Translater

16 جولائی 2026

آنکھ کے بدلے آنکھ !

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آنکھ کے بدلے آنکھ نام سے ایک فوجی آپریشن شروع کرتے ہوئے خلیجی خطہ میں موجود اڈوں پر میزائل حملے کئے ہیں ۔ایران کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کاروائی حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے ۔اس دعوے کے بعد پورے خطہ میں جنگ تیز ہو گئی ہے ۔امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصہ سے معاملہ چلاآرہا ہے اور کشیدگی اب ایک بار پھر کھلی جنگ کی شکل لے چکی ہے ۔یہ لڑائی اب صرف محدود علاقوں تک ہی نہیں رہی بلکہ پورے مشرقی وسطیٰ میں ، عالمی تیل مارکیٹ اور بین الاقوامی تجارت تک پھیل چکی ہے ۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگاکہ اب یہ جنگ بڑھتی جارہی ہے اور خوفناک رخ اختیار کر سکتی ہے ۔ایران کے سرکار ی میڈیا کے مطابق اس آپریشن کے تحت خلیجی خطہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایاگیا ہے ۔ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد ان اڈوں پر کاروائی کرنا تھا جہاں سے اس کے خلاف فوجی کاروائی کی گئی تھی ۔ایرا ن نے اس فوجی کاروائی کو آنکھ کے بدلے آنکھ ’’آئی فار این آئی ‘‘ کا نام دیاہے۔ اس نام کا سیدھا پیغام ہے کہ وہ اپنے خلاف ہوئی ہر فوجی کاروائی کا جواب دے گا ۔ایران طویل عرصہ سے کہتاآرہا ہے کہ اگر اس کے دیش کی سلامتی یا اس کے فوجی اڈوں پر حملہ ہوگا تو وہ جوابی کاروائی کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا اسی پالیسی کے تحت اس نے پہلے بھی کئی بار جوابی کاروائی کا اعلان کیا ہے ایران کی آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آئی فار این آئی آپریشن کے تحت یردن ،بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے ۔پہلے مرحلے میں یردن کے پرنس حسن ایئربیس پر میزائل اور ڈرون سے حملے کئے گئے ہیں دوسرے مرحلے میں بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئربیس پر حملہ کر ہیلی کاپٹر اور ڈرون سہولیات کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔تیسرے مرحلے میں کویت کے علی السلیم ایئر بیس اور احمد الزبر ایئر بیس پر حملے کا دعویٰ گیا ہے ۔ایران نے کہا کہ یہ کاروائی امریکی فوجی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے ۔خلیجی خطہ دنیا کو ایندھن سپلائی کا سب سے اہم مرکز ماناجاتا ہے ۔یہیں سے دنیا کے بڑے حصے میں کچے تیل اورنیچرل گیس کی سپلائی ہوتی ہے ۔اگر امریکہ ایران کے بیچ جنگ اور تیز ی پکڑتی ہے تو اس کا سیدھا اثر ہرمز اسٹریٹ پر پڑے گا بلکہ پڑنا بھی شروع ہو گیا ہے ۔امریکہ کے لگاتار حملوں کے جوا ب میں ایران نے ہرمز بند کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے ۔اس کا سیدھا اثر بین الاقوامی بازار میں قیمتوں اور شپنگ لاگت اور عالمی سپلائی چین پر پڑے گا۔ بھارت جیسے دیش جو اپنی تیل ضرورتوں کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے پورا کرتا ہے ۔وہ بھی اس سے متاثر ہو سکتا ہے ۔یہ پہلی بار نہیں جب ایران نے بدلے کے لئے فوجی کاروائی کا وعدہ پورا کر نے کی کوشش کی ہے ۔جنوری 2020 میں جنرل قاسم سلیمانی کی موت کے بعد ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغی تھیں ۔اپریل 2024 میں دمشق میں قائم ایرانی سفارت خانہ پر حملے کے بعد بھی ایرا ن نے پہلی بار سیدھے اپنی زمین سے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے کئے تھے اس سے صاف ہے کہ ایران اپنی سیکورٹی پالیسی میں جوابی کاروائی کو اہم ترین حکمت عملی مانتا ہے ۔
(انل نریندر)

14 جولائی 2026

ٹرمپ کے قتل کی سازش!

اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ ایسی نئی معلومات دینے کا دعویٰ کیا ہے ، جس میں ایران پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی سازش تیار کرنے کا الزام لگایا ہے ۔امریکی میڈیا میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے ٹرمپ اس پر بھڑک گئے اور اپنا آپا کھو بیٹھے ہیں ۔امریکہ کے مشہور اخبار دی وال اسٹریٹ جنرل میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے مطابق ،اسرائیل نے امریکہ کو بتایاہے کہ اس کے پاس خفیہ رپورٹ ہے اور خفیہ جانکاری ہے جس کے مطابق تہران ٹرمپ کے قتل کی نئی پلاننگ بنا رہا ہے ۔موساد نے یہ انٹیل شیئر کی ہے اور ٹرمپ سے کہا ہے کہ ایران کے ٹارگیٹ نمبر 1 پر ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا نیٹو کی سمٹ کے بعد ٹرمپ نے ڈر کر اپنا ایئرفورس وین بدل ڈالی اور امریکہ سے پرانا ایئر فورس 1 جہاز منگوایا اور اس میں واپس امریکہ پہنچے ۔اِدھر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران ان کے قتل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو انہوں نے پہلے ہی ایک حکم دے رکھا ہے کہ اگر ایران امریکہ پر حملہ کرتا ہے جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا ایسا جواب دیاجائے گا ۔ٹرمپ نے کہا کہ 1000 میزائلیں ایران کو اپنے نشانہ پر لیے ہوئے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران ان کا قتل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو انہوں نے پہلے ہی ایک حکم دے رکھا ہے ۔نیویارک پوسٹ میں دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اس حکم کے مطابق ایران پر اتنا بڑا جوابی حملہ کریں جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا ۔سوال اٹھتا ہے کہ کیا ٹرمپ ایسا کوئی حکم دے بھی سکتے ہیں یا پھر تاریخ میں کسی لیڈر نے ایسا حکم دیا تھا۔امریکی آئین کے تحت کوئی بھی صدر ایسا حکم نہیں چھوڑ سکتا کہ اس کی موت کے بعد اپنے آپ کسی دیش پر حملہ کر دیاجائے ۔کسی بڑی فوجی کاروائی کا فیصلہ اس وقت جو صدر ہوتا ہے وہی تب فیصلہ کرے گا کیوں کہ کمانڈر ان چیف کے حکم پر ہی امریکی فوج ایسا کچھ کرسکتی ہے ۔ٹرمپ کا یہ بیان صرف ایران کے لئے نہیں ،بلکہ امریکی عوام کے لئے بھی ایک سیاسی پیغام ماناجارہا ہے ایک طرف وہ اپنے حمایتیوں کے سامنے یہ ایمیج بنانا چاہتے ہیں کہ وہ نڈر ہیں اور وہ سخت لیڈر ہیں جو کسی بھی دھمکی کے آگے نہیں جھکیں گے ۔دوسری طرف ایران کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر اس کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی تو جواب پورے دیش کو ملے گا۔ سبھی جانتے ہیں کہ اسرائیل امریکہ ایران کے درمیان امن مذاکرات سے پریشان ہے اور اسے ہر حالت میں توڑنا چاہتا ہے۔ وہ ٹرمپ کتنے بہادر ہیں یہ بھی جانتا ہے اس سے بہتر کیا ہوسکت ہے کہ یہ خبر چلا دو کہ آپ ایران کے ٹارگیٹ نمبر 1 ہیں اس سے ٹرمپ ایران پر مجبوراً حملہ کر دیں گے اورا یک بار پھر جنگ شروع ہو جائے گی ۔ہوا بھی یہی امریکہ نے ایران پر تابڑ توڑ حملے کر دئیے اور ایران نے بھی زبردست جوابی کاروائی شروع کر دی ہے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا گیا ہے۔ ویسے ہم ٹرمپ اور نتین یاہو سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب آپ نے 28 فروری کو آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے تقریباً پورے خاندان کو نشانہ بنایا تھا جس میں ان کی 14 ماہ کی معصوم بچی بھی شامل تھی 40 سے زائد بڑے ملیٹری کمانڈروں کو بھی نشانہ بنایاگیا تھا تب آپ کو یہ خیال نہیں آیا تھا کہ ایران بھی ایسا کرسکتا ہے۔ اور اپنے سپریم لیڈر کے قتل کا بدلہ لے سکتا ہے ؟ اب جب اپنے اوپر پڑی تو آپ کو نانی یاد آگئی ۔ویسے بھی اسرائیل کے وزیر نے کھلے عام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو قتل کرنے کی کھلی دھمکی دی تھی ۔شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ کس طرح کروڑوں لوگوں نے اپنے رہبر کے قتل کا بدلہ لینے کی قسم کھائی تھی ۔ایران آپ سے بدلہ لے سکتا ہے اور لے بھی رہا ہے لیکن اس طرح نہیں جیسے نیتن یاہو اور موساد آپ کو بے وقوف بنا کر اپنے مفاد کی تکمیل کررہا ہے ۔
(انل نریندر)

11 جولائی 2026

20 دن بھی نہیں ٹک پائی جنگ بندی


امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر بنی رضامندی بنے ہوئے 20 دن بھی نہیں ہوئے کہ دونوںدیش پھر سے آمنے سامنے آگئے ہیں ،بلکہ امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا کہ میرے حساب سے اب جنگ بندی ختم ہو چکی ہے ۔دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر تباہ کن حملے شروع کر دئیے ہیں ۔یہ جنگ بندی بے اعتمادی کے ساتھ ہوئی تھی کہ دونوں ہی فریق ایک دوسرے پر بھروسہ نہیںکرتے تھے ۔امریکہ یہ جنگ بندی اس لئے چاہتا تھا کہ ٹرمپ امریکی عوام کے دباؤ کو جھیلنے میں مشکل کا سامنا کررہے تھے ۔اور وہ کسی بھی حالت میں اس جنگ کو روکنا چاہتے تھے ۔ چاہتے تو وہ یہ بھی تھے کہ کسی بااعتماد طریقہ سے وہ اس سے باہر نکلیں دوسری جانب ایران اس لئے تیار ہوا کہ اس نے سوچا کہ 20 دن کی جنگ میں جو نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی کر سکے اور اتنا ہی دباؤ امریکہ پر بنا سکے کہ وہ اس کی شرائط پر سمجھوتہ کر لے ۔حالانکہ وہ جانتا تھا کہ ٹرمپ جنگ بندی کی شرطوں پر ٹک نہیں سکیں گے لیکن پھر بھی اس نے جوا کھیلا ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان پھر سے جنگ چھڑ گئی ہے ۔ٹرمپ شاید اب اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ یہ جنگ اب ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ سکتی ہے اب وہ باامید ہوگئے ہیں اور ٹرمپ نے لمبے عرصہ کے بعد پھر سے حملے شروع کر دئیے ہیں ۔ٹرمپ کے اعلان کے بعدا مریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کئے ہیں فوج نے خود بیان جاری کر اس کی اطلاع دی ہے ایران کے الگ الگ علاقوں میں حملے کئے جارہے ہیں ۔اب جنگ موسیٰ آئیکلینڈ ، بندرعباس جیسے ایرانی اہم ترین ٹھکانوں پر امریکہ دھماکے کررہا ہے۔ چابہار میں بھی حملے ہوئے ہیں جس کے بعد اب یہاں بجلی سپلائی ٹھپ ہو گئی ہے ۔امریکہ کا کہنا ہے اسٹریٹ آف ہرمز میں ہوئے جہازوں پر حملے کا یہ بدلاہے ۔امریکہ سینٹرل کمان نے ہرمز اسٹریٹ آبی راستے میں آمد ورفت کو خطرے میں ڈالنے کو ایران کی صلاحیت اور کمزور کرنے کے لئے اس کے خلاف مزید حملے شروع کر دیے ہیں اب امریکہ اہم ترین بین الاقوامی آبی راستے پر آزادانہ طور پر آجارہے جہازوں اور شہری ٹیم کے خلاف حال ہی میں کئے گئےحملے کے لئے ایران کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے ۔جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں 85 جگہ میزائل اور ڈرون داغے ہیں ۔زیادہ تر حملے بحرین اور کویت میں امریکی بیس پرہوئے ۔ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ دھوکہ دینا امریکہ کی فطرت میں شامل ہے ۔لیکن ایران اپنا حق لے کر رہے گا ۔امریکہ کے حملوں کے بعد ایرانی صد ر اس افراتفری کے دوران عراق کے کربلا سے تحران لوٹ گئے ہیں اس درمیان دیر رات ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اگر حملہ کرتا ہے تو ہرمز کو پوری طرح سے بند کردیاجائے گا اس درمیان امریکہ نے ایران پر ایک بار پھر کچے تیل برآمدات پر روک لگا دی ہے ۔امریکہ نے معاہدے کے تحت ایران کو تیل بیچنے کی چھوٹ دی تھی ۔2019 کے بعد پہلی بار ایران کے ڈالر کے بدلے تیل بیچنے کی منظوری ملی تھی ۔ترکیہ میں ناٹو سمٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی لوگ بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں ان کے ساتھ آگے بات چیت کرنا وقت کی بربادی ہے ۔میں نے امن لانے کی کوشش کی لیکن اب جلد ہی قہر ٹوٹے گا۔ ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد بدھوار کی صبح ایران کے اہم بندرگاہ عباس سمیت 80 ٹھکانوں پر تابڑتوڑ ہوائی حملے کئے گئے ۔ایران کے 8 فوجی مارے گئے ہیں جبکہ 60 بجلی گھر ت باہ ہو گئے ہیں ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد بقر غالیباف نے ان حملوں پر رائے زنی کرتے ہوئے لکھا کہ امریکہ نے اب تک یہ نہیں سیکھا ہے کہ دھمکانے اور خود وعدے توڑنے کی قیمت اب اسے چکانی پڑے گی۔ میں صاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر آپ حملے کریں گے تو جوابی حملے بھی ہوں گے ۔یہ سنانے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں جیسے ایران اسٹریٹ آف ہرمز پر زیادہ بالادستی جمانے کی کوشش کررہا ہے ویسے ہی امریکی صدر بھی دنیا اور اپنے دیش واسیوں کو یہ دکھانے کے لئے بے چین ہے کہ وہ ایران کو اپنی شرطوں پر جھکنے پر مجبور کرسکتے ہیں ۔اب یہ جنگ لمبی کھچنے کا پورا امکان ہے ۔شاید اسرائیل بھی یہی چاہتا ہے کہ جنگ بندی ٹوٹے اور ایک بار پھر ایران پر مکمل حملہ ہو ۔
(انل نریندر)

09 جولائی 2026

ٹرمپ کا طنز: آنسو نقلی ہیں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ ایران میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتم سنسکار میں رو رہے تھے ۔ایکسیونس کا دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں لگا تھا کہ ایران کی عوام خامنہ ای سے نفرت کرتی ہے ۔ اس پر انہوں نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ شاید یہ آنسو نقلی ہوں ۔جنازے میں ایران کے اعلیٰ قیادت کے موجود ہونے کے سوال پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ چاہے تو ایک ہی حملے میں ایران کے موجودہ قیادت کو ختم کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ سبھی وہاں موجود ہیں ۔ایک ہی حملے میں سبھی کو ختم کر سکتے ہیں ، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے کیوں کہ پھر ہمارے پاس بات چیت کرنے کے لئے کوئی نہیں بچے گا ۔ایران نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خامنہ ای کی موت کے بعد چھائے گہرے شوک کو سمجھ نہیں پائے گا ، کیوں کہ نہ تو اس کی کوئی تہذیب ہے ، نہ ہی تاریخ اور نہ ہی سمان ۔ادھر ،ٹرمپ کے بیان پر سخت رد عمل دیتے ہوئے ارمونیا میں قائم ایرانی قونصل خانہ نے سوشل میڈیا پر کہا ، لوگوں کو مارا جاسکتا ہے پر نظریات کو نہیں ۔ آپ نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو مارڈالاپر اصل میں اپنے عطر کی ایک ایسی شیشی توڑ دی جس کی خوشبو ہر جگہ پھیل گئی ہے ۔بتادیں کہ ایران میں 36 سال تک حکومت میں رہے خامنہ ای کی 28 فروری کو امریکہ اسرائیلی حملے میں موت ہو گئی تھی ۔97 سال کے شیعہ مذہبی پیشوا آیت اللہ جعفر سومانی نے تہران کی گرینڈ مسلح میں آیت اللہ علی خامنہ ای ، و ان کے پریوار کے متوفی افراد کے لئے دعا کرائی ۔ یہاں آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مسعود ، میسام و مصطفیٰ بھی موجود تھے ۔ انہیں جنگ شروع ہونے کے بعد سے نہیں دیکھا گیا تھا ۔موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہیں دیکھے گئے ۔ ریوشنری گارڈ کے چیف جنرل احمد وحیدی بھی جنگ کے بعد پہلی بار دکھے ۔صدر مسعود پزیشکیان ، سنسد کے اسپیکر محمد باگھیر غالیباف و قدس بلوں کی قیادت کرنے والے اسماعیل تھانی بھی موجود تھے ۔ گرینڈ مسلح میں لگے پوسٹر وں و دیواروں پر لکھے پیغامات میں ٹرمپ و اسرائیل وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو مارنے کی مانگ کی گئی ۔کوی رسولی نے دعا سے قبل پروگرام کو چلایا اور امریکہ اسرائیل مراد آباد کے نعرے لگائے ۔اُدھر ،ایران کے سینئر آرمی افسر علی شادمانی نے امریکہ اور اسرائیل کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کاروائی کا اس کی مسلح افواج سخت جواب دیں گی ۔ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بھی دہرایا کہ دیش کی عوام یا قیادت کسی بھی خطرے کا فوری اور مضبوط جواب دیاجائے گا ۔یہ بیان اسرائیل کے وزیر دفاع کی ایرانی سپریم لیڈر کو مارنے کی دھمکی سے جڑے تبصرے کے بعد آیا ۔بتادیں کہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخر ی رسوم میں ان کے آخری دیدار کرنے کروڑوں لوگ سڑکوں پر اترے ۔ ایسی انتم یاترا دنیا میں پہلے کہیں بھی نہیں دیکھی گئی ۔انتم سنسکار میں بھارت سمیت 70 سے زیادہ دیشوں کے نمائندگان شامل ہوئے ۔وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ 70 سے زائد دیشوں کے نمائندگان سپریم لیڈر گریٹ آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتم سنسکار میں شامل ہوئے ۔ان میں ہمارے وفادار عرب بھائی بھی شامل ہیں ۔
(انل نریندر)

07 جولائی 2026

خامنہ ای کی آخر ی رسوم کی رسمیں شروع

گزشتہ 28 فروری کو امریکی ،اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم 4 ماہ بعد جولائی سے تہران میں شروع ہو گئی ہیں ۔ایرانی حکام اسے صدی کی آخری رسوم بتارہے ہیں ۔ان کے مطابق 1.2کروڑ سے زائد لوگوں کی شرکت کی امید ہے۔ ان تیاریوں کی رہنمائی تہران میں واقع محمد رسول اللہ کور کررہا ہے ۔یہ اسلامی ریولیوشنری گارڈ کی اہم یونٹ ہے ۔قریب 800 غیر ملکی صحافی اس پروگرام کی کوریج کے لئے تہران میں موجود ہیں ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم کئی دنوں تک چلنے والی الوداعی آخری رسوم کی رسمیں جمع کو شروع ہو گئیں ۔تہران میں جگہ جگہ بینر لگائے گئے ہیں جس میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس تباہ کن جنگ کے بعد اسلامی رپبلک کی حمایت میں متحد ہوں ۔ان کے جنازے کو ایرانی شہروں اور پڑوسی دیش عرا ق لے جایا جائے گا ۔خامنہ ای اور ان کے کنبہ کے افراد کے تابوت ایرانی جھنڈے میں لپیٹ کر تہران کی گرینڈ مسلح مسجد میں رکھے گئے ہیں ۔متوفین میں ان کے داماد ، ان کی سب سے بڑی بیٹی شیر ایک چھوٹا تابوت ان کی 14 ماہ کی پوتی کا ہے جسے دیکھ کر سبھی دل دہل گیا ۔تابوت میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی بیوی بھی شامل ہے۔ پروگرام میں شامل ہونے کے لئے تقریباً 50 ملکوں کے نمائندہ وفد تہران پہنچا ہے ۔بھارت اور سعودی عرب کا نمائندہ وفد بھی ان میں شامل ہے۔ اس درمیا ن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ہے ۔انہوں نے ایران پر تلخ طنز کسا ہے تو وہیں دوسری طرف ایرانی عوام نے امریکہ مرد ہ آباد کے نعرے لگائے اور خامنہ ای کے قاتلوں سے بدلہ لینے کی قسمیں کھائی گئیں ۔ٹرمپ نے تہران پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہاں امریکہ نے ایران کو آخری رسوم کے لئے ایک ہفتہ کا وقت اس لئے دیا کیوں کہ واشنگٹن اچھا دیش ہے ۔انہون نے امریکی انتظامیہ کی کاروائی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا جنگ میں ایران کی بری طرح ہار ہو ئی ہے ۔ایرانی حکام نے آخری رسوم کا نعرہ ’دی مسٹ رائز‘ رکھا ہے ۔جس کے ساتھ مٹھی نیچے ہوئے ہاتھ کی علامت جوڑا گیا ہے ۔حسن زادے نے کہا کہ خامنہ ای کا تابوت ایک اونچے اسٹیج پر رکھا گیا ہے ۔بھیڑ کا انتظام اس طرح سے کیا گیا ہے کہ لوگ 15 سے 20 منٹ کے اندر جاکر باہر نکل سکیں ۔بدھوار کو خامنہ ای کا جسد خاکی نجف لے جایا جائے گا ۔وہاں شیعہ اسلام کے پہلے امام علی کی درگاہ سے جلوس کا انعقاد کیاجائے گا اس کے بعد خراج عقیدت تقریب کربلا میں جاری رہے گی ، پھر جسد خاکی کو واپس ایران لایاجائے گا ۔ایک بڑا سوال یہ ہے کہ جنازے کی نما ز کون پڑھائے گا ؟ شیعہ روایت میں یہ ذمہ داری مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے اہم ترین مانی جاتی ہے ۔ایران کے سپریم لیڈر بننے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای جو کہ اب ایران کے سپریم لیڈر ہیں کو ابھی تک پبلک میں نہیں دیکھا گیا ہے ۔ابھی تک یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنے والد کی آخری رسوم میں شامل ہوں گے یا نہیں ؟ امریکہ اسرائیل جنگ کے درمیان یہ ایک اپنی طرح کی انوکھی آخری رسوم ہے ۔ایرانی خفیہ ایجنسیوں نے مجتبیٰ سے آخری رسوم میں شامل ہونے سے منع کیا ہے ۔کیوں کہ اسرائیل کے ایک وزیر نے کھلے عام دھمکی دی ہے کہ مجتبیٰ کو ہم مار کر رہیں گے۔ حالانکہ مجتبیٰ خامنہ ای ڈرنے والوں میں سے نہیں ہیں ۔یہ بھی ممکن ہے کہ اتنے دن چلنے والی اس آخری رسوم میں کہیں نہ کہیں بغیر شور مچائے مجتبیٰ اپنے والد کو خراج عقیدت پیش کرنے پہنچ جائیں ۔حالانکہ بھارت میں ایران کے سرکاری نمائندہ آیت اللہ حکیم الہی نے بتایا کہ مجتبیٰ خود حمایتیوں اور ملک کی عوام کے بیچ جانے کے لئے بے حد خواہشمند ہیں ۔لیکن ایران کی ٹاپ خفیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں نے اس پر ویٹو لگا دیا ہے ۔موجودہ حالات میں مجتبیٰ کا پبلک کے سامنے آنا کسی بڑے خطرے سے خالی نہیں ماناجاسکتا ہے ۔دراصل اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی اپنی انتہا پر ہے اور خفیہ جو جانکاری ہے کہ اس بڑی بھیڑ کا فائدہ اٹھا کر دشمن دیش ایران کے بیچ نئے سینئرلیڈر شپ کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔اسی خطرے کے ماحول کی وجہ سے مجتبیٰ خامنہ ای کو نظروں سے دور رکھنے کی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے ۔
(انل نریندر)

04 جولائی 2026

کہاں ہے ایران کی 100 ارب ڈالر کی پراپرٹی ؟

بیرونی ممالک میں ایران کی کل ضبط ، پابندی شدہ پراپرٹی کا اندازہ تقریباً 100 ارب ڈالر ہے اس نے منجمد کھاتوں میں تیل سے ہونے والی کمائی، غیر ملکی کرنسی ذخیرہ ،بینکنگ پراپرٹی و دیگر دعوے شامل ہیں ۔پہلی بار وسیع پیمانہ پر اثاثہ تب فریز کئے گئے جب ایران میں اسلامک انقلاب آیا اور امریکی سفارتخانہ میںیرغمال بحران کھڑا ہوا ۔14 نومبر 1979 کو ایرانی انقلابیوں نے فوراً تہران میں امریکی سفارتخانہ پر قبضہ کرنے کے بعد اس وقت کے صدر جلی کوٹر نے امریکی دائرہ اختیار میں موجود ایرانی سرکار کے اثاثہ کو بلاک کر دیا ۔1980 میں ایران سرکار نقد ، سونا اور دیگر املاک شامل تھیں جن میں سے زیادہ تر پراپرٹی 198.1 الجیریس سمجھوتہ کے تحت جاری کی گئی تھی جس سے یرغمالی کا بحران ختم ہوا تھا ۔تقریبا 4 ماہ کی جنگ کے بعدا مریکہ ایران امن سمجھوتہ کی شکل میں لائن پر متفق ہوئے اور اس کے باوجود ایران کی ضبط پراپرٹیوں پر رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔ایک طرف ایران نے 14 نکاتی سمجھوتہ کے حوالہ سے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ بات چیت شروع ہونے سے پہلے ضبط اثاثے جاری کرنے پر متفق ہولیکن ٹرمپ کے کئی متضاد بیانوں نے حالات کو شش وپنج میں ڈال رکھا ہے ۔
(انل نریندر)

ایران کو جلد ملیں گے 6 ارب ڈالر !

ایران -امریکہ جنگ میں کتنی تباہی ہوئی ہے بتانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ممکن ہے کہ ایران کو اصل میں اس جنگ سے فائدہ ہوسکتا ہے ۔یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے حال ہی میں بڑا اعلان کیا اور دعویٰ کیا گیا کہ قطر میں پھنسی ایران کی 12 ارب ڈالر کی رقم میں سے 6 ارب ڈالر جلد جاری کر دیے جائیں گے ۔قوم شہر میں ایک پروگرام کے دوران انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ معاہدے کے تحت اثاثے ریلیز کرنے کی پہلی شرط ہوگی ۔جو اسے قطر سے ملیں گے ۔انہوں نے یہ اہم ترین اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سوئزرلینڈ میں ہوئی بات چیت اور اسلام آباد میں ہوئے معاہدے کے تحت یہ رقم جاری ہو رہی ہے ۔باقی چھ ارب ڈالر کی واپسی کے لئے بھی سرکار مسلسل کوششیں کررہی ہے ۔ایرانی صدر پزشکیان نے بتایا کہ امن معاہدے کے تحت ایران کے تیل اور پیٹرولیم سیکٹر پر لگی پابندیاں بھی ہٹا دی گئی ہیں ۔انہوں نے اسے ایرانی عوام کی بڑی جیت بتایا ۔انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کو ہٹنے سے دیش کی معیشت کو بڑی راحت ملے گی ۔ایران کی ارتھ سرکاری نیوز ایجنسی مہر نے صدر کے بیان کو اہمیت سے شائع کیا ہے ۔صدر نے حالیہ لڑائی کا ذکر کرتےہوئے ایرانی عوام کی تعریف کی ۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر ، وزراء ،فوجی کمانڈر ،دانشور اور عام شہری بھی مشکل کے وقت متحد رہے۔ صدر نے بتایا کہ لڑائی کے بعد سرکار بساست کا کام شروع کر چکی ہے ۔عام لوگوں کو راحت دینے کے لئے خوراک ،رعایت بڑھانے اور مزید مالی مدددینے کی اسکیمیں لاگو کی جارہی ہیں ۔ایران کے اس دعوے سے امید ہے کہ دیش کی معیشت کو کچھ راحت ملے گی ۔قطر میں پھنسا پیسا ریلیز ہونے سے تیل ایکسپورٹ اور دیگر سیکٹروں میں بہتری آسکتی ہے ۔یہ تازہ واقعہ میں ایران کی خارجہ پالیسی اور اقتصادی حکمت عملی میں نئی سمت دکھاتی ہے ۔حالانکہ اب تک ایران میں ہونے والے 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کو لے کر کوئی بات صاف نہیں ہوئی ہے ۔یہ فنڈ کہاں سے آئے گا ، کب آئے گا اس پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔
(انل نریندر)

آنکھ کے بدلے آنکھ !

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آنکھ کے بدلے آنکھ نام سے ایک فوجی آپریشن شروع...