Translater

20 اپریل 2019

این ڈی اے کو 263سے 283،یوپی اے کو 115سے 135سیٹیں ملنے کا دعوی !

چناوٌ کا وقت ہے اپنی پارٹی کی ہوائی بنانے کےلئے ہرسیاسی پارٹی اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ اپنی دعویداری مضبوط کرنے کےلئے کئی پارٹیوں کے نیتا طرح طرح کے فنڈے لگا رہے ہیں ان میں سروے کی بھی پیشگوئی شامل ہے اس کے لئے ناتو انہیں ورکروں کی ٹیم چاہئے او رنا ہیں انہیں کہیں جانا ہوگا۔ بس آفس میں بیٹھ کر من چاہی سروے رپورٹ تیار ہوجاتی ہے۔ بس نیتا جی کو اس فرضی سروے کو فروخت کرنے آنا چاہئے جس نے بیچ دیا اس کی بلے بلے۔ کچھ نیتا یہ کام کرنے میں ماہر ہے پارٹیاں اپنا من پسند سروے کرواتی ہے اور ووٹروں کو ان سروے کے ذریعہ متاثر کرنا بھی چاہتی ہے ایسا نہیں کہ سبھی سروے فرضی ہوتے ہیں۔ کچھ تنظیم ایسی ضرور ہیں جو اپنی طرح سے محنت کرکے اور کچھ سیمپل سروے کرتے ہیں لیکن ان کی کمی یہ رہتی ہے کہ یہ کچھ چنندہ پارلیمانی حلقوں میں گنے چنے ووٹر وں سے سوال پوچھتے ہیں۔ اس سے ان علاقوں کا اندازہ ضرور ہوجاتا ہے لیکن بھارت جیسے بڑے دیش میں ہوابنانے میں کبھی کبھی یہ ناکام ہوجا تے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ چناوی سروے اور فائنل نتیجوں سے میل نہیں کھاتے ان انتخابات کے بارے میں ایک چیز تو صاف لگتی ہے کہ 2019کے لو ک سبھا چناوٌ میں نا تو کوئی ہوا ہے اور ناہی کوئی ±خاص اشو ہے جو اہم رول نہیں نبھارہا ہے۔ کوئی ایسی لہر یا اشو نہیں ہے جو سبھی ریاستوں میں اثر انداز ہو۔ 2014میں ضرور مودی حمایتی اور کانگریس مخالف لہر تھی اسی وجہ سے بھاجپا نے گیار ہ ریاستوں یوپی ،راجستھان ،ایم پی ،بہار ،دہلی ،گجرات ،ہریانہ ،چھتیس گڑھ ،ہماچل پردیش ،اتراکھنڈ ،اورجھارکھنڈ کی 216سیٹیں یعنی 90فیصد سیٹیں جیتی تھی۔ لیکن اس بار اشارہ ہے کہ بھاجپا نے تین ریاستوں میں مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ ،دہلی اور جھارکھنڈ میں اپنی زمین گنوادی ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ بھاجپا ان ریاستوںمیں اپنی 50فیصد سیٹیں دوبارہ جیت لیں تو بھی اس کی 85سیٹیں کم ہوسکتی ہیں۔
کئی اقتصادی اسباب (نوٹ بندی ،جی ایس ٹی )کو ملاکر منفی اثر ذاتوں کے اتحاد میں نئی سیاسی صور ت حال پیدا کردی ہے مودی اس سے نمٹنے کےلئے دہشت گردی کے خلا ف بالا کوٹ سرجیکل اسٹرائیک اور راشواد کو سامنے رکھ کر اپنی وکالت کررہے ہیں۔ بھاجپا کی بوکھلاہٹ اس سے بھی پتہ چلتی ہے ہر ایراغیرا پارٹی سے کسی بھی قیمت پر تال میل کررہی ہے اس سے لگتا ہے کہ بھاجپا لیڈر شپ کو بھی لگ رہا ہے کہ شاید وہ اپنے دم خم پر سرکار نہ بنا سکے ایسی صورتحال میں اپنے ساتھیوں کی مدد لینی پڑ سکتی ہے بھاجپا کی سب سے بڑی تشویش سپا بسپا اتحاد ہے دوسری طرح جس طرح مشرقی اترپردیش میں پرینکا گاندھی بڑی برادریوں کے ووٹروں کے راغب کررہی ہیں اس میں بھی بھاجپا کی پریشانی بڑھای ہے۔ ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی جیسے نیتاوٌں کی ناراضگی سے کچھ برہمن ووٹ کانگریس کی طرف لوٹ سکتا ہے۔ دہلی میں آپ اورکانگریس کے درمیان تال میل کے لئے رضا مندی ہوچکی ہے اور بھاجپا سبھی سات سیٹیں ہار سکتی ہے۔ گجرات کی سبھی سیٹیں جیتنے والی بھاجپا سے اس مرتبہ کانگریس پانچ سیٹیں چھین سکتی ہے حال ہی میں سی ایس ڈی۔ لوک نیتی ،دینک بھاسکر اور دی ہندوکا چناوٌ سروے آیا تھا۔ ووٹ شیئر بڑھنے کے باوجو د کئی سیٹیوں پر اپوزیشن کے اتحاد کی وجہ سے بھاجپا کی سیٹوں میں کمی آرہی ہے۔ 2014میں کانگریس کو 44سیٹیں اور اس کے ساتھیوں کو 15اور بھاجپاساتھیوں کو 283پلس 53لیفٹ کو بارہ اور دیگر کو 136سیٹیں ملی تھی اب چناوٌ سے پہلے تازہ سروے میں 2019چناوٌ میں کانگریس کو 75سے 84اور اتحادیوں کو 41سے 51سیٹیں بھاجپا کو 222سے 232سیٹیں اور ساتھیوں کو41سے 51جبکہ لیفٹ کو پانچ سے 15اور دیگر کو 88سے 98ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ سروی میں ایک دلچسپ پہلو نکل کر آیا ہے کہ 40فیصد ہندوستانی مانتے ہیں کہ دیش صحیح سمت میں ہے لیکن ساوٌتھ انڈیا کی ریاستوں میں صورتحال الٹ ہے یہاں45فیصد لوگ کہتے ہے کہ دیش غلط سمت میں جارہا ہے۔ پہلی بار ووٹر س کی پہلی پسند نریندر مودی پر دھان منتری کے طور پر ہیں۔ اس سروے سے یہ صاف ظاہر کہ این ڈی اے کا وو ٹ شیئر 2014سے مسلسل گھٹا جارہا ہے اور یوپی اے کا بڑھتا جارہا ہے۔ باقی تو ای وی ایم مشین کھلنے پر ہی پتہ چلے گے۔
(انل نریندر)

دگی راجہ پر بھاجپا کا سادھوی حملہ!

بھاجپا نے کئی دنو ں تک غٰور خوض کے بعد چوکاتے ہوئے بھو پال میں اپنے امید وار کا انتخاب کرلیا ہے۔ یہ سیٹ بھاجپا مسلسل 30سال سے جیت رہی ہے لیکن اس مرتبہ سابق وزیر اعلی دگوجہ سنگھ میدان میں ہیں ان سے مقابلے کےلئے بھاجپانے مالیہ گاوٌں دھماکہ ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو میدان میں اتاراہے انہوںنے بدھ کے روز ہی بھاجپا میں شمولیت اختیار کی اور اس کے چند گھنٹے بعد ہی پارٹی نے انہیں ٹکٹ دی دیا۔ پرگیہ اور دگوجے سنگھ ایک دوسرے کے کٹر حریف مانے جاتے ہیں دگوجے سنگھ کانگریس ان چنندہ نیتاوٌں میں سے ہیں جنہوں نے یوپی اے کی سرکا رکے عہد میں بھگوا آتنکواد کا اشو اٹھایا تھا۔ دگوجے سنگھ کے خلاف لڑنے والی پرگیہ ٹھاکر کٹر ہندوتوادی نیتا مانی جاتی ہے وہ راج پوت ہیں 2008میں 29ستمبر کو مہاراشٹر کے مالیہ گاوٌں میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 7لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ اس معاملہ میں 23اکتوبر 2008کو سادھوی پرگیہ ٹھاکر کی گرفتاری ہوئی اور وہ مالیہ گاوٌں دھماکہ معاملہ میں 9سال جیل رہیں ان پر الزام تھا دھماکے میں جس موٹر سائیکل میں بم لگاکر مسجد کے پاس کھڑا کیا گھا تھا وہ پرگیہ ٹھاکر کی ہی تھی۔ جبکہ پرگیہ کا کہنا تھا کہ وہ اس بائیک کو فروخت کرچکی تھی۔ 2017میں 25اپریل کو کوئی ثبو ت نہ ملنے پر مالیہ گاوٌں بم کیس میں پرگیہ سنگھ کو پانچ لاکھ کے ذاتی مچلکہ پر ضمانت ملی تھی۔
پرگیہ نے الزام لگایا کہ پوچھتاچھ کے دوران ای ٹی ایس نے 23دن تک کافی اذیتیں دی وہ ان دنوں کو یاد کر کے آج بھی رودی تی ہیں انہیں انتی بری طرح سے پیٹا گیا اور اذیت دی گئی۔ پرگیہ آر ایس ایس کے پرچارک اور سنیل جوشی قتل کانڈ میں بھی ملزمہ تھی۔ سنیل جوشی کو 2007میں دیواس کے پاس گولی مارکر ہلاک کردیا تھا اور اس معاملہ میں پرگیہ کی فروری 2011میں گرفتاری ہوئی تھی۔ لیکن معاملہ میں پرگیہ سمیت آٹھ ملزمان کو 2017میں بری کردیاگیا تھا۔ ہمیں پرگیہ ٹھاکر سے پوری ہمدردی ہے جو ان کے ساتھ ہوا وہ کسی کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے تھا لیکن چناوٌ میں کھڑا ہونا الگ اشو ہے کانگریس سمیت کئی اپوزیشن لیڈر پرگیہ کو امید وار بنائے جانے پر اعتراض کررہے ہیں انکا کہنا ہے کہ بے شک پرگیہ کو ضمانت مل گئی تو لیکن وہ آج بھی ملزمہ تو ہے ہیں۔ بم دھماکہ ملزمہ کو ٹکٹ دی کر بھاجپا کیا پیغام دینا چاہتی ہے ؟دراصل مالیہ گاوٌں میں 2008میں ہوئے دھماکے کی ملزمہ کو بھوپال سے امید وار بناکر بھاجپا نے اپنے ہندت کے ایجنڈے کا اپنی روایتی ووٹر وںکو پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ تنازعہ اور بحث کا اشو بن رہی سادھوی کی امید وار سے پارٹی نے نہ صرف بھوپال میں نہ صرف کانگریس کے نیتا دگوجے سنگھ کو بڑی ٹکر دیں گی بلکہ اس سے مدھیہ پردیش سمیت 100سیٹوں سے زیادہ اثر ڈالنے کی کوشش کرتی نظر آرہی ہے۔ بے شک تین دہائی تک بھاجپا ج کا گڑھ مانا جاتا رہا ہے بھوپال۔ لیکن پچھلے اسمبلی میں یہاں کانگریس نے کامیابی کا شاندار مظاہر ہ کرتے ہوئے اس سیٹ پر ساڑھے چار لاکھ مسلم ووٹر وں کی سبب کانگریس نے اپنے نیتا دگوجے سنگھ کو چناوٌ میدان میں اتارا ہے 16سال بعد کوئی چناوٌلڑرہے دگوجے کو باقی دیگر طبقوں کے ووٹ ملنے کی امید ہے جن میں اوبی سی ،برہمن ،کائیس اور راجپوت ووٹر بھی ہیں۔ سادھوی پرگیہ نے کہا ہے کہ میں لڑوںگی اور جیتوںگی بھی میں بھگواکو سمان دلاکر رہوں گی۔
(انل نریندر)

19 اپریل 2019

پیسہ اکٹھا کرنے کا نیا طریقہ چناوی بانڈ!

چناوٌ کے ٹھیک درمیان چناوی بانڈ کو لیکر تنازعہ تیزی سے بڑھتا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ نے ایک رضا کار تنظیم کی عرضی پر سبھی سیاسی پارٹیوں کو چناوی بانڈ اور چندہ کی معلومات دینے کے لئے 30مئی کی میعاد طے کردی ہے۔ سال 2017-18میں کچھ دوسو اکتیس کروڑ روپے چناوی بانڈ میں سے اکیلے 210کروڑ روپے پانے والی بھاجپا مرکزی حکومت میں ہے اور وہ اس بانڈ کی پوری حمایت کررہی ہے۔ بانڈ کو لےکر رضا کاتنظیم اور چناوی کمیشن نے اندیشہ جتایا ہے یہ بھارت کی مختاری کے لئے خطرہ ہے اور اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سب سے پہلے جانتے ہیں کی کیا ہے چناوی بانڈ۔ مرکزی حکومت نے 2017میں ایک مالی بل پاس کیا جس کے تحت چناوی بانڈ شروع کئے گئے یہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی قائم برانچوں سے حاصل کئے جاسکتے تھے۔ اس کی قیمت ایک ہزار سے ایک کروڑ روپے تک رکھی گئی تھی۔ عام شہریوں سے لےکر کارپوریٹ گھرانے تک اپنی پسند کی پارٹی کو عطیہ کے لئے ایک ہزار ،ایک لاکھ ،دس لاکھ،اور ایک کروڑ روپے کے بانڈ خریدے جاسکتے تھے۔ بانڈ س خرید تے وقت بینک کے وائی سی یعنی گراہک کی جانکا ری دیتا ہے لیکن جس پارٹی کو یہ دیئے جارہے ہیں اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ بانڈ دینے والے کا نام اجاگر کرے۔ بانڈ ہر وقت دکھتے بھی نہیں ہے۔ انہیں ہر سہ ماہی میں دس دن کے لئے شاخوں میں فروخت کئے جاتے ہیں ایک بار خریدنے کے بعد 15دن سے ان میں متعلقہ پارٹی کے نام ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔ ورنہ یہ کینسل ہوجاتی ہے ،چناوی بانڈ پر سخت موقف اپناتے ہوئے سپریم کورٹ نے سبھی پارٹیوں کو 15مئی تک ملنے والے چندے کی معلومات سیل بند لفافہ میں چناوٌ کمیشن کو دینے کو کہا ہے۔ جمعہ کو عدالت نے اس اہم اور متنازعہ بانڈ پر فوری طور روک نہیں لگائی ہے لیکن اس کے راز کو اندھیرے سے اجالے میں لانے کا اشارہ ضرور دی دیا ہے۔ حالانکہ خفتگی کے نام پر یہ اندھیراہ عوام کیلئی ابھی بھی قائم رہنی والا ہی۔ لیکن تمام سیاسی پارٹیوں کو بند لفافہ میں بانڈ سے حاصل عطیہ اور عطیہ دہندہ دونوں کی اطلاعات چناوٌ کمیشن کو 30مئی تک دینی پڑی گی۔ غور کرنے کی بات ہے کہ ان بند لفافہ کو کھولنے کا حق عدالت نے چناوٌ کمیشن کو بھی نہیں دیا ہے عدالت نے اس بات پر توجہ دی ہے کہ حکمراں پارٹی اس بانڈ سی زیادہ فائدہ اٹھارہی ہیں ایک اندازہ کے اشارہ ہے کہ کل چناوی بانڈ کا 95.5فیصد سے 97فیصد حصہ صرف حکمراں پارٹی کے کھاتے میں گیا ہے بانڈ استعمال سے پہلے ہی مرحلہ میں ثابت ہوجاتاہے جو بھی اقتدار میں رہے گا وہ اس کے فائدہ زیادہ لیگا۔ عدالت میں سرکار کا موقف رکھتے ہوئے اٹارنی جنرل نے جو دلیل دی وہ بتاتی ہے کہ سیاسی پارٹیاں چندہ میں شفافیت لانے کی حمایتی نہیں ہیں۔ پہلے تو سرکار کی طرف سے کہا گیا بڑی عدالت چناوٌ تک اس پر فیصلہ نہ دے پھر یہاں تک کہا ہے کہ ووٹر وں کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ پارٹیوں کے پاس پیسہ کہاں سے آتا ہے۔  لیکن سپریم کورٹ کے فیصلہ سے کم سے کم اتنا تو ہوگا کہ یہ بانڈ کتنے کے خرید ے گئے اور کس نے خرید ے۔ 
(انل نریندر)

دیدی کے در پر مودی کی دستک

مغربی بنگال کی لوک سبھاکی 42سیٹوںپر چناوٌ دونوں وزیر اعظم مودی اور ترنمول کانگریس کی چیف اور وزیر اعلی ممتا بینرجی کے لئے ناک کا سوال بن گیا ہے۔ یہاں 7مرحلوں میں پولنگ ہوگی۔ 11اپریل 18اپریل 23اپریل او ر29اپریل اور پانچواں مرحلہ میں 06مئی کو اور چھٹے مرحلے میں 12مئی اور آخری اور 7ویں مرحلے میں 19مئی کو ووٹ پڑیں گے۔ 2014میں لوک سبھا چناوٌ میں ترنمول کانگریس نے 34فیصد ووٹ لیکر 34سیٹیں جیتی تھی بلکہ کمیونسٹ پارٹی کو 29.71ووٹ ملے تھے جبکہ وہ صرف 2سیٹیں ہی جیت پائی تھی۔ بھاجپا کو 17.02فیصد ووٹ اور 2سیٹیں جبکہ کانگریس کو 9.58فیصد اور 4سیٹیں ملی تھی۔ لوک سبھا چناوٌ میں بھاجپا ووٹ فیصد کی کسوٹی پر تیسرے نمبر پر تھی مودی لہر میں 10.88فیصد اضافے کے ساتھ اس کے ووٹروں کا فیصد 17.02فیصد تک پہنچ گیا تھا اس بار ترنمول کانگریس کیلئے سب سی سکون کی بات یہ ہے کہ کہیں بھی سرکار مخالف ماحول نہیں ہے جسے لہر کہا جا سکے۔ سڑک ،بجلی ،سینچائی اور دیہات تک پانی پہنچانے کے سیکٹر میں کام ہوئے ممتا سرکار کی طاقت ہے اس مرتبہ قومی شہری رجسٹرمغربی بنگال میں بڑا اشو ہے۔ بنگلہ دیش سے ریاست میں گھس آئے لوگوں نے اب برسوں سے یہاں اپنے آپ کو محفوظ کرلیا ہے مرکزی سرکار اور بھاجپا شہری ترمیمی بل کے تحت گھس پیٹھیوں کو واپس بھیجنا چاہتی ہے۔ دونوں وزیر اعظم اور بھاجپا صدر نے اپنی ریلیوں میں گھس پیٹھیوں کو ریاست سے باہر نکالنے کا وعدہ کیا ہے۔
بھاجپا صدر امت شاہ اپنی چناوٌریلیوں میں با ر بار کہتے چکے ہیں اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آئی تو ریاست میں این آر سی نافذ کر یں گے وہیں ممتا اس کی جم کر مخالفت کررہی ہیں۔ روز گار پیدا کرنے اقلیتوں کو رجھانا کرپشن ،مرکز میں اگلی حکومت بنانے میں ترنمول کانگریس کا اہم رول ہوگا۔ بالا کوٹ ہوائی حملے کی سچائی بھی اہم ترین اشو بن کر سامنے آئے ہیں۔ مغربی بنگال میں بھاجپا نے اشو کھڑا کرنے کی اپنی مہارت سے ممتا بینرجی کو گھیر نے کی زمین تیار کرلی ہے۔ پنچایت چناوٌ میں تشدد اور ترنمول کانگریس پر زور زبردستی کا الزام بھاجپا کا بڑا اشو ہے۔ باقی بچے مرحلوں کو بھاجپا بھنانے میں لگی ہے۔ چائے اسٹال پر چائے بنانے اور پلانے کا کام کررہے لڑکوں کی اب بھی نریندر مودی پہلی پسند ہیں۔ کھرن پور شاہراہ ہو یا کنٹائی کا بس اڈہ دونوں جگہوں پر ایسے لڑکوں نے کہا کہ مودی کو پھر آنا چاہئے ایک نوجوان کی دلیل ہے مغربی بنگال میں تبدیلی اقتدار کی لہر آندھی میں بدلنے کےلئے وقت لیتی ہے کانگریس نے آزادی کے بعد قریب ڈھائی دہائی تک تو لیفٹ پارٹیوں نے تین دہائی تک اس ریاست میں راج کیا۔ آج یہ دونوں حاشیہ پر ہیں ممتا کی ابھی ایک دہائی پوری نہیں ہوئی ہے مگر وہاں بھاجپا لہر کی اب آہٹ سنائی دینے لگی ہے حالانکہ ترنمول کانگریس نے بھی کافی کام کیا ہے۔ یہاں لوگ تبدیلی کی بات کیوں کریں۔ ؟اچھا کام ہورہاہے اگر ممتا بینرجی ملک کا اگلا وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہی ہیں تو انہیں مغربی بنگا ل کی زیادہ سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنی ہوگی۔ بھا جپا بھی بہت زور لگا رہی ہے دیکھیں ان کی کوشش کیا رنگ لاتی ہے ؟
(انل نریندر)

18 اپریل 2019

بے اثر چناﺅ کمیشن :چناﺅ قواعد کی دھجیاں اُڑیں

نیتاﺅں کی بگڑی زبان اب کوئی نئی بات نہیں ہے ۔آئے دن دیش کے الگ الگ حصوں میں چناﺅ کمپین کے دوران اکثر ایسی خبریں آتی رہتی ہیں کہ فلاں لیڈر نے فلانی اعتراض آمیز بات کہی تو فلاں نیتا نے مریادا کا خیال نہیں رکھا اور فلاں نیتا نے پھوہڑ پن کی ساری حدیں پار کر دیں ہیں ۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمار ا چناﺅ کمیشن خاموش رہ کر تماشہ دیکھتا رہتا ہے ۔ایسی کوئی سیاسی پارٹی نہیں جس نے نافذ چناﺅ قواعد کو تماشہ بنا کر نہ رکھ دیا ہو ۔چناﺅ کمیشن کی بھلے کس کو پرواہ ہے یہ تو بھلا ہو کہ سپریم کورٹ جس نے مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر لوگوں کو بانٹ رہے نیتاﺅں پر نہ صرف کارروائی کی بلکہ چناﺅ کمیشن کو پیر کی صبح فٹکار بھی لگا دی ۔اس کے بعد تین بجے کے بعد سے چناﺅ کمیشن سرگرم ہو گیا اور اس نے کارروائی شروع کر دی ۔اس کڑی میں چناﺅ کمیشن نے یو پی کے وزیر اعلیٰ یو گی آدتیہ ناتھ کو 72گھنٹے اور بسپا کی چیف مایاوتی کو 48گھنٹے بھاجپا نیتا مینکا گاندھی کو 48گھنٹے اور سپا کے نیتا اعظم خاں کو 72گھنٹے تک چناﺅ کمپین نہ کرنے کے احکامات صادر کردئے ۔یوگی اور مایاوتی کا وقت منگل وار کی صبح چھ بجے سے شروع ہو گیا ۔جبکہ اعظم اور مینکا کا وقت صبح 10بجے سے شروع ہوا چاروں نیتا ﺅں نہ ہی ٹوئٹ کر پائیں گے اور نہ ہی انٹرویو دے سکتے ہیں ۔یوگی کی تین دن میں پانچ ریلیاں تھیں مایاوتی کی 16اور 17اپریل کو چناﺅ ریلیاں تھیں جن میں وہ شامل نہ ہو پائیں گی ۔بتا دیں کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے نو اپریل کو میرٹھ کے ایک ریلی میں کہا تھا کہ اگر سپا بسپا کانگریس کو علی پر بھروسہ ہے تو ہمیں بجرنگ بلی پر بھروسہ ہے ۔وہیں سات اپریل کو مایاوتی نے دیوبند میں ایک ریلی میں کہا تھا کہ میں مسلم سماج کے لوگوں سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ووٹ نہیں بٹنے چاہیں ۔13اپریل کو مایاوتی نے کہا کہ بجرنگ بلی بھی دلت ہیں اب توبجرنگ بلی بھی ہمارے ہیں اور علی بھی وہیں بد زبان اعظم خان نے ساری حدیں پار کرتے ہوئے 14اپریل کو ایک تبصرہ کیا جسے ہم لکھنا نہیں چاہتے ۔انہوںنے جیا پردہ پر ایسا تبصرہ کیا کہ ان پر بدزبانی کے آٹھ مقدمے درج ہو چکے ہیں ۔بھاجپا نیتا بھی کم نہیں ہیں ہم وزیر اعظم مودی کے تبصروں کا ذکر نہیں کرنا چاہتے لیکن انہیں کی پارٹی سے ایم پی مینکا گاندھی نے 11اپریل کو سلطانپور میں ایک مسلم اکثریت علاقہ میں منعقدہ ریلی میں کہا تھا کہ میں تو جیت ہی رہی ہوں آپ نے ووٹ نہیں دیا تو پھر دیکھنا میں کیا کرتی ہوں ۔میں کوئی مہاتما گاندھی کی سنتان نہیں ہوں ۔مہاراشٹر کے نیتا کا بیان بھی غور کرنے لائق ہے ایک چناﺅی ریلی میں انہوں نے تسلیم کیا کہ چناﺅ کے دوران چناﺅ قواعد کو ماننے کا دباﺅ رہتا ہے لیکن بھاڑ میں گیا قانون و چناﺅ قواعد کو بھی ہم دیکھ لیں گے ۔جو بات ہمارے دل میں ہے وہ بات اگر دل سے نہیں نکلے تو گھٹن سی محسوس ہوتی ہے ۔پیر کو ایک ساتھ ایسی خبریں آئیں جن میں لیڈروں کے دل کی ایسی سوچ کا گرتا ہوا معیار سامنے آگیا اعظم خاں کا تو ہم نے ذکر کیا ہے لیکن ہماچل پردیش کے پردیش بھاجپا صدر اسٹیج سے با قاعدہ کانگریس صدر کو گالی ہی دے دی اسی کے ساتھ خبر آئی کہ چوکیدار چور ہے کے نعرے پر سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر دیا ۔چناﺅ کمیشن کے سامنے لیڈروں کے بگڑے بول تو چنوتی ہیں لیکن ای وی ایم مشینوں میں پہلے دور میں استعمال ہوئی مشینوں میں خرابی کا وہ صحیح حل نہیں ڈھونڈ پا رہا ہے ۔21اپوزیشن پارٹیوںنے ایک بار پھر ای وی ایم کے ساتھ وی وی پیٹ پرچیوں کا ملان کرنے کی مانگ کی ہے ۔چناﺅ کمیشن کا فرض ہے کہ وہ دیش میں آزادانہ اور منصفانہ چناﺅ کرائے اس معاملے میں چناﺅ کمیشن کا ٹریک ریکارڈ ملا جلا ہے ۔چناﺅ کمیشن یہ دلیل دیتا ہے کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔اور اس کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے ۔کہ وہ ان دھاندھلییوں کو پوری طرح سے روک سکے ۔اور قصور واروں کو سخت سزا دے سکے ؟کچھ حد تک صحیح بھی ہے ۔کیونک کوئی بھی سیاسی پارٹی چناﺅ کمیشن کو زیادہ سختی کرنے کی چھوٹ نہیں دیتا لیکن چناﺅ کمیشن کے پاس یہ اختیار تو ہے کہ وہ کسی قصوروار کا چناﺅ منسوخ کردے اگر ایک بھی نیتا کا چناﺅ منسوخ کیا جائے تو اس کا باقی سب کو پیغام مل جائے گا۔چناﺅ کمیشن پر یہ بھی الزام لگ رہا ہے کہ وہ حکمراں پارٹی کا پچھل پنگو بن گیا ہے اس کے ہاتھ میں طوطا بن گیا ہے ۔یہی بات سی بی آئی ،انکم ٹیکس محکمہ پر بھی نافذ ہوتی ہے ۔جو چن چن کر اپوزیشن لیڈروں پر چھاپے مار رہے ہیں ۔سپریم کورٹ بھی اس معاملے میں سخت ہے ۔اور چناﺅ کمیشن کا گھر کاٹ کا لگا رہتا ہے ۔امید کی جائے کہ چناﺅ کے سبھی مرحلوں میں ان نیتاﺅں کی بد زبانیوں پر لگام لگے گی ۔

(انل نریندر)

بڑھتی عدم رواداری ،اظہار رائے کی آزادی پر سنگین خطرہ

اداکار کا مقصد سوال اُٹھانا اور للکارنا ہوتا ہے لیکن سماج میں عدم رواداری بڑھ رہی ہے ۔اور منظم گروپ اظہار رائے کی آزادی کے حق کے لئے سنگین خطرہ پیدا کر رہے ہیں ۔یہ سخت تبصرہ سپریم کورٹ نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کیا ۔فن ،ادب اور عدم رواداری کا شکار ہوتے رہیں گے اگر ریاستیں فنکاروں کے حقوق کی حفاظت نہ کریں ۔ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس ہیمنت گپتا کی بنچ ایک بنگلہ فلم بھوشیہ تیر مورت پر لگی پابندی کے خلاف سماعت کر رہی تھی ۔بنچ کا کہنا ہے کہ فلم کے اندر دکھائے گئے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ سماج میں ایک طرح کی عدم رواداری بڑھ رہی ہے اور یہ سماج میں دوسروں کے حقوق کو نامنظور کر رہی ہے ،ان کے نظریات کو آزادانہ طریقہ سے پیش کرنے اور انہیں پرنٹ ،تھیٹر ،یا سیلولائڈ میڈیا ،میں پیش کرنے کے حق کو مسترد کر رہی ہے ۔آزادانہ تقریر اور اظہار رائے کے حق کے وجود کے لئے منظم گروپوں اور مفادات نے ایک سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے ۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ اقتدار اعلیٰ کو یہ دھیان رکھنا چاہیے کہ ہم جمہوریت میں محض اس لئے رہتے ہیں کیونکہ ہمارا آئین ہر شہری کی حق کی آزادی کو تسلیم کرتا ہے ۔بنچ نے کہا کہ پولس اخلاقیات کی ٹھیکیدار نہیں ہے ۔قانون و انتظام کا حوالہ دے کر فلم کی اسکرینگ نہیں روک سکتے یہ عمل خطرناک ہے راجیہ اپنے حقوق کا من مانے طریقہ سے استعمال نہیں کر سکتے ۔بنچ نے یہ بھی کہا کہ فلم سینسر بورڈ سے سرٹیفائڈ فلم کو کوئی دوسری اتھارٹی سے اجازت لینا درکار نہیں ہے ۔اکثریت طے نہیں کر سکتی کہ فن کاروں کا نظریہ کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ۔اظہار رائے کے حق کا تحفظ کرنا ریاستی سرکار کی ذمہ داری ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ایک جمہوری نظام نے کوئی حکومت ،سیاسی پارٹی یا دیگر سیاسی مذہبی گروپ صرف اس لئے کسی ڈاکومینٹری یا فلم کی نمائش میں رکاوٹ ڈالتے ہیں کہ کسی کی سیاست کی حقیقت پر اس سے چوٹ پہنچتی ہے ۔یہ تشویش کی بات ہے کہ خاص طور پر جب ہمارے دیش کے آئین میں اپنی بات رکھنے اور دکھانے کے حقوق ملے ہوئے ہیں ۔یہ سمجھنا مشکل ہے کہ مغربی بنگال حکومت نے بنگلہ فلم کی ریلیز میں آخر رکاوٹ کیوں ڈالی ؟کیا ریاستی حکومت نے فلم کی نمائش میں اس لئے اڑچن ڈالی کیونکہ اس فلم میں سیاسی طنز کا سہارا لے کر الگ الگ پارٹیوں کو کٹگھرے میں کھڑا کیا گیا ہے ۔ان میں ترنمول کانگریس بھی شامل ہے ۔قاعدے سے فلم پر نقطہ چینی کرنے یا اسے روکنے کے بجائے ترنمول کانگریس ریاست میں اس کی سرکار کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ جمہوری بالا دستی کو بنائے رکھنے میں کہاں کمی پائی گئی ۔سیدھے اس کی پردہ سمیں پر روک لگا کر اس نے یہ ثابت کیا کہ دیش کی جمہوری روایات اور قانون و نظام کی اسے کوئی پرواہ نہیں ہے ۔یہ تو ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمار ا سپریم کورٹ مضبوط ہے اور ایسی غیر جمہوری پابندیوں کو مسترد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔لیکن اس میں شبہ ہے کہ اب بھی کچھ مفاد پرست گروپ و سیاسی پارٹیاں انگلی اُٹھائیں گی ؟

(انل نریندر)

17 اپریل 2019

دراوڑسیاست کے گڑھ میں سیندھ لگانے کی کوشش

قومی سیاست میں دھاک جمانے کے باوجود دیش کی دو بڑی پارٹیاں کانگریس اور بی جے پی تمل ناڈو میں اپنی پیٹھ بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں اس بار دونوں ہی پارٹیاں علاقائی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کر تمل ناڈو میں اپنی بنیاد پختہ کرنے کی کوشش میں لگی ہیں ۔دیکھا جائے تو اس بار کے لوک سبھا چناﺅ میں تمل ناڈو کا پس منظر دلچسپ بنتا جا رہا ہے ۔چونکہ پہلی بار ہوگا جب بڑی علاقائی پارٹی اناّ ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے اپنے سب سے اثر دار چہرے جے للتا اور کرونا ندھی کے بغیر چناﺅ میدان میں اتری ہیں حالانکہ دونوں پارٹیاں اس دوران اپنے وارث چن چکی ہیں ۔لیکن سامنے پارٹی کی وراثت کو برقرار رکھنے کی چنوتی ہے ایسے میں ایک طرف بڑی دراوڑ پارٹیوں ڈی ایم کے اناّ ڈی ایم کے کے سامنے خود کو بچانے کی چنوتی ہے وہیں دوسری طرف کانگریس اور بھاجپا دراوڑ پارٹیوں کے سہارے تمل سیاست میں پیٹ بنانے کے موقعہ کی تلاش میں ہیں ۔تمل ووٹروں کی ایک بڑی خوبی رہی ہے کہ وہ جسے اپناتے ہیں جی بھر کر اس کی جھولی بھرتے ہیں پچھلی مرتبہ اناّ ڈی ایم کے کو یہاں سے 37سیٹیں ملی تھیں دوسرے مرحلے میں اٹھارہ اپریل کو تیرہ ریاستوں میں پھیلی 97لوک سبھا سیٹوں پر ہو رہے چناﺅ میں تمل ناڈو کی 39سیٹیں یو پی اے کی امیدوں کا بڑا گڑھ ہے ساﺅتھ کے اس قلعہ میں بھاجپا کو اتحادیوں ک ساتھ سیندھ ماری سے روکنے کے لئے یو پی اے کا کنبہ پورا زور لگا رہا ہے ۔تمل ناڈو میں ڈی ایم کے اور کانگریس اتحاد کی 39سیٹوں اور پوڈیچیری کی ایک سیٹ کو پچھلے ایوان میں اپنے نمبروں کی تعداد بڑھانے کے لحاظ سے کافی اہم مانا جا رہا ہے ۔تمل ناڈو اور پوڈوچیری کو ملا کر 48سیٹوں میں سے ڈی ایم کے 20اور کانگریس 10اور دوسری سیٹوں پر اسکی اتحادی پارٹیاں لڑ رہی ہیں بھاجپا نے اناّ ڈی ایم کے ساتھ اس بار گٹھ بندھن کیا ہے پچھلے چناﺅ میں بھاجپا نے کنیا کماری سیٹ جیتی تھی اس بار بھاجپا پانچ سیٹوں پر لڑئے گی ۔دراصل لمبے عرصے کے بعد تمل ناڈو کا چناﺅ علاقائی چھوٹی موٹی پارٹیوں کی غیر موجودگی میں ہو رہا ہے ۔واقف کار مانتے ہیں کہ اناّ ڈی ایم کے چیف رہی سورگیہ جے للتا اور ڈی ایم کے کے سروے سرو ا رہے ایم کرونا ندھی کی موت کے بعد تمل ناڈو کی سیاست میں ایک خلا سا نظر آرہا ہے ۔دونوں پارٹیوں کی موجودہ قیادت پرانے سورماﺅں کی مقبولیت کے آس پاس بھی نہیں ہے ۔دونوں طرف آندولنی رشہ کشی شباب پر ہے ایسے میں صوبے کے لوگ کس پر مہربان ہوں گے کہنا مشکل ہے فی الحال واقف کاروں کا خیال ہے کہ اس بار الٹ پھیر بھی ہو سکتا ہے ۔کرناٹک کو چھوڑ دیں تو بھاجپا کی ہندتوکہ اپیل کا جنوبی بھارت میں کبھی بھی زیادہ اثر نہیں رہا ۔ہندی کو بڑھاوا دینے کا معاملہ یا پھرا ٓبادی یا میسول کے بٹوارے کی کوشش ہو ،مرکز میں یہ کوشش جنوبی ہندوستان کو کبھی پسند نہ آئے اس چناﺅ میں ڈی ایم کے کا پرلا بھاری لگتا ہے اسی وجہ سے یہاں کانگریس کو فائدہ ہو سکتا ہے بھاجپا اور اناّ ڈی ایم کے اتحاد کیا دراوڑ سیاست کے گڑھ میں سیندھ لگا پائے گا ؟یہ تو چناﺅ نتیجہ آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا ۔

(انل نریندر )

پانی-کسانوں کی خودکشی مراٹھواڑہ میں سب سے بڑا اشو

مہاراشٹر کی 48لوک سبھا سیٹیں 2019چناﺅ میں خاص اہمیت رکھتی ہیں 2014 کے چناﺅ میں بھاجپا شیو سینا اتحاد کو 42سیٹوں پر کامیابی ملی تھی اور کانگریس کے حصے میں دو سیٹیں آئی تھیں جبکہ این سی پی نے چار سیٹیں جیتی تھیں ۔مہاراشٹر میں مراٹھوارہ انتہائی اہم ہے لاتور میں وزیر اعظم نریندر نریندر مودی نے پہلی بار ووٹ ڈالنے والے لڑکوں سے فوج کی بہادری کے نام پر اپنا ووٹ وقف کرنے کی بات کہی تھی ووٹ کسے دیں گے۔...لیکن بات چلی تو ایک دیہاتی آگ ببولہ ہو کر بولا فوج میں مرنے والے جوان بھی ہمارے اور پیداوار نہ ہونے سے خود کشی کرنے والے کسان بھی ہمارے ۔یہ کیسا جے جوان جے کسان ہے؟پانی یہاں سب سے بڑا اشو ہے مراٹھواڑہ کے ہر گاﺅں میں آپ سوکھے پڑے کنویں پانی کے لئے قطاریں اور سر پر مٹکے رکھ کر کوسوں دور سے پانی لاتی عورتوں کو دیکھ سکتے ہیں ۔یقینا یہ پانی ہی ہے جو 2019لوک سبھا چناﺅ میں حکمرانوں کے چہروں پر پانی اتار سکتا ہے ۔بھاجپا شیو سینا اتحاد کی امیدوں پر پانی پھیر سکتا ہے ۔مراٹھواڑہ سے دیش کے کئی بڑے نیتا ملے ہیں دو بار وزیر اعلیٰ رہ چکے ولاس راﺅ دیشمکھ بھی لاتو ر سے ہی نمائندگی کرتے تھے ۔سابق مرکزی وزیر داخلہ شیو پارٹیل بھی یہی سے نمائندے تھے بھاجپا کے سرگیہ نیتا گوپی ناتھ منڈے ،پرمود مہاجن،بھاجپا کے موجودہ ریاستی صدر راﺅ صاحب سمیت کئی سرکردہ ہستیوں کا مراٹھواڑہ گڑھ ہے ۔اس کے باوجود یہ علاقہ پسماندہ علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔مراٹھواڑہ میں لوک سبھا کی آٹھ سیٹیں ہیں۔اور یہ علاقہ کانگریس کا گڑھ رہا ہے ۔2014میں مودی لہر کے باوجود کانگریس نے پردیش میں دو سیٹیں جیتی تھیں یہ مراٹھواڑہ ہی کی تھی ۔وہ چھ سیٹوں ہنگولی ،ناندیڑ ،پرمنی ،عثمان آباد،اور لاتور میں 18اپریل کو ووٹ پڑیں گے دیگر دو سیٹیں جالنا ،اورنگ آباد میں 23اپریل کو پولنگ ہونی ہے ۔اورنگ آباد میں مسلمان ،بودھ ،مراٹھا ،او بی سی ووٹوں میں صاف تقسیم دکھائی پڑتی ہے ۔یہ شیو سینا کا گڑھ ہے ۔مسلم ووٹوں کی زیادہ تعداد ہونے سے یہاں شیو سینا بھاجپا کو تھوڑا خطرہ ضرور ہے ۔شیو سینا نے موجودہ ایم پی چندر کانت کھرے کو پھر سے میدان میں اتارا ہے جبکہ کانگریس سے سبھاش جھاوڑ کو اتارا ہے ۔اور ایم آئی ایم موجودہ ممبر اسمبلی امتیاز جلیل کو کھڑا کیا ہے ۔وہ بڑی چنوتی بن کر ابھریں گے ۔بھاجپا کے پردیش صدر راﺅ صاحب دانوئے کے داماد ہرش وردھن یہاں آزاد امیدوار ہیں چندر کانت کھرے اور کانگریس کی پریشانی یہ ہے کہ ووٹوں کی تقسیم ہونے کے امکان ہیں جس وجہ سے دلچسپ مقابلہ ہے لاتو ر میں بھاجپا اور کانگریس دونوں کے ہی امیدوار باہری ہیں بھاجپا نے سدھاکر شرنگارے اور کانگریس نے کامت کو اتارا ہے ۔دونوں میں سیدھا مقابلہ ہے اور دونوں ہی ممبئی کے رہنے والے ہیں ایسے میں لوکل ورکروں میں ناراضگی ہے ناندیڑ سے کانگریس پردیش صدر اشوک بھاونڈ میدان میں ہیں ۔ان کے سامنے بھاجپا کے پرتاپ پارٹیل ہیں ۔اور بسپا سپا مہا گٹھ بندھن کے امیدوار کانگریس کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کل ملا کر یہاں زیادہ تر سیٹوں پر بھاجپا کانگریس کا مقابلہ ہے ۔پانی اور کسانوں کی خود کشی سب سے بڑا اشو ہے دیکھیں اونٹ کس 
کروٹ بیٹھتا ہے ۔
(انل نریندر)                                                                                                                                      

16 اپریل 2019

اقتدار اعلیٰ اور فلم اداکاروں کا چناﺅ میں ملن

ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی عام چناﺅ میں بھاجپا اور کانگریس نے چناﺅی سمر میں فلمی پردے کے اسٹار قسمت آزما رہے ہیں اترپردیش میں تو ہما مالنی اور جیا پردا ،راج ببر ،قابلہ ذکر ہیں حالانکہ یہ تنیوں پہلی بھی چناﺅ لڑ چکے ہیں اترپردیش کی متھرا پارلیمانی حلقہ میں کیا اس مرتبہ سپا بسپا و راشٹریہ لوک دل اتحاد ڈریم گرل ہیما مالنی کے گلیمر کا مقابلہ کر پائیے گا یہ سوال اتحاد کے لیڈروں کے لئے چنوتی بھی بن گیا ہے ۔متھر اپارلیمانی حلقہ میں 18اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے ان کا مقابلہ سپا بسپا مہا گٹھ بندھن کے امیدوار کنور نریندر سنگھ سے ہے پچھلے چناﺅ میں کانگریس نے یہاں سے میدان میں اترے اور آر ایل ڈی کے امیدوار جینت چودھری کو سپورٹ کیا تھا ۔2014کے لوک سبھا چناﺅ میں مودی لہر کے ساتھ ساتھ یہاں ڈریم گرل کا جادو لوگوں کے سر پر چڑھ کر بولا تھا اور انہیں 574633ووٹ حاصل ہوئے تھے اور شاندار کامیابی ملی انہوں نے جینت چودھری کو 330743ووٹ سے ہرایا تھا ۔لیکن اس مرتبہ ہیما کے خلاف متھرا کے کچھ ووٹروں کو شکایت ہے کہ انہوںنے متھرا کو زیادہ وقت نہیں دیا ۔پھر 2019میں مودی لہر بھی کم ہوئی ہے ۔اس لئے اب ہیما مالنی کو اپنے دم خم پر سیٹ جیتنی ہوگی ۔اس دوسرے مرحلے میں فتحپور سیکری ،مت سے اترپردیش کانگریس صدر راج ببر قسمت آزما رہے ہیں اس سے پہلے وہ آگرہ اور فیروزآباد سے لوک سبھا ممبر اور اترپردیش کوٹے سے راجیہ سبھا کے ممبر رہ چکے ہیں ۔2014میں راج ببر غازی آباد چناﺅ لڑنے گئے جہاں بھاجپا کے وی کے سنگھ نے کافی ووٹوں سے انہیں ہرا کر ریکارڈ بنایا ۔فتحپور سیکری میں 2014کے چناﺅ میں بھاجپا کے بابو لال چودھری کامیاب ہوئے تھے لیکن اس مرتبہ ان کا ٹکٹ کٹ گیا ۔بھاجپا کے راج کمار ماہر اور سپا بسپا اتحاد سے بھگوان شرما عرف گڈو پنڈت قسمت آزما رہے ہیں ۔وہیں اعظم گڑھ میں اپنے پتا ملائم سنگھ یادو کی وراثتی سیٹ کو حاصل کرنے کے لئے ان کے بیٹے اکھلیش یاد وخود میدان میں ہیں ۔وہان چھٹے مرحلے میں بارہ مئی کو ووٹ پڑیں گے ۔رامپور میں موجودہ ایم پی نیپال سنگھ کا ٹکٹ کاٹ کر بھاجپا نے اداکارہ اور سابق ایم پی جیا پردا کو میدان میں اتارا ہے ۔ان کا مقابلہ رامپور سے ممبر اسمبلی محمد اعظم خان سے ہے ۔رامپور میں کانگریس نے سنجے کپور کو موقع دیا ہے جس وجہ سے جیا پردا کا اعظم خان سے سیدھا مقابلہ ہونے سے چناﺅ دلچسپ ہو گیا ہے ۔جیا پردا 2004اور2009میں رامپور میں بیگم نور بانو کو دو مرتبہ ہرا چکی ہیں ۔وہیں 2014میں وہ بجنور سے ہار گئی تھیں تب وہ امر سنگھ کے ساتھ بغاوت کر سپا سے نکلی تھیں ۔اور آر ایل ڈی کے ٹکٹ پر میدان میں اتری تھیں ۔متھرا کے گاﺅں میں فصل کاٹتی ہیں ہیما مالنی تو بیگو سرائے میں کنہیا کے حق میں کھڑی سبرا بھاسکر ۔اداکاروں کے ایک گروپ نے موجودہ سرکار کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کی تو دوسرا خیمہ مودی کے حق میں اپیل کرتا نظر آرہا ہے ۔اقتدار اعلیٰ اور سنیما میں مقبولیت کا ملن ہر چناﺅ میں دکھائی پڑتا ہے 2019کو ئی نیا نہیں ہے ۔

(انل نریندر)

کیا اسمرتی امیٹھی میں راہل کو چنوتی دے پائیں گی؟

امیٹھی پارلیمانی حلقہ جس کا نام آتے ہی گاندھی خاندان کا ذکر ہونا فطری طور سے بحث چھڑ جاتی ہے 1980میں سنجے گاندھی کی کامیابی کے ساتھ شروع ہوا یہ سلسہ راجیو گاندھی ،سونیا گاندھی سے ہوتے ہوئے راہل گاندھی تک آ پہنچا ۔یہاں گاﺅں گاﺅں میں جنتا کی میموری میں گاندھی خاندان کے افراد سے وابسطہ تمام قصے کہانیاں ہیں ۔امیٹھی کی اس پہچان میں 21سال پہلے حالانکہ کیسریا رنگ بھی چڑھا تھا ۔جب 1998میں بھاجپا امیدوار سنجے سنگھ نے کانگریس کے کیپٹن ستیش شرما کو ہرایا تھا حالانکہ اس سے اگلے سال ہی سونیا گاندھی نے خود مورچہ سنبھال کر کانگریس کی یہ خاندانی سیٹ جیت لی تھی ۔امیٹھی کے اس کانگریسی گڑھ کو 2014کے چناﺅ میں بہت سخت چنوتی ملی جب بھاجپا سے اسمرتی ایرانی نے راہل گاندھی کے سامنے مورچہ سنبھالا ۔مقابلہ دلچسپ رہا اور جیت کا فرق کم رہا 2014میں راہل گاندھی کو 46.71فیصد یعنی 408651ووٹ ملے جبکہ اسمرتی ایرانی کو 34.38فیصد یعنی300748ووٹ ملے تھے ۔107000ووٹ سے راہل گاندھی جیت گئے تھے ۔اب پانچ سال بعد وہی کردار آمنے سامنے ہیں اسمرتی کو راہل گاندھی کے ساتھ ہی گاندھی پریوار سے ملی امیٹھی کی پہچان سے بھی لڑائی لڑنی پڑ رہی ہے ۔مرکزی وزیر رہتے کانگریس کے اس گڑھ میں اپنا چراغ جلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔اس میعاد میں کانگریس صدر بننے کے بعد راہل گاندھی کی بڑھی سیاسی سنجیدگی کا گواہ بھی یہ حلقہ ہے ۔سپا بسپا اتحاد نے نئے سیاسی خیر سگالی کے تحت امیٹھی سے امیدوار نہیں اتارا ہے ۔2014کے چناﺅ میں عام آدمی پارٹی کے کمار وشواش بھی کھڑے ہوئے تھے اور انہیں 2.92فیصد ووٹ یعنی محض 25527 ووٹ ہی مل پائے تھے ۔بی ایس پی کے امیدوار دھرمیندر پرتاپ سنگھ کو 6.60فیصد یعنی 57716ووٹ ہی ملے تھے ۔اس مرتبہ بی ایس پی اور سپا اتحاد کے ذریعہ اپنا امیدوار نہ اتارنے سے راہل گاندھی کو ضرور راحت ملی ہے ۔لیکن ایک تبدیلی صاف ہے کہ امیٹھی میں گاندھی پریوار کے مرید بہت ہیں تو مودی کی بھاجپا کے قدردان بھی کم نہیں ہیں ۔حال ہی میں امیٹھی میں روڈ شو کے دوران کانگریس صدر راہل گاندھی کے چہرے پر ہری لیجر لائٹ پڑنے کے بعد پارٹی نے ان کی سلامتی پر سوال کھڑے کر دئے اور اندیشہ ظاہر کیا گیا کہ لیزر لائٹ سنائپر گن جیسے کسی ہتھیار کی ہو سکتی ہے ۔اس کے بعد وزارت داخلہ نے راہل گاندھی کی سیکورٹی میں چوک ہونے سے انکار کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لیزر لائٹ کانگریس کے ہی ایک فوٹو گرافر کے موبائل کیمرے کی تھی ۔راہل گاندھی کو ایس پی جی کی سیکورٹی ملی ہوئی ہے یہ واقعہ اس وقت ہوا جب وہ اپنا کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے بعد اخبار نویسوں سے بات کر رہے تھے اسی دوران ان کے چہرے پر ہر ے رنگ کی روشنی پڑی اس بارے میں گانگریس کا ایک اور ویڈیو سامنے آیا جس میں کہا گیا کم سے کم سات مرتبہ ہری لائٹ راہل کے چہرے پر دکھائی دی ہمیں لگتا ہے یہ لائٹ سنائپر گن کی ہو سکتی ہے ۔کیمرے کی فیلش لائٹ ایسی نہیں ہوتی ۔ہو سکتا یہ ٹرائل رن رہا ہو ۔راہل گاندھی کی سیکورٹی انتظامات کو دیکھنے کے لئے کی گئی ہے جو بھی ہو راہل گاندھی کو اپنے سیکورٹی پر خاص توجہ دینی ہوگی ایس ہی سیکورٹی میں چوک کی وجہ سے ان کے والد راجیو گاندھی کا قتل ہوا تھا ۔

(انل نریندر)

14 اپریل 2019

پہلے مرحلے میں کہیں کہیں جھڑپیں ای وی پر ہنگامہ کل ملا کر چناﺅ ٹھیک رہا

لوک سبھا چناﺅ کے پہلے مرحلے میں 11اپریل کو 20ریاستوں کی 91سیٹوں پر چناﺅ ہو گیا ۔چڑھتے پارے کے باوجود ووٹروں نے اس میں جم کر جوش دکھایا ۔چناﺅ کمیشن کی جانب سے جاری اعداد شمار کے مطابق بہار میں 2014کے مقابلے قریب ڈھائی فیصدی زائد ووٹ پڑے وہیں اتراکھنڈ اور اترپردیش میں پچھلے چناﺅ کے مقابلے کچھ کم ووٹ پڑے لیکن الیکشن کمیشن نے کہا کہ فائنل اعداد شمار میں 2سے 3فیصد ی اضافہ ہو سکتا ہے چونکہ 6بجے کے بعد بھی کہیں پر لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے قطاروں میں لگے ہوئے تھے ۔جموں و کشمیر کی بالا مولہ اور جموں سیٹ پر دہشتگردوں کی دھمکیوں کو در کنار کر لوگوںنے قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ کا انتظار کیا اور ووٹ ڈالا ۔دونوں سیٹوں پر پانچ بجے تک قریب 57فیصدی ووٹ پڑے وہیں دہشتگردی سے متاثرہ کپواڑہ میں 51.7فیصدی ووٹ پڑے ۔ای وی ایم مشینوں کی خرابی کی شکایتیں اترپردیش کے بجنور ،اور مہاراشٹر کی چھ پارلیمانی سیٹوں پر اور آندھرا پردیش میں کچھ پولنگ بوتھ پر ای وی ایم میں خرابی کی شکایتیں ملیں ۔ریاست کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو کے مطابق 150پولنگ بوتھ پر ای وی ایم کی شکایتیں ملی ہیں ۔وہیں ٹی ڈی پی اور وائی ایس آر سی پی کے ورکروں میں جھڑپیں ہوئیں۔جس وجہ سے دو لوگوں کی موت بھی ہو گئی ۔آندھرا اسمبلی کے اسپیکر کوٹیلہ شیو پرشاد زخمی ہوئے ۔کیرانہ رسولپور گاﺅں میں بغیر پہچان کے ووٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے لوگوں کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورس کو ہوائی فائرنگ کرنی پڑی ۔پولنگ شروع ہونے کے کچھ دیر بعد مظفر نگر سے بھاجپا امیدوار سنجیو بالیان نے الزام لگایا کہ کچھ لوگ برقعہ میں آکر فرضی ووٹ ڈال رہے تھے ۔وہیں بسپا نیتا ستیش چندر مشرا نے الزام لگایا کہ یوپی کے کئی بوتھوں پر حکام اور پولس نے دلت ووٹروں کو ووٹ ڈالنے سے روکا ۔پہلے مرحلے میں جس جوش کے ساتھ ووٹروں نے حصہ لیا یہ جمہوریت کے لئے اچھا اشارہ ہے لیکن ووٹروں کا بےدار ہونا اور پولنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا پہلہ پڑاﺅ ہے ۔اس مرتبہ لوک سبھا چناﺅ خاص ہیں ۔اس لئے نہیں کہ آنے والے پانچ برسوں تک کون راج کرئے گا مرکز میں اس کا جواب ان انتخابات سے مل جائے گا بلکہ اس لئے چناﺅ میں کچھ ایسے اشو دوبارہ سے اُٹھائے جا رہے ہیں جو کچھ وقفہ پہلے تک سیاسی غور خوض کے مرکز میں نہیں تھے ۔جمہوریت کا مطلب صرف اتنا نہیں ہے کہ وہ کچھ ممبران پارلیمنٹ اور وزراءکو چن لیں سرکار بنانے کے لئے جمہوریت میں کن موضوعات پر غور خوض چل رہا ہے اس سوال کے جواب سے یہ طے ہوتا ہے کہ ہماری جمہوریت کتنی پختہ ہے ۔صرف ذات پات کے تجزیوں یا مذہبی اشوز کو بڑھکا کر چناﺅ جیتا نہیں جا سکتا ۔یہ بات آہستہ آہستہ قومی دھارا کے سیاسی رائے زنی میں شامل ہو رہی ہے ۔یہ ایک اچھا اشارہ ہے ۔امیدواروں کا معیار بھلے ہی نہ سدھرے کنبہ پرستی مسلسل بڑھتی نظر آرہی ہے چناﺅ جیتنے کے لئے تمام ہتھکنڈے اس بار اپنائے جا رہے ہیں اور پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے ۔لیکن سب سے منفی پہلو کے درمیان پولنگ فیصد ایک امید کی کرن ضرور جگاتا ہے ووٹر جاگے گا ٹھیک سے امیدوار کو پرکھے کا اور اشوز کو سمجھے گا تو تبھی ہماری جمہوریت مضبوط ہوگی ۔عام طور پر ایک تلخ سچائی یہ بھی ہے کہ شہر کے علاقہ میں ووٹنگ فیصد کم ہوتی ہے جہاں تعلیم یافتہ سرکاری طبقہ سہولت اور عیش و آرام میں رہتا ہے ایسا طبقہ ڈرائنگ روم میں اور اپنے ائیر کنڈیشنر چلا کر دیش کے حالات پر لمبی چوڑی اپنی رائے تو ضرور ظاہر کرتا ہے ۔لیکن ووٹ کے لئے لائن میں لگنا ان کے لئے قطئی ضروری نہیں ہوتا ۔ایسا نہیں ہے ذات پات کے تجزیوں میں یا مذہبی اشوز کی ابتدائی ترجیحات ختم ہو گئی ہیں لیکن اب ہر پارٹی کو یہ بھی بتانا پڑ رہا ہے کہ غریب ،کسان یا مختلف طبقات کے لئے ان کی کیا یوجنا ہے ان کے چناﺅ منشور میں کیا کیا وعدے کئے گئے ہیں ۔ان اسکیموں کے لیے مالی وسائل کہاں سے جٹائے جایں کے ؟جب چناﺅ کمیشن سمیت پورا دیش پولنگ بڑھانے کے لئے کوشش کر رہا ہے ،تب ایک ایک بے حد قیمتی ہو جاتا ہے ۔جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لئے بھلے ہی کوئی قربانی نہ دے لیکن ووٹ ڈال کر کے ایک مثبت اشتراک کی امید تو جاگتی ہی ہے ۔چناﺅ کمیشن کل ملا کر پہلے راونڈ میں اچھے نمبر لے کر کامیاب رہا ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ منصافانہ اور تشدد سے پاک باقی مرحلوں کے چناﺅ بھی اسی طرح مکمل ہوں گے ۔

(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...