Translater

Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

15 فروری 2024

پاکستان میں کھچڑی مینڈیٹ !

کافی بے یقینی ،سیاسی نوٹنکی ،لمبی قانونی لڑائی اور تشدد کے واقعات کے درمیان آخر کار پاکستان میں اگلی حکومت بنانے کی زور آزمائش چل رہی ہے ۔پاکستان کے عام چناو¿ میں کھچڑی مینڈیٹ آنے کے بعد سیاسی پارٹیوں نے اتحادی حکومت کی تشکیل کوششوں کو تیز کر دیا ہے ۔نیشنل اسمبلی کی 265 سیٹوں میں اکثریت کیلئے کسی بھی سیاسی پارٹی کو 133 سیٹیں جیتنے کی ضرورت ہوتی ہے اتنی سیٹیں کسی بھی پارٹی کو نہیں ملی ہیں ۔پاکستان الیکشن کمیشن نے اتوار کو 265 میں سے 264 سیٹوں کے فائنل رجلٹ ڈکلیئر کر دی ہیں ۔عمران خان کی پی ٹی آئی حمایتی آزاد امیدواروں نے 101 سیٹ پر جیت درج کر 3 مرتبہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ نواز 75 سیٹ جیت کر تکنیکی طور پر سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں ابھری ہے ۔بلاول سرداری بھٹو کی پاکستان پیوپلس پارٹی کو 54 سیٹیں ملی ہیں ۔تقسیم کے دوران بھارت سے آئے اردو زبان بولنے والے لوگوں کی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی ) کو 17 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں ۔بتا دیں سرکار بنانے کیلئے کم سے کم 133 سیٹوں کی ضرورت ہوگی ۔سابق صدر اور پی پی نیتا آصف علی زرداری نے پاکستان پیوپلس پارٹی کے سامنے اپنے بیٹے و پارٹی کے چیف بلاول زرداری بھٹو کو وزیراعظم بنانے کیلئے مانگ رکھ دی ہے ۔پی ایم ایل نواز چیف و نواز شریف نے سنیچر کو پاکستان کو مشکل دور سے نکالنے کیلئے اتحادی حکومت بنانے کی اپیل کی ہے ۔دیش کی طاقتور فوج کے چیف جنرل عاصم منیر نے سنیچر کو یونیفائیڈ سرکار بنانے کی درخواست کی ہے ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے اتحادی سرکار بنانے میں مدد کرنے کیلئے سابق وزیراعظم نوازشریف کی اپیل کی بھی حمایت کی ہے ۔عاصم منیر نے عام چناو¿ کے نتیجے اعلان ہونے کے بعد سنیچر کو سیاسی لیڈرشپ سے درخواست کی ہے کہ وہ ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر حکومت کرنے اور جنتا کی خدمت کرنے کیلئے سبھی ممکنہ کوششیں کریں ۔عام چناو¿ کے نتائج کے مطابق دیش معلق پارلیمنٹ کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ایک دن پہلے سابق وزیراعظم نواز شریف نے ملی جلی سرکار بنانے کی اپیل کی تھی ۔ایسا لگتا ہے کہ شریف کو فوج کی حمایت حاصل ہے۔جیل میںبند سابق وزیراعظم عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے ذریعے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے جمعرات کو ہوئی پولنگ میں نیشنل اسمبلی میں 150 سیٹوں پر جیت حاصل کی ہے ۔پاکستان کے سابق وزیراعظم اور ایک دوسرے کے کٹر حریف نواز شریف اور عمران خان دونوں نے جمعہ کو چناو¿ میں جیت کا اعلان کیا ۔چناو¿ میں شریف کی پارٹی نے بطور پارٹی سب سے زیادہ سیٹیں جیتی ہیں کہا ہے کہ جیل میں بند عمران خان کے حمایتیوں نے سب سے زیادہ سیٹیں جیتی ہیں ۔عمران خان نے اے آئی کی مدد سے ایک ویڈیو پیغام بھیج کر کہا کہ عام چناو¿ میں جیت کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنے کٹر حریف نواز شریف کو بے وقوف شخص قرار دیا ہے ۔ادھر چناوی نتیجوں کے بعد سنیچر کو عمران خان کو عدالت سے بڑی راحت ملی ہے ۔راول پنڈی میں دہشت گردی انسداد عدالت نے عمران خان کو 9 مئی کے دنگوں سے متعلق 12 معاملوں میں ضمانت دے دی ۔سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 13 معاملوں میں ضمانت دے دی ہے۔ (انل نریندر)

17 جولائی 2012

لشکرسب سے خطرناک انتہا پسندتنظیم اور پاکستان سب سے خطرناک ملک

انتہا پسند حافظ سعید اور حال میں گرفتار ہوئے ابو جندال کے مطابق بھی 26/11 ممبئی حملوں کے پیچھے لشکر طیبہ اور آئی ایس آئی کا براہ راست ہاتھ تھا۔ ممبئی کے 2008ء آتنکی حملے کے دوران کراچی میں کنٹرول روم میں آئی ایس آئی کا افسر میجر سمیر علی کا موجود ہونا اس کو ثابت کرنے کیلئے کافی ثبوت ہے کہ لشکر اور آئی ایس آئی مل کر ہندوستان و دنیا کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ کہنا اس لئے بھی غلط نہ ہوگا کہ آج کی تاریخ میں لشکر طیبہ القاعدہ سے بھی زیادہ خطرناک انتہا پسند تنظیم بن چکی ہے اور پاکستان دنیا کا اس نقطہ نظر سے سب سے خطرناک ملک بن گیا ہے۔ حال ہی میں ایک سابق آئی ایس آئی افسر کا بھی خیال ہے کہ لشکر طیبہ اب دنیا کی سب سے خطرناک انتہا پسند تنظیم ہے۔ سابق آئی ایس آئی تجزیہ نگار بروس ریڈل جو آج کل جانس ہاکن اسکول میں ایک پروفیسر ہیں، کا کہنا ہے کہ لشکر پاکستان کے اندر آزادانہ طور پر کام کررہی ہے اور پاکستانی مسلح فورسز اور دیش کے خفیہ اداروں کے ساتھ مضبوط کنکشن ہیں۔فی الحال چونکہ ریڈل ایک پرائیویٹ ادارے کے ساتھ کام کررہے ہیں اس لئے ان کی رائے کو امریکی حکومت کے افسر کی رائے تو نہیں مانی جاسکتی لیکن حکومتوں کی رائے اپنے دیش کے حکمت عملی سازوں کے بدلے نظریئے سے ہی اپنی پالیسی کو بدلتی ہے۔ کچھ وقت پہلے لشکر کو اتنی گہرائی سے نہیں لیا جاتا تھا سمجھا جاتا تھا کہ وہ پاکستانی پنجاب کے جنوبی حصے میں سرگرم ایک بڑ بولی انتہا پسند تنظیم ہے جو کبھی لال قلعہ پر تو کبھی وائٹ ہاؤس پر جہادی جھنڈا لہرادینا چاہتی ہے۔ امریکی حکومت کا خیال تھا کہ اس قسم کی درجنوں آتنکی تنظیموں میں سے ایک لشکر بھی ہے۔ امریکہ اس لئے بھی زیادہ فکر مند نہیں تھا کیونکہ وہ مانتا تھا کہ یہ امریکہ پرحملہ نہیں کرسکتا لیکن 26/11 نے امریکہ کی رائے میں بھی تبدیلی لادی ہے۔ بروس ریڈل کا خیال ہے کہ لشکرطیبہ کا درجہ فی الحال دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیموں میں سب سے اونچا ہے کیونکہ ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت پاکستان سرکار بھی نہیں دکھا پاتی اور اس تنظیم کو پاکستانی فوج و اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی کسی نہ کسی سطح پر حمایت بھی حاصل ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق لشکر کے بانی حافظ سعید پاکستانی فوج کے کور کمانڈروں کی میٹنگوں میں بھی باقاعدہ حصہ لیتے ہیں۔ دنیا میں اور کوئی ایسی دہشت گرد تنظیم موجود نہیں جس کے لوگ کسی دیش کی راجدھانی میں ہتھیار لے کر ریلیاں نکالتے ہیں اور کسی دیگر دیش پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں اپنے لوگوں کا نام اجاگر ہونے کے بعد بھی ان کی سرگرمیوں پر کوئی روک نہیں لگاتا نہ ہی اسے اس سے کوئی فرق پڑتاہے۔ اس نتیجے تک پہنچنے کے لئے ریڈل نے 26/11 سے جوڑ کر تین بڑی گرفتاریوں عامر اجمل قصاب، ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اور ابو جندال کے بیانات کو بنیاد بنا یا ہے۔ ان تینوں کے بیانات میں ایک بات مشترک ہے کہ حملے کا خاکہ تیار کرنے میں آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کے کچھ افسر بھی شامل تھے۔ پاکستان آج بھی اس حملے کو نان اسٹیٹ ایکٹس کی کارروائی بتاتا ہے۔ الٹا پاکستان کے ایک وزیر نے تو کچھ دن پہلے یہاں تک کہہ دیا کہ 26/11 حملے میں بھارت کے اندر موجود لوگوں کا ہی اہم کردار تھا۔ پاکستان بیشک کتنا بھی انکارکرتا رہے لیکن ایک کے بعد ایک گرفتاری اس کے ملوث ہونے کو ثابت کرتی ہے۔ پاکستان بری طرح بے نقاب ہوتا جارہا ہے۔ بروس ریڈل کا کہنا ہے کہ سعودی عرب حکومت نے ابوجندال کی گرفتاری میں جیسی سرگرمی دکھائی اگر ایسی سرگرمی دیگر خلیجی ملکوں کی حکومتیں لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کو ملنے والے اقتصادی مدد اور سرپرستی دینے میں دکھائیں تو دیر سویر ان کی کمر بھی اسی طرح توڑی جاسکے گی جس طرح القاعدہ کی توڑی جارہی ہے۔ اصل مشکل تو یہ بھی ہے کہ خود امریکہ کے ذریعے پاکستان سرکار کو دی جانے والی مدد بھی تمام ذرائع سے پیسہ لشکر جیسے تنظیموں تک پہنچتا رہتا ہے اور جب تک امریکہ ان کو اپنے لئے خطرناک اور درد سر نہیں مانے گا تب تک ان کے علاج میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں بنے گی۔ آج لشکر طیبہ ، القاعدہ سے خطرناک دہشت گرد تنظیم اور پاکستان دنیا میں سب سے خطرناک دیش بن گیا ہے۔

15 جولائی 2012

پاک سپریم کورٹ اور زرداری میں آر پار کی لڑائی

پاکستان میں سپریم کورٹ اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان شے مات کا کھیل آہستہ آہستہ کلائمکس پر پہنچ رہا ہے۔سپریم کورٹ نے حال ہی میں صدر زرداری کو لٹکانے ٹھان لی ہے جبکہ زرداری تمام مشکلات اور دباﺅ کے باوجود بھی اپنے عہدے پر جمے ہوئے ہیں۔ تازہ حالت یہ ہے کہ پاکستان سپریم کورٹ نے موجودہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو صدر زرداری کے خلاف سوئٹزر لینڈ میں کرپشن کے معاملے کھولنے کے لئے خط لکھنے کے لئے 25 جولائی تک مہلت دی ہے۔ اس سے معاملے میں یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم کی کرسی گنوا چکے ہیں۔ اس کے بعد ہی اشرف نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا۔ جسٹس آصف سعید خان کھوسا کی سربراہی والی پانچ نکاتی بنچ نے امید ظاہر کی ہے کہ وزیر اعظم سوئس حکومت کو خط لکھ کر25 جولائی کو ہونے والی سماعت کے دوران اس معاملے پر اپنی رپورٹ دیںگے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں بنچ نے آئین کے تحت وزیر اعظم کے خلاف مناسب کارروائی کی بات بھی کہی ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فرمان زرداری سرکارکے تازہ بل کے بعد آیا ہے۔ صدر زرداری نے فرمان آنے سے پہلے ایک توہین عدالت بل پر دستخط کئے ہیں۔ جس میں سینئر لیڈروں کو عدالتی توہین سے مستثنیٰ رکھنے کی سہولت رکھی گئی ہے۔ عدالتی توہین بل 2012 اب قانونی شکل لے چکا ہے یہ قانون موجودہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو سپریم کورٹ کی ممکنہ توہین سے بچانے کے لئے لایا گیا ہے اور صدر زرداری کی حفاظت کے لئے یہ کام آئے گا۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور سینیٹ اور نیشنل اسمبلی میں توہین عدالت کا بل2012 پاس ہونے کے بعد صدر نے بھی اسے اپنی منظوری دے دی ہے۔ کوئی بھی عدالت اس بل کے مطابق اب صدر ، وزیر اعظم اور فیڈرل وزیر اور گورنر کے خلاف توہین عدالت کا معاملہ نہیں چلا سکے گی۔ زرداری کے خلاف سوئٹزرلینڈ میںکرپشن کے معاملے کھولنے سے متعلق مقدمے سپریم کورٹ میں شروع ہونے کے کچھ گھنٹے پہلے ہی صدر زرداری نے اس بل پر دستخط کئے تھے۔ یہ قانون سال 2003 اور 2004 میں اس وقت کے فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف کے ذریعے عدالت کی توہین سے متعلق جاری آرڈیننس کی جگہ لے گا۔ یہ بل نچلے ایوان یعنی نیشنل اسمبلی میں پیر کے روز پاس ہوا تھا۔ بڑے ایوان سینیٹ میں گرما گرم بحث کے بعد اس کو بدھ کو پاس کیا گیا۔ حکمراں پیپلز پارٹی کے ممبران کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ ایک سیاسی حکومت کو نیچا دکھانے کی کوشش کررہا ہے اور ان کی سرکار گرانے پر آمادہ ہے۔ پاکستان پہلے ہی دہشت گردی کی لعنت سے لڑ رہا ہے دیش میں اس وقت بجلی کا بحران اور اقتصادی بحران جاری ہے اور دیش کی سیاست عدم استحکام کو ایک لمبے عرصے سے برداشت کررہی ہے۔ پاکستان کی سویلین حکومت اور پاکستان فوج میں جب سے پرویز مشرف کو 2008 میں ہٹایا گیا تھا زبردست اقتدار کے لئے جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ نئے قانون کو یقینی طور سے قانونی چنوتی ملے گی۔ سارا تازہ 2007 سے شروع ہوا اور اس وقت صدر مشرف نے نیشنل ری کنسیلی ایشن آرڈیننس کے ذریعے قریب 8 ہزار لوگوں پر چل رہے کرپشن کے معاملے ختم کردئے تھے۔ اس کا فائدہ صدر زرداری اور رحمان ملک کو بھی ملا تھا۔ دسمبر2009ءمیں سپریم کورٹ نے اس آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے صدر سمیت سبھی لوگوں کے خلاف معاملے پھر سے کھولنے کے احکامات دئے تھے۔ سال 2008 میں سوئس انتظامیہ نے پاکستان حکومت کی اپیل پر زرداری کے خلاف چھ کروڑ ڈالر کے غبن کے معاملے کو بند کردیا تھا اس جھگڑے میں پاکستانی عوام بری طرح پھنسی ہوئی ہے اور کچھ حد تک بٹ بھی گئی ہے ۔ کچھ کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ ضرورت سے زیادہ بدلے کے جذبے سے کام کررہی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری کا کہنا ہے کہ وہ دیش میں کرپشن کو ختم کرکے ہی دم لیںگے۔ جہاں تک صدر زرداری کا سوال ہے عوام میں بہت ہی غیر مقبول ہیں اور ان سے نجات چاہتے ہیں۔ لیکن عوام دیش سے جمہوریت کو ختم نہیں ہونے دینا چاہتی۔ انہیں ڈر ہے کہ سرکار اور سپریم کورٹ کی اس لڑائی کا فائدہ کئی پاکستانی فوج پھر سے نہ اٹھا لے اور اقتدار پر قابض ہوجائے۔ ایک راستہ ہے اسمبلی کے وسط مدتی انتخابات ۔یہ زرداری کروانے کوتیار نہیں وہ زیادہ سے زیادہ دن اقتدار سے چپکے رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ کھیل کتنے دن اور چلے گا یہ دیکھنا باقی ہے۔

01 جون 2012

لادن کی خبر دینے والے ڈاکٹر افریدی کو 33 سال کی قید


پچھلے سال القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کو مارگرانے کی کارروائی میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ساتھ دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل افریدی کو ایک عدالت نے ملکی بغاوت کا قصوروار قرار دیتے ہوئے 33 سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ سن کر تعجب بھی ہوا اور عجیب غریب بھی لگا۔ خبر قبائلی علاقے کے سیاسی نمائندے مطاہر زیب خان نے پاکستانی اخبار ڈان کو بتایا کہ شکیل کو چار نفری قبائلی عدالت میں پیش کیاگیا۔ عدالت نے انہیں33 سال کی قید اور 3.2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ سزا سنائے جانے کے بعد شکیل کو پیشاور کی سینٹرل جیل میں بھیج دیا گیا۔ شکیل کو پاکستان جرائم دفعہ کے بجائے برطانوی قانون فرنٹئر کرائم ریگولیشن ایکٹ کے تحت قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت دیش سے بغاوت کے معاملے میں موت کی سزا کی سہولت نہیں ہے۔ ڈاکٹر شکیل نے سی آئی اے کی ہدایت پر ایبٹ آباد میں ایک ٹیکا مہم چلائی تھی تاکہ اس کی مدد سے اسامہ اور اس کے خاندان کے لوگوں کے ڈی این اے نمونے لئے جاسکیں۔ مہم سے ملے ثبوتوں کی بنیاد پر ہی امریکہ نے اسامہ بن لادن کے خلاف گذشتہ مئی مہینے میں کارروائی کرکے مار گرایا تھا۔ پاکستان کے ذریعے اٹھائے گئے اس قدم سے یہ ثابت ہوجاتا ہے پاکستان آتنک واد سے لڑنے کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اندر خانے پاکستان ہر طبقے کے آتنک وادی چاہے وہ القاعدہ کا ہو یا پھر لشکر طیبہ سے وابستہ، اس سے ہمدردی رکھتا ہے۔ پاکستان اس آدمی سے بدلہ لے رہا ہے جس نے دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گرد کو ختم کرنے میں مدد کی تھی۔ دنیا کے کسی اور کونے میں شاید ڈاکٹر افریدی کا سنمان کیا جاتا ہو لیکن پاکستان میں وہ ایک ملک دشمن ہے جس نے دیش کے خلاف غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد کی تھی۔ اگر پاکستان کے دوہرے گیم اس قصے سے بے نقاب ہوتے ہیں تو امریکہ پر بھی سوال اٹھتے ہیں کہ وہ اپنے ذرائع یعنی مخبر کو بچا نہیں پایا۔ اس قصے سے پاکستان اور امریکی رشتوں میں مزید کشیدگی بڑھے گی۔ امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری بل کلنٹن نے فیصلے کو غیر انصافی اور دشمنی پر مبنی بتایا۔ ساتھ ہی امریکی سینیٹ کے ایک پینل نے اسلام آباد کو دی جانے والی مدد میں کٹوتی بھی کردی ہے۔ ہلیری نے کہا کہ افریدی کے ساتھ جو کیا گیا ہے وہ انصاف پر مبنی نہیں ہے انہیں قصوروار ٹھہرائے جانے پر افسوس ہے، انہوں نے جو مدد کی وہ دنیا کے سب سے خطرناک قاتلوں میں سے ایک کا خاتمہ کرنے میں کی، یہ صاف طور پر پاکستان کے اور ہمارے اور پوری دنیا کے مفاد میں تھا۔ دوسری طرف پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرنا کسی بھی دیش کے قانون کے خلاف ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے پر عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ ہماری آزادانہ عدلیہ ہے جس کو پاکستان پیپلز پارٹی بحال کیا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے پہلے سے کشیدہ رشتوں میں ایک اور باب جڑ گیا ہے۔ ہماری رائے میں پاکستان کا یہ قدم آتنک وادیوں کے حوصلے کو بڑھانے والا ہے۔
(انل نریندر)

15 مئی 2012

پاکستان دہشت گردی جوابدہی ایکٹ 2012



Published On 15 May 2012
انل نریندر
امریکہ اور پاکستان کے رشتوں میں دراڑ بڑھتی جارہی ہے۔ امریکہ پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان کے خلاف وہ ہتھیار استعمال کرنا چاہ رہا ہے اس سے پاکستان کو تکلیف پہنچے اور پاکستان کو چبھیںیہ ہے ڈالر۔اب امریکہ پاکستان پر ڈالر کے ذریعے سے کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ ایک نیا قانون لا رہا ہے اس کے تحت کسی امریکی کی موت میں پاک میں سرگرم انتہا پسند تنظیموں یا خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ ہونے پر امریکہ کے ذریعے پاکستان کو دی جارہی اقتصادی مدد میں کٹوتی ہوگی اور فی امریکی شہری کی قیمت 5 کروڑ ڈالر (قریب 250 کروڑ روپے) کی کٹوتی کی تجویز ہے۔ امریکہ کے کسی بھی شہری کی اگر آتنکی حملے میں موت ہوجاتی ہے تو پاکستان کو 5کروڑ ڈالر کا ہرجانہ بھرنا پڑسکتا ہے۔ یہ رقم امریکہ کے ذریعے پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی مدد سے کاٹی جائے گی۔ امریکی کانگریس میں پیش ایک بل میں یہ تجویز شامل کی گئی ہے۔ امریکی کانگریس ممبران ڈونا روہرا بیکر کی جانب سے یہ بل پیش کیا گیا ہے۔ اسے پاکستانی آتنک واد جوابدہی ایکٹ2012 کا نام دیا گیا ہے۔ اس بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے آتنک وادیوں کے گرپوں سے گہرے رشتے ہیں۔ پاک اسپانسر دہشت گرد تنظیم امریکی شہریوں کا قتل کررہی ہیں۔ امریکہ کے ہر شہری کے قتل کے بدلے پاکستان کی امدادی رقم سے کاٹی جانے والی رقم متعلقہ متاثرہ خاندان کو دی جائے گی۔ بل پیش کرتے ہوئے بیکر نے کہا کہ پاکستان نے دہائیوں سے آتنکوادیوں کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔ پاکستان کی مدد پر ہی ان آتنکیوں کی بھارت اور افغانستان پر حملہ کرنے کی ہمت ہوتی ہے۔ بل کے تحت امریکی محکمہ دفاع کو افغانستان۔ پاکستان میں مارے جانے والے ان شہریوں کی فہرست تیار کرنی ہوگی جن کی موت میں پاکستان کی آتنکی تنظیم یا آئی ایس آئی کا ہاتھ ثابت ہوگا۔ بیکر کا کہنا ہے کہ امریکہ بہت طویل عرصے سے پاکستان کو اقتصادی مدد دے رہا ہے اس کے باوجود آتنکی تنظیموں کو پاکستان کی مدد جاری ہے۔ ان کی خفیہ ایجنسیوں نے لادن کو ہم سے چھپائے رکھا لیکن اب اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے ہی الزامات کے درمیان 2011 کے آخر میں امریکہ نے پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی مدد میں سے 70 کرور ڈالر (37.48 ارب روپے) کی کٹوتی کردی ہے۔ امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے سابق چیئرمین مائک مولن نے حال ہی میں دعوی کیا کہ ستمبر2011 ء میں آئی ایس آئی کے کہنے پر حقانی نیٹ ورک نے افغانستان میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنایا تھا۔ جون 2011ء میں کابل میں واقع انٹر کونٹینینٹل ہوٹل پر آتنکی حملے کے پیچھے بھی آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا۔ امریکہ مسلسل پاکستان پر بے پائلٹ جہازوں سے حملے کررہا ہے۔ حالانکہ پاکستان سرکار نے اس کی سخت مذمت کی ہے لیکن امریکہ اسے روکنے کو تیار نہیں ہے۔ ادھر پاکستان نے اس کی سرزمیں سے افغانستان میں نیٹو فورسز کے لئے ضروری سامان بھیجنے والے ٹرکوں پر روک لگادی ہے۔ اب پاکستانی حکام نے سامان بھیجنے والے ہر ٹرک اور کنٹینر پر 1100 امریکی ڈالر وصولنے کی بات رکھی ہے۔ گذتہ نومبر میں نیٹو کی جانب سے کئے گئے حملوں میں درجنوں پاکستانی فوجیوں کی موت کے بعد سپلائی لائن کو بند کردیا گیا تھا۔ بھارت کی بات کی ایک طرح سے تصدیق ہوئی ہے۔ بھارت ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ پاکستان سرکار ،فوج امریکی اقتصادی مدد کا بیجا استعمال کررہا ہے۔ وہ ان پیسوں کو اپنی آتنکی ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں لگا رہا ہے۔ اس پیسے سے وہ آتنکی تنظیموں کی مدد کرتا ہے اور ان کے نشانے پر بھارت اور افغانستان اور خود امریکہ بھی ہے۔ اگر یہ بل پاس ہوجاتا ہے اور امریکہ اپنے ارادوں پر اڑیل رہتا ہے تو یقینی طور پر پاکستانی دہشت گردی نیٹ ورک کی کمر ٹوٹے گی لیکن اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ امریکہ دھمکی تودیتا ہے لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو بہانے بنا کر اس کو ٹالنے کی کوشش کرتا ہے۔ دیکھیں پاکستان اس تازہ ریزولیوشن پر کیا رد عمل ظاہرکرتا ہے؟
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Pakistan, Terrorist, USA, Vir Arjun

01 مئی 2012

یوں ہوا اسامہ بن لادن کا خاتمہ



Published On 1 May 2012
انل نریندر
امریکہ کی نامور میگزین دی ٹائم نے پہلی مرتبہ اسامہ بن لادن کے متعلق ایک خفیہ رپورٹ شائع کی ہے جس میں صدر براک اوبامہ نے لادن کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔ حالانکہ اس پورے آپریشن کی ساری کارروائی پہلے بھی منظر عام پر آچکی ہے لیکن میگزین ٹائم کی رپورٹ ایک طرح سے پختہ رپورٹ مانی جاسکتی ہے۔ خفیہ میمو میں اوبامہ نے بحریہ کے سیلس کمانڈو کی ایک ٹیم کو لادن کے ایبٹ آباد میں واقع ٹھکانے سے پکڑنے کے احکامات دئے تھے۔ اس میمو پر سی آئی اے کے اس وقت کے چیف لیون پینیٹا نے بھی دستخط کئے ہیں۔ اسامہ کے ٹھکانے پر نہ ملنے کی صورت میں اس کو تلاش کرنے کے بعد ہی لوٹنے کا دیا تھااب جبکہ اسامہ بن لادن کی موت کو ایک سال ہوجائے گا میمو میں مزید کہا گیا تھا کہ وقت اور آپریشن کے چلانے اور فیصلے اور حملے کے کنٹرول سے متعلق سبھی معاملات کی کمان ایڈمرل میکربین کے ہاتھوں میں ہوں گی۔ اسامہ پر فیصلہ لئے جانے سے پہلے وائٹ ہاؤس میں مہینوں چلی خفیہ و مشکل تبادلہ خیالات پر ٹائم میگزین نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس کے لئے اوبامہ صدارتی عہدے کا داؤ لگا رہے تھے۔ دنیا کے انتہائی مطلوب شخص کو پاکستان میں امریکی کمانڈو بھیج کر پکڑنے کا فیصلہ اتنا آسان نہیں تھا۔ اسامہ کے ساتھ آخری مڈبھیڑ پر ٹائم میگزین نے لکھا ہے کہ اندھیری رات تھی ،بجلی گل تھی اورگھپ اندھیرا تھا اس نے اسامہ کی بے چینی بڑھا دی۔اس نے اس گیٹ کو کھولا جو اس کے کمرے تک پہنچنے کے سبھی راستوں کو بند کرتاتھا اور گیٹ کو صرف اندر سے ہی کھولا جاسکتا تھا۔اس نے یہ دیکھنے کیلئے سر باہر نکالا کہ وہاں کیا ہورہا ہے؟ فوراً وہ سیلس کمانڈوں کی نظروں میں آگیا اور وہ سیڑھیوں پر چڑھ گئے۔ اسامہ نے ایک بڑی غلطی اور کردی، وہ دروازہ بند کرنا بھول گیا جس سے کمانڈو سیدھے اس کے کمرے میں دھابہ بول دیا۔ کمانڈو نے لادن کے سینے اور بائیں آنکھ میں گولیاں مالیں۔ اس سے اسے موقعہ پر ہی ماردیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے یہ ایک ناقابل بیاں منظر تھا۔ اس کے دماغ کے پرخچے اڑ گئے اور چھت سے جا چپکے۔ اس کا کچھ حصہ آنکھوں سے باہر نکل آیا۔ بستر کے نزدیک کی جگہ بھی اسامہ کے خون سے لت پت ہوگئی۔ ایک دہائی سے چھپتا پھر رہا اسامہ بیحد تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ بچ کر نکلنے کی اس نے کئی اسکیمیں نہیں بنائی تھیں اس کے گھر سے کوئی خفیہ راستہ باہر نہیں جاتا تھا۔ لادن مارے جانے سے پہلے پاکستان میں کئی حملوں کی اسکیم بنا رہا تھا۔ ایبٹ آباد کمپلیکس سے ملے دستاویز سے ایک بات سامنے آئی ہے۔ میڈیا میں شائع رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ لادن نے القاعدہ کے نمبر دو سرغنہ ایمن الظواہری اور بڑے آتنکیوں کے ساتھ مل کر پاکستان پر بہت سے حملوں کی اسکیم بنائی تھی۔ ادھر امریکہ کی ایک فیڈرل عدالت نے لادن کو تقریباً ایک برس پہلے پاکستان میں مارے جانے کے ویڈیو اور تصویریں جاری کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ ایبٹ آباد میں مارے جانے کے بعد لادن کی لاش کو سمندر میں دفنا دیا گیا لیکن سکیورٹی وجوہات سے اس آپریشن سے وابستہ ویڈیو اورتصویریں پبلک کے سامنے نہیں لائی گئی تھیں۔ اسامہ بن لادن کی برسی سے چند دن پہلے پاکستان نے اس کی تین بیوہ بیویوں سمیت 14 رشتے داروں کو ملک سے نکال کر سعودی عرب بھیج دیا ہے۔ سخت حفاظت کے درمیان لادن کے خاندان کو درمیانی رات میں راولپنڈی کے چکلال فوجی ہوائی اڈے سے لیجایا گیا جہاں سے خاص جہاز سے انہیں سعودی عرب بھیج دیاگیا۔ لادن پچھلے سال 2 مئی کو مارا گیا تھا۔
Abbotabad, Anil Narendra, Daily Pratap, Obama, Osama Bin Ladin, Pakistan, Vir Arjun

29 اپریل 2012

پاکستان سپریم کورٹ کا متنازعہ فیصلہ


Published On 29 April 2012
انل نریندر
حالانکہ پاکستان سپریم کورٹ نے عدلیہ اور چنی اور حکومت میں ٹکراؤ ٹالنے کی صورت میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو جمعرات کو عدالت میں توہین عدالت کا قصوروار مانا لیکن عدالت نے انہیں عدالت برخاست ہونے تک ہی یعنی سماعت کے اختتام تک انہیں کیبن میں موجود رہنے کی علامتی سزا سنائی لیکن اس سے ہمیں نہیں لگتا کہ یہ تنازعہ ختم ہوگا۔ یہ علامتی سزا صرف 30 سیکنڈ کی تھی ۔ان30 سیکنڈ نے کئی سوال کھڑے کردئے ہیں۔ قانون کا قد کبھی عوام سے بڑا نہیں ہوسکتا۔ دراصل قانون بنایا ہی عوام کی سہولیت کے لئے گیا ہے۔ ہمارا خیال ہے پاکستان سپریم کورٹ نے وزیر اعظم گیلانی کو سزا دیکر کوئی اچھی مثال پیش نہیں کی ہے۔ عدالت کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ وزیر اعظم بھی چنی ہوئی سرکار کے نمائندہ اور پاکستان میں جمہوریت کی علامت ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کی ہمت کی داد دینی ہوگی۔ آج بھی وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔ آج بھی وہی اشو بنا ہوا ہے کہ وزیر اعظم اس بات کے لئے تیار نہیں ہیں کے وہ صدر زرداری کے کھاتوں کی جانچ کے لئے سوئٹزرلینڈ کے حکام کو خط لکھیں۔ اگر وزیر اعظم اس مسئلے پر سپریم کورٹ سے سمجھوتہ کرتے تو ممکن ہے ان کی سرکار بلاتاخیر گر جائے۔ وزیر اعظم اگر نہیں مانتے تو سپریم کورٹ کہیں زیادہ سخت قدم اٹھا سکتی ہے۔عدالت نے یہ کہا تھا کہ زرداری کو کرپشن کے خلاف معاملوں میں جو معافی سابق صدر پرویز مشرف نے دی تھی وہ غیر قانونی طور پر تسلیم نہیں ہے۔ اس لئے وزیر اعظم گیلانی کو سوئٹزرلینڈ سرکار کو چٹھی لکھنی چاہئے۔ سرکار سپریم کورٹ کا یہ آدیش نہیں مان سکتی۔2007 میں فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمد افتخار چودھری کو برخاست کردیا تھا۔ اس کے کچھ عرصے کے بعد وہ واپس بحال ہوکر آگئے اور عدالت کے تمام پرانے ملزم بحال کردئے گئے۔ ایسے ہی لوگ رکھے گئے جو یہ فیصلہ سنا سکیں کہ جنرل پرویز مشرف وہاں صدارتی چناؤ لڑ سکیں۔ ایک فوجی صدر کے ہاتھوں اس طرح سے بے عزت ہونے کے بعد سے پاکستان کی عدلیہ اس موقع کی تلاش کررہی تھی ، جب وہ پھر سے اپنی طاقت دکھا سکے۔ پاکستان سرکار کی حکمت عملی اب بھی یہی ہے کہ سپریم کورٹ کوئی سخت قدم اٹھائے تو وہ جمہوریت کے حق میں شہادت کے اشو پر جنتا کی ہمدردی پائے۔ سپریم کورٹ بھی سرکار کی اس حکمت عملی سے واقف ہے اس لئے اس کی کوشش ہے کہ اگلے عام چناؤ تک اس طرح کا بھروسہ اتنا کم ہوجائے کہ وہ چناؤ نہ جیت سکیں۔ اس لڑائی میں عدلیہ کو پاکستانی فوج کی پوری حمایت حاصل ہے۔ فی الحال راحت کی بات یہ ہے کہ فوج خود اقتدار سیدھے نہیں ہتھیانا چاہتی۔ پاکستانی فوج کا سب سے قریبی امریکہ بھی یہ نہیں چاہتا کہ پاکستان میں جمہوریت ختم ہو۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس معاملے کو اتنا بڑھایا۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے پاک پارلیمنٹ بھی شاید متفق ہو۔ زرداری کی یہ سرکار پانچ سال پورا کرنے جارہی ہے۔ یہ اپنی آپ میں بہت بڑی بات ہے۔ پارلیمنٹ چناؤ عنقریب ہونے والے ہیں۔ بہتر ہوتا سپریم کورٹ اس معاملے کو عوام کی عدالت پر چھوڑدیتی؟ بہتر ہوتا اس معاملے میں گیلانی کے تین بار کورٹ میں موجود ہونے کو ہی اس بات کا ثبوت مان لیتی کہ منتخبہ حکومت عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور اس نے اپنی بھول کا اعتراف کرلیا ہے۔ سزا دے کر کورٹ نے اپنے غرور کا ایک طرح سے ثبوت دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس بات پر توجہ نہیں دی کہ ان کے اس قدم سے پاکستان میں غیر جمہوری طاقتوں کو پھر سے سرگرم ہونے کا موقعہ ملے گا اور داؤ پر صرف زرداری سرکار ہی نہیں خود عدلیہ اور پاکستانی عوام کا مستقبل بھی ہوگا۔
Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, Pakistan, Vir Arjun, Yousuf Raza Gilani

24 اپریل 2012

سیاچن پر جنرل کیانی کے بیان کی حقیقت؟



Published On 24 March 2012
انل نریندر

پاکستان میں فوج اور زرداری حکومت میں اختلافات ہیں اس کی ایک مثال ہمیں پاک فوج کے سربراہ اشفاق کیانی کے سیاچن سے متعلق بیان سے ملتی ہے۔ بہت کم جنتا میں بولنے والے جنرل کیانی نے پچھلے دنوں کہا تھا بھارت اور پاکستان دونوں کو سیاچن سے اپنی فوجیں واپس بلا لینا چاہئیں اور دونوں ملکوں کو سیاچن کے اشو کو بات چیت سے حل کرنا چاہئے۔ خیال رہے کہ سیاچن میں اس مہینے کے شروع میں برفیلی چٹانے گرنے سے 125 پاک فوجی سمیت139 لوگوں کی دب کر موت ہوگئی تھی۔ جہاں ہمیں اس بات کا دکھ ہے کہ اتنے پاکستانیوں کی موت ہوئی ہے ہم ان کے کنبوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں وہیں ہم یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ ہمیں جنرل کیانی کی باتوں پر زیادہ یقین نہیں کرنا چاہئے۔ادھر جنرل کیانی کا بیان آیا تو ادھر کچھ دیر بعد ہی پاک وزارت خارجہ نے وضاحت جاری کردی کے سیاچن مسئلے پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا جنرل کیانی کے سیاچن کے دورہ میں جہاں پاکستانی فوجیوں کی موت ہوئی تھی وہ اس موت کے قہر پر ان کا محض جذباتی رد عمل تھا؟ کیا ہم اس کا یہ مطلب نکال سکتے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری کے دورۂ بھارت کے ساتھ رشتوں میں بہتری کی کوشش کو پاکستانی فوج کی حمایت حاصل ہے؟اتفاق سے پاکستان کے سابقوزیر اعظم نواز شریف نے بھی زرداری کے دورۂ ہند کی حمایت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ سیاچن مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لئے وہ اپنی طرف سے پہل کریں۔ مشکل یہ ہے کہ پاکستان کے قول اور فعل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پاکستان سے ملنے والے متضاد بیانات اکثر مشکلیں پیدا کردیتے ہیں ۔
حال ہی میں پاکستانی لیڈروں کے بیانوں سے کچھ مثبت اشارے ملے ہیں مثلاً وزیر داخلہ رحمان ملک کی ہندوستان کوآگاہی کرنا کے طالبانی جنگجو بھارت میں دراندازی کرسکتے ہیں اور اسے روکنے کیلئے پاکستان بھارت سے پورا تعاون کرنے کو تیار ہے۔ لیکن انہی رحمن ملک نے نواز شریک کی اس تجویز پر بھی نکتہ چینی کی کے پاکستان کو ایک طرفہ قدم اٹھاتے ہوئے سیاچن سے اپنی فوج ہٹا لینی چاہئے۔ ایسے سلسلوں کی وجہ سے ہم جنرل کیانی کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لے سکتے۔ جو اپنے دیش اپنے استحکام کو بھارت سے دشمنی کے حوالے سے تشریح کرتا آرہا ہے اور جہاں تقسیم کے ناقابل عمل ایجنڈے کو پورا کرنے کی باتیں کھولے عام کہی جاتی ہوں ،وہاں کے فوج کے سربراہ کی باتوں پر بھلے ہی یقین نہ آئے لیکن یہ فطری ہی ہے تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے کم سے کم تین مرتبہ سیاچن سے بھارت کی فوجوں کو ہٹانے کیلئے ناکام فوجی آپریشن کئے۔ یہاں کا موسم اتنا خطرناک ہے کہ جنگ کی بہ نسبت برفیلی چٹانیں گرنے اور سرد لہر سے زیادہ لوگ مرتے ہیں۔ دونوں ہی دیشوں کو یہاں اپنی ڈیفنس فوج پر جتنا خرچ کرنا پڑتا ہے اس کے عوض انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں ملتا۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ ہم اپنی فوجوں کی واپسی پر بات چیت کرسکتے ہیں لیکن اس سے پہلے دونوں ہندوستان ۔پاکستان کی فوجیں اس وقت کہاں کہاں ہیں ان کی نشاندہی کی جائے اور یہ کرنے سے پاک بچتا رہا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, General Kayani, Indo Pak War, Pakistan, Siachin, Vir Arjun

17 اپریل 2012

پاکستان میں ہندو جہنم کی زندگی بسر کرنے پر مجبور



Published On 17 March 2012
انل نریندر
پچھلے ہفتے ہندی کے روزنامہ 'ویر ارجن' میں ایک قاری کا خط شائع ہوا۔ اس میں بڑے جذباتی انداز میں پاکستان سے آئے ہندوؤں کی حالت بیان کی گئی ہے۔ میں قارئین کے لئے شری رمن گپتا، روہتاش نگر، شاہدرہ کا خط قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہوں تاکہ ہم پاکستان میں رہ رہے ہندوؤں کی حقیقی حالت کوسمجھ سکیں اور جان سکیں کے وہاں وہ کیسے زندگی بسر کررہے ہیں۔ رمن گپتا لکھتے ہیں ''چاہے کچھ بھی کرو صاحب ہمیں واپس پاکستان نہ بھیجو۔ وہاں ہم پر ظلم ڈھایا جاتا ہے، بہو بیٹیوں کی عصمت کو روندا جاتا ہے، ہمیں دشمن کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، وہاں ہماری زندگی جہنم ہوگئی ہے۔ہم پر رحم کیجئے صاحب، ہم پاکستان نہیں جانا چاہتے۔'' یہ فریاد ان 27 ہندو خاندانوں کی ہے جو پاکستان سے پریشان اور مایوس ہوکر بھارت میں پناہ لینے کیلئے آئے ہوئے ہیں۔ غازی آباد پولیس نے انہیں 16 دسمبر کو کڑاکے کی سرد رات میں 12.15 منٹ پر غازی آباد کے ڈاسنا دیوی مندر سے زبردستی بسوں میں ٹھوس کر واپس دہلی کے مجنوں کے ٹیلے پر بھیج دیاہے۔ ایک طرف تو ہمارے دیش کی حکومت مسلمانوں کو مختلف طرح کے ریزرویشن اور اپنا سرکاری پیسہ اور ہندوؤں کے مندروں کے پیسے کی طرح طرح کی اسکیمیں چلا کر اقتصادی مدد کررہی ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش سے آئے تقریباً چار کروڑ مسلمان دراندازوں کو راشن کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس بنا کر دے رہی ہے۔ ان کا ووٹر لسٹ میں نام تک چڑھا رہی ہے جبکہ مسلم دراندازوں کی وجہ سے کئی ضلع مسلم اکثریتی بن چکے ہیں۔ یہ جن علاقوں میں رہتے ہیں وہاں کے ہندوؤں کا انہوں نے جینا مشکل کردیا ہے۔ آئے دن وہاں دنگے ہوتے ہیں، ہندوؤں کی بہو بیٹیوں کا اغوا کر ان کے ساتھ زبردستی اور جبراً تبدیلی مذہب کیا جاتا ہے۔ کئی علاقوں میں تو ہندواپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ ان دراندازوں کو دیش سے باہر نکالنے کیلئے بھارت کو سپریم کورٹ اور حکومت ہند کو بار بارکہا جاچکا ہے لیکن سرکار کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس کے برعکس پاکستان سے بھارت میں پناہ گزیں بھارت بھکت 27 ہندو خاندانوں کو کسی بھی قیمت پر مرنے کے لئے پاکستان واپس بھیجنے پر آمادہ ہے۔ یہ ہندو بھارت کو اپنا دیش، یہاں کے ہندو دھرم کو اپنا مذہب مانتے ہیں۔ بھارت ماتا کے یہ پتر اپنی بھارت ماتا کی گود کے لئے ترس رہے ہیں۔ سب جانتے ہیں کے بھارت اور پاکستان کا بٹوارہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی بنیاد پر کانگریس کے بڑے نیتاؤں کی رضامندی سے ہوا تھا۔ شری رمن گپتا کا یہ خط میں نے اس لئے پیش کیا تاکہ ہم پاکستان میں رہ رہے بچے کچے ہندوؤں کا دکھ درد سمجھ سکیں۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن ظہرہ یوسف نے ایک خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کو اسلام آباد سے فون پر بتایا کے ہندو فرقہ ڈرا ہوا نہیں ہے۔۔۔ بلکہ ناراض ہے اور لاچار محسوس کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان صوبہ سندھ میں ہندو لڑکیوں کی زبردستی تبدیلی مذہب اور زرفدیہ کے لئے اغوا کیا جارہا ہے۔ حال ہی میں جبری تبدیلی مذہب کا ایک معاملہ ہائی کورٹ میں آیا ہے جس میں ایک نوجوان خاتون نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے پاس واپس لوٹنا چاہتی ہے۔ انسانی حقوق رضا کار نے کہا کہ ہندو فرقے کے لوگ زبردستی تبدیلی مذہب کو ختم کرنے کیلئے قانون لانے کی مانگ کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی کل 17 کروڑ کی آبادی میں 5.5 فیصد ہندو لوگ ہیں۔ ان میں90 فیصدی سندھ میں رہتے ہیں جبکہ باقی پنجاب اور بلوچستان میں آباد ہیں۔ پاکستان میں کچھ سیاسی پارٹیاں اور ہندو تنظیم سندھ صوبے میں ہندو فرقے کی لڑکیوں کے اغوا اور ان کی تبدیلی مذہب کے خلاف سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق رضاکار کلب ، یوتھ ہندو فارم پاکستان اقلیتی کمیشن، عوامی جمہوری پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان ہندو پریشد نے ایتوار کو ان واقعات کے احتجاج میں کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ بھی کیا تھا۔ ان سبھی نے الزام لگایا ہے کہ میر پور مٹھیلو شہر میں ایک ہندو لڑکی ٹوئنکل کماری کا اغوا کا اس کا زبردستی مذہب تبدیل (ہندو سے اسلام) کرا دیا گیا۔ پاکستان ہندو پریشد کے کنوینر رمیش کمار بکوانی نے کراچی سے ٹیلیفون پر بتایا کہ دیش میں ہندوؤں کے لئے ماحول محفوظ نہیں ہے۔ ہندوؤں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ ہندوؤں کے اغوا کے واقعات کی تعداد 2007ء کے بعد سے بڑھی ہے ہر ایک برس ہمارے پاس تقریباً50 ہندو لڑکیوں کی تبدیلی مذہب کی شکایتیں آتی ہیں۔ حکومت ہند کو پاکستان سرکار سے یہ اشو ہٹانے چاہئیں ۔جہاں بھارت میں اقلیتوں کے لئے ان کی سلامتی کے لئے موزوں قانون ہیں تو پاکستان پر ایسا کرنے کے لئے کیوں نہیں دباؤ بنایا جاسکتا؟ رہا سوال بھارت میں پاکستان سے آئے ہندوؤں کو ہندوستان میں رہنے کی اجازت تو دی ہی جانی چاہئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Pakistan, Pakistani Hindu, Vir Arjun

13 اپریل 2012

ملئے پاکستان کے یوراج بلاول بھٹو سے



Published On 13 March 2012
انل نریندر
24 سالہ بلاول بھٹو کو بھارت واسیوں نے پہلی بار قریب سے دیکھا جب وہ اپنے والد آصف زرداری کے ساتھ حال ہی میں اجمیرشریف زیارت کرنے آئے تھے۔ ان کا موازنہ بھارت کے یوراج راہل گاندھی سے کیا جارہا ہے۔یہ کہنا شاید غلط نہ ہوکے اگر راہل گاندھی بھارت کے یوراج ہیں تو بلاول بھٹو پاکستان کے یوراج ہیں۔بلاول بھٹو ابھی انگلینڈ کی آکسفورڈیونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں۔ اپنی ماں بینظیر بھٹو کے پہلی بار وزیراعظم بننے کے ایک ماہ پہلے ستمبر1988ء میں پیدا ہوئے بلاول کو اپنی ماں کے قتل کے تین دن بعد ہی اس پارٹی (پی پی پی) کی باگ ڈور سنبھالنی پڑی جسے بھٹو پریوار نے اپنے خون سے سینچا تھا۔ان کی زندگی نے بھی کچھ ویسی ہی کروٹ لی ہے جیسی ان کی ماں بینظیر بھٹو کی زندگی نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے پھانسی پر چڑھائے جانے کے بعد لی تھی۔ حالانکہ بلاول کی ماں بینظیر کے سنگھرش کا ایک لمبا اتہاس لکھنے کی شروعات بھر کرتے دکھ رہے ہیں۔ بلاول پر لگتا ہے کہ سب سے زیادہ اثر اپنی ماں بینظیر کا پڑا ہے۔ سیاست اور پرسنل وجوہات سے وہ اپنے نام کے آگے بھٹو لکھنا پسند کرتے ہیں ،زرداری نہیں۔ قاعدے سے ان کا پورا نام بلاول زرداری ہونا چاہئے تھا لیکن وہ بلاول بھٹو لکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ بلاول کے بچپن پر پاکستان کی سیاست کا اثر چاہے ان چاہے طریقے سے ہمیشہ ہی پڑا۔ جب11 سال کی عمر میں انہوں نے پاکستان چھوڑاان کی ماں اپنے سیاسی مستقبل کی لڑائی لڑ رہی تھیں اور ان کے والد اور اب دیش کے صدر آصف علی زرداری جیل میں تھے۔ بلاول کا بچپن اور پڑھائی زیادہ تر پاکستان سے باہر ہوئی۔ پڑھائی ان کی دوبئی اور برطانیہ میں ہوئی۔ اپنی ماں کی طرح انہوں نے بھی آکسفورڈ سے اپنی پڑھائی کی ہے۔ پچھلے سال اپنے والد آصف علی زرداری کی طبیعت خراب ہونے پر وہ پاکستان آئے اور پاکستان کی طوفانی سیاست میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔ اپنے اسٹیٹس کی وجہ سے برطانیہ میں بھی عام طالبعلم کی طرح نہیں رہ پائے۔دہشت گردوں کا ٹارگیٹ ہونے کی وجہ سے برطانیہ سرکار کو بھی آکسفورڈ میں پڑھائی کے دوران ان کی حفاظت پر سال بھر میں قریب ایک ملین پاؤنڈ یعنی قریباً8 کروڑ روپے خرچ کرنے پڑے۔ان کی ماں نے ان کا نام بلاول رکھا جس کا مطلب ہوتا ہے ،جس کے برابر کوئی نہ ہو۔ جون2010ء میں بلاول آکسفورڈ یونیورسٹی سے اپنی پڑھائی پوری کر اپنے وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ جب وہ دہلی اور اجمیر حال ہی میں آئے تو 7 ریس کورس روڈ میں ان کی ملاقات بھارت کے یوراج راہل گاندھی سے ہوئی۔ راہل بلاول کی بالکل برابر والی کرسی پر بیٹھے تھے۔دونوں کے درمیان غیر ضروری بات چیت کے کئی دور ہوئے۔دونوں کے بیچ بہت کچھ ایک جیسا ہے۔ دونوں کے پریوار اپنے اپنے ملکوں میں اہم سیاسی حیثیت رکھتے ہیں۔اگر راہل کے والد راجیو گاندھی آتنک واد کا شکار ہوچکے ہیں تو بلاول کی ماں بینظیر کا قتل بھی دہشت گردوں نے کیا۔ خاندانی وراثت کے چلتے بلاول کو پارٹی سربراہ کا عہدہ طشتری میں سجا ہوا مل گیا۔ کچھ ایسے ہی راہل کی سیاست میں بڑھتا گراف دیکھا جاسکتا ہے۔ ہاں ایک فرق ہے کے راہل نے بلاول کی طرح یکا یک پارٹی صدر کا عہدہ نہیں سنبھالا ہے۔ بلاول پاکستان میں ایک نئی آب و ہوا ، سوچ لاسکتے ہیں لیکن انہیں ایسا کرنے کیلئے بہت لمبے چنوتی پورن راستے کو طے کرنا ہوگا۔ فی الحال بلاول بھارت میں ایک اچھی چھاپ چھوڑ گئے ہیں اور ایک نئی امید۔
Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Benazir Bhutto, Bilawal Bhutto, Daily Pratap, Pakistan, Vir Arjun

11 اپریل 2012

زرداری کچھ ٹھوس یقین دہانی کی پوزیشن میں نہیں ہیں



Published On 11 March 2012
انل نریندر
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بھارت کے بلاوے پر ہندوستان نہیں آئے۔ وہ اپنی مرضی سے اجمیر کی زیارت کیلئے بھارت آئے تھے۔انہوں نے زیارت ہی کی، دہلی تو انہیں اس لئے آنا پڑا کیونکہ راستہ یہیں سے بنتا تھا۔ وہ سیدھے اجمیر تو نہیں جاسکتے تھے۔ جب وہ دہلی آہی رہے تھے تو بھارت اپنی مہمان نوازی کو کیسے بھول سکتا تھا۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نے اس کے لئے دوپہر کا لنچ رکھا۔ دونوں نیتاؤں میں بند کمرے میں 40-45 منٹ بات چیت ہوئی۔بعد میں کہا گیا کہ بھارت نے آتنک واد اور خاص کر حافظ سعید پر کارروائی کا اشو اٹھایا۔منموہن سنگھ نے 26/11 کے گنہگاروں کو سزا دینے پر زوردیا۔ بتایا جاتا ہے ہند کے خلاف پاک سرزمین سے سر اٹھا رہے آتنک واد کو کچلنے کے لئے صدر زرداری کی توجہ مرکوز کرائی۔ ادھر زرداری صاحب نے کشمیر کے سرکریک، سیاچن اشو کو سلجھانے پر زوردیا۔ پاکستانی سیاستداں خلیل چشتی کی قید کا مسئلہ پاکستان کی جانب سے اٹھایا گیا لیکن منموہن سنگھ نے سربجیت سنگھ کی پھانسی کا اشو اٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔ اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ صدر زرداری کے اس دورہ کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔ آج کی تاریخ میں ان کی اپنے ملک میں حالت بہت کمزور ہے۔ ایک طرف فوج اور دوسری طرف پاکستان سپریم کورٹ زرداری صاحب کی مقبولیت پر زیرو پر ہے۔ ایسے وقت جب ان پر اپنے ملک میں اتنا دباؤ ہو پتہ نہیں کے اجمیر شریف وہ کیا دعا مانگنے آئے تھے؟ ساتھ ہی بیٹے کو بھی لے آئے۔ بیٹے بلاول کو بھی ایک طرح سے بین الاقوامی منظر پر متعارف کرادیا۔ زرداری صاحب کی کوشش یہ ہی ہوگی کہ ان کے بعد نوجوان لیڈر بلاول پاکستان میں اقتدار سنبھالیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دونوں ملکوں کے یووراج(راہل اوربلاول) کا آپس میں ملنا اچھا رہا۔ بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور زرداری کے درمیان 40 منٹ کی ون ٹو ون بات چیت ہوئی۔ اس میں ہمیں تو شبہ ہے کہ محض 40 منٹ کی بات چیت میں کشمیر، دہشت گردی، سیاچن، سرکریک، ویزا سہولت، حافظ سعید، 26/11کے قصورواروں کو سزا دلوانا ، تجارت سے لیکر کرکٹ وغیرہ اشوز پر مفصل بات چیت کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔ بس ابھی تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان اشوز پر سرسری طور پر تبادلہ خیال ہوا۔ مستقبل کا روڈ میپ تیار ہوا ہے۔ زرداری صاحب آج اس صورت میں نہیں ہیں کہ وہ کسی بھی اشو پر کسی بھی طرح کا تبصرہ کرسکیں۔ پاکستان میں اصل اقتدار پاکستانی فوج کے پاس ہے۔ وہی فیصلہ کرتی ہے کسی اشو پر پاکستان کی کیا پالیسی ہونی چاہئے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستانی لیڈر بھارت میں تو وعدہ کرجاتے ہیں لیکن اپنے وطن پہنچ کر وعدے سے مکر جاتے ہیں۔ زرداری صاحب کے سسر مرحوم ذوالفقار علی بھٹو جب شملہ معاہدے کے لئے بھارت آئے تھے تو طرح طرح کی باتیں ،وعدے کر گر تھے، لیکن پاکستان لوٹتے ہی وہ سب سے مکر گئے۔ زرداری صاحب کے پاس آج کی طرح کوئی مینڈیٹ نہیں ہے وہ کسی بھی اشو پر بھارت سے بات چیت کرسکیں۔اس ملاقات سے نہ تو ادھر اور نہ ادھر کوئی خاص امید لگائی گئی تھی۔ زرداری صاحب آج اپنے گھر میں بری طرح سے مسائل سے گھرے ہوئے ہیں ویسے دیکھا جائے تو بھارت کے وزیر اعظم بھی کم گھرے ہوئے نہیں ہیں لیکن پاکستان میں جس طرح کی پریشانی سے زرداری صاحب دوچار ہیں وہ بھارت سے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان کی مشکل اس کی فوج اور خفیہ ایجنسی ہی نہیں ، اس کے اندرونی حالت بھی ہیں۔ اس کے سامنے نیا بحران امریکہ سے خراب رشتے کا بھی ہے۔ حالانکہ پاکستان امریکہ کو چنوتی دیتا نظر آرہا ہے لیکن اس کی اہم وجہ پاکستان میں امریکہ کے تئیں بڑھتی ناراضگی ہے۔ پاکستان اکیلے چین کی حمایت پر ساری دنیا سے نہیں لڑ سکتا اس لئے بھی پاکستان کی اب کوشش ہے کہ پڑوسی بھارت سے رشتے بہتر ہوں۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ زرداری کسی کے اشارے پر بھارت آئے۔ پچھلے کچھ دنوں سے دہشت گردی کا اشو چھوڑ کر تجارت وغیرہ سیکٹر میں پاکستان کے رویئے میں تھوڑی تبدیلی آئی ہے لیکن پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا بھارت کو اس سے سب سے بڑی شکایت دہشت گردی کو اپنی سرزمین پر بڑھاوا دینا ہے اور اس پر کسی بھی طرح کا کنٹرول آصف زرداری لگانے میں اہل نہیں ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حافظ سعید پر ان کی رائے وہی ہے جو پاکستان سرکار کی ہے۔ ان کا دوسرا اہم تبصرہ یہ تھا کہ انہیں پاکستان سے جانے کے لئے کہہ دیا گیا تھا ۔ ان دونوں بیانات کے اشاروں سے یہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ بھارت ان سے بہت امید نہ کرے۔ بات صحیح بھی ہے فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی اور آئی ایس آئی و جہادی نیتا ہی پاکستانی اقتدار میں اصلی کرتا دھرتا ہیں۔
Ajmer Shrif, Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Bilawal Bhutto, Daily Pratap, India, Pakistan, Rahul Gandhi, Vir Arjun

07 اپریل 2012

نوٹنکی باز پاکستان


Published On 7 March 2012
انل نریندر
جب میں نے یہ خبر پڑھی کہ پاکستان کی ایک عدالت نے القاعدہ کے سابق سرغنہ اسامہ بن لادن کے خاندان کے14 افراد کو9 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے ، کیونکہ ان پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے پاکستان آئے اوررہے تو مجھے ہنسی آگئی۔ پاکستان کو نوٹنکی کرنے کی عادت سی بن گئی ہے۔ بن لادن کی تین بیویوں دو بیٹیوں کو باقاعدہ طور سے 3 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تین بیویوں میں سے سب سے چھوٹی یمن کی ہے اور باقی دو سعودی عرب کی باشندہ ہیں۔
پچھلے سال2 مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز نے لادن کو مار گرایا تھا۔ انہیں وہیں سے پکڑا گیا تھا۔ اب یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسامہ بن لادن برسوں سے پاکستان میں ہی رہ رہا تھا۔ اس کا سیدھا رابطہ پاکستان خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے بنا ہوا تھا۔ برطانیہ کے اخبار دی ٹیلی گراف نے دوبارہ سرگرم ہوئی انٹر نیٹ ویب سائٹ وکی لکس کے ذریعے شائع کردہ 50 لاکھ نئے دستاویزات سے اس کی تصدیق کی ہے۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے کم سے کم 12 افسران کو لادن کے ایبٹ آباد میں واقع محفوظ مقام پر چھپے ہونے کی خبر تھی اور وہ اپنی موت سے پہلے اسامہ جس مکان میں رہ رہا تھا اسے بنوانے کے لئے آئی ایس آئی نے خاص طور سے ایک آرکیٹیکٹ مقرر کیا تھا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ لادن کے اس ٹھکانے پر لشکر طیبہ کے لوگ بھی آتے جاتے رہتے تھے۔ رپورٹ میں آگے بتایا گیا پاکستان کی فوجی اکیڈمی کے پاس بنے لادن کے ایبٹ آباد میں واقع ٹھکانے کے اصلی دستاویزتو غائب ہیں لیکن اس کے آرکیٹیکٹ کو آئی ایس آئی نے باقاعدہ طور پر مقرر کیا تھا۔ آرکیٹیکٹ کو یہ کہہ کر مقرر کیا گیا تھا کہ ایک معزول انتہائی اہم شخص اس مکان میں رہنے آرہا ہے ۔ یہ ہی نہیں اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں اپنے چار بچوں کے ساتھ رہتا تھا اور اس کے دوبچوں کی پیدائش ایبٹ آباد کے سرکاری ہسپتال میں ہوئی تھی اور پھر بھی پاکستان یہ دعوی کرے کے اسے اسامہ کے پاکستان میں رہنے کی جانکاری نہیں تھی، مضحکہ خیز نہیں ہے تو یہ کیا ہے؟ یہ کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں؟ آج تک پاکستان نے کسی بھی بات کو قبول کیا ہے؟
یہ تو داؤد ابراہیم کو بھی نہیں جانتے۔ بار بار یہ ہی کہتے ہیں کہ داؤد پاکستان میں نہیں ہے جبکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ کراچی کے کلکٹن ایریا میں برسوں سے رہتا ہے اور وہیں سے اپنی سرگرمیاں چلا رہا ہے۔ اب لادن کی بیوی اور بچوں کو جیل میں یہ کہہ کر ڈالنا کے وہ غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں رہ رہے تھے، یہ نوٹنکی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ لیکن اب پاکستان کی نوٹنکی بے نقاب ہوچکی ہے۔ ساری دنیا اسے جان چکی ہے اس لئے شاید ہی کوئی اب یہ مانے کے پاکستانی فوج آئی ایس آئی اور پاک سرکار کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ایبٹ آباد میں کون رہ رہ ہے۔
Abbotabad, Anil Narendra, Daily Pratap, Osama Bin Ladin, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

06 اپریل 2012

حافظ سعید انتہائی مطلوب دہشت گرد فہرست میں دوسرے نمبر پر

دیرآید درست آید۔ اتنے دن کے بعد آخر کار امریکہ کوبھی یہ سمجھ میں آگیا کہ اسامہ بن لادن کے بعد آج کی تاریخ میں دنیا میں سب سے خطرناک دہشت گردی تنظیم لشکرطیبہ بن گئی ہے اور اس کا چیف حافظ سعید دنیا کا انتہائی مطلوب دہشت گرد ہے۔ امریکہ نے پیر کی رات حافظ سعید کے سرپر 10 ملین ڈالر (قریب50 کرور روپے) کے انعام کا اعلان کیاتھا۔ حافظ سعید ممبئی میں ہوئے حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہے اور وہ پاکستان میں رہ کر اپنی دہشت گردی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے نشانے پر امریکہ، بھارت خاص طور پر ہیں۔ بھارت نے سعید کو لیکر کئی بار پاکستان پر دباؤ بنایا لیکن پاکستان نے ہمیشہ معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ ہی بہانا بنایا کہ سعید کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ حافظ سعید نے انعام کے اعلان کے بعد پاکستانی ٹی وی چینلوں میں کہا کہ ہم کسی غار میں نہیں چھپ کر بیٹھے ہیں اور اگر امریکہ میں ہمت ہے تو وہ ہمیں گرفتار کرلے ۔ یہ ہی نہیں سعید نے انعام کے اعلان کے بعد امریکہ پر زور دار حملہ بولا اور کہا پاکستان کے راستے ہونے والی نیٹو سپلائی روکے جانے اور ڈرون حملوں کے خلاف ملک گیر احتجاج سے واشنگٹن مایوس ہوگیا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی چینل نے حافظ سعید کے حوالے سے کہا ہم غاروں میں نہیں چھپے بیٹھے ہیں جو ہمیں تلاش کرنے کیلئے انعام رکھے جائیں۔
سعید نے کہا مجھے یقین ہے کہ یا تو امریکہ کی بہت محدود جانکاریاں ہیں اور وہ بھارت کے ذریعے دی جارہی غلط اطلاعات کی بنیاد پر فیصلے لے رہا ہے یا پھر وہ مایوس ہے۔ امریکہ کی ریوارڈس فار جسٹس ویب سائٹ نے حافظ سعید کو عربی اور انجینئرنگ کا سابق لیکچرر اور جماعت الدعوی کا بانی ممبر بتایا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق یہ کٹر پسند اسلامی تنظیم ہے جس کا مقصد بھارت کے کچھ حصوں اور پاکستان میں اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ لشکر طیبہ اس تنظیم کی لڑاکو شاخ ہے امریکہ کی موجودہ انتہائی مطلوب دہشت گرد فہرست میں حافظ سعید کا نمبر دوسرا ہے۔ پہلے نمبر پر القاعدہ کا سرغنہ ایمن الظواہری کا نام ہے جن پر 2.5 کروڑ ڈالر کا انعام پہلے ہی مقرر ہے۔
امریکہ کے اس قدم کا بھارت نے خیر مقدم کیا ہے۔ اس طرح سے بھارت کے ان الزامات کی تصدیق ہوتی ہے کہ لشکرکا چیف آج کی تاریخ میں سب سے زیادہ خطرناک آتنکی ہے۔ بھارت کے داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نے کہا کہ امریکہ کا قدم اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے۔ وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا امریکہ کا یہ قدم ممبئی حملوں کے قصورواروں کو سزا دلوانے اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے امریکہ اور بھارت کے عزم کوظاہرکرتا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اجمیر شریف زیارت کرنے کے لئے تشریف لا رہے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم نے زرداری کے لئے لنچ کا اہتمام کیا ہے۔ امید ہے کے لنچ میں بات چیت کے دوران منموہن سنگھ زرداری کے ساتھ اس تازہ اعلان پربھی غور و خوض کریں گے۔ ادھر پاکستان کے اندرونی معاملوں کے وزیر رحمان ملک نے کہا ہے کہ ہمیں امریکہ کی طرف سے انعام کے اعلان کے بارے میں کوئی سرکاری طور پر جانکاری نہیں ملی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Hafiz Saeed, Lashkar e Toeba, Pakistan, Terrorist, 26/11, Asif Ali Zardari,

31 مارچ 2012

پاکستان میں، ہندو۔ شیعہ اور عیسائی سمیت اقلیتیں نشانے پر ہیں



Published On 31 March 2012
انل نریندر
پاکستان میں لا اینڈ آرڈرکے حالات خراب ہوتے جارہے ہیں۔ بدامنی کا عالم یہ ہے کہ آدمی صبح گھر سے نکلے تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کے رات کو واپس وہ صحیح سلامت لوٹ سکے۔ نامعلوم بندوقیچیوں نے منگل کو کراچی شہر میں متحدہ قومی موومنٹ کے لیڈر اور ان کے بھائی کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ اس کے بعد شہر میں تشدد بھڑک اٹھا۔ فسادیوں نے درجنوں گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیا اور تین افراد مارے گئے۔ ایم کیو ایم کے لیڈر منصور مختار کے گھر میں گھس کر ان کو گولیوں سے بھونا گیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر صغیر احمد نے قتل کے لئے امن کمیٹی ذمہ دار مانا ہے جو مبینہ طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈروں سے وابستہ ہے۔مہاجروں اور دیگر اقلیتوں جن میں ہندوستانی نژاد لوگ بھی شامل ہیں، اکثر نشانہ بنتے ہیں۔ ایتوار کی رات کو کراچی کے کلکٹن علاقے میں ایک مشاعرہ ہورہا تھا۔ اس میں ہندوستان کے جانے مانے شاہر منظر بھوپالی اور اقبال اشعر بھی شامل تھے۔ مشاعرے کی جگہ پر نامعلوم بندقچیوں نے حملہ کردیا۔ حملے میں خدا کے شکر سے ہندوستان کے دونوں شاعر بال بال بچ گئے۔ منظر بھوپالی نے بچایا کے جب ایتوار کی رات کو مشاعرے کی جگہ کے باہر وہ کھڑے تھے تب ہی اندر سے گولیاں چلنے کی آواز آنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں دہشت کا ماحول بن گیا۔ لوگ جان بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ انہیں پولیس نے موقعہ واردات سے صحیح سلامت باہر نکالا۔ کراچی کے اس مشاعرے کو ایم کیو ایم کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کی حالت مسلسل خراب ہوتی جارہی ہے اور وہ اپنی سلامتی کو لیکر کافی فکرمند ہیں۔ اپنی 2011ء کی سالانہ رپورٹ میں اس نے بتایا ہے کہ پچھلے سال 389 اقلیتی طبقے کے لوگوں کو مارا گیا ان میں 100 کے قریب شیعہ بھی شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق جن لوگوں کا قتل کیا گیا ان میں سب سے زیادہ شیعہ فرقے کے تھے۔ احمدی فرقے بھی تشدد کا شکار ہورہے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے پاکستان میں اقلیتی فرقہ خاص کر ہندو اپنے آپ کو بہت غیر محفوظ محسوس کررہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جس میں ہندو فرقے پر تشدد برپا کیا گیا اور انہیں دھمکیاں دی گئیں جبکہ ہندو لڑکیوں کے اغوا اور زبردستی شادی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ہندو فرقے کے 150 سے زائد لوگوں کو بھارت کی پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان ہندوؤں نے بھارت کے حکام سے کہا ہے اگر انہیں پاکستان واپس بھیجا گیا تو ان کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ لگتا ہے کہ پاکستانی سماج میں قوت برداشت ختم ہورہی ہے۔ رپورٹ میں ایک مثال بھی دی گئی ہے کے ایک معاملے میں آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ پر شریعت کی بے حرمتی کا الزام لگایا گیا ۔ وہ بھی محض اس لئے کیونکہ وہ ایک لفظ کا مطلب صحیح سے نہیں ادا کر پائی۔رپورٹ میں عزت کے نام پر خواتین کے قتل کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں کہ پچھلے سال قریب943 عورتوں اور لڑکیوں کو عزت کے نام پر قتل کیا گیا۔ مرنے والی عورتوں میں 7عیسائی اور2 ہندو بھی شامل تھیں۔
پاکستان میں انسداد بے حرمتی شرعی قانون کی وجہ سے کئی ایسے لوگ زیادتیوں کا شکار ہیں جنہوں نے دو دہائیوں میں اپنے دیش چھوڑ کر بیرونی ممالک میں پناہ لی ہوئی ہے۔ انہی لوگوں میں ایک شخص جے جے جارج ہے جنہیں ایش نندا قانون کی وجہ سے 2007ء میں پاکستان چھوڑ کر فرانس میں بسنا پڑا۔ وہ ایک کامیاب وکیل تھے اور پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے مختلف امور پر قانونی صلاح دینے کا کام کیا کرتے تھے۔ 2002ء میں جب انہوں نے محمود اختر نام کے ایک قادیانی نوجوان کا مقدمہ لڑا تو انہیں طرح طرح کی دھمکیاں دی گئیں۔ ان سے کہا گیا کہ وہ یا تو وکالت چھوڑ دیں یا پھرملک چھوڑدیں یا محمود اختر کا مقدمہ چھوڑدیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے حالات شروع سے ایسے نہیں تھے۔ 1986ء میں ایش نندا قانون کے بننے کے بعد حالات تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔ جے جے جارج نے بتایا کہ ایش نندا قانون کی وجہ سے عیسائی فرقے کے لوگوں کو سب سے زیادہ مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ کسی بھی شکایت پر بغیر ثبوتوں کے غورکئے دو لوگوں کی گواہی کی بنیادپر قصوروار ٹھہرادیا جاتا ہے۔ آج پاکستان میں ہندو۔ شیعہ اور عیسائی سمیت دیگر اقلیتیں جتنی غیر محفوظ ہیں وہ پہلے کبھی نہیں تھیں۔
Anil Narendra, Christian, Daily Pratap, MQM, Pakistan, Pakistani Hindu, PPP, Shia, Vir Arjun

02 مارچ 2012

آیا تو تھا قبر سے سونا نکالنے پر بن گیا پاکستانی جاسوس



Published On 2 March 2012
انل نریندر

پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے پچھلے کچھ دنوں سے بھارت میں جاسوسی کرنے کے طور طریقوں میں تھوڑی تبدیلی کی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں میں پکڑے گئے پاکستانی جاسوسوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آئی ایس آئی اب ایسے لوگوں کو بھارت جاسوسی کرنے کے لئے بھیج رہی ہے جن کے پکڑے جانے سے انہیں کوئی زیادہ فرق نہ پڑے۔ وہ ایسے لوگوں کو تلاشتی ہے جن کا بھارت سے کوئی رشتہ ہوتا ہے اور جوکرمنل ذہنیت کے ہوتے ہیں۔ جو پیسہ کمانے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ وہ بھارت میں ہی آکر بس جاتے ہیں اور اپنا کام تب تک کرتے رہتے ہیں جب تک وہ پکڑے نہ جائیں۔ حال ہی میں دہلی پولیس نے ایک ایسے ہی جاسوس کو پکڑا ہے۔ اس کی کہانی کسی بالی ووڈ فلم کی کہانی سے کم نہیں ہے۔ آیا تو وہ گووا کی ایک قبر میں دبے سونے کو نکالنے تھا لیکن وقت نے ایسی پلٹی ماری کے وہ جاسوس بن گیا۔ ای میل اور چیٹنگ سے یہ شخص پاکستان میں بیٹھے اپنے آقاؤں کو انڈین آرمی کے متعلق اہم جانکاریاں پہنچا رہا تھا۔ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں کو گمراہ کرنے کیلئے اس نے باقاعدہ کولکتہ میں شادی بھی کرلی تھی ا س کے دو بچے بھی ہیں۔ اپنا کام کرنے کے لئے اس نے فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر کے یہاں ڈرائیور کی نوکری کر لی تھی۔ اس شخص کا نام ہے کامران اختر۔ اس کی کہانی تب شروع ہوئی جب اسے ملنے اس کا چاچا محمد سلیم پاکستان گیا تھا۔ کامران کراچی میں چوری کیا کرتا تھا۔ چاچا نے گووا میں چوری کرنے کے لئے کامران کو بھارت آنے کی دعوت دی۔ 1992ء میں کامران پاکستانی پاسپورٹ پر ہندوستان آیا۔ اٹاری بارڈر کے راستے کامران کولکتہ آیا اور چاچا سلیم کے یہاں رکا۔ یہاں سے دونوں گووا گئے ۔ سلیم کا ایک واقف کار اشرف خاں بھی ان کے ساتھ گیا۔ جس جگہ پر بنی قبر میں دبے سونے کو انہیں چرانا تھا وہاں ایک علیشان عمارت بن چکی تھی لہٰذا ان کا پلان فیل ہوگیا۔ اس کے بعد انہوں نے وہاں چوریاں شروع کردیں لیکن دوسری ہی چوری میں وہ پکڑے گئے اور تین سال تک جیل میں رہے۔جیل سے چھوٹنے کے بعد کامران کولکتہ پہنچا اور وہاں پر اس نے آصف حسین نام سے ہندوستانی پاسپورٹ بنوا لیا۔ایک مہینے کا پاکستانی ویزا لیکر وہ پاکستان چلا گیا لیکن اس کے بارے میں آئی ایس آئی اور پاکستان فوجی انٹیلی جنس کو پتہ چل گیا۔ انہوں نے اسے پکڑ کر جاسوس بنانے کا فیصلہ کیا۔ ٹریننگ کے ساتھ ساتھ اسے ہندی بھی سکھائی گئی۔ اس کے بعد آصف حسین کو نیپال بھیجا گیا اور وہاں سے 1997ء میں وہ سڑک کے راستے کولکتہ پہنچا۔اس کے بعد اس نے ریڈیمیٹ گارمینٹ کا کام شروع کا۔ دو سال بعد اس نے 24 پرگنہ کی باشندہ ایک لڑکی سے شادی کرلی۔ اس نے آصف حسین نام سے شناختی کارڈ، پین کارڈ، ڈرائیوننگ لائسنس بھی بنوا لیا۔ بینک اکاؤنٹ کھول لیا۔ بینک کھاتے میں پاکستان سے سعودی عرب ہوتے ہوئے آیا پیسہ جمع کرالیا۔ کولکتہ میں اس نے ایک فوجی افسر کے یہاں ڈرائیور کی نوکری حاصل کرلی۔ افسر کے ساتھ اسے ایسٹرن کمان ہیڈ کوارٹر ولیم فورٹ جانے کا بھی موقعہ ملا۔ یہاں دودھ بیچنے والوں اور ڈاک دینے والوں کو اس نے اپنا ذریعہ بنا لیا۔ دہلی میں ایسے ہی کسی سورس سے خفیہ دستاویز حاصل کرنے کے لئے وہ آیا تھا۔ دستاویز حاصل کرنے کے بعد وہ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر پہنچا تھا جہاں اسے دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے گرفتار کرلیا ہے۔ یہیں سے ایک دلچسپ کہانی شروع ہوئی۔ آیا تو تھا سونا نکالنے اور بن گیا جاسوس۔
Anil Narendra, Daily Pratap, ISI, Pakistan, Spy, Vir Arjun

28 فروری 2012

امریکی کانگریس میں ریزولوشن کے بعد بلوچستان معاملہ گرمایا



Published On 28nd February 2012
انل نریندر
پاکستان سپریم کورٹ نے بلوچستان میں قتل عام کے معاملوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کو واقعات سمیت سکیورٹی حالات کے بارے میں رپورٹ سونپنے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس میاں شفیع اللہ جان کی سربراہی میں تین ججوں کی ایک ڈویژن بنچ نے ملٹری انٹیلی جنس ایجنسیوں کو 7 مارچ تک یہ رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔ میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق معاملے کی بند کمرے میں سماعت ہوگی۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے ایک کانگریس ممبر نے ایوان نمائندگان میں ایک ریزولوشن پیش کر بلوچ عوام کو حق خود ارادیت کا اختیار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستان حکومت نے اس ریزولوشن کو دیش کی سرداری پر حملہ قراردیتے ہوئے اس ریزولوشن کو مسترد کردیا تھا۔ اس سے گھبرا کر پاکستان حکومت نے بلوچ لیڈروں سے بات چیت کی تجویز رکھی ہے۔ پاک حکومت نے عام معافی دینے کی پیشکش بھی کی ہے۔ بلوش نیشنلسٹ لیڈروں نے انہیں معافی دینے کی پیشکش کرنے والی حکومت پاکستان سے بات چیت شروع کرنے کیلئے سخت شرائط پیش کی ہیں۔ معذولی کی زندگی بسر کرتے ہوئے بلوچ لیڈروں کے لئے وزی داخلہ رحمان ملک کی عام معافی سے متعلق پیشکش پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جمہوری وطن پارٹی کے نیتا اور 2006ء میں ایک فوجی آپریشن میں مارے گئے اکبر خاں بکتی کے پوتے شاہزین بکتی نے بات چیت شروع کرنے کے لئے آٹھ شرطیں رکھی ہیں ۔ اس میں بلوچستان میں فوجی آپریشن بند کرنا، صوبے میں نئی فوجی چھاؤنیاں بنانے پر پابندی، اکبر خاں بکتی کے قتل میں رول کے لئے سابق صدر پرویز مشرف کو گرفتار کرنے، ان پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ شامل ہے۔ شاہزین بکتی نے کہا کہ بلوچستان میں نئی فوجی چھاؤنی بنانا بند ہونا چاہئے ساتھ ہی خفیہ ایجنسیوں کے رول پر بھی پابندی لگنی چاہئے۔ بلوچ ورکروں کی لاشوں کو نئی دیکھنا چاہتے انہوں نے کہا فوج کا آپریشن بند ہونا چاہئے اور 13 ہزار لاپتہ بلوچ لڑکوں کا پتہ لگانا چاہئے۔ مشرف کو اپنے والد کاقاتل بتاتے ہوئے انہیں بلوچستان لاکر مقدمہ چلانے کی مانگ پیش کی تھی۔ سوئٹزرلینڈ میں رہ رہے بلوچ نیشنلسٹ لیڈر اور بلوچ ری پبلکن پارٹی کے چیف برہمدت بکتی بلوچ لوگوں کے حق خود ارادیت کے حق کے لئے امریکی کانگریس میں پیش ہوئے ایک بل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے شورش زدہ بلوچستان صوبے میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے ٹیلی فون پر کوئٹہ پریس کلب میں موجود اخباری نمائندوں سے کہا کہ امریکہ کو وزیرستان میں ضرور مداخلت کرنی چاہئے اور بلوچوں کے نسلی صفائے کے آپریشن کو روکنا چاہئے۔ امریکی کانگریس میں بلوچستان آف نگم کا اختیار فراہم کرنے سے متعلق ریزولوشن کے پیش ہونے کے بعد بلوچستان میں سیاسی حالات میں تیزی سے اتار چڑھاؤ ہوتا نظر آرہا ہے۔ پاکستان میں اس ریزولوشن کے خلاف سخت ناراضگی ہے ۔ پاکستان حکومت میں روہرا باشیر کے ریزولوشن پر سخت اعتراض جتایا ہے اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اسے دیش کی سرداری پر حملہ قراردیا ہے۔ ریزولوشن کے اثر کو کم کرنے کے لئے پی پی محاذ سرکار اب بلوچستان کے لئے ایک سیاسی اقتصادی اور سلامتی سے متعلق پیکیج کے لئے آل پارٹی میٹنگ بھی بلانا چاہ رہی ہے حالانکہ ریزولوشن سے پاکستان لگتا ہے ہل گیا ہے۔
America, Anil Narendra, Balochistan, Daily Pratap, Pakistan, USA, Vir Arjun, Yousuf Raza Gilani

24 جنوری 2012

پاکستانی عوام نے راحت کی سانس ضرور لی ہوگی


Published On 23th January 2012
انل نریندر
پاکستان کی عوام نے تھوڑی راحت کی سانس ضرور لی ہوگی۔ تیزی سے بدل رہے واقعات پر تھوڑا بریک لگا ہے ۔زرداری حکومت کاجس طرح سے پاکستانی فوج اور پاکستان سپریم کورٹ سے ٹکراؤ ہورہا تھا۔ اس سے لگ رہا تھا کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن سبھی فریقین نے تھوڑا ضبط سے کام لیا اور یہ خطرناک صورت حال فی الحال ٹل گئی۔ کتنے دن یہ قائم رہتی ہے یہ کچھ نہیں کہا جاسکتاہے۔لیکن ہاں سپریم کورٹ کی اگلی تاریخ 24جنوری یعنی آج تک معاملہ ٹلا ہے۔ آج اس میموگیٹ معاملے پر سماعت ہوگی۔ اس معاملے میں حکومت اورفوج پھر ایک بار آمنے سامنے ہوگی۔ فی الحال ہم یہ کہہ سکتے ہیں پاکستان میں جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔ عوام کی جیت ہوئی ہے۔ ہمیں پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی تعریف کرنی ہوگی کہ انہوں نے پاکستانی جنرلوں اورسپریم کورٹ دونوں سے بہادری کے ساتھ اپنا موقوف رکھا اور اپنے پتے اچھی طرح سے کھیلیں ۔ اتنا طے ہے کہ پاکستانی عوام فوج کی حکومت کسی بھی قیمت پر برداشت کرنے کو تیار نہیں ۔جہاں تک پاک میں مالکانہ حق کاسوال ہے شاید صرف اللہ ہی اس کا جواب دے سکتا ہے۔ 2012اور 2013 پاکستان کے لئے دو اہم سال ثابت ہوسکتے ہیں۔ اسی دوران افغانستان سے امریکی فوج کو ہٹنا ہے اس کے بعد افغانستان میں کیا ہوگا۔ اس کاسیدھااثر پاکستان اور ہندوستان پر پڑنے والا ہے۔ 2013 میں ہی چیف جسٹس محمد افتخار چودھری ریٹائر ہونے والے ہیں اور مارچ 2013میں ہی پارلیمنٹ کے 5سال پورے ہوں گے۔ پھر ستمبر2012 میں صدر آصف علی زرداری کے عہدے مدت پانچ سال پوری ہوگی۔ نومبر 2013 جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ملازمت میں تین سال کی توسیع پوری ہوجائے گی۔ 2012 ہنگامی حالت میں شروع ہوا ہے۔ آئی ایس آئی چیف احمد شجاع پاشا کی میعاد اسی مارچ کو پوری ہورہی ہے۔ اور خبر آچکی ہے کہ انہیں کوئی توسیع نہیں دی جائے گی۔ پھر پاکستان میں تین سال بعد مارچ کامہینہ اسی لئے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں سینٹ( راجیہ سبھا) کی آدھی سیٹیں خالی ہونے والی ہے۔ سینٹ میں سیاسی تعذیہ بدلیں گے ۔سابق صدر جنرل مشرف کا پاکستان لوٹنا لٹک گیا ہے۔کبھی خبر آتی ہے کہ وہ لوٹ رہے ہیں اور کبھی خبر آتی ہے کہ فی ا لحال وہ نہیں آرہے ہیں۔ حالانکہ پاکستانی پارلیمنٹ کے چناؤ اگلے مہینے مارچ میں ہونے ہیں لیکن عمران خان اور نواز شریف کو چناؤ کرانے کی جلدی لگی ہوئی ہے۔ انہیں لگتا ہے مستقبل قریب میں چناؤہوجاتے ہیں تو انہیں اقتدار کے قریب آنے میں مددملے گی۔ پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی گزشتہ جمعرات کو سپریم کورٹ پہنچے تو انہوں نے دوٹوک لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ میں عدلیہ کا پورا احترام کرتا ہوں۔ لیکن آصف زرداری کے خلاف کرپشن کے مقدمے پھر کھولنے سے ہاتھ کھڑے کرتا ہوں کیونکہ آئین کے تحت صدر کو ہی پوری چھوٹ حاصل ہے۔ یہ جواب انہوں نے سات ججوں کی ایک بنچ کے ذریعہ پوچھے گئے اس سوال کہ صدر زرداری پر سوئٹزرلینڈ میں منی لینڈرنگ کا معاملہ پھر سے کھولنے کے لئے خط لکھنے کے عدالتی احکامات کی تعمیل کیوں نہیں ہوئی۔ گیلانی کے وکیل اعتراز احسن نے کہا کہ سویس سرکار کو خط لکھنے کے لئے کورٹ کو پاکستان سرکار پر دباؤ نہیں ڈالناچاہئے۔ کیونکہ اس کامذاق بنتا ہے سویس انتظامیہ کا کہناہے کہ ویانہ معاہدے کے مطابق صدر کو اس کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ کورٹ نے پوچھا کیا حکومت نے کبھی سوئس انتظامیہ سے رابطہ قائم کیا ہے؟ جواب داخل کرنے کے لئے گیلانی کو عدالت نے ایک ماہ کاوقت دیا ہے۔ قابل غور ہے کہ پاک صدر آصف علی زرداری اور ان کی مرحومہ اہلیہ و سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو سال 2003میں سوئٹزر لینڈ کی ایک عدالت نے کروڑوں ڈالر کی خردبرد کا قصوروار پایا تھا۔ یہ معاملہ تب کا ہے جب بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھی۔ بعدمیں ان دونوں نے سوئٹزر لینڈ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی اس کے بعد 2008میں پاکستانی حکومت کی درخواست پر سوئٹزر لینڈ نے یہ جانچ بند کردی تھی۔ سال 2008میں بے نظیر بھٹو کے خلاف ہزاروں ایسے معاملے بند کئے گئے تھے جس کی وجہ سے وہ چناؤ میں حصہ لینے کے لئے پاکستان آپائی تھی۔ اس کے کچھ عرصے کے بعد ان کو قتل کردیا گیا تھا۔ 2009 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے ان معاملوں کو بند کرنے کو غیرآئینی قرار دیاتھا اور تب سے دونوں حکومت اور سپریم کورٹ میںیہ ٹکراؤ چل رہاتھا۔ کرپشن اور بدانتظامی کے الزاموں کے بعد پچھلے تین برسوں سے صدر زرداری کی کرسی ڈگمگارہی ہے۔ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ان کی یہ کرسی کتنے اور دن کے لئے محفوظ ہے۔ لیکن فی الحال کچھ وقت کی مہلت ضرور مل گئی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Pakistan, Vir Arjun

18 جنوری 2012

آئی ایس آئی بھی چلا رہی ہے ایک ریزرو بینک آف انڈیا


Published On 18th January 2012
انل نریندر
ایک ریزروبینک بھارت میں ہے اور لگتا ہے کہ ایک ریزرو بینک آف انڈیا پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سے چلا رہی ہے۔ ریزرو بینک سے میری مراد جعلی نوٹوں دھندہ ہے۔ اصل نوٹ بھارتیہ ریزرو بینک چھاپتا ہے تو نقلی نوٹ آئی ایس آئی چھپوا کر ہندوستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے کیلئے بھجواتی ہے۔ گذشتہ جمعہ کو دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے نقلی نوٹوں کی ایک بڑی کھیپ سیتا پور سے پکڑی۔ پولیس نے نقلی نوٹوں کی اس کھیپ کے ساتھ دو لوگوں کو بھی گرفتار کیا ہے ذیشان خان و عیش محمد نام بتائے جاتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان دونوں سے قریب دو کروڑ 24 لاکھ50 ہزار روپے کے نقلی نوٹ برآمدہوئے ہیں۔ پولیس کو پچھلے دو ماہ سے خفیہ ایجنسیوں سییہ خبر مل رہی تھی کہ اترپردیش کے ضلع پربد نگر کا رہنے والا اقبال عرف کانا نقلی نوٹوں کا نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ وہ پاکستان میں کہیں روپوش ہے۔ پولیس کا کہنا ہے یہ نقلی نوٹ بہت اچھی کوالٹی کے چھپے ہوئے ہیں اور بتانا آسان نہیں کہ کونسا اصلی کونسا نقلی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں جب موسٹ وانٹڈکانا نے بھارت میں نقلی نوٹوں کی کھیپ بھیجی ہو۔ اس سے پہلے بھی وہ سال2010ء میں ایک ترکی شہری کو قریب ڈیڑھ کروڑ روپے کے نقلی نوٹوں کے ساتھ دہلی بھیج چکا ہے۔ پولیس کا دعوی ہے کہ یوپی کے پربد نگر میں واقع کیرانا گاؤں کا رہنے والا اقبال کانا اس وقت پاکستان کے شہر کراچی میں موجود ہے اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اشارے پر ڈی کمپنی و لشکر طیبہ کے ساتھ مل کر بھارت کے مختلف حصوں میں نقلی نوٹوں کو بھیجنے میں جٹا ہوا ہے۔ پولیس نے پایا کہ ان نقلی نوٹوں میں ریزرو بینک آف انڈیا کے سبھی چھ ضروری پیمانے جیسے مائیکرو پرنٹنگ، واٹر مارک آف گاندھی جی، سوفیصد کارٹن پیپر، امبوسس ٹکنالوجی، الیکٹروایڈ واٹرمارکنگ و دھاگے کا استعمال کیا گیا ہے۔ نوٹوں کو دیکھ کر یہ پتہ چلتا ہے کہ انہیں کراچی کے سرکاری پریس میں چھاپا گیا ہوگا۔ پولیس نے بتایا جن کپڑوں کے تھان میں چھپا کر یہ جعلی نوٹوں کی کھیپ دہلی بھیجی گئی ہے ان پر سبھی تھانوں پر چھپی مہر پاکستان کے فیصل آباد ضلعوں کی ملی ہے۔ ان میں سفاری ٹیکسٹائل مل فار اسٹار صدیقی پروسسنگ مل، مہارانی کلکشن، کوہینور سوٹنگ وعثمان نعیم فیبرک مل شامل ہیں۔ ان نقلی نوٹوں کو بھارت میں بیچنے کی کمیشن کچھ اس طرح ہے 10 لاکھ روپے کے فرضی نوٹ پر 40 ہزاراور 50 لاکھ پر 1 لاکھ روپے کمیشن کا وعدہ ہے۔ آئی ایس آئی نے پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں یہ چال چلی ہے۔ خفیہ ذرائع کے مطابق آئی ایس آئی کا ٹارگیٹ قریب تین سے چار کروڑ روپے کے فرضی نوٹوں کو بھارت کی مارکیٹ میں کھپانے کی نیت و ارادہ ہے۔ یہ نوٹ نیپال، بنگلہ دیش سرحد کے علاوہ پنجاب اور کشمیر کے راستے سے بھارت آتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے کراچی، کوئٹہ، پیشاور اور لاہور کے علاوہ نیپال کی تراہی سے جاری نوٹوں کی چھپائی دن رات چل رہی ہے۔ آئی ایس آئی کو بھارتیہ نوٹوں میں استعمال ہونے والی سیاہی بھی ہاتھ لگ گئی ہے جس سے جعلی نوٹوں کو پہچاننا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ آئی ایس آئی کے اس کام کو انجام دینے میں داؤد ابراہیم بھی پوری مدد کررہا ہے۔ اس کام کا ذمہ آئی ایس آئی کے میجر صادق حسین اور میجر اے اصغر ، اقبال رانا اور مہروالنساء کو دیا گیا ہے۔ میجر اصغر کے رشتے دار جہاں اترپردیش میں رہتے ہیں وہیں مہر النساء کے رشتے دار بہارمیں رہتے ہیں۔ ان کا پلان نقلی نوٹوں کو نیپال سے بہار،اترپردیش اور بنگلہ دیش کے راستے بہار بھیجنے کا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کی سرحد سے لگے پنجاب اور کشمیر کے راستے سے بھی فرضی نوٹوں کی کھیپ پہنچائی جائے گی۔ اس کھیل میں آئی ایس آئی نے کافی احتیاط برتی ہے۔ ان چاروں راستے سے بھارت میں نوٹوں کی جو کھیپ آئے گی اس کے لئے ہر راستے کے لئے چار ٹولیاں بنائی گئی ہیں۔ ہر ٹولی میں 9 لوگ ہوں گے جن میں چار عورتیں ہیں۔ ہر ایک ٹولی کو کور کرنے کے لئے ایک ٹولی ہوگی۔ داؤد ابراہیم کا نیٹ ورک بھی اس کام میں مدد کررہا ہے۔ بھارت کی وزارت مالیات کی فائننشل انٹیلی جنس یونٹ کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ 500 روپے کے نقلی نوٹ تیار کئے جاتے ہیں۔ نقلی نوٹ لین دین کی کل قیمت 60.74 فیصدی500 روپے کے نوٹ کی شکل میں ہوتے ہیں۔ ویسے بازار میں 1000 کے نوٹ کا چلن بڑھنے کے ساتھ ہی ان کے نقلی نوٹوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جعلی نوٹوں کی برآمدگی یقینی طور پر تشویشناک ہے۔ معاملہ تب اور سنگین ہوجاتا ہے جب یہ سامنے آتا ہے کہ برآمد کئے گئے یہ نقلی نوٹ دیکھنے میں اصلی نوٹ جیسے لگتے تھے اور انہیں بھیجنے والا پاکستان ہے۔ آئی ایس آئی اپنی حرکتوں سے باز آنے والا نہیں، ہمیں ہی چوکس رہنا پڑے گا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Fake Currency, ISI, Pakistan, Vir Arjun

14 جنوری 2012

پاک سرکار بنام فوج بنام عدلیہ بنام عمران جم کر لڑائی جاری ہے


Published On 14th January 2012
انل نریندر
پچھلے 15 روز میں میں نے اسی کالم میں پاکستان کو لیکر دو آرٹیکل لکھے تھے۔ پہلا تھا اگر زرداری دوبئی سے واپس پاکستان لوٹے تو ایک نہایت خطرناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے'۔ یہ آرٹیکل تب لکھا تھا جب آصف علی زرداری اچانک دوبئی بھاگ گئے تھے۔ دوسرا آرٹیکل 4 جنوری کو لکھا تھا۔ اس کا عنوان تھا ''چوراہے پر کھڑا پاکستان''۔ میری دونوں باتیں سچ ثابت ہورہی ہیں۔ پاکستان میں سیاسی ماحول اتنی تیزی سے بدل رہا ہے کہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ دراصل اندر ہی اندر کھیل کیا ہورہا ہے؟ کچھ باتیں طے ہیں۔ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی اب آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کو ایک منٹ بھی برداشت کرنا نہیں چاہتی۔ زرداری اور گیلانی ایک طرف تو کیانی اور پاشا ایک طرف دونوں ہی ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہیں۔ الزام تراشیوں کا دور جاری ہے۔ بیچ میں کھڑے ہیں تحریک انصاف پارٹی کے چیف و سابق کرکٹر عمران خاں۔ عمران خاں کی مقبولیت کا گراف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ انہیں فوج اور آئی ایس آئی کی بھی حمایت اندر خانے مل رہی ہے۔ فوج چاہے گی عمران کے ہاتھوں میں پاکستان کی باگ ڈور سونپ دی جائے۔ ایک بہت بڑا فیکٹر پاکستانی عدلیہ کا ہے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری لگتا ہے فوج کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کو ہرانے میں بھی جسٹس چودھری نے فوج کے کہنے پر قابل قدر کردار نبھایا تھا۔ فوج نے پاکستانی عدلیہ کے ذریعے سے مشرف کو مقدموں میں ایسا پھنسایا کے وہ بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ فوج سامنے بھی نہیں آئی اور اس کا کام ہوگیا۔ ابھی بھی آصف علی زرداری کو اسی جال میں پھنسایا جارہا ہے۔ قابل غور ہے کہ میمو گیٹ معاملے میں دو دن پہلے ہی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم گیلانی کے بارے میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ کوئی ایماندار شخص نہیں ہیں۔ اس سے سرکار اور عدلیہ آمنے سامنے آگئے ہیں۔ زرداری کے لئے سپریم کورٹ ایک بڑا درد سر بن گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے گیلانی سے صاف کہا ہے کہ آصف زرداری کے خلاف کرپشن کے معاملے پھر سے کھولنے کا آخری موقعہ ہے۔
منگل کو پاکستان سپریم کورٹ نے وزیر اعظم اور صدر کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہائی پروفائل ''کرپشن'' روکنے میں وہ ناکام رہے تو ان کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ اشارہ صاف تھا زداری اگر پاکستان میں ڈٹے رہے تو وہ جیل بھی جاسکتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں امریکہ کی۔ امریکہ ۔ پاکستان کے درمیان رشتے نہایت خراب ہوگئے ہیں۔ اسامہ کے معاملے کے بعد سے ہی آپسی تلخی شروع ہوئی جو بڑھتی ہی گئی۔ ہمیں لگتا ہے کہ امریکہ ۔ پاکستان میں فوجی حکومت اب برداشت نہیں کرے گا۔ وہ فوجی حکومت نہیں چاہتا لیکن وہ زرداری سے بھی خوش نہیں ہے۔ چناؤ میں ابھی دیر ہے اس لئے اسے بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کیا کرے۔ جنرل پرویز مشرف بھی اسی مہینے لندن سے لوٹنے کی بات کررہے ہیں۔ انہیں وارننگ دے دی گئی ہے کہ اگر وہ پاکستان لوٹیں گے تو انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ مشرف نے کہا کہ وہ پاکستان ہر حالت میں لوٹیں گے۔ پاک فوج کا ایک طبقہ یہ بھی چاہتا ہے فوج کی کمان ایک بار پھر مشرف کو سونپ دی جائے یہ ہیں پاکستانی عوام ۔ بدقسمتی سے شطرنج کے اس سیاسی کھیل میں کہیں بھی شامل نہیں ہیں جبکہ سب سے اہم ہے کہ پاکستانی عوام کیا چاہتی ہے کیا ہونا چاہئے۔ اتنا طے ہے وہ آصف علی زرداری اور گیلانی حکومت سے بیحد پریشان ہے۔ کرپشن اتنا بڑھ گیا ہے کہ مسٹر ٹین پرسنٹ اب مسٹر سینٹ پرسنٹ بن چکے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ سرکار نے دیش کو لوٹ لیا ہے اور سرکاری خزانہ خالی ہوگیا ہے۔ کل ملاکر پاکستان کے حالات دھماکہ خیز ہیں۔ وہ بڑی تیزی سے ایک ناکام ملک کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایک مستحکم پاکستان نہ صرف پاکستانی عوام کے حق میں ہے بلکہ بھارت سمیت باقی دنیا کے لئے بھی۔ ہم امیدکرتے ہیں پاکستان جلد مستحکم کی طرف لوٹے گا اور آخری کامیابی پاکستانی عوام کی ہی ہوگی۔
Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, Geelani, General Kayani, Imran Khan, Pakistan, Vir Arjun

10 جنوری 2012

پاکستان کے اصل سی آئی اے ایجنٹ



Published On 10th January 2012
انل نریندر
گذشتہ ہفتے پاکستان کے کچھ سینئر صحافی ہمارے دفتر میں آئے تھے۔ ہم نے ان کے خیر مقدم کے لئے شاندار پروگرام بنایا تھا۔ ان میں جناب محمود شام، ایاز بادشاہ قابل ذکر تھے۔ دراصل یہ لوگ حیدر آباد میں منعقدہ اردو ایڈیٹرز کا نفرس میں شرکت کے لئے دہلی آئے تھے۔انہوں نے دہلی میں دو دن قیام کیا۔ ان سے کافی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں طرف کی کئی نئی معلومات ملیں۔ میں نے اپنی خیر مقدمی تقریر میں کہا ''پاکستان آج صحافیوں چاہے وہ اخبار کے ہوں یا ٹیلی ویژن کے ہوں ،کیلئے دنیا کا سب سے خطرناک دیش بن گیا ہے۔ پاکستان میں آزادانہ رائے رکھنے والے صحافیوں کے لئے یہ ایک مشکل دور ہے۔ اپنے فرض کی تعمیل کے دوران اس پیشے سے جوڑے 11 لوگوں کو 2011ء میں مار ڈالا گیا۔ ان لوگوں کا قتل یا تو نسلی گروپوں کے درمیان ہونے والی گولہ باری یا کٹر پسندانہ تشدد یا پھر سیاسی نظریات کے چلتے کیاگیا۔ مثال کے طور پر گذشتہ برس سلیم شہزاد کے اغوا اور قتل میں سرکار کی مشینری کا ہاتھ ہونے کا الزام تھا جبکہ اس معاملے کی جانچ کے لئے قائم کمیشن ابھی ہوا میں ہی تیر چلا رہا ہے۔ سلیم شہزاد نے مسلح فورس کے ان لوگوں کا پردہ فاش کیا تھا جن کا القاعدہ یا طالبان کے ساتھ قریبی رشتہ تھا۔ پچھلے دنوں بلوچستان میں راشٹروادی نظریات یا پھر سکیورٹی فورس کے ذریعے کی جارہی ذیاتیوں کو اجاگر کرنے والے کئی صحافیوں کو قتل کردیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے خوفزدہ صحافیوں کو امریکہ جیسے ملکوں میں پناہ دئے جانے کی درخواست کرنی پڑی۔ کراچی میں کچھ صحافیوں کو نسلی گروپ یا سیاسی پارٹیوں کے ذریعے مل رہی دھمکیوں کے چلتے بیرون ملک میں محفوظ ٹھکانے تلاشنے پڑے۔ اس سلسلے میں میں نے پاکستان کے سینئر صحافی مسٹر نجم سیٹھی کا ایک آرٹیکل مڈ ڈے میں پڑھا انہوں نے بتایا کہ اب سکیورٹی نظام کے کرتا دھرتا لوگوں کی سمجھ پر چبھتے ہوئے سوال اٹھانے کے چلتے کچھ سینئر صحافیوں کے خلاف بربریت آمیز پروپگنڈہ چلایا جارہا ہے۔ ان کو امریکہ کی خفیہ سی آئی اے کا ایجنٹ ہونے تک کا الزام لگایا جارہا ہے۔ پاکستان کے موجودہ امریکی مخالف ماحول میں اس طرح کے الزامات لوگوں کو بھڑکانے کے لئے لگائے جارہے ہیں۔ مان لیجئے کہ اگر آپ نے کہہ دیا کہ ایبٹ آباد میں ہوئے امریکی حملے نے فوج کی نا اہلیت کی پول کھول دی ہے تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ یا آپ نے کہہ دیا کہ سیاسی مسائل کا کنٹرول فوج پر ہونا چاہئے تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ نے یہ کہہ دیا کہ فوج کو طالبان کے ساتھ کسی طرح کی امن بات چیت میں شامل نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ اس سے ان کو پاکستانی خطے میں پھر منظم ہونے کا موقعہ مل جائے گا تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ ڈرون جہازوں کے حملوں کے چلتے وزیرستان میں طالبان اور القاعدہ کے کٹر پسندوں کو ختم کرنے میں بڑی مدد کی تو آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ نے کہہ دیا کہ فوج کے لئے مختص بجٹ کا جو ملک کی کل رقم کا ایک چوتھائی ہے، جانچ پارلیمنٹ کی کمیٹی یا پاکستان کے آڈیٹر جنرل کے ذریعے کی جانی چاہئے تو آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ پاکستان کو بھارت کو تجارتی سیکٹر میں انتہائی مطلوب ملک کا درجہ دینا چاہئے جسے بھارت نے پاکستان کو 16 برس پہلے ہی دے دیا تھا۔یا ویزا شرطوں میں ڈھیل دینی چاہئے، یا فلمی صنعت سے وابستہ لوگوں کو مدد کرنے کے لئے بھارت سے ثقافتی رشتے بڑھانا چاہئیں۔ یا میڈیا گروپ کے ذریعے چلائی جارہی 'امن کی آشا' پروگرام کو سرکارکو حمایت دینی چاہئے تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ سابق امریکی سفیر حسین حقانی اور آئی ایس آئی چیف شجاع پاشا کے معاملے میں ایک اور یکساں استعفے کی پالیسی اپنانے چاہئے ،ایک کے اوپر امریکی سرکار کو پاکستانی فوج کے اوپر سرکار کیلئے کنٹرول کی حمایت مانگنے کا الزام ہے جبکہ دوسرے پر عرب حکمرانوں سے منتخبہ سرکار کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے اپیل کرنے کا الزام ہے تو آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ سرکار کو قومی سلامتی سے زیادہ عوام کی حالت بہتر بنانے والی پالیسیاں بنانی چاہئیں تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔
بدقسمتی سب سے بڑی یہ ہے کہ جن لوگوں نے امریکہ کے بڑھتے اثر کو بے نقاب کیا ہے اس کی مخالفت کی ہے انہیں ہی بدنام کرنے کیلئے ان پر سی آئی اے ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا جارہا ہے۔ پاکستان میں آج صحافی عوام کے مفاد میں کسی بھی طرح کی آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔ اس لئے میں کہتا ہوں صحافیوں کے لئے آج کی تاریخ میں پاکستان سب سے زیادہ خطرناک ملک ہے۔ اس دنیا میں اور ان حالات میں بھی یہ صحافی اپنے فرائض کو نبھا رہے ہیں ان کو ہمارا سلام۔
Anil Narendra, CIA, Daily Pratap, ISI, Pakistan, Vir Arjun

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...