امریکہ کے 7 ریاستوں میں ایک کے بعد ایک زبردست اٹیک ہوئے ہیں یہ حملے سیدھے اس لائف لائن پر ہوئے ہیں ،جس کی درد سے عام جنتا کراہ اٹھی ۔اس حملے کے بعد ٹرمپ کا ایسا حال ہو گیا ہے کہ وہ ایران کا نام بھی نہیں لے پارہے ہیں ۔ٹرمپ الٹے اپنے ہی لوگوں کو بدنام کرنے میں لگ گئے ہیں ۔لیکن اپنے سب سے بڑے دشمن کی چالاکی دنیا کے سامنے یہ قبول نہیں کر پارہے ہیں ۔ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکہ میں اچانک کچھ ایسا ہوگیا ہے جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے پسینے چھڑا دیے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے طاقتور ملک کی چھاتی پر ایک نہیں دو بلکہ ایک کے بعد ایک پورے سات بڑے حملے ہوئے ہیں ۔یہ حملے کسی عام جگہ نہیں ہوئے بلکہ سیدھے امریکی عوام کی لائف لائن پر ہوئے ہیں ۔شبہ ہے کہ اس پورے کھیل کے پیچھے امریکہ کا سب سے بڑا دشمن ایران ہی ہے ۔لیکن ٹرمپ کھلے عام اس کا نام لے رہے ہیں ۔اگر ٹرمپ نے دنیا کے سامنے یہ مان لیا کہ حملہ ایران نے ہی کیا ہے تو ثابت ہو جائے گا کہ تکنیکی معاملے میں وہ امریکہ سے آگے نکل چکا ہے ۔دراصل یہ حملے امریکہ کی پانی سپلائی کرنے والی سب سے اہم پائپ لائن اور پلانٹس پر ہوئے ہیں ۔اس سرکاری انفراسٹرکچر پر سات جگہ سے سائبر اٹیک کئے گئے ۔حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کئی ریاستوں میں پانی سسٹم کو بچانے کے لئے ڈومیٹک سسٹم بند کرکے ہاتھوں سے کام سنبھالنا پڑا۔ اب اس پورے کھیل میں سب سے بڑا جھٹکا امریکی سیاست اور ڈونلڈ ٹرمپ کو لگا ہے ۔کیوں کہ جب دنیا کی نظریں ایران پر ٹکی رہی ہیں تب ٹرمپ سیدھے طور پر ایران کا نام لینے سے بچ رہے ہیں۔ اس بڑے سنسنی خیز سائبر حملے کی پہلی منیسوٹا اسٹیٹ سے لگی 26 اور 27 جولائی کے درمیان یہاں سے 30 سے زیادہ کمیونٹی واٹر سسٹم کو ہیکرس نے اپنا نشانہ بنایا ۔منے سوٹا آئی ٹی سروس نے جب آناً فاناً میں جانچ شروع کی تو پتہ چلا کہ کسی نے جان بوجھ کر پانی کی سپلائی لائن کنٹرو ل کرنے والے سسٹم کا ایکسس ہتھیا لیا تھا ۔ترجمان ایملی نیمر کا کہنا تھا کہ معاملے کی جانچ بہت تیزی سے چل رہی ہے ۔جس طریقہ سے اس معاملے کو انجام دیا گیا وہ ٹھیک ویسا ہی ہے جیسا ہمارے فیڈرل پوٹرلس نے پہلے کریٹیبل انفراسٹرکچر پر ہوئے حملوں میں دیکھا تھا ۔ہیکرس نے بہت ہی چالاکی سے پانی کے پلانٹس میں لگے پروگرام ویل لیکج کنٹرولرس کو اپنا شکا ر بنایا ۔امریکہ کی جانچ ایجنسیاں مان رہی ہیں کہ اس حملے کا پیٹرن ایران کے پرانے سائبر حملوں سے کافی ملتا جلتا ہے لیکن سب سے بڑا ڈرامہ تب شروع ہوا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ۔ٹرمپ نے اس خوفناک حملے کا قصور سیدھے ایران پر ڈالنے کے بجائے اپنے ہی سسٹم پر پھوڑ دیا ۔کابینہ میٹنگ کے دوران ٹرمپ نے ایران کا بچاؤ کرتے جیسا بیان دیا اور کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ منیسوٹا کے 30 واٹر پلانٹس پر جو حملہ اس کے پیچھے ایران ہے ۔مجھے ایسا بالکل نہیں لگتا میں اس کے لئے منیسوٹا کے ناکام انتظامیہ اور وہاں کے کرپٹ گورنر کو ذمہ دار مانتاہوں ۔ایران کے پاس منیسوٹا کےبارے میں سوچنے سے بہت بڑے اشوہیں ۔ٹرمپ کے اس رویہ سے ہر کوئی حیران ہے ۔جہاں ایکسپرٹرس اسے سیدھے طور پر ایران سے جوڑ رہے ہیں وہی ٹرمپ ایران کا نام لینے سے کترا رہے ہیں ۔اور اپنے ہی حکام کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں اس پر منیسوٹا کے گورنر نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو اچھی طرح پتہ ہے کہ حملہ آور کون ہے وہ سچائی سے بھاگ رہے ہیں ۔
(انل نریندر)