Translater

17 ستمبر 2026

کیا بھارت کی خارجہ پالیسی بدل رہی ہے؟

نئی دہلی میںاختتام پذیر ہوئی 18ویں برکس سمٹ میں جاری مشترکہ اعلانیہ میں مڈل ایسٹ کو لیکر اپنایا گیا رخ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس اعلانیہ میں بغیر کسی دیش کا نام لئے ایسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے جس کی شاید امید بہت کم لوگوں کو تھی اور یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہے کہ بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کرنا شروع کردی ہے۔ اس اعلانیہ دستاویز میں جس پر سبھی متعلقہ ممالک نے اپنی منظوری دی ہےاور جوائنٹ اعلانیہ پر دستخط کئے ہیں مطلب سب ممالک کی اس میں رضامندی ہے۔ اعلانیہ دستاویز میں دو تین نقطہ ایسے ہیں جو اب تک کی ہندوستان کی خارجہ پالیسی سے میل نہیں کھاتے۔ اس اعلانیہ دستاویز میں اسرائیل اور امریکہ کا نام لئے بغیر فلسطین اور لبنان کا ذکرکیا گیاہے اور مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات کا پر امن حل تلاشنے کی اپیل کی گئی ہے۔ دلچسپ یہ بھی تھا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ میں ایک دوسرے کے برعکس دونوں محاذ میں کھڑے ایران اور یو اے ای بھی مشرق وسطیٰ کے حالات پرامن طریقے سے حل کرنے کی اپیل کرنے والے ملکوں میں شامل تھا۔برکس اعلانیہ دستاویز میں ٹرمپ امریکی ٹیرف کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن کہا گیا کہ کئی ملکوں کو نا انصافی پر مبنی ، ایک طرفہ منمانے قدموں سے نقصان ہوا ہے ۔ چونکہ اعلانیہ دستاویز میں بھارت نے بھی دستخط کئے ہیں اس کا مطلب صاف ہے کہ پہلی بار امریکہ اور ٹرمپ کا نام لئے بغیر بھارت ٹیرف کی کھل کر مخالفت کررہا ہے۔ اب اسے بھارت کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی مانا جائے؟ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ٹرمپ کا اس پر کیا اثر اور رد عمل ہوتا ہے۔ اسی طرح اعلانیہ دستاویز میں غزہ اور قبضے والے فسلطینی علاقوں انسانی حالات پر بھی توجہ گئی اور تشویش جتائ گئی۔ اس میں غزہ میں سیز فائر بنائے رکھنے اور بغیر کسی رکاوٹ کے انسانی مدد پہنچانے کی اپیل کی گئی۔اس میں فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کئے جانے کی بھی مخالفت کی گئی۔ اس میں بین الاقوامی انسانی حقوق قانون میں ایسے سبھی ذکر کرکے مذمت کی گئی ہے۔اعلانیہ دستاویز میں جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف دائر معاملہ میں بین الاقوامی انصاف عدالت کے انترم احکامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اعلانیہ میں دو ملک ’ٹو نیشن تھیوری‘کی حمایت کو دوہرایا گیا ہے اس کے تحت 1967 کی سرحدوں کو یقینی بنائے رکھنا شامل ہے۔ اس میں اسرائیل سے لبنان میں جنگ بندی کی تعمیل کرنے اور لبنان میں بچے ہوئے علاقوں سے اپنی فوج واپس بلانے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ برکس اعلانیہ دستاویز میں بیشک اسرائیل کا سیدھے طور پر نام نہیں لیا گیا لیکن فلسطین اور لبنان کا ذکر کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے مسئلہ کا پرامن حل نکالنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ایک سفارتی ماہر نے پوچھا کے بھارت اسرائیل رشتے کتنے مضبوط ہیں یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس اعلان کے بعد اسرائیل اور بھارت کے رشتوں پر کوئی اثر ہوگا یا نہیں یہ تو آنے والے دنوں میں ہی پتہ چلے گا۔ اسی طرح ٹرمپ کے ٹیرف اور دادا گیری پر برکس میں لئے گئے موقف پر بھارت اور امریکہ کے رشتوں پر کیا اثر ہوگا یہ بھی آنے والے دنوںمیں پتہ چلے گا۔ایران ۔ امریکہ جنگ پر صاف طور پر برکس اعلانیہ دستاویز میں ایران کی حمایت کی گئی ہے۔ بیشک اعلانیہ دستاویز میں امریکہ کا نام نہیں لیا گیا، لیکن امریکہ کی جانب سے ایک طرفہ اقتصادی پابندیوں اور پرامن نیوکلیائی اداروں پر حملوں کی نکتہ چینی کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے خلاف لگائی گئی ایک طرفہ پابندیوں کی مذمت کی جاتی ہے۔ ان کا وسیع طور پر اثر ہوتا ہے اور ان میں غریب لوگوں پر عام طور پر زیادہ اثر پڑتا ہے۔ برکس کے وہ دو دلچسپ ممبر ملکوں روس اور ایران پر بھی سخت پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ٹرمپ کی برکس مخالفت جگ ظاہر ہے ۔ وہ کئی بار برکس کو امریکہ مخالف بتا چکےہیں اور برکس کے ساتھ جڑنے والے ملکوں پر مزید ٹیکس لگانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ سوال یہاں یہ ہے کہ اگر بھارت نے بھی اس برکس اعلانیہ پر دستخط کئے ہیں تو کیا بھارت امریکہ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیںاور کیا ہم یہ مانیں کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں اب زبردست تبدیلی آنے والی ہے۔ کیا محض ایک ایوینٹ تھا اور  فوٹو اپیل چنی تھی؟
(انل نریندر)

15 ستمبر 2026

ووٹ دو ڈالر لو!

بھارت میں حکومتوں کے ذریعے ریوڑیاں بانٹنے کا چلن اب امریکہ میں بھی پھیل چکا ہے۔ دنیا کے سب سے پرانے اور ترقی یافتہ جمہوری ملک امریکہ میں بھی لوگوں کو سیدھے نقلی یا مفت تحفہ دینے کی سیاست چل نکلنی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں کہا ہے کہ اگر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی چنائو میں ان کی ریپبلکن پارٹی جیت حاصل کرلیتی ہے تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر کی ادائیگی کریںگے۔ یہ ایک بہت مہنگی اسکیم ہے جس میں ایک ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ خرچ آئے گا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار امریکی ڈالر دیئے جائیںگے۔ ٹرمپ نے اسے ڈیویڈینٹ کا نام دیا ہے۔انہوں نے کہا امریکہ کی مالی طاقت اور کامیابی کو دیکھتے ہوئے وہ ہر ایک بالغ شہری کو یہ ادائیگی کریںگےبشرطیکہ نومبر کےچنائو میں ریپبلکن پارٹی دونوں ایوانوںمیں جیتے۔ ٹرمپ نے ادائیگی کی ایک شرط بھی بتائی انہوں نے کہا کہ اس رقم کو امریکہ کے اندر ہی خرچ کرنا ہوگا۔ یعنی فیض یافتہ ان پیسوں کودیش کے باہر خرچ نہیں کرسکتا حالانکہ انہوں نے یہ صاف نہیں کیاکہ اسکیم کوکس طرح سے لاگو کیا جائے گا اور اس کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا۔امریکہ میں ماہ نومبر میںہونے والے مڈ ٹرم چنائو کے نتیجے ٹرمپ کے لئے تاریخی ہونے والے ہیں۔اس لئے اب وہ ریوڑیاں بانٹنے پر اتر آئے ہیں۔لگتا ہے کہ انہوں نے بھی بھارت میں چلی ریوڑی پراتھا کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔کچھ سال پہلے انہوں نے بھارت کے چناوی سسٹم کی تعریف کی تھی۔ کہیں اب یہ نہ کریںکہ بھارت کے چنائو کمیشن کو امریکہ میںچنائو کروانے کے لئے بلا لیں اور کہیں کہ یہاں بھی ایس آئی آر کروادو؟5 ہزار ڈالر دینے کی ریوڑی کے پیچھے دو اہم پہلو نظرآتے ہیں۔ پہلا ٹرمپ کی مقبولیت نچلی سطح پر آگئی ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرز؍ سی این این ؍ایس ایس آر ایس و انوائٹی سروے کے اوسط میں ٹرمپ کے خلاف 60 فیصد امریکیوں نے ووٹ دیا ہے۔مقبولیت کی گراوٹ کی وجہ بڑھتی مہنگائی ، گھٹتے روزگار اور ایران جنگ سے ہار ہے۔دوسرا: اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس جیتے تو دونوں ایوان میں اکثریت ملنے کے بعد وہ ٹرمپ کے خلاف مقدمہ لائیںگے ایسے میں ٹرمپ کو اقتدار گنوانے کا خطرہ ہے۔ اس سے پہلے ٹرمپ جیت کی کوشش میں ایس آئی آر کی طرز پر ووٹر لسٹ کی جانچ کروانے کا اعلان کرچکے ہیں۔سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں مفت اسکیموں کے اعلان کی پرانی روایت ہےاگر ایسی ہی روایت امریکہ میں شروع ہورہی ہے تو اس کا اثر پوری دنیا پر ہوگا۔سوال یہ بھی ہے کیا اس کے لئے امریکی پارلیمنٹ منظوری دے گی؟ کیا یہ وہاں کی عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جائے گا؟ سب سے بڑی بات کے کیا ووٹر اس کے جھانسے میں آئیں گے؟ یہ رقم امریکی بجٹ کا 17 فیصدی ہے۔ بتادیں ایران جنگ کی وجہ سے پہلے ہی ہر امریکی خاندان پر 3 ہزار ڈالر کا مزید بوجھ بڑھ چکا ہے۔
(انل نریندر)

09 ستمبر 2026

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی ورکر بتانے والےملزم سوتنتر بھاردواج کو دہلی پولیس نے جمعہ کو مغربی اترپردیش کے ضلع بلند شہر سے گرفتار کیا۔ لوک تنتر کے خلاف پاسکو ایکٹ کے تحت ایک نئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ کچھ گھنٹے پہلے ہی ملزم کی گرفتاری کی مانگ پر کاکروچ جنتا پارٹی، یوتھ کانگریس نے دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے پر مظاہرہ کیا تھا۔ پولیس نے72 گھنٹے میں کارروائی کے بھروسے کے بعد یہ واردات ختم ہوئی۔ طالبہ کا الزام تھا کے 23 جون کوجنتر منتر پر مظاہرے کے دوران اس کے والد سے مار پیٹ کی گئی تھی۔ اس درمین ملزم کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں ملزم مبینہ طور پر سر پر حملہ کی بات قبول کرتے ہوئے نظر آیا تھا۔ 7اگست کو سوتنتربھاردواج کے پوٹ کاسٹ کی کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس میں مبینہ طور پر ایک شخص پر حملہ کرنے کی بات کرتے ہوئے دکھائی دیا۔ اس نے دعوی کیا کہ اس نے اس شخص کے سر پر وار کیا تھا، جس کے بعد زخمی شخص کے سر پر ٹانکے لگے تھے۔زخمی شخص نے بتایا کہ اس شخص نے دعوی کیا کہ دہلی کے وزیر کپل شرما کے ایک فون پر پولیس نے اس کے خلاف ساری کارروائی روک دی اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان ان کے بھائی کے برابر ہیں اور مودی جی ان کے بڑے بھائی ہیں۔یہ بھی دعوی کیا میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتاہے۔اپوزیشن پارٹیوں اور سی جے پی سے جڑے لوگوں نے الزام لگایا کہ سوتنتربھاردواج کو سیاسی سرپرستی ملی ہوئی ہے۔ حالانکہ چراغ پاسوان نے سوتنتر بھاردواج سے خود کو الگ کرلیا اور بھاردواج کے خلاف ان کے نام کا غلط استعمال کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کروادی۔اس مبینہ ہندوتو حمایتی دعویدار نے شیخی کے چکر میں ایسا بہت کچھ کہہ دیا، جو سراسر کرائم کا اقبال کرنا ہی ہے۔ اس بارے میں وہ بولے کہ لڑکے کے خلاف اے پی ایس ٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج ہوگیا اور ممکن ہے اقدام قتل کا مقدمہ بھی درج ہوجائے۔ دھرم کے نام پر اپنے خیالات اپنی جگہ ہیں لیکن دھرم ایسے بے تکے الفاظ کو قبول نہیں کرتا۔یہ لڑکا جو کھل کر چینلوںمیں دعوی کرتا رہا ہے اس کی ضروری جانچ ہونی چاہئے اور قانونی کارروائی ہونی چاہئے لیکن سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ اس لڑکے میں ایسی بیہودہ باتیں کرنے کی ہمت کہاں سےآئی؟ اس کو کس کی شے حاصل ہے؟20 جولائی کو جنترمنتر مظاہرے میں مبینہ غنڈے کی حرکت والے لوگ مظاہرے میں کیسے شامل ہوئے؟ انڈین ایکسپریس کی ایک سنسنی خیز رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ چہرہ پہچان سسٹم سے 25 ایسے جرائم پیشہ کے نام سامنے آئے ہیں جو اس وقت تہاڑ جیل میں بند بتائے جاتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ کئی سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ یہ جرائم پیشہ جنتر منتر پر مظاہرے میں کیسے پہنچے؟ سوال تو یہ بھی کیا جارہا ہے کہ سفید کپڑوں میں ہاتھ میں جھنڈے لئے وہ کون لوگ تھے جو طلبہ پر لاٹھیاں برسا رہے تھے؟ ان میں سے یہ سوتنتر بھاردواج بھی ایک تھے۔ اب قانون اپنا کام کرے گا اور امید کی جاتی ہے کہ کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی۔
(انل نریندر)

05 ستمبر 2026

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور الٹانئی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں ۔جنگ سے جان ومال کا بھاری نقصان ،مالی بربادی اور بے گھری اور سماجی عدم استحکام کی شکل میں سامنے آتے ہیں ۔روس یوکرین اور مغربی ایشیا میں برادری تعلق اس کی مثالیں ہیں ۔بھارت ہمیشہ امن عالم کا حمایتی رہا ہے اور جنگ کی جگہ پر بھائی چارگی اور مہاتما گاندھی کے امن کے راستے پر چلنے کا سندیش دے رہا ہے اسی عزم کو ظاہر کرتے ہوئے کرغستان کی راجدھانی بشکیک میں شنگھائی اشتراک انجمن کی چوٹی کانفرنس کے موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم نریندرمودی نے ختم نہ ہونے والی جنگ کے بجائے اس کے خاتمہ کی طرف بڑھنے کی وکالت کی ہے ۔بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کو ختم کرانے کی اپیل کی ہے ۔پی ایم مودی نے پیر کو کہا کہ جنگ میں گزرا ہر دن انسانیت کو پیچھے دھکیلتا ہے اور امن کی سمت میں اٹھایاگیا ہر قدم انسانیت کو نئی امید جگانے اور حوصلہ بھردیتا ہے ۔یوکرین جنگ  ختم کرنے کے لئے پی ایم مودی کی رائے زنیاں حیران کرنے والی نہیں ہیں اور میں بھارت کی خارجہ پالیسی میں کسی بھی قسم کی فوجی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیتی ہے ۔دراصل لڑائی شروع ہونے کے بعد سال 2022 میں ریجنل چوٹی کانفرنس کے بعد تقریر کرتے ہوئے مودی نے پوتن سے کھلے طور سے کہا تھا کہ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے ۔لیکن یہ کہنا بہت آسان ہوگا کہ جنگ پر مودی کے ابھی یا پہلے کے بیانوں کو پوتن یا روسی حکمت عملی کو جواب دینے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔مغربی ممالک نے مودی پر واضح رخ اپنانے کے لئے کافی دبا ؤ ڈالاہے لیکن بھارت کافی حد تک وہ نیوٹرل رہا ہے ۔بھارت نے اس کے بجائے جنگ کو ختم کرنے کے لئے بات چیت کی درخواست کی ہے ۔بیشک اس موقف سے کئی مغربی دیش خوش نہیں ہیں لیکن انہوں نے بھارت کو لبھانا جاری رکھا ہے کیوں کہ بھارت اتنی بڑی اور تیزی سے بڑھتی معیشت ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ۔یہ پہلی بار نہیں جب کسی غیر ملکی لیڈر نے کھلے طور سے پوتن سے یوکرین میں جنگ ختم کرنے کی درخواست کی ہو ۔محض پانچ ہفتے پہلے قزاکستان کے صدر قاسم جویابھائی ٹوکا میف نے پوتن کو تجویز دی تھی کہ لڑائی کو روک دیں اور بات چیت پر لوٹ آئیں ۔امن کے لئے ان کھلی اپیلوں سے پوتن کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آنے کے اشارے نظر نہیں آتے ۔مودی کے ذریعے جنگ بندی کی اپیل پر روسی لیڈر نے جواب دیا کہ بہت بہت شکریہ ، وزیراعظم جی ہم اسی راہ پر آگے بڑھ رہے ہیں ۔روسی لیڈر کا کہنا ہے کہ یہ یہاں بھی ہوسکتا ہے سارے ثبوت بتاتے ہیں کہ روس کی لیڈرشپ کو اب یقین ہے کہ وہ جنگ میں یوکرین سے ملیٹری جیت کی راہ پر ہے اور اسے امن کے معاملے میں کہیں تو روس کی شرائط پر ملیٹری کامیابی سے طے امن کی طرف آگے بڑھنا اس لئے بڑھنا مشکل ہے اس لئے فی الحال لڑائی جاری ہے ۔اس حقیقت کے باوجود ساڑھے چار سال سے زیادہ کی جنگ اور بھاری فوجی نقصان کے باوجود کرملن یعنی روس کو ابھی تک جیت حاصل نہیں ہو پائی ہے اور یوکرین نے جنگ کو روسیوں کے گھر تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے ۔
(انل نریندر)

03 ستمبر 2026

نیپال ٹریجڈی کے پیچھے چین ذمہ داری

نیپال میں فیلش فلرڈ میں مرنے والوں کی تعداد 700 سے آگے بڑھ گئی ہے ،2500 سے زیادہ لاپتہ ہیں جن میں متعدد ہندوستانی بھی شامل ہیں وزیراعظم آفس کے مطابق نیپال کی فوج نے اب تک 883 لوگوں کو محفوظ طور پر بچایا ۔لاپتہ لوگوں میں 517 غیر ملکی بھی شامل ہیں ۔نیپال میں چین کے رویہ کو لے کر بھاری ناراضگی ہے اور سوال اٹھنے لگے ہیں بدھوار کو تبت میں بنی بیریئر لیک ٹوٹنے کے بعد چین نے نیپال سے اطلاع شیئر کرنے میں لاپرواہی برتی جس سے نیپالی شہریوں میں ناراضگی پھیل گئ ہے ۔تبت میں 20 لاکھ گیلن پانی ضائع ہوگیا تھا۔لیکن الرٹ تب بھیجا گیا جب جھیل پھوٹ چکی تھی ۔شہر رسوا کے چیف ضلع افسر نریندر پریار نے بتایا کہ انہیں جھیل ٹوٹنے کی جانکاری نیپالی میڈیا کے ذریعے سے ملی ۔چین کے وزارت آب نے کوئی اطلاع شیئر نہیں کی ۔جھیل بننے کے بعد اوور فلو شروع ہوا اور شام کو چین نے تبت میں بچاؤ کاروائی شروع کی ۔بدھوار کی صبح 8.40بجے بوٹو کوشی ندی میں آبی سطح کا نمبر بھیجا گیا اسی درمیان تبت میں آیا تیزی سے بہاؤ نیپال میں داخل ہوگیا ۔نیپال کو اس کی جانکاری 16 منٹ بعد اس وقت ملی جب سیلاب تباہی مچانے لگا۔ الزام لگائے جارہے ہیں کہ چین کی جانب سے نیپال میں جان و مال کے نقصان کو کم کیا جاسکتا ہے حالانکہ نیپال میں واقع چینی سفارت خانہ نے الزامات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی خبروں کی تردید کی ۔اس درمیان بین الاقوامی میڈیامیں بھی چین کے رول کو لے کر بحث جاری ہے ۔نیپالی نیوز آؤٹ لیٹس سے لے کرچینی میڈیا نے اس مسئلے کو شائع کیا ہے ۔نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مئی میں ہی چین سےگلیشیئر اور پانی کی سطح و دیگر امکانی خطروں کی جانکاری وقت سے پہلے ہی شیئر کرتے ہوئے اپیل کی تھی ۔ان کا خیال ہے سرحد پار سے ملنے والی مسلسل وارننگ کئی زون بچانے میں مدد کر سکتی تھی ۔اس سال 27 مئی کو کاٹھمانڈو میں نیپال اور چین کے ماحولیاتی ماہرین کی میٹنگ ہوئی تھی اس میٹنگ میں گلیشیئر جھیلوں کی فہرست تیار کرنے اور پہلے وارننگ سسٹم مضبوط کرنے پر بھی زور دیا گیا ۔حالانکہ نیپالی حکام کے مطابق میٹنگ کے بعد انہیں چین سے متوقع طور پر گلیشیئر اور آبی سطح سے متعلق کوئی معلومات نہیں مل سکی ۔چینی ورلڈ ویدر سائنس سنٹر  نے قدرتی آفت آنے سے پہلے نیپالی حکام کو ای میل سے 14 اور 19 اگست کے بیچ بھاری بارش اور چٹانیں کھسکنے کا اندیشہ بتایا تھا ۔لیکن نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی وارننگ گلیشیئر ٹوٹنے جیسے اشارے نہیں دیتی ۔نیپال کے لوگوں کا کہنا ہے موت کا یہ سیلاب چین سے آیا جہاں گلیشیئر پھٹا وہ حصہ نیپال سے 50 کلو میٹر دوری پر واقع ہے ۔باڑ کے پانی کو نیپال تک پہنچنے میں 30 سے 40 منٹ لگے اگر چین یہ اطلاع وقت رہتے نیپال کو دے دیتا تو ہزاروں لوگوں کی جان بچائی جاسکتی تھی ۔لوگوں کو محفوظ مکامات تک پہنچائے جانے کے لئے آدھا گھنٹہ کافی تھا ۔لیکن چین نے یہ اطلاع شیئر نہیں کی ۔پانی کے بہاؤ کا نتیجہ اور پانی کے ساتھ آیا ملبہ اتنا خطرناک تھا کہ راستے میں جو کچھ بھی آیا عمارتیں ، پُل ، سڑکیں سب کچھ بہا کر لے گیا ۔لیکن خطرہ ابھی بھی ٹلا نہیں ہے اگر چین کا ڈیم ٹوٹا تو وہاں سے دوسرا فلیش فلڈ آسکتا ہے ۔چین سے بھیجی گئی اس تباہی کو نیپالی کبھی نہیں بھولیں گے ۔
(انل نریندر)

01 ستمبر 2026

کاکروچ پیچھے نہیں ہٹیں گے



سرکار کی جانب سے 25 جولائی کو کئے گئے وعدوں پر کاروائی نہ ہونے پر کاکروچ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔نیٹ پیپر لیک معاملے میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد اب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی ) نے ایک بار پھر سڑکوں پر اترنے کا اعلان کر دیا ہے ۔سی جے پی نے بتایا کہ وہ 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ سے دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر تک پر امن یوتھ مارچ کرے گی ۔سی جے پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کر مرکزی سرکار پر الزام لگایا ہے کہ اس نے طلباء اور مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے کے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا ۔25 جولائی کو دھرمیندر پردھان کے وزیرتعلیم کے عہدے سے استعفیٰ کے ساتھ ہی مرکزی حکومت نے سی جے پی کے مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے سمیت کئی مطالبات پر رضامندی دی تھی ۔20 جولائی کو سنسد چلو مار چ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں کئی مظاہرین پر پولیس نے لاٹھیاں برسائیں اور دعویٰ تو یہ بھی کیاجارہا ہے کہ پیلٹ گن تک کا استعمال ہوا تھا ۔اس کے بعد مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی حالانکہ یہ معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔جہاں پر مرکز نے مانا ہے کہ غیر جرائم پیشہ پش منظر کے لوگوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو واپس لیا جاسکتا ہے ۔سی جے پی ترجمان آشوتوش رانکا نے اپنے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ سرکار 25 جولائی کو کئے گئے وعدوں پر کام کرنے میں ناکام رہی اور 25 جولائی کو سرکار نے جو سی جے پی نمائندہ وفد سے جو وعدے کئے تھے ان میں سے ایک وعدہ یہ بھی تھا کہ اس آندولن سے جڑے متوفی لوگوں کے خاندان کو ایک ایک کروڑ روپے کا معاوضہ بھی دیاجائے گا لیکن ابھی تک کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا ۔وہیں سی جے پی نے ایکس پر لکھا کہ کاکروچ جنتا پارٹی مرکزی سرکار کی 25 جولائی کو بھارت کے نوجوانوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی سخت مذمت کرتی ہے خاص کر طلباء اور مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے سے وابستہ وعدے بھی ہیں۔ 5 ستمبر کا مجوزہ یوتھ مارچ انڈیا گیٹ سے شروع ہوگا اور نئی دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر تک جائے گااس میں نیٹ سے جڑے متوفی طلباء کے کنبہ کے افراد اور پولیس کاروائی کے متاثرہ طالب علم اور یوتھ تنظیمیں شامل ہوں گی ۔تنظیم نے کہا کہ مظاہرے کا مقصد کسی طرح کا تشدد کا ٹکرا ؤ نہیں ہے بلکہ سرکار سے اپنے وعدے پورے کرنے کی مانگ کرنا ہے ۔سی جے پی نے نوجوانوں اور طلباء انجمنوں سے 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ پہنچنے اور پر امن طریقہ سے مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے ۔سی جے پی نے کہا نوجوانوں کے بھروسہ کو کمزور نہیں سمجھا جانا چاہیے ۔سی جے پی کے مطابق ایک پوری پیڑی نے سرکار کی بات پر بھروسہ کرکے آندولن کو واپس لیا تھا اور اب وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے کی مانگ کررہی ہے ۔تنظیم کا کہنا ہے کنبوں اور نوجوانوں کی موجودگی اس آندولن کو اپنے مطالبات کے تئیں سنجیدہ بنائے گی ۔سی جے پی نے کہا کہ جن پریواروں نے اپنے بچوں کو کھویا ہے وہ مارچ کی اگلی قطار میں ہوں گے اور پولیس کاروائی کے متاثرین ان کے ساتھ چلیں گے ۔تنظیم نے نوجوانوں سے بڑی تعدادمیں پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے سرکار سے 25 جولائی کے اپنے وعدوں کو پوری طرح لاگو کرنے کی مانگ کی ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ مظاہرہ پر امن طریقہ سے گزر جائے اور 20 جولائی جیسا کوئی واقعہ نہ ہو پائے۔
(انل نریندر)

29 اگست 2026

موہن بھاگوت کی مخالفت!



آر ایس ایس کےسرسنچالک موہن بھاگوت ان دنوں امریکہ کے دورہ پر ہیں۔ 29 اگست کو شری بھاگوت نے نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ایک وسیع پبلک ریلی کو خطاب کرنا ہے۔ شری بھاگوت کا وہاں جم کر استقبال ہورہا ہے۔ وہیں کچھ مخالفتی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ نیویارک کی سڑکوں پر ان کی ریلی کی مخالفت میں مظاہرہ ہورہے ہیں، لوگ سڑکوں پر پوسٹر ،بینروجھنڈے لیکر مظاہرے کررہے ہیں۔سب سے اہم مخالفت میں نیویارک کے نائب صدر زہران ممدانی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا وہ اس پروگرام کی حمایت نہیں کرتے، حالانکہ ممدانی نے یہ بھی کہا کہ کسی ذاتی پروگرام کو منسوخ کرنے کا اختیار میونسپل کارپوریشن کے پاس ہے یا میونسپل انتظامیہ کے پاس ہے یا نہیں، یہ انہیں نہیں پتہ۔بھاگوت آر ایس ایس کے صد سالہ کے عالمی رابطہ پروگرام کے تحت امریکہ میں ہیں۔ میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ان کا ایک بڑا پروگرام ہونا ہے۔ نیویارک میں قیام کے دوران موہن بھاگوت یونیورسل وینیسز پروگرام میں شامل ہوںگے اور سنیچر کو مشہور میڈیسن اسکوائر گارڈن میں قریب پانچ ہزار لوگوں کی ریلی کو خطاب کریںگے۔زہران ممدانی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا میں ہمارے شہر کی تاریخ میں پہلا ہندوستانی نژاد امریکی میئر بھی ہوں۔ میری ماں کا پورا خاندان اب بھی بھارت میں رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے بارے میں جو انہیں اپنے خاندان سے وراثت ملی ہے اور جسے سمجھتے ہوئے وہ بڑے ہوئے، وہ ایک کثیر سماج اور ایسی سیکولر ملک کے ہیں جہاں بھارت کے ہر شخص کو برابری سے اپنایا جاتا ہے۔ ممدانی نے کہا اور کسی بھی دیش کو لیکر ایسے نظریہ والے تحریک کا دیکھنا بیحد پریشان کرنے والاہے جو کچھ لوگوں کو الگ رکھتا ہے میں اس کی پر زور مخالفت کرتا ہوں۔ نہ صرف ایک ہندوستانی امریکی کی حیثیت سے بلکہ ایسے شہر کے میئر کے طور پر بھی جو ہر شخص کو دل سے اپناتا ہے پھر چاہے اس کا رنگ ، نسل ، مذہب، عقیدت یا بنیادی مقام کچھ بھی ہو۔ امریکہ میںبھاگوت کا پروگرام یونیورسل مونٹیس سیلبریشن کی میزبانی کررہا اولڈ فورم میں انٹر نیشنل میڈیا کو پوسٹ میں کہا کہ آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کا دورہ بات چیت اور سب کےلئے ایک جیسا پیغام لیکر آتا ہے۔ دنیا ایک خاندان ہے سنگھ کے جنرل سکریٹری سی آر مکند نے بتایا کے بھاگوت کا غیر ملکی دورہ کا مقصد:بھارت ہندو سماج اور سنگھ پر مثبت نظریئے کو پیش کرنا ہے۔ ہاں بھاجپا نے کہا ممدانی کا رخ ان کے کثیر نسل پرستی کے مخالف ہے۔ امریکی دانشور میری ملی رین نے کہا میری صلاح ممدانی و ان کے سماجواد کے گروپ کو ہےپونجی واد بند پیسےاکٹھا کریں۔ میڈیسن گرائونڈ کرائے پر لیں اور اپنی مودی مخالف بیوقوفی کےلئے خود کی ریلی منعقد کریں۔ ملی رین نے آگے کہا ممدانی اور میں سماجوادی پاگل موہن بھاگوت کے میڈن اسکوائر گارڈن پروگرام کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ وہ پی ایم نریندر مودی اور بی جے پی کی مخالفت کرتے ہیں۔ دیکھیں سرسنچالک کا امریکہ دورہ جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے انہیں کیسارسپانس ملتا ہے؟
(انل نریندر)

کیا بھارت کی خارجہ پالیسی بدل رہی ہے؟

نئی دہلی میںاختتام پذیر ہوئی 18ویں برکس سمٹ میں جاری مشترکہ اعلانیہ میں مڈل ایسٹ کو لیکر اپنایا گیا رخ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس اعلانیہ میں ...