مشرقی وسطیٰ میں ایک طرف امریکہ ایران کی جنگ تھم نہیں رہی ہے وہیں اب نیا مورچہ کھلتا نظر آرہا ہے ۔یہ ہے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان ۔سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سیدھا ٹکراؤ شروع ہو چکا ہے جمعہ کے روز لال ساگر میں ایک سعودی مال بردار جہاز پر حملہ ہوا جس کےبعد مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے ۔حملے کے کچھ ہی دیر بعد سعودی عرب نے حوثیوں کے کنٹرول والے یمن کے حودیدہ شہر پر جوابی حملے کئے ۔بتایاجارہا ہے کہ امریکی جنگی جہاز ایف -35 سے یہ حملے کئے گئے ۔اس کے جواب میں حوثیوں نے سعودی عرب کو بڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے جہنم کے دروازے کھول دیے ہیں حوثی باغیوں نے حالیہ حملے میں سعودی عرب کی فوجی کاروائی اور اپنی اعلانیہ بحریہ ناکابندی کا جواب بتایا ہے ۔ان کے مطابق سعودی عرب سے جڑے جہازوں کو اس لئے نشانہ بنایاگیا کیوں کہ وہ سعودی بندرگاہوں کے لئے مال ڈھورہے تھے یا حوثیوں کی اعلانیہ ناکابندی کی خلاف ورزی کررہے تھے بتادیں کہ حوثی باغی لمبے عرصہ سے سعودی عرب کو یمن جنگ کا اہم فریق مانتے ہیں ۔ان کا الزام ہے کہ سعودی کے فوجی کاروائیوں سے یمن میں بھاری تباہی ہوئی ہے اس لئے وہ سعودی عرب کے اقتصادی اور فوجی مفادات کو نشانہ بنارہے ہیں ۔لال ساگر بتادیں کہ دنیا کے سب سے اہم ترین سمندری تجارت راہداریوں میں سے ایک ہے ۔تیل ٹینکروں پر حملوں سے نہ صرف سعودی عرب کے ایکسپورٹ پر اثر پڑتا ہےبلکہ عالمی تیل سپلائی اور قیمتوں پر بھی دباؤ بنتا ہے حالیہ حملوں کے بعد کچے تیل کےداموں میں بھی اچھال دیکھا گیا ہے ۔دراصل ، یمن میں سرگرم حوثی باغی خاص طور سے دیش کے اقلیتی شہر حسین الحوثی کے نام پر پڑا ۔حوثی خود کو انصار اللہ یعنی ایشور کے حامی کہتے ہیں ۔سال 2003 میں امریکی رہنمائی میں عراق پر حملے کے بعد حوثی تحریک نے امریکہ اور اسرائیل مخالف رخ کی جانب موڑ دیا ۔تنظیم کے حمایتیوں کے درمیان امریکہ اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے گئے جو آج بھی ان کی پہچان کا حصہ مانے جاتے ہیں حوثی تنظیم خود کو حماس اور حزب اللہ جیسے گروپوں کے ساتھ مل کر ایران حمایتی ایکسس آف رسسٹنس یعنی مذاہمت کا پہیے کا حصہ مانتے ہیں ۔اُدھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثی باغیوں کو خبردار کیا کہ اگر جہازوں پر حملے جاری رہے تو ان کے خلاف بڑی فوجی کاروائی کی جائے گی ۔حوثی باغیوں کے حملے سے مشرقی وسطیٰ میں ایک نیا مورچہ کھلنے کا امکان بڑھ گیا ہے ۔عالمی اقتصادی نظام کو پہلے ہی جھنجھوڑ کر رکھا ہے ۔اس تازہ لڑائی کے سبب دنیا بھر میں ایندھن سمیت دیگر چیزوں کی قیمتوں میں تیزی سے اُدھال آیا ہے وہیں ، خلیج فارس میں کشیدگی اور گہری ہو گئی ہے کیوں کہ امریکہ اور ایران سیاسی طور سے اہم ترین ہرمز آبی راستے پر دباؤ اور کنٹرول کو لے کر آمنے سامنے ہیں ۔اے پی کے مطابق سبا نیوز نے حوثیوں کے حوالے سے کہا کہ جمعرات کو لال ساگر میں سعودی عرب کے دو جہازوں این سیلیا اور لابھلا پر ڈرون اور میزائل سے حملے کئے گئے جس سے دونوں میں آگ لگ گئی ۔حوثی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے جوسالوں پرانی ناکابندی کر رکھی ہے اس کی مخالفت میں سعودی جہازوں کے لئے ناکابندی کر دی گئی ہے ۔اِدھر دونوں فریقین میں امن مذاکرات میں خبریں بھی آرہی ہیں ۔
(انل نریندر)