مغربی ایشیا کی دو بڑی لڑائیاں اب ایک دوسرے سے وابستہ دکھائی دے رہی ہیں ۔ایک طرف پچھلے کئی ماہ سے امریکہ ایران کے درمیان کشیدگی اور فوجی کاروائی چل رہی ہے وہیں اب دوسری طرف روس اور یوکرین کے درمیان جنگ پانچویں برس میں داخل ہو چکی ہے ۔اب ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے ان دونوں لڑائیوں کو آپس میں جوڑدیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر نئی تشویشات پیدا کر دی ہیں ۔تازہ تنازعہ کیسپیئر ساگر میں ایک ایرانی جہاز پر ہوئے حملے سے شروع ہو ا ۔یوکرین پر الزام ہے کہ اس نے کیپسین ساگر میں ایک ایرانی کمرشیل جہاز کو نشانہ بنایا ۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز روس اور ایران کے درمیان ہتھیاروں اور فوجی سامان کی سپلائی میں استعمال کیاجارہا تھا اسی وجہ سے اس جہاز پر حملہ کیا گیا ۔اس واقعہ کے بعد ایران نے سخت ناراضگی جتائی ہے۔ ایران کی راجدھانی تہران میں یوکرین کے سفیر کو طلب کیا اور سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ دے ڈالی ۔ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے یوروپی فیڈریشن کی خارجہ پالیسی چین کیلس سے بات کی اور اس حملے کے خلاف اپنی ناراضگی جتائی ۔انہوں نے یوکرین کے خلاف سخت کاروائی کی بھی مانگ کی ۔کیسپین ساگر میں کسی جہاز پر اس طرح کا حملہ پہلی بار ہوا ہے۔ کیسپین ساگر ایک ایسا سمندری خطہ ہے جو چاروں طرف سے زمین سے گھرا ہوا ہے ۔اس کے نارتھ ویسٹ میں روس اور ساؤتھ میں ایران ، مشرق میں قزاکستان اور ترکمانستان و مغرب میں آذر بائیجان واقع ہے ۔یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد روس اورایران کے رشتے اور مضبوط ہوئے ہیں ۔دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ،تکنیکی اشتراک اور ڈیفنس سیکٹر میں رابطہ بڑھا ہے ۔اسی وجہ سے لمبے عرصے سے یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ کیسپین ساگر کے راستے روس اور ایران کے درمیان فوجی سامان کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ۔حالانکہ اس بارے میں کبھی کھلے طور سے کوئی صاف تسلیم نہیں کی گئی ۔ایران کا کہنا ہے کہ جس جہاز پر حملہ ہوا وہ ایک جنرل کمرشیل جہاز تھا ۔ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں ایک ملاح کی موت ہو گئی جبکہ ایک دیگر ملاح زخمی ہوگیا تھا ۔حملے کے بعد صدر زیلنسکی نے شوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جہاز روس اور ایران کے درمیان فوجی سامان پہنچانے کا کام کررہا تھا ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس لمبے عرصہ سے ایران کی طر ف سے دستیاب کرائے گئے شہید نامی ڈرون کا استعمال یوکرین کے خلاف کررہا تھا ۔لڑائی کے آغاز کے مرحلے میں روس نے بڑی تعداد میں ایرانی ڈرون کا استعمال کیا تھا ۔جس سے اسے جنگ میں بڑھت حاصل کرنے میں مدد ملی تھی ۔زیلنسکی نے صرف جہاز پر حملے کا بچاؤ ہی نہیں کیا بلکہ اس پر ایک اور سنگین الزام بھی لگا دیا انہوں نے دعویٰ کیاکہ روس نے ایران کو خلیج خطہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ تصویریں اور خفیہ جانکاری دستیاب کرائی ہے ۔ان کے مطابق ماہ جولائی میں روسی سیٹلائٹ بحرین ،جارڈن اور کویت میں قائم امریکی فوجی ٹھکانوں کی نگرانی کررہے ہیں ۔زیلنسکی کا الزام ہے کہ ایران کے ذریعے امریکی اڈوں پر کئے گئے کچھ پختہ حملوں کے پیچھے بھی روس کی طرف سے دی گئی خفیہ جانکاری کا رول ہوسکتا ہے ۔یوکرین برائے نام ہے کہ اسے صرف یوکرین نے اس میں صرف روس صرف یوکرین میں جنگ نہیں لڑرہا ہے بلکہ پورے خطہ میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کررہا ہے ۔
انل نریندر