Translater

23 مارچ 2023

پارلیمنٹ میں ڈیڈ لاک ختم کرنے کا سوال!

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے سنیچر کو کہا کہ پارلیمنٹ میں تعطل ختم کرنے کیلئے کوئی بیچ کا راستہ نہیں ہے۔ چوںکہ اڈانی گروپ سے معاملے میں جے پی سی کی تشکیل کی اپوزیشن کی مانگ پر کوئی سمجھوتہ ہو سکتا راہل گاندھی کے معافی مانگنے کا سوال ہی اٹھتا۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کے 16پارٹیوں کا جے پی سی سے جانچ کی مانگ کرنے سے بوکھلائی ہوئی ہے اس لئے وہ تھریڈی مہم’ ڈسٹارٹ ‘ یہ یوں کہیے کہ برنام کر نا اور اشو سے توجہ بھٹکانے میں لگی ہے۔رمیش نے الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن کی جے پی سی کی تشکیل کی مانگ سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی راہل گاندھی سے معافی کی مانگ کر رہی ہے جبکہ انہوںنے ایسا کچھ نہیں کہا ہے ۔جیسا کہ حکمراں فریق بتارہا ہے۔ ان کے اس بیان سے ایک دن پہلے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو کہا تھا کہ اگر اپوزیشن بات چیت کیلئے آگے آئے تو پارلیمنٹ میں جاری موجودہ ڈیڈلاک کو ختم کیا جا سکتا ہے تو کانگریس جنرل سیکریٹری نے کہا کہ میں کوئی بیچ کا راستہ نہیں دیکھتا کیوں کہ بی جے پی کی ہماری مانگ کو لیکر کوئی سمجھو تہ نہیں کرنا چاہتی اور راہل گاندھی کے معافی کا سوال ہی نہیں اٹھتا ۔ انہوںنے کہا کہ جے پی سی سے جڑی اپوزیشن کی مانگ سے دھیان بھٹکانے کیلئے بھاجپا معافی کی مانگ کررہی ہے۔ وہ معافی کس لئے مانگے اور کس کے لئے مانگیں انہوں نے ایساکچھ کہا۔ مجھے لگتا ہے کہ 16اپوزیشن پارٹیوںنے مل کر جے پی سی کی مانگ کی ہے اس سے سرکار بوکھلا گئی ہے اور اس لئے انہوںنے تھریڈی گمراہی مہم شروع کی ہوئی ہے۔ کانگریس جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نے چین،جاپان ،ساو¿تھ کوریا اور کچھ دیگر ملکوںمیں بھارت کی اپوزیشن پارٹیوں کی نکتہ چینی کی اور سیاسی اشو بیرن ملک میں اٹھائے ۔ انہوںنے کہ کہ اگر کسی کو معافی مانگنی چاہئے تو وہ پر دھان منتری ہیں۔ انہوںنے ڈیڈلاک لگایا ہوا ہے تاکہ اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا جائے لیکن ڈیڈلاک کیلئے اپوزیشن کو ذمہ دار ٹھہرانے کوشش ہوتی ہے۔تاکہ ہماری ساکھ خراب کی جائے کانگریس نے اڈانی تنازعہ سے جڑے کسی طرح کی گڑبڑی کی شکایت سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل جانچ سمیتی سے کرانے کے وزیر داخلہ امت شاہ کی دلیلوں کو خارج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کا بیان اڈانی گروپ کو بچانے کا دباو¿ ہے۔ ہم اڈانی کے ہیں اور کو ن سیریز کی 32کی مسٹری کی طرح رمیش نے سنیچر کو سرکار پر تین سوال داغے ۔ ابھی تو ہمیں تعطل ختم ہونے کی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ویسے عام طور پر پارلیمنٹ چلانا سرکار کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ (انل نریندر)

ایک بار پھر آمنے سامنے !

وزیر قانون کرن ریجیجو نے سنیچر کو پھر سے ججوں کی تقرری کیلئے کالیجیم سسٹم پر نکتہ چینی کی ہے۔یہ کانگریس پارٹی کے دیدہ دلیری کا نتیجہ ہے ایک پروگرام میں ریجیجو نے کہا کہ ہم کالیجیم سسٹم کو فولو کریںگے لیکن ججوں کی تقرری حکم سے نہیں ہو سکتی ۔ یہ پوری طرح انتظامی معاملہ ہے ریجیجو نے پروگرام کے دوران آئینی لکشمن ریکھا کی بھی بات کہی ۔انہوںنے حیرانی جتاتے ہوئے سوال کیا لیکن جج صاحبان انتظامی تقرریوں کا حصہ بنتے ہیں تو عدلیہ کاموں کو کون کرے گا؟ غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ نے سرکار کو ہدایت دی ہے کہ وہ نیا قانون بننے تک چیف الیکشن کمشنر اور دیگر چناو¿ کمشنروں کا سلیکشن کر نے کیلئے وزیر اعظم ،بھارت کے چیف جسٹس اور لوک سبھا میں حکمراں پارٹی کی ممبری والی ایک نفری کمیٹی بنائے وہیں انہوںنے دعویٰ کیا کہ کچھ ریٹائرڈ جج اور ورکر ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیںکہ ہندوستانی عدلیہ اپوزیشن پارٹی کا رول نبھائے انہوںنے کہا کہ یہ بھارت مخالف گروہ کا حصہ ہے ۔ ریجیجو نے کہا کہ کچھ لوگ عدالت میں جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ براہ کرم سرکار پر لگام لگائیں سرکا ر کی پالیسی بدلیں ۔ وہیں بھارت کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کالیجیم سسٹم کا بچاو¿ کرتے ہوئے کہا کہ ہر سسٹم صحیح نہیں ہے لیکن یہ سب سے اچھا سسٹم ہے جسے ہم نے ڈیولپ کیا ہے ۔ میں اس اشو پر وزیر کے ساتھ الجھنا نہیں چاہتا ہماری الگ الگ رائے ہو سکتی ہے۔ میں ان کی رائے کا احترام کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ہمارے لئے ان کے من احترام ہے۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ معاملوں میں کیسا فیصلہ لینا ہے اس کو لیکر سرکار کی طرف سے بالکل کوئی دباو¿ نہیں ہے۔ جج کی شکل میں اپنے 23سالہ میعاد میں مجھے کسی نے نہیں کہا کہ کس طرح فیصلہ لینا ہے ۔چناو¿ کمیشن کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عدلیہ پر کوئی دباو¿ نہیں ہے میں کسی محکمے کی سربراہی کر رہے کسی معاون ملازم بات کرکے یہ بھی نہیں پوچھوں گا کہ اس معاملے میں کیا چل رہا ہے۔کچھ حدیں ایسی ہوتی ہیںجو ہم اپنے بناتے ہیں ۔ یہ ہماری ٹریننگ کا حصہ ہے ۔عدلیہ کے سامنے 4.32کروڑ معاملے زیر التویٰ ہونے کی چنوتی کی مسئلے پر سی جے آئی نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ معاملوں کی ایک بڑی تعداد ہے لیکن یہ انصاف کیلئے عدالتوںمیں اتنا لوگوں کے یقین کو دکھاتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر ججوں کے ٹرولنگ کے اشو پر جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ اتیوادی نظریات کے شور سے متاثر نہیں ہونا زیادہ اہم ہے۔میں ٹویٹر نہیں فولو کرتا مجھے لگتا ہے کہ ہمارے لئے یہ اہم ہے کہ ہم دقیہ نوسی نظریات کے شور سے متاثر نہ ہوں ۔مجھے لگتا ہے کہ سوشل میڈیا صرف ایک تکنیک نہیں ہے یہ اس وقت کا حصہ ہے ۔ آج کل یہ چلن ہے کہ عدالت میں کہے جانے والے ہر لفظ کا لائیو ٹویٹ کیا جاتا ہے ۔ اور یہ ہم پر بھی بھاری بوجھ ڈالتاہے ۔ (انل نریندر)

21 مارچ 2023

نشانے پر سپریم کورٹ !

مہاراشٹر کی مہا وکاس اگھاڑی (این وی اے)حکومت گرنے میں گورنر کے رول پر پچھلے دنوں دئے گئے سخت ریمارکس کے بعد جس طرح سے دیش کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کوٹرو ل کئے جانے لگا وہ صرف افسوس ناک ہے اور حیرت میں ڈالنے والا بھی ہے۔ سوشل میڈیا پر چلا یہ ابھیان اتنا سنگین تھا کہ ممبران پارلیمنت کے ایک گروپ نے صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو سے مل کر معاملے میں دخل دینے کی درخواست کی ۔ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ کی آن لائن ٹرولنگ کے معاملے میں 13اپوزیشن پارٹیوں کے نیتاو¿ صدر کو خط لکھا ہے ۔ انصاف کے راستے میں مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے ان سے فوری اس معاملے صدر جمہوریہ سے فوراً ایکشن لینے کی مانگ کی ہے۔اپوزیشن پارٹیوں کو کہنا تھا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ بھارت کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی سربراہی والی سپریم کورٹ کی آئینی بنچ مہاراشٹر میں سرکار کی تشکیل اور گورنر کے رو ل کے معاملے میں ایک اہم ترین آئینی اشو پر سماعت کررہی ہے۔ خط میں آگے کہا گیا ہے ۔یہ معاملہ زیر سماعت ہے اس درمیان مہا راشٹر میں حکمراں پارٹی کے مفاد کیلئے امکانی طور سے ہمدردی رکھنے والے ٹرول آرمی نے بھارت کے چیف جسٹس کے ایک جارحیت دکھائی ہے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ لفظ اور میٹر گندہ ہے۔ قابل ملامت ہے ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لاکھں میں لوگوں نے دیکھا ہے ۔یہ خط کانگریس ایم پی ویوک تنکھا نے لکھا ہے۔ اور پایمنٹ کے ایم پی دگ وجے سنگھ ،گتی سنگھ سہگل ، پرمود تیوای ، رنجیت رنجن ،عمران پر تاپ گڑھی ،عام آدمی پارٹی کے اوگھو چڈھا اور شیو سیبا یو بی ٹی ایم پی پرینکا چترویدی جیا بچن رام گوپالیادو کیلئے ذریوے دستخط شدہ ہے۔ خط میں تنکھا نے لکھا کہ اس مسئلے پر وینکٹ رمنا کو بھی الگ سے خط لکھا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ مہارزژٹر کے سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے فلور ٹیسٹ کیلئے ہاو¿س بلانے کی کاروائی جائز ہے ، سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے بعد آن لائن ٹرولز نے چیف جسٹس آف انڈیا اور عدالت پر حملہ شروع کردیا ہے ۔ گورنر کے عہدے کے مبینہ بجا استعمال سے متعلق ایک اشو کے سماعت کے بعد آن لائن ٹرولز نے سی جے آئی اور عدلیہ پر کٹاکش شروع کردیا ۔ گورنر کے عہدے کے بیجا استعمال کے معاملے اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن پچھلے کچھ وقت نے ایسے معاملوںمیں تیزی سے اضافہ ہوگیا ہے۔ تمل ناڈر ،کیرل ،راجستھان تلنگانا ،چھتیس گڑھ محربی بنگال سے متعلق شکایت ہے کہ گورنر آفس کا رویہ ایسا ہے کہ جس سے ریاستی حکومت کا کام کاج متاثر ہو رہا ہے ۔ دہلی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ (انل نریندر)

مجھے پارلیمنٹ میں بولنے کا موقع ملے!

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے لندن میں دئے گئے اپنے بیان پر پارلیمنٹ میں جاری حکمراں فریق کے سنگرام پر جوابی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں اڈانی اشو پر ان کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالوں کو بھٹکانے کیلئے حکومت کی جانب سے یہ تماشہ کیا جار ہا ہے۔ انہوںنے صاف لفظوںمیں کہا: میں ایک ایم پی ہوں اورمیرے اوپر پارلیمنٹ میں الزام لگے ہیں میں ان کا جواب دوںگا۔اگر دیش میں جمہوریت ہے تو مجھے پارلیمنت میں بولنے کا موقع ملے گا۔ لندن سے لوٹے راہل گاندھی جمعرات کو لوک سبھا میں آئے مگر ہاو¿س فوراً ملتوی کردیا گیا ۔ اس کے بعد انہوںنے لوک سبھا میں کانگریس کے نیتا ادھیر رنجن چودھری کے ساتھ جاکر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی اور اپنا موقف رکھنے کیلئے وقت دینے کی درخواست کی بعد میں صحافیوں سے بات چیت میں راہل گاندھی نے کہا کہ میں نے اسپیکر سے درخواست کی ہے کہ حکومت کے چار چار وزرا ءنے مجھ پر جو الزام لگائی ہے میں ممبر پارلیمنٹ ہونے کے ناطے میرا حق ہے کہ ہاو¿س میںاس کا جواب دوں ۔ اسپیکر نے میری باتیں تو سنیں لیکن کوئی پختہ یقین دہانی نہیں ملی ۔ حالاںکہ میںنے امید نہیں چھوڑی ہے ۔ اب مجھے بولنے کا موقع ملے!راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ انہوںنے لندن میں کچھ بھی بھارت مخالف بات نہیں کی ہے۔ پارلیمنٹ میں پیدا تعطل کو لیکر راہل کا کہنا تھا کہ یہ پوری کوشش مسئلہ سے دھیان ہٹانے کیلئے ہے ۔اصل میں سرکار اڈانی اشو پر ڈری ہوئی ہے اس لئے یہ پورا تماشہ رچا گیا ہے۔ادھر اسپیکر اوم برلا پورے ہنگامے سے سخت ناراض ہیں۔جمعہ کو جیسے ہی ہاو¿س کی کاروائی شروع ہوئی تو راہل گاندھی کو بولنے کی مانگ کرتے ہوئے کانگریس کے کئی ایم پی ویل میں آگئے اور اس کے بعد حکمراں جماعت کے لوگوںنے بھی راہل کے لندن میں بیانات کو لیکر ان سے امعافی مانگنے کی مانگ کرتے ہوئے اپنی سیٹوں پر ہی کھڑے ہوکر ہنگامہ شروع کر دیا ۔ قریب 20منٹ چلے ہنگامے کے دوران اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ میں سبھی کو بولنے کا موقع دوںگا۔ جب ہاو¿س میں امن بنا رہے گا۔ ممبران پارلیمنٹ نے ان کی اپیل کو نظر انداز کردیا ۔ جس کے بعد پورے دن کیلئے ہاو¿س ملتوی کردیا گیا۔ وہیں کانگریسی نیتاو¿ں کا الزام ہے کہ لوک سبھا میں کاروائی کے دوران جان بوجھ کرپارلیمنٹ ٹی وی پر سیدھے نشریات کی آواز بند کر دی گئی ۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ویڈیومیوٹ کرپارلیمنٹ میں آوازیں دبائی جا رہی ہےں ۔جو جمہوریت کیلئے خطرہ ہے وہیں لوک سیکریٹریٹ نے اس کے پیچھے تکنیکی گڑبڑی کو حوالہ دیا ہے۔کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے ٹویٹ کیا کہ حکمراں فریق کے ہنگامے کے درمیان اپوزیشن ممبران نے پارٹی کے ایم پی راہل گاندھی کو بولنے دینے کی مانگ اٹھائی اس کاروائی کے ٹیلی کاسٹ کے دوران اچانک آواز بند ہوگئی ،جمہورت میں یہ کیسا سسٹم ہے ۔ راہل گاندھی پر حکمراں فریق کے وزراءنے بھی سنگین الزام لگائے ہیں۔ہمار خیا ل ہے کہ راہل گاندھی کو اپنا مو قف رکھنے کا موقع ملنا چاہئے ۔اگر ہمارے دیش میں جمہوریت مضبوط ہے تو سبھی کو اپنا موقف رکھنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...