Translater

‏CBDT لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏CBDT لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

13 ستمبر 2011

بابا رام دیو کے ٹرسٹوں کی ہورہی ہے چھان بین



Published On 13th September 2011
انل نریندر
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور سی بی آئی کے بعد اب ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سینٹر ایکسائز انٹیلی جنس نے بھی بابا رام دیو کی گھیرا بندی کرنا شروع کردی ہے۔ بابا کے ٹرسٹوں کے ذریعے دی جارہی یوگ تعلیم کو ہیلتھ اینڈ فٹنس کے دائرے میں رکھتے ہوئے ڈی جی سی ای آئی نے بابا کے دونوں ٹرسٹوں پر تین کروڑ روپے سروس ٹیکس دینداری نکال دی ہے۔ اس سلسلے میں ٹرسٹ کے سکریٹری جنرل آچاریہ بال کرشن کو سمن جاری کیا گیا ہے۔ مہینے بھر پہلے ایک نوٹس بھیج کر آچاریہ سے ان کے ٹرسٹ کی کمائی اور ڈونیشن کی کمائی کی جانکاری مانگی گئی تھی۔ ہری دوار میں واقعہ پتنجلی ٹرسٹ کے ذریعہ دویہ فارمیسی ،پتنجلی آیوروید،پتنجلی فوڈ اینڈ ہربل پارک لمیٹیڈ، ویدک براڈ کاسٹنگ وغیرہ کمپنیوں کو چلایاجاتا ہے۔ ڈی جی سی ای سی کے ذرائع کے مطابق فرم پروڈکٹس ٹیکس سے مسثنیٰ ہے۔مگر سروس کے ٹیکس کے دائرے میں آتی ہے۔ یوگا تعلیم ہیلتھ اینڈ فٹنس سروس کے دائرے میں ہے۔ جس پر دس فیصد ہی شرح سے سروسز ٹیکس واجب ہے۔ اس سلسلے میں 2007 سے پانچ برس تک ٹرسٹوں کے ذریعہ کی گئی کمائی کی تفصیل آچاریہ کونوٹس دے کر مانگی گئی ہے۔ خبر ہے کہ آچاریہ بال کرشن اس نوٹس کے جواب میں دونوں ٹرسٹوں کی بلینس شیٹ، عطیہ اور ممبران کے بارے میں جانکاری افسران کو دے دی گئی ہے۔ ان معلومات کی بنیاد پر یوگ تعلیم کے ذریعہ ہوئی کمائی کا تخمینہ لگایاگیا ہے تواس پر قریب تین کروڑ روپے سروس ٹیکس نکلتا ہے اس پر کانپور میں واقع دفتر کے ڈپٹی ڈائریکٹر سنجے لوانیا نے سروسز ٹیکس اور سینٹر ایکسائزڈ ایکٹ 1944 کی دفعہ 14کے تحت آچاریہ بال کرشن کو سمن بھیجا ہے اس میں 16 ستمبر کی صبح دس بجے دفتر میں حاضر ہوکر اس بارے میں جواب دینے کے لئے کہاگیا ہے۔
یوگ گرو بابا رام دیو کے قریبی ساتھی آچاریہ بال کرشن 265کروڑ روپے کے کاروبار کے سروے سروا ہیں وہ 34 کمپنیوں کے ڈائریکٹر ہے یہ معلومات حکومت کی طرف سے لوک سبھامیں دی گئی ۔ کارپوریٹ امور کے وزیر مملکت آر پی این سنگھ نے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ یوگ گرو رام دیو خودکسی بھی کمپنی بورڈ میں شامل نہیں ۔ تازہ دستیاب اعداد وشمار کے مطابق ،دیش کئی کمپنیاں ہے جو رجسٹرڈ نہیں ہیں جس میں بابا رام دیو سرمایہ کار ہو۔ وزیرموصوف نے کہا کہ بال کرشن اتراکھنڈ میں رجسٹرڈ 23 کمپنیوں کے سرمایہ کار ہیں جن کاکاروبار 94.84کروڑ ہے۔اس کے علاوہ 5کمپنیاں اترپردیش میں( کاروبار 5لاکھ روپے) 4 دہلی میں( کاروبار 163.6کروڑ روپے) اور مغربی بنگال میں (کاروبار 8کروڑ )رجسٹرڈ ہے۔ وہ مہاراشٹر کی ایک کمپنی میں سرمایہ کار بھی ہے جس کاکوئی کاروبار نہیں بتایا ہے۔ وزیرنے کہاکہ اتنے کم عرصے میں کمپنیوں کا کاروبار بڑھنے کے اسباب کی ابھی کوئی تشریح نہیں کی جاسکتی۔ بابا رام دیو پر ہرطرف سے سرکاری شکنجہ کستا جارہا ہے۔ ادھر بابا نے پھر سے تحریک کااعلان کردیا ہے۔ وہ جھانسی سے اپنی تحریک چھیڑیں گے آنے والے دن ان کے لئے خاص چیلنج بھرے ہوں گے۔ 
Anil Narendra, Baba Ram Dev, Bal Krishan, CBDT, CBI, Daily Pratap, ED, Vir Arjun

29 جون 2011

جاسوسی، فون ٹیپنگ اور سٹنگ آپریشن سرکار کیلئے عام ہے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
29جون 2011 کو شائع
انل نریندر
 وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے دفتر میں مبینہ جاسوسی کے معاملے کو سرکار اور کانگریس بھلے ہی دبانے کی کوشش کررہی ہو لیکن کانگریس اور حکومت کے مختار بنے سپر ترجمان دگوجے سنگھ نے اس معاملے کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ پرنب مکھرجی اور وزیر اطلاعات و نشریات امبیکا سونی کے بیانات سے متفق نہ ہوتے ہوئے دگوجے سنگھ نے کہا کہ وہ رپورٹ سے حیرت زدہ ہیں اور کہا کہ اس معاملے کی جانچ ہونی چاہئے۔ اندر خانے جانچ شروع بھی ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں انٹیلی جنس بیورو نے سی بی ڈی ٹی کے سابق سربراہ سدھیرچندرا سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیر ادخلہ پی چدمبرم کا وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے دفتر میں جاسوسی کے واقعہ کو کچھ خاص نہ بتانا آزاد بھارت کا سب سے بڑا مذاق ہے اور پارٹی نے وزیر خزانہ کے وزیر اعظم کو لکھے خط کو عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انٹیلی جنس بیورو کے حکام نے گذشتہ جمعرات کو چندرا سے پوچھا کہ وزارت مالیات میں جاسوسی کے معاملے میں معائنہ کرنے کے لئے آئی بی کو مطلع کرنے سے پہلے نجی جاسوسوں کو کیوں بلایا گیا؟ اس بارے میں آئی بی حکام میں وزارت مالیات نے ان متنازعہ عناصر کو ہٹانے کا کام کرنے والی نجی خفیہ ایجنسی کا نام پتہ لگانے کے لئے بھی جانچ شروع کردی ہے۔ بھاجپا کے ترجمان نے دعوی کیا کہ مکھرجی کو اپنے دفتر میں جاسوسی کا شبہ تھا۔ انہوں نے اس مسئلے پر وزیر اعظم کو خط لکھا تھا۔ بھاجپا چاہتی ہے کہ اس خط کو عام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نارتھ بلاک چدمبرم یا کسی کی ذاتی املاک نہیں ہے۔
موصولہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ پرنب مکھرجی ہی نہیں سکیورٹی اور جانچ ایجنسیوں کے راڈار پر ایک مرکزی وزیر بھی تھے۔اور قریب 30 گھنٹے تک ان کا فون ٹیپ ہوا ہے۔ اتنا ہی نہیں اتر پردیش سرکار میں مایاوتی کے قریبی اور رسوخ دار ایک افسر شاہ کا اسٹنگ آپریشن بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اتنا ہی نہیں سینٹرل بورڈ آف اکسائز اینڈ کسٹم (سی بی ای سی) کے چیئرمین نے بھی اپنا فون ٹیپ کئے جانے کا الزام لگایا ہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ سی بی ای سی نے چیئرمین این مجمدار پچھلے سال سی بی ای سی کا چیئرمین بننے کے بڑے دعویداروں میں تھے۔ تب ڈی آر آئی (ڈائریکٹوریٹ آف ریوینیو انٹیلی جنس) کے افسروں نے ان کا اور ان کے آسام میں رہنے والے دوست اور کولکاتہ میں رہنے والی بہن کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے کا حکم دیا تھا۔ بتاتے ہیں کہ فون ٹیپنگ کے ٹھوس امکانات کو دیکھتے ہوئے مجمدار نے اس معاملے کو ڈی آر آئی کے سامنے اٹھایا ہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ ایک مرکزی وزیر بھی خفیہ ایجنسیوں کی نگرانی میں تھے۔ تقریباً30 گھنٹے سے زیادہ وقت تک ان کا فون ٹیپ ہونے کی اطلاع ہے۔ اس بارے میں خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ایجنسیاں ضرورت پڑنے پر سرکار کی اجازت کے بعد لوگوں کی بات چیت وغیرہ پر نگرانی رکھتی ہیں۔ حالانکہ یہ نگرانی کا عمل اتنا آسان نہیں ہے۔ لیکن پرنب مکھرجی کے دفتر کو نگرانی کے دائرے میں لانے کی بات پوچھنے پر وہ خاموشی اختیارکرلیتے ہیں۔ یہاں تک وزارت داخلہ کے افسر بھی اس معاملے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ سابق سینئر افسر ضرور اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ پرنب دا کے دفتر میں نگرانی کا کام ہوا ہے۔ سرکار بیشک چھپانے کی کوشش کرے لیکن سچ باہر نکل ہی آئے گا۔
 Tags: Anil Narendra, CBDT, Congress, Daily Pratap, DRI, P. Chidambaram, Phone Taping, Pranab Mukherjee, Vir Arjun

چنائو کمیشن اور وضاحت؟

چنائو کمیشن (ای سی)نے اسپیشل انٹینسورویژن (ایس آئی آر) کو لیکر اٹھے تنازع کے درمیان سنیچر کو میٹنگ بلائی۔اس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کم...