Translater

Al Qaida لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Al Qaida لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

01 جون 2012

لادن کی خبر دینے والے ڈاکٹر افریدی کو 33 سال کی قید


پچھلے سال القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کو مارگرانے کی کارروائی میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ساتھ دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل افریدی کو ایک عدالت نے ملکی بغاوت کا قصوروار قرار دیتے ہوئے 33 سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ سن کر تعجب بھی ہوا اور عجیب غریب بھی لگا۔ خبر قبائلی علاقے کے سیاسی نمائندے مطاہر زیب خان نے پاکستانی اخبار ڈان کو بتایا کہ شکیل کو چار نفری قبائلی عدالت میں پیش کیاگیا۔ عدالت نے انہیں33 سال کی قید اور 3.2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ سزا سنائے جانے کے بعد شکیل کو پیشاور کی سینٹرل جیل میں بھیج دیا گیا۔ شکیل کو پاکستان جرائم دفعہ کے بجائے برطانوی قانون فرنٹئر کرائم ریگولیشن ایکٹ کے تحت قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت دیش سے بغاوت کے معاملے میں موت کی سزا کی سہولت نہیں ہے۔ ڈاکٹر شکیل نے سی آئی اے کی ہدایت پر ایبٹ آباد میں ایک ٹیکا مہم چلائی تھی تاکہ اس کی مدد سے اسامہ اور اس کے خاندان کے لوگوں کے ڈی این اے نمونے لئے جاسکیں۔ مہم سے ملے ثبوتوں کی بنیاد پر ہی امریکہ نے اسامہ بن لادن کے خلاف گذشتہ مئی مہینے میں کارروائی کرکے مار گرایا تھا۔ پاکستان کے ذریعے اٹھائے گئے اس قدم سے یہ ثابت ہوجاتا ہے پاکستان آتنک واد سے لڑنے کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اندر خانے پاکستان ہر طبقے کے آتنک وادی چاہے وہ القاعدہ کا ہو یا پھر لشکر طیبہ سے وابستہ، اس سے ہمدردی رکھتا ہے۔ پاکستان اس آدمی سے بدلہ لے رہا ہے جس نے دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گرد کو ختم کرنے میں مدد کی تھی۔ دنیا کے کسی اور کونے میں شاید ڈاکٹر افریدی کا سنمان کیا جاتا ہو لیکن پاکستان میں وہ ایک ملک دشمن ہے جس نے دیش کے خلاف غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد کی تھی۔ اگر پاکستان کے دوہرے گیم اس قصے سے بے نقاب ہوتے ہیں تو امریکہ پر بھی سوال اٹھتے ہیں کہ وہ اپنے ذرائع یعنی مخبر کو بچا نہیں پایا۔ اس قصے سے پاکستان اور امریکی رشتوں میں مزید کشیدگی بڑھے گی۔ امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری بل کلنٹن نے فیصلے کو غیر انصافی اور دشمنی پر مبنی بتایا۔ ساتھ ہی امریکی سینیٹ کے ایک پینل نے اسلام آباد کو دی جانے والی مدد میں کٹوتی بھی کردی ہے۔ ہلیری نے کہا کہ افریدی کے ساتھ جو کیا گیا ہے وہ انصاف پر مبنی نہیں ہے انہیں قصوروار ٹھہرائے جانے پر افسوس ہے، انہوں نے جو مدد کی وہ دنیا کے سب سے خطرناک قاتلوں میں سے ایک کا خاتمہ کرنے میں کی، یہ صاف طور پر پاکستان کے اور ہمارے اور پوری دنیا کے مفاد میں تھا۔ دوسری طرف پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرنا کسی بھی دیش کے قانون کے خلاف ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے پر عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ ہماری آزادانہ عدلیہ ہے جس کو پاکستان پیپلز پارٹی بحال کیا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے پہلے سے کشیدہ رشتوں میں ایک اور باب جڑ گیا ہے۔ ہماری رائے میں پاکستان کا یہ قدم آتنک وادیوں کے حوصلے کو بڑھانے والا ہے۔
(انل نریندر)

27 مارچ 2012

القاعدہ کے جہادی نے یہودی بچوں کو بھون ڈالا



Published On 29 March 2012
انل نریندر
جمعرات کے روز فرانس کے دولوج شہر میں ایک ڈرامائی پروگرام کے تحت مقامی پولیس نے القاعدہ کے ایک مشتبہ آتنک وادی کو جس عمارت میں وہ چھپا ہوا تھا ،اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اس نام نہاد القاعدہ کے جہادی نے جب اپنے آپ کو چاروں طرف سے گھرا پایا تو اس نے بالکنی سے تابڑ توڑ گولیاں چلانا شروع کردی۔ اس نے30 سے زیادہ فائر کئے۔ آخر میں وہ پولیس کی فائرنگ میں مارا گیا۔ اس طرح پچھلے چار مہینوں سے جاری یہ خوفناک کانڈ ختم ہوگیا۔ مارا گیا جہادی محمد معراج تھا۔اس کا الزام تھا کہ اس نے تلوج کے یہودی بچوں کے اسکول کے باہر اندھا دھند فائرنگ کی اور تین یہودی بچوں سمیت 4 لوگوں کو مار ڈالا۔ محمد معراج بنیادی طور سے الجزائر کا باشندہ تھا۔ ان یہودی بچوں کی عمر 4 سے7 سال کی تھی۔ معراج نے فرانس کے تین فوجیوں کو بھی موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔ پولیس نے کہا معراج کے اس ہتیا کانڈ کرنے کے پیچھے کئی وجوہات تھیں۔ اس نے مرنے سے پہلے کہا تھا فرانس میں عورتوں کو پردہ نہ کرنے کے سرکاری فیصلے اسے بالکل قابل قبول نہیں۔ پولیس کو معراج کے گھر سے کئی ویڈیو ملے ہیں ان میں سے ایک میں اس نے فرانس کے ایک فوجی کو مارنے سے پہلے کہا 'تم میرے بھائی کو مارو میں تمہیں مار ڈالوں گا'۔ ایک اور ویڈیو میں وہ فرانسیسی فوجیوں کو مارنے کے وقت 'اللہ اکبر' کا نعرہ لگاتارہا۔
معراج نے پولیس کو مرنے سے پہلے بتایا کہ اس نے وزیرستان کے کوئٹہ شہر میں القاعدہ ٹریننگ کیمپ میں ٹریننگ لی تھی اور اس نے کئی اور حملوں کا بھی پلان بنا رکھا تھا لیکن بدھوار 21 مارچ کو تولوس پولیس کے 300 جوانوں نے اس عمارت کو گھیر لیا جس میں معراج یہودی اسکول میں فائرنگ کرنے کے بعد چھپ گیا تھا۔تینوں بچوں کو یروشلم میں دفنا دیا گیا ہے۔ اگرچہ تولوس کا یہ حملہ ایک ٹریجڈی تھی لیکن یہ پوری طرح سے غیر متوقع نہیں تھا۔ فرانس میں یہودی طویل عرصے سے اس دیش میں عرب باشندوں سے دشمنی کا سامنا کررہے ہیں اور اب تو نوبت یہ آگئی ہے کہ فرانس میں مقیم یہودی فرانس سے اسرائیل ہجرت کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ یہودی بچوں کو اسکول جاتے وقت سمجھایا جاتا ہے ان پر طعنے کسے جاتے ہیں۔ تولوس اور آس پاس کے علاقوں میں گذشتہ تین دنوں کے اندر فائرننگ میں تین واقعات ہوچکے ہیں جن میں 7 لوگ مارے جاچکے ہیں۔ فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے کہا ہے قومی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے میں آتنک وادیوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ قت ہے جب پورا دیش متحد رہے۔ اس سے پہلے فرانس کے وزیر داخلہ کلاڈے گیر نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مشتبہ کے بارے میں فرانسیسی ڈی سی آر آئی گھریلو خفیہ ایجنسی کو جانکاری تھی اور اسے پاکستان۔ افغانستان سرحد پر متنازعہ علاقے میں گھومتے دیکھا گیا۔ اس واقعے سے ایک اور بات ثابت ہوتی ہے کہ نئی دہلی ، بینکاک، جارجیا میں یہودیوں پر حملے یا حملوں کی کوشش ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہی کیگئی تھی جس میں فرانس کا تولوس شہر بھی شامل ہے۔ ویسے کوئی بھی مذہب بے قصور بچوں کو مارنے نہیں دیتا۔
Al Qaida, Anil Narendra, Daily Pratap, France, Jehadi, Shooting, Vir Arjun

02 دسمبر 2011

پاک۔ امریکہ کے اس تنازعے میں آخرکار امریکہ کو ہی جھکنا پڑے گا


Published On 2nd December 2011
انل نریندر
پاکستان اور امریکہ کے آپسی رشتے بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ تازہ ٹکراؤ نیٹو کے فوجیوں کے ذریعے پاکستان کے قبائلی علاقے میں واقع دوچوکیوں پر 26 نومبر کو صبح سویرے کئے گئے ہوائی حملے کو لیکر ہے۔ اس میں 28 پاکستانی فوجیوں کی موت ہوگئی تھی۔ دراصل پاکستان کو سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ امریکہ اس کی سرزمین میں گھس کر اس پر حملہ کرتا ہے۔ اب تک تو دہشت گردی کے ٹھکانوں یا انتہا پسندوں پر پاکستان میں گھس کر حملے ہوتے تھے لیکن اب یہ پہلا موقعہ ہے کہ امریکہ نے نیٹو کے ذریعے سے پاکستانی فوج کو نشانہ بنایا ہے۔ اسامہ بن لادن کو بھی پاکستان کے اندر گھس کر ایبٹ آباد میں ٹھکانے لگایا گیا تھا۔ اسی حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے رشتے بگڑتے چلے گئے۔ اب تو حد ہوگئی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ سے ناٹو کے ہوائی حملے پراپنا احتجاج درج کرانے اور مذمت کرنے کے لئے باقاعدہ طور سے رابطہ قائم کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عبداللہ حسین ہارون نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکی مون کو ایک خط لکھ کر مطلع کیا ہے کہ 26 نومبر کو ناٹو کے ذریعے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر کئے گئے حملے کی وجہ سے اس کے 28 فوجی اور ایک افسر شہید ہوگئے۔ 13 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ ہارون نے سکریٹری جنرل کو پاکستان کیبنٹ کی ڈیفنس کمیٹی کے ذریعے جاری بیان کو بھی بھیجا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے پاک اس حملے کی سخت مذمت کرتا ہے اور اسے پاکستان کی اپنی سرداری کی خلاف ورزی مانتا ہے۔ پاکستان حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ جرمنی کے بان شہر میں آئندہ5 دسمبر کو ہونے والی ایک اہم چوٹی کانفرنس کا بائیکاٹ کرے گا۔ پاکستانی فوج نے ناٹو کے حملے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ بغیر کسی اکساوے کے ہوا۔ جو ناٹو کی جارحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ سینئر فوجی افسر میجر جنرل اشفاق ندیم نے راولپنڈی میں واقع فوجی ہیڈ کوارٹر میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا پاک۔ افغان سرحد پر پاک فوجیوں کی چوکیوں کی پوری جانکاری ناٹو فوج کو دی گئی تھی اور نقشے کے ذریعے سے بھی سمجھا گیا تھا۔ وہیں جنرل ندیم نے کہا جس حلقے میں ناٹو جہازوں نے حملہ کیا پاک فوج نے پہلے ہی اس کو کٹر پسندوں سے آزاد کرا لیا تھا اور وہاں سے کٹر پسندوں کی کوئی دراندازی نہیں ہورہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے ناٹو فوج 2008-09 میں اور 2011 ء میں حملے کئے تھے جس میں14 فوجی مارے گئے تھے 13 زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت جانچ کا علان کیا گیا تھا لیکن جانچ آج تک پوری نہیں ہوئی۔ کیبنٹ کی ڈیفنس کمیٹی کی میٹنگ کے بعد پاکستان حکومت نے کہا کہ امریکہ کو شمسی ہوائی اڈے کو15 دن کے اندر یعنی11 دسمبر تک خالی کرنا ہوگا۔ کیونکہ امریکہ یہاں سے ڈرون حملے کرتا ہے۔ امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے پاکستان سے کہا کہ وہ افغانستان کے مستقبل پر غور و خوض کرنے کے لئے بان کانفرنس میں حصہ نہ لینے کے اپنے فیصلے پر دوبارہ سے غور کرے۔ یہ ہی بات افغان صدر حامد کرزئی نے بھی کہی ہے۔ پاکستان کے بنے نئے ہمدرد چین نے بھی پیر کو کہا کہ پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر ناٹو حملے سے اسے گہرا دھکا لگا ہے۔ چین نے ناٹو سے کہا کہ وہ پاکستان کی سرداری کا احترام کرے ساتھ ہی اس نے واقعہ کی جانچ کی بھی مانگ کی ہے۔
پورے معاملے میں پاکستان کا پلڑا بھاری ہے۔ افغانستان میں اس وقت ناٹوکے سوا لاکھ سے بھی زیادہ فوجیوں کے لئے فوجی سازو سامان اور پیٹرول کی سپلائی پاکستان سے ہی ہوتی ہے۔ اسے روکے جانے سے امریکہ کے لئے بھاری مشکلیں پیدا ہوں گی۔ پاکستان کا سپلائی راستہ امریکہ کے لئے کئی برسوں سے درد سر بنا ہوا ہے۔ کیونکہ اکثر اس راستے سے جانے والے ٹرکوں کو طالبان لڑاکے جلا دیتے ہیں۔ اب تک پاکستانی فوج کی سرپرستی میں کراچی بندرگاہ سے ہوکر ہتھیاروں اور پیٹرول لے جانے والے ان ٹرکوں کا کابل تک پہنچنا ممکن ہوپاتا تھا لیکن اب پاکستانی فوج نے اگر سکیورٹی ہٹا لی تو امریکہ کے لئے افغانستان اپنے فوجی سازو سامان پہنچانا مشکل ہوجائے گا اس لئے ہر حال میں امریکہ کو افغانستان میں اپنے فوجی سازو سامان بھیجنے کے لئے پاکستان پر منحصر رہنا پڑا۔ اب اسے دباؤ کہیں یا بلیک میلنگ۔
پاکستان کا پلڑا بھاری ہے اور آخر کار امریکہ کو پاکستان کو پٹانے کے لئے کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔ ہاں ایک اور متبادل یہ بھی ہے امریکہ پاکستان پر بھی جنگ کا اعلان کردے۔ اس صورت میں پورے خطے میں کشیدگی پیدا ہوجائے گی۔ امریکہ کو یہ یاد رکھنا چاہئے پاکستان ایک نیوکلیائی خود کفیل ملک ہے اور اس کے لئے افغانستان میں نیٹو فوجی آسانی سے ٹارگیٹ ہیں۔ پھر امریکہ سے یہ سوال بھی کیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی دوسرے دیش کے اندر گھس کر حملہ کیسے کرسکتے ہیں؟ انہیں یہ حق کس نے دیا کہ جب چاہے کسی دیش کی سرداری کو طاق پر رکھ کر حملہ کردے؟ پاکستان کی وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ یہ امریکہ کے ساتھ رشتوں کا جائزہ کرنے کا صحیح وقت ہے۔ انہوں نے کہا پاکستانی فوجی چوکیوں پر ہوئے ہوائی حملے بین الاقوامی قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سے15 دنوں کے اندر شمسی ہوائی اڈہ خالی کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ کھر نے کہا کہ ہمیں مدد نہیں ہم وقار اور عزت کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔
Afghanistan, Al Qaida, America, Anil Narendra, China, Daily Pratap, Haqqani Network, Hina Rabbani Khar, Pakistan, USA, Vir Arjun

04 اکتوبر 2011

امریکہ کا القاعدہ کو دوہرا جھٹکا



Published On 4th October 2011
انل نریندر
امریکہ اور القاعدہ لشکر طیبہ کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ لشکر اور القاعدہ نے مل کر امریکہ کے ڈیفنس ہیڈ کوارٹر پینٹاگان کو اڑا نے کی سازش رچی تو ادھر یمن کی پہاڑیوں پر امریکہ نے ایک ہوائی حملہ کرکے القاعدہ کی یمن شاخ کو خطرناک آتنک وادی انور الاولاکی کو مار ڈالا۔ پہلے بات کرتے پنٹاگان پر حملے کی سازش کی۔ امریکہ کے محکمہ انصاف نے بتایا کہ ایک 26 سالہ امریکی شہری رضوان فردوس پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیم خاص کر القاعدہ کو بیرونی ممالک میں امریکی فوجیوں پر حملے کرنے کیلئے دھماکوں سامان اور وسائل مہیا کرانے کی کوشش کا الزام لگایا گیا ہے۔ رضوان فردوس کو فرسنگم سے گرفتار کیا گیا۔ ایک حلف نامے کے مطابق 2011 جنوری کے آغاز میں تعاون کرنے والی گواہوں کی گواہی ریکارڈ کی گئی۔ بات چیت میں فردوس نے بتایا تھا کہ اس نے پنٹاگان پر چھوٹے بے پائلٹ جہازوں سے حملہ کرنے کی سازش تیار کی تھی۔ اس میں د ھماکو ہوتے ہیں اور جہاز کو جے پی سی سسٹم کے ذریعے چلایا جانا تھا۔ اپریل 2011ء میں فردوس نے اپنی سازش کی تفصیل بنا کر اس میں ایک دوسرے مقام پر حملے کو بھی شامل کیا۔ 2011ء کے مئی اور جون میں فردوس نے چھپا کر دو پین ڈرائیو سونپے جس میں پنٹاگان اور کیپرول پر حملے کی سازش کا قدم بہ قدم اور باقاعدہ تمام تفصیل تھی۔ سازش کے مطابق اس حملے کیلئے ریمورٹ کنٹرول سے چلنے والے تین جہازوں اور چھ افراد کا استعمال کیا جانا تھا جس میں وہ شخص بھی شامل تھا جس نے خود کوامیر بتایا ہے۔ عربی زبان میں امیر کا مطلب قیادت کرنے والا ہوتا ہے۔ فردوس کی گرفتاری امریکی سکیورٹی ایجنسیوں کی ایک شاندار کامیابی ہے۔ وقت رہتے ایک خطرناک سازش کا پردہ فاش کرکے انہوں نے ایک بڑا سازشی حملہ ہونے سے بچا لیا۔
ادھر اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد امریکہ نے القاعدہ کو ایک اور زبردست جھٹکا دیا ہے۔ یہ جھٹکا القاعدہ کی یمن شاخ کے خونخوار آتنک وادی انور الاولاکی کا مارا جانا ہے۔ اولاکی امریکی نژاد دہشت گرد تھا۔ فٹا فٹ انگریزی بولنے اور انٹر نیٹ کے ذریعے امریکہ میں حملوں کے ذریعے آتنک وادیوں کی بھرتی کرنے کے چلتے اس نے القاعدہ میں اہم درجہ حاصل کرلیا تھا۔ ایک بار پھر امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے قابل قدر کام کرکے دکھایا ہے۔ اس کار میں اولاکی سفر کررہا تھا اس پر ڈرون اور جیٹ جہازوں سے حملہ کیا گیا۔ وہ حملے میں مارا گیا۔ یمن کی حکومت نے کہا پہاڑی صوبہ جاف کے کاشف شہر کے باہر صبح9:55 پر الاولاکی کو نشانہ بنایا گیا، وہ ماراگیا ہے۔ جاف راجدھانی ثنا سے 40 کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ مقامی قبائلیوں اور سکیورٹی ایجنسیوں نے کہا کہ اولاکی دو کاروں کے ساتھ سفر کررہا تھا۔ اس کے ساتھ القاعدہ کی یمن شاخ کے دو اور آتنکی بھی تھے۔ جس وقت اس پر ہوائی حملہ ہوا وہ الجاف کے پاس واقع مرند صوبے میں جارہا تھا۔ اولاکی میکسیکو میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین یمن کے تھے۔ اس نے اپنی تعلیم یونیورسٹی سے امریکہ میں حاصل کی۔ اولاکی سینڈیگو میں دو لوگوں سے رابطے میں تھا جنہوں نے9/11 کے حملے میں خودکش اغوا کاروں کا کردار نبھایا تھا۔ ایف بی آئی نے اس سے پوچھ تاچھ کی لیکن ایجنسی کو اسے حراست میں لینے کی کوئی وجہ نہیں ملی اور اسے چھوڑدیا گیا۔2004 ء میں اولاکی یمن آیا۔ وہ ایک مذہبی پیشوا بن گیا اور اس نے برسوں سے انٹرنیٹ پر اپنے رہنما اصولوں میں امریکہ کی مخالفت کی اور جہاد کی اپیلیں کرتا رہا۔ امریکہ کو یہ دوہری کامیابی اس کی آتنک مخالف چوکسی کے سبب ملی۔ اس کی خفیہ جانکاری حاصل کرنے کی مشینری ایک بار پھرایک طرف تو اپنے دیش میں خطرناک حملے کو روکنے میں کامیاب رہی دوسری طرف ایک کٹر امریکی مخالف آتنک وادی کو صاف کرنے میں کامیابی حاصل کر پائی۔ ہندوستان کی خفیہ اور جانچ ایجنسیوں کو امریکی سسٹم سے کچھ سیکھنا چاہئے۔ ہم آج تک کسی بھی جانچ میں کامیاب نہیں ہوئے اور نہ ہی ہمیں حملے سے پہلے کوئی اطلاع بھی ملتی ہے۔ یوں ہی نہیں امریکہ کی سرزمین پر9/11 حملے کے بعد سے ایک بھی حملہ نہیں ہوسکا۔
 9/11, Al Qaida, America, Anil Narendra, CIA, Daily Pratap, FBI, Haqqani Network, USA, Vir Arjun

24 جون 2011

پاکستانی فوج میں انتہا پسندوں کے حمایتی افسر

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
24جون 2011 کو شائع
انل نریندر
حال ہی میں جب کراچی کے مہران ایئر فورس کے بیس پر حملہ ہوا تھا تبھی میں نے اسی کالم میں لکھا تھا کہ ضرور پاکستانی فوج کے کچھ آدمی دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں۔ دراصل پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی میں ایک گروپ آتنکیوں کا حمایتی ہے۔ اس کے کئی ثبوت پہلے بھی مل چکے ہیں۔ آئی ایس آئی، پولیس ہیڈ کوارٹر، فوج کے کیمپوں پر حملے یہاں تک کہ سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے یہ سبھی ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج کے افسر ان دہشت گرد تنظیموں کے رابطے میں ہیں جو انہیں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ تازہ ثبوت اب خود پاکستانی فوج نے دے دیا ہے۔ فوج کے ایک برگیڈیئر رینک کے سینئر افسر کو آتنکی تنظیم سے تعلق رکھنے کے شبے میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔ گرفتار برگیڈیئر اب تک کے سب سے سینئر افسر ہیں جنہیں آتنکیوں سے سانٹھ گانٹھ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کئی چھوٹے رینک کے افسروں کو پکڑا جا چکا ہے۔ گرفتار برگیڈیئر علی خان راولپنڈی میں واقع فوج کے ہیڈ کوارٹر میں تعینات تھا۔ فوج کے چیف ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے منگلوار کو بتایا کہ برگیڈیئر خان کو ممنوعہ کٹر پسند اسلامی تنظیم حزب التحریر(آزادی کی جماعت) کے ساتھ رابطہ رکھنے کے سبب حراست میں لیا گیا ہے۔ برگیڈیئر خان آتنکیوں سے رابطہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کئے گئے اب تک کے سب سے بڑے افسر بتائے جاتے ہیں۔ بی بی سی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے فوج کے چیف جنرل اشفاق کیانی نے خود خان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ عباس نے بتایا کہ فی الحال خان سے فوج پوچھ گچھ کررہی ہے حالانکہ ابھی تک خان کے خلاف کوئی باقاعدہ چارج شیٹ تیار نہیں کی گئی ہے لیکن فوج کی اسپیشل برانچ اس معاملے کی تفتیش کررہی ہے۔ غور طلب ہے کہ صحافی سلیم شہزاد نے مہران بحری اڈے پر آتنکی حملے کے بعد انکشاف کیا تھا کہ پاکستانی فوج میں آتنکی طاقتیں سرگرم ہیں۔ بعد میں شہزاد کا قتل ہوگیا۔
قابل ذکر ہے کہ حزب التحریر نے مسلم دنیا میں خلیفہ شاہی کے قیام کے لئے ایک مہم چلا رکھی ہے۔ وہ پاکستان اور افغانستان میں امریکہ کی لیڈر شپ والی غیر ملکی فوجوں کی کارروائی کے بھی خلاف ہیں۔ تنظیم کی جانب سے پاکستانی فوج میں دراندازی کرنے کی بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بلوچستان کے امسی ہوائی ٹھکانے پر حملے کے لئے بھی اسی تنظیم کو ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ پچھلے سال دو افسروں کا کورٹ مارشل اس لئے بھی کیا گیا تھا کیونکہ ان کی اس تنظیم سے وابستگی تھی۔ 2004 ء میں کئی چھوٹے عہدوں کے افسروں کو پرویز مشرف پر حملے میں شامل ہونے کے الزام میں سزا دی گئی تھی۔ برگیڈیئر خان کی گرفتاری سے ثابت ہوتا ہے کہ آتنکیوں نے کس حد تک پاکستانی فوج و آئی ایس آئی میں گھس پیٹھ قائم کرلی ہے۔
Tags: Al Qaida, Anil Narendra, Daily Pratap, ISI, Islamabad, Karachi, Mehran Aira Base, Pakistan, Parvez Musharraf, Taliban, Terrorist, Vir Arjun

22 جون 2011

افغانستان میں 10 سال پہلے امریکہ گھسا کیوں تھا؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
22جون 2011 کو شائع
انل نریندر
افغانستان میں تیزی سے سیاسی حالات بدل رہے ہیں۔ امریکہ نے اب وہاں سے بھاگنے کے اقدامات پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ حالیہ دنوں میں دو خبریں ایسی آئی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں کچھ کھیل چل رہا ہے۔ پہلی خبر جو آئی تھی وہ یہ کہ بھارت سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سبھی 15 ممبردیشوں میں پابندیوں کے لحاظ سے ایک ایسی فہرست کو منظوری دی ہے جس میں طالبان اور القاعدہ کو الگ الگ نظریئے سے دیکھا جائے گا۔ اس کا مقصد طالبان اور افغانستان میں صلاح کرانے کی کوششیں بتائی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں سکیورٹی کونسل نے گذشتہ جمعرات کی رات مکمل اکثریت سے ریزولیشن پاس کئے ہیں۔ ان میں پابندیوں کو لیکر طالبان کے لئے القاعدہ سے الگ فہرست بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس اہم قدم کے بعد القاعدہ اور طالبان آتنکیوں کو الگ الگ پیمانوں میں تولا جائے گا۔ دوسرا واقعہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا یہ کہنا کہ امریکہ طالبان سے بات چیت کررہا ہے، اس بارے میں پہلی بار سرکاری طور پر توثیق ہوئی ہے۔ کرزئی نے کابل میں ایک کانفرنس میں کہا طالبان کے ساتھ بات چیت شروع ہوگئی ہے اور اچھی پیشرفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی فوجیں خاص کر امریکہ خود ہی بات چیت کرارہا ہے۔ امریکہ میں لیڈر شپ میں افغانستان میں جاری جنگ10 ویں سال میں داخل ہوگئی ہے اور وہاں پر لڑائی کے سیاسی حل کی آوازیں بھی تیز ہونے لگی ہیں۔
افغان صدر حامد کرزئی نے جو انکشاف کیا ہے وہ افغانستان کے لئے جتنا خطرناک ہے اتنا ہی امریکہ کے مفاد پرمبنی ہے اور یہ دوہرے پن کا ایک ثبوت بھی ہے۔ افغانستان کے خلاف امریکہ نے آخر جنگ کیوں چھیڑی تھی؟ جہاں تک ہم سمجھ سکے ہیں 9/11 حملے کے لئے القاعدہ اور طالبان کو ذمہ دار مانتے ہوئے انہیں سبق سکھانے کے لئے یہ جنگ چھیڑی گئی تھی۔ پچھلے10 برسوں میں پہلے تو امریکہ نے اسی طالبان حکومت کو اقتدار سے معذول کیا تھا اور اب وہی طالبان اسے اچھے لگنے لگے ہیں اور ان سے دوبارہ اقتدار سنبھلوانے کی تیاری ہورہی ہے۔ ہم صدر براک اوبامہ اور امریکہ کی مجبوری کو سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ اعلان کررکھا ہے کہ 2014 ء ادطعرتتک افغانستان سے امریکی فوج کی پوری واپسی ہونی ہے اس لئے اناً فاناً میں مسئلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں۔ اسی کے تحت طالبان سے بات چیت شروع کی ہے جو حالانکہ ابھی ابتدائی دور میں ہے۔ امریکہ کے کٹھ پتلی ادارے اقوام متحدہ نے طالبان اور القاعدہ پر اس لئے پرانا سسٹم روکتے ہوئے جو پیغام دیا ہے اس کا لب لباب یہ ہی ہے کہ اگر القاعدہ کا ساتھ چھوڑ کر طالبان افغانستان کا دوبارہ تعمیر نو میں معاون بنتا ہے تو اسے معافی دے دی جائے گی۔ ہمیں تھوڑا تعجب اس بات پر بھی ہوا ہے کہ آخر بھارت نے کیا سوچ کر سلامتی کونسل کے ریزولیشن پر اپنی مہر لگائی تھی۔ بھارت کی نظروں میں یہ طالبان ایک اچھی تنظیم بن گئی ہے جس سے بھارت کو اب کوئی خطرہ نہیں ہے؟ سوال یہ نہیں کہ طالبان کیسا ہے، سوال یہ ہے ایک آتنکی تنظیم جس نے اپنا ایجنڈا عام کردیا ہو، ا س سے آپ سمجھوتے کی بات کررہے ہوں وہ بھی بکواس شرطوں پر؟ معاملہ تو یہ ایک آتنکی تنظیم سے بات چیت کر امریکہ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے اس کے تمام فیصلوں کے پیچھے صرف اسکا اپنا مفاد ہوتا ہے۔ اسے اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کہ اس گھوٹالے کا بھارت، پاکستان، ایران ملکوں پر کیا اثر پڑنے والا ہے؟ نہ ہی اسے اب عالمی آتنک واد سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی کوئی سروکار۔ اس لئے بات چیت میں افغان سرکار کو شامل نہیں کیا گیا۔ خود افغانی مانتے ہیں کہ یہ انتہائی خطرناک قدم ہوگا اور ملک پھر2001 ء سے پہلے کے حالات میں چلا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا نقصان بھارت کو بھی ہوگا۔ بھارت کے ذریعے افغانستان میں جاری مختلف تعمیراتی اسکیموں کو جھٹکا لگے گا۔ اس سے کرزئی حکومت کی ساکھ اور طریقہ کار اور مستقبل پر نامناسب اثر پڑے گا۔ لیکن امریکہ کو ان سب سے کیا لینا دینا۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ ایک دہائی پہلے جو امریکہ ’وار آن ٹیرر‘ کا نعرہ دیکر افغانستان میں اس لئے داخل ہوا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کو وہ ختم کرسکے، آج وہ اسے نہیں آتنکیوں کے حوالے کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے تاکہ افغانستان سے اسے بھاگنے کا راستہ مل جائے؟
Tag: 9/11, Afghanistan, Al Qaida, America, Anil Narendra, Daily Pratap, India, Iran, Osama Bin Ladin, Pakistan, Security Council, Taliban, UNO, USA, Vir Arjun

19 جون 2011

الظواہری کے آنے سے امریکہ کی مشکلیں بڑھیں گی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
19 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
اسامہ بن لادن کے مرنے کے بعد امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر پتہ نہیں کیا اثربڑے گا؟ اس کے افغانستان اور پاکستان میں اور دنیا کے دیگر حصوں میں مسئلہ کم ہوگا یانہیں۔ اس میں ایک بار پھر اضافہ ہوگا۔ یہ کچھ سوالات ہے جو امریکی حکام کو ضرور پریشان کررہے ہوں گے۔ القاعدہ ایک بار پھر منظم ہوتا جارہا ہے۔ القاعدہ کے نئے چیف کااعلان ہوچکاہے ۔ پیشہ سے آنکھوں کے ڈاکٹر اورمصرکی ’’اسلامی جہاد کی کٹر تنظیم کی تشکیل میں اہم کردار نبھانے والا ابن الظواہری کو اب القاعدہ کاچیف بنادیا گیا ہے۔ اسامہ بن لادن کا داہنہ ہاتھ مانے جانے والے الظواہری لادن سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ 9/11 حملوں کے الظواہری کا ہی دماغ کار فرما تھا۔ سال 2001میں جن 22مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست جاری کی گئی تھی۔ اس میں اسامہ بن لادن کے بعد الظواہری کا دوسرانمبر تھا۔ امریکہ نے الظواہری کے سر پر 25ملین ڈالر کا انعام رکھاہوا ہے بتایا جاتا ہے الظواہری آخری مرتبہ اکتوبر 2001میں افغانستان کے شہر قوس میں نظر آیا تھا۔ افغانستان میں طالبان کے خاتمے کے بعد سے وہ روبوش ہے۔ حالیہ برسوں میں الظواہری القاعدہ کا بڑا ترجمان بن کر سامنے آیا۔ ایک خط لکھاہے کہ اور اس نے 1974میں قاہرہ کے میڈیکل کالج سے ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کی اور 4 سال بعد یہی سے سرجری میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسے عرب دنیا کے سب سے خطرناک کٹر تنظیم مسلم بردر ہڈ کے لڑنے کے سبب محض پندرہ سال کی عمر میں پہلی بار گرفتار کیاگیاتھا۔
الظواہری کی تاج پوشی سے پریشان امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ اس کابھی وہی حشر ہوگا جو اس نے اسامہ کے ساتھ کیاہے۔ امریکہ کے جوائنٹ ا سٹاف مائک ملون نے کہا جیسا ہم نے لادن کو پکڑنے اور مارنے کی دونوں کی کوشش ہم الظواہری کے ساتھ بھی یقینی طور پر ایسا ہی طریقہ اپنائے گے۔امریکہ کی مشکل بڑھ سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں حالات دن بہ دن بس سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ اسامہ بن لادن آپریشن سے پاکستان میں حل چل بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستانی فوجی چیف اشفاق کیانی آئی ایس آئی کے چیف پاشا پر دباؤ بڑھتا جارہاہے۔ جنرل کیانی کو امریکہ کے تئیں نرم رویہ اپنانے کے الزام میں ہٹانے کی مہم چل رہی ہے۔ آئی ایس آئی نے لادن کے ٹھکانے کے بارے میں امریکی حکام کو ٹھوس جانکاری دینے کے الزام میں پانچ جاسوسوں کو گرفتار کرلیاہے۔ان میں ایک پاکستانی فوج کامیجر بھی شامل ہے۔ ادھر ایک امریکی سیلٹر نے میٹنگ میں سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل مورل کاپوچھا کہ پاکستان امریکہ کو آتنک واد سے لڑنے کے مسئلے پر کتنی حمایت دے رہاہے؟ تو جواب میں مورل نے کہا کہ دس میں تین نمبر کا مطلب امریکہ پاکستان کی سرگرمیوں سے بالکل نہ خوش ہے۔ انگریزی اخبار ڈا نیویارک ٹائم کے مطابق امریکہ میں اس بات کی سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔ پاک سرکار نے ان لوگوں پر تو کوئی کارروائی نہیں کی جنہوں نے اسامہ بن لادن کو چھپانے میں مدد کی تھی۔ لیکن جن لوگوں نے اسامہ بن لادن کو مارنے میں مدد کی تھی۔ انہیں ہی گرفتار کرلیا ہے۔آنے والے دن امریکہ کے لئے اس معاملے میں چنوتی سے بھرے ہوں گے۔
Tags:Afghanistan, Aiman Al Zawahiri, Al Qaida, America, Anil Narendra, CIA, Daily Pratap, Osama Bin Ladin, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

27 مئی 2011

کیا پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہیں؟


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily


27مئی 2011 کو شائع
انل نریندر

کراچی کے مہران بحریہ کے ہوائی اڈے پر ہوئے آتنکی حملے نے وہاں کی غیر منظم سلامتی اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کو لیکر بھارت کابے چین ہونا فطری ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس معاملے میں بھارت کی تشویشات کو ظاہر کردیا ہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ فوج کے ہیڈ کوارٹر پولیس ٹریننگ کیمپ کے بعد اب فوجی ہوائی اڈے پر خودکشی حملے جیسی آتنکی واردات روکنے میں پاکستانی مشینری کی ناکامی نے نہ صرف ہندوستان کے لئے تشویش کا باعث ہے بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مہران اہم ٹھکانا ہونے کے باوجوداور اس سے وابستہ دیگر فوجی اداروں کے دفتر دور نہیں ہیں۔ یہ پاکستانی ایئر فورس کے مسرور مرکز کے قریب 40 کلو میٹر دوری پر واقع ہے۔ یہ نیوکلیائی ہتھیاروں کا ایک ڈپو مانا جاتا ہے۔ ایک ہندوستانی ڈیفنس ماہر کے مطابق پی این ایس مہران پاکستان کے سب سے بڑے بحری ایئر بیس میں شمار ہوتا ہے۔ جدید سازو سامان اور طیاروں سے مسلح اس اڈے پر آتنکیوں کا اتنی آسانی سے حملہ کردینا ، یہ خفیہ ایجنسیوں کی خامیوں کا اشارہ کرتا ہے۔ اندرونی شخص کی مدد کے بغیر آتنکیوں کو بحری اڈے میں ایئر کرافٹ کی موجودگی کا پتہ نہیں چل سکتا تھا۔جس طرح وہ گھنٹوں اس میں ڈٹے رہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پختہ معلومات کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ نیویارک ٹائمز نے خلاصہ کیا ہے کہ مہران فوجی اڈے کے پاس ہی مسرور ایئر فورس کا بیس ہے۔ جہاں پاکستان کا ایٹمی ذخیرہ ہے۔ یہاں کافی نیوکلیائی بم ہیں جنہیں مزائلوں اور جنگی جہازوں سے ممکنہ نشانوں پر مار کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ امریکی ڈیفنس ماہرین کا اندازہ ہے پاکستان کے پاس اس وقت 100 نیوکلیائی بم ہیں۔
سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے اندر القاعدہ ،لشکر طیبہ جیسی آتنکی تنظیموں کی مدد کرنے والے موجود ہیں۔ ان کی مد د سے اگر آتنکی مسرور ایئر فورس بیس پر حملہ کرتے ہیں تو اس کے خوفناک نتائج ہوسکتے ہیں؟ مان لیجئے بڑا حملہ ہوتا ہے اور اس حملے میں نیوکلیائی بم متاثر ہوجاتا ہے اور ریڈی ایکٹو کرنیں لیک ہوجاتی ہیں تو کیا ہوگا؟ دوسرا خطرہ یہ ہے کہ اگر ان میں سے کچھ آتنکیوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں تو کم سے کم چھوٹا اور ڈرٹی بم بنا سکتے ہیں۔ تیسرا خطرہ یہ ہے کہ پاکستان فوج میں ان آتنکیوں کے ہمدرد آتنکیوں کو نیوکلیائی بم بنانے کی تکنیک مہیا کروا دیتے ہیں تو کیا ہوگا؟ ان سب امکانات کو دیکھتے ہوئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ پاک اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں کی سکیورٹی پر زیادہ توجہ دے اور اپنے اندر موجود بھیدیوں کی پہچان کرے اور اس بات کی جانچ کرے کہ مہران ایئر بیس پر جو حملہ ہوا ہے کیا اس میں کسی پاکستانی فوج کے راز داں کا ہاتھ تو نہیں تھا؟ امریکہ ابھی اس کو لیکر الجھن میں پڑا ہوا ہے۔ امریکی صدر کے سابق ڈیفنس ایڈوائزر جیک کراولی نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں ہوئے اس حوصلہ افزاء حملے کے مد نظر امریکہ پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لینے کی ہنگامی اسکیم پر غور کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں اور سامان کو قبضے میں لینے کی خفیہ اسکیم بنائی ہے۔ یہ تشویش کی بات ہے پاکستان اندرونی تال میل کھوتا جارہا ہے اور پھر یہ بھی کہنے سے نہیں تھکتا کہ ہم اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو اور بڑھائیں گے۔
Tags: Anil Narendra, Karachi, Mehran Aira Base, Pakistan, Atom Bomb, Masroor Air Base, Pakistan, Al Qaida, Lashkar e Toeba, Vir Arjun, Daily Pratap,  

24 مئی 2011

القاعدہ کا مصری کنکشن: سیف العدیل

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
 
24مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کے مرنے کے بعد اس انتہا پسند تنظیم نے اپنا نیا لیڈر چن لیا ہے۔ القاعدہ کا مصری رابطہ کار سامنے آگیا ہے۔ بن لادن کا جانشین ہے مصر کا ایک سابق فوجی افسر اس کا نام ہے سیف العدیل۔ یہ بن لادن کے مارے جانے کے قریب 15 روز بعد عارضی طور پر لیڈر چنا گیا ہے۔عدیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ1981 ء میں مصر کے سابق صدر انور سعادات کے قتل کے لئے ذمہ دار تنظیم اسلامک جہاد کا ممبر رہ چکا ہے۔ وہ افغانستان میں 1980 کی دہائی میں سوویت روس کی فوج کے خلاف لڑائی میں بھی شامل رہا۔2001ء میں طالبان کے زوال کے بعد وہ ایران بھاگ گیا تھا۔ سی این این میں دو دہائی سے زیادہ وقت سے القاعدہ سے واقف نعمان کے حوالے سے بتایا کہ سیف العدیل القاعدہ کا روپوش لیڈر ہے۔ خبر کے مطابق العدیل کی تنظیم میں طویل عرصے سے اہم کرداررہا ہے۔
ادھر اسامہ کو زندہ یا مردہ پکڑنے سے امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ 25 لاکھ ڈالر یعنی11 کروڑ روپے کا انعام کسی کو نہیں دیا جارہا ہے۔ امریکی حکام نے یہ سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اسامہ کے خاتمے کی وجہ کوئی مخبر نہیں بلکہ جدید ترین مشینیں اور خفیہ ایجنسیاں تھیں۔ اس فیصلے سے ان قیاس آرائیوں پر روک لگ گئی جن میں دعوی کیا گیا تھا کہ انتہا پسند تنظیم سے وابستہ کسی شخص نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو اسامہ تک پہنچایا۔ اسامہ بن لادن امریکہ کی موسٹ وانٹڈ دہشت گردوں کی فہرست میں سب سے اوپر شامل تھا۔
ویب سائٹ بی بی سی ، کوم کو ڈاٹ یو کے نے اسامہ کے ذریعے ان کی موت سے کچھ عرصے پہلے مبینہ طور پر ریکارڈ کیا گیا ایک آڈیو ٹیپ جاری کیا ہے۔ لادن کا یہ آڈیو ٹیپ 12 منٹ کا ہے جسے ایک اسلامی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے۔ ٹیپ میں لادن نے تیونس اور مصر کے مخالف مظاہرین کو نصیحت دی ہے لیکن شام اور لیبیا اور یمن کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ لادن نے کہا مجھے لگتا ہے کہ اللہ کی مرضی سے پوری مسلم دنیا میں تبدیلی کی لہر چلے گی۔ آپ کے سامنے دو راہیہ ہے۔ مسلم فرقے کے ساتھ کھڑے ہونے اور خود کو حکمرانی کی توقعات ، انسانی قوانین اور مغربی بالا دستی سے نجات کرانے کا ایک واحد اور سنہرہ تاریخی موقعہ ہے۔ لادن نے کہا توآپ کس کا انتظار کررہے ہیں؟
لادن کی موت کے بعد القاعدہ کے عارضی چیف سیف العدیل نے دھمکی دینے میں زیادہ وقت نہیں لگایا۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق سیف نے لادن کی موت کا بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے۔ اخبار نے طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کے حوالے سے کہا ہے کہ ہمارے لیڈر لندن میں بڑے حملے کی تیاری کررہے ہیں۔ احسان کے مطابق العدیل کا خیال ہے برطانیہ یوروپ کی ریڑھ ہے اور اسے توڑنے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں لندن پر بڑا حملہ کرکے یوروپ سمیت پوری دنیا کو ہلایا جاسکتا ہے۔ اس درمیان یہ بھی خبر ہے کہ طالبان القاعدہ لیڈر پاک سرحد سے ملحق افغانستان کے علاقوں میں ملے ہیں اور آگے کی حکمت عملی پر غور خوض ہوا ہے۔ العدیل کو ایمن الظواہری اور الیاس کشمیری کو نئی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
Tags: Al Qaida, Anil Narendra, Vir Arjun, Daily Pratap, Egypt, Osama Bin Ladin, Aiman Al Zawahiri,

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...