Translater

20 اگست 2016

سپا کی اندرونی رسہ کشی کہیں پارٹی کو نہ لے ڈوبے

اترپردیش اسمبلی چناؤ جیسے جیسے قریب آرہے ہیں حکمراں سماجوادی پارٹی کی اندرونی رسہ کشی کھل کر سامنے آتی جارہی ہے۔ ایک طرف ہے وزیر اعلی اکھلیش یادو تو دوسری طرف ان کے چاچا شیو پال یادو اور بیچ میں ہیں پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو۔ دراصل اکھلیش یادو سمجھتے ہیں کہ 2017 کا اسمبلی چناؤ سپا تبھی جیت سکتی ہے جب وہ ایک اچھی سرکار و انتظامیہ دیں اور ریاست کی ترقی کریں جو نظر بھی آئے لیکن ان کی راہ میں سب سے بڑا روڑا ان کے اپنے ہی کنبے والے ہیں۔ ملائم سنگھ کچھ بھی کہتے رہے ہیں کبھی کچھ شاید ان کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کیا بول رہے ہیں؟ سپاچیف نے ایک بار پھر یوپی کے وزیر اعلی اور اپنے بیٹے اکھلیش یادو کی موجودگی میں حکومت اور پارٹی کی شارے عام نکتہ چینی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکھلیش سرکار کے کئی وزیر کرپٹ ہیں وہ پارٹی کے لئے بوجھ بن چکے ہیں اور پارٹی کے بھی کئی لیڈر سازشوں میں لگے رہتے ہیں۔ یہ سب وہ پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں سپا کے صدر ملائم سنگھ یادو کے بھائی اور پارٹی کے ریاستی یونٹ کے صدر شیوپال سنگھ یادو نے ناجائز شراب کا کاروبار اور سپائیوں کے ذریعے زمین قبضہ نہ روکنے پر استعفے کی دھمکی سے تازہ رسہ کشی شروع ہوئی ہے اس پر ایتوار کو مین پوری اور پھر اگلے دن ایٹاوا میں شیو پال کے بیان کے بعد ہی یوم آزادی کے موقعہ پر ملائم نے دو ٹوک کہا کہ شیوپال کے ساتھ سازش رچی جارہی ہے۔وہ الگ تھلگ پڑ گئے تو سرکار مشکل میں آجائے گی ۔ اگر میں کھڑا ہوگیا تب سارے چاپلوس بھاگ جائیں گے اور سرکار کی ایسی کی تیسی ہوجائے گی۔ ملائم کے اس بیان نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ انہوں نے تو صاف طور پر کہا کہ پارٹی کے لوگ شیوپال کے بے عزتی کررہے ہیں۔ شیوپال کا یہ درد بھی دنیا کے سامنے آگیا ہے جب انہوں نے کہا افسران ہماری نہیں سن رہے ہیں۔ مانا جارہا ہے ملائم سنگھ کے ذریعے اتنے سخت الفاظ و رخ سے انہوں نے شیو پال کو منانے کی کوشش کی ہے۔ مگر اس طرح کے بیانات سے تو پارٹی کا کوئی بھلا نہ ہوگا اور نہ سرکار کا اور نہ ہی یوپی کی جنتا کا۔ حقیقت میں ایسے بیان پہلے سے ہی تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور کمزور سمجھے جانے والے وزیر اعلی کو اور زیادہ کمزور بناتے ہیں جس کا سیدھا اثر ان کی سرکار اور طریقہ کار پر پڑتا ہے۔ یوپی میں اگلے سال اسمبلی چناؤ ہیں ظاہر ہے کہ سپا بطور وزیر اعلی اکھلیش یادو کے کام کاج کو خاص اشو بنا کر ہی چناؤ میں اترناچاہے گی۔ ایسے میں اکھلیش کے ہاتھ مضبوط کرنے کے بجائے چاروں طرف سے ان پر حملے سے پارٹی کا بھلا ہونے والا نہیں ہے اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اکھلیش کی ٹانگ کوئی اپوزیشن نہیں کھینچ رہی ہے بلکہ ان کے خاندان والے ہی سرکار اور پارٹی کو ڈوبانے میں لگے ہوئے ہیں۔
(انل نریندر)

بڑھتے ڈرگ مسئلے کی زد میں پورا دیش

پنجاب ہی نہیں دیش کے مختلف حصوں میں نشیلی چیزوں کے استعمال و سپلائی کا مسئلہ ایک سنگین شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ حال ہی میں فلم ’’اڑتا پنجاب ‘‘ میں دکھایا گیاہے کہ کس طرح پنجاب کا نوجوان طبقہ اس لت میں پھنس چکا ہے لیکن یہ مسئلہ صرف پنجاب کا ہی نہیں بلکہ دہلی ،ممبئی جیسے بڑے میٹرو شہروں میں بھی سنگین بن گیا ہے۔ حال ہی میں نشیلی اشیاء کنٹرول بیورو (این سی بی) کی احمد آباد زونل یونٹ نے بڑودہ۔ ممبئی میں الگ الگ چھاپوں میں قریب60 کروڑ روپے کی نشیلی دوائیں ضبط کی ہیں۔ این سی بی کے ڈائریکٹر (احمد آباد) ہری اوم گاندھی نے بتایا کہ پچھلے ہفتے بڑودہ میں ڈالفن فارما اور ممبئی کے اندھیری میں واقع کی سے فارما کے کارخانوں پر چھاپہ ماری کی گئی۔ گاندھی نے بتایا کہ ہم نے مختلف نشیلی دواؤں کی 9 لاکھ گولیاں برآمد کی ہیں۔ ان کی قیمت بین الاقوامی بازار میں 50 کروڑ روپے ہے۔ ان دواؤں کو ناجائز طور پر رکھنے کے معاملے میں کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر کو گرفتار کیا تھا۔ اس خطرناک صورتحال کو جاگی مرکزی سرکار نے اب ریاستوں کو نئے سرے سے ڈرگس کے خلاف ایک جارحانہ اور ایک منظم کمپین چلانے کی پیشکش کی ہے۔ اس لحاظ سے انہیں تین مہینے کے اندر جائزہ لے کر پورا حکمت عملی پلان تیارکرنے کوکہا ہے۔ اس نئے کمپین میں سب سے زیادہ زور نشے کے کاروباریوں پر شکنجہ کسنے اور عام لوگوں میں بیداری لانے اور نشے کی لت میں پڑے لوگوں کا علاج کا انتظام کرنے پر ہوگا۔ مرکزی سماجی و انصاف و تفویض اختیارات وزارت کی جانب سے پچھلے جمعرات کو اس لحاظ سے 9 صفحات کی مفصل ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ 
سبھی ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کو بھیجی گئی اس ایڈوائزری میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ نشیلی دوا کا بیجا استعمال کے مسئلے کا حل کرنے کے لئے حکومت کو مختلف سطحوں پر مشترکہ کارروائی ضروری ہے۔ زمینی سطح پر کام کرنے کی ذمہ داری ریاستوں کی ہے۔ کچھ مہینے بعد پنجاب میں ہونے والے اسمبلی چناؤ میں نشے کا مسئلہ ایک بڑا اشو بن جائے گا۔ یہاں تک کہ اپوزیشن پارٹیاں پنجاب کی بھاجپا اکالی سرکار کے بہانے مرکز کو بھی نشانہ بنانے سے نہیں چوک رہی ہیں۔ ایسے میں سماجی انصاف و تفویض اختیارات تھاور چند گہلوت نے دیش بھر میں فوری طور پراس کے خلاف اسپیشل کمپین چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹروں میں علاج اور باز آبادکاری سروس کے اسٹنڈرڈ طے کئے جائیں گے۔ نشہ مکتی کے کام میں لگے اداروں کو آل انڈیا میڈیکل اینڈ سائنس (ایمس) اور نیشنل برین ہیلتھ اور اسنایو سائنس انسٹی ٹیوٹ جیسے مرکزی اداروں سے تکنیک کی مدد دستیاب کرائی جائے گی۔ یہ تشفی کی بات ہے کہ آخر کار مرکزی حکومت اس بڑھتے سنگین مسئلے سے نمٹنے کی تیاری کررہی ہے۔ لوگوں میں بیداری لانا بھی ضروری ہے۔
(انل نریندر)

19 اگست 2016

پاکستان نے جب بلوچستان پر زبردستی قبضہ کیا

وزیر اعظم نریندر مودی نے بلوچستان میں فوج کے دم پر انسانی حقوق کو دبانے کا اشو اٹھا کر نہ صرف پاکستان کی جموں و کشمیر میں بڑھتی سرگرمیوں کا سخت جواب ہی دیا بلکہ پاکستان کی کمزور نبض کو بھی چھیڑ دیا ہے۔ پلٹ وار سے تلملایا پاکستان اب بلوچستان کو لیکر ساری دنیا کے سامنے صفائی پیش کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ ایسے میں ہم قارئین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بلوچستان کا اشو ہے کیا؟ بلوچستان پاکستان کے ساؤتھ ویسٹ سمت میں بسا ہوا ہے۔ بلوچستان کی مغربی سرحدیں ایران اور افغانستان سے لگتی ہیں اس کے ساؤتھ میں عرب ساگر ہے۔ حدودربہ کے حساب سے یہ پاکستان کا آدھا ہے حالانکہ پاکستان کی کل آبادی کے محض3.6 فیصد لوگ ہی اس خطے میں رہتے ہیں۔ قدرتی وسائل سے بھرپور ہونے کے باوجود یہاں لوگوں کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ وہ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ بلوچستان کی گنتی پاکستان کے سب سے پسماندہ اور غریب علاقوں میں ہوتی ہے۔ ٹوٹے پھوٹے گھروں میں پانی ، بجلی تک نہیں ہے۔ بھارت۔ پاک بٹوارے سے پہلے انگریزی حکومت کے دوران بلوچستان چار ریاستوں میں بٹا ہوا تھا جنہیں کلات، لاسبیلا اور کھارن اور مکان کے نام سے جانا جاتا تھا۔ پاکستان بننے سے تین مہینے پہلے محمدعلی جناح نے کلات کے تحت پورے بلوچستان کی آزادی اور اس کے پاکستان میں انضمام پر انگریزی حکومت سے بات چیت کی تھی۔ جناح ، کلات کے خانوں اور وائسرائے کے درمیان کئی دور کی میٹنگ ہوئی ۔ 11 اگست 1947ء کو طے ہوا تھا کہ پاکستان کلات کو ایک آزاد اور مختار ریاست کے طور پر منظوری دے گا۔ ڈیفنس ، خارجہ اور ٹیلی کمیونی کیشن کے سارے فیصلے پاکستان ہی کرے گا، لیکن جناح کلات کو مختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ کلات کے خان دوسری ریاستوں کی طرح پاکستان سے انضمام کے لئے دستخط کریں۔ خان اس نقلی آزادی کے لئے تیار نہ تھے۔ فروری1948ء میں بلوچستان کو لکھے خط میں جناح نے کہا ’’میں آپ کو صلاح دیتا ہوں کہ اب بغیر دیری کے آپ کلات کو پاکستان میں انضمام کردیجئے‘‘۔ اس کا جواب خاں نے دیا کہ انضمام کے مسئلے پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (دارالعمرہ اور دارالعوام) کی میٹنگ بلائی گئی ہے جو رائے بنے گی آپ کو اس سے مطلع کردیا جائے گا۔ ادھر پاکستان نے امریکی سفیر کو 23 مارچ 1948ء کو بتایا گیا کہ کلات کے ماتحت آنے والے کھارن ،لاسبیلا اور مکران پاکستان میں انضمام ہونے کو تیار ہو چکے ہیں۔ خاں نے اس پر اعتراض جتایا۔ دلیل دی کہ یہ پاکستان کے ساتھ اسٹیڈسٹل سمجھوتے کی خلاف ورزی ہے۔ 26 مارچ 1948ء کو پاکستانی فوج بلوچستان کے ساحلی علاقوں پاسنی، زیوانی اور تربت میں داخل ہوگئی۔ اگلے ہی دن اعلان کردیا گیا کہ خان انضمام کو تیار ہوگئے ہیں۔ اس طرح پاکستان نے اپنی آزادی کے محض 227 دن بعد بلوچستان پر قبضہ کرلیا۔ حالانکہ بلوچستان کی پارلیمنٹ انضمام کے ریزولوشن کو خارج کرچکی تھی لیکن فوج کی طاقت پر پاکستان نے بلوچستان کو ہڑپ لیا۔ اس سے پہلے کراچی میں باقاعدہ بلوچستانی سفارتخانہ ہوا کرتا تھا جس میں وہاں کا جھنڈا لگا ہوا تھا اور ایک سفیر بھی معمور تھا۔ پاکستانی قبضے کے بعد سے ہی یہاں بغاوت کی آگ بھڑک رہی ہے۔ قبضے کے بعد سے ہی پاکستانی فوج یہاں جمی ہوئی ہے۔ بلوچوں کے سب سے بڑے لیڈر سردار اکبر بکتی 2006ء میں فوجی کارراوئی میں موت کے بعد یہاں یہ آگ تیز ہوگئی۔ پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ کیسے پاک فوج آئی ایس آئی اپنی کچلنے کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہورہی ہیں، انہیں بلا وجہ حراست میں رکھ کر اذیتیں دی جارہی ہیں ، ہزاروں لوگ نظر بند ہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں یہ سابق اپوزیشن لیڈر کاگھول علی بلوچ نے دعوی کیا ہے کہ چار ہزار سے زیادہ لوگ لا پتہ ہیں ان میں ایک ہزار سے زیادہ طالبعلم اور سیاسی ورکر ہیں۔ بلوچ نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے لیڈر سردار اختر مینگل کو دہشت گردی کے الزام میں 2006ء میں گرفتار کیا گیا جب وہ مشرف کے خلاف ریلی کرنے کا پلان بنا رہے تھے ۔ یہ ہے بلوچستان کی اصلی کہانی۔
(انل نریندر)

عوام کی خوشحالی کی قیمت پر دہشت گردی

کشمیر میں آگ لگانے کے چکر میں خود پاکستان دلدل میں پھنستا جارہا ہے۔ خود پاکستان معیشت پر ہونے والے نقصان کو لیکر ملک کے اندر کئی سروے جاری ہیں۔ پاکستان بزنس ریویو میں بعنوان ’’ دہشت گردی کے پاکستان کی اقتصادی ترقی پر اثرات‘‘ سے شائع ایک تحقیقاتی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح دہشت گردی پاکستان کو گھن کی طرح کھا رہی ہے۔ بدقسمتی تو اس بات کی ہے کہ پاکستانی حکومت اور فوج عوام کی خوشحالی کو بلی پر چڑھا کر دہشت گردی کو شے دینے سے باز نہیں آرہا ہے۔ 1990ء میں ایک پاکستانی کی خریداری کی بنیاد پر سالانہ اوسط آمدنی 3 ہزار ڈالر تھی اس وقت بھارت کی فی شخص سالانہ آمدنی محض1850 ڈالر ہی تھی لیکن اس کے بعد پاکستان بھارت کے خلاف دہشت گردی کو بڑھاوا دینے میں اس قدر مشغول ہوا کہ اس کی معیشت چوپٹ ہوکر رہ گئی۔ 2009ء کے آتے آتے بھارت۔ پاکستان کی فی شخص آمدنی یکسا ہوگئی۔ تازہ حالت یہ ہے کہ جہاں ایک شخص کی خرید صلاحیت کی بنیاد پر بھارت کی فی شخص آمدنی 5630 ڈالر سالانہ ہوگئی ہے وہیں پاکستان 5090 ڈالر پر پیچھے چھوٹ گیا ہے۔اسی طرح خط افلاس کی زندگی بسر کرنے والے لوگوں کا معاملہ ہے۔ 1990ء میں پاکستان کی صرف 17 فیصد آبادی خط افلاس کی زندگی گزر بسر کیا کرتی تھی 1993ء میں 33 فیصدی آبادی خط افلاس کی زندگی سے نیچے پہنچ گئی ہے۔ اس وقت پاکستان کی 43فیصدی سے زیادہ آبادی خط افلاس کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف پاکستان دہشت گردی کو بڑھاوا دیتا ہے وہیں خود دہشت گرد ی سے نمٹنے کے لئے نئے نئے قانون بنا رہا ہے۔ جمعرات کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے اس قانون کو منظوری دے دی ہے۔ پاکستان کے صدر ممنون حسین کے دستخط کے ساتھ ہی یہ قانون نافذ بھی ہوجائے گا۔اپوزیشن نے اسے نوجوانوں کے خلاف اور اظہار رائے کی آزادی کو کچلنے والا قانون بتایا ہے۔ پاکستانی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان نیشنل اسمبلی نے ’’پروینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2015 ‘‘ کو بغیر ترمیم کے ہی منظوری دے دی ہے۔ اس میں انٹرنیٹ کے بیجا استعمال کے 21 کرائم بتائے گئے ہیں۔ قریب ایک درجن نکات میں جیل کا انتظام کیاگیا ہے۔ اس میں سائبر۔ اسپیس ، دہشت گردی،نفرت آمیز تقریر، پورنو گرافی، دھوکہ دھڑی کے لئے استعمال شامل ہیں۔ بڑی اپوزیشن پارٹیوں پی پی پی ، تحریک انصاف، ایم کیو ایم میں قانون کی کچھ نکات پر نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے اسے سخت قانون اور اظہار رائے کی آزادی کو کچلنے والا بتایا ہے۔ پی پی پی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر نوید قمر نے کہا کہ یہ قانون عدالت میں نہیں ٹھہر پائے گا۔ اب پاکستان انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردی پھیلانے والے کو14 سال اور نفرت بھری تقریر کرنے والے کو 7 سال کی جیل ہوسکے گی۔
(انل نریندر)

18 اگست 2016

مودی نے پاکستان کو اسی کی زبان میں دیا کرارا جواب

ہر سال یوم آزادی پر لال قلعہ کی سفیل سے قوم کے نام وزیر اعظم کا خطاب عموماًرسمی ہوتا ہے لیکن یہ محض ایک خانہ پوری بھر نہیں ہوتا یہ دیش کے لوگوں سے وزیر اعظم کی ایک بات چیت بھی ہوتی ہے۔ آزادی حاصل کرنے کے بعد کے برسوں کا محاسبہ بھی ہوتا ہے اور کارناموں کا تجزیہ بھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے پچھلے خطاب کو یاد کریں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے کسی حد تک لیک کو توڑا تھا جب صاف صفائی اور عورتوں کو امپاورمنٹ پر خاص زور دیا تھا مگر اس بار اپنی حکومت کے کاموں کی قصیدہ خانی کرنے میں انہوں نے ذرا بھی قباحت نہیں دکھائی۔کیا اس کی وجہ کچھ ریاستوں میں آنے والے چناؤ ہیں؟ جو ہو البتہ اس بار آزادبھارت کی تاریخ میں کسی وزیر اعظم نے پاکستان کا نام لیکر خود حملہ بولا۔ انہوں نے جس طرح دہشت گردی پر پاکستان کوسیدھا پیغام دینے کے ساتھ اس کے قبضے والے کشمیر (پی او کے) اور بلوچستان کا ذکر کیا وہ خارجہ پالیسی میں وسیع تبدیلی کی علامت ہے۔ انہوں نے اپنی زبان میں دہشت گردی کو شہ دینے کی کوششوں کی مذمت کرنے کے ساتھ ہی پاکستان کے قبضے والے کشمیر کے ساتھ گلگت اور بلوچستان کا بھی ذکر کیا۔ یہ تذکرہ دراصل پچھلے کچھ دنوں سے بھارت کے رویئے میں آئی جارحیت کا نتیجہ ہے جس نے خارجہ پالیسی کو ایک نیا تیور دیا ہے۔ یہ صاف ہے کہ موجودہ پالیسی سے بھارت کو اب تک کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ہے۔ اب جب یہ صاف ہے کہ پاکستان کو اسی کی زبان میں جواب دینا ہوگا تب پھر یہ بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ خارجہ پالیسی میں تبدیلی محض بیانوں تک محدود نہ رہے۔ وزیر اعظم کے خطاب سے صاف ہوگیا ہے کہ بھارت اب پاکستان کے کشمیر راگ کو لیکر چپ رہ کر نہیں سنے گا بلکہ اسے برابر کا جواب دیا جائے گا۔ پاکستان دنیا بھر کی اسٹیجز پر کشمیر کا مسئلہ، انسانی حقوق کا سوال بنا کر اٹھاتا رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے معاملے میں بلوچستان میں اس کا خود ریکارڈ نہایت خراب ہے ۔ دراصل اب بولنے سے زیادہ کچھ کرنے کی بھی ضرورت ہے اس لئے اور بھی کیونکہ پاکستان سے متعلق پالیس کے معاملے میں ابھی تک ہم ڈیفنسنگ رہے ہیں اور ہم بیانات کی سطح تک ہی محدود ہیں۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور بلوچستان کے معاملے میں بحث کرنے سے بات نہیں بننے والی ہے۔ بھارت کو بلوچیوں کی کھلی مدد کرنی چاہئے جیسے پاکستان علیحدگی پسندوں کی جموں و کشمیر میں کررہا ہے۔ اگر جموں و کشمیر میں آزادی کی لڑائی ہے تو بلوچستان میں بھی آزادی کی لڑائی ہے۔ بدلتے بھارت کی خارجہ پالیسی بھی بدل رہی ہے۔
(انل نریندر)

ورکنگ حاملہ خواتین کو میٹرنٹی چھٹی کی سہولت

نریندر مودی حکومت نے خواتین کے لئے ایک لائق تحسین قدم اٹھا یا ہے۔ اب ورکنگ خواتین کے لئے میٹرنٹی چھٹی کو 12 ہفتے سے بڑھا کر 26 ہفتے کرنے کی سہولت والے اہم بل کو راجیہ سبھا میں منظوری مل گئی ہے۔ سرکاری اور منظم سیکٹر میں کام کرنے والی خواتین کو 26 ہفتے ہی میٹرنٹی چھٹی کرنے والے زچگی سہولت (ترمیمی بلی2016 ) کو بدھوار کو راجیہ سبھا نے اتفاق رائے سے منظوری دے دی تھی۔ اس سے تقریباً18 لاکھ عورتوں کو فائدہ ملے گا لیکن سروگیٹ مدرس (کرائے کی ماؤں) کو یہ سہولت نہیں ملے گی۔ خاص بات یہ رہی ہے کہ اس بل کو راجیہ سبھا نے زوردار طریقے پر خیر مقدم کیاتو وہیں کئی ممبران نے اسی بہانے میٹرنٹی چھٹی پر بھی سرکار کو غور کرنے کو کہا۔ ایوان میں تقریباً دو گھنٹے تک چلی بحث کا جواب دیتے ہوئے لیبر و روزگار منتری بندارو دتاترے نے کہا کہ منظم سیکٹر میں خواتین کو سب سے زیادہ میٹرنٹی چھٹی دینے والا بھارت تیسرا دیش بن جائے گا۔حاملہ مہلاؤں کو کینڈا میں 50 ہفتے اور ناروے میں44 ہفتے کی چھٹی دی جاتی ہے اس کے علاوہ حاملہ خواتین کو 3500 روپے بھی دئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میٹرنٹی چھٹی بڑھانے سے ماں اور بچے دونوں کو بہتر زندگی ملے گی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ26 ہفتے کی میٹرنٹی چھٹی کی سہولت دو بچوں کے معاملے میں ہی لاگو ہوگی اوردیگر معاملوں میں یہ سہولت 12 ہفتے کی رہے گی۔ اس بل میں کسی ورکنگ کلاس خاتون کو ماں بننے پر گھر سے کام کرنے کی سہولت کو آسان بنانے پر زور دیا جائے گا۔اس کے تحت 50 سے زیادہ ملازم والے اداروں کے لئے چائلڈزون (کریچ) کا سسٹم بھی ضروری ہوگا۔ ماؤں کو یومیہ چار بار کریچ میں جانے کی اجازت ہوگی۔ معمولات سے الگ ا س بل کو تیار کرتے وقت مودی سرکار نے عورتوں کے درد کو سمجھا ہے یہی وجہ ہے کہ اپر ہاؤس میں بحث کے دوران جواب میں وزیر موصوف نے کہا کہ ماں بننے والی ورکنگ کلاس خواتین اور ان کے بچوں کو بہتر زندگی فراہم کرنا بہت سنجیدہ اور اہم اشو ہے بل کا ایک مقصد یہ بھی ہے ورکنگ فورس اور ملازم طبقے میں عورتوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ پاکستان اور ساؤتھ افریقہ میں 12 ہفتے کی میٹرنٹی چھٹی دی جاتی ہے۔ میکسیکو میں 15 ہفتے، اسپین میں 16، فرانس میں 16، برطانیہ میں 20 ہفتے کی چھٹی دی جاتی ہے ۔ اس نقطہ نظرسے بھی دیکھیں تو حکومت ہند نے میٹرنٹی چھٹی کی سمت میں بہتر پہل کی ہے۔ ایوان میں یہ بات بھی اٹھی کہ تاملناڈو میں پہلے سے ہی 26 ہفتے ہی میٹرنٹی دی جاتی ہے اور اب وہاں اسے 39 ہفتے کئے جانے کی تجویز ہے ایک ممبر پارلیمنٹ کا کہنا ہے تاملناڈو کی یہ اسکیم پورے دیش کے لئے رول ماڈل ہونا چاہئے۔
(انل نریندر)

17 اگست 2016

دیش مفاد میں نہیں سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت میں ٹکراؤ

ہائی کورٹ کے جج صاحبان کی تقرری اور تبادلہ کو لیکر عدلیہ اور مرکزی حکومت کے درمیان ٹکراؤ بڑھتا نظر آرہا ہے۔ ایسا لگتا ہے چیف جسٹس ٹی۔ ایس۔ ٹھاکر اس معاملے پر مرکز سے آر پار کی لڑائی لڑنے کی تیاری میں ہیں۔جسٹس ٹھاکر کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ جوڈیشیری سسٹم چرمرا گایا ہے لیکن مرکزی حکومت فائلیں دبا کر بیٹھی ہوئی ہے اگر مرکز کا یہی رویہ رہا تو انہیں حکم پاس کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سیدھا سوال کیا کہ آخر فائلیں کہاں اٹکی ہوئی ہیں اور حکومت کو کالیجیم کے فیصلے پر یقین کیوں نہیں ہے؟ چیف جسٹس مرکز سے ناراض ہیں ان کے اس ریمارکس سے صاف جھلکتا ہے ۔ غور طلب ہے کہ دیش میں جج صاحبان کی کمی اور التوا میں پڑے مقدموں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق نچلی عدالت سے لیکر عدالت عظمیٰ تک قریب ساڑھے تین کروڑ سے زائد مقدمے التوا میں پڑے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ پانچ نفری کالیجیم کے سربراہ چیف جسٹس نے کہا کہ ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری اور تبادلہ کے لئے 75 نام بھیجے گئے ہیں۔ ہائی کورٹ میں 43 فیصد ججوں کی کمی ہے۔ حکومت نے کالیجیم کی طرف سے پیش کردہ ناموں پر حامی کیوں نہیں بھری؟ پوری مشینری تباہ ہورہی ہے اور سرکار اس بارے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ ہم حالات کو اس مقام پر نہیں لے جاسکتے جہاں سب کچھ ٹھپ ہوجائے۔ اگر سرکار کو کسی نام پر اعتراض ہے توفائل واپس کرے۔ کالیجیم اس پر فیصلہ لے گا لیکن حکومت فائل دبا کر نام کی تجاویز میں دیر نہیں کرسکتی۔ یہ معاملہ تب اٹھا جب چیف جسٹس ٹھاکر، جسٹس چندر چوڑ اور جسٹس اے ایم ولکر کی تین نفری بنچ معاملوں کی سماعت میں دیری سے متعلق ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کررہی تھی۔ فطری بات ہے کہ دباؤ عدالتوں پر ہے چیف جسٹس اس سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب التوا مقدمے کو لیکر چیف جسٹس پبلک اسٹیج پر اپنے آنسو نہیں روک سکے تھے۔ چیف جسٹس کے اس حملہ آور رویئے کے نفع نقصانات بھی ہیں۔ یہ سرکار کو پیغام ہے کہ آپ ہمارے معاملے کو زیادہ دنوں تک بے وجہ لٹکا کر نہیں رکھ سکتے۔ یہ بالکل دلائل آمیز بات ہے اگر ججوں کی باقاعدہ بھرتی نہیں ہوگی تو مقدمے جلد سے جلد کیسے نمٹائے جائیں گے۔ سرکار اور سماج کی سطح پر بھی منفی اثر پڑے گا۔ ساتھ ہی جنتا میں عدلیہ اور سسٹم پر اعتماد گھٹے گا لیکن وزیر قانون نہیں مانتے ججوں کی تقرری کا کام ان کا ہے۔ پچھلے دنوں وزیر قانون روی شنکر پرساد نے بتایا تھا کہ جنوری سے لیکر ابھی تک ہائی کورٹ کے 110 ایڈیشنل ججوں کو پکا کیاگیا ہے۔ 52 جج نئے مقرر ہوئے ہیں،4 جج سپریم کورٹ میں تقرر ہوئے ہیں۔
(انل نریندر)

سڑک حادثوں کے معاملے میں اتنا غیرحساس کیوں بن گئے ہیں

دہلی میں آئے دن سڑک حادثوں میں سڑک پر چلتے بے قصور راہ گیروں کی موت ہوتی رہتی ہے۔ سڑک پر زخمی پڑے شخص کی کوئی مدد نہیں کرتا اور وہ تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیتا ہے۔ راجدھانی دہلی میں انسانیت کو شرمسار کرنے والی واردات کچھ دن پہلے ہوئی۔ وہ بھی پارلیمنٹ ہاؤس سے محض دو کلو میٹر دور۔ بتایا جاتا ہے کہ نئی دہلی کے رام مندر مارگ تھانہ علاقہ میں سڑک پار کررہے آئس کریم بیچنے والے کو تیز رفتار کار نے ٹکر ماری اور کافی دور تک وہ گھسیٹتا رہاجب لوگوں نے کارکے ڈرائیور کو گھیرلیا تواس نے زخمی کو آر ایم ایل ہسپتال میں علاج کرانے کا وعدہ کر گاڑی میں بٹھا لیا اور پھر آگے سڑک پر اتار تڑپتا چھوڑ فرار ہوگیا۔ آخر میں آئس کریم والے کی موت ہوگئی۔ سڑک حادثہ ہو یا پھر راستے میں کسی خاتون کے ساتھ ہونے والا واقعہ ہو عام طور پر دہلی کے شہری مدد کے لئے سامنے نہیں آتے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ پولیس کارروائی اور کورٹ کچہری کے چکر کاٹنے سے ڈرتے ہیں۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ لوگوں نے اپنا دائرہ اتنا کم کرلیا ہے کہ سماج میں ان کے سامنے کیا ہورہا ہے اس سے نہ تو انہیں کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی وہ اس سے مطلب رکھتے ہیں۔ کئی بار ایسا سامنے آیا ہے سڑک حادثے میں متاثر کی مدد کرنے والے شخص کو قانونی کارروائی سے گزرناپڑتا ہے۔ اسے گواہ کے طور پر عدالت ،کچہری بھی آنا جانا پڑتا ہے۔ پولیس واردات کے بارے میں پوچھ تاچھ کرتی ہے اور یہ کارروائی لمبی چلتی رہتی ہے۔ مقدمہ برسوں چلتا ہے اور مدد کرنے والے شخص کو آخر تک عدالتی کارروائی میں شامل ہونا پڑتا ہے۔ اس سے لوگ مدد کے لئے سامنے آنے سے بچتے ہیں۔ سڑک حادثوں میں متاثرین کو موقعہ واردات پر مدد کرنے والے نیک لوگوں کو قانونی خانہ پوری سے بچانے کے لئے سپریم کورٹ کے ذریعے جاری گائڈ لائنس محض خانہ پوری بن کر رہ گئی ہیں۔ ’سیو لائف فاؤنڈیشن ‘ نے سال2012ء میں سپریم کورٹ میں دائر مفاد عامہ کی عرضی میں کہا تھا کہ موقعہ واردات سے گزرنے والے چارمیں سے تین شخص متاثرہ کی مدد کرنے سے کتراتے ہیں۔ قریب88 فیصدی لوگ پولیس زیادتی اور قانونی پنگے بازی میں پھنسنے سے ڈرتے ہیں۔ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جسٹس وی ۔گوپالا گوڑا اور ارون مشرا کی بنچ نے اکتوبر2014ء میں مرکزی حکومت کو گائڈ لائنس بنانے کا حکم دیا تھا۔ سڑک ٹرانسپورٹ و قومی شاہراہ وزارت سے مئی 2015ء میں جاری گائڈ لائنس کو سپریم کورٹ نے مانا ۔2016ء میں منظوری دے دی۔ حالانکہ یہ محض خانہ پوری بن کر رہ گئی ہے۔ عدالت عظمی کی گائڈ لائنس کچھ اس طرح ہیں۔ متاثرہ کو ہسپتال پہنچانے والے شہری کو صرف اس کا پتہ نوٹ کر کے جانے دیا جائے گا ، اس سے اور کچھ پوچھا نہیں جائے گا۔ سبھی سرکار ی و پرائیویٹ ہسپتال متاثرین کی مدد کرنے والے شخص سے نہ تو ایڈمیشن فیس یا پیسے کی مانگ نہیں کریں گے اور نہ ہی اسے روک سکیں گے، ہسپتال ایسا صرف تبھی کرسکیں گے جب بھرتی کئے جانے والے شخص کی مدد کرنے والا فیملی ممبر یا رشتے دار ہو۔ اس سلسلے میں ہندی۔ انگریزی اور علاقائی زبان میں اینٹرینس گیٹ پر لکھوانا ہوگا۔ سڑک حادثوں میں متاثرین کی مددکرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے طور پر مناسب انعام دیا جانا چاہئے، مدد کرنے والے شخص کی کسی قسم کی مجرمانہ جوابدہی نہیں ہوگی،فون کرکے متاثرہ کے سڑک پر پڑے ہونے کی جانکاری دینے والے موقعہ واردات پر موجود شخص کا نام یا ذاتی معلومات دینے کے لئے مجبور نہیں کیا جائے گا، ہسپتال میں ڈٹیل لیگل کیس فارم میں مدد کرنے والے شخص کی خواہش کی بنیاد پر ذاتی معلومات دی جائے گی، ان افسروں کے خلاف ڈسپلن شکنی اور شعبہ جاتی کارروائی کی جائے گی جو مدد کرنے والے شخص کا نام یا ذاتی معلومات دینے کے لئے مجبور کریں گے، اگر حادثے کا کوئی گواہ اپنی خواہش سے پہچان ظاہر کرتا ہے تو پولیس جانچ کے لئے صرف اس سے ایک بار پوچھ تاچھ کرسکتی ہے۔ اس سمت میں ریاستی سرکار کو ایک ایسا سسٹم بنانا ہوگا جس میں مدد کرنے والے شخص کا ٹارچر روکنے کیلئے ایک اسٹنڈرڈ آپریٹنگ سسٹم بنانا ہوگا۔ سڑک حادثے سے وابستہ ایمرجنسی معاملوں میں ڈاکٹرکی طرف سے فوری حرکت نہ کرنا پروفیشنل مس کنڈکٹ مانا جائے گا۔ گائڈ لائنس تو بہت اچھی ہیں لیکن ان کا اچھا نتیجہ تبھی آئے گا جب صحیح معنوں میں ان پر عمل ہو۔
(انل نریندر)

14 اگست 2016

جموں و کشمیر میں تو جموں۔ لداخ اور پی او کے بھی آتے ہیں

ہمیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب بھی ہم کشمیر کی بات کرتے ہیں تو ہم صرف کشمیر وادی کی ہی بات کیوں کرتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں وادی کے علاوہ جموں، لداخ اور پاک مقبوضہ کشمیر بھی تو شامل ہے۔ کشمیر مسئلہ پر راجیہ سبھا میں بحث کے دوران اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے پوری سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ غلام نبی کے الزامات سے بیک فٹ پر نظر آرہی سرکار کی طرف سے مورچہ سنبھالا جموں وکشمیر سے بھاجپا کے ایم پی شمشیر سنگھ منہاس نے۔ انہوں نے اس پوری بحث پر یہ کہتے ہوئے سوال کھڑا کردیا کہ جب جموں و کشمیر کی بات کی جاتی ہے تو جموں اور لداخ کے لوگوں کو کیوں بھلا دیا جاتا ہے؟ انہوں نے کہاکہ کشمیرسے زیادہ آبادی جموں اور لداخ میں رہتی ہے، ان کی پربحث کیوں نہیں ہوتی؟ان کے مفادات کی بات کیوں نہیں ہوتی؟ ریاست کے 55 فیصدی لوگ جموں خطہ میں بستے ہیں ان میں سے7 لاکھ نوجوان بھی بے روزگار بیٹھے ہیں کیا وہ بندوق نہیں اٹھا سکتے یا وہ بھی آزادی کا نعرہ نہیں لگا سکتے؟ وہ لوگ آج بھی اپنے دیش کے ساتھ کھڑے ہیں منہاس اس بات پر بھی سوال کھڑا کیا جس پر غلام نبی نے کہا کہ کشمیر کی لڑائی نوجوانوں کی بے روزگاری سے وابستہ ہے، کشمیر کی لڑائی قومیت بنام علیحدگی پسندی کی ہے۔ یہاں کا اصل مسئلہ بے روزگاری نہیں، پڑھے لکھے نوجوانوں کو وغلانے کا ہے۔ حال ہی میں جب سکیورٹی فورس نے پیلٹ گنوں کا استعمال شروع کیا اور ان مبینہ بے روزگاروں کو چھرے لگے تب جاکر سکیورٹی فورس پر پتھر پھینکنے کا سلسلہ رکا۔کیونکہ پہلی بار ان نوجوانوں کے ماں باپ کو لگا کہ پتھر بازی سے ان کے بچوں کا ہی نقصان ہوگا اور تب یہ سلسلہ بند ہوگیا۔ اب بات کرتے ہیں کشمیر کے اس حصہ کی جس پر پاکستان نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ وزیر داخلہ نے دو ٹوک کہا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت جموں وکشمیرکو بھارت سے الگ نہیں کرسکتی۔ اب پڑوسی کے ساتھ جموں و کشمیر کے اشو پر نہیں، صرف پاکستانی مقبوضہ کشمیر پر ہی بات چیت کی جائے گی۔ راجناتھ سنگھ نے پاکستان سے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ ناجائز طریقے سے قبضائے کشمیر کے اس حصے کو خالی کردے جس پر اس نے طاقت کی بنیاد پر قبضہ کررکھا ہے۔ جموں و کشمیر کو لیکر بھارت پر الزام لگانے میں مشغول پاکستان اپنے گریباں میں جھانکنے کو تیار نہیں ہے۔ اعدادو شمار صاف بتاتے ہیں کہ کیسے پاکستان مقبوضہ کشمیر کے لوگ بیحد بدحالی کا شکار ہیں۔ اسکول، اسپتال جیسی بنیادی سہولیات سے محروم لوگ تنگدستی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ 50 فیصدی سے زیادہ نوجوان بے روزگار ہیں۔گلگت ۔بلتستان خطہ میں شیعہ اقلیت میں آگئے ہیں۔ پورے پاکستان میں سنی مسلمانوں کو لیکر بسایا جارہا ہے تاکہ اصلاً کشمیریوں کی آوازکودبایا جاسکے۔ لاکھوں شیعہ بے سہارا مہاجر کی زندگی بتانے پر مجبور ہیں۔ یہ معاملہ یونیورسٹیوں کا ہویا میڈیکل کالجوں کا ہو، معیشت کا ہو یا بنیادی سہولیات کا ہو پاکستانی مقبوضہ کشمیر بھارت کے جموں و کشمیر کے سامنے کہیں بھی نہیں ٹھہرتا۔ آئے دن پی او کے کے گلگت ۔بلتستان خطہ میں پاکستانی پولیس کی طرف سے ڈھائے جارہے مظالم کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کی تازہ رپورٹ میں پاک پولیس کی بربریت اور ظلم کی تصویر سامنے آئی ہے۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے گلگت۔ بلتستان علاقہ کے ایک قصبے میں پولیس نے ایک بے قصور شخص کی صرف اس لئے پٹائی کردی کہ اس نے مقامی پنچایت کے امتیاز پر مبنی اس فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا۔ شبیر حسین نامی شخص کو بغیر ایف آئی آر اور بغیر وارنٹ کے پولیس تھانے لے گئی اور اس وہاں اس کی اتنی بے رحمی سے پٹائی کی تھی کہ اس کے جسم پر چوٹ کے گہرے نشام پڑ گئے۔ کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہاں پولیس ہی سب کچھ کنٹرول کرتی ہے اس لئے وہ کسی پر بھی ظلم ڈھانے کے لئے آزاد ہے۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ وہاں کہ دیہی علاقوں و شہروں میں لوگوں کو ٹارچر کرتی ہے۔ پولیس ان سے ناجائز وصولی بھی کرتی ہے۔ پاکستان ہمارے نوجوانوں کو بھڑکانے کے بجائے اگر اپنے حصے کے علاقے کی ترقی پر زیادہ دھیان دے تو نہ صرف کشمیریوں کی بھلائی ہوگی بلکہ ہمارے خطے کو بھی راحت ملے گی۔ ہم راجناتھ سنگھ کی بات سے متفق ہیں، اب اگر جموں کشمیر پر پاکستان سے بات ہوگی تو صرف پاک مقبوضہ کشمیر کو خالی کرنے پر ہی ہوگی۔
(انل نریند)

مسلم خواتین اب قاضی بھی بنیں گی

مسلم خواتین کے حقوق کیلئے تحریک چلا رہی تنظیم آل انڈیا مسلم مہلا آندولن اب مہلا قاضی تیار کررہی ہے۔ یہ قاضی نہ صرف عورتوں کے مفادات کا خیال رکھیں گی بلکہ نکاح پڑھوانے اور طلاق جیسے امور میں بھی مدد کریں گی۔ ہندوستان میں پہلی بار 30 خاتون قاضیوں کے پہلے بیج کی ٹریننگ 2015 میں شروع ہوئی تھی۔ اس برس کے آخر تک یہ ختم ہوجائے گی۔ ممبئی کے تعلیمی ادارے دارالعلوم نسواں ٹریننگ دے رہا ہے۔ ادارہ کی ٹرسٹی ذکیہ سومن کہتی ہیں کہ یہ عورتوں کے حق کی ٹریننگ دینے والا رجسٹرڈ ادارہ ہے جہاں زیادہ تر خواتین ہی عورت کے حقوق کے بارے میں واقف کراتی ہے۔ بتاتی ہے کہ کیا ہے ٹریننگ میں قرآن، حدیث سمیت ہندوستانی آئین اور آئی پی سی میں ہندوستانی حقوق کو لیکر جو کچھ بھی لکھا ہے اس کی معلومات سے ان خواتین کو واقف کرایا جاتا ہے۔ ٹریننگ میں کتابی علم کے ساتھ ساتھ ہی خواتین سے متعلق مسائل کی باقاعدہ معلومات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ ٹریننگ کے دوران وقتاً فوقتاً امتحانات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ اس وقت قاضی کی تربیت ٹریننگ لے رہی عورتوں میں زیادہ تر نے 12 ویں کلاس سے گریجویٹ تک کی تعلیم حاصل کی ہوئی ہے۔ کچھ ایسی خواتین بھی ہیں جو زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہیں لیکن ان کی معلومات اچھی ہے۔ٹریننگ ختم ہونے کے بعدیہ خواتین اپنے نام کے آگے ’قاضی‘ لفظ لکھ سکیں گی۔ ذکیہ بتاتی ہیں کہ مغربی بنگال سمیت کچھ دیگر ریاستوں میں خاتون قاضی رہی ہیں لیکن بھارت میں ابھی تک ان کے باقاعدہ ٹریننگ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ شرعی قانون میں عورتوں کے قاضی بننے کو لیکر کوئی فیصلہ نہیں دیا گیا ہے۔ قرآن میں حالانکہ خواتین کے حقوق کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔ ذکیہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مخالفت کو اہمیت نہیں دیتیں ان کا کہنا ہے پرسنل لاء بورڈ ایک خود مختار ادارہ ہے اس کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے۔ اس نے اب تک کوئی اصلاحاتی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ اس لئے وی ایم ایم اے کو یہ پہل کرنی پڑی ہے۔ دوسری طرف دیوبندی علماء نے کہا ہے کہ دارالقضاء کے معاملے میں بیحد سنجیدہ ہیں اور معاملہ نازک ہوتے ہیں انہیں مرد قاضی ہی موکل کے طور پر انجام دے سکتے ہیں۔ ان نزاکتوں کی بنیاد پر ہی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے پورے ملک کے کسی دارالقضا ء میں خاتون قاضی کی تقرری نہیں کی ہے۔ ادارہ سے وابستہ خواتین کس طبقے سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ کیا چاہتی ہیں یہ تو معلوم نہیں لیکن بہتر ہوگا کہ وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے شعب�ۂ نسواں سے رابطہ کر مشورہ کریں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...