امریک کی طرف سے امن تجویز پر ایران کے جواب کو مسترد کئے جانے کے بعد مغربی ایشیا میں پھر سے جنگ کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے ۔امریکہ کی تجاویز کا ایران کی جانب سے دیے گئے جواب سے صدر ٹرمپ بوکھلا گئے ہیں ۔انہیں ایران کا جواب بالکل پسند نہیں آیا ۔اُدھر ایران نے امریکہ کو ایسی دھمکی دے دی ہے جو ٹرمپ کے لئے کسی بڑے کرائسس سے کم نہیں ہے۔ پہلے سے ہی جو امن مذاکرات وینٹی لیٹر پر تھے ، وہ اب اور نازک حالات میں پہنچ سکتے ہیں اس بار ایران نے صاف کر دیا ہے کہ وہ ویپنس گریڈ نیوکلیئر بم بنانے سے صرف ایک قدم دور ہے اور اسے حاصل کرنے کا حکم قریب ہی دے سکتا ہے ۔نیوکلیائی حملے کو لےکرایران نے سخت وارننگ دیتے ہوئے لحظہ میں 90 فیصد تک افزودگی یورینیم کو صاف کرنے کی بات کہی ہے ۔ایران کی پارلیمنٹ کے ترجمان ابراہیم رضائی نے منگلوار کو کہا ہے کہ ا گر ایران پر پھر حملہ ہوا تو وہ یورینیم کو 90 فیصد صاف کرسکتا ہے ۔ایسے میں یہ یورینیم نیوکلیئر ہتھار کے لئے کارگر ہوگا ۔یہ وارننگ انہوں نے ایکس کے ذریعے سے دی ہے ۔پچھلے جون 2025 میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملے کی وجہ سے ایران کے یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو نقصان پہنچا تھا ۔فی الحال جو متعلقہ یورینیم 60 فیصد ایران کے پاس ہے جس کی مقدار تقریباً 400 کلو ہے ۔فی الحال اس کے بارے میں کسی طرح کی جانکاری نہیں ہے ۔امریکہ مسلسل ایران سے نیوکلیائی پروگرام ترک کرنے کی مانگ کررہا ہے ۔ادھر امریکی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جب تک ایران کے اس یورینیم افزودگی کو نہیں ہٹایاجاتا تب تک کسی طرح کا اثر ایران نیوکلیائی پروگرام پر نہیں پڑے گا ۔28 فروری سے جاری جنگ میں فی الحال سیز فائر چل رہا ہے لیکن یہ بے حد ہی حساس ترین سیز فائر ماناجارہا ہے ۔ایسے میں دونوں فریق کسی بھی ٹھوس نتیجہ پر نہیں پہنچے ہیں ۔امریکہ لگاتار مانگ کررہا ہے کہ ایران اپنے نیوکلیائی پروگرا م کو چھوڑ دے ۔لیکن ایران بھی اپنی شرطوں پر اڑا ہوا ہے ۔ایران بولا -امریکہ کے پاس تجویز تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے ۔وہیں امریکہ کے پاس ایران کی طرف سے بتائے گئے 14 نکاتی تجویز کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ایسا ایران کے اسپیکر محمد باقر غالیباف نے کہا جتنا امریکہ دیر کرے گا وہاں کے ٹیکس دہندگان کو اتنی ہی بڑی قیمت چکانی پڑے گا ۔انہوں نے ساتھ کہا ہے کہ ایران ہر متبادل کے لئے راضی ہے ۔پلٹوار کرنے کو تیار ہے ۔ایسا حملہ کرے گا کہ امریکہ بھی چونک جائے گا ۔ایران اور جھکنے کے موڈ میں نہیں نظر آرہا ہے ۔سابق صدر حسن روحانی نے بھی کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم 90 فیصد تک جائیں گے اب جب ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں ہیں اور تہران کے خلاف سخت رخ اپنا رہے ہیں تو میں نیوکلیئر کانڈ کی پوری دنیا کو ایک ایسی جنگ میں جھو نک سکتا ہے ۔اسے روکنا شاید کسی کے بس میں نہیں ہوگا ۔
(انل نریندر)