سیز فائر کی میعاد وقت غیر یقینی وقت بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے صاف کیا ہے کہ امریکی فوج پوری طرح سے تیار ہے ، اور جنگ بندی صرف تب تک ہے جب تک بات چیت کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ جاتی اسے ایران نے نہ صرف مسترد کر دیا ،بلکہ اسے امریکہ کی کمزور ی بتایا ۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر مشیر محبی محمد ی نے سخت الفاظ میں کہا کہ جنگ کے میدان میں ہارا دیش اپنی شرائط نہیں تھوپ سکتا ۔پچھڑنے والادیش کیسے شرائط طے کرسکتا ہے؟ انہوں نے لکھا ٹرمپ کے جنگ بندی توسیع کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔بندرگاہوں کی گھیرا بندی جاری رکھنا بم باری کرنے سے الگ نہیں ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ایران جنگ میں امریکہ کو بری طرح سے فلاپ ہونے کے ثبوت سامنے آنے لگے ہیں ۔جنگ میں کامیابی نہ دلانے کی وجہ سے امریکہ میں پچھلے 25 دنوں سے فوج کے 4 بڑے افسروں کو برخواست کر دیا گیا ہے ۔لسٹ میں تازہ نام نیول سیکریٹری جان فیلن کا ہے۔ ہرمز میں ایرانی ناکہ بندی کو ختم نہ کر پانے کی وجہ سے پینٹاگون نے صرف فیلن کو برخواست ہی نہیں کیا بلکہ فیلن سے پہلے آرمی چیف جنرل ٹے ڈی جارج ،میجر جنرل ڈیوڈ ہانڈلے اور میجر جنرل ولیم گرین جونیئر کو برخواست کیاجاچکا ہے ۔تینوں کو ہی جنگ میں کامیابی نہ دلانے کے سبب برخواست کیا گیا ہے ۔فیلن صدر ٹرمپ کے بے حد قریبی افسر مانے جاتے ہیں ۔فیلن پر کمانڈ کو درکنار کرنے اور جنگ میں متوقع کامیابی نہ دلانے کا الزام ہے حالانکہ سرکار بیان میں کہا گیا ہے کہ فیلن نے خود ہی استعفیٰ کی پیشکش کی ہے ۔اُدھر فائنانشیل ٹائمس کے مطابق ہرمز کے باہر امریکی ناکابندی کرنے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوا ہے ۔سیٹکام کے بیان کے اُلٹ 22 اپریل کو 34 ایرانی جہاز ہرمز سے گزر گئے ۔ان جہازوں کو امریکہ روک نہیں پایا ۔اُدھر سیٹکام کا کہنا ہے کہ اس نے ہرمز میں 10 ہزار فوجی لگا رکھے ہیں ۔اور اس کے علاوہ 21 اپریل کو اسلام آباد میں ایران امریکہ کے بیچ امن مذاکرات کو لے کر مجوزہ میٹنگ میں ایران نے شامل ہونے سے منع کر دیا ہے ۔سی این این کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امکانی مڈٹرم الیکشن ہے ۔ٹرمپ کو لگتا ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن تک اگر جنگ جاری رہتی ہے تو ان کی پارٹی کو کافی زیادہ نقصان ہوسکتا ہے اس لئے ٹرمپ نےایران سے بغیر بات کئے جنگ بندی کو بے میعادی بڑھا دیا ہے۔ ہرمز ابھی جلد کھلنے والابھی نہیں ہے ۔بے شک ٹرمپ کتنا بھی چاہیں امریکی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ہرمز اسٹریٹ میں بچھی مائنس ہٹانے میں چھ مہینے تک کا وقت لگ سکتا ہے اس سے تیل سپلائی ،عالمی تجارت طویل عرصہ تک متاثر رہے گی ۔امریکہ ایران کے بیچ کشیدگی کم نہیں ہوئی ہے امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا نیوکلیائی پروگرام بند کرے اور افزودگی یرونیم سونپ دے اور ہرمز کو پوری طرح کھول دے ۔دوسری طرف ایران نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ اس کی ناکابندی ختم نہیں کرے گا ،وہ بات چیت نہیں کرے گا جیسا مہدی محمد نے کہا کہ ہرمز جنگ میں بری طرح فلاپ ہوئے امریکی جنگ کی شرطیں کیسے طے کرسکتا ہے ؟
(انل نریندر)