اٹیلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی سے وابستہ کئی پوسٹ سوشل میڈیا پر گشت کررہے ہیں ۔ان میں سے کچھ میں تو ایسا دکھایا گیا ہے جیسے وہ کسی بریک اپ کے بعد اپنی زندگی بدلنے کی کوشش کررہی ہوں ۔ایک اے آئی فوٹو میں انہیں نئے ہمسفر کے ساتھ دکھایا گیا ہے ۔ایک دوسری تصویر میں انہیں سنگل ہولی ڈے بُچ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔یہ ساری تصویریں اصلی نہیں ہیں لیکن ان کا مذاق اس لئے بنایا جاریا ہے کیونکہ میلونی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کھلے طور پر تنازعہ اب سامنے آرہا ہے ۔پچھلے کچھ ماہ میں ٹرمپ اور میلونی کا رشتہ کبھی کھلے حملوں تک کیا گیا ۔کبھی نجی طعنے کسے گئے اور پھر یا تو یہ ٹھیک ہوا لیکن اس اتھل پتھل کی وجہ سے سب سے پاپولر سیاست سیاسی دوستی ٹھنڈی پڑ گئی ۔کچھ وقت پہلے تک لوگ میلونی کوٹرمپ وسپرر کہتے تھے ۔اس کی بانگی جنوری 2025 میں دیکھنے کو ملی جب ٹرمپ کی حلف برداری تقریب میں انہیں سب سے آگے بیٹھے کی جگہ ملی ۔تقریب میں یہ اہم جگہ پانے والی وہ اکیلی یوروپی لیڈر تھیں ۔پچھلی اپریل میں میلونی وائٹ ہاؤس گئی تھیں وہاں وہ اس مقصد کے لئے گئی تھیں تاکہ یوروپی سامان پر لگی امریکی ٹریڈ ٹیرف کو لے کر کشیدگی کم ہو لیکن ٹرمپ کی جیسی عادت ہے ، ان کی بے یقینی میلونی کے لئے مشکل بھری ثابت ہوئی اور ان کی ساکھ کو ملک و بیرون ملک دونوں جگہوں پر چوٹ پہنچی ہے ۔ٹرمپ اور میلونی میں پہلی بڑی درار مارچ کے آخر میں سامنے آئی ۔اٹلی کے وزار ت دفاع نے امریکی فوجی جہازوں کو سسلی کے سنگولنیلا نیٹو ایئر بیس استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ اس کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے ۔اٹلی نے یہ قدم اس لئے اٹھایا کیوں کہ ان کاقانون اور عوام دونوں ہی ایران جنگ کے خلاف تھے ۔یہ ٹکراؤ اور بڑھ گیا اپریل میں ٹرمپ نے ٹوٹھ شوشل پر پوپ لیو مداف پر حملہ بول دیا کیوں کہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ کی تلخ نکتہ چینی کی تھی ۔ٹرمپ نے انہیں کمزور بتایا ۔دنیا کے دیش کی لیڈر میلونی نے ٹرمپ کے بیان کو نامنظور والاقرار دیا ۔میلونی کے سخت رد عمل ٹرمپ کو راس نہیں آیا اور انہوں نے اٹلی کے اخبار کوریٹا ڈیلا میرا سے کہا کہ میں ہوں مجھے لگا تھا کہ ان میں ہی ہمت ہے لیکن میں غلط تھا وہ اب پہلے جیسی نہیں رہیں اور اٹلی بھی پہلے جیسا دیش نہیں رہا ۔فرانس میں جی -7 سمٹ میں ٹرمپ اور میلونی کو بات چیت کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا دونوں دیشوں کے حکام نے اس بات چیت کو مثبت اور ایک عام معمولاتی بتایا لیکن کچھ ہی دن بعد ٹرمپ نے اٹلی کے چینل کو کہا کہ میلونی نے سمٹ میں ان سے فوٹو کچوانے کے لئے منت کی تھی ۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ میرے ساتھ تصویریں چاہتی تھی ۔میں نہیں لیتا لیکن مجھے ان پر ترس آگیا ۔میلونی نے فوراً جواب دیا کہ انہوں نے ویڈیو جاری کر ٹرمپ کی بات کو پوری طرح من گھڑت بتایا انہوں نے بتایا کہ مجھے نہیں پتہ کہ امریکہ کے صدر اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایسا کیوں رویہ اپناتے ہیں ؟ میں بس اتنا کہہ سکتی ہوں کہ افسوس ہے اور وہ ایک مغرب کے دشمنوں کے خلاف ایسی مضبوطی نہیں دکھاتے لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے نا میں اور نہ ہی اٹلی کسی کی منت کرتا ہے اس کے فوراً بعد اٹلی کے وزیرخارجہ اسٹونیا لایانی نے اپنا مجوزہ امریکی دورہ منسوخ کر دیا اور اٹلی کے صدر سرجیومیٹرولانے میلونی کو فون کر ان کی حمایت کی ۔سرکار کے ساتھیوں اور ممبران پارلیمنٹ بھی ٹرمپ کے تبصروں کو توہین آمیز بتایا ۔اور معافی کی مانگ کی ۔اپوزیشن نے اسے پورےدیش کی بے عزتی کہا دوسری طرف ٹرمپ نے پھر دہرایا کہ میلونی نے بار بار تصویر کھچوانے کی مانگ کی تھی ۔میلونی پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ اب دوبار ہ میزبان بننے کی کوشش کررہی ہیں کیوں کہ امریکہ نے ایران کو فوجی نظریہ سے ہرا دیا ہے ۔جیسے ہی یہ تنازعہ ٹھنڈا پڑتا نظر آیا تو فوجی اڈوں کو لے کر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ یہ تنازعہ ایران جنگ میں آپریشن کیوری کے دوران اٹلی کے امریکی ایئربیس کو لے کر اٹھا ۔نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے نے بتایا کہ تقریباً 500 جنگی جہاز اٹلی میں امریکہ کے ٹھکانوں سے آپریشن ایپک کیوری میں اڑان بھری ۔لیکن اٹلی کو یہ بات اچھی نہیں لگی اور اس کے وزار دفاع نے اسے غلط اور گمراہ کن بتایا ۔مزیدار بات یہ بھی ہے کہ دونوں ٹرمپ اور میلونی کو جلد ہی اپنے دیش میں چناؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔اٹلی میں عام چناؤ ہونے ہیں تو امریکہ میں بھی مڈ ٹرم چناؤ ہیں دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور اٹلی کے رشتے سدھرتے ہیں یا اور بگڑتے ہیں؟
(انل نریندر)