Translater

14 دسمبر 2013

دہلی کی جنتا کے مینڈیٹ کی توہین کررہے ہیں کیجریوال!

یہ ٹھیک ہے اسمبلی چناؤ میں دہلی کی عوام نے کانگریس سرکار کے خلاف منفی مینڈیٹ دیا ہے اور ساتھ ہی ووٹ دیا ہے لیکن ووٹ دیتے وقت یہ نہیں سوچا کہ کانگریس کی جگہ کون لے گا؟ اگر وہ عام آدمی پارٹی کو اکثریت دے دیتے یا بھاجپا کوچار پانچ سیٹیں زیادہ دے کر جتاتے آج دہلی میں سیاسی شش و پنج کے حالات نہ دیکھنے پڑتے۔ آج سبھی پریشان ہیں جو جیتا ہے وہ بھی اور جو ہارا ہے وہ بھی۔ اسمبلی چناؤ میں کسی کو اکثریت نہ دے کر چناؤ جیتے ممبران اسمبلی کو تو الجھن میں ڈال دیا ہے ساتھ ہی وہ امید وار بھی کم پریشان نہیں جو چناؤ ہار گئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے جیتے ہوئے امیدواروں میں کچھ تو ایسے بھی ہیں جن کو جیت کے بعد ان کے حمایتی جب مبارکباد دینے آتے ہیں تو ان کے پاس چائے پلانے کے لئے پیسہ تک نہیں ہے۔وہ امیدلگائے بیٹھے ہیں کہ ’آپ‘ پارٹی سرکار بنائے اور انہیں اقتدار کا ذائقہ لینے کو ملے گا۔ جو ہارے ہیں انہیں یہ پریشانی ستا رہی ہے کہ انہیں دوبارہ ٹکٹ ملے گی یا نہیں؟ سیاسی گلیاروں میں بڑی پارٹیاں سرکار بنانے کو لیکر گیند ایک دوسرے کے پالے میں ڈال رہی ہیں۔ بھاجپا نے تو لیفٹیننٹ گورنر کو لکھ کر دے دیا ہے کہ وہ سرکار نہیں بنانا چاہتی کیونکہ جنتا نے اسے واضح اکثریت نہیں دی۔ اب عام آدمی پارٹی کے پالے میں گیند ہے۔ ان سب کے درمیان جنتا ایک الگ ہی رائے لیکر چل رہی ہے کہ اکثریت نہ ملنے کے باوجوددہلی کی کرسی تو’ آپ‘ کو ہی دینے کے حق میں ہے۔ عام جنتا دہلی میں دوبارہ چناؤ کرانے کے حق میں نہیں ہے۔ لوگوں کی رائے ہے کہ سیاست میں تجربہ حاصل کرنے کے لئے عام آدمی پارٹی کوکرسی ضرور سنبھالنی چاہئے۔ اروند کیجریوال کے نہ حمایت لینے نہ دینے کابیان جنتا کے گلے نہیں اتر رہا ہے۔ نہ وہ حمایت دینے کو تیار ہے نہ لینے کو تیار اور نہ ہی اقلیتی حکومت بنانے کو تیار۔ یہ سیاست ہے یا لوگوں کو گمراہ کر ووٹ لینے کے بعد ذمہ داری سے بھاگنا ہے؟ یہ سوال آپ کے خلاف آنے والے دنوں میں دونوں کانگریس اور بھاجپا اپنے سوالوں کی لسٹ میں شامل کریں گی۔ جمہوریت میں مینڈیٹ سب سے اہم ہوتا ہے نہ صرف جنتا کی یہ مانگ ہے کہ بالکل آپ ہی کی آئینی ذمہ داری بنتی ہے آئین میں اقلیتی حکومت کا ذکر ہے لیکن صرف جنتا کی بھلائی کے مفاد کے لئے کام کرنے والی بھاجپا اور آپ دوبارہ چناؤ کی بات کر لوگوں کو کروڑوں روپے اور وقت اور وسائل کی بربادی کی طرف تو جھونک رہے ہیں بلکہ اپنے جنتا سے کئے وعدوں سے بھی بھاگ رہے ہیں۔ کانگریس کے سابق ایم ایل اے مکیش شرما کا کہنا ہے دونوں ہی پارٹیوں نے جنتا سے جھوٹے وعدے کئے تھے جنہیں وہ پورا نہیں کرسکتیں اس لئے سرکار بنانے سے بچ رہے ہیں۔ ان پارٹیوں کی ضد کی وجہ سے جنتا کو مہنگائی جھیلنی پڑے گی جو راحت کی امید لے کر انہوں نے عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا تھا وہ امید بھی ٹوٹتی نظر آرہی ہے۔ اگر سرکار بنا کر عام آدمی پارٹی محض دو یا تین وعدے بھی پورے کردے تو جنتا کو راحت مل جائے گی۔ بجلی کے داموں میں کٹوتی اور 700 لیٹر پانی مفت دستیاب کرانا ان میں شامل ہے۔ لیکن کیجریوال جانتے ہیں کہ بجلی کے بل 30 فیصد کم کرنا ، فری پانی دینا جیسے وعدے وہ پورے نہیں کرسکتے اس لئے اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہے ہیں۔ کانگریس نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ آپ کی سرکار کی حمایت کرسکتی ہے پھر انہیں سرکار بنانے میں قباحت کیوں ہے؟ 28 ممبروں کے باوجود وہ لوک سبھا چناؤ سے پہلے کام کرکے دکھائیں نہ کہ جنتا کی مینڈیٹ کی توہین کرے۔ 
(انل نریندر)

لال، نیلی بتی اسٹیٹس سمبل بن گئی ہے!

دیش کو آزاد ہوئے ساڑھے چھ دہائی گزر چکی ہیں لیکن انگریزوں اور سامنت شاہی کی علامت لال بتی کے رتبے کا چلن آج بھی چل رہا ہے۔ لال یا نیلی بتی والی گاڑیوں میں چلنا ایک اسٹیٹس سمبل بن گیا ہے جو ہمیں سامنتی کلچر کی یاد دلاتا ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے سپریم کورٹ نے ایسی حکم دیا ہے جس سے عام شہری کو راحت اور خوشی محسوس ہوگی۔ حالانکہ اس کو لیکر سپریم کورٹ نے ناراضگی جتائی ہے۔ ویسے یہ پہلا موقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی سپریم کورٹ دونوں مرکز اور ریاستی سرکاروں کو لال بتی اور سائرن والی گاڑیوں کے بیجا استعمال پر جھاڑ پلا چکی ہے ۔ اب اس نے ہدایت دی ہے کہ گاڑیوں میں لال بتی کا استعمال آئینی اور اعلی عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو ہی کرنا ہوگا۔ ان میں صدر ، وزیر اعظم، کیبنٹ وزیر،کچھ سینئرافسر اور کچھ سینئر جج آتے ہیں۔ اس حکم کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے کہا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاستی سرکاریں اس فہرست میں بدلاؤ نہیں کرسکتیں ۔ یعنی منمانی ڈھنگ سے لال بتی نہیں بانٹ سکتیں۔ اب تک ہوتا رہا ہے کہ ہر ریاستی سرکار اتنی فراغ دلی سے لال بتی بانٹتی تھی کہ تقریباً ہر سیاسی رسوخ والا آدمی چھوٹا بڑا سرکاری افسر لال بتی کی گاڑی میں گھومتا تھا۔ دراصل لال یا نیلی بتی رسوخ اور رتبے کی علامت بن گئی ہے۔ ایسی گاڑیوں میں بیٹھے لوگوں کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کی وجہ سے عام آدمی کو کبھی کبھی سخت پریشانی جھیلنی پڑتی ہے۔ دہلی میں تو غیر متوقع طور پر تھوڑی سختی کے سبب ڈر ہے ورنہ ریاستی اور ضلع سطح پر کسی بھی پارٹی کا ضلع پردھان یا کسی ضلع کا ڈپٹی کلکٹر بھی لال بتی کی گاڑی کا سائرن بجاتے ہوئے سڑکوں پر دکھائی دے جاتا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی وہی بات کہی ہے جو اس سے پہلے کئی بار کہی جاچکی ہے کہ گاڑی پر لال بتی دراصل ایک اسٹیٹ سمبل بن گئی ہے اور اس کا استعمال لوگ یہ دکھانے کے لئے کرتے ہیں کہ وہ عام آدمی نہیں بلکہ خاص آدمی ہیں۔ عدالت نے یہ ریمارکس دیا ہے کہ لال بتی انگریزوں کے راج کا بوجھ ہے جسے ہم آج تک ڈھو رہے ہیں۔ بھارت میں کرپشن کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عام آدمی اور خاص آدمی یا وی آئی پی کے درمیان بڑا فرق موجود ہے جو جمہوریت کے بنیادی جذبے کے منافی ہے۔ حقیقت میں اس سسٹم نے آزاد بھارت کے شہریوں کو دو طبقوں میں بانٹ دیا ہے حالانکہ جب سے یہ معاملہ نوٹس میں آیا ہے یہ بحث چل رہی ہے کہ آخر کنہیں وی آئی پی یا اہم شخصیت مانا جائے۔ آئینی طور پر دیکھیں تو یہ دائرہ کافی بڑا ہوجاتا ہے کیونکہ اس میں صدر ،نائب صدر، لوک سبھا سپیکر،پردھان منتری، اپوزیشن لیڈر، کیبنٹ منتری، چیف جسٹس، چیف الیکشن کمشنر اور سی اے جی سمیت تمام آئینی اداروں کے سربراہ آجاتے ہیں۔ یہ ہی حال نیلی بتی والی گاڑیوں کا ہے جنہیں پولیس فوج ،فائر سروس سے متعلق گاڑیوں کے لئے مجاز کیا گیا ہے لیکن اس کا بھی بیجا استعمال نہیں روکا جاسکا۔ جس دیش میں ٹریفک قواعد کوتوڑنے والے 100-50روپے دیکر چھوٹ جاتے ہوں وہاں بہت کچھ بدلنے کی ضرورت ہے۔ اب یہ ضروری ہے کہ مرکزی سرکار آئینی ادارے اور تمام ریاستی سرکاریں دیش کے ہر حصے میں اس حکم کی سختی سے تعمیل کرائیں۔ تبھی بھارت کی جمہوریت سے اس سامنتی ملاوٹ کو دور کیا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

13 دسمبر 2013

شکست کے بعدکانگریس میں اندر اور باہر لیڈر شپ پر اٹھے سوال!

جیسا کہ میں نے اسی کالم میں اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ چار ریاستوں میں کراری ہار سے کانگریس کے اندر اور اس کے ساتھیوں میں لیڈر شپ کے خلاف بغاوتی آوازیں اٹھنے لگیں گی۔ ویسا ہی اب دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آخر ہار کی ذمہ داری کسی کو تو لینی پڑے گی اس سے بھی زیادہ اہم شاید یہ ہے کہ 2014ء کے عام چناؤ کے لئے کانگریس کی قیادت کون کرے گا؟ پہلے بات کرتے ہیں کانگریس کے اندر اس شرمناک ہار کے بعد اٹھی بغاوت کی آوازیں۔ اگر ہم دہلی سے شروع کریں تو سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت نے ہار کی سب سے بڑی وجہ پارٹی کے سینئر لیڈروں سے تعاون نہ مل پانے کو بتایا۔ان کا اشارہ صاف طور پر دہلی پردیش کانگریس کے پردھان جے پرکاش اگروال کی جانب ہے۔ یہ صحیح ہے کہ دہلی اسمبلی چناؤمہم میں اکیلی شیلا جی ہی دن رات ریلیوں میں تقریر کرتی نظر آئیں۔ اس کے پیچھے جے پرکاش اور شیلا جی کے درمیان کافی عرصے سے 36 کا آنکڑا بھی ایک وجہ تھی۔ جے پرکاش کا کہنا تھا کہ شیلا جی ہمیشہ اپنی مان مانی کرتی تھیں اور کہیں بھی انہوں نے انہیں ساتھ لینے کی کوشش نہیں کی۔ راجستھان سے بھی اشوک گہلوت حمایتی اب کھل کر نائب صدر راہل گاندھی پر یہ کہتے ہوئے الزام لگا رہے ہیں کہ پولنگ سے ٹھیک پہلے سی پی جوشی کا نام آگے بڑھا کر وہ کیا سندیش دینا چاہتے تھے؟ لیکن سب سے تلخ حملہ پارٹی کے سینئر لیڈر منی شنکر ایئر نے کیا۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں خدشہ ظاہر کرتے ہوئے یہ کہہ کر سنسنی پھیلادی کے کچھ وقت پہلے اپوزیشن میں بیٹھنا پارٹی کے لئے اچھا رہے گا۔ ایئر نے پارٹی میں زبردست تبدیلی کی وکالت کر تنظیم میں انقلابی سطح پر قدم اٹھانے کی صلاح دی ہے۔ حالیہ ریاستی اسمبلی چناؤ میں زبردست شکست کے بعد کانگریس میں خود محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس تجویز کو ناکافی مانتے ہوئے ایئر نے کہا کہ اب کافی دیر ہوچکی ہے ان کا کہنا تھا دیش کے32 لاکھ پنچایت نمائندوں میں ایک تہائی کانگریسی ہیں۔ 10 لاکھ کیڈر کی پارٹی دیش میں دیگر کسی پارٹی کو دھول چٹا سکتی ہے لیکن جب اس کا استعمال نہیں ہوگاتو نتیجے اسی طرح کے آئیں گے۔ نچلی سطح کی لیڈر شپ تبدیلی کے لئے کارروائی ہونی چاہئے لیکن چاپلوسی کے کانگریسی کلچر کے چلتے ہمیں شبہ ہے کہ پارٹی میں کچھ خاص تبدیلی ہوگی۔لیکن معاملہ جوں کا توں رہے گا اور پارٹی دگوجے سنگھ جیسے چاپلوس لیڈروں کے دم خم پر چلتی رہے گی اور ٹوٹے گی۔ اب بھی دگوجے سنگھ کہہ رہے ہیں کہ اسمبلی چناؤ کے نتائج راہل گاندھی کے خلاف ریفرنڈم نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا اسمبلی چناؤ عام چناؤ سے الگ ہوتے ہیں اور انتخابات میں کانگریس کو ہوئے نقصان کو 2014ء میں لوک سبھا چناؤ میں اس کی ہار کا اشارہ نہیں مانا جاسکتا۔ اشو الگ ہوتے ہیں۔ اسی درمیان ایک سرکردہ لیڈر ستیہ ورت چترویدی نے اپنا تلخ تبصرہ کیا ہے کہ کانگریس کے جو خراب حالات بنے ہیں اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اعلی کمان چاپلوسوں کی زیادہ سنتا ہے۔ سبھی جانتے ہیں کانگریس میں اعلی کمان کا مطلب پارٹی چیف سونیا گاندھی ہیں۔ ایسے میں ستیہ ورت نے ایک طرح سے سونیا گاندھی کو ہی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ متنازعہ تبصروں کیلئے مشہور ستیہ ورت کا مدھیہ پردیش کی سیاست میں کافی دبدبہ رہا ہے۔ اسی وجہ سے تنظیم کی قومی لیڈر شپ نے انہیں لگاتار نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش میں پارٹی کی ہار کی ذمہ داری سیدھے طور پر دگوجے سنگھ پر چھوڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فی الحال دو سال سے کانگریس لیڈر شپ سے بار بار کہا جارہا ہے کہ مدھیہ پردیش کی جنتا دگوجے سنگھ کو سب سے زیادہ ناپسند کرتی ہے لیکن کانگریس لیڈر شپ ان لوگوں کی بات نہیں سنتا جو کڑوی باتیں سنتے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کو نقصان پہنچانے والے دگوجے سنگھ کو پورے چناؤ میں سب سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ جس آدمی کو سب سے زیادہ ناپسند کیا جاتا ہے اسے سب سے زیادہ اہمیت دے کر آخر کانگریس لیڈر شپ کرنا کیا چاہتی ہے؟ ستیہ ورت کہتے ہیں کہ اگر جوتر ادتیہ سندھیا کو چناؤ مہم کی کمان سونپی جاتی تو بہتر نتیجے آتے۔ وہ کہتے ہیں کیا دگی کے نام کانگریس لیڈر شپ نے مدھیہ پردیش کی جاگیر لکھ دی ہے؟ ادھر مرکز میں بھی کانگریسیوں نے پارٹی لیڈر شپ کی ناک میں دم کردیا ہے۔ منموہن سرکار کے خلاف آندھرا پردیش کے ناراض ممبران نے اپنی ہی سرکار کے خلاف عدم اعتمادکا نوٹس دے دیا ہے۔ انہوں نے اس غیرمقبول سرکار کو گرانے کے لئے نمبر بھی اکھٹے کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ وجے واڑہ سے کانگریس ایم پی ایل راج گوپال نے کہا کہ ہمیں آندھرا پردیش اور ریاست کے باہر سے کچھ ایم پی کی حمایت ملی ہے۔ یہ تحریک عدم اعتماد ایک غیر مقبول سرکار کے ذریعے تلنگانہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش ہونے سے روکنا ہے۔ اب بتا کرتے ہیں یوپی اے سرکار کی اتحادی اور حمایتی پارٹیوں کی ان میں ڈی ایم کے ، ترنمول کانگریس جیسی اتحادی پارٹیاں پہلے ہی الگ تھلگ وجوہات سے یوپی اے سے باہر ہوچکی ہیں۔ تمام کوششوں کے باوجود جنتادل (یو) بھی اب یوپی اے کنبے سے جڑنے سے کترارہی ہے۔ بیجو جنتا دل بھی یوپی اے سے دوری بنائے رکھنے کی سوچ رہی ہے۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی تاریخی جیت سے تیسرے مورچے کے لئے حوصلہ پارہی علاقائی پارٹیوں کو نئی آکسیجن مل گئی ہے۔ این سی پی کے چیف شرد پوار اس بار بھی نہیں چوکے۔ انہوں نے کہا کانگریس جب سنکٹ کے دور میں آتی ہے تو وہ ایسی ہی چالیں چلتی ہے۔ انہوں نے بغیر نام لئے کانگریس کے یووراج پر طنز کسا اور کہہ دیا لیڈر شپ کی کمزوری کی وجہ سے کانگریس چناؤ ہارتی ہے۔ ایسے میں وقت رہتے کانگریس لیڈر شپ کے بارے میں دوبارہ سے نظرثانی کرنی چاہئے۔ دیش چاہتا ہے لیڈر شپ مضبوط اور پائیدار ہو۔ تاریخ انور نے راہل گاندھی کا نام لے کر کہہ دیا اس ہار پر راہل گاندھی کو منتھن کرنا چاہئے کیونکہ کانگریس نے چناؤانہی کی غیر اعلانیہ قیادت میں لڑے تھے۔ اس لئے ہار کی ذمہ داری انہیں لینی چاہئے۔ان چناؤ نتیجوں کے نفع نقصان کیلئے کانگریس تو ذمہ دار ہے ہی اور یہ ہی اب دیش کا موڈ ہے کہ لوگ کانگریس کے خلاف ہیں۔ ان چاروں ریاستوں میں لوگوں نے کانگریس کو مسترد کردیا ہے۔ لوگ بھلے ہی ماننے کو تیار ہوں نہ ہوں ان چناؤ کا بڑا اثر آنے والے2014ء لوک سبھا چناؤ میں پڑنے والا ہے۔ لیکن اس سیاسی واقعے سے یوپی اے کی کانگریسی اتحادی پارٹیاں سہم گئی ہیں۔ انہیں لگنے لگا ہے کانگریس کے ساتھ ہی چپکے رہے تو ان کا بھی سیاسی وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اسی کے چلتے کانگریس کے کئی ساتھیوں نے اب الگ راستے پر چلنے کا متبادل تلاشنا شروع کردیا ہے۔کل ملا کر کانگریس کے اندر کانگریس کی اتحادی پارٹیوں نے کانگریس لیڈر شپ کی قابلیت پر سوال کھڑے کرنے شرو ع کردئے ہیں۔ دیکھیں 100 سال کی پرانی اس بڑی پارٹی کو مستقبل میں صحیح لیڈر شپ ملتی ہے یا یوں ہی یہ پارٹی دھرے پر چلتی رہے گی۔
(انل نریندر)

12 دسمبر 2013

حالیہ اسمبلی انتخابات میں بھاجپا کی جیت کیامودی فیکٹر کو جاتی ہے؟

چار ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتیجے آنے کے بعد اب یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا یہ نتائج بی جے پی کے پی ایم اِن ویٹنگ نریندر مودی کی لہر کی وجہ سے آئے ہیں یا پھر اس کا سہرہ ان چار ریاستوں کے موجودہ وزرائے اعلی اور اِن ویٹنگ وزرائے اعلی کو جاتا ہے؟ یہ سوال اس لئے اٹھا ہے کیونکہ نریندر مودی نے ان چار ریاستوں میں زور دار طریقے پر چناؤ مہم میں حصہ لیا لیکن ایکطرفہ جیت تین ریاستوں میں ملی۔ چوتھی ریاست دہلی جہاں مودی نے بہت محنت کی۔ پارٹی اکثریت تک نہیں لاسکی۔ یہ ہی نہیں بلکہ دہلی میں تو پارٹی کا ووٹ فیصد پچھلے اسمبلی چناؤ سے بھی گھٹ گیا؟ سب سے پہلے تو ہمارا خیال ہے کہ لوک سبھا چناؤ نہیں جہاں مودی کی مقبولیت کا امتحان ہونے والا ہے یہ اسمبلی انتخابات ہیں جو ریاستی سرکاروں کی کارگزاری، ساکھ، وزیر اعلی کی مقبولیت ، مقامی اشوز پر لڑا گیا نہ کے نریندر مودی کی شخصیت پر لڑا گیا۔ کانگریس تو یہ کہے گی کہ بی جے پی مودی کی لہر کی وجہ سے نہیں کامیاب ہوئی۔ مدھیہ پردیش کے جوتر ادتیہ سندھیہ نے ریاست میں بی جے پی کی جیت کا سہرہ مودی کے سر باندھنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جیت کی اصلی وجہ مودی نہیں شیو راج سنگھ چوہان ہیں۔ اسی طرح کی بات دگوجے سنگھ، نتیش کمار نے بھی کہی۔ حیرانی اس بات کی ہے امریکی ماہرین کا بھی ماننا ہے چار ریاستوں کے اسمبلی الیکشن کے نتائج سے اگلے سال ہونے جارہے عام چناؤ سے پہلے اپوزیشن بی جے پی کو بھروسہ ضرور فراہم کیا ہے لیکن اس میں نہ تو مودی کی لہر کا کوئی اشارہ دکھائی دیا اور نہ ہی اگلے سال ایسی ہی پرفارمینس کی گارنٹی ہے۔ 
ہندوستان کے انتخابات پر قریب سے نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اور دہلی جہاں عام آدمی پارٹی نے بہت سے لوگوں کو چونکا دیا، میں بھاجپا کی اچھی کارکردگی کی ایک واحد وجہ مودی نہیں ہیں۔ ساؤتھ ایشیا میکلارٹی ایسوسی ایسٹ کے ڈائریکٹر رچرڈ ایم روسو نے کہا کہ ان ریاستوں میں بی جے پی ہمیشہ مقابلے میں رہی۔ مرکز کے اقتدار کے سیمی فائنل سمجھے جانے والے ان اسمبلی انتخابات کے نتائج سے بی جے پی کا خیمہ کافی گدگد ہے۔ ووٹروں نے بہتر کام کاج کرنے والی سرکاروں کو نہ تو انعام دینے میں کنجوسی کی اور نہ ہی امیدوں پر کھری نہ اترنے والی پارٹیوں کو سزا دینے میں۔ ووٹروں نے چار ریاستوں میں کانگریس کا صفایا کرکے یہ طے کردیا کہ پارٹی 2014ء کے فائنل دوڑ میں بہت پیچھے چھوٹ گئی ہے۔ اس سیمی فائنل میں بھاجپا کا پرچم لہرانے سے بلا شبہ نریندر مودی کی پی ایم امیدواری کو اور پنکھ لگ گئے ہیں۔اسمبلی چناؤ سے پہلے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو پی ایم امیدوار اعلان کرنے میں پارٹی کے اندر اختلافات تھے۔ اڈوانی خیمے کا کہنا تھا کیونکہ یہ ریاستی چناؤ ہیں اس لئے ان کے نتائج آنے کے بعد ہی مودی کی دعویداری دیش کے سامنے پیش کرنی چاہئے لیکن پارٹی پردھان راجناتھ سنگھ نے کہا نہیں ریاستی اسمبلی چناؤ سے پہلے ہی دعویداری پیش ہوجانی چاہئے۔ اس خیمے کا خیال ہے کہ ان کا فیصلہ صحیح تھا اور مودی کا داؤ اسمبلی چناؤ میں پارٹی کے لئے فائدے مند ثابت ہوا۔
مودی کی قیادت کو مرکز میں رکھ کر حالیہ اسمبلی چناؤ لڑا بھاجپا نے مودی کی امیدواری کا جم کر پروپگنڈہ کیا اور اس طرح اس نے ایک تیر سے دو نشانے لگانے کا کام کیا۔ ایک طرف بھاجپا نے مودی کو پی ایم امیدوار کی شکل میں پیش کیا تو دوسری طرف حکمت عملی کے تحت وزرائے اعلی کے عہدے کے امیدواروں کو مودی کے ساتھ مرکز میں رکھا لہٰذا چاروں ریاستوں میں بھاجپا کو مودی فیکٹر کا فائدہ ملا۔ اسے مہنگائی کا اثر کہیں یا پھر مودی کی لہر، جس سے راہل گاندھی بھی کانگریس کو نہیں بچاپائے اور مودی نے راہل گاندھی کو چناؤ مہم میں بری طرح بے نقاب کردیا۔آج یہ مودی کی وجہ سے ہی کانگریس میں لیڈر شپ کی صلاحیت کو لیکر خود کانگریسی اور ان کی حمایتی پارٹیاں آوازیں اٹھا رہی ہیں۔ حریف پارٹیاں دیش میں مودی کی لہر ماننے سے کترارہی ہیں لیکن اسمبلی چناؤ میں مودی فیکٹر کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کے مقابلے بھاجپا کے امیدواروں کو جیت دلانے میں بھاری پڑا۔ طوفانی چناؤ مہم کے دوران نریندر مودی اور راہل گاندھی نے 11 اسمبلی حلقوں میں ریلیاں کیں۔ یہ ریلیاں بیکانیر، بانسواڑہ، جے پور، اجمیر، دکشن پوری، اندور، شہڈول، رائے پور، بستر، جگدلپور میں ہوئی تھیں۔ ان ریلیوں کا 27 سیٹوں پر سیدھا اثر تھا۔ دونوں پارٹیوں کے اسٹار کمپینروں کو ریلیوں کے اثر والے مقامات سے 9 سیٹیں ملیں۔ بیکانیر سے 2، بانسواڑہ سے1، اجمیر سے2، رائے پور کی3، اندور کی4 ،جگدلپور کی1 ، مندسور کی1 سیٹ پر بھاجپا امیدواروں کا جیتنا مودی فیکٹر کی وجہ رہا۔
اسمبلی چناؤ نتائج نے بی جے پی کا حوصلہ نہیں بڑھایا بلکہ اس نے اعتماد بھی مضبوط کیا۔ دراصل ایک نظریئے سے چناؤ نتائج نے عام چناؤ سے پہلے پارٹی کے اس فیصلے پر مہر لگادی جسے لیکر سب سے زیادہ تنازعہ اور ہائے توبہ مچی تھی۔ چار ریاستیں جو سبھی اہم ہیں، جنتا نے بھاجپا کو شاندار طریقے سے کامیابی دلا کر یہ پیغام دیا ہے کہ نریندر مودی کی لیڈر شپ پائیدار ہے اور انہیں وزیر اعظم امیدوار بنائے جانے کے فیصلے پر بھی مہر لگادی۔اب پارٹی اس مودی لہر کو طوفان میں بدلنے کی کوشش کرے گی۔ بلا شبہ نریندر مودی اور مضبوط ہوکر سامنے آئے ہیں۔ آخر میں نریندر مودی نے کانگریس کے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ سونیا گاندھی کی سربراہی والی پارٹی کو چاروں ریاستوں میں آئی کل سیٹیں بھاجپا کے ذریعے ایک ریاست میں جیتی گئی سیٹوں کے برابر بھی نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھاجپا پارلیمانی بورڈ نے دہلی میں اکثریت نہ ملنے کے سبب مودی کو سامنے نہیں کیا اور مودی نے ٹوئٹر کا سہارا لیا۔ حالانکہ کچھ لوگ بی جے پی میں چاہتے تھے کہ مودی سامنے آکر جیت پر اپنی رائے رکھیں۔
(انل نریندر)

11 دسمبر 2013

دہلی اسمبلی چناؤ2013 نتائج کے دلچسپ منظر!

دہلی میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہ دے کر دہلی کے رائے دہندگان نے اس تاریخی چناؤ کا ذائقہ تھوڑا کرکرا ضرور کردیا ہے۔ ضرورت تو اس بات کی تھی کہ یا تو بھاجپا کی سیٹیں بڑھا دیتے یا پھر عام آدمی پارٹی کو اکثریت دے دیتے۔ اب کسی کو واضح اکثریت نہ مل پانے کے سبب معلق اسمبلی کے صورتحال سامنے آئی ہے۔ دونوں بڑی پارٹیوں میں سے کوئی بھی کسی کو حمایت دینے یا لینے کو تیار نہیں ہے۔ حکومت بنانے کے لئے سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں ابھر کر آئی بھاجپا کو چار اور دوسرے نمبر پر آئی عام آدمی پارٹی کو 8ممبران کی حمایت چاہئے۔ یہ دونوں کے لئے حاصل کرپانا آسان نہیں ہے۔ ایسے میں کیا متبادل ہوسکتے ہیں نمبر ایک :سب سے بڑی پارٹی کے ناطے بھاجپا حکومت بنانے کا دعوی کرے یا پھر انتظار کرے کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ صاحب ڈاکٹر ہرش وردھن کو دعوت دیں۔ نمبر دو: بھاجپا کودعوت ملے اور یقینی وقت میں ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کو کہیں۔ بھاجپا اس کو منظور کر بھی لیتی ہے تو اس کے لئے اکثریت ثابت کرنا آسان نہیں ہوگا۔ یہ تبھی ممکن ہے جب کانگریس میں ٹوٹ پھوٹ ہوجائے اور اس کے دو تہائی ممبران حمایت دے دیں۔ لیفٹیننٹ گورنر بھاجپا کے انکار کرنے پر عام آدمی پارٹی کو مدعو کر سکتے ہیں اور مشروت حکومت بنانے کی دعوت دے سکتے ہیں لیکن وہی بات آئے گی کہ اکثریت ثابت کیسے کرے گی؟ بھاجپا یا کانگریس میں سے ایک کو اس سرکار کی حمایت کرنی پڑے گی۔ آخری متبادل ہے دہلی میں صدر راج لگے گا اور اسمبلی کو التوا میں رکھ کر انتظار کریں یا پھر اس کو توڑ کر نئے سرے سے چناؤ ہوں۔ اس اسمبلی چناؤ میں کئی دلچسپ چیزیں سامنے آئی ہیں۔ نہ تو اس میں کوئی گلیمر چلا اور نہ ذات پات کارڈ ،نہ بزرگی۔ ان انتخابات میں سوشل میڈیا کا بھی اہم رول رہا۔ پہلے بات کرتے ہیں گلیمر نہ چلنے کی۔ دہلی یونیورسٹی اسٹوڈینٹ ایسوسی ایشن چناؤ میں کامیابی کی گارنٹی رہا خوبصورت چہروں کا جادو دہلی کے دنگل میں نہیں چلا۔ نہ صرف گلیمر کا تڑکا نہیں لگ پایا بلکہ سیاست کی نرسری ڈوسو کے ذریعے اسمبلی چناؤ میں آنے والے امیدواروں کی امید ٹوٹ گئی جس میں کانگریس کی راگنی نائک اور امرتا دھون تو وہیں آپ کی شازیہ علمی۔ ان کی ہار پر تھوڑا دکھ ضرور ہوا ہے کیونکہ وہ کل326 ووٹوں سے ہاریں جبکہ اس سے زیادہ ان کی اسمبلی پولنگ حلقے میں نوٹا کے سب سے زیادہ بٹن دبے۔ انہوں نے انہیں ہرادیا۔478 ووٹروں نے یہ نوٹا بٹن دبایا۔ آخری لمحے میں اسٹنگ آپریشن نے بھی شازیہ کو ہروادیا۔ نوٹا کی بات کریں تو سبھی اسمبلی حلقوں میں اس کا استعمال ہوا۔ اندازہ ہے 50 ہزار سے زیادہ لوگوں نے نوٹا کا بٹن دبایا اور سب سے زیادہ نئی دہلی اسمبلی سیٹ پر جہاں سے شیلا دیکشت، اروند کیجریوال چناؤ میدان میں تھے وہاں تک460 ووٹروں نے سبھی امیدواروں کو نامنظور کردیا۔ کچھ امیدواروں کی امیدوں پر پانی پھیردیا۔ وکاس پوری اسمبلی سیٹ پر جہاں ہار جیت کے درمیان فرق محض 400 ووٹوں کا رہا وہیں نوٹا کو1426 ووٹ ملے۔وہیں آر کے پورم میں528 ووٹروں نے نوٹا کا بٹن دبایا جبکہ ہار جیت کا فرق محض326 کا رہا۔ دہلی اسمبلی چناؤ کے سب سے بزرگ 80 سال کے امیدوار اور گنیز بک ریکارڈ میں نام درج کرانے والے چودھری پریم سنگھ بھی اس بار اپنی سیٹ نہیں بچا پائے۔ 1958ء سے مسلسل جیتنے والے چودھری پریم سنگھ کی سیٹ عام آدمی پارٹی کے امیدوار اشوک کمار نے جیت لی۔ اگر ہم چھوٹی پارٹیوں کی بات کریں تو جہاں اکالی دل نے بھاجپا کے ساتھ اتحاد کرکے اپنے کوٹے کی چار سیٹوں میں سے تین پر زور دار جیت حاصل کرکے اپنا دم دکھایا وہیں بسپا اور سپا اپنا کھاتا بھی نہیں کھول پائیں۔ اکالی دل کے سب سے کمزور امیدوار ہرمیت سنگھ کالکا نے کالکاجی سیٹ پر بھاجپا کے چناؤ نشان پر جیت حاصل کر چونکادیا۔ شاہدرہ سیٹ پر کمل چناؤ نشان پر لڑ رہے جتندر سنگھ شنٹی نے ڈاکٹر نریندر ناتھ جیتے وفادار کانگریسی نیتا کو پچھاڑدیا۔ دہلی کی ریزرو سیٹوں کے ووٹروں پر عام آدمی کا جادو سر چڑھ کر اس بار بولا۔2008ء میں بدر پور اور گوکلپور سیٹ جیت کر اپنی موجودگی درج کرانے والے ہاتھی کو جھاڑونے اس بار صاف کردیا۔ اتنا ہی نہیں کئی سیٹوں پر وہ ایک ہزار سے کم ووٹوں پر سمٹ گئی۔ دہلی چھاؤنی گریٹر کیلاش ، جنگپورہ، کستوربا نگر سمیت دیگر سیٹیں ایسی رہیں کہ بسپا امیدوار محض ایک ہزار ووٹوں پر ہی سمٹ گئے۔ کئی معنوں میں اصل جیت عام آدمی پارٹی کی ہوئی ہے۔ جن سیٹوں پر زیادہ پولنگ ہوئیں ان میں سے زیادہ تر جگہوں پر عام آدمی پارٹی نے بازی ماری ہے۔ کل 25 سیٹوں پر 65 فیصدی سے زیادہ پولنگ ہوئی جن میں ’آپ‘ کو 13 سیٹیں ،بھاجپا کو 9 سیٹیں اور کانگریس کو3 سیٹیں ملیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے ووٹ فیصد بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ ’آپ‘ کو ہوا نہ کہ بھاجپا کو۔ جیسا کہا جارہا تھا بھاجپا یہ چناؤ جیت سکتی تھی 800 ووٹوں کے فرق نے بی جے پی کو اکثریت سے دور کردیا۔ ذرا سی ہار کے فرق نے بھاجپا کو اقتدار سے کوسوں دور کردیا۔ دراصل بی جے پی کو چار سیٹوں پر 800 سے کم ووٹوں کے فرق سے ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ دہلی کے 70 سیٹوں میں سے 5 سیٹیں ایسی ہیں جہاں ہار جیت کا فرق بہت کم رہا۔ دہلی میں28 سیٹوں پر قبضہ جمانے والی عام آدمی پارٹی 19 سیٹوں پر دوسرے نمبر پر رہی۔ اسی طرح عام آدمی پارٹی 17 سیٹوں پر تیسرے نمبر پر رہی وہیں آپ کی بہ نسبت کانگریس ’آپ ‘کے مقابلے دوسرے نمبر پر بھی نہیں رہ پائی۔ کانگریس 16 سیٹوں پر دوسرے نمبر پر آئی اور اپنا جگہ بچا پائی۔باقی 28 سیٹوں پر بھاجپا دوسرے نمبر پر رہی۔ اگر ہم دہلی میں کانگریسی ممبران پارلیمنٹ کی بات کریں تو دو لوک سبھا حلقوں میں کانگریس پوری طرح صاف ہوگئی۔ نئی دہلی اور مغربی دہلی حلقوں میں تو کانگریس کا کھاتہ تک نہیں کھلا۔ سب سے برا حال مشرقی دہلی میں ایم پی سندیپ دیکشت کے حلقے کا ہے۔ یہ پورا حلقہ کانگریس کا گڑھ مانا جارہا تھا جہاں سے کانگریس نے کافی بھروسے مند امیدواروں کو اتارا تھا۔ یہاں سے اروندر سنگھ لولی، ڈاکٹر اے۔کے والیہ، ڈاکٹر نریندر ناتھ، نصیب سنگھ اور امریش گوتم جیسے لیڈروں کو میدان میں اتار تھا۔ گاندھی نگر میں لولی کو چھوڑ کر سبھی ہار گئے۔ ایسے میں شیلا دیکشت کے بیٹے سندیپ دیکشت کی کارکردگی پر سوال اٹھنافطری ہے وہیں نئی دہلی میں ایم پی اجے ماکن کے حلقے کا حال برا رہا۔ نئی دہلی ایریا میں کانگریس کھاتا بھی نہیں کھول پائی۔ سماجی کارکن انا ہزارے کی تحریک کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا تھی۔یہ ہی استعمال اروند کیجریوال کی ٹیم نے دہلی اسمبلی چناؤ میں کیا۔ ٹوئٹر ہو یا فیس بک یا پھر میسج یا پھر بلاگ ’آپ ‘ کی کامیابی نے سوشل میڈیا نے اہم رول نبھایا۔
(انل نریندر)

10 دسمبر 2013

اسمبلی انتخابات 2013 کے نتائج کانگریس کیلئے سبق!

کیا ہے اسمبلی چناؤ کے نتائج2013 کا پیغام؟جنادیش کانگریس پارٹی کے خلاف ہے۔ یہ کرپشن، گھوٹالوں اور مہنگائی،عورتوں کی عدم سلامتی اور سب سے زیادہ کانگریس کے غرور اور برتاؤ کے خلاف ہے۔ جنتا اب ماننے لگی تھی کہ چاہے وہ مرکز کی کانگریس سرکار ہو یا دہلی کی شیلا دیکشت سرکار ہو ، انہیں اتنا غرور ہوگیا ہے کہ اب انہیں جنتا کے دکھ درد کی قطعی پرواہ نہیں رہ گئی ہے۔ مہنگائی سے گرہستن کس طرح سے مقابلہ کررہی ہیں اس کی کانگریس پارٹی کو قطعی پرواہ نہیں تھی۔نوجوانوں میں اپنے مستقبل کو لیکر کتنی فکر تھی اس سے اس سرکار کو کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ کانگریس نے تو مان لیا تھا کہ وہ زندگی بھر اقتدار پر قابض رہنے کیلئے پیدا ہوئی ہے بھلے ہی جنتا کچھ بھی سوچے، کچھ بھی کہے۔آج سے کچھ برس پہلے تک کرپشن کوئی اشو نہیں تھالیکن بدعنوانی کے سبب جب گھوٹالے پر گھوٹالے کا پردہ فاش ہوا اور پچھلے دو تین سال میں تو سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے تو عوام نے اس گھوٹالوں کو سیدھے مہنگائی سے جوڑنا شروع کردیا۔ عوام ماننے لگی کہ ان گھوٹالوں کی وجہ سے ہی آسمان چھوتی، کمر توڑ مہنگائی ہوئی ہے۔ اسے پکا یقین اس وقت ہوا جب اسے لگنے لگا کہ یہ سرکار چاہے وہ مرکز کی ہو یا ریاست کی ہو، انہیں نہ تو مہنگائی کی فکر ہے اور نہ ہی ان میں اسے روکنے کی کوئی قوت ارادی۔ ان میں اتنی اکڑ یعنی غرور آچکا تھا کہ یہ اپنی ہی دنیا میں جینے لگے تھے اور جنتا سے بالکل کٹ کر رہ گئے تھے۔ عوام کے دکھ درد سے انہیں کوئی واسطہ نہیں رہا۔ ایسے وقت انا ہزارے منظر عام پر آئے۔ پچھلے سال جب انہی اشو کو لیکر رام لیلا میدان پر انشن کے لئے بیٹھ گئے تو دہلی کی جنتا پہلی بار لاکھوں کی تعداد میں رام لیلا میدان پہنچی۔ وہ انا کیلئے نہیں گئی بلکہ وہ اپنی بھڑاس نکالنی گئی تھی۔ انہیں جو سرکار اور اس کی پالیسیوں سے ناراضگی تھی اس غصے کو ظاہر کرنے کیلئے گئی تھی۔ انا کے ساتھ اروند کیجریوال بھی تحریک کا ایک اہم حصہ بنیں۔ انا کا انشن تو ختم ہوگیا لیکن اروند کیجریوال کا سیاسی سفر وہیں سے شروع ہوگیا۔ انہوں نے ’آپ‘ پارٹی بنا لی اور انہیں اشو کو لیکر انہوں نے جنتا سے رابطہ کرنا شروع کردیا۔’آپ‘ پارٹی کو نہ تو کانگریس نے اور نہ ہی بھاجپا نے پہلے سنجیدگی سے لیا لیکن دہلی میں ایک زبردست اندر ہی اندر لہر چل رہی تھی آپ پارٹی کے حق میں۔ اس لئے جب پول سروے آئے اور ایگزٹ پول آئے کسی نے بھی ’آپ‘ کو اتنی سیٹیں جیتتے نہیں دکھایا تھا۔ بیشک ایگزٹ پول عام طور پر صحیح ثابت ہوتے ہیں لیکن غلطی ان کی ’آپ‘ پارٹی کو لیکر اور کانگریس کی کارکردگی کو لیکر ہوگئی۔ بھاجپا کو تو تقریباً سبھی نے 32 سیٹوں کی پیش گوئی کی تھی لیکن اروند کیجریوال اینڈ کمپنی اتنی سیٹیں لے لیں گے کسی کو یہ تصور بھی نہیں تھا۔ مجھے شیلا جی سے تھوڑی ہمدردی ہورہی ہے۔ شیلا جی سے کئی غلطیاں ضرور ہوئیں جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔ اس میں کوئی دورائے نہیں ہو سکتی کہ انہوں نے اس چناؤ میں جی جان سے محنت کی لیکن ان کی ٹیم و تنظیم اور وزرا نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ وہ اکیلی میدان میں ڈٹی رہیں۔ کانگریس کے ورکروں کا مطالبہ تھا اور وقت کا تقاضہ تھا کہ کانگریس اپنے کچھ امیدواروں، جن میں کچھ وزیر بھی شامل تھے کو بدلے۔ ان کے خلاف نگیٹو فیکٹر کام کررہا تھا لیکن شیلا جی نے جوا کھیلا اور سارے موجودہ ممبران اسمبلی کو میدان میں اتاردیا۔ ورکروں کی مانگ کو مسترد کردیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شیلا جی خود بھی ہاریں اور پارٹی کی بھی لٹیا ڈوب گئی۔ ایک اور بڑی وجہ تھی مرکزی سرکار کی پالیسیاں۔ مہنگائی سب سے بڑا اشو تھا۔ آلو، پیاز، ٹماٹر کی قیمتوں نے گرہستنوں کا بجٹ ہی بگاڑ دیا تھا۔ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کا یہ حال تھا کہ چناؤ سے ٹھیک پہلے 50پیسے فی لیٹر ڈیزل کے دام بڑھا دئے۔ یہ جنتا کو توجہ نہ دینے کے لئے قدم اٹھائے گئے تھے۔ جنتا نے بھی طے کررکھا تھا کہ کانگریس کو اس بار سبق سکھانا ہے۔ بھاجپا نے دہلی میں شاندار پرفارمینس دی ہے۔ اصل الٹ پھیر تو کانگریس اور ’آپ‘ پارٹی کے درمیان ہوا۔ جو سیٹیں عام طور پر کانگریس کو ملتی تھیں وہ ’آپ ‘ کو چلی گئیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ عام چناؤ میں مشکل سے6 مہینے کا وقت بچا ہے۔ اب کانگریس یہاں سے آگے کیسے چلے گی، سب سے بڑا سوال تو لیڈر شپ کو لیکر ہے۔ سونیا گاندھی، راہل گاندھی کی لیڈرشپ بری طرح بے نقاب ہوگئی ہے۔ سردار منموہن سنگھ نہ تو تین میں ہیں نہ تیرہ میں۔ راہل گاندھی بالکل پھسڈی ثابت ہوئے ہیں ان کی قیادت میں پارٹی کا لوک سبھا چناؤلڑنے پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ پرینکا نے صاف کردیا ہے کہ وہ امیٹھی اور رائے بریلی سے باہر نہیں جائیں گی۔ اس صورت میں صرف سونیا گاندھی ہی بچتی ہیں۔ کیا لوک سبھا چناؤ سونیا گاندھی بنام نریندر مودی ہوگا؟ کانگریس میں نہرو گاندھی خاندان کے علاوہ مجھے تو کوئی اور لیڈر وزیر اعظم امیدوار کے طور پر دکھائی نہیں دیتا۔ کانگریس کی یہ چوطرفہ ہار 2014ء لوک سبھا چناؤ کو سیدھا طور پر متاثر کرے گی۔ کانگریس تنظیم پوری طرح لڑکھڑا گئی ہے۔ ورکروں کا حوصلہ ٹوٹنا فطری ہے۔ سیاست میں کسی کو کنارے کرنا صحیح نہیں ہوتا۔ ہمارے سامنے کئی مثالیں ہیں۔پارٹی تقریباً تباہ ہوچکی ہے اور پھرکانگریس دیش کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے وہ واپسی کیسے کر سکتی ہے لیکن اس کے لئے اچھی لیڈر شپ تنظیم سب سے اہم ہے۔ صحیح اشو اٹھانا جنتا کو سیدھے متاثر کرنے والے اشوز پر خاص توجہ دینا، ان اسمبلی چناؤ کے نتائج ایسے وقت آئے ہیں جب پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس چل رہا ہے ایسے میں کانگریس اور سرکار کے سامنے سب سے بڑی چنوتی ہوگی اس سیشن میں اپوزیشن کے حملوں کو جھیلنا۔پارٹی صدر سونیا گاندھی نے ہار کے بعد لوک سبھا چناؤ سے پہلے اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کی بات کہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چار ریاستوں کے اسمبلی چناؤ نتائج کو لیکر پارٹی بیحد مایوس ہے۔ حالانکہ ساتھ یہ بھی کہا کہ ان نتیجوں کا عام چناؤ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ عام چناؤ بالکل الگ ہوتے ہیں۔ ہم سنجیدگی سے محاسبہ کریں گے اور اپنی غلطیوں کو کام کاج کے طریقوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہیں راہل گاندھی نے تسلیم کیا ہے وہ ’آپ‘ پارٹی سے بہت کچھ سیکھیں۔ ہم ’آپ‘ پارٹی کی کامیابی سے سبق لیں گے۔ لوک سبھا چناؤ میں اب بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ کانگریس جنادیش اسمبلی چناؤ2013 سے کیا سبق سیکھتی ہے اور اپنے آپ میں بہتری کو تیار ہے؟
(انل نریندر)

08 دسمبر 2013

آخر کار نارائن سائیں پولیس شکنجے میں پھنسے!

پچھلے تقریباً دو مہینے سے تمام ریاستوں کی پولیس کو چکمہ دے رہے آسا رام کے بیٹے نارائن سائیں آخرکار پولیس کے شکنے میں پھنس ہی گئے۔ بقول ڈی سی پی کرائم کمار گنیش’’آپریشن نارائن سائن‘‘ گذشتہ دو مہینے سے اس کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے میں لگی ہماری ٹیم کو ڈرائیور رمیش کے جانکار کے ذریعے سوموار دوپہر اطلاع ملی کہ وہ پنجاب میں ہے۔ اس کے بعد ایک ٹیم کو پنجاب کے لئے روانہ کردیا گیا۔وہاں پتہ چلا کہ لدھیانہ میں وہ کچھ دنوں سے ٹھہرا ہوا ہے۔ منگلوار کو لدھیانہ پہنچنے پر پتہ چلا کہ وہ دہلی کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ اس کا پیچھا کرتے ہوئے 31 پولیس والے جب انبالہ پہنچے تو انہیں ایک مشتبہ کار نظر آئی جس کا پیچھا کرتے ہوئے جیسے ہی نارائن کی یہ کار منگلوار رات تقریباً10بجے دہلی سرحد پر پیپلی پہنچی تو کرائم برانچ کی ٹیم نے اسے آخر کار اوور ٹیک کر روک لیا اور گھیر لیا۔ نارائن سائیں کی گاڑی سے پولیس کو کئی مشتبہ اور قابل اعتراض سامان ملا۔ اس کے پتا آسا رام کی گرفتاری کے بعد نارائن سائیں کو یقین ہو چلا تھا کہ اب اس پر بھی ایف آئی آر درج ہوگی۔ پولیس اسے بھی اپنے چنگل میں لے لے گی۔ اسی ڈر سے نارائن سائیں فرار ہوگیا اور فراری کے درمیان اپنے ٹھکانوں کو لگاتار بدلتا رہا تاکہ جب تک معاملہ ٹھنڈا نہ ہوجائے وہ پولیس کی پکڑ سے دور رہے۔ پولیس سے بچنے کے لئے سائیں وائرلیس سیٹ کر استعمال کرتا تھا۔اس کے قافلے کی ہر گاڑی میں ایک سیٹ ہوتاتھا، نارائن بہت زیادہ ضرورت پڑنے پر ہی موبائل کا استعمال کرتا تھا۔ کرائم برانچ کے ایک سینئر افسر کے مطابق ملزم پولیس سے بچنے کے لئے گاڑیاں بدلتا رہتا تھا۔ ہمیشہ کار پر لال بتی لگا لیتا تھا۔ دہلی پولیس کے سامنے خلاصہ کیاہے کہ گاڑی میں اس نے سائرن بھی لگا رکھا تھا۔ سفر کے دوران جب کوئی پولیس پکٹ یا پیٹرول پمپ وغیرہ پڑتا تھا تو نارائن سائیں گاڑی کی سیٹ پر لیٹ جاتا تھا۔نارائن نے کئی بات پولیس سے بچنے کے لئے سکھ کے علاوہ مسلم شخص کا بھی روپ اختیار کیا۔ پولیس کے مطابق لدھیانہ کی جس گؤ شالہ میں وہ گذشتہ20 دنوں سے چھپا ہوا تھا وہاں تقریباً 600 گائیں ہیں۔ سب سے چونکانے والی بات یہ سامنے آئی ہے کہ سائیں اپنے ہی پتا آسا رام کی سیکس سی ڈی بنوانا چاہتا تھا۔ ایسا کرنے کے پیچھے اس کا مقصد آسا رام کی ملک بھر میں پھیلی اربوں کی جائیداد پر قبضہ کرنا تھا۔ سورت کی جس خاتون نے سائیں کے خلاف ریپ کا کیس درج کرایا تھا اسی نے یہ الزام ایک نیوز چینل سے بات چیت میں لگایا۔ نارائن سائیں پر بدکاری کا الزام لگانے والی ایک سابق خاتون بھکت نے دعوی کیا تھا کہ سائیں دو ناجائز بچوں کا باپ ہے۔ گنگا اور جمنا سگی بہنیں ہیں۔ سورت کے پولیس کمشنر استھانا نے بتایا کہ گنگا نے پوچھ تاچھ کے دوران بتایا کہ اس کی بہن جمنا کا بیٹا دراصل نارائن سائیں کی اولاد ہے۔ اس درمیان نارائن سائیں کو دہلی کی ایک عدالت نے 24 گھنٹے کے لئے گجرات پولیس کی حراست میں سونپنے کا حکم دیا ہے۔ اس میں بلاتکار کے ایک معاملے میں اسے سورت میں ایک عدالت میں پیش کرنے کیلئے ٹرانزٹ ریمانڈ دی گئی ہے۔ اب جیل میں باپ بیٹے کی جوڑی کو وقت ملے گا کہ وہ غور کریں کے انہوں نے کیا کیا کالے کارنامے کئے ہیں۔ نارائن سائیں تو لمبے وقت تک گئے۔
(انل نریندر)

دودھ میں ملاوٹ کرنے والوں کو ملے عمر قید!

کھانے پینے کے سامان میں جتنی ملاوٹ ہمارے دیش میں ہوتی ہے شاید ہی کسی دوسرے دیش میں ہوتی ہو۔اس کی اہم وجہ ہے مرکزی سرکار اور ریاستی سرکاروں کا عوام کے تئیں اسنویدناہونا۔نہ انہیں مردوں کی صحت کی فکر ہے نہ خواتین کی اور نہ ہی بچوں کی۔ ان کی لاپرواہی کا ہی نتیجہ ہے کہ عزت مآب سپریم کورٹ کو دودھ میں ملاوٹ جیسے مدعے پر سختی سے بولنا پڑا ہے۔ جمعرات کو سپریم کورٹ نے کہا کہ دودھ میں ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف عمر قید کی سزا کی شرط ہونی چاہئے۔ عدالت نے کہا کہ فی الحال اس جرم سے نپٹنے کے لئے موجودہ قانون (دفعہ272) سخت نہیں ہے نہ ہی فوڈ سکیورٹی ایکٹ کافی ہے۔ سزا کی شرط بھی صرف 6ماہ کی ہے۔ملک میں ریاستی سرکاروں کو اترپردیش ، اڑیسہ اور پشچمی بنگال کی طرز پر قانون میں ترمیم کر سخت سزا، عمر قید کی شرط رکھنی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے ریاستوں کے ڈھلمل رویئے پر کڑی ناراضگی جتاتے ہوئے کہا کہ سنتھیٹک دودھ میں ملائے جانے والی اجزاء صحت کے لئے نقصاندہ ہیں۔ اس کے باوجود سرکاریں لاپرواہ ہیں۔ ریاستوں کے جواب پر ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے عزت مآب عدالت نے یوپی ،اتراکھنڈ،ہریانہ، راجستھان، دہلی، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور پنجاب کو مفصل حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ریاستوں کو اپنے جواب میں ملاوٹ کا جرم کرنے والوں کے خلاف کی جانے والی قانونی کارروائی کا بیورا پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ جسٹس اے۔ ایس۔رادھا کرشنن و جسٹس اے۔ کے۔سیکری کی بنچ کے سامنے عرضی گذار سوامی اچوتانند تیرتھ کی جانب سے پیش ہوئے وکیل انوراگ تومر نے کہا کہ سخت قانون نہ ہونے کی وجہ سے ملاوٹ خوروں کو کوئی ڈر نہیں ہے۔ بنچ نے یوپی سرکار کی طرف سے پیش ہوئے محکمہ خوراک کے چیف سکریٹری و دیگر ریاستوں کی طرف سے پیش ہوئے فوڈ کمشنروں سے اس بارے میں پوچھا۔ دہلی کے فوڈ کمشنر نے بنچ سے کہا کہ ہمارے علاقے میں سنتھیٹک دودھ کا کوئی سیمپل نہیں ملا ہے۔تب درخواست گزار کے وکیل نے انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) اور (ایف ایس اے آئی)کئی سائنسی جانچ کا حوالہ دیا کہ ایک رپورٹ میں 147 دودھ کے نمونوں میں ڈیٹرجنٹ پایا گیا ہے۔ اس کے باوجود اترپردیش کو چھوڑ کر کسی سرکار نے یہ نہیں قبول کیا کہ ڈیٹرجنٹ جیسے نقصاندہ اجزاء کے ذریعے ملاوٹی دودھ تیار کیا جاتا ہے۔ ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف سختی برتنے کا دعوی کرنے والی ریاستی سرکاروں کے جواب کی سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر ہوا نکال دی کہ سرکاری مشینری اس معاملے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ دراصل ریاستوں کی جانب سے جرمانہ وصولے جانے کی کارروائی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا جسے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ یہ جواب تسلی بخش نہیں ہے کہ اتنا یا اتنا جرمانہ وصول کیا تھا۔ریاستی سرکاروں کے جواب ظاہر کرتے ہیں کہ ان کارویہ کتنا لچر ہے۔ اعدادو شمار صحیح کہانی بتاتے ہیں۔ان ریاستوں سے 1791 نمونے لئے گئے ان میں1226 نمونے پازیٹو نہیں پائے گئے ہیں۔ ان میں سے147 نمونوں میں ڈیٹرجنٹ پایا گیا۔ یہ اعدادو شمار ایف ایس ایس آئی نے جنوری2011ء میں لئے تھے جن کی بنیادپر یہ اعداد نکالے گئے ہیں۔ 
(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...