امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر بنی رضامندی بنے ہوئے 20 دن بھی نہیں ہوئے کہ دونوںدیش پھر سے آمنے سامنے آگئے ہیں ،بلکہ امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا کہ میرے حساب سے اب جنگ بندی ختم ہو چکی ہے ۔دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر تباہ کن حملے شروع کر دئیے ہیں ۔یہ جنگ بندی بے اعتمادی کے ساتھ ہوئی تھی کہ دونوں ہی فریق ایک دوسرے پر بھروسہ نہیںکرتے تھے ۔امریکہ یہ جنگ بندی اس لئے چاہتا تھا کہ ٹرمپ امریکی عوام کے دباؤ کو جھیلنے میں مشکل کا سامنا کررہے تھے ۔اور وہ کسی بھی حالت میں اس جنگ کو روکنا چاہتے تھے ۔ چاہتے تو وہ یہ بھی تھے کہ کسی بااعتماد طریقہ سے وہ اس سے باہر نکلیں دوسری جانب ایران اس لئے تیار ہوا کہ اس نے سوچا کہ 20 دن کی جنگ میں جو نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی کر سکے اور اتنا ہی دباؤ امریکہ پر بنا سکے کہ وہ اس کی شرائط پر سمجھوتہ کر لے ۔حالانکہ وہ جانتا تھا کہ ٹرمپ جنگ بندی کی شرطوں پر ٹک نہیں سکیں گے لیکن پھر بھی اس نے جوا کھیلا ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان پھر سے جنگ چھڑ گئی ہے ۔ٹرمپ شاید اب اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ یہ جنگ اب ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ سکتی ہے اب وہ باامید ہوگئے ہیں اور ٹرمپ نے لمبے عرصہ کے بعد پھر سے حملے شروع کر دئیے ہیں ۔ٹرمپ کے اعلان کے بعدا مریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کئے ہیں فوج نے خود بیان جاری کر اس کی اطلاع دی ہے ایران کے الگ الگ علاقوں میں حملے کئے جارہے ہیں ۔اب جنگ موسیٰ آئیکلینڈ ، بندرعباس جیسے ایرانی اہم ترین ٹھکانوں پر امریکہ دھماکے کررہا ہے۔ چابہار میں بھی حملے ہوئے ہیں جس کے بعد اب یہاں بجلی سپلائی ٹھپ ہو گئی ہے ۔امریکہ کا کہنا ہے اسٹریٹ آف ہرمز میں ہوئے جہازوں پر حملے کا یہ بدلاہے ۔امریکہ سینٹرل کمان نے ہرمز اسٹریٹ آبی راستے میں آمد ورفت کو خطرے میں ڈالنے کو ایران کی صلاحیت اور کمزور کرنے کے لئے اس کے خلاف مزید حملے شروع کر دیے ہیں اب امریکہ اہم ترین بین الاقوامی آبی راستے پر آزادانہ طور پر آجارہے جہازوں اور شہری ٹیم کے خلاف حال ہی میں کئے گئےحملے کے لئے ایران کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے ۔جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں 85 جگہ میزائل اور ڈرون داغے ہیں ۔زیادہ تر حملے بحرین اور کویت میں امریکی بیس پرہوئے ۔ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ دھوکہ دینا امریکہ کی فطرت میں شامل ہے ۔لیکن ایران اپنا حق لے کر رہے گا ۔امریکہ کے حملوں کے بعد ایرانی صد ر اس افراتفری کے دوران عراق کے کربلا سے تحران لوٹ گئے ہیں اس درمیان دیر رات ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اگر حملہ کرتا ہے تو ہرمز کو پوری طرح سے بند کردیاجائے گا اس درمیان امریکہ نے ایران پر ایک بار پھر کچے تیل برآمدات پر روک لگا دی ہے ۔امریکہ نے معاہدے کے تحت ایران کو تیل بیچنے کی چھوٹ دی تھی ۔2019 کے بعد پہلی بار ایران کے ڈالر کے بدلے تیل بیچنے کی منظوری ملی تھی ۔ترکیہ میں ناٹو سمٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی لوگ بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں ان کے ساتھ آگے بات چیت کرنا وقت کی بربادی ہے ۔میں نے امن لانے کی کوشش کی لیکن اب جلد ہی قہر ٹوٹے گا۔ ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد بدھوار کی صبح ایران کے اہم بندرگاہ عباس سمیت 80 ٹھکانوں پر تابڑتوڑ ہوائی حملے کئے گئے ۔ایران کے 8 فوجی مارے گئے ہیں جبکہ 60 بجلی گھر ت باہ ہو گئے ہیں ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد بقر غالیباف نے ان حملوں پر رائے زنی کرتے ہوئے لکھا کہ امریکہ نے اب تک یہ نہیں سیکھا ہے کہ دھمکانے اور خود وعدے توڑنے کی قیمت اب اسے چکانی پڑے گی۔ میں صاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر آپ حملے کریں گے تو جوابی حملے بھی ہوں گے ۔یہ سنانے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں جیسے ایران اسٹریٹ آف ہرمز پر زیادہ بالادستی جمانے کی کوشش کررہا ہے ویسے ہی امریکی صدر بھی دنیا اور اپنے دیش واسیوں کو یہ دکھانے کے لئے بے چین ہے کہ وہ ایران کو اپنی شرطوں پر جھکنے پر مجبور کرسکتے ہیں ۔اب یہ جنگ لمبی کھچنے کا پورا امکان ہے ۔شاید اسرائیل بھی یہی چاہتا ہے کہ جنگ بندی ٹوٹے اور ایک بار پھر ایران پر مکمل حملہ ہو ۔
(انل نریندر)