Translater

28 دسمبر 2013

بھارت سرکار کے دیویانی معاملے پر موقف سے بوکھلایا امریکہ!

امریکہ میں ہندوستانی سفارتکار دیویانی کھوبراگڑے کے معاملے میں بھارت سرکار نے جس طرح کی کڑک مزاجی دکھائی ہے اس کے مثبت نتائج دوسرے ملکوں سے بھی سامنے آنے لگے ہیں اور بھارت ہی نہیں دنیا کے کئی ملکوں میں بحث شروع ہوئی ہے کہ آخر کب تک دنیا امریکہ کی دادا گیری برداشت کرے گی۔ پڑوسی ملک پاکستان سے بھی بھارت کے موقف کو حمایت مل رہی ہے۔ ’دی نیشن‘ اخبار نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ اس پر کس کو شبہ ہوگا؟ یہ مانا جاتا ہے کہ اس کی حکومت میں دنیا کے سب سے ذہین اور وسیع دماغ والے شخص شامل ہوں گے لیکن ہندوستان کے قونصل خانے کی سینئر افسر دیویانی کی گرفتاری اور ان کے ساتھ کی گئی بدسلوکی امریکی انتظامیہ کی سیاسی سوجھ بوجھ کس میں شک پیدا کرسکتی ہے۔ آخر یہ نوبت آئی کیسے؟ یہ پورا ڈرامہ جو ہوا اس سے تلخی پیدا ہوئی ہے اسے سوجھ بوجھ سے ٹالا جاسکتا تھا۔ پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دیویانی کی گرفتاری میں شامل رہے امریکی وکیل مارشل اور ان کی گرفتاری پر دستخط کرنے والے محکمہ خارجہ کے حکام نے مبینہ طور پر گھریلو جرائم کو بین الاقوامی رنگ دے دیا ہے۔ انہوں نے امریکہ کو لاہور میں امریکی سفارتخانوں میں کام کررہے ریمنڈ ڈیوس معاملے کی یاد دلائی۔ پچھلے دو سال پاکستان شہریوں کے قتل کرنے والے امریکی سفارتکار ریمنڈ ڈیوس کے بارے میں بتایا کہ ہم نے ڈیوس کے معاملے میں پاکستان اور امریکہ کے رشتوں کو بنیاد بنایا تھا جبکہ یہ خون کا معاملہ تھا جو ایک سنگین جرم تھا۔ مجھے بھی کسی عام شخص کی طرح اس بات پر غصہ آیا تھا کہ ایک شخص نے بھرے بازار میں دو لوگوں کو مار ڈالا تھا جبکہ ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔ بلا شبہ ڈیوس کے خلاف قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہئے تھی۔ اس کارروائی سے امریکہ پاکستان کے تعلقات متاثر ہوسکتے تھے۔ دیویانی کے معاملے میں سخت ہوئی یوپی اے سرکار نے اسی سلسلے کو بڑھاتے ہوئے بحرین کے ایک سفارتکار کے خلاف اپنی ممبئی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ایک خاتون منیجر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کو لیکر ایک معاملہ درج کرایا۔ حالانکہ انہیں سفارتکار کا اسپیشل افسر کے ہوتے ہوئے گرفتار نہیں کیا گیا۔ یہ دیویانی معاملے کے بعد آئے سخت رخ کا نتیجہ ہے۔ ادھر دیویانی کے والد اتم کھوبراگڑے نے الزام لگایا کہ ان کی بیٹی سابق نوکرانی سنگیتا رچرڈ امریکی خفیہ کی ایجنٹ ہوسکتی ہے۔ دیویانی کو تو بلی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔ امریکہ کے دوہرے پیمانوں کی ایک مثال ہے سعودی عرب اور روس کے سفارتکاروں کی غلطیوں پر آنکھیں بند رکھنا۔سعودی فوجی اتاشی کے واشنگٹن میں واقع گھر سے ظلم و زیادتی سے تنگ فلپین کی دو عورتوں کو بچایا گیا تھا جبکہ روس کے سابق موجودہ49 سفارتکاروں اور ان کے رشتے داروں پرامریکی ہیلتھ اسکیم میں 15 لاکھ ڈالر کی دھوکہ دھڑی کے معاملے کا الزام لگا تھا اس میں11 تو اب بھی امریکہ میں تعینات ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میری ہرش اس سوال کا جواب نہیں دے پائیں کے دیویانی کے تئیں سختی برتنے والا امریکی انتظامیہ سعودی عرب اور روس کے سفارتکاروں کی غلطیوں پر کیوں آنکھیں بند کئے ہوئے ہے؟ ادھر نئی دہلی میں بھارت ۔ امریکی کانگریس کی مخالفت کے باوجود امریکی سفارتخانے کے آس پاس پھر سے حفاظت کے سخت انتظام کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ غور طلب ہے گذشتہ17 دسمبر کو امریکی سفارتخانے کے گیٹ اور سڑک سے سکیورٹی ہٹانے کے بعد پہلی بار امریکی کانگریس نے تلخ ناراضگی دکھائی تھی۔ بھارت نے صاف اشارہ دیا ہے کہ دیویانی کی گرفتاری کے معاملے میں وہ قابل قبول ہل نہ نکلنے تک اس کا امریکی سفارتخانے کے سامنے سکیورٹی تعینات رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بھارت اس معاملے میں اپنے رخ پر قائم ہے۔ خبر اب یہ بھی ہے کہ امریکی سفارتخانے اور امریکی قونصل خانے اور اسکولوں و دیگر اداروں میں کام کرنے والے دیش کے لوگوں کو ملنے والی سہولیات و تنخواہ کی جانکاری مانگ کر امریکہ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے والا قدم ہے۔ امریکہ اپنے ملازمین کو ان کی واجب تنخواہ کا آدھا بھی نہیں دیتا۔ سفارتکاروں کے یہاں کام کرنے والے گھریلو نوکروں کا تو امریکی سفارتخانے کے پاس کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہے۔ بھارت کے پاس ان ملازمین کو رکھنے نکالنے کے دوران وزارت محنت قانون کی خلاف ورزی کے کئی ثبوت ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ امریکہ جہاں اس بارے میں جانکاری دستیاب کرانے میں زیادہ وقت مانگ کر معاملے کو ٹالنے کی کوشش میں ہے۔ آج پورا دیش اس اشو پر مرکزی سرکار کے ساتھ ہے۔ آپ بھلے ہی اڑے رہو اس کا فائدہ اسی جگہ نہیں کئی اور جگہوں پر بھی ملے گا۔ جھکانے والا چاہئے دنیا جھکتی ہے۔
(انل نریندر)

کانگریس مخالف لہر پر ٹکی ہیں بھاجپا کی امیدیں!

چار ریاستوں میں کامیابی سے گد گد بھارتیہ جنتا پارٹی اب لوک سبھا چناؤ سے پہلے کانگریس مخالف لہر کا پورا فائدہ اٹھانے میں لگ گئی ہے۔ بھاجپا کی کوشش ہوگی کہ اس لہر میں کوئی تقسیم نہ ہو۔ ’مودی فار پی ایم‘ کے نعرے کے ساتھ بھاجپا نے اپنے مشن2014 کا روڈ میپ تیار کرلیا ہے۔ عام چناؤ میں اب محض 4 مہینے باقی ہیں اور پارٹی نے 60 دن تیاری اور 60 دن پبلسٹی کے لئے طے کئے ہیں۔ نریندر مودی نے پارٹی کے وزراء اعلی مرکزی عہدیدار اور پردیش پردھانوں کو جیت کے لئے فارمولہ بتادیا ہے۔ پچھلے عام چناؤ میں کانگریس کو 206 سیٹیں بھاجپا کو116 سیٹیں ملی تھیں۔ کانگریس جن سیٹوں پر جیتی تھی ان میں زیادہ تر بھاجپا نمبر دو پر تھی۔ ایسی سیٹوں پر بھاجپا اور کانگریس میں ووٹوں کا فرق 8-9 لاکھ کا تھا۔ گذشتہ پانچ سال میں ایسے حلقوں میں 12 لاکھ نئے ووٹر جڑ گئے ہیں۔ مرکز میں کانگریس کے 10 سالہ عہد کے خلاف بھاجپا ایک چارج شیٹ لائے گی۔ پارٹی نے خود اپنے دم خم پر 272 لوک سبھا سیٹیں جیتنے کا نشانہ رکھا ہے۔ دیش بھر کی 400 لوک سبھا سیٹوں پر پارٹی اپنے امیدوار چننے سے پہلے ریلیاں کرے گی۔ پارٹی نے جن سنگھ کی روایت کو پھر زندہ کرتے ہوئے دیش بھر میں 10 کروڑ گھروں تک جاکر ایک ووٹ اور ایک نوٹ ( 10 روپے سے لیکر1 ہزارروپے) کے ذریعے چناوی چندہ جمع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ دہلی میں ہوئی اس اہم میٹنگ کے بعد بھاجپا کے سکریٹری جنرل اننت کمار نے بتایا یہ کمپین ویسی ہی ہوگی جیسی1977 میں جے پرکاش نارائن کی لیڈر شپ میں چلائی گئی تھی۔ تب بھی مرکزی سرکار کے خلاف ایک مکمل انقلاب کا نعرہ دیتے ہوئے مہم چلائی گئی تھی۔ دہلی اسمبلی چناؤ کے دوران عام آدمی پارٹی نے جنتا سے ہی چندہ مانگا تھا۔ اس طرح اس نے عام ووٹروں کو اپنی مہم کا حصہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ بھاجپا کا بھی یہ ہی ابھیان شروع ہوگا۔ اسے مودی کی بنائی ہوئی حکمت عملی مانا جارہا ہے۔ خیال رہے کانگریس کی پچھلی سرکار تقریباً12 کروڑ ووٹروں کی حمایت سے بنی تھی جبکہ بھاجپا8کروڑ ووٹروں کے ساتھ116 سیٹوں پر رک گئی تھی۔ غور طلب ہے جن سیٹوں پر بھاجپا اور کانگریس نمبر دو پر رہی ان سیٹوں پر بھاجپا کوتقریباً90 لاکھ سے کم ووٹ ملے تھے۔2014 کے عام چناؤ میں ’کانگریس مکت بھارت‘ کا نعرہ بلند کرنے والی بھاجپا نے نوجوان ووٹروں خاص کر پہلی بار اپنے ووٹ کا استعمال کرنے والے نوجوانوں کو جوڑنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کے ذریعے جاری مشن272 کے مرکز میں نوجوان ووٹروں کو ہی رکھا گیا ہے۔ نوجوانوں کو لبھانے کے لئے پہلے تو پارٹی کے پی ایم امیدوار نریندر مودی نے پولنگ کو دیش کی مہم کے ساتھ جوڑتے ہوئے نوجوانوں کو راغب کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف انڈیا 272 ڈاٹ کام کے ذریعے سوشل میڈیا و سرگرم نوجوانوں کو پارٹی سے جوڑنے کی مہم چھیڑی ہے۔ دراصل دہلی میں عام آدمی پارٹی کے حق میں نوجوانوں کے ذریعے ردوبدل کو دیکھتے ہوئے بھاجپا کو اپنی پوری حکمت عملی پرغور کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ بھاجپا کو دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد اروند کیجریوال اینڈ پارٹی کی کارگذاری کیسی رہتی ہے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ’آپ‘ پارٹی بھاجپا کو گھیرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی اور ان کے نشانے پر نریندر مودی ہیں۔
(انل نریندر)

27 دسمبر 2013

مظفر نگر میں دونوں فرقوں میں بے اعتمادی کی خلیج کو کیسے بھرا جائے؟

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے جب ایتوار کو اترپردیش کے فساد متاثرہ مظفر نگر اور شاملی اضلاع میں لگے راحت کیمپوں اور دیہات کا اچانک دورہ کیا تو ان کا سامنا اس گنا پٹی میں فساد کے بعد فرقوں کے بیچ بنی گہری کھائی کی گہری حقیقت سے ہوا۔ ایک طرف ایک ساتھ رہنے کی منشا ہے تو دوسری طرف فرقوں کے بیچ بے اعتمادی کی کھائی۔ اسی کے پیش نظر راہل نے ثالثی کی ضرورت پر زوردیا۔ انہوں نے کیمپوں میں بیحد خراب حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زوردیا۔کیمپوں میں مقیم افراد نے اس بات کی شکایت کی کہ گرم کپڑوں کے دستیاب نہ ہونے سے23 بچوں کی موت ہوگئی ہے۔ زیادہ تر راحت کیمپوں میں ا سی طرح کی شکایتیں تھیں۔ ایک متاثرہ لڑکے نے تلخی بھرے انداز میںیہ بات بتائی تو راہل نے پوچھا کہ وہاں کتنے دبنگ ہیں؟ گاندھی نے متاثرین سے اپیل کی وہ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ جب راہل نے بار بار ان سے پوچھا کیا کیا جانا چاہئے جس سے وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں ، تو الکپور کے مفتی اسلم نے کہا کہ یہ تب تک ممکن نہیں ہے جب تک جن لوگوں نے فساد کو انجام دیا ہے انہیں سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیجا جاتا۔ دنگوں کو انجام دینے والے اب بھی کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ شاملی میں ایک خاتون نے کہا میں نے بیٹا کھودیا ہے اور انہوں نے میرا گھر جلا دیا ہے میں وہاں جاکر کیا کروں گی؟ ایک کیمپ میں فساد متاثرین نے راہل کے قافلے کو روکنے کی کوشش کی اور اپنے مسائل کا حل کرنے اور وعدے کی مانگ کی۔ متاثرین کے نمائندوں نے ریاستی سرکار کے حکم کی ایک کاپی اور وزیر اعلی اکھلیش یادو کو سونپا گیا خط سونپا جس میں انہوں نے کہا کہ فرقے فساد متاثرین میں زیادہ تر کھیتی مزدور ،اینٹ بھٹا مزدور افراد ہیں۔ انہوں نے اب اپنا ذریعہ معاش کھو دیا ہے۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو کو کیرانا کے آل انڈیا اتحادالمسلمین کی سونپی گئی مانگوں کی فہرست میں پہلی مانگ تھی کہ شاملی، مظفر نگر اور باغ پت میں جاٹھ فرقے کے ملازمین اور پولیس افسران اور دیگر افسران کا دیگر ضلعوں میں تبادلہ کیا جانا چاہئے۔ کیمپ چلانے والے لوگ بے لوث ہیں انہیں مختلف علاقوں کے فرقوں کے لئے آنے والی اقتصادی مدد سے فائدہ ہوتا ہے۔ شاملی ضلع کانگریس پردھان ایوب جنگ نے الزام لگایا کہ زیادہ تر راحت کیمپوں کو سماج وادی پارٹی کے ممبر چلا رہے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ کیمپ میں رہنے والے لوگ اپنے گھروں کو لوٹیں۔ فساد میں زندہ بچے لوگوں نے کچھ عرصے پہلے مظفر نگر کی سڑکوں مظاہرہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاستی سرکار ان پر اس بات کا اعلان کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اپنے گاؤں نہیں لوٹیں گے اور پانچ لاکھ روپے کے معاوضے کے بدلے اپنی پراپرٹیوں کے دعوے کو چھوڑدیں۔جاٹھ اکثریتی کنکر کھیڑا میں دیہاتیوں نے راہل گاندھی سے شکایت کی کہ مسلم فساد متاثرین کو ریاستی سرکار معاوضہ دے رہی ہے وہیں ان کے فرقے کے لوگوں کو کچھ بھی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا ریاستی انتظامیہ دباؤ میں کارروائی کررہی ہے۔ ایک خاص فرقے کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی ہے ۔ اس فرقے کے لوگوں نے ہی پہلے تشدد کا سہارا لیا۔ ایک دیہاتی جنگ لال نے بتایا کے اس سے پہلے وہاں کبھی جھگڑے نہیں ہوئے۔ سوال اٹھتا ہے کہ اس مسئلے کا آخر حل کیسے نکلے گا؟
(انل نریندر)

کانگریسیو !اب پچتائے ہوت کیا ، جب چڑیا چگ گئی کھیت

دہلی اسمبلی چناؤ میں سب سے بری طرح ہاری کانگریس نے داؤ تو کھیلا تھاعام آدمی پارٹی کو سرکار میں پھنسانے کا لیکن اسے حمایت دے کر خود پھنس گئی ہے۔ جب ہوش آیا تو بہت دیر ہوچکی تھی لہٰذا اب ’آپ‘ کو حمایت کے معاملے میں ہیں کانگریس میں گھمسان مچا ہوا ہے۔ دہلی کے سبھی لیڈر الگ پریشان ہیں اور ورکر دھرنے مظاہروں پر اتر آئے ہیں۔ بدھوار کی شام کو ہی صدر لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے ’آپ‘ پارٹی کو حلف لینے کو کہا گیا۔ صبح تک کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ حلف برداری کب ہوگی؟ کجریوال سرکار بننے پر بھی سسپنس کھڑا ہوگیا تھا۔ دراصل اس سسپنس کی بنیادی وجہ کانگریس کے اندر شروع ہوئی حمایت پر نظرثانی مانا جارہا تھا۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت ’آپ‘ کی سرکار کی تشکیل کے لئے کانگریس کے ممبران اسمبلی کی حمایت مناسب نہیں مانتیں اور دن بھر اس کے لئے لابنگ کرتی رہیں اور بتا دیا کے کجریوال کی سرکار کیسے دہلی میں پارٹی کی سیاسی جڑیں کھودنے میں جٹ جائے گی۔ جو کام بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا پانچ سالوں میں نہیں کرپائی وہ کام کجریوال اینڈ کمپنی ایک مہینے میں کرسکتی ہے کیونکہ وہ کرپشن کے نام پر کانگریس کے ساتھ مہم چھیڑ سکتی ہے۔ اس سے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی کو بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ حالت تو یہ ہے کہ دہلی کانگریس کے سبھی لیڈر پارٹی ہائی کمان کے بغیر شرط حمایت دینے کے فیصلے کے خلاف متحد ہوگئے۔ اب کھل کر احتجاج کررہے ہیں۔ سینئر لیڈر شپ کی دقت یہ ہے کہ اب وہ عام پارٹی کو دی حمایت کو بغیر وجہ کے واپس نہیں لے سکتی۔ ذرائع کا کہنا ہے دہلی میں کانگریس ورکروں کے ذریعے حمایت کے خلاف مظاہروں کے پیچھے کئی بڑے نیتا ہیں جو اعلی کمان پر دباؤ ڈال رہے ہیں لیکن وہ منانے میں ناکام رہے اور اب امکانی خطروں کو بھانپتے ہوئے انہوں نے ہائی کمان پر دباؤ بنانے کا نیا پینترا چلا ہے۔ اتنا ہی نہیں کانگریس کے کئی بڑے سرکردہ جو اس حمایت کو مناسب ٹھہرا رہے تھے اب ان کی آوازیں بھی بدلنے لگی ہیں۔ اب و ہ مان رہے ہیں کہ ’آپ‘ کو حمایت دے کر بہت بڑی غلطی کردی ہے کیونکہ اب سرکار بنتے ہی کجریوال سب سے پہلے کانگریس کا پٹارہ کھولیں گے۔ انہوں نے باقاعدہ اس کا اعلان بھی کردیا ہے کہ ہر دن شیلا دیکشت سرکار کے ایک منتری کا کچا چٹھا کھولیں گے۔ان کا ارادہ اس بات سے بھی ظاہر ہوگیا ہے کہ کجریوال نے شیلا دیکشت سرکار کے چیف سکریٹری ڈی ایم سپولیا کو بدل کراپنے حمایتی افسر راجند کمار کا انتخاب کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے لئے کانگریس پر حملہ ہونا اس لئے بھی ضروری لگتا ہے تاکہ جنتا ان پر کانگریس کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کا الزام نہ لگا سکے۔ ’آپ‘ کو حمایت کے بعد اب کانگریس وہاں کھڑی ہے؟ حمایت کے احتجاج میں دہلی پردیش کانگریس دفتر پر دھرنا مظاہرے کے سوال پر کانگریس جنرل سکریٹری جناردن دویدی نے کہا کہ پارٹی میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ حمایت کا فیصلہ شاید اس صورت میں مناسب نہیں تھا۔ دہلی کی جنتا نے ہمیں تیسرے نمبر پر رکھا ہے۔ پارٹی محض 8 سیٹیں جیتی ہے۔ ہمیں لیڈر اپوزیشن تک کا عہدہ نہیں ملا۔ اس لئے کانگریس کو کہنا چاہئے تھا کہ ہمیں مینڈیڈ نہیں ملا جس وجہ سے مل کر سرکار بنائی جائے اور چلائیں۔ مناسب یہ ہی ہوتا کہ کانگریس اپوزیشن کا رول نبھاتی۔ ہماری ذمہ داری یہ دیکھنا نہیں تھی کہ سرکار کون بنائے گا ،کون چلائے گا لیکن اب بہت دیر ہوچکی ہے، تیر کمان سے نکال چکا ہے۔ اب پچتانے سے کیا ہوگا؟
(انل نریندر)

26 دسمبر 2013

کرپشن میں ملوث ہی اس کیخلاف اپدیش دینے لگے؟

کانگریس پارٹی کا کرپشن اور گھوٹالوں میں قول و فعل میں ہمیشہ فرق رہا ہے۔ تازہ مثال پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی قدم اور مہاراشٹر میں آدرش گھوٹالے کی جانچ رپورٹ کو دفن کرنا۔ادھر راہل گاندھی کہہ رہے ہیں کہ کرپشن دیش کا سب سے بڑا اشو ہے جو لوگوں کو چوس رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ عناصر پروجیکٹوں کو روک رہے ہیں۔ مہنگائی پر قابو کرنے کی بات بھی کہی۔ ادھر کانگریس کی مہاراشٹر سرکار انہیں ٹھینگا دکھا رہی ہے۔ وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان نے صاف کردیا ہے کہ آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی گھوٹالہ معاملے میں جانچ کمیشن کی سفارشیں نہیں مانی جائیں گی۔ چوہان نے کہا کہ یہ فیصلہ عوام کے مفاد کے نام پر کیا گیا ہے۔ اس کو لیکر سیدھے طور پر کانگریس کی نیت اور راہل گاندھی پر سیاسی حلقوں میں انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔ انہیں وجہ سے بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریند ر مودی کو یہ کہنے کا موقعہ ملا کے جو کرپشن میں ڈوبے ہیں وہ ہی اب اس کے خلاف اپدیش دے رہے ہیں۔ مودی نے ممبئی میں ایک عزم الشان ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا میں نے ایک کانگریس کے بڑے لیڈر کی تقریر دیکھی وہ کرپشن کے خلاف بول رہے تھے، ان کی ہمت تو دیکھئے کوئی دوسرا اتنی ہمت نہیں کرسکتا تھا۔ یہ لوگ کرپشن میں اتنے ڈوبے ہوئے ہیں اس کے باوجود معصوم چہرہ بناتے ہیں اور کرپشن کے خلاف بولتے ہیں۔ راہل گاندھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا آدرش ہاؤسنگ کمیشن رپورٹ میں وزراء کو باقاعدہ ملزم بنایا گیا ہے۔ ایک طرف مہاراشٹر سرکار کرپٹ لوگوں کو بچانے کا فیصلہ کرتی ہے تو دوسری طرف کانگریس لیڈر نئی دہلی میں یہ اپدیش دے رہے ہیں۔ کانگریس بولتی کچھ ہے کرتی کچھ ہے۔ آدرش سوسائٹی گھوٹالے کا شمار پچھلے کچھ برسوں میں ہوئے کرپشن کے سب سے بڑے معاملوں میں ہوتا ہے۔ سال2010ء میں اس کا انکشاف ہوا تھا۔جس سے دیش کا سیاسی پارہ بڑھ گیا تھا۔ اس کی جانچ رپورٹ کا بے صبری سے انتظار کیا جارہا تھا۔ یہ بیحد افسوسناک ہے مہاراشٹر سرکار نے آدرش سوسائٹی کانڈ کی جانچ رپورٹ مسترد کردی ہے لیکن شاید یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے اگر مہاراشٹر سرکار نے یہ رپورٹ قبول کی ہوتی تو اسکے سامنے کیسے سیاسی مشکلیں آتیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ جسٹس جے ۔اے پٹیل کی سربراہی والے دو نفری کمیشن نے اپنی رپورٹ میں جن لوگوں کے کردار پر انگلی اٹھائی ہے ان میں چار سابق وزیر اعلی شامل ہیں۔ ان میں وزیر داخلہ سشیل کمار شندے بھی ہیں یہ سبھی کانگریس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست کے دو کیبنٹ وزرا کا بھی نام ہے جن کا نیتا کانگریس کی اتحادی راشٹروادی کانگریس سے ہے۔مہاراشٹر میں کانگریس اور این سی پی اتحاد کی سرکار ہے اس کانڈ کی وجہ سے اشوک چوہان کو وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ رپورٹ میں سب سے تلخ تبصرہ انہیں کے خلاف ہے۔ کچھ مہینے بعد ہونے والے چناؤ کو دیکھتے ہوئے اس معاملے کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دینا آسان نہیں ہوگا۔ آدرش سوسائٹی کانڈ میں شامل وزراء اور کئی افسروں کے مخصوص اختیار کے بیجا استعمال کی دین ہے۔ راہل گاندھی نے چیمبرس آف کامرس کے ایک پروگرام میں کہا کہ ہم (ان کی پارٹی) کرپشن کے اشو پر زیرو ٹالارینس کی پالیسی اپنائے گی۔ کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ بڑے مسائل کی جڑ کرپشن ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ کانگریس نے حالیہ اسمبلی چناؤ نتائج سے کوئی سبق نہیں لیا ہے۔ یہ اب بھی جنتا کو لاپروائی سے لے رہی ہے۔ جنتا بیدار ہوچکی ہے اب اسے کانگریس کے قول اور فعل میں فرق نظر آنے لگا ہے۔
(انل نریندر)

سلاخوں کے پیچھے تیج پال کیلئے سال کا خاتمہ اور نئے سال کا آغاز ہوگا!

اسمبلی چناؤ اور اس کے نتائج میں اتنے مصروف ہوگئے کہ ایک وقت پیج تھری کے ہیرو ترون تیج پال کو سبھی بھول گئے ہیں۔ وقت وقت کی بات ہے کبھی پیج تھری کے ہیرو آج پیج آٹھ میں ایک کالج میں سمٹ گئے ہیں۔ بہرحال ترون تیج پال پنجی جیل میں ہیں۔ انہیں سال کا آخر اور نئے سال کا آغاز بھی جیل سے ہی کرنا ہوگا۔ تہلکہ مدیر ترون تیج پال کی جوڈیشیل حراست 4 جنوری2014ء تک بڑھا دی گئی ہے۔ تیج پال کو پچھلے12 دن کی حراست ختم ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں مجسٹریٹ ساریکھا ڈیسائی نے ان کی حراست بڑھا دی۔ تیج پال کے وکیلوں نے ضلع عدالت کے سامنے ان کی ضمانت کے لئے مانگ کی تھی۔ اس عرضی میں کہا گیا تھا کہ جوڈیشیل حراست میں لئے جانے کے بعد سے پولیس کے ذریعے پوچھ تاچھ نہیں کی گئی ہے۔ تیج پال سے صرف اس وقت پوچھ تاچھ کی گئی جب وہ پولیس حوالات میں تھے۔ گووا کرائم برانچ نے اس دوران ساتھی خاتون ملازم کے ساتھ جنسی استحصال کے ملزم تیج پال کی مشکلیں بڑھاتے ہوئے ان کے خلاف فاضل الزام لگائے ہیں۔برانچ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ تیج پال کے خلاف درج ایف آئی آر میں اب آئی پی سی کی دفعہ341 اور42 جوڑی گئی ہے۔تیج پال سے پوچھ تاچھ کررہے افسران نے کہا متاثرہ گواہوں کو بچانے اور ہوٹل کے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعد تیج پال کے خلاف فاضل دفعات لگائی گئی ہیں۔ دفعہ341 کسی کو غلط ڈھنگ سے روکنے، دفعہ342 کسی کو یرغمال بنانے سے وابستہ ہے۔ ادھر ترون تیج پال کی اپنی کہانی ہے۔ پوچھ تاچھ میں تیج پال نے بتایا کے لڑکی اور اس کے درمیان جو بھی کچھ ہوا اس میں ایک طرح سے رضامندی تھی۔ معاملے کی جانچ کررہے گووا پولیس کی کرائم برانچ کے افسر کا کہنا ہے جانچ صحیح سمت میں چل رہی ہے اور تیج پال سے مفصل جانچ کی جارہی ہے ، وہ تعاون دے رہے ہیں۔ انہوں نے جو بھی کچھ کیا اس میں رضامندی تھی وہ اپنے اس بیان پر قائم ہیں۔ اس پورے معاملے میں انہوں نے ملوث ہونے سے انکار کیا۔ حالانکہ تیج پال کے وکیل کہتے ہیں کہ اس بارے میں افواہ اڑ رہی ہے اور کہا کہ معاملے کی چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد پوری جانکاری مل جائے گی۔ متاثرہ لڑکی نے اپنی شکایت میں جو باتیں بتائیں تیج پال ان کی تصدیق کررہے ہیں لیکن یہ نہیں مان رہے کہ انہوں نے لڑکی کے ساتھ کسی طرح کی زور زبردستی کی۔ اس بنیاد پر وہ کہہ رہے ہیں جو کچھ ہوا اس میں اس کی رضامندی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیس ٹیڑھا ہے اور کیس ثابت کرنے کا بوجھ اب بچاؤ فریق پر ہے۔ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس آر ۔ ایس۔ سوڑی کہتے ہیں کہ ریپ اور چھیڑ چھاڑ کے معاملے میں لڑکی کا بیان سب سے اہم مانا جاتا ہے،یہ سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اگر لڑکی کے بیان میں جھول ہے اور عدالت کو لگتا ہے کہ یہ بیان بھروسے مند ہے تو وہ سب سے اہم ثبوت ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا اگر لڑکی کا بیان پختہ ہے اور بھروسے مند ہے تو کسی دوسرے ضمنی ثبوت کی ضرورت نہیں۔ جہاں تک میڈیکل صلاح کا سوال ہے تو ویسے شہادتیں ضمنی ثبوت ہیں اور میڈیکل میں اگر ریپ کی تصدیق ہوتی ہے تو کیس زیادہ ٹھوس مانا جاتا ہے۔ دیکھیں چارج شیٹ میں پولیس کیا کہتی ہے؟
(انل نریندر)

25 دسمبر 2013

’’آپ‘‘ پارٹی کی سرکارسیاست میں صفائی کی سمت میں ایک اہم قدم!

دہلی کے شہریوں نے راحت کی سانس لی ہوگی آخر کار عام آدمی پارٹی نے پچھلے15 روز سے جو سسپنس بنایا ہوا تھا وہ سرکار بنانے کے اعلان کے ساتھ ختم ہوگیا ہے۔عام آدمی پارٹی کی سیاسی معاملوں کی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں ریفرنڈم کے نتائج کو دیکھتے ہوئے سرکار بنانے کی سمت میں آگے بڑھنے کا فیصلہ لیا گیا۔ پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال دہلی کے لیفٹیننٹ گورنرنجیب جنگ کے سامنے سرکار بنانے کا دعوی پیش کیا۔ اب صاف ہوگیا ہے کہ اروند کجریوال ہی دہلی کے نئے وزیر اعلی ہوں گے جو رام لیلا میدان میں جنتا کے بیچ حلف لیں گے۔ ہم ’’آپ‘‘ پارٹی اور اروند کجریوال کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔ معلق جن آدیش میں یہ تو ہونا ہی تھا جب بھاجپا نے سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود سرکار بنانے سے منع کردیاتھا۔ اس صورت میں دو ہی متبادل بچتے تھے ایک تو دہلی میں صدر راج لگادیا جائے، دوسرا آپ پارٹی سرکار بنائے یا پھر چناؤ کرانا ہی متبادل تھا۔ اگر صدر راج لگتا تو گھوم پھر کر کانگریس کی حکومت آجاتی کیونکہ مرکزی وزارت داخلہ سروے سروا ہوتا ہے۔ اب بھی اقتدار کی باگ ڈور ایک طرح سے کانگریس کے ہاتھوں میں ہے۔ ان کے 8 ممبران اسمبلی کے دم خم پر ہی یہ سرکار چلے گی۔ کانگریسی لیڈر اب یہ کہنے لگے ہیں کہ ہم نے بغیر شرط کے حمایت نہیں دی بلکہ اشو پر دی ہے۔ اسی لائن سے ’’آپ ‘‘ پارٹی کی سرکار کے مستقبل پر تھوڑی بے یقینی سی پیدا ہونے لگی ہے۔ پتہ نہیں کانگریس اس سرکار کو کتنے دن چلنے دے گی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کجریوال کو پھونک پھونک کر قدم بڑھانا ہوگا۔ کجریوال نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ میں اپنے بچوں کی قسم کھاتا ہوں میں کانگریس کی حمایت نہیں لوں گا۔ جنتا میں اس بات کو لیکر اندیشہ ہے کہ جو وعدے ’’آپ‘‘ پارٹی نے جنتا سے کئے ہیں جن میں بجلی ، پانی، کرپشن روکنے، گھوٹالوں کی جانچ کروانا، لال بتی کلچر کو ختم کرنا اور محلہ کمیٹیوں میں سیدھا پیسہ بانٹنا وغیرہ وغیرہ ان 18 میں سے کتنے وعدے پورے کرسکیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اشو عام آدمی پارٹی پورا کر لے گی۔ ہوسکتا ہے 50 فیصد بجلی کے بل اور700 لیٹر پانی مفت ایک حد تک پورا نہ ہوسکے لیکن تب بھی جنتا کو کچھ تو راحت ملے گی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بھارت کی گرتی سیاست کے سطح پر روک لگے گی۔ سیاست میں تھوڑی شفافیت ضرور آئے گی۔ بھارت کی سیاست کو پاک کرنے کی سمت میں ایک صحیح قدم ضرور ہوگا۔ یہ دوسری پارٹیوں کو بھی بدلنے کیلئے مجبورہونا پڑے گا۔’’آپ‘‘ پارٹی اور کانگریس میں ٹکراؤ تب آسکتا ہے جب کجریوال کانگریس کے عہد کے دوران گھوٹالوں کی جانچ کرواتے ہیں اور جیسا کہ دو دن پہلے انہوں نے خود کہا بھی ہے کہ میں کرپٹ کانگریسی لیڈروں کو جیل بھیجوں گا۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو یقینی طور سے کانگریس جوابی کارروائی کرے گی۔ حالانکہ کچھ لوگوں کا دعوی ہے کانگریس اور کجریوال میں خفیہ سمجھوتہ ہوچکا ہے۔ وہ شیلا دیکشت عہد کی جانچ نہیں کروائیں گے۔ بھاجپا بیشک آج یہ کہے کہ آپ نے جنتا کو دھوکہ دیا ہے اور اسی کانگریس سے ہاتھ ملا لیا ہے جس کے خلاف چناؤ لڑے تھے۔ اپنا خیال ہے کہ اور کوئی متبادل نہیں تھا اگر ہم دوبارہ چناؤ سے بچنا چاہتے تھے اب ’’آپ‘‘ کی سرکار بن جانے کے بعد اس کے کام کاج کے بارے میں 15 دنوں کے اندر پتہ چل جائے گا کہ یہ سرکار لمبی پاری کھیلے گی یا نہیں؟ لیکن فی الحال اروند کجریوال اور ان کی پارٹی کو ہماری طرف سے شبھ کامنائیں اور ہم چاہتے ہیں کہ سارے تضاد کے باوجود ان کی سرکار چلے۔
(انل نریندر)

کیدار ناتھ حادثے میں مرے لوگوں کے وارثوں کو نہ تو معاوضہ اور نہ سرٹیفکیٹ ملا!

بڑے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی وجے بہوگنا بیشک ایک پڑھے لکھے اچھے انسان ہیں لیکن ان کی اپنی حکومت اور انتظامیہ پر پکڑ بہت کمزور ہے۔ اتراکھنڈ کے سیاسی ماحول اور اس سرد موسم کے باوجود حالات بہت ہی خراب ہیں۔ ذرائع کے مطابق لوک سبھا چناؤ میں اتراکھنڈ کی کانگریس والی پانچ لوک سبھا سیٹیں خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس لئے کانگریس اعلی کمان وزیر اعلی وجے بہوگنا کو ہٹانے کے بارے میں غور کررہا ہے اور ان کے جانشینوں میں مرکزی وزیر ہریش راوت کا نام سب سے اوپر چل رہا ہے۔ یہ تو سیاسی معاملہ ہے جس کا تعلق کانگریس پارٹی سے ہے۔ ہمیں تو دکھ اس بات کا ہے کیدارناتھ میں ماہ جون میں ہوئے قدرتی حادثے کے دوران لاپتہ ہوئے دہلی کے 237 لوگوں کی 6 ماہ بعد بھی کوئی تلاش نہیں ہوسکی اور نہ ہی ان کی موت کے بارے میں سرٹیفکیٹ یا معاوضہ ان کے عزیزوں کو ملا ہے۔ متوفین کے رشتے دار کبھی اتراکھنڈ کبھی دہلی کے محکمہ محصولات کا چکر لگا رہے ہیں۔ کل143 لوگوں کی موت کے بارے میں دیتھ سرٹیفکیٹ پچھلے ہفتے اتراکھنڈ سرکار نے دہلی کے محکمہ محصول کو بھیجے ہیں لیکن اب تک دہلی کے محکمہ محصول متوفی افراد کے رشتے داروں کی توثیق کرنے کے لئے کچھ قاعدے و ضابطے بنانے میں لگا ہوا ہے۔ لاپتہ 94 لوگوں کے بارے میں حکومت کی طرف سے کسی طرح کی خبر نہیں دی گئی ہے۔ کچھ لاپتہ لوگوں کے رشتے دار ایسے ہیں جو ابھی بھی اپنے عزیزوں کے اتراکھنڈ سے لوٹنے کا انتظار کررہے ہیں۔ کئی ایسے خاندان ہیں جو یہ مان چکے ہیں کہ ان کے رشتے داروں کی حادثے میں موت ہوگئی ہے اب وہ کبھی نہیں لوٹیں گے۔ کئی ایسے خاندان بھی ہیں جو ابھی بھی اپنوں کے لوٹنے کی آس لگائے ہوئے ہیں۔ دہلی کے محکمہ محصولات دفتر کے ایک اعلی افسر نے بتایا پچھلے ہفتے اتراکھنڈ حکومت کی جانب سے143 لوگوں کی موت کا سرٹیفکیٹ اور معاوضہ محکمہ محصول کو ملا ہے لیکن یہ آج تک متوفین کے عزیزوں کی ویری فکیشن نہیں کرا پایا۔ ابھی اس کے بارے میں توثیق کرنا باقی ہے۔ اس وجہ سے بغیر ویری فکیشن کے معاوضہ و سرٹیفکیٹ نہیں جاری کئے جاسکتے۔ نوٹری کے ذریعے تصدیق شدہ حلف نامہ یا کسی اخبار میں شائع گمشدہ کے بارے میں خبر کی کاپی مانگے جانے کے ساتھ ساتھ جانچ افسر کی رپورٹ مانگی جائے گی۔ اس کے بعد ہی انہیںیہ معاوضہ بانٹاجائے گا۔ ادھر موصولہ رپورٹوں کے مطابق کیدارناتھ مندر میں مستقبل میں کسی طرح کی قدرتی آفت سے بچانے کے لئے آثار قدیمہ حکومت ہند منداکنی ندی کا رخ بدلنے کی صلاح دے رہا ہے کیونکہ اس علاقے میں ندی کی کنارے بسے تلہٹی گاؤں کی زمین اونچی ہوگئی ہے۔ جون میں آئی تباہ کاری اور سیلاب کے بعد مندر کی تعمیر و تزعین کا کام ای ایس آئی کو سونپا گیا ہے۔ حالانکہ موسم اس میں مسلسل رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ وزیر ثقافت بھوپندر کمار کٹوچ نے بتایا کہ ہماری رپورٹ کے مطابق کیدارناتھ میں ندی کی تلہٹی اونچی ہوگئی ہے جس سے دیہی علاقے نیچے ہوگئے ہیں۔ اس لئے ہم ندی کا رخ بدلنے کا سجھاؤ دے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں مندر کو کسی قدرتی آفت کی سمت میں کوئی نقصان نہ ہو یا پھر بھارتیہ جغرافیائی سروے یا محکمہ جنگلات صلاح دے گا کیسے کیدارناتھ مندر مستقبل میں محفوظ رکھا جائے سکے۔
(انل نریندر)

24 دسمبر 2013

کیا نریندر مودی کا پسماندگی کا فائدہ بھاجپا یوپی میں اٹھا پائے گی؟

بھاجپا کے پی ایم ان ویٹنگ نریندر مودی کا مشن لوک سبھا2014 کا راستہ اترپردیش سے ہوکر گزرتا ہے۔ 85 سیٹوں والی یہ ریاست بھارتیہ جنتا پارٹی کے گیم پلان میں بہت اہم حصہ ہے۔ تبھی تو نریندر مودی نے اپنے سب سے بھروسے مند حکمت عملی ساز امت شاہ کو لکھنؤ میں بٹھایا ہوا ہے۔ بھاجپا اترپردیش میں پارٹی کے پی ایم عہدے کے امیدوار نریندر مودی کے ذریعے ریاست کی80 سیٹوں کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگی ہے۔ نریندر مودی کا چہرہ اور لیڈر شپ پارٹی کو اپنے سماجی تجزیات کے حساب سے اترپردیش میں بھارہی ہے۔پارٹی اس کوشش میں بھی لگی ہوئی ہے کہ نریندر مودی کی پسماندہ ذات ہونے کا فائدہ مل سکے۔ بھاجپا اترپردیش میں مودی کارڈ کھیل کر سیاسی سطح پر ایک تیر سے کئی نشانے لگانے میں لگی ہوئی ہے۔ بھاجپا کے حکمت عملی سازوں کولگتاہے کہ مودی کی وکاس پرش کے ساتھ ساتھ پسماندہ لیڈر کی ساکھ بھی بھاجپا کے لئے نہ صرف فائدے مند ثابت ہوگی بلکہ پارٹی ذات پات کے تجزیوں کو بھی طاقت دے گی۔ 80 سیٹوں والی اترپردیش ریاست میں بھاجپا 40 سے50 سیٹوں کے درمیان جیتنے کا نشانہ لیکر چل رہی ہے۔ نریندر مودی کی ریلیاں یہاں زیادہ تر کامیاب ہورہی ہیں۔ کاشی میں راج تالاب میں واقع کھجراؤ میں منعقد وجے شکھانند ریلی میں کافی بھیڑ سے مودی گد گد ہوئے اور کہا کہ چناؤ سے پہلے اس طرح کا ماحول کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ یوپی صرف سیاست کا میدان ہی نہیں بلکہ ہندوستان کا بھاگیہ ودھاتا بن سکتا ہے۔ یہاں رام راجیہ بنانے کا کام آپ کے پوروجوں نے کیا تھا۔ رام راجیہ کے لئے جس طرح سے عوامی حمایت کی ضرورت چاہئے وہ آپ کے پاس ہے۔ مودی نے بنارس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہاں کا موازنہ سورت سے کیا۔ کہا کہ بنارس کی طرح سورت میں بھی برسوں سے ساڑیاں خاص کاروبار بن چکی ہیں۔ یہاں کے کاریگر اور تاجر تباہ ہورہے ہیں جبکہ سورت میں ساڑی کاروبار اور شہر کی شکل بدل دی ہے۔ نیک ارادہ ہو تو بنارس کی ساڑی صنعت کو بھی اسی طرح فروغ دیا جاسکتا ہے۔ کاشی میں منعقدہ ریلی کو خطاب کرنے سے پہلے بابا ویشواناتھ کا درشن کرنے پہنچے مودی نے ودھی سے پوجا ارچنا کی ۔ پوجا کے دوران جب براہمنوں نے مودی کو سنکلپ دلانا شروع کیا تھا ہاتھ میں روپے لینے کو کہا۔ ہاتھ میں شہد لگا ہونے اور سوئٹر پہننے کی وجہ سے مودی نے جیب میں ہاتھ نہیں ڈالا۔ بغل میں راجناتھ سنگھ نے 100 روپے کا نوٹ نکال کر مودی کو دیا۔ بھاجپا کے ذریعے نریندر مودی کو بطور قد آور پسماندہ ذات کے لیڈر کی حیثیت سے پروجیکٹ کرنے سے سماجوادی پارٹی بھی اندر خانے فکر مند ہوگئی ہے۔ بھاجپا کو ایک دور میں پسماندہ طبقات کی حمایت مل چکی ہے۔ کلیان سنگھ اور ونے کٹیار جو کبھی ہندوتو کی علامت تھے وہ پسماندہ طبقے کے لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ بعد میں وہ نہ ہندوتو کے کام کے رہے اورنہ پسماندہ طبقات میں اپنا دبدبہ قائم رکھ سکے۔ پچھلے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا نے بابو سنگھ کشواہا کی حکمت عملی کو لیکر تو اما بھارتی تک کو چناؤ لڑادیا لیکن معاملہ کچھ نہیں بنا۔ اب مودی کی نئی پہچان پسماندہ لیڈر کے طور پر بتائی جارہی ہے اور وہ پچھڑے طبقے کے لیڈرہیں یہ پیغام گاؤں گاؤں تک پہنچایا جارہا ہے۔ راجناتھ سنگھ۔ نریندر مودی کی جوڑی نے اترپردیش میں اپنے کیڈر کو لوک سبھا چناؤ کے لئے میدان میں اتار دیا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے 90 کی دہائی میں اترپردیش کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ کے سبب بھاجپا کو اونچی ذاتوں کے ساتھ پسماندہ طبقات کا بھی بھرپور ووٹ ملا تھا۔
(انل نریندر)

پبلک اسکولوں میں نرسری داخلے پرٹکراؤ!

نرسری داخلے کے لئے محکمہ تعلیم سے جاری گائڈلائنس کے بعد 15 جنوری سے راجدھانی کے تمام پبلک اسکولوں میں نرسری داخلے شروع ہونے جارہے ہیں لیکن اسکول سے چھ کلو میٹر تک کے دائرے میں آنے والوں کو زیادہ تر70 پوائنٹ دینے کی سہولت سے اسکول منتظمین جس طرح سے ناراض ہیں اس سے والدین کی پریشانی بڑھ سکتی ہے۔ دہلی کے پرائیویٹ اسکولوں میں داخلے ، فیس میں اضافہ وغیرہ سے متعلق گڑ بڑیوں اور منمانی کی شکایتیں پرانی ہیں۔انہیں دور کرنے کے لئے کئی بار کوشش ہوچکی ہے مگر کوئی پائیدار حل نہیں نکل پایا۔ ہر بار اسکول کے مالکان و منتظمین کوئی نہ کوئی پیچ ڈھونڈ کر قاعدوں کو تلانجلی دینے کا راستہ نکال ہی لیتے ہیں۔ ایسے میں نرسری کلاسوں میں داخلے سے متعلق نئے قواعد پر اسکولوں کی ناراضگی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے بھی حکومت نے داخلے کے لئے کچھ نکات کو مقرر کیا تھا جن میں اسکول سے گھر کی دوری اور متعلقہ اسکول میں بچے کا کوئی بھائی یا بہن پڑ ھ رہا ہے اگر بچے کے والدین میں سے کوئی اس اسکول کا طالبعلم رہ چکا ہو وغیرہ پہلو شامل ہیں۔ پہلے اسکول سے داخلہ پانے والے بچے کی دوری زیادہ سے زیادہ 14 کلو میٹر رکھی گئی تھی لیکن نئے قاعدے سے اسے گھٹا کر اب6 کلو میٹر کردیا گیا ہے۔ دوری کی بنیاد پربچے کے داخلے کے لئے 70 نمبر دئے جائیں گے۔ اسی طرح اگر اس کے خاندان سے کوئی بچہ پہلے سے اس اسکول میں پڑھ رہا ہے تو اسے 10نمبر ملیں گے۔ پھر لڑکیوں کے لئے 5 فیصدی اگر ماں باپ میں سے کوئی اس اسکول کا طالبعلم رہ چکا ہے تو اس کے پانچ فیصدی۔ اسکول کے ملازمین کے لئے پانچ فیصدی سیٹیں ریزرو کرنی ہوں گی۔ کوٹے سے داخلے کی سہولت ختم کردی گئی ہے۔ اس پر نجی اسکول منتظمین کی انجمنوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے بات چیت کے لئے وقت مانگا لیکن انہوں نے ملنے سے انکار کردیا۔ نجی اسکولوں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اگر لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملے گا تو ایسوسی ایشن عدالت میں جاکر محکمہ تعلیم کے ذریعے نرسری داخلے کے لئے گائڈ لائنس پر روک لگانے کی اپیل کرے گی۔وہاں بھی بات نہ بنی تو تمام اسکول منتظمین ان شرطوں پر داخلہ نہیں دینے پر غور کررہے ہیں۔ حالانکہ نرسری داخلے کی الٹی گنتی شروع ہونے کے ساتھ والدین یہ سوچ رہے ہیں کہ ان کے بچے کا داخلہ کیسے ہوگا؟ داخلے کے لئے کس کی سفارش لگائیں ان کے لئے بہتر یہ تجویز ہے کہ وہ یہ ساری پریشانی چھوڑ کر قریب کے اسکولوں میں اپنی پسند کی فہرست میں ترجیح دیں۔ ان اسکولوں میں بچوں کوکس طرح کی سہولت مل رہی ہے اس بارے میں جانکاری اکھٹی کریں اور جیسے ہی15 جنوری کو داخلہ فارم نکلیں تو قریبی اسکول میں جاکر داخلہ فارم بھر دیں۔ فیس اضافے کو لیکر جب تب والدین اور اسکولوں کے درمیان تکرار شروع ہوجاتی ہے لیکن ہائی کورٹ کی ہدایت کے باوجود اس معاملے میں اسکولوں کی منمانی رکی نہیں ہے۔ اگر اسکول واقعی داخلہ اور فیس وغیرہ کے متعین میں دلیل آمیز اور شفافیت اپناتے تو سرکار یا پھر عدالتوں کو ہر بار یوں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
(انل نریندر)

22 دسمبر 2013

اروندرسنگھ لولی نے پہنا کانٹوں بھرا تاج!

دہلی اسمبلی چناؤ میں کراری ہار کے لئے بلی کا بکرا بنایا گیا دہلی پردیش کانگریس پردھان جے پرکاش اگروال کو۔ انہیں اس عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ اب یہ کانٹوں بھرا تاج 46 سالہ اروندر سنگھ لولی کو پہنایاگیا ہے۔ لولی نہ صرف سب سے کم عمر کے پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف بنے ہیں بلکہ وہ پہلے سکھ لیڈر ہیں جنہیں اس اہم عہدے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ غور طلب ہے کانگریس میں اہم عہدوں پر نوجوان چہروں کو لانا راہل گاندھی کی ترجیحات میں شامل رہا۔ کانگریس ہائی کمان نے اپنے نوجوان ممبر اسمبلی لولی کو دہلی میں پارٹی کی کمان تھماکر صاف اشارے دئے ہیں کہ بھلے ہی اسمبلی چناؤ میں اس کی کراری شکست ہوئی ہے لیکن حریف پارٹیوں سے ٹکر لینے کا دم خم اس میں اب بھی باقی ہے۔ لولی اپنی تیز طرار ساکھ کے لئے جانے جاتے ہیں۔ دہلی اسمبلی سے لیکر سرکار تک میں ان کی دھاک محسوس کی جاتی رہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ دہلی میں 45 سیٹوں سے گھٹ کر محض8 سیٹوں پر کانگریس پارٹی سمٹ گئی ہے۔ اس کو پھر سے اقتدار کے قریب پہنچاپانا لولی کے لئے آسان کام نہیں ہوگا۔ دہلی اسمبلی چناؤ میں کانگریس کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ اس وقت یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پارٹی پچھلے 20 سال میں سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ بھاجپا اور عام آدمی پارٹی کے پاس کانگریس اسمبلی میں نمبر تین پر ہے۔ اسے اپوزیشن کا رول بھی نہیں ملا۔اگلے سال ہونے والے لوک سبھا چناؤ کے پیش نظر کانگریس کی پوزیشن بھی ڈانواڈول ہے۔ ان حالات میں یہ عہدہ اروندر سنگھ لولی کے لئے کانٹوں بھرے تاج سے کم نہیں ہے۔ کانگریس اعلی کمان نے پردیش کانگریس پردھان کے عہدے پر مشرقی دہلی کے نوجوان ممبر اسمبلی لولی کو چنا ہے تو اس کی وجہ ہے دراصل بھاجپا نے مشرقی دہلی کی ہی ایک سیٹ کرشنا نگر سے پارٹی کے ممبر اسمبلی ڈاکٹر ہرش وردھن کو وزیر اعلی کا دعویدار اعلان کیا تھا۔ کانگریس کے نئے پردیش صدر لولی ہرش وردھن کو چیلنج دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے لولی سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ اجے ماکن کے بھی خاص دوست ہیں۔2013ء کی اس کانگریس مخالف لہر میں لولی کا اپنی سیٹ پر جیت پانایہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی اپنے علاقے میں پکڑ مضبوط ہے۔ سکھ ہونے کے ناطے انہیں دہلی کا طاقتور سکھ فرقے کے بھی حمایت مل سکتی ہے۔ پارٹی کے سامنے اندرونی گروپ بندی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچا ،نیچا دکھانے کا ٹرینڈ بدلنا ہوگا۔ پارٹی کے سامنے اب نہ صرف بھاجپا بلکہ عام آدمی پارٹی بھی ایک زبردست چیلنج ہے۔ ایسے میں پارٹی کو پردیش پردھان کے طور پر ایسے لیڈر کی ضرورت تھی جو حریفوں سے کھل کر دو دو ہاتھ کر سکے۔ مانا جارہا ہے لولی اس کام میں ماہر مانے جاتے ہیں۔ ان کی ساکھ توبے داغ ہے لیکن شراب کاروباری پونٹی چڈھا قتل کانڈ کے بعد انہیں اس معاملے میں گھسیٹنے کی ضرور کوشش کی گئی۔ حالانکہ خود لولی کا کہنا ہے اگر قتل کا ملزم ہی کسی شخص کو ایسے معاملے میں گھسیٹنے کی کوشش کرے تو اس کا بھروسہ خودبخود مشتبہ ہوجاتا ہے۔ ہم اروندر سنگھ لولی کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ تاج تو انہوں نے پہن لیا لیکن ہوشیاررہیں کیونکہ یہ تاج کانٹوں بھرا ہے۔
(انل نریندر)

لو ان ریلیشن کے بڑھتے ٹرینڈ سے کئی پریشانیاں درپیش!

دہلی میں لو ان ریلیشن کے معاملے بڑھنے لگے ہیں۔ لو ان ریلیشن یعنی سانجھہ زندگی جینا اور شادی کی رسم کے بغیر لڑکا لڑکی ایک ساتھ رہتے ہیں اور میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس سے سماجی مسئلہ تو کھڑا ہورہا ہے لیکن ساتھ ساتھ قانونی دشواری بھی بڑھ رہی ہے۔ راجدھانی میں لو ان ریلیشن میں رہنے والوں کے خلاف بدفعلی کے معاملے تین گنا بڑھے ہیں۔ اعدادو شمار کی مانیں تو ہر مہینے ایسے 23 معاملے مختلف تھانوں میں درج ہوتے ہیں۔ اس سال اکتوبر تک ایسے کل 228 معاملے درج ہوئے جو بدفعلی کی اور دوسری حرکات کا 16 فیصدی ہیں۔ یہ انکشاف دہلی پولیس کی ایک اندرونی رپورٹ سے ہوا ہے۔ یہ رپورٹ دہلی پولیس نے بدفعلی کے معاملے میں ملزمان کے الگ الگ زمروں کی پہچان کرنے کے لئے مختلف تھانوں میں درج معاملوں کی بنیاد پر تیار کرائی ہے۔ اس کے مطابق گزرے سال جہاں لو ان ریلیشن میں رہنے والوں کے خلاف بدفعلی کرنے کے 80 معاملے درج کئے گئے تھے وہیں اس سال اکتوبر تک یہ نمبر 228 تک پہنچ گیا ہے۔ حال ہی میں ایڈیشنل سیشن جج یوگیندر کھنہ کی عدالت میں ایک ایسا معاملہ آیا۔ لو ان ریلیشن میں رہنے والی اپنی پارٹنر کو شادی کا جھانسہ دیکر اس سے کئی بار آبروریزی کرنے کے الزام میں ایک ایم بی اے کے طالبعلم کو عدالت نے سات سال قید کی سزا سنائی۔ جسٹس موصوف نے ایل ایل بی کی ایک طالبہ سے آبروریزی کے قصوروار پائے گئے 31 سالہ ہری موہن شرما کو جیل بھیجا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے حقائق اور حالات کو دیکھتے ہوئے و جرم کے ٹرینڈ پر غور کرتے ہوئے ہری موہن شرما کو دہلی پولیس کی دفعہ 376 (آبروریزی ) کے تحت 7سال قید مشقت جیل کی سزا دیتا ہوں۔ اترپردیش کے باشندے شرما کو اپنی پارٹنر کی شکایت پر گرفتار کر مقدمہ چلایا گیا تھا جس میں متاثرہ نے الزام لگایا تھا کہ دسمبر2010 سے جنوری2011 کے درمیان شادی کا جھانسہ دیکر انہوں نے کئی بار اس سے آبروریزی کی۔ پولیس کا کہنا ہے لڑکی نے اگست2011ء میں تب شکایت درج کرائی جب وہ حاملہ ہوگئی تھی۔ شرما نے اس سے شادی کرنے سے منع کردیا ۔اس کے والدین اس کے پریم رشتوں کے خلاف تھے۔ 
سماعت کے دوران ملزم شرما نے آبروریزی کے الزامات سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ انہیں غلط طریقے سے پھنسایا گیا ہے ۔ لڑکی اپنی مرضی سے ساتھ رہ رہی تھی اس لئے آبروریزی کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ لیکن عدالت نے ملزم شرما کی دلیلوں کو و عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا لو ان ریلیشن محض ساتھ ساتھ رہنا نہیں ہوتا بلکہ اس سے دو پریمیوں کے درمیان مستقبل کا عزم بھی جڑا ہوتا ہے۔ یہ لو ان ریلیشن موجودہ پیڑھی کی ایک جدید سوچ ہے جبکہ بھارت دقیانوسی دور میں جی رہا ہے۔ پرانی پیڑھی اپنی زندگی کو اہم مانتی ہے جبکہ یہ صاف ہے کہ نوجوان کے نظریئے میں فرق آگیا ہے۔ اصولوں سے کھلواڑ ہوا ہے۔ زیادہ کھلا پن اور روایات کو نہ ماننا اپنے حساب سے زندگی گزارنا آج کے نوجوانوں کی سوچ ہے۔ سماج کے لئے اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے اور وقت کے ساتھ اس میں اصلاح ضروری ہوگی۔ پھر بھی غنیمت یہ ہے کہ مسئلہ صرف بڑے شہروں تک محدودہے یوپی ،ہریانہ وغیرہ کے دیہی علاقوں میں تو آج بھی اس طرح کے رشتوں کو کوئی تسلیم نہیں کرسکتا اور نہ ہی اسے برداشت کرسکتا ہے۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...