Translater
03 اگست 2023
مسلمانوں کے خلاف ماب لنچنگ!
سپریم کورٹ نے مسلمانوں کے خلاف ماب لنچنگ یا بھیڑ تشدد برپا معاملوںمیں تشویش کو لیکر داخل نیشنل فیڈریشن آف انڈین وومن کی مفاد عامہ کی عرضی پر مرکزی حکومت کے ساتھ چھ ریاستوں کو نوٹس جاری کیا ہے ۔ ان میں اڈیسہ ،راجستھان ،مہاراشٹر ،بہار ،مدھیہ پردیش اور ہریانہ شامل ہیں۔ مفاد عامہ کی عرضی میں کہا ہے کہ تحسین پونا والافیصلہ (2018) میں بڑی عدالت کی واضح گائد لائنز کے باوجود مسلمانوں کے خلاف ماب لنچنگ کے معاملوں میں تشویش طریقہ پر اضافہ ہو رہا ہے ۔ جسٹس وی آر گوئی اور جسٹس جی بی پاردیوالا کی بنچ کے سامنے کئی عرضی گزروں کے وکیل کپل سبل نے کہا کہ مختلف ہائی کورٹ کے دارئرے اختیار کو استعمال کرنا بیکار ہو گااگر عرضی گزار کو متعلقہ ہائی کورٹ میں جانے کیلئے کہا جاتا ہے تو کچھ نہیں ہوگا ۔ اس کاروائی میں متاثرین کو کچھ نہیں ملے گا۔ تحسین پونےولا کے واقعے کے باوجود واقعات ہورہے ہیں۔ ہم کہاں جائیں؟ یہ بہت سنگین معاملہ ہے ۔2018میں پوناوالا فیصلہ میں بڑی عدالت نے ماب لنچنگ اور بھیڑ کو روکنے کیلئے مرکزی سرکار اور ریاستی سرکاروں کو وسیع گائڈ لائنز جاری کی تھی۔ وکیل سنیتا ہزاریکا اور رشمی سنگھ کے ذریعے سے دائر این ایف آئی ڈبلیو کے عرضی میں کئی واقعات کو اجاگر کیا گیا تھا۔ جو ماب لنچنگ کے خطرے کو روکنے کے مکینزم کی مسلسل ناکامی کو ظاہر کرتی ہے ۔ اس عرضی میں کہا گیا ہے کہ لنچنگ اور بھیڑ تشدد کے موجودہ واقعات کو جھوٹے خبروں کے ذریعے اقلیتوںکے بائیکاٹ کی کہانی کے طور پر دیکھا جانا چاہئے ۔ عرضی میں کہا گیا کہ بھیڑ تشدد و ماب لنچنگ کے متاثرین کو فوری راحت دستیاب کو یقینی بنائیںاور معاوضے کی کل رقم کا ایک حصہ فوراً واقعے کے بعد متاثرین کے گھر والوں کو دیا جانا چاہئے ۔ ماب لنچنگ اور بھیڑ تشدد سنگین معاملے ہیں۔ اسے کسی بھی حالت میں بر داشت نہیں کیا جا سکتا ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ واردات میں ملوث قصورواروں کو سیاسی سرپرستی ملتی ہے ۔یا تو معاملے کو رفع دفع کر دیا جاتا ہے یا پوری طرح نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ بہانا بناکر نئی نئی کہانیاں گڑھ کر معاملے کو ختم کردیا جاتا ہے ۔ امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ اس میں ٹھوس قدم اٹھائے گی اور ایسے واقعات پر کیسے کنٹرول لگے اس پر غور کرے گی۔
(انل نریندر)
زخم اب بھی گہرے ہیں!
اپوزیشن کے انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس (انڈیا)کے 21نفری نمائندہ وفد نے اتوار کو منی پور میں جاری نسلی تشدد کو قومی سلامتی کا اشو قرار دیا ہے ،اور کہا کہ وزیر اعظم کی خاموشی اس مسئلے پر ان کی لاچاری ظاہر کرتی ہے ۔ ممبران پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ متاثرین کے زخم اب بھی گہرے ہیں۔ان کی زندگی بہتری لانے کیلئے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کے 21ممبران سنیچر کو منی پور کے دو روزہ دورے پر گئے تھے۔ ان ممبران نے دو گروپوںمیں متاثرین سے ملاقات کی کانگریس نیتا ادھیرنجن چودھری سمیت مرکز اور ریاسی سرکار پر سبھی نے سوال کھڑے کئے ۔وہیں بھاجپا کے نیتاو¿ں نے اپوزیشن کے منی پور دورے کو سیاسی سیر و تفریح بتاتے ہوئے نکتہ چینی کی ہے۔ کانگریس نیتا گوروگوگوئی نے کہا کہ اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ کیلئے سنیچر کا دن مشکل رہا ۔انہوںنے منی پور کے لوگوں کی دکھ اور تکلیفوں کو سنا اور بتایا کہ اپوزیشن کے ممبران نے چار راحت کیمپوں کا بھی دورہ کیا ۔ یہ آسان نہیں تھا کئی عورتیں ہمیں اپنی باتیں اور تکلیفیں بتاتے ہوئے رو پڑیں۔ کوئی امن چاہتا ہے سب چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی ایک بار پھر پٹری پر لوٹ آئے ۔ کانگریس نیتا ادھیرنجن چودھری ایک ریلیف کیمپ کا دورہ کرنے کے بعد اخبار نویسوں سے کہا کہ وہ جرائم کی سی بی آئی سے جانچ کی بات کر رہے ہیں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا مرکزی حکومت اب تک سو رہی تھی ؟ لوگوں کے درد کو سمجھنا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہم آکر دیکھ رہے ہیں کہ لوگ آج بھی نہیں بھولے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔ جو دہشت انہوںنے محسوس کی ہے وہ زخم آج بھی بھرے نہیں ہیں۔ بہت کچھ ہم کو ساتھ مل کر کرنا پڑے گاتاکہ ان کی زندگی میں بہتری لا سکیں ۔لوگ کیمپ میں ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کا بھروسہ سرکار پر نہیں رہا ۔وہ اپنے گھر واپس جا پائیں ۔ ٹی ایم سی ایم پی ششمیتا دیو کا کہنا ہے کہ ہم دونوں فرقوں کے لوگوں سے بات کر رہے ہیں۔ میں دوسری بار آئی ہوں لوگ متاثر ہیں ۔دیکھئے کتنے بچے ہیں آج یہاں پر مرکزی حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے دکھ یہی ہے کہ بھارت سرکار کو اپنا وفد بھیجنا چاہئے تھا۔ لیکن اس نے منع کردیا ۔ اس لئے آئی این ڈی اے الائنس کی جتنی پارٹیاں ہیں آدھے ایم پی آئے ہیں۔ راشٹریہ جنتا دل کے ایم پی منیش اپادھیائے نے کہا کہ اپوزیشن کے نیتا حالات میں بہتری کے ارادے سے منی پور آئے ہیں۔ہم سب یہی بات کہہ رہے ہیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ہندوستان یا انڈیا کا اس کا وسیع دل ہے ۔ سرکاریں آتی جاتی رہتیں ہیں۔ منوج جھاں کے مطابق انہوںنے لوگوں کو تسلی دی ہے کہ آپ یہ مت سوچوں کہ یہاں کہ سرکار کچھ نہیں کر پا رہی ہے ۔ مرکزی حکومت کچھ نہیں کر رہی ہے ۔ ہم سب مل کر حالا ت اور زخم بھرنا چاہتے ہیں۔ آج ہماری پارٹی کی کوشش اسی سمت میں پہلا قدم ہے ۔ہم کتنے کامیاب ہوںگے میں نہیں جانتا !!!
(انل نریندر)
01 اگست 2023
بہار میں خشک سالی کی مار !
دیش کے کئی علاقوں میں جہاں تیز بارش اور سیلاب سے لوگ پریشان ہیں وہیں بہار بارش کی کمی کا سامنا کر رہا ہے ۔ موسم محکمے کی مطابق اس سال بہار میں اب تک اوسط سے قریب آدھی بارش ہوئی ہے ۔ جبکہ ریاست کے 16اضلاع میں اوسط کے مقابلے میں آدھی بھی بارش نہیں ہوئی ہے۔ کم بارش کی وجہ سے دھان کی فصل بوائی بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ جس سے لاکھوں کسانوں کے سامنے مالی بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ بہار میں قریب 36لاکھ ایکڑ زمین میں اس سال دھان کی کھیتی ہونی تھی لیکن بارش نہ ہونے کی وجہ سے دھان کی آدھی پود بھی نہیں لگ پائی۔ وہیں اب پانی کی کمی سے کئی علاقوں میں جانور بھی مرنے لگے ہیں۔ بانکا فتہر پنچایت کے مرزا پور گاو¿ں کے دھرمندر مشرا کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں اس سال اب تک صر ف ایک فیصدی دھان کی پود لگی ہے ۔ اس بار پورا کا پورا بہار سوکھ گیا ہے ۔ ہر جگہ پانی کی کمی ہوگئی ہے ۔ پھر بھی ہم ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں پانی کی کمی نہیں ہے ۔ لیکن اس مرتبہ ہمارے گاو¿ں میں بھی پانی ختم ہوگیاہے۔ جن کسانوں کی روزی روٹی کھیتی ہی ہے وہ کیا کریںگے ؟ بہار کے کرانے گاو¿ں کے ایک شخص بھرت رام کے سامنے بھی ایسے ہی پریشانی پر ان کے پاس چار بگھہ کھیت ہے لیکن بارش نہ ہونے کی وجہ سے دھان کی پود نہیں لگا پائے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اپنا کنواں ہے اس سے مشکل سے پینے کا پانی ہی مل پاتا ہے ۔ سینچائی کہاں سے ہوگی ۔ بارش نہ ہونے سے بیج پود سوکھنے لگی ہے ۔27جولائی تک کہ اعداد و شمار کے مطابق اس موسم میں اوسط سے کم 47فیصدی ریاست میں بارش ہوئی ہے ۔ بارش کی کمی کا عالم یہ ہے کہ بہار کے 10ضلعوںمیں اوسط سے 60سے 82فیصدی تک کم بارش ہوئی ہے ۔ جبکہ ریاست کے 38میں سے 16ضلعوںمیں اوسط کے مقابلے آدھی بارش بھی نہیں ہوئی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ بارش اور سیلاب بہار کیلئے قدرتی آفت بھی ہے اور اسی میں بہار کی خوشحالی بھی چھپی ہے ۔ ہر سال آنے والے سیلا ب کے ساتھ ریاست کے بڑے میدانی علاقوںمیں مٹی کے تودوں کی طاقت بھی بڑھتی ہے اور کسانوں کی پیدا وار بھی اچھی ہوتی ہے ۔ لیکن اس سال بارش نہ ہونے سے ریاست کے لاکھوں کسان بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ بہار دیش کا وہ راجیہ ہے جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کل آبادی کا قریب 75فیصدی حصہ کھیتی پر منحصر ہے ۔ بہار کے لاکھوں کسانوں کیلئے دھان کی فصل کیلئے اگلے کچھ دن کافی اہم ترین ہونے والے ہیں۔ اس دوران اگر اچھی بارش ہو جائے تو ان کی مرتی فصل کو نئی زندگی مل سکتی ہے ۔
(انل نریندر)
اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک ؟
یہ جانتے ہوئے بھی حکومت درکار نمبر طاقت میں مضبوط ہے پھر بھی اپوزیشن سرکار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لوک سبھا میں پیش کر دی ہے ۔ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈر سمیت سبھی جانتے ہیں کہ یہ ریزولیوشن گر جائے گا۔ کیوں کہ اس کی مخالفت میں کہیں زیادہ ووٹ پڑیں گے اور حمایت میں کم لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ سب جانتے ہوئے بھی اپوزیشن سرکار کے خلاف عدم اعتماد کا ریزولوشن کیوں لا رہی ہے کیا اسے اس میں کچھ حاصل ہوگا سیاسی واقف کار مانتے ہیں کہ اپوزیشن کو اس عدم اعتماد رویزلوشن پر ہونے والی مفصل بحث کے ذریعے سرکار کو سبھی اشو پر گھیر نے کا مو قع ملے گا۔ لوک سبھا کے سابق سیکریٹری ڈاکٹر دیویندر سنگھ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جن بھی مسئلوں کو اٹھاتی ہے تو سرکار اس پر بحث کیلئے تیار ہونے کی بات تو کرتی ہے لیکن اس میں کنتو پرنتو ہوتے ہیں جیسے منی پور پر ہی بحث کی بات کرلیں ۔اس پر قلیل میعاد بحث کیلئے سرکار تیار ہے ،جو محض ڈھائی گھنٹے کی ہوتی ہے ۔ جبکہ اپوزیشن وزیر اعظم کے بیان سمیت وسیع بحث چاہتی ہے۔ ایسے میں اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد تحریک لاکر نہ صر ف منی پور بلکہ ان تمام مسئلوں پر سرکار کو گھیر نے تیاری کر لی ہے ۔ جنہیں وہ سرکار کے خلاف اٹھانا چاہتی ہے ۔ تجویز پیش ہونے اور قبول ہونے کے بعد اگلے ہفتے اس مسئلے پر بحث ہونا طے ہے ۔ ان کے مطابق پہلی نظر میں اس معاملے میں اپوزیشن سیاسی طاقت حاصل کر نے میں کامیابی حاصل کر لی ہے ۔پورے دیش کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی ہے ۔ لیکن یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جب بحث ہوگی تو حکومت کس طرح سے اپوزیشن پر جاریحانہ انداز اپناتی ہے ۔ کئی ریاستوںمیں اپوزیشن کی پارٹیوں کی حکومتیں ہیں ۔ ایسے میں خاتون سیکورٹی سے لیکر مہنگائی تک کے اشوز پر اپوزیشن کو حکمراں فریق کی طرف سے جوابی حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ ایک طرف یہ اہم ہے کہ جب وزیر اعظم بحث کا جواب دیںگے تو اب تک یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ وہیں اپوزیشن پر بھاری پڑ جاتے ہیں ۔ اس لئے حکمراں اپوزیشن کے درمیان ہونے والی بحث اہم ہوگی۔ دیکھنا ہوگا کہ جنتا کو واضح پیغام اپوزیشن کی طرف سے جاتا ہے یا پھر حکمراں فریق کی جانب سے ۔ ایک دلیل اپوزیشن کی طرف سے یہ دی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم کو منی پور پر بیان دینے کیلئے مجبور ہونا پڑے گا۔ وہ اسے کامیابی بھی مانیںگے ۔ لیکن یہ صاف ہے کہ منی پور پر ہونے والی بحث پر جواب دینے کی ذمہ داری وزیر داخلہ کی ہوتی ہے ۔ اپوزیشن منی پور پر پہلے وزیر اعظم کا بیان اور پھر بحث کی مانگ پر ڈٹی ہوئی تھی۔ لیکن عدم اعتماد پر بحث کے بعد وزیر اعظم اکیلے منی پور نہیں بلکہ سبھی مسئلوں پر جواب دیںگے ۔ اس لئے اگر اس تجویز کے بعد پارلیمنٹ میں تعطل ختم ہوتا ہے تو اس سے حکمراں فریق بھی راحت کی سانس لیگا۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس
ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...