Translater

11 اگست 2018

53 دنوں میں 35 نکسلیوں کو ڈھیر کردیا

چھتیس گڑھ میں نکسلیوں کے خلاف ہماری سکیورٹی فورسز کو شاندار کامیابیاں مل رہی ہیں۔ نکسلیوں کے ٹی سی او (ٹیکنیکل کاؤنٹراوفینسیوکمپین)15 جون کو آپریشن مانسون لانچ کیا تھا۔ اس کے تحت جاری بارش کے باوجود فورس نکسلیوں کے گڑھ میں گھس کر انہیں للکار رہی ہے اور اب تک فورس نے اس کارروائی کے تحت 53 دنوں میں 35 نکسلیوں کو مار گرایا ہے۔ تازہ واردات چھتیس گڑھ کے سکما ہیڈ کوارٹر سے قریب 100 کلو میٹر دور مشکل پہاڑ اور جنگل کے درمیان گھس کر ڈی آر جی و ایس ٹی ایف کے جوانوں نے پیر کی صبح 15 نکسلیوں کو مار گرایا۔ ساتھ ہی سبھی کی لاشیں اور 16 ہتھیار بھی برآمد کرلئے۔
پانچ لاکھ کے انعامی دیبا اور ایک زخمی نکسلی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ کے نکسل متاثرہ علاقوں میں پہلی بار آپریشن مانسون چلایا جارہا ہے جس کے تحت یہ کامیابی ملی ہے۔ 
گولہ پلی کا جنگل بہت ہی گنجان ہے اور بارش کے موسم میں پہاڑ پر پیدل چلنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ بارش ہونے کے سبب یہاں پر چھوٹے نالوں میں پانی بہہ رہا ہے، جسے پار کر جوانوں نے نکسلیوں کے کیمپ پر دھاوا بولا۔ حملہ ہونے پر نکسلیوں کو فورس کے وہاں تک پہنچ جانے کی بھنک تک نہیں لگی۔ دو دن پہلے ہی چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی ڈاکٹر رمن سنگھ نے اعلان کیا تھا نکسلی سرنڈر کریں یا مرنے کے لئے تیار رہیں۔ اس سے پہلے تک سرکار نکسلیوں سے ہتھیار ڈال کر قومی دھارا میں شامل ہونے کی اپیل کرتی تھی۔ اس حملہ میں نکسلیوں کے کمانڈر دردانت بنجامنگا کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ بستر میں پولیس کی نکسلیوں سے مڈ بھیڑ کی خبریں عام ہیں لیکن یہ انکاؤنٹر اس لئے خاص ہے کہ پہلی بار چھتیس گڑھ کی فورس نے ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں نکسلیوں کو ڈھیر کردیا۔ ساتھ ہی یہ پہلا موقعہ ہے جب پولیس کے جوان بارش میں آپریشن چلا رہے ہیں۔ انٹیلی جنس کی اطلاع کی بنیاد پر اس آپریشن کو پلان کیا گیا تھا۔ تب 15 نکسلیوں کو مار گرانے میں کامیابی ملی ہے۔ نکسلی آرام سے اپنے کیمپ میں سوئے ہوئے تھے۔ ڈی آر جی کے جوانوں نے دھاوا بول دیا۔ اچانک ہوئی فائرننگ کے بعد نکسلیوں نے فورس پر جوابی حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن مشتعل جوانوں نے حملہ کو ناکام کردیا۔ ہم ان بہادر جوانوں کو سلام کرتے ہیں اور اس کامیاب آپریشن کے لئے بدھائی دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

ریپ کے قصوروار کو 16 بار موت کی سزا

بھارت کے مقابلہ پڑوسی پاکستان کے عدلیہ سسٹم کی تعریف کرنی ہوگی۔ کئی مقدموں میں یہ ثابت ہوا ہے کہ وہاں کے عدلیہ نظام میں سزا جلد اور انصاف پر مبنی ہوتی ہے۔ بیشک کبھی کبھی فوج کے دباؤ میں وہاں کی جوڈیشیری پر دباؤ میں کام کرنے کے الزام بھی لگتے رہتے ہیں۔
پاکستان میں اس سال کی شروعات میں قصور شہر میں سات سال کی نابالغ بچی سے بدفعلی کے جس معاملہ نے انٹر نیٹ پر زبردست کمپین کی شکل اختیار کرلی تھی اس معاملہ کے قصوروار کو ایک بار نہیں 16 بار پھانسی پر چڑھا ہوگا۔ میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق قصور ریپ معاملہ میں پہلی ہی چار بار پھانسی دئے جانے کی سزا پاچکے ملزم عمران علی کو ایک خصوصی انسداد دہشت گردی عدالت نے تین دیگر بچیوں کے جنسی استحصال کرنے کے الزام میں 12 مرتبہ اور موت کی سزا سنائی ہے۔ 23 سال کے عمران علی کو قصور شہر میں سات سالہ نابالغ بچی سے بدفعلی کرنے کے بعد اس کے قتل کے الزام میں 23 جنوری کو ڈی این اے جانچ کے بعد پکڑا گیا تھا۔ بعد میں 17 فروری اسی سال عدالت نے چار بار موت کی سزا اور عمر قید کی سزا اور سات سال جیل کی سزا کے ساتھ 40 لاکھ روپے وصولے جانے کا بھی حکم سنا یا تھا۔ انگریزی اخبار ڈان میں شائع خبر کے مطابق عمران نے لاہور ہائی کورٹ میں اپنا معاملہ آنے کے بعد 8 دیگر بچیوں کا استحصال کرنے کے بعد قتل کی بات قبولی تھی۔
متاثرہ بچیوں کی عمر پانچ سے سات و آٹھ سال تھی۔ ساتھ ہی اس سے60 لاکھ روپے جرمانہ بھی وصولے جانے کی ہدایت دی جس میں سے30 لاکھ روپے اس کی ہوس کا شکار ہوئی تین بچیوں کے رشتے داروں کو بلڈ منی کے طور پر سونپنے کو کہا گیا ہے۔ ایک قانونی افسر نے بتایا کہ عمران علی نے اپنا جرم قبول کرتے ہوئے کہا میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوں، میں انٹر نیٹ پر چائلڈ ہڈ پورن فلمیں دیکھنے سے گمراہ ہوگیا تھا۔ ایک نابالغ لڑکی کے والد محمد انصاری نے لاہور ہائی کورٹ میں ملزم کو پبلک طور پر وہیں پھانسی دئے جانے کی مانگ کی تھی۔ انصاری نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں عمران کو پہلے پتھروں سے مارا جائے پھر پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔
(انل نریندر)

10 اگست 2018

کیا دفعہ35-A آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف نہیں

جموں وکشمیر کے لوگوں کو مخصوص اختیار دینے والی آئین کی دفعہ 35-A کے جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر پیر کے روز سپریم کورٹ میں سماعت نہ ہوسکی۔ تین ججوں کی بنچ میں شامل جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے نہ پہنچنے سے معاملہ 27 اگست کے بعد تک ٹل گیا ہے۔ حالانکہ چیف جسٹس دیپک مشرا نے صاف کیا کہ متنازعہ دفعہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف تو نہیں ہے اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس طرح جموں و کشمیر کے لئے یہ حساس اشو بن گیا۔ یہ معاملہ ایک بار پھر ٹل گیا۔ کشمیر میں اس نے خوف سا پھیلا دیا ہے کہ کہیں اسے ہٹا نہ دیا جائے۔ 
کشمیر میں شورش پیدا کرنے کا کاروبار صرف سرحد پار پاکستان سے ہی نہیں چلتا بلکہ اس کے لئے دیش کے اندر بھی کافی تنظیمیں اور طاقتیں موجود ہیں۔ انہیں دفعہ 35-A کے خلاف سپریم کورٹ میں چل رہے اس مقدمے کا نیا بہانہ مل گیاہے۔ ادھر وادی میں بند اور ہڑتال کے درمیان امرناتھ یاترا بھی ملتوی کرنی پڑی ہے۔ ریاست کی زیادہ تر سیاسی پارٹیاں اسے ہٹانے کے خلاف ہیں جبکہ دیش میں ایک طبقے کی رائے ہے کہ اس دفعہ کے ذریعے جموں وکشمیر کی پوزیشن کو کچھ زیادہ ہی پیچیدہ بنادیا گیا ہے۔ ’وی دی سٹیزنس‘ نام کی ایک انجمن نے اس کے خلاف عرضی دائر کی ہے۔ یہ دفعہ کسی بھی باہری شخص کو کشمیر میں زمین جائیداد خریدنے اور بیچنے کے حق سے محروم رکھتی ہے۔ ادھر علیحدگی پسند تنظیمیں ایسے موقعہ کی تلاش میں بیٹھی رہتی ہیں اور انہوں نے اس عرضی کو بھارت سرکار کی ایک فروغ وادی سازش بتا کر تحریک کا بگل بجا دیا ہے۔ 
دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی تک سپریم کورٹ نے اس معاملہ کی کسی طرح کی سماعت ابھی شروع نہیں کی ہے اس نے یہ طے کرنے کے لئے تین ہفتے کا وقت مانگا ہے۔ اس معاملہ کو آئینی بنچ کے پاس بھیجا جائے یا نہیں؟ یہ صورتحال سود نہ کپاس جولاہوں سے لٹھم لٹھا والی مثال ہے۔ اگر بھاجپا کے علاوہ ریاست میں سرگرم نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی اور کانگریس جیسی پارٹیوں نے جوں کے توں پوزیشن بنائے رکھنے کا مشورہ دیا ہے تو کشمیریت کے حمایتی شاہ فیصل جیسے اہم شہریوں نے اس دفعہ کا موازنہ اس نکاح نامے سے کیا ہے جو زندگی ساتھیوں کے رشتے کی بنیاد ہوتی ہے حالانکہ کشمیر میں باہری لوگوں کے ذریعے بے نامی پراپرٹی خریدوفروخت کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن آئین طور سے کوئی غیر کشمیری وہاں زمین نہیں لے سکتا۔ ایسا کرنے کے پیچھے جموں و کشمیر کی ایک خاص پہچان بنائے رکھنے کی ایک کوشش تھی۔
(انل نریندر)

کانوڑ یاترا کی اہمیت

ہری دوار، گومکھ اور گنگوتری سے گنگا جل لیکر کانوڑیے شیوالیوں میں جل چڑھانے کے لئے پہنچنے لگے ہیں۔ واقف کاروں کے مطابق ہری دوار سے ہی تین کروڑ سے زیادہ کانوڑیے کانوڑ لیکر روانہ ہوچکے ہیں۔ اس میں قریب 50 لاکھ ڈاک کانوڑیہ ہیں۔ رشی کیش میں نیل کنٹھ بھگوان کے مندر سے بدھوار کی صبح تک قریب تین لاکھ کانوڑیہ درشن کر چکے تھے۔ ہری دوار آنے جانے والے ہر ہائے وے اور دیگر سڑکوں پر جام کی حالت ہے۔ اس بار کانوڑ یاترا پر دیش بھگتی کا الگ ہی رنگ دکھائی دیتا نظر آرہا ہے۔ زیادہ تر کانوڑیوں کے ہاتھوں میں ترنگا اور کانوڑ پر ترنگے کی جھانکی لگا کر چل رہے ہیں۔ جھانکی میں امرشہید بھگت سنگھ کی چھوٹی فوٹو بھی لگی ہوئی ہے۔ زیادہ تر دہلی ،جمنا پار، نوئیڈا اور غازی آباد کے کانوڑیہ ہیں۔ بدھ کی شام تک اپنی منزلوں پر پہنچ گئے ۔ وہاں زیادہ تر ڈاک کانوڑیہ ، ہریانہ، دہلی نوئیڈا کے ہیں۔ موٹر سائیکل سے کانوڑ لانے والوں کی تعداد پچھلے سال کی بہ نسبت کافی زیادہ ہے۔ جل ابھیشیک کے لئے ہری دوار سے گنگا جل لیکر آرہے کانوڑیوں کے کارواں کا خیر مقدم کرنے کے لئے جگہ جگہ کیمپ لگائے گئے ہیں۔ ان میں ڈی جے کی دھن پر بھگوان شیو کے بھجنوں پر تھرک رہے تھے۔ 
شیو بھگتوں کو محفوظ نکالنے کیلئے کئی جگہوں پر بیریکیٹ لگا کر گاڑیوں کی آمدو رفت روک دی جاتی ہے۔ ساون کے مہینے میں بھگوان شیو کو پرسن کرنے کے لئے کانوڑیہ ہری دوار، رشی کیش و گنگوتری تک سے گنگا جل لیکر آتے ہیں۔ جمعرات کو شراون شوراتری ہے ان دنوں شیوالوں میں جل ابھیشیک ہوگا۔ ایسے میں کانوڑیوں کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے۔ شیو بھگت اپنی مشکل یاترا کرکے اپنے اپنے جل ابھیشیک مقامات پر پہنچ چکے ہیں۔ حاضری کا جل اور تریودیشی کا جل مندر میں صبح چھ بجے سے چڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ 9 اگست کو رات 10:54 منٹ سے چتردیشی جل چڑھے گا۔ پروپ کال کا وقت سورج غروب ہونے سے لیکرآدھی رات کے درمیان ہوتا ہے۔ رودر ابھیشیک پردوش کال میں کرنے سے منوکامنا پوری ہوتی ہے۔ اس بار شیو راتی کا شبھ مہورت 8 اگست رات 12:09 منٹ سے 9 اگست دوپہر 1:02 منٹ تک رہا جبکہ پردوش کال شام 7:01 منٹ سے رات 9:01 منٹ تک ہے۔ اوم نم شوائے، ہر ہر مہادیو۔
(انل نریندر)

09 اگست 2018

مظفر پور کے بعد اب دیوریا کانڈ

بہار کے مظفر پور کانڈ پر تنازع ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ اترپردیش کے دیوریا میں بھی اسی جیسا جنسی استحصال معاملہ سامنے آگیا ہے۔ اس کا انکشاف تب ہوا جب دیوریا کے شیلٹر ہوم سے ایتوار کی رات بھاگ کر 10 سالہ بچی مہلا تھانہ پہنچی اور بتایا کہ کس طرح بچیوں سے جبراً جسم فروشی کرائی جاتی ہے۔ لڑکی کے بیان کے بعد انتظامیہ نے دیوریا کے اطفال و خواتین پروٹکشن ہوم پر چھاپہ مارا اور وہاں موجود24 لڑکیوں کو رہا کرایا۔ اس شیلٹر ہوم کی 18 لڑکیاں اب بھی غائب ہیں جنہیں تلاش کیا جارہا ہے۔ مظفر پور اور دیوریا کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ اپنے دیش میں بالیکا یا لڑکیوں کے شیلٹر ہوم چلانے کا کام ناپسندیدہ لوگ کررہے ہیں۔ اس بھی تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسے نام نہاد سماجی کارکن جس قسم کی کرمنل سرگرمیوں میں ملوث ہیں ا س سے یہ صاف ہے کہ مظفر پور بچیوں کے شیلٹر ہوم کو چلانے کا کام ایک بدکردار ساکھ اور داغدار ماضی والے شخص کے ہاتھ میں تھا۔ ویسے ہی یہ ماننے کے کافی اسباب ہیں کہ دیوریا بچیوں کے شیلٹر ہوم کی کمان بھی مشتبہ قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں پہنچ گئی ہے وہ سماج سیوا کے نام پر اس طرح کا کالا گورکھ دھندہ کررہے تھے اب پتا چل رہا ہے کہ جن لڑکیوں کو تحفظ دیکر آپ کو ایک لائق اور باہمت اور خود کفیل بنانے کی ذمہ داری تھی ان کو پیسے کے لئے جسم فروشی کے کاروبار میں شامل ہونے کو مجبور کردیا گیا۔ ان واقعات کے سامنے آنے کا مطلب ہے کہ لڑکیوں کے شیلٹر ہوم کے نام پر اور دیگر ایسی ہی بچیوں کا جسمانی استحصال ہورہا ہوگا۔ اس سے سبق لیکر دیش بھر میں چلنے والے ایسے شیلٹر ہوم کی فوری جانچ کرائی جانی چاہئے۔ ایسا صرف دو اداروں تک ہی محدود نہیں ہوسکتا۔ ان دو کا تو پتہ چل گیا ہے۔ یہ حکمرانی و انتظامیہ کی ناکامی تو ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ زیادہ قصوروار وہ عناصر ہیں جو شیلٹر ہوم چلاتے ہیں۔ یہ صرف ان بچیوں کے قصوروار ہی نہیں ہیں بلکہ مہذب سماج کے لئے دشمن بھی ہیں۔بچیوں کے شیلٹر ہوم کو چلانے کا کام کوئی این جی او کرے یا سرکار یہ یقینی کرنا ہوگا۔ جو قاعدے قانون ہیں ان کی تعمیل ہو اور متعلقہ مشینری کا جائزہ اور اس میں ضروری تبدیلی کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ بہتر ہوگا کہ مرکزی حکومت اس مسئلہ پر سبھی ریاستوں سے مل کر پورے معاملہ میں قواعد کا جائزہ لے۔ اس سے بھی ضروری ہے کہ ایسے شیلٹر ہوم معمولاتی چیکنگ ہو۔ یہ واقعات قومی شرم کا باعث ہیں اور سرکار ، انتظامیہ قصوروار ہے تو سماج بھی کم قصوروار نہیں۔
(انل نریندر)

2019 لوک سبھا چناؤ کیلئے مہا دباؤ

اقتصادی بنیاد پر ریزرویشن کی مانگ ایک بار پھر زور پکڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ ویسے یہ مانگ کوئی نئی نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی اس کے مطالبہ ہوتے رہے ہیں۔ اس سمت میں سب سے پہلے اور سب سے سنگین پہلو پچھلی صدی کے 90 کی دہائی میں ہوا تھا۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے تب سماجی صورتحال کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔ منڈل کمیشن کی سفارشیں لاگو ہونے کے بعد بڑی ذاتوں میں پھیلی ناراضگی کو دور کرنے کیلئے 25 ستمبر 1991 کو نرسمہا راؤ سرکار نے اقتصادی طور سے کمزور طبقات کے لئے 10 فیصد ریزرویشن دینے کے لئے نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ نوٹیفکیشن کو اندرا سہانی نے چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ کی 9 نفری بنچ نے اس نوٹیفکیشن کو خارج کردیا تھا اور کہا تھا کہ آئین میں ریزرویشن کی بنیاد پر کسی گروپ یا ذات کی سماجی پوزیشن ہے نہ کہ اقتصادی پوزیشن۔ اس کے بعد اترپردیش کا وزیر اعلی رہتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے 2001 میں اوبی سی میں انتہائی پسماندہ اور اقتصادی طور پر کمزور بنیاد بنا کرریزرویشن کی پہل کی تھی۔ حالانکہ ان کے اس فیصلہ کوبھی عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔ اگر مودی سرکار ریزرویشن دینے میں کامیاب رہتی ہے تو یہ 2019 لوک سبھا چناؤ میں بڑا داؤ ثابت ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف مرکزی وزیرنتن گڈکری کا کہنا ہے کہ ریزرویشن روزگار کی گارنٹی نہیں ہے کیونکہ نوکریاں کم ہورہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے یہ ایک سوچ ہے جو چاہتی ہے کہ پالیسی ساز ہر فرقہ کے غریبوں پر غور کرے۔ گڈکری مہاراشٹر میں ریزرویشن کے لئے مراٹھوں کے موجودہ آندولن اور دیگر فرقوں کے ذریعے اس طرح کی مانگ سے جڑے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔ سینئر بھاجپا لیڈر نے کہا مان لیجئے ریزرویشن دے دیا جاتا ہے لیکن نوکریاں نہیں ہیں۔ کیونکہ بینک میں انفورمیشن ٹکنالوجی کے استعمال کے سبب نوکریاں کم ہوئی ہیں۔
سرکاری بھرتی رکی ہوئی ہے۔ نوکریاں کہاں ہیں؟ نتن گڈکری کی یہ صاف گوئی مودی سرکار کے سامنے مصیبت کھڑی کر سکتی ہے کیونکہ انہوں نے یہ قبول کرلیا ہے کہ نوکریاں گھٹتی جارہی ہیں اور ان کی طرف سے یہ صاف کیا گیا کہ ایک تو انفورمیشن ٹکنالوجی کے استعمال سے نوکریاں کم ہورہی ہیں اور بھرتی بھی بند ہے۔ بیشک گڈکری نے آج کی سچائی بیان کردی ہے اس کا مطلب یہ نکالا جاسکتا ہے سرکار اپنی ذمہ داریاں کم کرکے نجی کرن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ آئین کی دفعہ46 میں کہا گیا ہے کہ سماج میں تعلیم اور اقتصادی طور سے کمزور لوگوں کے مفاد کا خاص دھیان رکھنا سرکار کی ذمہ داری ہے۔ سرکار درج فہرست ذاتوں اور قبائلی لوگوں کو استحصال سے بچایا جائے۔
(انل نریندر)

08 اگست 2018

2019کی تیاری میں لگی عآپ پارٹی میں بحران

جہاں ایک طرف عام آدمی پارٹی آنے والے لوک سبھا چناؤ میں لگی ہوئی ہیں وہیں پارٹی کے پنچاب یونٹ میں بھاری پھوٹ پڑ گئی ہے ۔پنچاب سے پچھلے لوک سبھا چناؤ میں 4ایم پی چن کر آئے تھے اب پنجاب اسمبلی پارٹی کے ناراض ممبر اسمبلی سکھ پال سنگھ کھیڑا کی جانب سے بھٹنڈہ میں منقعد سمیلن کی کامیابی نے پارٹی قیادت کی نیند اڑا دی ہے ۔ پارٹی کو قطعی امید نہیں تھی کہ بغیر اس کی مرضی سے منعقدہ سمیلن کامیاب ہوجاگا ۔پنجاب تنازعہ نے جہاں لیڈر شپ کے لئے نئی سردردی کھڑی کردی ہے وہیں پارٹی کا پورا حساب کتاب بگاڑ کررکھ دیا ہے ۔اس کے چلتے آنے والے لوک سبھا چناؤ میں نقصان ہونے کی گنجائش بڑ ھ گئی ہے ۔تنازعہ کے سبب پارٹی کی حکمت عملی متاثر ہوئی ہے اور ورکروں حوصلہ گراہے ۔عآپ لیڈر شپ کو یہ احساس بالکل بھی نہیں تھا کہ پنجاب تنازعہ اتنا طول پکڑے گا ۔پنجاب یونٹ میں پیدا پھوٹ پڑ نے جیسی صورتحال پر دہلی او رپنجاب میں نیتا غور خوض میں لگے ہوئے ہیں اور 6دیگر ممبران کے ذریعہ خود کو الگ گروپ اعلان کرنے کے بعد ریاستی یونٹ میں دو گروپ ہونے کا خطرہ بڑھا ہے ۔اس لئے دہلی میں پنجاب کے لیڈروں سے بات چیت کے بعد یکجہتی کا راستہ بنانے کی کوشش ہورہی ہے کھیرا اور ان کے ساتھی ممبران اسمبلی نے اپنے آپ کو الگ کرلیا ہے ۔ساتھ ہی عآ پ کے پنجاب تنظیمی ڈھانچہ کو بھی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔یہ ممبر ان اب دہلی میں پارٹی کے چیف اروندکیجریوال اور لیڈروں کی ہدایت کی تعمیل نہیں کریں گے ۔یہ ممبران اسمبلی اب اپنی مرضی سے کام کریں گے ۔اس سے پارٹی کی ریاستی یونٹ میں گروپ بندی او ربڑھ سکتی ہے ۔کھیرا اور دیگر نے ابھی پارٹی نہیں چھوڑ ی ہے انھوں نے ایسا دل بدل قانون سے بچنے کے لئے کیا ہے ۔آپ لیڈ رشپ کے لئے ریاست پنجا ب خاص اہمیت رکھتی ہے ۔ اس لئے پنجاب یونٹ میں بغاوت فکر مند ہیں ۔وہ نہ تو تنازعہ سلجھا پارہے ہیں او رنہی بغاوت کرنے والے اسمبلی ولیڈرں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت نہیں کرپارہے ہیں ۔لگتاہے کھیرا گروپ پارٹی لیڈر شپ کو خود نکالنے کے لئے مجبور کررہے ہیں دہلی میں عام آدمی پارٹی لیڈر شپ کے لئے راحت کی بات یہ ہے باقی 13ممبران اسمبلی فی الحال کھیرا کے ساتھ نہیں گئے ہیں ۔پارٹی لیڈر شپ حالات کو سنبھالنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے اسکا خیال ہے کہ پنجاب کا اثر دیگر ریاستوں میں نہ پڑے اور آنے والے چناؤ کے پیش نظر غلط پیغام نہ جائے ۔
(انل نریندر)

کون ہے عمران :اصلاح پسند یا کٹر پسند لیڈر

سال 1982میں حید ر آباد میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ ٹسٹ میچ چل رہا تھا ۔پہلی پاری میں پچھڑنے کے بعد جب دوسری پاری میں ٹیم انڈیا میچ بچانے کے لئے اتری تو ایکسپرٹ نے تب کہاتھاکہ اگر بھارت نے نئی گیندسے زیادہ نقصان نہیں جھیلا تو میچ برابری پر ختم ہوسکتا ہے ۔بھارت نے نئی گیندر جھیل لی ۔لیکن تبھی عمران خاں جب بال پرانی ہوچکی تھی بالنگ کرنے آئے ۔محض 25گیندوں میں ایسی دھواں دھار گیندبازی کی کہ بھارت کی 5وکٹ سے پاکستان نے ہندوستان کے خلاف سب سے بڑی جیت درج کرلی ۔عمران خاں نے اس میچ میں پرانی گیند سے ایسا ریورس سوئنگ کی کہ آ ج بھی کئی بلے بازو ں کو برے سپنے آتے ہیں ۔سیاست یا نجی زندگی ،عمران نے ہمیشہ ر یورس سوئنگ سے سب کو چونکا یا ہے ایک ایسا دور تھا کہ ہر کچھ ماہ میں عمران ایک نئی لڑکی سے ڈیٹ کرتا نظر آتا ۔ان کی دوستوں میں کئی بالی ووڈ او رہالی ووڈ ادارکارائیں بھی تھیں ۔پلے بوائے کی امیج رکھنے والا عمران اصلاح پسند ،گلوبل دنیا اور مغربی کلچر کی باتیں کرتا تھا لیکن جب انھوں نے برقے والی بیوی سے شادی کی اور کٹر پسندی کو اپنا ہتھیار بنایا ،تب انھیں سیاست میں کامیابی ملی ۔یہ انکی سیاسی ریورس سوئنگ مانی جارہی ہے ۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اصلی عمران خاں کون ہیں اصلاح پسند عمران جو 2015تک دکھائی دیتا تھا یا پھر عمران جس نے چناؤ مہم میں نفرت پھیلا نے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا ؟انھوں نے چناؤ مہم میں سب سے زیادہ بھارت مخالف موقف اپنایا اور دہشت گردی کو درپردہ طور پر حمایت دی ۔پاکستان میں سوشل ریسرچر کرنے والی ایجنسی ایس پی ڈی آئی کے ڈائکریٹر عابد سولیری نے کہا کہ فوج کو لگتاہے کہ عمران انکی اوپیج ہے ۔عمران فوج میں ہوکر اس کی ہاں میں ہاں ملا ئیں گے عمران کی سیاسی ریورس سوئنگ کونسی شکل اختیار کرے گی بتانا آسان نہیں ہوگا ۔وہیں پاکستان سینئر صحافی عدنا حیدر کا کہنا ہے کہ عمران کے بارے میں پہلے سے کوئی رائے اخذ کرلینا جلد بازی ہوگی ۔وہ الگ الگ لوگو ں کے لئے الگ الگ باتیں کرتے ہیں وہیں ان پر کتابیں لکھنے والے مصنف فرینک ہجور کا کہنا ہے کہ میں قطعی نہیں مانوں گا کہ عمران خاں کٹر پسندی ہوسکتے ہیں سال 2007سے 2011کے درمیان انکے ساتھ رہ کر کتاب لکھنے والے فرینک کا کہنا ہے کہ جتنا انھوں نے ان کے ساتھ وقت گزارا ہے اس سے طے ہے کہ وہ نئی نسل کے بارے میں بات کرنے والے ہیں ایسے میں انکا ٹرم سرپرائز دیگا ۔عمران خاں پاکستان نئے وزیر اعظم بننے جارہے ہیں ۔پاکستان میں انکے چاہنے والے لاکھوں افراد ہیں تو ہندوستان میں انکے مریدوں کی تعداد کم نہیں ہے یہاں بھی عمران کے دوستوں کی اچھی خاصی فہرست ہے ۔
(انل نریندر)

07 اگست 2018

روس سے ایس ۔400میزائل سودے کا راستہ صاف

مودی حکومت نے ایک بڑی ڈپلومٹک کامیابی حاصل کی ہے ۔امریکی پارلیمنٹ نے بدھ کے روز نیشنل ڈیفنس بل پاس کیا ہے ،اس میں کئی اہم فیصلے لئے گئے ہیں ۔ اس بل کے پاس ہونے کے ساتھ بھارت کو روس سے جو دفاعی سازو سامان خریدنے میں جو دقتیں آرہی تھی وہ اب دور ہوجائیں گی یعنی بھارت اب روس سے ہتھیار خرید پائے گا ۔دراصل امریکی پارلیمنٹ نے نیشنل ڈیفنس بل ،2019پاس کرکے سی اے اے ٹی ایس قانون کے تحت بھارت کے خلاف پابندی لگنے کے اندیشے کو ختم کرنے کا راستہ نکال لیا ہے ۔پابندیوں کے ذریعہ امریکہ کے مخالفین کے خلاف کارروائی قانون کے تحت ان ملکوں پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں جو روس میں اہمیت کے حامل دفاعی سازو سامان کی خریدکرتے ہیں ۔ اب یہ قانون بننے کے لئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے لئے یہ بل وہائٹ ہاؤ س جائے گا ۔نئے ترمیمی تقاضوں کو قانونی شکل ملنے کے بعد بھارت کے لئے روس سے ایس ۔ 400میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنا آسان ہوجائے گا ۔حالانکہ قانون کی زبان کافی مشکل لگ رہی ہے لیکن روس سے دفاعی سازو سامان خرید نے والے ملکوں کے خلاف سخت پابندیاں لگنے کی نکات کو بیحد نرم کردیا گیا ہے ۔امید کی جارہی ہے کہ صدر ٹرمپ جلد سے جلد دستخط کرکے قانون کی شکل دے دیں گے ۔بتا دیں کہ مارچ میں روس کے ساتھ بھارت کے اسی مجوزدہ سودے پر سخت اعتراض امریکہ نے جتایا تھا ۔اس پر بھارت نے صاف کہہ دیا تھا کہ ایک آزاد مختار ملک ہونے کے ناطے اسے اپنی حفاظت کا خیال رکھنے اور اس کے لئے ضروری ہونے پر کسی بھی ملک سے ضروری سمجھوتے کرنے کا پوراحق ہے ۔اس وقت دونوں ملکوں کے رخ سے ایسا لگ رہا تھا کہ یہ تعطل لمبا چلے گا جس کا نقصان دونوں ملکوں کے رشتوں کو اٹھانا پڑ سکتا ہے مگر اتنے کم وقت میں بھارت نے امریکہ کو اپنی نیک نیتی کا احساس دلاتے ہوئے اپنی جائز تشویشات سے آگاہ کردیا اور اسے اپنے موقف پر نظر ثانی کے لئے تیار کرلیا تو یہ یقنی طور سے بھار ت کی ایک بڑی کامیابی کہنے کی ضرورت نہیں بلکہ دونوں دیش اگرایک دوسرے کے مفادات اور تشویشات کے تئیں سنجیدہ رویہ رکھتے ہیں تو اس کا اچھا اثر دونوں ملکوں کے آپسی رشتوں پر ہی نہیں بلکہ دنیا کے پس منظر پر بھی واضح نکتہ نظر سامنے آنے لگے گا امید کی جاسکتی ہے کہ اب روس سے ایس ۔400میزائل سسٹم بھارت کے لئے بہت اہم ہے کا سودا ہوسکے گا ۔
(انل نریندر )

مہول چوکسی کو کلین چٹ

مفرور ہیرا تاجر اور و13ہزار کروڑروپے کے پنجاب نیشنل بینک جعلسازی معاملہ میں ملزم مہول چوکسی آجکل پھر سرخیوں میں ہے تازہ تنازعہ اس کے انٹیگوا میں شہریت کے اشو پر ہیں بتایا جاتاہے کہ چوکسی میں مئی 2017میں اس ملک کی شہریت کے لئے درخواست دی تھی ۔انٹیگوا ملک کے مطابق اس وقت بھارت سے جانکا ری مانگی گئی تھی ۔لیکن ہندوستانی ایجنسیوں نے کوئی اعتراض نہیں جتا یا تھا میڈیا کے مطابق اینٹگوا کے مطابق شہریت کے محکمہ نے کہاکہ ممبئی کے پاسپورٹ آفس سے پولس اجازت نامہ ملا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ مہول چوکسی کے خلاف ایسی کوئی نامعقول جانکاری نہیں ہے جس سے انھیں اینٹگوا اور برموڈا کا ویزاحاصل کرنے یا وہاں آنے جانے سے روکا جاسکے ۔سی آئی یو کے مطابق چوکسی کے شہریت درخواست کو انٹر پول سے پڑ تال او رجانچ کرانے کے بعد ہی منظوری دی گئی ہے ۔ اس محکمے کا کہنا ہے کہ اگر چوکسی کے خلاف کوئی وارنٹ تھا تو انٹر پول کو شہریت کے لئے درخواست دینے کے وقت جانکاری دی چاہئے تھی ۔چوکسی اس سال 4جنوری کو بھارت سے بھا گ گیا تھا اس نے 15جنوری کو اینٹگوا کی شہریت لے لی تھی ۔اس پر بھارت کے محکمہ خارجہ نے صفائی دی ہے کہ 2017تک چوکسی کے خلاف کوئی معاملہ درج نہیں تھا اسی بنیاد پر ممبئی پولس نے رپورٹ دی تھی ۔اس اشو پر اپوزیشن نے سرکار کو گھیر نے کی کوشش کی ہے ۔ کانگریس نے سوال کیا ہے چوکسی کے خلاف 2016میں پی ایم او میں ایک شخص کی طرف سے شکایت کے بعد جانچ کیوں نہیں کرائی گئی ۔کانگریس کے ترجمان رندیپ سر جے والا نے مرکز کی مودی سرکار پر الزا م لگا یا او رکہاکہ وزیر اعظم کے دفتر میں 7مئی اور 26مئی 2015کو چوکسی کے خلاف ملی شکایتوں پر ایجنسیوں کو جانچ کے لئے کیوں نہیں کہا گیا اور جانچ لمبی رہنے کے دوران چوکسی کو ایجنسیوں نے ہری جھنڈی کیسے دے دی ؟دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال ٹیویٹ کے ذریعہ مودی سرکا ر ،وجے مالیہ ،مہول چوکسی کے حوالگی کو لیکر ڈرامہ کررہی ہے ۔یہ تو ایک طرح سے دیش کے ساتھ غداری ہے نہ ؟کیجریوال نے کہا کہ سی بی آئی وجے مالیہ کے خلاف کیس کمزور تی ہے اور چوکسی کو بھارت سے بھاگنے اور دوسرے ملکی شہریت لینے میں مدد دستیاب کراتی اور پھر ان دونو ں کو لیکر ڈرامہ کرتی ہے ۔
(انل نریندر)

05 اگست 2018

ہند۔نیپال رشتوں کو نئی اڑان

چین کے بڑھتے اثر کے اندیشات کو خارج کرتے ہوئے بھارت اور نیپال نے آپسی رشتوں کو نئے مقام تک پہونچانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس کے تحت کٹھمنڈواو ردہلی سیدھے ریل لائن سے جڑ جائیں گے ۔ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان ندی ٹرانسپورٹ کے راستے بھی کھولے جائیں گے ۔وزیر اعظم نریندرمودی اور نیپالی ہم منصب مسٹر کے پی شرما اولی میں ہوئی بات چیت کی خاص بات یہ رہی ہے دونوں سربراہوں کی ملاقات میں نوٹ بندی ۔اور مدھیشی اور یہاں تک کے چین کا کوئی ذکر نہیں آیا حالانکہ اولی پچھلے بار اقتدار سے باہر ہونے اور طویل عرصہ تک نیپال کی نوٹ بندی پر پیچھے بھارت کی طرف انگلی اٹھاتے رہے ہیں ۔ مگر دوبار ہ اولی کے وزیر اعظم بننے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کوبھارت آنے کی دعوت دی تھی ۔نیپال کے چین کی طرف راغب ہونے کے اندیشہ کے درمیان وہاں کے وزیر اعظم مسٹر کے پی شرما اولی نے اپنے پہلے خارجی دور ے کیلئے نئی دہلی (ہندوستان )کا انتخاب کرکے یہی اشارہ دیا ہے کہ وہ بھارت سے رشتے بہتر بنانے کے خواہشمند ہیں لیکن ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ دونوں ملکوں کے وزرائے ااعظم نے متنازعہ اشو کو کنارے رکھ کر آگے بڑھنے کا جو فیصلہ کیا اسکے نتیجے کتنے مثبت ہونگے ۔مگر اس میں دورائے نہیں کہ بھارت ۔نیپال میں سماجی اور ثقافتی طور پر جیسی قربت ہے کسی دیش میں مشکل سے دیکھنے کو ملتی ہے ۔دونوں ملکوں کے شہریوں کے درمیان ایک دوسرے کے تئیں دوستانہ جذبہ اور روٹی ۔بیٹی کے بھی رشتے ہیں ایسی صورت میں دونوں ملکوں کے مفاد میں بہتر ہی ہوگا کہ وہ پرانی کڑواہٹ کو بھول کر آگے بڑھیں ایک طرف جہاں بھارت کو یہ یقینی کرنا ہوگا وہ نیپال کی مدد میں بڑے بھائی کا کردار نبھائے ساتھ ہی نیپال کو بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ چین فروغ کے رویہ ہندوستان کی تشویشات کو سمجھے بلاشبہ نیپال کسی ملک کے ساتھ دوستی کرنے کیلئے آزاد ہے ۔مگر ایک پڑوسی کے ناطے اتنا آگے بڑھنا چاہئے کہ بھارت کے مفادات کے ساتھ ساتھ اسکے اپنے مفاد پر آنچ نہ آئے۔بھارت امید یہی کرتا ہے کہ نیپال کی قیادت خود اس بات کو سمجھنے کو تیار ہوگی چین کی طرح چھوٹے ملکوں کو قرض کے جال میں پھنسا تا ہے ۔ ہندوستانی لیڈر شپ یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوگی کہ چینی مدد کس طر ح اسکے (درمیان )کے گلے کا پھندہ بن سکتی ہے ۔بھارت کے سامنے چنوتی صرف نیپال میں چین کے بڑھتے اشو کو کم کرنے اور پڑوسی دیش کو اعتماد میں لینے کی ہی نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ ساؤتھ ایشیا میں چین کی گھیرابندی کی کاٹ کیسے کی جائے کیونکہ چین ایک کے بعد ایک ساؤتھ ایشیا کی دیشوں یعنی بھارت کے پڑوس میں اپنا دخل جس طر ح بڑھاتا جارہا ہے ۔اسے دیکھتے ہوئے بھارت کو پڑوسی ملکوں کے ساتھ رشتوں کو بہتر بنانے کیلئے کچھ آگے بڑھنا ہوگا ۔ کیونکہ مالدیپ میں اپنی جڑیں جمانے کے بعد چین میانمار میں بھی مدد کے نام پر اپنا جال پھیلا رہا ہے ۔ سری لنکا ۔بنگلہ دیش میں بھی اسکی سرگرمیاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔دنیا بھی جانتی ہے کہ پاکستان بھی اپنی مرضی سے چین کی گود میں بیٹھنے کو بے چین دکھائی پڑتا ہے ۔بھارت پڑوں ملکوں کو مالی مدد ضرور دے رہا ہے لیکن چینی مدد کے مقابلے میں کہیں پیچھے ہے یہ فطری ہے جہاں زیادہ مدد ملے گی وہ ملک اس کی طرف راغب ہوگا ۔ اس لئے بھارت کو ایسی تنظیم یا ادارے کی مدد لینی چاہئے کہ وہ نیپال سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بھارت کے رشتوں مںے بہتری لانے میں مدد گار ثابت ہو ۔ نیپالی لیڈ ر اولی کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ جوبات چیت ہوئی ہے اس کے اچھے ہی نتیجے سامنے آئیں گے۔

سوچھ بھارت مشن میں سست روی

نریندر مودی جب دیش کے وزیر اعظم بنے تھے تب ان کا سپنا تھاکہ دیش کو کھلے میں رفع حاجت سے نجات ولا دی جائے ۔انھوں نے اپنا ڈریم پروجیکٹ ’’سوچھ بھارت مشن ‘‘شروع کیا ۔ اس نے شرو ع شروع میں تو تیزی پکڑی مگر جیسے جیسے سال گذرتے گئے اس میں سست روی دیکھنے اور سننے کو مل رہی ہے ۔کوئی بھی اسکیم یاخواب تبھی تعبیر ہوسکتا ہے جب اس کو زمین پر اتار نے والی پوری مشینری ایمانداری اور ذمہ داری سے اپنارول نبھائے ۔ماضی گذشتہ کی بات کی جائے تو اکثر ایسا ہوتا ہے بہت سی سرکاری اسکیمیں عمل میں آتے آتے ہی دم توڑ جاتی ہے ۔کیونکہ مشینری کا کوئی حصہ کوتاہی کرتا ہے اس وجہ سے یوجنا کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جاتا ہے کچھ یہی حال وزیر اعظم ’’سوچھ بھارت ابھیان ‘‘کا ہے کئی جگہ تواچھا کام ہورہا ہے تو کہیں افسران او رمقامی لوگوں کی سرگرم ساجھیداری کی وجہ سے پیسے کی بربادی بھی ہورہہی ہے ۔ اب خبر ہے کہ مدھیہ پریش کے درگ علاقہ کے شوچالیوں کی تعمیرکیلئے الاٹ رقم کا کچھ لوگوں نے فائدہ پانے والوں کا پیسہ دبا لیا ہیں ۔اس مبینہ غبن میں پنچاب کے افسران شامل بتائے جارہے ہیں بات اس ابھیان کی نہیں ہے جبکہ مشینری کی مضبوطی درکا ر یہ ایک اسکیم کی تکمیل کیلئے ضروری ہے اگر کسی اسکیم کے عمل میں کوئی کوتاہی برتی جاتی ہے تو اس علاقہ کا پورا انتظامیہ مشینری جوابدہ ہوتی ہے لیکن دقت کی بات یہ ہے کہ اگر مالا کی ایک کروڑی ٹوٹ بھی جائے تو سارا کھیل بگڑجاتی ہے ۔ اس معاملے میں شہر اور دیہات کی حالت ایکہ جیسی ہے سچائی یہ ہے کہ دیش میں سوچھ بھارت مشن خود وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے ہی آگے بڑھ رہا ہے باجود اس کے فنڈ میں دھاندلی کی شکایتیں ملی ہیں کہ سوچھ بھارت مشن کیلئے الاٹ پیسہ جنتا تک نہیں پہونچا۔ درگ میں سوچھ مشن کے پیسہ کے غبن کے معاملے جانچ کی جانی چاہئے کسی کسی مشن پر عمل جب تک نیک نیتی سے نہیں ہوگا اور مشینرجوابدہ نہیں ہوگی تو اسکیموں پر پلیتا لگتا رہے گا ۔

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...