Translater

30 مارچ 2018

پہلے سے مضبوط لیکن اب بھی چیلنج برقرار

راجیہ سبھا کی 59 سیٹوں پر ہوئے چناؤ نے ایوان بالا راجیہ سبھا کی تصویر کو بہت حد تک بدل دیا ہے۔ نمبروں کے لحاظ سے این ڈی اے نے حالانکہ کانگریس پر بھاری بڑھت بنا لی ہے مگر اس کے باوجود یہ اتحاد اکثریت سے بہت دور ہے۔ اس چناؤ میں بھاجپا کو 14 مزید سیٹیں ہاتھ لگی ہیں جبکہ 245 ممبری راجیہ سبھا میں این ڈی اے کے ممبروں کی تعداد 76 سے برھ کر 92 ہو گئی ہے۔ بھگوا پارٹی راجیہ سبھا میں سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ پارٹی کے ممبران کی تعداد بڑھ کر اب 69 ہوگئی ہے لیکن اکثریت سے پارٹی ابھی کوسوں دور ہے۔ لیکن ایوان بالا میں بھاجپا اب پہلے کے مقابلہ میں بہترپوزیشن میں آگئی ہے۔ پارٹی انا ڈی ایم کے سمیت کچھ دیگر کانگریس پارٹیوں کو صاف کر بل پاس کرانے جیسے کام کاج آسانی سے نپٹا سکے گی۔ اس دوران اس کے لئے کانگریس کو کنارہ کرنا بھی اب پہلے کے مقابلہ میں آسان ہوگیا ہے۔ جمعہ کو ہوئے راجیہ سبھا چناؤ کے بعد بھاجپا کی جھولی میں 28 سیٹیں آئی ہیں۔ اس میں بھاجپا کو11 سیٹوں کا فائدہ ہوا ہے۔ کانگریس نے 10 سیٹوں پر جیت درج کی جبکہ پہلے اس کا ان میں سے14 سیٹوں پر قبضہ تھا۔ اس طرح پارٹی کو 4 سیٹوں کا نقصان ہوا ہے۔ 245 نفری ایوان میں اب بھاجپا کی سیٹیں بڑھ کر 92 ہو گئیں اور کانگریس کی سیٹیں گھٹ کر 54 سے 50 رہ گئی ہیں لیکن بھاجپا اور این ڈی اے دونوں ہی اکثریت سے دور ہیں۔ اکثریت کے لئے 123 سیٹیں چاہئیں۔ بھاجپا کو ابھی حال میں ایک اور جھٹکا لگا جب چار سال سے ان کی اتحادی جماعت تیلگو دیشم پارٹی نے اس سے ناطہ توڑدیا۔ ایوان میں اس وقت ٹی ڈی پی کے 6 ممبر ہیں۔ بہرحال کانگریس اور سماجوادی پارٹی جیسے اپنی بڑی اپوزیشن پارٹیوں کی تعداد میں گراوٹ سے بھاجپا خیمہ کافی خوش ہے۔ سپا کی جھولی میں صرف 1 سیٹ آئی ہے جبکہ ایوان میں اس کے 6 ممبروں کی میعاد اب ختم ہونے جارہی ہے۔ بھاجپا کے ذرائع نے بتایا کہ مودی سرکار اب ایوان میں پہلے کافی آسان پوزیشن میں تھی کیونکہ سرکار مخالف ایجنڈے پر انا ڈی ایم کے، پی آر ایس، وائی ایس آر کانگریس اور بی جے ڈی جیسی این ڈی اے کی باہر والی علاقائی پارٹیوں کی حمایت ملنے کا امکان ہے۔ درکار نمبر نہ ہونے کے سبب مودی سرکار کے ذریعے لائے گئے بل لوک سبھا میں پاس ہونے کے باوجود راجیہ سبھا میں آکر اٹک جاتے ہیں۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں کے متحد ہوجانے سے مودی سرکار کو بل پاس کرانے میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مودی سرکار کی میعاد 2019 میں ختم ہورہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ راجیہ سبھا میں اسے اب بھی کافی مشقت کرنی پڑے گی۔
(انل نریندر)

امریکہ سمیت 17 ممالک نے روس کے107 سفارتکار ملک بدر کئے

یہ دنیا میں پھر سے سرد جنگ شروع ہونے کی آہٹ ہے۔ امریکہ نے پیر کو روس کے 60 سفارتکاروں کو ملک سے نکال دیا ہے۔ ان میں سے 12 اقوام متحدہ میں معمور ہیں۔ اس کے بعد جرمنی، فرانس سمیت18 ممالک نے بھی روس کے 40 سفارتکاروں کو نکال دیا ہے۔ برطانیہ پہلے ہی 23 روسی سفارتکاروں کو نکال چکا ہے۔ برطانیہ میں سابق روسی جاسوس سرگئی اسکپل اور ان کی بیٹی یوریا کو زہر دے کر موت کی نیند سلانے کے معاملہ میں روس چوطرفہ گھر گیا ہے۔ اس معاملہ میں کئی ملکوں نے ایک ساتھ روس کے خلاف کارروائی کی۔ امریکہ سمیت 17 ملکوں نے روس کے 107 سفارتکاروں کو ملک بدر کردیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 60 روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کے ساتھ ساتھ جرمنی، فرانس، پولینڈ، اٹلی، نیدر لینڈ سمیت 14 یوروپی یونین کے ملکوں نے کل30 روسی سفارتکاروں کو نکالنے کے فیصلے سے ایک خوفناک تنازع و ٹکرار شروع ہوگئی ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے اپنے سفارتکاروں کے خلاف ہوئی اس کارروائی کے خلاف جوابی کارروائی کے سخت اشارہ دئے ہیں۔ وزارت نے بیان جاری کرکے کہا نیٹو اور یوروپی یونین ممالک کے ذریعے ہمارے سفارتکاروں کو نکالنے کے فیصلہ کی ہم سخت ملامت کرتے ہیں اور اس کے خلاف غیر دوستانہ قدم اٹھانے کو بھی مجبور ہیں۔ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کچھ دیش حالات سے واقف ہوئے بنا ہمارے خلاف کارروائی کررہے ہیں یہ قدم لڑائی کو بڑھائے گا اور ٹکراؤ کی سرگرمیاں پیدا ہوجائیں گی۔ ماسکو نے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ نے ہم پر بے بنیاد الزام لگائے ہیں۔ یہ ہمارے خلاف ایک طے شدہ اور جانبدارانہ اور کچلنے والا قدم ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور روس (سابقہ سوویت یونین) کے سیاسی اور اقتصادی مفادات کا ٹکراؤ شروع ہوگیا اور دونوں دیشوں کے بیش اثر بڑھانے کی دوڑ لگ گئی ہے۔ 1990 تک دنیا کے زیادہ تر دیش دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان بنٹے رہے۔ سوویت یونین کی تقسیم کے بعد جو سرد جنگ ختم ہوگئی تھی وہ پھر شروع ہونے جارہی ہے۔ اس کارروائی کے بعد روس اور مغربی ممالک کے ملکوں کے درمیان ایک سنگین سفارتی بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ روس کے خلاف برطانیہ کے ساتھ یوروپی ممالک اور امریکہ کا آنا زبردست اتحاد کا مظاہرہ ہے ۔ یہ ایسا وقت آرہا ہے جب بریگزٹ کے چلتے برطانیہ اور یوروپی یورپ میں کشیدہ تعلقات ہیں۔ 60 روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا مقصد بھارت جیسے دیش کو کئی پیغام بھیجنا ہی نہیں ہے جس کے ماسکو اور واشنگٹن کے ساتھ یکساں طور پر مضبوط رشتے ہیں ۔
(انل نریندر)

29 مارچ 2018

جنگ سے کم نہیں کرناٹک چناؤ

کرناٹک اسمبلی چناؤ کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ ہی تنازع بھی کھڑاہوگیا ہے۔ کرناٹک کی 224 اسمبلی سیٹوں کے لئے 12 مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔چناؤکمیشن نے کرناٹک اسمبلی چناؤ کی تاریخیں اعلان کرنے سے پہلے لیک ہونے سے تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ غور طلب ہے کہ بھاجپا کے آئی ٹی سیل کے چیف امت مالویہ نے چناؤ کمیشن کی طرف سے کرناٹک اسمبلی چناؤ کی تاریخیں اعلان کرنے سے پہلے ہی اس چناؤ کی تاریخیں ٹوئٹ کردی تھیں۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے اس پر کہا کہ بھاجپا سپر چناؤ کمیشن بن گئی ہے کیونکہ انہوں نے چناؤ کمیشن سے پہلے ہی تاریخوں کا اعلان کردیا۔ چناؤ کمیشن کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ کیا آئینی اداروں کا ڈاٹا بھی بھاجپا چلا رہی ہے۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آیا کہ بھاجپا آئی ٹی سیل کے چیف امت مالویہ نے ایسا کیوں کیا؟ اگر کسی بھی طریقے سے انہیں چناؤ کی تاریخوں کا پتہ بھی چل گیا تھا تو انہیں خاموش رہنا چاہئے تھا۔ خیرجو ہونا تھا وہ ہوگیا۔ کرناٹک چناؤ کسی جنگ سے کم نہیں دکھائی پڑتے۔ وزیراعلی سدارمیا نے لنگایت کو الگ مذہب کا درجہ دینے جیسا حساس ترین اور سیاسی فیصلہ کرکے اپنی منشا صاف کردی۔ وہ ہر پتہ آزمانے کو تیار ہیں۔ ایسے میں بھاجپا کے دو سینئرلیڈر الگ الگ مورچہ پر پیش بندی کریں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی جہاں پبلک ریلی کی ذریعے جنتا کو خطاب کریں گے وہیں امت شاہ نے زمینی سطح پر کمان سنبھال لی ہے۔ دراصل شاہ کانگریس کے لنگایت کا توڑ ڈھونڈنے کرناٹک پہنچے ہوئے ہیں۔ سدا رمیا کی قیادت والی کرناٹک کی کانگریس سرکار نے بی جے پی کے روایتی ووٹ بینک سمجھے جانے والے لنگایت ویر شیو فرقہ کو اپنے پالے میں لانے کے لئے انہیں مذہبی اقلیت کا درجہ دے کر مرکزی سرکار کے پاس ریزولوشن بھیجا ہے۔ اسے سدا رمیا کا ماسٹر اسٹروک مانا جارہا ہے۔ پیرکو بی جے پی کے صدر امت شاہ سب سے پہلے تمکور میں واقع سدگنگا مٹھ پہنچے اور وہاں شری شیو کمار سوامی کا آشیرواد لیا۔ سب سے اہم ترین لنگایت اور دلت فرقہ کے مٹھوں کا دورہ ہے جس کے سہارے شاہ ریاست کے ووٹرز کا من ٹٹولنے کرناٹک پہنچے تھے۔ مانا جارہا ہے کہ ان مٹھوں کی یاترا سے شاہ نہ صرف ریاست میں لنگایت اور دلت طبقہ کے گووروؤں کا رخ جانے گے بلکہ اس بات کا بھی پیغام دیں گے کہ ہر چناؤ کی طرح اس بار بھی لنگایت فرقہ کے ووٹر بی جے پی کو ہی اپنی حمایت دیں۔ غور طلب ہے کہ بی جے پی نے لنگایت فرقہ کے اسی ووٹ بینک کو دھیان میں رکھتے ہوئے ریاست کے سابق وزیر اعلی بی ایس یدی یرپا کو اپنا سی ایم امیدوار اعلان کرنا پڑا۔ یدیرپا لنگایت فرقہ سے آتے ہیں جسے ریاست کی تقریباً 100 سیٹوں پر فیصلہ کن ووٹ مانا جاتا ہے۔ کرناٹک میں اپنے چار روزہ جن آشیرواد یاترا کے آخری دن منگلوار کو کانگریس صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ آر ایس ایس دیش کے اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم مرکزمیں اقتدارمیں آئے تو موجودہ جی ایس ٹی کو پھر سے بنانے کی کوشش کریں گے اور ا س کی ایک محدود حد طے کریں گے۔ اتنا طے ہے کہ کرناٹک چناؤ جنگ سے کم نہیں ہوگا۔
(انل نریندر)

آتنکی فنڈنگ نیٹ ورک بے نقاب

اترپردیش کی اے ٹی ایس نے سنیچر کو بڑی کارروائی کرتے ہوئے لشکر طیبہ کے ناپاک ارادوں میں شامل 10 مددگاروں کو پکڑلیا ہے۔ ان میں سے 8 کو یوپی سے اور 1-1 کو بہار اور مدھیہ پردیش سے گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ سبھی آتنکی تنظیم کے لئے پیسہ اکٹھا کرنے کا کام کرتے تھے۔ آئی جی اے ٹی ایس اسیم ارون نے بتایا کہ گرفتار لڑکوں میں سے پرتاپ گڑھ کر سنجے سروت ،گورکھپور کا نسیم احمد، ریوا کا اما پرتاپ سنگھ پاکستان کے لاہور میں بیٹھے لشکر طیبہ کے ہینڈلر سے سیدھے رابطے میں تھے۔ یہ پاکستان سے ملنے والی ہدایت پر فرضی ناموں سے الگ الگ بینکوں میں کھاتہ کھولے ہوئے تھے۔ ان کھاتوں میں پاکستان ، نیپال اور قطر سے پیسے ٹرانسفر کئے جاتے تھے۔ اس کے بعد ہینڈلر کے ذریعے بتائے گئے بینک میں فرضی کھاتہ کھولے گئے۔ گرین کارڈ کے ذریعے یا پھر کیش نکال کر پیسے ٹرانسفر کرائے جاتے تھے۔اس کے بدلے میں ان لوگوں کوکمیشن ملتا تھا۔ آئی جی نے بتایا کہ انٹیلی جنس ان پٹ و سابقہ واقعات کی بنیاد پر معاملہ کی تفتیش کی جارہی ہے۔ گرفتار 9 لوگوں کو کورٹ میں پیش کر جیل بھیج دیا گیا ہے اور ریوا کے اوما پرتاپ کو پیر کو ٹرانزٹ ریمانڈ پر لکھنؤ لایا گیا۔ ان ملزمان کے پا سے 52 لاکھ روپے، بڑی تعدادمیں ڈیبٹ کارڈ، تین لیپ ٹاپ، 9 سوئپ مشین، میگنیٹک کارڈر یڈر اور ایک غیر ملکی پستول سمیت کئی دیگر سامان برآمد ہوئے ہیں۔ گرفتار لوگوں کے تار نیپال سے جڑے ہونے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ ا س میں نیپال کے کچھ شہری شامل ہیں جن کی تلاش میں بارڈر پر پولیس کو الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ آتنکی تنظیم سے وابستہ ماسٹر مائنڈ کرشی نگر کا رہنے والا ہے۔ یہ اپنا نام بدل کر رہتا تھا۔ مشرف انصاری نے اپنا نام نکھل رائے رکھا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے دوست اور قریبی بھی اسے نکھل کے نام سے ہی جانتے تھے۔ آئی جی نے بتایا کہ پہلی نظر میں غیرقانونی منی فلو کا ٹیکٹ لگ رہا تھا لیکن تفتیش میں اس کے تار سیدھے ٹیرر فائننسنگ گروہ سے جا ملے۔ انہوں نے بتایا ابھی تک صرف ایک سرا پکڑ میں آتا تھا لیکن اس معاملہ میں پوری چین پکڑی گئی ہے۔ پتہ چلا ہے کہ کہاں سے پیسہ آرہا ہے اور کہاں جارہا ہے۔ 50 سے زیادہ بینک کھاتوں کے استعمال کا پتہ چلا ہے جن کے ذریعے 1 کروڑ سے زیادہ کا لین دین ہوا۔ اس ٹیرر فنڈنگ گروہ کا پردہ فاش کر یوپی کی اے ٹی ایس مبارکباد کی مستحق ہے۔ آتنک واد میں فنڈنگ بہت ضروری ہوتی ہے اور اس کو روکا جائے تبھی دہشت گردی خود کم ہوجائے گی۔
(انل نریندر)

28 مارچ 2018

فوجی کیمپوں پر حملے اتنے عام کیوں ہوگئے ہیں

وزارت دفاع سے وابستہ پارلیمانی کمیٹی نے ایک کے بعد ایک کئی فوجی کیمپوں اور اداروں پر ہورہے مسلسل حملوں کو لیکر سرکار کی جم کر کھنچائی کی ہے۔ پارلیمنٹ میں دیوسمیتی کی رپورٹ میں سوال اٹھایاگیا ہے کہ فوجی اداروں پر آتنکی حملہ ہونا عام بات کیوں ہوگئی ہے؟ یہ رپورٹ ایسے وقت آئی ہے جب کچھ وقت پہلے جموں و کشمیر میں سنجواں آرمی کیمپ پر آتنکی حملہ ہوا۔ اس میں فوجیوں کے کنبوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملہ میں پانچ سکیورٹی جوان مارے گئے جبکہ تین آتنک وادیوں کو ڈھیر کردیا گیا۔ پارلیمانی کمیٹی نے اس حملہ کوکمزور سکیورٹی گھیرے کی ایک مثال قراردیا ہے۔ کمیٹی نے حیرانی جتائی ہے کہ وسیع حفاظت والے ملٹری کمپلیکس میں سیندھ لگانے میں آتنکی کامیاب کیسے ہورہے ہیں؟ جنوری2016 میں پٹھانکوٹ کے ایئر بیس پر آتنکیوں نے بزدلانہ حملہ کیاتھا۔کمیٹی کا ماننا ہے کہ اس حملہ سے بھی کوئی سبق نہیں لیا گیا۔ اس کے بعد فوجی کیمپوں کی قلعہ بندی کرنے کے لئے جو قدم اٹھائے جانے تھے اس سمت میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی۔ پٹھانکوٹ ایئربیس پر ہوئے حملہ کے بعد سرکار نے فوجی اداروں کی سکیورٹی کو چاق چوبند کرنے کے لئے اس وقت کے وائس چیف آف لیفٹیننٹ جنرل فلپ کمپوس کی رہنمائی میں ایک کمیٹی بنائی تھی۔ کمیٹی نے مئی 2016 میں اپنی رپورٹ وزارت دفاع کو سونپ دی۔ اس میں پایا گیا کہ کئی فوجی اداروں کی سکیورٹی میں خامیاں ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی نے اس بات پر تعجب جتایا کہ اس کمیٹی کی سفارشوں کو لاگو کرنے میں مہینوں لگ گئے۔ اس درمیان کئی فوجی کیمپوں پر آتنکی حملہ ہوتے رہے۔ سنجواں فوجی کیمپ پر حملہ کے کچھ دن بعد ہی وزارت دفاع نے سکیورٹی اداروں کی سکیورٹی مضبوطی کی خاطر 14900 کروڑ روپے جاری کئے۔ فوج نے کمیٹی کے سامنے اپنی بات رکھی۔ فوج کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہنے کوتو حکومت نے 14000 کروڑ روپے کیمپوں کی سکیورٹی پر خرچ کرنے کا حق دے دیا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ یہ پیسہ فوج کو ملے بجٹ میں سے خرچ ہونا ہے۔ایسے فوج کے پاس اپنی ضرورتوں کو نئے سرے سے طے کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ سکیورٹی گھیروں کو مضبوط کرنے کے سازو سامان کی خریداری کے لئے الگ فنڈ بنانے کی ضرورت ہے۔ فوجی کیمپوں کی سکیورٹی کے لئے صرف پالیسی کا اعلان کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ زیادہ فوجی گراؤنڈ پر تعینات کرنے کے بجائے ٹکنالوجی کا سہارا لینا ہوگا۔ فوجی کیمپوں کے آس پاس آبادی کے دباؤ بڑھنے پر توجہ دینی ہوگی۔ خفیہ ان پٹ بڑھانا ہوگا، نئی ٹیکنالوجی لانی ہوگی۔
(انل نریندر)

امریکہ کا گن کلچر اسے تباہ کررہا ہے

پورے امریکہ میں بندوقوں پر کنٹرول کرنے کی مانگ کو لیکر طلباء کی رہنمائی میں زبردست مظاہرے ہورہے ہیں۔ مارچ فار لاؤڈس کے بینر تلے ہورہے ان مظاہروں کا خاکہ پچھلے مہینے فلوریڈا کے ایک ہائی اسکول میں فائرننگ کی واردات کے بعد بنا تھا۔ اس واردات میں 17 بچوں کی موت ہوگئی تھی۔ بندوق کنٹرول کے سخت قانون کی مانگ کو لیکر 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے امریکہ کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ مارچ کا فلوریڈا ہائی اسکول کے نوجوان طالبعلموں نے قیادت کی۔ پارک لینڈ میں واقع آئی زوری اسٹون مین ڈگلس ہائی اسکول کے 17 سالہ طالبعلم کیمرون کاسکی نے واشنگٹن میں ایک زبردست ریلی میں کہا کہ نیتا یا تو لوگوں کی نمائندگی کریں یا باہر جائیں۔ نیویارک کے میئربل ایس بلاسیو نے کہا کہ شہر میں ریلی میں ایک لاکھ پچھترہزار لوگوں نے شرکت کی۔ ٹوئٹر پرلکھا کہ طالبعلم امریکہ کو بدل دیں گے لیکن سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ واشنگٹن میں ہوا جہاں منتظمین کے مطابق 8 لاکھ سے زیادہ لوگ جمع ہوئے تھے۔ نیویارک۔ واشنگٹن کے علاوہ امریکہ میں 700 سے زیادہ جگہوں پر مظاہرے ہوئے۔ تین سال پہلے اوریگن کالج میں 9 بچوں کے قتل کے بعد اس وقت کے صدر براک اوبامہ رو پڑے تھے۔ امریکی کانگریس کے 70 فیصدی ایم پی ہتھیاروں کے حمایتی تھے۔ لہٰذا اوبامہ بے بس رہے۔ وہیں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پچھلے مہینے فلوریڈا اسکول میں شوٹنگ سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات میں کہا تھا فائرننگ کے واقعات سے نمٹنے کے لئے ہر ٹیچر کے ہاتھ میں پستول تھما دیں گے۔ امریکہ میں بندوق مینوفیکچر لابی بہت طاقتور ہے۔ یہ ہتھیار لاریگن پالیسی متاثر کرتی ہے۔ بندوق صنعت کا ہر سال 2.5 لاکھ کروڑ روپے کا کاروبار ہے اور اس سے2.65 لاکھ لوگ جڑے ہوئے ہیں۔ 57 سال میں فائرننگ میں 15 لاکھ جانیں گئی ہیں۔ 2018 میں اسکولوں میں20 بار فائرننگ ہوئی۔ 9/11 کے بعد فائرننگ کے 400 سے زائد واقعات ہوئے جس میں زیادہ تر اسکول نشانہ بنے۔ بتا دیں امریکہ آئین کی دوسری ترمیم کے تحت خریدنے کو سرپرستی حاصل ہے اور ہتھیاروں کے حق میں کام کرنے والی تنظیم نیشنل رائفل ایسوسی ایشن طاقتور لوگوں کو متاثر کرنے میں اہل مانی جاتی ہے۔ امریکہ کے لچیلے بندوق قوانین کی وجہ سے وہاں بندوق کے خریدنے اوراسے ساتھ لیکر چلنا آسان ہے۔ امریکہ میں عام لوگوں کی طرف سے بے قصور پر گولی کے واقعات ہوئے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں طاقتور ہتھیاروں کی دستیابی سے سب سے زیادہ گھناؤنی وارداتیں سامنے آئی ہیں۔ پچھلے سال لاس ویگاس میں امریکی تاریخ کی سب سے بڑی زبردست فائرننگ کی واردات ہوئی تھی جس میں 58 لوگوں کی جان گئی تھی۔ اس کے بعد ایک بار پھر اس بار کچھ زیادہ پر زور طریقے سے وہ بحث ابھری ہے کہ امریکہ کہ بندوق قانون کیا اتنے لچیلے ہیں کہ وہ انسانیت کے نام پر بحران بنے ہوئے ہیں۔ 2017 کے ایک سروے کی مانیں تو قریب40 فیصدی امریکیوں نے مانا تھا کہ ان کے پاس بندوق ہے یا ان کے گھر میں کسی کے پاس بندوق نہیں ہے۔ امریکہ میں 2016 میں بندوقوں سے ہوئے قتل اور اجتماعی قتل عام میں 11 ہزار لوگوں کی موت ہوئی۔ دنیا میں بندوق سے ہوئے قتل عام سے 64 فیصدی اکیلے امریکہ میں مرے۔ دیکھیں کہ امریکہ میں ہورہے اتنے بڑے بڑے مظاہروں و احتجاج سے کیا امریکی گن کلچر پر ہوئی مثبت اثر پڑے گا؟
(انل نریندر)

27 مارچ 2018

سموسہ میں تو آلو رہے گا پر کیا راج نیتی میں لالو رہے گا

آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو کو چارہ گھوٹالہ سے جڑے ایک اور معاملہ میں سی بی آئی عدالت نے شنی وار کو اب تک کی سب سے بڑی سزا سنائی۔ اسپیشل جج شیو پال سنگھ کی عدالت نے لالو یادو کو 14 سال کی سزا سنائی ہے۔ اس 14 سال کی سزا ہونے کے بعد لگ بھگ طے ہوگیا ہے کہ بہار کے سموسہ میں تو آلورہے گا لیکن وہاں کی راجنیتی میں لالو نہیں رہے گا۔ لالو کو اب تک مختلف عدالتو ں میں ساڑھے 27 سال کی سزا ہوچکی ہے اور ایک کروڑ روپے کا جرمانہ۔ 1996 میں ہائی کورٹ کی ہدایت پر سی بی آئی نے لالو پر پہلا کیس درج کیا تھا۔ ابھی بھی ایک دو کیس بچے ہوئے ہیں۔ لالوبنا بہار کی راجنیتی میں اگلے کچھ دنوں تک کافی بدلاؤدیکھا جاسکتا ہے۔ جہاں تیجسوی یادو کے سامنے لالو کے بنا آر جے ڈی کا کنبہ ایک رکھنے کے ساتھ اسے بڑھانے کی چنوتی ہوگی وہیں این ڈی اے کے سامنے بھی اپنے ہی گھر میں اٹھا پٹخ کے درمیان کنبہ کو ایک رکھنے کی چنوتی سامنے آگئی ہے۔ لالو پرساد یادو کو اب تک سب سے بڑی سزا ہونے کے بعد آر جے ڈی نیتاؤں نے فوراً کہا کہ وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جائیں گے لیکن فی الحال جو کیس کی صورتحال ہے اس حساب سے لالو پرساد سے لمبے وقت تک جیل سے نکل پانا مشکل ہے۔ ابھی بھی ایک کیس میں سزا ملنے کے علاوہ دو اور کیس میں کورٹ کا فیصلہ آنا ہے۔ ان سب میں اگر لالو کو سزا ملتی ہے تو سب میں الگ الگ سزا ملے گی اور سب میں الگ الگ ضمانت لینی ہوگی۔ اس صورت میں لالو پرساد کو 2019 کے عام چناؤ سے پہلے ضمانت ملنا بیحد دشوار ہے۔ اگر ضمانت ملی تو وہ سپریم کورٹ سے ہی مل سکتی ہے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا لالو سیدھے طور پر پارٹی کی کمان تیجسوی یادو کو سونپ دیں گے؟ ذرائع کے مطابق اب پارٹی کی پسند اور مجبوری تیجسوی یادو ہیں۔ وہ اپ چناؤ کا ٹیسٹ بھی پاس کرچکے ہیں جس میں آر جے ڈی اپنی دونوں سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی تھی لیکن لالو کے سامنے ابھی تین طرح کی چنوتیاں ہیں۔ پہلی چنوتی اپنی پارٹی کے اندر سینئر لیڈروں مثلاً رگھوونش پرساد سنگھ ،عبدالباری صدیقی جیسوں کے ساتھ سمی کرن بنانے کی ہے۔ پچھلے دنوں منوج جھا کو راجیہ سبھا بھیج کر تیجسوی نے حالانکہ پیغام دیا تھا کہ ان کا پارٹی پر کنٹرول ہوچکا ہے لیکن اس کے بعد سب سے بڑی چنوتی اپنے کنبہ کو بڑھانے کی ہے۔ گٹھ بندھن کی گاڑی کو سنوارنے کی ہے۔ اب تک لالو یہ کام نبھاتے رہے ہیں یہ جگہ تیجسوی کے لئے بھرنا آسان نہیں ہوگا۔ بتادیں کہ یہ سزا کسی بھی بدعنوانی کے معاملہ میں کسی سابق وزیر اعلی یا وزیر کو ہوئی اب تک کی سب سے بڑی سزا ہے۔ لالو 69 سال کے ہوگئے ہیں لگتا ہے کہ ان کا بڑھاپا جیل میں ہی کٹے گا۔
(انل نریندر)

امریکہ۔ چین کی ٹریڈ وار

دنیا کی دو سب سے بڑی معیشت والے دیش چین اور امریکہ کے درمیان ٹریڈ وار چھڑنے کے امکانات سے ماہر معاشیات اور شیئر بازاروں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ امریکہ نے چینی آئٹموں پر 50 ارب ڈالر کے نئے درآمدی ٹیکس ٹھونکنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ ادھر چین نے بھی اس قدم کے خلاف سخت قدم اٹھانے کی وارننگ دے دی ہے۔ ٹریڈ وار کو اردو میں کاروبار کے ذریعے جنگ کہہ سکتے ہیں۔ کسی دوسری جنگ کی طرح اس میں بھی ایک دیش دوسرے پر حملہ کرتا ہے اور پلٹ وار کے لئے تیار رہتا ہے لیکن اس میں ہتھیاروں کی جگہ ٹیکسوں کا استعمال کرکے غیر ملکی سامان کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایسے میں جب ایک ملک دوسرے ملک سے آنے والے سامان پر ٹیرف ٹیکس بڑھاتا ہے تو دوسرا دیش بھی اس کے جواب میں ایسا ہی کرتا ہے اور اس سے دونوں ملکوں میں ٹکراؤ بڑھتا ہے۔ امریکہ کے راشٹرپتی ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے درآمد قریب 60 ارب ڈالر کی مصنوعات پر درآمد فیس لگانے کے آرڈر پر دستخط کرنے کے ساتھ عالمی ٹریڈ وار کا بگل پھونک دیا ہے۔ چین نے بھی اس کی مخالفت میں امریکہ کی128 مصنوعات پر درآمد ٹیکس لگانے کی بات کی ہے۔ چین نے سوور کے گوشت (پورک) اور پائپ سمیت دیگر امریکی مصنوعات پر بڑھی فیس نافذ کرنے کی اسکیم جاری کی۔ امریکی راشٹرپتی ڈونلڈ ٹرمپ مانتے ہیں کہ ٹریڈ وار آسان اور بہتر ہے اور وہ ٹیکس بڑھانے کے مدع سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ امریکہ کا قدم مبینہ طور پر کئی سالوں سے ہو رہی انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی چوری کے بدلے میں اٹھا رہا ہے کیونکہ چین پر انٹیلیکچوئل پراپرٹی چرانے یعنی مصنوعات کا بنیادی ڈیزائن اور وچار وغیرہ کی چوری کے بدلے میں کی جارہی کارروائی ہے۔ اس مار دھاڑ کی آشنکا کا اثر صاف صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ 23 مارچ کو ممبئی شیئر بازار کا عدداشاریہ قریب 410 پوائنٹ گر گیا یوں تو چین۔ امریکہ ٹریڈ وار میں بھار ت کا کہیں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بھارت عالمی کاروبار کا بہت چھوٹا کھلاڑی ہے۔ چین اور امریکہ بڑے کھلاڑی ہیں۔ چین کی مصنوعات سستی ہوتی ہیں اس لئے ان کا عالمی بازار ہے۔ امریکہ میں بھی وہ سستے پڑتے ہیں اس لئے وہ بکتے ہیں۔ ٹرمپ کو اس سے پریشانی یہ ہے کہ امریکہ میں لوگوں کے کاروبار پراس کا الٹا اثر پڑتا ہے۔اس کا ماننا ہے کہ چینی آئٹموں پر زیادہ ٹیکس لگا کر انہیں مہنگا بنا کر امریکہ میں چینی آئٹموں کی کھپت پر روک لگے گی۔ فطری ہے کہ دنیا کی دو سب سے بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان کی یہ جنگ اب دو طرفہ ہی نہیں کثیرطرفہ بازار کے انتظامات کو چنوتی دے رہی ہے جو1990 کے بعد سے عالمی بازاروں کو ریگولیٹ کرتی آئی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ امریکہ۔ چین اپنے اس ٹریڈ وار کو مل بیٹھ کر سلجھائیں گے۔
(انل نریندر)

25 مارچ 2018

عاپ کے20 ممبران اسمبلی کو ہائی کورٹ نے دی راحت

دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو آفس آف پرافٹ معاملہ میں چناؤ کمیشن کی سفارش پر صدر کے ذریعے ڈسکوالیفائی کئے گئے عام آدمی پارٹی کے 20 ممبران اسمبلی کی نا اہلی کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کردیا ہے۔ عدالت نے چناؤکمیشن کو نئے سرے سے اس معاملہ پر سماعت کرنے کو کہا۔ دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس چندرشیکھرکی بنچ نے کہا کہ عاپ ممبران اسمبلی کو نا اہل ٹھہرانے والا نوٹیفکیشن قانوناً صحیح نہیں تھا۔ ممبران اسمبلی کو نا اہل ٹھہرانے والے چناؤ کمیشن کی سفارش کو قصوروار مانتے ہوئے بنچ نے کہا کہ اس میں جوازی انصاف کے اصول کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ کمیشن نے ان ممبران اسمبلی کو دہلی اسمبلی کی ممبر شپ کے لئے نا اہل ٹھہرانے کی سفارش کرنے سے پہلے کوئی زبانی سماعت کا موقعہ نہیں دیا گیا۔ عدالت نے کہا چناؤ کمیشن کی طرف سے صدر کو 19 جنوری 2018 کو دی گئی رائے میں جوازی انصاف کے اصول کی تعمیل نہ کرنے کی وجہ سے قانوناً غلط اور حصول پر مبنی ہے۔ یہ معاملہ مارچ 2015 سے چل رہا ہے۔ جب اروند کیجریوال نے اپنے 21 ممبران اسمبلی کو پارلیمانی سکریٹری کے عہدے پر مقرر کیا تھا۔ اس کے مطابق دہلی میں پارلیمانی سکریٹری کو گھر ،گاڑی ،دفتر جیسی سہولیات مل سکتی ہیں۔ چناؤ کمیشن نے 19 جنوری 2018 کو پارلیمنٹری سکریٹری کے عہدہ کو آفس آف پرافٹ کا عہدہ مانتے ہوئے صدر رامناتھ کووند سے 20 ممبران اسمبلی کی ممبر شپ منسوخ کرنے کی سفارش کی تھی۔ چناؤ کمیشن کا کہنا تھا کہ یہ ممبر اسمبلی 13 مارچ 2015 سے 8 ستمبر 2016 کے درمیان آفس آف پرافٹ کے معاملہ میں نا اہل قرار دئے جانے چاہئیں۔ اس کے بعد 21 جنوری کو مرکزی سرکار نے اس بارے میں نوٹیفکیشن جاری کیاتھا اور اس فیصلہ کے خلاف 20 ممبران دہلی ہائی کورٹ پہنچے۔ آفس آف پرافٹ کا مطلب اس عہدے سے ہے جس پررہتے ہوئے کوئی شخص سرکار کی طرف سے کسی بھی طرح کی سہولت لے رہا ہو۔ اگر اس کے اصول اور تاریخ کی بات کریں تو اس کی شروعات برطانوی قانون ایکٹ آف یونین 170 میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس قانون میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص راجہ کے ماتحت کسی بھی عہدہ پر کام کرتے ہوئے کوئی سیوا لے رہا ہے پنشن لے رہا ہے تو وہ شخص ہاؤس آف کامن کا ممبر نہیں رہ سکتا۔ ہندوستانی آئین کی بات کریں تو آئین کی دفعہ 191(1A) کے مطابق اگر کوئی ممبر اسمبلی کسی فائدہ کے عہدہ پر پایا جاتا ہے تو اسمبلی میں اس کی ممبر شپ نااہل قرار دی جاسکتی ہے۔ اترپردیش سرکار میں آفس آف پرافٹ پر بنے رہنے کی وجہ سے سال2006 میں جیہ بچن کو اپنی راجیہ سبھا ممبری چھوڑنی پڑی تھی۔جیہ بچن نے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف عرضی ڈالی تھی اور کہا تھا کہ انہوں نے کسی طرح کی سہولت نہیں لی۔ عدالت نے ان کی عرضی خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مسئلہ پر سرکار کی قانونی پوزیشن صاف ہے جس کے مطابق اس سے فرق نہیں پڑتا ۔ آفس آف پرافٹ پر رہتے ہوئے کوئی سہولت لی گئی یا نہیں بلکہ اس میں اس سے فرق پڑتا ہے کہ وہ آفس آف پرافٹ کا عہدہ ہے یا نہیں؟ عاپ ممبران اسمبلی کے وکیلوں نے بڑی ہوشیاری سے ہائی کورٹ میں اس مسئلہ کو چھوا ہی نہیں انہوں نے تو اس بات پر اعتراض جتایا کہ ممبران اسمبلی کو چناؤ کمیشن نے بات رکھنے کا موقعہ ہی نہیں دیا۔ اس تکنیکی دلیل سے ہائی کورٹ متاثر ہوگیا اور اس نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ ابھی بھی آفس آف پرافٹ کا اشو طے ہونا چاہئے۔ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ چناؤ کمیشن کے لئے بڑا جھٹکا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کمیشن نے اسے اپنے لئے کوئی جھٹکا ماننے سے انکار کیا ہے۔ یہ رد عمل جھینپ مٹانے کی کوشش کے علاوہ کچھ نہیں۔ چناؤکمیشن کی غیرجانبداری پر سوالیہ نشان لگتا ہے ساتھ ساتھ چناؤکمیشن نے صدر کو بھی بیچ میں فضول گھسیٹ لیا ہے۔ اب چناؤ کمیشن کو نئے سرے سے ان ممبران اسمبلی کو چننا پڑے گا اور اس معاملہ کی سماعت میں لمبا وقت لگ سکتا ہے۔ تب تک نئے چناؤ ہوجائیں گے۔ کسی بھی طرح کے فیصلہ سے شاید فرق نہ پڑے۔ 
(انل نریندر)

گورودواروں میں لنگر سے جی ایس ٹی ہٹاؤ

بڑے دکھ کی بات ہے کہ گورودواروں میں جو لنگر ضرورت مندوں کو بغیر ذات یا غریب امیر کے امتیاز کے بغیر مفت کھلایا جاتا ہے اس پر بھی جی ایس ٹی لگتا ہے۔ پچھلے دنوں شرومنی گورودوارہ پربندھک کمیٹی کی طرف سے بتایا گیا کہ 7 ماہ میں اسے لنگر پر 2 کروڑ روپے تقریباً جی ایس ٹی کی شکل میں ادا کرنا پڑا ہے۔ اسی طرح دہلی گورودوارہ کمیٹی کا بھی کہنا ہے کہ اسے بھی اسی وقت لنگرپر 1 کروڑ سے زیادہ جی ایس ٹی ادا کرنا پڑا ہے۔ انہی اعدادو شمار کی بنیاد پر ان اداروں کے سربراہوں کے ذریعے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو خط لکھا اور ان سے ملاقات کر گورودواروں میں بانٹے جا رہے لنگر کو جی ایس ٹی سے مستثنیٰ کیا جائے۔ دوسری طرف مرکزی وزیر کی جانب سے یہ دعوی کیا جاتا رہا ہے کہ مندروں گورودواروں میں بانٹا یا کھلایا جانے والا لنگر جی ایس ٹی سے مستثنیٰ ہے۔ دونوں فریقین کے ذریعے کئے جارہے دعوؤں میں سے کسی بھی فریق کے دعوی کو غلط یا سچائی سے پرے قرار دیا جانا بہت مشکل ہے۔ ایسے میں اگر دونوں فریقین کے دعوؤں کو سنجیدگی سے لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ دونوں کسی نہ کسی وجہ یاتو غلط فہمی کی صورتحال بنی ہوئی ہے یا پھر ایک دوسرے کی بات کو سمجھ نہیں پارہے ہیں۔ واقف کاروں کا کہنا ہے کہ ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ لنگر جی ایس ٹی سے مستثنیٰ ہے جبکہ دہلی گورودوارہ کمیٹی اور دوسری کمیٹیاں اس بات سے انکار کررہی ہیں کہ جی ایس ٹی نہیں لگ رہا ہے۔واضح ہو کہ لنگر تیار کرنے کے لئے جس سامان آٹا، دالیں، گھی، مسالہ وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے اس پر انہیں جی ایس ٹی ادا کرنا ہی پڑتا ہے اس لئے گورودوارہ کمیٹیاں چاہتی ہیں کہ لنگر میں جس سامان کا استعمال کیا جائے اسے جی ایس ٹی سے مستثنیٰ کیا جائے۔ بتادیں امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں 1 لاکھ لوگوں کو لنگر میں کھانے کا موقعہ ملتا ہے۔ شری دربار صاحب میں جو بڑا دروازہ (درشنی پوڑی) اس سے پہلے ہی لنگر کی جگہ ہے جو اس مقصد کی طرف اشارہ ہے کہ گورو صاحب کے درشن کے لئے دربار کمپلیکس میں داخل ہونے سے پہلے گورو گھر کی روایت کے مطابق پہلے پنگھت میں بیٹھ لنگر کھانا ضروری ہے۔ ہم گورودوارہ کمیٹیوں کی مانگ کی حمایت کرتے ہیں اور سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ کوئی راستہ نکالے تاکہ گورو کے لنگر پر جی ایس ٹی نہ لگے۔
(انل نریندر) 

ایران نے خلیجی ملکوں پر حملہ کیوں کیا؟

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی جوابی کاروائی روایتی نشانوں سے آگے بڑھ گئی ہے ، اس نے خلیجی ملکوں میں مسلسل حملے کئے اور ی...