Translater

02 جون 2026

اگر روبیو تاریخ جانتے تو فوٹو نہیں کھچواتے ؟

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیوجب بھارت کے چار روزہ دورہ پر آئے تھے تو بھارت کے وزیراعظم و سرکردہ سفارتکاروں سے تو ملے ہی تھے۔ ساتھ ہی کئی ہندوستانی مشہور سیاحتی مقامات پر بھی گئے ۔انہیں میں سے ایک آگرہ کے تاج محل کا دورہ سوشل میڈیا میں موضوع بحث بنا ۔امریکی وزیرخارجہ نے تاج محل کے سامنے اپنی اہلیہ کے ساتھ یادگاری فوٹو سوشل میڈیا پر شیئر کی ۔یہ فوٹو جلد ہی سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بن گئی ۔اس معاملے نے اس وقت ایک الگ موڑ لے لیا جب حیدر آباد میں قائم ایرانی سفارتخانہ نے روبیو کے تاج محل دورہ پر کھلے طور پر طنز کیا ۔ایرانی قونصل خانہ نے اپنے بیان میں یاد دلایا کہ ان کے مطابق تاج محل مغل بادشاہ (شاہ جہاں) کی ایرانی نژاد بیگم ممتاز محل کی محبت کی نشانی ہے اوراس کی تعمیر میں فارسی فنکاروں کی صلاحیت شامل تھی ۔بیان میں امریکہ کی بھی تنقید کی گئی اور امریکی سرکار پر دہرے اسٹنڈرڈ اپنانے کا الزام لگایا گیا ۔سفارتخانہ نے لکھا : اگر مارکو روبیو کو تاریخ اور فن کی سمجھ ہوتی تو وہ یہاں تصویر کھچوانے کے لئے کھڑے نہیں ہوتے یہ یادگار ایک بادشاہ کی ایرانی اہلیہ کی محبت میں بنایا گیا تھا اور اسے ایرانی آرٹسٹوں کے ٹیلنٹ نے گھڑا تھا آج ان کی سرکار ایرانی تہذیب کو مٹانے کی دھمکی دے رہی ہے ۔اور دوسری تہذیبوں کی بے عزتی کرتی ہے ۔ایرانی طنز کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا میں تیزی سے وائرل ہوگیا ۔کچھ ماہرین فن نے روبیو کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے پش منظر کو سمجھے بنا ایسے مقامات پر تصویریں کھچوانا مناسب نہیں ہے۔ کچھ رائے زنی اس سے بھی آگے بڑھ گئی اور امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے سلسلے میں دیکھاجانے لگا ہے ۔ایک ماہر آثار قدیمہ نے کہا کہ یہ عمارت ایک ایرانی ملکا کے لئے فارسی فنکاروں نے بنائی تھی ۔اور یہ ایک ایسی تہذیب کی علامت ہے جسے ان کی سرکار اس وقت میں خطرے میں ڈال رہی ہے اور ان کا احترام نہیں کررہی ہے ۔بتادیں سنگ مرمر ( جو راجستھان کے مکرانے سے آیا تھا) سے بنا ۔تاج محل دنیا کے سات عجائبوں میں سے ایک ہے ۔جسے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی اہلیہ ممتاز محل کی پیار کی یاد میں 1632 عیسوی میں بنوانا شروع کیا تھا جو 1653 عیسوی صدی میں بن کر تیار ہوا تھا ۔اس کے بنانے والے ہندواسلامی ،مغل سمیت کئی آرٹسٹوں کا فن شامل ہے ۔اس وسیع اور شاندار عمارت کو قریب 20 ہزار مزدوروں نے مغل فنکار استاذ احمد لاہوری کی رہنمائی میں بنایا تھا ۔اس مقبرے کو بنانے میں اس وقت قریب 20 لاکھ روپے خرچ آیا تھا ۔آج کے حساب سے یہ لاگت قریب 827 ملین ڈالر تقریباً 52 عشاریہ 8 ارب روپے ہے ۔اس عمارت کی تعمیر میں تقریباً 28 لاگ الگ طرح کے پتھروں کا استعمال کیا گیا جو ہمیشہ چمکتے رہتے ہیں ۔اس کی دیواروں پر بے حد خوبصورت نقاشی کی گئی ہے ۔تاج محل کو 1983 میں یونیسکو نے عالمی وراثت مقام ڈکلیئر کیا تھا ۔
(انل نریندر)

30 مئی 2026

ابراہم سمجھوتے پر پھنسےعرب ممالک



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ ایران پر جو جنگ کررہا ہے وہ دراصل اس کی اپنی جنگ نہیں ہے۔ یہ سب کچھ ٹرمپ اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو کہ کہنے پر کررہا ہے۔ یہ جنگ ٹرمپ نے امریکی مفادات کےلئے نہیں کی ہےبلکہ اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کےلئے ہے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ٹرمپ کو نتن یاہو بلیک میل کر رہا ہے اور وہ سب کچھ کہنے اور کرنے پر کروا رہے ہیںجو وہ اور طاقتور یہودی لابی کروا رہی ہے۔سبھی جانتے ہیں کہ ٹرمپ ایسا کیوں کررہے ہیں؟ اس کے پیچھے ایپسٹن فائل کا بھوت ہے۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو ٹرمپ یہ نئی شرط کو کیوں ڈالتے؟ ٹرمپ نے حال ہی میں پاکستان ، سعودی عرب،قطر ، ترکی، مصر، جارڈن سے امریکی امن سمجھوتے میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے ان عرب ممالک سے کہا کہ ایران سے سمجھوتہ تبھی پورا ما نا جائے گا ، جب سعودی، قطر، پاکستان، ترکی، مصر، جارڈن، بحرین جیسے عرب مسلم دیش ابراہم سمجھوتہ میں شامل ہوں۔ یعنی اسرائیل کو تسلیم کریں اور اس سے رشتے جوڑیں۔ ٹرمپ نے آگے خبردار کیا جو دیش ایسا نہیں کریںگے انہیں امریکہ ۔ایران ڈیل کا حصہ نہیں ہونا چاہئے۔ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر سے فوراً اسرائیل سے رشتے جوڑنے کو کہا۔ انہوں نے آگے کہا سمجھوتے کے بعد ایران کو بھی ابراہم معاہدے میں شامل کرنا عزت کی بات ہوگی۔ ابراہم سمجھوتے کی شروعات ستمبر2020 میں ٹرمپ کے پہلے عہد کے دوران ہوئی تھی۔ یہ ایک ڈپلومیسی سمجھوتہ تھا جس کے تحت متحدہ عرب امارات بحرین نے سرکاری طور پر اسرائیل کے ساتھ رشتے بہتر بنائے تھے ۔ بعد میں مراقش اور سوڈان بھی اس خاکہ میں شامل ہوگئے۔ دہائیوں تک زیادہ تر عرب ملکوں کا رخ یہ تھا کہ جب تک فلسطین مسئلہ کا حل نہیں ہوگا ، تب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریںگے۔ لیکن اس سمجھوتے نے اس پالیسی کو بدلنے کی کوشش کی تھی۔ اس سمجھوتے کی سب سے بڑی نکتہ چینی یہ ہورہی ہے کہ اس میں فلسطین مسئلہ کو نظرانداز کردیا گیا۔ نہ تو فلسطین ملک کو لیکر کوئی واضح روڈ میپ دیا گیا اور نہ ہی اسرائیلی بستیوں پر روک کی بات ہوئی۔اسے سبھی جانتے ہیں اسرائیل ایک گریٹر اسرائیل کی امید لگائے بیٹھا ہے جس میں وہ کچھ عرب ملکوں کی زمین لیکر ایک بڑا اسرائیل بنانا چاہتا ہے اور اس میں اب ٹرمپ کھل کر بے شرمی سے مدد کررہے ہیں۔ پاکستان نے اس تجویز کو فوراً مسترد کردیا۔ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو کوئی سرکاری منظوری نہیں دی ہے۔حالانکہ یہ بات پاکستان کیلئے اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ ٹرمپ جس طرح کے انسان ہیں اور اپنی بات منوانے کیلئے جس طرح ہو سکے پاکستان خارجہ پالیسی کے سامنے آنے والے وقت میں یہ اشو بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے۔ سعودی عرب نے بھی اس تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کردیا ہے کہ پہلے وہ 1967 کی پوزیشن بحال کرے۔جب اسرائیل ز بردستی فسلطین کی زمین کاٹ کر بنایا گیا تھا ترکی نے تو صاف کہا تھا کہ ہماری تو پالیسی صاف ہے ، ہمیں تو اسرائیل کی موجودگی ناپسند ہے اس لئے ہمارا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ٹرمپ نے آخر میں یہ دائو کیوں چلا؟ ٹرمپ ایران ڈیل کو صرف جنگ روکنے والاسمجھوتہ نہیں رکھنا چاہتا۔ وہ اسے مغربی ایشیا کے نئے سیاسی نظام قائم کرنا چاہتا ہے اس لئے سعودی عرب ، قطر، پاکستان، ترکی جیسے ملکوں پرجڑنے کا دبائو دے رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو سب سے بڑی کامیابی اسرائیل کو ملے گی۔ اسرائیل کو خلیج میں مانیتا مل جائے گا۔
(انل نریندر)

28 مئی 2026

ایران کی فریز پڑی جائیداد

پاکستان میں امریکہ ایران کے درمیان باہمی بات چیت میں تہران کی فریز پڑے 6 ارب ڈالر کی جائیداد کو جاری کرنا ایک اہم اشو ہے یہ پیسہ ابھی قطر میں جمع ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک ایرانی ذرائع نے بتایا کہ قطر سمیت بیرون ممالک میں ضبط اثاثوں کو جاری کرنا اور محفوظ تبادلہ لین دین طے کرنے سے سیدھے طور سے وابستہ ہے ۔6 ارب ڈالر کی یہ رقم پہلے 218 میں روکی گئی تھی ۔واشنگٹن و تہران کے درمیان قیدیوں کی ادلابدلی کے معاہدے کے تحت اسے 2023 میں فریز کیا گیا تھا ۔لیکن 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد بائیڈن انتظامیہ نے اثاثوں کو پھر سے فریز کر دیا تھا ۔ادھر امریکہ نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسلا م آباد مذاکرات میں ضبط اثاثوں کو چھوڑے گا ۔امریکہ نے صاف کہا کہ وہ ایرانی اثاثوں کو واپس نہیں کرے گا اس  سے پہلے ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اس بات پر راضی ہو گیا ہے کہ ضبط اثاثوں کو چھوڑے گا ۔پچھلے کچھ دنوں سے ایک بار پھر جنگ بندی اور امن مذاکرات کی بات ہو رہی ہے ۔دیکھیں امریکہ اور ایران میں کن کن مسئلوں پر سمجھوتہ ہوتا ہے ۔اگر ہوتا بھی ہے ؟ 
(انل نریندر)

ٹرمپ کے پاس تیسری بار فائرنگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرکاری مکان و دفتر وائٹ ہاؤس کی سیکورٹی جانچ چوکی کے پاس ایک شخص نے فائرنگ کر دی ۔سیکورٹی ملازمین نے جوابی کاروائی میں مشتبہ حملہ آور کو ڈھیر کر دیا ۔پچھلے ایک ماہ میں یہ صدر ٹرمپ کے آس پاس فائرنگ کا یہ تیسرا واقعہ تھا اس سے پہلے اپریل میں وائٹ ہاؤس رپورٹرس فیڈریشن کے عشائیہ اور مئی کی شروعات میں واشنگٹن مونومنٹ کے پاس ایسے واقعات ہوئے ۔ قانون انفورسمنٹ ایجنسی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ 17ویں اسٹریٹ اور پین سروینیا ایونیو میں موجود حملہ آور نے سنیچر کی شام چھ بجے اپنے بیگ سے ہتھیار نکالااور فائرنگ شروع کر دی ۔سیکریٹ سروس جوانوں نے جوابی کاروائی میں وہ زخمی ہو گیا ۔اور بعد میں اس کی موت ہو گئی ۔بتایاجاتا ہے کہ حملہ آور نے 30 راؤنڈ گولیاںچلائیں سنیچر کو ہوئی واردات کے دوران ایک راہگیر کو بھی گولی لگی ہے لیکن یہ صاف نہیں ہو پایا کہ وہ مشتبہ حملہ آور کے ذریعے شروع میں چلائی گئی گولیوں سے زخمی ہوا یاافسران کے ذریعے جوابی کاروائی میں اسے گولی لگی ؟ ٹرمپ واردات کے وقت وائٹ ہاؤس میں ہی موجود تھے ایک لاء انفورسمنٹ افسر نے اپنی پہچان پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ مشتبہ کی پہچان 21 سالہ ناسر بیسٹ کی شکل میں ہوئی ۔بیسٹ کو پہلے بھی گرفتار کیا گیا تھا ۔جانچ میں جب اس نے بغیر اجازت کے وائٹ ہاؤس کی ایک دیگر چیک پوسٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی تب بیسٹ کو جولائی 2025 میں اس سلسلے میں گرفتار کیاگیا تھا ۔حملہ آور بیسٹ خود کو عیسٰی مسیح مانتا تھا ۔ڈونلڈ ٹرمپ پر تیسری مرتبہ فائرنگ ہو چکی ہے ۔اور وہ ایک مرتبہ تو بال بال بچے جب گولی ان کے کان کے پاس سے جاتی ہوئی نکل گئی اور کچھ نکتہ چینی کرنے والوں کا خیال ہے کہ ان حملوں کے پیچھے ہمدردی بٹورنے اور امریکی عوام کو برننگ اشوز سے توجہ ہٹانے کا ناٹک شامل ہے ۔خیر جوبھی ہو ایک بات تو صاف لگتی ہے کہ ٹرمپ کی جان کو خطرہ ہے اور انہیں اپنی سیکورٹی میں کسی طرح کی ڈھیل نہیں دینی چاہیے ۔
(انل نریندر)

26 مئی 2026

ٹرمپ پر آگ بگولہ ہوئے نیتن یاہو

امریکہ اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی لیکن اب اس جنگ کو روکنے کے لئے دونوں دیش آپس میں متفق نہیں ہوپارہے ہیں ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو میں بھاری اختلافات سامنے آرہے ہیں ۔نیتن یاہو ایک بار پھر سے ایران پر ہوائی حملے شروع کرنا چاہتے ہیں ۔وہیں ٹرمپ ہتھیار سے پہلے ڈپلومیسی کے ذریعے معاملے کو ٹھنڈا کررہے ہیں اور امریکہ کو اس جنگ سے باہر نکلنے کے لئے ایران سے کوئی ڈیل کرنے کے چکر میں ہے ۔بتایاجارہا ہے کہ اس جنگ پر دونوں لیڈروں کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے تک بات چیت ہوئی لیکن دونوں میں ایک رائے نہیں بن پائی ۔نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت جب تک پوری طرح برباد نہ ہو جائے ان کے یورینیم پر قبضہ نہ ہو جائے حملے جاری رہنے چاہیے ۔امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ ثالث قطر اور پاکستان ایک لیٹر آف انٹینٹ پر کام کررہے ہیں تاکہ جنگ کو باقاعدہ طور سے ختم کیاجاسکے ۔اس پر دستخط ہونے کے بعد 30 دنوں کی بات چیت کا دور شروع ہوگا ۔نیتن یاہو ٹرمپ کی اس پالیسی سے متفق نہیں تھے ۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا ایران جنگ روکے گا اور کیا نیتن یاہو اکیلے ہی ایران جنگ کو اپنے آپ بڑھائیں گے یا پھر جنگ چلتی رہے گی ۔
(انل نریندر)

پارلیمنٹ میں ہی اپنوں نے ٹرمپ کو گھیرا

امریکی کانگریس (پارلیمنٹ) میں ایران جنگ کے دوران امریکی فوج و دیش کو ہوئے بھاری نقصان پر ایک مفصل رپورٹ جاری کی ہے ۔جس میں کہا گیا ہے لڑائی کے دوران 42 امریکی جہاز تباہ ہوئے یا ضائع ہوئے ۔ایسی خبریں پہلے بھی میڈیا میں آئی تھیں لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے کبھی اس کی تصدیق نہیں کی تھی یہ رپورٹ امریکی کانگریس کی کانگریشنل ریسرچ سروس ( سی آر ایس) نے مرتب کی ہے اور یہ امریکی کانگریس کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے ۔سی آر ایس کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعلق کی پرواہ کئے بنا امریکی کانگریس کے دونوں ایوان کو پالیسی ساز اشوز پر تجزیہ مہیا کراتا ہے ۔رپورٹ میں امریکی ڈیفنس محکمہ پنٹاگون سنٹرل کمان ( سیٹکام ) اور سماچار آرٹیکلس کا حوالہ دیا گیا ہے جن کے مطابق تباہ یا ضائع ہوئے جہازوں میں غیر انسانی ہوائی گاڑی یا جنگی جیٹ اور ڈرون شامل تھے ۔ایران سے جنگ امریکہ کے لئے کافی بھاری پڑرہی ہے تجزیہ نگاروں کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ میں امریکہ ایک لاکھ کروڑ (ایک ٹریلین ڈٓالر ) کے قریب پھونک چکا ہے حالانکہ سرکار نے اسے کافی کم کرکے دکھایا ہے ۔پنٹاگون کے ایک سینئر بجٹ آفیسر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اس جنگ میں امریکہ کو اب تک 29 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ بجٹ 25 ارب ڈالر کا تھا ۔ ایران جنگ کے سبب بھاری خرچ اور ہتھیاروں کے ذخیرے میں آئی کمی کے مسئلے پر ٹرمپ کو اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اپنی ہی پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ کی بھی بھاری مخالفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دوسری جانب ، ایران نے ابھی تک جنگ میں ہوئے نقصان کی تفصیل نہیں بتائی ہے اور اب بھی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف جنگ جاری رکھنے میں اہل ہے ۔صدر ٹرمپ اب ایران جنگ کو لے کر گھر کے اندرہی بری طرح گھرتے جارہے ہیں ۔ جہاں ایک طرف امریکی عوام سڑکوں پر اتر آئی ہے وہیں امریکی فوج اور ایم پیز سبھی جگہ ٹرمپ کو اپنے ہی گھیر رہے ہیں۔
(انل نریندر)

23 مئی 2026

ٹرمپ نے کیسے ایران جنگ میں کمائے پیسے ؟

ڈونلڈ ٹرمپ پر پہلی بار کسی امریکی صدر پر جنگ سے کمائی کرنے پر سوال اٹھنے لگے ہیں ۔اب ٹرمپ ٹریڈنگ وار میں گھر گئے ہیں ۔نئے مالی انکشافات کے مطابق سال 2026 کی پہلی سہ ماہی یعنی جنوری سے مارچ 2026 کے درمیان ٹرمپ یا ان کے مشیروں کی منڈلی نے 3700 سے زیادہ شیئر سودے کئے ۔روز تقریباً 40 شیئر سودے ہوئے ہیں ان میں ٹرمپ کو تقریباً 800 کروڑ روپے یعنی تقریباً 83 ملین ڈالر سے زیادہ کی کمائی ہوئی ۔یہ شیئر این ویڈیا ، بوئنگ ،مائیکروسوفٹ ،میٹا ،ایمازون اور اوریبل و کاسٹیکو جیسی کمپنیوں کے تھے ۔ٹرمپ تنازعوں میں اس لئے ہیں چونکہ کمپنیاں ، ڈیفنس سودے ، اے آئی قواعد اور چپ وسیمی کنڈکٹر درآمدات یا پھر ایکسپورٹ سے وابستہ ہیں ۔وال اسٹریٹ کی کمپنی ایرک ڈیٹن کے مطابق امریکہ کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے جب کوئی امریکی صدر مالی لین دین اور مفادات کے ٹکراؤ کے اشو پر سوالوں کے گھیرے میں ہے ۔ ادھر وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کر شیئر ٹریڈنگ کو لے کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر لگے الزامات سے انکار کیا ہے ۔ٹرمپ مازو نائز یرن پورے کاروبار کو سنبھالتا ہے ۔بیٹے جونیئر ٹرمپ کے پاس امریکہ اور یوروپ سے سرمایہ لانے کی ذمہ داری ہے جبکہ داماد زیروڈ کشنر کی کمپنی ایفنٹی پارٹنرس ، سعودیہ عرب اور دیگر خلیجی ملکوں کے سرکاری ویلتھ فنڈ سے ملے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو سنبھالتی ہے ۔اس رقم کو شیئروں میں ڈائیورٹ کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے پورٹ فولیو میں پچھلے سال کے آخری تین مہینوں میں 380 شیئر ٹریڈنگ کے ریکارڈ ہیں جبکہ اس سال 10 فروری کو ہی ٹرمپ نے مائیکروسافٹ ،میٹا اور ایمازون میں اپنے شئروں کی حصہ داری کو بیچ کر تقریباً 350 کروڑ روپے کی کمائی کی تھی ۔اس سے کچھ دن پہلے ہی ٹرمپ نے اینٹی ٹرسٹ اور اے آئی ریگولیشن و ڈیٹا پالیسیوں سے متعلق بڑے فیصلے کئے ۔ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے کبھی جنگ تو کبھی بات چیت کے بیانوں سے تیل اور اسٹاک وعدہ بازاروں میں بھاری اتھل پتھل رہی جب بھی ٹرمپ جنگ سے متعلق بیان دیتے تو تیل کے دام میں اچھال آجاتے جبکہ بات چیت والے بیان سے شیئر بازار میں تیزی آجاتی ۔
(انل نریندر)

اگر روبیو تاریخ جانتے تو فوٹو نہیں کھچواتے ؟

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیوجب بھارت کے چار روزہ دورہ پر آئے تھے تو بھارت کے وزیراعظم و سرکردہ سفارتکاروں سے تو ملے ہی تھے۔ ساتھ ہی کئی ہند...