Translater

16 اپریل 2026

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی یہ جنگ پھر شروع ہو گئی ہے ۔ایپسٹین فائلس کا جن پھربوتل سے باہر آگیا ہے اور اسے باہر نکالاہے (چونکہ مت ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے امریکہ کی فرسٹ لیڈی میلانیا نے ایپسٹین فائلس پر دھماکہ دار خلاصہ کیا ہے جس سے وائٹ ہاؤس میں کھلبلی مچنا فطری ہی ہے ۔جیفری ایپسٹین سے جڑی افواہوں پر تنقید کرتے ہوئے میلانیا نے متاثرین کی سماعت کی مانگ کر ڈالی ہے ۔میلانیا نے 9 اپریل 2026 کے وائٹ ہاؤس سے اچانک ایک سنسنی خیز بیان جاری کیا گیا انہوں نے جیفری ایپسٹین سے وابستہ سبھی جھوٹی خبروں ،افواہوں کو صاف طور پر مسترد کر دیا ۔ایپسٹین ایک قصوروار جنسی کرمنل تھا ۔میلانیا نے کہا کہ میں ان افواہوں کو صاف طور پر مسترد کرتی ہوں ۔یہ افواہیں مجھے بدنام کرنے کی کوشش ہیں ۔اور انہیں اب فوراً روکا جاناجاہیے ۔میلانیا نے صاف الفاظ میں کہا کہ جیفری ایپسٹین کے نام سے میرے نام کو جوڑنے والی جھوٹی باتیں آج ہی ختم ہونی چاہیے ۔میں ایپسٹین کی دوست کبھی نہیں رہی ۔ڈونلڈ اور میں کبھی کبھی کسی پارٹی میں جاتے تھے جہاں ایپسٹین بھی ہوا کرتا تھا کیوں کہ نیویارک اور پام بیچ کے سوشل سرکل میں ایسا عام ہے ۔لیکن میں نے ایپسٹین یا اس کی ساتھی فسلین میکسوئیل کے ساتھ کبھی کوئی رشتہ نہیں رکھا ۔انہوں نے کہا: میں کانگریس سے کہتی ہوں کہ ان متاثرہ خواتین کو ساتھ لے کر اپنی کہانی باتوں کا موقع دیں ۔ہر عورت کو اگر وہ چاہے اپنی بات پبلک طورسے کہنے کا حق رکھتی ہے ۔جیفری ایپسٹین پر میلانیا کی پریس کانفرنس سے بحث پھر تیز ہوگئی ہے ۔جیولیٹ برائٹ نے میلانیا کو سیدھا چیلنج کرتے ہوئے کہا : میں حلف لے کر سچ بولنے کو تیارہوں ۔جیولیٹ برائٹ کے ویڈیو میسج سے امریکہ میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔خطرناک جنسی کرمنل جیفری ایپسٹین سے جڑا معاملہ ایک بار پھر عالمی سیاست اور انصاف نظام کے مرکز میں آگیا ہے ۔میلانیاکے تبصرے کے بعد سروائیورس نے اسے متاثرین پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش بتاتے ہوئے اپنی ناراضگی جتائی ۔ایپسٹین سیویور جیولیٹ برائٹ کا ایک ویڈیو میسج تیزی سے وائرل ہورہا ہے ۔انہوں نے میلانیا ٹرمپ کو سیدھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر قسم کے تحت گواہی دینے کی بات ہے تو میں خود اس کے لئے تیار ہوں اور جو کچھ انہوں نے کہا ہے کہ وہ سچ ہے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکہ میں اس معاملے پر امکانی سماعت کا تذکرہ بھی جاری ہے ۔جولیٹ برائٹ پہلے بھی سنگین الزام لگا چکی ہیں ۔ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں ماڈلنگ کے جھانسے میں بیرون ملک لے جایا گیا جہاں ان سے جنسی چھیڑ چھاڑ کی گئی ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ انہیں ایپسٹین کے پرائیویٹ جزیریے پر لے جایا گیا اور ان کا پاسپورٹ چھین لیا گیا ۔ویڈیو میں برائٹ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں گواہی دینے والی کئی لڑکیاں اب بھی زندہ ہیں ۔ویڈیو کے آخر میں برائٹ نے ٹرمپ اور میلانیا سے نہ صرف حلف کے تحت گواہی ہونے کی مانگ کی ان کا کہنا ہے دیش کے سامنے بااثر لوگوں کے اصلی چہرے سامنے آئیں ۔
(انل نریندر)

14 اپریل 2026

جس کا ڈر تھا وہی ہوا

امریکہ -ایران کے درمیان امن مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں بات چیت بے نتیجہ ہی ختم ہو گئی ہے ۔پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے دو راؤنڈ میں 21 گھنٹے سے زیادہ قیام امن کو لے کر بات چیت چلی ،لیکن یہ بے نتیجہ ہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنی ٹیم کے ساتھ امریکہ کے لئے روانہ بھی ہو گئے ۔وینس نے جانے سے پہلے کہا: معاہدہ نہ ہونے کے لئے بری خبر : وینس ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سمجھوتہ نہ ہونا امریکہ سے زیادہ ایران کے لئے بری خبر ہے ۔انہوں نے صاف کہا کہ امریکہ بغیر کسی سمجھوتہ کے ہی لوٹ رہا ہے ۔کسی بھی سمجھوتہ کے لئے ضروری ہے کہ ایران یہ وعدہ کرے کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائےگا ۔سیز فائر ڈیل میں امریکہ کی جانب سے جے ڈی وینس (نائب صدر) اسٹیو وٹکاف (خصوصی نمائندے، زیروڈ کشنر سینئرایڈوائرزاور ٹرمپ کے داماد) اور بریڈ کوپر (ملیٹری افسر شامل ہوئے ۔ایرا ن کی جانب سے محمد وقار غالب (سینٹ اسپیکر ) عباس عراقچی (وزیرخارجہ ) اور مجید تخت خوانچی ( نائب وزیرخارجہ ) شامل ہوئے ۔بات چیت میں پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف فوج کے چیف عاصم منیر ،وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور قومی سیکورٹی ایڈوائزرعاصم ملک شامل ہوئے۔ ایران سے 71نفری وفد پاکستان پہنچا تھا ۔اس ٹیم میں صرف بات چیت کرنے والے لوگ ہی نہیں تھے بلکہ ماہرین مشیر ، میڈیا نمائندے ،ڈپلومیٹ اور سیکورٹی سے وابستہ حکام بھی شامل تھے ۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باگر غالب جس جہاز سے آئے وہ بہت خاص تھا ۔وہ پوری دنیا کو امریکہ کو سسٹم دکھانے کے لئے پاکستان ثبوت لے کر آئے تھے ۔ان کے ساتھ ایسے مسافر بھی آئے جو اس دنیا میں اب نہیں ہیں ۔دراصل اس جہاز میں باگر غالیباف کے ساتھ پاکستان انے والے دو بچے تھے جو امریکہ اسرائیل ہوائی حملے میں اپنی جان گنوا چکے ہیں ۔پلین کی سیٹوں پر ان ننے بچوں کی تصویر رکھی ہوئی تھی۔ غالیباف نے بات چیت سے پہلے تصویر شیئر کی جس میں جہاز کی سیٹوں پر چار بچوں کی تصاویر دکھائی دیتی تھیں جن کے ساتھ ایک ایک اسکول بیگ اور پھول بھی رکھا گیا تھا ۔ایرانی شہر مناب کے اسکول میں 28 فروری کو ایک پرائمری اسکول پر حملہ ہوا تھا اس میں 168 بچوں سمیت لوگوں کی موت ہوئی تھی جس میں 108 اسکولی لڑکیاں تھیں ۔غالیباف نے بات چیت سے پہلے بیان میں کہا تھا کہ ان کا دیش بات چیت اور معاہدے کے لئے تیار ہے لیکن اس کے لئے امریکہ کو ایمانداری سے معاہدہ کی پیشکش کرنی ہوگی اور ان کے حقوق کو قبول کرنا ہوگا ۔انہوں نے صاف کہا کہ ایران کے پاس بھائی چارہ ہے لیکن امریکہ پر بھروسہ نہیں ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی کہا واشنگٹن ایران کو ہرمز اسٹریٹ سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول لگانے کی اجازت نہیں دے گا ۔ٹرمپ نے آگے کہا کہ ہرمز جل ڈروم جلد ہی پھر سے کھل جائے گا چاہے ایران تعاون کرے یا نہ کرے ۔ٹرمپ نے آگے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں ان کا اہم بیان تہران کی نیوکلیائی صلاحیتوں کو محدود کرنے پر ہوگا ۔انہوں نے کہا کوئی نیوکلیائی ہتھیار نہیں ۔یہی 99 فیصد بات ہے ۔مذاکرت تو فیل ہونے ہی تھے دونوں فریقین کی مانگوں میں بہت بڑا فاصلہ تھا جسے بھرنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔
(انل نریندر)

11 اپریل 2026

مٹ جائیں گے ،پر جھکیں گے نہیں!

جنگیں ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں یہ جذباتوں سے جیتی جاتی ہیں۔ ایرانی عوام نے یہ ثابت کر دکھا دیا ۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ آج رات ہم ایران کی تہذیب کو ہی مٹادیں گے ۔اس کے جواب میں ایرانی عوام سڑکوں پر اتر آئی ۔اپنے دیش کے وجود اور ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایرانی عوام اپنے دیش کے پلوں ،بجلی گھروں کو بچانے کے لئے امریکہ کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہو گئی ۔ایران کے ایوان تبریض اور دیگر کئی شہروں میں ہزاروں لوگوں نے بجلی گھروں اور اہم ترین بنیادی اداروں کو چاروں طرف لمبی انسانی سریز بنا لی ۔ایرانی سماچار ایجنسی ترمیم کے مطابق مردوں ،خواتین اور یہاں تک کہ بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ اکٹھا ہوئے اور ہیومن چین بنا کر ڈٹ گئے ۔مظاہروں میں شامل لوگوں کے ہاتھوں میں ایرانی جھنڈے اور قومی لیڈروں کی تصاویر والے پوسٹر تھے ۔اور کئی لوگ مین شاہراہ پر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر لمبی قطار میں کھڑے تھے ۔ایران کے احوال میں وائٹ برج میں پاور پلانٹ سمیت کئی جگہوں پر ہیومن چین بنائی گئی یہ ہیومن چین سریزواشنگٹن کی جانب سے بڑھتی جارحانہ بیان بازی کا سیدھا جواب تھا ۔ایران کے لوگوں نے دیش کو نشانہ بنانے والی کسی بھی فوجی کاروائی کی مزاہمت کرنے کے لئے ا س انسانی چین کا سہارا لیا ۔مظاہرین نے قومی اتحاد دکھانے کے لئے حب الوطنی کا یہ زبردست مظاہرہ کیا ۔اس کا سیدھا اثر واشنگٹن پر پڑا ۔شاید اس کو عقل آئی ہو کہ ہم ایرانی عوام جو سڑکوں پر انسانی چین بنا کر کھڑے ہیں اس پر حملہ کریں گے تو ساری دنیا میں ہماری تھو تھو ہو جائے گی اس لئے ایران کی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی دینے والے ڈونلڈ ٹرمپ آخری لمحوں میں پیچھے ہٹ گئے ایران کا موجودہ فوجی رخ صاف اشارہ دیتا ہے کہ اس کی ترجیح اپنی حکومت اور فوجی انسٹرکچر کو بچائے رکھنا ہے ۔اسلامی رپبلک کی قیادت اور فوجی کمانڈروں نے پچھے 3-4 دہائیوں سے ایسے ہی امکانی ٹکراؤ کی تیاری کی ہے۔ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای نے کئی برسوں پہلے ہی یہ دیکھ لیا تھا کسی نہ کسی دن یہ حالات آئیں گے اور امریکہ اسرائیل ہم پر حملہ کرے گا ۔آج اگر ایران کی اس جنگ میں جیت ہوئی ہے تو اس کا اصل حقدار شہید آیت اللہ علی خامنہ ای ہی ہیں ۔دراصل موساد اور نیتن یاہو نے ٹرمپ کو یہ بھروسہ دیا تھا کہ اگر ہم آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کے سب سے سینئر ملیٹری کمانڈروں کو مار دیں گے تو ایران میں اندرونی بغاوت ہو جائے گی اور ہمارے حمایتیوں کو اقتدار میں بٹھا دیں گے لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا ایران کی عوام پر کیا اثر ہوگا ۔لیکن اثر الٹا ہوا جو ایرانی اسلامی اقتدار کے خلاف بھی تھے وہ بھی آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد سرکار کی حمایت میں آگئے ۔اس جنگ میں ایران کا پلڑا بھاری ہوگیا ۔جیسے میں نے کہا کہ غیر نیوکلیائی جنگ میں جیت ہتھیاروں سے نہیں ہوتی ، جیت جذبہ سے ہوتی ہے ۔جس کا مظاہرہ ایرانی عوام نے بخوبی کیا ۔دراصل ایران اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہا تھا ۔
(انل نریندر)

09 اپریل 2026

ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !

ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم ترین بشر نیوکلیائی مرکز پر سے جان لیوا یورینیم کا سیدھا خطرہ تو نہیں ہے لیکن ہواؤ ں کے ذریعے ریڈیوکرنیں دھول میں مل کر ریاستوں اور یہاں تک کہ بھارت کی مغربی ریاستوں تک پہنچنے کا خطرہ ہے ۔مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی نے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کر دیا ہے جہاں نیوکلیائی ہتھیاروں کے استعمال کی بحث ہونے لگی ہے ۔اگر ایران اسرائیل کے درمیان جنگ خطرناک سطح تک پہنچتی ہے اور ایران کی سرزمین پر نیوکلیائی دھماکہ ہوتا ہے ،تو سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس کا اثر بھارت پر بھی پڑ سکتا ہے ؟ کیا ایران سے اڑنے والی ریڈیو ایکٹو دھول ہمارے شہروں تک پہنچ کر تباہی مچا سکتی ہے ؟ آئینی اورحکمت عملی نظریہ سے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہوا کا رخ اور دوری اس خطرے کو کیسے طے کرتی ہے ؟ ایران میں اگر کوئی نیوکلیائی واقعہ ہوتا ہے ، تو سب سے زیادہ تباہی اس کے پڑوسی ملکوں میں دیکھنے کو ملے گی۔ ایران کے 500 سے 1000 کلو میٹرک کے دائرے میں آنے والے دیش عراق،ترکیہ ،ارمینیا،آذر بائیجان ،افغانستان اور پاکستان جیسے ملکوں کو بے حد خطرناک ریڈ یشن کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ریڈیو کچرا (فال آؤٹ ) سیدھے طور پر لوگوں کی صحت اور ماحولیات کو بھی بربادکر سکتی ہے ۔ہوا کے بہاؤ کی بنیاد پر ان ملکوں کی سیکورٹی پوری طرح داؤ پر لگی ہوگی ۔ایران کے جنوب میں واقع خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب ،کویت، بحرین ،قطر ،یو اے ای بھی اس خطرے کی زد میں ہیں ۔اگرایران کے بشر شہر جیسے ساحلی نیوکلیائی بجلی کفیل ملکوں کو نشانہ بنایاگیا تو ریڈیو ایکٹو اخراج کی سیدھی دھار خلیج اور عرب ساگر کے پانی کو زہریلا بناسکتا ہے ۔اس سے سمندری چرند وپرند کے ساتھ ساتھ ان ملکوں کی پانی نظام اور معیشت پر بھی گہرا اثر پڑے گا ۔سمندری لہریں اس آلودگی کو ہندوستانی ساحلوں تک بھی پہنچا سکتی ہیں ۔سائنس کے مطابق کسی بھی نیوکلیائی دھماکہ کے بعد نکلنے والے سب سے خطرناک اور بھاری ریڈیو کرنیں دھماکہ والی جگہ سے کچھ سو کلو میٹر کے دائرے می ہی زمین پر گر جاتی ہیں ۔ان اتنی لمبی دوری طرے کرتے وقت ریڈیشن کا اثر کافی حد تک کم ہوجاتا ہے اس لئے تکنیکی طور سے بھارت میں فوری طور پر ایکیوٹ ریڈیشن سکنس سے ہونے والی سنگین بیماری کا سیدھا خطرہ بڑھتا نظر آتا ہے بھلے ہی بھارت ایران سے کافی دور ہے لیکن ایئر زون میں گھلی ریڈیو کرنوں وذرات کو ہوا تک لے جاسکتی ہے ۔اگر ہوا کا رخ مغرب سے مشرق کی جانب رہتا ہے تو نیوکلیائی بادل 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر ہندوستانی آسمان تک پہنچ سکتے ہیں ۔ایسی صورت میں گجرات ،راجستھان ،پنجاب ،دہلی جیسی ریاستوں میں ریڈیو ٹک ذرات کی موجودگی درج کی جاسکتی ہے ۔حالانکہ بھارت تک پہنچتے پہنچتے یہ ذرات اتنے فیل اور ہلکے ہوجائیں گے کہ اس سے جان لیوا خطرہ بڑھنے کا اندیشہ بہت کم رہتا ہے ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ خلیجی ممالک اور ایران کے آس پاس بڑی تعداد میں ہندوستانی تارکین وطن رہتے ہیں ۔ہم اوپر والے سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ ایران -امریکہ دوسری جنگ میں نیوکلیائی مراکز پر سیدھے حملے سے بچین ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا اثر پوری کائنات پر پڑے گا۔ (انل نریندر)

07 اپریل 2026

فائٹر جیٹ گرنے سے تلملائے ٹرمپ!

ایران جنگ میں اپنے فائٹر جیٹ گنوانے کے بعد تلملائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نیا الٹی میٹم دے دیا ہے ۔ٹرمپ نے سنیچر کو کہا کہ ایران نے 48 گھنٹے مین ہرمز کو نہیں کھولاتو تباہی جھیلنے کے لئے تیار رہے ۔اب آر پار ہوگا انہوں نے کہا کہ ایران کے لئے وقت تیزی سے نکل رہا ہے اسے پیس ڈیل پر ستخط کر دینا چاہیے ۔ایران نے اس دھمکی کا جواب امریکہ کے بہت ہی ایم ترین ایف -15 ای جنگی جہاز کو مار گرا کر کیا ۔ایران نے جمعہ کے روز دو امریکہ کے ایک اور جہاز ایف -35 کو مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ۔وہیں دو امریکی حکام کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا دو سیٹر جنگی جہاز ای-15 ای ایران میں گرا ہے ۔ایک پائلٹ مل گیا ہے جبکہ ایران دعویٰ کررہا ہے کہ دوسرا پائلٹ اس کے قبضہ میں ہے ۔حالانکہ امریکہ نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے ۔پنٹاگن اینڈ سنٹرل کمان نے اس پر کوئی سرکاری بیان نہیں دیا ہے ۔وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری کیرولن لیور نے بیان جاری کربتایا کہ جنگی جہاز گرنے کی جانکاری صدر ٹرمپ کو دے دی گئی ہے ایران کی آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ایف -35 جنگی جہاز کو جنوب مغربی ایران میں مار گرایا ہے ۔ادھر امریکی نیوز پورٹل کی موس کا دعویٰ ہے کہ ایران نے مار گرائے جنگی جہاز کی جو تصویر شیئر کی ہے وہ ایک ایف زیڈ ای جہاز کی ہے ۔ایس ای -15 اسٹرائک ایگل ایف ڈولپ کٹیگری کا امریکی جنگی جہاز ہے جسے خاص طور پر لمبی دور ی تک گہرائی میں جاکر (دشمن کے ٹھکانوں ) پر بالکل پختہ حملے کرنے کے لئے بنایا گیا ہے ۔اس جہاز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہر موسم میں مشن پورا کرسکتا ہے ۔امریکہ کے چیف میڈیا آؤٹ لیٹس میں سے ایک سی این این نے اس واقعہ پر لکھا ہے ایران کے ساتھ چل رہی جنگ جو پہلے سے ہی امریکی عوام کے بیچ کافی غیر مقبول ثابت ہورہی تھی ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں پہنچ گیا ہے ۔چینل نے بتایا کہ پہلے خبر آئی کہ ایران کے اوپر ایک امریکی جنگی جہاز کو گراد یا گیا ہے اس کے بعد جمعہ کو خبر آئی کہ ایران نے دوسرے امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔جبکہ سی این این نے لکھا ہے ،لیکن ایک ایسی لڑائی جس میں فوجی بالادستی امریکہ کے حق میں ہو ،یہ واقعہ ایک پیچیدہ جنگ کے خطرون کو دکھاتا ہے ۔اس کی لاگت کو امریکہ جنتا پہلے سے نامنظور کرتی آرہی ہے ۔سی این این آگے لکھتا ہے کہ ان واقعات سے ایران کے آسمان پر پوری بالادستی کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کے دعووں کے ساتھ ساتھ پچھلے مہینے سے بنائے جارہے ہوے کو دکھاوے کی بھی دھجیاں اڑ رہی ہیں ۔ایم بی سی نیوز نے ایران کی جانب سے جنگی جہاز گرانے کے دعوے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے -یہ پہلی بار ہے کہ جب اس تازہ لڑائی کے تحت ایران کے اندر امریکی جہاز تباہ ہوا ہے ۔جس سے یہ تصور غلط ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ کا ایرانی ہوائی زون پر پورا کنٹرول ہے ۔این بی سی لکھتا ہے کہ ٹرمپ نے اس جنگ میں جیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر جنگ ختم کرنے پر رضامند ہونے کے لئے دباؤ ڈالا ہے وہین اب ایران کی جانب سے جو دعوے کئے جارہے ہیں اس سے امریکہ -اسرائیل کے ایرانی ہوائی پٹی کےبالادستی کے دعووں پر شبہ پیدا ہوتا ہے ۔اسرائیل امریکہ کی مشترکہ کاروائی کا اہم مقصد ایران کے میزائل ڈیفنس سسٹم کو تباہ کرنا اور کمزو ر کرنا رہا ہے لیکن ایران نے پورے خطہ میں جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت کو بنائے رکھا ہے امریکہ کی جانب سے چھیڑی گئی جنگ کے دوران امریکی صدر ٹرمپ اور ڈیفنس سیکریٹری پیٹر ہیگس نے بار بار کہا ہے کہ ایران کی صلاحیتوں کو پوری طرح تباہ کر دیا گیا ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے جہاز انسداد سسٹم کو بھی ختم کر دیا گیا ہے ۔لیکن جمعہ کو اس دعوے پر سوال اٹھنے لگے جب ایران نے اپنے علاقہ میں امریکی جنگی جہاز ،ایف -15 ای کو مار گرایا ۔ایک جھٹکے میں ایران نے ٹرمپ کی ساری ہیکڑی نکال دی ۔ (انل نریندر)

04 اپریل 2026

ٹرمپ نکلنے کی کوشش میں پھنس گئے ہیں!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح 6.30بجے وائٹ ہاؤس میں ایران جنگ پر ایڈریس کیا ۔ٹرمپ نے پھر دھمکی دی ہے کہ امریکہ آنے والے ہفتوں پر ایران پر اتنی بمباری کرے گا اسے دورہ قدیم میں پہنچا دے گا ۔20 منٹ کی اس پرائم ٹائم ایڈریس میں زیادہ تر وہی باتیں دہرائیں جو وہ کئی بار پہلے بھی کہہ چکے تھے ۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم اگلے دو سے تین ہفتوں میں ان (ایران پر)بہت بڑا حملہ کرنے جارہے ہیں ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ،اسرائیل فوجی آپریشن خاص حکمت عملی مقاصد کو لے کر تقریباً پورا ہونے کے قریب ہے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ جنگ ابھی 2 سے 3 ہفتے مزید چل سکتی ہے اگر آپ پچھلے ایک ہفتے میں ٹرمپ کے ٹوتھ سوشل پر ڈالی گئی پوسٹ کو جائزہ لیں  تو وہ اس اپنے دیش کے نام ان کی تقریر سے کافی کچھ ملتی جلتی پائیں گے ۔ صدر ٹرمپ نے اس جنگ کے فائدے امریکی عوام کے سامنے رکھنے کی کوشش بھی کی ۔اس کی وجہ بھی ہے ، چونکہ امریکہ کے کئی سروے بتاتے ہیں کہ 28 فروری کو شروع کی گئی اس فوجی کاروائی کو لے کر زیادہ تر ووٹروں نے عدم اتفاق جتایا ہے ۔ٹرمپ نے امریکی عوام سے اس جنگ کو اپنے مستقبل میں ایک سرمایہ کی شکل میں دیکھنے کی اپیل کی اور کہا یہ پچھلی ایک صدی یا اس سے زیادہ وقت سے ہوئی فوجی لڑائی کے موازنے میں کچھ بھی نہیں ہے جن میں امریکہ کے کہیں زیادہ لمبے عرصے تک شامل رہا ہے لیکن ٹرمپ کی تقریر سے امریکی عوام ناراض ہوئی ۔وہ جاننا چاہتی تھی کہ یہ جنگ کس سمت میں جارہی ہے ۔یا امریکہ کے لئے اس سے باہر نکلنے کے امکانی راستے کیا ہوسکتے ہیں ۔اس میں کئی سوالوں کے جواب نہیں مل پائے پہلا : اسرائیل ابھی بھی ایران پر حملے کررہا ہے ؟ ساتھ ہی اسرائیل کو ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے ۔جس میں بدھوار کو تل ابیب کے پاس کچھ حملے بھی شامل ہیں ۔ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی سرکار ٹرمپ کے بتائے گئے کچھ حملوں کی وقت میعاد سے متفق ہیں ۔فی الحال اس بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں ہے کم سے کم موجودہ حالات میں تو اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے ۔پھر اس 15 نکاتی امن پلان کا کیا ہوا؟جسے وائٹ ہاؤس کچھ دن پہلے ایران سے تسلیم کرنے کے لئے کہہ رہا تھا ؟ اپنے خطاب میں ٹرمپ نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا ۔کیا اب امریکہ اپنی مانگوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے ، جس میں مکمل یورینیم کے ذخیرے کو واپس لینے کی مانگ بھی شامل تھی ؟ اسرائیل نے ابھی ایران پر حملے نہیں روکے ہیں ۔اب دنیا کے سب سے تیل شپنگ راستون میں اسے ایک ہرمز اسٹریٹ اس لڑائی کا فوکس بن گیا ہے ۔ایران نے اس تیل راستہ کو بند کر رکھا ہے ۔حالانکہ صدر کا اس پر کوئی ٹھوس اور طے رخ سامنے نہیں آتا ۔کبھی وہ ایران سے ٹینکروں کو راستہ دینے کی مانگ کرتے ہیں اور اگلے پل ہی ساتھی ملکوں سے کہتے ہیں کہ وہ خود جاکر اسے سنبھالیں ۔بدھوار کو انہوں نے کہا کہ ہرمز پر جاؤ اور بس اسے اپنے کنٹرول میں لے لو ۔اس کی حفاظت کرو اور اپنے استعمال کے لئے اسے کھولو ۔ مشکل حصہ پورا ہو چکا ہے اس لئے یہ آسان ہونا چاہیے ۔انہوں نے برطانیہ اور فرانس جیسے اپنے ساتھیوں کو ہرمز جاکر خود تیل حاصل کرنے کی نصیحت دے ڈالی ہے ۔اس کے بعد انہوں نے بغیر زیادہ تصویر بتائے صرف اتنا کہا کہ جنگ ختم ہونے پر ہرمز فطری طور سے پھر سے کھل جائے گا ۔تیل کی قیمتوں کو لے کر فکرمندلوگوں کے لئے یہ بات شاید زیادہ بھروسہ دینے والی نہیں ہوگی ۔وائٹ ہاؤس میں دئیے گئے تازہ بیان میں ٹرمپ کا وہ تیور پوری طرح غائب تھا ، جب بریفنگ میں اشارے دئیے گئے تھے یہ ان کے خطاب کا ایک اہم حصہ ہوگا۔ ایک طرف بڑا سلجھا سوال میدان میں فوجیوں کی موجودگی کو لے کر ہے ۔خطہ میں لگاتار پہنچ رہے ہزاروں مرین اور پیرا ٹروپس وہان کیا کررہی ہیں یا کرنے والی ہیں ؟ٹرمپ کے بیان ہر اگلے دن بدل رہے ہیں یا یوں کہیں صبح کچھ کہتے ہیں اور شام کو کچھ کہتے ہیں ۔اس درمیان امریکہ میں گیس کی اوسط قیمت تقریباً 4 سال میں پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن سے پار کر گئی ہے ۔اور اسے مفاد عامہ کی ریٹنگ تیزی سے گررہی ہے ۔ (انل نریندر)

02 اپریل 2026

دبئی کو چکانی پڑی سب سے بڑی قیمت !

یو اے ای یعنی متحدہ عرب امارات کو بنانے میں 40 سال لگے اور تباہ ہونے میں مشکل سے 10 دن لگے ۔دبئی جو دنیا کے سب سے جدید ترین شہروں میں سے ایک ماناجاتا تھا ،محفوظ ماناجاتا تھا جو دنیا نیا ہب بن گیا تھا اس کو ایران نے ایسا تباہ کیا کہ وہ اتنے پیچھے چلا گیا کہ اب اسے برسوں لگیں گے اسی حالت میں پہنچنے پر ۔امریکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کے درمیان ایران مسلسل خلیجی ممالک پر حملہ کررہا ہے ایک خاص بات سامنے آئی ہے کہ ایران سب سے زیادہ یو اے ای کو نشانہ بنا رہا ہے ۔جس دن سے (28 فروری )جنگ شروع ہوئی تب ایرا ن نے 1714 ڈرون 334 بیلسٹک میزائل داغ کر تباہی کی عبارت لکھ دی ہے ۔آخر ایران دبئی ،ابو ظہبی پر مسلسل حملے کیوں کررہا ہے ۔امریکہ،اسرائیل -ایران کی اس جنگ میں ایران نے ان حملوں میں دبئی کے عالیشان ہوٹل ریفائنری ،ایئر پورٹ اور اہم کمرشیل زون کو کافی متاثر کیا ہے ۔ آخر دبئی کو تباہ کرنے کے پیچھے ایران کی حکمت عملی کیا ہے ؟ کیا اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ امریکہ وہاں سے اپنے فوجی اڈے چلاتا ہے ؟ یا ان حملوں کے پیچھے ایران کے کچھ اور ارادے ہیں؟ تو اس کا جواب ہتھیاروں سے زیادہ اکونامکس اور انویسٹمنٹ کے آس پاس گھومتی ہے۔ دہشت ، وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہونے کی لگتی ہے ۔میگا (میک امریکہ گریٹ یگن) کے نعروں کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی اقتدار میں دوسری مرتبہ واپسی ہوئی جب سے وہ اقتدار میں لوٹے ہیں ، ان کا پورا فوکس امریکہ کی معیشت کومضبوط کرنے اور بڑے پیمانہ پر غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر ہورہا ہے ۔وائٹ ہاؤس کے اعدادشمار کے مطابق 2025 میں امریکہ کو اگلے 10 برسوں میں سرمایہ کاری کے لئے 5.2 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری عہد میں ملی ہے تو اس 5.2ٹریلین ڈالر میں سے سب سے بڑا حصہ یو اے ای لگارہا ہے ۔اکیلے یو اے ای 1.4ٹریلین ڈالر یعنی کل سرمایہ کا 27 فیصد) صرف یو اے ای نے وعدہ کیا ہے ۔سیدھے الفاظ میں کہا جائے تو یو اے ای امریکہ کے لئے انکلیس ہیل بنا گیا ہے جس کا مطلب امریکہ کی کمزور کڑی بن گیا ہے۔ ایران اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر دبئی پر میزائلیں گریں گی تو وہاں کی معیشت ڈگمگائے گی اور اگر دبئی کی معیشت ہلی تو امریکہ میں آنے والے 1.4ٹریلین کا وہ سرمایہ سیدھے طور پر خطرے میں پڑ جائے گا ۔جس پر ٹرمپ اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہا ہے ۔ایران کا نشانہ صرف امریکہ میں جانے والاہے۔دبئی کا پیسہ نہیں ہے بلکہ گلوبل انویسٹمنٹ ہب کی شکل میں دبئی اور یو اے ای کی پہچان کو تباہ کرنا ہے۔دبئی جو خطہ کا زون تھا اقتصادی ،ڈیجیٹل اور میڈیا ہب رہا ہے ۔اس جنگ میں بری طرح متاثر ہوا ہے ۔اہم شیئر انڈیکس ایڈکز جنرل میں پچھلے مہینے میں 11.42 فیصد کی گراوٹ آئی ہے ۔ہوائی سیکٹربند ہونے لگے اور پروازیں منسوخ ہونے سے سیاحت اور ایویشن سیکٹر میں دبئی کو قریب کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔یو اے ای سرکار اور میڈیا نے دیش کو محفوظ جگہ والی ساکھ بنائے رکھنی کی کوشش کی تھی ۔ صدر محمد زائد نے لوگوں کو بھروسہ دلایا کہ سب کچھ کنٹرول میں ہے اور دیش ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہے ۔ساتھ ہی اٹارنی جنرل حمد شیخ الشمسی نے حملوں کی تصویریں اور ویڈیو شیئر کرنے پر سخت وارننگ دی ۔اس حکم کے تحت کئی غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا جن پر کم سے کم ایک سال کی سزا اور بھاری جرمانہ کی سہولت ہے ۔ایران دنیا کو یہ بڑا سندیش دے رہا ہے کہ جنگ کے میدان سے ہزاروں کلو میٹر دور بیٹھ کر بھی وہ امریکہ کی دکھتی معاشی نس کو کاٹ سکتا ہے ۔ہر ڈرون حملہ،میزائل اسٹرائک دبئی اور یو اے ای اور خلیجی ملکوں کی اس محفوظ اور مضبوط سسٹم پر ایک زبردست حملہ ہے جسے انہوں نے سالوں سے ریفارم اور شاندار ڈھانچہ بندی کے دم پر بنایا ہے ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...