ایران نے ہرمز اسٹریٹ بند کر امریکہ کے سبھی حکمت عملی حساب کتاب اور عالمی مارکیٹ کو ہلادیا ہے ۔یہ ایران کا ایسا ترپ کا پتا ہے جس نے ٹرمپ کو چاروں کھانے چت کر دیا ہے۔ ایران نے بغیر کوئی بڑا نیوکلیئر قدم اٹھائے صرف ایک ہی سمندری راستے کی چابی اپنے ہاتھ میں لے کر امریکہ کی پوری جنگ کی حکمت عملی کوبدل دیا ہے ۔اب امریکہ ایران کے درمیان جنگ کا سب سے بڑا اشو ہرمز کو کھولنے ، کھلوانے کا بن گیا ہے ۔یاد رہے کہ 28 فروری سے پہلے یہ ہرمز کبھی بند نہیں ہوا تھا۔ یہ خیال تو ایران کو تب آیا جب امریکہ نے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کئے ۔ایران نے ہرمز کو تالالگا کر امریکہ کے سامنے یہ صاف کر دیا ہے کہ اگر بات چیت کرنی ہے تو شرطیں ایران کی ہوں گی ۔ہرمز کا بند ہونا نہ صرف مشرق وسطیٰ میں ہی اثر ڈال رہا ہے لیکن اس کا اثر امریکہ میں بھی سیدھا پڑرہا ہے ۔میں بات کررہاہوں امریکہ میں ہونے والے مڈ ٹرم چناؤ جن میں ٹرمپ کی سیاسی قسمت بہت حد تک ٹکی ہوئی ہے۔ایران نے ٹھیک اسی وقت ہرمز پر دباؤ بنایا ہے جب امریکی ڈپلومیٹک سب سے کمزور موڑ پر ہے ۔ایرا ن سے جنگ امریکی ڈپلومیسی کے لئے ایک بڑا مس کیلکولیشن ثابت ہوا ہے ۔سیز فائر ختم ہونے کے بعد سے ہی امریکہ ایران پر میزائلیں داغ رہا ہے ۔اور ایران جوابی حملے کررہا ہے لیکن ایران نے پھر امریکہ کو جھکانے کے لئے اپنے برہماستر کا استعمال کیا ہے اور بارودی دھماکوں کے بیچ ایرا ن نے ایک بار پھر ہرمز کو بند کر دیا ہے ۔یہ ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ میں وسط مدتی چناؤ سر پر ہیں اور امریکہ کی عوام سے پیٹرول کے دام گرنے کا دعویٰ کررہے تھے ۔ایران نے ٹھیک اسی وقت امریکی معیشت کی سب سے کمزور نس مانی کچے تیل کی سپلائی پر پیر رکھ دیا ہے ۔امریکہ -ایران کے درمیان حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ہرمز اسٹریٹ میں کشیدگی بڑھنے اور کچے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی چناؤ پر اس کا سیدھا اثر پڑنے والاہے ۔والٹ اینڈ ووٹ سبھی تجزیے امریکی سیاست کا کڑا سچ ہیں ۔کیوں کہ امریکی سیاست میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ راشٹر پتی چاہے کوئی بھی وعدہ کریں لیکن ووٹر اپنا فیصلہ پیٹرول پمپ پر تیل کی قیمتوں کو دیکھ کر ہی طے کر تا ہے ۔اس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی مخالف پارٹی رپبلکن پارٹی پر بھاری سیاسی دباؤ بڑھے گا ۔صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد پیٹرول کے دام 2.5ڈالر فی گیلن تک لانے کا وعدہ کیا ہے ۔لیکن ہرمز کرائسس کے سبب کچے تیل کی قیمتیں 80 ڈال سے 100 ڈالر فی بیرل کو پار چلی گئی ہیں ۔جس سے پیٹرول کے دام گھٹنے کے بجائے بڑھ رہے ہیں ۔پیٹرول مہنگا ہونے کا مطلب کہ عام امریکی خاندان کے بجٹ پر سیدھا دباؤ پڑے گا ۔امریکی عوام کی جیب پر سیدھی مار ہوگی اس سے امریکہ میں مہنگائی بڑھے گی ، ٹرانسپوٹیشن ڈھلائی بڑھنے سے سپر مارکیٹ کے سامان کو لے کر ہوائی ٹکٹ تک سب مہنگاہو جائے گا ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی چناؤ سے ٹھیک پہلے امریکہ میں ایندھن کے دام بڑھے ہیں تو حکمراں پارٹی کو چناؤ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔جیسے 1980 میں جمی کارٹر کے ساتھ ہوا تھا ۔ہرمز بند ہوتے ہی عالمی مارکیٹ میں کچے تیل کے دام تیزی سے بڑھنے لگے ہیں ۔انٹرنیشنل بنچ مارک بریٹ کروڈ 3.92 فیصد سے بڑھ کر 78.99 فی بیرل ہو گیا ہے اور امریکی کچا تیل 3.44فیصد سے برھ کر 77.87ڈالر فی بیرل ہو گیا ہے ۔اگر ہرمز لمبے عرصہ تک یونہی بند رہتا ہے تو اس کا اثر امریکہ پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر پڑے گا اور ایسا ہونے سے روکنے کی چابی صرف ایران کے ہاتھ میں ہے ۔
(انل نریندر)