Translater
23 اگست 2025
بل پر اپوزیشن کا ہنگامہ !
سنگین جرائم الزامات میں گرفتار اور مسلسل 30 دین حراست میں رہنے پر وزیر اعظم ،وزیر اعلیٰ،وزرا کو عہدے سے ہٹانے والے بل کو بدھوار کو پیش کیا گیا حالانکہ اس بل کو جے پی سی کو بھیج دیا گیا ہے جو اگلے سیشن کے پہلے دن پیش کرے گی ۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کے جے پی سی کے سامنے اپنے اعترازات درج کرانے کا موقع ملے گا ۔ابھی جو قانون اس کے مطابق ،جب تک قصور ثابت نا ہو جائے جب تک یہ وزیر استعفیٰ دینے کےلئے مجبور نہیں ہے ۔اس بل کے ذریعہ آئین کی دفعہ 75 میں ترمیم کرنی ہوگی ۔جس میں وزیراعظم کے ساتھ وزرا کی تقرری اور ذمہ داریوں کی باتیں ہیں ۔مسودہ بل کے مطابق ،اگر کسی وزیر کے عہدے پر عہدے پر رہتے ہوئے مستقل 30 دن کےلئے کسی قانون کے تحت کرائم کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے اور حراست میں لیا جاتا ہے ۔جس میں 5 سال یا اس سے زیادہ کی سہولت ہے،اسے صدر کی صلاح وزیراعظم کی صلاح پر عہدے سے ہٹا دیا جائے گا ۔ایسا حراست میں لئے جانے کے 31 ویں دن ہو جانا چاہئے ۔سرکار اس بل کو کرپشن مخالف بتا رہی ہے ،وزیر داخلہ امت شاہ نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کے سیاسی کرپشن کے خلاف مودی سرکار کے عزم اور جنتا کی ناراضگی کو دیکھ کر میں نے آئین ترمیمی بل پیش کیا ہے تاکہ پی ایم ،سی ایم اور وزیر جیل میں رہتے ہوئے سرکار نہ چلا سکے ۔اس کا مقصد سیاست میں صاف ستھرا پن لانا ہے ،حال ہی میں ایسی حالت بنی کے سی ایم یا وزیر کے بغیر استعفیٰ دئے جیل سے سرکار چلاتے رہے ۔ادھر اپوزیشن نے اس بل کی زبردست مخالفت کی ہے ۔اپوزیشن کی جانب سے ایم پی اسدالدین اویسی ،کانگریس کے منیش تواری ،کے سی وینو گوپال ،آر ایس پی کے این کے پریم چند و سپا کے دھرمندر یادو نے جم کر احتجاج کیا ۔پریم چندرن نے کہا کے تینوں بلوں کو ایوان میں پیش کرنے کےلئے اتنی ہڑ بڑی کیوں ہے ؟اس پر امت شاہ نے کہا کہ پریم چندرن جلد بازی کی بات کر رہے ہیں تو لیکن اس کا سوال اس لئے نہیں اٹھتا کیوں کے میں نے ان بلوں کو جے پی سی کو سونپنے کی بات بتاتا ہوں اس کے بعد کانگریس کے سی وینو گوپا نے کہا کہ بھاجپا کے لوگ کہہ رہے ہیں یہ بل سیاست میں شفافیت لانے کے لئے لایا گیا ہے انہوںنے کہا کیا میں وزیر داخلہ سے پوچھ سکتا ہوں کے جب گجرات میں وہ وزیرداخلہ تھے انہیں گرفتار کیا گیا تھا تب کیا انہوںنے اخلاقیت کا خیال رکھا تھا ؟وزیر داخلہ نے وینو گوپال کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ریکارڈ بتانا چاہتا ہوں میں نے گرفتار ہونے سے پہلے اخلاقیاتی اصولوں کا حوالہ دیکر استعفیٰ بھی دیا تھا ۔اور جب تک عدالت سے بے قصور ثابت نہیں ہوا تب تک میں نے کوئی آئینی عہدہ قبول نہیں کیا انہوںنے کہا ہمیں کیا یہ اخلاقیت سکھائےں گے ؟کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے بل کو غیر جمہوری بتایا اور مرکزی سرکار پر نقطہ چینی کی کہ ایسے بل لاکر بھاجپا سرکار لوگوں کی آنکھوں میں دھول چھونکنے کا کام کر رہی ہے ۔یہ پوری طرح کچلنے والا قدم ہے ۔یہ ہر چیز کے خلاف ہے اور اسے کرپشن مخالف کی شکل میں پیش کرکے لوگوں کی آنکھوں میں دھول چھونکنے جیسا ہے سوشل میڈیا میں بھی اس بل پر خوب رائے زنی ہو رہی ہے ۔کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے یہ بل دو مونھ ہی تلوار ہے جہاں اس سے سنی ہوئی ریاست کی اپوزیشن حکومتوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے ۔وہیں یہ این ڈی اے اتحادیوں کے لئے بھی ایک نصیحت ہے کے آپ اگر لائن پر نہیں چلے تو آپ کا بھی کیا انجام ہو سکتا ہے ۔سمجھدار کو اشارہ ہی کافی ہے ویسے ہمیں لگتا ہے کے اس آئینی ترمیمی بل کو پاس کرانا اتنا آسان نہیں ہوگا اس کے لئے لوک سبھا اور اراجیہ سبھا میں دو تہائی اکثریت دونوں ایوانوں میں ہونی چاہئے ۔جو فی الحال تو ان کے پاس نہیں ہے ویسے بھی مانسون کا اجلاس ختم ہو گیا ہے اب تو سرمائی اجلاس میں ہی غور ہوگا ۔مرکزی سرکار اس بل کو کرپشن مخالف بتا رہی ہے جب کے اس سے کوئی مطلب نہیں ہے دونوں فریقین کو تال میل کے راستے پر چلنا ہوگا ۔خیال رہے کے ہماری آئینی سبھا میں شامل نیتاﺅ نے سوچا بھی نہیں تھا کے کبھی بھی سیاسی اخلاقیات کا اتنا اسٹنڈرڈ گر جائےگا آج تو کوئی داغی نیتا عہدہ چھوڑنا نہیں چاہتا ایسے میں آج یا کل ،کچھ قانونی قدم اٹھانے ہی پڑے گے تاکہ داغیوں کے لئے جگہ نہیں بچے ۔اور اس حمام میں سبھی ننگے ہیں ۔
(انل نریندر)
21 اگست 2025
چناوی سوالوں کا جواب نہیں ملا!
آخرکار بھارت کے چناو¿ کمیشن نے چناوی سوالوں کے مسئلے پر پریس کانفرنس کی تو جب برننگ سوالوںکے جوابات کو ٹالنے پر زیادہ زور دیا گیا ۔بہتر ہوتا کہ چناو¿ کمیشن یہ پریس کانفرنس نہ کرتا پریس کانفرنس بھی اس دن کی گئی جب اتوار تھا اسی دن دہلی میں پردھان منتری نریندر مودی کاروڈ شو چل رہا تھا اور بہار کے ساسا رام میں راہل گاندھی کی ووٹ چوری یاترا شروع ہورہی تھی نتیجہ یہ ہوا کہ اس پریس کانفرنس نے نئے سوالوں کو جنم د ے دیا ۔جمہوریت میں چناو¿ صرف سرکار چلانے کی صلاحیت حاصل کرنا نہیں بلکہ چناو¿ کی بنیاد بھی ایک اہم ستون ہے جس پر دیش ریاست اور جمہوریت کا دارو مدار ٹکا ہوا ہے ۔اس کاروائی کو آزادانہ منصفانہ طور سے صاف ستھرے طریقہ سے مکمل کرانے کی ذمہ داری چناو¿ کمیشن پر اتوار کو چناو¿ کمیشن نے اپوزیشن پارٹیوں کے ووٹ چوری سے جڑے الزامات کے جواب دیے ۔پریس کانفرنس کے بعد چناو¿ کمیشن نے کہا پریس کانفرنس میں اپوزیشن کے اٹھائے گئے سوالوں کا سیدھا جواب نہیں دیاگیا ۔تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار چناو¿ سے ٹھیک پہلے بی جے پی چناو¿ کمیشن کے ساتھ مل کر ووٹ دینے کا حق چھین رہی ہے ۔آر جے ڈی نے یہ سوال اٹھایا کہ ایس آئی آر ایسے وقت کیوں کیا جارہا ہے جب بہار میں سیلاب آیا ہوا ہے ۔اخبار نویسوں نے چناو¿ کمیشن سے سوال پوچھا تھا س پر کمیشن نے کہا کہ بہار میں 2003 میں بھی ایس آئی آر ہوا تھا اس کی تاریخ 14 جولائی سے 14 اگست تھی تب بھی کامیابی کے ساتھ پورا ہوا ۔راہل گاندھی نے دعویٰ کیا تھا کہ 2004 کے لوک سبھا اور مہاراشٹر ،کرناٹک ،مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات میں ووٹر فہرستوں میں وسیع گڑ بڑی ہوئی ۔مہادیو پورہ اسمبلی حلقہ میں ایک لاکھ سے زیادہ فرضی ووٹر اور کئی غیر تسلیم پتوں کا الزام لگایا تھا ۔راہل گاندھی نے ڈپلیکیٹ ووٹروں جیسے ایک ہی شخص کا کئی ریاستوں میں ووٹ کی شکل میں رجسٹریشن اور غلط پتوں جیسے ایک چھوٹے کمرے میں سینکڑوں ووٹر بنے ہونے کی مثالیں دی تھیں ۔چناو¿ کمیشن نے الزامات کو بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ بتاتے ہوئے کہا کہ ووٹ چوری جیسے الفاظ کا استعمال کروڑوں ووٹروں اور لاکھوں چناو¿ ملازمین کی ایمانداری پر حملہ ہے ۔کیا راہل گاندھی کے سوالوں کا یہی جواب تھا ۔راہل گاندھی بار بار کہہ رہے ہیں کہ چناو¿ کمیشن ان سے حلف نامہ مانگ رہا ہے ، مجھ سے سرٹیفکیٹ مانگا ہے جبکہ کچھ دن پہلے ہی بی جے پی کے لوگ پریس کانفرنس کرتے ہیں تو ان سے کوئی حلف نامہ نہیں مانگاجاتا انہیں ”چناو¿ کمیشن “ ڈیٹا دیتا ہے اورمجھ سے حلف نامہ مانگا جارہا ہے ۔الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے جواب دیا جہاں آپ گڑ بڑی کی بات کررہے ہیں اور آپ اسمبلی حلقہ کے ووٹرنہیں ہیں ۔تو قانون کے مطابق آپ کو حلف نامہ دینا ہوگا ۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حلف نامہ دینا ہوگا یا دیش سے معافی مانگنی ہوگی ۔اگر سات دنوں کے اندر حلف نامہ نہیں ملتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ سبھی الزام بے بنیاد ہیں ۔اس پر کانگریس نیتا پون کھیڑا نے کہا کہ چناو¿ کمیشن نے اپوزیشن کے سوالوں کا سیدھا کوئی جواب نہیں دیا ۔ان کا کہنا ہے کہ کیا گیانیش کمار نے ان لاکھوں ووٹرس کے بارے میں کوئی جواب دیا جنہیں ہم نے مہادیوو پورہ میں بے نقاب کیا تھا ؟ نہیں دیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے امید کی تھی کہ الیکشن کمشنر گیانیش کمار ہمارے سوالوں کا جواب دیں گے ۔۔۔ایسا ہوا ۔ایسا لگ رہا تھا کہ پریس کانفرنس میں بی جے پی کا کوئی نیتا بول رہا ہے ۔ایک سینئر صحافی پریجوائے ٹھاکر تا نے چناو¿ کمیشن کی اس پریس کانفرنس میں تھے ان کا خیال ہے کہ فی الحال جو صفائی چناو¿ کمیشن نے دی ہے اس سے یہ اشو ختم نہیں ہوتے دکھائی دے رہا ہے ۔پریس کانفرنس میں کچھ سوالوں کے واضح صاف جواب نہیں ملے ہیں جیسے میں نے پوچھا کہ کیا سچ ہوں کہ مہاراشٹر میں آپ نے 40 لاکھ نئے ووٹرس کو شامل کیا اس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ ستر کی دہائی میں کسی نے کوئی اعتراض نہیں درج کرایا ۔میں نے ایک اور سوال پوچھا کہ کیا لوگوں سے زیادہ نام ووٹر لسٹ میں تھے تو اس کا جواب مجھے نہیں ملااس طرح سے کئی سوال ہیں جن کے جواب صاف نہیں ملے ۔چناو¿ کمیشن نے بہار ڈرافٹ لسٹ سے قریب 65 لاکھ ووٹر ہٹائے ہیں یہ بہت بڑی تعداد ہے اس کا کوئی جواب نہیں ملا ۔چناو¿ کمیشن آج سے پہلے اس طرح کبھی پریس کانفرنس کرنے کے لئے سامنے نہیں آیا تھا ۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ چناو¿ کمیشن کے جواب کو سیاسی پش منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ٹائمنگ کی بات کریں تو یقینی طور سے چناو¿ کمیشن کا جواب بھی سیاسی ہے ۔جیسے راہل گاندھی اسے بہار میں سیاسی اشو بنارہے ہیں تو ٹھیک اسی تاریخ کو سرکار کی جانب سے چناو¿ کمیشن نے اپنا موقف سامنے رکھا ہے۔
(انل نریندر)
19 اگست 2025
الاسکامیں نہیں بنی بات!
امریکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور روسی صدرولادیمیر پوتن کی الاسکا ملاقات پر ساری دنیا کی نظریں لگی تھی ۔پچھلے 3 سال سے جاری روس یوکرین جنگ کی خاتمے پر امیدیں لگائی جا رہی تھی۔مستقل امن نا بھی ہوتا تو اتنا تو ہو سکتا تھا کے جنگ بندی تو ہو جائے لیکن ۔ساری امیدیں ٹوٹ گئیں ۔بیشک کچھ مسلوں پر ضرور دونوں ملکوں کے صدور میں رائے بنی لیکن مستقل حل نہیں نکلا ۔3 سال سے الگ تھلگ کئے گئے پوتن کو ٹرمپ نے نہ صرف کھلے دل سے خیر مقدم کیا بلکہ ریڈ کارپیٹ بچھاکر ان کا کھلے طور پر ان کی عزت افزائی بھی کی ۔حالانکہ جس مثلے کےلئے یہ اہم میٹنگ ہوئی تھی اس پر کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آ پایا ۔ٹرمپ - پوتم ملاقات سے یوکرین مثلے پر کوئی فوری حل نہیں نکلا باوجود ییہ ملاقات خاص رہی ۔روس کے یوکرین پر حملے اور جنگی جرائم کے الزامات کے چلتے پوتن مغربی دنیا سے الگ تھلگ پڑ گئے تھے ۔
اس ملاقات نے انہیں اچانک دنیا کے مرکز میں واپس لا دیا امریکہ کے فوجی اڈے پر دونوں لیڈروں کا ساتھ کھڑے ہو کر ایک دوسرے کی تعریف کرنا ، بات چیت کرنا اور یہاں تک کے ٹرمپ کی لیوجن میں ساتھ بیٹھنا یہ سب ایسے منظر تھے جو امریکہ روس تعلقات کی تاریخ میں کم ہی دیکھے جاتے ہیں۔ دنیا بھر کے میڈیا ایک پریس کا نفرنس کی امید کر رہی تھی لیکن دونوں لیڈروں نے صرف بیان ہی دیئے اور کسی سوال کا جواب نہیں دیا ۔ ٹرمپ نے امید جتائی تھی اور یہاں تک کے دعوی کیا تھا کے وہ روس یوکرین جنگ کو رکوا دیں گے ۔ حالانکہ پوتن نے بھی بھی اسے قبول نہیں کیا۔ پوتن کے لئے یہ ملاقات کسی چیت سے کم نہیں تھی ۔ بغیر کوئی ریاست دیئے انہیں دنیا کی سب سے طاقتور کرسی سے عزت اور اعزاز ملا۔ اس پوری کوشش میں یوکرین کا رول حاشیہ پر رہا اس میٹنگ کے لئے یوکرین کے صدر ولادیمیر ۔ ریلیکسی کو مدعو تک نہیں کیا گیا ۔ الاسکا میں ٹرمپ ۔ پوتن ملاقات کو عالمی میڈیا امن کی سمت میں بہت بھروسے کے ساتھ نہیں دیکھ رہا ہے ۔ روسی میڈیا نے پوتن کی حکمت عملی جیت کا ثبوت مانا یوروپی میڈیا نے امید اور خدشات دونوں جنائے ۔ وہیں عالمی ماہرین اور گھریلوں امریکہ سیاسی حلقوں میں بحث کا بڑا حصہ ٹرمپ کا شخصی کردار اور ان کا مسخری لیڈر جیسی ساخ پر مرکوز رہا۔ نیو یارک ٹائمس نے غیر متوقع شش و میچ کا رخ اپناتے ہوئے ساخ پر سوال مرکوز رہا۔ کیا بات چیت صرف فوٹو اور آپ اور طویل سرخیوں میں تھا حقیقت میں جنگ بندی کی سمت میں ٹھوس قدم ؟ امریکی خفیہ اور ڈفنس حلقوں میں خدشہ ہے کے پوتن نے میٹنگ کا استعمال عالمی اسٹیج پر اپنی ساکھ بہتر بنانے اور یہ دکھانے کے لئے کیا کے امریکہ دراصل روس سے بات چیت کرنے پر مجبور ہوا۔ واشنگٹن پوسٹ نے سیاسی دباؤ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کے ٹرمپ کا موڈ پر مبنی قیادت امریکہ کی طویل المدت سیاست حکمت عملی کو کمزور کر رہا ہے ۔ دونوں اخباروں نے لکھا کے ٹرمپ کے فیصلے ان کے موڈ پر منحصر ہیں ۔ آج خوش ہیں تو امن کی بات کریں گے کل غصہ میں ہو توں پلٹ جائے گے۔ ایم ایس این وی نے ٹرمپ کو ریلٹی شو کا میزبان استار قرار دیا کہا تو بل کی چاہ میں ایک بریکار لیڈر اور عالمی اسٹیج پر کوئی ڈرامہ کر سکتا ہے قرار دیا ٹرمپ عالمی اسٹیج پر عالمی سیاست کو شو مین شپ میں بدل رہے ہیں سی این این نے کہا ٹرمپ امن کی جانب بڑھ رہے ہیں لیکن ان کا غیر متوقع رکھ سب پر بھاری ہے و ہیں برطانوی اخبار دا گارجین نے بات چیت کو سیاسی بد سمتی بتایا ۔ لکھا بات چیت ایسے وقت ہوئی جب آرتھک خطہ میں روس امریکہ اور آرتک سیاست میں نرمی کا اشار و لگتا ہے۔ اخبار گارجن نے خبردار کیا ٹرمپ کی غیر متوقع ڈپلومیسی سے بات چیت نتیجہ بھرو سے مند نہیں مانے جا سکتے ۔ ادھر روس کے اختبار از دیسٹیا نے لکھا کے ٹرمپ کو ماننا پڑا کے پوتن بغیر یوکرین کا مستقبل طے نہیں ہو سکتا اور اسے کمزور نہ دیکھے روس کی ڈپلومیسی واپسی بتایا ۔ ٹی وی چینل کی بھی آرٹی نے دی میٹنگ کو پوتن کی مضبوطی اور صبر کا نتیجہ قرار دیا اتنا تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں اس میٹنگ میں بلا شبہ ولادیمیر پوتن کو عالمی سفارتی کا ایک منجھا ہوا کھلاڑی بنا دیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کے روس یوکرین جنگ میں جو برف کھلنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے یا الگ ہے۔
(انل نریندر )
17 اگست 2025
ٹرمپ ٹیرف سے ایکسپورٹ پر سنکٹ!
مرکزی حکومت کے چیف اقتصادی مشیر اننت نگیشورن نے کہا ٹرمپ ٹیرف کا اثر 6مہینے سے زیادہ رہنے والا نہیں ہے۔انکا کہنا تھا لانگ ٹرم چیلینج کےلئے پرائیویٹ سیکٹر کو اہم تعاون دینا ہوگا۔ناگیشورن نے خبر دار کیا کہ 6مہینے کے اندر جیمس اینڈس جیولری ،کپڑا اور سی فوڈ انڈسٹری کوبڑے ہوئے ٹیرف کا مقابلہ کرنا ہوا۔ٹرمپ ٹیرف کا ہندوستان کی معشت پر خاص کر کچھ سیکٹروں میں توا بھی سے برا اثر پرنا شروع ہو گیا ہے۔دینک بھاسکر میں چھپی خبر کے مطابق ہندستانی چیزوں پر امریکہ کے بھاری بھرکم 25فیصد ٹیرف نے دیش کے کئی اہم درامدات صنعتوں کے سامنے نیا بحران کھڑا کر دیا ہے ۔اسکا اثر 55فےصد اکسپورٹ پر پڑے گا رےاستےوں کے سامنے بھی نئی چنوتےاں کھڑی ہو گئی ہےں۔ہالانکہ ٹےرف کا اثر سبھی سےکٹروں میں برابر نہےں ہے ،لےکن کہیں پورانے سودوں پر سنکٹ ہے تو کہیں مستقبل مےں آڈر کےنسل ہونے کا اندےسہ بڑھ گےا ہے۔چاول برآمدات کرنے والوں کی پرےشانی بڑھ گئی ہے بھارت تقرےبا 127ملکوں کو 60لاکھ ٹن بانسمتی چاول فروخت کرتا ہے۔اس مےں سے قرےب 2.70لاکھ ٹن ےعنی 4فےصدی چاول امرےکہ کو جاتا ہے۔اس برآمدات مےں قرےب 40فےصدی حصہ ہرےانہ کہ تراوڑی (کرنال)سے جاتا ہے۔آل انڈےا رائس ایکسپورٹ حکام کا کہنا ہے اگر امرےکہ کو بانسمتی چاول بھیجنا نہےں ہوتا تو بھی بڑا نقصان نہےں ہونے والا ہے۔2.70لاکھ ٹن چاول دوسرے ملکوں مےں کھپانہ مشکل نہےں ہوا۔ فی الحال چاول ایکسپورٹ وےٹ اےڈ واچ کی صورت حال مےں ہے کےوںکہ اس سال کا کوٹا پورا ہو چکا ہے۔وہی پانی پت نارتھ انڈےا کا بڑا ٹےکسٹائل حب ہے جہاں سے ہر سال قرےب 20ہزار کروڑ روپے کا کپڑا باہر جاتا ہے اور اس مےں سے ادھا 10ہزار کروڑ تک کا کاروبار اکےلے امرےکہ سے ہوتا ہے۔باہر بھےجنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ امرےکہ کے ٹےرف بڑھانے سے 500کروڑ روپے کے پرانے آرڈر پر مشکل آ گئی ہے۔نئے آرڈر نہےں مل رہے ہےں کچھ اےکسپورٹر پہلے سے بھانپ کئے ہےں ۔اےسے مےں نہوں نے امرےکہ سے بڑے آرڈر لےنا بند کر دےئے ہےں اور سامان مےں بھی کٹوتی کر دی ہے۔ سنگاپور کے ذرےعہ امریکہ سے تجارت کی گنجائش ہے۔برطانےہ سے باہمی تجارت محاہدے سے کچھ فائدہ مل سکتا ہے۔پانی پت مےں3500ہزار کپڑا کارخانے ہےںجن مےں 500سو ایکسپورٹ ہاو ¿س ہےں اور ان مےں 2.5لاکھ لوگوں کو روزگار ملا ہوا ہے۔ نئے آرڈر نہ ملنے پر مزدوروں کی روزی روٹی پر برا اثر بڑے گا۔جمو کشمےر مےں ہےنڈ لوم و دستکاری( خاص کر شال )نے گزشتہ 3برسوں مےں اےکسپورٹ مےں قابل قدر ترقی کی ہے۔ٹےرف کے بعد کارو باری چوکس ہو گئے ہےں۔جمو کشمےر شال اےکسپورٹ اسوسی اےشن نے کہا امرےکہ مال مہنگا ہوگا لےکن کوئی آرڈر ابھی تک کےنسل نہےں ہو ا ہے۔ ہمارے لئے دوسرے ملکوں کے بازار کھلے ہوئے ہےں اگر امرےکہ مےں مانگ گھٹی تو اےکسپورٹ کو دوسرے ملکوں کے بازاروں مےں موڑ دےنگےں۔کمرشےئل خفیہ و ٹےلی محکمہ و جمو کشمےر اقتصادی سروے سے کل اےکسپورٹ 3سال مےں بڑ کر 2023-24مےں 1162کروڑ پہنچ گےا اس مےں سال کا کروبار 477.24کروڑ تھا ادھر روہتک کا نےٹ برسلےٹ صنعت سالانہ 5000کروڑ کا کاروبار کرتی ہے اس مےں سے 70فےصد تجارت امرےکہ سے ہوتی ہے۔اگر نےا ٹےرف لاگو ہوتا ہے تو نا صرف سپلائی متاثر ہوگی بلکہ کاروبار بھی سنکٹ مےں آ جائے گا۔پرےشانی کی بات ہے کہ کچھ کمپنےوںکو 2مہےنوںسے کوئی آرڈر نہےں ملاہے۔مستقبل مےں جو آرڈر ملنے ہےں انکی سپلائی پر ٹےرف کا آثر نظر آئے گا۔زےادہ ٹےرف سے صنعتی کارخانوں کےلئے دنےا کے بڑے بازاروں مےں مال بےچنا مشکل ہو جائے گا۔کےوں کہ پروڈکشن سامان 25فےصد تک مہنگا ہو جائے گا۔اس کا اثر کمپنی پر سےدھا نہ پڑ کرگراہک پر پڑے گا اےک تاجر جسمےر لاٹھا نے بتاےا کہ ہم امرےکہ ،برطانےہ ،ےوروپ مےں نئے بولٹ کی سپلائی کرتے ہےں۔ٹےرف کے سبب قرےب 50کروڑ روپے کے آرڈر بک ہوئے ہےں۔ہمارا 70فےصدی نٹ بولٹ امرےکہ کو جاتا ہے اس پر پہلے کسٹم ڈےوٹی 3فےصد تھی جو اب بڑھ کر اب 25فےصدی ہو گئی ہے ےہ پچھلے 40-50برسوں مےں بہت زےادہ ہے اسکے علاوہ 25فےصد ٹےرف بھی ہے اس سے ہماری چےزےں کافی مہنگی ہو جائے گی ۔ےہاں کے صنعت کاوروں کا کہنا کہ مےں نے تو ےہ صرف ہرےانہ کی صنعتوں اور اےکسپورٹوںکی بات کی ہے ۔باقی دےش مےں بھی صنعتےں مطاثر ہوگی اور لاکھوں کام کرنے والے بے روزگار ہونے کے دہانے پر کھڑے ہےں پہلے سے ہی بے روز گاری انتہا پر ہے اس نئے دھماکہ کا کا اثر پڑے گا جلد پتہ چل جائے گا۔
(انل نرےندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس
ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...