Translater

08 اگست 2026

کیا پاکستان اندر سے ٹوٹ رہا ہے ؟



پاکستان اس وقت سنگین اندرونی جدوجہد ،سیاسی عدم استحکام اور صوبوں میں مسلح بغاوت جیسی سنگین اندرونی چنوتیوں سے لڑرہا ہے ۔فوج کے بڑھتے دخل ، اقتصادی بحران اور دہشت گردوں کے تابڑتوڑ حملوں کے سبب دیش کے اندر خانہ جنگی جیسے حالات بنے ہوئے ہیں ۔پاکستان کے 4 صوبے ہیں ان میں سے بلوچستان صوبہ میں علیحدگی پسند بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) نے بغاوت کا جھنڈا بلند کیا ہوا ہے ۔خیبر پختونخواہ صوبہ میں افغان طالبان کا دبدبہ بڑھتا جارہا ہے ۔آئے دن طالبان کے حملوں سے یہاں پاک فوج کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں ۔پی او کے میں پاکستانی فوج کی بربریت پر بغاوت کی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔چلیے تفصیل سے ساری صورتحال کو بتاتے ہیں ۔بلوچستان پاک کا سب سے بڑا پھیلا ہوا تقریباً 45 فیصدی سب سے بڑا خطہ ہے ۔ایران سے اس کی سرحد لگتی ہے ۔بلوچستان کے بی ایل اے لڑاکے الگ دیش کی مانگ کررہے ہیں ۔حالت یہ ہے بلوچ لڑاکوں اور پستو (پٹھان ) باغیوں کا بلوچستان صوبہ میں تقریباً 70 فیصد حصے میں قبضہ ہوچکا ہے ۔اصلی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی سرکار پولیس اسٹیشن کھلا رخ رکھ سکتی ہے۔ سارے صوبہ پر ٹریفک چلاسکتی ہے بازار اور کاروبار بحال رکھ سکتی ہے اور لوگوں کو بغیر ڈر کے سفر کرنے کی سیکورٹی دے سکتی ہے ؟ خیبر پختونخواہ پاکستان کا سرحدی علاقہ ہے ۔ڈورنٹ لائن پاک اور افغانستان کو الگ کرتی ہے ۔ افغانستان میں طالبان سرکار کے پانچ سال میں خیبر کے زیادہ تر علاقہ میں انہیں کا دبدبہ ہے ۔خیبر میں پاک سرکار کا قانون نہیں بلکہ طالبان کا شرعی قانون چلتا ہے ۔دراصل اس علاقہ میں تقسیم کے وقت سے ہی قبائلی نظام لاگو رہا ہے ۔سوات اور سیدو چنگورا اور مردن میں لویا جرگا کے ذریعے قانون چلتا ہے ۔یہ جرگا اصل میں شرعیہ قانون کو لاگو کرتی ہے ۔افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) تنظیم کو اپنے اڈوں میں پناہ دیتا ہے ۔عمران خان کی سرکار نے 2021 میں ٹی ٹی پی کے ساتھ صلح کی کوشش کی لیکن عمران کی گدی جاتے ہی ٹی ٹی پی نے خیبر میں اپنےدبدبہ کواور بڑھا لیا ۔خیبر کے وزیرستان میں پاکستان فوج کئی فوجی کاروائیاں کر چکی ہے ۔لیکن یہاں ابھری ٹی ٹی پی قابض ہے ۔آئے دن ٹی ٹی پی کے حملوں کے سبب اسکول اور کالج بند رہتے ہیں ۔پنجاب اور سندھ کے اصل باشندے نگراں خیسر میں اپنی پوسٹنگ نہیں چاہتے ۔پاکستان کے قبضہ والے کشمیر (پی او کے) اور دیگر علاقوں میں کچلنے والی پالیسیوں اور اختیارات کی عدولی کو لے کر جنتا میں بھاری ناراضگی اور زبردست مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔بڑی تعداد میں مظاہرین مارے جا چکے ہیں ۔اگر ہم سیاسی پش منظر کی بات کریں تو سرکار فوج کےبیچ اقتدار کے تجزیوں اور حالیہ آئینی ترامیم کو لے کر عدلیہ اور سیاسی گلیاروں میں تلخ کھینچ تان اور بغاوت کا ماحول ہے ۔کل ملا کر پاکستان کے اندرونی حالات بہت خراب ہو رہے ہیں ۔اگر یہی صورتحال رہی تو پاکستان کے کئی ٹکڑوں میں بٹنے کے امکان سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔
(انل نریندر)

07 اگست 2026

کیا پاکستان اندر سے ٹوٹ رہا ہے ؟


پاکستان اس وقت سنگین اندرونی جدوجہد ،سیاسی عدم استحکام اور صوبوں میں مسلح بغاوت جیسی سنگین اندرونی چنوتیوں سے لڑرہا ہے ۔فوج کے بڑھتے دخل ، اقتصادی بحران اور دہشت گردوں کے تابڑتوڑ حملوں کے سبب دیش کے اندر خانہ جنگی جیسے حالات بنے ہوئے ہیں ۔پاکستان کے 4 صوبے ہیں ان میں سے بلوچستان صوبہ میں علیحدگی پسند بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) نے بغاوت کا جھنڈا بلند کیا ہوا ہے ۔خیبر پختونخواہ صوبہ میں افغان طالبان کا دبدبہ بڑھتا جارہا ہے ۔آئے دن طالبان کے حملوں سے یہاں پاک فوج کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں ۔پی او کے میں پاکستانی فوج کی بربریت پر بغاوت کی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔چلیے تفصیل سے ساری صورتحال کو بتاتے ہیں ۔بلوچستان پاک کا سب سے بڑا پھیلا ہوا تقریباً 45 فیصدی سب سے بڑا خطہ ہے ۔ایران سے اس کی سرحد لگتی ہے ۔بلوچستان کے بی ایل اے لڑاکے الگ دیش کی مانگ کررہے ہیں ۔حالت یہ ہے بلوچ لڑاکوں اور پستو (پٹھان ) باغیوں کا بلوچستان صوبہ میں تقریباً 70 فیصد حصے میں قبضہ ہوچکا ہے ۔اصلی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی سرکار پولیس اسٹیشن کھلا رخ رکھ سکتی ہے۔ سارے صوبہ پر ٹریفک چلاسکتی ہے بازار اور کاروبار بحال رکھ سکتی ہے اور لوگوں کو بغیر ڈر کے سفر کرنے کی سیکورٹی دے سکتی ہے ؟ خیبر پختونخواہ پاکستان کا سرحدی علاقہ ہے ۔ڈورنٹ لائن پاک اور افغانستان کو الگ کرتی ہے ۔ افغانستان میں طالبان سرکار کے پانچ سال میں خیبر کے زیادہ تر علاقہ میں انہیں کا دبدبہ ہے ۔خیبر میں پاک سرکار کا قانون نہیں بلکہ طالبان کا شرعی قانون چلتا ہے ۔دراصل اس علاقہ میں تقسیم کے وقت سے ہی قبائلی نظام لاگو رہا ہے ۔سوات اور سیدو چنگورا اور مردن میں لویا جرگا کے ذریعے قانون چلتا ہے ۔یہ جرگا اصل میں شرعیہ قانون کو لاگو کرتی ہے ۔افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) تنظیم کو اپنے اڈوں میں پناہ دیتا ہے ۔عمران خان کی سرکار نے 2021 میں ٹی ٹی پی کے ساتھ صلح کی کوشش کی لیکن عمران کی گدی جاتے ہی ٹی ٹی پی نے خیبر میں اپنےدبدبہ کواور بڑھا لیا ۔خیبر کے وزیرستان میں پاکستان فوج کئی فوجی کاروائیاں کر چکی ہے ۔لیکن یہاں ابھری ٹی ٹی پی قابض ہے ۔آئے دن ٹی ٹی پی کے حملوں کے سبب اسکول اور کالج بند رہتے ہیں ۔پنجاب اور سندھ کے اصل باشندے نگراں خیسر میں اپنی پوسٹنگ نہیں چاہتے ۔پاکستان کے قبضہ والے کشمیر (پی او کے) اور دیگر علاقوں میں کچلنے والی پالیسیوں اور اختیارات کی عدولی کو لے کر جنتا میں بھاری ناراضگی اور زبردست مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔بڑی تعداد میں مظاہرین مارے جا چکے ہیں ۔اگر ہم سیاسی پش منظر کی بات کریں تو سرکار فوج کےبیچ اقتدار کے تجزیوں اور حالیہ آئینی ترامیم کو لے کر عدلیہ اور سیاسی گلیاروں میں تلخ کھینچ تان اور بغاوت کا ماحول ہے ۔کل ملا کر پاکستان کے اندرونی حالات بہت خراب ہو رہے ہیں ۔اگر یہی صورتحال رہی تو پاکستان کے کئی ٹکڑوں میں بٹنے کے امکان سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔
(انل نریندر)

06 اگست 2026

پھر پلٹے ٹرمپ : ایران میں ذہنی جنگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کی دھمکی کےبعد ایک بار پھر پلٹ گئے ہیں ۔ٹرمپ کی یہ تو پلٹنے کی عادت بن گئی ہے ۔یہ4تھی مرتبہ بار ہے جب ٹرمپ دھمکی دے کر پلٹے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اب ان کی دھمکی کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔ان کا کھلے عام مذاق اڑایاجاتا ہے ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مغربی ایشیا کے ساتھی ملکوں نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کے لئے ایک معاہدے کی شکل میں لائن پر رضامندی بنا لی ہے۔ فی الحال وہ پانچ ماہ سے جاری اس لڑائی میں ایران پر نئے فوجی حملے کا حکم نہیں دیں گے ۔اُدھر ،ایران نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو ذہنی جنگ بتایا ہے۔ ٹرمپ نے سنیچر کو کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں ہرمز جل ڈروم وسط کو فوراً پوری طرح کھولنا و اس کے نیوکلائی خطرے کا خاتمہ شامل ہوگا ۔کہاں اس درخواست کی بنیاد پر میں نے مستقبل کے مفاد میں حملوں کو روکنے کی رضامندی دی تھی بشرطیکہ جلد ہی کوئی سمجھوتہ ہو سکے ۔ٹرمپ نے سمجھوتے میں اسرائیل کی رضامندی کی بات بھی کہی ہے ۔کیا ٹرمپ ایران پر نیوکلیائی حملہ کرنے کے بارےمیں سوچ رہا ہے ؟ جب ٹرمپ یہ کہتے ہیں کہ میں نے دنیا کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے سے بچنے کے لئے فی الحال ایران پر حملے کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نکالیں کہ ٹرمپ ایران پر ایٹم بم مارنے کی سوچ رہے ہیں ؟ ویسے بھی ٹرمپ اتنی بار اپنے بیانوں سے پلٹے ہیں کہ اب انہیں شایدہی کوئی سنجیدگی سے لیتا ہو؟ ایران نے ٹرمپ کے حملے ٹالنے کے فیصلے کا مذاق بھی اڑایا ہے ۔ایرانی میڈیا نے ٹرمپ کے دعووں کو جھوٹ بتاتے ہوئے لکھا کہ تہران میں کبھی حملے روکنے کی اپیل نہیں کی ۔ایرانی میڈیا نے ٹرمپ کے دعوؤں کو جھوٹا بتاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی میزائلوں کی کمی اور بڑھتے دباؤ کے سبب ٹرمپ پیچھے ہٹے ہیں ۔ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا امریکہ نے اپنی کمزور ی چھپانے کے لئے پوری کہانی گھڑی ہے ۔ٹرمپ کی ہوا ایک بار پھر ایران نے نکال دی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں پہلے بھی ٹرمپ دھمکی دے کر اپنے قدم پیچھے کر چکے ہیں ۔ایران کی مرف سرکاری نیوز ایجنسی فارم نے ٹرمپ پر طنز کرتے ہوئے لکھا کے بے وقوف ٹرمپ کی ساری ہوا نکل گئی ہے ۔وہیں مہر نیوز ایجنسی نے کہا کہ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی کھوکھلی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ کر اسے دنیا کے سامنے احسان کی طرح پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ایجنسی مہر نے فوجی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج پوری طرح چوکس ہے اور کسی بھی صورتحال کا جواب دینے کےلئے تیار ہے ۔ایجنسی نے ٹرمپ کے دعوؤں کو ایک اور جھوٹ بتایا ۔ایران نے امریکہ کو ایک بار پھر وارننگ دی ہے ایران نے کہا کہ اگر امریکی فوج نے ایرانی ٹھکانوں پر نئے حملے کئے تو وہ اس کا زوردار جواب دےگا اس سے پورے مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ جائے گی ۔یہ وارننگ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد آئی ہے ، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ تہران کے ساتھ بات چیت سے ان کا بھروسہ کم ہورہا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ ان پر حملہ کرے گا ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے فوجی چیف عاصم منیر وترکیہ کے وزیر خارجہ حکن فدان اور سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان کے ساتھ الگ الگ فون پر بات چیت کے ذریعے اس کی جانکاری دی ۔ٹرمپ ایک بار پھر پلٹ گئے ۔
(انل نریندر)

04 اگست 2026

امریکہ میں 7 جگہ حملے کس نے کئے ؟

امریکہ کے 7 ریاستوں میں ایک کے بعد ایک زبردست اٹیک ہوئے ہیں یہ حملے سیدھے اس لائف لائن پر ہوئے ہیں ،جس کی درد سے عام جنتا کراہ اٹھی ۔اس حملے کے بعد ٹرمپ کا ایسا حال ہو گیا ہے کہ وہ ایران کا نام بھی نہیں لے پارہے ہیں ۔ٹرمپ الٹے اپنے ہی لوگوں کو بدنام کرنے میں لگ گئے ہیں ۔لیکن اپنے سب سے بڑے دشمن کی چالاکی دنیا کے سامنے یہ قبول نہیں کر پارہے ہیں ۔ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکہ میں اچانک کچھ ایسا ہوگیا ہے جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے پسینے چھڑا دیے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے طاقتور ملک کی چھاتی پر ایک نہیں دو بلکہ ایک کے بعد ایک پورے سات بڑے حملے ہوئے ہیں ۔یہ حملے کسی عام جگہ نہیں ہوئے بلکہ سیدھے امریکی عوام کی لائف لائن پر ہوئے ہیں ۔شبہ ہے کہ اس پورے کھیل کے پیچھے امریکہ کا سب سے بڑا دشمن ایران ہی ہے ۔لیکن ٹرمپ کھلے عام اس کا نام لے رہے ہیں ۔اگر ٹرمپ نے دنیا کے سامنے یہ مان لیا کہ حملہ ایران نے ہی کیا ہے تو ثابت ہو جائے گا کہ تکنیکی معاملے میں وہ امریکہ سے آگے نکل چکا ہے ۔دراصل یہ حملے امریکہ کی پانی سپلائی کرنے والی سب سے اہم پائپ لائن اور پلانٹس پر ہوئے ہیں ۔اس سرکاری انفراسٹرکچر پر سات جگہ سے سائبر اٹیک کئے گئے ۔حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کئی ریاستوں میں پانی سسٹم کو بچانے کے لئے ڈومیٹک سسٹم بند کرکے ہاتھوں سے کام سنبھالنا پڑا۔ اب اس پورے کھیل میں سب سے بڑا جھٹکا امریکی سیاست اور ڈونلڈ ٹرمپ کو لگا ہے ۔کیوں کہ جب دنیا کی نظریں ایران پر ٹکی رہی ہیں تب ٹرمپ سیدھے طور پر ایران کا نام لینے سے بچ رہے ہیں۔ اس بڑے سنسنی خیز سائبر حملے کی پہلی منیسوٹا اسٹیٹ سے لگی 26 اور 27 جولائی کے درمیان یہاں سے 30 سے زیادہ کمیونٹی واٹر سسٹم کو ہیکرس نے اپنا نشانہ بنایا ۔منے سوٹا آئی ٹی سروس نے جب آناً فاناً میں جانچ شروع کی تو پتہ چلا کہ کسی نے جان بوجھ کر پانی کی سپلائی لائن کنٹرو ل کرنے والے سسٹم کا ایکسس ہتھیا لیا تھا ۔ترجمان ایملی نیمر کا کہنا تھا کہ معاملے کی جانچ بہت تیزی سے چل رہی ہے ۔جس طریقہ سے اس معاملے کو انجام دیا گیا وہ ٹھیک ویسا ہی ہے جیسا ہمارے فیڈرل پوٹرلس نے پہلے کریٹیبل انفراسٹرکچر پر ہوئے حملوں میں دیکھا تھا ۔ہیکرس نے بہت ہی چالاکی سے پانی کے پلانٹس میں لگے پروگرام ویل لیکج کنٹرولرس کو اپنا شکا ر بنایا ۔امریکہ کی جانچ ایجنسیاں مان رہی ہیں کہ اس حملے کا پیٹرن ایران کے پرانے سائبر حملوں سے کافی ملتا جلتا ہے لیکن سب سے بڑا ڈرامہ تب شروع ہوا جب صدر ڈونلڈ  ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ۔ٹرمپ نے اس خوفناک حملے کا قصور سیدھے ایران پر ڈالنے کے بجائے اپنے ہی سسٹم پر پھوڑ دیا ۔کابینہ میٹنگ کے دوران ٹرمپ نے ایران کا بچاؤ کرتے جیسا بیان دیا اور کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ منیسوٹا کے 30 واٹر پلانٹس پر جو حملہ اس کے پیچھے ایران ہے ۔مجھے ایسا بالکل نہیں لگتا میں اس کے لئے منیسوٹا کے ناکام انتظامیہ اور وہاں کے کرپٹ گورنر کو ذمہ دار مانتاہوں ۔ایران کے پاس منیسوٹا کےبارے میں سوچنے سے بہت بڑے اشوہیں ۔ٹرمپ کے اس رویہ سے ہر کوئی حیران ہے ۔جہاں ایکسپرٹرس اسے سیدھے طور پر ایران سے جوڑ رہے ہیں وہی ٹرمپ ایران کا نام لینے سے کترا رہے ہیں ۔اور اپنے ہی حکام کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں اس پر منیسوٹا کے گورنر نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو اچھی طرح پتہ ہے کہ حملہ آور کون ہے وہ سچائی سے بھاگ رہے ہیں ۔
(انل نریندر)

01 اگست 2026

اور اب ایران بنام یوکرین

مغربی ایشیا کی دو بڑی لڑائیاں اب ایک دوسرے سے وابستہ دکھائی دے رہی ہیں ۔ایک طرف پچھلے کئی ماہ سے امریکہ ایران کے درمیان کشیدگی اور فوجی کاروائی چل رہی ہے وہیں اب دوسری طرف روس اور یوکرین کے درمیان جنگ پانچویں برس میں داخل ہو چکی ہے ۔اب ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے ان دونوں لڑائیوں کو آپس میں جوڑدیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر نئی تشویشات پیدا کر دی ہیں ۔تازہ تنازعہ کیسپیئر ساگر میں ایک ایرانی جہاز پر ہوئے حملے سے شروع ہو ا ۔یوکرین پر الزام ہے کہ اس نے کیپسین ساگر میں ایک ایرانی کمرشیل جہاز کو نشانہ بنایا ۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز روس اور ایران کے درمیان ہتھیاروں اور فوجی سامان کی سپلائی میں استعمال کیاجارہا تھا اسی وجہ سے اس جہاز پر حملہ کیا گیا ۔اس واقعہ کے بعد ایران نے سخت ناراضگی جتائی ہے۔ ایران کی راجدھانی تہران میں یوکرین کے سفیر کو طلب کیا اور سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ دے ڈالی ۔ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے یوروپی فیڈریشن کی خارجہ پالیسی چین کیلس سے بات کی اور اس حملے کے خلاف اپنی ناراضگی جتائی ۔انہوں نے یوکرین کے خلاف سخت کاروائی کی بھی مانگ کی ۔کیسپین ساگر میں کسی جہاز پر اس طرح کا حملہ پہلی بار ہوا ہے۔ کیسپین ساگر ایک ایسا سمندری خطہ ہے جو چاروں طرف سے زمین سے گھرا ہوا ہے ۔اس کے نارتھ ویسٹ میں روس اور ساؤتھ میں ایران ، مشرق میں قزاکستان اور ترکمانستان و مغرب میں آذر بائیجان واقع ہے ۔یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد روس اورایران کے رشتے اور مضبوط ہوئے ہیں ۔دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ،تکنیکی اشتراک اور ڈیفنس سیکٹر میں رابطہ بڑھا ہے ۔اسی وجہ سے لمبے عرصے سے یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ کیسپین ساگر کے راستے روس اور ایران کے درمیان فوجی سامان کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ۔حالانکہ اس بارے میں کبھی کھلے طور سے کوئی صاف تسلیم نہیں کی گئی ۔ایران کا کہنا ہے کہ جس جہاز پر حملہ ہوا وہ ایک جنرل کمرشیل جہاز تھا ۔ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں ایک ملاح کی موت ہو گئی جبکہ ایک دیگر ملاح زخمی ہوگیا تھا ۔حملے کے بعد صدر زیلنسکی نے شوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جہاز روس اور ایران کے درمیان فوجی سامان پہنچانے کا کام کررہا تھا ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس لمبے عرصہ سے ایران کی طر ف سے دستیاب کرائے گئے شہید نامی ڈرون کا استعمال یوکرین کے خلاف کررہا تھا ۔لڑائی کے آغاز کے مرحلے میں روس نے بڑی تعداد میں ایرانی ڈرون کا استعمال کیا تھا ۔جس سے اسے جنگ میں بڑھت حاصل کرنے میں مدد ملی تھی ۔زیلنسکی نے صرف جہاز پر حملے کا بچاؤ ہی نہیں کیا بلکہ اس پر ایک اور سنگین الزام بھی لگا دیا انہوں نے دعویٰ کیاکہ روس نے ایران کو خلیج خطہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ تصویریں اور خفیہ جانکاری دستیاب کرائی ہے ۔ان کے مطابق ماہ جولائی میں روسی سیٹلائٹ بحرین ،جارڈن اور کویت میں قائم امریکی فوجی ٹھکانوں کی نگرانی کررہے ہیں ۔زیلنسکی کا الزام ہے کہ ایران کے ذریعے امریکی اڈوں پر کئے گئے کچھ پختہ حملوں کے پیچھے بھی روس کی طرف سے دی گئی خفیہ جانکاری کا رول ہوسکتا ہے ۔یوکرین برائے نام ہے کہ اسے صرف یوکرین نے اس میں صرف روس صرف یوکرین میں جنگ نہیں لڑرہا ہے بلکہ پورے خطہ میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کررہا ہے ۔
انل نریندر

30 جولائی 2026

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یردن اور عراق میں بھی حملے کررہا ہے ۔چونکہ ایران یردن اور عراق میں بھی حملے کررہا ہے ۔ایران نے اس مرتبہ صرف امریکی بیس پر موجود ہی ہتھیاروں کو نشانہ بنایا ہے ۔بلکہ اگر خبر صحیح ہے تو ان حملوں میں امریکی فوجیوں کے مرنے اور زخمی ہونے کی بات ایران کررہا ہے ۔ایران کی فوج نے فی الحال حملے روک دیے ہیں نہیں تو وہ مسلسل 12-13 دن سے ہر روز ایران پر بم باری کررہا تھا ۔امریکہ نے تو ایک بار پھر بھاری بی بمباروں کا بھی استعمال کیا ۔ایران نے بھی تابڑ توڑ جوابی حملے کئے ۔جب امریکہ نے حملے روکے تو ایران نے بھی جوابی کاروائی روک دی۔ کہا جارہا ہے کہ امریکہ کے ایئر ڈیفنس میزائلوں کا اسٹاک کم ہورہا ہے جس سے عرب خطہ میں موجود امریکی اڈوں کی حفاظت کرنا مشکل ہوسکتا ہے ۔اس وجہ سے ٹرمپ کو پیچھے ہٹنا پڑاہے ۔دراصل ایران نے جنگ کی شروعات سے ہی سستے ڈرون سے لگاتارحملے کرنے کی حکومت عملی بنائی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکی پیڈوایئر میزائلوں کا استعمال بہت زیادہ کرنا پڑا اور چند دنوں میں ہی میزائلوں کا اسٹاک کم ہو گیا ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ، امریکہ پچھلے 13 دنوں سے اپنے تمام اڈوں کی حفاظٹ کے لئے پیڈوایئر میزائلوں کا استعمال کررہا تھا ۔13 دنوں کی جنگ کے بعد اب کہا جارہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس صرف 900 سے ہزار کے بیچ میزائلیں ہی بچی ہیں ۔دوسری طرف امریکی کمپنیاں ہر ماہ صرف 20 میزائل ہی بنارہی ہیں ۔دوسری طرف ایران نے اپنی میزائلیں اور ڈرون کا اسٹاک مسلسل بڑھا لیا ہے ۔اور وہ نئی میزائلوں اور ڈرونوں کو بھی بہت تیزی سے بنا رہا ہے ۔اب اگر ایران کی جانب سے اور حملے ہوتے ہیں تو امریکہ کی بچی کچی میزائلیں بھی ختم ہو جائیں گی ۔یہ وارننگ امریکہ کی سینٹکام کمپنی نے بھی ٹرمپ کو دی ہے ایسے میں امریکہ کو اپنے بیس کی حفاظت کی فکر ہے ۔ایران کے حملوں سے بھی امریکی ایئر ڈیفنس کو بھاری نقصان ہوا ہے ۔ حملوں کے دوران امریکی بیس پر 7 کمانڈ اینڈ کنٹرو ل سنٹر تباہ ہو چکے ہیں ۔اس کے علاوہ 6 پیٹیئر ایئر ڈیفنس راڈار تباہ ہو چکے ہیں ۔امریکی حملوں کی وجہ سے 3 ای پی ایس راڈار سسٹم گنوا چکا ہے ۔حملوں میں 5 لمبی دوری کے راڈار بھی تباہ ہو گئے ہیں ۔ایک طرف ہتھیاروں کی کمی ہے دوسری طر ف نقصان کی وجہ سے جنگ کا بڑھتا خرچ بھی ٹرمپ پر دباؤ بنا رہا ہے حملوں کے دوران امریکہ کا ایک ایف -15 جہاز تباہ ہو چکا ہے ایک ایف پی -8 جہاز بھی ضائع ہو چکا ہے ۔ایرانی حملوں کی وجہ سے سی -17 کارگو جہاز جل گیا ہے ۔ہوا میں تیل بھرنے والے جہاز بھی تباہ ہو گئے ہیں حملوں کے دوران 4 ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوئے ہیں ۔13 دنوں میں امریکہ کو اس لئے بھی بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران جارڈن اور عراق میں بھی حملے کرتا رہا ۔جس نے اس بار صرف امریکی بیس پر موجود ہتھیاروں جہاز وں کو نشانہ بنایا بلکہ دعویٰ کیاجارہا ہے زمین کی سیٹلائٹ کی مدد سے ایران نے پختہ نشانے سے حملہ کیا ۔کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ صرف ایئر ڈیفنس سسٹم پر ہی حملے نہیں ہوئے بلکہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے کئی اڈوں پر بھی  سیدھے حملے کئے تاکہ جو وہ خبریں دے رہے تھے ان کو روکا جاسکے ۔ایران کے حملوں میں امریکہ کے نقصان کا گراف بڑھتا گیا ۔ایران نے امریکی ایئرڈیفنس کو کھالی کرنے کی حکمت عملی کو آگے بڑھایا ایرا ن نے جہازوں کے کیمپ اور ہینگرس کو نشانہ بنایا ۔بحرین میں ہیلی کاپٹر مینٹننس سنٹر کو بھی تباہ کر دیا ۔ایران نے امریکی بیس پر 12 تیل ڈپو کو بھی تہس نہس کر دیا ۔سب سے بڑا دعویٰ تو ایران کے اربل بیس کو لے کر ہے ایرانی فوج کا دعویٰ ہے مسلسل حملوں کی وجہ سے عراق کے اربل میں امریکہ کا پورا ڈھانچہ ہی تباہ ہو چکا ہے اورا یران کے کئی جہازوں کی حملہ صلاحیت کافی حد تک ختم ہو چکی ہے ۔ یونہیں نہیں امریکہ کے صدر نے جنگ بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی باتوں پر اب شاید کوئی یقین کرے ؟ اس جنگ روکنے کے پیچھے بھی کوئی نیا کھیل ہوسکتا ہے ۔لیکن ایران ہر صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے ۔
(انل نریندر)

28 جولائی 2026

اور اب سعودی حوثیوں میں جنگ

مشرقی وسطیٰ میں ایک طرف امریکہ ایران کی جنگ تھم نہیں رہی ہے وہیں اب نیا مورچہ کھلتا نظر آرہا ہے ۔یہ ہے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان ۔سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سیدھا ٹکراؤ شروع ہو چکا ہے جمعہ کے روز لال ساگر میں ایک سعودی مال بردار جہاز پر حملہ ہوا جس کےبعد مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے ۔حملے کے کچھ ہی دیر بعد سعودی عرب نے حوثیوں کے کنٹرول والے یمن کے حودیدہ شہر پر جوابی حملے کئے ۔بتایاجارہا ہے کہ امریکی جنگی جہاز ایف -35 سے یہ حملے کئے گئے ۔اس کے جواب میں حوثیوں نے سعودی عرب کو بڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے جہنم کے دروازے کھول دیے ہیں حوثی باغیوں نے حالیہ حملے میں سعودی عرب کی فوجی کاروائی اور اپنی اعلانیہ بحریہ ناکابندی کا جواب بتایا ہے ۔ان کے مطابق سعودی عرب سے جڑے جہازوں کو اس لئے نشانہ بنایاگیا کیوں کہ وہ سعودی بندرگاہوں کے لئے مال ڈھورہے تھے یا حوثیوں کی اعلانیہ ناکابندی کی خلاف ورزی کررہے تھے بتادیں کہ حوثی باغی لمبے عرصہ سے سعودی عرب کو یمن جنگ کا اہم فریق مانتے ہیں ۔ان کا الزام ہے کہ سعودی کے فوجی کاروائیوں سے یمن میں بھاری تباہی ہوئی ہے اس لئے وہ سعودی عرب کے اقتصادی اور فوجی مفادات کو نشانہ بنارہے ہیں ۔لال ساگر بتادیں کہ دنیا کے سب سے اہم ترین سمندری تجارت راہداریوں میں سے ایک ہے ۔تیل ٹینکروں پر حملوں سے نہ صرف سعودی عرب کے ایکسپورٹ پر اثر پڑتا ہےبلکہ عالمی تیل سپلائی اور قیمتوں پر بھی دباؤ بنتا ہے حالیہ حملوں کے بعد کچے تیل کےداموں میں بھی اچھال دیکھا گیا ہے ۔دراصل ، یمن میں سرگرم حوثی باغی خاص طور سے دیش کے اقلیتی شہر حسین الحوثی کے نام پر پڑا ۔حوثی خود کو انصار اللہ یعنی ایشور کے حامی کہتے ہیں ۔سال 2003 میں امریکی رہنمائی میں عراق پر حملے کے بعد حوثی تحریک نے امریکہ اور اسرائیل مخالف رخ کی جانب موڑ دیا ۔تنظیم کے حمایتیوں کے درمیان امریکہ اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے گئے جو آج بھی ان کی پہچان کا حصہ مانے جاتے ہیں حوثی تنظیم خود کو حماس اور حزب اللہ جیسے گروپوں کے ساتھ مل کر ایران حمایتی ایکسس آف رسسٹنس یعنی مذاہمت کا پہیے کا حصہ مانتے ہیں ۔اُدھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثی باغیوں کو خبردار کیا کہ اگر جہازوں پر حملے جاری رہے تو ان کے خلاف بڑی  فوجی کاروائی کی جائے گی ۔حوثی باغیوں کے حملے سے مشرقی وسطیٰ میں ایک نیا مورچہ کھلنے کا امکان بڑھ گیا ہے ۔عالمی اقتصادی نظام کو پہلے ہی جھنجھوڑ کر رکھا ہے ۔اس تازہ لڑائی کے سبب دنیا بھر میں ایندھن سمیت دیگر چیزوں کی قیمتوں میں تیزی سے اُدھال آیا ہے وہیں ، خلیج فارس میں کشیدگی اور گہری ہو گئی ہے کیوں کہ امریکہ اور ایران سیاسی طور سے اہم ترین ہرمز آبی راستے پر دباؤ اور کنٹرول کو لے کر آمنے سامنے ہیں ۔اے پی کے مطابق سبا نیوز نے حوثیوں کے حوالے سے کہا کہ جمعرات کو لال ساگر میں سعودی عرب کے دو جہازوں این سیلیا اور لابھلا پر ڈرون اور میزائل سے حملے کئے گئے جس سے دونوں میں آگ لگ گئی ۔حوثی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے جوسالوں پرانی ناکابندی کر رکھی ہے اس کی مخالفت میں سعودی جہازوں کے لئے ناکابندی کر دی گئی ہے ۔اِدھر دونوں فریقین میں امن مذاکرات میں خبریں بھی آرہی ہیں ۔
(انل نریندر)

کیا پاکستان اندر سے ٹوٹ رہا ہے ؟

پاکستان اس وقت سنگین اندرونی جدوجہد ،سیاسی عدم استحکام اور صوبوں میں مسلح بغاوت جیسی سنگین اندرونی چنوتیوں سے لڑرہا ہے ۔فوج کے بڑھتے دخل ، ا...