Translater
05 اپریل 2025
اورنگ زیب کا اشو غیر ضروری ہے!
پچھلے کچھ دنوں سے اورنگ زیب کی قبر کا اشو سیاسی طور سے چھایا ہوا ہے ۔اس پر سیاسی پارٹیاں خوب بیان بازی کر رہی تھیں ۔ایک دوسرے الزام لگا رہی ہیں ۔بی جے پی لیڈر بھی اس اشو کو مسلسل ہوا دیں رہے ہیں ۔لیکن بی جے پی کے آئیڈیا لوجی انجمن آر ایس ایس نے متاوزن رویہ اپنایا ہے اس نے کہا کے اب سنگھ کے سابق منتظم سریش میانی جوشی کہتے ہیں کے اورنگ زیب کی قبر کا اشو غیر ضروری ہے اور اورنگ زیب کی موت یہاں ہوئی تو قبر بھی یہیں بنے گی ۔جسے عقیدت ہے وہ وہاں جائے گے ۔جوشی کا کہنا تھا چھتر پتی شواجی مہاراج نے افضل خاں کی قبر بنواکر ایک مثال قائم کی تھی۔یہ بھارت کی فراگ دلی اور کثیر تہذیب کی علامت ہے ۔اس سے پہلے سنگھ کی آل انڈیا نمائندہ سبھا سے پہلے سنگھ کی نشریات کمیٹی کے چیف سونیل ابیکر نے کہا تھا کے اورنگ زیب اشو بے جواز ہے پھر سنگھ کے معاون منتظم دتاترے ہوسبولے نے کہا کی بھارت کے جو لوگ مخالفت کر ہے ہیں ان کو آئیکون بننا چاہئے۔جو ہماری تہذیب کی بات کریگا اس کو ہم لوگ سر پر بٹھائے گے ۔دراصل سنگھ پچھلے کچھ عرصہ سے مسلم مسائل پر کام کر رہا ہے ،جس کا مقصد ہے سماج میں ٹکراﺅ نہ ہو اور اختلاف کے جو نکتہ ہیں انہیں بیٹھ کر سلجھایا جائے ۔سنگھ کے یہ بیان اسی سمت میں ہیں ۔
(انل نریندر)
چین - بنگلہ دیش - پاک خطرناک تریکون!
بنگلہ دیش کی انترم سرکار کے سربراہ محمد یونس 26 سے 29 مارچ تک چین کے دورہ پر تھے 28 مارچ کو چین کے صدر شی چن پنگ سے ان کی باہمی بات چیت کے دوران کئی معاہدے تو ہوئے ،ساتھ ہی یونس نے یہ بھی کہا کے چین کی ترقی بنگلہ دیش کے لئے مشعل راہ ہے ۔دونوں ملکوں کے مشترقہ بیان میں بنگلہ دیش میں تیستا آبی پروجیکٹ کےلئے چینی کمپنیوں کو دعوت دی گئی ہے خیال رہے کے پچھلے سال جون میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ چین گئیں تھی اور اس دورے کو ادھورہ چھوڑ کر بیچ میں بنگلہ دیش واپس لوٹ آئیں تھی تب کہا تھا کے یہ پروجیکٹ بھارت کی جانب سے پورا ہو۔بھارت کے شمال مشرقی راجیوں کا حوالہ دیتے ہوئے چین نے اپنی معیشت کو فروغ دینے کی اپیل کرکے بنگلہ دیش کی انترم سرکار کے لیڈر محمد یونس نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے ۔انہوںنے بھارت کی شمال مشرق کی ساتھوں ریاستوں کو لینڈ لاکڈ (زمین سے چاروں جانب گھیر لیا ہے)خطہ بتایا اور بنگلہ دیش کو اس علاقہ میں سمند کا ایک واحد محافظ بتاتے ہوئے چین سے اپنے یہاں اقتصادی سرگرمیاں بڑھانے کی اپیل کی۔آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے محمد یونس کو بیان کو قابل اعتراض بتایا ہے۔ہندوستانی سفارت کاروں نے بھی یونس کے اس بیان پر حیرانی چتائی ہے ہیمنت بسوا سرما نے ایکس پر لکھا :بنگلہ دیش کی خود ساختہ انترم حکومت کے لیڈر محمد یونس کے ذریعہ دیا گیا وہ بیان زبردست قابل ملامت ہے ۔جس میں انہوںنے نارتھ ایسٹ انڈیا کی ساتھ ریاستوں کو زمین سے گھرا ہوا بتایا اور بنگلہ دیش کو ان کی سمندری پہنچ کا محافظ بتایا ۔یونس کے ایسے بھڑکاﺅ بیانوں کو ہلکہ میں نہیں لیا جانا چاہئے۔کیوں کے یہ بیان گہری سیاسی نظریات اور طویل المدتی ایجنڈا کو ظاہر کرتے ہیں وہیں کانگریس کے سینئر لیڈر گورو گوگوئی نے کہا یہ افسوس ناک ہے کے دیش کے غیر ملکی پالیسی اس حد تک کمزور ہو گئی ہے کے بھارت کی مدد سے آزادی حاصل کرنے والے بنگلہ دیش بھی اس کے خلاف ہو گیا ہے ۔گگوئی محمد یونس کے بیان پر رد عمل ظاہر کر رہے تھے ۔جس میں انہوںنے اپنے دیش کو اس خطہ میں مہا ساگر کا واحد محافظ بتایا تھا۔چین بنگلہ دیش کی یہ قربتیں بھارت کے لئے پریشان کن ہے ۔ایک طرف تستا ندی وکاس پروجیکٹ سے بھارت کی سکورٹی تشویشات جڑی ہیں ساتھ پی ناتھ ایسٹ کے پیش نظر بنگلہ دیش چین کو پرستاﺅ بھی بھارت کے لئے خطرے کی گھنٹی کی طرح ہے۔جنوری میں یونس سرکار نے بھارت کے چکن نیک نام سے مشہور سلی گوری راہ داری کے پاس رنگ پور میں پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام کے ایک نمائندہ وفد کا نے دورہ کرایا تھا ۔اسی چکن نیک کی دوسری طرف چین کی بگاہیں لگی ہوئی ہیں ۔یہ کوریڈور بھارت کےلئے بیحد اہم ہے ۔دوسری جانب ماضی کی کڑواہٹ کو درکنار کر پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کے وہ اگلے مہینے بنگلہ دیش جائے گے ۔2012 کے بعد کسی پاکستانی وزیر کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔اس درمیان اپریل کے آغاز میں وی آئی ایم ایس ٹی ای سی سمٹ میں وزیراعظم مودی اور محمد یونس کا آمنا سامنا ہوا اور چین ،بنگلہ دیش ،پاک تریکونی بھارت کےلئے بڑی تشویش کا موضوع ہے ۔جس کی کاٹ کرنا ضروری ہے۔
(انل نریندر)
03 اپریل 2025
دہلی مریضوں کی تکلیف دور ہو گی !
تقریباً پونے دو کروڑ کی آبادی والی دہلی کے شہریوں کی ہیلتھ کو میں روح بھونکنے کےلئے دہلی سرکار ملان تیار کر رہی ہے۔اس پلان کے تحت سرکار 10 نکات پر فوکس کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں ،پولی کلینک ،آروگیہ مندروں،سمیت اسپتالوں کا آڈٹ کر رہی ہے۔ایک افسر کے مطابق اس نشانہ جون 2025 رکھا گیا ہے ۔اس تحت ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفئر محکمہ کے تحت آنے والے 28 اسپتالوں میں میڈیکل کالجوں میں تین پاوور وورلڈ ہیلتھ آرگنائیزین کی شرائط کی بنیاد پر یقینی کرنے کی پہل ہوگی ۔ہیلتھ بہتر بنانے کی پہل میں موشن اینڈ کئر میں آگے بڑھنے کے مواقعوں میں ازافہ کرنا سیلری اسٹرکچر میں تبدیلی کرنا،جنک پوری سوپر اسپیشلٹی اور راجیو گاندھی سوپر اسپیشلٹی اسپتال میں ماہرین ستح پر کمیونٹی مڈیسن و دیگر محکموں سے جڑے ماہرین کی کمی کو دور کرنا رکھا گیا ہے۔لوک نائک و جی ٹی بی اسپتال میں آئی سی یو میں بستروں کی تعداد میں ازافہ کرنے کا نشانہ بھی رکھا گیا ہے ضروری دوائیوں اور سازو سامان کی قلت دور کرنے کے لئے اسکریننگ کمیٹی بنانا کا بھی پلان ہے ۔مریضوں کی ویٹنگ کم کرنے کے لئے مریض ڈاکٹر ڈیش بورڈ بنے گا نئے اسپتالوں کے رکے پڑے تعمیراتی کام میں وقت پورا کرنے اور ان کی لاگت پر کنٹرول کرنے کےلئے پی ڈبلیو ڈی اور سی پی ڈبلیو ڈی کے ماہرین کی مدد لی جائے گی ۔سرجری محکمہ ،امرجنسی میں اوست ٹائم کو کم کرنے کا بھی ٹارگیٹ رکھا جائے گا ۔دہلی کے شہری امید کرتے ہیں کے دہلی سرکار اپنی ان اسکیموں میں کامیاب ہو اور انہیں اسلیت پر اتاریں تاکی دہلی کے شہریوں کو علاج میں سہولیات ملے ۔جن کی بہت ضرورت ہے ۔دہلی سرکار کی یوجنا تو صحیح ہے ۔امید رکھےں کے وہ انہیں پورا کرے گی۔
(انل نریندر)
را پر پابندی لگانے کا سوال!
امریکہ میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انالیسیز ونگ (را)پر پابندی لگانے کی مانگ اٹھی ہے ۔پتا نہیں امریکہ بھارت کے ساتھ کونسی دشمنی کا بدلہ لے رہا ہے ۔ایک بعد ایک چھٹکا ہمیں دینے پر تلا ہوا ہے۔تازہ مثال امریکہ کے یو ایس مشن آن انٹرنیشنل ریلیجنس فریڈم (یو ایس سی آئی آر ایف)نے سال 2025 کی سالانہ ریپورٹ جاری کی ہے۔را پر پابندی لگانے کی مانگ اس ریپورٹ کا حصہ ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کے بھارت میں مذہبی آزادی کی پوزیشن مسلسل خراب ہو رہی ہے۔کیوں کے مذہبی اقلیتوں کے خلاف حملے اور امتیاز کے معاملے بڑھ رہے ہیں ۔حالانکہ بھارت نے یو ایس سی آئی آر ایف کی ریپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے جانب دارانہ اور سیاسی اغراض پر مبنی بتایا ہے۔پچھلے کچھ برسوں سے یہ ادارہ مسلسل بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں پر زاتیوں کے لئے تشویش جتا رہا ہے ۔اور بھارت ہر بار اسے مسترد کرتا آر ہا ہے ۔ 96 صفحات کی اس ریپورٹ میں بھارت کو ان 16 ملکوں کے ساتھ رکھنے کی سفارش کی ہے جہاں کچھ خاص تشویشات ہیں۔ریپورٹ میں تحریر کیا گیا ہے کے بھارت سرکار نے بیرونی ممالک میں مذہبی اقلیتوں خاص کر سکھ فرقہ کے افراد اور ان کی آواز اٹھانے والوں کو نشانہ بنانے کےلئے اپنی عزیت کاری خدمت عملی کو بڑھانا جاری رکھے ہوئے ہے بھارت کی مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا دستاویز پیش کرنے والے صحافیوں ماہرین تعلیم اور سیول سوسائٹی انجمنوں نے کاﺅنسلر سیوائے نہ ملنے ،اوورسیزسٹیزن آف انڈیا کارڈ کو منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ تشدد اور نگرانی کی دھمکیوں کی اطلاع دی ہے ۔را کے بارے میں کہا گیا ہے انٹر نیشنل ریپورٹنگ اور کناڈا سرکار کی خفیہ جانکاری نے بھارت کے را کے ایک افسر اور 6 سفارت کاروں کو نیویارک میں 2023 میں ایک امریکی سکھ ورکر کے قتل کی کوشش سے جڑے الزامات کی تصدیق کی ہے ۔انجمن نے امریکی سرکار سے را پر پابندی لگانے کی بھی سفارش کی ہے۔ریپورٹ میں لکھا :مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی میں قصوروار پائے گئے افراد اور انجمنوں جیسے وکاس یادو اور را پر ٹارگیٹڈ پابندیاں لگائےں۔ان کے اثاثوں کو ضبط کریں ۔اور امریکہ میں ان کے داخلے پر پابندیاں لگائےں ۔امریکہ کے وزارت قانون نے 17 اکتوبر کو ہندوستانی شہری وکاس یادو کے خلاف قتل اور منی لاڈرنگ کا معاملہ درج کرنے کا اعلان کیا تھا ۔امریکی حکام کا کہنا تھا کے سال 2023 میں امریکی سر زمین پر گرپنت سنگھ پنو کے قتل کی ناکام کوشش میں وکاس یادو کا اہم رول تھا ۔وکاس یادو اب بھارت سرکار کا ملازم نہیں ہے ایک طرح کا اقتصادی یا کاروباری پابندی ہے جو ایک یا ایک سے زیادہ دیش یا بین الا قوامی انجمن کسی دیش کے اندر شخص خاص ،انجمنوں یا سیکٹر کے خلاف لگائی جا سکتی ہے ناکے پورے دیش پر۔لیکن مذہبی آزادی کی 2025 کی اس رپورٹ پر بھارت کے وزارت خارجہ نے جواب میں کہا کے ہم نے امریکہ کی بین الاقوامی مذہبی آزادی کمیشن کی حال میں جاری 2025 کی سالانہ رپورٹ دیکھی ہے ۔جو ایک بار پھر قیاس سے بھاری ہے ۔اور سیاسی اغراض پر مبنی ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کا کہنا ہے کے رپورٹ میں بار بار کچھ واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ۔اور بھارت کے کثیر تہذہبی سماج کو غلط طریقہ سے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
(انل نریندر)
02 اپریل 2025
اظہار رائے کی آزادی ضروری ہے!
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا کہ غیر محفوظ لوگوں کی بنیاد پر اظہار رائے کی آزادی کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ آزادی اظہار کا تحفظ ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر باعزت زندگی گزارنا ناممکن ہے۔ آزادی اظہار کو جمہوریت کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے گجرات میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کردیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر لوگوں کی ایک بڑی تعداد کسی کے خیالات کو ناپسند کرتی ہے تو بھی اس کے خیالات کے اظہار کے حق کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے۔ جسٹس ابھے ایس اوکا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ نے کہا کہ 75 سال پرانی جمہوریت اتنی کمزور نہیں ہے کہ کوئی نظم یا مزاح سماج میں دشمنی یا نفرت پھیلا سکے۔ یہ کہنا کہ کوئی بھی فن یا اسٹینڈ اپ کامیڈی نفرت کو ہوا دے سکتا ہے اظہار رائے کی آزادی کو کچل دے گا۔ اس تبصرہ کے ساتھ، عدالت عظمیٰ نے سوشیل میڈیا پر اشتعال انگیز گانے کی ایڈیٹ شدہ ویڈیو پوسٹ کرنے پر کانگریس ایم پی عمران پرتاپ گڑھی کے خلاف گجرات پولیس کی ایف آئی آر کو خارج کردیا۔ ڈویڑن بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ اظہار رائے اور اظہار رائے کی آزادی پابندیوں سے بالاتر ہے۔ ہندوستانی عدالتی ضابطہ کی دفعہ 196 کے تحت، مذہبی گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کے جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کے کہے یا لکھے گئے الفاظ کے اثر کو مضبوط ذہن، پرعزم اور بہادر شخص کے معیار کی بنیاد پر سمجھا جانا چاہیے۔ اس کا فیصلہ ان لوگوں کی حمایت کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا جو ذہن کے کمزور اور غیر مستحکم ہیں، جو ہمیشہ عدم تحفظ کا احساس رکھتے ہیں یا جو تنقید کو ہمیشہ اپنے اقتدار اور مقام کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ لوگوں یا ان کے گروہوں کے خیالات کا آزادانہ اظہار ایک صحت مند اور مہذب معاشرے کا لازمی حصہ ہے۔ خیالات اور خیالات کے اظہار کی آزادی کے بغیر آئین کے آرٹیکل 21 میں باوقار زندگی کی ضمانت دی گئی ہے۔ بنچ نے کہا، یہ عدالت کا حتمی فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ آئین اور اس کے نظریات کی خلاف ورزی نہ ہو۔ عمران نے گجرات ہائی کورٹ کے 17 جنوری کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ جس میں ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی گئی کہ تفتیش ابتدائی مرحلے میں ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ کو اہم قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ کسی بھی بیان یا مضمون کی تشریح منطقی اور پرعزم شخص کے نقطہ نظر سے کی جانی چاہیے نہ کہ ان لوگوں کے مطابق جو تنقید کو عدم تحفظ کی وجہ سے خطرہ سمجھتے ہیں۔ نیز دفعہ 196 کے تحت تفتیشی عمل پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ غیر ضروری مقدمات کے ذریعے شہریوں کے بنیادی حقوق پامال نہ ہوں۔ ہم معزز سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں تمام متعلقہ فریق اس بات کو ذہن میں رکھیں گے اور اظہار رائے کی آزادی کو ناجائز طریقے سے دبانے کی کوشش نہیں کریں گے۔
(انل نریندر)
آخر کانگریس کویہ سمجھ آئی!
انتخابات کے بعد مسلسل ہارنے کے بعد کانگریس نے آخر کار سمجھ لیا ہے کہ تنظیم کے نظریے کو اقتدار کے بغیر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے پارٹی کے ضلعی یونٹ کے سربراہوں سے ریاستوں میں انتخابات جیتنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی کے ساتھ متحد ہو کر کام کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ تنظیم کا نظریہ مضبوط ہے۔ لیکن اسے اقتدار کے بغیر ملک میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستانی اتحاد نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں متحد ہو کر لڑا، جس کی وجہ سے بی جے پی 240 پر پھنس گئی۔ کانگریس پارٹی نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں تقریباً 100 سیٹیں حاصل کیں۔ اگر ہم نے زیادہ محنت کی ہوتی تو ہماری تنظیم مضبوط ہوتی، ہم 20-30 مزید سیٹیں حاصل کر سکتے تھے۔ کھرگے نے کہا کہ اتنی سیٹیں حاصل کر کے ملک میں متبادل حکومت تشکیل دی جا سکتی تھی۔ کانگریس فصل تیار کرتی ہے لیکن جو تنظیم اسے کاٹتی ہے وہ بہت کمزور ہے یا اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ راہل گاندھی جتنا چاہیں پورے ملک میں گھوم سکتے ہیں، سماج کے ہر طبقے سے مل سکتے ہیں، جب تک تنظیم ان کے خوابوں کو پورا نہیں کرتی، وہ خواب ہی رہیں گے۔ دیکھتے ہیں کہ کھرگے جی اپنی بات پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں؟
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟
فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...