Translater

17 جون 2016

بغدادی کے مرنے سے زیادہ اہم اس کی آئیڈیالوجی ہے

ایک بار پھر خبر آئی ہے کہ دنیا کا سب سے خطرناک اور مطلوب آتنکوادی سرغنہ ابو بکر البغدادی شام کے رقہ شہر میں ایک ہوائی حملہ میں مارا گیا ہے۔ ویسے یہ پہلی بار نہیں جب بغدادی کے مرنے کی خبر اڑی ہے۔ 2 دسمبر 2012ء کو بغدادی کی گرفتاری کا دعوی جھوٹا نکلتا تھا۔ پھر اکتوبر 2014ء میں خبر آئی کہ وہ الرقہّ میں زخمی ہوگیا ہے۔ اسی سال نومبر میں ہوائی حملے میں اس کے مارے جانے کی خبر آئی۔ 20 جنوری 2015 میں الکیم علاقہ میں حملہ سے زخمی ہونے کی خبر آئی۔ 8 فروری2015ء کواردن کی بمباری کے بعد رقہ سے موصول بھاگا۔ 9 جون2015ء کو عراقی ہوائی حملہ میں ایک بار پھر خبر آئی۔ اس مرتبہ ایران اور ترکی میڈیا نے آئی ایس سے وابستہ نیوز ایجنسی الانمعاف کے حوالے سے منگلوار کو یہ دعوی کیا بغدادی خطرناک دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کا چیف ہے۔ ایران اور ترکی کے مطابق امریکہ کی رہنمائی والی فوجوں کے جمعرات کو کئے گئے حملہ میں بغدادی زخمی ہوگیا تھا اور اس نے ایتوار کو دم توڑدیا۔ بغدادی کو تب نشانہ بنایا گیا جب وہ آئی ایس کے دیگر دہشت گردوں کے ساتھ شام سے کاروں کے قافلے میں رقہ پہنچا تھا۔حالانکہ امریکی اتحادی فوج نے بغدادی کی موت کے بارے میں ابھی تصدیق نہیں کی ہے۔ اگر بغدادی کی موت کی خبر صحیح نکلتی ہے تو یہ آئی ایس کے لئے بڑا دھکا ہوگا۔ شام اور عراق کی طرف سے حملوں کی وجہ سے پہلے کئی علاقہ آئی ایس کی پکڑ سے نکل چکے ہیں۔ اس کی رسد اور ہتھیاروں کی سپلائی بھی ٹھپ ہوچکی ہے۔ اس کے قبضے والے علاقوں سے تیل کی غیر قانونی فروغ بھی کافی حد تک بند ہوچکی ہے۔ بغدادی نے 2010ء میں اسلامک اسٹیٹ آف عراق کی کمان سنبھالی تھی۔وہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ اموات کے لئے ذمہ دار ہے۔ 31 جون 2014 ء کو دنیا بھر میں خلافت اسٹیٹ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ابو بکر البغدادی نے ایک دہائی میں اتنی خونخواردہشت گرد تنظیم بنا لی ۔سال2003 میں عراق جنگ میں صدام حسین کی سلطنت ڈھے جانے کے بعد اس نے جہاد کی راہ پکڑی اور ایک دہائی میں ہی پوری دنیا کے لئے خطرہ بن گیا۔سال2013ء میں اس کی سوانح حیات کے مطابق بغداد یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والا ابو بکر البغدادی شروع سے ہی جہادی نہیں تھا۔ وہ پہلے مولوی تھا اور نوجوانوں میں بیحد مقبول تھا لیکن صدام کا دور ختم ہونے کے بعد کچھ بچوں میں ہی اس نے نسلی لڑائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شام اور عراق کے بڑے حصے پر اسلامی اسٹیٹ کا خوف پھیلا دیا۔ زیادہ میل جول نہ رکھنے والا بغدادی ادردشیخ کے نام سے مشہور تھا۔ شیعہ اکثریتی عراق میں سنی حکمران صدام کے خاتمے کے بعد اس نے جماعت جائشے اہل السنہ دی جماعت تنظیم کے قیام میں مدد کی جس میں وہ شریعہ کمیٹی کا چیف تھا۔ سال2006ء میں بغدادی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مجاہدین شورہ کونسل میں شامل ہوگیا۔ بعد میں اس نے شورہ کونسل تنظیم کا نام 2010ء میں اسلامک اسٹیٹ آف عراق رکھ دیا۔ 2011ء میں القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد وہ بڑا خطرہ بن گیا۔ شام کے صدر بشرالاسد مخالف دیگر جہادی تنظیموں پر آئی ایس بھاری پڑنے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ سعودی عرب، قطر سمیت اسد مخالف کئی حکومتوں میں ابتدائی دور میں آئی ایس کو ہتھیار اور دیگر مدد مہیاکرائی لیکن پانچ برسوں میں ہی وہ پوری دنیا کے لئے خطرہ بن گیا۔ بغدادی نے اپنے قبضے والے علاقے میں اسلامی قانون لاگو کردئے۔ غیر ملکی یرغمالوں کا سر قلم کر ان کے ویڈیو جاری کر اس نے دہشت قائم کردی۔ یزیدی اور دیگر اقلیتی گروپوں کی عورتوں کو غلام بنانے کے کارنامے سے اس کی تنظیم کا انتہائی ظالمانہ چہرہ دنیا کے سامنے آیا۔ البغدادی اگر واقعی مارا گیا ہے تو یہ امریکہ کے ہی نہیں پوری دنیا کی امن پسند عوام کی حکمت عملی کی جیت ہے لیکن تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ اتنی جیت سے امن کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔ اصل سوال البغدادی کے مارے جانے کا نہیں کیونکہ اگر اسلامک اسٹیٹ کا فرضی دعوی لوگوں کو راغب کرتا رہے گا اور اس کے اندر مغربی ممالک سمیت اپنے مخالف اسلامی اور غیر اسلامی ملکوں کے تئیں نفرت بھری رہے گی تو ایک نہیں ہزاروں بغدادی پیدا ہوتے رہیں گے اور اس کے اندر سے کوئی نیا ابو بکر بغدادی بن جائے گااس لئے خطرہ بغدادی کا نہیں بلکہ اس آئیڈیالوجی کا ہے جو امریکہ سمیت دیگر مغربی ملکوں کے برعکس ایک طرح کا منفی نظریہ قائم کرتی ہے اور لوگوں کو اس جال میں پھنسانے اور جان دینے اور لینے کے لئے اکساتی ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی کی طرف وہ جھکتے ہیں جو کم پڑھے لکھے ہوتے ہیں اورمذہب کے بارے میں پوری طرح واقفیت نہیں رکھتے لیکن اگر بغدادی نام کا کوئی شخص تھا اور جو مارا گیا ہے وہ وہی ہے جسے بغداد یونیورسٹی سے اسلامی اسٹڈی میں پی ایچ ڈی بتایا جاتاہے یعنی اسلام کی گہری واقفیت رکھنے والا ، اس کے لئے دیگر مذاہب کی جانکاری اور ان کے تئیں اسی طرح کا احترام ہونا چاہئے جیسے داراشکوہ میں تھا۔ وہ فراخ دلی تبھی پائیدار ہوتی ہے جب اسے ایسی جمہوری سیاسی نظام کی حمایت حاصل ہوجو پوری دنیا میں جمہوریت قائم کرنے ، آپسی بھائی چارے کے لئے عہد بند ہوں اور ایک عالمی جمہوری ڈھانچے کا بھی حمایتی ہو۔ ویسے اگر بغدادی کے مارے جانے کی خبر صحیح ہے تو آئی ایس اس کا جواب ضرور دے گا۔ کہیں یوروپ میں فٹبال کپ اگلا نشانہ نہ بن جائے۔
(انل نریندر)

دہلی کے پانچ پرائیویٹ ہسپتالوں پر سرکاری ڈنڈا

دہلی کی کیجریوال حکومت نے کچھ بڑے ہسپتالوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔ حکومت نے فورٹیز اسکارٹ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ ، دھرم شیلا کینسر انسٹی ٹیوٹ، ساکیت میں واقع میکس، پشپاوتی سنگھیانہ،شانتی مکند ہسپتال پر 600 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا ہے۔ ان ہسپتالوں پر معاشی طور سے کمزور مریضوں اور ضرورتمندوں کا علاج نہ کرنے کا الزام ہے۔ ہسپتال بننے سے لیکر سال2000 ء تک کم آمدنی والے مریضوں کو مفت علاج کی سہولت نہ دینے پر یہ جرمانہ لگایا گیا ہے۔ ان پانچ پرائیویٹ ہسپتالوں کو 9 جولائی تک 600 کروڑ روپے جمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دہلی سرکار کے محکمہ ہیلتھ میں ایڈیشنل ڈائریکٹر (ای ڈبلیو ایس) ڈاکٹر ہیم پرکاش نے بتایا کہ سبھی اہم پانچ ہسپتالوں کو سال 1990 ء کی دہائی میں اس شرط پر رعایتی زمین دی گئی تھی کہ یہ غریب طبقے کے مریضوں کا مفت علاج کریں گے۔ سبھی ہسپتالوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس سے پہلے سال2015 ء کے دسمبر مہینے میں اس بابت ہسپتالوں کو نوٹس بھیجا جاچکا تھا جس کی تعمیل نہیں کی گئی۔ انہیں مسلسل نوٹس دئے جانے پر بھی تشفی بخش جواب نہیں ملا۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکار غریبوں کے علاج کو لیکر بیحد سنجیدہ ہے اورپرائیویٹ ہسپتالوں نے طے شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔ دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے یہ بھی کہا کہ اگریہ ہسپتال ایک مہینے کے اندر جرمانے کی رقم جمع نہیں کرتے تو ان پر آگے کی کارروائی ہوگی۔ حکومت نے اب تک کل 43 پرائیویٹ ہسپتالوں کو کم قیمت پر زمین اس شرط پر مہیا کرائی ہے کہ وہ ہسپتالوں میں 10 فیصدی بیڈ غریبوں کے لئے محفوظ رکھیں گے۔ ان بڑے ہسپتالوں میں غریب مریضوں کے حق میں لڑائی لڑ رہے دہلی ہائی کورٹ کے وکیل اشوک اگروال کا کہنا ہے کہ انہوں نے کورٹ میں سینکڑوں ایسے غریب مریضوں کے کاغذات جمع کرائے ہیں جن کا علاج کرنے سے ہسپتالوں نے منع کردیا تھا۔ یہ ثبوت اپنے آپ میں پورا معاملہ بیان کرنے کے لئے کافی ہیں۔ بتادیں اگروال اس معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے تشکیل ایک نگراں کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔ ادھر میکس اور دھرم شیلا کینسر ہسپتال کے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غریب مریضوں کے لئے بنائے گئے چیریٹیبل فاؤنڈیشن کے تحت سبھی کا علاج کیا جاتا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے سرکار کے حکم کے خلاف کورٹ جانے کی بات کہی ہے۔ وہیں سرکار میں بیٹھے ذرائع بتا رہے ہیں ابھی تو صرف پانچ ہسپتالوں کے خلاف کارروائی شروع ہوئی ہے یہ فہرست لمبی ہے اورباقی پرائیویٹ ہسپتالوں کے خلاف بھی جلدہی سرکار ڈنڈا چلاسکتی ہے۔
(انل نریندر)

16 جون 2016

دہلی سرکارکو صدر جمہوریہ نے دنیا تگڑا جھٹکا

دہلی کی عام آدمی پارٹی کی حکومت کو پیر کوزبردست جھٹکا لگا ہے کیونکہ صدر پرنب مکھرنی نے حکومت کے اس ترمیمی بل کو منظوری دینے سے انکار کردیا جس کے تحت دہلی حکومت کے 21 پارلیمانی سکریٹریوں کے عہدے کو فائدے کے عہدے کے دائرے سے باہر رکھنے کی سہولت بنائی گئی تھی۔ اعلی ترین ذرائع کے مطابق صدر نے دہلی حکومت کے بل کو واپس لوٹا دیا ہے۔ اس بل میں ریاستی حکومت کے پارلیمانی سکریٹری کے عہدے کو فائدے کا عہدہ نہ ماننے کی سہولت رکھی گئی تھی۔ اسے فائدے کا عہدہ مانتے ہوئے چناؤ کمیشن نے نوٹس جاری کر پوچھاتھا کہ ان کی ممبر شپ کیوں نہ ختم کی جائے؟ اس معاملے میں ممبران اسمبلی کے خلاف چناؤ کمیشن کارروائی کرتا ہے تو 70 ممبری اسمبلی میں 21 ممبران کو ممبر شپ گنوانی پڑ سکتی ہے۔ حالانکہ 67 ممبران کی بنیاد پر اکثریت ہونے کی وجہ سے کیجریوال سرکار پر کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ اس کے بغیر بھی وہ46 ممبران کے ساتھ اکثریت میں ہوگی۔ مگر خالی ہوئی سیٹوں پر 6 مہینے کے اندر دوبارہ چناؤ کرانا ہوگا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک طرح سے کیجریوال سرکار کی کارگزاری پر ریفرنڈم بھی ہوگا۔ پارلیمنٹری سکریٹری بنائے گئے سبھی ممبران اسمبلی پارٹی کے تیز طرار اور کیجریوال کے پسندیدہ ہیں اگر ان میں سے کچھ سیٹیں بھی کم ہوتی ہیں تو اسے کیجریوال کی دہلی میں مقبولیت میں کمی کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ادھردہلی کے وزیر اعلی کے میڈیا مشیر ناگیندر شرما کے مطابق ریاستی سرکار کا صاف کہنا ہے کہ یہ عہدہ فائدے کا نہیں ہے۔ ان کی تقرری کا نوٹیفکیشن میں صاف کردیاگیا تھا کہ انہیں الگ سے کوئی سہولت نہیں دی جائے گی۔ یہ بل اس لئے پاس کیا گیا تھا کہ اگر مستقبل میں انہیں ان کی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے کوئی سہولت دینی ہوگی تو وہ ممکن ہوسکے۔ ایک سال پرانے اس بل کو جان بوجھ کر لٹکائے رکھا گیا۔ اسے ریاستی حکومت نے پچھلے سال جون میں ہی پاس کردیا تھا۔ اب اس بل کو لوٹائے جانے کے باوجود ممبران اسمبلی کی ممبر شپ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ چناؤ کمیشن کی طرف سے جاری نوٹس کے جواب میں بھی کہا جاچکا ہے کہ اس عہدے پر الگ سے کوئی فائدے نہیں دیا جارہا ہے۔ خود وزیر اعلی کیجریوال نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مودی جی جمہوریت کا احترام نہیں کرتے وہ ڈرتے ہیں صرف عام آدمی پارٹی سے۔ انہوں نے کہا کسی ایم ایل اے کو ایک پیسہ نہیں دیا گیا گاڑی بنگلہ کچھ نہیں دیا گیا، سب ایم ایل اے فری میں کام کررہے ہیں۔ مودی جی کہتے ہیں سب گھربیٹھو کوئی کام نہیں کرے گا۔ کسی کو بجلی پر تو کسی کو ہسپتال پر، کسی کو اسکول پر لگا رکھا تھا۔ مگرمودی جی کہتے ہیں نہ کام کروں گا نہ کرنے دوں گا۔ ادھر چناؤ کمیشن بھی اس ماہ کے آخر میں اس معاملے میں اپنی رپورٹ صدر کو بھیجنے والا ہے۔ صدر کے ذریعے اس ترمیمی بل کو اپنی منظوری دینے سے انکار کرنے کی تصدیق راج نواس نے بھی کردی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ صدر کہ یہاں سے آئی فائل دہلی سرکار کے آئینی سکریٹری کے پاس بھیج دی ہے۔پردیش کانگریس کے پردھان اجے ماکن کا اس مسئلے پر کہنا ہے کہ ہمیں سرکاری سہولیات ملی تھیں لیکن ہم وزیر اعلی کے پارلیمنٹری سکریٹری تھے۔ صدر نے سرکار کے فائدے کے عہدے کے بل کو اس لئے خارج کردیا کہ عاپ سرکار نے 21 ممبران اسمبلی کو وزیر اعلی کا پارلیمنٹری سکریٹری بنانے کے بجائے وزرا کا پارلیمنٹری سکریٹری بنایا جو قانونی طور پر غلط ہے۔ حکومت نے ایک وزیر کو تین تین سکریٹری دے دئے۔ وزیر اعلی کو اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے سبھی ممبران سے استعفیٰ لینا چاہئے۔فائدے کے عہدے کو لیکر 21 عاپ ممبران اسمبلی کی ممبر شپ خطرے میں پڑ رہی ہے کہ مسئلے کو لیکر کیجریوال مسلسل الزام لگا رہے ہیں کہ انہیں برخاست کروانے میں وزیر اعظم نریندر مودی کا اہم کردار ہے لیکن واقف کار کہتے ہیں کہ آئین میں ممبر اسمبلی یا ایم پی کی ممبر شپ ختم کرنے کا حق صرف صدر کو ہے۔ اس بارے میں وہ سرکار یا کسی وزارت سے غور کرنے کے بجائے وہ سینٹرل چناؤ کمیشن سے صلاح لے سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ اور اسمبلی کے سابق سکریٹری و آئینی ماہر ایس کے شرما کے مطابق ہندوستانی آئین میں صاف لکھا ہے کہ عوامی نمائندے کوئی بھی فائدے کا عہدہ نہیں لے سکتا۔ وزیر کو بھی تو فائدے کے عہدے پر بیٹھا مانا جاسکتا ہے؟ لیکن اس سے بچنے کے لئے پہلے پرلیمنٹ میں ریزولوشن پاس کرلیا جاتا ہے کہ دیش یا پردیش چلانے کے لئے وزیر وغیرہ کی ضرورت ہے۔ دہلی کے معاملے میں ریاستی حکومت نے ایسا نہیں کیا اور انہوں نے 21 پارلیمانی سکریٹری بنانے کے بعد صدر کو بل بھیجا جو تکنیکی طور پر غلط ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اتنا حساس ترین ہے کہ آئین کے مطابق کسی ممبر اسمبلی کو برخاست کرنے کے لئے نہ مرکزی سرکار سے صلاح لیں گے نہ ریاستی حکومت سے پوچھیں گے اور نہ وزیر اعظم سے پوچھیں گے۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلی کو اعتماد میں لیں گے۔ فائدے کے عہدے کو لیکر21 ممبران اسمبلی کی ممبر شپ خطرے میں پڑنے کے معاملے میں کانگریس اور بی جے پی لیڈر اس کا سہرہ لے رہے ہیں لیکن ساری محنت کے پیچھے کھڑے نوجوان وکیل 29 سالہ پرشانت پٹیل ہیں۔ انہوں نے ہی صدر سے لیکر چناؤ کمیشن تک دروازہ کھٹکھٹایاتھا۔ ایسا نہیں کہ یہ معاملہ اتنا جلدی حل ہوجائے گا۔ابھی تو بہت لمبا راستہ آگے ہے۔چناؤ کمیشن پوری کارروائی کرے گا جس میں مہینوں لگ سکتے ہیں یہ جھٹکا ضرور ہے کیجریوال سرکار کے لئے۔
(انل نریندر)

دنیا میں سب سے زیادہ سڑک حادثات بھارت میں ہوتے ہیں

سڑک حادثات و روڈ ریج کے معاملے مسلسل بڑھتے جارہے ہیں اور ان پر روک لگانا انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔ مرکزی وزیر قومی شاہراہ نتن گڈکری نے جمعرات کو بتایا کہ دیش میں ہر روز قریب1400 سڑک حادثے ہوتے ہیں جن میں 400 لوگ مارے جاتے ہیں۔ ان میں 77 فیصدی واقعات کے لئے ڈرائیور ذمہ دار ہوتے ہیں۔ سڑک ٹرانسپورٹ و قومی شاہراہ وزارت کی بھارت میں سڑک حادثات 2015- نام سے جاری رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے۔ گڈکری نے کہا کہ یہ تشویش کا باعث ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ حادثات بھارت میں ہوتے ہیں۔ سوئیڈن میں پچھلے برس محض ایک سڑک حادثہ ہوا تھا جبکہ بھارت میں 5 لاکھ سڑک حادثے ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان حادثات میں 90 فیصدی تک بہتری لائی جاسکتی ہے۔ حکومت اس سمت میں اہم قدم اٹھا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 5 لاکھ سڑک حادثوں میں ایک تہائی معاملے موٹر سائیکلوں سے وابستہ تھے۔فہرست میں کرناٹک ، مدھیہ پردیش، کیرل، مہاراشٹر، آندھرا پردیش، راجستھان، یوپی ، تلنگانہ، گجرات، چھتیس گڑھ میں ہیں۔ 23468 سڑک حادثے ہوئے۔ سب سے زیادہ ممبئی میں ۔ دہلی میں 1622 موتیں ہوئیں سڑک حادثوں میں۔ گڈکری نے سڑک حادثوں کی تعداد میں اضافے کے لئے فرضی لائسنس کو بھی وجہ بتایا اور کہا کہ دیش میں 30 فیصد لائسنس فرضی بنے ہوئے ہیں۔ ان پر لگام کسنا ضروری ہے اس کے لئے کمپیوٹر ائزڈ سسٹم تیار کیا جارہا ہے۔ مرنے والوں میں 33فیصدی 15سے24 سال کے تھے۔17.116 حادثے اوور لوڈ گاڑیوں کی وجہ سے ہوئے۔ 62.2فیصدی سڑک حادثے طے رفتار سے زیادہ رفتار میں گاڑی چلانے کے سبب ہوئے۔ سب سے زیادہ 61فیصدی موتیں بھی اسی وجہ سے ہوئیں۔ 14.2 فیصدی حادثے شراب پی کر گاڑی چلانے سے ہوئے۔ بہار میں ادتیہ سچدیوا کو جے ڈی او کے بیٹے کی گاڑی سے مبینہ طور پر اوور ٹیک کرنا مہنگا پڑ گیا۔ اوور ٹیک کرنے کی وجہ سے انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ روڈ ریج کی زیادہ تر وارداتوں میں نوجوان شامل ہوتے ہیں۔ آخر انہیں اتنا غصہ کیوں آتا ہے؟ ایک اسٹڈی کے مطابق نوجوانوں کو 3 گنا زیادہ غصہ ڈرائیونگ کرتے وقت آتا ہے۔ سڑکوں پر بھاری جام ، گاڑیوں کی طرف سے دوسروں کے ذریعے ٹریفک قواعد کی تعمیل نہ کرنا، لال بتی رکنا پسند نہیں، بغیر اطلاع کے سڑک و لال بتیوں کو بند کرنا بھی ایک وجہ ہے۔ بڑھتے حادثات کی وجہ سڑک کے بیچوں بیچ لوگ اپنی گاڑیاں کھڑی کردیتے ہیں۔ اس سے بھی حادثے ہوتے ہیں۔ موبائل فون اوردیگر ذاتی اسباب سڑکوں پر بھکاری اور سامان بیچنے والوں کا بھی تانتا لگا رہتا ہے۔ خستہ حال سڑکیں ،اونچے نیچے اسپیڈ بریکر بھی حادثے کی ایک وجہ ہیں۔13فیصد معاملے پیچھے سے ٹکر لگنے کے سبب ہوتے ہیں۔ 13 فیصد جھگڑے ریڈ لائٹ جمپ کرنے کے سبب ہوتے ہیں۔14فیصدمعاملے پیچھے سے بے وجہ ہارن بجانے سے ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ٹریفک قواعد کی خلاف ورزیوں میں صرف100 روپے جرمانہ ہے جو نہ کے برابر ہے اس وجہ سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کوئی خاص ڈر نہیں ہے ۔
(انل نریندر)

15 جون 2016

امریکی تاریخ میں اب تک کا سب سے خوفناک آتنکی حملہ

9/11 کے آتنکی حملہ کے بعد امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں ایک گے نائٹ کلب میں داعش کے ایک حمایتی لڑکے نے اندھا دھند فائرنگ کرنے کا دوسرا سب سے بڑا حملہ ہے۔ اس میں قریب 50 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ53 افراد زخمی ہوئے ہیں۔قریب چار گھنٹے تک چلی مڈ بھیڑ میں سکیورٹی فورس نے آئی ایس کے حمایتی حملہ آور عمر متین کو مار ڈالا۔ پولیس نے ایتوار کو بتایا کہ امریکی تاریخ میں یہ اب تک کا سب سے خطرناک فائرنگ کانڈ ہے۔ حکام کے مطابق 29 سالہ متین آتنکی تنظیم آئی ایس کا ہمنوا تھا اور وہ ایف بی آئی کے راڈار پر تھا۔ امریکی وقت کے مطابق حملہ آور صبح قریب2 بجے اورلینڈو کے پلس نائٹ کلب میں گھسا اور گھستے ہی گولیاں چلانا شروع کردیں۔ دراصل یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حملہ کو مذہبی رنگ دینا ٹھیک نہیں ہے۔ متین کو ہم جنس پرستوں سے نفرت تھی۔ مہینے بھر پہلے میامی میں جب اس نے دو مردوں کو بوسے بازی کرتے دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے یہ حملہ بھی اسی کے رد عمل میں کیا ہو؟ ایف بی آئی کے ترجمان نے بتایا کہ متین امریکی شہری ہے۔ والدین افغانستان کے ہیں۔ اس کے پاس سے اسالٹ رائفل، ہینڈ گن ملے ہیں۔ چشم دید گواہوں کے مطابق اس نے مسلسل 40-50 گولیاں چلائیں۔9 پولیس افسر وہاں پہنچے اور دھماکہ کیا جس سے حملہ آور کی توجہ یرغمالوں سے ہٹا دی اور 30 یرغمالوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ شہر میں 24 گھنٹے کے اندریہ دوسرا واقعہ ہے۔ 50 بے گناہوں کا خون بہانے والے عمر متین نے واردات کو انجام دینے سے پہلے فون کرکے اسلامک اسٹیٹ کے تئیں اپنی وفاداری جتائی تھی۔ این بی سی نیوز نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ متین نے اسلامک اسٹیٹ کے سرغنہ ابو بکر البغدادی کے تئیں وفاداری نبھانے کی بات کہی تھی۔ ادھر اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ ٹوئٹر اکاؤنٹ نے اورلینڈو نائٹ کلب کے حملہ آور عمر ایس متین کا فوٹو پوسٹ کیا ہے۔ فوٹو کے کیپشن میں کہا گیا ہے ’یہ وہی شخص ہے جس نے فلوریڈا کے اورلینڈو نائٹ کلب میں قتل عام میں کم سے کم 50 لوگوں کو مار ڈالااور درجنوں کو زخمی کیا‘۔مقدس اور امن داعی رمضان کے پاک مہینے میں روزہ رکھ کر مسلمان سب کی خیر کی دعا کرتے ہیں لیکن آتنکی تنظیم آئی ایس نہیں مانتا۔ آئی ایس دنیا بھر میں اپنے حمایتیوں سے رمضان کے دوران حملے کو کہتا ہے۔ آتنکی تنظیم اسے مغربی ملکوں جیسے اپنے دشمنوں پر حملے کو معقول مانتا ہے اور آئی ایس کے ترجمان ابو محمد العدنانی نے رمضان سے ٹھیک پہلے جاری ایک ویڈیو میں حمایتیوں سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نشانہ بنانے کی اپیل کرتے دکھایا گیا۔ امریکہ میں یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب وہاں صدارتی چناؤ کمپین زوروں پر ہے۔ اس آتنکی حملہ کا امریکی صدارتی چناؤ پر سیدھے اثر ہوسکتا ہے۔ صدارتی عہدے کے لئے امیدوار کی دوڑ میں آگے چل رہے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی آتنکی واردات پر اپنے بیانوں سے موضوع بحث ہیں اور اس واقعہ کے بعد انہیں اپنی بات کو ثابت کرنے کا ایک اور موقعہ مل گیا ہے۔ اس کا سیدھا اثر ٹرمپ کے حق میں ہوسکتا ہے۔ یہ واقعہ ٹرمپ کو مضبوطی فراہم کرے گا۔ وہ اسلامک دہشت گردی کے کٹر مخالف ہیں۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے کو پوری طرح بند کردیا جاناچاہئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی جنتا سے دہشت گردی کے خلاف بہت سخت رخ اپنانے کا وعدہ بھی کررہے ہیں۔ وہ صدر براک اوبامہ کی دہشت گردی انسداد پالیسی کو کمزور بتا رہے ہیں۔ پہلے بھی یہ کہا جارہا تھا کہ امریکی سرزمین پر ایک بھی دہشت گردی کا واقعہ ٹرمپ کے حق میں ماحول بنا سکتا ہے اور محفوظ کر رہے امریکہ کا جھکاؤ تمام اندرونی تضادا ت کے باوجود ان کے حق میں ہوسکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے حملہ کے بعد اپنے ردعمل میں اپنے سابقہ بیان کو ہی صحیح ٹھہرایا۔ نائٹ کلب حملہ پر انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا ’ہمیں اسمارٹ ہونے کے ساتھ سخت اور چوکس رہنا پڑے گا‘ ۔ انہوں نے لکھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی سے صدارتی عہدے کی امکانی امیدوار ہلیری کلنٹن نے کہا کہ وہ اورلینڈو میں ہوئی اس فائرنگ کے واقعہ سے بہت دکھی ہیں۔ امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے نائٹ کلب پر حملہ کو دہشت گردی کی حرکت قرار دیتے ہوئے کہا یہ نفرت بھری حرکت ہے۔ یہ امریکی شہریوں پر حملہ ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کسی بھی شہری پر حملہ سبھی امریکیوں پرحملہ مانا جائے گا۔ اورلینڈو میں 50 لوگوں کی فائرننگ میں موت کے بعد قوم کو خطاب کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ ہمیں ابھی حملہ آور کے مقصد کے بارے میں پختہ طور پر کچھ پتہ نہیں ہے۔ ایس بی آئی معاملہ کی جانچ کررہی ہے۔ فائرنگ کی واردات خطرناک ہے۔ ہم اس آتنکی حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور متاثرہ خاندان سے اپنی ہمدردی ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت تو اسلامی دہشت گردی سے پہلے ہی متاثر ہے امریکہ میں تمام سخت احتیاطی قدم کے باوجود ایسا واقعہ چونکانے والا ہے۔ یوروپ تو پہلے سے ہی آئی ایس کے نشانے پر تھا اور پیرس، بلجیم حملہ کی طرح امریکہ پر یہ حملہ بتاتا ہے کہ آئی ایس کا خطرناک جال پھیلتا ہی جارہا ہے۔
(انل نریندر)

دہلی پولیس نے ناکام بنائی راجن کے قتل کی سازش

دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے تہاڑ جیل میں بند مافیہ سرغنہ چھوٹا راجن کے قتل کی مبینہ سازش رچنے کے الزام میں چار لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ سازش راجن کے کٹر مخالف، حریف اور بھگوڑا مافیہ ڈان داؤد ابراہیم کا دایاں ہاتھ مانے جانے والے چھوٹا شکیل کے گرگوں نے رچی تھی۔ ان مبینہ ٹھیکہ قاتلوں کو 3 جون کو گرفتار کیا گیا۔ حالانکہ وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوپاتے اس سے پہلے دہلی پولیس کو ان کی سازش کی بھنک لگ گئی اور دہشت گردوں کی پہچان یونس، جنید، رابنسن اور منیش کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کے پاس سے 40 ہزار روپے نقد اور موبائل فون ضبط کئے گئے ہیں۔ اسپیشل سیل کے اسپیشل کمشنر اروند دیپک کے مطابق یہ لوگ چھوٹا شکیل سے سیدھے رابطے میں تھے۔ انہیں تہاڑ جیل میں بند چھوٹا راجن کا قتل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ فون کال ریکارڈ اور انٹر نیٹ چیٹ سے پولیس کو ان کے بارے میں جانکاری حاصل ہوئی تھی۔ پولیس نے ان کے پاس سے 9 ایم ایم کی پستول ،20 غیر مستعمل کارتوس بھی برآمد کئے۔ان سے پوچھ تاچھ میں جانکاری ملی کہ انہیں چھوٹا شکیل نے راجن کو مارنے کے لئے ٹھیکہ دیاتھا۔ اس ٹھیکے کی رقم کا انکشاف اسپیشل سیل نے نہیں کیا۔ حالانکہ یہ رقم 10 لاکھ روپے سے کم بتائی جارہی ہے۔ ملزموں نے یہ بھی بتایا کہ وہ پہلے چھوٹا راجن کے ڈرائیور کا قتل کرنا چاہتے تھے اس کے بعد راجن کا مرڈر۔ راجن کی گرفتاری کے بعد اس کا ڈرائیور ممبئی سے دہلی آتا جاتا رہتا ہے ۔ اس سازش کے تحت راجن کو جیل سے کیسی پیشی کی تاریخ کے دوران گولیوں سے بھونا جانا تھا۔ چاروں ملزموں کا ریمانڈ پورا ہونے کے بعد جیل میں بند کردیا گیا ہے جس میں راجن بند ہے۔ راجن کو حراست میں اکیلا رکھا گیا ہے۔ جیل کے افسروں کا دعوی ہے کہ کوئی بھی قیدی راجن تک نہیں پہنچ سکتا۔ غور طلب ہے کہ 55 سالہ چھوٹا راجن کو پچھلے سال نومبر میں انڈونیشیا کی راجدھانی بالی سے گرفتار کر بھارت لایا گیا تھا۔ وہ قتل ، زر فدیہ اور ڈرگس کی اسمگلنگ کے 70 سے زیادہ معاملوں میں ملزم ہے۔ پولیس کی گرفت سے بچنے کے لئے یہ شاطر ڈان قریب27 برس تک پولیس و جانچ ایجنسیوں کو چکمہ دیتا آرہا تھا۔ تہاڑ جیل میں بند چھوٹا راجن کا جیل میں قتل کرنا بیحد مشکل بھرا ٹارگیٹ ہے۔ عام قیدیوں کی بات تو دور تہاڑ جیل کا ہر افسر بھی اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسے 2013ء میں تہاڑ جیل میں پھانسی دئے گئے آتنکی افضل گورو سے بھی زیادہ سکیورٹی گھیرے میں رکھا گیا ہے۔ اس کی حفاظت کے لئے اینٹی ایئر کرافٹ گن تک لگائی گئی ہے۔ چھوٹا راجن کو نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوبھال کی ہدایت پر ممبئی کے بجائے دہلی کی تہاڑ جیل میں رکھا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ جیل نمبر2 کے ہائی رسک وارڈ بی کے جس سیل میں رکھا گیا ہے اس وارڈ کے قیدیوں کو دوسرے وارڈوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ راجن کے وارڈ کو بین گھوشت کردیا گیا ہے۔
(انل نریندر)

14 جون 2016

کھیتی بچانے کیلئے نیل گائیوں کی اجتماعی ہتیا

یہ صحیح ہے جنگلی جانوروں کے ذریعے فصل بربادکرنے کا مسئلہ بیشک پرانا ہے لیکن اس کا یہ حل بھی صحیح نہیں ہے کہ انہیں مار ڈالا جائے۔ نیل گائے کو مارنے پر ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ بہار میں جس طرح سے شوٹروں کو تعینات کرکے بڑے پیمانے پر نیل گائیوں کو مارنے کی کمپین چلائی جارہی ہے اس سے نہ تو جنگلات و ماحولیات وزارت خوش ہے اور نہ ہی دیش کی زیادہ تر عوام۔کیبنٹ ساتھی مینکاگاندھی نے اس قدم پر اعتراض جتایا ہے۔ ان کے ذریعے اپنی سرکارکی اس پالیسی کے تئیں پیدا ناراضگی کو اسی سلسلے میں سمجھنا چاہئے اس کا مطلب یہ نہیں کہ جانوروں کا بچاؤفصلوں کی سلامتی اور کسان کے مفادات سے زیادہ اہم ہے۔ بہار کے موکاما ٹال جہاں سال میں صرف ایک فصل پیدا ہوتی ہے مغربی چمپارن میں نیل گائیوں کے خوف سے کھیتوں میں کھڑی فصلوں کی حفاظت مشکل ہے۔ بہار کے کسانوں کے کسی علاقہ نے نتیش کمار سرکار کو مرکز سے مدد مانگنے کے لئے مجبور کیا۔جس کا نتیجہ وہاں 250 سے زائد نیل گائیوں کی اجتماعی ہتیا کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ اسی طرح مہاراشٹر کے چندر پور میں جنگلی سوروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جنگلاتی زندگی تحفظ ایکٹ کی شقات کے تحت مرکزی حکومت نے تین ریاستوں کو فصلوں کو نقصان پہنچا رہے جانوروں کو مارنے کی اجازت دی ہے۔ بہار کو نیل گائے اور جنگلی خنزیر، اتراکھنڈ کوجنگلی خنزیر اور ہماچل پردیش کو بندروں کو مارنے کی اجازت دی گئی تھی۔ جنگلاتی جانور تحفظ محکمہ سے وابستہ ایک افسر نے بتایا کہ موجودہ ایکٹ میں ریاستوں کے چیف جنگلاتی نگراں کو یہ اختیار ہے کہ اگر کوئی جانور فصلوں کو نقصان پہنچاتا ہے تو اسے مارنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ شیر ، چیتا کے معاملے میں تو کچھ حد تک جانور کی پہچان کرنا مشکل ہے لیکن نیل گائیوں کے جھنڈ میں نقصان پہنچانے والے جانور کی پہچان نہ ہونے کی وجہ سے ریاست خود ہی فیصلہ لے لیتی ہے۔ جنگلی جانور تحفظ قانون میں خطرناک جانوروں کو مار ڈالنے کی سہولت ہے لیکن صرف انہی جانوروں کو جن سے ہماری زندگی کو خطرہ ہے لیکن یہاں جنگلی جانوروں کو اجتماعی طور سے جس طرح نشانہ بنایا جارہا ہے وہ نہ صرف غیر انسانی عمل کا مظاہرہ ہے بلکہ جانوروں سے ان کا جنگل چھین لینے کے جرم کے بعد ان کو نشانہ بنانے کا یہ دوسرا جرم ہے۔موکاما میں 250 نیل گائیوں کے مارے جانے کے بعد بہار سے دہلی تک کی سیاست گرما گئی ہے۔ مرکزی سرکار کی دو وزارتیں تک آمنے سامنے آگئی ہیں۔ مدھیہ پردیش، بہار، اترپردیش، مہاراشٹرہریانہ، راجستھان جیسی ریاستوں میں نیل گائیوں کی بھرمار ہے۔ یوپی میں 10 ہزار سے زیادہ کسان ہر سال نیل گائیوں کی وجہ سے فصل خراب ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔ بہار کے 34 ضلعوں میں نیل گائیوں کا خوف ہے۔ کسانوں کے مفادات کی حفاظت ہونی چاہئے وہیں کھیتی کو بچانے کے لئے جانوروں کا اجتماعی قتل بھی حل نہیں ہے۔ اس مسئلہ کا کوئی اور بہتر متبادل تلاشنا ہوگا۔
(انل نریندر)

متھرا کے کنس رام ورکش یادو کا خاتمہ کیسے ہوا

متھرا میں کنس لیلا کاماسٹر مائنل رام ورکش یادو مرنے کے بعدبھی تنازعوں میں بنا ہوا ہے۔ کیا رام ورکش زندہ ہے؟ کیا پولیس نے اسے جواہر باغ کانڈ میں اور اس کے خاندان کو زندہ پکڑ لیا تھا اور بعد میں اسے مار ڈالا؟ اگر ایٹہ ضلع ہسپتال میں بھرتی ایک خاتون کی بات مانیں تو وہ دعوی کررہی ہے کہ رام ورکش زندہ ہے۔ پہلی بار گولی لگنے کے بعد جیسے ہی معاملہ خاموش ہوا وہ اپنے خاندان کو لیکر کہیں چلا گیا۔ ضلع ہسپتال میں بھرتی مہلا دھرم وتی کا دعوی ہے کہ رام ورکش مرا نہیں ہے۔ دھرم وتی کو امید ہے کہ وہ ابھی بھی ان کو بچانے آئے گا۔ دوسری طرف ایک سپاہی کی بات پر اگر یقین کریں تو وہ دو جانبازوں کی شہادت کے بعد بھی اپنے ہی محکمے کو کٹہرے میں کھڑا کررہا ہے۔ وہ خود سی بی آئی جانچ کو ضروری بتا کر پولیس کے عمل پر سنگین سوال اٹھا رہا ہے۔اتنا ہی نہیں اس کا دعوی یہ بھی ہے کہ پولیس نے رام ورکش یادو کو پریوار سمیت زندہ پکڑ لیا تھا بعد میں اسے مارا گیا۔ سپاہی جس کی بات چیت ریکارڈ پرہے ، کی باتوں میں کتنی سچائی ہے یہ دیگر بات ہے اس کا کہنا ہے کہ پولیس افسروں نے اس کارروائی کو چھپایا۔ کارروائی صبح کرنی چاہئے تھے۔ بھیڑ کی تعداد کا اندازہ آسانی سے لگ جاتا۔ اس نے دعوی کیا کہ افسروں کی موت کے بعد پولیس نے رام ورکش سمیت 27 لوگوں کو پکڑ لیا تھا۔ سپاہی کا دعوی ہے کہ سبھی کو پولیس لائن میں لگا کر ایڈیٹوریم میں لایا گیا، لکھنؤ کے ایک افسر کو یہ سب بھی بتایا گیا۔ بقول سپاہی اس کے بعد سبھی کو مار کر آگ میں پھینک دیا گیا۔
رام ورکش کی مارنے کے بعدبھی شناخت نہیں کی گئی۔اس کو سازش کے تحت دو دن لاپتہ دکھایاگیا۔ پانچ ہزار روپے کا انعام اعلان کرنے کے بعد اسے مرا ہوا دکھا دیا گیا۔ سپاہی کا کہنا ہے کہ جواہر باغ میں کافی لوگوں کی جانچ لی گئی۔ کچھ کو مردہ خانے میں ہی گلا دیا گیا۔ جواہر باغ کے نزدیک بھوئی کالونی کے ایک دوکاندار کا کہنا ہے کہ پولیس نے کارروائی کے دوران اندر کسی کو نہیں جانے دیا۔ ادھر جواہر باغ میں ہوئی واردات کی سی بی آئی جانچ کے لئے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ اشونی اپادھیائے کی طرف سے داخل عرضی میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت و ضلع انتظامیہ کی لاپرواہی کے سبب جواہر باغ کی واردات ہوئی جس میں دودرجن سے زیادہ لوگوں کی جان چلی گئی۔ ایک آئی پی ایس افسر و ایک دروغہ کی موت ہوگئی۔ مرکز نے اس واردات کی سی بی آئی جانچ کے لئے تعاون کی بات کہی لیکن ریاستی حکومت نے اس کی سفارش نہیں کی۔ کہا گیا ہے کہ واردات میں حکمراں پارٹی کے کئی بڑے نیتاؤں کی شمولیت ہے۔ ایسے میں سیاسی دباؤ کے چلتے مقامی پولیس سے واردات کی منصفانہ جانچ کی امید نہیں ہے اس لئے واردات کی جانچ سی بی آئی سے کرایا جانا ضروری ہے۔
(انل نریندر)

12 جون 2016

’’اڑتا پنجاب ‘‘پر بونڈر

شاہد کپور ،عالیہ بھٹ اور کرینہ کپور جیسے بڑے ستاروں سے سجی انوراگ کشپ کی فلم ’’اڑتا پنجاب ‘‘ پر گھماسان تیز ہوگیا ہے۔ غور طلب ہے کہ فلم پر سینسر بورڈ کی قینچی چلنے کو لیکر کافی ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن یعنی سینسر بورڈ کے چیئرمین پہلاج نہلانی نے فلم کے کئی مناظر اور مکالموں پر قینچی چلانے کو کہا ہے۔ نشیلے لت پر مرکوز ’اڑتا پنجاب‘ پرسینسر بورڈ کی قینچی کو چیلنج کرتے ہوئے پروڈیوسر بمبئی ہائیکورٹ پہنچ گئے۔ انوراگ کشپ پروڈیوس اور ڈسٹریبیوشن کمپنی ’فینٹنم فلمز‘‘ کی طرف سے اس عرضی میں ہائی کورٹ سے سرکار یا سینسر بورڈ کو فلم میں اعتراض آمیز مناظر اور ڈائیلاگ پر جائزہ کمیٹی کے فیصلے سے متعلق حکم کی کاپی دینے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی ہے۔بورڈ نے بدھوار کو ہائی کورٹ کو بتایا کہ اس میں 13 چیزوں پر اعتراض جتاتے ہوئے ’’A‘‘ سرٹیفکیٹ دینے کا پروپوزل دیا ہے۔ اس فلم میں 14 گالیاں، پنجاب کے 8 شہروں کے نام اور کچھ سین ہٹانے کی بات کہی گئی ہے۔ یہی نہیں ان الفاظ، گالیوں اور شہروں کا استعمال فلم میں اتنی بار کیا گیا ،اتنی جگہ سے اسے ہٹانے کے احکامات دئے ہیں۔ ایسے میں فلم میں کل 94 کٹ لگانے ہوں گے۔ بمبئی ہائی کورٹ نے جمعرات کو سینسر بورڈ سے اس بات پر صفائی دینے کو کہا کہ آپ فلم سے ’پنجاب‘ ہٹانے پر کیوں زور دے رہے ہیں؟ اس پر بورڈ نے کئی تجویزیں رکھی ہیں اور بتایا کہ13 تبدیلیاں صحیح ہیں یہ منمانی نہیں ہے۔ ہم نے مشورہ دیتے وقت اپنا دماغ لگایاہے۔ ہم پنجاب اور وہاں کے لوگوں کے بارے میں استعمال کی گئی زبان کو لیکر اعتراض کررہے ہیں۔ یہ چیزیں ہٹانے کو کہا ہے سینسر بورڈ نے۔ فلم کے شروع میں دکھائے گئے پنجاب کے بورڈ کا سین پنجاب، جالندھر، چنڈی گڑھ ، امرتسر، ترنتارن، امبے سر، لدھیانہ، موگا۔ ایم پی چناؤجیسے لفظ۔ ایک گانے میں سردار کے اعتراض آمیز مقام پر کھل جانے کا سین ہے۔ ایک گانے سے ’چٹّا وے ‘ اور ’آہابھی‘ لفظوں کو بھی بہن کی گالیاں اورچسا ہوا عام جیسے ڈبل مطلب والے لفظوں کا ۔ ڈرگس لینے کے کلوز اپ شارٹس کو ایک سین میں ٹامی (شاہد کپور) کو کھلے عام پیشاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایک ڈائیلاگ ’زمین بنجر۔۔۔ اولاد کنجر‘۔ فلم میں کتے کا نام جیکی ہے یہ نام بدلنے کو کہا گیا ہے۔ ایک لڑائی بمبئی ہائی کورٹ میں چل رہی ہے تو ایک الگ ہی لڑائی عدالت کے باہر اس فلم کو لیکر چھڑ گئی ہے۔ پروڈیوسر انوراگ کشپ نے سینسر بورڈ کے چیئرمین پہلاج نہلانی کو اکھڑ اور تاناشاہ بتاتے ہوئے کہا کہ نارتھ کوریا میں رہنے والے جیسا ہے۔ نہلانی کو سرکار کی کٹھ پتلی بتاتے ہوئے مکیش بھٹ نے کہا دیش میں اظہار رائے کی آزادی اور تخلیقات کے لئے یہ کالا دن ہے۔ انڈین فلمز اینڈ ٹی وی ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن نے بدھوار کو ایک پریس کانفرنس میں فلم کے تئیں اپنی حمایت جتائی اور سینسر بورڈ کے چیئرمین پہلاج نہلانی پر سیدھی تنقید کی۔ اس موقعہ پر فلمساز مہیش بھٹ نے کہا کہ ہمارا دیش سعودی عرب میں تبدیل نہیں ہوسکتا جہاں خوشحالی تو بہت زیادہ ہے لیکن سماج میں اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے۔ میگا اسٹار امیتابھ بچن بھی فلم کی سپورٹ میںآگئے ہیں۔ انہوں نے کہا مجھے امید ہے کہ ہم ایسا سسٹم بنا سکتے ہیں جو فلم کو سرٹیفکیٹ دے نہ کہ اس میں قینچی چلائے۔ کریٹیوٹی کے قتل کی کوشش نہیں ہونی چاہئے۔ ہمیں مثبت رائے رکھنے کی آزادی ہونی چاہئے کیونکہ ہم اس فیلڈ میں اس لئے ہیں کہ اپنے من کے مطابق تبصرہ کرسکیں۔ یہ تکلیف دہ ہے کہ فلم میکرس کو عدالت جانا پڑا۔ اس فلم کی ریلیز میں دیری ہوسکتی ہے۔ اس واویلے پر سینسر بورڈ کے چیئرمین پہلاج نہلانی نے بدھوار کو کہا کہ انہیں وزیر اعظم نریندر مودی کا چمچا کہلانے میں کوئی شرم نہیں ہے۔ دراصل نہلانی پر ایسے الزام لگے ہیں کہ انہوں نے سیاسی دباؤ میں آکر فلم میں کاٹ چھانٹ والا قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے ایک چیلنج سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ انوراگ کشپ کو عام آدمی پارٹی کو پیسہ مل رہا ہے اور میں اپنے الزامات پر معافی نہیں مانگوں گا۔ ایسا اندیشہ جتایا جارہا ہے کہ اس فلم کا اثر پنجاب اسمبلی چناؤ پر ہوسکتا ہے کیونکہ کئی پارٹیاں ڈرگس کو چناوی اشو بنانے کی تیاری میں ہیں۔ دراصل فلم کے کلائمکس میں ایک مقامی نیتا چناؤ جیتنے کے لئے اپنے چناؤ منشور کے ساتھ ڈرگس کے پیکٹ بانٹتا ہے۔ ڈرگس کو کس طرح سے دو تین پروڈکٹس کے ساتھ ملا کر بناتے ہیں اور فیکٹری کی پوری تفصیل فلم میں ہے۔فلم میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح سے جعلی نام پر فیکٹری چل رہی ہے۔ فلم میں شاہد کپور ڈرگ ایڈکٹ پاپ سنگر بنے ہیں اور اپنے گانوں میں ڈرگس کی تعریف کرتے ہیں ۔ وہ گانوں کے ذریعے کہتے ہیں کہ سبھی کو ڈرگس لینا چاہئے۔ فلم میں عالیہ بھٹ بھی نشے کی عادی ہیں لیکن اس کے پاس پیسے نہیں ہیں ایسے میں ڈرگس کی لت پوری کرنے کیلئے وہ مردوں سے تعلق بناتی ہے۔ سوا دو گھنٹے کی اس فلم کے زیادہ تر ڈائیلاگ گالیوں سے بھرے ہیں۔ سینسر بورڈ اور کمیٹی کا خیال ہے کہ یہ فلم نوجوانوں کو غلط سمت دکھا رہی ہے جبکہ پروڈیوسر اور ڈائریکٹروں کا دعوی ہے کہ یہ سماج میں ہورہے حالات کو دکھاتی ہے۔ بتادیں پنجاب میں ڈرگس کو ’چٹّا‘ کہا جاتا ہے اس لئے اس فلم کا نام ’’اڑتا پنجاب‘‘ رکھا گیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پنجاب کی حقیقت دکھاتی ہے ’’اڑتا پنجاب‘‘ فلم۔
(انل نریندر)

عاپ ممبران اسمبلی نے لیفٹیننٹ گورنر کو بتایا کرپٹ

دہلی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان آئے دن کسی نہ کسی اشو پر تکرار کی تاریخ پرانی ہے لیکن جمعرات کو ایک عجب واقعہ رونما ہوا۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ عاپ ممبران اسمبلی نے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ پر براڑی میں ایک راشن کی دوکان کا لائسنس منسوخ اور بحال کرنے کے معاملے میں کرپشن کا الزام لگا ڈالا۔ ممبر اسمبلی سنجیو جھا کی مانگ پر اس معاملے میں ایوان میں بحث شروع ہوئی جس میں لیفٹیننٹ گورنر کو کرپٹ اور بھاجپا کی دلالی کرنے والا جیسے الفاظ کا استعمال کیاگیا۔ سنجیو جھا نے کہا لیفٹیننٹ گورنر نے ایسے قانون کا حوالہ دیکر لائسنس بحالی کا حکم پاس کردیا جو2001ء اور 2005ء میں ختم ہوگیا۔ یہ کرپشن انسداد قانون کی دفعہ13(1)(d) اور آئی پی سی کی دفعہ420,209 اور 120(b) کے تحت قصوروار ہے۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا ممبران نے میسرز جنتا پرویجن اسٹور کا منسوخ لائسنس بحال کرنے میں برتی گئی بے قاعدگیوں کی جانچ کے لئے 9 نفری اسپیشل کمیٹی بنانے کی تجویز رکھی جو پاس بھی ہوگئی۔ اب کمیٹی میسرز جنتا پرویجن اسٹور کا لائسنس کینسل کرنے کی کارروائی میں گڑ بڑی ، لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے منسوخ لائسنس کو بحال کرنے کے لئے دئے گئے احکامات کی سچائی اور بحالی کی غلط منشا ، لائسنس بحالی میں رشوت کا الزام اس طرح کی دیگر شکایتوں کی جانچ کرے گی۔ دوسرے الفاظ میں دہلی سرکار اب لیفٹیننٹ گورنر کے خلاف کرپشن کا الزام لگا رہی ہے اور اس کی جانچ بھی کرے گی۔ خاموش مزاج اور مہذب لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ بھی اس جانچ و الزامات کے خلاف اپنی رائے دینے پر مجبور ہوگئے ہیں اس میں لیفٹیننٹ گورنر نے بہادر شاہ ظفر کے ایک شعر سے اروند کیجریوال کی رہنمائی والی سرکارپر طنز کرتے ہوئے کہا ، ’’عمر دراز مانگ کر چلے تھے چار دن، دو آروز میں کٹ گئے دو اختلاف میں ‘‘ اس میں اختلاف کی وجہ وقت خراب کرنے کا ذکر ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر آفس کے مطابق براڑی میں رعایتی شرح کی دکان نمبر 8689 ، ودھوا رجنی کو الاٹ کی گئی تھی۔لیفٹیننٹ گورنر نے عدالت میں سماعت کے دوران بتایا کہ 24 اپریل 2015ء کو براڑی کے ممبر اسمبلی نے حمایتیوں کے ساتھ مل کر رعایتی شرح کی دکان کے طریق�ۂ نظام میں رخنہ ڈالا اور وہاں رکھے اناج کو زبردستی لوگوں میں بانٹ دیا۔ اس میں اپیلیٹ افسر کے طور پر لیفٹیننٹ گورنر نے دکان کے مالک پنڈت بچھوا پر فوڈ سپلائی محکمہ سمیت سبھی فریقین کو سننے کے بعد حکم جاری کیا جس میں لائسنس بحالی کے احکامات کے تحت پولیس کمشنر کو جانچ میں جرائم کی سرگرمیاں پائے جانے کے معاملے کی چھان بین کے احکامات بھی دئے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے فوڈ سپلائی محکمہ و دہلی سرکار کے خراب طریق�ۂ کار پر بھی رائے زنی کی اور چیف سکریٹری کو ہدایت دی گئی کہ وہ اس معاملے میں فوراً کارروائی کریں۔ وہیں نیتا اپوزیشن وجیندر گپتا نے کہا کہ عاپ ممبران اسمبلی یا سرکار کو کوئی اعتراض ہے تو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ جائیں لیکن اس طرح سے ایوان میں لیفٹیننٹ گورنر کے خلاف قابل اعتراض تبصروں و الفاظ کا استعمال نہ کریں۔ ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ اگر عاپ ممبران کو کوئی بے قاعدگی نظر آرہی ہے تو وہ اس کی جانچ کر ثابت کریں لیکن لیفٹیننٹ گورنر پر کرپشن جیسے الزامات سے انہیں بچنا چاہئے۔ کم سے کم عہدے کے وقار کا تو خیال رکھیں۔آ پ لیفٹیننٹ گورنر کو کرپٹ نہیں کہہ سکتے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...