ایسے وقت پر جب مغربی ایشیا میں امریکہ اسرائیل بنام خطرناک جنگ چھڑی ہوئی ہے اور عالمی سطح پر ایندھن سپلائی کا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ساری دنیا کی معیشت اتھل پتھل ہو رہی ہے اسی وقت کھیل شائقین کے لئے زبردست راحت کا انعقاد ہورہا ہے ۔میں ورلڈ کپ فٹبال 2026 کی بات کررہا ہوں۔ امریکہ ،کنیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں منعقدہ اب تک سب سے بڑا فٹبال کپ چل رہا ہے ۔فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے افتتاحی تقریب نے جمعرات کو ایز ٹیکا اسٹیڈیم میں 85 ہزار فٹبال شائقین کے سامنے انوکھا سما باندھ دیا ۔اس بارے میں تین افتتاحی تقریب ہوئیں جن میں دو تقریب جمعہ کے روز کنیڈا کے ٹورنٹو اور امریکہ کے لاس اینجلس میں منعقدہوئی ۔39 دن تک جاری رہنے والے اس سب سے لمبے فٹبال مہا کمبھ میں ریکارڈ میچوں کے ساتھ ریکارڈ سامعین کے آنے سے فٹبال کی بڑی انجمن کو عالمی سطح پر بھاری منافع ہونے والاہے ۔فیفا کی کمائی کئی طریقوں سے ہوگی جس میں سب سے بڑا حصہ ٹیلی کاسٹ رائٹس کا ہوگا ۔اس کے علاوہ اسپانسر اور ٹکٹوں کی بکری اور اشتہارات ،سیاحت وغیرہ سے بھاری کمائی ہوگی ۔اس بار 48 ٹیموں کے دنیا بھر سے حصہ لینے سے کمائی امید سے زیادہ ہو سکتی ہے ۔ اور یہ تعداد شمار 76 ہزار کروڑ روپے ( 8.9ارب ڈالر سے بھی زیادہ پہنچ سکتی ہے۔ اصل میں 104 مقابلے تین دیشوں کے 16 شہروں میں ہونے سے کمائی میں کئی طرح کی اضافہ ہوگا۔بتادیں کہ 3 بار ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والامیکسیکو دنیا کا پہلا دیش ہے ۔میکسیکو نے اپنے یہاں افتتاح کرانے میں اپنی دیسی تہذیب کی جھلک دکھانے کا کوئی موقع نہیں گنوایا ۔ فیفا نے اس تقریب کے لئے دنیا بھر سے فنکار بلائے تھے ۔لیکن اصلی سما شکیرا کے دائی دائی گانے سے بندھا جس پر ناظرین جھوم اٹھے ۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ کھیل کی اس طاقت کو ثابت کر پائے گا جو اختلافات کے بیچ بات چیت و کشیدگی کے بیچ امید کی گنجائش پیش کرتی ہے ۔فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ دیکھیں تو امید کی جاسکتی ہے ۔بتادیں کہ اٹلی کے ڈکٹیٹر یونی سولونی کے عہدمیں 1934 میں اٹلی میں ہوا ورلڈ کپ رہا ۔یا پھر 1938 کئی مقابلے ، جب زمینی اور آسٹریا پر قبضہ کر چکا تھا ۔اس کھیل نے درد سے کراہتے ہوئے دیشوں کو ضرور کچھ تو راحت دی تھی ۔ہٹلر نے بھی ورلڈ کپ ہاکی کا انعقاد کرایا تھا جس میں بھارت کے میجر دھیان چند سب سے بڑے ستارے کی شکل میں ابھرے تھے ۔ دلچسپ یہ ہے کہ ایران کی ٹیم کو بھی میزبان امریکہ میں کھیلنے کا موقع ملے گا ۔حالانکہ ایران کو ویزا دینے میں بھی تنازعہ کھڑا ہوا تھا ۔قابل ذکر ہے کہ ایرانی کھلاڑی جب میکسیکو پہنچے تو انہوں نے وہ علامتی نشان پہنچا تھا جو مناب کی بچیوں کے اسکول پر امریکہ نے میزائل مارا تھا اور 138 چھوٹی بچیاں شہید ہو گئی تھیں ۔توقع کی جاتی ہے کہ اس انعقاد سے دیشوں میں محبت اور ایک دوسرے کی عزت بڑھے گی ۔اور بھائی چارہ بڑھے گا ۔دنیا میں شورش کے ماحول میں بھی کمی آئے گی۔
(انل نریندر)