اشاعتیں

اجیت پوار پلین کریش سے جڑے سوال!

آخر ہم ان ہوائی حادثات میں کتنی قیمتی جانیں گنوائیں گے؟ اگر حالیہ پلین حادثوں پر نظر ڈالیں تو 2021 میں سی ڈی ایس جنرل وپن راوت جو بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف تھے ،کا دسمبر 2021میں تاملناڈو کے کنور کے پاس ایئر کریش میں موت ہوگئی تھی۔ 2 دسمبر 2009 آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلی وائی ایس راج شیکھر ریڈی کا ہیلی کاپٹر نلہ مالہ جنگل میں حادثہ کا شکار ہو گیا۔30اپریل2011 کو اروناچل پردیش کے سابق وزیر اعلی ڈورجی کھانڈو کاتوانگ سے ایٹہ نگر جارہا ہیلی کاپٹر کریش ہوگیا اور ان کی موت ہوگئی ۔ 12جون 2025 کو احمد آباد میں ہیلی کاپٹر ایئر کریش میں سابق وزیر اعلی وجے روپانی سمیت242مسافروں کی موت ہوگئی۔ سابق لوک سبھا اسپیکر جی ایم سی بال یوگی کا بھی ندھن ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہوا۔ اور اب مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی اجیت دادا پوار کی پلین کریش میں موت ہوگئی۔پونے ضلع میںبارہمتی میں ہوئے اس حادثہ کی کئی پہلوئوں سے جانچ کی جارہی ہے، کیا یہ محض حادثہ تھا، پائلٹ کی غلطی تھی یا پھر کوئی سازش؟ اس کا جواب تو گہری جانچ سے ہی مل سکتاہے،اگر کبھی ملا بھی؟ کیونکہ آج تک جتنے بھی حادثے ہوئے ہیں ان میں سے ...

ایران کو ٹرمپ کی دھمکی!

جس طرح سے امریکہ نے ایران کو چاروں طرف سے جنگی ہتھیاروں و جدید ترین ساز وسامان سے اس وقت گھیر رکھا ہے ایسا جماوڑا ہم نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کبھی نہیں دیکھا ۔ایئر کرافٹ کیریئروں 500 جنگی جہازوں ، ہزاروں فوجیوں سے اس وقت ٹرمپ نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو گھیر رکھا ہے ۔ٹرمپ نے ایران پر نیوکلیائی معاہدہ مذاکرات کے لئے دباؤ بنانے کے مقصد سے یہ جنگی بیڑا بھیجا ہے ۔ٹرمپ نے ایران کو سیدھی دھمکی دی ہے کہ وہ نیوکلیائی معاہدہ کر لے ورنہ اس پر اگلا حملہ اور خطرناک ہوگا ۔ادھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کی فوج کسی بھی امریکی فوجی کاروائی کا زوردار جواب دے گی ۔ایرانی وزیرخارجہ عباس اشرافی نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ان کی فوج تیار ہے اور دیش پر کسی بھی حملے کا زوردار جواب دینے کے لئے ٹرائگرپر انگلی رکھے ہوئے ہے۔ یہ خطرناک تبصرہ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد آیا ہے ۔جس میںٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران متنازعہ نیوکلیائی پروگرام پر امریکہ کے ساتھ ڈیل کرے ورنہ اسے بڑے پیمانہ پر امریکی حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ادھر ٹرمپ نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس ہمارا بڑا جنگی بیڑا ہے ۔وینزویلا سے بھی بڑا ...

مہاراشٹر کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا!

مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی بدھ کے روز طیارہ حادثہ سے جہاں پورا دیش حیران ہے اور غم میں ڈوبا ہوا ہے وہیں یہ بھی سوال اٹھ رہا ہے کہ ان کی اچانک موت سے مہاراشٹر کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟ 66 سالہ اجیت پوار کی پرائیویٹ جہاز مہاراشٹر کے بارامتی میں لینڈکرتے وقت حادثہ کا شکار ہو گیا ۔بتادیں کہ اجیت پوار نے جولائی 2023 میں اپنے چاچا شردپوار کی قیادت والی راشٹریہ کانگریس پارٹی (این سی پی ) سے بغاوت کر دی تھی ۔2023 میں 2 جولائی کو وہ اپنی پارٹی کے 8 ممبران کے ساتھ مہاراشٹر سرکار میں شامل ہو گئے تھے اور حکومت میں نائب وزیراعلیٰ بنے۔ شردپوار سے بغاوت کر ایکناتھ شندے سرکارمیں شامل ہونے کے اپنے فیصلے پر اجیت پوار نے کہا تھا وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت ترقی کررہا ہے ۔اس لئے بی جے پی کے ساتھ کچھ اختلافات ہونے کے باوجود این سی پی نے مہاراشٹر کی ترقی کے لئے سرکار کے ساتھ ہاتھ ملانے کا فیصلہ کیا ۔نومبر 2024 میں مہاراشٹر میں اسمبلی چناؤ ہوئے اور اجیت پوار اپنے چاچا پر بھاری پڑے ۔حالانکہ چھ مہینے پہلے ہی لوک سبھا چناؤ میں اجیت پوار کی پارٹی کو صرف ایک ہی سیٹ پر جیت ملی تھی ۔تب ...

ٹرمپ کو اسی زبان میں جواب!

بڑبولے اور بے لگام بولنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اگر انہیں کی زبان میں جواب دیا ہے تو وہ ہے کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی ۔دراصل ہوا یہ مارک کارنی سوئزرلینڈ کے داؤس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فارم میں تقریر کررہے تھے ۔مارک کارنی کی دی گئی تقریر کو امریکی دب دبے والے ورلڈ آرڈر کو آئینہ دکھانے کی شکل میں دیکھاجارہا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ دنیا کے تقریباً ہر دیش ٹرمپ کی پالیسیوں سے پریشان ہیں لیکن اس طرح بولنے کا خطرہ مارک کارنی نے اٹھایا ۔منگل کو سوئزرلینڈ کے داؤس میں ورلڈ اکنامکس فارم سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ طاقتور ملکوں کے عزم میں مڈ ل پاور والے ملکوں کے سامنے دو متبادل ہیں ۔۔یا تو حمایت پانے کے لئے آپس میں مقابلہ کریں ہمت کے ساتھ یا تیسرا راستہ بنائیں اور ایسا کرنے کے لئے ساتھ آئیں ۔بھار ت سمیت دنیا کے باقی ملکوں کو لگ رہاہے کہ ابھی چپ رہنا زیادہ بہتر ہے ۔دوسری طرف کینیڈا کے وزیراعظم کو لگ رہا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں کوئی انفیکشن نہیں بلکہ تباہی کے حالات ہیں ۔اور پھوٹ کا پردہ ہٹ رہا ہے ۔مارک کارنی کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ پرانے نظام واپس نہیں آئے گا ۔اور اس ک...

میں ہی ہوں شنکر آچاریہ !

پچھلے کچھ دنوں سے بی جے پی انتظامیہ اور شنکر آچاریہ منی مکتیشور آنند جی مہاراج میں جم کر تنازعہ چھڑا ہوا ہے ۔ایک طرف شنکر آچاریہ جی اور دیگر سادھوسنت ہیں تو دوسری طرف اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کا میلہ انتظامیہ ہے ۔سارا معاملہ شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند سرسوتی کے پریاگ راج میں گنگا اسنان نہ کرنے کو لے کر شروع ہوا ۔پریاگ راج میں چلے ماگھ میلے میں مونی اماوسیہ کے موقع پر ہونے والے روایتی شاہی اسنان کو لے کر جوتش پیٹھ کے شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند سرسوتی اور میلہ انتظامیہ کے درمیان سوامی جی کے پالکی پر سوار ہوکر اسنان کو لے کر شروع ہوا ۔انتظامیہ نے سوامی جی کی پالکی پر اسنان کرنے سے روکا اس پر انتظامیہ اور سوامی جی کے حمایتیوں میں ہاتھا پائی تک ہو گئی ۔سوامی جی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے حکام نے نہ صرف سوامی جی کی پالکی کو توڑنے کی کوشش کی بلکہ ان کے حمایتی سادھو بھکتوں کی جٹا سے پکڑ کر مارا ۔اور جیل میں ٹھونس دیا ۔اس کے احتجاج میں شنکر آچاریہ جی نے دھرنا شروع کر دیا جو اب بھی جاری ہے ۔سوامی جی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی معافی کے بغیر آشرم میں ...

گرین لینڈ کو لے کر رہیں گے :ٹرمپ

پچھلے کئی دنوں سے گرین لیڈکو لے کر زبردست رسہ کشی جاری ہے ۔اس ڈرامہ کے تین اہم کردار ہیں ۔پہلے ہے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو کررہے ہیں کہ اب وقت آچکا ہے ، گرینڈ لینڈ لے کر ہم رہیں گے۔ٹرمپ جھکنے کے موڈ میں نہیں لگتے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈکو اپنی ناک کا سوال بنا لیا ہے ۔وہ کبھی گرین لینڈکی فوج کا مذاق اڑاتے ہیں تو کبھی وہاں فوجی کاروائی کی بات کرتے ہیں ۔ٹرمپ نے یوروپی ممالک کو کھل کر دھمکی دے ڈالی ہے کہ جو دیش گرین لینڈ سے جڑے امریکی ارادوں کی حمایت نہیں کریں گے ،انہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔انہوں نے اب تو 8 یوروپی ملکوں پر دس فیصد ٹیرف لگانے کی بھی دھمکی دے ڈالی ہے ۔ٹرمپ کسی بھی قیمت پر گرین لینڈ حاصل کرنا چاہتےہیں وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر امریکہ نے گرین لینڈ پر اپنا قبضہ نہیں کیا تو روس یا چین اس پر اپنا قبضہ کر لے گا تو پہلا کردار تو ڈونلڈ ٹرمپ ہیں ۔دوسرا کردار یوروپی ممالک ہیں ۔گرین لینڈ مسئلے پر ٹرمپ نے یوروپ کے 8 ملکوں پر ٹیرف بڑھانے کی وارننگ پر یوروپی یونین نے سخت رخ اپناتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی دباؤ بنانے کے لئے ٹیرف لگایاجائے گا تو یوروپی یونین بھی جواب...

چاہ بہار پربھارت کے پیچھے ہٹنے کی قیاس آرائیاں!

ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ملکوں پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد سے ہی یہ سوال بناہوا تھا کہ بھارت پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟ ایران سے بھارت کی تجارت امریکی پابندیوں کے سبب بے شک وہاں نہیں ہے لیکن ایران حکمت عملی طور سے بھارت کے لئے کافی اہم ہے ۔ایران کے جنوبی ساحل پر سیستان -بلوچستان صوبہ میں واقع چاہ بہار بندرگاہ اسی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے ۔اسے بھارت اور ایران مل کر بنا رہے تھے تاکہ بھارت کو وسطی ایشیا اور افغانستان تک سیدھے پہنچ مل سکے ۔چاہ بہار بھارت کے لئے اس لئے بھی اہم ہے کیوں کہ اس کے ذریعے وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا پہنچ سکتا ہے ۔لیکن امریکہ کے مزید ٹیرف کے اعلان کے بعد سے بھارت کے چاہ بہار بندرگاہ سے باہر ہونے کی خبریں زور پکڑنے لگی ہیں ۔ان خبروں اور قیا س آرائیوں کو دیکھتے ہوئے بھارت سرکار نے گزشتہ جمعہ کو جواب دیا ہے ۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو یہاں کہا ،جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 28 اکتوبر ،2025 کو امریکہ کے محکمہ مالیات نے ایک خط جاری کیا تھا جس میں 26 اپریل، 2026 تک جائز اور مشروط پابندی چھوٹ کی سمت میں گ...