امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ پچھلے ماہ ترکیہ میں نیٹو سمٹ سے روانہ ہوتے وقت انہوں نے چپ چاپ جیمس بانڈ اسٹائل میں جہاز بدل لیا تھا ایسا امکانی خطرے کی وجہ سے کیا گیاتھا۔ ٹرمپ نے منگلوار کو اخبارنویسوں سے بات چیت میں کہا کہ میں سیکریٹ سروس اور فوج کی بات مانتا ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں دوسرے پرواز اور دوسرے جہاز سے جاؤں ۔مجھے وہی کرنا تھاجو انہوں نے کہا ۔ٹرمپ نے یہ اعتراف کیا کہ وہ چھپ کر اپنے جہاز ایئر فورس 1 سے بھاگ کر ایک دوسرے جہاز سے نکلے ۔یہ بتانا ضروری ہے کہ چھپ کر بھاگنے سے پہلے انہوں نے نہ تو مارکو روبیو ، دیگر سینئر حکام کو جہازبدلنے کا پلان بتایا اور نہ ہی ان کے ساتھ گئے اخباروں کو۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی نظروں میں ان کی قیمت ہے ؟ خیر میں آپ کو پرانی کہانی بتاتا ہوں کہ کیا ہوا؟ ڈونلڈ ٹرمپ پچھلے ماہ ترکیہ نیٹو سمٹ میں گئے تھے ۔نیٹو سمٹ سے نکلتے وقت ایران کے امکانی خطرے کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ نے چپ چاپ طریقہ سے جہاز بدل لیا تھا ۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹیلی ویژن کیمروں کی موجودگی میں ایئر فورس 1 میں سوار ہوئے پھر انہیں چپکے سے ایک اونچے ایئر پورٹ کیٹرنگ (ٹرک میں لے جایا گیا اور ایک دیگر فوجی جہاز تک پہنچایا گیا ۔اس دوران ایئر فورس 1 جہاز میں سوار اخبار نویسوں اور وائٹ ہاؤس کے کچھ ملازمین و امریکی نائب صدر مارکو روبیو کو اس کی جانکاری تک نہیں تھی ۔حکام نے سی بی ایس نیوز و وی بی سی کو بتایا کہ امریکہ نے جہاز پر میزائل داغنے کی امریکہ کی بھروسہ مند دھمکی کا پتایا لگایا تھا حالانکہ وائٹ ہاؤس نے اس خفیہ طریقہ سے جہاز بدلنے کی تصدیق نہیں کی ۔حالانکہ بعد میں خود ٹرمپ نے اس کی تصدیق کر دی۔ آخری وقت میں جہاز بدلنے کے اس فیصلے سے سوال اٹھے ہیں۔ کیا جس جہاز کو ریپلیس کے لئے استعمال کیا گیا تھااس میں موجود لوگوں کو خطرے میں ہی چھوڑ دیا گیا تھا؟ جہاز میں سوار اخبار نویسوں اور وائٹ ہاؤس کے حکام کو پتہ تک نہیں تھا کہ امکانی ایرانی خطرے کے جواب میں ایک پلان کے تحت امریکی صدر کو وہاں سے چپ چاپ نکال لیا گیا تھا ۔ٹرمپ پہلے کہہ چکے ہیں کہ انقرا میں ہوئی سمٹ کے دوران وہ ایران کے ٹارگیٹ نمبر 1 تھے ۔ٹرمپ نے منگلوارکو کہا میرا اندازہ ہے کہ کوئی خطرہ تھا میں نے اس کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں مانگی ۔مجھے بہت ساری دھمکیاں ملتی ہیں ۔جن کے بارے میںآپ کو شاید پتہ بھی نہیں ہے ۔پچھلے ماہ بھی یہ خفیہ کاروائی تب ہوئی جب جنگ ختم کرنے کی بات چیت ٹوٹنے کے بعدا مریکہ نے ایران پر پھر سے حملے شروع کئے تھے ۔اس کے ایک دن بعد ٹرمپ نے جہاز بدلاتھا۔ٹرمپ قطر کی طرف سے دیے گئے جہاز بوئنگ 747-8سے ترکیہ پہنچے تھے ۔لیکن انہوں نے کہا کہ وہ پرانے ایئر فورس 1 سے واپس جائیں گے ۔8 جولائی کو انہوں نے کیسے ڈر کے مارے جہاز بدلا۔یہ سب نے دیکھا ہی ہے ۔اخبار کے مطابق وزیر دفاع ہیک سیتھ بھی الگ سے باہری سیڑھیوں کے ذریعے سی -32Aمیں سوار ہوئے تھے اُدھر ایئر فورس 1 پر بیٹھے اخبار نویسوں سے کہا گیا کہ وہ کھڑکیوں کے پردے میں بند رکھیں ۔شاید اس لئے کہ وہ باہر کا منظر نہ دیکھ سکیں ۔وہ یہ نہ دیکھ سکیں کہ صدر ٹرمپ جہاز کے خفیہ دروازے سے جہاز چھوڑ چکے ہیں اس لئے کہا بھاگ ٹرمپ بھاگ ۔
(انل نریندر)