Translater

02 جولائی 2011

بابا رام دیو کی خود اعتمادی و حوصلہ توڑنے میں مرکز ناکام


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 3rd July 2011
انل نریندر
ایسا نہیں لگتا کہ مرکزی سرکار بابا رام دیو کی خود اعتمادی اور مضبوط عزم کو توڑپائی ہے۔منموہن حکومت نے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرلئے ہیں اور کربھی رہی ہے لیکن بابا نہ صرف اپنے ارادوں پر قائم ہیں بلکہ وہ اس میں نئے اشوز بھی شامل کررہے ہیں۔بابا میں میرٹھ یاترا کے دوران گذشتہ منگلوار کو مرکزی سرکار سے دو سوال پوچھے پہلا 4 جون کی شام تک جو بابا دیوتا تھا وہ اچانک ٹھگ کیسے بن گیا؟ دوسرا یہ کہ دہلی میں ان کے انشن کے بعد سوئس بینک سے 5 لاکھ کروڑ روپے کیوں نکالے گئے؟ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نکالی گئی رقم کانگریس اور اس کے وزراء اور اس کے نامزد لوگوں کی ہے۔ بابا اخبار نویسوں سے بات کررہے تھے ان کا کہنا ہے کہ کانگریس حکومت کے راج میں تو پوری دال ہی کالی ہے۔ حکومت نے ظلم کی حدیں پار کردی ہیں۔ رام لیلا میدان میں بہو بیٹیوں سے آبروریزی تک کی کوشش کی گئی،آندولن ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اخلاقیات کی بنیاد پر تبدیلی کی لڑائی لڑی جائے گی۔ اپنے اوپر لگ رہے الزامات پر بابا رام دیو بولے جو بھی مرکزی سرکار کے بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھائے گااس پر الزامات لگیں گے اور اس کی کردار کشی ہوگی۔ پتنجلی یوگ پیٹھ میں سب کچھ قانونی ہے۔
تازہ رپورٹ کے مطابق بابا نے اب اپنی مہم میں ایک اور اشو جوڑدیا ہے۔ ہریدوار میں بابا نے کالی کمائی اور بدعنوانی کے ساتھ نہ جائز کھدائی کو بھی اپنے ایجنڈے میں شمار کرلیا ہے۔ ان کی یوجنا یوگ طریقوں سے دیش بھر میں عوامی بیداری مہم چلانے کی ہے۔کالی کمائی کے پانچ خاص ذرائع اور ان کا حل بتانا اس کا خاص مقصد رکھا گیا ہے۔ جمعہ سے پتنجلی یوگ پیٹھ میں شروع ہوئے یوگ کیمپ میں اس کا خاکہ تیار کیا جارہا ہے۔ بھارت سوابھیمان ٹرسٹ کی طرف سے باقاعدہ کتابچہ بانٹ کر یوگ سیکھنے والوں کو مہم سے جوڑنے کی کوشش ہورہی ہے۔ بابا نے اپنی مہم کو آگے بڑھانے کے لئے باقاعدہ ذمہ داریاں طے کردی ہیں۔ یوگ سیکھنے والوں اور حمایتیوں کو بتایا جارہا ہے کہ دیش میں 89 طرح کے معدنیات کی شکل میں تقریباً10 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے قدرتی ذخیرے ہیں۔جن کی بڑے پیمانے پرناجائزکھدائی ہورہی ہے۔اس کام میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ لگے ہوئے ہیں جبکہ دیش بھر میں محض 200 لوگوں کو ہی کھدائی کرنے کی اجازت ملی ہوئی ہے۔یہ کالی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ بابا نے کالی کمائی کے پانچ وسائل بتائے ہیں یہ ہیں ناجائز کھدائی، ٹیکس کی چوری، رشوت خوری، ترقیاتی اسکیموں میں دھاندلی اور بڑے اور چھوٹے نوٹ۔
ادھر سی بی آئی نے مبینہ غلط اطلاع دے کر پاسپورٹ بنوانے کے سلسلے میں پتنجلی یوگ پیٹھ کے سکریٹری جنرل اور بابا کے ساتھی وید پال کرشن سے ہری دوار جا کر پوچھ تاچھ کی۔ سی بی آئی کی ٹیم ہری دوار نگر پالیکا کے دفتر میں جاکر زندگی موت کے ریکارڈ رکھنے والے رجسٹرار کے ریکارڈ بھی دیکھے،دونوں ہی بابا رام دیو اپنے ایجنڈے پر چل رہے ہیں اور منموہن سنگھ کی سرکار اپنے ایجنڈے پر گامزن ہے۔
Tags: Anil Narendra, Baba Ram Dev, Bal Krishan, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, Swiss Banks, Vir Arjun

لاش کے 300 ٹکڑے اور اسے غیر ارادی قتل بتا رہے ہیں

 
Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 3rd July 2011
انل نریندر
کبھی کبھی معاملوں کے ایسے فیصلے سننے کو ملتے ہیں کہ آدمی چونک جاتا ہے۔ ایسا ہی فیصلہ سرخیوں میں آیا نیرج گروور قتل کانڈ میں ممبئی کی ایک عدالت نے سنایا ہے۔جمعرات کو فیصلہ سناتے ہوئے ممبئی کی سیشن عدالت نے کنڑ اداکارہ ماریہ سوسئی راج کو قتل کے الزام میں بری کردیا ہے۔معلوم ہوکہ' کیا آپ پانچویں پاس سے تیز ہیں۔' کوئز شو کو نیرج گروور نے ہی بنایا تھاجس کی اینکرنگ شاہ رخ خان نے کی تھی۔ بالا جی فلمز کے کریٹو ہیڈ اور سنرجی ایڈ لیب کے مینیجنگ ایگزیکٹو کے عہدے پر کام کرنے والے نیرج کے قتل کا معاملہ تین سال پرانا ہے۔ ملارڈ شہر میں 7 مئی 2008 ء کو ماریہ کے نئے فلیٹ میں نیرج کو قتل کیا گیا تھا۔ اس قتل میں ماریہ اور جیروم کو ملزم بنایا گیا تھا۔ ماریہ بالی ووڈ میں اپنا کیریئر بنانے کے لئے نیرج کے قریب آئی تھی۔ ماریہ اور جیروم نے نیرج کو بربریت آمیز طریقے سے قتل کردیا تھا۔ اسکی لاش کے تقریباً300 ٹکڑے کئے تھے پھر ان ٹکڑوں کو دو بیگوں میں بھر کر تھانے میں واقع منور کے جنگل میں اسے پیٹرول ڈال کر جلانے کی کوشش کی گئی تھی۔
عدالت ہذا نے جیروم کو غیر ارادے قتل اور ماریہ کو صرف ثبوت مٹانے کا قصوروار پایا۔سیشن جج ایم ڈبلیو یادوانی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ وکیل دفاع دونوں کے خلاف قتل کی وجہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت میں پیش کردہ ثبوتوں کے لحاظ سے انہوں نے ماریہ کو صرف ثبوت مٹانے کا قصوروار پایا۔ آئی پی سی کی دفعہ کے مطابق اس جرائم کی سزا محض تین سال ہے اور ماریہ اتنا وقت جیل میں پہلے ہی گذار چکی ہے لہٰذا ماریہ جلد ہی جیل سے باہر آسکتی ہے اور آزادی سے گھوم پھر سکتی ہے۔ وہیں جیروم کو بھی عدالت کے فیصلے سے راحت ملی ہوگی کیونکہ عدالت نے اسے اراداتاً قتل کا قصوروار نہیں پایا۔ جیروم کو سزا سنائی جاچکی ہے۔ اسے 10 سال کی جیل کی سزا ہوئی ہے۔ اب اسے صرف7 سال جیل کی سزا کاٹنی ہوگی۔ کیونکہ سماعت کے دوران وہ پہلے ہی تین سال سے جیل میں ہے۔ اسے صرف ثبوت ضائع کرنے کے لئے سزا سنائی گئی ہے جبکہ جیروم کو غیر اراداتاً قتل کا قصوروار پایا گیا ہے۔
اس فیصلے سے متاثرہ شخص کے وارثین اور قانونی برادری کا ایک گروپ مایوس ہے۔ 'میرے بیٹے کے جتنے ٹکڑے ماریہ اور جیروم نے کئے انہیں اتنے ہی ماہ کی سزا تو کم سے کم ملتی۔'یہ کہنا ہے نیرج کمار کے والدین کا۔ جہاں نیرج کے والد امرناتھ گروور کو ثبوت مٹانے و غیر ارادتاً قتل میں قاتلوں کو سزا ہونے سے ٹھیس پہنچی ہے وہیں ماں نیلم کا کہنا ہے' میرے جگر کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں کو سخت سزا ملنی چاہئے تھی۔ کم سے کم انہیں اتنی تو سزا ہونی چاہئے تھی جتنے انہوں نے ٹکڑے میرے نیرج کے کئے تھے۔'
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Jerome, Maria Susairaj, Mumbai, Neeraj Grover, Vir Arjun

اب تو غریب کی تھالی سے سبزی بھی غائب ہورہی ہے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 2nd July 2011
انل نریندر
حکومت نے پیٹرول پمپ ڈیلروں کے کمیشن میں اضافے کو منظوری دے دی ہے جس سے پیٹرول 27 پیسے اور ڈیزل 15 پیسے مزید مہنگا ہوگیا ہے۔ اس سے مہنگائی اور بڑھ جائے گی۔ پہلے سے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہی جنتا پر اب اور مار پڑنے والی ہے۔ لیکن یوپی اے حکومت کو اس سے کوئی چنتا نہیں۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ عام جنتا کو یہ مار ابھی کچھ اور وقت جھیلنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال مارچ تک مہنگائی شرح چھ فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ان کے وزیر مالیات پرنب مکھرجی فرماتے ہیں کہ ڈیزل ، رسوئی گیس اور مٹی کے تیل کے داموں میں حال ہی میں کئے گئے اضافے کو واپس نہیں لیا جائے گا۔ امریکہ کے دورے پر پہنچے پرنب نے بدھوار کو کہا کہ داموں میں اضافے کا فیصلہ واپس لینے کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ بڑھتی مہنگائی کے سبب غریب آدمی کی تھالی سے سبزیاں بھی غائب ہونے لگی ہیں۔ ماہر اقتصادیات پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین مونٹیک سنگھ آہلوالیہ نے بڑھتی قیمتوں کو دلیل آمیز قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کا اصل اصول ہے کہ کھپت کم کرو تو مہنگائی کم ہوگی۔ چیزوں کی قیمتیں کم ہوں گی تو مالیاتی خسارہ کم ہوگا۔ اس لئے مہنگائی گھٹانے کیلئے ہی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔
ڈیزل کی بڑھی قیمت کا اثر اب عام آدمی کی تھالی پر دکھائی دینا شروع ہوگیا ہے۔ بازار میں سبزیوں کے دام اونچائی چھونے لگے ہیں۔ تھوک بازار کی بہ نسبت خوردہ بازار میں یہ تیزی زیادہ نظر آرہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ ڈیزل کی بڑھی قیمت کا حوالہ دیکر خوردہ کاروباری سبزیوں کی منمانی قیمتیں وصول رہے ہیں۔ ایک ماہ کے اندر تھوک بازار میں ٹماٹر کے دام 10 گنا بڑھے ہیں وہیں خوردہ تاجروں نے اس کی قیمت 20 گنا تک بڑھا دی ہے۔ مہنگائی کے چلتے اب سلاد سے ٹماٹر بھی غائب ہوگیا ہے۔تھالی سے ہری سبزیاں بھی آہستہ آہستہ ندارد ہو رہی ہیں۔ڈیزل کی قیمتوں میں ہوئے اضافے کی وجہ سے سبزیوں کی قیمتوں میں جو اچھال آیا ہے وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ خوردہ کاروباری اس کا منمانا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دہلی کی آزاد پور تھوک منڈی میں جو ٹماٹر 30 مئی کو 1.60 پیسے کلو بک رہا تھا وہ 28 جون تک 15 روپے تک بکا۔ اور خوردہ بازار میں اس کی قیمت 45 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ جو آلو30 مئی کو 8 روپے کلو تھا وہ22 جون کو 12.50 پیسے اور 28-29 جون کو ٹماٹر خوردہ میں 30-45 روپے فی کلو بک رہا ہے۔ آلو کے دام 15 سے20 روپے ، پیاز 20 سے30 روپے کلو۔ پھول گوبھی 30-40 روپے اور ٹماٹر کی آمد متاثر ہوئی ہے جس کا اثر ان کے داموں پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بھنڈی جو پہلے 7 روپے میں بکتی تھی وہ اب20 روپے میں بک رہی ہے۔ لوکی5 سے 15 روپے، توری 20 سے60 روپے کلو، کریلا 10 سے 35 روپے اور آلو 7 سے15 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔ مہنگائی اس دیش کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس سے بھارت کی 95 فیصد عوام براہ راست طور پر متاثر ہوتی ہے اور منموہن سرکار کے پاس اس کو گھٹانے کا نہ تو کوئی فارمولہ ہے اور نہ ہی قوت ارادی۔ وزیر اعظم اور ان کے وزیر مالیات و ان کے سپہ سالاروں کو زیاد ہ فکر گروتھ ریٹ کی ہے۔ بین الاقوامی ساکھ کی ہے۔ امریکہ ہماری اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں کیا سوچتا ہے ، یہ وزیر اعظم کے لئے زیادہ ضروری ہے بہ نسبت بھارت کی عوام۔
Tags: Anil Narendra, Cooking Gas, Daily Pratap, Diesel, Montek Singh Ahluwalia, Petrol Price, Pranab Mukherjee, Price Rise, Vir Arjun

دھمکی کی زبان بولنے والے پاکستان کا قبول نامہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 2nd July 2011
انل نریندر
پاکستان اپنے بڑبولے پن کے لئے مشہور ہے۔ خاص کر جب بھارت کے بارے میں کوئی بات ہوتی ہے۔ آئے دن اس کے جنرل دھمکیاں دیتے رہتے ہیں کہ اگر ہمارے اوپر حملہ کیا گیا تو ہم بھارت کے دانت توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ نیوکلیائی حملے کی بھی دھمکی پرویز مشرف سے لیکر جنرل اشفاق کیانی تک دے چکے ہیں۔ جب پاکستان کے وزیر دفاع چودھری احمد مختار کا یہ بیان آیا یا اعتراف آیا کہ جنگی مقابلے میں ان کے دیش کی صلاحیت بھارت سے کم ہے تو تعجب ضرور ہوا۔ ایبٹ آباد حملے جیسی کوشش کرنے پر بھارت کو سبق سکھانے کی دھمکی دینے والے پاکستان کی زبان پر آخر کار سچائی آہی گئی ہے۔ پاکستان نے مان لیا ہے کہ فوجی طاقت میں وہ بھارت کی برابری نہیں کرسکتا۔ پاکستانی وزیر دفاع نے بی بی سی کو دئے گئے انٹرویو میں کہا کہ فوجی طاقت میں اگر ہم بھارت کی برابری کرنا چاہیں یا اس کے پاس دستیاب فوجی ہتھیار اور سازو سامان کو ہم بھی خریدنا چاہیں تو ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ سرکار نے دونوں دیشوں کی فوجی صلاحیت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا پہلے تو بھارت اور پاکستان 20 سے22 دنوں تک جنگ لڑ سکتے تھے لیکن اب بھارت نے 45 دن تک جنگ لڑنے لائق صلاحیت حاصل کرلی ہے ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ مختار نے مانا کہ بھارت کی معیشت پاکستان سے تقریباً چھ سات گنا زیادہ بڑی ہے۔ ان کے اس تبصرے کونیوکلیائی اور حکمت عملی کے ماہر سچائی مان رہے ہیں جس سے پاکستان آنکھیں بند نہیں کرسکتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع چودھری احمد مختار کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے پاکستان میں دراندازی کرکے کی گئی کارروائی میں دنیا کے انتہائی مطلوب انتہا پسند اسامہ بن لادن کو مار گرانے کے کوئی دو ماہ بعد اس دیش کی سرداری کی خلاف ورزی کئے جانے پر امریکہ کے خلاف جاری شور خاموش ہوچکا ہے لہٰذا مختار کے بیان کو جملے بازی نہیں مانا جانا چاہئے۔ اگر پاکستان فدائی اور غررانے اور کوری دھمکیوں کا سلسلہ چھوڑ دے تو حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کی حیثیت کسی بھی میدان میں بھارت کے سامنے نہیں ٹھہرتی۔ تجربات کے بیچ بھوکے پیٹ لڑائی نہیں ہوسکتی، ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی معیشت کی آج اصلی پوزیشن کیا ہے۔ اگر امریکہ اقتصادی مدد آج دینا بند کردے تو پاکستان کا بینڈ بج جائے گا۔ ہندوستانی معیشت نے نہ صرف مضبوطی حاصل کی ہے بلکہ دن بدن مضبوط ہورہی ہے۔ پچھلے سال بھارت کا جی ڈی پی جہاں 1430 بلین ڈالر تخمینہ تھا وہیں پاکستان کا جی ڈی پی معیار175 بلین ڈالر تھا۔ وہ پاکستان اپنے جی ڈی پی کا بڑا حصہ اپنی فوج اور سلامتی پر خرچ کرتا ہے جو اس بنیاد پر بھارت کے خرچ کے مقابلے 11 فیصدی سے زیادہ ہے۔ لیکن اس کی جھوٹی شان تو ہے ہی، خانہ جنگی جیسے حالات و اپنے ذریعے پیداکئے گئے آتنک واد سے نمٹنے کی مجبوری بھی ہے۔ فوجی سیکٹر میں بھی بھارت کی دنیا میں دوسری سب سے بڑی فوج ہے۔ جس میں کل 27 لاکھ 6 ہزار سے زیادہ فوجی ہیں۔ پاکستانی فوج اس کے آدھے سے بھی کم یعنی 12 لاکھ50 ہزار جوان ہیں۔ بھارت کے پاس ہتھیاروں کا جو ذخیرہ ہے اس میں پانچ ہزار جنگی آبدوز ٹینک، 13 ہزار توپیں ،1322 جنگی جہاز، 25 بحری جہاز، 15 آبدوز،13 فگریٹ،1200 بیلسٹک میزائلیں اور پرتھوی ، اگنی،آکاش اور ترشول جیسی دیگر میزائلیں ہیں۔ اس کی بہ نسبت پاکستان کے پاس 3950 توپیں، 710 جنگی جہاز، 21 فگریٹ ہیں۔ اس کے پاس ہتف، غوری، شاہین جیسی میزائلیں ہیں جن پر کچھ سیکٹروں میں شبہ کیا جاتا ہے۔ کل ملاکر پاکستان فوجی نقطہ نظر سے بھارت کے سامنے زیادہ دن کی لڑائی لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اسے اب بھی امریکی اقتصادی اور فوجی مدد کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت کو چودھری مختار کے اقبال نامے سے خوش نہیں ہونا چاہئے اور اپنی فوجی صلاحیت سے توجہ نہیں ہٹانا چاہئے کیونکہ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ بھارت کے خلاف پاکستان اکیلا نہیں۔ اس کو چین کی پوری حمایت ہے۔دونوں چین اور پاکستان بھارت پر بھاری پڑ سکتے ہیں۔بار بار ثبوت ملنے کے بعد بھی امریکہ پاکستان کے معاملے میں سدھرا نہیں اور آج بھی اسے مدد دینے سے باز نہیں آرہا ہے۔ ایک نظرسے دیکھا جائے تو پاکستان کی خارجہ پالیسی بھارت سے زیادہ کامیاب ہے۔ اسے دونوں امریکہ اور چین کی حمایت مل رہی ہے۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Indo Pak War, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

01 جولائی 2011

ان ریو (نشہ) پارٹیوں نے تو تباہی مچا رکھی ہے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 1st July 2011
انل نریندر


پچھلے دنوں رائے گڑھ ضلع میں ایک ہوٹل میں چل رہی ریو (نشہ) پارٹی پرچھاپہ مارتے ہوئے وہاں سے ممبئی منشیات انسداد برانچ کے ایک انسپکٹر سمیت پانچ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ رائے گڑھ پولیس کے سپرنٹنڈنٹ آر ڈی شنڈے نے بتایا کہ اس پارٹی میں گرفتار کئے گئے انسپکٹر کا نام انل جادھو ہے۔ پارٹی میں نوجوانوں کو منشیات دی جارہی تھی۔ ضلع کے کھلاپور میں ایتوار کی رات ہوئی اس پارٹی میں جانے مانے خاندانوں کی 59 لڑکیوں سمیت تقریباً290 لڑکے شامل ہوئے۔ سبھی کو میڈیکل جانچ کے بعد جانے دیاگیا۔ رپورٹ آنے کے بعد پولیس ان لوگوں پر کارروائی شروع کرے گی جنہوں نے منشیات لیں تھیں۔ پولیس نے ایتوار کی دیر رات کھالاپور کے ہوٹل ماؤنٹ آبو میں ہورہی اس پارٹی میں چھاپہ مار کر یہاں سے گانجھا، چرس اور کوکن کے علاوہ 3.8 لاکھ روپے نقد بھی برآمد کئے۔پچھلے دنوں گجرات میں بھی ایک ایسی ہی ریو پارٹی کو پولیس نے پکڑا تھا۔ دونوں جگہ ایک بات خاص ہے کہ شراب، کال گرلز اور بے سدھ ہوکر ناچتے اور شراب اور ڈرگس لیتے ہوئے نوجوانوں کو پکڑا گیا اور یہی عالم ہوتا ہے تقریباً ہر ریو پارٹیوں کا۔ ان دونوں پارٹیوں میں فرق تھا تو بس یہ ہی کہ ایک گجرات کی پارٹی میں گرفتار ملزمان کا تعلق ریاست کے نامی گرامی لوگوں سے ہے۔ اس لئے ان کے نام اجاگر نہیں کئے گئے۔ جبکہ ممبئی کی پارٹی میں پکڑے گئے زیادہ تر لڑکے تھے اور ان کی عمر ایسی دہلیز پر ہے جہاں ان کے بہکنے کے پورے امکانات ہوتے ہیں۔کل ملاکر ہر عمر ، ہر درجے، ہر طبقے کے لوگ اس کے شکار ہورہے ہیں۔ مجھے کوئی تعجب نہیں ہوگا اگر جلدی ہی یہ سننے کو ملے کہ والدایک ریو پالس میں پکڑا گیا، بیوی دوسری میں اور بیٹا بیٹی تیسری ریو پارٹی میں پکڑے جائیں۔ ہم بے وجہ ہی کہتے ہیں کہ دیش میں نوکریوں کی کمی ہے۔ دیکھئے کتنی نوکریاں بکھری پڑی ہیں۔ ایک طرف تو غریبی کے سبب لوگ خودکشی کرنے پر مجبور ہیں تو دوسری جانب یہ لوگ لاکھوں روپے ان پارٹیوں میں شراب، ڈرگس میں اڑا رہے ہیں۔ دیش میں بیشک بھکمری ہو لیکن ایسی پارٹیوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ نوجوان پیڑھی کو تو کھانے کی کمی نہیں وہ تو پی کر ہی نشہ کرکے کام چلا رہے ہیں۔ ریو پارٹی ایسے عیاش لوگوں کا جمگھٹ ہے جہاں شراب پینے ،کھلے بند ناچنے، ڈرگس کی ہی زندگی گذارنے لگے ہیں ان سے تو بات کرنا بھی بیکار ہے کیونکہ وہ پوچھتے ہی کہہ دیں گے کہ آپ جیسے پرانی دقیانوسی باتیں کیوں کررہے ہیں۔ ویسے بھی مغربی کلچر کا اتنا اثر آج دیش کے نوجوانوں پر چھاگیا ہے کہ وہ والدین کی ہر بات کی مخالفت کرنا اپنا پیدائشی حق مانتے ہیں۔ ویسے ایسے والدین کی بھی کمی نہیں جنہیں خود سوشلائزنگ سے فرصت نہیں۔ انہیں اس کی پرواہ نہیں کہ ان کے بچے کیا کررہے ہیں، کہاں جارہے ہیں، کب آرہے ہیں، سبھی خود کی زندگی اپنے انداز میں جینا چاہتے ہیں۔ بڑے بوڑھوں کی عزت کرنے کے دن لدھ گئے ہیں۔ سوشلائزنگ کی خاطر آج درمیانے طبقے کی لڑکیوں کو ان کے لئے اپنا اسٹیٹس بنائے رکھنا ، اپنی عزت بحال رکھنے سے زیادہ اہم ہے کے ایسی پارٹی میں اپنی حدیں توڑنا اتنا ہی آسان ہے جتنی آسانی سے وہ اپنے ماں باپ کا بھروسہ گنوا دیتے ہیں۔ انہیں تو اپنے پاپا کا جنم دن یاد رہے گا نہ ماں باپ کی شادی کی سالگرہ، انہیں کہاں کب ریو پارٹی ہو رہی ہے یہ ضرور یاد رہے گا۔ آج کل فیس بک آگیا ہے اس میں بندے بندیوں کی سب تفصیلات مل جاتی ہیں اور ایک دوسرے سے فون پر رابطہ کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔انہی کمیونٹی سائٹوں سے فون نمبر ایکسچینج ہوتے ہیں۔ جگہ طے ہوتی ہیں۔ لڑکے آپس میں ملنے کیلئے برقرار رہتے ہیں۔ ہم بیکار ہی کہتے ہیں کہ لوگوں کے پاس وقت نہیں، ایک دوسرے کیلئے یا لوگ اب سوشل نہیں رہے، لیکن ان ریو پارٹیوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ لڑکے تو پہلے سے کہیں زیادہ سوشل ہوگئے ہیں۔ اب وہ سماج کے پرانے اصولوں کو توڑ کر اپنا نیا راستہ ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جسم فروشی کے کاروبار کے بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان ریو پارٹیوں میں اتنا فری سیکس ملتا ہے کہ اس کے بعد سیکس کا چسکا لگ جاتا ہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم کا ٹوٹنا کئی معاملوں میں خطرناک ثابت ہورہا ہے۔ پہلے گھر کے بڑے بوڑھے جو کہتے تھے بچوں کو ماننا پڑتا تھا اور تہذیب کے دائرے میں رہنا پڑتا تھا۔ بچوں کو بوڑھے بڑے اچھے سنسکار دیتے تھے، ان پر کڑی نظر رکھتے تھے لیکن اب یہ سب ختم ہوتا جارہاہے۔ پیسوں کے لالچ اور مغربی کلچر نے یہ سب توڑ دیا ہے اور مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ ایسا ہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب سماج کی تباہی انتہا پر ہوگی، شادی، رشتے اور سماجیت جیسی باتیں صرف قصے کہانیاں ہی بن کر رہ جائیں گی۔ جسم فروشی ، نشہ خوری اور بڑھتا جرائم عام بات ہوجائے گی۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Maharashtra, Mumbai, Rev Party, Vir Arjun

بھاجپا کے اسمبلی ضمنی چناؤ میں کامیابی کے اسباب


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 1st July 2011
انل نریندر
دو ریاستوں میں ہوئے اسمبلی ضمنی چناؤ میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے دونوں سیٹوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ مدھیہ پردیش کی جبیڑا سیٹ پر بھاجپا کے امیدوار دشرت لودھی نے کانگریس کی ڈاکٹر تانیہ سالومن کو 11738 ووٹوں کے فرق سے ہرایا۔ بھاجپا نے یہ سیٹ کانگریس سے چھینی ہے۔ ادھر بہار میں پورنیہ صدر سیٹ پر بھاجپا کی کرن کیسری نے کانگریس کے رام چرتر یادو کو23665 ووٹوں سے ہرایا۔ اس سیٹ پر بھاجپا کا قبضہ برقرار ہے۔ان شاندار کامیابیوں سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کانگریس کی ساکھ اور حالت اتنی خراب ہوگئی ہے اس کی ایک اور اہم وجہ ہے کے ان ریاستوں میں طاقتور لیڈر شپ بھاجپا حکمراں ریاستوں میں اچھی ساکھ کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ وہاں پارٹی کے لیڈر کی ساکھ صاف ستھری اور ایماندارانہ اور جنتا کے تئیں حساس اور افسرشاہی پر کنٹرول و صحیح ترجیحات کو رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ نیتا پروگراموں کو اپنے پاس رکھیں اور اقتدار میں ان سے سانجھے دار کریں۔ مجھے بی جے پی کے وفادار اور ہارڈ کور ورکر نے ایک پتے کی بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا اور کانگریس میں ایک بڑا بنیادی فرق کیا ہے؟ کانگریس جب اقتدار میں آتی ہے تو وہ ستہ کا سکھ اور فائدہ، انعام اپنے ورکروں سے بانٹتی ہے ۔ یعنی ورکر کو اقتدار کا فائدہ ملتا ہے۔ دوسری طرف بھاجپا نیتا چناؤ سے پہلے تو ورکروں کو بھائی ، باپ بنا لیتے ہیں اور چناؤ جیتنے کے بعد جب اقتدار کا فائدہ بانٹنے کی باری آتی ہے تو وہ اپنے ایئر کنڈیشننگ روم میں بند ہوکر رہ جاتے ہیں، ورکر ان کے پاس دفتر میں گھس بھی نہیں سکتا۔ وہ اقتدار کا فائدہ ، اقتدار کا سکھ اور پرساد خود ہی بھوگنا چاہتے ہیں، ورکروں سے بانٹنے کو تیار نہیں ہوتے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اگلے چناؤ میں وہ ورکر گھر پر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہماری بلا سے یہ جیتے یا ہارے ہمیں کیا لینا دینا ہے؟ دوسری جانب کانگریس ورکر اگلے چناؤ میں پورا دم خم لگا دیتا ہے۔ اس لئے کیونکہ اپنے نیتا کو جتانے میں اس کا مفاد وابستہ ہوتا ہے۔ جب تک بھاجپا مرکزی لیڈر شپ کو یہ معمولی سی بات سمجھ میں نہیں آتی وہ شاید ہی اقتدار میں آسکے۔ اگر مدھیہ پردیش ، بہار یا گجرات میں بھاجپا کو اتنی کامیابی مل رہی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ وہاں پارٹی کے وزیر اعلی ہیں۔ عام ورکر اپنے آپ کو اپنے نیتا سے شناخت بیان کرتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ اس کا کوئی بھی مسئلہ ہو گا یا اس کا کوئی کام ہوگا تو وہ اپنے نیتا پر بھروسہ کر سکتا ہے۔ کانگریس میں کچھ نیتا چاہے جتنی بھی برعکس ہوا ہو ، چناؤ جیت جاتے ہیں کیونکہ ان کے ورکر انہیں جتانے کے لئے دن رات ایک کردیتے ہیں۔
آج بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی لیڈر شپ میں اتنی گروپ بندی ہے کہ پردھان منتری بننے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ انہیں سوائے اپنا جوڑ توڑ کرنے کے کسی کی فرصت نہیں ہے۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا، نمبر گھٹانے کے کھیل میں یہ دن رات لگے ہوئے ہیں۔ یہ بات میں اکیلا نہیں کہہ رہا خود پارٹی کے سرکردہ لیڈر لال کرشن اڈوانی نے حال ہی میں کہی ہے۔ سابق نائب وزیر اعظم اور بھاجپا پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین لال کرشن اڈوانی فرماتے ہیں کہ ایمانداری کے معاملے میں پارٹی کی ساکھ گری ہے۔ انہوں نے کہا پارٹی میں اب گروپ بندی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سے بھاجپا کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ بھاجپا کے اندرونی ذرائع کے مطابق اڈوانی نے دہلی میونسپل کارپوریشن کے بھاجپاکونسلروں کے لئے دہلی کے چھتر پور مندر میں منعقدہ ٹریننگ کیمپ کے افتتاحی اجلاس میں کہا کہ پارٹی کی کارپوریشن کے کاموں میں تو کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے ۔ ایمانداری کے معاملے میں پارٹی کی ساکھ گری ہے۔ اس معاملے میں انہوں نے احمد آباد میونسپل کارپوریشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ایمانداری سے کام ہورہا ہے۔ انہوں نے دہلی پردیش بھاجپا میں پہلے بھی گروپ بندی تھی اور اب بھی یہ گروپ بازی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے صاف کہا کہ پارٹی کی ساکھ گرانے کے لئے خود پارٹی کے کچھ لیڈر ہی ذمہ دار ہیں۔ اڈوانی جی نے بیشک یہ باتیں دہلی پردیش بھاجپا کے لیڈروں کے لئے کہی ہوں لیکن اشاروں اشاروں میں وہ ایک تیر سے کئی شکار کر گئے ہیں۔ آج کی ضرورت یہ ہے کہ بھاجپا کی مرکزی لیڈر شپ کو دوسری لائن کے لیڈر پردھان منتری بننے کا خواب چھوڑیں اور بھاجپا ایسے شخص کو وزیر اعظم کے طور پر سامنے لائے جو پوری پارٹی کو ساتھ لیکر چل سکے۔ موجودہ لیڈر شپ میں تو مجھے ایسے تین متبادل نظر آتے ہیں جنہیں تجربہ ہے ،جو ایماندار ساکھ کے ہیں جو پارٹی ورکروں کو ساتھ لیکر چل سکتے ہیں۔ ان میں غرور اتنا نہیں آیا ہے کہ وہ اپنی زمین ہی بھول جائیں یہ ہیں شری لال کرشن اڈوانی، شری مرلی منوہر جوشی اور شری نریندر مودی۔
Tags: Anil Narendra, Bihar, BJP, Daily Pratap, L K Advani, Madhya Pradesh, Murli Manohar Joshi, Narender Modi, Vir Arjun

30 جون 2011

بابا رام دیو پر چوطرفہ دباؤ بنانے کی کوشش


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
30 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
 منموہن سرکار نے بابا رام دیو کو سبق سکھانے کیلئے سبھی ہتھکنڈوں کا استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ سام دام، ڈنڈ بھید سبھی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ جیسا کہ حکومت نے کہا تھا ویسا ہی کرنا شروع کردیا ہے۔ ادھر بابا کی املاک کی جانچ شروع کردی ہے تو ادھر بال کرشن کے خلاف پاسپورٹ معاملے میں چھان بین شروع ہوگئی ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اسکاٹ لینڈ میں بابا رام دیو اور ان کے اداروں کی املاک اور سرمائے کی جانچ شروع کردی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع نے بتایا کہ اس بات کی جانچ کی جارہی ہے کہ کہیں ان کے سرمائے اور پیسے کے لین دین سے غیر ملکی دولت ریگولیٹری قانونوں کی خلاف ورزی تو نہیں ہورہی ہے۔ ای ڈی کی نظر اسکاٹ لینڈ کے اس جزیرے پر بھی ہے جو یوگ گورو کے ایک کٹر حمایتی جوڑے نے اسے تحفے میں دیا تھا۔ ’’دی لٹل کوبیر آئی لینڈ‘‘نامی جزیرے کو بابا رام دیو کے بیرونی ملک میں واقع ٹھکانوں اور فلاحی کیندر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پوری جانچ بابا رام دیو کی طرف سے بنائے گئے ٹرسٹوں میں پیسے کی آمد اور لین دین پر ٹکی ہوئی ہے ان میں پتنجلی یوگ ٹرسٹ ، یوگ پیٹھ ٹرسٹ، دویہ یوگ مندر ٹرسٹ اور بھارت سوابھیمان ٹرسٹ شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ جانچ کے دوران اگر ای ڈی کو کسی طرح کی گڑ بڑ ملی تو وہ فیما یعنی پروینشن آف منی لانڈرن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرسکتا ہے۔بتایا جارہا ہے کہ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے یہ جانچ الگ الگ سرکاری ذراعوں سے ملے دستاویزات اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی جارہی ہے۔
ادھر بابا کے ٹرسٹوں و املاک کی جانچ ہورہی ہے تو ادھر ان کے ساتھی سوامی بال کرشن کے پاسپورٹ کی جانچ کررہی سی بی آئی بٹیلی پاسپورٹ دفتر سے وابستہ اور لوکل انٹیلی جنس یونٹ (ایل آئی یو) کے افسروں سے پوچھ تاچھ کررہی ہے۔ بال کرشن کا پاسپورٹ بٹیلی پاسپورٹ دفتر سے بنا ہوا ہے اس لئے سی بی آئی نے جس میعاد میں پاسپورٹ جاری کیاگیا اس وقت پاسپورٹ دفتر میں تعینات افسران اور ملازمین کی جانکاری مانگی ہے۔سی بی آئی نے اسی طرح بٹیلی ایل آئی یو دفتر میں تعینات افسروں اور ملازمین کی جانکاری طلب کی ہے کیونکہ پاسپورٹ کے درخواست فارم کی جانچ ایل آئی یو برانچ کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ایل آئی یو یہ جانچ کرتی ہے کہ درخواست دہندہ کے ذریعے دی گئی اطلاعات صحیح ہیں یا نہیں؟ وہ ہندوستانی شہری ہے یا نہیں اس کے خلاف کوئی مجرمانہ معاملہ تو نہیں؟ اس کی بول چال اور ساکھ وغیرہ کیسی ہے؟ ایل آئی یو نے بال کرشن کی درخواست فارم پر کیسے تصدیق کی ہے۔ سی بی آئی اس کے لئے ذمہ دار ایل آئی یو ملازمین کو نشان زد کر ان کے خلاف کارروائی کی توثیق کرے گی۔ اسی طرح پاسپورٹ ملازمین سے بھی پوچھا جانا ہے کہ انہوں نے کس بنیاد پر بال کرشن کے حق میں پاسپورٹ جاری کیا۔ اس کے لئے سی بی آئی دونوں ہی محکموں کے لوگوں کو نوٹس بھیجنے کی تیاری کررہی ہے۔ سرکار ہر طرح کا دباؤ بنانے میں جٹ گئی ہے تاکہ بابا رام دیو لائن پر آجائیں لیکن جو تیور
بابا نے دو دن پہلے دہلی دورے میں دکھائے اس سے تو نہیں لگتا کہ بابا کسی بھی دباؤ میں آنے والے ہیں۔
Tags: Anil Narendra, Baba Ram Dev, Bal Krishan, Congress, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, Ram Lila Maidan, Vir Arjun

جے ڈے قتل کے پیچھے چھوٹا راجن کا مقصد کیا تھا؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
30 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ممبئی پولیس نے دعوی کیا ہے مڈڈے کے سینئر صحافی جوترمے ڈے کو اندر ورلڈ چھوٹا راجن کے کہنے پر مارا گیا ہے۔ ڈے کے قتل میں مبینہ طور سے شامل 7 لوگوں کو دیش کے الگ الگ حصوں سے گرفتار کرکے پیر کے روز ممبئی کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ عدالت نے سبھی ملزمان کو4 جولائی تک پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔ ممبئی پولیس کمشنراروپ بھٹناگر اور کرائم برانچ کے چیف ہیمانشو رائے نے پیر کے روز ایک جوائنٹ پریس کانفرنس میں ڈے کے قتل کی گتھی سلجھالینے کا دعوی کیا ۔ رائے کے مطابق چھوٹا راجن نے اس قتل کے لئے ممبئی کے خطرنا ک چارج شوٹر روہت کنگ پن جوزف عرف ستیش کالیا کو 2 لاکھ روپے کی سپاری دی تھی۔ کالیا نے پولیس کو بتایا ہے کہ قتل تک اسے یہ پتہ نہیں تھا کہ مارا جانے والا شخص ایک صحافی ہے۔ڈے کے صحافی ہونے کی جانکاری کالیا کو نیوز چینلوں سے ملی، جس کے بعد راجن کی طرف سے اسے3 لاکھ روپے اور دلائے گئے۔ پولیس کے مطابق کالیا کو چھوٹا راجن نے قتل کے دن یعنی11 جون سے 20 دن پہلے تک ایک شخص کو مارنے کے لئے کہا تھا۔ اس شخص کی موٹر سائیکل کا نمبر اور اس کے ملنے کے دو ٹھکانوں کے بارے میں بھی چھوٹا راجن نے بتایا۔ سپاری لینے کے بعد کالیا نے اپنے ساتھی نلیش شیڈوسے رابطہ قائم کیا۔نلیش نے اس کے بعد اس قتل میں شامل پانچ افراد کو جس میں تھے ارون ڈاکے، سچن گائیکوار، ابھیجیت شنڈے اور منگیش کو اپنے ساتھ لیا۔ ڈے کے قتل میں استعمال ہتھیار 32 بور کا ریوالور اور چیکوسلواکیہ کی بنی گولیاں ان لوگوں کو اتراکھنڈ کے کاٹ گودام میں ہی دی گئیں۔ قتل سے پہلے حملہ آوروں سے ممبئی کے لوور پریل میں اس علاقے کی پہچان کی جہاں مڈڈے کا دفتر ہے۔ یہ لوگ پہلے ڈے کو لوور پریل علاقے میں ہی مارنا چاہتے تھے لیکن یہ علاقہ بھیڑ بھرا ہونے کی وجہ سے بعد میں قتل کی اسکیم کو پوئی میں منتقل کردیا گیا۔ حملہ آوروں نے اس پورے معاملے کو انجام دینے کے لئے چار ٹیمیں بنائیں اور اس کے لئے تین موٹر سائیکلوں اور ایک کوالس گاڑی کا استعمال کیا۔ پولیس کے مطابق ان حملہ آوروں نے 9 اور 10 جون کو بھی ڈے پر گھات لگانے کی کوشش کی تھی لیکن قتل کا صحیح وقت اور دن انہیں11 جون کو ہی مل گیا۔ کالیا نے پولیس کو بتایا کہ ڈے کے جسم پر پانچ گولیاں اس نے موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے داغیں۔ قتل کے بعد سارے حملہ آور ممبئی سے جوگیشوری علاقے میں اکٹھا ہوئے اور وہیں انہیں یہ پتہ چلا کہ مارا گیا شخص ممبئی کا نامی گرامی صحافی ڈے ہے۔ پولیس نے قتل میں استعمال کی گئی گاڑیاں ، ریوالور اور کچھ گولیاں بھی ان کے پاس سے برآمد کرلی ہیں۔ مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے ڈے کے قتل میں مبینہ طور سے ملوث لوگوں کو گرفتار کرنے والی کرائم برانچ کی ٹیم کو 10 لاکھ روپے کا انعام دینے کا اعلان کیاہے۔
بیشک ممبئی پولیس نے قتل کی گتھی سلجھانے کا دعوی کیا ہے لیکن کچھ اہم سوالوں کا جواب ابھی تک نہیں مل پایا ہے۔ سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ ہر قتل کے پیچھے موٹو یعنی مقصد ضروری ہوتا ہے۔ چھوٹا راجن نے اگر یہ قتل کروایا تو اس کا جے ڈے کو مارنے کا مقصد کیا تھا۔ یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ قاتلوں کو ریوالور کی گولیاں لینے کے لئے اتراکھنڈ کے کاٹ گودام کیوں جانا پڑا؟ ممبئی میں بھی تو گولیاں بڑی آسانی سے دستیاب ہیں؟ قتل میں شامل پانچ لوگوں میں سے تین ممبئی سے واردات کے بعد بھاگ گئے تھے جبکہ دو ممبئی میں ہی رک گئے کیوں؟ چھوٹا راجن کا اپنا گروہ ہے اور ایک بہت موثر قاتلوں کی ٹیم ، پھر اس نے جے ڈے کے قتل کو آؤٹ سورسز کیوں کیا؟ اسے بھاڑے کے قاتلوں کو لینے کی کیا ضرورت پڑ گئی؟یہ بھی کم تعجب نہیں کہ ستیش کالیا کو یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کسے مارنے جارہا ہے۔ جب انہوں نے مڈ ڈے کے دفتر کا جائزہ لیا تب تو انہیں یہ پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ جسے وہ مارنا جارہے ہیں وہ ایک صحافی ہوسکتا ہے جو مڈ ڈے سے وابستہہوسکتا ہے۔ خود اگر جے ڈے زندہ ہوتے تو انہیں یہ پولیس کی کہانی بتاتے تو وہ اس پر یقین نہ کرتے۔ جے ڈے کے قتل کو لیکر کئی طرح کی بحث سامنے آئی ہے۔ ان میں سے ڈے کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش بھی ہوئی، یہ خیال سامنے آیا کہ جے ڈے انڈرورلڈ گروہ کے قریب پہنچ گئے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے کہیں پر لکشمن ریکھا پار کرلی ہو۔ حالانکہ جو لوگ سالوں سے پیشہ ور کی حیثیت سے جے ڈے کو جانتے ہیں، وہ اس خیال کو ماننے سے صاف طور پر انکار کرتے ہیں۔ ڈے بھلے ہی انڈرورلڈ گروہ سے رابطے میں تھے لیکن خبر سے زیادہ ان کے لئے کچھ نہیں تھا۔ وہ اپنی لکشمن ریکھا نہیں پار کرسکتے ۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ڈے کو جاننے والے ایک صحافی کا کہنا ہے ڈے سبھی انڈرورلڈ گینگ کے گینگسٹروں کو جانتے تھے۔ حقیقت میں ممبئی کے وہ ایک ایسے صحافی تھے جن کی پہنچ سبھی گینگسٹروں تک تھی۔ لیکن انہوں نے کبھی بھی اپنے پیشے کے اصولوں کی خلاف ورزی نہیں کی۔ ساتھی صحافیوں نے پایا ڈے بہت ہی شیریں زبان کے تھے۔ یہ مستقبل کی پیڑھی ہیں۔ اگر انہیں اس عمر میں مناسب مشعل راہ ملی تو وہ آگے جا کر اچھے جرنلسٹ بن سکتے ہیں۔ ممبئی پولیس نے پیر کو دعوی کیا کہ گینگسٹر چھوٹا راجن نے ڈے کے قتل کی سپاری دی تھی۔ یہ ڈے کے کئی قریبی دوستوں کے لئے بہت بڑا تعجب ہے۔ گذرے برسوں میں کئی موقعوں پر ڈے نے راجن سے سیدھی بات چیت کی ہے۔ ہمیشہ سے اس نے لکشمن ریکھا کا خیال رکھا ہے۔ حقیقت میں اگر وہ زندہ ہوتے اور انہیں بتایا جاتا کہ راجن نے انہیں مارنے کی سازش رچی ہے تو وہ ہنس کر ٹال جاتے۔ وہ کہتے میں بہت چھوٹا آدمی ہوں ، راجن مجھے کیوں مارے گا؟  
Tags: Anil Narendra, Chhota Rajan, Daily Pratap, Dawood Ibrahim, J Dey, Mumbai, Vir Arjun

29 جون 2011

جاسوسی، فون ٹیپنگ اور سٹنگ آپریشن سرکار کیلئے عام ہے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
29جون 2011 کو شائع
انل نریندر
 وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے دفتر میں مبینہ جاسوسی کے معاملے کو سرکار اور کانگریس بھلے ہی دبانے کی کوشش کررہی ہو لیکن کانگریس اور حکومت کے مختار بنے سپر ترجمان دگوجے سنگھ نے اس معاملے کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ پرنب مکھرجی اور وزیر اطلاعات و نشریات امبیکا سونی کے بیانات سے متفق نہ ہوتے ہوئے دگوجے سنگھ نے کہا کہ وہ رپورٹ سے حیرت زدہ ہیں اور کہا کہ اس معاملے کی جانچ ہونی چاہئے۔ اندر خانے جانچ شروع بھی ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں انٹیلی جنس بیورو نے سی بی ڈی ٹی کے سابق سربراہ سدھیرچندرا سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیر ادخلہ پی چدمبرم کا وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے دفتر میں جاسوسی کے واقعہ کو کچھ خاص نہ بتانا آزاد بھارت کا سب سے بڑا مذاق ہے اور پارٹی نے وزیر خزانہ کے وزیر اعظم کو لکھے خط کو عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انٹیلی جنس بیورو کے حکام نے گذشتہ جمعرات کو چندرا سے پوچھا کہ وزارت مالیات میں جاسوسی کے معاملے میں معائنہ کرنے کے لئے آئی بی کو مطلع کرنے سے پہلے نجی جاسوسوں کو کیوں بلایا گیا؟ اس بارے میں آئی بی حکام میں وزارت مالیات نے ان متنازعہ عناصر کو ہٹانے کا کام کرنے والی نجی خفیہ ایجنسی کا نام پتہ لگانے کے لئے بھی جانچ شروع کردی ہے۔ بھاجپا کے ترجمان نے دعوی کیا کہ مکھرجی کو اپنے دفتر میں جاسوسی کا شبہ تھا۔ انہوں نے اس مسئلے پر وزیر اعظم کو خط لکھا تھا۔ بھاجپا چاہتی ہے کہ اس خط کو عام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نارتھ بلاک چدمبرم یا کسی کی ذاتی املاک نہیں ہے۔
موصولہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ پرنب مکھرجی ہی نہیں سکیورٹی اور جانچ ایجنسیوں کے راڈار پر ایک مرکزی وزیر بھی تھے۔اور قریب 30 گھنٹے تک ان کا فون ٹیپ ہوا ہے۔ اتنا ہی نہیں اتر پردیش سرکار میں مایاوتی کے قریبی اور رسوخ دار ایک افسر شاہ کا اسٹنگ آپریشن بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اتنا ہی نہیں سینٹرل بورڈ آف اکسائز اینڈ کسٹم (سی بی ای سی) کے چیئرمین نے بھی اپنا فون ٹیپ کئے جانے کا الزام لگایا ہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ سی بی ای سی نے چیئرمین این مجمدار پچھلے سال سی بی ای سی کا چیئرمین بننے کے بڑے دعویداروں میں تھے۔ تب ڈی آر آئی (ڈائریکٹوریٹ آف ریوینیو انٹیلی جنس) کے افسروں نے ان کا اور ان کے آسام میں رہنے والے دوست اور کولکاتہ میں رہنے والی بہن کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے کا حکم دیا تھا۔ بتاتے ہیں کہ فون ٹیپنگ کے ٹھوس امکانات کو دیکھتے ہوئے مجمدار نے اس معاملے کو ڈی آر آئی کے سامنے اٹھایا ہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ ایک مرکزی وزیر بھی خفیہ ایجنسیوں کی نگرانی میں تھے۔ تقریباً30 گھنٹے سے زیادہ وقت تک ان کا فون ٹیپ ہونے کی اطلاع ہے۔ اس بارے میں خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ایجنسیاں ضرورت پڑنے پر سرکار کی اجازت کے بعد لوگوں کی بات چیت وغیرہ پر نگرانی رکھتی ہیں۔ حالانکہ یہ نگرانی کا عمل اتنا آسان نہیں ہے۔ لیکن پرنب مکھرجی کے دفتر کو نگرانی کے دائرے میں لانے کی بات پوچھنے پر وہ خاموشی اختیارکرلیتے ہیں۔ یہاں تک وزارت داخلہ کے افسر بھی اس معاملے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ سابق سینئر افسر ضرور اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ پرنب دا کے دفتر میں نگرانی کا کام ہوا ہے۔ سرکار بیشک چھپانے کی کوشش کرے لیکن سچ باہر نکل ہی آئے گا۔
 Tags: Anil Narendra, CBDT, Congress, Daily Pratap, DRI, P. Chidambaram, Phone Taping, Pranab Mukherjee, Vir Arjun

منموہن سرکار کو لقوہ مار گیا ہے،وزارتوں میں ہوا کام ٹھپ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
29جون 2011 کو شائع
انل نریندر
چونکانے والی خبر ہے کہ بھارت سرکار ٹھپ پڑی ہوئی ہے۔ ایک سابق وزیر کے ساتھ دوممبرپارلیمنٹ اور کئی سینئر کارپوریٹ منتظم اور سینئر نوکرشاہ بدعنوانی کے معاملے میں جیل کی ہوا کھا رہے ہیں اور سی بی آئی ان کے خلاف پوری مستعدی سے مقدمہ چلا رہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق مرکز کے سینئر نوکر شاہ پھنسنے کے ڈر سے فیصلہ لینے سے بچ رہے ہیں۔ جس سے کچھ اہم مسئلوں پر فیصلہ لینے کی کارروائی ٹھپ پڑ گئی ہے اور منموہن سنگھ سرکار کو جیسے لقوہ مار گیا ہو۔ افسر شاہوں نے اہم پالیسی مقرر کرنے سے بچنے کیلئے فائلوں کو ویسے کے ویسے ہی رکھا ہوا ہے۔ برعکس کارروائی کے ڈر سے ایک نگراں کا رویہ اپنا رکھا ہے۔ سدھارتھ بوہیرا چھ ماہ سے زیادہ وقت سے راجا کے ساتھ جیل میں پڑے رہنے کے سبب فیصلے اور مشکل ہورہے ہیں۔ ایک سینئر سرکاری خادم دفاعی رویہ اپناتے ہوئے اس ڈر سے کوئی بھی فیصلہ لینے سے بچ رہے ہیں کہ ان کے فیصلہ لینے کے پیچھے کوئی بھی مقصد پوشیدہ ہوسکتا ہے۔ او ر انہیں سی بی آئی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وہ اس بات سے خدشے میں ہیں کہ ان سے زبردستی فیصلہ کروایا جاسکتا ہے۔ کئی عوامی خادم فیصلہ لینے کی جگہ پر صرف نوٹنگ لکھ رہے ہیں۔ اب وہ اپنے وزیر کے ذریعے شخصی طور سے یا اپنے ذاتی معاونین کی معرفت جاری زبانی حکم کو قبول کرنے سے انکارکررہے ہیں۔ سکریٹریوں کی کمیٹیوں میں بھی فیصلہ لینے کے عمل کو پورا نہیں کیا جاتا اور کسی طرح کا فیصلہ لینے سے بچا جاتا ہے یا پھر اسے وزرا پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عدلیہ نے عوامی خادمین کو صاف پیغام بھیجا ہے کہ وہ لیڈروں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی نہ بنے اور ایمانداری و آزادانہ طریقے سے فیصلے لیں اور فائلوں پر ایمانداری سے اپنی رائے کو درج کریں۔ کیبنٹ وزیر بھی ایسا فیصلہ لینے سے بچ رہے ہیں جو تنازعہ کھڑا کرے۔ سینئر افسر شاہوں نے حالیہ دنوں میں غور کیا ہے کہ کیبنٹ وزیر بھی چوکس ہوگئے ہیں اور ذمہ داری لینے سے بچ رہے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں وزارت صنعت میں ایک متنازعہ پرپوزل کچھ جونیئر افسروں کے ذریعے لایا گیا۔ اسے منتری جی کے دفتر میں پہنچایا گیا لیکن سکریٹریوں کے ذریعے فائل نوٹنگ میں تنقیدی اشوز کو اٹھانے کے بعد اسے روک دیا گیا۔ اس تجویز کے پیچھے موجودہ ذاتی فائدہ حاصل کرنے والوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ کسی بھی شخص کو اس معاملے میں مدد جاری رکھنے کی ہمت نہ ہوگی۔ وہ بڑا گھوٹالہ ہوسکتا تھا لیکن جو اس گھوٹالے کو دبانے کی کوشش کررہے تھے وہ اب تہاڑ میں جانے سے ڈر رہے ہیں۔ قریب دو درجن آئی اے ایس افسروں نے ایک سابق کیبنٹ سکریٹری سے تفصیلی ملاقات کی۔ سابق کیبنٹ سکریٹری نے افسران کو سبھی حقائق فائلوں پر لکھنے اور اپنے ہاتھ بے داغ رکھنے کی صلاح دی۔ اب ایک بار پھر نوکرشاہوں کے اونچے طبقے سے انتظامی اصلاحات جس میں سینئر افسر شاہوں کیلئے مقرر دفتر کی مانگ اٹھ رہی ہے۔ تاکہ وہ سیاسی دھرندروں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بننے کے بجائے آزادانہ طور پر فیصلے لے سکیں۔ وہ سب سے بڑی عدلیہ ہے جس نے سیاستدانوں اور افسر شاہوں کو اشارہ بھیجا ہے کہ ایمانداری سے کام کریں ورنہ کسی بھی شخص کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ یہ حکمراں سیاستدانوں اور سینئر افسر شاہوں کے درمیان سانٹھ گانٹھ توڑ سکتا ہے۔ 
Tags: 2G, Anil Narendra, CBI, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, Politician, Vir Arjun

28 جون 2011

پٹو پارتھی ستیہ سائیں بابا کا خزانہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

28جون 2011 کو شائع
انل نریندر
آندھرا پردیش کے اننت پور ضلع میں پولیس نے ایک گاڑی سے 35 لاکھ روپے نقدی برآمد کئے ہیں۔ اس کے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ مانا جارہا ہے کہ یہ رقم ستیہ سائیں بابا سینٹرل ٹرسٹ کی تھی اور چوری سے باہر بھجوائی جارہی تھی۔ اس سے پہلے جب ستیہ سائیں بابا کا ذاتی کمرہ کھولا گیا تو وہاں سے نکلے خزانے نے سبھی کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ستیہ سائیں بابا کے ذاتی کمرے سے98 کلو سونا، 307 کلو چاندی اور 11.5 کروڑ روپے نقدی ملی تھی۔ پٹو پارتھی کے ستیہ سائیں بابا جب زندہ تھے تو ہوا میں ہاتھ گھما کر سونے چاندی کے زیورات، ہاتھ گھڑی اور دیگر قیمتی سامان لوگوں کو دکھا نے کی معجزاتی کہانیاں موضوع بحث ہوتی تھیں۔ لیکن کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کی موت کے بعداس پر اسرار طریقے سے اتنی بڑی دولت نکلے گی۔کمرے سے نکلی دولت کی کل مالیت اربوں روپے کی مانی گئی ہے۔ یہ اندازاً 40 ہزار کروڑ کے ساتھ سائیں کی منقولہ املاک میں اتنا پیسہ ویسے تو کچھ بھی نہیں ہے لیکن لوگوں کو ان کی مایا نگری کے ایک کمرے میں کبیر کے ایسے خزانے کا ’’دیدار ‘‘ ممکنہ طور پر پہلی بار ہوا ہوگا۔ دیش میں کالی کمائی اور بدعنوانی کے خلاف بنے موجودہ ماحول میں اتنا ہی پیسہ اگر کسی نوکر شاہ یا نیتا کے پاس مل جاتا تو شاید طوفان کھڑا ہوجاتا۔ اور اسے کالی کمائی کی تشبیہ دی جاتی لیکن دھرم گوروؤں اور باباؤں کی پناہ میں پہنچ جانے پر جیسے انسانوں کے پاپ دھل جانے کی روایت ہے ویسے ہی شاید پیسے کا کالا رنگ بھی دھل جاتا ہوگا۔ 28 مارچ کو جب ستیہ سائیں بابا کو ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا تھا تو اس کمرے کو بند کردیا گیا تھا۔ تب سے اس کمرے کا معمہ جاننے کی بے چینی لوگوں میں تھی لیکن شاید یہ تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ ان کے آرام کرنے والے ذاتی کمرے میں اتنا پیسہ چھپا ہوگا۔ اس لئے ان کی موت کے 57 دن بعد جمعرات کی صبح جب ان کے اس پر اسرار کمرے کو کھولا گیا تو دیکھنے والوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ستیہ سائیں بابا جب زندہ تھے تو اس کمرے میں جھانکنے کی کسی کو اجازت نہیں تھی اس لئے ان کے بیحد قریبی کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ستیہ سائیں بابا نوٹوں ،سونے چاندی ، ہیرے جواہرات کے درمیان نیند لیتے تھے۔ آندھرا پردیش کی حکومت کے لئے اب یہ مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے کہ اس پیسے کا کیا کیا جائے؟ستیہ سائیں بابا نے اپنی کوئی وصیت نہیں لکھی، جو ادارے چل رہے ہیں وہ تو ویسے ہی چلتے رہیں گے لیکن اس نقدی ، سونے وغیرہ کا جھگڑا ضرور کھڑا ہوگیا ہے۔
حکومت ہند کے انکم ٹیکس محکمے نے ایک خفیہ رپورٹ تیار کی ہے جس کے مطابق بڑی تعداد میں ٹرسٹ اور ادارے انکم ٹیکس چھوٹ قانون کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بہت سے ٹرسٹ مذہبی اور فلاحی کام کرنے کی آڑ میں چیرٹی کو ملے پیسے کا استعمال اپنا کاروبار اور تجارت بڑھانے کیلئے کررہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ انکم ٹیکس محکمے نے 2009-10 میں انکم ٹیکس قانون میں ایک نئی کلاز جوڑی تھی۔ اس کے مطابق اگر کوئی ٹرسٹ عطیہ سے ملی رقم کا استعمال مذہبی کاموں کے علاوہ اپنے ذاتی کاروباری مقصد کے لئے کرتا ہے تو اسے ٹیکس میں چھوٹ کا فائدہ نہیں ملے گا۔ ذرائع کے مطابق محکمہ انکم ٹیکس کی ٹیکس چھوٹ یونٹ نے بڑی تعداد میں ایسے ٹرسٹوں کے بارے میں پتہ لگایا ہے جو چیریٹی کے پیسوں کا استعمال کاروباری سرگرمیوں کے لئے کررہے ہیں۔ ایسے اداروں کی جانچ کی جارہی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے دیش بھر میں سبھی بڑے انکم ٹیکس کمشنروں نے کہا ہے کہ وہ ایسے ٹرسٹوں کی پہچان کرائیں جن کے رجسٹریشن مذہبی یا فلاحی ادارے کے طور پر کرائے گئے ہیں لیکن وہ چیریٹی کلاز کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ان اداروں کو انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 11 اور 12 کے تحت چھوٹ کا فائدہ حاصل ہے۔ ستیہ سائیں بابا کے کچھ بھکتوں کا دعوی ہے کہ دیسی اور غیر ملکی شردھالوؤں نے بابا کو سینکڑوں کروڑ روپے نقد اور زیورات اور دیگر چیزیں تحفے میں دی تھیں۔ بھکتوں کے مطابق بابا جب ہسپتال میں تھے تو زیادہ تر نقدی اور دیگر چیزیں پرشانتی نلیم سے باہر بھیج دی گئیں ۔قابل غور ہے کہ بیماری کی حالت میں ستیہ سائیں بابا کا گذشتہ 24 اپریل کو دیہانت ہوگیا تھا۔
 Tags: Andhra Pradesh, Anil Narendra, Daily Pratap, Satya Sai Baba, Vir Arjun

بندیلکھنڈ میں کسانوں کی خودکشی کا نہ رکتا سلسلہ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
28جون 2011 کو شائع
انل نریندر
 پچھلے کئی دنوں سے اترپردیش میں آبروریزی، قتل و کرمنلوں کی بات ہورہی ہے۔ چاہے وہ سیاسی پارٹیاں ہوں ، چاہے الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا، سبھی ان خبروں کو ترجیح دیتے نہیں تھکتے۔ جبکہ سنگین معاملوں پر کسی کو توجہ دینی کی ضرورت نہیں لگتی۔ آج انسانی زندگی کی کوئی قیمت نہیں رہی۔ کسان خودکشی کرتے ہیں تو یہ خبر نہیں بنتی، بریکنگ نیوز نہیں بنتی لیکن چھوٹے سے چھوٹا کرمنل واردات کرجاتا ہے تو اس پر کافی توجہ دی جاتی ہے۔ اترپردیش کے بندیلکھنڈ علاقے میں کسانوں کی اتنی بری حالت ہے کہ عام آدمی کو چونک جانا چاہئے۔ بیوی کے علاج میں دو بیگھہ زمین بیچ کر محض تین بیگھہ میں تین بچوں کے ساتھ زندگی بسر کررہے کسان کی قرض کے بوجھ اور بیماری سے موت ہوگئی، ان پر بینک اور سرکاروں کا تقریباً 70 ہزار روپیہ قرضہ بتایا گیا ہے۔ دیہاتیوں نے انتم سنسکار کردیا۔انترا تحصیل علاقے کے بگھیلاباری گاؤں کے کسان سریش یادو (42 سال) ولد رام بہاری کی لاش 15 دن پہلے سنیچر کے روز صبح گھر کے نزدیک اسی کھیت میں پڑی ملی۔ بیوی کی ڈیڑھ برس پہلے ہی ٹی بی کی بیماری سے موت ہوگئی تھی۔ ان کے علاج میں سریش کو دو بیگھہ زمین بیچنی پڑی۔ سریش یادو جیسی سینکڑوں کہانیاں ہیں۔ پچھلے دنوں بڑی تعداد میں کسانوں کی جانب سے خودکشی کے واقعات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے الہ آباد ہائیکورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومت سے ایک ماہ کے اندر جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ جسٹس سنیل امبوانی ، جسٹس سبھاجیت یادو کی ڈویژن بنچ نے کسانوں کی خودکشی کے معاملے میں خود نوٹس لیتے ہوئے اسے مفاد عامہ کی عرضی کے طور پر قبول کرلیا۔ریاستی حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر کسان کی خودکشی کے معاملے کی تفصیل، ہسپتالوں ، بلاکوں اور پولیس تھانوں سے اکٹھے کرکے اگلی سماعت تک پیش کردی جائے۔ چیف سکریٹری سے سبھی بینکوں کے ذریعے دئے گئے زرعی قرضوں کی تفصیل بھی دستیاب کرانے کو کہا گیا ہے۔ قومی اور پرائیویٹ بینکوں، مالیاتی اداروں، کو آپریٹو بینکوں، کھادی گرام ادیوگ اور وکاس بورڈ کو کسانوں سے 15 جولائی تک قرض نہ وصولنے کا عدالت نے حکم دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بندیلکھنڈ کے باندہ، ہمیرپور، جھانسی ،للت پور، مہوبہ اور جالون اضلاع میں سال 2009 میں 568 جبکہ 2010 میں 583 اور 2011 کے پانچ مہینوں میں519 کسانوں نے خوشک سالی اور غربت سے تنگ آکر خودکشی کی ہے۔ بندیلے ہربولوں کی سرزمین پانی ، ہجرت و فاقہ کشی اور قرض کے دباؤ میں ہورہی اموات سے لڑ رہی ہے۔بندیلکھنڈ میں قرض کے چلتے کسانوں کے جان دینے کا یہ سلسلہ اس وقت سامنے آیا جب کسانوں کو قرض سے نجات دلانے کیلئے سرکار اور انتظامیہ کی جانب سے نام نہاد راحت کا پٹارہ کھولا گیا۔ پچھلے کچھ سالوں سے باندہ بندیلکھنڈ کے بعد سے بدتر ہوتے حالات کے سبب کسانوں نے کھیتی سنوارنے اور ذاتی روزگار شروع کرنے کے لئے اپنے اوپر اربوں روپے کا قرض چڑھا لیا۔ اکیلے باندہ ضلع میں کافی کسانوں نے بینکوں سے تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے کا قرض لیا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بنیوں سے قرض لی گئی رقم بھی کروڑوں میں بتائی جاتی ہے۔ باندہ کے تقریباً 13 ہزار کسانوں پر کسان کریڈٹ کارڈ سے لئے گئے 25 کروڑ روپے کی دینداری ہے۔ تین ہزار سے زیادہ کسانوں کو ڈفالٹر قراردے دیا گیا ہے۔ اس سے کسانوں پر اور دباؤ بڑھ گیا ہے۔ دباؤ نہ برداشت کرپارہے کسان خودکشی کررہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکز اور ریاستی حکومت اس پیچیدہ مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرے اور ایسے قدم اٹھائے جس سے کسانوں کی خودکشی کا سلسلہ رک سکے۔ کہنے کو تو ہندوستان دنیا کی بڑی معیشت والی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے لیکن بنیادی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی قرض ، مہنگائی اور بیماری کے سبب کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔
 Tags: Anil Narendra, Bundel Khand, Daily Pratap, Farmers Agitation, Farmers Suicide, Mayawati, Uttar Pradesh, Vir Arjun

26 جون 2011

ڈاکٹر سچان کے قتل کے پیچھے کون؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
26جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ہماری رائے میں تو اترپردیش کے ڈپٹی سی ایم او ڈاکٹر وائی ایس سچان کو لکھنؤ جیل میں قتل کردیا گیا۔ ڈاکٹر سنچیان کی لاش پر 8 جگہ پر بلیڈ سے کاٹے ہوئے کے نشان پائے جانے کے باوجود انتظامیہ ابھی بھی اسے خودکشی کا معاملہ مان رہی ہے۔ ڈاکٹر سنچیان کی لکھنؤ جیل کے بیت الخلا ء میں بدھ کے روز لاش کو پھندے سے لٹکا پایا گیا تھا۔ ان کے جسم پر کل9 زخم پائے گئے۔ جن میں 8 بڑے زخم ہیں جودھار دار ہتھیاروں سے حملے سے دئے گئے ہوں۔ ان میں سے 2 گردن پر،2 دائیں کوہنی پر، 2 بائیں کوہنی پر، ایک دائیں جھانگ کے اوپری حصے اور ایک بائیں کلائی پر تھے۔ اس کے علاوہ گلے میں پھندے کا نشان بھی پایا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ موت سے پہلے سچان نے اپنی نسیں کاٹیں یا کسی نے کاٹیں؟ موقعہ سے ایک تیز دھار والا بلیڈ اس کی تصدیق کرتا ہے۔ سرکار کا کہنا ہے سچان کی موت زیادہ خون بہنے کے سبب ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کوئی شخص خود کو ایسے زخم دیکر خودکشی کیسے کرسکتا ہے؟ اگر خودکشی خودکو چوٹ دیکر ہی کی گئی تو بیلٹ گھلے میں باندھنے کا کیا مطلب ہے؟ ڈاکٹر سچان کی بیوی مالتی نے دعوی کیا ہے کہ ان کے شوہر دماغی طور سے ٹھیک ٹھاک تھے۔ وہ تو دوسروں کا حوصلہ بندھاتے تھے ، وہ خودکشی نہیں کرسکتے۔ ان کا قتل کیا گیا وہ پریشان تھے، کیونکہ پولیس والے ان کو ٹارچر کیا کرتے تھے، ان پر کافی دباؤ تھا لیکن وہ خودکشی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈاکٹر سچان سے پہلے ڈاکٹر ونود کمار جو اسی عہدے پر فائز تھے،27 اکتوبر کو مردہ پائے گئے تھے۔ سی ایم اوکے عہدے پر ڈاکٹر بی پی سنگھ کو 2 اپریل کو اس وقت قتل کردیا گیا تھا جب وہ صبح سیر کے لئے نکلے تھے انہیں گولی ماردی گئی تھی۔ تینوں افسروں کے قتل کے پیچھے تین ہزار کروڑ روپے سالانہ کا بجٹ سبب بتایا جاتا ہے۔ مئی2010 ء میں 3150 کروڑ روپے کی گرانٹ محکمے کو ملتی تھی۔ تمام سرکاری ہسپتال، دوائیں جو ان ہسپتالوں کو دی جاتی ہیں کے لئے محکمہ صحت کو 3150 کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی تھی۔ ڈاکٹر بی پی سنگھ کے قتل میں خود ڈاکٹر سنچیان پر الزام لگے تھے کہ وہ اس کے قتل میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر سچان بدعنوانی کے الزام میں جیل میں بند تھے۔ ابھی بی پی سنگھ کے قتل کے معاملے میں ان سے پوچھ تاچھ ہونا باقی تھی۔ اس سے پہلے ان کا کام تمام کردیا گیا۔ یہ کام جیل کے اندر ہوا۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ جیل کے کچھ افسران اس کانڈ میں ضرور شامل ہیں۔ دوائی مافیہ جس میں کئی بڑی شخصیتیں شامل ہیں، نے سچان کے قتل کے لئے موٹی سپاری دی ہوگی کیونکہ جیل کے اندر قتل کروانا آسان کام نہیں ہے۔ دوا کے ٹھیکیدار، سیاستداں، افسرشاہی سب اس کروڑوں روپے کے دھندے میں ملوث ہیں۔ پولیس نے بسپا ممبر اسمبلی بی رام پرساد جیسوال سے پوچھ تاچھ کی ہے کہ ان کے دوا کے ٹھیکیداروں سے کیا رشتے ہیں، اس کا انکشاف کریں۔ مایاوتی سرکار کو چاہئے کہ وہ پورے معاملے کی باریکی سے تحقیقات کروائے اور جو بھی اس کے پیچھے ہے اس کا پردہ فاش کرے۔ چاہے وہ کتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو؟ اس معاملے نے پہلے سے دباؤ سے گھری مایاوتی سرکار پر اور دباؤ بنا دیا ہے۔
Tags: Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, CBI, Daily Pratap, Dr. Sachan, Mayawati, Uttar Pradesh, Vir Arjun

راہل کی تاجپوشی کی جلدی کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
26جون 2011 کو شائع
انل نریندر
کانگریس کے اندر گھمسان جاری ہے۔ پارٹی کا ایک طبقہ جو کافی بڑا ہے ، کا خیال ہے کہ راہل گاندھی کو جلد سے جلد وزیر اعظم بنایا جائے۔ اگر راہل اس کے لئے تیار نہ ہوں تو انہیں پارٹی کی خاطر، دیش کی خاطر منایا جائے۔ سونیا گاندھی کے دباؤ میں بھلے ہی دگوجے سنگھ کو راہل گاندھی کے وزیر اعظم بننے والے اپنے بیان سے پیچھے ہٹنا پڑا ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پارٹی اب ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ہٹانا نہیں چاہتی۔ کانگریس کے ترجمان جینتی نٹراجن کو بھی یہ صفائی دینی پڑی ہے کہ راہل مستقبل کے لیڈر ہیں اور منموہن سنگھ ہمارے وزیر اعظم ہیں۔ راہل کب وزیر اعظم بنیں گے یہ فیصلہ پارٹی اور خود راہل کو کرنا ہے۔ لیکن سونیا راہل کے وفادار کانگریسی لیڈروں کے درمیان راہل کی تاجپوشی کے وقت کو لیکر منتھن جاری ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اترپردیش کے انتخابات کے نتیجے کے بعد اس پر فیصلہ کردیا جائے جبکہ کچھ کا کہنا ہے اترپردیش کے نتیجے پارٹی کے حق میں نہ آئے تو راہل گاندھی کی تاجپوشی مشکل ہوجائے گی اور پھر 2014ء کا چناؤ بھی منموہن سنگھ کی موجودہ حکومت کی رہنمائی میں ہی لڑنا ہوگا۔ ابھی جس طرح کے حالات ہیں اس سے2014ء کا چناؤ سنگرام جیتنا بہت مشکل ہوگا اور تب راہل کے لئے دلی دور است والا جملہ ہی صحیح ثابت ہوجائے گا۔ اس لئے اگر راہل کو لانا ہے تو جلدی ہی لانا ہوگا۔
دراصل کانگریس اعلی کمان کے ہاتھ پیر 2009-11 کے درمیان تقریباً20 لاکھ کروڑ کے مبینہ مہا گھوٹالوں سے پھول گئے ہیں۔ زیادہ تر جائزوں میں کانگریس، یوپی اے سرکار کو سب سے بدعنوان ترین مانا ہے۔ ٹرانسپیرینسی انٹر نیشنل نے بھی بدعنوان ملکوں کی فہرست میں بھارت کا مقام آگے آنے کا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ نتیجتاً کانگریس کی مقبولیت کا گراف دو برسوں میں سانپ سیڑھی کے کھیل کی طرح آسمان سے زمین پر آگیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج بھی اتنا کچھ ہونے کے باوجود ڈاکٹر منموہن سنگھ کی شخصی طور پر ساکھ صاف ہے لیکن ڈاکٹر سنگھ بدعنوانی کے الزامات سے تار تار سرکار کی قیادت کررہے ہیں۔ گذشتہ ایک برس میں وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے تین موقعوں پر دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ ریٹائرڈ نہیں ہورہے ہیں، وہ استعفیٰ بھی نہیں دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں ابھی ادھورے کام کرنے ہیں۔ سیاسی طور سے ان پیچیدہ حالات میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کو ہٹانے پر پارٹی میں مہابھارت کو ٹالا نہیں جاسکتا۔
راہل کو سرکار کی کمان سونپنے کے پیچھے ایک دلیل یہ بھی دی جارہی ہے کہ اگر راہل وزیر اعظم بنتے ہیں تو ان کی لیڈر شپ میں لوک پال قانون بنا کر اس کی جانچ کے دائرے میں کچھ شرطوں کے ساتھ وزیر اعظم کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے وزیر اعظم رہتے پردھان منتری کو لوک پال بل میں شامل کرنا خطرے بھرا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ کئی گھوٹالوں میں سیدھے سیدھے پی ایم او جانچ کے دائرے میں آرہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی راہل کی لیڈر شپ میں زمین تحویل ترمیم بل پاس کراکر کسانوں کی ہمدردی اسی طرح اور سرکار کے ساتھ کی جاسکتی ہے جیسے کسانوں کے قرضے معاف کرکے یوپی اے سرکار نے حاصل کی تھی۔’ راہل لاؤ‘ مہم کے حمایتیوں کی دوسری مضبوط دلیل یہ ہے کہ راہل گاندھی کے وزیر اعظم بننے کا سب سے بڑا فائدہ اترپردیش میں ہوگا جہاں نہ صرف کانگریس ورکروں میں جان آجائے گی بلکہ اترپردیش میں پارٹی کی جیت کے آثار بھی بڑھ جائیں گے۔ ساتھ ہی اتراکھنڈ اور پنجاب اسمبلی انتخابات میں بھی پارٹی بہتر مظاہرہ کر سکے گی جو راہل کی تاجپوشی کے کھاتے میں چلی جائے گی۔ اس سے نہ صرف کانگریس کے خلاف چلنے والی مہم کی دھار کچھ ہلکی پڑے گی بلکہ اس کے بعد گجرات ہماچل پردیش کے انتخابات اور 2013 میں ہونے والے دہلی،راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات اور 2014 ء کے لوک سبھا انتخابات کے لئے بھی پارٹی کو تقویت ملے گی۔ اس کے علاوہ سونیا راہل کے وفادار کانگریس لیڈر اس لئے بھی راہل کی تاجپوشی جلدی چاہتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ کس طرح پچھلے ایک سال سے یوپی اے سرکار اور کانگریس کے خلاف جو مہم چل رہی ہے اس کے نشانے پر سب سے زیادہ سونیا اور راہل ہی ہیں۔ اس کے خلاف عام جنتا میں راہل کو اس وقت وزیر اعظم بنانے پر غیر رضامندی نظر آتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق71 فیصدی لوگوں نے صاف کہا ہے کہ راہل کو صرف اس لئے وزیر اعظم بنانے کی مہم چل رہی ہے کیونکہ وہ نہرو گاندھی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ ان میں وہ قابلیت، تجربہ نہیں ہے جو اس وقت دیش کے وزیر اعظم کو ہونا چاہئے۔ موٹے الفاظ میں ان کی رائے میں راہل گاندھی پرائم منسٹر میٹریل کے نہیں ہیں۔ صرف 27 فیصدی لوگ مانتے ہیں کہ راہل نوجوان طاقت، امید کی علامت ہیں۔ اور دیش کو ایسی لیڈر شپ کی سخت ضرورت ہے۔ فیس بک پر بھی 65 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ راہل وزیر اعظم بننے کے لئے ابھی تیار نہیں ہیں۔ نہ وہ خود بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی ان میں اتنی صلاحیت ہے۔
Tags: Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Digvijay Singh, Manmohan Singh, Prime Minister, Rahul Gandhi, Transparency International, Uttar Pradesh, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...