اشاعتیں

جنوری 18, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

میں ہی ہوں شنکر آچاریہ !

پچھلے کچھ دنوں سے بی جے پی انتظامیہ اور شنکر آچاریہ منی مکتیشور آنند جی مہاراج میں جم کر تنازعہ چھڑا ہوا ہے ۔ایک طرف شنکر آچاریہ جی اور دیگر سادھوسنت ہیں تو دوسری طرف اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کا میلہ انتظامیہ ہے ۔سارا معاملہ شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند سرسوتی کے پریاگ راج میں گنگا اسنان نہ کرنے کو لے کر شروع ہوا ۔پریاگ راج میں چلے ماگھ میلے میں مونی اماوسیہ کے موقع پر ہونے والے روایتی شاہی اسنان کو لے کر جوتش پیٹھ کے شنکر آچاریہ سوامی ابھی مکتیشور آنند سرسوتی اور میلہ انتظامیہ کے درمیان سوامی جی کے پالکی پر سوار ہوکر اسنان کو لے کر شروع ہوا ۔انتظامیہ نے سوامی جی کی پالکی پر اسنان کرنے سے روکا اس پر انتظامیہ اور سوامی جی کے حمایتیوں میں ہاتھا پائی تک ہو گئی ۔سوامی جی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے حکام نے نہ صرف سوامی جی کی پالکی کو توڑنے کی کوشش کی بلکہ ان کے حمایتی سادھو بھکتوں کی جٹا سے پکڑ کر مارا ۔اور جیل میں ٹھونس دیا ۔اس کے احتجاج میں شنکر آچاریہ جی نے دھرنا شروع کر دیا جو اب بھی جاری ہے ۔سوامی جی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی معافی کے بغیر آشرم میں ...

گرین لینڈ کو لے کر رہیں گے :ٹرمپ

پچھلے کئی دنوں سے گرین لیڈکو لے کر زبردست رسہ کشی جاری ہے ۔اس ڈرامہ کے تین اہم کردار ہیں ۔پہلے ہے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو کررہے ہیں کہ اب وقت آچکا ہے ، گرینڈ لینڈ لے کر ہم رہیں گے۔ٹرمپ جھکنے کے موڈ میں نہیں لگتے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈکو اپنی ناک کا سوال بنا لیا ہے ۔وہ کبھی گرین لینڈکی فوج کا مذاق اڑاتے ہیں تو کبھی وہاں فوجی کاروائی کی بات کرتے ہیں ۔ٹرمپ نے یوروپی ممالک کو کھل کر دھمکی دے ڈالی ہے کہ جو دیش گرین لینڈ سے جڑے امریکی ارادوں کی حمایت نہیں کریں گے ،انہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔انہوں نے اب تو 8 یوروپی ملکوں پر دس فیصد ٹیرف لگانے کی بھی دھمکی دے ڈالی ہے ۔ٹرمپ کسی بھی قیمت پر گرین لینڈ حاصل کرنا چاہتےہیں وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر امریکہ نے گرین لینڈ پر اپنا قبضہ نہیں کیا تو روس یا چین اس پر اپنا قبضہ کر لے گا تو پہلا کردار تو ڈونلڈ ٹرمپ ہیں ۔دوسرا کردار یوروپی ممالک ہیں ۔گرین لینڈ مسئلے پر ٹرمپ نے یوروپ کے 8 ملکوں پر ٹیرف بڑھانے کی وارننگ پر یوروپی یونین نے سخت رخ اپناتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی دباؤ بنانے کے لئے ٹیرف لگایاجائے گا تو یوروپی یونین بھی جواب...

چاہ بہار پربھارت کے پیچھے ہٹنے کی قیاس آرائیاں!

ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ملکوں پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد سے ہی یہ سوال بناہوا تھا کہ بھارت پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟ ایران سے بھارت کی تجارت امریکی پابندیوں کے سبب بے شک وہاں نہیں ہے لیکن ایران حکمت عملی طور سے بھارت کے لئے کافی اہم ہے ۔ایران کے جنوبی ساحل پر سیستان -بلوچستان صوبہ میں واقع چاہ بہار بندرگاہ اسی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے ۔اسے بھارت اور ایران مل کر بنا رہے تھے تاکہ بھارت کو وسطی ایشیا اور افغانستان تک سیدھے پہنچ مل سکے ۔چاہ بہار بھارت کے لئے اس لئے بھی اہم ہے کیوں کہ اس کے ذریعے وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا پہنچ سکتا ہے ۔لیکن امریکہ کے مزید ٹیرف کے اعلان کے بعد سے بھارت کے چاہ بہار بندرگاہ سے باہر ہونے کی خبریں زور پکڑنے لگی ہیں ۔ان خبروں اور قیا س آرائیوں کو دیکھتے ہوئے بھارت سرکار نے گزشتہ جمعہ کو جواب دیا ہے ۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو یہاں کہا ،جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 28 اکتوبر ،2025 کو امریکہ کے محکمہ مالیات نے ایک خط جاری کیا تھا جس میں 26 اپریل، 2026 تک جائز اور مشروط پابندی چھوٹ کی سمت میں گ...