حال ہی میں پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط ہوئے ہیں جس کے تحت اگر تینوں میں سے کسی ایک دیش پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں پر حملہ ماناجائے گا ۔اس معاہدے کا مقصد ڈیفنس اشتراک بڑھانا ،جوائنٹ سیکورٹی حکمت عملی بنانا اور خطہ میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ اجتماعی طاقت دکھانا ہے ۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ اتحاد مغربی ایشیا میں بدلتے حالات ،خاص طور پر ایران ،امریکہ اور اسرائیل کے مابین بڑھتے ٹکراؤ کے درمیان ایک نئے پاور بلاک کی شکل میں ابھر سکتا ہے ۔اسلامی نیٹو مسلم اکثریتی ملکوں کے بیچ ایک مجوزہ یا غیر خانہ پوری فوجی اتحاد کو دیا نام ہے جس کا موازنہ مغربی ممالک کی فوجی انجمن نیٹو سے کیاجاتا ہے ۔ اس معاہدے کے پیچھے اہم رول سعودی عرب کا ہے ۔وہ ایک طرف ایران کے حملوں سے پرشان ہے اور دوسری طرف یمن کے حوثیوں کا تعلق زبردست لڑائی چھڑنے سے ہے ۔ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں خلیجی سیکٹر میں جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے اور لڑائی کو پورے خلیجی خطہ میں پھیلنے کے اندیشات نے سعودی عرب کی حفاظتی تشویشات بڑھا دی ہیں ۔دہائیوں تک ریاض اپنی حفاظت کے لئے خاص طور سے امریکہ پر منحصر تھا لیکن 28 فروری کے بعداس نے دیکھ لیا کہ امریکہ تو اپنے حفاظتی اڈوں کو بھی بچا نہیں پارہا ہے وہ سعودی عرب کو کیسے بچائے گا ۔رہا سوال پاکستان کا تو سعودی عرب کا پہلے سے ہی پاکستان سے دفاعی معاہدہ ہوا ہوا ہے ۔لیکن کیا پاکستان سعودی عرب کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون سے بچا سکا ؟ کیا پاکستان سعودی عرب پر حملہ ہونے پر ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟ یہ سب ڈرامہ بنا ہوا ہے ۔رہا سوال اسرائیل اور امریکہ کا تو اسرائیل اس معاہدے کی جم کر مخالفت کررہا ہے اور اسے اپنے لئے خطرہ مانتا ہے ۔ سوال یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ اسرائیل سعودی یا ترکیہ پر حملہ کرتا ہے تو کیا پاک فوجی چیف جنرل عاصم منیر میں اتنی ہمت ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف جاکر اسرائیل پر حملہ کرے ؟ یہ صرف پیسے اینٹھنے کا کھیل ہے ۔پھکڑ ہوا پاکستان کہیں سے بھی بھیک مانگنے کو تیار ہے ۔اور اس کے عوض میں جو چاہے وعدہ کروا لو ؟ رہا سوال ایران کا تو صدر مسعود پزشکیا ن نے مسلم اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ سنی کو ساتھ رہنا چاہیے ۔پزشکیا ن نے کہا امریکہ اور اسرائیل مل کر خلیج فارس کے دیشوں کو ایران کے خلاف کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔قابل غور بات یہ ہے سعودی ،ترکیہ اور پاکستان تینوں ہی ملک سنی اکثریتی ہیں ۔وہیں ایران شیعہ ملک ہے رہا یہ بھارت کے لئے تشویش کی بات ہے ؟ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس ڈیفنس معاہدے کا بھارت پر سیدھے طور پر کوئی اثر نہیں ہوگا ۔ایسا اس لئے کیوں کہ سعودی عرب پہلے بھی کہتا رہا ہے کہ پاکستان ہمارا اہم ترین حکمت عملی ساجھیدار ہے لیکن کبھی اس نے بھارت سے جنگ کے موقع پر ساتھ نہیں دیا ۔ جہاں تک ترکیہ کا سوا ل ہے وہ تو آپریشن سندھور میں بھی کھلے عام پاکستان کے ساتھ تھا اور آگے بھی رہے گا ۔بھارت کے لئے تشویش کی بات نہیں ہے کیوںکہ بھارت ڈیفنس صلاحیت میں تینوں ملکوں سے آگے ہے ۔
(انل نریندر)