Translater

25 مئی 2019

پیرس میں رافیل دستاویزوں کی کوشش

انڈین ائیر فورس کے پیرس میں قائم دفتر میں اتوار کی صبح گھسنے کی کوشش کی گئی یہ دفتر ائیر فورس کی رافیل پروجکٹ مینجمینٹ ٹیم کا ہے جو وہاں بھارت کے لئے 36رافیل جنگی جہاز کی پروڈکشن کی نگرانی کر رہا ہے یہ دفتر فرانس کی دی سالٹ اے وی ایشن کمپنی کے کمپلیکس میں ہے ۔جسے بھارت سرکار نے جنگی جہازوں کا آرڈر دیا ہے ڈیفنس وزارت کے حکام کے مطابق ائیر فورس کی وہاں تعینات ٹیم فرانس میں 36جنگی جہازوں کی پروڈکشن پر نظر کے ساتھ ہندوستانی پائلٹوں کو ٹرینگ کی ذمہ داری بھی سنبھال رہی ہے یہ جاسوسی کا معاملہ ہے پیرس میں قائم ہندوستانی سفارتخانہ فرانس کے حکام کے رابطے میں ہے حکام نے بتایا کہ کچھ نا معلوم لوگ پیرس کے سب سٹی علاقہ میں انڈین ائیر فورس کے رافیل پروجکٹ دفتر میں گھس پیٹھ کی کوشش کر رہے تھے اور اس کی وجہ جاسوسی ہو سکتی ہے یا پھر کچھ اور ذرائع نے بتایا کہ شروعاتی جانچ میں کسی ہارڈ وئیر یا ڈاٹا کہ چور ی کی کوئی خبر نہیں ہے مقامی پولس جانچ کر رہی ہے ۔وہیں رافیل سے جڑے خفیہ دستاویزوں کی چوری کی کوشش تو نہیں ہے حالانکہ ابھی تک انڈین ائیر فورس و وزارت دفاع یا فرانس کے سفارتخانے نے اس واردات پر کوئی با قاعدہ بیان نہیں دیا ہے وہیں سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا وکیل پرشانت بھوشن نے سپریم کورٹ میں الزام لگایا کہ مرکز نے رافیل جنگی جہاز معاملے میں عدالت کو جان بوجھ کر گمراہ کیا اس سودے میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دھڑی ہے ۔عرضی گزاروں نے دعوی کیا کہ مرکز نے اس معاملے کی سماعت کے دوران عدالت سے ضروری حقائق چھائے تینوں وکیل عدالت کے 14دسمبر کے اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کر رہے ہیں جس میں فرانس کی کمپنی دی سالٹ سے جنگی جہاز خریدنے مرکز میں رافیل سودے کو کلین چٹ دی گئی ۔لوک سبھا چناﺅ کے نتیجے آنے سے ایک دن پہلے پبلک کی گئی دلیلوں میں عرضی گزاروں نے کہا کہ بڑی عدالت کو گمراہ کرنے والے کام کو دلیلیوں کے ذریعہ کئی جھوٹ بولے تھے اور حقائق چھپائے تھے پرشانت بھوشن اور دیگر عرضی گزاروںنے تحریر میں ثبوت جمع کئے بتا دیں کہ رافیل معاملے میں 14دسمبر 018کو سپریم کورٹ کے ذریعہ دیئے گئے فیصلے کے خلاف پرشانت بھوشن سمیت دیگر عرضی گزاروںنے نظر ثانی عرضی دائر کی تھی ۔کورٹ نے ان عرضیوں کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ خرید کے فیصلے لینے کی کارروائی پر شبہ کی کوئی وجہ نہیں بنتی ہے ۔اب پیرس میں رافیل کے دستاویزوں کی چوری کی کوشش محض اتفاق ہے یا سوچی سمجھی سیندھ ماری کی کوشش ہے ؟
(انل نریندر)

کمار سوامی کی مکھیہ منتری کرسی ڈگمگائے گی؟

لوک سبھا چناﺅکے آئے نتائج کا سیدھا اثر کرناٹک پر پڑنے کا امکان ہے مرکزی وزیر صدا نند گوڑا نے بینگلورو میں بدھوار کو دعوی کیا تھا کہ چوبیس مئی تک کمار سوامی کی قیادت والی کانگریس جے ڈی اےس اتحادی سرکار گر جائے گی ۔انہوںنے کہا کہ ایس ڈی کمار سوامی چوبیس مئی تک مکھیہ منتری رہیں گے ایسی قیاس آرائیاں ہیں ۔چناﺅ کے نتائج کا کرناٹک میں اتحادی حکومت کے وجود پر اثر ڈالے گا ۔ایگزیٹ پول میں جتایا گیا تھا کہ کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کے لوک سبھا چناﺅ میں خراب کارکردگی پیش کر سکتی ہے۔دونوں پارٹیوںنے اتحاد کر کے لوک سبھا چناﺅ لڑا تھا اب کرناٹک میں کانگریس جے ڈی ایس سرکار مشکل بحران میں پھنس گئی ہے کرناٹک میں بیتے سال بھاجپا کے سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں ابھرنے کے بعد سرکار بنانے کا موقعہ تو مل گیا لیکن وہ ضروری اکثریت ثابت نہیں کر سکی ۔اس کے بعد کانگریس نے تیسرے نمبر کی پارٹی جے ڈی ایس کے ساتھ اتحاد کر سرکار بنائی اور ریاست کی 225ممبری اسمبلی میں دو سیٹیں خالی ہیں ایسے میں اکثریت کا نمبر 112ہے بھاجپا کے 104ممبر اسمبلی ہیں اور اس کے ساتھ ایک آزاد ممبر ایک کے پی جی پی کے ممبر اسمبلی ہیں ۔بھاجپا کو اکثریت ثابت کرنے کے لئے اور ممبران اسمبلی کی ضرورت ہے دوسری طرف حکمراں اتحاد میں جے ڈی ایس کے 37کانگریس کے 78بسپا کا ایک ممبر اسمبلی ہے ۔اور ان کی تعداد 116ہے کانگریس کے ایک ممبر (باغی)روشن بیگ کے بھاجپا کے حق میں دیے گئے بیان سے پارٹی ہائی کمان سکتے میں آگیا ہے ۔منگلوار کو کانگریس صدر راہل گاندھی سے دہلی میں ملنے آرہے سابق وزیر اعلیٰ اور سینر لیڈر سدا رمیا کا وہیں رکنے کو کہا گیا ہے ۔سیاسی بحران اور زیادہ نہ بڑھ جائے اس کے لئے راہل نے کرناٹک کے انچارج اور سیکریٹری جنرل کیسو رینو گوپال کو بنگلورو روانہ کر دیا ہے سینر نیتا غلام نبی آزاد کے قریبی مانے جانے والے روشن بیگ وزیر نہ بنائے جانے سے نا خوش چل رہے تھے ۔لوک سبھا چناﺅ میں بھی انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا چناﺅ ہو جانے کے بعد انہوںنے ایگزیٹ پول کے بہانے کانگریس کی ہار کی پیش گوئی کی تھی روشن بیگ نے پارٹی کے جنرل سیکریٹری وینو گوپال راﺅ کو جوکر قرار دیا ہے ۔اور کانگریس صدر راہل کو فلاپ بتایا ہے وہ یہیں نہیں رکے بی جے پی کو 18سیٹوں سے زیادہ ملیں گی جو صرف سدا رمیا کی وجہ سے ہوا ہے کرناٹک میں کسی بھی پارٹی کو سرکار بنانے کے لئے 112سیٹوں کی ضرورت ہوگی ہے ایسے میں بی جے پی سرکار بنانے کا دعوی پیش کرنے کے لئے صرف آٹھ ممبران اسمبلی کی ضرورت ہوگی کیونکہ بی جے پی کے پاس 104سیٹیں پہلے سے ہیں ایسے میں اگر روشن بیگ کی طرح آٹھ اور ممبر اسمبلی بغاوت پر اتر کر بی جے پی کے پالے میں آجاتے ہیں کانگریس جے ڈی ایس کی اتحادی سرکار خطرے میں پڑ جائے گی ۔
(انل نریندر)

23 مئی 2019

بیانوں سے چوکے ،چھکے لگانے والے نو جوت سنگھ سدھو

کرکٹ کی پچ ہو یا سیاسی میدان نو جوت سنگھ سدھو ہمیشہ تنازعات میں رہتے ہیں بات1996کی ہے جب انگلینڈ میں جاری سریز کے دوران کیپٹن محمد اظہر الدین سے اختلاف ہونے کے سبب کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو دورے کو بیچ میں چھوڑ کر وطن واپس آگئے تھے 23سال بعد کردار ضرور بدل گئے ہیں لیکن سدھو کا مزاج آج بھی وہی ہے ایک بار پھر ان کی اپنے کپتان(امریندر سنگھ) سے نہیں بن رہی ہے ۔اس بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ ان کے نشانے پر ہیں ۔بیشک سدھو کی زبان ہی مضبوطی ہے ۔جیسا کہ ہم نے 2019لوک سبھا چناﺅ کمپین میں دیکھا لیکن اکثر وہ جھنجھلاہٹ میں آکر اکثر وہ کئی باتیں کر جاتے ہیں جس سے پارٹی کو فائدہ ہونے کے بجائے نقصان ہو جاتا ہے ۔نوجو ت سنگھ سدھو ایک ایسا نام ہے جو کرکٹ کی دنیا میں مقبولیت حاصل کرنے کے بعد ٹی وی کی گلیمر بھر ی دنیا میں خوب چمکے بھاجپا کا ساتھ چھوڑ کر کانگریس کا ہاتھ تھامنے والے سدھو اس وقت پنجاب کیبنیٹ میں وزیر ہیں ۔مگر اب ایسا تذکرہ ہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے چل رہے ٹکراﺅ اور لوک سبھا کے سیاسی میدان میں انہیں یا ان کی پارٹی کو اتارنے کا موقعہ نا دئے جانے کا ملال ا نہیں ہے ۔سدھو کے متنازع بیان اور کئی قدم ان کی ہی پارٹی کانگریس کے لئے مصیبت کھڑی کرتے رہے ہیں ۔پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی حلف برداری میں جانے کے بعد وہ اپوزیشن کے نشانے پر آگئے تھے ۔یہی نہیں وہ وہاں پاکستانی فوج کے سربراہ باجوا کو گلے لگانا خود ان کی ہی پارٹی کے وزیر اعلیٰ کو بھی راس نہیں آیا اور وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے کھل کر اس کی مخالفت کی اور کانگریس کی زیادہ تر وزیر ان کے خلاف ہو گئے تھے اور معاملہ راہل گاندھی کے دھیان میں لایا گیا اور معاملے میں کارروائی ہونے کا امکا ن ہے ممکن ہے یہ ایکشن عام چناﺅ کے نتیجوں کے بعد دیا جا سکتا ہے ۔پیر کو کیبنٹ ویز سکھ جیندر سنگھ رندھاوا اور ترپتی راجیندر سنگھ باجوا وغیرہ نے سدھو کی بیان بازی کو بے تکی اور نامناسب قرار دیا وہیں سدھو کا کہنا ہے کہ انہوںنے جب کچھ کہا وہ ضمیر کی آواز پر کہا گرو گرنتھ صاحب کی بے ادبی پنجاب کی آتما پر چوٹ ہے اس سے ساری سکھ قوم دکھی ہے سدھو اور ان کی بیوی دونوں کو لگتا ہے کہ کیپٹن امریندر سنگھ کی مرضی سے جان بوجھ کر ان کا ٹکٹ کاٹا گیا اور پھر اسے ان دونوںنے خود کی ساکھ کا سوال بنا لیا ہے سدھو بھلے ہی یہ کہہ رہے ہوں کہ وہ 2015میں پوتر گرنتھ کی بے ادبی کرنے والوں پر کارروائی کی مانگ کر رہے ہیں لیکن جب انہوںنے اپنی پارٹی کے کچھ نیتاﺅں پر سابق وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل کے خاندان اور اکالی دل چناﺅ میں فائدہ پہنچانے کاالزام لگایا تو ان کے مفادات ایک دم صاف تھے سدھو سیاسی طور سے کافی توقعاتی ہیں ۔یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں اور کچھ غلط بھی نہیں لیکن اس طرح اس وزیر اعلیٰ پر آل فال الزام لگانا غلط ہے جس نے دیش میں کانگریس کو اتنی شاندار جیت دلائی ۔
(انل نریندر)

مودی سرکار کو روکنے کےلئے گٹھ بندھن حکومت کی کوشش

بےشک تمام ایگزیٹ پول بھاجپا کو واضح اکثریت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں لیکن اپوزیشن پارٹیوں کو ابھی بھی یقین ہے کہ معلق پارلیمنٹ آنے کا امکان ہے ۔عام چناﺅ کے نتیجوں سے ٹھیک پہلے اپوزیشن خیمے میں ہلچل تیز ہو گئی ہے پورے مہا سمر میں موٹے طور پر غائب رہیں یو پی اے کی چیر پرسن سونیا گاندھی سیاسی طور سے آخری وقت میں سرگرم ہو گئی ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی بھاجپا صدر امت شاہ کی جوڑی سے نمٹنے اور جوڑ توڑ کے لئیے وہ اپوزیشن کے تمام لیڈروں سے بات چیت کر رہی ہیں ۔سونیا گاندھی کی اس مورچہ بندی میں ان کے اہم ساتھی ڈی ایم کے کے سروے سروا ایف ایم کے اسٹالئن ،کانگریس کے ساتھی سرکردہ لیڈر شردپوار ،مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کملناتھ ہیں ۔یو پی اے چیر پرسن کی نگاہیں اس کے علاوہ بہا رکے وزیر اعلیٰ و جے ڈی یو صدر نتیش کمار کے ساتھ لوک جن شکتی پارٹی کے رام ولاس پاسوان کو بھی این ڈی اے سے توڑنے پر ٹکی ہیں ۔در اصل اپوزیشن خیمہ کسی بھی حالت میں بی جے پی یا این ڈی اے کی سرکار بننے نہیں دینا چاہتی ہے یہی وجہ ہے کہ جمعرات 16مئی 2019کو کانگریس نے ایک بڑی قربانی کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے پارٹی کے سینر لیڈر غلام نبی آزاد نے پریس کانفرنس کر صاف کیا کہ اگر کانگریس کو پی ایم کا عہدہ نہیں ملتا تو اس بات سے اسے کوئی پریشانی نہیں ہوگی ۔آخری مرحلے کی ووٹنگ سے پہلے سونیا گاندھی اپوزیشن پارٹیوں کو متحد کرنے میں لگ گئیں تھیں سونیا گاندھی نے اپوزیش پارٹیوں کے چیف لیڈروں کو فون کر کے 22,23اور24مئی کو آپ دہلی میں رہیں ؟اس کا مطلب صاف ہے کہ سونیا گاندھی نے اپوزیشن کے لیڈروں کی میٹنگ کے لئے خو داپنے اوپر ذمہ داری لیتے ہوئے کوشش تیز کر دی ہے ۔دراصل کانگریس اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ بلاتی ہے ایسے میں سندیش دینے کی کوشش رہے گی بھلے ہی ہم سب پریپول اتحاد کا حصہ نہ بنے ہوں لیکن ہم سب مودی کے خلاف لڑیں اور متحد ہیں ۔سونیا نے کسی بھی پارٹی کو اکثریت میں ملنے کی صورت میں کانگریس نے اتحادی حکومت بنانے کا جو ماسٹر پلان تیار کیا ہے اگر بھاجپا و اتحادی پارٹیاں اکثریت کے قریب نہیں پہنچتی ہیں تو غیر بھاجپا غیر کانگریس پارٹیوں کو بھاجپا کے پالے میں جانے سے روکنے کے ساتھ ہی انہیں کانگریس کی طرف لایا جانا ہے ۔نئی حکمت عملی کے تحت مرکز میں مودی کو روکنے کے لئے کانگریس نے سیکولر طاقتوں کی گگلی پھینکے جانے اور اس کے ذریعہ جہاں ایسی پارٹیوں کو بھاجپا کے پالے میں جانے سے روکنا ہے جو کہ ابھی نہ یو پی اے کا حصہ ہے اور نہ ہی این ڈی کا وہیں یکساں نظریات کے نام پر انہیں سیکولر مورچے کے تحت ایک جھنڈے کے نیچے لانے کی کوشش ہے ۔یہ کوشش تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب بھاجپا اور ان کے پریپول پارٹنر واضح حکومت سے دور رہیں ۔کم سے کم ایگزیٹ پولز سے تو یہ نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا دیکھیں آج 23مئی کو کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔
(انل نریندر)

22 مئی 2019

ان ایگزیٹ پولزکا ٹریک ریکارڈ

ساتویں مرحلے کے پولنگ کا وقت گزرنے کے بعد ہی لوک سبھا چناﺅ 2019کے ایگزیٹ پول اتوار کی شام آنے شروع ہو گئے تھے حالانکہ ووٹوں کی گنتی 23مئی جمعرات کو ہوگی ۔لیکن الگ الگ ایجنسیوں کے پول مختلف چینلوں پر آتے ہی سیاسی بحث کا نیا دور شروع ہو گیا ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جیسے اصلی نتیجے بھی ایسے ہی ہوں گے کہ کوشش ہوتی ہے ۔نتیجوں کو لے کر ایک تصویر سامنے آئے لیکن بھارت کا تجربہ رہا ہے کہ اس طرح کے پول سے غلط فہمی زیادہ پھیلتی ہے اگر ہم ماضی گزشتہ کے ایگزیٹ پول کو دیکھیں تو یہ اندازے کئی بار غلط ثابت ہوئے ہیں ۔اکثر سوال اٹھتا کہ ایگزیٹ پول پختہ تجزیہ کرتا ہے یا پھر اسے محض اندازے اور ٹرینڈ کے طور پر تیار کیا جاتا ہے اگر ہم پچھلے اہم چناﺅں اور ان کے ایگزیٹ پول پر نظر ڈالیں تو پائیں گے کہ اصل نتیجہ اور ایگزیٹ پول میں کافی فرق نظر آتا ہے 2004کے لوک سبھا چناﺅ میں این ڈی اے کو اقتدار سے باہر ہونے کا اندازہ کوئی نہیں لگا پایا تھا ۔وہیں تیسرے مورچے کے مضبوط پردردشن کا تجزیہ سبھی نے کیا تھا جس کا نتیجہ ایگزیٹ پول غلط ثابت ہونے کی شکل میں سامنے آیا 2004کے چناﺅ میں زیادہ تر ایگزیٹ پول یعنی چناﺅ کے بعد سروں میں شائنگ انڈیا کے نعرہ پر چناﺅ لڑنے والی اٹل بہاری واجپائی کی این ڈی اے سرکار کی کامیابی کا اندازہ لگایا گیا تھا لیکن نتیجے آئے تو پاسا ہی پوری طرح پلٹا ہوا تھا 2009عام چناﺅ میں ایک بار پھر بھاجپا کو زیادہ مضبوط سمجھ کر سروے غچہ کھا گئے ۔دس سال پہلے ہوئے لوک سبھا چناﺅ میں کانگریس قیاد ت والے یو پی اے کے بارے میں زیادہ تر ایگزیٹ پولغلط ثابت ہوئے یو پی اے نے جتنی سیٹیں پائیں اس کا اندازہ کوئی سروے ایجنسی نہیں کر سکی تھی دوسری طرف بھاجپا کے بارے میں زیادہ تر ایگزیٹ پول کا تجزیہ کافی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا 2014کے ساتھ چناﺅ میں کانگریس کو نقصان ہوا اور اتنا گرنے کا تجزیہ کوئی نہیں کر پایا ۔2014کے چناﺅ میں سبھی کو اندازہ یہ تھا کہ بھاجپا اچھی پرفارمینس کرئے گی لیکن کتنا اچھا پردرشن کرئے گی یہ صر ف دو ایجنسیاں ہی بھانپ سکیں ۔وہیں کانگریس کو ہو نے جا رہے نقصان کا زیادہ تر بھانپ نہیں سکے ۔اب بات کرتے ہیں 2017اترپردیش اسمبلی چناﺅ کی اس میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے بہت بڑی جیت درج کی تھی اتنی بڑی جیت کا قیاس کسی سروے میں نہیں کیا گیا یوپی میں 2017کے اسمبلی چناﺅ میں بھی ایگزیٹ میں بھاجپا کو ملی سیٹوں کا اندازہ کسی کو نہیں ہوا بھاجپا نے اندازے کے اوسط سے 116سیٹیں حاصل کی تھیں ۔نوٹ بندی کے بعد اترپردیش میں ہوئے 2017کے اسمبلی چناﺅ میں تو ایگزیٹ پول اور سیاسی پنڈتوں کو ہلا کر رکھ دیا سارے پول معلق اسمبلی کے اشارے دیے تھے لیکن نتیجے آئے 403اسمبلی سیٹوں والی اترپردیش میں بھاجپا 312سیٹوں کی زبردست اکثریت سے اقتدار میں آئی تھی ۔2014کے لوک سبھا چناﺅ میں بھی ایگزیٹ پول نریندر مودی کے حق میں چل رہی آندھی کو پوری طرح نہیں بھانپ پائیے لیکن بھاجپا نے اپنے دم پر 282سیٹیں حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی جبکہ این ڈی اے کا نمبر 336تک پہنچ گیا ۔دہلی اسمبلی چناﺅ 2015میں مودی کو زبردست اکثریت آنے کے بعد ہوئے ایگزیٹ پول کا اندازہ تھا کہ آپ پارٹی کو 31سے 50کے درمیان سیٹیں ملیں گی اور بھاجپا کو 17سے 35سیٹیں کانگریس کو 3سے 7سیٹیں ملیں گی لیکن 70سیٹوں والی اسمبلی چناﺅ کے نتیجے آئے تو عآپ نے 67سیٹیں جیت کر سبھی سروں کو فیل کر دیا بھاجپا صرف تین سیٹ پر اٹک گئی اور کانگریس کا کھاتہ تک نہیں کھل سکا بہار میں 2015کے چناﺅ میں مہا گٹھ بندھن اور بھاجپا کے درمیان کانٹے کی ٹکر کا دعوی تھا لیکن نتیجے آئے تو جے ڈی یو آر جے ڈی کانگریس کے اتحاد نے 243سیٹوں والی اسمبلی میں 178سیٹیں جیتی تھیں ۔ابھی کچھ دن پہلے آسٹریلیا کے عام چناﺅ میں وزیر اعظم اسکواٹ میریسن کی قیادت والے اتحاد نے تمام سروں کو فیل کرتے ہوے معجزاتی طور پر اقتدار میں واپسی کر کے چونکا دیا ہے ۔بتا دیں کہ آسٹریلیا میں جتنے بھی ایگزیٹ پول ہوئے ان میں اپوزیشن آسٹریلین پارٹی کی جیت بتائی گئی تھی اپوزیشن پارٹیوں نے جشن بھی منانا شروع کر دیا تھا لیکن جب رزلٹ آئے تو وہ ہار گئی پچھلے 15سالوں کے ہندو ستان کے سروں کے اعداد و شمار دیکھیں تو پہلے بھی ایگزیٹ پول کے زیادہ تر تجزیے بالکل صحیح نہیں رہے اس سے بہتر ہے کہ آپ 23مئی تک صبر کریں ۔
(انل نریندر)

21 مئی 2019

کیا ہر سیٹ پر مودی چناﺅ لڑ رہے تھے؟


  • 2019کا لوک سبھا چناﺅ باقی انتخابات سے مختلف رہا ایسا لگتا تھا سارے 542لوک سبھا سیٹوں پر ایک ہی شخص چناﺅ لڑ رہا ہے آپ کسی سے پوچھو کہ آپ کس کو ووٹ دیں گے ؟جواب آتا تھا نریندر مودی کو آپ اگر ان سے چناﺅ لڑ رہے اس علاقہ کے امیدوار کا نام پوچھیں تو بہت سو کو تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے علاقہ سے امیدوار کون ہے ؟کیا پی ایم نریندر مودی دیش میں ایک حکمت عملی کے تحت امیدواروں کی جگہ سیدھے اپنے لیئے ووٹ مانگ رہے تھے ؟کیا اس حکمت عملی میں امیدوار گویا اور مودی کا چہرہ ہی ہر پارلیمانی حلقہ میں پیش کرنے کی حکمت عملی نے اپنا اثر دکھا دیا ۔کم سے کم ایگزیٹ پول تو یہی کہہ رہے ہیں کہ اس چناﺅ کے سفر میں بی جے پی کی گو ڈپلومیسی نظر آئی اس سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ 2019کا لوک سبھا چناﺅ اب تک کا سب سے اثر دار صدارتی اسٹائل کا چناﺅ رہا ہے 2014میں بھی بی جے پی مودی لہر کے بھروسے 282سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی تھی لیکن تب وہ اپوزیشن میں تھی اس مرتبہ مودی نے اقتدار مخالف لہر کے سامنے خود کو کھڑ اکر چناﺅ کی سمت موڑنے میں کامیابی حاصل کر لی ۔دراصل اپوزیشن کو اس بات کا احساس تھا کہ این ڈی اے کے پانچ سال کے عہد میں سرکار اور حکمراں ممبران پارلیمنٹ پر جتنے سوال اُٹھے چاہے جتنی بھی مخالف لہر رہی ہو لیکن مودی برانڈ پہلے کی طرح مضبوط بنا ہو اہے بھاجپا پارلیمانی تاریخ میں اب تک کی سب سے زیادہ 438سیٹوں پر چناﺅ لڑی وہیں کانگریس نے 424امیدوار میدان میں اتارے بھاجپا نے 2014کے مقابلے اس مرتبہ 33فیصد یعنی 90ایم پی کے ٹکٹ کاٹے جبکہ پانچ ایم پی پہلے ہی پارٹی چھوڑ چکے تھے وہیں کچھ سینر لیڈر 75پلس کے پیمانے کی بھیٹ چڑھ گئے ساتھ ہی کچھ ممبران کو جے ڈی یو کے ساتھ گٹھ بندھن کی وجہ سے ہٹایا گیا بھاجپا نے جن ایم پی سے ٹکٹ کاٹے ان میں سب سے زیادہ 40فیصد محفوظ سیٹوں کے تھے لوک سبھا کی کل 131سیٹوں میں سے 67پر بھاجپا قابض تھی 2014میں 282سیٹیں جیتنے والی بھاجپا ضمنی چناﺅ میں ہار اور کچھ ایم پی کے پارٹی چھوڑنے کی وجہ سے 268سیٹوں پر آچکی تھی ان میں سے پارٹی نے 90ایم پی کو ٹکٹ نہیں دیا وہیں دو ایم پی ممبر اسمبلی بن چکے تھے 90میں سے سب سے زیادہ 19ٹکٹ اترپردیش بارہ ٹکٹ ایم پی سے کٹے دس دس ایم پی ٹکٹ گجرات اور راجستھان سے کاٹے گئے پی ایم مودی نے ساری چناﺅ مہم میں ایک ہی بات کہی آپ کا ووٹ سیدھا مودی کو جائے گا اس سے کافی حد تک مقامی پارٹیوں کے علاقائی اشوز کو راشٹرواد سے کاٹنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے ۔مودی نے خو دکو ایسے چہرے کے طور پر پیش کیا جو دیش کے لئے ضروری ہے دہشتگردی جیسے مسئلوں پر بڑے فیصلے لے سکتا ہے اور موجودہ متابادل میں سب سے بہتر ہے کہ وہ یہ پیغام دینے میں کامیاب رہے کہ ان کی جیت 
  • تبھی ہوگی جب لوکل امیدوار جیتے گا یہ چناﺅ مودی بنام تمام پارٹیاں رہا۔جس میں مودی حاوی ہوتے نظر آرہے ہیں ۔
  • (انل نریندر)


چناﺅی دنگل ختم ہوا،اب داﺅں کی جنگ

2019لوک سبھا چناﺅ کا پروسیز 9مئی کو آٹھ ریاستوں میں 59سیٹوں پر پولنگ کے ساتھ ختم ہو گیا ہے ۔اب میدان میں لڑائی ختم اب داﺅں کی جنگ چھڑی ہوئی ہے 23مئی تک جب ای وی ایم کھلے گی داﺅں کا یہ سلسہ جب تک جاری رہے گا اور 19مئی کی شام چھ بجے سے ایکزٹ پول شروع ہو گئے اور سب نے 23مئی تک ہر ٹی وی چینل پر بحث دکھانے کا ودہ کیا ہے ۔اور سب کو ہر ٹی وی چینل پر بحث دیکھنے کو ملے گی کون پارٹی جیت رہی ہے ۔جو جیت رہا ہے وہ خاموش رہے گا جو ہار رہا ہے وہ نتیجوں کو غلط بتائے گا مثال دے گا فلاں ،فلاں ایگزیٹ پول غلط ثابت ہوئے تھے اپنی آخری ریلی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ جمہوریت میں چناﺅ سرکار بنانے کے لئے ہوتے ہیں کھرگون میں ایک ریلی میں کہا کہ سیاسی پارٹیاں اور امیدوار آپ سے اپنی اپنی نیت اور پالیسی کے حساب سے ووٹ مانگتے ہیں ۔لیکن 2019کا چناﺅ دیگر انتخابات سے مختلف ہے اس چناﺅ کی قیادت جنتا کر رہی ہے ۔دیش آج کشمیر سے کنیا کماری اور کچھ سے کانگروپ پورا دیش کہہ رہا ہے اب کی بار پھر مودی سرکار اور تین چار دن سے میں یہ سن رہا ہوں اب کی بار تین سو سے پار انہوںنے کہا کہ دہشت گردی نکسل وار کو ختم کرنے کا ہمار عزم کو بھر پور عوامی حمایت ملی ہے یہ دیش کا جذبہ ہے دہشتگردوں کو گھر میں گھس کر مارا جائے مودی نے سرکار پھر سے بننے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ نئی سرکار جلدی کام کرنا شروع کر دے گی میرے موٹی موٹی رائے ہے مکمل اکثریت والی سرکار پانچ سال میعاد پوری کرنے کے بعد پھر کامیاب ہو کر اقتدار میں آرہی ہے ۔لمبے عرصے بعد ایسا ہوگا کہ راہل گاندھی کو جب پتہ چلا کہ اسی وقت دہلی میں بھاجپا ہیڈ کوارٹر میں مودی شاہ کی پریس کانفرنس ہو رہی تو انہوں نے دعوی کیا کہ پردھان منتری مودی ،شاہ کی پریس کانفرنس ہو رہی ہے تو پردھان منتری کی واداعی طے ہو چکی ہے ۔انہوںنے کہا میں نے کئی بار مودی جی سے سوال کئے لیکن انہوںنے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اس کا جواب 23مئی کو جنتا دیے گی ۔راہل گاندھی نے چناﺅ کمیشن پر جانب دارانہ رویہ اختیار کرنے والا بتایا انہوںنے کہا کہ جب کہ ایسے ہی بیانوں کے لئے ہمارے دوسرے نیتاﺅں پر کارروائی کی گئی وہیں مودی امت شاہ کے بیانوں کا کوئی الیکشن کمیشن نے نوٹس نہیں لیا کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ چناﺅ کمیشن نے پورے چناﺅ کا پروگرام نریندر مودی کے چناﺅ پرچار کو ذہن میں رکھ کر بنایا راہل نے یہ بھی کہ پردھان منتری میرے پریوار کے بارے میں جتنا چاہیں غیر مناسب بولیں میں ان کے ماتا پتا کے بارے میں کبھی نہیں بولوں گا میں پردھان منتری کے عہدے کا احترام کرتا ہوں اور ان کی نفر ت کے بدلے پیار لوٹاﺅں گا۔اگر ان کے ماتا پتا نے کچھ غلط بھی کیا تو میں ان کے بارے میں کچھ نہیں بولوں گا ۔اگر وہ بولنا چاہیں تو یہ ان پر ہے 2014میں لوک سبھا میں ہمارے نمبر کم تھے لیکن کانگریس نے اپوزیشن کا کردار ایک گریڈ سے نبھایا 23مئی کو مودی سرکار کا جانا طے ہے یہ تو تبھی پتہ چلے گا کہ جس دن نتیجے آئیں گے کہ بی جے پی کی 300سو سیٹیں آرہی ہیں یا ان کی ودائی ہوگی۔

(انل نریندر)

آخری دو پریس کانفرنس کا قصہ

  1. ہندوستانی سیاست کی تاریخ میں ممکنہ طور پر ایسا پہلی بار ہوا جب وزیر اعظم عہدے کے دو دعویدار ایک وقت پر ایک ہی شہر میں اپنے اپنے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مکمل سیاسی داﺅں پیچ کے ساتھ موجود تھے ۔خاص بات یہ رہی کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پانچ برس کے اپنے عہد میں کسی پریس کانفرنس میں شرکت کی تھی جمعہ کی شام لمبے چناﺅ کمپین کے اختتام پر بھی یہی لمحے تھے اور دونوں نیتا اپنی چناﺅی ریلیاں ختم کر راجدھانی لوٹے تھے ۔بھاجپا صدر امت شاہ کی پریس کانفرنس میں پردھان منتری نریندر مودی کی موجودگی حیرت انگیز رہی کیونکہ ایسا کم ہی ہوا ہے کہ پارٹی صدر کی پریس کانفرنس میں پردھان منتری پہلی بار شام ہو دوسری بات ایک بھی سوال کا جواب نہ دیں یہ سمجھ میں نہیں آیا ۔آخر جب پانچ سال میں وزیر اعظم نے ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کی تو امت شاہ کی پریس کانفرنس میں شرکت کرنے کا مقصد کیا تھا بھاجپا ہیڈ کوارٹر میں پارٹی صدر امت شاہ کی پریس کانفرنس پہلے سے طے تھی لیکن سب کو چونکاتے ہوئے زیر اعظم مدھیہ پردیش کے کھرگون میں اپنی آخری ریلی کے بعد سیدھے بھاجپا ہیڈ کوارٹر پہنچے تھے ۔انہوںنے اخباری نمائندوں کے خطاب میں کہا کہ بھاجپا مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار میں لوٹے گی وہیں امت شاہ نے پانچ سال کے حاس کتاب پیش کرنے کے ساتھ بھاجپا کو 300سے زیادہ سیٹوں کے ساتھ مرکز میں اقتدار میں لوٹنے کی بات کہی پریس کانفرنس میں چنندہ صحافیوں کو بلایا گیا تھا اور کچھ وقت کے بعد حال کا دروازہ بند کر دیا گیا تھا ۔ایک طرف پردھان منتری کی پریس کانفرنس چل رہی تھی تو دوسری طرف کانگریس ہیڈ کوارٹر میں راہل گاندھی کی پریس کانفرنس چل رہی تھی راہل نے موقعہ کے مطابق جارحانہ انداز میں پردھان منتری سے سیدھے سوال کئے پردھان منتری جی رافیل پر آپ میری چنوتی کیوں نہیں قبول کرتے ؟وہیں نریندر مودی نے اپنی باتیں ضرور رکھیں لیکن وہ سوال ٹال گئے بولے میں پارٹی کاایک ڈیسی پلین ورکر ہوں جواب ہمارے صدر امت بھائی دیں گے راہل نے اپنے جارحانہ اسٹائل سے کہا کہ کانگریس نے نریندر مودی کی ہمایت کے 90فیصد دروازے بند کردئے ہیں جبکہ دس فیصد وہ خود بند کر چکے ہیں ۔کانگریس صدر کی پریس کانفرنس ساڑھے چار بجے شروع ہوئی اور 25منٹ تک چلی اور انہوںنے اطمنان ظاہر کیا کہ پورے پانچ سال ان کی پارٹی نے ایک ذمہ دار اپوزیشن کا رول نبھایا اترپردیش میں سپا ،بسپا کے ساتھ گٹھ بندھن نہ ہونے پر راہل نے کہا کہ وہ سپا ،بسپا سے مل کر چناﺅ لڑنے کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں نتیجوں کے بعد اپوزیشن پارٹی میں بھاجپا کی حمایت پر وہ بولے کانگریس نظریاتی طور پر سب کو یکجا کرنے میں کامیاب رہی انہیں نہیں لگتا مایا وتی، ملائم سنگھ، ممتا بنرجی،اور چندر بابو نائیڈو مودی سرکار کو ہمایت دیں گے راہل نے پی ایم پر طنز کرتے ہویئے انٹر ویو پر چٹکی لی راہل بولے ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو آم پسند ہے یا نہیں یا کرتے کی بازو کٹوا کر کیوں پہنتے ہیں ؟بالا کوٹ کے بارے میں بتاتے ہیں کہ میں نے ائیر فورس سے کہا کہ موسم خراب ہے بادل ہے راڈار پکڑ نہیں پائے گا اس کے بعد راہل نے میز بجاتے ہوئے کہا کہ یہ دیش کے پی ایم ہیں شاندار ۔

  2. (انل نریندر)

19 مئی 2019

ذات پات کے تجزیہ میں پھنسے منوج سنہا

شہیدوں کی سرزمین سے مشہور پوروانچل کی غازی پور سیٹ اس مرتبہ وکاس بنام ذات پات کی لڑائی ہے ۔غازی پور سے بھاجپا امیدوار مرکزی وزیر مماثلات و ریل منوج سنہا کے وکاس کاموں کا خوب تذکرہ کر رہے ہیں لیکن سپا بسپا اتحاد کا ذات پات کا تجزیہ بھاجپا کے لئے سخت چیلنچ بن گیا ہے ۔اس مرتبہ غازی پور لوک سبھا سیٹ پر سنہا کے خلاف گٹھ بندھن کے امیدوار افضال انصاری ہیں ۔پوروانچل کے دبنگ مختار انصاری کے بھائی افضال 2004سے 2009تک یہاں سے ایم پی رہے 2014میں لوک سبھا چناﺅ میں مودی لہر کے درمیان سخت مقابلے میں منوج سنہا 33ہزار ووٹ سے کامیاب ہوئے تھے جبکہ سپا بسپا نے الگ الگ چناﺅ لڑا تھا اب ان دونوں کے ساتھ آنے سے غازی پور سیٹ پر سماجی تجزیہ پوری طرح سے بدل گیا ہے ۔یہاں سب سے زیادہ یادو ووٹر ہیں اس کے بعد دلت اور مسلم ووٹر ہیں ان تنیوں برادریوں کے ووٹ کی تعداد غازی پور ،پارلیمانی سیٹ کے کل ووٹوں کی تعداد کی تقریبا آدھی ہے ۔جو منوج سنہا کے لئے چنوتی بنے ہوئے ہیں ۔غازی پور کے مقامی لوگ مانتے ہیں کہ ضلع میں کام ہوا ہے لیکن ہار جیت کے بارے میں کوئی صاف رائے نہیں بتاتا منوج سنہا حلقہ میں پچھلے پانچ برسوں میں ہوئے کاموں اور پردھان منتری مودی کے نام پر اتحاد کے ذات پات کے تجزیہ کو ناکام کرنے کی کوشش میں ہیں ۔وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سماج کے سبھی طبقہ ہمارے ساتھ ہیں منوج سنہا اپنے سیاسی حریفوں کی کوئی بات نہیں کرتے بلکہ وہ مودی سرکار کے کارناموں کے بارے میں لوگوں کو بتاتے ہیں ۔واضح ہو کہ افضال انصاری دبنگ لیڈر ہیں اور کئی سنگین معاملوں میں ملزم ہیں ۔فی الحال ممبر اسمبلی کرشن آنند رام کے قتل کے معاملے میں ضمانت پر ہیں ۔جبکہ ان کا چھوٹا بھائی مختار انصاری ابھی بھی جیل میں ہے ۔وہیں کانگریس امیدوار اجیت پرتاپ کشواہا بابو سنگھ کشواہا کی پارٹی سے ہیں پیشے سے وکیل اجیت 2017میں جنگی پور اسمبلی سے جن ادھیکار پارٹی سے چناﺅ لڑ چکے ہیں لیکن وہ پانچویں مقام پر رہے تھے اب سپا بسپا گٹھ بندھن ہو جانے سے افضا ل کے حوصلے بلند ہیں ۔کل ملا کر اصل لڑائی منوج سنہا افضال انصاری کے درمیان ہے وکاس اور باہو بلی و ہ ذات پات تجزیہ سے ہے ۔

(انل نریندر)

سنگھ کے گڑھ ایم پی میں کانگریس کی چنوتی

لو ک سبھا چناﺅ آخری مرحلے آج 19مئی مدھیہ پردیش میں جن سیٹوں پر مقابلہ ہونا ہے سال 2014میں بھاجپا نے مالوا نمکاڈو کی یہ سیٹیں جیت کر تاریخ رقم کی تھی لیکن اسمبلی چناﺅ میں ملی کامیابی سے گدگد کانگریس کم سے کم چار سیٹیں جیتنے کی امید کر رہی ہے وہیں بھاجپا مودی کے دم پر پچھلا نتیجہ دہرانے کا دعوہ کر ہی ہے اس نے چھ سیٹوں پر اپنے امیدوار بدلے ہیں ۔مغربی مدھیہ پردیش کا علاقہ شروع سے ہی آر ایس ایس کے زیر اثر رہا چناﺅ ہو یا نہ ہو سنگھ وہ ان کی انجمنوں کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں اور بھاجپا جیسی طاقت بھی یہی ہے وہیں کانگریس عام طور پر چناﺅ کے وقت ہی میدان میں دکھائی پڑتی ہے کئی لوگ کہتے ہیں کانگریس کی مہم ون ڈے اور ٹی 20کی طرح ہوتی ہے کمرشیل راجدھانی اندور سنگھ کا گڑھ ہے لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے 1989میں جیت کی شروعات کی تھی وہ تیس سال سے برقرا ر ہے تائی کے نام سے مشہور سمترااس مرتبہ میدان میں نہیں ہیں تائی کے انکار کے بعد بھاجپا نے لاوانی کو میدان میں اتارا ہے کانگریس نے پنکج سنگھوئی کو پھر موقع دیا ہے سنگھوئی وزیر اعلیٰ کملناتھ کی پسند ہیں ۔اور انہیں بھاجپا کی اندرونی رشہ کسی کا فائدہ مل سکتا ہے کال بھیرو کی نگری اجین میں کانگریس اور بھاجپا دونوں ہی امیدوار اپنی پارٹیوں میں اندرونی رشہ کسی سے پریشان ہیں بھاجپا نے چنتا منی مالویہ کا ٹکٹ کاٹ کر انل چھروجیا اور کانگریس نے باپو لال مالیا کو میدان میں اتارا ہے مند سور لوک سبھا سیٹ کسان طے کریں گے جیت کسان آندولن کے بعد موجودہ ایم پی سدھیر گپتا کے خلاف ماحول کے باوجود بھاجپا نے انہیں ٹکٹ دیا ہے دراصل اسمبلی چناﺅ میں کانگریس کا صفایا ہونے کے بعد بھاجپا نے انہیں اتارا ہے وہیں کانگریس سے پہلے میناکشی نٹراجن کسانوں کی مبینہ ناراضگی کے سبب امید لگائے ہوئے ہیں مدھیہ پردیش کی جن سیٹوں پر چناﺅ آج ہو رہا ہے ان میں کڑوا ،کھرگون ،رتلام ،جھا بوا،اور دھار،قابل ذکر ہیں ۔یہ چناﺅ جہاں بھاجپا اور سنگھ کے لئے اپنی ساکھ بچانے کی لڑائی ہے وہیں وزیر اعلیٰ کملناتھ اور دگ وجے سنگھ کے لئے بھی ساکھ کا سوال بنا ہوا ہے ۔2014کے لوک سبھا چناﺅ میں بھاجپا نے مدھیہ پردیش کی کل 29سیٹوں میں سے 27پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ کانگریس تو محض دو سیٹیں ملیں تھیں ۔

(انل نریندر)

اب بنارس میں مودی کا مقابلہ خود مودی سے

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف یوں تو 25امیدوار کھڑے ہیں لیکن مودی کا مقابلہ خود ہی سے ہے ۔پچھلی بار 2014میں مودی کےخلاف 41امیدوار تھے اور وہ 371784 ووٹ سے جیتے تھے لیکن اس مرتبہ یہ تعداد گھٹ کر 25ہو گئی ہے ا س کے باوجود ان کے خلاف ایک چھوٹا بھارت چناﺅ لڑ رہا ہے یہ اسپیشل 25امیدوار آندھرا پردیش مہاراشٹر ،چھتیس گڑھ ،بہار،کیرل،اتراکھنڈ سمیت کئی ریاستوں کے ہیں اور ان سے ہر ایک یہاں کچھ نہ کچھ اشو اٹھانے آئے ہیں ۔مہاراشٹر کے ایک کسان آنند راﺅ پاٹل مہاتما گاندھی کی طرح کپڑے پہنتے ہیں گلے میں ان کا فوٹو لٹکا ہوا ہے وہ کہتے ہیں میں یہاں مودی کو ہرانے نہیں آیا ہوں بلکہ ان کی توجہ کسانوں کی بد حالی اور کرپشن کہ طرف دلانے آیا ہوں ہاکی کھلاڑی اولمپین مرحوم محمد شاہد کی بیٹی ہنا شاہد بھی مودی کے خلاف چناﺅ لڑ رہی ہیں وہ پارلیمنٹ اس لئے جانا چاہتی ہیں تاکہ عورتوں کا اشو اُٹھا سکیں حالانکہ میں جانتی ہوں کہ میں مودی کو نہیں ہرا سکتی لیکن کسی کو اس لئے گھر نہیں بیٹھنا چاہیے کہ مودی ایک مضبوط امیدوار ہیں ایسے ہی سپا اور کانگریس سمیت 25امیدوار میدان میں ہیں ۔ اس میںشالنی یادو،اور کانگریس کے سابق ممبر اسمبلی ونیے رام میدان میں ہیں ۔ 2014 میں مودی کو 5لاکھ 81ہزار22ووٹ ملے تھے کانگریس سے ابھے رام ہی امیدوار تھے اور انہیں محض 75614ووٹ ملے تھے ۔وہ دوسرے نمبر پر رہے عام آدمی پارٹی کے چیف اروند کجریوال کو 2لاکھ ووٹ ملے تھے اس مرتبہ کانگریس اور سپا میں سے کسی ایک کو قریب 3لاکھ مسلمان دم دار بنایں گے۔یہ نمبر دو کی لڑائی دلچسپ ہوگی ۔وارانسی میں اصل لڑائی مودی بنام مودی ہے دیکھنا یہ ہوگا کہ اس بار مودی کتنے ووٹوں سے کامیاب ہوتے ہیں ؟یہ بھی دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مہاگٹھ بندھن امیدوار شالنی یادو کتنے ووٹ کاٹ سکتی ہیں جہاں تک کانگریس کے اجے رام کا سوال ہے ہمیں نہیں لگتا کہ وہ کوئی زیادہ پا سکیں گے ۔کچھ دن تک برخاست فوجی تیج بہادر کا معاملہ میڈیا میں چلا تھا اور وہ مودی کے خلاف چناﺅ لڑنے اترے تھے 102امیدواروں میں سے 71کے پرچے خارج ہوئے تھے ان میں سے تیج بہادر بھی شامل تھے اگر تیج بہادر کھڑے رہتے تو ماحول کچھ اور ہوتا اب تو پی ایم کوفائدہ ملے گا ۔

(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...