Translater

23 مئی 2026

ٹرمپ نے کیسے ایران جنگ میں کمائے پیسے ؟

ڈونلڈ ٹرمپ پر پہلی بار کسی امریکی صدر پر جنگ سے کمائی کرنے پر سوال اٹھنے لگے ہیں ۔اب ٹرمپ ٹریڈنگ وار میں گھر گئے ہیں ۔نئے مالی انکشافات کے مطابق سال 2026 کی پہلی سہ ماہی یعنی جنوری سے مارچ 2026 کے درمیان ٹرمپ یا ان کے مشیروں کی منڈلی نے 3700 سے زیادہ شیئر سودے کئے ۔روز تقریباً 40 شیئر سودے ہوئے ہیں ان میں ٹرمپ کو تقریباً 800 کروڑ روپے یعنی تقریباً 83 ملین ڈالر سے زیادہ کی کمائی ہوئی ۔یہ شیئر این ویڈیا ، بوئنگ ،مائیکروسوفٹ ،میٹا ،ایمازون اور اوریبل و کاسٹیکو جیسی کمپنیوں کے تھے ۔ٹرمپ تنازعوں میں اس لئے ہیں چونکہ کمپنیاں ، ڈیفنس سودے ، اے آئی قواعد اور چپ وسیمی کنڈکٹر درآمدات یا پھر ایکسپورٹ سے وابستہ ہیں ۔وال اسٹریٹ کی کمپنی ایرک ڈیٹن کے مطابق امریکہ کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے جب کوئی امریکی صدر مالی لین دین اور مفادات کے ٹکراؤ کے اشو پر سوالوں کے گھیرے میں ہے ۔ ادھر وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کر شیئر ٹریڈنگ کو لے کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر لگے الزامات سے انکار کیا ہے ۔ٹرمپ مازو نائز یرن پورے کاروبار کو سنبھالتا ہے ۔بیٹے جونیئر ٹرمپ کے پاس امریکہ اور یوروپ سے سرمایہ لانے کی ذمہ داری ہے جبکہ داماد زیروڈ کشنر کی کمپنی ایفنٹی پارٹنرس ، سعودیہ عرب اور دیگر خلیجی ملکوں کے سرکاری ویلتھ فنڈ سے ملے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو سنبھالتی ہے ۔اس رقم کو شیئروں میں ڈائیورٹ کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے پورٹ فولیو میں پچھلے سال کے آخری تین مہینوں میں 380 شیئر ٹریڈنگ کے ریکارڈ ہیں جبکہ اس سال 10 فروری کو ہی ٹرمپ نے مائیکروسافٹ ،میٹا اور ایمازون میں اپنے شئروں کی حصہ داری کو بیچ کر تقریباً 350 کروڑ روپے کی کمائی کی تھی ۔اس سے کچھ دن پہلے ہی ٹرمپ نے اینٹی ٹرسٹ اور اے آئی ریگولیشن و ڈیٹا پالیسیوں سے متعلق بڑے فیصلے کئے ۔ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے کبھی جنگ تو کبھی بات چیت کے بیانوں سے تیل اور اسٹاک وعدہ بازاروں میں بھاری اتھل پتھل رہی جب بھی ٹرمپ جنگ سے متعلق بیان دیتے تو تیل کے دام میں اچھال آجاتے جبکہ بات چیت والے بیان سے شیئر بازار میں تیزی آجاتی ۔
(انل نریندر)

عمران کا تختہ پلٹ امریکہ کی سازش تھی

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی سرکار گرنے کو لے کر بڑا انکشاف ہو ا ہے ۔افشاں دستاویزوں کی بنیاد پر دوعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران کی کرسی صرف عدم اعتماد تحریک سے نہیں گری تھی بلکہ اس کے پیچھے امریکی سازش اور پاک فوج کا رول تھا ۔دراصل عمران نے 24 فروری 2022 کو روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ماسکو میں ملاقات کی تھی ۔ٹھیک اسی دن روس نے یوکرین پر حملے شروع کئے تھے ۔رپورٹ کے مطابق امریکہ عمران کے اس دورہ سے ناراض تھا ۔وہ چاہتا تھا کہ پاکستان یوکرین جنگ پر روس کی کھل کر نکتہ چینی کرے ، لیکن عمران سرکار نے غیر جانبدار رخ اپنایا ۔ 7 مارچ 2022 کو واشنگٹن میں پاکستان کے اس وقت کے سفیر اسد ماجد خان اور امریکی معاون وزیرخارجہ زونالڈ لو کے درمیان بات چیت ہوئی ۔لو نے ماجد سے کہا کہ اگر عمران عدم اعتماد کی تجویز میں ہار جاتے ہیں تو امریکہ سب معاف کر دے گا ۔اس کے 33 دن بعد 9 اپریل 2022 کو عمران سرکار گر گئی ۔واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں لو نے ماجد کو لنچ پر عمران کو ہٹانے کا دباؤ دیا تھا ۔عمران کے ہٹنے کے اگلے دن ہی شہباز شریف نے اقتدار سنبھال لیا ۔نومبر 2022 میں جنرل باجوا عہدے سے ریٹائر ہوئے ۔اور آرمی چیف عاصم منیر کا عروج ہوا ۔عمران نے الزام لگایا تھا کہ منیر کی تقرری سابق وزیراعظم نواز شریف کے مشورے کے بعد ہوئی تھی ۔باقی تو تاریخ ہے امریکہ کسی بھی ایسی سرکار کو برداشت نہیں کرتا جو اس کی مخالفت کرے اور روس سے نزدیکی بنائے ۔
(انل نریندر)

21 مئی 2026

یو اے ای کے براقح نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ

متحدہ عرب امارات (یو اے ای ) کے القفرہ علاقہ میں قائم براقح نیوکلیئر پاور پلانٹ کے کمپلیکس میں پیر کے روز ایک ڈرون حملہ ہوا ۔ اور اس کے بعد اس میں آگ لگ گئی حالانکہ کسی کے زخمی یا مرنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ایران اور یو اے ای اب لگتا ہے کہ جانی دشمن بن چکے ہیں ۔ڈرون سے براقح نیوکلیئر پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا ۔اس حملے کو یو اے ای نے بغیر کسی وجہ کے دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ۔دراصل اس حملے کی ذمہ داری فی الحال کسی بھی گروپ نے نہیں لی ہے مگر یو اے ای کا الزام ایران کی طر ف ہے ۔یو اے ای کا خیال ہے کہ یہ حملہ ایرا ن نے ہی ڈرون کے ذریعے کیا ہے ۔پچھلے کئی دنوں سے ایرا ن اور یو اے ای میں ٹکراؤ جاری ہے ۔ایران کا خیال ہے کہ یو اے ای کھل کر امریکہ اور اسرائیل کی مدد کررہا ہے اور اس کی سرزمین سے ہی امریکی حملے ہورہے ہیں ۔خبر تو یہاں تک ہے کہ موجودہ جنگ کے دوران ہی اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اور ان کے موساد چیف نے یو اے ای کا خفیہ دورہ کیا تھا ۔ڈرون حملے سے براقح پلانٹ کے باہری زون میں واقع ایک الیکٹرک جنریٹر میں آگ لگ گئی یہ آگ پلانٹ کے اندرونی احاطہ کے باہر لگی تھی ۔فیڈرل نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے کہ آگ سے پلانٹ کی حفاظت یا اس کے ضروری سسٹم پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے اور سبھی یونٹ ٹھیک ٹھاک کام کررہے ہیں ۔سبھی ضروری احتیاطی قدم اٹھا لئے گئے ہیں اور لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے ہی جانکاری لیں اور افواہوں سے بچیں ۔بیان میں ڈرون حملے کے ذرائع کے بارے میں کوئی بھی جانکاری نہیں دی گئی ہے ۔ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم نے کوئی حملہ نہیں ہے تو پھر حملہ کس نے کیا ؟ کیا کوئی تیسری طاقت اپنا کھیل تو نہیں کھیل رہی ہے ۔دونوں ملکوں کو لڑوا کر اپنا اللو سیدھا کرے اس سے پہلے بھی پانچ مئی کو یو اے ای نے کہا تھا کہ اس کے کچھ زونوں پر ایران سے داغی گئی میزائلیں اور ڈرون سے حملہ کیا گیا ۔لیکن ایران کی فوجی کمان نے اس الزام سے انکار کیا تھا ۔ایرانی حکام نے یو اے ای کے ان الزمات کو بھی مسترد کر دیا تھا جس میں ایران پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا ۔دراصل یو اے ای کو ایران اس لئے اپنا دشمن مان رہا ہے ،کیوں کہ اسے لگتا ہے کہ یو اے ای کی سرزمین کا استعمال کرکے ہی امریکہ نے اس پر حملے کئے ہیں ۔بہرحال اس حملے نے اسرائیل -ایران اور امریکہ کے درمیان چل رہی نازک جنگ بندی کو لے کر تشویشات کو اور بڑھا دیا ہے ۔ایسا لگ رہا ہے کہ ڈپلومیٹک کوشش بھی اب کافی کشیدہ ہوتی جارہی ہیں ۔یو اے ای نے اس حملے کے پیچھے کے لوگوں پر بغیر کسی اکساوے کے دہشت گردانہ حملہ کرنے کا الزام لگایا اور خبردار کیا کہ وہ اپنے ملک کی سرداری پر کسی بھی طرح کے خطرے کو برداشت نہیں کرے گا۔ ساؤتھ کوریا کی مدد سے بنے اور 2020 سے چالو براقح نیوکلیئر پلانٹ اب دنیا کا ایک واحد نیوکلیائی اینرجی پلانٹ ہے ۔20 ارب ڈالر کی لاگت سے بنا یہ پلانٹ یو اے ای کی تقریباً ایک چوتھائی اینرجی ضروریات کو پورا کرتا ہے ۔
(انل نریندر)

19 مئی 2026

چین سے کیا لے کر لوٹے ٹرمپ

2025 میں امریکہ کے اقتدار میں واپس لوٹے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پوری دنیا کے ساتھ رنگ باز کی طرح پیش آرہے تھے ۔ایک سال میں کئی ملکوں نے ٹرمپ کی داداگیری کے تیور دکھانے والے ٹرمپ بیجنگ بھی انہیں تیوروں کے ساتھ پہنچے تھے لیکن جب لوٹے یہ تیور ٹھنڈے پڑ گئے ۔ان کا بھروسہ کچھ یوں غائب ہوا جیسے فری کے وائی فائی کا نیٹورک ۔ایسے میں جاننا ضروری ہو جاتا ہے کہ چین گئے ٹرمپ کیا دے کر آئے ہیں اور کیا لے کر لوٹے ہیں ؟ باہر سے چہرے پر مسکان کے پیچھے نقصان ہے یا فائدہ ؟ جتنی بڑی باتیں اتنی بڑی ڈیل ہمیں تو یہ نظر نہیں آئی ۔بیجنگ چھوڑنے سے پہلے ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہوئے معاہدے کو شاندار ٹریڈ سودہ بتایا ۔انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں سے دونوں ملکوں کو بڑا فائدہ ہوگا ۔ساتھ ہی ٹرمپ نے اسٹریٹ آف ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لئے چین کی مدد قبول کرنے کی بھی بات کہی ۔ٹرمپ نے کہا : ہم نے کچھ شاندار ڈیل کی ہیں جو دونوں ملکوں کے لئے بہت اچھی ہیں ۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس بات چیت کے دوران کئی مسائل بھی سلجھائے گئے ہیں ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین نے 200 بوئنگ طیاروں کی ڈیل پر بھی حامی جتائی ہے ۔یہ ایک محض ٹھوس ڈیل کہی جاسکتی ہے جو اس دورہ پر ہوئی لیکن اس پر ہی چین نے کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔اس دورہ میں ٹرمپ کا کیا رویہ پوری طرح بدلا ہوا تھا ۔عام طور پر جارحانہ اور ٹکراؤ والی سیاست کے لئے جانے جاتے ٹرمپ اس دورہ میں کافی نرم گو اور صبر وتحمل میں نظر آئے ۔انہوں نے شی جن پنگ کی تعریف میں اتنے قصیدے پڑھے جتنے شاید کسی اور وزیراعظم ،صدر کے لئے پڑھے ہوں ۔جن پنگ کی تعریف میں چند پڑھے قصیدے زیلنسکی ہوں یا سابق صدر جوبائیڈن ، 1 سال میں ٹرمپ نے کئی ملکی ،غیر ملکی لیڈروں کی بے عزتی کرنے اور ان کا مذاق اڑانے میں کوئی قصر نہیں چھوڑی ۔ٹرمپ نے کہا -اگر آپ ہالی ووڈ جائیں اور چین کے لیڈروں کے کردار نبھانے کے لئے کسی اداکار کو ڈھونڈیں تو شی جن پنگ بالکل اسی طرح فٹ بیٹھیں گے ۔ٹرمپ کے چین دورہ میں ایک اہم ترین اشو تھا تائیوان وہاں بیجنگ اسے اپنا حصہ مانتا ہے جبکہ امریکہ لمبے عرصے سے تائیوان کی حمایت کرتا رہا ہے ۔لیکن حیرانی کی بات یہ رہی کہ پورے دورہ میں ٹرمپ نے تائیوان کا نام تک نہیں لیا ۔الٹا شی جن پنگ نے ٹرمپ کے منہ پر سنا دیا کہ آج تائیوان کی مدد کرنا بند کریں ۔اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو ہم آپ سے جنگ تک کرنے پر مجبور ہوں گے ۔اس پر بھی ٹرمپ نے کوئی رد عمل نہیں دیا ۔شی جن پنگ نے خبردار کیا کہ تائیوان کا اشو چین ،امریکہ رشتوں میں سب سے حساس ترین ، اہم ترین اشو ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسے صحیح طریقہ سے نہیں سنبھالاگیا تو دونوں ملکوں کے درمیان ٹکراؤ اور یہاں تک کہ جنگ بھی ہوسکتی ہے ۔ٹرمپ نے اپنے شوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوتھ سوشل پر بھی ایسا ہی بیان دیا جس نے لوگوں کو چونکا دیا ۔انہوں نے امریکہ کو گرتا ہوا ملک کہنے والی شی جن پنگ کی بات سے عدم اتفاق جتایا ۔حالانکہ ٹرمپ نے کہا کہ شی کا اشارہ بائیڈن انتظامیہ کے چار سالوں کے بھاری نقصان کی طرف تھا ۔ایک برطانوی تجزیہ نگار نے اپنے کالم میں ٹرمپ کے رویہ پر تلخ نکتہ چینی کی تھی ۔انہوں نے لکھا سودے کی کلا اب اس وقت چاپلوسی کی کلا جیسی لگتی ہے ۔جب دوسرے آدمی کے پاس سارے پتے ہوں انہوں نے کہا شی جن پنگ یہ بات جانتے تھے کہ دنیا کا سب سے بڑا تاجر بھی جانتا تھا لیکن شاید کمرے میں موجود ایک مسافر شخص جسے اس کا احسا س نہیں ہوا ، وہ خود ٹرمپ تھے ۔
(انل نریندر)

16 مئی 2026

ایران کی نیوکلیئر دھمکی

امریک کی طرف سے امن تجویز پر ایران کے جواب کو مسترد کئے جانے کے بعد مغربی ایشیا میں پھر سے جنگ کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے ۔امریکہ کی تجاویز کا ایران کی جانب سے دیے گئے جواب سے صدر ٹرمپ بوکھلا گئے ہیں ۔انہیں ایران کا جواب بالکل پسند نہیں آیا ۔اُدھر ایران نے امریکہ کو ایسی دھمکی دے دی ہے جو ٹرمپ کے لئے کسی بڑے کرائسس سے کم نہیں ہے۔ پہلے سے ہی جو امن مذاکرات وینٹی لیٹر پر تھے ، وہ اب اور نازک حالات میں پہنچ سکتے ہیں اس بار ایران نے صاف کر دیا ہے کہ وہ ویپنس گریڈ نیوکلیئر بم بنانے سے صرف ایک قدم دور ہے اور اسے حاصل کرنے کا حکم قریب ہی دے سکتا ہے ۔نیوکلیائی حملے کو لےکرایران نے سخت وارننگ دیتے ہوئے لحظہ میں 90 فیصد تک افزودگی یورینیم کو صاف کرنے کی بات کہی ہے ۔ایران کی پارلیمنٹ کے ترجمان ابراہیم رضائی نے منگلوار کو کہا ہے کہ ا گر ایران پر پھر حملہ ہوا تو وہ یورینیم کو 90 فیصد صاف کرسکتا ہے ۔ایسے میں یہ یورینیم نیوکلیئر ہتھار کے لئے کارگر ہوگا ۔یہ وارننگ انہوں نے ایکس کے ذریعے سے دی ہے ۔پچھلے جون 2025 میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملے کی وجہ سے ایران کے یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو نقصان پہنچا تھا ۔فی الحال جو متعلقہ یورینیم 60 فیصد ایران کے پاس ہے جس کی مقدار تقریباً 400 کلو ہے ۔فی الحال اس کے بارے میں کسی طرح کی جانکاری نہیں ہے ۔امریکہ مسلسل ایران سے نیوکلیائی پروگرام ترک کرنے کی مانگ کررہا ہے ۔ادھر امریکی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جب تک ایران کے اس یورینیم افزودگی کو نہیں ہٹایاجاتا تب تک کسی طرح کا اثر ایران نیوکلیائی پروگرام پر نہیں پڑے گا ۔28 فروری سے جاری جنگ میں فی الحال سیز فائر چل رہا ہے لیکن یہ بے حد ہی حساس ترین سیز فائر ماناجارہا ہے ۔ایسے میں دونوں فریق کسی بھی ٹھوس نتیجہ پر نہیں پہنچے ہیں ۔امریکہ لگاتار مانگ کررہا ہے کہ ایران اپنے نیوکلیائی پروگرا م کو چھوڑ دے ۔لیکن ایران بھی اپنی شرطوں پر اڑا ہوا ہے ۔ایران بولا -امریکہ کے پاس تجویز تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے ۔وہیں امریکہ کے پاس ایران کی طرف سے بتائے گئے 14 نکاتی تجویز کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ایسا ایران کے اسپیکر محمد باقر غالیباف نے کہا جتنا امریکہ دیر کرے گا وہاں کے ٹیکس دہندگان کو اتنی ہی بڑی قیمت چکانی پڑے گا ۔انہوں نے ساتھ کہا ہے کہ ایران ہر متبادل کے لئے راضی ہے ۔پلٹوار کرنے کو تیار ہے ۔ایسا حملہ کرے گا کہ امریکہ بھی چونک جائے گا ۔ایران اور جھکنے کے موڈ میں نہیں نظر آرہا ہے ۔سابق صدر حسن روحانی نے بھی کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم 90 فیصد تک جائیں گے اب جب ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں ہیں اور تہران کے خلاف سخت رخ اپنا رہے ہیں تو میں نیوکلیئر کانڈ کی پوری دنیا کو ایک ایسی جنگ میں جھو نک سکتا ہے ۔اسے روکنا شاید کسی کے بس میں نہیں ہوگا ۔
(انل نریندر)

14 مئی 2026

نیتن یاہو کی کھلی وارننگ: ابھی جنگ ہو سکتی ہے

ایران او ر امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے باوجود مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کی لپٹیں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں ۔اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایک امریکی ٹی وی چینل پر ایک دھمکاکو انٹرویو دیتے ہوئے صاف کر دیا ہے کہ ایران کا نیوکلیائی خطرہ ٹلا نہیں ہے ۔نیتن یاہو کا یہ پیغام نہ صرف ایران بلکہ ٹرمپ انتظامیہ اور پوری بین الاقوامی برادری کے لئے ایک بڑی وارننگ ہے ۔وزیراعظم نیتن یاہو نے سی بی ایس کے صحافی اسکارٹ پیلی کو دیے 18 منٹ کے انٹرویو میں پہلی بار ایران کے نیوکلیائی ذخیرے کی تفصیلات پیش کیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ابھی بھی 440 کلو گرام 60 فیصد افزودگی یورینیم کا ذخیرہ ہے ۔نیتن یاہو نے سخت لحظہ میں کہا جنگ بندی اپنی مرضی ہے لیکن نیوکلیائی خطرہ ختم نہیں ہوا ہے ۔آپ وہاں جائیں گے اور اسے ہٹا دیتے ہیں ابھی کام پورا ہونا باقی ہے ۔نیتن یاہو نے ایک اہم ترین بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اب امریکہ کی فوجی مدد 3.8  بلین ڈالر سالانہ پر اپنی ایکسپورٹ میں کمی کرنی چاہیے انہوںنے اشارہ دیا کہ اسرائیل اپنی حفاظت کے لئے پوری طرح آزاد ہونے کا پلان بنارہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر بغیر کسی باہری دباؤ کے کاروائی کر سکے ۔ اس انٹرویو کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹوٹھ سوشل پر لکھا : ہم اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں ۔بنجامن ایک بڑے ایک مہان لیڈر ہیں اور ہم دونوں ایک پیج پر ہیں ۔اس سے صاف ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پالیسی اور بھی جارحانہ ہوسکتی ہے ۔ایران نے پاکستان کے ذریعے جو امن تجویز بھیجی تھی اسے اسرائیل نے بھی ایک خانہ پوری قرار دیا ہے ۔اسرائیل کا ایک ہی موقف ہے جب تک سارا افزودگی یورینیم دیش سے باہر نہیں جاتا تو کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔نیتن یاہو کے اس موقف نے صاف کر دیا ہے کہ اسرائیل ایک طرفہ کاروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا ۔یہاں ایک طرف دنیا امن کی امید لگائے بیٹھی ہے ،وہی نیتن یاہو یہ بیان دے کر یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مغربی ایشیا کی سیاست اور سیکورٹی کے لئے فیصلہ کن ہونے والی ہوسکتی ہے ۔کیا یہ محض ایک ڈپلومیٹک دباؤ ہے یا اسرائیل سچ میں کسی بڑی فوجی کاروائی کی تیاری میں ہے ؟ امریکہ جہاں ایران کے ساتھ امن چاہتا ہے وہیں اسرائیل اس سمت میں بڑا روڑا بنتا دکھائی دے رہا ہے ۔امریکہ بیشک ایران سے جنگ ختم کرنا چاہتا ہو لیکن اسرائیل ہے کہ اسے یہ کرنے نہیں دے رہا ہے ۔امریکہ ایک طرفہ چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ اس کی صلح ہو جائے ، وہیں اسرائیل ایسا ہونے نہیں دے گا اور لڑائی جاری رکھنے میں بنجامن نیتن یاہو کے ذاتی مفاد بھی ہیں اس پر کرپشن کے الزام لگے ہوئے ہیں اور اسرائیلی عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمے چل رہے ہیں ان سے بچنے کے لئے نیتن یاہو کہیں نہ کہیں جنگ کو بڑھاوا دیتا ہے اور اس کی آڑ میں عدالتوں سے بچتا رہتا ہے اس لئے اگر ایران سے جنگ بندی ہو تو وہ لبنان میں جنگ شروع کر دیتا ہے ۔جب ایران اور امریکہ کی سیز فائر کی بات ہوئی تب بھی نیتن یاہو نے صاف کہا کہ اس میں اسرائیل-لبنان جنگ شامل نہیں ہے ۔وہ مشرقی وسطیٰ میں کسی بھی سمجھوتہ کو توڑنے میں لگا رہتا ہے۔ اصل جنگ کا قصوروار نیتن یاہو ہے ۔
(انل نریندر)

12 مئی 2026

سیز فائر اور جنگ

ایک طرف تو امریکہ ایران کے درمیان کہنے کے تو سیز فائر یعنی جنگ بندی چل رہی ہے ۔وہیں دوسری طرف جنگ بھی جاری ہے ۔یہ سیز فائر اپنی سمجھ سے تو باہر ہے ۔دعویٰ کیاجارہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے بیچ اگلے ہفتے اسلام آباد میں بات چیت ہو سکتی ہے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان 14 نکاتی معاہدے پر کام چل رہا ہے ۔جس میں نیوکلیائی پروگرام ،ہرمز کشیدگی جیسے اشوز شامل ہیں اس درمیان ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے رول کو لے کر بھی نئی جانکاری سامنے آئی ہے ۔امریکی ایجنسیاں انہیں جنگ اور بات چیت میں اہم مان رہی ہیں ۔رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے بیچ اگلے ہفتے اسلام آباد میں جو بات چیت ہونی ہے اس میں ایک اہم اشو ایک ماہ چلنے والی بات چیت کے خاکے کوتیار کرنا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے بیچ کشیدگی اور جنگ ختم کی جاسکے ۔رپورٹ کے مطابق اس تجویز میں ایران کے نیوکلیائی پروگرام اور ایران کے پاس موجودہ ہائی اینرچ یورینیم کو کسی دوسرے دیش میں بھیجنے جیسے اشوز شامل ہیں ۔حالانکہ کئی اہم معاملوں پر ابھی بھی اتفاق رائے نہیں ہوپایا ہے ۔سب سے بڑا تنازعہ نیوکلیائی پروگرام اور امریکہ کی طرف سے ایران پر لگی پابندیوں میں راحت کو لے کر ہے ۔اس درمیان ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو لے کر جانکاری بھی سامنے آئی ہے ۔امریکی خفیہ ایجنسیوں کا خیال ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگ کی حکمت عملی طے کرنے اور امریکہ سے بات چیت کو سنبھالنے میں بڑا رول نبھا رہے ہیں ۔اہم ترین یہ ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ٹھیک ہیں اور انہوں نے اپنی کمان سنبھال لی ہے ۔ایک طرف تو سیز فائر جاری ہے اور ڈیل کی بات ہورہی ہے دوسری طرف ہرمز کو لے کر خطرناک جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کو ایک بار پھر جھٹکا لگا ہے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو امریکہ اور ایران کے بیچ حملے پھر شروع  ہو گئے ہیں ۔حملے کے درمیان 8 اپریل 2026 سے چلی آرہی نازک جنگ بندی ٹوٹنےکے دہانے پر پہنچ گئی ہے ۔یہ حملے ہرمز ، کیرام اور بدر عباس علاقہ میں ہوئے ہیں ۔اسٹریٹ آف ہرمز میںہوئی اس جھڑپ کے بعد پورے علاقہ میں کشیدگی پھر سے انتہا پر پہنچ چکی ہے ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ بدتمیزی کی ہے ۔حالانکہ انہوں نے یہ بھی امید جتائی ہے کہ سمجھوتہ اب بھی ممکن ہے ۔امریکہ کے سنٹرل کمان (سنٹکام ) کے مطابق ایرانی فوج نے اسٹریٹ آف ہرمز میں تعینات تین امریکی جہازوں پر میزائلوں اور ڈرون اور چھوٹی بحری کشتیوں سے حملہ کیا ہے ۔حالانکہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے ۔اور جوابی کاروائی میں ایران کے ان فوجی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے جہاں سے یہ حملے شروع ہوئے تھے ۔دوسری جانب ، ایرانی میڈیا تہران ٹائمس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کے سبب ان کے جہازوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا ہے ۔ایرانی فوج کے ترجمان نے واشنگٹن پر سیز فائر خلاف ورزی کا سیدھا الزام لگایا ہے اور ساری دنیا کی نظریں اب مجوزہ اسلام آباد میں امن بات چیت پر ٹکی ہیں ۔تمام دنیا چاہ رہی ہے کہ یہ جنگ رکے اور خطہ میں امن چین پھر سے قائم ہو ۔
(انل نریندر)

ٹرمپ نے کیسے ایران جنگ میں کمائے پیسے ؟

ڈونلڈ ٹرمپ پر پہلی بار کسی امریکی صدر پر جنگ سے کمائی کرنے پر سوال اٹھنے لگے ہیں ۔اب ٹرمپ ٹریڈنگ وار میں گھر گئے ہیں ۔نئے مالی انکشافات کے م...