے جاتے ہیں ۔فیلن پر کمانڈ کو درکنار کرنے اور جنگ میں متوقع کامیابی نہ دلانے کا الزام ہے حالانکہ سرکار بیان میں کہا گیا ہے کہ فیلن نے خود ہی استعفیٰ کی پیشکش کی ہے ۔اُدھر فائنانشیل ٹائمس کے مطابق ہرمز کے باہر امریکی ناکابندی کرنے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوا ہے ۔سیٹکام کے بیان کے اُلٹ 22 اپریل کو 34 ایرانی جہاز ہرمز سے گزر گئے ۔ان جہازوں کو امریکہ روک نہیں پایا ۔اُدھر سیٹکام کا کہنا ہے کہ اس نے ہرمز میں 10 ہزار فوجی لگا رکھے ہیں ۔اور اس کے علاوہ 21 اپریل کو اسلام آباد میں ایران امریکہ کے بیچ امن مذاکرات کو لے کر مجوزہ میٹنگ میں ایران نے شامل ہونے سے منع کر دیا ہے ۔سی این این کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امکانی مڈٹرم الیکشن ہے ۔ٹرمپ کو لگتا ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن تک اگر جنگ جاری رہتی ہے تو ان کی پارٹی کو کافی زیادہ نقصان ہوسکتا ہے اس لئے ٹرمپ نےایران سے بغیر بات کئے جنگ بندی کو بے میعادی بڑھا دیا ہے۔ ہرمز ابھی جلد کھلنے والابھی نہیں ہے ۔بے شک ٹرمپ کتنا بھی چاہیں امریکی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ہرمز اسٹریٹ میں بچھی مائنس ہٹانے میں چھ مہینے تک کا وقت لگ سکتا ہے اس سے تیل سپلائی ،عالمی تجارت طویل عرصہ تک متاثر رہے گی ۔امریکہ ایران کے بیچ کشیدگی کم نہیں ہوئی ہے امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا نیوکلیائی پروگرام بند کرے اور افزودگی یرونیم سونپ دے اور ہرمز کو پوری طرح کھول دے ۔دوسری طرف ایران نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ اس کی ناکابندی ختم نہیں کرے گا ،وہ بات چیت نہیں کرے گا جیسا مہدی محمد نے کہا کہ ہرمز جنگ میں بری طرح فلاپ ہوئے امریکی جنگ کی شرطیں کیسے طے کرسکتا ہے ؟ 
(انل نریندر)

23 اپریل 2026

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگی کے سبب امن بات چیت کھٹائی میں پڑتی نظر آرہی ہے اس پورے واقعہ میں پاکستان ثالث کے رول میں سرگرم ہے ۔ہرمز کو تازہ ٹکراؤ کو دیکھتے ہوئے پاکستانی ثالثی ٹیم واپس اسلام آباد لوٹ چکی ہے ۔پاکستان میں پہلے دور کی امن بات چیت کے بعد امریکہ نے ہرمز بلاکڈ لاگو کر دیا ہے۔ وہیں ایران نے اسے اپنی سرداری پر حملہ بتایا ہے ۔سمندر میں ایرانی جہازوں تک کو بھی روکا اور نشانہ بنایاجارہا ہے ۔تیل مارکیٹ میں عدم استحکام بڑھ گیاہے ۔دنیا کی نظر اب اس پر لگی ہے کہ اس ٹکراؤ کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ سال یہ بھی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تقریبا 40 دنوں تک زبردست جنگ چلی ۔اس کے بعد بڑی مشکل سے سیز فائر کا اعلان کیا گیا اور اسلام آباد میں امن بات چیت کے لئے میٹنگ بلائی گئی لیکن یہ بات چیت بے نتیجہ رہی۔ بات چیت ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہرمز رہا ۔ہرمز پر کس کا دبدبہ رہے گا اس کا فیصلہ نہیں ہو پایا ۔فی الحال تو امن بات چیت کے بعد ایران اور امریکہ کے بیچ ہرمز پر قبضہ کو لے کر سسپنس کی آگ دہک رہی ہے ۔ امریکہ اور ایران نے اپنےہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں ۔دنیا میں تیل کے اس اہم راستے پر کس کا قبضہ ہے کس کے ہاتھ میں ہے ؟ سوال ہر کسی کو پریشان کررہا ہے ۔دونوں خیمے اپنے اپنے دعووں پراڑیل ہیں ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سختی نے ماحول کو اور خراب کر دیا ہے کئی ملکوں کی معیشت اسی راستے پر ٹکی ہوئی ہے ۔بتادیں کہ دنیا کی آدھی سے زیادہ تیل کی سپلائی اسی راستے پر منحصر ہے ۔ایک چھوٹی سی غلطی بھی عالمی معیشت کو ہلا سکتی ہے ۔امریکہ کی ناکے بندی کتنی کارگر ثابت ہورہی ہے؟ یا ایران کی دھمکی میں دم ہے ؟ سسپنس ہر گھنٹے بڑھتا جارہا ہے ۔جمعرات کو ایرانی جہاز کو امریکہ نے ہرمز واپس لوٹا دیا ہے اس کے بعد کشیدگی انتہا پر پہنچ گئی ہے ۔سیز فائر کے باوجود امریکہ کی اس حرکت سے ایران کا غصہ ساتویں آسمان پر ہے ۔ایران نے امریکہ کو جوابی کاروائی کی سخت وارننگ دے دی ہے ۔ڈر اس کا ہے کہ جنگ بندی جو 23 اپریل کو ختم ہونے جارہی ہے یعنی آج وہ آگے بڑھے گی یا نہیں ؟ ہرمز کے بندہونے سے اب  یہ ٹکراؤ صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہا اس کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر نظر آنے لگا ہے ۔تیل بازار میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔جہاز رانی کمپنیاں چوکس ہو گئی ہیں ۔ہر دیش چاہتا ہے کہ یہ اہم راستہ کھلا رہے لیکن زمین اور سمندر پر چل رہی حکمت عملی چالیں اس راستے کو سب سے بڑا فلیگ پوائنٹ بنارہا ہے ۔ٹرمپ نے رائٹرس کو دئیے ایک اور یبان میں دعویٰ کیا کہ بلاکیڈ پوری طرح لاگو ہے اور ایران اب کھلے طور پر تجارت نہیں کرپارہا ہے۔ سیٹکام کے مطابق اب تک 10 جہازوں کو واپس بھیجاجاچکا ہے اس بیچ خبر یہ بھی آئی ہے کہ پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر نے ٹرمپ کو تجویز بھیجی ہے کہ اگر امن بات چیت آگے بڑھانی ہے تو ہرمز سے بلاکیڈ ختم کرنا ہوگا ۔کہاجارہا ہے ٹرمپ نے کہا میں اس پر غور کروں گا ۔
(انل نریندر)

21 اپریل 2026

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران میں ہیں اور پاک وزیراعظم شہباز ریاض میں چکر لگا رہے ہیں ۔ادھر اسرائیل لبنان جنگ میں ٹرمپ کی بدولت 10 دن کا سیز فائر چل رہا ہے۔امید کی جارہی ہے کہ پاکستان میں دوسرے دور کی بات چیت بھی ممکن ہے لیکن اس میں ابھی کئی پیج پھنسے ہوئے ہیں ۔دونوں فریق اپنی اپنی کہی شرطوں پر اڑے ہوئے ہیں ۔اب سوال اٹھتا ہے کہ آگے کیا کیا ہوسکتا ہے ؟ ہمیں تو چار امکانی پش منظر دکھائی دے رہے ہیں ۔حکمت عملی بریک کی شکل میں جنگ بندی ۔کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد امریکہ ایران جنگ بندی کرائسس کو محدود کرنے کی خواہش اچھا اشارہ دیتا نظر آرہی ہے ۔حالانکہ شرعات ہی سے اس کے ساتھ کئی طرح کی باتیں جڑی ہیں ۔جنگ بندی کے تقاضوں کی تشریح کو لے کر اختلافات سامنے آئے ہیں ان اختلافات کے سبب کچھ مبصرین نے اسے ایک مستقل اسٹرکچر کے بجائے حکمت عملی بریک کی شکل میں دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔ایک امریکی تجزیہ نگار کے مطابق لڑائی شروع ہونے کے بعد سے ہی سمجھوتہ تک پہنچنے کا امکان تقریباً زیرو تھا ۔یہ اصولوں ،حالات اور پالیسیوں کا ایک ایسا گروپ ہے جن پر امریکہ اور ایران سالوں سے غیر متفق رہے ہیںاور جنگ ان اختلافات کو کم کرنے میں ناکام رہی ہے ۔دونوں فریقین مسلسل متضاد بیانوں سے حالات اور بگڑ گئے ہیں ۔ٹرمپ کی جانب سے اسٹریٹ آف ہرمز کی ناکابندی کا اعلان سے ٹکراؤ اور بڑھ گیا ہے ۔حالانکہ کشیدگی بڑھنے کے امکان سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔دعوے سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ جنگ رکے گی یا نہیں ؟ ایک پش منظر جو شاید سب سے زیادہ ممکن ہے وہ ہےٹکراؤ کا بے کنٹرول کشیدگی کی شکل میں واپسی کا اس کا مطلب ہوگا لڑائی کھلی جنگ کی سطح تک نہیں پہنچے گی اور نہ ہی دونوں فریق پوری طرح سے فوجی کاروائی سے پرہیز کریں گے اس میں بنیادی ڈھانچے فوجی اڈوں یاسپلائی لائنوں پر محدود حملے جاری رہ سکتے ہیں اس کے بعد پراکسی گروپوں کا رول زیادہ اہم ہوجائے گا کچھ تجزیہ نگار اس حالت کو شیڈو وار کہتے ہیں جیسے جیسے ٹکراؤ بڑھتا ہے ، غلط تجزیہ کا خطرہ بڑھتا ہے اور بھلے ہی کوئی فریق کی کشیدگی بڑھانا نہ چاہتا ہو ایک چھوٹی سی غلطی بھی لڑائی کو بے قابو سطح تک پہنچا سکتی ہے ۔پاکستان میں بات چیت فیل ہونے کے باوجود یہ نتیجہ نکالنا ابھی ممکن نہیں ہےکہ ڈپلومیسی ختم ہو چکی ہے یا بات چیت پوری طرح ٹوٹ چکی ہے ۔امریکہ کی 15 نکاتی تجویز اور ایران کا 10 نکاتی جوابی پرستاؤ یہ ضرور دکھاتا ہے کہ دونوں فریق بجائے کسی درمیانی راہ پر پہنچنے کے ابھی بھی اپنی اپنی شرطوں کو ترجیح دے رہے ہیں اس لئے بھلے ہی بات چیت کا نیا دور ممکن ہولیکن جلدی اور وسیع معاہدہ کی امید رکھنا صحیح نہیں لگتا ۔اگر امریکی ناکابندی جاری رہتی ہے تو ایرانی فوج نے خلیج اور لال ساگر اور عمان کی خلیج فارس میں شپنگ کے خطرے کی وارننگ دے دی ہے ۔ٹرمپ نے اعلان کیا ہے دیش کی بحریہ ایران پر سمندری ناکابندی جاری رکھے گی جس سے ہر گزرتے جہاز کو روکا جاسکتا ہے اور یہ ایران کو کسی حالت میں قبول نہیں ہے ۔ایرا ن نے یہ دھمکی دی ہے بین الاقوامی آبی راستے میں ان جہازوں کو روکا جائے گا جو ہرمز سے گزرنے کے لئے ایران کو ٹرانزٹ ٹیکس نہیں دیں گے تو نتیجہ اچھا نہیں ہوگا ۔ٹرمپ چاہتے ہیں ایران کی تیل آمدنی کو روکنا ۔اس کی معیشت کو کمزور کرنا اور ایران کو مجبور کرنا کہ وہ امریکہ کی شرطوں کو مانے لیکن دیگر تجزیہ نگاروں نے اس حکمت عملی سے امریکہ کو ہونے والی بھاری لاگت کی جانب اشارہ کیا ہے کیوں کہ اس سے اس کی فوجی طاقت جغرافیائی طور سے ایران کے قریب آجاتی ہے اور حملے کے تئیں زیادہ حساس ترین ہو جائے گا ۔موجودہ ماحول میں حکمت عملی فیصلے اور سیکورٹی سے جڑے سوال اور زمینی سطح پر چھوٹے واقعات بھی بحران کی سمت پر بڑا اثر ڈال سکتے ہیں ۔
(انل نریندر)

آپ اور ٹرمپ لگاتار جھوٹ بول رہے ہیں

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی ایران جنگ پر جنتا کو جھوٹ بولنے اور گمراہ کرنے و سینئر فوجی افسران کو ہٹانے کے الزامات کو لے کر نمائندہ سبھا ...