ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسوم میں بھی نہیں نظر آئے تھے ۔اور تب سے ہی ان کی صحت کو لے کر کئی طرح کی قیاس آرائیاں جاری ہیں ۔اس درمیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات چیت میں کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای مارے جاچکے ہیں ۔اورا ن کے بیٹے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای بھی 90 فیصدی ختم ہو چکے ہیں ۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کے پاس اب کوئی بحری فوج نہیں بچی ہے ۔ان کی ایئر فورس بھی نہیں بچی ہے ۔سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ ان کا ایئر ڈیفنس سسٹم بھی تباہ ہو چکا ہے ۔ان کے سبھی لیڈر مارےجاچکے ہیں ۔ان کے سب سے بہترین لیڈر مارے جاچکے ہیں ۔ا س سے پہلے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے سنیچر کو جاری ایک تحریری بیان میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلالینے کی کھائی قسم بیان میں کہا گیا تھا کہ ہمیں اپنے پاک خون اور ان دونوں جنگوں میں شہید ہوئے سبھی لوگوں کے خون کا بدلہ لینے کی قسم کھاتے ہیں ۔دنیا بھر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بدلہ لینے کو تیارہیں ۔اسی سال 23 اپریل کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمس نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایاگیا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای امریکہ اسرائیل کے اس حملے میں شدید طور پر زخمی ہو گئے تھے جس میںان کے والد علی خامنہ ای کی موت ہو گئی تھی ۔حالانکہ وہ ذہنی طور سے پوری طرح سرگرم ہیں ۔اخبار نے حکام کے حوالے سے کہا کہ ان کے ایک پیر کا تین بار آپریشن کیا گیا ہے اور اب انہیں آرٹیفیشل پیر لگائے جانے کا انتظار ہے ۔ان کے ایک ہاتھ کی بھی سرجری ہوئی ہے اور اس کی کام صلاحیت آہستہ آہستہ لوٹ رہی ہے ان کے چہرے ہونٹ پوری طرح جھلس گئے ہیں جس سے انہیں بولنے میں دشواری ہوتی ہے ۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آخر کار انہیں پلاسٹک سرجری کی بھی ضرورت ہوگی بتادیں اسی سال 28فروری کو امریکی ،اسرائیل ہوائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کےبعد مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر بنایاگیا تھا ۔تقرری کے بعد سے ہی وہ پبلک میں سامنے نہیں آئے انہوں نے کوئی ویڈیو پیغام بھی جاری نہیں کیا ہے ۔اس سب کو لے کر سوال اٹھے ہیں کہ اسی حملے میں وہ کتنے زخمی ہوئے تھے ؟ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دیگر تین بیٹے مسعود ،مصطفیٰ اور میسم اتوار کو منعقدہ تعزیتی مجلس میں شامل ہوئے تھے ان کے ساتھ صدر مسعود پزیشکیان اور ریبولوشنری گارڈس کے چیف احمد وحیدی سمیت کئی سینئر افسر بھی موجود تھے ۔جون میں جاری ایک بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا تھا کہ اصولی طور سے وہ امریکہ کے ساتھ ڈیل کے حق میں نہیں تھے لیکن صدر مسعود پزشکیان کی یقین دہانیوں کے بعد ہی انہوں نے اس کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ۔کویتی اخبار الجریدہ نے مارچ 2026 میں ایک رپورٹ شائع کی تھی اس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو شروعات میں علاج کے لئے ماسکولے جایا گیا تھا اس کے بعد مجتبیٰ کی صحت کو لے کرکوئی خبرنہیں آئی ۔اس وقت ماسکوخود غیر محفوظ ہے ۔وہاں لگاتار یوکرین حملے ہورہے ہیں ۔ اس لئے اس وقت چین کو مجتبیٰ کے لئے محفوظ ماناجاتا ہے ۔ایرانی عوام چاہتی ہے کہ جلد آیت اللہ مجتبیٰ عوام کے سامنے آئیں تاکہ دنیا دیکھے کہ وہ ٹھیک ہیں اورمحفوظ ہیں ۔
(انل نریندر)