دہلی کی ووٹر لسٹ میں ایس آئی آر کو لیکر کئی سوال اور اعتراضات کھڑے ہو رہے ہیں۔ ایس آئی آر پروسسز میں لاکھوں ووٹروں کے ریکارڈ میں گڑ بڑیاں سامنے آئی ہیں۔ ان خامیوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم اور اس کے طریقہ کار پر سنگین سوال کھڑے کردئے ہیں۔ ویسے تو پورے دیش میں ایس آئی آر کا پروسس کو لیکر الگ الگ سوال اٹھ رہے ہیں۔ اور اسی درمیان دہلی ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے بعد سامنے آئے نوٹسوں نے اس بحث کو اور بھی بڑا کردیا ہے۔ دراصل دہلی میں ایس آئی آر کے تحت قریب 3.13 لاکھ ووٹروں کے ریکارڈ میں ملی الگ الگ طرح کی غلطیوں کی بنیاد پر نوٹس جاری کئے جارہے ہیں۔ نوٹس ملنے والے عام ووٹروں کے ساتھ ساتھ سابق نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی، وزیر خارجہ جے شنکر و سابق نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکڑ، الیکشن کمیشنر ایس ایس سندھو، دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال اور دہلی کے سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیہ، خارجہ سکریٹری وکرم مسٹری و نامور وکیل و سابق وزیر کپل سبل بھی شامل ہیں۔ سابق فوج کے چیف اپیندر دویدی، سی بی آئی ڈائریکٹرپروین سود اور کئی سینئر افسران بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ یہ فطری طور پر سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر ایسا کیسے ہوا؟ جیسا کہ میں نے بتایا کہ دہلی میں قریب 33.13 لاکھ ووٹروں کو نوٹس کےلئے نشا نزد کیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر معاملے ایسے ہیں جہاں موجودہ ووٹر ریکارڈ کو سال2002 میں ہوئی پچھلی ایس آئی آر کی ووٹر لسٹ سے لنک نہیں کیا گیا یا تفصیل میں گڑ بڑی ملی۔ حالانکہ چنائو کمیشن نے صاف کیا ہے کہ نوٹس ملنے کا مطلب ووٹر لسٹ سے نام ہٹانا نہیں ہے۔چنائو کمیشن کے مطابق ووٹر جواب ضروری دستاویزات جمع کر سکتے ہیں اور کسی کا نام سماعت کا موقعہ دئے بغیر اور مناسب حکم کے بغیر ہٹایا نہیں جاسکتا۔ کانگریس نے ایتوار کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ووٹر لسٹوں میں وسیع پیمانے پر نام ہٹانے کا اشو اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ دراصل ایس آئی آر امت شاہ کے اشارے پر ووٹروں کے نام ہٹانے کی ایک بڑی منشا ہے کارروائی اورآئین پر حملہ ہے۔ اس بات کے کافی ثبوت ہیں کے مختلف ریاستوں میں وسیع پیمانے پر ہٹائے گئے ناموں میں سب سے زیادہ تعداد سماج کے غریب اور اقتصادی طور پر کمزور طبقے سے آنے والے ووٹروں کی ہے۔راجیہ سبھا ایم پی کپل سبل نے ایتوار کو سوال کیا کہ اگر الیکشن کمیشن کا ارادہ بھاجپا کو اقتدار میں بنائے رکھنا ہی ہے تو چنائو کرانے کا کیا مطلب ہے؟ کپل سبل اور ان کی بیوی کو ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر کے دوران دی گئی تفصیل میں گڑ بڑیوں کے سبب نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔ اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا یہ کس طرح کی اسپیشل نظرثانی ہے؟ یہ جائز ووٹروں کو ہٹانے اور نا جائز ووٹروں کو جوڑنے کی کوشش ہے۔ اگر آپ بھاجپا کو ہی اقتدار میں بنائے رکھنا چاہتے ہیں تو چنائو کرانے کا کیا مطلب ہے؟ امید کی جاتی ہے کہ چنائو کمیشن جلد پورے معاملہ کی جانچ کر اپنی غلطیوں کو درست کرے گا کیونکہ اس کی ساکھ دائو پر لگی ہے۔
(انل نریندر)