Translater

22 اگست 2026

امریکہ ایران جنگ کا نیوکلیئر ہونے کا خطرہ

امریکہ اور ایران کے درمیا ن کشیدگی اب نیوکلیائی حملے کی دھمکیوں تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ملکوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔دراصل امریکہ کی سابق کانگریس ویمن گارجیری ٹریلر گرین نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر نیوکلیئر حملے کا پلان بنا رہے ہیں اس کے بعد ایرانی ایم پی فداحسین ملیکی نے سخت وارننگ جاری کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے نیوکلیائی حملہ کیا تو ایران بھی اسی ہتھیار اور اسی پیمانہ میں پلٹوار کرے گا ۔امریکہ کی سابق کانگریس ویمن ٹریلر گرین نے ٹرمپ کی نیوکلیئر اٹیک والی پلاننگ کو افشاکردیا تھا ۔انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایران پر نیوکلیائی بم چھوڑنے کے بارے میں غور کررہے ہیں۔ اس درمیان ایران نے بھی ایسا ہی اعلان کر دیا ہے ۔کیا ہم یہ مانیں اس درمیان ایران نے بھی ایسا اعلان کر دیا کہ کیا ہم یہ مانیں کہ ایران نے بھی کوئی نیوکلیئر ہتھیار بنا لیا ہے جس زبان کا ایران استعمال کررہا ہے اس کا مطلب تو صاف ہے کہ اگر تم نے ہم پر نیوکلیائی حملہ کیا تو ہم بھی نیوکلیائی حملے سے ہی جواب دیں گے ۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق گرین نے بھی الزام لگایا کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کے ان تجزیوں کو نہیں مان رہا ہے جن کے مطابق ایران نیوکلیئر ہتھیار بنانے کے موہانے پر نہیں ہے ۔وائٹ ہاؤس نے سابق وزیر گرین کے اس دعوے پر کوئی فی الحال رد عمل نہیں ظاہر کیا ہے ۔امریکی حکومت یا سیکورٹی حکام نے بھی پبلک طور سے ایسا کوئی پلان کی توثیق نہیں کی ہے ۔امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اس ڈراؤنے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں نیوکلیائی حملے کی دھمکیاں کےکھلے عام دی جانے لگی ہیں اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ایٹم بم چھوڑنے کی بے وقوفی کی تو کیا ہوگا؟ اس سوال نے نہ صرف واشنگٹن اور تہران میں بلکہ پورے خلیجی ممالک میں بھی کھلبلی مچا دی ہے ۔سعودی عرب، یو اے ای اور قطر جیسے دیش اب بار بار کہہ رہے ہیں کیوں کہ ایران نے صاف کر دیا ہے کہ اگر کسی بھی خلیجی دیش نے امریکہ کی مدد کی تو اسے بھی بھسم ہونے سے کوئی نہیں بچا پائے گا ۔ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ممبر فدا حسین ملیکی سے سیدھا سوال پوچھا گیا کہ اگر ٹرمپ نے سچ میں نیوکلیائی بم چھوڑ دیا تو ایران کیا کرے گااس پر ملیکی نے بلا زجھک کہا کہ اگر ایسا کوئی حملہ ہوتا ہے تو ایران بھی اسی زبان اور اسی ہتھیار سے جواب دے گا ۔حالانکہ ملیکی نے کھل کر یہ نہیں مانا ہے کہ ایران کے پاس اس وقت نیوکلیائی بم تیار ہے یا نہیں ، لیکن ان کے اس بیان نے امریکہ اور اس کے ساتھی ممالک کے پسینے چھڑ ا دیے ہیں ۔انہوںنے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس کئی ایسے ہتھیار ہیں جو نہ صرف خطرناک ہیں بلکہ انتہائی جدید ہیں جو ابھی دنیا کے سامنے آئے ہی نہیں ہیں ۔اگر جنگ چھڑی تو وہ صرف مشرقی وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی وہ پوری دنیا کو اپنی زد میں لے لے گی ۔ایران نے اب صرف اپنا بچاؤ کرنے کے بجائے جارحانہ حکمت عملی اپنا لی ہے اگر امریکہ نیوکلیائی بم جیسا فدائی قدم اٹھاتا ہے یا خلیجی دیش امریکہ کو ایسا کرنے میں مدد کرتے ہیں تو یہ جنگ صرف دو ملکوں کے درمیان نہیں رہے گی ۔خلیجی ممالک کو تباہ ہونے سے پوری دنیا میں کچے تیل کی سپلائی ٹھپ ہو جائے گی ۔پیٹرول ڈیزل کے دام آسمان چھونے لگیں گے اور عالمی معیشت پوری طرح تباہ ہو جائے گی ۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے نیوکلیائی بم اور ایران کے جوابی پلٹوار کی خبروں نے دنیا بھر کے لیڈروں کے ماتھے پر تشویش کی لکیریں کھینچ دی ہیں ۔
(انل نریندر)

20 اگست 2026

زندہ پکڑو یا مار و :30000 ڈالر ملیں گے !

ایران کی حکومت نے اب اپنی عوام کو زمینی لڑائی کے لئے لگتا ہے تیار کرنا شروع کر دیا ہے ۔امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے امن معاہدے (پیس ڈیل ) اب تقریباً ختم ہو گئی ہے اور پھر سے پوری جنگ کی تیاری شروع ہو گئی ہے تبھی تو ایران کو اب لگتا ہے کہ امریکہ اسرائیل اگلا حملہ زمین پر ہی ہوگا۔ اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے ایرانی حکومت نے اعلان کر دیا ہے کہ امریکی فوجیوں کو مارنے یا پکڑنے پر 30000 ڈالر ملیں گے ۔ خواتین کے لئے انعام دوگنا ہوگا ۔ایران کی فوج نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ امریکی فوجیوں کو مارنے یا پکڑنے کے عوض 30000 ڈالر کے برابر انعام دے گی ۔فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر یہ کام کوئی خاتون کرتی ہے تو اسے دوگنا انعام دیا جائے گا ۔یہ اعلان مغربی ایشیا میں ایران اور امریکہ کے درمیان مسلسل کشیدگی کے درمیان ہوا ہے ۔جہاں دونوں ایک دوسرے پر حملہ کرتے رہے ہیں ۔28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہرمز اسٹریٹ کو پھر سے کھولنا کسی بھی امن معاہدے کو لگاتا ر رکوا رہا ہے ۔ایران کی سرکاری ایجنسی ارنا کی رپورٹ کے مطابق دیش کی فوجی کے سربراہ عامر ہتامی نے کہا کہ مالی مدد میں حصہ لینے کے لئے بڑی تعداد میں درخواستیں ملنے کے بعد یہ پلان بنایا گیا تھا ۔انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی کہ امریکی فوجیوں کو کہاں اور کب مارا یا پکڑا جائے گا ۔مغربی ایشیائی جنگ کے دوران ایران میں امریکی زمینی فورس کی فی الحال کوئی چنوتی نہیں ہے۔ سوائے اپریل میں ایک مارے گئے امریکی پائلٹ کو برآمد مشن کے ایجنسی ارنا نے ہتامی کے حوالے سے بتایاجو کوئی حملہ آور امریکی ملیٹری کے کسی بھی آدمی کو مارے گا یاپکڑ کر سونپے گا اسے اسلامک رپبلک جمہوریہ ایران کی فوج کی طرف سے 30000 ڈالر یا پانچ ملین تومن کے برابر انعام ملے گا ۔انہوں نے 10 ہزار ایرانی ریال کے برابر ایک انفارچوئل یونٹ کا بھی استعمال کیا ۔اس اعلان کو ٹرمپ کی اس وارننگ سے جوڑ کر دیکھاجارہا ہے جس میں انہوں نے امریکی فوجیوں کو ایران میں اتارنے کا امکان جتایا تھا ۔یروشلم پوسٹ کے مطابق انعام پانے والے کو صرف اتنا ہی نہیں ملے گا بلکہ ہاتمی نے کہا کہ امریکی فوجی کو مارنے کے لئے استعمال کئے گئے ہتھیار کو دوگنی قیمت پر خریدجائے گا اور اسے ایک خاص میوزیم میں بھی رکھاجائے گا ۔یہی نہیں ایران اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے بے تاب ہے ۔ایران نے ایک ٹارگیٹ لسٹ بھی بنائی ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی پی ایم نیتن یاہو اور ایک ٹارگیٹ لسٹ وغیرہ شامل ہیں اور امریکہ کے ساتھی ملکوں کے سربراہان مملکت کے نام بھی اس میں شامل ہیں ۔ایران پر حملے کے لئے امریکہ نے سب سے زیادہ عرب ملکوں کی زمین اور ایئر اسپیس کا استعمال کیا ۔اب مانگ اٹھ رہی ہے کہ عرب دیشوں کے سربراہان مملکت کو بھی ہٹ لسٹ میں شامل کیاجائے کیوں کہ امریکہ کے مددگار بھی سابق سپریم لیڈر کے قتل میں برابر کے گناہگار ہیں ۔ایران نے اب اپنی پالیسی بدلی ہے ۔پڑوسی عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو تو نشانہ بنایاہی گیا لیکن اب ان کی ٹاپ لیڈر شپ کو ختم کرنے کی قسم لے رہا ہے ۔ایران کے ایم پی عامر حسین سوبتی نے سرکار سے مانگ کی ہے ہٹ لسٹ میں خلیجی ملکوں کے حکمرانوں کو بھی جوڑاجائے ۔
(انل نریندر)

18 اگست 2026

زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟

پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی جس میں ایک 14 ماہ کی بچی بھی شامل تھی کہا جارہا تھا کہ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای یا تو مارے گئے ہیں یا بری طرح زخمی ہوئے ہیں ۔یہ بھی کہاگیا کہ وہ ماسکو میں آئی سی یو میں ہیں ۔28 فروری کے حملے کے بعد مجتبیٰ کبھی بھی عوام کے سامنے بھی نہیں آئے تھے ۔لیکن کچھ دن پہلے ان کا ایک ویڈیو سامنے آیا ۔حال ہی میں اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حالت بے حد نازک ہے اور ان کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے ۔وہاں کہا گیا کہ ان کی موت کی خبر سامنے آئے تو حیرانی نہیں ہوگی ۔ان دعوؤں کے بیچ ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے مجتبیٰ خامنی ای کا 12 سکنڈ کا ویڈیو جاری کیا ہے اس میں وہ لوگوں سے بات چیت کرتے نظر آرہے ہیں حالانکہ یہ نہیں پتہ یہ ویڈیو کب کا ہے لیکن صاف نہیں کیا گیا ہے ۔اس لئے یہ سوال ابھی بھی برقرار ہے ۔ویڈیو میں بیماری کی خبروں پر اٹھائے سوال مہر نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای لوگوں کے درمیان گاہے بگاہے ملتے نظر آرہے ہیں۔ اور باتیں کررہے ہیں ۔پہلی نظر میں یہ ویڈیو ان کی نازک بیماری سے وابستہ خبروں کا جواب ماناجارہا ہے ۔حالانکہ ایک بڑا سوال اس کی تاریخ کو بھی لے کر ہے ۔ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ ویڈیو کب بنایا گیا تھا ایسے میں صرف 12 سکنڈ کے اس ویڈیو کی بنیاد پر ان کی موجودگی اور صحت کے بارے میں کوئی پختہ نتیجہ نکالنا مشکل ہے فروری میں سپریم لیڈر کی ذمہ داری سنبھالنے والے مجتبیٰ خامنہ ای نے اس کے بعد سے ان کی پبلک موجودگی بے حد محدود رہی ۔ان کی طرف سے زیادہ تر تحریری بیان سامنے آئے ہیں اس وجہ سے ان کی صحت اور ان کی سرگرمیوں کو لے کر مسلسل قیاس آرائیاں لگتی رہی ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کو لے کر بھلے ہی افواہوں کے درمیان ایران کے صدر پزشکیان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس وقت سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے سیدھے بات کرنا بے حد مشکل ہے ۔حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ سے مل چکے ہیں ۔موصولہ معلومات کے مطابق ان سے ملاقات مئی کے ماہ میں ہوئی تھی ۔صدر پزشکیان نے تجارت فیڈریشن کے نمائندوں سے ایک ملاقات کے دوران یہ انکشاف کیا تھا اور وہ مجتبیٰ خامنہ ای ساتھ تھے ۔اور یہ ملاقات کافی اچھی رہی ۔ذرائع کے مطابق صدر کو خامنہ ای سے ملنے کا سنہرا موقع ایک رعایت کے طور پر ملا تھا ۔کہاجارہا ہے کہ پزشکیان با ر بار مجتبیٰ سے ملنے کی گزارش کر رہے تھے اور یہاں تک کہ دھمکی دے رہے تھے اگر ان سے ملنے نہیں دیا گیا تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے ۔خامنہ ای کے دفتر کو آخر میں اس ملاقات کے لئے حامی بھرنی پڑی لیکن یہ ملاقات کے بارے میں کہا جارہا ہے یہ معمولی نہیں تھی۔ امریکہ اسرائیل نے مسلسل یہ دکھانے کی کوشش کی کہ مجتبیٰ زبردست چوٹیں آئیں ہیں اور وہ بری طرح زخمی ہوئے ہیں ان کا چہرا جل گیا ہے اور پیروں میں بھی بھاری زخم ہیں جس کے بعدان کے پیر کا آپریشن بھی ہوا ہے۔ اب یہ نیا ویڈیو آیا ہے ۔
(انل نریندر)

15 اگست 2026

بھاگ ٹرمپ بھاگ !

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ پچھلے ماہ ترکیہ میں نیٹو سمٹ سے روانہ ہوتے وقت انہوں نے چپ چاپ جیمس بانڈ اسٹائل میں جہاز بدل لیا تھا ایسا امکانی خطرے کی وجہ سے کیا گیاتھا۔ ٹرمپ نے منگلوار کو اخبارنویسوں سے بات چیت میں کہا کہ میں سیکریٹ سروس اور فوج کی بات مانتا ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں دوسرے پرواز اور دوسرے جہاز سے جاؤں ۔مجھے وہی کرنا تھاجو انہوں نے کہا ۔ٹرمپ نے یہ اعتراف کیا کہ وہ چھپ کر اپنے جہاز ایئر فورس 1 سے بھاگ کر ایک دوسرے جہاز سے نکلے ۔یہ بتانا ضروری ہے کہ چھپ کر بھاگنے سے پہلے انہوں نے نہ تو مارکو روبیو ، دیگر سینئر حکام کو جہازبدلنے کا پلان بتایا اور نہ ہی ان کے ساتھ گئے اخباروں کو۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی نظروں میں ان کی قیمت ہے ؟ خیر میں آپ کو پرانی کہانی بتاتا ہوں کہ کیا ہوا؟ ڈونلڈ ٹرمپ پچھلے ماہ ترکیہ نیٹو سمٹ میں گئے تھے ۔نیٹو سمٹ سے نکلتے وقت ایران کے امکانی خطرے کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ نے چپ چاپ طریقہ سے جہاز بدل لیا تھا ۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹیلی ویژن کیمروں کی موجودگی میں ایئر فورس 1 میں سوار ہوئے پھر انہیں چپکے سے ایک اونچے ایئر پورٹ کیٹرنگ (ٹرک میں لے جایا گیا اور ایک دیگر فوجی جہاز تک پہنچایا گیا ۔اس دوران ایئر فورس 1 جہاز میں سوار اخبار نویسوں اور وائٹ ہاؤس کے کچھ ملازمین و امریکی نائب صدر مارکو روبیو کو اس کی جانکاری تک نہیں تھی ۔حکام نے سی بی ایس نیوز و وی بی سی کو بتایا کہ امریکہ نے جہاز پر میزائل داغنے کی امریکہ کی بھروسہ مند دھمکی کا پتایا لگایا تھا حالانکہ وائٹ ہاؤس نے اس خفیہ طریقہ سے جہاز بدلنے کی تصدیق نہیں کی ۔حالانکہ بعد میں خود ٹرمپ نے اس کی تصدیق کر دی۔ آخری وقت میں جہاز بدلنے کے اس فیصلے سے سوال اٹھے ہیں۔ کیا جس جہاز کو ریپلیس کے لئے استعمال کیا گیا تھااس میں موجود لوگوں کو خطرے میں ہی چھوڑ دیا گیا تھا؟ جہاز میں سوار اخبار نویسوں اور وائٹ ہاؤس کے حکام کو پتہ تک نہیں تھا کہ امکانی ایرانی خطرے کے جواب میں ایک پلان کے تحت امریکی صدر کو وہاں سے چپ چاپ نکال لیا گیا تھا ۔ٹرمپ پہلے کہہ چکے ہیں کہ انقرا میں ہوئی سمٹ کے دوران وہ ایران کے ٹارگیٹ نمبر 1 تھے ۔ٹرمپ نے منگلوارکو کہا میرا اندازہ ہے کہ کوئی خطرہ تھا میں نے اس کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں مانگی ۔مجھے بہت ساری دھمکیاں ملتی ہیں ۔جن کے بارے میںآپ کو شاید پتہ بھی نہیں ہے ۔پچھلے ماہ بھی یہ خفیہ کاروائی تب ہوئی جب جنگ ختم کرنے کی بات چیت ٹوٹنے کے بعدا مریکہ نے ایران پر پھر سے حملے شروع کئے تھے ۔اس کے ایک دن بعد ٹرمپ نے جہاز بدلاتھا۔ٹرمپ قطر کی طرف سے دیے گئے جہاز بوئنگ 747-8سے ترکیہ پہنچے تھے ۔لیکن انہوں نے کہا کہ وہ پرانے ایئر فورس 1 سے واپس جائیں گے ۔8 جولائی کو انہوں نے کیسے ڈر کے مارے جہاز بدلا۔یہ سب نے دیکھا ہی ہے ۔اخبار کے مطابق وزیر دفاع ہیک سیتھ بھی الگ سے باہری سیڑھیوں کے ذریعے سی -32Aمیں سوار ہوئے تھے اُدھر ایئر فورس 1 پر بیٹھے اخبار نویسوں سے کہا گیا کہ وہ کھڑکیوں کے پردے میں بند رکھیں ۔شاید اس لئے کہ وہ باہر کا منظر نہ دیکھ سکیں ۔وہ یہ نہ دیکھ سکیں کہ صدر ٹرمپ جہاز کے خفیہ دروازے سے جہاز چھوڑ چکے ہیں اس لئے کہا بھاگ ٹرمپ بھاگ ۔
(انل نریندر)

13 اگست 2026

ہرمز میں امریکی جہازوں کی تعیناتی

امریکہ نے ایران پر دبا ؤ بڑھاتے ہوئے مڈل ایسٹ میں 20 سے زیادہ جنگی بیڑے تعینات کر دیے ہیں اور ہرمز جل ڈروم سنٹرل میں ناکہ بندی سخت کر دی ہے ۔ایران نے آبی راستے کو کھولنے کے لئے معاوضہ ،پانبدی ہٹانے اور ناکہ بندی ختم کرنے جیسی شرطیں رکھی ہیں ۔عمان کے ساتھ امکانی معاہدہ آخری مرحلے میں ہے ، لیکن دونوں دیشوں کے بیچ کشیدگی ابھی بھی انتہا بنی ہوئی ہے ۔امریکہ نے مڈل ایسٹ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھاتے ہوئے 20 سے زیادہ جنگی بیڑے تعینات کر دیے ہیں ۔یہ قدم ایران پر ناکابندی کو سختی سے لاگو کرنے میں ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ اٹھایاگیا ہے ، جہاں کچے تیل سپلائی کی سب سے اہم لائن گزرتی ہے ۔امریکی سنٹرل کمانڈ ،سیٹکام ) نے پیر کے روز ایکس پر لوڈ کئے ایک پوسٹ میں بتایا کہ یہ جنگی بیڑا سیدھے طور پر ایران کے خلاف لگائے گئے بلاکڈ کو لاگو کرنے کے مشن میں لگے ہوئے ہیں ۔تعینات جہازوں میں امریکی بحریہ کا ڈیسٹ ٹو ڈائر یو ایس ایس راس بھی شامل ہے ۔جس کے ذریعے سعودی نگرانی اور انٹرویشن آپریشن چل رہے ہیں ۔سیٹکام نے اسی کی تصویر شیئر کی تھی ۔سنٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ 9 اگست تک 55 کمرشیل جہازوں کو راستہ بدلنے پر مجبور کیا گیا تھا ۔دو جہازوں کو روکا گیا اور اس پر چڑھ کر جانچ کی گئی یہ صاف اشارہ ہے کہ امریکہ صرف وارننگ نہیں دے رہا ہے بلکہ سیدھے سمندر میں اپنا کنٹرو ل کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔اُدھر ایران امریکی جنگ میں سب سے بڑی لیکن نظر انداز یان بیج ٹریجڈیوں میں سے ایک سمندر کے بیچ پھنسے ہزاروں ملاح ہیں ۔اقوام متحدہ کی سمندری ایجنسی(آئی ایم او) کے مطابق قریب 6 ہزار ملاح اب بھی خلیج میں جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں کئی ملاح تو 4 ماہ سے گھر بھی نہیں لوٹ پائے ہیں ۔میں یو ایس ابراہم لنکن کے بارے میں ایک ایسی رپورٹ پڑھ رہا تھا اس میں بتایا گیا تھا کہ پچھلے تقریباً 200 دنوں سے زیادہ عرصہ سے یہ سمندری جہاز سمندر میں ہے جہاز کے اندر اب کھانے کی قلت ہو گئی ہے ۔دوائیں کم پڑ گئی ہیں ۔ٹوائلٹ خراب ہو چکے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔جہاز کے ڈاکٹر اب کہنے لگے ہیں کہ اگر جلد یہ فوجی گھر نہیں لوٹے تو راستے میں ہی کئی ذہنی اذیت کے شکار ہو جائیں گے ۔ویسے بھی دیکھاجائے جب لنکن جہاز میں ایسی خوفناک صورتحال بنی ہوئی ہے تواس پر تعینات تقریباً پانچ ہزار فوجی جنگ کیسے لڑیں گے ؟ کئی ملاحوں کا باہری رابطہ تقریباً ٹوٹ چکا ہے ۔انہیں ہر کچھ دن میں صرف تیس منٹ انٹرنیٹ ملتا ہے ۔کچھ جہازوں پر محدود راشن ہونے سے ملاح دن میں صرف ایک بار چاول اور دال کھا رہے ہیں ۔لگاتار میزائل اورڈرون حملے کے خوف میں نیند بھی پوری طرح نہیں لے پارہے ہیں ۔کئی لوگ اس تیاری کے ساتھ سوتے ہیں کہ حملہ ہوتے ہی بھاگ سکیں ۔ماہرین کے مطابق ملاح جہاز کو نہیں چھوڑ سکتے ۔محفوظ اخراج بے حد مشکل ہے اورکئی ملاح قلیل المدتی معاہدے پر کام کررہے ہیں ۔انہیں ڈر ہے کہ اگر وہ خطرناک ڈیوٹی چھوڑنے کی مانگ کرتے ہیں تو انہیں دوبارہ نوکری نہیں ملے گی ۔جنگ کے بیچ پھنسے ملاحوں کی ذہنی صحت اور نیند اور اقتصادی حالت پر بھی برا اثر پڑا ہے ۔جنگ کی شروعات میں 36 سے 38 ہندوستانی جہازوں پر 100 ہندوستانی ملاح ہرمز کے آس پاس پھنس گئے تھے ۔بعد میں زیادہ تر جہاز نکل گئے ۔ذرائع کے مطابق 125 ہندوستانی ملاح ابھی بھی ہندوستانی جہازوں پر خلیج فارس میں موجود ہیں ۔
(انل نریندر)

11 اگست 2026

اور اب اسلامی نیٹو!

حال ہی میں پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط ہوئے ہیں جس کے تحت اگر تینوں میں سے کسی ایک دیش پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں پر حملہ ماناجائے گا ۔اس معاہدے کا مقصد ڈیفنس اشتراک بڑھانا ،جوائنٹ سیکورٹی حکمت عملی بنانا اور خطہ میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ اجتماعی طاقت دکھانا ہے ۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ اتحاد مغربی ایشیا میں بدلتے حالات ،خاص طور پر ایران ،امریکہ اور اسرائیل کے مابین بڑھتے ٹکراؤ کے درمیان ایک نئے پاور بلاک کی شکل میں ابھر سکتا ہے ۔اسلامی نیٹو مسلم اکثریتی ملکوں کے بیچ ایک مجوزہ یا غیر خانہ پوری فوجی اتحاد کو دیا نام ہے جس کا موازنہ مغربی ممالک کی فوجی انجمن نیٹو سے کیاجاتا ہے ۔ اس معاہدے کے پیچھے اہم رول سعودی عرب کا ہے ۔وہ ایک طرف ایران کے حملوں سے پرشان ہے اور دوسری طرف یمن کے حوثیوں کا تعلق زبردست لڑائی چھڑنے سے ہے ۔ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں خلیجی سیکٹر میں جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے اور لڑائی کو پورے خلیجی خطہ میں پھیلنے کے اندیشات نے سعودی عرب کی حفاظتی تشویشات بڑھا دی ہیں ۔دہائیوں تک ریاض اپنی حفاظت کے لئے خاص طور سے امریکہ پر منحصر تھا لیکن 28 فروری کے بعداس نے دیکھ لیا کہ امریکہ تو اپنے حفاظتی اڈوں کو بھی بچا نہیں پارہا ہے وہ سعودی عرب کو کیسے بچائے گا ۔رہا سوال پاکستان کا تو سعودی عرب کا پہلے سے ہی پاکستان سے دفاعی معاہدہ ہوا ہوا ہے ۔لیکن کیا پاکستان سعودی عرب کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون سے بچا سکا ؟ کیا پاکستان سعودی عرب پر حملہ ہونے پر ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟ یہ سب ڈرامہ بنا ہوا ہے ۔رہا سوال اسرائیل اور امریکہ کا تو اسرائیل اس معاہدے کی جم کر مخالفت کررہا ہے اور اسے اپنے لئے خطرہ مانتا ہے ۔ سوال یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ اسرائیل سعودی یا ترکیہ پر حملہ کرتا ہے تو کیا پاک فوجی چیف جنرل عاصم منیر میں اتنی ہمت ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف جاکر اسرائیل پر حملہ کرے ؟ یہ صرف پیسے اینٹھنے کا کھیل ہے ۔پھکڑ ہوا پاکستان کہیں سے بھی بھیک مانگنے کو تیار ہے ۔اور اس کے عوض میں جو چاہے وعدہ کروا لو ؟ رہا سوال ایران کا تو صدر مسعود پزشکیا ن نے مسلم اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ سنی کو ساتھ رہنا چاہیے ۔پزشکیا ن نے کہا امریکہ اور اسرائیل مل کر خلیج فارس کے دیشوں کو ایران کے خلاف کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔قابل غور بات یہ ہے سعودی ،ترکیہ اور پاکستان تینوں ہی ملک سنی اکثریتی ہیں ۔وہیں ایران شیعہ ملک ہے رہا یہ بھارت کے لئے تشویش کی بات ہے ؟ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس ڈیفنس معاہدے کا بھارت پر سیدھے طور پر کوئی اثر نہیں ہوگا ۔ایسا اس لئے کیوں کہ سعودی عرب پہلے بھی کہتا رہا ہے کہ پاکستان ہمارا اہم ترین حکمت عملی ساجھیدار ہے لیکن کبھی اس نے بھارت سے جنگ کے موقع پر ساتھ نہیں دیا ۔ جہاں تک ترکیہ کا سوا ل ہے وہ تو آپریشن سندھور میں بھی کھلے عام پاکستان کے ساتھ تھا اور آگے بھی رہے گا ۔بھارت کے لئے تشویش کی بات نہیں ہے کیوںکہ بھارت ڈیفنس صلاحیت میں تینوں ملکوں سے آگے ہے ۔
(انل نریندر)

08 اگست 2026

کیا پاکستان اندر سے ٹوٹ رہا ہے ؟



پاکستان اس وقت سنگین اندرونی جدوجہد ،سیاسی عدم استحکام اور صوبوں میں مسلح بغاوت جیسی سنگین اندرونی چنوتیوں سے لڑرہا ہے ۔فوج کے بڑھتے دخل ، اقتصادی بحران اور دہشت گردوں کے تابڑتوڑ حملوں کے سبب دیش کے اندر خانہ جنگی جیسے حالات بنے ہوئے ہیں ۔پاکستان کے 4 صوبے ہیں ان میں سے بلوچستان صوبہ میں علیحدگی پسند بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) نے بغاوت کا جھنڈا بلند کیا ہوا ہے ۔خیبر پختونخواہ صوبہ میں افغان طالبان کا دبدبہ بڑھتا جارہا ہے ۔آئے دن طالبان کے حملوں سے یہاں پاک فوج کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں ۔پی او کے میں پاکستانی فوج کی بربریت پر بغاوت کی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔چلیے تفصیل سے ساری صورتحال کو بتاتے ہیں ۔بلوچستان پاک کا سب سے بڑا پھیلا ہوا تقریباً 45 فیصدی سب سے بڑا خطہ ہے ۔ایران سے اس کی سرحد لگتی ہے ۔بلوچستان کے بی ایل اے لڑاکے الگ دیش کی مانگ کررہے ہیں ۔حالت یہ ہے بلوچ لڑاکوں اور پستو (پٹھان ) باغیوں کا بلوچستان صوبہ میں تقریباً 70 فیصد حصے میں قبضہ ہوچکا ہے ۔اصلی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی سرکار پولیس اسٹیشن کھلا رخ رکھ سکتی ہے۔ سارے صوبہ پر ٹریفک چلاسکتی ہے بازار اور کاروبار بحال رکھ سکتی ہے اور لوگوں کو بغیر ڈر کے سفر کرنے کی سیکورٹی دے سکتی ہے ؟ خیبر پختونخواہ پاکستان کا سرحدی علاقہ ہے ۔ڈورنٹ لائن پاک اور افغانستان کو الگ کرتی ہے ۔ افغانستان میں طالبان سرکار کے پانچ سال میں خیبر کے زیادہ تر علاقہ میں انہیں کا دبدبہ ہے ۔خیبر میں پاک سرکار کا قانون نہیں بلکہ طالبان کا شرعی قانون چلتا ہے ۔دراصل اس علاقہ میں تقسیم کے وقت سے ہی قبائلی نظام لاگو رہا ہے ۔سوات اور سیدو چنگورا اور مردن میں لویا جرگا کے ذریعے قانون چلتا ہے ۔یہ جرگا اصل میں شرعیہ قانون کو لاگو کرتی ہے ۔افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) تنظیم کو اپنے اڈوں میں پناہ دیتا ہے ۔عمران خان کی سرکار نے 2021 میں ٹی ٹی پی کے ساتھ صلح کی کوشش کی لیکن عمران کی گدی جاتے ہی ٹی ٹی پی نے خیبر میں اپنےدبدبہ کواور بڑھا لیا ۔خیبر کے وزیرستان میں پاکستان فوج کئی فوجی کاروائیاں کر چکی ہے ۔لیکن یہاں ابھری ٹی ٹی پی قابض ہے ۔آئے دن ٹی ٹی پی کے حملوں کے سبب اسکول اور کالج بند رہتے ہیں ۔پنجاب اور سندھ کے اصل باشندے نگراں خیسر میں اپنی پوسٹنگ نہیں چاہتے ۔پاکستان کے قبضہ والے کشمیر (پی او کے) اور دیگر علاقوں میں کچلنے والی پالیسیوں اور اختیارات کی عدولی کو لے کر جنتا میں بھاری ناراضگی اور زبردست مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔بڑی تعداد میں مظاہرین مارے جا چکے ہیں ۔اگر ہم سیاسی پش منظر کی بات کریں تو سرکار فوج کےبیچ اقتدار کے تجزیوں اور حالیہ آئینی ترامیم کو لے کر عدلیہ اور سیاسی گلیاروں میں تلخ کھینچ تان اور بغاوت کا ماحول ہے ۔کل ملا کر پاکستان کے اندرونی حالات بہت خراب ہو رہے ہیں ۔اگر یہی صورتحال رہی تو پاکستان کے کئی ٹکڑوں میں بٹنے کے امکان سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔
(انل نریندر)

امریکہ ایران جنگ کا نیوکلیئر ہونے کا خطرہ

امریکہ اور ایران کے درمیا ن کشیدگی اب نیوکلیائی حملے کی دھمکیوں تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ملکوں میں کھ...