Translater

‏Coup لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Coup لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

12 اپریل 2012

چین میں تختہ پلٹ کی افواہ سے لیڈر شپ میں کھلبلی

چین کی اندرونی حالت اتنی اچھی نہیں ہے جتنی دکھائی جاتی ہے۔ کچھ دن پہلے چین میں بغاوت اور تختہ پلٹ کی خبر آئی تھی۔ فوجی تختہ پلٹ کی خبر وں سے گھبرائی چینی لیڈرشپ نے ان سبھی رپورٹوں کو بلاک کردیا ہے جن میں مبینہ طور پر بتایا گیا تھا کہ چین میں تختہ پلٹ کی کوشش ہوئی ہے۔ الائنس کی رپورٹ کے مطابق راجدھانی بیجنگ کی سڑکوں پر ٹینکوں کے اترنے اور لیڈروں کے محفوظ کمپلیکس پر گولیاں چلنے کی خبروں پر امریکہ ۔ برطانیہ سمیت بین الاقوامی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے نظر رکھی جارہی ہے۔ رپورٹ میں جس عمارت کی بات کہی گئی ہے وہ چین کے سرکردہ سیاحتی کشش کا مرکز ''فوربڈن سٹی '' کے بالکل قریب ہے۔ چین کی مقبول مائکرو بلاگنگ سائٹ سینا ویجبو اور سرچ انجن ویدو کے بلیٹن بورڈ سبھی نے 19 مارچ کی رات کو بیجنگ میں رونما غیر معمولی واقعات کا ذکر کیا ہے۔ ان سائٹوں پر بھیجی گئے تبصروں میں کہا گیا ہے دیش کی شنگھائی لیڈر شپ کے گروپ کے زوال کے بارے میں افواہیں ہیں۔ شنگھائی لیڈر شپ گروپ اعلی سطح کے افسران کے لئے بتایا گیا ہے کہ جو شنگھائی ہب سے آتے ہیں اور جو روایتی طور سے پارٹی میں اصلاح پسندوں اور جدید نظریات حامیوں کا گڑھ رہا ہے۔ کچھ اور تبصروں میں دعوی کیا گیا ہے کہ فوجی تختہ پلٹ کی کوشش ہوئی ہے۔ کچھ دیگر رپورٹوں میں گولیاں چلنے اور تیانن من چوک کے قریب جگن اسٹریٹ پر سادی وردی میں سکیورٹی حکام کے جھنڈ دیکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ علاقہ 1989ء میں جمہوریت حامی مظاہرین کے قتل عام کا گواہ تھا۔ ان خبروں سے گھبرائی چینی حکومت نے اس طرح کی سبھی خبروں کو فوج کی انٹر نیٹ یونٹ کی مدد سے ہٹوادیا ہے اور اب انہیں نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان ویب سائٹوں میں لکھا گیا ''پریہ چین کی سرکار ، آپ ہمیشہ بے شکست نہیں رہ سکتے۔آج ویب سائٹوں کو ہیگ کرلیا گیا ہے کل آپ کا اقتدار گر جائے گا۔''
دراصل چین جو دنیا کو اپنی تصویر دکھاتا ہے حقیقت میں وہ تصویر ایسی نہیں۔ چین کے قومی دوس پر بیجنگ کے عام لوگوں کو گھروں میں قید کردیا جاتا ہے اور سڑکوں پر صرف وہی لوگ کھڑے کئے جاتے ہیں جو دکھنے میں خوبصورت ہوں اور انہیں ہدایت دی جاتی ہے کہ انہیں مسکرانا ہے چاہے وہ کتنے ہی تھکے کیوں نہ ہوں، تو کیا ہوا اگر اولمپک تقریب میں ایک چھوٹی سی بچی کے جذبات سے کھیلا جائے اور اسے محض اس وجہ سے اسٹیج پر گانے سے روک دیا جائے کیونکہ وہ دیکھنے میں اتنی خوبصورت نہیں۔اور اس کی جگہ ایسی لڑکی کوکھڑا کیا جائے جو دیکھنے میں پرکشش ہو۔ اس بچی کو صرف ہونٹ ہلانے ہیں آواز تو پیچھے سے آرہی ہے۔ چین کے کئی چہرے اور کئی نقاب ہیں، ہم جو دیکھتے ہیں اس میں سچائی کم اور چھل زیادہ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کے چین دنیا کی سب سے تیزی سے ابھر رہی معیشت ہے اور ایک دن دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت بھی بن سکتی ہے۔ لیکن چین کے چمکتے چہرے کے پیچھے کئی ایسے پوشیدہ راز ہیں جن کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں جاتی۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی اپنے اور اپنی پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو سختی سے دبا دیتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت چین میں ہی دی جاتی ہے۔ کسی بھی دیگر ملک سے کم سے کم تین گنا زیادہ ہیں یہ۔ 2008 ء میں کل 1718 لوگوں کو سزائے موت دی گئی تھی۔ یہ تعداد کم ازکم ہے کیونکہ اصلی تعداد تو کبھی سامنے آنے والی بھی نہیں ہے۔ حالانکہ کچھ چینی ماہرین مانتے ہیں کہ ہر سال کم سے کم 6 ہزار لوگوں کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے تو نہ تو کسی دیگر شخص کا قتل کیا ہوتا ہے اور نہ وہ ملک مخالف دشمنی میں ملوث پائے گئے ہوتے ہیں۔
یہ ہی نہیں نہ وہ آتنک وادی ہوتے ہیں لیکن وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے دیش میں جمہوریت دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو چین میں شہری حقوق کی آواز اٹھانے کی ہمت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک دن اچانک غائب ہوجاتے ہیں اور ان کے سبھی ریکارڈ ضائع کردئے جاتے ہیں یعنی اس نام کا شخص کبھی دنیا میں آیا ہی نہیں تھا۔ کٹر پسندی کی بنیاد پر ہوتی ہے غریب اور امیر کے درمیان امتیاز مٹ جائے، سب ایک ہوں، کوئی بھی شخص غریب نہ ہو، غیر سماجی عدم توازن نہ ہو، چین میں کمیونسٹ حکومت کو برسوں بیت گئے ہیں۔لیکن سماجی حالات آج تک ٹھیک نہیں ہوسکے۔1978 ء میں چین نے اقتصادی اصلاحات پروگرام اپنایا اور ایک طرح سے کٹر پسندی نظریات کو تلانجلی دے دی۔ اس کے بعد اس دیش نے تیزی سے اقتصادی ترقی کی اور اب قریب9 فیصدی ترقی شرح سال درسال پوری کی۔پورے اقتصادی اصلاحات پروگرام''اوپن ڈور پالیسی'' کا نام دیا گیا۔ کاروباریوں کے لئے دروازے کھول دئے گئے۔ عام طور پر توجہ اس بات کی طرف دی گئی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے۔
چین نے صنعتی انقلاب کے نام پر کئی ایسے قدم اٹھائے جس میں اس دیش کا سماجی توازن بگڑ گیا۔ کھیتی کی زمین کم ہوتی گئیاور قدرتی وسائل کم ہوتے گئے اور لوگوں کی اقتصادی حالت میں زیادہ پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ کیا یہ تعجب خیز نہیں ہے کے برسوں سے 9 فیصدی اقتصادی ترقی شرح حاصل کرتے آرہے دیش کے کروڑوں لوگ آج بھی دو وقت کی روزی نہیں جٹا پاتے۔ چین آج برآمدات پر منحصر ہے اور اس کی زیادہ تر برآمدات امریکہ سے ہوتی ہے۔ اگر امریکہ اپنے خرچوں میں کمی لاتے ہے اور درآمدات شرح کم کرتا ہے تو چین کی اقتصادی حالت کمزور ہوئے بنا نہیں رہے گی۔ چین میں پانی کی بھاری قلت ہے۔ چین میں 617 بڑے شہر ہیں اور ان میں سے آدھے شہروں میں پانی کی پوری طرح دستیابی نہیں ہے۔
راجدھانی بیجنگ میں بھی پانی کی قلت ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق مین لینڈ چین کا پانی کا فی شخص حصہ2700کیوبک میٹر سالانہ ہے جو ورلڈ کے تناسب سے ایک چوتھائی ہے۔ نارتھ چین میں اب پانی حاصل کرنے کے لئے زمین میں گہری کھدائی کی جارہی ہے۔ 10 ہزار برس پہلے جمع پانی چین کو پانی کی قلت سے کچھ حد تک بچاسکتا ہے لیکن اس سے چین زمین کے اندر دراڑیں آسکتی ہیں اور عدم توازن بڑھ رہا ہے۔ طاقتور رہے چین میں سب کچھ اب صحیح نہیں ہے۔ اب اس کی چمک کے پیچھے سیاہ راز چھپے ہیں۔ چین کے اندر حقیقی حالت اچھی نہیں ہے۔ اس کی صحیح جانکاری نہیں مل پاتی کیونکہ چینی حکومت ہر ایسی خبر ، رپورٹ کو دبا دیتی ہے جس سے نئی بے چینی اور فوجی تختہ پلٹ کا خطرہ ہو۔
Anil Narendra, China, Coup, Daily Pratap, Vir Arjun

06 اپریل 2012

ڈریس ریہرسل یا وارننگ و سازش؟

امسال جنوری کے مہینے میں کیا ہندوستانی بری فوج کے کچھ لوگوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کی تیاری کرلی تھی؟ ان فوجی ٹکڑیوں تختہ پلٹ کی نیت سے کیا باقاعدہ دہلی کو گھیرنے کے لئے مہم آگے بڑھا دی تھی؟ یہ ہیں کچھ برننگ سوال جو بدھوار کی صبح سے ہی راجدھانی میں موضوع بحث بنے رہے۔ دراصل انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے بدھوار کے شمارے میں ایک سنسنی خیز انکشاف سے ہلچل مچ گئی۔ ایڈیٹر شیکھر گپتا کی لکھی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کس طرح16-17جنوری کی رات حصار اور آگرہ سے فوج کی دو بڑی ٹکڑیاں دہلی کے لئے کوچ کرکے آگے بڑھی تھیں۔ تمام گولہ بارود سے مسلح انفینٹری برگیڈ کی ٹکڑیاں دہلی کے ایک دم قریب پہنچ گئی تھیں۔ کسی طرح صورتحال پر قابو پایا گیا۔ فوج کی حصار33 ویں ڈویژن کی ٹکڑی بہادر گڑھ آکر رک گئی اور یہاں سے آگے نہیں بڑھی۔ دوسری ٹکڑی آگرہ سے (12 ڈویژن) گولہ بارود اور ٹینکوں کے ساتھ پالم کے پاس آکر رک گئی۔ کیا یہ اتفاق تھا کے 16 جنوری کو ہی بری فوج کے جنرل وی کے سنگھ اپنی عمر کے معاملے کو لیکر سپریم کورٹ گئے تھے۔ انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ سے دہلی کے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچ گئی۔ ہلچل کہنا غلط ہے بلکہ کھلبلی بہتر لفظ ہوگا۔ سیاستدانوں کے خبر سنتے ہی طوطے اڑ گئے۔ سرکار کی جیسا کے عادت و مجبوری ہوتی ہے نہ رپورٹ کو سرے سے مسترد کیا اور نہ رپورٹ کو مانا کے بٹالینیں آگرہ اور حصار سے بہادر گڑھ اور پالم تک تو آئی تھیں لیکن یہ بھی کہا ہے کہ بری فوج کی سرگرمیاں عام ہیں۔ حالانکہ سرکار یہ نہیں بتا پارہی ہے کہ بری فوج نے ڈیفنس وزارت کی جانکاری میں لائے بغیر دہلی کے لئے کوچ کیوں کیا؟ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بدھوار کو کہا یہ رپورٹ ڈر پیدا کرنے والی ہے۔ ایسی رپورٹ پر زیادہ توجہ نہیں دی جانی چاہئے۔ فوج کے چیف اور سرکار کے درمیان جاری رسہ کشی کے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کے فوج کے چیف کا عہدہ بہت بڑا ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ایسا کچھ نہ کریں جس سے اس کے وقار پر آنچ آتی ہو۔
وزیر دفاع اے کے انٹونی نے فوج کی طرف سے کسی قسم کے تخت پلٹ کے ڈر کو پوری طرح سے بکواس قراردیا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ فوج ایسا کچھ نہیں کرے گی جس سے ڈیموکریسی کمزور ہو۔ انٹونی کے مطابق فوج کی دیش بھکتی پر سوال نہیں اٹھنے چاہئیں۔ ڈیفنس وزارت کے ترجمان نتانشو نے بتایا کہ فوج اس قسم کی مشقیں کرتی رہتی ہے اور سابق بری فوج کے جنرل وید پرکاش ملک نے کہا میں تو اسے ایک مضحکہ خیز رپورٹ ہی کہہ سکتا ہوں۔ یہ کسی کی شرارت لگتی ہے۔ میرا خیال ہے فوج کی مشقیں یومیہ ٹریننگ کا حصہ تھیں اور ڈیفنس وزارت کو اسے نوٹیفائی کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ سابق فوج کے چیف ایڈمرل پرکاش کا تبصرہ تھا صحافت کی یہ ایک بڑی ہی غیر ذمہ دارانہ مثال ہے۔ مجھے تعجب نہیں ہے کہ اس رپورٹ کو چھاپنے کا مقصد کیا ہوسکتا ہے۔ سابق ایئر فورس کے چیف ایئرمارشل ایس پی تیاگی نے کہا کہ رپورٹ پوری طرح غلط ہے اتنی ہی مضحکہ خیز۔ میں اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہوں گا۔
سی ادے بھاسکرجو ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انالسٹ ہیں کا کہنا تھا کہ جس طرح فوج نے دہلی کی طرف بڑھنے کے بارے میں خبر چھپی ہے اس سے اس کو مایوسی اور تشویش ہوئی ہے۔ جیسا کے فوج کی کوئی تختہ پلٹ کی اسکیم تھی۔ انڈین ایکسپریس کے ذریعے دی گئی یہ خبر غلط نہیں ہے۔ کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ فوجی ٹکڑیوں کی اس دن حرکت نہیں تھی۔ سبھی اسے جنرل مشقیں بتا رہے ہیں۔ یہ رپورٹ تشویش کا باعث ضرور بنتی ہے۔ ہمارے مطابق انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے بھروسے پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔ نہ تو شیکھر گپتا ایسی سنسنی خیز خبریں پھیلانے والے صحافی ہیں اور نہ ہی اخبار اتنا غیر ذمہ دار ہے، تو پھر 17-16 جنوری کو کیا ہوا؟ ایک ٹکڑی کے مشقیں کرنے کی بات سمجھ میں آتی ہے لیکن ایک دن دو مختلف شہروں سے تقریباً ایک ہی وقت دو ٹکڑیوں کی نقل و حرکت پر سوالیہ نشان کھڑے ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں کافی چھان بین کی گئی ہے ان کا نتیجہ یہ ہے کہ جنرل وی کے سنگھ ایک ایماندار اور وفادار افسر ہیں یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔ کیا یہ ایک ڈریس ریہرسل تھی؟ ویسے بھارت جیسے دیش میں سیاسی تختہ پلٹنا آسان نہیں۔ تختہ پلٹ کی کوئی بھی کوشش بری فوج کے دہلی ایریا کمانڈر کی جانکاری میں لائے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔
اگر بری فوج کوئی مشقیں کررہی ہے تو یہ دہلی ایریا کمانڈر کو پتہ ہونا چاہئے۔اس لئے دہلی کے ایریا کمانڈر سے اس بارے میں پوچھ تاچھ کی جانی چاہئے۔دیش میں کہیں بھی کسی طرح کی مشقیں کی جاتی ہیں تو اس کی پہلے سے جانکاری نہ صرف ڈیفنس وزارت کو ہونی چاہئے بلکہ سول حکام کو بھی پتہ ہونا چاہئے تاکہ عام زندگی متاثر نہ ہو۔ انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ سے ایک بات اور سامنے آئی ہے وہ یہ کہ فوج اور یوپی اے سرکار میں بھاری اختلافات ہیں۔ فوج میں اس سرکار کو لیکر بہت زیادہ مایوسی کا ماحول ہے۔ فوج اس لئے بھی ناراض ہے کے دہلی میں بیٹھے سرکاری بابو فوجی سامان کی سپلائی پر لاپروائی برتتے ہیں جس کی وجہ سے فوج کی اہلیت متاثر ہورہی ہے اور یہ سرکار گھوٹالوں سے نمٹنے میں اپنا سارا وقت گذار رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں سرکار دیش کی سلامتی سے سمجھوتہ کررہی ہے۔ اس مسئلے کے دونوں پہلو ہیں۔ فوج کی یہ سرگرمی عام اس لئے ہے کہ فوجی ڈویژن کی ہر تیسرے ماہ مشقیں ہوتی رہتی ہیں اور اس کی سرکار کو جانکاری دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ فوجی مشق کے کلنڈر میں اس بارے میں اطلاع درج تھی۔ 26 جنوری کی وجہ سے دہلی میں کئی ڈویژن پہلے سے ہی تعینات تھیں۔ ایک چھوٹی ٹکڑی سے تو دہلی پر قبضہ نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف یہ عام اس لئے ہے کے فوجی ڈویژن کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں جانے پر اطلاع دینی پڑتی ہے۔
عام طور پر مشق کے لئے دہلی کو نہیں چنا جاتا۔ 26 جنوری کی وجہ سے دہلی میں فوج کی موجودگی کے باوجود مشقوں کی اسکیم کیوں بنی؟ متعلقہ ڈویژن کے سینئر افسران نے اس کی حساسیت کو کیوں نہیں سمجھایا پہچانا؟ ایسے بہت سے سوال ہیں جن کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا۔ ہمارا تو یہ خیال ہے کہ 16 جنوری کی یہ موومنٹ عام مشقیں نہیں تھیں ہو سکتا ہے کہ سوئی حکومت کو جگانے کے لئے یہ جھٹکا دیا گیا یا پھر یہ کسی بڑے کام کے لئے ڈریس ریہرسل تھی۔
A K Antony, Anil Narendra, Coup, Daily Pratap, General V.k. Singh, Manmohan Singh, Vir Arjun

چنائو کمیشن اور وضاحت؟

چنائو کمیشن (ای سی)نے اسپیشل انٹینسورویژن (ایس آئی آر) کو لیکر اٹھے تنازع کے درمیان سنیچر کو میٹنگ بلائی۔اس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کم...