اشاعتیں

ایران حملے کی قیمت ؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف تو نیتن یاہو کے اکسانے پر جنگ شروع تو کر دی لیکن انہیں شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ لڑائی لمبی اور مہنگی پڑ سکتی ہے ۔جو لڑائی چار دن میں ختم ہونے کی پیشگوئی کی جارہی تھی وہ آج دسویں دن بھی ختم ہونا تو دور کی بات ہے یہ بڑھتی جارہی ہے ۔یہ امریکہ کو دونوں فوجیوں کی موت اور مالی تنگی کی مار جھیلنی پڑرہی ہے جس کا اس نے کبھی اندازہ نہیں لگایا ہوگا ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اب اشارہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی یہ لڑائی چار پانچ ہفتے تک چل سکتی ہے ۔واشنگٹن میں موجود تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس اور کرسپارک کے ذریعے کئے گئے تجزیہ کے مطابق ایران کے خلاف آپریشن ایپک تھیوری کے تحت جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں امریکہ کو تقریباً 3.7 ارب ڈالر (قریب 31 ہزار کروڑ روپے ) خرچ اٹھانا پڑرہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق جنگ کے شروعاتی 100 گھنٹوں میں امریکہ کا اوسط خرچ تقریباً 891 ملین ڈالر یومیہ یعنی قریب 90 کروڑ ڈالر روز رہا ہے ۔شروعاتی مرحلے میں سب سے زیادہ خرچ مہنگی میزائلوں ، ہتھیاروں اور بموں کے استعمال پر ہوا ہے ۔اس لئے شروعاتی دنوں میں لاگت سب سے زیادہ ہے ۔تھنک ٹینک کی رپورٹ می...

جنگ تم شروع کرو گے ختم ہم کریں گے!

یہ وارننگ دی تھی آیت اللہ علی خامنہ ای نے شہید ہونے سے پہلے ۔انہوں نے ایک بار نہیں بار بار یہ خبردار کیا تھا اور ساتھ ہی کہا تھا کہ اگر امریکہ -اسرائیل ایران پر حملہ کرتا ہے تو ہم منھ توڑ جواب دیں گے ۔ایسا جواب دیں گے جس کا امریکہ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا ۔اتنا ہی نہیں آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی آگاہ کیا تھا کہ اگر ایران پر حملہ ہوگا تو جوابی کاروائی پورے مشرقی وسطیٰ کے ملکوںمیں امریکی فوجی اڈوں پر بھی ہوگی ۔اور یہ علاقائی جنگ میں بدل جائے گی اس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم چار دن میں ایران کو گھٹنوں پر لادیں گے ۔اور نیا اقتدار قائم کردیں گے اب جنگ کے 7-8 دن گزر چکے ہیں اب وہی ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ 4-5 ہفتے کھچ سکتی ہے ۔دراصل امریکہ پھنس گیا ہے طالبان اگر 20 سال بعد بھی لڑائی کے بعد بھی زندہ رہا تو اس کے پیچھے اس کی حکمت عملی اور افغانستان کے جغرافیائی حالات تھے ۔ایران بھی امریکہ کے لئے ایسی ہی چیلنج پیش کرنے والاہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں اپنی فوج بھیجنے سے انکار نہیں کیا ہے لیکن یقینی جانیے اگر امریکی فوجی ایران میں داخل ہوتے ہیں تو ویتنام اور اف...

آیت علی خامنہ ای کی شہادت!

میں سب سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو اپنی شردھانجلی پیش کرنا چاہتا ہوں ۔دنیا آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو یاد رکھے گی ۔ان کی بہادری کی مثال شہادت کو ہر ذکر میں چھائی رہے گی ۔وہ یہ جانتے تھے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے نشانہ پر ہیں اور ان پر کسی بھی لمحے حملہ ہوسکتا ہے پھر بھی وہ تہران چھوڑ کر نہیں بھاگے نہ تو کسی بنکر بین شیلٹر میں گئے اور نہ ہی کسی خفیہ جگہ پر ۔وہ اپنے دفتر میں کا م کرتے ہوئے انہوں نے شہادت کو گلے لگانا چنا۔وہ اپنے دیش کے لئے قربان ہو گئے لیکن دشمن کے سامنے پیٹھ نہیں چھپائی ۔بیشک ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو خامنہ ای کو مار کر وینر ہونے کا دعویٰ کررہے ہوں لیکن انہوں نے خامنہ ای کا قتل کرکےبڑا خطرہ مول لے لیا ہے ۔خامنہ ای کی شہادت نے سارے ایران و اسلامی دنیا کو امریکہ اور اسرائیل کے خلا ف کھڑا کر دیا ہے اس کے نتیجے سامنے آنے بھی لگے ہیں ۔کویت یو اے ای ،قطر، بحرین پر ایرانی میزائلیں گررہی ہیں ۔یو اے ای تو اس آرٹیکل لکھنے تک 167 میزائلیں برسا چکا تھا ۔ایرانی پلٹوار کا قہر سب سے زیادہ یو اے ای پر ٹوٹا ۔یو اے ای کے وزارت دفاع نے کہا ایران کی جان...

مودی کا اسرائیل دورہ اور عرب میڈیا!

وزیراعظم نریندرمودی کا اسرائیل دورہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ ان کے رشتے اور اسرائیلی پارلیمنٹ میں دیا گیا ان کی تقریر ان سب کا تذکرہ عرب میڈیا میں خوب ہورہا ہے ۔عر ب میڈیا اس دورہ کو صرف بھارت -اسرائیل رشتوں کے طور پر نہیں بلکہ بڑے علاقائی سبھی اسباب کے طور پر پیش کررہے ہیں ۔کئی عرب تبصرہ نگاروں نے ذکر کیا ہے کہ یہاں تاریخی طور سے بھارت ٹو نیشن تھیوری کی بات کہتا ہے اور فلسطینی خطہ میں امن کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے وہیں مودی کی لیڈر شپ میں وہ اسرائیل کے بےحد قریب آچکا ہے ۔عرب میڈیا اس بات پر بھی توجہ دے رہا ہے کہ بھارت کا موجودہ موقف اسرائیل اور فلسطینیوں کے رشتوں میں اس کے روایتی موقف سے الگ سمت میں جارہا ہے ۔جہاں پہلے بھارت کی خارجہ پالیسی میں اس بات پر زور تھا کہ اسرائیل اور فلسطینی اہمیت اور دونوں سے ہی برابر دوری بنائے رکھے گا ۔وہیں اب بھارت کی خارجہ پالیسی کے مرکز میں مفاد پر مبنی رشتے زیادہ اہم ہو گئے ہیں ۔عرب میڈیا کے مطابق بھارت اپنے پڑوسیوں سے کشیدگی بھرے رشتوں اور اپنی فوجی ضرورتوں کے پیش نظر اب وہ اسرائیل کے زیادہ نزدیک جارہا ہے ۔عرب میڈیا نے وزیراعظ...

ٹرمپ کی دھمکی ،رمضان کی رونق !

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حملے کی مسلسل دھمکیوں کے درمیان ایران میں رمضان کو لے کر جوش میں کوئی کمی نہیں نظر آرہی ہے ۔مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ایران کے اندر عام زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے ۔ادھر ایران سے ملحق علاقے میں امریکی فوج کی مسلسل بڑھتی تعیناتی اب صرف اشارہ دینے تک محدود نہیں لگتی بلکہ یہ حقیقت میں جنگ کے واضح اشارے ہیں ۔امریکی جنگی بیڑا یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس زیرلڈ فورڈ کے ایرانی آبی خطہ کے پاس پہنچنے سے حالات سنگین بنے ہوئے ہیں اس کے علاوہ سینکڑوں امریکی فائٹر جیٹ و دیگر ساز وسامان بھی اس علاقہ میں پچھلے کچھ دنوں سے لائے گئے ہیں ۔اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ -اسرائیل یہاں کئی سطحوں پر فوجی کاروائی کے لئے متبادل تیار کررہا ہے ۔ایران میں یہ نظریہ مضبوطی ہوتا جارہا ہے کہ ٹرمپ اپنی بات منوانے کے لئے فوجی دباؤ بنا رہا ہے ۔جنگ کی آہٹ کے باوجود ایران میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نظر آرہا ہے ۔مساجد میں خصوصی نماز و افتار پارٹیاں ، تراویح صدقہ و فطرہ اہمیت سے بٹ رہا ہے ۔اسلای رپبلکن نیوز ایجنسی نے رمضان کے موقع پر صدر مسعود زیششکین کا پیغام نشر کیا ہے ۔انہوں ن...

فیصلہ ٹرمپ کےٹیرف منسوخ کرنے کا !

ماننا پڑے گا کہ امریکہ میں آج بھی جمہوریت زندہ ہے ۔آئین بالاتر ہے ۔امریکہ کی سپریم کورٹ نے دکھا دیا کہ وہ آئین کی حفاظت کرنے میں کسی کے سامنے نہ تو جھکنے کو تیار ہے اور نہ ہی کسی دباؤ میں آئے گی چاہے وہ امریکہ کے صدر کیوں نہ ہوں ۔امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز فیصلہ سنایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ورلڈ ٹیرف غیر آئینی ہے۔ امریکہ کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جون رابرٹرس نے فیصلہ 6/3کی اکثریت سے دیا یعنی 6 ججوں نے ٹیرف کو ناجائز بتایا اور 3 اس سے غیر متفق تھے ۔ٹرمپ امریکی ٹریڈ معاہدوں کو نئے سرے سے کرنے کے لئے دنیا بھر میں ٹیرف کا دباؤ بنانے کے لئے استعمال کررہے تھے۔ یہ پہلی بار ہے جب سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے دوسرے عہد کی کسی پالیسی کو فیصلہ کن طور سے منسوخ کیا ہے ۔دیگر سیکٹروں میں عدالت کے کنزرویٹو اکثریت نے اب تک ٹرمپ کو نگراں پاور س کے وسیع استعمال کی چھوٹ دی تھی ۔اس بار سپریم کورٹ میں چھ ججوں کی اکثریت تین کنزرویٹو اور تین لبرل نے کہا کہ بغیر کانگریس (امریکی پارلیمنٹ ) کی واضح اجازت کے اتنے وسیع ٹیرف لاگو کر ٹرمپ نے حد پار کی ہے۔ عدالت نے ٹرمپ کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ 1977 کا قانون...

اجیت پوار طیارہ حادثہ!

مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت دادا پوار کے طیارہ حادثہ کے قریب 20 دن بعد ان کے بیٹےنے چُپّی توڑی ۔چھوٹے بیٹےجے پوار نے ایک بے حد جذباتی پوسٹ کے ذریعے جانچ پر سنگین سوال کھڑے کئے ہیں ۔انہوں نے سیدھے طور پر کہا کہ طیارہ کا بلیک باکس اتنی آسانی سے ضائع ہونے والی چیز نہیں ہے ۔بتادیں کہ کسی بھی طیارہ حادثہ میں جب سب کچھ ضائع ہوجاتا ہے تو اس کے اندر بلیک باکس نہ تو آگ سے اور نہ پانی سے زمین پر گرنے سے ،دھماکہ سے ضائع نہیںہوتا ۔20 برسوں تک وہ محفوظ رہتا ہے ۔جے پوار نے صاف طور پر کہا ہے کہ بلیک باکس اتنی آسانی سے ضائع ہونے والی چیز نہیں ہے۔ جیسا کہ دعویٰ کیاجارہا ہے ۔جنتا کو سچ جاننے کاحق ہے ۔جے پوار نے سسٹم کو کٹھ گھرے میں کھڑا کیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ طیارہ حادثہ میں بلیک باکس آسانی سے ضائع نہیں ہوسکتے۔مہاراشٹر کی عوام کو اس دل دہلا دینے والے حادثہ کا پورا اور صاف ستھرا اور بلا تنازعہ سچائی جاننے کا حق ہے ۔جے پوار نے جہاز کی کمپنی وی ایس آر کے خلاف فوراً سخت قدم اٹھانے کی مانگ کی ہے ۔اس کمپنی کے اڑانے اور کنٹرول کرنے پر فوری پابندی لگائی جانی چاہیے ۔اگر جہازوں کے دیکھ بھال میں ہوئی متع...