Translater

Rajassthan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Rajassthan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

07 اپریل 2012

اشوک گہلوت سرکار سنکٹ میں پھنسی


Published On 7 March 2012
انل نریندر
کانگریس کے ستارے ان دنوں گردش میں چل رہے ہیں۔ آئے دن کوئی نیا انکشاف ہوجاتا ہے اور کانگریس اعلی کمان اس سے مقابلے میں لگ جاتی ہے۔ اچھی چل رہی ریاستی حکومت اس کے لئے نیا درد سر پیدا کردیتی ہے۔ اب آپ راجستھان میں اشوک گہلوت سرکار کا ہی قصہ لے لیجئے۔ اچھی چل رہی سرکار میں اپنی ہی پارٹی والوں نے اشوک گہلوت حکومت کے لئے نئی پریشانی کھڑی کردی ہے۔ دیش بھر سے مل رہی سیاسی شکست کے بعد اب راجستھان میں بھی اس کے ممبران اسمبلی نے اپنی ہی گہلوت حکومت کے خلاف بغاوت کردی ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے راجستھان کے قریب دو درجن ممبران اسمبلی نے دہلی میں ڈیرا ڈالا ہوا ہے۔ ان کی مانگ ہے کہ پارٹی ہائی کمان فوراً وزیر اعلی اشوک گہلوت کو کرسی سے ہٹاکر مرکزی وزیر سی پی جوشی کو ریاست کی باگ ڈور سونپے۔ ان ممبران اسمبلی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل سے مل کر حکومت کے خلاف شکایت کی ہے۔ انہوں نے کا کہ ریاستی حکومت میں ان کی کوئی سن نہیں رہا ہے اس سے ممبران اسمبلی اور ورکروں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ ممبران اعلی کمان کو آگاہ کیا ہے کہ اگر وقت رہتے حالات نہیں ٹھیک کئے گئے تو پارٹی کو اگلے چناؤ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
اتنا ہی نہیں اپنے چہیتے لوگوں کو کھلی چھوٹ دے رہے ہیں جس سے ایک طرف کرپشن کو شہ مل رہی ہے تو دوسری طرف کانگریس پارٹی کی ساکھ ملیامیٹ ہورہی ہے۔ ناراض ممبران اسمبلی نے راہل گاندھی سے بھی ملاقات کی اور انہیں صاف طور سے بتادیا ہے کہ اگر اشوک گہلوت وزیر اعلی کے عہدے پر بنے رہے اور انہیں فوراً ہٹایا نہیں گیا تو قریب ڈیڑھ سال بعد ہونے والے اسمبلی چناؤ میں کانگریس کے ساتھ ساتھ اس کا بھی بھٹا بیٹھ جائے گا۔ کہا جارہا ہے کہ ناراض ممبران کی تعداد بڑھ رہی ہے اب یہ60 کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ 200 نفری راجستھان اسمبلی میں کانگریس کے پاس106 ممبران ہیں۔ یہاں یہ بھی غور طلب ہے کہ راہل اپنے گھر تغلق روڈ کے بجائے سونیا گاندھی کی رہائش گاہ 10 جن پتھ پر ملے لیکن سونیا ان سے نہیں ملیں۔ ان ناراض ممبران اسمبلی کی ناراضگی تو پہلے وزرا کے تئیں تھیں لیکن اب وزیر اعلی بھی ان کے نشانے پر آگئے ہیں۔
بجٹ اجلاس سے پہلے جے پور میں ہوئی کانگریس اسمبلی پارٹی کی میٹنگ میں بھی ناراضگی سامنے آئی تھی۔ میٹنگ میں ممبران اسمبلی نے وزرا کے طریقہ کار پر تشویش ظاہر کی تھی۔ اس میٹنگ میں وزیر اعلی گہلوت نے ممبران سے کہا تھا کہ وزرا کی شکایت ان سے کی جائے اوروزیر اعلی نے ہی کوئی شکایت نہیں سنی ہے تو پھر کانگریس صدر کو بتائیں۔ ہمارا خیال ہے اشوک گہلوت ایک اچھے لیڈر ہیں جن پر شخصی کوئی الزام نہیں لگا۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں اپنا عوامی رابطہ اور ممبران سے تال میل بہتر بنانا ہوگا۔ انہیں اس مسئلے کو خود ہی سلجھانا چاہئے۔ یہ کانگریس ہائی کمان کا مسئلہ نہیں ہونا چاہئے لیکن جب ممبران کی بات کوئی سنے گا ہی نہیں تو ان کے پاس دہلی آنے کے علاوہ کوئی متبادل ہی رہ جاتا ہے۔ کانگریس کی آپسی لڑائی کہیں پارٹی کو راجستھان میں بھی نہ ڈوبا دے۔
Anil Narendra, Ashok Gehlot, Congress, Daily Pratap, Rajassthan, Vir Arjun

04 مارچ 2012

بھنوری دیوی اغوا و قتل معاملے میں چارج شیٹ کیا کہتی ہے؟



Published On 4 March 2012
انل نریندر
سرخیوں میں چھائے رہے بھنوری دیوی قتل کانڈ میں سی بی آئی نے بدھوار کو جودھپور کی عدالت میں چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ 97 صفحات کی اس چارج شیٹ میں 50 صفحات میں الزام اور کہانی بیان کی گئی ہے۔ 300 گواہوں کے بیان ہیں اور چارج شیٹ میں 313 دستاویز نتھی کئے گئے ہیں ان میں 93 ثبوتوں کی فہرست بھی لگائی گئی ہے۔ چارج شیٹ میں سابق وزیر مہیپال مدیرنااور ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ بشنوئی پر ایک ہی الزامات لگائے گئے ہیں۔ یہ بھی خلاصہ ہوا ہے کہ ملکھان سنگھ کی بہن اندرا نے مدیرنا کی سی ڈی بنوائی تھی۔ مدیرنا قابل اعتراض سی ڈی سے بلیک میل ہورہے تھے۔ ملکھان سنگھ بھنوری کی ایک بیٹی کا والد ہونے اور کھیجڑلی میلے میں پول کھولنے سے پریشان تھے۔ دونوں نے صحیح رام اور سوہن لال کو بھنوری کو ٹھکانے لگانے کا ذمہ سونپا اور اسی سازش میں 1 ستمبر کو اس کا اغوا کیا گیا۔ چارج شیٹ کے مطابق بھنوری دیوی اور سابق وزیر مہیپال مدیرنا کی فحش سی ڈی کے پیچھے سیاسی سازش تھی اور اس پورے معاملے میں ماسٹر مائنڈ اندرا بشنوئی تھی۔ اس نے ہی اپنے بھائی ملکھان سنگھ کو وزیر بنوانے کے لئے یہ سازش رچی تھی۔ غور طلب ہے کہ 1 ستمبر 2011ء کو بھنوری دیوی غائب ہوئی تھی اور ٹھیک 6 ماہ بعد کورٹ میں دوسری چارج شیٹ پیش کی گئی ہے۔ بھنوری اغوا اور قتل معاملے میں مدیرنا ، ملکھان سنگھ سمیت 16 ملزم جیل میں ہیں یہ ملزم سوہن لال، شہاب الدین، بلدیو، صحیح رام، پرس رام، امرچند،امیش رام، کیلاش وغیرہ ہیں۔ان میں اندرا بشنوئی ابھی گرفتار نہیں ہوپائی، وہ چار ماہ سے فرار ہے۔سابق وزیر مہیپال مدیرنا اور ملکھان سنگھ اے این ایم بھنوری دیوی کے ذریعے بلیک میلنگ سے کافی پریشان تھے۔ بدنامی سے بچنے کے ساتھ ہی سیاسی کیریئر کو بچانے کے مقصد سے ان دونوں بڑے لیڈروں نے بھنوری دیوی سے چھٹکارا پانے کے لئے سازش رچی تھی۔ چارج شیٹ کے مطابق ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ بھنوری دیوی کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے۔ اسی کڑی میں اس نے بھنوری کی کار جو اس نے3 ستمبر 2009ء کو خریدی تھی ، کی ادائیگی 320594 روپے اپنی طرف سے کی تھی۔ اس کار کو دلانے میں مدیرنا نے بھی مدد کی تھی۔ اسی دن بھنوری نے شکارگڑھ میں ایک پلاٹ بھی خریدا تھا۔ بھنوری دیوی ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ کی صرف خاتون دوست بن کر ہی نہیں رہنا چاہتی تھی۔ ایسے میں وہ اپنی چھوٹی لڑکی کا حق پانے میں لگ گئی۔7 ستمبر 2010ء کو بھنوری جودھپور کے اس وقت کے ایس پی دفتر جاپہنچی اور ملکھان سنگھ کو چھوٹی لڑکی کا والد بتاتے ہوئے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی اپیل کی تھی۔ لیکن اندرا اسے سمجھا بجھا کر وہاں سے لے گئی۔ پھر بھنوری نے بلیک میلنگ کا دھندہ بڑھا دیا۔ اندرا کے گھر رچی گئی سازش مہیپال مدیرنا اور بھنوری کی فحش سی ڈی مدیرنا کے فارم ہاؤس پر بنائی گئی تھی۔ ٹی وی چینلوں میں اس سی ڈی کو دکھائے جانے سے دونوں خاندانوں میں کھلبلی مچ گئی اور بہت غور و خوض کے بعد بھنوری دیوی کو جان سے مار کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے معاملے کو دفن کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی۔ بھنوری کا اغوا اور بعد میں اس کے قتل کی پوری جانکاری ہونے کے باوجود بھنوری کا شوہر امرچند انجان بنا رہا۔ سازش میں شامل امرچند نے پولیس کے کافی دباؤ ڈالنے پر پہلے گمشدگی اور پھر اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اسے اندیشہ تھا کہ جانچ کے دوران کہیں اس کی اس معاملے میں شمولیت اجاگر نہ ہوجائے۔ اس کہانی میں سبھی موڑ ہیں لو، سیکس، بلیک میلنگ و قتل۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Mhipal Maderna, Rajassthan, Sex, Sex Scandal, Sexy Photo, Vir Arjun

26 نومبر 2011

بھنوری دیوی کے بعد راجستھان میں ایک اور سیکس اسکینڈل



Published On 26th November 2011
انل نریندر
بھنوری دیوی کا اتنے دن بعد بھی کوئی سراغ نہیں لگ سکا وہ کس حالت میں ہے، زندہ بھی ہے یا نہیں؟ جودھپور ضلع کے جالیواڑہ ہیلتھ سینٹر میں ملازم نرس بھنوری دیوی گذشتہ یکم ستمبر سے مشتبہ حالات میں لاپتہ ہے۔ سی بی آئی اس معاملے میں راجستھان کے برخاست وزیر مہیپال مدرینا اور اس کی بیوی لیلا مدرینااور کانگریس ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ ، اس کی بہن اندرا سمیت کئی لوگوں سے پوچھ تاچھ کرچکی ہے۔ سی بی آئی نے اس مقدمے میں شہاب الدین اور سوہن لال سمیت تین لوگوں کوگرفتار بھی کیا ہے ۔ یہ تینوں عدالتی حراست میں ہیں۔ 24 نومبر کو اس مقدمے کی راجستھان ہائی کورٹ میں تاریخ تھی۔ سی بی آئی کو عدالت میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنی تھی۔ سی بی آئی نے عدالت سے کہا کہ اسے اپنی جانچ رپورٹ پیش کرنے کے لئے کچھ اور دنوں کی مہلت چاہئے۔ عدالت نے اس کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اسے وقت دے دیا۔ اب اگلی سماعت15 دسمبر کو ہونے والی ہے۔ جسٹس گووند ماتھر ، جسٹس ایم کے جین کی ڈویژن بنچ نے لاپتہ بھنوری دیوی کے شوہر کی عرضی پر بند کمرے میں سماعت شروع کی۔ سی بی آئی کو اس معاملے میں کوئی قابل توقع کامیابی اب تک نہیں مل سکی۔ 200 سے زیادہ پولیس ملازمین نے لوہاور کے چھوٹے موٹے علاقوں تقریباً 20 کلو میٹر تک کھیتوں و جھاڑیوں میں بھنوری کی باڈی کی تلاش کی۔ ساتھ ہی فورنسک سائنس لیباریٹری کے ماہرین سے بھی پوچھ تاچھ کی۔ جنہوں نے ملزم شہاب الدین کی اس بلیرو گاڑی کی بھی جانچ کی تھی جس میں بھنوری دیوی کا اغوا کیا گیا تھا۔ دراصل سی بی آئی یہ ایک قیاس آرائی کی بنیاد پر تفتیش میں لگی ہوئی ہے کہ اسی بلیرو کارمیں تو بھنوری کے ساتھ کوئی انہونی تو نہیں ہوئی؟
ابھی بھنوری دیوی کا معاملہ سلجھا نہیں تھا کہ ایک اور سیکس اسکینڈل کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس کا خلاصہ سرسہ کے سب ڈویژن ڈبوالی کے گاؤں ابوبراہر کی متاثرہ لڑکی نے کیا۔ اس معاملے میں عدالت کے حکم پر راجستھان کے ایک سابق وزیر سابق ایم پی اور لڑکی کے شوہر اور دیو سمیت 18 لوگوں کے خلاف مقدمہ جے پور کے ویشالی نگر تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ ابوبراہرکی لڑکی نے 19 نومبر کو جوڈیشیل مجسٹریٹ ڈویژن دو جے پور کی عدالت میں اپنا حلف نامہ دیکر اس معاملے میں انصاف کی اپیل کی تھی۔ لڑکی نے ہنومان گڑھ کے باشندے اپنے شوہر اوم پرکاش گودارا پر الزام لگایا تھا کہ وہ اپنا پراپرٹی ڈیلر کا کاروبار بڑھانے کے لئے اسے نشے کی گولیاں کھلا کر اونچے لوگوں کو اسے پیش کرتا تھا۔ اس کے بعد عدالت کے حکم پر 21 نومبر کی رات جے پور تھانہ ویشالی نگر میں معاملہ درج کیا گیا۔ معاملے کی جانچ کررہے انسپکٹر نے بتایا کہ جن کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے ان میں خاتون کا شوہر اوم پرکاش گودارا ، سابق وزیر جوگیشور گرگ، سابق ایم پی نیہال چند میگھوال، راجستھان یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے سابق پردھان پشپندر بھاردواج، بھاجپا نیتاؤں کے پرائیویٹ سکریٹری رہے وویک آنند، ڈی ایس پی انل رائے ، پولیس انسپکٹر مہاویر سنگھ سمیت18 لوگ شامل ہیں۔ ان سب کے خلاف دفعہ376/328/343/328/506 آئی پی سی اور120 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ سرخیوں میں آیا بھنوری دیوی معاملے کی طرح ایک اور سیکس ریکٹ سے راجستھان کی سیاست میں نیا طوفان کھڑا ہوسکتا ہے۔ جہاں تک بھنوری دیوی کا سوال ہے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اسے زمین نگل گئی ہے یا آسمان کھا گیا؟ اخباروں میں شائع خبر کے مطابق بھنوری دیوی کا قتل ہوچکا ہے لیکن اس حقیقت کے لئے سی بی آئی کو ابھی ثبوت اکٹھے کرنے ہیں یہ بات سی بی آئی نے جمعرات کو جودھپور ہائیکورٹ میں اپنی پیش رفت رپورٹ میں عدالت سے کہی ہے۔ اسی پر عدالت نے اسے15 دن کا وقت دے دیا ہے۔ ادھر ابوبراہر کی لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ اس کے شوہر نے اس کی 34 سی ڈی بنائی ہیں۔ ان کے ذریعے وہ متعلقہ لیڈروں کو بلیک میل کرتاتھا۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, Daily Pratap, Rajassthan, Sex, Sex Racket, Sex Scandal, Vir Arjun

17 نومبر 2011

گرتی ساکھ کو بچانے کیلئے گہلوت نے اٹھایا سخت قدم




Published On 17th November 2011
انل نریندر
پچھلے کئی دنوں سے راجستھان میں اشوک گہلوت کی کانگریس سرکار تنازعوں سے گھری ہوئی ہے۔ نرس بھنوری دیوی کا لاپتہ ہونا اور بھرت پور میں ہوئے فسادات۔ دونوں باتیں ہی اشوک گہلوت کے لئے بھنور جیسی بن گئی ہیں۔ کانگریس پہلے ہی دلدل میں پھنسی تھی۔ کرپشن ، کالی کمائی کی واپسی ، جن لوک پال بل جیسے اشو کانگریس کو پریشان کررہے ہیں۔ اب راجستھان کے ان دونوں اشوز میں پانچ ریاستوں خاص کر اترپردیش میں ہونے والے انتخابات کے لئے کانگریس کو بیک فٹ پر لادیا ہے۔ اس لئے اشوک گہلوت بھی بھنور میں ہیں۔ پہلے بھرت پور کے قریب گوپال گڑھ کے دنگوں پر راجستھان سرکار میں راج دھرم کا پالن ٹھیک طرح سے نہیں کیا۔ پولیس کے مظالم کے سبب راجستھان حکومت سرخیوں میں رہی۔ ان دنگوں میں 9 لوگ مارے گئے تھے۔ مسلم فرقے میں بھی بھاری ناراضگی تھی۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ چاہے بھنوری دیوی کا معاملہ رہا ہو یا بھرت پور دنگوں کا ، دونوں معاملوں میں انتظامیہ کی بدانتظامی تھی۔ معاملہ دہلی دربار تک بھی پہنچ گیا اور گہلوت کو کئی بار دہلی آنا پڑا۔ ڈیڑھ مہینے میں وہ 15 بار دہلی کے چکر لگا چکے ہیں۔ انہوں نے موقعے کی نزاکت سمجھی اور بغیر کسی دیر کے دونوں ہی معاملوں کو سی بی آئی کے حوالے کردیا۔ کیونکہ بھنوری کانڈ میں راجستھان سرکار کے ایک سے زیادہ وزیر کے شامل ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے گہلوت نے فٹا فٹ سبھی وزرا سے استعفے لے لئے اور کیبنٹ کے سبھی افراد نے اپنے استعفے وزیر اعلی کو کیبنٹ کی میٹنگ میں سونپ دئے۔گہلوت جلد ہی کانگریس اعلی کام کی ہدایت لے کر نئی کیبنٹ بنائیں گے۔ وزیر داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے شانتی دھاریوال نے میٹنگ کے بعد بتایا کہ سبھی وزرا نے گہلوت کی لیڈر شپ پر بھروسہ جتاتے ہوئے ایک رائے سے یہ فیصلہ لیا ہے کہ وزیراعلی دہلی میں کانگریس ہائی کمان کے سامنے کہہ سکیں کہ پوری ٹیم ان کے ساتھ ہے۔ دھاریوال نے کہا سرکار کو کوئی خطرہ نہیں ہے استعفیٰ دینے کے لئے گہلوت نے نہیں کہا تھا۔ طویل عرصے سے ریاست کی سیاست میں بے یقینی کا ماحول بنا ہوا تھا۔ پارٹی ہائی کمان کی بھی ہدایت تھی۔ ایسے میں ہم نے گہلوت کی طاقت بڑھانے کے لئے اجتماعی طور سے استعفے دینے کا فیصلہ کیا۔ دراصل بھنوری معاملے میں مہیپال مدیرنا کے ملزم ہونے کے بعد سے ہی کیبنٹ میں ردو بدل کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی تھیں۔ پچھلے دنوں وزیر کھدان رام لال جاٹھ کے کردار پر اٹھے سوال سے بھی گہلوت پریشان تھے حالانکہ دونوں بھنوری سیکس اسکینڈل اوربھرت پور دنگوں میں اشوک گہلوت کسی بھی طرح ملوث نہیں تھے لیکن سرکار کے سربراہ کی حیثیت سے وہ ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ گہلوت نے صحیح قدم اٹھایا ہے۔ گرتی ساکھ کو بچانے کے لئے یہ کچھ حد تک ضروری بھی تھا۔
Anil Narendra, Ashok Gehlot, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Rajassthan, Rajasthan High Court, Vir Arjun

13 اکتوبر 2011

ایرانی ہیروئن کو ایک سال قید و 90 کوڑوں کی سزا


Published On 14th October 2011
انل نریندر
ہم نے افغانستان میں طالبان کی خواتین پر مظالم کے بارے میں تو سنا تھا لیکن ایران جیسے ملک میں اس طرح کی بربریت کو سن کر ضرور حیرت ہوئی۔ آج کے زمانے میں کسی خاتون کو کوڑے مارے جائیں یہ بات ہضم کرنا تھوڑی سی مشکل ہے لیکن ایران میں ایسا ہی ایک قصہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک فلمی ہیروئن کو 90 کوڑے مارنے اور ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اداکارہ پر الزام ہے اس نے ایسی فلم میں اداکاری کی جو دیش کے فنکاروں پر لگی پابندی کو ظاہر کرتی ہے۔ ایران میں اپوزیشن کی ایک ویب سائٹ کے مطابق بیجا برتاﺅ پر مبنی 'مائی تہران فار سیل' (میرا تہران بکاﺅ ہے) نامی فلم میں اداکاری کرنے کےلئے ایک سال قید اور90 کوڑے مارے جانے کی سزا سنیچر کو سنائی
 گئی۔ یہ فلم ایک نوجواں اداکارہ کی کہانی ہے جو ایران میں اداکاری پر پابندی لگا دئے جانے کے بعد چپ چاپ اپنے شوق کو زندہ رکھتی ہے۔ یہ فلم ایران میں ممنوع ہے لیکن چوری چھپے اس کو دکھایا جارہا ہے۔ اسے ایران کے کٹرپسند خیمے کی طرف سے احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایرانی اداکارہ مرزیا وفا مہر کا جرم بس اتنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی فلم میں کام کیا جس میںدیش کے فنکاروں کی زندگی کو دکھایا گیا ہے۔
مرزیا کا قصور واضح نہیں کیا گیا ہے لیکن انہیں سزا ملی ۔جس نے دنیا میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ 'مائی تہران فار سیل' فلم کی شوٹنگ ایران کی راجدھانی تہران میں ہوئی۔ یہ ایک ایسی نوجوان اداکارہ کی کہانی ہے جس کے اسٹیج ورک پر حکومت نے پابندی لگا دی ہے۔ اس فلم میں جدید شہر ایران کو نظرانداز کرتا دکھایا گیا ہے۔ یہ فلم بتاتی ہے کہ بند دروازوں کے اندر ایران کے نوجوان کس طرح جیتے ہیں۔ اس فلم کو 2009 ءمیں"انڈیپینڈنٹ اسپریٹ انسائڈ فلم ایوارڈ" بھی ملا ہے۔پچھلے سال ٹرائی میڈیا فلم فیسٹیول میں بھی اس نے مغرب کی تھیم پر فلم کے لئے جیوری ایوارڈ جیتا تھا۔ فلم کی ایران ،آسٹریلیا نژاد گریناز موسوی نے ہدایت دی ہے۔ فلم آسٹریلیا کی ایجیلینٹ کی کمپنی سیان نے بنائی ہے۔ ایران کی اداکارہ اس فلم میں بغیر پردے کے ہیں اور ان کے سرکو گنجا دکھایا گیا ہے۔ اس معاملے میں سب سے پہلے انہیں اس سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تبھی سے وہ جیل میں بند ہیں۔ حالانکہ حکومت نے مرزیا پر لگے الزامات کو نہیں بتایا لیکن اخبار 'دی ایج' کے مطابق فلم کو ایران میں دکھانے کے لئے منظوری نہیں ملی تھی اور اسے غیر قانونی طریقے سے بانٹا جارہا ہے۔ ویسے مرزیا کے شوہر ناصر تقوی خود ایران کے جانے مانے فلم ساز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فلم کو حکومت سے اجازت لینے کے بعد ہی بنایا تھا۔ ان کے وکیل نے سزا کے خلاف اپیل کی ہے۔ ایک آزاد جدید ملک میں کسی شخص کے بدن پر 90 کوڑے کی سزا کے بارے میں تصور کرنا بھی آج کی تاریخ میں مشکل ہے۔ یہ خبر پڑھ کر خوف پیدا ہوتا ہے۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ فلم کے ڈائریکٹر گرےناز موسوی نے کہا کہ مرزیا پر لگے الزامات بے بنیاد ہیں۔ فلم بنانے کو لیکر جتنے بھی پرمٹ لئے گئے تھے ہم انہیں کورٹ میں دکھا چکے ہیں۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Rajassthan, Rajasthan High Court, Vir Arjun

05 اکتوبر 2011

سونیا کو بلا تاخیر حکومت اور پارٹی کو صحیح لائن پر لانا ہوگا



Published On 5th October 2011
انل نریندر
ایتوار کو ہر کانگریسی نے راحت کی سانس لی ہوگی جب مہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری کی جینتی پر تقریباً دو مہینے کے بعد محترمہ سونیا گاندھی کو دیکھا ہوگا۔ بیرون ملک میں سرجری کرانے کے بعد پہلی بار انہوں نے کسی عوامی پروگرام شرکت کی۔ خیال رہے وہ ماہ ستمبر میں ہندوستان لوٹ آئیں تھیں لیکن میڈیا کے سامنے ابھی تک مخاطب نہیں ہوئیں تھیں۔ ان کی صحت کو لیکر میڈیا میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں لگائی جاتی رہی ہیں۔ دیکھنے میں سونیا گاندھی ٹھیک ٹھاک لگ رہی تھیں ، تھوڑی کمزور ضرور لگیں لیکن کل ملاکر پہلے کی طرح ان میں خود اعتمادی دکھائی دے رہی تھی۔ لال کرشن اڈوانی سمیت کئی لیڈروں نے ان کی صحتیابی کے بارے میں پوچھا۔ پھر سونیا پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں مہاتما گاندھی اور سورگیہ وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی تصویر پر گلہائے عقیدت پیش کرنے کے پروگرام میں انہوں نے حصہ لیا۔ قریب15 منٹ چلی اس تقریب میں کئی نیتا ان کی طبیعت معلوم کرنے کے لئے پہنچے تھے۔ اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے سونیا سے پوچھا اب آپ نے اپنی پوری ذمہ داریاں نبھانی شروع کردی ہیں؟ سونیا نے ہنستے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جواب دیا ہاں۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان راشد علوی نے کہا محترمہ گاندھی پوری طرح سے تندرست ہیں اور 2014ء کا اگلا لوک سبھا چناؤ بھی انہی کی رہنمائی میں لڑا جائے گا۔ سونیا گاندھی نے اب پوری طرح سے فورم میں آکر پارٹی متعلق ذمہ داریوں کو نبھانا شروع کردیا ہے۔ جمعرات کو پارٹی کے دو سینئر وزراء کے درمیان پیدا تنازعے جیسے قومی مسئلے کو سلجھانے کے بعد وہ پوری طرح سے ریاستی اور علاقائی معاملوں میں سرگرم ہوگئی ہیں۔ سونیا مہاراشٹر، راجستھان، تلنگانہ کے معاملوں پر حکومت اور پارٹی کے پروگراموں سے روبرو ہوئیں۔ سب سے پہلے ان کی ملاقات مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان، پارٹی کے مہاراشٹر یونٹ کے پردھان منک راؤ گاوت سے ہوئی۔ اس کے بعد سونیا نے راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت سے بھی ملاقات کی۔ بھانوری دیوی معاملے میں اور بھرت پور دنگوں کے بارے میں کی گئی کارروائی سے وزیر اعلی سے تفصیلات حاصل کی ہیں۔
سونیا کے لئے سب سے بڑی چنوتی کانگریس میں چل رہی رسہ کشی حکومت کی گرتی ساکھ کو سنبھالنا ہوگا۔ مرکز میں اقتدار میں رہنے کے باوجود کانگریس اور حکومت ان دنوں اپنے سب سے برے دور سے گذر رہی ہے۔ مرکز کے علاوہ اس کی ریاستی حکومتیں بھی سنگین بحران سے گھری ہوئی ہیں اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے سونیا کے علاوہ شاید ہی اور کوئی انہیں سلجھا سکے اور پارٹی کی نیا کو پار لگا سکے۔کانگریس کی125 سالہ تاریخ میں پہلی بار ہے کہ ان کے زیادہ تر نیتا تنازعوں اور کرپشن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مرکزی حکومت کی مقبولیت اپنے سب سے نچلے سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ریاستوں میں بھی پارٹی کی صحت تسلی بخش نہیں ہے۔ کانگریس کا سب سے مضبوط گڑھ آندھرا پردیش ان دنوں مرکزی حکومت کی طرح سب سے بری حالت میں ہے۔ الگ تلنگانہ کی تشکیل کو لیکر اس کی مکمل اکثریت والی کرن ریڈی حکومت نے دو گروپ ہونے کے دہانے پر ہے۔ راجستھان میں اشوک گہلوت سرکار بھی برے دور سے گذر رہی ہے۔ خود وزیراعلی گہلوت اور ان کے رشتے داروں پر زمین الاٹمنٹ میں دھاندلی کے الزام لگ رہے ہیں۔ ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات ہورہے ہیں جس کے چلتے نریندر مودی کے خلاف کانگریس کی جارحانہ دھار کچھ تیز ہورہی ہے۔ ساتھ ہی پارٹی کی سیکولر ساکھ بھی داغدار ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بھنوری دیوی کا پتہ نہیں چل رہا ہے۔ سرکار کے سینئر وزیر مہیپال مردگنا سیدھے کٹہرے میں ہیں۔ دہلی میں شیلا دیکشت سرکار بھی مرکزی حکومت کی طرح بھاری ناراضگی سے دوچار ہے۔ کامن ویلتھ گھوٹالوں کے علاوہ مہنگائی کی مار نے دہلی کی کانگریس سرکار کو جنتا کا دشمن نمبر ون بنا دیا ہے۔ ہریانہ سرکار کے لئے اروند کیجریوال سردرد بنے ہوئے ہیں۔ انا ہزارے اپنا پہلا تجربہ حصار پارلیمانی سیٹ پر ہونے والے ضمنی چناؤ سے کررہے ہیں۔ سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے پر بھی وہ سروے کرارہے ہیں۔ گووا سے بھی کان گھوٹالے کی خبروں میں دہلی میں بیٹھے آقاؤں کا درد سر بڑھا دیا ہے۔مرکز کا تو بہت برا حال ہے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بعد خود وزیر اعظم ٹو جی گھوٹالے کی جانچ کی رپورٹ میں شامل ہیں۔ کل ملاکر سرکاراور پارٹی کے سامنے کئی چنوتیاں اور مسائل ہیں جنہیں سونیا گاندھی کو سلجھانا ہوگا۔ میڈم خود بھی ان حالات سے دکھی ہوں گی۔ بھگوان انہیں اچھی صحت بخشے اور وہ ان منہ پھاڑتی چنوتیوں کا ہمت اور حوصلے اور صبر سے مقابلہ کرسکیں۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, L K Advani, Mahatma Gandhi, Rajassthan, Sonia Gandhi, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...