جو لوگ بھی اسرائیل اور اس کی خونخوار خفیہ ایجنسی موساد سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ موساد سیاسی قتل کروانے میں ماہر ہے ۔اسرائیل کی تاریخ میں ایسے درجنوں معاملے ہیں جہاں اس نے اپنے دشمنوں کے لیڈروں کو موت کی نیند سلایا ہے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔28 فروری کو جب امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا تو سب سے پہلا کام موساد نے یہ کیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ و ایران کے ٹاپ ملیٹری کمانڈروں کو مروا دیا تھا ۔یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسرائیل امریکہ کی جنگ بندی سے بہت مایوس ہے اور اس ایم او یو کو تڑوانے کی پوری کوشش کررہا ہے ۔مشرق وسطیٰ میں کئی ملکوں میں حیرت انگیز حملے ہورہے ہیں ۔یہ کون کررہا ہے پتہ نہیں چلارہا ہے ۔کچھ حیرانی نہیں ہوئی جب ایک تازہ خبر آئی کہ موساد پاکستانی ملیٹری چیف عاصم منیر اور پاکستانی نمائندہ وفد کے جینوا میں قتل کا پلان بنا رہا تھا ۔میں نے اپنے 18 جون کے اداریہ میں جس کا عنوان تھا : کاغذوں پر دستخط : زمین پر دھویں کی آخری لائن میں لکھا تھا : آخر میں اسرائیل -موساد کچھ بھی کرسکتا ہے ۔سمجھوتہ تڑوانے کے لئے ایرانی لیڈر شپ کا قتل بھی کروا سکتا ہے تاکہ جنگ بندی ٹوٹ جائے۔ میری پیشگوئی اس معنی میں کامیاب ہوئی ۔حالانکہ تھوڑا ہٹ کر یہ رہا کہ موساد ایرانی لیڈروں کو تو نشانہ پر نہیں لے پایا لیکن اس نے پاکستانی نمائندہ وفد پر نشانہ لگانے کی کوشش ضرورکی ہے ۔بتادیں کہ برازیل کے ایک سینئراور جانے مانے صحافی پے پے ایسکودار کے اس سنسنی خیز دعوے نے بین الاقوامی سطح پر تنازعہ کھڑا کر دیا ہے ایسکوبار نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے پاکستانی کے فوجی چیف جنرل عاصم منیر اور سوئزرلینڈ دورہ پر گئے پاکستانی نمائندہ وفد کے قتل کی سازش رچی تھی ۔انہوںنے دعویٰ کیا کہ یہ پلان تب فیل ہو گیا جب پاکستان کی فوج کو بے حد بھروسہ مند خفیہ جانکاری ملی تھی کہ اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی ہدایت پر موساد جنرل عاصم منیر اور پوری پاکستانی نمائندہ ٹیم کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہا ہے ۔ایسکوبار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان نے عمان کے ذریعے سے اسرائیل کو سخت سندیش بھیجا تھا اگر پاکستانی نمائندہ وفد یا جنر ل عاصم منیر کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کا سخت جواب دیاجائے گا ۔یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پاکستان ایک نیوکلیائی کفیل ملک ہے اس کا مطلب صاف تھا ان دعوؤں کے سامنے آتے ہی پاکستان نے انہیں سرے سے مستر دکر دیا ۔اے آر وائی نیوز کے چیئرمین کامران خاں نے ایک سینئر پاکستانی سیکورٹی افسر کے حوالے سے بتایا کہ یہ رپورٹ پوری طرح بکواس اور بے بنیاد ہے ۔افسر نے صاف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کا سوئزرلینڈ دورہ پوری طرح محفوظ اور بغیر کسی سیکورٹی خطرے کے پورہ ہوا قتل کی سازش کا دعوے کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور پوری طرح بناوٹی ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی ملک ایسی خبروں کی کبھی بھی تصدیق نہیں کرتا اور انہیں خیالی بتاتا ہے ۔
(انل نریندر)