Translater

02 مارچ 2018

کیا اس بار بی جے پی تریپورہ میں لیفٹ پارٹیوں کو صاف کرے گی

نارتھ ایسٹ ریاستیں میگھالیہ اور ناگالینڈ میں اسمبلی چناؤ کے لئے منگل کے روز ووٹ پڑ گئے۔ ناگالینڈ میں تشدد کے کچھ واقعات ہوئے ہیں تو میگھالیہ میں پولنگ پوری طرح پرامن رہی۔ دونوں ہی ریاستوں میں قریب 75فیصدی پولنگ ہوئی۔ ناگالینڈ میں حکمراں ناگا پیپلز فرنٹ اور بھاجپا کے درمیان ہوئے ٹکراؤ میں ایک آدمی کی موت ہوگئی۔ دونوں ریاستوں کے چناؤ افسران نے بتایا کہ پچھلے اسمبلی چناؤ میں ناگالینڈ میں 90.57فیصدی اور میگھالیہ میں 89فیصدی ووٹ پڑے تھے۔ ناگالینڈ میں اس بار 59 سیٹوں کیلئے 227 امیدوار جبکہ میگھالیہ میں اتنی ہی سیٹوں کے لئے 32 عورتوں سمیت 370 امیدوار ہیں۔ اکھلوٹو اسمبلی حلقہ میں حکمراں این پی ایف اور این ڈی سی پی حمایتیوں کے درمیان جھگڑے میں ایک شخص کی موت ہوگئی جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے۔ ریاست کے مون ضلع کے تجت گاؤں میں ایک پولنگ مرکز پر صبح پونے چھ بجے دیسی بم پھینکا گیا جس کے دھماکہ کی زد میں آکر ایک شخص زخمی ہوگیا۔ نتیجے 3 مارچ کو آئیں گے۔ تریپورہ میں پہلے ہی چناؤ مکمل ہوچکا ہے۔ بھاجپا تریپورہ میں مارکسوادی پارٹی سے اقتدار چھین پائے گی؟ ناگالینڈ میں این پی اے ایف اپنا اقتدار بچا پائے گی اور کیا کانگریس میگھالیہ میں حکمراں مخالف لہر سے لڑ پائے گی۔ ان سبھی سوالوں کے جواب سرکاری طور سے تو 3 مارچ کو ہی ملیں گے لیکن ایگزٹ پول کے نتیجے بتاتے ہیں تریپورہ میں بھاجپا سرکار بننے کے پورے آثار ہیں۔ 25 سال سے جھنڈا گاڑھے لیفٹ پارٹی کی حکومت اس بار بھاجپا اور آئی پی ایف ٹی محاذ کو جھٹکا دے سکتی ہے۔ جن کی بات نیوز ایکس کے ایگزٹ پول میں 60 ممبری اسمبلی میں بھاجپا آئی پی ایف ٹی کو 35 سے 40 سیٹیں مل سکتی ہیں جبکہ لیفٹ پارٹیاں 50 سے گھٹ کر 14سے23 کے درمیان سمٹ سکتی ہیں ۔ دوسری طرف سی ووٹر کے مطابق تریپورہ میں لیفٹ پارٹیوں کو 26 سے 24 سیٹیں، بھاجپا اتحاد کو 24 سے32 سیٹیں اور کانگریس کو 2 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ میگھالیہ میں ایکسز مائی انڈیا نیوز 24 کے ایگزٹ پول میں بھاجپا کو 30 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے جبکہ کانگریس 20 پر سمٹ سکتی ہے۔ سی ووٹر کے مطابق میگھالیہ میں کانگریس کو 13 سے 19 ، نیشنل پیپلز پارٹی کو 17 سے23، بھاجپا کو 4سے8 ، یو ڈی پی ایچ ،ایس پی ڈی پی کو 8سے12 اور دیگر کو 9 سے 5 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے۔ ناگا لینڈ میں جن کی بات نیوز ایکسز کے ایگزٹ پول میں بھاجپا ۔ این ڈی پی پی اتحاد کو 60 میں سے27-32 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے جبکہ این پی ایف کو 20-25، کانگریس کو 2 سیٹیں مل سکتی ہیں دیگر کو 5-7 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ سی ووٹر کے پول کے مطابق بھاجپا ۔این ڈی پی پی محاذ کو 25-31 ، اے پی ایف کو 19-25، کانگریس کو 4 اور دیگر 6-10 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ یہ ایگزٹ پول کتنے کھرے اترتے ہیں یہ 3 مارچ کو پتہ چل جائے گا۔ بھاجپا نے نارتھ اسٹیٹ میں بہت دم لگایا ہے دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس کیا اپنا گڑھ بچا پاتی ہے۔ بیشک ان تین ریاستوں کی قومی پس منظر میں اتنی اہمیت نہ ہو لیکن پھر بھی یہ اشارہ ضرور ملیں گے کہ ان ریاستوں میں ہوا کس کے حق میں بہہ رہی ہے۔
(انل نریندر)

نواز شریف کا سیاسی مستقبل

ایک اہم فیصلہ میں پاکستان کے سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی قیادت کرنے کے لئے نا اہل قرار دیا ہے۔ نواز شریف اس پارٹی کے بانی ہیں۔ پچھلے سال 28 جولائی کو عدالت نے نواز شریف کے خلاف لگے الزامات کی سماعت کرتے ہوئے انہیں پبلک عہدے پر رہنے کے لئے نااہل قرار دیا تھا۔ شریف کو کالا دھن جمع کرنے کے الزام میں قصوروار پایا گیا تھا۔ پنامہ پیپرس لیگ سے جڑے اس معاملہ میں فیصلہ آنے کے بعد انہیں وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ عدالت کے مفصل فیصلہ میں کہا تھا کہ سماعت کے دوران نواز سے ان کی املاک اور آمدنی کے ذرائع کے بارے میں سوال کئے گئے تھے جس کے انہوں نے سیدھے اور واضح جواب نہیں دئے تھے۔ عدالت کا کہنا تھا دیش کے آئین کے مطابق کسی بے ایمان شخص کو دیش پر حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی لیکن شریف کی پارٹی نے پارلیمنٹ میں ایک قانون پاس کیا جس کی بنیاد پر عدالت نے نا اہل ٹھہرائے گئے شریف کو پارٹی کی قیادت کرنے کیلئے قابل بتا کر پارٹی کا صدر چن لیا گیا۔ بعد میں پاکستان کی بڑی اپوزیشن پارٹی نے الیکشن ریفارم قانون2017 کے نام کے اس قانون کی مخالفت کی تھی۔ اپوزیشن کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا جس شخص کو کسی بھی پبلک عہدے کے لئے نا اہل قراردیا جاتا ہے وہ کسی پارٹی کی قیادت نہیں کرسکتا۔ اپنے حکم میں چیف جسٹس نے لکھا کہ پارٹی صدر کے طور پر نا اہل بتائے جانے کے بعد نواز شریف پارٹی صدر رہتے ہوئے جو بھی قدم اٹھائے گئے یا حکم دئے گئے یا گائڈ لائنس جاری کی گئیں یا دستاویز جاری کئے گئے انہیں قانون کی نظر میں کبھی پاس نہیں مانا جائے گا۔ نواز نے ہمیشہ خود پر لگے کرپشن کے الزامات سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لئے ان کے خلاف سازش رچی جارہی ہے حالانکہ واقف کار عدالت سے ایسے ہی فیصلہ کی امیدکررہے تھے لیکن یہ بھی مانتے ہیں کہ اگلے مہینے ہونے والے پاک سینٹ (پارلیمانی چناؤ) کے پیش نظر اس کا وسیع اثر پڑ سکتا ہے۔ ڈر ہے کہ اس فیصلہ کے بعد دیش میں سیاسی عدم استحکام کا ماحول تیار ہوگا۔ ہوسکتا ہے چناؤ کی تاریخوں کو پیچھے ہٹادیا جائے اور نا اہل قرار دئے جانے کے بعد سے نواز شریف اپنے معاملہ کو پبلک ریلیوں میں یعنی جنتا کے سامنے لیکر گئے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ وہ کافی حد تک اپنے ووٹروں کو سمجھانے میں کامیاب رہے ہیں کہ انہیں تنظیمی سازشوں کا شکار بنایا جارہا ہے۔ ویسے اس سے پہلے بھی سیاستدانوں کو پبلک عہدوں پر رہنے کے لئے نا اہل قرار دیا گیا ہے لیکن یہ پہلی بار ہے کہ کسی نیتا کو سیاسی پارٹی کی لیڈر شپ کرنے کے نا اہل بتایا گیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کی سیاست کے لئے ایک بڑا دھکا ہے اور اس سے دیش میں پولرائزیشن بڑھے گا لیکن یہ بات طے ہے کہ اس کا فائدہ سابق کرکٹر عمران خاں کی پاکستان تحریک انصاف کو پہنچے گا۔ آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ نواز کی اب کوشش ہوگی کہ آنے والے انتخابات میں انہیں اکثریت حاصل ہو تاکہ ان کی پارٹی کو آئین کی جس دفعہ کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے اسے بدلنے کے لئے نیا قانون لا سکیں۔
(انل نریندر)

01 مارچ 2018

معافی نہیں تو سمجھوتہ بھی نہیں

دہلی کے وزیر اعلی کی رہائش گاہ پر مار پیٹ کے چیف سکریٹری کے الزامات کے درمیان عام آدمی پارٹی کے اتم نگر سے ممبر اسمبلی نریش بالیان کا یہ کہنا کہ کام نہ کرنے والے افسر کی پٹائی ہونی چاہئے، قابل مذمت تو ہے ہی شرمناک بھی ہے۔ اس کا کیا مطلب نکالا جائے کہ سی ایم اروند کیجریوال کے سرکاری مکان پر چیف سکریٹری سے مار پیٹ ہوئی۔ وہ ایک حادثہ نہیں تھا ۔ کیا اسے سازش کے تحت انجام دیا گیا تھا؟ دہلی پولیس نے پہلے ہی عدالت کو بتایا تھا کہ وزیر اعلی کی رہائش گاہ پر رات 3 بجے عام آدمی پارٹی کے ممبران نے جس طرح چیف سکریٹری پر حملہ کیا تھا اس میں ان کی جان بھی جا سکتی تھی۔ ذرائع کے مطابق چیف سکریٹری انشو پرکاش بڑی مشکل سے عاپ ممبران اسمبلی کے چنگل سے نکل کر بھاگ سکے تھے۔ دراصل جس طرح آدھی رات کو میٹنگ میں آنے کے لئے انہیں بار بار فون کیا جارہا تھا وہ شبہ میں تھے۔ مگر یہ اندیشہ پھر بھی نہیں تھا کہ ان پر یوں جان لیوا حملہ کیا جائے گا۔ وزیراعلی نے نہ تو پیر کی رات انشوپرکاش پر حملہ کو روکنے کی کوشش کی اور نہ ہی نریش بالیان کو ٹوکا جب وہ حکام کو پیٹنے کی بات کہہ رہے تھے۔ کیا وزیر اعلی کی خاموشی ان کی حمایت کا اشارہ دیتی ہے؟ یہ پوزیشن ظاہر کرتی ہے کہ عاپ ممبران اسمبلی تہذیب کھو چکے ہیں اورا ن کے نیتا یا خودساختہ مارگ درشک انہیں تہذیب کی صلاح دینے کے خواہشمند نہیں ہیں۔ ہم دہلی سرکار کے حکام کا خوف اور بے عزتی سمجھ سکتے ہیں۔ دہلی سرکار کے ملازمین کے جوائنٹ فورم نے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل اور پولیس کمشنر امولے پٹنائک سے اپیل کی تھی کہ وہ چیف سکریٹری انشو پرکاش کے ساتھ مبینہ ہاتھا پائی معاملہ میں وزیر اعلی اور نائب وزیر اعلی کے خلاف کارروائی کریں۔ ملازمین کے مشترکہ فورم کی میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فورم کی نمائندہ پوجا جوشی نے بتایا کہ وزیر اعلی اور نائب وزیر اعلی واقعہ سے انکارکررہے ہیں۔ وہ سازش کا حصہ ہیں اس لئے ان پر کارروائی ہونی چاہئے۔ فورم نے پیر کو ہوئی میٹنگ میں اس معاملہ پر ایک ریزولوشن پاس کیا جس میں کہا گیا ہے کہ جب تک کیجریوال اور منیش سسودیہ خاص طور پر تحریری اور کھلے عام معافی نہیں مانگے جب تک افسران کی پرائیویٹ سکیورٹی اور عزت یقینی کرنے کے لئے قدم نہیں اٹھاتے ،تب تک وہ عاپ کے وزرا کے ساتھ کام کا ج میں صرف تحریری خط و کتاب کا استعمال کریں گے۔ جوائنٹ میٹنگ میں پاس ریزولوشن میں کہا گیا ہے کہ اپنی غلطی مان کر معافی مانگنے کے بجائے وزیر اعلی اس واقعہ سے انکار کررہے ہیں جو یہ دکھاتا ہے کہ وہ سازش کا حصہ تھے۔ ایسا نہیں کہ سرکار اور افسران میں ٹکراؤ پہلے نہیں ہوا لیکن جو حالت دہلی میں پیدا ہوئی ہے وہ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ باعث تشویش بھی ہے۔ کئی افسران نے دہلی سرکار سے ہٹنے کی بھی درخواست دی ہے۔ ہماری رائے میں شری اروند کیجریوال اور شری منیش سسودیہ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ حالت پیدا نہ ہو جو ان کے خلاف اور دہلی کے شہریوں کے لئے نقصاندہ ہو۔ ترقی کا جو کام بھی ہورہا تھا وہ اس ٹکراؤ سے متاثر ہوگا۔ سرکار اور عاپ کے سینئر لوگوں کو اس بحران کا حل کرنے کے لئے خیال کرنا چاہئے۔ انہیں اپنے ممبران کو تہذیب سے پیش آنے کی صلاح دیتے ہوئے حکام کے ساتھ پیدا ہوئے ٹکراؤ کو دور کرنے کیلئے ایمانداری سے آگے آکر سنجیدہ کوشش کرنی چاہئے۔ اس تنازع کو حل کرنے کے لئے لیفٹیننٹ گورنر بھی اپنا رول نبھا سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

بڑھتے این پی اے بینکوں کو کھوکھلا کررہے ہیں

دیش کے پبلک سیکٹر بینکوں کی مالی حالت باعث تشویش بنتی جارہی ہے۔ معیشت کے لئے ناسور بنے پھنسے قرض یعنی این پی اے کی وصولی کے لئے انسالوینسی اینڈ بینکرپسی کوڈ( آئی بی سی)کو لیکر بھلے ہی بڑی امیدیں ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ این پی اے ایسا مرض ہے جس کے علاج کے لئے اب تک کئے گئے نسخہ فیل ہورہے ہیں۔ حال کے برسوں میں این پی اے کی وصولی کے اعدادو شمار حقیقت بیاں کرتے ہیں۔ کمرشل بینک کاروبار کرتے وقت مختلف حالات میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور اشخاص اور کمپنیوں کو قرض دیتے ہیں۔ عموماً کچھ پیسہ این پی اے (نان پرفارمینس اثاثے) ہوجاتی ہے۔ آسان الفاظ میں کہیں تو بینکوں کا کچھ قرض پھنس جاتا ہے جس کی وقت پر ادائیگی نہیں ہورہی ہے۔ ریزرو بینک کے مطابق ستمبر 2017 کے اختتام پر دیش میں درج فہرست کمرشل بینکوں (ایس سی بی ) کا جی ڈی پی ، این پی اے ان کے کچھ قرض کا 10.2 فیصد ہوگیا ہے۔ آئیے سمجھتے ہیں این پی اے سے کیا ہوتا ہے اور بینک اس کی پہچان کیسے کرتے ہیں۔ آر بی آئی کے مطابق بینکوں کو اگر کسی قرض سے سود آمدنی ملنا بند ہوجاتی ہے تو اسے این پی اے مانا جاتا ہے۔ مثال کے لئے بینک نے جو پیسہ ادھار لیا ہوا ہے اس کی مالیت پر سود کی قسط اگر90 دن تک واپس نہیں ملتی تو بینکوں کو اس لون کو این پی اے میں ڈالنا ہوتا ہے۔ کوئی لون کھاتہ مستقبل قریب میں این پی اے بن سکتا ہے اس کی پہچان کے لئے آر بی آئی نے قاعدے بنا رکھے ہیں۔ بینکرپسی فرم کریڈٹ سوئس نے اندازہ لگایا ہے کہ نئے تقاضوں سے دو لاکھ کروڑ روپے کے فاضل این پی اے کا بوجھ بینکنگ سیکٹر پر پڑے گا۔ یعنی ایسا ہوا تو مارچ 2018 تک ہندوستانی بینکوں کا این پی اے موجودہ9.40 لاکھ کروڑ سے بڑھ کر 11 لاکھ کروڑ روپے کے قریب پہنچ سکتا ہے۔ این پی اے نے ایک طرح سے سرکاری بینک کو اندر سے کھوکھلا کردیا ہے۔ اکتوبر ۔ستمبر 2017 کی سہ ماہی میں 17 برسوں کے بعد ایس بی آئی کو 2416 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اسی میعاد میں بینک آف انڈیا کو 2341 کروڑ ، کارپوریشن بینک کو 1240 کروڑ، انڈین اوورسیسز بینک کو 971 کروڑ اور یونائیٹڈ بینک آف انڈیا کو 637 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ این پی اے کا مسئلہ پچھلے دو برسوں میں بیحد سنگین ہوچکا ہے۔ حکومت کی طرف سے اب تک اٹھائے گئے سارے قدم ناکام رہے ہیں۔ اس کا معیشت پر بھاری اثر پڑ رہا ہے۔ 
(انل نریندر)

28 فروری 2018

بالی ووڈ کی پہلی مہلا سپر اسٹار سری دیوی الوداع

پورنیما کے پانچ دن پہلے اماوس آگئی۔ سنیچر کی آدھی رات فلمی دنیا کی چاندنی چلی گئی۔ سری دیوی کو پردہ پر دیکھ کر لوگوں کا دل دھڑکتا تھا اس چندر مکھی کے دل نے دوبئی میں آدھی رات کو دھڑکنا بند کردیا۔جیسے ہی یہ خبر ہندوستان پہنچی ان کے کروڑوں چاہنے والوں کی دھڑکنیں تھم گئیں۔ زندگی کے کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب کسی کی جدائی صدمہ دے جاتی ہے۔ روپ کی رانی کا چلا جانا بھی ایسا ہی ہے۔ پچھلے سال ہی انہوں نے فلموں میں 50 سال پورے کئے تھے۔ 54 سال کی عمر میں ہی زندگی کو الوداع کہہ دیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق سری دیوی کا دیہانت دل کا دورہ پڑنے سے ہوا تھا۔ پیر کودوبئی کی حکومت نے ایک ڈرامائی موڑ دیتے ہوئے کہا کہ سری دیوی کی موت ہوٹل کے باتھ ٹب میں ڈوبنے کے حادثہ سے ہوئی۔ یہ بھی ان کے جسم میں شراب کے اجزاء پائے گئے۔ ان کا جسد خاکی ہندوستان لانے میں دیری ہورہی ہے کیونکہ دوبئی پولیس سے کلین چٹ نہیں ملی۔ دوبئی کے اخبار ’گلف نیوز‘ نے پیر کو ایک خبر میں کہا کہ سری دیوی کی موت نشے کی حالت میں ٹب میں ڈوبنے سے ہوئی جبکہ دوبئی سرکار نے ٹوئٹر پر لکھا کہ پولیس نے معاملہ دوبئی لوک عدالت کو سونپ دیا ہے جو اس طرح کے معاملوں میں اپنائی جانے والی قانونی کارروائی کی تعمیل کرے گا۔ گلف نیوز کے ایک افسر نے بتایا کہ فورنسک رپورٹ میں ٹب میں ڈوبنے کی بات کہی گئی تھی اس لئے حادثے سے وابستہ حالات کا پتہ لگانے کی اب بھی کوشش کی جارہی ہے۔ دوسری طرف خاندان کے مطابق سری دیوی کو دل کی بیماری نہیں تھی ایسے میں کاسمیٹک سرجری سے موت کو جوڑا جارہا ہے۔
سری دیوی 29 سرجری کروا چکی تھیں۔ ایک میں گڑ بڑی کے بعد ہارٹ پلس اور اینٹی ایجنگ دوائیں بھی لے رہی تھیں۔ پوسٹ مارٹم اوردیگر رپورٹ میں کچھ مشتبہ شہ ملی تو جسد خاکی سونپنے میں اور وقت لگ سکتا ہے۔ بتا دیں کہ دوبئی میں غیر ملکی شہریوں کی اچانک موت پر بھی قانونی کارروائی ہونے میں ایک دو دن لگ جاتے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق شوہر اور بیٹی کے ممبئی لوٹنے کے بعد سری دیوی دوبئی کے ہوٹل میں اکیلی تھیں۔ مرنے سے پہلے 48 گھنٹے تک باہر نہیں نکلیں۔ سری دیوی پانچویں فلم فیئر ایوارڈ ، پدم شری سے نوازی گئیں تھیں۔ سری دیوی دو دہائی تک دل پر راج کرنے والی ایکٹریس رہیں۔ انہوں ننے300 فلمیں کیں۔ ان کے جانے سے بالی ووڈ کو بھاری نقصان ہوا ہے۔بھانجے کی شادی پر دوبئی جانا انہیں بہت بھاری پڑا۔ الوداع سری دیوی۔
(انل نریندر)

کیا بینک آڈیٹروں کی ملی بھگت سے ہوا گھوٹالہ

کیا ایسا ممکن ہے کہ وہ کسی امتحان دینے والے کو اپنا ممتحن چننے کی چھوٹ دے دی جائے اور بعد میں شکایت کی جائے کہ امتحان میں دھاندلی ہوئی ہے؟ سرکاری بینکوں کے آڈیٹ میں یہی ہورہا ہے۔ پنجاب نیشنل بینک میں دیش کے سب سے بڑے گھوٹالہ کے چلتیسینئر آڈیٹروں کے رول پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ اس وقت پبلک سیکٹر بینکوں کو اپنے آڈیٹروں کی تقرری کا اختیار ہے اور یہ گھپلہ سامنے آنے کے بعد سوال کئے جارہے ہیں کہ پی این بی کے آڈیٹر 11400 کروڑ روپے کی دھوکہ دھڑی کو سات سال تک کیسے نہیں پکڑ پائے۔ سرکاری بینکوں کو آڈیٹ چننے کی آزادی ہے۔ وہ اس کے کام کا جائزہ بھی شامل ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو شاید2011 سے چل رہے پی این بی گھوٹالہ پہلے ہی پکڑ میں آجاتا۔ یہ سسٹم 6-7 سال پہلے بدلا گیا۔ اس سے پہلے ریزروبینک سرکاری بینکوں کے لئے خود آڈیٹر نامزد کرتا تھا۔ اب آر بی آئی سی اے کا ایک پینل بنا کر بھیج دیتا ہے۔ مارچ کے آخری ہفتہ میں یہ بینک شاخوں کے آڈیٹ کے لئے پینل سے آڈیٹر چنن لیتے ہیں۔ اپریل کے پہلے ہفتہ میں آڈیٹر کو جانچ رپورٹ بینک کو دینی ہوتی ہے۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کا ماننا ہے کہ اس خامیوں کا فائدہ بینک افسر اور آڈیٹر دونوں ہی اٹھا رہے ہیں۔ خود وزیر مالیات ارون جیٹلی نے گھوٹالہ کے لئے چند بینک افسروں اور آڈیٹروں کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ہمارے آڈیٹر کیا کررہے ہیں؟ آڈیٹر یا تو اسے دیکھ نہیں رہے ہیں یا اسے تلاش کرپانے میں ناکام رہے ہیں۔ نگرانی ایجنسیوں کے لئے بھی چنوتی ہے کیا قدم اٹھائے جائیں ایسے معاملہ دوبارہ نہ ہوں ۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ کسی کمپنی کی ناجائز کارگزاریوں میں شامل رہا سی اے اگر ملزم پایا جاتا ہے تو اس پر محض تین مہینے کی پریکٹس بند اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی کارروائی کی شرط ہے۔ اتنا ہی نہیں سی اے کے خلاف شکایت کے ازالہ میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ پی این بی کے گھوٹالہ سے پہلے نوٹ بندی کے دوران بھی کئی سی اے پروفیشنل پر گڑبڑی کرنے اور پرانے نوٹوں کو نئے نوٹوں سے بدلوانے میں شامل رہنے کے الزام لگے تھے۔ نوٹ بندی کے دوران گڑ بڑی کر نوٹ بدلوانے کے الزام میں سرکار نے 34 سی اے پروفیشنل کے نام آئی سی اے آئی کو دئے تھے۔ بغیر سی اے کی مدد سے پی این بی گھوٹالہ ممکن نہیں تھا۔
(انل نریندر)

27 فروری 2018

ہرشد مہتہ ،کیتن پاریکھ اور اب نیرو مودی

پنجاب نیشنل بینک گھوٹالہ نے دیش کے بینکنگ سسٹم کی پول کھول کر رکھ دی ہے ۔ جو بینک چند روپے کی وصولی کے لئے ملی بھگت تک پہنچ جاتے ہوں ان بینکوں سے رسوخ دار لوگ ہزاروں کروڑ روپے کیسے لوٹ لیتے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب نہ توریزرو بینک کے پاس ہے اور نہ ہی سرکاری بینکوں کے پاس۔ ہرشد مہتہ، کتن پاریکھ، جتن مہتہ، وجے مالیہ سے لیکر نیرو مودی تک یہ کچھ نام ہیں جنہوں نے ایک ہی فارمولہ سے بینکوں کو چپت لگائی۔ ریزرو بینک کی گائڈ لائنس کے باوجود بینک کارروائی سے ہٹ کر کیسے اتنے بڑے لون دے دیتے ہیں یہ جانچ کا موضوع ہونا چاہئے اور یہی ثابت بھی کرتا ہے کہ دہائی گزر جانے کے بعد بھی دیش کے سرکاری بینکوں کی مالی سیکورٹی رام بھروسہ ہے۔ سرکاریں بدلتی رہی ہیں لیکن کسی نے بینکنگ سسٹم کی خامیوں کو بہتر بنانے کے لئے ایمانداری سے کام نہیں کیا۔ پی این بی کے لئے یہ پہلا معاملہ نہیں ہے پانچ سال پہلے ہیرا کاروباری جتن مہتہ کے ویتنام گروپ نے پی این بی کو موٹی چپت لگائی تھی۔ نیرو مودی نے بینکوں کو چپت لگانے کے لئے وہی فارمولہ اپنایا جس کا سہارا کیتن پاریکھ اور ہرشد مہتہ نے لیا تھا۔ ان سب نے دو بینکوں کے درمیان ہونے والے لین دین قواعد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے۔ بینک کریڈٹ کا استعمال کیا۔ آن لائن لین دین میں سکیورٹی کے زیادہ انتظام نہ ہونے کے چلتے نیرو مودی نے بینک آن لائن لین دین کی خامیوں کا فائدہ اٹھایا۔ سوال یہ ہے کہ جب بینک سسٹم میں اتنی آسانی کے ساتھ سیند ماری کی جاسکتی ہے تو سرکار اور بینک مالی سیکورٹی کے پختہ انتظام کیوں نہیں ہوتے؟ ہرشد مہتہ و کیتن پاریکھ کی طرز پر نیرو مودی نے لیٹر آف کنفرڈکا فائدہ اٹھایا۔ پی این بی نے یہ گھوٹالہ برسوں سے چل رہا تھا اور بینک کے حکام سے لیکر سرکاری عملہ سوتا رہا۔ نیرو مودی کی کمپنیوں کو جاری انڈر ٹینگ کے لئے بینک میں مارجن منی کو بھی جمع نہیں کرایا گیا۔ پی این بی گھوٹالہ کی پرتیں کھلنے لگی ہیں اور ایک کے بعد ایک چونکانے والے حقائق سامنے آرہے ہیں۔ گیتانجلی گروپ کو غلط طریقے سے لون دینے کے خلاف آواز اٹھانے والے الہ آباد بینک کے سابق ڈائریکٹر نے دعوی کیا ہے کہ یہ گھوٹالہ یوپی اے سرکار کے دور سے چلا آرہا ہے اور این ڈی اے سرکار میں کئی گنا زیادہ بڑھ گیا ہے۔ بینک کے سابق ڈائریکٹر دنیش دوبے نے کہا میں نے گیتانجلی جیمس کے خلاف 2013 میں سرکار اور آر بی آئی کو ڈیسینٹ نوٹ بھیجا ھتا لیکن مجھے حکم دیا گیا تھا کہ ان قرضوں کو منظور کرنا ہے، مجھ پر دباؤ ڈالا گیا، آخر کار میں نے استعفیٰ دے دیا۔ انہونے یہ بھی کہا کہ سرکار میں چلا آرہا گھوٹالہ این ڈی اے سرکار میں 10 گنا و 50 گنا بڑھ گیا۔ 2013 میں شکایت کرنے پر انہیں مالیاتی سیکریٹری نے اوپری دباؤ کی بات کہہ کر سوتنتر ڈائریکٹرکے عہدے سے استعفیٰ دینے کو کہا تھا۔ دوبے نے میڈیا کے سامنے کہا کہ وہ جانچ ایجنسیوں کو تعاون دینے کو تیار ہیں۔ خارجی امور کے صحافی دوبے ہیں اور 2012 میں انہیں بینک کا انڈیپینڈنٹ ڈائریکٹر بنایا گیا تھا۔ آخر کب تک ایسے گھوٹالہ چلتے رہیں گے اور دیش کی معیشت کھوکھلی ہوتی جائے گی۔
(انل نریندر)

ورلڈ کپ میں میڈل جیتنے والی پہلی جمناسٹ

چار سال پہلے گلاسگو میں ہوئے کامن ویلتھ کھیلوں دیپا کرماکر نے جیمناسٹک میں پہلا میڈل جیت کر دیش کا نام اس کھیل میں روشن کیا تھا۔ اب ٹھیک چار سال بعد ایک اور ہندوستانی نے اس کھیل میں دیش کا نام روشن کیا ہے۔ ہندوستان کی جیمناسٹ ارونا بدھا ریڈی نے سنیچر کو جیمناسٹ ورلڈ کپ میں تانبے کا میڈل جیت کرتاریخ رقم کی ہے۔ ارونا عورتوں کے وولٹ ایونٹ میں 13.649 اسکور کے ساتھ ورلڈ کپ میں شخصی طور پر میڈل جیتنے والی بھارت کی پہلی جیمناسٹ بنی ہیں۔ 22 سالہ ریڈی تیسرے مقام پر رہیں۔ سلوینیا کی جھاسا کولیف نے گولڈ میڈل اور آسٹریلیا کی امیلی وائٹڈ نے سلور میڈل جیتا ۔ایک اور ہندوستانی کھلاڑی پرینیتی نائک نے 13.416 نمبروں کے ساتھ چھٹا مقام حاصل کیا۔ پرنیتی نے کوالیفکیشن گراؤنڈ میں 13.483پوائنٹ کے ساتھ چوتھے مقام پر رہتے ہوئے فائنل میں جگہ بنائی تھی جبکہ ارونا ریڈی کوالیفکیشن راؤنڈ میں 13.567 پوائنٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی تھیں۔ اس وولٹ کے ایونٹ میں 11 جمناسٹ نے حصہ لیا تھا ان میں سے 8 نے فائنل میں جگہ بنائی۔ تلنگانہ کی ارونا کی پہلی پسند جمناسٹک نہیں تھی وہ کراٹے کھیلنا چاہتی تھی لیکن کوچ نے ارونا کے لچیلے پن کو دیکھتے ہوئے انہیں جمناسٹ بننے کی صلاح دی۔ وہ2010 میں کم عمر کے سبب دہلی کامن ویلتھ گیمس میں حصہ نہیں لے سکی تھیں۔ ارونا نے ورلڈ کپ میں میڈل جیت کر کامن ویلتھ کھیل کے لئے بھی دعوی ٹھوک دیا ہے۔ اپریل میں ہونے والے کامن ویلتھ گیم میں دیپا کرماکر حصہ نہیں لے رہی ہیں۔ دیپا کرماکر چوٹ کے سبب ٹرائل میں شامل نہیں ہوسکیں۔ عالمی سطح پر یہ بھارت کا تیسرا میڈل ہے۔ آشیش کمار نے دہلی میں ہوئے 2010 کامن ویلتھ کھیلوں میں پہلا میڈل جیتا تھا اس کے بعد گلاسکو میں ہوئے کامن ویلتھ میں دیپا کرماکر میڈل حاصل کر کسی بین الاقوامی مقابلہ میں میڈل جیتنے والی پہلی ہندوستانی بنی تھیں۔ دیپا 52 سال اولمپک کوالیفائی کرنے والی پہلی ہندوستانی بنی تھیں جو ریو اولمپک میں چوتھے مقام پر رہ کر میڈل سے چوک گئیں۔ ارونا ایتوار کو ہونے والے فلور مقابلہ میں بھی حصہ لیں گی ۔ دیگر مقابلوں میں بھارت کے راکیش پاترا رنگس میں چوتھے مقام پررہے۔ اس ورلڈ کپ میں 16 دیش شرکت کررہے ہیں۔ ارونا ریڈی کو مبارکباد انہوں نے اس کھیل میں بھی بھارت کا پرچم لہرایا۔
(انل نریندر)

25 فروری 2018

جنرل راوت کے بیان سے سیاسی پارٹیوں میں کھلبلی

فوج کے چیف جنرل بپن راوت کے بنگلہ دیشی دراندازوں اور اس کے چلتے آسام میں اے آئی یو ڈی ایف جیسی پارٹی کی سیاسی مضبوطی پر دئے گئے بیان نے سیاسی رنگ لے لیا ہے۔ فوج کے چیف جنرل راوت نے کہا تھا کہ نارتھ ایسٹ میں بنگلہ دیش سے پرواسیوں کی منصوبہ بند گھس پیٹھ پاکستان کے ذریعے درپردہ جنگ کی طرح لی جارہی ہے۔ اسی وجہ بدرالدین اجمل کی لیڈر شپ والی یو آئی یو ڈی ایف کا فروغ 1980 کی دہائی میں بھاجپا کے مقابلہ میں کافی تیزی سے ہورہا ہے۔ آسام کی اے آئی یو ڈی ایف پارٹی کے نیتا بدرالدین اجمل نے جنرل راوت کے بیان پرتلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئین فوج کے چیف کو سیاست میں دخل اندازی کا حق نہیں دیتا۔ لوک سبھا ممبر اور اے آئی ایم آئی ایم کے چیف اسد الدین اویسی نے کہا کہ فوج کے چیف کو سیاسی معاملوں میں مداخلت نہیں کرنی چائے۔ کسی سیاسی پارٹی کے فروغ پر بیان دینا ان کا کام نہیں ہے۔ جمہوریت اور آئین اس کی اجازت دیتا کہ بھارت میں فوج ہمیشہ چنی ہوئی سول حکومت کے ماتحت کام کرتی رہے گی۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ کوئی نئی یا خفیہ بات نہیں کہ نارتھ ایسٹ ہندوستان کی ریاستوں میں بنگلہ دیش سے ہورہی دراندازی کی سازش کا بھی حصہ ہے۔ یہ ایک ایسا پہلو ہے کہ نارتھ ایسٹ کی ریاستوں کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش کے سرحدی علاقوں میں بھی آبادی کے توازن کو بدلنے کی کوشش ہورہی ہے۔ کئی علاقوں میں تو یہ بدل بھی گیا ہے اور اسی وجہ سے تمام مسائل بھی کھڑے ہورہے ہیں لیکن بنگلہ دیش سے ہونے والی دراندازی کو روکنے کے لئے جیسی کوشش ہونی چاہئے ویسی نہیں ہورہی ہے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ جب کبھی بنگلہ دیش سے آئے ناجائز دراندازوں کو واپس بھیجنے کی بات ہوتی ہے تو اس پر کسی نہ کسی دلیل و اعتراض کھڑا کرنے والے سامنے آجاتے ہیں۔ جنرل راوت نے صحیح کہا ہے کہ بنگلہ دیش سے ہورہی دراندازی کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے اور اس معاملہ میں چین بھی اس کی مدد کررہا ہے۔ بلا شبہ ایک ماڈل پوزیشن یہی کہتی ہے کہ فوج کے چیف کو سیاسی پارٹیوں کے فروغ یا زوال کی تیزی پر بیان بازی سے بچنا چاہئے لیکن کیا نارتھ ایسٹ کے حالات اس حالت کی علامت ہیں؟ مختلف سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے ووٹ بینک کی خاطر جنرل راوت کے بیان پر ہنگامہ کھڑا کرسکتی ہیں لیکن اس سچائی سے منہ نہیں موڑا جاسکتا کہ مغربی بنگال، آسام کے ساتھ نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں کس طرح کچھ سیاسی پارٹیوں نے بنگلہ دیشی دراندازوں کو سرپرستی دے کر اپنی سیاسی پیٹھ تھپتھپائی ہے۔
(انل نریندر)

رجنی کانت کے بعد کمل ہاسن بھی سیاست میں اترے

ساؤتھ انڈیا نے ہمیشہ سے فلم اور سیاستدانوں کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ اب فلم سے سیاست میں آنے والے نئح ہیرو ہیں کمل ہاسن۔ اس سے کچھ پہلے رجنی کانت سرگرم سیاست میں آئے تھے۔ بدھوار کو اداکار کمل ہاسن تمل ناڈو کے سیاسی میدان میں اتر آئے ہیں۔ تاملناڈو میں 2021 ء میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ بدھوار کو مدورے میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی موجودگی اور حمایتیوں کے درمیان کمل ہاسن نے اپنی پارٹی مکل ندھی میم لانچ کی۔ ہندی میں اس کا مطلب ’لوک نیائے منچ‘ ہوتا ہے۔ کمل ہاسن نے رمیشورم میں سابق صدر اے پی جے عبدالکلام کے گھر سے نئی پارٹی لانچ کی ۔ ڈاکٹر کلام کو اپنا ماڈل بتاتے ہوئے انہوں نے پارٹی کو لوگوں کی پارٹی قرار دیا۔دراصل جے للتا کی موت کے بعد تاملناڈو نئی بے یقینی دور سے گزر رہا ہے اور اس میں ڈوبنے اور اتارنے کی کئی سیاسی امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ کمل ہاسن نے سابق صدر کلام کے خاندان سے دعا لی ہور رامیشورم کے ماہیگروں سے حمایت لے کر مدورائی سے جو سیاسی سفر شروع کیا ہے وہ چنئی کے فورٹ سینٹ جارج میں واقع اسمبلی تک پہنچے گا۔ دہلی کے پارلیمنٹ ہاؤس تک آئے گا۔یہ تو وقت ہی بتائے گا کمل ہاسن کی سیاست میں انا ڈی ایم کے، ڈی ایم کے جیسی علاقائی پارٹیوں کا ہی نہیں بلکہ بھاجپا کی بھی مخالفت ہے۔ جے للتا کی پارٹی کو متحد رکھ کر اقتدار میں قائم رکھنے کا کام بھاجپا کی لیڈرشپ کررہی ہے لیکن اس کے باوجود یہ رشتہ آسان نہیں ہے۔ ادھر دو بار چناؤ ہارنے کے بعد ڈی ایم کے بہت ہی بے چین ہے اور آنے والے چناؤ میں اپنی پوری طاقت جھونکنے کے لئے تیار ہے۔ اس کی قسمت سے ٹو جی گھوٹالہ سے کنی موجھی اور اے راجہ کے بری ہونے کا چھینکا ٹوٹا ہے ۔ اصلی سوال کمل ہاسن کے میدان میں اترنے اور اثر پڑنے کا ہے۔ اگر چناؤ متعین وقت 2021 میں ہوتا ہے تو انہیں کمپین کرنے اور اپنی تنظیم مضبوط بنانے کے لئے کافی وقت مل جائے گا۔ اگر دناکرن کے 18 ممبران اسمبلی پر اختلافی فیصلہ آنے کی وجہ چناؤ جلدی ہوتا ہے تو ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے کے ذریعے سے بھاجپا زیادہ مضبوط ہوگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ 2019 یا1989 کی طرح کوئی نیا پولرائزیشن ہوگا اور تاملناڈو سے دہلی تک کوئی بنیادی تبدیلی آئے گی یا پھر اپنی انہی پرانی دو پارٹیوں کے درمیان مقابلہ محدود رہے گا؟
(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...