Translater

09 ستمبر 2026

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی ورکر بتانے والےملزم سوتنتر بھاردواج کو دہلی پولیس نے جمعہ کو مغربی اترپردیش کے ضلع بلند شہر سے گرفتار کیا۔ لوک تنتر کے خلاف پاسکو ایکٹ کے تحت ایک نئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ کچھ گھنٹے پہلے ہی ملزم کی گرفتاری کی مانگ پر کاکروچ جنتا پارٹی، یوتھ کانگریس نے دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے پر مظاہرہ کیا تھا۔ پولیس نے72 گھنٹے میں کارروائی کے بھروسے کے بعد یہ واردات ختم ہوئی۔ طالبہ کا الزام تھا کے 23 جون کوجنتر منتر پر مظاہرے کے دوران اس کے والد سے مار پیٹ کی گئی تھی۔ اس درمین ملزم کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں ملزم مبینہ طور پر سر پر حملہ کی بات قبول کرتے ہوئے نظر آیا تھا۔ 7اگست کو سوتنتربھاردواج کے پوٹ کاسٹ کی کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس میں مبینہ طور پر ایک شخص پر حملہ کرنے کی بات کرتے ہوئے دکھائی دیا۔ اس نے دعوی کیا کہ اس نے اس شخص کے سر پر وار کیا تھا، جس کے بعد زخمی شخص کے سر پر ٹانکے لگے تھے۔زخمی شخص نے بتایا کہ اس شخص نے دعوی کیا کہ دہلی کے وزیر کپل شرما کے ایک فون پر پولیس نے اس کے خلاف ساری کارروائی روک دی اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان ان کے بھائی کے برابر ہیں اور مودی جی ان کے بڑے بھائی ہیں۔یہ بھی دعوی کیا میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتاہے۔اپوزیشن پارٹیوں اور سی جے پی سے جڑے لوگوں نے الزام لگایا کہ سوتنتربھاردواج کو سیاسی سرپرستی ملی ہوئی ہے۔ حالانکہ چراغ پاسوان نے سوتنتر بھاردواج سے خود کو الگ کرلیا اور بھاردواج کے خلاف ان کے نام کا غلط استعمال کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کروادی۔اس مبینہ ہندوتو حمایتی دعویدار نے شیخی کے چکر میں ایسا بہت کچھ کہہ دیا، جو سراسر کرائم کا اقبال کرنا ہی ہے۔ اس بارے میں وہ بولے کہ لڑکے کے خلاف اے پی ایس ٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج ہوگیا اور ممکن ہے اقدام قتل کا مقدمہ بھی درج ہوجائے۔ دھرم کے نام پر اپنے خیالات اپنی جگہ ہیں لیکن دھرم ایسے بے تکے الفاظ کو قبول نہیں کرتا۔یہ لڑکا جو کھل کر چینلوںمیں دعوی کرتا رہا ہے اس کی ضروری جانچ ہونی چاہئے اور قانونی کارروائی ہونی چاہئے لیکن سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ اس لڑکے میں ایسی بیہودہ باتیں کرنے کی ہمت کہاں سےآئی؟ اس کو کس کی شے حاصل ہے؟20 جولائی کو جنترمنتر مظاہرے میں مبینہ غنڈے کی حرکت والے لوگ مظاہرے میں کیسے شامل ہوئے؟ انڈین ایکسپریس کی ایک سنسنی خیز رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ چہرہ پہچان سسٹم سے 25 ایسے جرائم پیشہ کے نام سامنے آئے ہیں جو اس وقت تہاڑ جیل میں بند بتائے جاتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ کئی سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ یہ جرائم پیشہ جنتر منتر پر مظاہرے میں کیسے پہنچے؟ سوال تو یہ بھی کیا جارہا ہے کہ سفید کپڑوں میں ہاتھ میں جھنڈے لئے وہ کون لوگ تھے جو طلبہ پر لاٹھیاں برسا رہے تھے؟ ان میں سے یہ سوتنتر بھاردواج بھی ایک تھے۔ اب قانون اپنا کام کرے گا اور امید کی جاتی ہے کہ کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی۔
(انل نریندر)

05 ستمبر 2026

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور الٹانئی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں ۔جنگ سے جان ومال کا بھاری نقصان ،مالی بربادی اور بے گھری اور سماجی عدم استحکام کی شکل میں سامنے آتے ہیں ۔روس یوکرین اور مغربی ایشیا میں برادری تعلق اس کی مثالیں ہیں ۔بھارت ہمیشہ امن عالم کا حمایتی رہا ہے اور جنگ کی جگہ پر بھائی چارگی اور مہاتما گاندھی کے امن کے راستے پر چلنے کا سندیش دے رہا ہے اسی عزم کو ظاہر کرتے ہوئے کرغستان کی راجدھانی بشکیک میں شنگھائی اشتراک انجمن کی چوٹی کانفرنس کے موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم نریندرمودی نے ختم نہ ہونے والی جنگ کے بجائے اس کے خاتمہ کی طرف بڑھنے کی وکالت کی ہے ۔بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کو ختم کرانے کی اپیل کی ہے ۔پی ایم مودی نے پیر کو کہا کہ جنگ میں گزرا ہر دن انسانیت کو پیچھے دھکیلتا ہے اور امن کی سمت میں اٹھایاگیا ہر قدم انسانیت کو نئی امید جگانے اور حوصلہ بھردیتا ہے ۔یوکرین جنگ  ختم کرنے کے لئے پی ایم مودی کی رائے زنیاں حیران کرنے والی نہیں ہیں اور میں بھارت کی خارجہ پالیسی میں کسی بھی قسم کی فوجی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیتی ہے ۔دراصل لڑائی شروع ہونے کے بعد سال 2022 میں ریجنل چوٹی کانفرنس کے بعد تقریر کرتے ہوئے مودی نے پوتن سے کھلے طور سے کہا تھا کہ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے ۔لیکن یہ کہنا بہت آسان ہوگا کہ جنگ پر مودی کے ابھی یا پہلے کے بیانوں کو پوتن یا روسی حکمت عملی کو جواب دینے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔مغربی ممالک نے مودی پر واضح رخ اپنانے کے لئے کافی دبا ؤ ڈالاہے لیکن بھارت کافی حد تک وہ نیوٹرل رہا ہے ۔بھارت نے اس کے بجائے جنگ کو ختم کرنے کے لئے بات چیت کی درخواست کی ہے ۔بیشک اس موقف سے کئی مغربی دیش خوش نہیں ہیں لیکن انہوں نے بھارت کو لبھانا جاری رکھا ہے کیوں کہ بھارت اتنی بڑی اور تیزی سے بڑھتی معیشت ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ۔یہ پہلی بار نہیں جب کسی غیر ملکی لیڈر نے کھلے طور سے پوتن سے یوکرین میں جنگ ختم کرنے کی درخواست کی ہو ۔محض پانچ ہفتے پہلے قزاکستان کے صدر قاسم جویابھائی ٹوکا میف نے پوتن کو تجویز دی تھی کہ لڑائی کو روک دیں اور بات چیت پر لوٹ آئیں ۔امن کے لئے ان کھلی اپیلوں سے پوتن کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آنے کے اشارے نظر نہیں آتے ۔مودی کے ذریعے جنگ بندی کی اپیل پر روسی لیڈر نے جواب دیا کہ بہت بہت شکریہ ، وزیراعظم جی ہم اسی راہ پر آگے بڑھ رہے ہیں ۔روسی لیڈر کا کہنا ہے کہ یہ یہاں بھی ہوسکتا ہے سارے ثبوت بتاتے ہیں کہ روس کی لیڈرشپ کو اب یقین ہے کہ وہ جنگ میں یوکرین سے ملیٹری جیت کی راہ پر ہے اور اسے امن کے معاملے میں کہیں تو روس کی شرائط پر ملیٹری کامیابی سے طے امن کی طرف آگے بڑھنا اس لئے بڑھنا مشکل ہے اس لئے فی الحال لڑائی جاری ہے ۔اس حقیقت کے باوجود ساڑھے چار سال سے زیادہ کی جنگ اور بھاری فوجی نقصان کے باوجود کرملن یعنی روس کو ابھی تک جیت حاصل نہیں ہو پائی ہے اور یوکرین نے جنگ کو روسیوں کے گھر تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے ۔
(انل نریندر)

03 ستمبر 2026

نیپال ٹریجڈی کے پیچھے چین ذمہ داری

نیپال میں فیلش فلرڈ میں مرنے والوں کی تعداد 700 سے آگے بڑھ گئی ہے ،2500 سے زیادہ لاپتہ ہیں جن میں متعدد ہندوستانی بھی شامل ہیں وزیراعظم آفس کے مطابق نیپال کی فوج نے اب تک 883 لوگوں کو محفوظ طور پر بچایا ۔لاپتہ لوگوں میں 517 غیر ملکی بھی شامل ہیں ۔نیپال میں چین کے رویہ کو لے کر بھاری ناراضگی ہے اور سوال اٹھنے لگے ہیں بدھوار کو تبت میں بنی بیریئر لیک ٹوٹنے کے بعد چین نے نیپال سے اطلاع شیئر کرنے میں لاپرواہی برتی جس سے نیپالی شہریوں میں ناراضگی پھیل گئ ہے ۔تبت میں 20 لاکھ گیلن پانی ضائع ہوگیا تھا۔لیکن الرٹ تب بھیجا گیا جب جھیل پھوٹ چکی تھی ۔شہر رسوا کے چیف ضلع افسر نریندر پریار نے بتایا کہ انہیں جھیل ٹوٹنے کی جانکاری نیپالی میڈیا کے ذریعے سے ملی ۔چین کے وزارت آب نے کوئی اطلاع شیئر نہیں کی ۔جھیل بننے کے بعد اوور فلو شروع ہوا اور شام کو چین نے تبت میں بچاؤ کاروائی شروع کی ۔بدھوار کی صبح 8.40بجے بوٹو کوشی ندی میں آبی سطح کا نمبر بھیجا گیا اسی درمیان تبت میں آیا تیزی سے بہاؤ نیپال میں داخل ہوگیا ۔نیپال کو اس کی جانکاری 16 منٹ بعد اس وقت ملی جب سیلاب تباہی مچانے لگا۔ الزام لگائے جارہے ہیں کہ چین کی جانب سے نیپال میں جان و مال کے نقصان کو کم کیا جاسکتا ہے حالانکہ نیپال میں واقع چینی سفارت خانہ نے الزامات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی خبروں کی تردید کی ۔اس درمیان بین الاقوامی میڈیامیں بھی چین کے رول کو لے کر بحث جاری ہے ۔نیپالی نیوز آؤٹ لیٹس سے لے کرچینی میڈیا نے اس مسئلے کو شائع کیا ہے ۔نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مئی میں ہی چین سےگلیشیئر اور پانی کی سطح و دیگر امکانی خطروں کی جانکاری وقت سے پہلے ہی شیئر کرتے ہوئے اپیل کی تھی ۔ان کا خیال ہے سرحد پار سے ملنے والی مسلسل وارننگ کئی زون بچانے میں مدد کر سکتی تھی ۔اس سال 27 مئی کو کاٹھمانڈو میں نیپال اور چین کے ماحولیاتی ماہرین کی میٹنگ ہوئی تھی اس میٹنگ میں گلیشیئر جھیلوں کی فہرست تیار کرنے اور پہلے وارننگ سسٹم مضبوط کرنے پر بھی زور دیا گیا ۔حالانکہ نیپالی حکام کے مطابق میٹنگ کے بعد انہیں چین سے متوقع طور پر گلیشیئر اور آبی سطح سے متعلق کوئی معلومات نہیں مل سکی ۔چینی ورلڈ ویدر سائنس سنٹر  نے قدرتی آفت آنے سے پہلے نیپالی حکام کو ای میل سے 14 اور 19 اگست کے بیچ بھاری بارش اور چٹانیں کھسکنے کا اندیشہ بتایا تھا ۔لیکن نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی وارننگ گلیشیئر ٹوٹنے جیسے اشارے نہیں دیتی ۔نیپال کے لوگوں کا کہنا ہے موت کا یہ سیلاب چین سے آیا جہاں گلیشیئر پھٹا وہ حصہ نیپال سے 50 کلو میٹر دوری پر واقع ہے ۔باڑ کے پانی کو نیپال تک پہنچنے میں 30 سے 40 منٹ لگے اگر چین یہ اطلاع وقت رہتے نیپال کو دے دیتا تو ہزاروں لوگوں کی جان بچائی جاسکتی تھی ۔لوگوں کو محفوظ مکامات تک پہنچائے جانے کے لئے آدھا گھنٹہ کافی تھا ۔لیکن چین نے یہ اطلاع شیئر نہیں کی ۔پانی کے بہاؤ کا نتیجہ اور پانی کے ساتھ آیا ملبہ اتنا خطرناک تھا کہ راستے میں جو کچھ بھی آیا عمارتیں ، پُل ، سڑکیں سب کچھ بہا کر لے گیا ۔لیکن خطرہ ابھی بھی ٹلا نہیں ہے اگر چین کا ڈیم ٹوٹا تو وہاں سے دوسرا فلیش فلڈ آسکتا ہے ۔چین سے بھیجی گئی اس تباہی کو نیپالی کبھی نہیں بھولیں گے ۔
(انل نریندر)

01 ستمبر 2026

کاکروچ پیچھے نہیں ہٹیں گے



سرکار کی جانب سے 25 جولائی کو کئے گئے وعدوں پر کاروائی نہ ہونے پر کاکروچ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔نیٹ پیپر لیک معاملے میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد اب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی ) نے ایک بار پھر سڑکوں پر اترنے کا اعلان کر دیا ہے ۔سی جے پی نے بتایا کہ وہ 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ سے دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر تک پر امن یوتھ مارچ کرے گی ۔سی جے پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کر مرکزی سرکار پر الزام لگایا ہے کہ اس نے طلباء اور مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے کے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا ۔25 جولائی کو دھرمیندر پردھان کے وزیرتعلیم کے عہدے سے استعفیٰ کے ساتھ ہی مرکزی حکومت نے سی جے پی کے مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے سمیت کئی مطالبات پر رضامندی دی تھی ۔20 جولائی کو سنسد چلو مار چ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں کئی مظاہرین پر پولیس نے لاٹھیاں برسائیں اور دعویٰ تو یہ بھی کیاجارہا ہے کہ پیلٹ گن تک کا استعمال ہوا تھا ۔اس کے بعد مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی حالانکہ یہ معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔جہاں پر مرکز نے مانا ہے کہ غیر جرائم پیشہ پش منظر کے لوگوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو واپس لیا جاسکتا ہے ۔سی جے پی ترجمان آشوتوش رانکا نے اپنے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ سرکار 25 جولائی کو کئے گئے وعدوں پر کام کرنے میں ناکام رہی اور 25 جولائی کو سرکار نے جو سی جے پی نمائندہ وفد سے جو وعدے کئے تھے ان میں سے ایک وعدہ یہ بھی تھا کہ اس آندولن سے جڑے متوفی لوگوں کے خاندان کو ایک ایک کروڑ روپے کا معاوضہ بھی دیاجائے گا لیکن ابھی تک کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا ۔وہیں سی جے پی نے ایکس پر لکھا کہ کاکروچ جنتا پارٹی مرکزی سرکار کی 25 جولائی کو بھارت کے نوجوانوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی سخت مذمت کرتی ہے خاص کر طلباء اور مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے سے وابستہ وعدے بھی ہیں۔ 5 ستمبر کا مجوزہ یوتھ مارچ انڈیا گیٹ سے شروع ہوگا اور نئی دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر تک جائے گااس میں نیٹ سے جڑے متوفی طلباء کے کنبہ کے افراد اور پولیس کاروائی کے متاثرہ طالب علم اور یوتھ تنظیمیں شامل ہوں گی ۔تنظیم نے کہا کہ مظاہرے کا مقصد کسی طرح کا تشدد کا ٹکرا ؤ نہیں ہے بلکہ سرکار سے اپنے وعدے پورے کرنے کی مانگ کرنا ہے ۔سی جے پی نے نوجوانوں اور طلباء انجمنوں سے 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ پہنچنے اور پر امن طریقہ سے مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے ۔سی جے پی نے کہا نوجوانوں کے بھروسہ کو کمزور نہیں سمجھا جانا چاہیے ۔سی جے پی کے مطابق ایک پوری پیڑی نے سرکار کی بات پر بھروسہ کرکے آندولن کو واپس لیا تھا اور اب وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے کی مانگ کررہی ہے ۔تنظیم کا کہنا ہے کنبوں اور نوجوانوں کی موجودگی اس آندولن کو اپنے مطالبات کے تئیں سنجیدہ بنائے گی ۔سی جے پی نے کہا کہ جن پریواروں نے اپنے بچوں کو کھویا ہے وہ مارچ کی اگلی قطار میں ہوں گے اور پولیس کاروائی کے متاثرین ان کے ساتھ چلیں گے ۔تنظیم نے نوجوانوں سے بڑی تعدادمیں پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے سرکار سے 25 جولائی کے اپنے وعدوں کو پوری طرح لاگو کرنے کی مانگ کی ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ مظاہرہ پر امن طریقہ سے گزر جائے اور 20 جولائی جیسا کوئی واقعہ نہ ہو پائے۔
(انل نریندر)

29 اگست 2026

موہن بھاگوت کی مخالفت!



آر ایس ایس کےسرسنچالک موہن بھاگوت ان دنوں امریکہ کے دورہ پر ہیں۔ 29 اگست کو شری بھاگوت نے نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ایک وسیع پبلک ریلی کو خطاب کرنا ہے۔ شری بھاگوت کا وہاں جم کر استقبال ہورہا ہے۔ وہیں کچھ مخالفتی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ نیویارک کی سڑکوں پر ان کی ریلی کی مخالفت میں مظاہرہ ہورہے ہیں، لوگ سڑکوں پر پوسٹر ،بینروجھنڈے لیکر مظاہرے کررہے ہیں۔سب سے اہم مخالفت میں نیویارک کے نائب صدر زہران ممدانی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا وہ اس پروگرام کی حمایت نہیں کرتے، حالانکہ ممدانی نے یہ بھی کہا کہ کسی ذاتی پروگرام کو منسوخ کرنے کا اختیار میونسپل کارپوریشن کے پاس ہے یا میونسپل انتظامیہ کے پاس ہے یا نہیں، یہ انہیں نہیں پتہ۔بھاگوت آر ایس ایس کے صد سالہ کے عالمی رابطہ پروگرام کے تحت امریکہ میں ہیں۔ میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ان کا ایک بڑا پروگرام ہونا ہے۔ نیویارک میں قیام کے دوران موہن بھاگوت یونیورسل وینیسز پروگرام میں شامل ہوںگے اور سنیچر کو مشہور میڈیسن اسکوائر گارڈن میں قریب پانچ ہزار لوگوں کی ریلی کو خطاب کریںگے۔زہران ممدانی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا میں ہمارے شہر کی تاریخ میں پہلا ہندوستانی نژاد امریکی میئر بھی ہوں۔ میری ماں کا پورا خاندان اب بھی بھارت میں رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے بارے میں جو انہیں اپنے خاندان سے وراثت ملی ہے اور جسے سمجھتے ہوئے وہ بڑے ہوئے، وہ ایک کثیر سماج اور ایسی سیکولر ملک کے ہیں جہاں بھارت کے ہر شخص کو برابری سے اپنایا جاتا ہے۔ ممدانی نے کہا اور کسی بھی دیش کو لیکر ایسے نظریہ والے تحریک کا دیکھنا بیحد پریشان کرنے والاہے جو کچھ لوگوں کو الگ رکھتا ہے میں اس کی پر زور مخالفت کرتا ہوں۔ نہ صرف ایک ہندوستانی امریکی کی حیثیت سے بلکہ ایسے شہر کے میئر کے طور پر بھی جو ہر شخص کو دل سے اپناتا ہے پھر چاہے اس کا رنگ ، نسل ، مذہب، عقیدت یا بنیادی مقام کچھ بھی ہو۔ امریکہ میںبھاگوت کا پروگرام یونیورسل مونٹیس سیلبریشن کی میزبانی کررہا اولڈ فورم میں انٹر نیشنل میڈیا کو پوسٹ میں کہا کہ آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کا دورہ بات چیت اور سب کےلئے ایک جیسا پیغام لیکر آتا ہے۔ دنیا ایک خاندان ہے سنگھ کے جنرل سکریٹری سی آر مکند نے بتایا کے بھاگوت کا غیر ملکی دورہ کا مقصد:بھارت ہندو سماج اور سنگھ پر مثبت نظریئے کو پیش کرنا ہے۔ ہاں بھاجپا نے کہا ممدانی کا رخ ان کے کثیر نسل پرستی کے مخالف ہے۔ امریکی دانشور میری ملی رین نے کہا میری صلاح ممدانی و ان کے سماجواد کے گروپ کو ہےپونجی واد بند پیسےاکٹھا کریں۔ میڈیسن گرائونڈ کرائے پر لیں اور اپنی مودی مخالف بیوقوفی کےلئے خود کی ریلی منعقد کریں۔ ملی رین نے آگے کہا ممدانی اور میں سماجوادی پاگل موہن بھاگوت کے میڈن اسکوائر گارڈن پروگرام کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ وہ پی ایم نریندر مودی اور بی جے پی کی مخالفت کرتے ہیں۔ دیکھیں سرسنچالک کا امریکہ دورہ جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے انہیں کیسارسپانس ملتا ہے؟
(انل نریندر)

27 اگست 2026

نر پیندر مشر ابنام چمت رائے!


شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چھڑا دے کو لیکر کی گئی چوری کے تنازعہ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ رام مندر ٹرسٹ سے استعفی کے بعد چمت رائے کا ایک نو صفحات کا خط سامنے آیا ہے۔ اس میں انہوں نے مندر تعمیر کیٹی کے صدر نہ پیندر مشرا کے رول کو لیکر کئی دعوے کئے ہیں ۔ چمت رائے نے الزام لگایا کہ مندر تعمیر سے جڑے سخت فیصلے کمیٹی کی میٹنگ میں لئے تو جاتے لیکن بعد میں ان میں ترمیم کرنر پیندر مشرا کے فیصلوں کو ہی ترجیح دی جاتی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی معاملوں میں کیٹی کے دوسرے ممبروں کی تجاویز اور فیصلوں کو بحث میں اہمیت نہیں دی گئی ۔ چمت رائے نے اپنے خط میں بتایا کہ رام مندر تعمیر کے لئے بنائے گئے ٹرسٹ میں کل 15 ٹرسٹی تھے اور نر پیندر مشرا کو تعمیراتی کیٹی کا صدر بنایا گیا تھا۔ ان کے مطابق نہ پیندر مشرا کی ہی تجاویز پر ٹسٹوں کو مندر تعمیر کی ذمہ داری دی گئی ۔ مندر اور دیگر عمارتوں کے ڈیزائن سے وابستہ کام کے لئے نوئیڈا کی ڈیزائن ایسوسی ایٹ فرم کا انتخاب کیا گیا۔ حمت رائے نے نہ پیندر مشرا پرسید ھے الزام لگایا کہ تعمیر کمیٹی میں انہوں نے اپنے لوگوں کو ہی شامل کیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ان میں سے کچھ لوگ 6 برسوں کے دوران میٹنگ میں ایک دو بار ہی ایودھیا آئے ۔ چمت رائے کے مطابق ایم بی سی کے چیئر مین انوپ مثل مسلسل نر پیندر مشرا کے ساتھ تعمیراتی کیٹی کی میٹنگوں میں شامل ہوتے تھے۔ بتادیں کہ چمت رائے نے مندر میں چڑھاوے سے وابستہ مبینہ چوری کا معاملہ سامنے آنے کے بعد 26 جون کو جنرل سکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد 6 جولائی کو ٹرسٹ کی میٹنگ میں ان کا استعفیٰ منظور ہو گیا تھا۔ اسی دن حمت رائے نے ایک خط لکھ کر دوسرے اہل مشرا کے رول پر بھی سنگین الزام لگائے تھے ۔ چمت رائے نے اپنے خط میں صاف طور پر کہا کہ مندر تعمیر کے بھی فیصلوں میں نہ پیندر مشرانے ہمیشہ اپنے کو سب سے اہم رکھا۔ انہوں نے یہ بھی بتانے کی کوشش کی کہ مندر تعمیر کی سب سے بڑے پاور فل مندرٹرسٹ سے او پر چل کر مندر تعمیر کمیٹی رہی جس کے چیئر مین نہ پیندر مشرا ہیں ۔ چمت رائے جی نے سارا چڑھاوا چوری معاملہ میں اپنے آپ کو پاک صاف ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے اور سارا قصور ائل اور نر پر بندر مشرا پر منڈھنے کی کوشش کی تھی۔ ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری تھے ان کی کیا ڈیوٹی تھی؟ نر پیندر مشرا کے مطابق شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چڑھاوے کی ڈکیتی ہو رہی تھی؟ اور آپ کو پتہ نہیں چلا۔ بیشک آپ بھی اسی پوزیشن اور روابط سے فی الحال بچ جائیں لیکن بھگوان رام کے شراب کبھی بھی معاف نہیں کریں گے ۔ آپ نے اور آپ کے تمام ساتھیوں نے کروڑوں لوگوں کی عقیدت کو ٹھنس پہنچائی ہے اسے کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ رہا سوال نر پیندر مشرا کا تو انہوں نے چمت رائے کے الزامات کے جواب میں کہا میں نے چمت رائے کا کوئی خط نہیں دیکھا ہے ۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ اگر ایسا کوئی خط ہے بھی تو اس میں ان کے خلاف اس طرح کی باتیں نہیں لکھی گئی ہوں گی۔ صاف ہے اب چمت رائے بدلہ لینے کے موڈ میں ہیں اور یہ تنازعہ اور آگے بڑھے گا۔
انل نریندر

25 اگست 2026

مہنگی چینی : کیا وجہ اتھنول تو نہیں ؟

بھارت میں چینی کے دام پچھلے ماہ سے تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرس کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف اسی ماہ بھارت میں چینی کی قیمتوں میں 20 فیصدی اضافہ ہوا ہے ۔بھارت سرکار کے صارفین امور محکمہ کی ایک رپورٹ کےمطابق ، 20 اگست کو بھارت کے خوردہ بازار میں چینی کی قیمت 55.7 روپے فی کلو تھی ۔ایک ماہ پہلے چینی کی قیمت 48.18  روپے فی کلو گرام تھی ۔20 اگست 2025 کو اس کی قیمت 46.3روپے فی کلو تھی ۔بازار کے واقف کاروں کا کہنا ہے کہ چینی کے دام اس سے پہلے کبھی اتنے اونچائی پر نہیں گئے ۔سوال یہ بھی پوچھا جارہا ہے کہ کیا پیٹرول میں ملائے جانے والے ایتھنول کی وجہ سے چینی مہنگی ہوئی ہے؟ کچے تیل کی کھپت کے معاملے میں امریکہ اور چین کے بعد بھارت دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے لیکن بھارت میں استعمال ہونے والے کچے تیل کا 80 فیصدی سے زیادہ حصہ بیرونی ممالک سے آتا ہے ۔اس درآمدات کو کم کرنے ، غیرملکی کرنسی بچانے ، خود انحصاری بڑھانے اور آلودگی کم کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے 2018 میں پیٹرول میں ملائے جانے والے ایتھنول کی مقدار کو 10 فیصدی سے بڑھا کر 20 فیصدی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ بھی ٹارگیٹ 2030 میں حاصل کیاجانا تھا ، لیکن سرکارنے سے جولائی 2025 میں ہی حاصل کر لیا ۔بھارت نے چینی انڈسٹری سرکاری کنٹرول کے تحت آتی ہے ۔چینی ملوں کو کسانوں سے خریدے گئے گنے کے لئے اتنا ایم آر پی دینا ہوگا ، یہ مرکزی سرکار طے کرتی ہے ۔سرکار یہ بھی طے کرتی ہے کہ کون سی چینی مل ہر ماہ کتنی چینی بیچ سکتی ہے اور چینی کا ایکسپورٹ کیا جاسکتا ہے یا نہیں دیش میں بڑے پیمانہ پر اتھنول خریدنے والاگراہک بھی سرکار ہی ہے۔ اور اس طرح اتھنول کی قیمت بھی غیر متوقع طور سے سرکارہی طے کرتی ہے ۔رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق سال 2025-26 کے چینی سال بھر میں 30 لاکھ ٹن چینی کا استعمال تھنول بنانے کے لئے کیا گیا ۔رپورٹ کے مطابق یہ دیش میں چینی کی کل پیداوار کا قریب 10 فیصدی ہے ۔گنے کے رس کے علاوہ چینی بنانے کے دوران تیار ہونے والے سیرپ اے ہیوی مولاسس ، بی ہیوی ملاسس اور سی ہیوی ملاسس سے بھی اتھنول بنایاجاسکتا ہے ۔ایک پورٹ کے مطابق دیش میں پیدا کل اتھنول کا قریب ایک تہائی حصہ گنے سے تیار کیاگیا تھا ۔دوسری طرف سرکار نے جمعہ کو کہا کہ چینی کے بڑھتے داموں کے لئے پیٹرول میں اتھنول ملانے کے پروگرام کو ذمہ داری نہیں ٹھہرایاجاسکتا ۔سرکار نے کہا دیش میں پیداوار اندازے سے کم رہنے اور  تہواری سیزن سے پہلے مانگ بڑھنے اور انڈسٹری کے ایک حصے کی جانب جمعہ خوری کے چلتے چینی کے دام میں اچھال آتا ہے حالانکہ مانگ پوری کرنے کے لئے درکار مقدارمیں چینی دستیاب ہے ۔وزارت نے اتھنول سلیڈنگ پروگرام کے چلتے دام بڑھنے کی بات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اتھنول پروڈکشن کے لئے چینی کے استعمال کو قیمتوں میں حالیہ اضافہ کو ذمہ دارنہیں ٹھہرایاجاسکتا ۔اُدھر سرکار نے چینی کے داموں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے 31 اکتوبر تک 10 لاکھ ٹن غیر پروسیس چینی کو ڈیوٹی فری (ٹیکس مستثنیٰ درآمدات کو منظوری دے دی ہے ۔یہ قدم اس لئے اٹھایا گیا ہے تاکہ تہواری سیزن میں چینی کے بڑھتے داموں کی کڑواہٹ اور نہ بڑھے ۔ایک دن پہلے سرکار نے 10 لاکھ ٹن سے زیادہ چینی خریدنے والے کاروباریوں کے لئے چینی کا اسٹاک میعاد 15 دن طے کر دی تھی ۔
(انل نریندر)

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...