Translater

11 اپریل 2015

تاکہ جہیز انسداد قانون اذیت رکے، بیجا استعمال رکے

یہ اچھی بات ہے کہ مودی حکومت جہیز انسداد قانون میں کچھ ضروری ترمیم کرنے پر غور کررہی ہے۔ یہ وقت کا مطالبہ ہے۔ جب جہیز انسداد قانون بنا تھا تو اس کے پیچھے جہیز کے لالچیوں کو سخت قانون بنا کر بیویوں کو جو مارنے کا سلسلہ چل پڑا تھا اسے روکنا مقصد تھا۔جہیز سے وابستہ قتل تو رکے نہیں لیکن اس قانون کا وسیع پیمانے پر بیجا استعمال ہونا شروع ہوگا۔ فرضی شکایات کے چلتے جہیزاذیت انسداد قانون کے بڑھتے معاملوں کو دیکھتے ہوئے حکومت اس میں ترمیم کرنے جارہی ہے۔ اس سے جہیز ٹارچر انسداد قانون کا بیجا استعمال بند ہوسکے گا اور بے وجہ کوئی جیل نہیں بھیجا جائے گا۔ آپ اگر تہاڑ جیل جائیں تو وہاں پائیں گے جہیز اذیت انسداد قانون کے تحت درجنوں مرد اور عورتیں ، بزرگ بند ہیں ساتھ ہی مقدمے کے دوران میاں بیوی میں سمجھوتے کے ذریعے مسئلے کے حل کا متبادل مہیا کرایا جائے گا۔ ویسے تو اس قانون میں تبدیلی کی پہل تبھی شروع ہوجانی چاہئے تھی جب سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں صاف طور سے یہ کہا تھا کہ یہ قانون غصے والی خواتین کے ہاتھوں میں ایک ہتھیار کی طرح ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں رہ گیا تھا کہ اس قانون کا وسیع پیمانے پر بیجا استعمال ہورہا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق مرکزی کیبنٹ کی منظوری کیلئے دفعہ498A میں ترمیم کا ڈرافٹ نوٹ تیار کیا گیا ہے۔ آئینی کمیشن و جسٹس ملت کمیٹی کی تجویز کے مطابق عدالت کی رضامندی سے ایسے معاملوں میں سمجھوتہ ہوسکے گا۔ترمیمی بل کا ڈرافٹ تیار کر کیبنٹ کو بھیجے گا۔ اس کرائم کو معاہدہ لائق بنا دیا جائے تو شوہر اور اس کے رشتے داروں کے خلاف جہیز اذیت کے جھوٹے الزامات کے معاملوں میں زبردست کمی آسکتی ہے۔ فی الحال جہیز اذیت انسداد قانون غیر ضمانتی ہے اور اس میں سمجھوتے کی اجازت نہیں ہے۔ ملزم کی فوری گرفتاری ہوتی ہے۔ جھگڑالو فریقین کے درمیان دوبارہ ملن کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ قصوروار کو تین برس تک کی جیل کی سہولت ہے۔ مجوزہ ترامیم کے مطابق جہیز اذیت کا کیس جھوٹا پائے جانے پر 15 ہزار روپے جرمانہ لگے گا۔ ابھی یہ 1 ہزار روپے ہے۔ جرمانہ ادا کردینے کے بعد کسی ملزم کو جیل جانے سے چھوٹ مل جائے گی اور عدالت کی اجازت سے سمجھوتہ ہونے پر بیوی یا سسرالی فریقین اس پر عمل کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس قانون میں جہاں ضروری ترمیم ضروری ہے وہیں یہ بھی خیال رکھنا ہوگا کہ جہیز ابھی بھی ایک بڑی سماجی برائی بنا ہوا ہے اور لوگوں کے درمیان ایسا پیغام نہیں جانا چاہئے کہ جہیز مانگنے یا اس کے نام پر خواتین کا ٹارچر کرنے والوں کے تئیں کسی طرح کی نرمی برتی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اس قانون کا جس آسانی کے ساتھ بیجا استعمال ہوتا ہے اس کے انسداد کیلئے بھی موثر قدم اٹھائے جائیں۔ بہت سے ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں عورتوں نے شوہر اور سسرال والوں کو تنگ کرنے کیلئے جہیز انسداد قانون کا سہارا لیا ہے۔ جہیز قانون اپنی موجودہ شکل میں ایک ٹارچر قانون بن گیا ہے جس میں انصاف تو کم نا انصافی زیادہ ہورہی ہے۔ اس میں ترمیم انتہائی ضروری ہے۔
(انل نریندر)

باہری دہلی میں پھر گینگ وار کا اندیشہ

نجف گڑھ میں واقع ابھینندن واٹیکا میں سابق ممبر اسمبلی بھرت سنگھ کے قتل کی سازش کے ماسٹر مائنڈ ادے ویر سنگھ عرف کالے کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی ٹیم نے علی پور علاقے سے گرفتار کرلیا ہے۔ ادے ویر کے ساتھ اس قتل سانحہ میں شامل سنیل پردھان، سوبے پہلوان اور موہت ناگر کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ تینوں ادے ویر گروہ کے خطرناک شوٹر ہیں۔ پولیس نے ان کے قبضے سے 9 ایم ایم کی آٹومیٹک کار بائن ، 9 ایم ۔1 کی دو انتہائی جدید ترین پستول، 4 میگزین اور20 غیر مستعمل کارتوس برآمد کئے گئے ہیں۔ باہری دہلی میں دو دہائی سے بھی زیادہ وقت سے چلی آرہی گینگ وار کی وجہ سے بھرت سنگھ کاقتل کیا گیا۔90 کی دہائی میں کرشن پہلوان و انوب بلراج گینگ کے درمیان چل گینگ وار چل رہی تھی۔اسی گینگ وار میں سال2002ء میں ادے ویر عرف کالے کے والد سورج مل و اس کے بھائی سکھبیر سمیت تین لوگوں کو مار دیا گیا تھا۔ سکھبیر کے قتل کے وقت اس کا بیٹا ہیمنت سنگھ9 سال کا تھا۔ ادھر آہستہ آہستہ کرشن پہلوان کے گینگ نے انوب گینگ کے زیادہ تر لوگوں کو مار دیا تھا۔تبھی سے ادے ویر و ہیمنت کرشن پہلوان و بھرت سے بدلہ لینا چاہتے تھے۔ پولیس کی مانیں تو اس گینگ وار میں اب تک قریب تین درجن لوگ بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ بھرت سنگھ کے قتل کے بعد ایک بار پھر باہری دہلی میں گینگ وار کا آغاز ہوگیا ہے۔ 
نجف گڑھ ہی نہیں آس پاس کے علاقوں میں بھی دہشت کا ماحول ہے۔ انوب کے قتل کے بعد سے اس گینگ کا سرغنہ بنے منجیت سنگھ عرف مہال کے بھرت کے قتل میں شامل ہونے کی بات سامنے آگئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے منجیت نے اس میں زخمی ہوئے حملہ آوروں کا علاج کروایا اور انہیں محفوظ جگہ پر پہنچانے میں مدد کی۔ ایسے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ پھر سے پرانے گینگ آمنے سامنے آگئے ہیں۔ جون2012ء میں وکی، کلدیپ، ستیش، وریندر عرف بھولو، نوین، رویندر عرف مونو اور پدم ڈاگر نے بھرت سنگھ پر قاتلانہ حملہ بھی کیا تھا لیکن کئی گولیاں لگنے کے بعد وہ بچ گیا تھا۔ اس حملے کے زیادہ تر ملزم جیل میں بند ہیں۔ ادھر ہیمنت ہر حال میں اپنے والد کے قتل کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ ادے ویر نے ہیمنت سے بھرت کے قتل کا انتظام کرنے کے لئے کہاتھا۔ ادے ویر اور ہیمنت نے مل کر نئے لڑکوں کا انتظام کیا۔ واردات کو انجام دینے کے لئے ہتھیاروں کا انتظام کرنے کے بعد ہیمنت کے اپنے رشتے دار کی اسکار پیو گاڑی کا بھی انتظام کیا۔ واردات والے دن نتن اور مونو پہلے بائیک سے پہنچے باقی سبھی ملزم اناج منڈی ،نجف گڑھ کے پاس اکھٹا ہوگئے۔ ادے ویر گھر پر ہی موجود رہا۔ نتن اور مونو کا اشارہ ملتے ہیں ہیمنت و اس کے ساتھیوں نے واردات کو انجام دیا۔ بعد میں سبھی فرار ہوگئے۔ واردات میں ادے ویر اور ہیمنت کا نام سامنے آنے کے بعد اب گینگ وار کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
(انل نریندر)

10 اپریل 2015

یوم تاسیس پر بھاجپا بانیان کو ہی بھول گئی

ساؤتھ پنتھی آئیڈیالوجی کی حامی رہی بھارتیہ جن سنگ کی بنیاد پر6 اپریل 1980 کوقائم بھارتیہ جنتا پارٹی (بھاجپا) آج دنیا کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی بن چکی ہے۔ حال ہی میں قریب 10 کروڑ ممبر بنا کر پارٹی نے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ گذشتہ35 برسوں میں پارٹی نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں اور کبھی لوک سبھا میں محض دو سیٹیں پانے والی پارٹی آج مرکز کے اقتدار میں ہونے کے ساتھ ساتھ 13 ریاستوں میں حکومت میں سانجھے دار ہے لیکن ہمیں دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ پارٹی لیڈرشپ آج ان بزرگوں کو نظرانداز کررہی ہے جن کی بدولت پارٹی آج یہاں تک پہنچی ہے۔ پیرکے روز پارٹی نے اپنا 35 واں یوم تاسیس منایا۔ اس دوران پارٹی ہیڈ کوارٹر پر منعقدہ تقریب میں سینئر لیڈروں سمیت کئی ورکر بھی موجود تھے لیکن پارٹی کے بانیوں میں سے ایک لال کرشن اڈوانی نے پروگرام میں اس لئے شرکت نہیں کی کیونکہ انہیں بلایا ہی نہیں گیا تھا۔ بنگلورو میں ہوئی قومی ایگزیکٹو کی میٹنگ کے بعد سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی اور ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کو ایک بار پھر بے آبرو ہونا پڑا ہے۔انہیں پارٹی کے 35 ویں یوم تاسیس تقریب کے لئے دعوت نامہ ہی نہیں بھیجا گیا۔ دعوت نہ ملنے کے سبب پارٹی کے بانی رہے اڈوانی 35 سال کی تاریخ میں پہلی بار یوم تاسیس پروگرام سے دور رہے۔ وہ بھی تب جب پارٹی اس تقریب میں دنیا کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی بننے اور پہلی بار اپنے دم پر مرکز میں برسراقتدار آنے کے لائق اکثریت حاصل کر بڑا جشن منا رہی تھی۔ خاص بات یہ ہے کہ اس دوران تقریب میں پارٹی کے دوسرے سب سے بڑے لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی بھی نہیں دکھائی دئے۔ شری لال کرشن اڈوانی کا پارٹی لیڈر شپ سے ناراض ہونا واجب ہے۔ اگر پارٹی آج یہاں تک پہنچی ہے تو اس میں اٹل جی ، اڈوانی جی اور ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کا بہت بڑا اشتراک ہے۔ شری نریندر مودی اور امت شاہ نے تو پچھلے ڈیڑھ دو سال سے ہی پارٹی کی قیادت سنبھالی ہے لیکن 30 سال پہلے تو اڈوانی ، اٹل بہاری واجپئی اور جوشی نے ہی پارٹی کو سنبھالا اور بنایا۔ آج انہیں قومی لیڈر شپ نے ایسے باہر کیا ہے جیسے دودھ میں سے مکھی کو کیا جاتا ہے۔ آج پارٹی کو تین لیڈر چلا رہے ہیں نہ تو پارٹی میں اجتماعی لیڈر شپ ہے اور نہ ہی آج ورکر لیڈر شپ سے مل سکتے ہیں۔ ہر فیصلہ تین لیڈر مل کر کرتے ہیں اور اپنے ڈھنگ سے پارٹی و سرکار چلا رہے ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اڈوانی ان دنوں پارٹی کی سینئر لیڈر شپ سے خاصے ناراض ہیں کیونکہ لیڈر شپ کی طرف سے ان کا کردار ریٹائرڈ لیڈر کی طرح کردیاگیا ہے۔ بنگلورو میں یہ پارٹی کی تاریخ میں دوسری بار ہوا ہے کہ لال کرشن اڈوانی اسٹیج پر تو موجود تھے لیکن ان کا نام تقریر کرنے والے لیڈروں کی فہرست میں نہیں تھا۔ اس کا احساس ہونے کے بعد اڈوانی اسٹیج پربے دلی سے موجود رہے۔کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ انہیں ورکنگ کمیٹی میں بولنے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ نے اپیل بھی کی تھی لیکن تقریر دینے والے لیڈروں کی فہرست میں نام نہ ہونے سے وہ اس کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ بھاجپا کی موجودہ لیڈر شپ کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ سب کو ساتھ لیکر چلے۔یہ سیاسی پارٹی ہے کوئی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی نہیں ہے۔
(انل نریندر)

ورلڈ کپ میں ہار کا غم بھلا دے گا آئی پی ایل

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ذریعے آئی سی سی ورلڈ کپ 2015ء میں خطاب نہ بچا پانے کے سبب ہندوستانی کرکٹ شائقین کی مایوسی کچھ حد تک آئی پی ایل شروع ہونے سے کم ضرور ہوگی۔ انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کا آٹھواں ایڈیشن کرکٹ کا نیا مزہ لیکر دروازے پر دستک دے چکا ہے۔8 اپریل سے شروع ہوا آئی پی ایل کا آٹھواں ایڈیشن ہندوستانی کرکٹ شائقین کے لئے یقینی طور پر ورلڈ کپ میں ملی ہار کا غم بھلانے والا ثابت ہوگا۔ آئی پی ایل آٹھ میں حصہ لینے والی آٹھ ٹیموں نے بھی پوری تیاری کرتے ہوئے اس بار 67 نئے کھلاڑیوں کو اپنی نئی ٹیموں میں شامل کیا ہے اور ان پر 87,60,00000 روپے خرچ کئے ہیں۔ ان میں 24 کھلاڑی غیر ملکی ہیں۔ آئی سی سی ورلڈ کپ کے ٹھیک بعد 46 دنوں تک جاری رہنے والے ٹی ٹوئنٹی لیگ آئی پی ایل کے انعقاد پر سوالیہ نشان تو لگے لیکن کھلاڑیوں اور بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے لئے یہ پیسہ کمانے والے ذریعے کی شکل میں یقینی طور پر بیحد کامیاب رہے گا۔ اس سے پہلے 7 اپریل کو آئی پی ایل کا رنگا رنگ افتتاح ہوا۔بھاری بارش کے سبب کولکتہ کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں افتتاحی تقریب قریب ایک گھنٹے بعد شروع پائی۔ پروگرام کی شروعات رویندر سنگیت کے ساتھ شروع ہوئی۔اس کے بعد 8 ٹیموں کے کپتانوں نے اسٹیڈیم میں اینٹری کی۔ سب سے آخر میں آئی پی ایل سیزن 7 کی چمپئن ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرس کے کپتان گوتم گمبھیر آئے جبکہ سب سے زیادہ تالیاں مہندر سنگھ دھونی کی آمد پر بجیں۔47 دن چلنے والے اس آئی پی ایل کے موقعے پر منعقدہ پروگرام میں بالی ووڈ ستارے رتک روشن، شاہد کپور، انوشکا شرما، فرحان اختر وغیرہ نے ایسا زور دار پرفارمینس دیا کے سٹی آف جوائے کولکتہ خوشی سے جھوم اٹھا۔ اس پورے پروگرام کی اینکرنگ بالی ووڈ اداکار سیف علی خان نے کی۔ اس موقعے پر آئی پی ایل چیئرمین راجیو شکلا اور بی سی سی آئی کے چیئرمین جگموہن ڈالمیا بھی موجود تھے۔ کپتان گوتم گمبھیر کی ہاف سینچری اور نوجوان بلے باز سوریہ کمار یادو کی تیز طرار پاری سے موجودہ چمپئن کولکتہ نائٹ رائڈرس نے اپنے پہلے میچ میں ممبئی انڈینس کو 7 وکٹ سے ہراکر آئی پی ایل 8 کی اپنی مہم کی زور دار شروعات کی۔ بدھ کے روز کھیلے گئے اس میچ میں کے ۔کے۔ آر نے ممبئی کے کپتان روہت شرما کی شاندار پاری بھی بیکار گئی جو65 گیندوں پر 98 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ آخر میں یووراج کے والد یوگ راج سنگھ نے ایک بار پھر دھونی پر تنقید کی ہے۔ ٹیم انڈیا سے باہر چل رہے بائیں ہاتھ کے بلے باز یووراج سنگھ نے ٹیم انڈیا کے کپتان کول مہندر سنگھ دھونی کے بارے نے ایک بار پھر اعتراض آمیز بیان دیا ہے۔ یوگ راج سنگھ کے بیٹے یوو راج سنگھ کو ٹیم انڈیا میں شامل نہ کئے جانے کیلئے دھونی کو ذمہ دار مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا دھونی ایک نمبر کے مغرور ہیں۔ جس طرح سے راون کا غرور چور چور ہوا تھا اسی طرح سے ایک دن دھونی کا بھی غرور چور چور ہوجائے گا۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر وہ میڈیا میں ہوتے تو دھونی کو تھپڑ مار دیتے۔ حالانکہ بعد میں انہوں نے اس بیان کی تردید کی ہے۔
(انل نریندر)

09 اپریل 2015

بچوں کے سامنے والد کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا

سینٹرل دہلی کے علاقہ ترکمان گیٹ پر ایتوار کی رات بائیک ٹچ ہونے پر کار سواروں نے ایک آدمی کو اس کے بچوں کے سامنے پیٹ پیٹ کر مارڈالا۔متوفی کی شناخت شاہنواز حسین کے طور پر کی گئی ہے۔ ذرائع کی مانیں تو واردات کی جگہ کے پاس کھڑے پولیس والے محض تماش بین بنے رہے۔ اس بات سے ناراض لوگو ں نے جم کر ہنگامہ کیا اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرہ کرنے والوں میں کافی تعداد میں خواتین بھی تھیں۔ بھیڑ نے ملزمان کے گھر کے آس پاس کھڑی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دئے اور 6 بائیکوں کو آگ لگادی۔ دیررات پولیس نے قتل کا معاملہ درج کر ایک ملزم وسیم کو گرفتار کرلیا۔سبھی ملزمان کی گرفتاری کی مانگ کو لیکر متوفی کے خاندان والوں نے پیر کی صبح ترکمان گیٹ پر جام لگا دیا جس سے سینٹرل دہلی میں ٹریفک ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ لوگوں میں اس بات کا غصہ تھا کہ مٹیا محل کے ممبر اسمبلی و دہلی حکومت کے فوڈ و سپلائی وزیر عاصم احمدخان ایک پوسٹل میں ملزمان کے ساتھ نظر آرہے ہیں اور اسی وجہ سے پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کررہی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق جن لوگوں نے شاہنواز حسین کا قتل کیا ہے وہ علاقے کے دبنگ مانے جاتے ہیں۔ متاثرہ خاندان کے مطابق امین پہلوان کے18 بھائی ہیں اور ان کا کئی طرح کا کام ہے لیکن زیادہ تر بھائی بلڈر ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق علاقے میں دبدبہ بنائے رکھنے کیلئے اکثر کسی نہ کسی کی پٹائی کرتے رہتے ہیں۔ شاہنواز کی پٹائی کے دوران اس کے دونوں بیٹے موقعہ پر موجود تھے۔بڑا بیٹا فحاد امین پہلوان کے سامنے والد کو نہ مارنے کی التجا کررہاتھا لیکن ملزمان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ پھر فحاد ترکمان گیٹ پولیس چوکی کی طرف بھاگا وہیں دوسرے بیٹے نے اپنے دادا دادی کے گھر جاکر واردات کی اطلاع دی۔ خاندان والوں نے موقعہ واردات سے شاہنواز کو ہسپتال میں بھرتی کرایا لیکن شاہنواز بچ نہیں سکا۔ دہلی میں روڈ ریج کی بڑھتی تعداد باعث تشویش بنتی جارہی ہے۔ دہلی پولیس کنٹرول روم میں روزانہ روڈ ریج کے 10-12 واقعات کے بارے میں ٹیلیفون کال درج ہوتی ہیں۔ دونوں گاڑیوں کے بیچ معمولی ٹکر سے شروع ہونے والے روڈ ریج کے واقعات کئی مرتبہ اتنے بڑے ہوجاتے ہیں کہ کبھی کبھی کسی شخص کو اپنی جان تک گنوانی پڑ جاتی ہے۔ انٹرنیشنل جنرل آف سائنٹفک اینڈ ریسرچ پبلی کیشن کے ایک تحقیقی دستاویز کے مطابق دہلی میں روڈ ریج کے زیادہ تر واقعات مصروف ترین اوقات کے دوران ہوتے ہیں۔ 
روڈ ریج کے 96 فیصدی واقعات کار ڈرائیوروں سے دوسرے گاڑی ڈرائیوروں کے درمیان جھگڑے اور مار پیٹ کی بات سامنے آئی ہے۔ دستاویز کے مطابق روڈ ریج کے 42 واقعات کارسے ٹکرانے ، 33 فیصدی کار سے دو پہیہ گاڑیوں (اسکوٹروں) کی ٹکر کے چلتے ہوئے ہیں۔ وہیں کار۔بس ، آٹو و کار، ٹرک۔اسکوٹر اور ٹریکٹر ۔ کار کے درمیان روڈ ریج کے قریب4-5 واقعات ہوئے ہیں۔بھاری ٹریفک بھی روڈ ریج کی اہم وجہ ہے۔ سائیکلوجی کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ لوگ سب کچھ جلد پانا چاہتے ہیں ان میں صبر کی کمی ہے اوریہی کمی آئے دن دہلی و دیگر شہروں میں روڈ ریج کی وجہ بنی ہوئی ہے۔ لوگ تکنیک کے اس دور میں مکینائز ہوگئے ہیں اس وجہ سے حساسیت زیرو ہوگئی ہے۔ انہیں سڑک پر یہ دلچسپی نہیں ہے کہ وہ اسے جانتے ہیں یا نہیں بس غصہ نکالنا ہے اور اس دوران لوگ خود پر سے کنٹرول کھو دیتے ہیں۔ اس وجہ سے روڈ ریج کے واقعات ذرا ذرا سی کہا سنی سے گالی گلوچ اور اس کے بعد جان لیوا ثابت ہورہے ہیں۔ ترکمان گیٹ کے معاملے میں اگر وہاں کی چوکی میں تعینات پولیس ملازمین نے دیکھتے ہوئے بھی نظر انداز کیا ہے تو ان پر کارروائی ہونی چاہئے۔ بچے گڑ گڑاتے رہے اور وہ تماشہ دیکھتے رہے اور شاہنواز کو بچانے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔ روڈ ریج کے بڑھتے معاملے تشویش کا موضوع بنتے جارہے ہیں۔
(انل نریندر)

طلاق شدہ مسلم خاتون گزارہ بھتے کی حقدار:سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

طلاق شدہ مسلم خواتین کو لیکر سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے پھر سے صاف کردیا ہے کہ آئی پی سی کے دفعہ125 کو لیکر کسی طرح کا امتیاز نہیں ہوسکتا اور یہ طلاق شدہ مسلم خواتین پر بھی نافذ ہوتا ہے۔ جسٹس دیپک مشرا ،جسٹس پی ۔ سی۔ پنتھ کی ڈویژن بنچ نے کہا ہے کہ آئی پی سی کے دفعہ کے تحت مسلم خواتین اپنے سابقہ شوہروں سے گزارہ بھتہ پا نے کی حقدار ہیں ۔ جو بیویوں اور بچوں اور والدین کو یہی راحت دیتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کسی خاتون کا شوہر تندرست ہے اور وہ اپنی دیکھ بھال کرنے میں اہل ہے تو اسے اپنی بیاہتا بیوی کی بھی دیکھ بھال کرنی ہوگی۔ یہ قانونی طور پر جائز ہے۔ ڈویژن بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ قانون کی دفعہ کے تحت طلاق شدہ مسلم خواتین کو اپنے شوہرسے گزارہ بھتہ لینے سے روکا نہیں جاسکتا۔ حالانکہ اگر ایسی خواتین پھر سے شادی کر لیتی ہیں تو وہ اس حق سے محروم ہوسکتی ہیں۔
عدالت نے یہ بھی صاف کیا دفعہ125 کو صرف عدت میعاد تک کیلئے محدود نہیں کیا جاسکتا۔ ڈویژن بنچ نے آئینی بنچ کے سابقہ فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔ سپریم کورٹ نے کئی فیصلوں کا ذکر کیا جن میں یہ طے ہوا کہ ایک مجسٹریٹ طلاق شدہ مسلم خاتون کو معاوضے کی توثیق کر سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص ٹھیک ٹھاک وسائل ہوتے ہوئے بھی بیوی ،بچوں یا والدین کی دیکھ بھال سے انکار کرتا ہے یا نظر انداز کرتا ہے تو آئی پی سی کی دفعہ 125 بیوی ،بچوں اور والدین کو گزارے بھتے کا حکم دینے سے تعلق رکھتی ہے، ایک طلاق شدہ مسلم خاتون پر دفعہ125 نافذ ہونے کے اشو سے نمٹتے ہوئے بنچ نے نچلی عدالت کے اس حکم کو برقرار رکھا جس میں فوج کے نائک کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے شخص کو اپنی طلاق شدہ بیوی کو 4 ہزار روپے گزارا بھتہ دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ ڈویژن بنچ کو یہ جان کر دکھ ہوا کہ گزارہ بھتے کے لئے خاتون نے 1998ء میں درخواست دی تھی جس پر فیملی کورٹ فروری 2012ء تک کوئی فیصلہ نہیں کرسکی تھی۔ بنچ نے کہا یہ بھی حیران کر دینے والی بات ہے کہ انترم معاوضے کیلئے بھی کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ بڑی عدالت نے کہا کہ گزارہ بھتے کے لئے داخل درخواست کو جلد سے جلد نپٹانا چاہئے۔ ازدواجی تنازعوں کو دیکھنے کے لئے قائم کردہ فیملی کورٹ اس کے تئیں پوری طرح سنجیدہ ہوجائے۔سپریم کورٹ کے ذریعے اس معاملے کو صاف کردئے جانے سے مسلم خواتین کو فائدہ ہوگا۔ غور طلب ہے کہ شاہ بانو معا ملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس وقت کی راجیو گاندھی سرکار نے اس قانون کی دفعہ میں ترمیم کر طلاق شدہ مسلم خواتین کے اختیارات میں کٹوتی کردی تھی۔ اس وقت کی حکومت نے اس معاملے میں پارلیمنٹ میں ایک قانون بھی پاس کروا کر طلاق شدہ مسلم خواتین کو گزارہ بھتہ دینے سے متعلق اختیارات کو محدود کردیا تھا لیکن عدالت نے صاف کیا ہے کہ آئی پی سی کی دفعہ 125 کے تحت ٹھیک ٹھاک وسائل والا شخص اپنی طلاق شدہ بیوی کی دیکھ بھال سے انکار نہیں کرسکتا۔
(انل نریندر)

08 اپریل 2015

NUCLEAR DEAL BETWEEN IRAN AND SUPER POWERS

The world felt a sigh of relief with Iran and the mighty western countries striking a deal on Iran’s nuclear issue which continued to be a cause of tension for the last 13 years or so. The contention arose after the leakage of information on uranium enrichment beyond permitted limit from Iran’s nuclear plant at Natanz in 2002. During eight day long talks in Switzerland a road map of the deal on Iran’s contentious issue was agreed upon.  The talks on Iran Nuclear issue have reached close to a successful conclusion. A final agreement between P 5+1 member nations and Iran has since been emerged. The Foreign Ministers of the member nations met at Lausanne city in Switzerland on Sunday.  The five permanent members of the UN security Council- America, Russia, China, France & England and Germany were the one party and Iran herself was the other party in the talks.  After intense negotiations of many days Iran and USA along with other five super powers made this announcement.  A comprehensive nuclear deal is to be finalised before 30th June 2015. The expected comprehensive deal will stress upon restricting Iran’s nuclear programme and in return lifting certain international sanctions imposed on Iran.  During next ten years Iran will reduce the present quantum of centrifuge from 19 thousand to ten thousand and further to 6104 and 5600 centrifuge in a phased manner to bring down the two third of the present quantum. Iran will enrich only up to 3.67 percent of centrifuge required to generate nuclear power. As per the present capability Iran is in a position to develop the quantum of uranium required for a Nuclear Bomb within a period of three to four months but after coming in to force of the Comprehensive Deal Iran will take a year to develop the same quantity.  This arrangement would continue for the next ten years. The unutilized quantity of the centrifuge is supposed to be kept under the supervision of the International Atomic Energy Agency- IAEA.  The IAEA will inspect all nuclear reactors of Iran at regular intervals.  All nuclear centres will remain under the supervision of the IAEA for 25 years. The economic and oil sanctions imposed by USA and European Union will be lifted in a phased manner in return, in case Iran violates the conditions the sanctions could be re imposed on her.  On sanctions being lifted Iran will be able to sell large quantity of its oil in the international market. On Iran fulfilling all nuclear commitments specified in the comprehensive deal and the same being confirmed by the IAEA all nuclear sanctions imposed against Iran will be lifted. Further all UN resolutions in force against Iran in the past will also be dumped. America from last decade had even threatened Iran of an attack due to its nuclear programme. The tension escalated during the term of the former US President, George Bush.  The former President Bush was about to attack Iran.  The conditions improved during the tenure of Barak Obama which resulted in an atmosphere conducive to the talks.  Iran expressed flexibility up to some extent to reach an agreement whereas the western countries substantially changed their stand in order to reach on a point of mutual agreement.  US President Obama stated that all ways leading to the development of nuclear weapons by Iran will stand stalled in case the agreement is implemented in its true spirit.  The fear on the success of the deal is still there as the opposition in Iran and America are out to reject it. The Republican Party has stated its commitment to disallow the passage of the legal steps required for implementation of the deal in the Congress whereas the opposition leaders in Iran have accused the government of surrendering the nuclear sovereignty of the country.  The top leadership of both the sides will have to strive hard in getting public support on the nuclear deal.  We do hope that ultimately wisdom will prevail in both the countries. A peaceful resolution of the issue is in the interest of both Iran and Western countries further it would provide a sigh of relief to rest of the world.         

Anil Narendra

متنازعہ گجرات آتنک واد انسداد بل پھر پاس

دہشت گردوں اور مافیہ گروہوں کے صفائے کیلئے سخت قانون بنے اس پر شاید ہی کسی کو اعتراض ہو، لیکن منظم جرائم پر روک لگانے کے لئے کئی سخت نکات والے جس بل کو صدر جمہوریہ ماضی گذشتہ میں دو بار لوٹا چکے ہیں اور تیسری بار بھی ان کی منظوری کیلئے لٹکا ہوا ہے اسے چوتھی بار اسمبلی سے پاس کروا کر گجرات حکومت آخر کیا پیغام دینا چاہتی ہے۔ گجرات نے دہشت گردوں اور مافیاؤں پر لگام کیلئے جس سخت قانون کا نقشہ بنایا ہے اسے دیکھ کر ہر آدمی کو گھبراہٹ ہو سکتی ہے۔ گجرات نے 12 برسوں سے اس قانون کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے لیکن ہر مرتبہ معاملہ راشٹرپتی کے دروازے پر آکر اٹک جاتا ہے۔ ڈاکٹر اے ۔ پی۔جے عبدالکلام کے کے اعتراض کہ اس میں ٹیلی فون ٹیپنگ کو عدالت میں بطور ثبوت مان لینے کی شق پر تھا ، کیونکہ ہندوستانی ثبوت ایکٹ میں ٹیلیفون پر بات چیت کو ثبوت نہیں مانا جاتا۔ گجرات کنٹرول آف ٹریرازم اینڈ آرگنائزڈ کرائم (جی سی ٹی او سی)بل 2015 کے تحت پولیس کے سامنے ملزم کے اقبالیہ بیان کو قصور مانا گیا ہے۔ اس میں پولیس کو فون ٹیپنگ کرنے کا اختیار دینے اور ایسی ریکارڈنگ کو عدالت میں ثبوت کے طور پر منظور کیا گیا ہے۔ اسمبلی میں بحث کے دوران کانگریس لیڈروں نے ان شقات کو ہٹانے کی مانگ رکھی جن پر صدر جمہوریہ نے پہلے اعتراضات جتائے تھے۔ حالانکہ گجرات کے وزیر داخلہ رجنی کانت پٹیل نے کہا ہے کہ منظم جرائم سے نمٹنے کیلئے آئی پی سی اور سی آر پی سی کی موجودہ دفعات ناکافی ثابت ہوئی ہیں۔ یہ قانون پولیس اور انتظامیہ کو اتنے لامحدود اختیار دے رہا ہے جو کسی کے گلے نہیں اتر رہا ہے۔شبے کی بنیاد پر پولیس کسی کا ٹیلیفون سن سکتی ہے ، ریکارڈ کر سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر ثبوت کے طور پر پیش کرسکتی ہے۔ عدالتوں میں ثبوت کے طور پر اب تک یہ غیر تسلیم تھا۔دہشت گردوں اور منظم کرائم کے خلاف یہ سسٹم شاید کارگر ہو لیکن اس کا بیجا فائدہ اٹھا کر عام آدمی کی ذاتی زندگی میں بھی اگر سرکار کی دخل اندازی چلنے لگی تو بچائے گا کون؟ فون ٹیپنگ جیسے سنسنی خیز معاملے آچکے ہیں۔ اس میں پولیس اور انتظامیہ کو یہ ہتھیار سونپنا کیا آگ سے کھیلنا نہیں ہے؟ سابق صدر محترمہ پرتیبھا پاٹل نے پولیس افسر کے سامنے درج بیان کو ثبوت ماننے کی دفعات کو اعتراض آمیز بتایا تھا، کیونکہ پولیس کے سامنے بیان دباؤ میں ڈال کر بھی لیا جاسکتا ہے اس لئے آئی پی سی کی دفعہ کے تحت کسی مجسٹریٹ کے سامنے درج بیان کو ہی ثبوت مانا جاتا ہے۔ اس کے باوجود موجودہ بل میں دونوں شقات شامل ہیں اس میں چارج شیٹ دائر کرنے کی میعاد کو نجی مچلکہ پر رہا کرنے جیسی سہولیات بھی ہیں۔اگر یہ بل قانون بن گیا تو کسی کو بغیر الزام کے 6 مہینے تک جیل میں رکھا جاسکے گا اور اس کی رہائی بھی آسان نہیں ہوگی۔سامنتی ذہنیت والی پولیس ان شقات کے نام پر کچھ قہر ڈھا سکتی ہے کیا یہ بھی بتانے کی بات ہے ۔ اب ساری امید صدر سے ہی ہوں گی۔
(انل نریندر)

تاکہ دہلی کے شہریوں کو سستی بجلی مل سکے

گرمی آرہی ہے اور گرمی میں دہلی میں بجلی کا زبردست بحران کھڑا ہوجاتا ہے، گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے۔ سال در سال دہلی کے شہریوں کے گرمیوں میں پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ بجلی کی مانگ زیادہ ہوتی ہے اور سپلائی کم۔ بجلی تقسیم کمپنیوں کی مانیں تو بجلی کے صارفین کو نہ صرف بجلی کٹوتی سے چھٹکارا مل سکتا ہے بلکہ سستی بجلی بھی مل سکتی ہے لیکن اس کے لئے سرکار کو ان کی تجاویز ماننی ہوں گی۔ بجلی تقسیم کمپنی ٹاٹا پاور دہلی ڈسٹری بیوشن لمیٹڈ (ٹی پی ڈی ڈی ایل)نے کچھ تجاویز پیش کی ہیں جس سے بجلی سستی ہوسکتی ہے۔ سستی بجلی دستیاب کرانے کا وعدہ کر اقتدار میں آئی عام آدمی پارٹی کی سرکار کیلئے اسے نبھا پانا بڑا چیلنج ہوگا۔ فی الحال سرکار سبسڈی کے ذریعے 400 یونٹ تک بجلی خرچ کرنے والے صارفین کو50 فیصد سستی بجلی دے رہی ہے لیکن اس سے سرکاری خزانے پر بوجھ بڑھے گا اس لئے سرکار بجلی کے دام کم کرنے کے لئے کئی دیگر طریقے ڈھونڈ رہی ہے۔ بجلی کمپنی ٹاٹا پاور (ٹی پی ڈی ڈی ایل) نے دہلی سرکار کو ایک کھلے خط میں چار تجاویز بھیجی ہیں تاکہ صارفین پرمسلسل بڑھتے جارہے بجلی کے بل کا بوجھ کم کیا جاسکے۔ پہلی تجویز دہلی والوں کی بجلی کی مانگ پوری کرنے کیلئے این ٹی پی سی اور دیگر یونٹوں سے بڑا حصہ لیا جاتا ہے۔ کمپنی نے صاف کہا ہے کہ کمپنیوں سے ملنے والی یہ بجلی مہنگی ثابت ہورہی ہے جبکہ بازار میں اس سے بھی سستی بجلی دستیاب ہے۔ کمپنی این ٹی پی سی بدرپور سے6.04 روپے فی یونٹ اور این ٹی پی سی دادری سے 4.69 روپے فی یونٹ ، گیس پلانٹ دادری س 5.91 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خرید رہی ہے۔ ان سمجھوتوں کو ختم کر سستی بجلی خریدی جاسکتی ہے۔سستی بجلی ایک روپے سے1.20 روپے فی یونٹ پر دستیاب ہے۔ دوسری تجویز دہلی کی سانجھے داری سے چل رہے اراولی اور جھجھر پلانٹ کیلئے کوئلے کی کمی ہے۔ اس پلان کو دہلی نے متعلقہ ریاستوں کی مدد سے شروع کیا تھا۔ ان میں دہلی کی 50 فیصد حصے داری ہے اور 700 میگاواٹ بجلی دہلی کو آتی ہے۔اس سے مل رہی بجلی کی قیمت قریب 5.35 روپے ہے لیکن مکمل پیداوار ہونے کی صورت میں یہاں سے بجلی 2.46 روپے فی یونٹ پر دستیاب ہوگی۔ اس سے دام میں 60 پیسے فی یونٹ کی کمی ہوگی۔اس پلانٹ میں دو دیگر یونٹ بھی لگائی جانی ہیں۔ اس کے لئے پہل ہونی چاہئے۔اس کی مدد سے بجلی زیادہ دستیاب ہوگی اور مہنگی بجلی سے راحت ملے گی۔ تیسری تجویز دہلی کے گیس پلانٹ کے لئے دستیاب کرائی جارہی گیس کیلئے الاٹمنٹ کا تعین پھر سے ہونا چاہئے۔ ابھی دہلی کو جی ٹی282 میگاواٹ، پرگتی 320 میگاواٹ اور بوانا 137 میگاواٹ بجلی کے لئے گیس دی جاتی ہے۔ ان میں جی ٹی اور پرگتی پلانٹ پرانے ہیں۔ ان کی گیس کو بوانا پلانٹ کیلئے دستیاب کرایا جائے تاکہ گرمیوں میں پلانٹ کو 1500 میگاواٹ کی مکمل صلاحیت سے چلایا جاسکے۔ اس سے 6.30 پیسے فی یونٹ مہنگی بجلی سے راحت ہوگی اور صارفین پر بھی 30 پیسے فی یونٹ بجلی کا بوجھ کم ہوگا۔ اس سے سالانہ1700 کروڑ روپے کی راحت ٹیرف میں ہوگی۔ چوتھی تجویز نجی کرن کے بعد بجلی کمپنیوں کوقریب20 ہزار کروڑ روپے کا خسارہ ہے یہ خسارہ بھی صارفین سے ہی وصولہ جارہا ہے اس کے لئے صارفین کو 60 پیسے فی یونٹ کے حساب سے بھرپائی کرنی پڑ رہی ہے ۔ اگر اس کے لئے پانچ سال کیلئے کوئی پالیسی مقرر کردیتا ہے تو اس سے صارفین پر ہونے والا سود کا بوجھ کم کیا جاسکے گا۔ اس سے60 پیسے فی یونٹ کے حساب سے بچت ہوگی جسے صارفین کو لوٹایا جاسکتا ہے۔ اس سے صارفین کو بھی راحت ہوگی اور بجلی کی شرحیں بھی زیادہ بڑھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ پچھلے سال 5500 میگاواٹ تک بجلی کی مانگ پہنچ گئی تھی۔ دہلی میں بجلی کی مانگ جو اس سال 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے اب دہلی سرکار کو ان تجاویز پر غور کرنا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ ان میں سے کون کونسی تجویز مانی جا سکتی ہیں؟ کونسی تجاویز ممکن ہیں؟ ہم امید کرتے ہیں کہ عام آدمی پارٹی کی سرکار دہلی کے شہریوں کو 24 گھنٹے سستے داموں پر بجلی دستیاب کرائے گی جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہوا ہے۔
(انل نریندر)

07 اپریل 2015

ایران کا بڑی طاقتوں کیساتھ نیوکلیائی معاہدہ

پچھلے قریب13 سال سے کشیدگی کا سبب بنے نیوکلیائی اشو پر ایران اور مغرب کی بڑی طاقتوں کے درمیان معاہدہ ہونے سے دنیا نے راحت محسوس کی ہے۔ 2002ء میں ایران ناتنز نیوکلیائی ریئکٹر میں یورینیم کو منظور حد سے زیادہ افزودگی کرنے کی اطلاع افشاں ہونے پر یہ تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔ اس دوران سوئٹزرلینڈ میں آٹھ دنوں تک چلی بات چیت کے بعد ایران کے متنازعہ نیوکلیائی پروگرام پر سمجھوتے کے فریم ورک کو لیکر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ایران نیوکلیائی مذاکرات قریب قریب کامیابی کے انجام تک پہنچ گئے ہیں۔P5+1 کے ممبران ملکوں اور ایران کے درمیان حتمی اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ ممبر ملکوں کے وزرا ئے خارجہ ایتوار سے سوئٹزرلینڈ کے سلانے شہر میں اکھٹے ہوئے۔ اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممبر ملکوں امریکہ، روس، چین، فرانس اور انگلینڈ کے علاوہ جرمنی بات چیت کے حق میں ہے، جبکہ دوسرا فریق خود ایران ہے۔ کئی دنوں کی جدوجہد کے بعد ایران اور امریکہ کے ساتھ ساتھ دنیا کی دیگر پانچ بڑی طاقتوں نے اس کا اعلان کیا۔ نیوکلیائی پروگرام کو لیکر وسیع سمجھوتہ فریم ورک تیار کرنے کی میعاد 30 جون ہے۔ممکنہ طور پر سمجھوتے میں جہاں ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو محدود کرنے پر زور رہے گا وہیں بدلے میں ایران پر لگی بین الاقوامی پابندیوں میں ڈھیل دی جائے گی۔ ایران اگلے 10 برس میں مرحلے وار طریقے سے19 ہزار سینٹی فیوج کو گھٹا کر 10 ہزار اور پھر 6104 پھر5060 پر لے آئے گا۔یعنی دو تہائی سینٹی فیوج گھٹائے جائیں گے۔ ایران سے سینٹی فیوج محض 3.67 فیصد تک یورینیم کا انرچ کریں گے، جو بجلی پیداوار کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ موجودہ صلاحیت سے ایران ایک نیوکلیئر بم بنانے لائق یورینیم ۔تین سے چار مہینے میں تیار کر سکتا تھا، لیکن معاہدے کے بعد یہ وقت ایک سال تک کھنچے گا۔اسے10 سال تک برقرار رکھنا ہوگا۔ استعمال نہ ہونے والے سینٹی فیوجوں کو بین الاقوامی نیوکلیائی انرجی ایجنسی(آئی اے ای اے)کی نگرانی میں رکھا جائے گا۔ ایران کے سبھی نیوکلیئر سینٹرز کا یہ ایجنسی باقاعدہ طور سے معائنہ کرے گی۔ سبھی ری ایکٹر اگلے25 برسوں تک آئی اے ای اے کی نگرانی میں رہیں گے۔ بدلے میں امریکہ اور یوروپی فیڈریشن کے ذریعے نافذ اقتصادی اور تیل پابندیوں کو آہستہ آہستہ مرحلہ وار طریقے سے ختم کیا جائے گا لیکن اگر ایران شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر دوبارہ پابندی عائد کی جاسکے گی۔ پابندی ہٹنے سے بین الاقوامی سطح پر ایران اپنے تیل کو بڑے پیمانے پر فروخت کر سکے گا۔ اگر چہ شرائط کے مطابق ایران سبھی نیوکلیائی تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور آئی اے ای اے اس کی تصدیق کرتا ہے تو اس پر نافذ نیوکلیائی سے متعلق پابندیاں ختم ہوجائیں گی۔ اس کے خلاف ماضی گذشتہ میں نافذ اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل تجاویز کو ختم کردیا جائے گا۔ امریکہ نے پچھلی ایک دہائی سے ایران کے نیوکلیائی پروگراموں کے خلاف حملے تک کی دھمکی دے ڈالی تھی۔ امریکہ کے سابق صدر جارج بش کے عہد میں حالات بہت کشیدہ ہوگئے تھے۔ بش نے تو ایران پر حملے تک کی تیاری کر لی تھی۔ براک اوبامہ کے عہد میں حالات میں بہتری آئی اور بات چیت کے حالات بنے۔ ایران بھی رضامندی کیلئے کچھ نرم پڑا ہے اور مغربی ممالک بھی رضامندی کے پوائنٹ پر آنے کیلئے اپنے موقف میں تبدیلی کرنے پر کچھ حد تک راضی ہوئے۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے کہا کہ یہ سمجھوتہ ٹھیک سے لاگو ہوا تو وہ سارے راستے کٹ جائیں گے ، جن سے ایران نیوکلیائی ہتھیار بنانے کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ بہرحال ابھی بھی سمجھوتے کی کامیابی کو لیکر خدشات ہیں تو اس کی وجہ امریکہ اور ایران میں اپوزیشن کا اسے نامنظور کر دینا ہے۔ ری پبلکن پارٹی نے کہا کہ اسے لاگو کرنے کیلئے آئینی اقدامات کو وہ امریکی کانگریس (پارلیمنٹ) میں پاس نہیں ہونے دیں گے۔ ادھر ایران کے اپوزیشن لیڈروں نے سرکار پر دیش کی نیوکلیائی سرداری کوسرنڈر کرنے کا الزام لگایا ہے۔ دونوں فریقین کے سینئرلیڈروں کو اس کے لئے عوامی حمایت حاصل کرنی ہوگی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں میں آخرکار ضمیر کی جیت ہوگی اور پرامن حل ایران اور مغربی ملکوں کے مفاد میں تو ہے ہی باقی دنیا بھی راحت کی سانس لے گی۔
(انل نریندر)

بے موسم برسات نے بچی فصلیں بھی تباہ کردیں

کسانوں پر موسم کا قہر جاری ہے مسلسل ہو رہی بارش کے سبب پہلے سے ہی نقصان جھیل رہے کسانوں کیلئے جمعرات کی رات آئی آندھی و بارش مصیبت بن گئی۔ کھیتوں میں جو تھوڑی بہت فصل کھڑی تھی اس کو بھی تیز ہوائیں اڑا لے گئیں۔ کئی مقامات پر بڑے بڑے اولے بھی گھرے۔ اس سے ہزاروں پرندوں کی جان چلی گئی۔ اترپردیش میں 10 کسانوں کی صدمے سے موت ہوگئی جبکہ دیوار گرنے کے واقعات میں بھی 10 لوگوں کی جان چلی گئی۔ جھونپڑی پر کھمبا گرنے سے2 لوگوں کی موت ہوگئی۔ ادھر بنگال میں آلو پیدا کرنے والے کسانوں کی موت کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعرات کو ایک اور آلو کسان نے جان دے دی۔27 سالہ کسان پروین کمار لاہا انجینئرنگ چھوڑ کر کھیتی کے پیشے میں آیا تھا۔ دہلی این سی آر ، پنجاب، راجستھان اور ہریانہ میں بھی فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ مسلسل دوسرے دن جمعہ کے روز راجستھان کے کئی حصوں میں بارش و اولے گرے ہیں۔ پچھلے 20 دنوں میں یہ چوتھی بار ہے جب موسم قہر بن کر کسانوں پر ٹوٹا ہے۔ زالہ باری سے کھیتوں میں کھڑی فصلوں کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ جھالاواڑ کی موانی منڈی کے باہر کسانوں نے سنتراسڑکوں پر پھینک رکھا ہے۔ یہاں بارش کے سبب سنتروں میں کالی مسسی کا روگ لگ گیا ہے۔ 40 روپے کلو میں بکنے والے سنترے کو 3 روپے کلو میں بھی کوئی خرید نہیں رہا ہے۔ کسان انہیں سڑک پر پھینکنے کے لئے مجبور ہوگئے ہیں۔ ادھر مغربی اترپردیش میں بدلے موسم کا سب سے زیادہ اثر دیکھنے کو ملا۔ ایٹا اور قاص گنج میں بارش اور آندھی کے سبب گیہوں، جو، سرسوں، تمباکو کی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ فیروز آباد میں سینکڑوں پیڑ اور بجلی کی تاریں ٹوٹ گئی ہیں۔ مراد نگر ، رام پور، سنبھل اور امروہہ میں بارش نے کھیت میں کھڑی و کٹی فصل برباد کردی ہے۔ مدھیہ پردیش کے گوالیار میں بھی صدمے سے ایک کسان کی جان چلی گئی۔ ریزرو بینک کے 80 ویں یوم تاسیس پر وزیر اعظم بینکوں کے انسانی چہرے کو تلاشتے دکھائی دئے۔ مودی کی کوشش ہے کہ بینک مضبوط گارنٹی نہ ہونے پر ضرورت مند کسانوں کو قرض دینے سے منع نہ کریں اور حالات کو دیکھ کر ہی وصولی کا ایسا چابک نہ چلائیں کہ دوسرے ضرورتمند بینک سے قرض لینے کے بارے میں سوچ کر بھی سہم جائیں۔ مودی کی بینکوں سے جذباتی اپیل وزیر خزانہ اور ریزرو بینک کے گورنر کی موجودگی میں ایسے موقعے پر آئی ہے جب10 بڑے زراعت کفیل ریاستوں کے کسان بے موسم برسات اور زالہ باری سے اپنا سب کچھ گنو ا کر پائی پائی کو محتاج ہیں۔ مودی کی رائے میں کسانوں کی بدحالی سے بینکنگ سیکٹر کا ضمیر بھی بے چین ہونا چاہئے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کسانوں کی مدد کر بینک بند نہیں ہوجائیں گے اور بینکنگ سیکٹر میں فروغ کا ایسا سپنا ضرور دیکھا جانا چاہئے کہ کسی کسان کو قرض کے چلتے خودکشی کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ جنتا کے پیسوں سے ہی چلنے اور بڑھنے والے بینک صنعتکاروں اور فرضی کمپنیوں کو کروڑوں روپے کا قرض دینے کے لئے اس لئے سرگرم رہتے ہیں کہ اس میں ان کی بھی موٹی کمائی ہوتی ہے لیکن 10-5 ہزار کی قرض وصولی کے لئے غریب کسان کا ایسا جلوس نکالا جاتا ہے کہ دوسرے کسان بھی بینک سے قرض لینے میں سہمے لگتے ہیں ۔
(انل نریندر)

05 اپریل 2015

لیفٹیننٹ گورنر، اے ۔کے میں نئی جنگ

عام آدمی پارٹی کی سرکار کے قیام کو49 دن پورے ہوگئے ہیں۔ اروند کیجریوال نے اب دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔ اپنی پارٹی کے اندر تو اتھل پتھل چل ہی رہی ہے لیکن ساتھ ساتھ مرکزی سرکار اور ایل جی سے دہلی کے وزیر اعلی نے اپنی پوری دوری بنانا شروع کردی ہے۔ دہلی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کے درمیان ٹکراؤ مسلسل بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ دہلی صوبے کے لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلی کے درمیان اختیارات کو لیکر چھڑی سیاسی جنگ مسلسل پیچیدہ ہوتی جارہی ہے۔بھاری اکثریت سے حکومت میں آئے کیجریوال چاہتے ہیں پیرول کے معاملوں کو چھوڑ کر راج نواس جانے والی مرکزی حکومت کی ہرفائل وزیر اعلی دفتر سے ہوکر جائے۔انہوں نے اس معاملے میں راج نواس کو خط بھی لکھا ہے یہ اور بات ہے کہ کیجریوال کے اس مطالبے کو نہ تو وزارت داخلہ ماننے کو تیار ہے اور نہ اعلی افسران۔ دہلی حکومت کے ذریعے پچھلے مہینے پرنسپل سکریٹری (مالیات) ایس ۔این۔ سہائے کو نگراں چیف سکریٹری مقرر کیا تھا، لیکن راج نواس سے اس تقرری پر رضامندی نہیں مانگی گئی تھی، اس لئے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے بغیر ان کی رضامندی سے تقرری کرنے پرسنگین اعتراض ظاہر کرتے ہوئے وضاحت مانگی تھی۔ لیفٹیننٹ گورنر کے سخت رویئے سے دہلی حکومت سکتے میں آگئی اور وضاحت کا جواب دے دیا گیا۔ جہاں تک سرکاری فائلوں کو وزیر اعلی کے پاس پہلے بھیجنے کی مانگ ہے تو ذرائع نے بتایا کہ اگر وزیر اعلی کوئی فائل دیکھناچاہتے ہوں تو اس میں بھلا راج نواس کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ وہ چاہیں تو فائل دیکھ سکتے ہیں۔ آپ کو یاد دلا دیں مرکزی حکمراں ریاست ہونے کی وجہ سے دہلی میں سرکار کے اصل اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ کے ذریعے سال2002ء میں جاری ایک فرمان میں اسے واضح بھی کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی پولیس و زمین لا اینڈ آرڈر سے وابستہ فائلیں وزیر اعلی کے پاس نہ جاکرسیدھے لیفٹیننٹ گورنر کے پاس جاتی ہیں۔ وزیر اعلی کو اس پر اعتراض ہے اور انہوں نے باقاعدہ نجیب جنگ کو خط لکھ کر اعتراض درج کرایا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر سے ٹکراؤ مول لینا کیجریوال کی سمجھداری نہیں کہی جاسکتی۔ نجیب جنگ کا سخت رویہ کیجری حکومت کیلئے اچھا اشارہ نہیں مانا جاسکتا کیونکہ دہلی سرکار کو ابھی بڑے سطح پر انتظامی ردو بدل کرنا ہے اور کئی سطح پر بڑی تقرریاں بھی کرنی ہیں۔ردو بدل اور تقرریوں کا سلسلہ ابھی شروع ہواہی ہے کہ راج نواس سے رضامندی لیکر فیصلے کرنا کئی بڑی تقرریوں کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے لیفٹیننٹ گورنر کو خط لکھ کر اپنی ناراضگی جتائی کہ راج نواس وزیر اعلی کے عام کاموں میں مداخلت کررہا ہے۔ اس طرح دہلی کے نائب وزیر اعلی نے بھی سیدھے طور پر اپنی ناراضگی جتا دی ہے۔ یہ دہلی سرکار اور راج نواس کے درمیان تعلقات خوشگوار ہونے کے اشارے نہیں ہیں۔ اس کی اگلی کڑی میں وزیر اعلی نے زمین اور پولیس انتظامیہ سے متعلق فائلیں بھی مانگی ہیں۔ دہلی سرکار کے دائرہ اختیار میں زمین نہ ہونے سے اسکول، کالج و ہسپتال کے سینکڑوں پروجیکٹوں پر اثر پڑے گا۔ راج نواس اور دہلی سرکار کے درمیان دوری اور بڑھنے کے صاف اشارے دکھائی دے رہے ہیں۔
(انل نریندر)

کینیا کے کالج میں دہشت گردانہ حملہ،150 افراد کی موت

کینیامیں گیریسا یونیورسٹی کالج کمپلیکس میں ہوئے دہشت گردانہ حملے نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جمعرات کی صبح سویرے اسلامک آتنکی تنظیم الشباب کے دہشت گردوں نے کمپلیکس پر قبضہ کرلیا اور رات تک دہشت گردوں سے کمپلیکس کو آزاد کرایا جاسکا۔صبح قریب5 بجے کچھ مسلح دہشت گرد صومالیہ کی سرحد سے ملحق اس یونیورسٹی کمپلیکس میں تابڑ توڑ فائرننگ کرتے ہوئے گھس آئے تھے۔ آتنکیوں کی اندھا دھند فائرنگ میں 150 لوگوں کے مارے جانے اور 65 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زیادہ تر ان میں طلبا بتائے جاتے ہیں۔ رات میں کینیا کے حکام نے یونیورسٹی کالج کمپلیکس میں کارروائی پورا کرنے کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ چار حملہ آور دہشت گردوں کو ڈھیر کردیا گیا ہے۔ بڑی تعداد میں طالبعلم زخمی ہوئے ہیں۔ نقاب پوش بندوقچی اندھا دھند گولیاں چلاتے ہوئے کمپلیکس میں گھسے، ریڈ کراس(کینیا) کے مطابق حملہ آوروں نے طلبا میں مسلم اور عیسائیوں کو الگ کر عیسائیوں کو یرغمال بنا لیا۔ بعد میں دہشت گردوں کے ترجمان شیخ علی محمود رگے نے فون پر بتایا کہ مسلم طلبا کو چھوڑدیا گیا ہے لیکن کتنے عیسائی یرغمال بنائے گئے یہ نہیں بتایا۔ کالج کے ایک طالبعلم کالس ویتانگولا نے بتایا کہ بندوقچی شور مچاتے پھڑپھڑاتے ہاسٹل میں گھسے، وہ چلا رہے تھے چھپے ہوئے سبھی طالبعلم باہر آجائیں، چاہے مسلمانوں ہو یا عیسائی۔ اگر تم عیسائی ہو تو دیکھتے ہی گولی ماردیں گے۔ ہر دھماکے کے ساتھ مجھے لگا کہ میں تو مرا۔ تبھی کچھ سکیورٹی جوان کھڑکی کے راستے اندر گھسے اور مجھے اور میرے کچھ ساتھیوں کو باہر نکال لائے۔ گیریسا یونیورسٹی کالج 2011ء میں ہی کھلا ہے۔ علاقے میں اعلی تعلیم کیلئے یہ اکیلا یونیورسٹی کالج ہے۔ یہ صومالیائی سرحد سے محض 150 کلو میٹر دوری پر قائم ہے۔ دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے وابستہ الشباب 2011ء سے ہی کینیا میں دہشت گردانہ حملے کرتی رہی ہے۔ یہ کینیا کے ذریعے الشباب کے خاتمے کے لئے صومالیہ میں فوج بھیجنے کی مخالفت کررہے ہیں۔الشباب نے 2013ء میں نیروبی کے ایک مال پر بھی حملہ کیا تھا۔ اس میں 66 لوگ مارے گئے تھے۔ اس حملے نے پاکستان کے ایک اسکول پر حملے کی بھی یاد تازہ کردی ہے جس میں 140 سے زائد لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ مرنے والوں میں132 بچے تھے۔ گیریسا یونیورسٹی حملے کے پیچھے مطلوب دہشت گرد محمد محمود کا ہاتھ بتایا جارہا ہے۔ کینیا حکومت نے محمد محمود کے بارے میں اطلاع دینے والے کو دو کروڑ شلنگ (13366550 روپے) کا انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت داخلہ نے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ پر محمود کی تصویر بھی پوسٹ کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کینیا میں ہوا دہشت گردانہ حملہ خوفناک ہے۔ یونیورسٹی کے طالبعلموں کو اس طرح سے نشانہ بنانے کا واقعہ بہت پریشان کرنے والا ہے۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہ اسلامی دہشت گرد گروپ اب بچوں کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں۔ پہلے پیشاور اور اب کینیا کے طلبا۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکی مون نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے آتنکی حملہ بتایا ہے۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...