Translater
Iran لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Iran لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
17 جنوری 2026
جنگ کی چوکھٹ پر ایران -امریکہ!
ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہرون نے ایران اور امریکہ کو جنگ کی چوکھٹ پر لاکر کھڑا کر دیا ہے ۔احتجاجی مظاہروں کےبعد حالات اور خراب ہونے کے اشارے مل رہے ہیں ۔ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی اے اےزئی نے کہا ہے کہ گرفتار مظاہرین پر تیزی سے مقدمہ چل سکتاہے اور انہیں پھانسی کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وارننگ کے باوجود آیا ہے ، جنہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران پھانسی دیتا ہےتو امریکہ سخت کاروائی کرے گا۔تقریباً 130 گھنٹوں سے ایران میں انٹرنیٹ اور فون نیٹ ورک ٹھپ ہے ۔امریکہ میں ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ اب تک کم سے کم 2571 لوگوں کی موت ہو چکی ہے ، جس میں 2403 مظاہرین ،147 سرکار حمایتی ،12 بچے اور عام شہری شامل ہیں ۔قریب 18100لوگ گرفتار کئے گئے ہیں ۔ایران کی راجدھانی تہران میں سیکورٹی فورسز اور شہریوں کے لئے اجتماعی آخری رسوم بھی کی گئیں جہاںڈیتھ ٹو امریکہ جیسے نعرے لگے ۔بھارت کے سفارتخانہ نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے اور بے حد چوکس رہنے کی صلاح دی ہے۔ٹرمپ نے دی کڑی ایکشن کی وارننگ ۔ٹرمپ نے ایک پیغام میں کہا کہ ایرانی حب الوطنوں احتجاج جاری رکھو ،اپنے اداروں پر قبضہ کرو ،نہ سزائے موت دئے جانے کی صورت میں بہت بڑی کاروائی کریں گے اگر وہ ایسا کچھ کرتے ہیں تو ہم سخت کاروائی کریں گے ۔ جاری احتجاج کے درمیان امریکی فوجی کاروائی کی بات کہی جارہی ہے۔صدر ٹرمپ بھی ایسا کئی بار کر چکے ہیں ۔امریکہ کے اندر ایران میں اقتدار تبدیلی کی بات لمبے عرصہ سے اٹھتی رہی ہے ۔امریکہ نے ایران میں 1953 میں اقتدار تبدیلی بھی کی تھی لیکن 1979 کے اسلامی انقلاب نے امریکہ حمایتی سرکار کو معزول کر دیا تھا اور آیت اللہ خمینی کا راج قائم ہو گیا تھا تبھی سے امریکہ -ایران کے اس ملا راج کو ختم کرنا چاہتا ہے ۔اور تختہ پلٹ کر اپنی حمایتی سرکار بنانا چاہتا ہے ۔ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے جس کا بہت وقت سے امکان ہے توایران کے ساتھ کون کھڑا رہے گا؟ روس اور چین ایران کے اہم ساجھیدار ہیں اور ان سے امید کی جاتی ہے کہ یہ امریکی فوجی کاروائی کی کھل کر مخالفت کریں گے اور کر بھی رہے ہیں ، لیکن کیا یہ حمایت زبانی جمع خرچ ہوگی یا پھر کھل کر لڑائی کے میدان میں اتریں گے؟لیکن سوال اہم ہے جہاں تک عرب ممالک کا سوال ہے یہ کھل کر نہ تو حمایت کررہے ہیں اور نہ ہی مخالفت ۔یہ بات صحیح ہے کہ عوام کے غصہ کو زبردست ایکشن سے دبانا مناسب نہیں ، لیکن کسی ملک کی سرداری کی خلاف ورزی کا بہانا بھی نہیں بنایاجا نا چاہیے ۔اگر ٹرمپ حقیقت میں مدد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں تہران کے ساتھ تجارت پر لگائے گئے 25 فیصد فاضل ٹیرف سمیت ان تمام پابندیوں کو ہٹانے پر غور کرنا چاہیے ، جن کا اثر خاص کر عام لوگوں پر پڑرہا ہے ۔ایران میں اس وقت ضرورت ہے ٹکراؤ ٹال کر بات چیت کا راستہ اپنانے کی ۔اس کی شروعات سرکار کی طرف سے ہونی چاہیے ۔وہاں کی جنتا لمبے عرصے سے مشکل حالات کا سامنا کررہی ہے ۔اس کا وقتاً فوقتاً اس کی ناراضگی لوگوں کے ذریعے باہر آتی رہی ہے ۔ہم امید کرتے ہیں ٹکراؤ ٹلتا ہے اور جنگ کی حالت نہیں بنتی ۔
(انل نریندر)
22 مارچ 2012
کیا سید محمد کاظمی پر دہلی پولیس جھوٹا کیس بنا رہی ہے؟
Published On 22 March 2012
انل نریندر
اسرائیلی سفارتخانے کی کارمیں دھماکے کے معاملے میں گرفتار صحافی سید محمد کاظمی کیا بے قصور ہے یا انہیں زبردستی دہلی پولیس نے گرفتار کیا ہے یا یہ حملے میں ایک اہم کڑی ہے؟ یہ سوال کاظمی کی گرفتاری کے بعد سے ہی اخباروں میں بنا ہواہے۔ ایک سینئر صحافی نے کہا کہ دہلی پولیس نے اسرائیل او امریکہ کے کہنے پر کاظمی کو گرفتار کیا اور اس کی گرفتاری کی اصل وجہ تھی ۔وہ اپنی رپورٹوں میں مشرقی وسطیٰ کے صحیح حالات پیش کرتا تھا جس سے دونوں اسرائیل اور امریکہ ناراض ہیں۔ اسے روکنے کیلئے دہلی پولیس نے یہ ڈرامہ رچا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر اور سرکردہ شیعہ عالم مولانا کلب جواد نے لکھنؤ میں کہا کہ دہلی پولیس کمشنراسرائیلی ایجنٹ ہیں اور ان کی پراپرٹی کی جانچ ہونی چاہئے۔ مولانا جواد نے میڈیا سے کہا دیش میں پچھلے قریب 20 برسوں سے بے قصور مسلمانوں کو دہشت گردی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ 13 فروری کو دہلی میں ہوئے دھماکے میں سینئر صحافی سید محمد کاظمی کی گرفتاری اس کی نئی کڑی ہے۔ دوسری طرف دہلی پولیس نئے نئے ثبوت پیش کررہی ہے۔ معاملے کی جانچ میں لگے ذرائع نے بتایا کاظمی کے ایران سے گہرے رشتے ہونے کے پکے ثبوت ملے ہیں۔ کاظمی کئی بار ایران گیا تھا۔ اس دوران اس نے دھماکے سے وابستہ دوسرے ایرانیوں سے ملاقات کی تھی۔ کاظمی نے پولیس کو بتایا کہ وہ 7 جنوری2011ء کو ایران گیا تھا۔ اس بار اس کی ملاقات سید علی اور علی رضا سے ہوئی تھی۔ سید علی نے اسے ایرانی سائٹ پر موت کا بدلہ لینے کی بات کہی تھی۔ سید نے اسے تہران میں 3 ہزار ڈالر اور ایک موبائل فون بھی دستیاب کرایا تھا اور واپس دہلی لوٹنے پر اس کی کئی بار سید سے فون پر بات چیت ہوئی۔مئی2011ء میں ایران سے اسے سید نے فون کر اسرائیلی ڈپلومیٹ کو نشانے بنانے کی بات کہی۔ اسے اس حملے کے لئے ایران سے آنے والے لوگوں کے لئے دہلی میں مدد کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ پولیس کا دعوی ہے کہ پلاننگ کے مطابق ایرانی حملہ آوروں کو دہلی آنے پر کاظمی نے انہیں صرف قرولباغ میں واقع فیض روڈ پر ہوٹل میں ٹھہرایا تھا بلکہ اسرائیلی ڈپلومیٹ کے آنے جانے کا روٹ پتہ کرنے میں بھی ان کی مدد کی تھی اس کے لئے کرائے پر لی گئی موٹر سائیکلوں کا استعمال کیا گیا۔ خیال رہے کہ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے جور باغ کے کربلا علاقے میں مقیم اس فری لانس صحافی محمد کاظمی کو 6 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ 2011ء میں جب کاظمی ایران گیا تھا تو اس کی ملاقات سید علی مہدیانی اور محمد رضا و ایرانی افسر سے ہوئی تھی۔ ملیشیا میں سرگرم گینگ کے ماسٹر مائنڈ محمد مسعود کی ہدایت پر سید علی اور محمد رضا نے دہلی میں اسرائیلی سفارتکارپر حملہ کروانے میں کاظمی کو پیسے کا لالچ دیا اس کے لئے 5500 ڈالر دینے کی بات کہی گئی۔ کاظمی تیار ہوگیا اور پھر ایرانی افسر کے ساتھ دہلی آگیا۔ 10 فروری کو سید احمد، محمد رضا خان اور عبدالفجی مہدیانی بھی دہلی آگئے۔ تینوں کاظمی کے یہاں رکے ہوئے تھے ۔اگلے دن کاظمی کی آلٹو کار میں بیٹھ کر تینوں نے اسرائیلی سفارتخانے کے ساتھ ساتھ نئی دہلی رینج کے علاقے کا جائزہ لیا اور حملے کا خاکہ تیار کیا۔ ادھر افسر ایرانی نے قرولباغ میں رہنے والے ایک لڑکے کے تعاون سے ایک اسکوٹی خریدی تھی اس کا استعمال کار میں اسٹیکی بم لگانے کے لئے کیا گیا تھا۔ افسر ملیشیا میں بیٹھا اس کا آقا مسعود کے رابطے میں تھا۔ ادھر مسعود کی رضامندی پر 14 فروری کو بینکاک اور جارجیہ میں حملہ کیا گیا۔ حملے کو مرادی سعید اور محمد قاضی نے انجام دیا تھا۔ محمدقاضی کو بینکاک پولیس نے گرفتار کرلیا ہے وہیں ملیشیا پولیس کے ہتھے سبھی دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ مسعود بھی چڑھ گیا۔ دہلی میں ہوئے دھماکے کے 24 گھنٹے میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی ایک ٹیم دہلی پہنچ گئی تھی اور مسلسل جانچ کررہی ہے۔دہلی پولیس کے ذرائع کے مطابق موساد کے ایجنٹ جلد ہی ریمانڈ پر چل رہے کاظمی سے پوچھ تاچھ کرسکتے ہیں وہیں دہلی پولیس پورے معاملے سے پردہ اٹھانے کے لئے ملیشیا میں گرفتار مسعود سے بھی پوچھ تاچھ کرنے کے لئے ملیشیا سرکار سے رابطے میں ہے۔ اب دہلی پولیس صحیح کہہ رہی ہے یا یہ ساری کہانی زبردستی بنائی گئی ہے اس کا فیصلہ تو عدالت میں ہی ہوگا۔ امید ہے کہ سچائی کی جیت ہوگی۔ ویسے دہلی پولیس کویہ کیس عدالت میں ثابت کرنا ہوگا۔ اس سے دہلی پولیس کی ساکھ وابستہ ہے۔ یہ معاملہ اب پوری طرح سے بین الاقوامی رنگ اختیار کرچکا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Mohd. Ahmed Kazmi, delhi Police, Iran, Israil, Bomb Blast, Delhi Bomb Case,
13 مارچ 2012
اسرائیلی سفارتکار پر حملے میں فری لانس صحافی کی گرفتاری
Published On 13 March 2012
انل نریندر
13 فروری کو نئی دہلی کے انتہائی سکیورٹی والیعلاقوں میں سے اورنگ زیب روڈ پر واقع اسرائیلی خاتون سفارتکار ٹال یوہوشوا کی کار کے پچھلے حصے میں ایک موٹر سائیکل سوار نے میگنیٹک ڈوائز بریکٹ میں اسٹکی بم چپکا دیا تھا۔ اس کے فوراً بعد ہوئے دھماکے سے کار میں آگ لگ گئی تھی۔ خاتون سفارتکار و کارڈرائیور منوج زخمی ہوگئے تھے۔ تین دیگر گاڑیاں میں اس کی ضد میں آئی تھیں۔ دہلی پولیس نے اس دھماکے کے سلسلے میں ایران سے وابستہ ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔اس شخص نے اپنے آپ کو ایک نیوز ایجنسی کا صحافی بتایا ہے۔ اس کا نام سید محمد کاظمی 50 برس ہے اور وہ ایرانی نیوز ایجنسی کے لئے کام کرتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے سید محمد کاظمی کی گرفتاری کے سراغ بینکاک سے ملے تھے۔ خیال رہے جس دن دہلی میں کار بم لگایا گیا تھا ٹھیک اسی دن بینکاک میں بھی ایک دھماکہ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔ دہلی میں ہوئے دھماکے کے تار نہ صرف بینکاک سے جڑے ہیں بلکہ جارجیہ سے بھی جڑے ہیں۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ سفارتکار کی کار پر بم دھماکے کی پہلی کامیابی بھی اسی کا نتیجہ ہے ۔ فی الحال پولیس اس حملے کے پیچھے شامل تنظیم کا نام نہیں بتا رہی ہے لیکن کہیں نہ کہیں اس حملے کے پیچھے ایرانی تنظیم کنڈس (کیو یو ڈی ایس) کے ہاتھ ہونے کا اندیشہ ضرور ظاہر کیا جارہا ہے۔ دراصل بینکاک میں ہوئے دھماکے کے بعد وہاں سے کچھ مشتبہ ایرانی فرار ہوگئے تھے جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ بینکاک پولیس کو اس خاتون کے گھر کی تلاشی میں ایک ٹیلی فون ڈائری ملی جس میں کاظمی کا موبائل نمبر تھا۔ کاظمی کے خلاف کئی اہم ثبوت ملے ہیں۔ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ حملوں کے پیچھے ایرانی فوج کی اسپیشل فورس ہے جسے خاص طور سے ایران۔ عراق جنگ کے وقت بنایا گیا تھا۔ محمد کاظمی کو اطلاعات اکھٹی کرنے کے لئے ڈالر میں ادائیگی کی گئی تھی۔ دھماکے میں جس موٹر سائیکل کا استعمال کیا گیا تھا وہ قرولباغ علاقے سے کرائے پر لی گئی تھی۔ حملہ آور بیرون ملک سے آکر پہاڑ گنج کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ اسٹیکی بم اسی ہوٹل میں تیار کیا گیا۔ پورے معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ غیر ملکی بمبار جس نے اورنگ زیب روڈ میں کار پر بم لگایا تھا وہ وزارت داخلہ کی لاپروائی کے سبب اسی دن اندرا گاندھی ہوائی اڈے سے جنوبی ایشیا کی کسی ملک کی فلائٹ میں سوار ہوکر بھاگ گیا۔ تین بجے کے قریب دوپہر کو بم لگانے کے آٹھ گھنٹے بعد وہ ہندوستان سے نکل گیا۔ وزارت داخلہ یا کسی اور سرکاری ایجنسی سے ہوائی اڈے پر امیگریشن کو مطلع نہیں کیا کہ مشتبہ افراد کو روکا جائے، پوچھ تاچھ کی جائے۔ وزارت داخلہ کی یہ چوک اس لئے بھی تشویش کا باعث ہے کہ بم دھماکہ ہونے کے فوراً بعد اسرائیل نے کہہ دیا تھا کہ حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ امیگریشن میں ہر ایرانی کی روک کر تلاشی لی جانی چاہئے تھی، جو نہیں لی گئی اور حملہ آور بھاگنے میں کامیاب رہا۔ اس معاملے میں گرفتار محمد احمد کاظمی کے رشتے داروں نے دہلی کے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرکے کہا ہے کہ دہلی پولیس کے ذریعے برآمد اسکوٹی ان کے ایک رشتے دار کی ہے۔ قریب دو سال سے وہ ان کے گھر پر کھڑی تھی۔ خاندان کا کوئی ممبر اس اسکوٹی کا استعمال نہیں کرتا ۔ محمد کاظمی کے دوسرے بیٹے شوزیب کاظمی نے گرفتارمیمو پر دستخط کے لئے پولیس پر دباؤ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ اپنے گھر پر کسی ایرانی کے آکر ٹھہرنے سے بھی انکار کیا۔ رشتے داروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ کربلا معاملے میں ان کے والد نے سرگرم رول نبھایا تھا۔ بی کے دت کالونی میں ان کا اکیلا مسلم خاندان رہتا ہے۔ پیشے سے صحافی محمد احمد کاظمی بنیادی طور سے میرٹھ کا باشندہ ہے۔ سینئر صحافی سعید نقوی نے محمد کاظمی کی گرفتاری کو لیکر دہلی پولیس کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے امریکہ۔ اسرائیل کے اشارے پر صحافی کو اسرائیلی سفارتخانے کار دھماکے میں زبردستی گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس کی بنیاد بھی پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ کے اشارے پر ارب ملکو ں میں بغاوت ہورہی ہے اس کی سچائی کو سید محمد کاظمی نے دنیا کے سامنے رکھا اور اسی وجہ سے امریکہ اسرائیل کے دباؤ میں دہلی پولیس نے انہیں گرفتار کیا ہے۔ دہلی پولیس کو اپنا کیس مضبوط کرلینا چاہئے کیونکہ اس کیس پر نہ صرف دیش کے اندر ہی بلکہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ اس معاملے میں دہلی پولیس کا وقار ایک بار پھر داؤ پر لگا ہے۔Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi, delhi Police, Iran, Israil, Mohd. Ahmed Kazmi, Terrorist, Vir Arjun
22 فروری 2012
جوالہ مکھی کے ڈھیر پر بیٹھا مشرقی وسطیٰ
Published On 22nd February 2012
انل نریندر
مغربی ایشیا ایک بار پھر جنگ کی جوالہ مکھی کے ڈھیر پر کھڑا ہوتا جارہا ہے۔ نیوکلیائی چھڑیں بنانے میں لگے ایران نے جہاں اپنے جنگی بیڑے جدہ بندرگاہ سے شام کے ساحل کے قریب تعینات کردئے ہیں۔ وہیں ایرانی ریولیوشنری گارڈ ز نے دوروزہ زمینی فوجی جنگی مشقیں شروع کر امریکہ اور پڑوسی اسرائیل جیسے کٹر مخالفوں کو منہ توڑ جواب دینے کی تیاری کرلی ہے۔ ادھر برطانیہ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یہ جنگی بیڑے ایران نے سوئس سمندر کے راستے بھومدے ساگر کے کنارے بسے شام بھیجے ہیں تاکہ اس کے نیوکلیائی ٹھکانوں پر کسی طرح کا حملوں کا جواب دے سکیں۔ ادھر نارتھ کوریا نے بھی فوجی مشقوں کی صورت میں حملے کی وارننگ دے ڈالی ہے۔ ایران کی خبر رساں ایجنسی اِرنا نے دیش کے بحریہ کے چیف ایڈمرل حبیب اللہ سیاری کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران بھومدے ساگر میں اپنے جنگی بیڑے تعینات کرکے مخالفین کو علاقے میں اپنی طاقت کا احساس کرادیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی بحریہ اسلامی انقلاب کے بعد دوسری بار سوئس دریا کے راستے بھومدے ساگر تک پہنچی ہے۔ایران کے ریولوشنری گارڈز کا کہنا ہے کہ اس نے ممکنہ باہری خطروں سے دیش کی حفاظت کے پیش نظر اپنی سرگرمیاں بڑھانے کے لئے دو روزہ ایک زمینی مشق شروع کردی ہے۔ یہ ریولوشنری گارڈز ایران کی سب سے طاقتور فوجی یونٹ ہے۔ غور طلب ہے کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے اٹھایا ہے۔
امریکہ کے وزیر دفاع لیون پینیٹا نے کل ہی ایران کو سخت وارننگ دی تھی کہ اگر اس نے ہرموز آبی معاہدہ توڑا یا نیوکلیائی ہتھیار بنائے تو اس کے خلاف کارروائی کے ہر متبادل کھلے ہیں۔ پینیٹا نے کہا ہم صاف کرچکے ہیں کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنا سکتا، ہم اسے ہرگز برداشت نہیں کریں گے کہ وہ بین الاقوامی کاروبار کے اہم آبی راستے ہرموز آبی معاہدے کو توڑے۔ اس علاقے سے دنیا کے پانچویں حصے کا تیل کاروبار ہوتا ہے۔ یہ بین الاقوامی آبی خطہ ہے ہم ایران کو اسے بند کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
قابل غور ہے کہ امریکہ نے عراقی تیل ذخائر کو ہڑپنے کے لئے کویت کے ذریعے عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین کو خطرناک کیمیاوی ہتھیار ختم کرنے کے بہانے سے نیست و نابود کردیا تھا جبکہ جان و مال اور تیل کنوؤں کی بھاری تباہی کے باوجود عراق میں ایسا کوئی ہتھیار نہیں ملا۔ ایران کو ڈر ستا رہا ہے کہ امریکہ اس کے نیوکلیائی پلانٹس میں خطرناک ہتھیار بنانے کے الزام کے بہانے اسرائیل کے تعاون سے اس پر کبھی بھی چڑھائی کر سکتا ہے۔ ایران نے بھی ایسے کسی طرح کے حملے کا منہ توڑ جواب دینے کی پوری تیاری کرلی ہے۔ ادھر خلیج فارس میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان برطانیہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ ایران کے نیوکلیائی اداروں کو تباہ کرنے کے لئے پہلے کوئی حملہ کرنے کی منفی پہل نہ کرے اور ایسا کرنا اس کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکہ کے مشہور اخبار دی واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ دراصل لیون پینیٹا سے بات چیت کے بعد ہمارے ایک صحافی نے لکھا ہے پینٹاگان کے چیف کا یہ ماننا ہے کہ اس بات کا ٹھوس اندیشہ ہے کہ اپریل، مئی یا جون کے مہینے میں اسرائیل سرکار ایران پر حملہ کرے گی۔ مشرقی وسطیٰ جوالہ مکھی کے ڈھیر پر بیٹھا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Egypt, Iran, Israil, Middle East, Syria, USA, Vir Arjun
18 فروری 2012
ایران کے مشتعل رویئے کا مغربی ممالک کیا جواب دیں گے؟
Published On 18th February 2012
انل نریندر
ایران کسی کے آگے جھکنے والا نہیں ہے یہ ہی اس کی روایت رہی ہے اور اسی روایت پر وہ قائم ہے۔ مغربی ممالک کے بڑھتے دباؤ کا لگتا ہے الٹا اثر ہوا ہے۔ اب وہ پہلے سے زیادہ مشتعل ہوگیا ہے۔ ایران نے مغربی ممالک کے خلاف بدھ کے روز سخت رویہ اختیار کرلیا ہے۔ امریکہ اور یوروپی ممالک کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے نہ صرف اپنے ایٹمی پروگرام کی کامیابی کا اعلان کیا بلکہ یوروپی ملکوں کی تیل سپلائی روکنے کی دھمکی بھی دے دی۔ تہران میں ایک تقریب کے دوران ایرانی صدر احمدی نژاد نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بے وجہ کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے، ان میں اب کوئی دم نہیں بچا ہے۔ ضرورت پڑی تو ایران اسے بھی سبق سکھا سکتا ہے۔ خلیجے فارس میں فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے بعد ایران نے بدھ کو اپنے متنازعہ نیوکلیائی پروگرام کی نمائش بھی کی۔ مغربی ممالک کے ذریعے مسلسل دی جارہی دھمکیوں اور پابندیوں کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے ایران نے دعوی کیا ہے کہ اس نے نیوکلیائی بھٹی میں استعمال ہونے والے چوتھی پیڑھی کے ملکی سینٹری فیوز(ایندھن کی چھڑیں) بنا لی ہیں۔ خودصدر احمدی نژاد نے نارتھ تہران میں واقع نیوکلیائی بھٹی میں سینٹری فیوز لگایا اور ایران کے سرکاری ٹی وی نے اس کو براہ راست دکھایا۔ محمود احمدی نژاد نے بعد میں اعلان کیا کہ جلد ہی تہران دنیا کی چنندہ نیوکلیائی طاقتوں میں شمار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 9 ہزار سینٹری فیوز تیار کر لئے ہیں اور بھٹی میں سینٹری فیوزچھڑیں لگانے کے بعد احمدی نژاد نے کہا ایران پر پابندی لگائی گئی ہیں اور مزید بندیشیں لگانے کی تجویز ہے لیکن اس سے تہران کو کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ مغربی ممالک نہیں چاہتے علم اور ترقی پوری دنیا میں پھیلے جو دیش ترقی کرنا چاہتے ہیں انہیں ان دباؤ اور اڑچنوں سے لڑنا پڑے گا۔ایران دنیا کا چوتھا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ عراق، کویت کے تیل کنوؤں پر قبضہ کرنے کا فارمولہ امریکہ لگتا ہے یہاں بھی آزمانا چاہتا ہے لیکن روس ، چین اور ہندوستان کا ساتھ ملنے کی وجہ سے وہ براہ راست کارروائی نہیں کرپارہا ہے۔ یوروپ کی 18 فیصدی تیل کی ضرورت ایران سے درآمدسے ہوتی ہے۔بدھ کو خبر آئی کے ایران نے نیدر لینڈ، اٹلی، اسپین، یونان، پرتگال اور فرانس کی تیل سپلائی بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ادھر امریکہ ۔اسرائیل کا خیال ہے کہ ایرانی ایٹمی ہتھیار اس لئے بنا رہے ہیں تاکہ اسرائیل پر حملہ کرسکیں۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے کہا کہ ایران دہشت گردی کا سب سے بڑا فروغ دینے والا ملک ہے۔اس کی آتنکی مہم اجاگر ہوچکی ہے وہ ہمارے بے قصور سفارتکاروں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ایران کے خلاف لکشمن ریکھا کھینچنی چاہئے۔ وہ دنیا کے امن اور استحکام کیلئے خطرہ ہے۔ امریکہ بھارت پر ایران کے خلاف کھڑا ہونے کے لئے دباؤ بنا سکتا ہے لیکن بھارت کو اس دباؤ میں نہیں آنا چاہئے۔ ایران کے ساتھ رشتوں کو کیسے چلانا ہے اس پر کسی تیسرے ملک کی مرضی نہیں چلے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اور یہ مغربی دیش احمدی نژاد کی تازہ دھمکیوں اور اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کے ارادوں سے کیسے نمٹتے ہیں؟ وسطی ایشیا میں حالات کشیدہ بنتے جارہے ہیں، چھوٹی سی بھی چنگاری آگ میں بدل سکتی ہے۔
Ahmedi Nejad, America, Anil Narendra, Atom Bomb, Atomic Reactor, Daily Pratap, Iran, Vir Arjun
17 فروری 2012
دہلی،طبلس وبنکاک دھماکوں کا کوئی آپسی رشتہ ہے؟
Published On 17th February 2012
انل نریندر
دہلی کے انتہائی محفوظ ترین مانے جانے والے علاقے میں اسرائیلی سفارت خانے کی کار کو نشانہ بنانے اور جارجیا کی راجدھانی میں ناکام بم دھماکے کی کوشش کے24 گھنٹے بعد تھائی لینڈکی راجدھانی بنکاک میں مسلسل تین دھماکے ثابت کرتے ہیں کہ یہ دہشت گرد جب چاہیں جہاں چاہیں حملہ کرسکتے ہیں۔ یہ بھی ایک بار پھر سے ثابت ہوگیا ہے کہ پوری دنیاآج دہشت گردی کی جکڑ میں پھنس چکی ہے۔ منگلوار کو بنکاک میں محض 100 میٹر کے دائرے میں تین دھماکے ہوئے۔ واقعہ میں حملہ آور سمیت پانچ لوگ زخمی ہوئے۔ موقعہ سے ملے شناختی کارڈ سے حملہ آور کے ایرانی ہونے کااندیشہ ہے اس کی شناخت یوہادی کی شکل میں ہوئی ہے۔ اس نے راجدھانی بنکاک کے بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں بم پھینکے۔تیسرا بم پیڑ سے ٹکرانے کے سبب یوہادی کے ہی پیر کے پاس آکر پھٹا۔ جس سے وہ بھی زخمی ہوگیا۔ اس کے ایک اور ایرانی مددگار محمد ایزائی کو بھی گرفتار کیاگیا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں نے حملے کی دہلی وجارجیا کے واقعہ سے تار جڑے ہونے کا اندیشہ ظاہر کیاہے۔ اس واردات میں حملہ آور سمیت تین تھائی مرد اور خاتون بھی زخمی ہوئی ہے۔ تھائی وزیراعظم چنگلک شیونراترا نے پولیس اور دیش کی قومی خفیہ ایجنسیوں کے تہرے دھماکے کی جانچ کے احکامات دیئے ہیں۔ تھائی وزیرخارجہ کو ایران سے بات کرنے کو کہا ہے ۔تھائی وزیراعظم شیونراترا یوم جمہوریہ پر نئی دہلی میں مہمان خصوصی کے طور پر تشریف لائی تھی۔ کیا ان کا دورہ دہلی میں پہلے دھماکے پھر بنکاک میں دھماکے ان میں کوئی آپسی کنکشن ہے؟ تھائی پولیس کے جنرل جاسٹی پرناکت نے بتایا کہ سیکورٹی فورسیز نے راجدھانی میں حملہ آور کے کرایہ کے مکان سے بھی دھماکوں سامان برآمد کئے ہیں۔ مقامی میڈیاکے مطابق ایرانی نژاد شہری نے ٹیکسی روک کر ڈرائیور سے کہیں چلنے کو کہا لیکن ڈرائیور کے منع کرنے سے وہ ناراض ہوگیا اور اس نے ٹیکسی پر بم سے حملہ کردیا۔ وہاں کھڑے پولیس ملازم نے جب یہ واقعہ دیکھا تو وہ ٹیکسی کے پاس پہنچے حملہ آور نے پولیس ملازمین پر بموں سے حملہ کردیا لیکن سیکورٹی ملازمین کی قسمت اچھی تھی اور یہ بم ایک پیڑ سے ٹکرا گیا اور خودحملہ آور آگرا۔ حملہ آور دھماکے سے حملہ آور کا پیر اڑ گیا اورحملہ آور کو پکڑ لیاگیا۔ موقعہ واردات سے ایک پاسپورٹ برآمد ہوا ہے جس سے پتہ چلا کہ حملہ آور کانام سائیریب یوہادی ہے۔ اور وہ ایران کارہنے والا ہے اس سے پہلے وسطی بنکاک کے اقامائی علاقے میں ایک گھر میں دھماکہ ہوا۔ حملہ آور سمیت دواور ایرانی اسی گھر میں کرایہ دار کی شکل میں رہتے تھے۔ سرکاری ترجمان کیتیا یاسنک نے کہا کہ پولیس نے رپورٹ دی ہیں کہ مکان کااستعمال بم بنانے کے لئے کیا جاتا تھا۔ یہاں سے دھماکو سامان اور ریموٹ کنٹرول ڈیٹونیشن ڈیوائس ملے ہیں۔ فی الحال بنکاک کے واقعہ اور نئی دہلی اور جارجیا کے واقعہ اگرکوئی تعلق نہیں قائم ہوسکا لیکن اسرائیل کے محکمہ خارجہ کے ترجمان چنگال پالمود نے یروشلم میں کہا کہ ہم کسی بھی امکان سے انکار نہیں کررہے ہیں۔ ان حملوں سے ایران ساری دنیا کی نظروں میں آگیا ہے۔ پہلے سے ہی اپنے متنازعہ نیوکلیائی پروگرام کے وجہ سے مغربی ملکوں کی آنکھوں کی کرکری بنے ایران کے لئے اب یہ نئی مشکل کھڑی ہوگئی ہے۔ امریکہ ایران پر اور دباؤ ڈالے گا۔Bangkok, Bomb Blast, Delhi, Delhi Bomb Case, Iran, Israil, Tiblis
16 فروری 2012
زیادہ ترآتنکی حملے 13تاریخ کو کیوں؟
Published On 16th February 2012
انل نریندر
اسے محض اتفاق ہی ماناجائے کہ ہندوستان میں زیادہ ترآتنکی بم دھماکوں کی وارداتیں 13 تاریخ کو ہی ہوتی ہے یا پھر اس 13کی کچھ خاص اہمیت ہے؟ زیادہ بم واقعہ 13فروری کو ہوا ہے تقریباً ہردھماکہ کی تاریخ 13ہی ہے ستمبر 2008 کو بھی راجدھانی میں 13تاریخ کو ہی بم دھماکہ ہوا تھا۔ ممبئی میں پچھلے سال جولائی میں بھی 13 تاریخ کو سلسلہ وار دھماکے ہوئے تھے۔ پنے میں جرمن بیکری بھی دھماکہ بھی 13کو ہواتھا۔ 2001میں پارلیمنٹ کمپلیکس احاطے میں بھی 13تاریخ دسمبر کو بھی آتنکی حملہ ہوا تھا۔ ہمارے ماہرین اب اس بات کی جانچ میں لگے ہوئے ہیں 13 تاریخ کی ان آتنکوادیوں کے لئے کیا خاص اہمیت ہے۔ وزیراعظم رہائش گاہ کے پاس جو حملہ ہوا ٹھیک اسی طرح کا تھا جو اسی سال 11جنوری کو ایران کی راجدھانی تہران میں ہواتھا۔ جس میں ایران کے ایک نیوکلیائی سائنس داں مستعفی احمدی روشن کاقتل ہوگیا تھا۔ اس حملے میں بھی دو موٹر سائیکل سوار قاتلوں نے روشن کی پجیرو کار پر اسی طرح کا اسٹیکی بم لگادیا تھا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ سائنس داں کی موقعہ پر موت ہوگئی تھی۔ نئی دہلی کے واقعہ میں انوا سوار سبھی مسافر خوش قسمتی سے بچ گئے تھے کہ جلدی میں نوجوان صحیح جگہ پر بم نہیں لگاسکا۔ جانچ کرنے والے حکام کی مانے تو اگر یہی بم کار کے پیچھے بجائے کسی دروازے پر لگایا گیا ہوتا اس سے کہیں زیادہ نقصان ہوتا۔ بتایاجارہا ہے کہ حملہ آور دروازے پر لگانے میں کامیاب نہیں ہونے کی وجہ سے پیچھے لگاگئے ۔ دھماکے کاسارا اثر کار کی پچھلی سیٹ پر ہی پڑا۔ حملہ اتنازور دار تھاکہ کارکے ٹکڑے اور بم کے ٹکڑے اسرائیلی ڈپلومیٹ کی بیوی تال یہوشوا کی پیٹھ میں جاگھسے۔ اگر یہی بم کار کے دروازے یا ایندھن کے ٹینک کے قریب لگایاگیا ہوتا توان کابچنا ناممکن تھا۔ داد دینی ہوگی انوا کار ڈرائیور منوج شرماکی۔ خودزخمی ہونے کے باوجود اپناحوصلہ نہیں چھوڑا۔ اور گاڑی سے خاتون ڈپلومیٹ کو نکالا ایک آٹو روک کر سب سے پہلے وہ اسے محفوظ مقام پر لے گیا۔اسرائیلی سفارت خانے میں پہنچانے کے بعد تال یہوشوا کو پاس کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرایاگیا۔ جہاں ڈاکٹرو ں نے اس کے پیٹھ سے لوہے کے کچھ ریزوں کو آپریشن سے نکالا۔ راجدھانی میں اورنگ زیب روڈ پر انوا گاڑی میں اسٹیکی بم سے دھماکہ کامعاملے بھلے ہی دیش میں پہلا ہو۔ ہالی ووڈ کی فلموں میں یہ عام ہے ایک یقینی نشانے کو لگانے کے لئے اس کا استعمال کیاجاتا ہے۔ ہالی ووڈ سے متاثر ہو کر بالی ووڈ میں اب یہ استعمال میں آنے لگا ہے۔ اسٹیکی بم کااستعمال جیمز بونڈ سریز کی فلموں کے علاوہ جاسوسی فلموں میں بھی دکھایاجاتا ہے۔ سلویسٹر سلون کی فلم اسپیشلسٹ میں اسٹیکی بم کا استعمال دکھایا گیا ہے اس بم کی خاصیت یہ ہے کہ اپنے نشانے کو ہی نقصان پہنچانا آس پاس اس کا کم اثر ہوتا ہے۔ سائز میںیہ بہت چھوٹاہوتا ہے۔ اور اسے چھپانے کا طریقہ آسان ہوتا ہے۔ بالی ووڈ میں اس بم کا استعمال سنی دیول کی فلم ''جو بولے سو نہال '' میں حال ہی شاہ رخ خاں کی فلم ''ڈان نمبر2میں کیاگیا۔ پولیس کے اعلی افسر بھی مان رہے ہیں کہ غیرملکی سفارت کاروں کی گاڑی کو اڑانے کافارمولہ فلموں سے لیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے۔ حالانکہ نکسلی اس طرح کے بم کا استعمال کرتے ہیں لیکن آتنک وادی جنگ میں اوریہ بھارت میں پہلی بار استعمال کیاگیا ہے.Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Delhi Bomb Case, Hizbullah, Iran, Israil, Vir Arjun
31 جنوری 2012
یران پر کیا امریکہ اسرائیل سے حملہ کروا سکتا ہے؟
Published On 31st January 2012
انل نریندر
ایران بنام مغربی ممالک لڑائی خطرناک دور میں منتقل ہوتی جارہی ہے۔ یوروپی یونین نے امریکہ کی لیڈر شپ میں ایران کی تیل درآمدات پر پابندی لگانے کے لئے بروسیلز میں ایرانی لیڈر شپ کے خلاف نیا مورچہ کھول دیا ہے۔ امریکہ ایشیائی ملکوں میں سے بھی ایران سے کچے تیل کی درآمد روکنے کی اپیل کررہا ہے۔ اس سے ایران پر چوطرفہ دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس کی کرنسی کمزور ہورہی ہے۔ امریکی مہم کے جواب میں ایران کے حکام نے خلیجی فرانس کے ناکے پر واقع ہوڈبرج جلڈمرو سے تیل بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ایران کی اس دھمکی کی وجہ سے دنیا بھر کے تیل بازاروں میں بے چینی ہے حالانکہ فوجی ماہرین ایران کے ذریعے تیل بند کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھا رہے ہیں لیکن امریکہ اور اس کے ساتھی پہلے ہی جلڈمروسینٹر بند کرنے پر سخت کارروائی کرنے کی وارننگ دے چکے ہیں۔ برطانیہ ۔فرانس کے جنگی جہازوں کے ساتھ امریکہ کا جنگی بیڑہ یو اے ایس ابراہم لنکن بغیر کسی مذاحمت کے خلیجے فارس میں داخل ہوگیا ہے۔ دنیا کے کل تیل پیداوار کا آدھا حصہ اسی راستے سے ٹینکروں تک لے جایا جاتا ہے۔ حالانکہ خلیج فارس میں ہورموزجلڈمرو سینٹر پر یہ پابندی عارضی ہے پھر بھی اس پابندی کی وجہ سے دنیا میں توانائی کی لاگت میں کافی اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایران نے اس سے کچا تیل خریدنے پر پابندی لگانے کے فیصلے کو پوری طرح سے غیر مناسب بتاتے ہوئے کہا کہ اسے جلد اس فیصلے کوواپس لینا پڑے گا۔ ایران نے یہ بھی صاف کیا کہ اس کے نیوکلیائی پروگرام توانائی ضرویارت کو پورا کرنے کیلئے ہیں اور وہ تمام پابندیوں کے باوجود جاری رہیں گے۔ دوسری طرف یوروپی یونین کا اعلان کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نیکولس سرکوزی ، جرمنی کی چانسلر انجیلا مارکل اور برطانوی وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ہمارا پیغام صاف ہے کہ ہماری ایرانی عوام کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے لیکن ایرانی لیڈر شپ اپنے نیوکلیائی پروگرام کو پرامن مقاصد کے بارے میں بین الاقوامی بھروسے کو بحال کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یوروپی لیڈروں نے کہا کہ ہم ایران کا نیوکلیائی ہتھیار حاصل کرنا منظور نہیں کریں گے۔ تینوں لیڈروں نے ایران کی لیڈر شپ سے اس کی حساس ترین نیوکلیائی سرگرمیوں کو فوراً بند کرنے اور اپنے بین الاقوامی تقاضوں کو پوری طرح تعمیل کرنے کی اپیل کی ہے۔ امریکہ کو اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ کہیں اس تنازعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل ایران پر حملہ نہ کردے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے پینٹاگن کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر براک اوبامہ وزیر دفاع لیون پینیٹا اور دیگر بڑے حکام نے اسرائیلی لیڈروں کو کئی ذاتی پیغامات بھیجے ہیں جس میں حملے کے سنگین نتائج کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔ اوبامہ نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو سے فون پر بات بھی کی ہے۔ کچھ دن پہلے تہران میں ایک بار بم دھماکے میں ایران کے ایک نیوکلیائی سائنسداں کی موت ہوگئی تھی ۔ ایران نے اس حملے کیلئے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ ایران کے ایک افسر نے اس حملے کے فوراً بعد کہا کہ دو لوگوں نے ایک موٹر سائیکل پر آکر جس طرح گاڑی کو میگنیٹک بم سے اپنا نشانہ بنایا وہ طریقہ ویسا ہی ہے جیسا پچھلے دو سال میں تین اور سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کے لئے اپنایا گیا تھا۔ ایران کی پارلیمنٹ میں 'امریکی مردہ باد ۔اسرائیل مردہ باد' کے نعرے لگے۔ ایران اور ان مغربی ممالک کے درمیان چل رہی کشیدگی ساری دنیا کے لئے خطرے کے اشارے ہیں۔ اگر تیل سپلائی متاثر ہوئی تو بھارت میں اس سے متاثر ہوسکتا ہے۔ ایران کی کوشش ہوگی کہ اگر لڑائی کی نوبت آتی ہے تو وہ اسرائیل سے جھگڑا مول لینا چاہے گا۔دوسری جانب امریکہ بھی اسرائیل کے ذریعے سے ایران پر حملہ کرواسکتا ہے۔ ایران کے نیوکلیائی پروگرام سے سب سے زیادہ خطرہ اسرائیل کو ہی ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر ایران کو ایک نیوکلیائی حامل ملک بننے سے روک سکتا ہے۔ اگر اسرائیل ایران کے خلاف کسی بھی طرح کی فوجی کارروائی کرتا ہے تو ممکن ہے مشرقی وسطی کے دیگر عرب ممالک ایران کا ساتھ دینے پر مجبور ہوجائیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پہلے سے ہی شورش زدہ مشرقی وسطی میں حالات اور زیادہ خراب ہوجائیں گے۔ امریکہ کی تو خیر یہ پالیسی پرانی ہے کہ عرب ممالک کے تیل ذخائر پر الٹے سیدھے بہانے بناکر قبضہ کرے امید کرتے ہیں یہ ٹکراؤ ٹل جائے۔America, Anil Narendra, Daily Pratap, Iran, Israil, Vir Arjun
31 دسمبر 2011
ایران پر حملہ کرنے کیلئے امریکہ تیار ہے
ایران اور امریکہ کے رشتے دراصل تب سے زیادہ خراب ہوئے ہیں جب سے ایران نے امریکی ڈرون جہاز گراکر اس کا کھلا مظاہرہ کیا۔ ایرانی ٹی وی نے دکھایا ہے کہ کس طرح ایرانی فوجی افسر آرکیو 170 سے ٹنیل ڈرون کا معائنہ کررہے ہیں۔ امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے ایرانی صدر مسٹر احمدی نژاد سے اپیل کی کہ وہ ڈرون کو لوٹادیں لیکن ایران اس کے لئے تیار نہیں تھا۔ اس کے بعد آیا یوروپی یونین کے ایران پر پابندی کا معاملہ۔ یوروپی یونین نے ایران کے متنازعہ نیوکلیائی پروگرام کی وجہ سے 180 ایرانی افسران اور کمپنیوں پر تازہ پابندیاں لگانے کا فیصلہ کرلیا۔ یوروپی یونین کے وزراء خارجہ کی حال میں برسیلز میں ہوئی میٹنگ میں ایران کے توانائی سیکٹر کو نشانہ بنا کر کچھ دیگر قدموں پر بھی اتفاق رائے ہوا۔ یہ پابندی اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے بعد لگائی جارہی ہے جس میں ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو نیوکلیائی ہتھیاروں کے فروغ سے جوڑا گیا تھا۔ برطانیہ نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ لندن سے ایران کے ساتھ سبھی سفارتی تعلقات کو فروغ دے رہا ہے ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا اگر اس کے نیوکلیائی پروگرام پر پابندی لگانے کے ارادے سے اس کے تیل درآمدات پر بین الاقوامی برادری نے روک لگائی تو وہ اسٹیٹ آف ہامرزکو بند کردے گا۔ ایران کی طرف سے یہ وارننگ دیش کے نائب صدر رضا رحیمی نے دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مغربی ممالک نے ایران کے تیل درآمدات پر پابندی لگائی تو پھر خلیجی ملکوں کو ایک بھی بوند تیل اسٹیٹ آف ہامرزنہیں کھلے گا۔ ایران دنیا کا چوتھا سب سے بڑا تیل سپلائی کرنے والا ملک ہے۔ تیل کی بکری سے ایرانی حکومت کو پیسہ اور پیسے سے سیاسی طاقت ملتی ہے اور ساتھ ہی نیوکلیائی پروگرام کو جاری رکھنے کے لئے ضروری مدد بھی ملتی ہے۔ بین الاقوامی برادری کو بھی ایران کی اس حکمت عملی کے بارے میں واقفیت ہے۔ اسی کے جاری رہتے یوروپی یونین کے وزراء خارجہ نے ایران کے تیل برآمدات پر پابندی لگانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ حالانکہ اسٹیٹ آف ہرمزبند کرنا ایران کے لئے آسان نہ ہوگا۔ خلیج میں ایران کے علاوہ اور بھی ممالک کے فوجی تعینات ہیں۔ایران کی دھمکی پر امریکہ نے سخت جوابی رد عمل ظاہر کیا ہے۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ آف ہرمز نہ صرف اس علاقے کی سلامتی اور استحکام کے لئے اہم ہے بلکہ یہ ایران سمیت خلیجی ملکوں کی معیشت کی زندگی کی ایک ریکھا بھی ہے۔ امریکہ کیلئے یہ راستہ بہت اہم ہے کیونکہ اسی راستے سے امریکہ تیل لے جاتا ہے۔ امریکی بحریہ نے کہا ہے کہ وہ اس کو برداشت نہیں کرے گا۔ ہرمز خلیج اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں بہرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کو بحر ہند سے جوڑتا ہے۔ ایران کی دھمکی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی فوج کے پانچویں بیڑے کے ترجمان نے کہا کہ ہم لوگ غلط نیت سے اٹھائے گئے کسی بھی قدم سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ تیل کے آمدو رفت کو جاری رکھنے کے لئے امریکہ خلیج میں اپنا جنگی بحری بیڑہ رکھتا ہے۔ اس سے پہلے امریکی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے کہا تھا کہ ایرانی دھمکی کا اہم مقصد ان کے نیوکلیائی پروگرام کے اصل اشو سے توجہ ہٹانا ہے۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Iran, USA, Vir Arjun
14 اکتوبر 2011
لاپتہ بھنوری دیوی معاملے میں عدالت کی سرکار کو پھٹکار
Published On 14th October 2011
انل نریندر
راجستھان ہائی کورٹ میں منگل کو بھنوری دیوی اغوا معاملے کو لیکر سرکاری رویئے پر سخت ناراضگی ظاہر کی گئی۔ بھنوری کے شوہر امیر چند کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کے دوران جسٹس گووند ماتھر و جسٹس ایم کے جین کی ڈویژن بنچ نے زبانی طور سے کہا کہ ایک خاتون کے غائب ہونے کی سرکار کو کوئی فکر نہیں ہے۔ ایسی کمزور حکومت تاریخ میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اگر کام نہیںکرسکتے تو چھوڑیں اور چلے جائیں۔ بنچ نے سرکار کی طرف سے اس معاملے کو سی بی آئی کو سونپے جانے کو لیکر اب تک کی کارروائی پر یہ رائے زنی کی۔ ڈویژن بنچ نے کہا ایک خاتون ایک مہینے سے غائب ہے اور حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ جنتا پولیس پر بھروسہ کھو چکی ہے۔ حکومت کو اپنی پولیس پر بھروسہ نہیں ہے۔ عدالت نے پولیس کی جانچ کی پیش رفت رپورٹ کو کوڑے دان میں ڈالے جانے لائق بتایا۔ ہائی کورٹ نے حکومت کے تئیں سخت رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ معاملے کی سی بی آئی جانچ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت ملزمان کو بچانے اور معاملے کے حقائق کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ معاملے کی جانچ رپورٹ روزانہ پیش کی جائے اور اس کی ہردن سماعت ہوگی تاکہ جانچ پر نگرانی رکھی جاسکے۔جودھپور کی نرس بھنوری دیوی یکم ستمبر سے لاپتہ ہیں۔ پولیس بھنوری دیوی کا ابھی تک پتہ نہیں لگا پائی ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں ابھی تک دو لوگوں کو گرفتار کیا اور ان سے گہری پوچھ تاچھ کی ہے۔ بھنوری دیوی کے اغوا کے دو ملزم پولیس کے ہاتھ ابھی تک نہیں لگ پائے۔ پولیس نے گجرات کے پالمپور علاقے سے اس جیپ کو بھی برآمد کرلیا ہے جس میں بھنوری دیوی کا اغوا کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں جودھپور ضلع کی بلاڑا مقامی عدالت میں بھنوری دیوی کے شوہرکے استغاثہ کی بنیاد پر وزیر ماحولیات مہیپال بھدیرناکے خلاف معاملہ درج کرنے کی ہدایت پولیس کودی تھی۔ بھنوری دیوی معاملے میں ایک اعتراض آمیز سی ڈی میںاہم کردار مانی جارہی ہے۔
اس سی ڈی میں کانگریس کے ایک ممبرا اسمبلی کے شامل ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس سی ڈی کو لیکر بھنوری دیوی کا اغوا کیا جانا پولیس مان رہی ہے۔ادھر منگل کو سی بی آئی نے بھنوری دیوی کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ وہ جانچ آگے بڑھائے گی۔ سی بی آئی کے ذرائع نے دہلی میں بتایا کہ پچھلے مہینے راجستھان حکومت نے اس معاملے میں جانچ سی بی آئی کو سپرد کرنے کے لئے مرکز سے درخواست کی تھی جس کے بعد یہ معاملہ اس نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور کیس درج کیا ہے۔ عدالت میں جب سرکاری وکیل کو لکھے گئے خط کی کاپی دی گئی تو اسے پڑھنے کے بعد بنچ نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہاسی بی آئی نے چھ ماہ کے لئے عمارت اور پیٹرول سمیت گاڑیو ں کے علاوہ دیگر سہولیات کا مطالبہ کیا ہے۔ عدالت چھ ماہ کیا چھ گھنٹے کے لئے انتظار نہیں کرسکتی ہے؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Iran, Iran Film Actress, Vir Arjun
22 جون 2011
افغانستان میں 10 سال پہلے امریکہ گھسا کیوں تھا؟
![]() |
| Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily |
22جون 2011 کو شائع
انل نریندر
افغانستان میں تیزی سے سیاسی حالات بدل رہے ہیں۔ امریکہ نے اب وہاں سے بھاگنے کے اقدامات پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ حالیہ دنوں میں دو خبریں ایسی آئی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں کچھ کھیل چل رہا ہے۔ پہلی خبر جو آئی تھی وہ یہ کہ بھارت سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سبھی 15 ممبردیشوں میں پابندیوں کے لحاظ سے ایک ایسی فہرست کو منظوری دی ہے جس میں طالبان اور القاعدہ کو الگ الگ نظریئے سے دیکھا جائے گا۔ اس کا مقصد طالبان اور افغانستان میں صلاح کرانے کی کوششیں بتائی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں سکیورٹی کونسل نے گذشتہ جمعرات کی رات مکمل اکثریت سے ریزولیشن پاس کئے ہیں۔ ان میں پابندیوں کو لیکر طالبان کے لئے القاعدہ سے الگ فہرست بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس اہم قدم کے بعد القاعدہ اور طالبان آتنکیوں کو الگ الگ پیمانوں میں تولا جائے گا۔ دوسرا واقعہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا یہ کہنا کہ امریکہ طالبان سے بات چیت کررہا ہے، اس بارے میں پہلی بار سرکاری طور پر توثیق ہوئی ہے۔ کرزئی نے کابل میں ایک کانفرنس میں کہا طالبان کے ساتھ بات چیت شروع ہوگئی ہے اور اچھی پیشرفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی فوجیں خاص کر امریکہ خود ہی بات چیت کرارہا ہے۔ امریکہ میں لیڈر شپ میں افغانستان میں جاری جنگ10 ویں سال میں داخل ہوگئی ہے اور وہاں پر لڑائی کے سیاسی حل کی آوازیں بھی تیز ہونے لگی ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی نے جو انکشاف کیا ہے وہ افغانستان کے لئے جتنا خطرناک ہے اتنا ہی امریکہ کے مفاد پرمبنی ہے اور یہ دوہرے پن کا ایک ثبوت بھی ہے۔ افغانستان کے خلاف امریکہ نے آخر جنگ کیوں چھیڑی تھی؟ جہاں تک ہم سمجھ سکے ہیں 9/11 حملے کے لئے القاعدہ اور طالبان کو ذمہ دار مانتے ہوئے انہیں سبق سکھانے کے لئے یہ جنگ چھیڑی گئی تھی۔ پچھلے10 برسوں میں پہلے تو امریکہ نے اسی طالبان حکومت کو اقتدار سے معذول کیا تھا اور اب وہی طالبان اسے اچھے لگنے لگے ہیں اور ان سے دوبارہ اقتدار سنبھلوانے کی تیاری ہورہی ہے۔ ہم صدر براک اوبامہ اور امریکہ کی مجبوری کو سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ اعلان کررکھا ہے کہ 2014 ء ادطعرتتک افغانستان سے امریکی فوج کی پوری واپسی ہونی ہے اس لئے اناً فاناً میں مسئلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں۔ اسی کے تحت طالبان سے بات چیت شروع کی ہے جو حالانکہ ابھی ابتدائی دور میں ہے۔ امریکہ کے کٹھ پتلی ادارے اقوام متحدہ نے طالبان اور القاعدہ پر اس لئے پرانا سسٹم روکتے ہوئے جو پیغام دیا ہے اس کا لب لباب یہ ہی ہے کہ اگر القاعدہ کا ساتھ چھوڑ کر طالبان افغانستان کا دوبارہ تعمیر نو میں معاون بنتا ہے تو اسے معافی دے دی جائے گی۔ ہمیں تھوڑا تعجب اس بات پر بھی ہوا ہے کہ آخر بھارت نے کیا سوچ کر سلامتی کونسل کے ریزولیشن پر اپنی مہر لگائی تھی۔ بھارت کی نظروں میں یہ طالبان ایک اچھی تنظیم بن گئی ہے جس سے بھارت کو اب کوئی خطرہ نہیں ہے؟ سوال یہ نہیں کہ طالبان کیسا ہے، سوال یہ ہے ایک آتنکی تنظیم جس نے اپنا ایجنڈا عام کردیا ہو، ا س سے آپ سمجھوتے کی بات کررہے ہوں وہ بھی بکواس شرطوں پر؟ معاملہ تو یہ ایک آتنکی تنظیم سے بات چیت کر امریکہ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے اس کے تمام فیصلوں کے پیچھے صرف اسکا اپنا مفاد ہوتا ہے۔ اسے اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کہ اس گھوٹالے کا بھارت، پاکستان، ایران ملکوں پر کیا اثر پڑنے والا ہے؟ نہ ہی اسے اب عالمی آتنک واد سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی کوئی سروکار۔ اس لئے بات چیت میں افغان سرکار کو شامل نہیں کیا گیا۔ خود افغانی مانتے ہیں کہ یہ انتہائی خطرناک قدم ہوگا اور ملک پھر2001 ء سے پہلے کے حالات میں چلا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا نقصان بھارت کو بھی ہوگا۔ بھارت کے ذریعے افغانستان میں جاری مختلف تعمیراتی اسکیموں کو جھٹکا لگے گا۔ اس سے کرزئی حکومت کی ساکھ اور طریقہ کار اور مستقبل پر نامناسب اثر پڑے گا۔ لیکن امریکہ کو ان سب سے کیا لینا دینا۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ ایک دہائی پہلے جو امریکہ ’وار آن ٹیرر‘ کا نعرہ دیکر افغانستان میں اس لئے داخل ہوا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کو وہ ختم کرسکے، آج وہ اسے نہیں آتنکیوں کے حوالے کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے تاکہ افغانستان سے اسے بھاگنے کا راستہ مل جائے؟
Tag: 9/11, Afghanistan, Al Qaida, America, Anil Narendra, Daily Pratap, India, Iran, Osama Bin Ladin, Pakistan, Security Council, Taliban, UNO, USA, Vir Arjun
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل
جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...

