Translater

Lokpal Bill لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Lokpal Bill لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

26 اپریل 2012

اور پھر پڑی پھوٹ ٹیم انا میں



Published On 26 March 2012
انل نریندر

ٹیم انا میں پھوٹ پڑ چکی ہے۔ ٹیم انا کی کور کمیٹی کی میٹنگ میں ایتوار کے روز جم کر ہنگامہ ہوا۔ نوئیڈا کے سیکٹر 43 میں ٹیم کی کور کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ اس کا ایجنڈا تھا تحریک کی حکمت عملی تیار کرنا۔ اس میں بابا رام دیو کے ساتھ سانجھہ تحریک پر بھی غور خوص ہونا تھا۔ ٹیم انا کی کور کمیٹی کی اس اہم میٹنگ میں اروند کیجریوال ، پرشانت بھوشن، کرن بیدی ایک واحد مسلم چہرہ مولانا شمعون قاسمی، گوپال رائے، منیش سسودیا، کمار وشواس موجود تھے۔ رام دیو کے ساتھ تحریک کے سوال پر کرن بیدی نے کہا کہ جب برے پھنسے لوگ ساتھ آسکتے ہیں تو اچھے لوگ کیوں نہیں؟ اس پر قاسمی نے کہا اہمیت کم ہونے کے اندیشے سے کیجریوال کو ان پر اعتراض ہے۔ بحث بیچ میں جاری تھی کہ کور کمیٹی کے ممبر گوپال رائے کی نظر شمعون قاسمی پر گئی، وہ موبائل پرباتیں کررہے تھے، رائے نے قاسمی سے موبائل مانگا۔ الگ کمرے میں جاکر چیک کرنے پر میٹنگ کی ریکارڈنگ ملی۔ پرشانت بھوشن نے قاسمی سے پوچھا کہ آخر آپ نے ریکارڈنگ کیوں کی؟ اس پر قاسمی چپ رہے۔ بھوشن نے انہیں ٹیم سے نکلنے اور میٹنگ سے باہر جانے کو کہا۔ قاسمی بغیر کسی طرح کی صفائی دئے شام چار بجے میٹنگ سے اٹھ کرچلے گئے۔ کمار وشواس نے بعد میں کہا قاسمی میٹنگ کا آڈیو ریکارڈ کرتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ پرشانت بھوشن نے کہا کہ قاسمی ریکارڈنگ کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں بتا پائے۔ اروند کیجریوال نے کہا اگنی ویش کی طرح رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں قاسمی۔ سالم علمی کے دھوکہ کرنے پر انہیں ٹیم سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ادھر مولانا شمعون قاسمی نے کہا میں شروع سے ہی تحریک سے جڑا رہا ہوں ۔ کیجریوال انا کا استعمال کررہے ہیں۔ تحریک مسلم مخالف ہورہی ہے۔ایک مسلم ممبر کو یہ دیکھنا نہیں چاہتے۔ انا ہزارے بھی قسم کھا کر کہتے ہیں کور کمیٹی کی میٹنگ میں جو کچھ ہوا وہ پہلے سے ہی طے شدہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کی سیاست فرقہ پرستی کا شکار ہوگئی ہے۔ وہ خود ہی کور کمیٹی چھوڑرہے ہیں۔ قاسمی نے ٹیم انا کے کئی ممبران پر سنسنی خیز الزام لگائے۔ انہوں نے کہا کہ کور کمیٹی کی میٹنگ میں اروند کیجریوال اور کمار وشواس کے درمیان زور دار جھڑپ ہوئی۔ وشواس پر ریاستی سرکار کی دلالی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ خود انا نے کیجریوال کے ہماچل دوروں پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پرشانت بھوشن اور کچھ دیگر ممبر چناؤ لڑنا چاہتے ہیں حالانکہ کیجریوال نے ان الزامات پر کوئی رد عمل ظاہر کرنے سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ نکالے جانے کی وجہ سے قاسمی اس طرح کی بیہودہ باتیں کررہے ہیں۔ انا کی تحریک میں اندرونی رسہ کشی کا یہ دوسرا موقعہ ہے۔ اس سے پہلے پچھلے سال جن لوک پال تحریک شباب پر تھی اسی دوران سوامی اگنی ویش پر بھی سرکار کے لئے جاسوسی کرنے کا الزام لگا تھا۔ قاسمی اور اگنی ویش کے علاوہ پی وی راج گوپال اور جل پروش راجندر سنگھ بھی ٹیم انا سے الگ ہوچکے ہیں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ انا ہزارے کی مقبولیت دن بدن کم ہوتی جارہی ہے اب وہ بات نہیں رہی۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Daily Pratap, Kejriwal, Kiran Bedi, Lokpal Bill, Shamoon Qasmi, Vir Arjun

28 مارچ 2012

ٹیم انا نے ایک بار پھرزوردار انگڑائی لی



Published On 28 March 2012
انل نریندر
انا ہزارے نے ایتوار کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ایک دن کا اپواس رکھ کر جن لوک پال تحریک کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی۔ کرپشن اور مجرمانہ معاملوں کا سامنا کر رہے سیاستدانوں کے خلاف اگست تک ایف آئی آر درج نہ ہونے پر جیل بھرو تحریک شروع کرنے کی بھی دھمکی دی۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت کو خبردار کیا کہ 2014 ء تک لوک پال بل لاؤ یا کرسی چھوڑنے کو تیار رہو۔ ایتوار کو جنترمنتر پر وہی پرانا ماحول نظر آیا جو پچھلے سال اپریل۔ اگست میں رام لیلا میدان میں دیکھنے کوملا تھا۔ ٹیم انا دہلی میں پھر سے عوامی حمایت پانے میں کامیاب رہی۔ کرپشن کے خلاف لڑنے والے لوگوں کی سلامتی کو لیکر ایک روزہ دھرنے کے دوران ٹیم انا نے مضبوط جن لوک پال کی مانگ دوہرائی۔ اس دوران ٹیم انا نے کرپشن کے خلاف لڑ رہے لوگوں کی سلامتی کو لیکر سیاستدانوں پر تلخ تبصرے کئے۔ پارلیمنٹ کی توہین کا الزام جھیل رہے اروند کیجریوال پرلگتا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کے قانونی نوٹس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ بیہڑو میں تو چیتے پائے جاتے ہیں ،ڈکیت تو پارلیمنٹ میں بنتے ہیں۔ حال ہی میں آئی اداکار عرفان خان اور ہدایت کارتگمانشو دھلیا کی فلم'پان سنگھ تومر' کا یہ ڈائیلاگ اروند کیجریوال کو اتنا پسند آیا کہ انہوں نے فلم کو تین بار دیکھا۔ لیکن جب انہوں نے اس بات کو سچائی کے ساتھ کہاتو کچھ نیتاؤں کو برا لگ گیا اور سپریم کورٹ کا سہارا لیکرانہیں مراعات شکنی کا نوٹس دے دیا گیا۔ جب چور ہیں تو چور کہنے سے کیوں ڈرتے ہیں۔ جبکہ سچائی تو یہ ہے کہ جنتا کے ذریعے چن کر پارلیمنٹ کے اندر پہنچنے والے قریب50 فیصدی ایم پی ایسے ہیں جن پر مجرمانہ معاملے چل رہے ہیں، یہ کہنا تھا کیجریوال کا۔ اسمبلی میں تال ٹھونکنے والے ہزاروں ممبران اسمبلی جرائم پیشہ نظریئے کے تھے۔سیڑھی چڑھ کر نیتا گری کا چولا اوڑھنے میں کامیاب ہیں۔ اروند کیجریوال کے مطابق میڈیا سائٹس اور اخباروں کے ذریعے سے اس بات کی وضاحت ہوچکی ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں وقار اور اخلاقیات کی بات کرنے والے قریب162 ممبران پرالیمنٹ پرمجرمانہ معاملے درج ہیں۔ 34 کیبنٹ وزیروں میں سے قریب14 کے اوپر کرپشن کے سنگین الزام لگے ہیں۔ کیجریوال کے مطابق جن وزراء پر کرپشن کے الزامات ہیں وہ ہیں پی چدمبرم(ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ) اجیت سنگھ (وکی لکس کے مطابق انہوں نے 10 کروڑ روپے فی ایم پی بانٹے) فاروق عبداللہ (جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے گھپلوں کا الزام) جی کے واسن نے دو لاکھ ایکڑ زمین تاملناڈو میں محض44 کروڑ روپے میں کچھ چہیتی کمپنیوں کو بیچ دی۔ کملناتھ نے ممبران کے ووٹ خریدنے کے لئے پیسہ بانٹا۔ کپل سبل پر ٹو جی گھوٹالے میں شامل ہونے کا الزام ہے۔ شرد پوار کا نام ٹیلی اسکیم میں اچھلا۔ شری جے پرکاش جیسوال پر 10 لاکھ کروڑ کوئلہ اسکینڈل میں شامل ہونے کا شبہ ہے۔ آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں سشیل کمار شنڈے کا نام بھی آیا ہے۔ ولاس راؤ دیشمکھ کا بھی اسی اسکینل میں نام اچھلا ہے۔ ایم کے آلاگیری نے 20 کروڑ روپے کی زمین محض 85 لاکھ روپے میں خریدی۔ ویر بھدر سنگھ پر ایف آئی اے ایس افسر کو رشوت دینے کا معاملہ چل رہا ہے۔ ایس ایم کرشنا کا نام مائننگ اسکینڈل میں آچکا ہے اور پرفل پٹیل پر ایئر انڈیا کو ڈوبانے کا الزام ہے۔ کیجریوال نے آگے کہا کہ 14 ممبران پارلیمنٹ ایسے ہیں جن پر قتل کا مقدمہ چل رہا ہے، وہیں 20 ممبران پارلیمنٹ پر قتل کی کوشش کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ 11 ممبران پارلیمنٹ پر ٹھگی اور زمین ہڑپنے وغیرہ میں شامل کورٹ میں ابھی معاملے چل رہے ہیں۔ 73 ایسے ایم پی ہیں جو اغوا کر زرفدیہ کے معاملے میں مطلوب چل رہے ہیں۔
دیش کی سبھی ریاستوں میں کل ملاکر 4120 ممبر اسمبلی چنے جاتے ہیں۔ ان میں قریب 1176 ممبران اسمبلی ایسے ہیں جن پر مجرمانہ معاملے تھانوں میں درج ہیں۔ 513 ممبران پر اغوا قتل ،اقتدام قتل اور زرفدیہ مانگنے کا مقدمہ فائلوں میں دھول چاٹ رہا ہے۔ کیجریوال نے کہا کے ایک چپڑاسی کی نوکری پارنے کے لئے لوگوں کو کریکٹر سرٹیفکیٹ دینا پڑتا ہے ،اس کے خلاف ایک کیس بھی درج ہوتا ہے تو اسے نوکری نہیں دی جاسکتی۔ ممبئی میں انا تحریک تھوڑی کمزور دکھائی پڑی تو سرکار نے یہ مان لیا کے ٹیم انا اب سرکار کے لئے زیادہ خطرہ نہیں ہوگی لیکن جس طریقے سے جنتر منترپر جنتا آئی، اس سے لگتا ہے کہ ایک بار پھر سرکار میں بے چینی دکھائی دے گی اور کیجریوال کا انتہائی سنگین بیان پر رد عمل ضرور سامنے آئے گا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Civil Society, Corruption, Daily Pratap, Jantar Mantar, Lokpal Bill, Vir Arjun

30 دسمبر 2011

لوکپال بل کا یہ حشر ہوگا سبھی کو معلوم تھا


Published On 30th December 2011
انل نریندر
حقیقت تو یہ ہے کہ لوکپال بل کو لیکر نہ تو منموہن سرکار سنجیدہ تھی اور نہ ہی اپوزیشن۔ ہمیں تو لگتا یہ ہے کہ حکومت اور کانگریس پارٹی لوکپال بل کو صرف لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پیش کرنا چاہتی تھی۔ پاس ہو جاتا تو بھی ٹھیک تھا نہ ہوتا تو بھی ٹھیک تھا۔ زور زبردستی سے لوک سبھا میں اس کو پاس کروالیا لیکن آئینی درجہ دلوانے میں وہ نا کام رہی۔ ادھر اپوزیشن کا کبھی بھی ارادہ اسے پاس کرانے اور آئینی درجہ دلانے کا نہیں تھا اس لئے اس نے بحث میں حصہ تو لیا لیکن ووٹنگ کے وقت بٹن نہیں دبایا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور مارکسوادی پارٹی کو لوکپال کے موجودہ خاکے پراعتراض تھا اور اس نے لوکپال کی بنیادی شکل میں کچھ ترامیم چاہیں لیکن حکومت ان ترمیمات کو نہیں مانی اس لئے اپوزیشن نے بل کی حمایت میں ووٹ نہیں دیا۔ کانگریس اب یہ کہہ رہی ہے کہ ہم نے تو لوکپال بل پاس کروادیا ہے لیکن بھاجپا نے حمایت نہ کر اپنے آپ کو بے نقاب کرلیا ہے۔ بھاجپا کا کہنا ہے کہ ایسے بے اثر لوکپال بل کی حمایت کرکے ہمیں اپنی ناک تھوڑی ہی کٹوانی تھی۔ ہم ایسے کھوکھلے لوکپال بل کی حمایت کیسے کرسکتے ہیں؟ کانگریس کامقصد موثر لوکپال لانے کا نہیں تھا وہ تو بس پارلیمنٹ میں اسے پیش کرنا چاہتی تھی تاکہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں اس کا پارٹی کوفائدہ ملے تاکہ وہ عوام کے درمیان یہ کہہ سکے دیکھو ہم تو لوکپال لے آئے لیکن بھاجپا نے بٹن نہیں دبایا اور اپنے آپ کو بے نقاب کرلیا ہے۔ لوک سبھا میں جس طرح سرکار کی اس بل کو آئینی درجہ دینے کی کوشش میں کرکری ہوئی اس سے بھی زیادہ کرکری راجیہ سبھا میں ہوسکتی ہے۔ اس ایوان میں تو اپوزیشن کا بول بالا ہے۔ کانگریس اور ان کی ساری ساتھی پارٹیوں کی تعداد 99 بنتی ہے۔ 8 نامزد ہوتے ہیں اور 6 آزار ہوتے ہیں تو اگر ان کو بھی ملالیں تو تب بھی کانگریس کو ہار کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اپوزیشن کے کل ممبروں کی تعداد131 ہے اور ان میں ایسی پارٹیاں ہیں جو کسی بھی حالت میں حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتیں اس لئے راجیہ سبھا میں بھی سرکار اس بل کو آئینی درجہ نہیں دلوا سکتی۔ اس پورے معاملے کو کیسے دیکھا جائے؟ ایک نکتہ نظر سے سوائے دو تین نکات کے باقی میں تو کامیابی مل رہی ہے۔ جو کام پچھلے 40 سالوں میں نہیں ہوسکا وہ پہلی بار یہاں تک پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ٹھیک ہے کہ جس مقصد سے انا ہزارے نے اپنی تحریک چلائی تھی اس کا بھی مقصد پورا نہیں ہوا۔ لوک سبھا میں نمبروں کے کھیل میں اگنی پریکشا کے بعد سرکاری لوکپال کی تصویر بدل چکی ہے۔ ترمیمات کے ساتھ راجیہ سبھا کی مہر کا جنتا کو بے صبری سے انتظار ہے۔ لوکپال اب نہ تو آئینی ادارہ ہوگا اور نہ ہی اس کے ذریعے لوک آیکت کی تقرری ریاستوں کے لئے ضروری ہوگی۔ لوکپال میں ممبران کے خلاف شکایت پر کارروائی کو لیکر لوک سبھا اسپیکر یا راجیہ سبھا چیئرمین کی رپورٹ کے تقاضوں پر سخت احتجاج کے بعد سرکار نے اسے واپس لے لیا۔ بدلے ہوئے تقاضوں کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف کسی شکایت کی جانچ شروع کرنے کیلئے 9 نفری لوکپال میں اب دو تہائی ممبروں کی رضامندی ضروری ہوگی۔ پہلے اس کے لئے تین چوتھائی ممبروں کی منظوری کی بات کہی گئی تھی۔ لوکپال بل کا ٹکراؤ کا سب سے بڑا نکتہ رہا لوک آیکت کی تقرری میں ریاستوں کے اختیارات پر قبضے کا۔ صوبوں میں لوک آیکت کے قیام کی پابندی ختم کر اسے متبادل بنانے کی بات بھی سرکار کو ماننی پڑی۔ لوکپال کے دائرے سے مسلح افواج کو بھی باہر کردیا گیا ہے۔ گویا 40 برسوں سے دیش کے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل کھیل رہا لوکپال پر اب زیادہ اپوزیشن ٹکراؤ کے موڈ میں نظر نہیں آرہی ہے۔ وہ تو بھلا ہو انا ہزارے اور ان کے انشن کی تحریک کا کہ بدعنوانی پر پہلی بار عام آدمی کے تیور چڑھے اور لوکپال قانون عوام کی آواز کا حصہ بن گیا۔اب سرکار لوکپال بل راجیہ سبھا میں پاس کرانے کے بجائے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا سکتی ہے۔ یہ راستہ بھی سرکار کے لئے آسان نہ ہوگا کیونکہ ایک تو وہ آئینی طور طریقوں کا سوال کھڑا ہوتا ہے اور دوسرے سرکار کی اتحادی پارٹیوں کی ناراضگی بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ یہ عجب ہے کہ خود حکمراں سرکار میں سانجھیدار سیاسی پارٹی لوکپال کے موجودہ شقوں سے متفق نہیں۔ ترنمول کانگریس کو اب لگ رہا ہے کہ یہ بل ریاستوں کے اختیارات پر قبضہ کرنے والا ہے۔ لوکپال کو آئینی درجہ نہ حاصل ہوپانے کیلئے مخالف پارٹیوں میں ناراضی پیدا ہورہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمراں فریق کو پہلے اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ کیا ان کی ساتھی پارٹیاں پوری طرح اس مسئلے پر ان کے ساتھ ہیں؟ لوک سبھا میں بحث کے رنگ دیکھ کر تعجب ہوا کے دیش کی بنیاد کھود رہے کرپشن کے خاتمے کو لیکر ہمارے جمہوری نظام کے سپریم ادارے اتنی کشیدگی میں کیوں ہیں؟ ایسی دلیلیں گڑھی جارہی ہیں۔ ایک اثر دار لوکپال ہماری جمہوریت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جو توانائی کرپشن کے خاتمے کے انتظام ڈھونڈنے میں لگنی چاہئے اسے انا کی سول سوسائٹی کو نشانہ بنانے میں کیوں خرچ کی گئی۔ یہ بھی تعجب ہوا کہ سخت ہدایات جاری کرنے کے باوجود حکمراں پارٹی کے دو درجن سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ کیسے عین موقعے سے لوک سبھا سے غائب ملے اور اپنی ہی سرکار کی کرکری کروانے کے لئے ذمہ دار بنے۔ ان میں خود کانگریس کے قریب ڈیڑھ درجن ایم پی شامل ہیں۔ دیش جس اشو پر جل رہا ہے اس پر ہمارے نمائندے کیا اتنے غیر ذمہ دار ہیں کہ اسے لوک سبھا میں لوکپال بل پاس ہوجانے کا دباؤ کہیں یا پھر غیر متوقع حمایتیوں کی بھیڑ نہ جٹانے پانے کا اثر۔ بدھوار کو انا ہزارے نے اپنا انشن بیچ میں ہی توڑدیا۔ یہ ہی نہیں انہوں نے30 دسمبر سے ممبران پارلیمنٹ کے گھروں پر اپنا مجوزہ دھرنا اور جیل بھرو تحریک بھی ملتوی کردی۔ تحریک سے اس طرح پیچھے ہٹنے کو ٹیم انا کا حوصلہ ٹوٹنے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ انا ممبئی میں تین دن کے انشن پر بیٹھے تھے۔ حالانکہ انہیں پہلے ہی سے بخار کی شکایت تھی لیکن وہ اپنے انشن کے فیصلے پر اڑے رہے۔ اس کے بعد کئی بار ان کی حالت کافی بگڑی اور ڈاکٹروں اور ساتھیوں نے ان کا انشن ختم کرانے کیلئے صلاح دی تھی لیکن وہ انکار کرتے رہے۔ بدھ کی شام انا نے اسٹیج پر آکر لوگوں سے خطاب کیا اور اسی دوران اپنا انشن توڑنے کا اعلان کیا۔ انا نے کہا ''سنسد میں جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے۔ اب ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے ہم اب نیا پروگرام بنائیں گے اور ریاستوں میں جا کر کرپشن کے خلاف عوامی بیداری مہم چلائیں گے۔ لوگوں کو بتایا جائے گا کہ موجودہ حکومت نے کس طرح دیش کی جنتا کے ساتھ دھوکہ کیا ہے''۔ لوکپال بل کا یہ حشر ہوگا اس کا ہمیں پہلے ہی سے اندازہ تھا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, Congress, Daily Pratap, Lokpal Bill, Manmohan Singh, Parliament, Vir Arjun

27 دسمبر 2011

سی بی آئی کا سرکار کے چنگل سے نجات پانے کا خواب ٹوٹا


Published On 27th December 2011
انل نریندر
سی بی آئی کے مستقبل کو لیکر حکومت و ٹیم انا اور اپوزیشن آمنے سامنے آگئے ہیں۔ سی بی آئی پر انا ہزارے کی مانگ مسترد کردی گئی ہے۔ حکومت نے اسے لوکپال کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔ سی بی آئی کا کوئی آزادانہ مقدمے میں سیدھے طور پر استعمال کے لئے لوک پال کے دائرے میں نہیں رکھا گیا ہے۔ لیکن لوکپال کرپشن سے جڑے کسی معاملے کی جانچ کی سفارش سی بی آئی سے کرسکتا ہے۔ سی بی آئی آزادانہ پینل قائم کرے گا۔ جس میں وزیراعظم اپوزیشن لیڈر، چیف جسٹس شامل ہوں گے۔ سی بی آئی میں ایس پی و ا س سے اوپر کے اعلی افسروں کی مقرر ایک کمیٹی کرے گی۔ اس میں سی بی سی کمشنر، ہوم سکریٹری، محکمہ پرسنل کے سکریٹری شامل ہوں گے۔ سی بی آئی جانچ کے لئے جانچ ڈائریکٹر کا عہدہ بنایا گیا ہے۔ لوکپال کے مجوزہ خاکے میں سی بی آئی میں گہری مایوسی ہے۔اس سے جانچ ایجنسی کی سرکار کے چنگل سے نجات پانے کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لوکپال کے ذریعے سونپے گئے معاملوں میں چارج شیٹ کے لئے پہلے اجازت لینے کی سہولت سے اس کی موجودہ آزادی پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔ راحت کی بات صرف اتنی ہے کہ تقرری کے عمل میں وزیر اعظم ، اپوزیشن لیڈر اور ہندوستان کے چیف جسٹس کے شامل ہونے سے سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے کا وقار بڑھ گیا ہے۔ ایک افسر کے مطابق ایجنسی کی مختاری کی بات بے معنی ہے۔ سی بی آئی کے حکام کوترقی یا معذولی سے لیکر چھوٹے چھوٹے خرچ تک کے لئے سرکار کا منہ تاکنا پڑے گا۔ ایسے میں جانچ ایجنسی سے پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے بنائے گئے لوکپال کے خاکے پر 6 اعتراضات درج کرائے گئے ہیں۔ اسے لیکر سی بی آئی ڈائریکٹر خود وزیر اعظم سے ملے تھے۔ لیکن ان 6 اعتراضات میں تھے ایک پوری اور ایک ادھوری خامی دور کی گئی ہے۔ سی بی آئی ڈائریکٹر کی تقرری میں وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور آئینی ادارے کے چیف کو شامل کرنے کی مانگ پوری کی گئی لیکن ایف آئی آر اور چارج شیٹ داخل کرنے کی مختاری میں جانچ ایجنسی کو سمجھوتہ کرنے کے لئے مجبور کیا گیا ہے اس کے تحت لوکپال کے ذریعے سونپے گئے معاملوں میں سی بی آئی چارج شیٹ کرنے کے لئے آزادنہ ہوگی۔ سی بی آئی کاکہنا ہے جانچ ایجنسی(پولیس یا سی بی آئی) کے افسر معاملے کی چھان بین کرتے ہیں اور چھان بین کی بنیاد پر تفتیشی افسر اپنی قطعی رپورٹ عدالت میں پیش کرتا ہے ۔ یہ رپورٹ چارج شیٹ یا کلوزر رپورٹ دونوں میں سے کچھ بھی ہوسکتی ہے۔ آئی او چھان بین کی بنیاد پر یہ طے کرتا ہے کہ چارج شیٹ ہوگی یا کلوزر رپورٹ۔ لیکن لوکپال بل کی دفعہ20(7) میں یہ سہولت شامل کی گئی ہے کہ اس رپورٹ کو کورٹ میں پیش کئے جانے سے پہلے لوکپال کے سامنے رکھا جائے اور وہ طے کرے گا معاملے میں کیا کرنا ہے۔جبکہ لوکپال سے وابستہ شخص پولیس افسر نہیں ہوگا اور اسی طرح یہ سی آر پی سی کی دفعہ173 کے تقاضوں کے برعکس ہوگا۔ سی بی آئی کے مطابق اسے اقتصادی اور انتظامی مختاری کی ضرورت ہے۔ سی بی آئی ابھی بھی سرکار پر اقتصادی اور انتظامی طور پر منحصر ہے۔ اسی سبب لوگوں میں یہ خیال ہے کہ سی بی آئی کو متاثر کیا جاسکتا ہے۔ لوکپال بل میں اس کے بارے میں کوئی بھی سہولت نہیں ہے۔ کل ملاکر لوکپال کے موجودہ اور مجوزہ ڈرافٹسے سی بی آئی میں گہری مایوسی ہے اور اس سے جانچ ایجنسی کے سرکار کے چنگل سے نجات پانے کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔
Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Lokpal Bill, Vir Arjun

23 دسمبر 2011

لوکپال بل پر ٹکراؤ کا پورا امکان ہے


Published On 23rd December 2011
انل نریندر
حکومت اور انا ہزارے کا ٹکراؤ اب ہونا یقینی ہے۔ کیونکہ حکومت نے واضح کردیا ہے کہ نہ تو اسے ٹیم انا سے کوئی ڈر ہے اور نہ ہی اب وہ اس کے سامنے جھکنے کو تیار ہے۔ وہ ٹیم انا سے لمبی لڑائی لڑنے کو بھی تیار ہے۔ یہ وارننگ کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی دے کر میدان میں آگئی ہیں۔ انہوں نے معاملے میں پوری کمان سنبھال لی ہے۔ سونیا گاندھی نے لوکپال کو بنیاد بناتے ہوئے انا ہزارے اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو سیدھا چیلنج کردیا ہے کہ سرکاری لوکپال بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اب انا اور اپوزیشن کو مان لینا چاہئے اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو کانگریس پانچ ریاستوں کے آنے والے چناؤ میں ان دونوں کی چنوتیوں سے نمٹنے اور لمبی لڑائی کے لئے تیار ہے۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں جارحانہ تیور دکھاتے ہوئے سونیا گاندھی نے پہلی بار لوکپال پر اپنے نظریات رکھے۔ حکومت اور تنظیم کے درمیان کسی بھی اختلافات کو درکنار کرتے ہوئے صاف کہا یہ بل بہت اچھا بنا ہے اور اسے پاس کرانے میں اپوزیشن کو اڑچن نہیں پیدا کرنی چاہئے اور انا ہزارے کو بھی قبول کرلینا چاہئے۔ لیکن انا ہزارے کو موجودہ شکل میں لوکپال بل منظور نہیں ہے۔ سب سے بڑا اختلاف سی بی آئی اور گروپ سی کے افسر شاہوں کو لوکپال کے دائرے سے باہر رکھنے کو لیکر ہے۔ انا نے اپنی مہم تیز کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی کو لوکپال کے دائرے سے باہررکھنے کیلئے سرکار کی منشانیتاؤں کو بچانے کی ہے۔ اگر سی بی آئی لوکپال سے باہر رہے گی تو لوکپال کیسے مضبوط ہوگا؟اگر سی بی آئی لوکپال کے ماتحت آجاتی ہے تو وزیرداخلہ پی چدمبرم جیل کے اندر ہوں گے۔ آپ کرپٹ نیتاؤں کو بچا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ مضبوط لوکپال ہے۔ ان کا کہنا ہے یہ سرکار لوگوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔ جنتا اسے سبق سکھا دے گی۔ انا کا کہنا ہے اگلے سال اترپردیش اور دیگر چارریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہونے جارہے ہیں وہاں یوپی اے سرکار کے خلاف مہم چلائی جائے گی۔ بل کو مسترد کرتے ہوئے انا نے کہا الگ سے سٹیزن چارٹر بل لانے کے لئے بھی سرکار نے جنتا کے مفادات کو نظرانداز کیا ہے۔
عام آدمی کو اپنی شکایت کے ازالے کے لئے مجوزہ مشینری کے تحت بے مطلب یہاں وہاں دوڑنا پڑے گا، یہ لوگوں سے دھوکہ ہے۔ ادھر سرکار نے منگلوار کو کرپشن پر روک لگانے کے لئے اپنی حکمت عملی کے تحت لوک سبھا میں سٹیزن چارٹر بل پیش کردیا۔ بل میں ہر شہری کو طے میعاد طریقے سے یکساں خدمات دستیاب تھیں ساتھ ساتھ شکایتوں کے ازالے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔ یعنی سرکاری محکموں میں کونسے کام کتنے دنوں میں ہوں گے ، اس کے لئے کون ذمہ دار ہے یہ پہلے سے بتانا ہوگا۔ ایسا نہ ہونے پرمتعلقہ افسر کے خلاف شکایت کی جاسکے گی۔ ہمیں نہیں لگتا لوک سبھا میں اسی اجلاس میں یہ بل پاس ہوسکے گا؟ کرسمس کی چھٹی کے بعد ایوان کی کارروائی 27،28 اور29 دسمبر تک بڑھانے کو لیکر ممبران میں بھاری اختلاف پایا جاتا ہے۔ کرسمس کے بعد ایوان چلنے کو لیکر خاص طور سے کیرل، اروناچل پردیش کے ممبران کا احتجاج اس لئے ہے کہ انہوں نے پہلے ہی سے سال کے آخر میں گھروالوں کے ساتھ چھٹی منانے اور دیگر پروگرام بنا رکھے ہیں۔ ان میں بیرونی ملک کے دورے بھی شامل ہیں۔
ادھر بھاجپا سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کا بھی لوکپال بل پر موقف واضح نہیں ہے۔لوکپال کی کئی شقوں پر اب بھی اتفاق رائے نہیں ہے۔سرکاری ترجمان کہہ رہے ہیں کہ صرف دو دن میں ہی لوکپال پاس ہوسکتا ہے بشرطیکہ اپوزیشن ساتھ دے اور پاس کرانے میں تعاون دے۔ لیکن سرکاری مسودے کو دیکھنے سے پہلے اپوزیشن خاص طور سے بھاجپا کوئی بھی یقین دہانی کرانے کو تیار نہیں تھی۔ دوسری اپوزیشن پارٹیاں بھی اپنے سخت تیور بنائے ہوئے ہیں ایسے میں23 دسمبر تک مفصل بحث کے بعد لوکپال بل پاس کرانا ممکن نہیں لگتا۔ اگر پارلیمنٹ میں بل کو لیکر اتفاق رائے نہیں بنا تو آگے کیا ہوگا؟ ممکن ہے کہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کو سونپ دیا جائے۔ اس سے سبھی فریقین کا موقف درکار رہے گا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, CBI, Daily Pratap, Lokpal Bill, P. Chidambaram, Sonia Gandhi, Vir Arjun

17 دسمبر 2011

کیا لوکپال پر سرکار اور انا کا ٹکراؤ ٹلے گا؟


Published On 17th December 2011
انل نریندر
لوکپال کو لیکر شش و پنج کی حالت بنی ہوئی ہے۔ لوکپال بل کیا اس اجلاس میں آئے گا یا نہیں آئے گا، آئے گا تو کب اور کس شکل میں؟ یہ سوال جس کا آج دعوے سے جواب نہیں دیا جاسکتا۔ بدھ کے روز حکومت کی طرف سے اتفاق رائے بنانے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر چار گھنٹے چلی آل پارٹی میٹنگ بے نتیجہ رہی۔ حکومت نے اس میٹنگ میں سبھی پارٹیوں کی رائے تو لی لیکن اپنے پتے نہیں کھولے۔ پھر چاہے وزیر اعظم کا مسئلہ ہو یا سی بی آئی اور گروپ سی کے ملازمین کو لوکپال کے دائرے میں لانے کا۔ ایسے میں کوئی قابل قبول حل نکلتا نہیں نظر آیا۔ اب معاملہ پھر سرکاری پالے میں ہے۔حکومت کی مصیبتیں کافی بڑھ گئی ہیں۔ نااتفاقیوں کی لمبی فہرست کے درمیان سے ہی بل کا مسودہ تیار کرنا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق موجودہ اجلاس میں بل کے پاس ہونے کا امکان مشکل دکھائی پڑتا ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر پون بنسل نے کہا پارٹیوں کی الگ الگ رائے سے مسودے میں تبدیلی کرنی ہوگی۔ اس سے سرکار کے لئے کام بڑھ گیا ہے پھر بھی اسے بھروسہ ہے کہ وہ موجودہ اجلاس میں بل کو پاس کروا لے گی۔ ذرائع کے مطابق کچھ شرطوں کے ساتھ وزیر اعظم کو لوک پال کے دائرے میں شامل کرسکتی ہے۔ نچلی افسرشاہی پر اختلافات کو لیکر حکومت لوکپال کے دائرے میں رکھے جانے اور اس کے لئے ایک ضروری اور پختہ مکینزم بنانے پر غور کرہی ہے۔ سی بی آئی پر کوئی اتفاق رائے بنانا مشکل ہے۔ ایتوار کو روس سے لوٹ کر وزیر اعظم کیبنٹ کی میٹنگ بلائیں گے۔ جس میں لوکپال بل کے ترمیم مسودے کو منظوری دی جاسکتی ہے۔ پیر کو سبھی پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ کے درمیان بل کے مسودے کی کاپی دی جاسکتی ہے۔ اس کے اگلے دن منگلوار کو اسے پارلیمنٹ کے اندر رکھا جاسکتا ہے۔ پارلیمنٹ کا جلاس جمعرات کو ختم ہونے والا ہے۔ ضرورت پڑنے پر اجلاس کو ایک دن کے لئے بڑھایا جاسکتا ہے اور سرکار کے مسودے سے ناراض انا ہزارے نے کہا کہ اس بار وہ انشن پر نہیں بیٹھ رہے ہیں بلکہ سیدھے کانگریس کے سینئر لیڈروں کے خلاف سڑکوں پر اتریں گے۔ اور اگر مضبوط لوکپال نہیں آیا تو یکم جنوری سے یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی اورا ن کے لڑکے کانگری سکریٹری جنرل راہل گاندھی کے سامنے خود دھرنے پر بیٹھ جائیں گے۔انا نے جمعرات کو کہا انہیں امید ہے کہ سرکار پارلیمنٹ کے اسی اجلاس میں پائیدار لوکپال بل پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکار ایسا کرتی ہے تو وہ خود اس کا شکریہ ادا کریں گے۔ سرکار کے سینئر لیڈروں کو گلاب پیش کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے یوپی اے سرکار کو خبردار کیا کہ سخت لوکپال بل نہیں آیا تو اس بار صرف وہ رام لیلا میدان یا آزاد میدان تک محدود نہیں رہیں گے۔ 27 دسمبر سے شروع ہونے والے انشن کے علاوہ یکم جنوری سے جیل بھرو آندولن بھی شروع کیا جائے گا۔ لوکپال کی مخالفت کرنے والے ممبران پارلیمنٹ کی مخالفت کی جائے گی۔ ٹیم انا کے اہم سپہ سالار پرشانت بھوشن کا کہنا ہے یوپی اے سرکار بہانے بازے پر اتر آئی ہے۔ دیش کے سبھی لوگوں کو اب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ سرکار مضبوط لوکپال قانون بنانا ہی نہیں چاہتی۔بل پارلیمنٹ میں رکھنے سے پہلے ہی سرکار نے ٹال مٹول کا رویہ اپنانا شروع کردیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ سرکار اور انا ہزارے میں ٹکراؤ نہیں ہوگا۔ ویسے بھی سردی کا موسم ہے سبھی کی کوشش ہونی چاہئے کہ معاملہ نمٹ جائے۔ کچھ سرکار جھکے کچھ لچیلا پن ٹیم انا دکھائے۔آخر جو معاملہ پچھلے 40 سالوں سے لٹکا ہے وہ اتنی آسانی سے سلجھ نہیں پائے گا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, Congress, Daily Pratap, Lokpal Bill, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, Vir Arjun

20 اکتوبر 2011

انا اور ان کی ٹیم پر چوطرفہ حملے



Published On 20th October 2011
انل نریندر
انا ہزارے اور ان کی ٹیم پچھلے کچھ دنوں سے چاروں طرف سے مسائل سے گھرتی جارہی ہے۔ ایک ایک کرکے کئی مسئلے کھڑے ہوگئے ہیں۔ انا نے خود مون برت اختیار کیا ہوا ہے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے کہا ہے کہ سوالوں سے پریشان انا نے جواب نہ دینے کیلئے مون برت کیا ہے۔ان کے سپہ سالاراروند کیجریوال پر لکھنؤ میں ایک شخص نے چپل پھینکی۔ اترپردیش میں انا کا سندیش لے کر دورہ کررہے کیجریوال راجدھانی میں گومتی ندی کے کنارے جھولے لال پارک میں منعقدہ ایک پروگرام میں حصہ لینے کیلئے کار سے اترکر اسٹیج کی طرف بڑھ رہے تھے کہ 40 سالہ شخص جتیندر پاٹھک نے ان پر چپل پھینک دی۔ حملہ آور کا الزام ہے کہ کیجریوال لوگوں کو ورغلا رہے ہیں ۔اس لئے ان پر حملہ کیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کسی تنظیم کے علاوہ سیاسی پارٹی سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ فی الحال جتیندر پاٹھک پولیس حراست میں ہے۔
ٹیم انا کے دو بڑے ممبر پی وی راج گوپال اور راجندر سنگھ نے تحریک کے سیاسی رنگ اختیار کرنے پر اعتراض ظاہرکرتے ہوئے کور کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ غلط فہمی کا شکار ہوگئی ہے۔ ادھر منگلوار کو ہی کانگریس سے صلح کرنے کی کوشش پر اس وقت پانی پھر گیا جب انا ہزارے کے گاؤں کے سرپنج اور ان کے ساتھی خاص طور سے دہلی آئے تاکہ راہل گاندھی سے ملاقات ہوسکے لیکن ان کے ہاتھوں مایوسی لگی۔ جب وقت دے کر راہل گاندھی انا کے نمائندوں سے نہیں ملے۔ سوموار کو یوگ گورو بابا رام دیو نے ٹیم انا پر ہی حملہ کردیا اور انہوں نے کہا پرشانت بھوشن کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ بابا رام دیو نے کہا کہ اظہار آزادی کے نام پر دیش کو توڑنے والی بیان بازی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا سماجی تحریک میں شامل لوگ بھی دیش کو توڑنے والے بیان دیتے ہیں۔ جو دیش اور تحریکوں کے لئے بہت خطرناک ہے۔ انہوں نے انا ہزارے کو پرشانت بھوشن کے بیان پر اپنا موقف واضح کرنے کی صلاح دی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں رام دیو نے کہا کہ پرشانت بھوشن کے خلاف معاملہ درج ہونا چاہئے۔
آخر میں ٹیم انا کے خلاف ایک اور جھٹکا لگا جب سپریم کورٹ نے انا ہزارے کے ہند سوراج ٹرسٹ کو ملنے والے سرکاری پیسے کا غلط استعمال معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ والی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے لئے منظوری دے دی۔ جسٹس آفتاب عالم ، جسٹس رجنی دیسائی کے بنچ نے سرکاری وکیل منوہر لال شرما کی جانب سے دائرعرضی پر سرکار سے جواب طلب کیا۔ شرما نے الزام لگایا کہ سال 1995 میں ہزارے ٹرسٹ بنا تھا لیکن اسے غیر قانونی بتاتے ہوئے ایک مالی سال پہلے اقتصادی مدد دے دی گئی تھی۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ صاف ہے کہ یہ دھوکہ دھڑی سرکاری خزانے کے بیجا استعمال کا معاملہ ہے جومدعالیہ نمبر چار کی جانب سے کیا گیا۔ ساونت کمیشن کی 2005 میں آئی رپورٹ میں اس کا خلاصہ کیا گیا ہے۔ ان کے کچھ ساتھیوں یا گروپ سیاسی دوستوں نے ایسا کیا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹ نے غیر قانونی طریقے سے ایک کروڑ روپے سے بھی زیادہ کی رقم کونسل فار ایڈوانسمینٹ آف پیپلز ایکشن اینڈ رورل ٹیکنالوجی سے حاصل کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 1995 میں انا نے کپارٹ سے 75 لاکھ روپے لئے تھے۔ عرضی گذار نے کہا کہ 2001 میں کپارٹ نے 5 کروڑ روپے دیہی ہیلتھ کے نام پر جاری کئے تھے۔ کل کتنی رقم ٹرسٹ کو غیر قانونی طریقے سے دی گئی اس کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جانی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کرنے پر اپنی حامی بھردی ہے اور مرکز و مہاراشٹر سرکار کو جواب دینے کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ ٹیم انا پر چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں۔ انا خود تو بے داغ ہیں لیکن ان کے ساتھی یقینی طور سے انا کی تحریک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Baba Ram Dev, CBI, Daily Pratap, Digvijay Singh, Lokpal Bill, Prashant Bhushan, Supreme Court, Vir Arjun

19 اکتوبر 2011

کیا کانگریس حصار ضمنی چناﺅسے سبق لے گی؟



Published On 19th October 2011
انل نریندر
ہریانہ کی حصار لوک سبھا سیٹ پر ہوئے ضمنی چناﺅ پر سارے دیش کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ اس سیٹ پر ہریانہ جن ہت کانگریس کے ایم پی و سابق وزیراعلی چودھری بھجن لال کی موت کے سبب یہ سیٹ خالی ہوئی تھی۔حصار میں جنتا کی نظریں اس لئے بھی لگی تھیں کیونکہ یہاں بھجن لال کے بیٹے کلدیپ بشنوئی اور سابق وزیراعلی و انڈین لوکدل کے صدر اوم پرکاش چوٹالہ کے بیٹے اجے چوٹالہ میدان میںتھے کیونکہ ہریانہ میں کانگریس کا راج ہے اس لئے وزیراعلی بھوپندر سنگھ ہڈا و کانگریسی امیدوار جے پرکاش کی ساکھ بھی داﺅ پر لگی تھی۔ انا ہزارے بھی یہاں کانگریس کو ہرانے کےلئے ڈٹے ہوئے تھے۔ دیش یہ بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ انا کا کتنا اثر ووٹوں پر پڑتا ہے۔چناﺅ انتہائی چیلنج بھرا تھا اور اس پروقار چناﺅ میںبازی ماری بھاجپا اور ہجکا محاذ کے امیدوار کلدیپ بشنوئی نے اپنے قریبی حریف اجے سنگھ چوٹالہ کو 6323 ووٹوں سے ہرا کر یہ سیٹ جیت لی۔ کانگریس تیسرے نمبر پر رہی۔ پردیش میں حکمراں کانگریس امیدوار اورتین بار ایم پی رہے جے پرکاش 149785 ووٹ لیکر تیسرے مقام پر رہے اور ان کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ مقابلہ اتنا کانٹے دار تھا کہ ہار جیت میں صرف6323 ووٹوں کا ہی فرق رہا۔ بشنوئی کو 355941 ووٹ ملے تو چوٹالہ کو349681 ووٹ ملے۔ سال2009 کے چناﺅ میں بھی کانگریسی امیدوار جے پرکاش تیسرے مقام پر تھے اس لئے کانگریس دلیل دے سکتی ہے ہم پہلے بھی تیسرے مقام پر تھے اور اب بھی تیسرے پر رہے لیکن فرق یہ ہے کہ2009 میں جے پرکاش کو204539 ووٹ حاصل ہوئے تھے جو اس مرتبہ149785 رہ گئے۔
 کانگریس کا ووٹ فیصد گرا ہے۔ انا فیکٹر کتنا حاوی رہا کہنا مشکل ہے۔ حالانکہ انا ہزارے نے کہا حکمراں پارٹی کو چناﺅ نتیجے سے سبق لینا چاہئے ورنہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں بھی وہ خود کانگریس کے خلاف پروپگنڈہ کرےںگی۔ ہزارے نے کہا حصار لوک سبھا سیٹ پر ضمنی چناﺅ کانگریس ہار گئی۔ اب کانگریس ٹیم انا کو قصوروار نہ ٹھہراکر آئندہ پالیمنٹ کے اجلاس میں سخت بدعنوانی انسداد قانون بنانا چاہئے کیونکہ بدعنوانی نے عام آدمی کا جینا حرام کردیا ہے۔ جنتا کی قوت برداشت کم ہوگئی ہے اور اس لئے اس نے کانگریس کو مسترد کردیا ہے۔
 انا نے اپنے بلاگ میں سخت لہجے میں کہا کہ کانگریس نے اس چناﺅ سے اگر سبق نہیں لیا تو دیش میں اس کی یہی حالت ہوگی۔ حالانکہ قومی سیاست کے پس منظر میں اس ضمنی چناﺅ کی کوئی اہمیت نہیں لیکن اس سے جنتا کی کانگریس کے خلاف ناراضگی ضرور ظاہر ہوتی ہے۔ حصار میں چودھری بھجن لال کا کافی اثر تھا جس کا فائدہ اور ہمدردی کا ووٹ بشنوئی کو ہوا لیکن چوٹالہ کو اتنے ووٹ ملنے کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ چودھری اوم پرکاش چوٹالہ نے کچھ حد تک اپنی ساکھ پھر سے بنا لی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا کے لئے یہ ضرور اشارہ ہے کہ ہریانہ میں وہ اور ان کی حکومت اتنی مقبول نہیں ہے جتنا وہ سمجھے بیٹھے تھے۔ مستقبل قریب میں اور کئی چناﺅ ہونے ہیں کانگریس کو دیوار پر لکھی وارننگ کو سمجھنا چاہئے کہ ماحول اب اس کے خلاف چل رہا ہے۔
Ajay Chautala, Anil Narendra, Anna Hazare, Civil Society, Congress, Daily Pratap, Haryana, Hissar By Poll, Kuldeep Bishnoi, Lokpal Bill, Vir Arjun

15 اکتوبر 2011

پرشانت بھوشن کی چیمبر میں جم کر پٹائی



Published On 15th October 2011
انل نریندر
سپریم کورٹ کے وکیل اور ٹیم انا کے ممبر پرشانت بھوشن پر بدھوار کو تین لڑکوں نے ان کے سپریم کورٹ میں واقع چیمبر میں گھس کر پٹائی کردی۔ حملہ آوروں نے بھوشن کو کرسی سے اٹھا کر زمین پر پھینکا اور لاتوں گھونسوں سے دھنائی کرنے لگے۔ وہاں موجودہ لوگوں نے ایک حملہ آور اندر ورما کو پکڑلیا اور پولیس کے حوالے کردیا۔ باقی دونوں فرار ہوگئے جو بعد میں پکڑے گئے۔ پرشانت بھوشن کے چہرے و گردن پر چوٹ آئی ہے۔ آر ایم ایل میں علاج کے بعد انہیں چھٹی دے دی گئی۔ تلک مارگ تھانے میں تینوں حملہ آوروں کے خلاف کیس درج ہوا۔ جس وقت تینوں حملہ آوروں نے پرشانت بھوشن کے چیمبر میں گھس کر ان پر حملہ کیا اس وقت وہ ایک نیوز چینل کو انٹرویو دے رہے تھے لہٰذا یہ حملہ کیمروں میں قید ہوگیا اور شام تک یہ ہر چینل پر دکھایا جانے لگا۔ حملہ آوروں نے بعد میں پرچے بھی پھینکے اور کہا کہ کچھ دنوں پہلے کشمیر پر دئے گئے بیان سے وہ ناراض ہیں اور اس کی مخالفت کرنے کے لئے انہوں نے یہ حملہ کیا ہے۔ دراصل پرشانت بھوشن کے ذریعے 26 ستمبر کو وارانسی میں دئے گئے اس بیان سے ناراض تھے جس میں انہوں نے کہا تھا "سینا کے دم پر کشمیریوں کو بہت دنوں تک دباﺅ میں نہیں رکھا جاسکتا۔ کشمیر کا مستقبل طے کرنے کے لئے جموں و کشمیر میں ریفرینڈم کرایا جانا چاہئے۔" گرفتاراندر ورما نے خود کو شری رام سینا کا پردیش پردھان بتایا۔ حملے کے بعد جو پرچے بانٹے گئے ان پر لکھا تھا "کشمیر ہمارا تھا، ہمارا ہے اور ہمارا رہے گا۔ تم کشمیر توڑو گے تو ہم تمہارا سر توڑ دیںگے، وندے ماترم" حملہ کرنے والے لڑکوں کو پٹیالہ ہاﺅس میں پیش کیا گیا۔ تیجندر پال بگا سمیت سب کوعدالت میں پیش کیا جہاں ایک دن کے لئے انہیں عدالتی حراست میں بھیجا اور اسے اپنے کئے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے اور دھمکی دی کہ وہ پرشانت پر پھر حملہ کرسکتے ہیں۔ بھوشن کے حملہ آوروں کی عدالت میں پیشی کے دوران کچھ لوگوں نے انا حمایتیوں پر بھی حملہ کردیا اور دھنائی کی۔ بتایا جارہا ہے حملہ آوروں میں بھگت سنگھ کرانتی سینا شری رام سینا کے ورکر شامل تھے۔ جب پولیس وہاں پہنچی تو حملہ آور بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس جھڑپ کے دوران کئی لوگ زخمی ہوگئے۔ تیجندر پال سنگھ بگا نے فیس بک پر اپنے پروفائل میں ایک تصویر لگائی ہے جس میں وہ شری شری روی شنکر کے ساتھ کھڑا ہے۔ روی شنکر اور سوامی اگنی ویش کے علاوہ کشمیری علیحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور یسین ملک شامل ہیں۔ بھگت سنگھ کرانتی سینا ایک سال پہلے وجود میں آئی تھی اس سے پہلے وہ بھاجپا میں ہی شامل تھا۔
سماج سیوی انا ہزارے نے پرشانت بھوشن کے کشمیر پر دئے گئے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے اکھل بھارتیہ آتنک واد انسداد مورچہ کے پردھان منندر جیت سنگھ بٹا نے کہا کہ بھوشن نے اپنے بیان سے کشمیر کے لئے قربانی دینے والے ہزاروں شہیدوں کی بے عزتی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ یہ غلط ہے لیکن بھوشن کا بیان قابل ملامت ہے۔ بٹا نے کہا اس طرح کے بیان سے کشمیر میں لڑنے والے اپنی جان کی قربانی دینے والے شہیدوںکی توہین کرنا، اپنے ہی گھر سے معذول کردئے گئے کشمیری پنڈتوں اور دیگر لوگوں کی بھی بے عزتی ہے جو آج بھی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ پرشانت بھوشن نے کہا تھا سرکار کو کشمیر سے فوج واپس بلا لینی چاہئے۔ سرکار اس بات کے لئے ووٹنگ کرائے کہ کشمیری بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ انا صحیح کام کررہے ہیں مگر ان کے ساتھ جو لوگ ہیں وہ ٹھیک نہیں ہیں۔ سوامی اگنی ویش کا سچ سب کے سامنے ہے۔ پرشانت کے بیان کے لئے انا کو اس کی مذمت کرنی چاہئے۔ بٹا نے کہا ایسے بیان دیش توڑنے والے ہیں اور دیش کی جنتا اسے کبھی بھی قبول نہیں کرے گی۔ بہتر ہو کہ پرشانت بھوشن ایسے بیانات سے بچیں۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Attack on Prashant Bhushan, Civil Society, Daily Pratap, Jammu Kashmir, Lokpal Bill, Prashant Bhushan, Vir Arjun

07 اکتوبر 2011

ایک بار پھر انا ہزارے اور کانگریس آمنے سامنے



Published On 7th October 2011
انل نریندر
سماجی کارکن انا ہزارے نے سخت الفاظ میں کانگریس کو وارننگ دے ڈالی ہے ۔ سدھی رالے گن میں خطاب کرتے ہوئے انا نے کہا اگر مرکزی حکومت پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں جن لوک پال بل پاس کرنے میں ناکام رہی تو حکمراں کانگریس پارٹی کو پانچ ریاستوں میں ہونے جارہے چناؤ میں زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انا ہزارے نے حصار ضمنی چناؤ کو اپنی اس مہم کا پہلا مرحلہ قراردیتے ہوئے کہا کہ وہ ہریانہ کے حصار لوک سبھا کے ضمنی چناؤ حلقے میں ووٹروں سے اپیل کریں گے کے کانگریس امیدوار کو ووٹ نہ دیں کیونکہ پارٹی جان بوجھ کر جن لوک پال بل پارلیمنٹ میں نہیں لا رہی ہے۔ حصار میں13 اکتوبر کو ضمنی چناؤ ہونا ہے۔اپنے گاؤں میں اخبار نویسوں سے خطاب میں انا نے کہا ہم لوگوں سے یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ انہیں کس کو ووٹ دینا چاہئے ہم لوگوں سے کانگریس کو چھوڑ کر کسی بھی پارٹی کو ووٹ دینے اور صاف ستھرے کردار والے امیدوار کو چننے کو کہیں گے۔ انا ہزارے نے یہ بھی اعلان کیا کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ شروع ہونے سے تین دن پہلے لکھنؤ میں چار دن کا انشن کریں گے۔ ادھر ٹیم انا نے سرکار و پارلیمنٹ پر جن لوک پال بل کے حق میں دباؤ بڑھانے کے مقصد سے گاندھی جینتی کے موقع پر دیش بھر میں بل پر ریفرنڈم کرانے کی مہم شروع کردی۔ اس عوامی ریفرنڈم میں صرف دو سوال پوچھے جارہے ہیں پہلا کیا ان کے حلقے کے ایم پی اور ان کی پارٹی کو پارلیمنٹ میں انا کے جن لوک پال بل کی حمایت کرنی چاہئے یا نہیں۔ دوسرا یہ کہ اگر ان کے حلقے کے ایم پی نے پارلیمنٹ میں انا کے جن لوک پال بل کی حمایت نہیں کی تو کیا آپ اگلے چناؤ میں اس ایم پی یا اس کی پارٹی کو ووٹ دیں گے یا نہیں۔ اس مہم کے آغاز کے لئے اترپردیش کے بڑے لیڈروں کے چناؤ حلقوں کو چنا گیا ہے۔ جن میں کانگریس صدر سونیا گاندھی ، کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی، بھاجپا نیتا راجناتھ سنگھ، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی اور سپا کے ملائم سنگھ یادو شامل ہیں۔ گاندھی جینتی پر جن علاقوں میں ریفرنڈم کا آغاز کیا گیا ہے ان میں غازی آباد، کوشامبی، حمیر پور، مین پوری، رائے بریلی، امیٹھی، وارانسی، لکھنؤ اور امبیڈ کر نگر شامل ہیں۔
کانگریس میں انا کی وارننگ کا کتنا اثر پڑا یہ کہنا تو مشکل ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ پارٹی نے انا پر جوابی حملہ کرنا شروع کردیا ہے۔ارلیمانی وزیر پون بنسل نے کہا آپ کسی کی گردن پر پستول رکھ کر کوئی مقصد حاصل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی جن لوک پال بل پر غور کررہی ہے اور اس پر ممبران کے نظریات لے رہی ہے۔ بنسل نے کہا بل کو آنے والے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش کی جائے گی لیکن یہ اس بات پر منحصر ہے کمیٹی کتنا کام کرنے میں اہل ہے۔
کمیٹی میں سبھی پارٹیوں کے ممبر ہیں اور انہیں مختلف لوگوں سے نظریات مل رہے ہیں جو اس کے سامنے آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا اگر کمیٹی طے وقت میں اپنی رپورٹ دینے میں کامیاب ہوگی تو اگلے اجلاس میں بل کو پیش کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔ کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے انا کے اعلان کے جواب میں کہا کہ اگر آپ کرپشن سے لڑنا چاہتے ہیں تو آپ کو سیاست میں اترنا پڑے گا۔ جمہوری طریقے سے ہی سسٹم کو درست کیا جاسکتا ہے۔ جنرل سکریٹری اور میڈیا محکمے کے انچارج جناردن دویدی نے کہا کہ انہیں دیش کے مجموعی ضمیر جس کی نمائندگی پارلیمنٹ کرتی ہے اس پر پورا بھروسہ رکھنا چاہئے اور ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے جس سے ان کے اشو کا کوئی سیاسی مفاد کے لئے بیجا استعمال کرے۔ دویدی نے کہا کہ پارلیمنٹ سے جو لوک پال بل سامنے آئے گا وہ اثر دار ہوگا اور اسے لیکر انہیں پہلے کوئی رائے نہیں بنا لینی چاہئے۔ انا ہزارے ایک منجھے اور تجربہ کار شخص ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں جمہوریت اور اس کے تقاضوں پر بھروسہ ہے۔
انا کی وارننگ اور کارروائی سے اترپردیش اور ہریانہ میں اثر ہونا فطری ہے۔ اس سے کانگریس کی پریشانی یقینی طور سے بڑھے گے تو ضرور۔ پردیش پردھان ڈاکٹر ریتا بہوگنا نے کہامجھے انا کا بیان تو معلوم نہیں لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ سب کا نشانہ کانگریس کی طرف ہی کیوں ہے چناؤ تو چناؤ ہے دیکھا جائے گا۔
ٹیم انا کے اہم ساتھی اروند کیجریوال کے آبائی حلقے حصار میں بھی انا کے اعلان کا اثر نظر آنے لگا ہے۔ شہر کے بنگلوں سے لیکر گاؤں دیہات کے چودھری انا کے اعلان پر غور و خوض کرنے لگے ہیں۔ ان سب کے درمیان یہ سوال بڑا ہے کہ ایماندار، اچھا، شفاف امیدوار کسے چنیں؟ دیہاتیوں کا کہنا ہے یہ معاملہ تو مشکل ہے کسے ووٹ دینا ہے۔ایسے میں اچھا برا چھانٹنا پڑے گا۔ انا 9 یا10 اکتوبر کو حصار آنے والے ہیں۔ امیدواروں پر نظر ڈالیں تو سبھی پر کچھ نہ کچھ الزام ہے۔ حالانکہ انا نے کانگریس کا بائیکاٹ کرنے کو کہا ہے لیکن حصار کے لوگوں نے امیدوار جے پرکاش کو بھی پلڑے میں رکھ لیا ہے۔ کہتے ہیں یہ امیدوار تین بار ایم پی بن چکا ہے لیکن ہر بار الگ الگ پارٹی کا ممبر بنا۔ دیگر الزام بھی لگتے رہے ہیں۔ دوسرے امیدوار ہریانہ جن شکتی کانگریس بھاجپا کے کلدیپ بشنوئی کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی کے پانچ ممبران اب کانگریس میں ہیں،نے الزام لگا دئے ہیں کہ یہ ان کو بیچنے کا سودا کررہے تھے۔ تیسرے امیدوار انڈین نیشنل لوک دل سے اجے سنگھ چوٹالہ ہیں۔ ان کے بارے میں دوسری پارٹی کے لوگ آمدنی سے زیادہ اثاثہ رکھنے کے معاملے میں قصوروار ہونے کی بات کہتے ہیں۔ لیکن اپنا خیال یہ ہے کہ مقابلہ اجے چوٹالہ۔ کلدیپ بشنوئی کے درمیان ہے۔ جے پرکاش تیسرے نمبر پر چل رہے ہیں۔
بھاجپا کو انا ہزارے کی کانگریس مخالفت تو راس آرہی ہے لیکن گجرات میں اپنی سرکار کے خلاف انا کے تیوروں نے اسے بغلیں جھانکنے کے لئے مجبور کردیا ہے۔ پارٹی نے حالانکہ انا اور اپنے بیچ کسی طرح کا تال میل ہونے سے صاف انکار کردیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان نرملا سیتا رمن نے کہا کہ انا اور بھاجپا دونوں ہی کانگریس کے خلاف اس لئے ہیں کیونکہ کانگریس پوری طرح سے کرپٹ ہوچکی ہے۔
انا ہزارے کی تحریک کو بھاجپا بھلے ہی سیاسی طور سے بھنانے کی کوشش کرے لیکن انا مسلسل کہہ رہے ہیں بھاجپا اور آر ایس ایس ان کی تحریک سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اب انہوں نے گجرات میں آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کی گرفتاری کی مخالفت کرکے صاف کردیا ہے کہ آنے والے دنوں میں انا ہزارے اور کانگریس کے درمیان لفظی جنگ تیز ہوسکتی ہے۔ انا کی اپیل کا پہلا ٹیسٹ حصار لوک سبھا ضمنی چناؤ میں ہوسکتا ہے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Congress, Corruption, Daily Pratap, Lokpal Bill, Uttar Pradesh, Vir Arjun, RSS, BJP,

13 ستمبر 2011

جن لوک پال بل کی مخالفت کس کے اشارے پر؟




Published On 13th September 2011
انل نریندر
رام لیلامیدان میں کامیاب تحریک کے بعد بدعنوانی کی لڑائی پر آگے کی حکمت عملی طے کرنے اناہزارے کے گاؤں رالے گن سدھی میں ٹیم انا کی کور کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ دوروزہ اس میٹنگ میں انا کے علادہ ارون کیجریوال ،پرشانت بھوشن، سنتوش ہیگڑے، کرن بیدی، میدھا پاٹیکر سمیت کور گروپ کے سبھی سینئر ممبروں نے شرکت کی۔ میٹنگ ختم ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیجریوال نے کہاکہ ’’آندولن کی طرف سے اناہزارے وزیراعظم کو خط لکھیں گے۔ ان میں ممبران پارلیمنٹ کی کارگزاری کا سالانہ لیکھاجوکھا کرانے ، خارج کرنے کاحق، واپس بلانے کا حق اور زمین تحویل بل پر اپنے خیالات ظاہر کریں گے‘‘ اس کے ساتھ ہی ہزارے نے لوگوں سے ان سبھی پارٹیوں پر نظر رکھنے کو کہا جو کہ جن لوک پال بل کی مخالفت کررہی ہیں۔ انہوں نے اس بل کی مخالفت کررہے ممبران پارلیمنٹ کاگھیراؤ کرنے کی اپیل بھی کی۔ انا نے میٹنگ میں جانے سے پہلے میڈیا سے کہاکہ ہمیں اس بل کے خلاف جانے والی سبھی سیاسی پارٹیوں اور لوگوں پر توجہ دینی چاہئے ۔جن لوک پال بل کی مخالفت کررہے ممبران اور ان کی ٹیم کے ممبروں کو نشانے بنانے والے لوگوں کو لے کر دکھ ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بل کی مخالفت کررہے سبھی ممبران کے گھروں کو ہمیں گھیرنا چاہئے۔ ہمیں یہ یقینی کرناہوگا کہ جب تک یہ بل پارلیمنٹ میں پاس نہیں ہوجاتا ہے جب تک ہم یہ تحریک ختم نہیں کرنے دیں انہوں نے خبردار کیاکہ اگر مرکزی حکومت بل کو پاس کرنے میں کوئی تاخیر کرنے کی کوشش کریں گی تو جنتر منتر پر ایک اور تحریک چھیڑیں گے۔
اس دوران مرکزی حکومت نے انا کے خلاف کئی مورچے کھول دیئے ہیں۔ ایک طرف سرکار ٹیم انا کے ممبران کو انکم ٹیکس محکمے نے نوٹس تھما دیئے ہیں۔تو دوسری طرف رام لیلا میں بیان بازی کی بنیاد پرٹیم انا کو کئی ممبران پارلیمنٹ کے ذریعہ تحریک استحقاق کا نوٹس بھی دے دیا گیاہے۔ کل تک اناکی حمایت کررہے کانگریس ممبران پروین سنگھ نے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ لوک سبھااسپیکر میرا کمار کولکھے خط میں ایرن نے کہا کہ ٹیم کی انا کی چنوتی کا مناسب جواب جنتا میں جا کر دیں گے۔ کیونکہ ان کے ارادے ٹھیک نہیں ہے۔ ٹیم انا ملٹی نیشنل کمپنیوں وکسی پارٹی کے لئے سیاسی مفاد حاصل کرنے کاکام کررہی ہے۔ جب کہ یہ لوگ جنتا کے درمیان بھی جانے کی بات کررہے ہیں۔ ایرن نے خط میں لکھاہے کہ ٹیم انا کے ممبر کرن بیدی ، ارون کیجریوال اورپرشانت بھوشن کاارادہ اورایجنڈا نیک نہ ہو کر اوچھی سیاست پر مبنی ہے۔ یہ لوگ کانگریس اور حکومت کو بدنام کرنے میں لگے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جنتا کی آواز اٹھانے کے نام پریہ لوگ اپنے یا کسی اورسیاسی صنعتی یا ملٹی نیشنل کمپنی کے ناجائز مفاد کی تکمیل کی مہم پر ہے۔یہ لوگ سماج اور انتظامیہ میں پیدا کرپشن سے دوچار عوام کی دلی خواہش کا غیراخلاقی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ادھر دلت تنظیموں نے بھی انا کے عوامی جن لوک پال بل کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔دلت تنظیم اسے بے لگام ،آئین اور پارلیمنٹ مخالف بتا کر ریاستی سطح کی مہم چھیڑنے کی تیاری میں ہے۔ اس مہم کے پیچھے منصف اور دلت ٹوڈے کے مدیر ایس کے پنجم ہیں۔پچھلے دنوں اترپردیش کے سسیگھولی تحصیل ہیڈ کوارٹر پر بام سیف، ڈاکٹر امبیڈ کر وچار منچ، انصاف دلت ایکشن فورم، ارجک سنگھ، شوشت سماج دل، یادو مہاسبھا وغیرہ تنظیموں نے ایک کانفرنس کرکے جن لوک پال کے خلاف تحریک کااعلان کیا ہے۔ مدرارکشس نے اس سلسلے میں بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ جن لوک پال بھارتیہ سورن اور درمیانے طبقے کاایجنڈا ہے جو انتہائی جدید طور پر سنگھ کی فرقہ وارایت کو ا پنے میں سمیٹے ہوئے ہیں۔
دلت ایشیا کے مدیر ایس کے پنچم نے بتایاکہ جن لوک پال سورن ہندو ایک نیتا پینترا ہے۔ جن لوک پال بھارتی آئین، پارلیمنٹ پر سورن بالا دستی کا حملہ ہے انہوں نے کہاکہ لوک پال چاہے سرکاری ہو یاسول سوسائٹی کا دونوں مندروں اور ٹرسٹوں میں پیدا کرپشن کو اپنے دائرے میں لانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ کانگریس جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ پہلے ہی ٹیم انا کو نشانے بنا رہے ہیں۔ کیجریوال کو انکم ٹیکس کانوٹس ملنے پر دگ وجے سنگھ نے کہاکہ یہ نوٹس تو انہیں2005میں جاری کیا گیا ہے۔ بقول دگ وجے ان پر نہ صرف سرکاری سروس قاعدے توڑنے کاالزام ہے۔ بلکہ سیاست میں شامل ہونے اور این جی او کے ذریعے کروڑوں روپے کمانے کاالزام ہے۔ کیجریوال نے جواب دیتے ہوئے دگ وجے کو کہاکہ اگر میں نے کروڑوں روپے کا گھپلہ کیاہے ان کی پارٹی کی سرکار ایف آئی آر درج کیوں نہیں کراتی۔ کل ملا کر کانگریس ٹیم انا کے راستے میں روڑے اٹکانے سے باز نہیں آرہی دیکھنا یہ ہے کہ ٹیم انا آگے کا راستہ کیسے طے کرتی ہے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Daily Pratap, Digvijay Singh, Lokpal Bill, RSS, Vir Arjun

06 ستمبر 2011

بھارتیہ جنتا پارٹی کا بڑھتا گراف



Published On 6th September 2011
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے اچھی خبر ہے جن لوکپال بل پر حکومت کی ناک میں دم کرنے والے سماجی کارکن انا ہزارے نے اپنی بدعنوانی مخالف تحریک میں بھلے ہی ابھی پوری کامیابی نہ حاصل کی ہو لیکن عوام کی نظروں میں انا نے کانگریس کو ولن ضرور بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اور اس کا سیدھا فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو پہنچا ہے۔ اسٹار نیوز نیلسن نے ایک سروے کیا ہے جو 28 شہروں میں قریب9 ہزار لوگوں پر کیا گیا، اس سروے میں بھاجپا کی آج کی پوزیشن مضبوط بتائی گئی ہے۔ سروے کے مطابق اگر حال میں چناؤ ہوجائیں تو بھاجپا کو سب سے زیادہ ووٹ ملیں گے۔ سروے میں 32 فیصدی لوگوں نے بھاجپا کو اقتدار کے لئے اپنی پسند بتایا ہے وہیں 20 فیصدی لوگوں نے کانگریس کو پسند کیا ہے۔ دیش کے سبھی علاقوں میں بھاجپا کو لوگوں نے کانگریس کی بہ نسبت ترجیح دی ہے۔ بھاجپا۔ کانگریس کے جواب میں اندازاً 40.27 ، جبکہ مشرقی ہندوستان میں 20.15 فیصد رائے رہی۔ مغرب میں یہ تناسب46.15 رہا۔ جنوبی ہندوستان میں تجزیئے تھوڑے الگ نظر آئے۔ یہاں ابھی کانگریس کو زیادہ لوگوں نے پسند کیا ہے۔ یہاں کانگریس کو20 فیصدی اور بھاجپا کو16 فیصدی لوگوں نے اپنا ووٹ دینے کی بات کہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اسٹار نیلسن نے مل کر مئی2011 ء میں ایک سروے کیا تھا اس میں کانگریس کو لوگوں نے ترجیح دی تھی لیکن ایک دو مہینے بعد ہی انا کی تحریک نے تصویر بدل دی ہے۔ مئی کے سروے میں دیش بھر میں قریب30 فیصدی لوگوں نے کانگریس کو پسند کیا تھا۔ وہیں بھاجپا کے حق میں 27 فیصدی لوگوں نے اپنا ووٹ کیا تھا۔ اس وقت مغربی ہندوستان کو چھوڑ کر کانگریس دیش کے ہر علاقے میں ووٹروں کی پسند بنی ہوئی تھی۔ سروے کی 10 بڑی باتیں اس طرح ہیں۔ انا کی تحریک جہاں سب سے تیز تھیں وہیں بھاجپا کو سب سے زیادہ فائدہ فائدہ ہوا۔ 54 فیصدی لوگ مانتے ہیں کے کانگریس نے انا کی تحریک سے ٹھیک طرح سے نہیں نمٹا۔ 64 فیصد لوگ مانتے ہیں حالات سے ٹھیک طریقے سے نمٹنے کے لئے وزیر اعظم سے زیادہ ان کے سینئر وکیل ذمہ دار ہیں۔75 فیصدی لوگوں کا خیال ہے کرپشن کے لئے سبھی سیاسی پارٹیاں ذمہ دار ہیں۔54 فیصدی لوگ مانتے ہیں کہ راہل گاندھی کو اس وقت وزیر اعظم کے عہدے سے دور رہنا چاہئے۔62 فیصد لوگوں کا کہنا ہے اروند کیجریوال نوجوانوں کے ہیرو بن کر ابھرے ہیں۔ راہل گاندھی، کپل سبل اور پی چدمبرم پرچناؤ میں انا ہزارے ، کرن بیدی اور کیجریوال بھاری پڑ سکتے ہیں۔53 فیصد لوگ مانتے ہیں کہ اگر مضبوط جن لوکپال بل پاس ہو تو پانچ سال میں دیش بھر سے کرپشن ختم ہوسکتا ہے۔ 49 فیصدی لوگوں کا خیال ہے کہ رشوت نہ لینے اور نہ دینے کی قسم کھانے سے بدعنوانی دور نہیں ہوگی۔82 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اپنی مانگ منوانے کا انا کا طریقہ صحیح تھا۔ وہ بلیک میلنگ نہیں تھی۔ اگر انا اور راہل میں چناوی مقابلہ ہو تو 74 فیصدی لوگ گاندھی وادی انا ہزارے کو اپنا ووٹ دیں گے جبکہ صرف17 فیصدی ہی راہل گاندھی کو ووٹ دیں گے۔ کانگریس کے لئے یہ نتیجہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے جنتا کی نظروں میں کانگریس کی آج کی تاریخ میں پوزیشن کیا ہے۔ دیش سے باہر بھی بھاجپا کی حالت مضبوط ہوتی نظر آرہی ہے۔
دیش میں بھلے کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں کو گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کی حکومت راس نہ آرہی ہو لیکن بھارت کا پڑوسی اور دنیا کے طاقتور ملکوں میں سے ایک چین گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کی حکومت کے طریق�ۂ کار پر قائل ہے۔ اتنا ہی نہیں چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے لیڈروں اور چین کے پالیسی سازوں کو بھی لگ رہا ہے کہ بھارت میں 2014 ء میں ہونے والے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا اقتدار میں آسکتی ہے۔ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ چین نریندر مودی کی سیاسی حکمت عملی سے زیادہ ان کی حکومت میں گجرات میں صنعتی ترقی کو لیکر کافی حیرت زدہ ہے۔ چین کے پالیسی سازوں کو لگ رہا ہے کہ جس طرح سے مودی کی حکومت میں گجرات کی اقتصادی ترقی ہوئی ہے اسی طرح مودی بھارت کی معیشت کو بھی نیا موڑ دے سکتے ہیں۔ چین کی یہ رائے اس لئے بھی بنی کیونکہ بھارت کے کئی بڑے صنعت کار مسلسل مودی کی صنعتی پالیسی کی تعریف کررہے ہیں اور انہیں مستقبل کا بہترین وزیر اعظم بتا چکے ہیں۔ مودی کے کام کے طریقے سے خوش چین گجرات کی صنعتی ترقی اور وہاں باز آبادکاری کے سیکٹر میں مودی سرکار کے ساتھ کام کرنے کا خواہش مند ہے۔ چین کے سفیر زیانگ نے خود یہ پیشکش مودی کے سامنے رکھی ہے۔ چین کے سفیر نے خاص طور پر مودی کو چین آنے کی دعوت بھی دی ہے جسے انہوں نے قبول کرلیا ہے۔ چین کی یہ پالیسی امریکہ اور یوروپ کا کچھ دوسرے دیشوں سے بالکل الٹ ہے۔ گجرات فسادات کو لیکر امریکہ سمیت یوروپ کے کچھ ملکوں میں انسانی حقوق تنظیم مودی کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اس بنیاد پر ان دیشوں میں مودی کو ویزا تک دینے سے انکار کردیا۔ سال 2005 ء میں جب مودی امریکہ جانے والے تھے تو امریکہ حکومت نے انہیں ویزا نہیں دیا۔ نتیجتاً مودی کو امریکہ میں بسے گجراتیوں کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہی خطاب کرنا پڑا۔ لہٰذا نریندر مودی کو لیکر چین کا بدلہ نظریہ بین الاقوامی ڈپلومیٹک نقطہ نظر سے بھی اہم ہے۔ چین کے پالیسی ساز یہ بھی مان رہے ہیں کہ جس طرح سے اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے سرکار کے عہد میں چین اور بھارت کے رشتے بہتر ہوئے تھے اسی طرح کے امکانات وہ مودی میں دیکھ رہے ہیں۔ اصل میں جاپان کے بعد چین بھی نریندر مودی کو ہندوستان کے ہونے والے وزیر اعظم کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ چین اور مودی کے رشتوں میں آرہی قربت کے پیچھے صرف یہی وجہ نہیں ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انا کی تحریک نے بھاجپا نے جس طرح سے اپنے پتے کھیلے ہیں اسے فائدہ پہنچا ہے۔ لیکن بہت کچھ اس پر منحصر کرتا ہے کہ مستقبل قریب میں بھاجپا کا نظریہ اور برتاؤ کیسا ہوتا ہے؟ کیا کچھ نیتاؤں کا ذاتی مفاد پارٹی کے مفادات سے یونہی اوپر رہے گا؟ اگر ایسی حالت رہی تو معقول ماحول ہونے کے باوجود ہمیش شبہ ہے کہ پکی ہوئی فصل بھاجپا کاٹ پائے؟ بھاجپا کوسب سے زیادہ خطرہ اندر سے ہے۔ باہر تو اس کی ساکھ بہتر ہورہی ہے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, Congress, Daily Pratap, Lokpal Bill, Vir Arjun,

03 ستمبر 2011

سیاسی آقاؤ کے اشارے پر نوٹس بھیجا گیا، اروند کیجریوال

انا ہزارے کی تحریک سے غصے سے بھری منموہن سنگھ سرکار نے اب ان لوگوں کو نشان زد کرکے نشانے پر لینا شروع کردیا ہے جنہوں نے اس کی مٹی پلید کرنے میں سرگرم کردار نبھایا تھا۔ میڈیا پر لگام لگانے کیلئے مخصوص گروپ بنانے کی بھی خبر ہے۔ انا کے اسٹیج سے سرکار کو برا بھلا کہنے والے فلم اداکار اوم پوری ، کیرن بیدی پر پہلے ہی ہتک عزت کا مقدمہ درج ہوچکا ہے۔ ممبران پارلیمنٹ کے خلاف متنازعہ تبصرے کو لیکر پارلیمنٹ میں تحریک استحقاق کی خلاف ورزی کے معاملے کا سامنا کررہی کیرن بیدی کا ٹیم انا اب کھل کر ساتھ دے رہی ہے۔ اروند کیجریوال نے کہا پوری ٹیم متحد ہوکر کیرن بیدی کے ساتھ ہے۔ اس طرح کے قدم سے جنتا کے درمیان یہ تاثر جائے گا کہ ممبران پارلیمنٹ ان سے بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا جب نوٹس ملے گا تو وہ اس پر جواب دیں گی۔ ٹیم انا کے ایک اور اہم ساتھی سابق مرکزی وزیر قانون شانتی بھوشن سی ڈی معاملے میں پھنستے نظر آرہے ہیں۔ دہلی پولیس نے سی ڈی معاملے میں عدالت میں داخل اپنی کلوزر رپورٹ میں جانکاری دی ہے کے سی ڈی میں سپا چیف ملائم سنگھ یادو اور شانتی بھوشن کی بات چیت کا ٹیپ اصلی ہے۔ اس میں کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ کا ثبوت نہیں ہے۔ اگر یہ سی ڈی اصلی ہے تو یہ سیدھے سیدھے سپریم کورٹ میں بڑا بدعنوانی کا معاملہ بنتا ہے۔ دہلی پولیس کے ذرائع کے مطابق اس معاملے میں ان کے پاس ایک چشم دید گواہ بھی ہے،وہ ہے ممبر پارلیمنٹ امر سنگھ۔ انہوں نے پولیس کو پوچھ تاچھ میں بتایا ہے کہ انہوں نے اپنے گھر پر لینڈ لائن فون سے خودپرشانت بھوشن سے ملائم سنگھ کی بات کروائی تھی۔
منموہن سنگھ حکومت کو سب سے زیادہ پریشانی اروند کیجریوال سے ہے۔ ٹیم انا میں کیجریوال کو وہ سب سے بڑا روڑا مانتی ہے۔ اب ان کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اروند کیجریوال کو بھارتیہ محصولاتی سروس سے 2006 میں دئے گئے استعفے کو مرکزی حکومت نے اب تک منظوری نہیں دی تھی۔ سروس شرطوں کے مطابق مرکزی حکومت نے وقت سے پہلے نوکری چھوڑنے کے لئے ان سے 3 لاکھ روپے کی مانگ کی تھی۔ اب یہ رقم بڑھ کر 9 لاکھ روپے ہوگئی ہے۔ کیجریوال نے اس میں چھوٹ کے لئے درخواست دی تھی جس پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ سرکارسے سیدھے ٹکراؤ کے بعد مرکزی سرکار کا محکمہ پرسنل کیجریوال کے استعفے کا معاملہ پھر سے کھول سکتا ہے۔ محصولاتی سروس کے افسر کے طور پر کیجریوال نے سال2000ء میں دو سال کی ’اسٹڈی لیو‘ لی تھی۔ اس دوران مرکزی سرکار کے قواعد کے مطابق انہیں تنخواہ نہیں دی گئی تھی۔ اس مدت کے بعد انہوں نے دو سال بغیر تنخواہ کے تعلیمی مطالع چھٹی لی تھی۔ سروس شرطوں کے مطابق چھٹی سے لوٹنے کے بعد کم سے کم تین سال نوکری کرنی پڑتی ہے لیکن کیجریوال نے اس سے پہلے ہی 2006 ء میں استعفیٰ دے دیا۔ ایسے میں ڈی او پی ٹی نے ان سے 3 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ کیجریوال نے پھر درخواست کی کہ ان کے پاس اتنی رقم نہیں ہے اس لئے انہیں اس میں چھوٹ دے دی جائے۔ مگر اب تک محکمے نے اس پر کوئی قطعی فیصلہ نہیں لیا۔ حالانکہ استعفے کے فوراً بعد کیجریوال کو اس سے بڑی رقم میگسیسے ایوارڈ کے طور پر ملی تھی۔
جمعہ کے روز اروند کیجریوال نے الزام لگایا کہ انہیں9 لاکھ روپے کی ادائیگی کا نوٹس سیاسی آقاؤ کے اشارے پر بھیجا گیا ہے۔ لوکپال کے مسئلے پر انا کے ذریعے انشن کرنے سے دس دن پہلے انکم ٹیکس نے 5 اگست کو کیجریوال کو ایک نوٹس بھیجا۔ نوٹس میں کیجریوال سے ان کے انکم ٹیکس کمیشنر رہتے مطالع چھٹی پر جانکاری کی میعاد کی تنخواہ اور اس پر لگے سود اور قرض کے اوپر دوبارہ سود سمیت بقایا رقم کو ملا کر کل 9.27 لاکھ روپے کی ادائیگی کرنے کو کہا گیا ہے۔کیجریوال نے کہا انکم ٹیکس محکمے نے میرے دو سال چھٹی پر رہنے کے دوران تعمیل رہے بانڈ کی غلط تشریح کی گئی ہے۔ میں نے بانڈ کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ انکم ٹیکس محکمے نے یہ نوٹس سیاسی آقاؤں کے دباؤ میں بھیجا ہے۔ہزارے کے ایک دوسرے ساتھی ورکر پرشانت بھوشن نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سرکار نے سبق نہیں لیا اور وہ گھناؤنے طریقے اپنانے پر اترآئی ہے۔ قابل ذکر ہے انکم ٹیکس محکمے سے کیجریوال کو بھیجے گئے نوٹس میں ان سے دو سال کی تنخواہ کی شکل میں 3.54 لاکھ روپے او ر اس پر سود کی شکل میں4.16 لاکھ روپے کمپیوٹر کے قرض کی بقایا رقم کی شکل میں 51 ہزار روپے اور اس پر سود کی شکل میں 1.04 لاکھ روپے کی ادائیگی کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس طرح انہیں 9 لاکھ سے زائد روپے کی رقم دینے کو کہا گیا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Kiran Bedi, Prashant Bhushan, Lokpal Bill,

30 اگست 2011

انا کیلئے عوامی ہجوم کیوں اترا یہ سمجھناچاہئے





Published On 31st August 2011
انل نریندر
انا ہزارے کی تحریک سے کئی سبق ملتے ہیں۔ یہ ایک عجب تحریک تھی جس نے سارے دیش کو ایک بار ہلا کر رکھ دیا۔ سارے طبقوں ،مذاہب، فرقوں سبھی کو ملادیا۔ برسوں کے بعد مڈل کلاس کے لوگ سڑکوں پر اترے۔ اپنی گاڑیوں سے اترپر رام لیلا میدان میں صفائی کررہے ، کھانا کھلا رہے ، ان لوگوں نے شاید اس سے پہلے کبھی بھی یہ سب نہیں کیا ہوگا۔ وہ مڈل کلاس جو ووٹ نہیں دیتا وہ12 دن تک رام لیلا میدان میں انا کے ساتھ کھڑا دکھائی دیا۔ اس تحریک میں دیش کا ہر طبقہ شامل تھا۔ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ موم بتی مارچ کرنے والے لوگ وہ ہیں جوکبھی ووٹ ڈالنے بھی نہیں جاتے۔ مگر یہ سب کہنے والے بھول جاتے ہیں کہ دیش کا یہ ہی طبقہ انتخابات میں آپ کو نظرانداز محسوس ہوتا ہے۔ جس طرح چناؤ ذات پات اور علاقائیت جیسے مسئلوں پر جیتے جاتے ہیں وہاں دیش کا یہ شہری طبقہ اپنے آپ کو اقلیت میں محسوس کرتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کی تعداد مٹھی بھر ہے اور وہ چناؤ میں اپنا کوئی کردار ہی نہیں مانتے۔ مگر اب انہیں لگ رہا ہے کہ کم سے کم ہمارا کردار اس قانون کو بنانے میں تو ہے جو کرپشن پر لگام لگا سکے۔ وہی بدعنوانی جو دیش کو پوری طرح سے گھن کی طرح کھا گئی ہے، اس تحریک نے ان میں ایک سنجیدگی پیدا کی ہے۔
دانشوروں اور سیاسی پنڈتوں کو بھی یہ بات حیرت میں ڈال رہی ہے کہ جو جنتا یوم آزادی یا یوم جمہوریہ کو ایک چھٹی کے دن کی طرح سے دیکھتی ہے اسے اس تحریک میں ایسا کیا نظر آیا کہ وہ بغیر بلائے رام لیلا میدان کی طرف دوڑ پڑی۔ آج بیشک بھاجپا اس بات کا سہرہ لینے کی کوشش کررہی ہے کہ انا تحریک آخر کامیاب کرانے میں اس کا اہم کردار رہا۔ بیشک رہا بھی، اگر بھاجپا کھلے عام اعلان نہیں کرتی کہ وہ انا کی تینوں شرطوں کو بغیر کسی قباحت کے قبول کرتی ہے اور حمایت کرتی ہے تو شاید حکومت اب بھی اتنی آسانی سے ہار نہیں ماننے والی تھی۔ بھاجپا کے قدم نے انا کا پلڑا بھاری کردیا لیکن بھاجپا کو یہ سوال اپنے سے ضرور پوچھنا چاہئے کہ اتنے برسوں سے وہ کرپشن کو اشو کیوں نہیں بنا پائی۔ آخر انا اسے اشو بنا لے گئے؟ حکومت نے بھی جنتا کی پکار و جنتا میں بے چینی کو ہمیشہ نظر انداز کیا۔ کرپشن اور مہنگائی سے دبی ہندوستان کی جنتا چیخ چیخ کر پکارتی رہی کہ کچھ کرو، کچھ کرو۔ لیکن کانگریس پارٹی اور حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ہمارے سیاستداں اپنے کو تسلی دینے کے لئے یہ دلیل دینی شروع کردی کہ کرپشن اب کوئی اشو نہیں رہا ہے۔
سیاستدانوں کا یہی خیال تھا کہ جنتا نے ترقی کے نام پر کانگریس کو ووٹ دیا اور کرپشن اب جنتا میں قابل قبول ہوچکا ہے۔ یعنی کرپشن اب نہ اشو بنایا جاسکے گا اور نہ ہی کرپشن کے خلاف بھارت میں کوئی تحریک چل سکتی ہے لیکن محض ساتویں کلاس پاس رائے گن کے ایک سنت نے سیاسی پانڈتوں کی ساری تھیوریوں کو ناکام کردیا۔ انا کی اپنی صاف ستھری ساکھ اور سیدھی آواز نے لوگوں کے دل کو چھولیا اور وہ سڑکوں پر آگئے۔ انا کی تحریک کامیاب ہونے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ تھا ان کا اپنا بھروسہ ۔ اور اس کے پیچھے سبب تھا انا کا اخلاقی قد اور ان کی بے غرضی اور انا کی غیر جانبدار شخصیت۔ انا ہزارے کو دیکھ کر عام آدمی کو یہ لگا کہ یہ 73 سالہ شخص اپنے لئے جدوجہد نہیں کررہا ہے بلکہ یہ ان کے لئے محاذ آرا ہے جب کوئی سیاستداں انہی باتوں کو کہتا ہے تو جنتا اس کا مطلب دوسرا نکال لیتی ہے۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ موقعہ پڑنے پر یہ پارٹی یا ستداں بھی وہی برتاؤ کرے گا جس کے خلاف وہ تقریر کررہا ہے۔ سیاستدانوں پر سے جنتا کے اٹھتے بھروسے کا ہی نتیجہ ہے سیاسی پارٹیوں کو اپنی ریلیوں میں 10-20 ہزار کی بھیڑ اکٹھے کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑتا ہے۔ پارٹی چھٹ بھیا نیتاؤں پر بھی بھاری بھیڑ اکٹھے کرنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ چائے ،ناشتے اور گاڑیوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ان نیتاؤں کا قد پارٹی میں ان کے ذریعے اکٹھے کردہ بھیڑ سے ہی طے ہوتا ہے۔ اور انا کی تحریک میں جنتا خود اپنے خرچ پر اپنا کھانا پینا لیکر خدمت کے جذبے سے آئی، اسے کسی نے مجبور نہیں کیا۔ سیاستدانوں کو اس تحریک سے سبق لینا چاہئے اور انا کی کامیابی کوسنجیدگی سے بلاغرض سمجھنا چاہئے۔ پتہ نہیں اب بھی ان کو سمجھ آئی ہے یا نہیں؟

انا کی تحریک! سنسد میں نوجوان برگیڈچھائی رہی




Published On 31st August 2011
انل نریندر
سنیچر کو لوک سبھا میں جب انا کی تین شرطوں پر بحث چل رہی تھی تو ایک بات خاص طور پر سامنے آئی۔ وہ یہ تھی کہ دونوں کانگریس اور بھاجپا نے اپنی نوجوان پیڑھی کو آگے کرکے انہیں بولنے کا اور اپنی بات رکھنے کا موقعہ دیا۔ وہ اتنی اہم بحث میں اپنا ہنر دکھا سکیں۔ کانگریس کے نوجوان ممبر پارلیمنٹ سندیپ دیکشت اپنی والدہ محترمہ شیلا دیکشت کی چھایا سے بھی باہر نکل آئے۔ انہوں نے اپنے دم خم پر آگے بڑھنے کا جو فیصلہ کیا وہ لائق تحسین ہے۔ سندیپ دیکشت نے نہ صرف اپنی پارٹی میں اپنا قد بڑھایا ہے بلکہ اپوزیشن نے بھی کئی بار ان کی دلیلوں سے اتفاق ظاہر کیا۔ جب انا کو گرفتار کیا گیا تھا تو سندیپ پہلے ممبر پارلیمنٹ تھے جنہوں نے کھلے طور پر کہا تھا یہ غلط ہوا ہے۔ پہلے دن سے ہی وہ صلاح صفائی میں لگ گئے تھے۔ جب ایتوار کو ولاس راؤ دیشمکھ وزیر اعظم کا خط لیکر رام لیلا میدان پہنچے تو ان کے ساتھ پارٹی اور حکومت نے سندیپ دیکشت کو بھیج کر یہ واضح کردیا کہ اب ان پر کتنا بھروسہ ہے۔ سندیپ دیکشت کے تئیں سب کی نظروں میں عزت بڑھی ہے اور یہ ان کے آگے کام آئے گی۔ ادھر ورون گاندھی کو اتارنے کے پیچھے بھاجپا کا خاص مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ان کا گاندھی انا ہزارے کی تحریک اور عوامی جذبے کے زیادہ قریب ہے۔ اس سے پہلے ورون گاندھی نے ٹیم انا کے عوامی لوکپال کو بطور پرائیویٹ ممبر بل لوک سبھا میں لانے کی کوشش کی تھی۔ وہ رام لیلا میدان بھی گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ورون گاندھی نے سشما سوراج کے ساتھ پارٹی کے دوسرے مقرر کے طور پر بحث کی دفعہ کے برعکس بیان دے ڈالا۔ جہاں سبھی مقررین نے بار بار پارلیمنٹ کی سرداری اور پارلیمانی جمہوریت کی اپیل دوہرائی وہیں ورون گاندھی نے ٹیم انا کے نمائندوں کی زبان بولتے ہوئے کہا کہ بیشک قانون پارلیمنٹ میں بنتے ہیں اور ممبران پارلیمنٹ کا مخصوص اختیار ہے مگر عوام بالاتر ہے۔ اس سے پہلے ایوان میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن کی لیڈرمحترمہ سشما سوراج نے جمعہ کے روز راہل گاندھی کی تقریر پر سخت اعتراض کیا۔ ان کا الزام تھا کہ راہل گاندھی نے جو کہا اس سے انا ہزارے کا انشن ختم کرنے کیلئے پارلیمنٹ کی اپیل کے لئے کئے کرائے پر پانی پھر گیا ہے۔ کانگریس کے دوسرے مقررین تھے نوجوان وزیر جوترادتیہ سندیہ۔
انہوں نے سول سوسائٹی کو اہمیت دینے کیلئے سونیا گاندھی کو سہرہ دیا ہے۔ اور ان کوششوں میں بھاجپا کے کردارپر بھی سوال اٹھایا۔ راشٹریہ لوک دل کی جانب سے متھرا کے ممبر پارلیمنٹ جینت چودھری نے اپنی بات رکھی۔ انہوں نے ٹیم انا کے تمام مطالبات کی حمایت کی ہے۔ اس سے کئی دیگر پارٹیوں کے نوجوان ممبران پارلیمنٹ میں بھی جوش پیدا ہوگیا۔ انہوں نے بھی اسپیکر صاحبہ سے موقعہ دینے کیلئے پرزور درخواست کی تھی۔ ان میں سپا کے نیرج شیکھر و دھرمیندر یادو اور بسپا کے دھننجے سنگھ قابل ذکر ہیں۔ پروین سنگھ سرن نے اناکا جن لوکپال بل پارلیمنٹ کی اسٹیڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔ پریہ دت، سنجے نروپم، ملند دیوڑا، سچن پائلٹ وغیرہ نوجوان ممبران نے انا کی حمایت کی اور حکومت اور پارٹی پر دباؤ بنایا۔ کل ملاکر انا کی تحریک پر پارلیمنٹ میں ہوئی بحث میں نوجوان برگیڈ ہی چھائی رہی۔

انا ہزارے کی تحریک اور میڈیا کا کردار



Published On 30th August 2011
انل نریندر
سنیچر کے روز لوکپال بل پر ٹیم انا کی تین شرطوں پر پارلیمنٹ میں ہوئی بحث میں میڈیا کے کردار پر بھی تبصرہ کیا گیا ہے۔اس کے کردار کو لیکر اکثر ناراضگی جتانے والے جنتادل متحدہ کے شرد یادو اور آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادوسنیچر کو بھی اپنی بات کہنے سے نہیں چوکے۔ ان دونوں نے ایک آواز سے ایک دوسرے کے سُر میں سُر ملاتے ہوئے کہا کہ انا کی پوری تحریک میڈیا کی دین ہے۔ زمین سے جڑے جدوجہد کرنے والے سماجوادی نیتا شرد یادو نے انا کے تین مطالبات پر لوک سبھا میں ہوئی بحث کے دوران نہ صرف اتفاق رائے ظاہر کیا بلکہ انہوں نے کہا کہ انا ہزارے ایماندارانہ تحریک چلانے والے ایک سرکردہ شخصیت ہیں۔ میں ان کی عزت کرتا ہوں لیکن ان سے شکایت بھی ہے ۔ انہوں نے ان 12 دنوں میں کبھی بھی مہاتما پھولے کو یادنہیں کیا۔ شرد یادو کا کہنا تھا کہ انا کو ان کے آس پاس کے لوگ اور میڈیا گمراہ کررہا ہے۔ ان کی اس مہم کو اپنی ٹی آر پی بڑھانے کے لئے الیکٹرانک میڈیا ہوا دے رہا ہے۔ یہ حالت ہوگئی ہے کہ ڈبہ(ٹی وی) رات بھر بجتا رہتا ہے۔ پورے دیش میں کہیں باڑھ سیلاب تو کہیں غریبی سے تباہی مچی ہوئی ہے لیکن اس ڈبے کو فرصت نہیں۔ انہوں نے سرکار سے کہا اسے آپ فرصت دلائیے۔ آپ انا کی باتوں کو مان کر اپنی رضامندی ڈبے والوں بھیج دیں تاکہ یہ بند ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ رام لیلا میدان میں رات میں جو بھی بھیڑ دکھائی جاتی ہے اس میں زیادہ تر وہاں گھومنے اور پکنک منانے کے لئے جارہے ہیں۔ پہلے لوگ بوٹ کلب جایا کرتے تھے اب رام لیلا میدان جارہے ہیں اور میڈیا انہیں بار بار دکھا کر اپنی ٹی آر پی ریٹنگ بڑھا رہا ہے۔ شرد یادو نے کہا کہ چار مہینے سے ڈبہ بج رہا ہے۔اس ڈبے سے بہت دقتیں ہیں۔ یہ چینل انا سے اتنے زیادہ متاثر ہیں کہ انہیں دیش میں آئے سیلاب تک کی خبر دکھانے کی ضرورت نہیں محسوس ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پچھلے دس سال سے کسی چینل پر نہیں گئے۔ انہوں نے وہاں بیٹھے جتن پرساد اور سچن پائلٹ سے پوچھا کہ تم لوگ تو عقلمند ہو کیوں ان کے بلاوے پر چلے جاتے ہو؟ انہوں نے ایک چینل خاص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ڈبے میں بنگالی بابو مشائے تو بات ہوئے اتنے جارحانہ ہوجاتے ہیں کہ لگتا ہے منہ ہی نوچ لیں گے اور دوسروں سے بھی نیتاؤں کا منہ نچواتے ہیں۔ اب تو انا کی باتیں مان کر ان چینلوں سے ہمیں نجات دلواؤ۔ اس پر ممبران نے میزیں تھپتھپا کر ان کا حوصلہ بڑھایا۔
ہم شرد یادو صاحب کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن ان کی دلیلوں سے متفق نہیں ہیں۔ میڈیا وہی کرے گا جو جنتا چاہے گی اور اسی کے چلتے میڈیا اپنے فیصلے کرنے کا حقدار ہے اور یہ بات پچھلے 15 روز میں ثابت ہوچکی ہے۔اس دوران ٹی وی دیکھنے والوں کی ریٹنگ بڑھی ہے۔ انا کی تحریک نے ساس بہو یا کھیل کے چینلوں پر یا دیگر سیریلوں کے چینلوں کی مقبولیت کا گراف گرادیا ہے۔ لوگ نیوز چینلوں کے سامنے چپکے رہے۔ کھیل چینل 33 فیصد اور ہندی سنیما کے چینلوں کے4 فیصدی ناظرین گھٹے ہیں۔ اس کے برعکس ہندی نیوز چینلوں کے ناظرین میں6 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ ہندی کے اسٹارنیوز نے تین کروڑ ناظرین کا اعدادو شمار پار کرلیا ہے تو انگریزی میں ٹائمس ناؤ زبردست ہٹ ہوا ہے۔ ایسا سب کچھ اس لئے کیونکہ جنتا بیدار ہے، سمجھدار ہے اور اسے میڈیا میں اپنی بات کے تئیں آواز چاہئے۔ جنتا کا غصہ مجبور کررہا ہے کہ چینل اور اخبار اس کی سوچ پر بے دھڑک اور بے خوف بات کیا کریں۔ میں خود پچھلے 15 روز سے صرف انا کی تحریک کے بارے میں اپنے پہلوؤں پر ہی اپنے خیالات دے رہا ہوں اور کسی موضوع پر لکھنے کا دل ہی نہیں چاہا۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر دیش میں جمہوریت مضبوط ہورہی ہے ، اگر دیش میں لوگوں کو اظہار آزادی کا بھرپور موقعہ مل رہا ہے تو بھلا میڈیا اپنے مضبوط کردار کو کیوں نہیں نبھائے گا۔ جو لوگ میڈیا پر انگلی اٹھا رہے ہیں وہ کہہ رہے ہیں انا کی تحریک تو بنیادی طور پر میڈیا کی تحریک ہی ہے۔ ایسے دانشوروں سے پوچھا جانا چاہئے کہ اگر دیش میں سماجی تبدیلی لانے والی کسی تحریک میں میڈیا مثبت رول نبھا رہا ہے تو کیا وہ جمہوریت اور دیش واسیوں کے لئے خراب ہے؟ کیا اس سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے یا اس کی جڑیں کھوکھلی ہورہی ہیں؟ کسی دیش میں جمہوریت کی کامیابی کی کسوٹی یہ ہی ہوتی ہے کیا؟۔ یہ سمت میڈیا بھی ریفلٹ کررہا ہے۔اگر جمہوریت کے تئیں میڈیا کا رویہ مثبت اور سرگرم کردار والا نہیں ہے تو ایسے میں جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی۔ جہاں بھی میڈیا کی سرگرمی ہے وہاں جمہوریت زندہ ہے ۔ آخر تمام طاقتور سازشوں کے باوجود امریکہ جیسے ملک میں بار بار یہ میڈیا تو ہے جو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح صدر نکسن نے واٹر گیٹ اسکینڈل کروایا تھا۔ کس طرح امریکہ کی آتنک واد کے خلاف لڑائی میں امریکی فوجی مارے جارہے ہیں۔ یہ میڈیا ہی ہے جس نے گوانتاناموبے جیل میں عراق کے لوگوں سے کچھ امریکی فوجیوں نے غیر انسانی سلوک کیا۔ یہ میڈیا ہی ہے جو انگلینڈ میں میڈیا مغل روپرڈ مارڈوک کو بیک فٹ پر جانے کیلئے ہی نہیں بلکہ شارے عام طور سے معافی مانگنے اور میڈیا کے ایک قدیم اور مقبول اخبار کو بند کرادیا۔ یہ میڈیا ہی ہے جس نے پاکستانی فوج کے کچھ افسروں کی سانٹھ گانٹھ کا پردہ فاش کیا اور اس کی بھاری قیمت بھی وہاں کے صحافیوں کو چکانی پڑ رہی ہے۔اس لئے یہ سوچنا یا کہنا کہ میڈیا کے طور طریقے صحیح نہیں ہیں غلط ہیں۔ اگر میڈیا سرگرم نہیں ہوگا ،اگر میڈیا بڑھ کر اپنا کردار نہیں نبھائے گا تو جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی۔ حکومتیں کارپوریٹ دنیا کیا میڈیا کا اپنے مفادات اور اغراز کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال نہیں کرتا؟سب سے تعجب کی بات تو کھل کر ان سوشل نیٹورکنگ سائٹوں میں دیکھنے کو ملی جہاں لوگ بہت ہوشیاری سے یہ رائے زنی کررہے تھے کہ میڈیا تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا نظریہ ہی ہوتا ہے اور یہ بھی کے میڈیا کے پاس کوئی مسئلہ نہیں اس لئے وہ انا ہزارے کی تحریک کو ہوادے رہا ہے ۔دنیا میں جتنی بھی تبدیلی یا بڑی تحریکیں چلی ہیں وہ تحریک عام طور پر کامیاب تبھی ہوئی جب ان میں میڈیا بڑھ چڑھ کر اور سرگرم کردار نبھانے کیلئے کھل کر سامنے آیا ہے۔ یہاں تک کہ شکل میں بالشوک انقلاب کو بھی میڈیا زبردست حمایت دے رہا تھا اور امریکہ میں مارٹن لوتھر کنگ کے ذریعے چلائی گئی سیاہ فام تحریک کو بھی میڈیا نے زبردست حمایت دی تھی۔ تبھی امریکی گورے اس سطح پر جھکنے کو تیار ہوئے تھے کہ وہ سیاہ فاموں کو بھی یکساں طور پر دو قدم اپنے ساتھ مل کر چلنے پر مجبور ہوئے۔ حالیہ دہائیوں میں جنوبی افریقہ کی نسل پرستی تحریک کو بھی اگر پوری دنیا میں مقام ملا اور جنوبی افریقہ کی گوری سرکار نسل پرستی کے مسئلے پر جھکنے کو تیار ہوئی تو اس کی بڑی وجہ صرف اور صرف یہ ہی تھی کہ میڈیا نیلسن منڈیلا کی نسل پرستی کے خلاف تحریک کے ساتھ تھا۔ اگر میڈیا کی حمایت منڈیلا کو نہیں ملتی تو وہ جیل کی کوٹھری میں ہی سڑ رہے ہوتے۔ وہاں سے نکل کر غرور میں ڈوبے افریقہ کے ستارے مدھم نہ ہوتے۔ کیا میڈیا کے بغیر کسی سماج کا کم سے کم آج کی تاریخ میں تصور کرسکتے ہیں؟ اگر میڈیا شاندار واچ ڈاگ کا کردار نہیں نبھائے گا تو سرکارکیا نبھائے گی؟ کیا یہ ممبران پارلیمنٹ نبھائیں گے؟ سرکاریں اور سیاستداں کبھی بھی آزاد میڈیا کو برداشت نہیں کرتے۔ اکثر دیکھا جاتا ہے جب میڈیا کسی حکومت کی تعریف کرتا ہے تو وہ اچھا ہوجاتا ہے اور اگر وہ سرکار کی خامیوں کو اجاگر کرے تو وہ ولن بن جاتا ہے۔ یہ بدقسمتی ہی ہے کہ انا کی تحریک کو ہوا دینے کا الزام میڈیا پر لگایا جارہا ہے۔ میڈیا اپنا کام کررہا ہے جو دیش کے مفاد میں ہے۔ جن ملکوں میں جن وادی سیاسی پھیلاؤ اور سول سوسائٹی کو میڈیا کی حمایت نہیں ملتی وہاں جمہوریت کبھی پھول پھل نہیں سکتی۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Daily Pratap, Lokpal Bill, Parliament, Role of Media, Vir Arjun

28 اگست 2011

جنتا کی انا کے تئیں وفاداری اور حمایت میں کوئی کمی نہیں آئی


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 28th August 2011
انل نریندر
یوپی اے سرکار کو یہ سمجھنا چاہئے کہ انا کو مل رہی وسیع عوامی حمایت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سرکار کو اتنا اختیار نہیں ہونا چاہئے کہ کروڑوں نوجوانوں کے جذبات کی قدر نہ کرے۔ ایسا کرنا بھاری بھول ہوگی۔ جنتا کے انا کے تئیں جوش میں کوئی کمی نہیں آئی۔ کچھ حمایتی تو 16 اگست سے ہی رام لیلا میدان میں ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم یہاں تب تک ڈٹے رہیں گے جب تک انا انشن ختم نہیں کرتے۔’آ‘سے امرود اور انار پڑھنے والے بڑیاں بازار میں واقع نیتا جی سبھاش چندر بوس جونیئر ہائی سکول کے بچے پچھلے ہفتے سے ’آ‘ سے انا پڑ رہے ہیں۔ان کی اس لگن پر انا کا مطلب کیا ہے ، کا جواب ٹیچر دے رہے ہیں۔بدعنوانی سے لڑنے والا عدم تشدد کا جانباز ہندوستانی بری فوج کے چیف جنرل وی کے سنگھ جیسی شخصیت کا یہ کہنا کہ ہم ایک دلچسپ اور عدم تشدد کے دور سے گذر رہے ہیں اور اس لئے ہم جمہوریت اورجنتا کی طاقت کو گواہ بنا رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ جنتا اپنے ڈھنگ سے اپنی پریشانی بیان کررہی ہے۔ پیپلی لائیو کے مشہور آرٹسٹ رگھوویر یادو نے مہنگائی ڈائن کی دھن چھیڑ کر لوگوں کی تالیاں بٹوریں۔جیسے ہی مہنگائی ڈائن کا راگ چھیڑا تو تالیوں کی برسات شروع ہوگئی۔ مہنگائی اور کرپشن کے ناسور کے چلتے لوگوں کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔ اب تک ایک طبقہ ایسا تھا جس نے انا کی تحریک کے خاص نکتے بدعنوانی پر ایک لفظ نہیں کہا تھا۔ صنعتی طبقہ بھی اس پر خوش ہے۔ ٹاٹا گروپ کے چیئر مین رتن ٹاٹا نے مانا کرپشن کے معاملے میں دیش کی حالت اور خراب ہوئی ہے۔ اگر آپ کرپشن میں شریک نہیں ہوتے تو آپ کا کاروبار پچھڑ جاتا ہے۔ سال1991 کی بہ نسبت ملک میں کرپشن بڑھا ہے۔ میں تیس ہزاری میں سول جج کے عہدے پر کام کرتا ہوں۔ یہ کہنا تھا تیس ہزاری عدالت میں سول جج اجے پانڈے کا ، جنہوں نے اپنی نوکری داؤ پر لگا کر رام لیلا میدان پہنچ کر جنتا اور سرکار کو حیرت زدہ کردیا۔ جج صاحب نے بتایا کہ جوڈیشری میں کس طرح کرپشن حاوی ہورہا ہے۔ بیچارے جج کے اس واقعہ کی رپورٹ ہائی کورٹ نے مانگی ہے اور ممکن ہے کہ ان پر قانونی کارروائی ہو۔
انا کی تحریک کئی معنوں میں تاریخی مانی جارہی ہے۔ جیسا عوامی سیلاب اس تحریک کو ملا ہے اس سے پہلے کبھی کسی بھی تحریک کو نہیں ملا تھا۔ گذشتہ ایتوار کو رام لیلا میدان میں انا کی رسوئی سے تقریباً ایک لاکھ لوگوں نے کھانا کھایا۔ جو رسوئی صرف 20 والٹنیئروں کے ساتھ شروع ہوئی تھی اب وہ ایک لاکھ لوگوں کو کھانا کھلا رہی ہے۔ ناشتے میں چائے ، پوری اور سبزی ملتی ہے۔ لنچ اور ڈنر پر چھولے چاول،راجما چاول،دال چاول دئے جاتے ہیں اور یہ سب رام لیلا میدان میں آرہے حمایتیوں کے چندے سے ہورہا ہے۔ کوئی تو گھی کے ٹین دے رہا ہے، کوئی چاول اور کوئی آٹے کی بوریاں ، کوئی آلو کے ٹرک ۔ زیادہ تر نقد چندہ اپنی مرضی سے دے رہے ہیں۔ بدعنوانی سے دوچار انا کی تحریک کی دل سے حمایت کررہے لوگ صرف رام لیلا میدان پہنچ کر نہ صرف انا کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں بلکہ ان کی تن من دھن سے سیوا میں لگے ہیں۔کوئی گھر سے کھانا لارہا ہے تو کوئی زبردستی ٹیم انا کو چندہ و عطیہ نقدی میں دے رہا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ٹیم انا رام لیلا میدان میں ابھی چندہ نہ دینے کا اعلان کررہی ہے لیکن حمایتی زبردستی میدان کے کاؤنٹروں پر پیسہ دینے کو بے چین ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ انا کی طرح انشن تو نہیں کرسکتے لیکن کم سے کم اپنی محنت کی کمائی کا کچھ حصہ انا کی تحریک میں لگا کر اپنے آپ کو کرپشن سے لڑنے والا سپاہی بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ صرف چندے کے پیسوں سے ٹیم انا کے پاس 50 لاکھ روپے سے زیادہ اکٹھا ہوچکا ہے۔ جہاں ایک طرف تو جنتا کا یہ جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی حرکتوں نے سارے دیش کو شرمسار کردیا ہے۔ پولیس کی نرمی کا نا جائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ رام لیلا میدان میں انا کے حمایتیوں کی بھیڑ میں کچھ آوارہ لوگ لڑکیوں کو چھیڑنے اور فقرے کسنے اور یہاں تک کہ ان کو چھونے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ شراب پی کر ’میں انا ہوں‘ ٹوپی پہن کر پولیس کی پٹائی کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ ممکن ہے یہ چال ہے تحریک کے ماحول کو خراب کرنے کی لیکن جنتا پر ان سب باتوں کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے اور انا کی عوامی حمایت مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔


بارہویں دن بھی نہ ٹوٹاانا کا انشن


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 28th August 2011
انل نریندر
گاندھی وادی انا ہزارے کا انشن 12ویں دن اس وقت تک جاری تھا جب یہ سطور قلم بند ہورہی تھیں۔ حکومت اور ٹیم انا میں کچھ نکتوں پر اتفاق رائے بنتا دکھائی دینے کے آثار شروع ہو گئے تھے،جس سے امید بندھی ہے کہ انا ہزارے اپنا نشن کسی بھی وقت توڑ سکتے ہیں۔اس سے پہلے انا کی مانگ پر سرکار نے لوک سبھا میں جن لوکپال کے مسئلے پرپہلے تو قاعدہ 184 کے تحت بحث کرانا منظور کرلیا تھا لیکن ٹھیک بحث شروع ہونے سے پہلے سرکار پلٹ گئی اور بحث کو قاعدہ193 کے تحت کرانے کا فیصلہ کرکے معاملے کو مزید الجھا دیا۔ قاعدہ 193 میں کوئی ووٹنگ نہیں ہوتی اور رہی سہی کثر یووراج راہل گاندھی کی تقریر اور موقف نے پوری کردی۔ نتیجہ یہ ہوا انا کا انشن 11 ویں دن بھی نہیں ٹوٹ سکا ۔ اب سنیچر کو بحث شروع ہوگئی۔انا ٹیم اب اس بات پر بھی اڑی ہے کہ انا ہزارے اپنا انشن تبھی چھوڑیں گے جب ان کی تینوں مانگوں پر اتفاق رائے بنے۔ تازہ اطلاع یہ ہے کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں نے ہی تینوں مطالبات کو مان لیا ہے اور سرکار بھی مان گئی ہے۔اگر جن لوکپال بل دوسرے لوکپال تجاویز کے ساتھ سنیچر کو پیش کردیا جاتا ہے اور اس پر بحث ہوتی ہے تو ممکن ہے اس صورت میں اپنا انشن ختم کردیں لیکن وہ رام لیلا میدان میں ہی دھرنے پر بیٹھے رہیں گے۔ تب تک جب تک لوکپال بل پاس نہیں ہوجاتا۔ سنیچر کو ساری بحث راہل گاندھی کے بیان پر چلتی رہی۔ راہل نے اپنے بیان میں خبردار کرڈالا کہ شخصی فرمان سے پارلیمنٹ کی سپر میسی پر آنچ نہ آپائے۔ لوکپال بل پر 11 دن کے بعد اپنی خاموشی توڑتے ہوئے راہل گاندھی نے اپنے نظریئے کو بھی نامنظور کردیا کہ صرف لوکپال آجانے سے بدعنوانی ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے تجویزبھی رکھی کہ مرکزی چناؤ کمیشن کی طرح پارلیمنٹ کے تئیں جوابدہ ایک آئینی لوکپال بنایا جائے۔ راہل گاندھی کی تجویز تو اچھی ہے لیکن اس سے ابھی فی الحال کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ اس کام میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ راہل کی لائن سے سرکار اور کانگریس دونوں کا موقف کچھ حد تک واضح ہوگیا ہے اور یہ صاف اشارہ تھا کہ سرکار انا کے مطالبات ماننے کو تیار نہیں ہے۔ کم سے کم جس طریقے سے انا چاہ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے جس انداز میں انا ہزارے پر حملہ بولا اس سے یہ کہا جائے کہ انہوں نے کچھ حد تک اپنا سیاسی مستقبل بھی داؤ پر لگادیا تو غلط نہ ہوگا۔ پارلیمنٹ میں د ئے گئے ان کے بیان سے جنتا میں جیسا تلخ رد عمل سامنے آیا ہے اس سے تو وہ کپل سبل ، چدمبرم اور منیش تیواری کی قطار میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ خودکچھ کانگریسی نیتا کہہ رہے ہیں کہ راہل گاندھی کے پاس اپنی مقبولیت کو شباب پر پہنچانے کا یہ سنہرہ موقعہ تھا۔ انا کے پاس جاتے اور ان کے پیر چھوتے اور مرکزی سرکار اور انا کے درمیان پل کا کام کرتے۔ اس سے نہ صرف وہ نوجوانوں کے خیر خواہ بنتے بلکہ انا بھی اپنا انشن توڑدیتے۔ لیکن بدقسمتی سے ہوا اس کا الٹا۔ انہوں نے لوک سبھا میں انا کی تحریک کو جمہوریت کے لئے خطرہ بتا دیا۔ ایک سینئر کانگریسی نیتا کا تبصرہ تھا کہ پتہ نہیں یہ کس کانگریسی حکمت عملی ساز کے دماغ والا بیان تھا۔ بھلا ایک عدم تشدد تحریک جمہوریت کے لئے خطرہ کیسے ہوسکتی ہے؟ انہوں نے اسے پارلیمنٹ کے لئے خطرہ بتا دیا۔ انا کے حمایتیوں نے اس پر تلخ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے راہل کے گھر پر زوردار مظاہرہ کرکے اپنا غصہ ظاہر کردیا۔ راہل کانگریس صدر بننے کی تیاری کررہے ہیں۔ دیش کا وزیر اعظم بننا ان کا مقصد ہے۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ سرپر ہیں جہاں راہل گاندھی کا آزمائشی امتحان ہونا ہے۔ ایسے میں لوگوں کے درمیان ان کے تئیں نفرت پیدا ہونا ان کی سیاسی زندگی کے لئے کتنا خطرناک ہے؟ بتانے کی ضرورت نہیں۔ یہ پہلی بار نہیں جب راہل نے غلط مشیروں کی وجہ سے غلط وقت پر غلط بیان دیا ہے اور غلط کام کئے ہیں۔ جب پورا جن سیلاب دہلی میں امڑ رہا تھا تو ان کو کسانوں پر چلی ان کی سرکار کی گولی کے زخم دیکھنے پنے بھیج دیا گیا۔ ایک کانگریسی نیتا نے تو یہاں تک کہا ان کے اپنے ہی مشیر ان کی نیا ڈبونے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ مشیر پورے جن لوکپال تحریک پرنہ صرف انا اور دیش کی جنتا کو بے وقوف بنا رہے ہیں بلکہ راہل کو بھی دنیا کی نظروں میں بیوقوف بنا دیا ہے؟

25 اگست 2011

اناکے جن لوکپال پر بھاجپا کا موقف کیا ہے؟


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 25th August 2011
انل نریندر
دیر سویر انا کے جن لوکپال بل پر پارلیمنٹ میں بحث ضرور ہوگی۔ ٹیم انا یہ سمجھ گئی ہے کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کی حمایت انہیں ضرور چاہئے اس لئے ٹیم انا نے مختلف پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ پر دباؤ بنانے کی حکمت عملی پر کام شروع کردیا ہے۔ جن لوکپال بل کی حمایت میں ہزاروں لوگوں نے دہلی سمیت دیش کے مختلف حصوں میں ممبران پارلیمنٹ اور مرکزی وزراء کے گھروں پر مظاہرے کئے ہیں۔ وزیراعظم منموہن سنگھ، وزیر انسانی وسائل ترقی کپل سبل، دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت،بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی و راج ناتھ سنگھ سبھی کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی پارلیمنٹ میں بڑی اپوزیشن پارٹی ہے۔ آج تک بھاجپا نے یہ نہیں بتایا کہ وہ انا کے جن لوکپال بل کے ساتھ ہے یا نہیں؟ آئے دن یہ کہنے سے اب کام نہیں چلے گا کہ سرکاری لوکپال بل میں مختلف خامیاں ہیں۔ آپ جن لوکپال بل کی بات کریں اس میں آپ کو کیا کیا قبول ہے اور کیا نہیں؟ جو نہیں ہے وہ کیوں نہیں ہے؟ اور اس میں آپ کیا ترمیم چاہیں گے؟ سیدھے سوالات کا سیدھا جواب چاہئے انا کے حماتیوں نے سینئر بھاجپا لیڈر لال کرشن اڈوانی کو بھی گھیراؤ سے نہیں بخشا۔ پیر کی رات قریب 10 بجے ان کی رہائشگا ہ پر انا حمایتی پہنچے اپنے گھر کے باہر نعرے لگا رہے انا حمایتیوں سے کہا ’’ہم سرکار کے ذریعے پیش کردہ لوکپال بل سے خوش نہیں ہیں۔ یہ بہت ہی کمزورڈرافٹ ہے۔ اس کے دائرے میں وزیر اعظم نہیں آتے۔ اس وقت کرپشن شباب پر ہے۔ ہم سرکار کے اس بل کے حق میں قطعی حمایت نہیں کریں گے۔ انہوں نے نچلی عدالتوں کو لوکپال کے دائرے میں شامل کرنے کے معاملے میں کہا ان کی پارٹی اس موضوع پر غور کرنے کیلئے تیار ہے۔ اڈوانی نے کہا ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ایک مضبوط اور ایک بااثر لوکپال وجود میں آئے۔
بھاجپا راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے ایک انٹرویو میں ان مسئلوں پر اپنے خیالات رکھے ہیں۔ سوال کیا آپ سول سوسائٹی کے جن لوکپال بل سے متفق ہیں؟ کیا وزیر اعظم اور عدلیہ لوکپال بل کے دائرے میں آنے چاہئیں؟ جواب دیکھے ۔۔۔ لوک پال کی تقرری میں سرکاری مداخلت اور دباؤ نہ ہو، تقرری کے لئے باقاعدہ ایک پائیدار اور آئینی مشینری ہو۔ اچھے اور مضبوط لوکپال کے لئے اس کی تقرری غیر جانبدار طریقے سے ہو یہ پہلی شرط ہے۔ قومی سلامتی کے اشوز کو چھوڑ کر وزیر اعظم لوکپال کے دائرے میں ہوں۔ یہ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں۔ جہاں تک سوال ہے عدلیہ کا اس کے لئے قومی جوڈیشری کمیشن ہونا چاہئے جس کے ذریعے عدلیہ میں بدعنوانی پر کنٹرول مشینری بنے۔ ہم نے جو باتیں کہی ہیں وہ تنظیمی فیز گارڈ سے وابستہ ہیں۔ انا کے انشن کو تقریباً 9 دن گذر چکے ہیں اور بھاجپا نے ابھی تک جن لوکپال پر اپنے پتے نہیں کھولے؟ کہیں آپ بھی ان فیصلوں کی پوزیشن میں نہیں ہیں؟ جواب قطعی نہیں۔ لوکپال کے مسئلے پر جو اہم نکتے ہیں بھاجپا ان پر اپنی رائے سامنے رکھ چکی ہے۔ آل پارٹی میٹنگ کے بعد ہمارے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی اور صدر نتن گڈکری نے اس بارے میں کھل کر اپنی رائے رکھی تھی۔
بھاجپا کے دو ممبران پارلیمنٹ نے کھل کر جن لوکپال بل کی حمایت کی ہے۔ ان میں ایک ہیں ورون گاندھی دوسرے ہیں رام جیٹھ ملانی۔ ورون کا کہنا ہے کہ انا کا بل بطور پرائیویٹ بل لوک سبھا میں پیش کریں گے۔ راجیہ سبھا میں بھاجپا ایم پی رام جیٹھ ملانی نے بھی ٹیم انا کے بل کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انا کے بل کو پوری طرح نظرانداز کرنا اب سیاستدانوں کے لئے ممکن نہیں ہے۔ جیٹھ ملانی جن لوکپال کی دو بڑی شقوں سے پوری طرح متفق ہیں۔ ان میں وزیر اعظم کو لوکپال کے دائرے میں لانا اور عدلیہ کو شامل کرنا خاص ہیں۔ قابل غور ہے کہ وزیر اعظم کو لوکپال میں لانے کا مطالبہ تو بھاجپا کرہی رہی ہے لیکن ججوں کے لئے وہ الگ ادارہ بنائے جانے کی حمایتی ہے۔ مگر جیٹھ ملانی کا خیال ہے کہ آئین کو پوری طرح سے نافذ کرنا ججوں کی تقرری جیسے اشوز پر شکایتیں دور کرنے کا سب سے کارگر طریقہ یہی ہے کہ انہیں بھی لوکپال کے دائرے میں رکھا جائے۔ وقت آگیا ہے کہ ٹیم انا اور جنتا چاہتی ہے کہ بھاجپا ہر نکتے پر اپنا موقف واضح کرے۔ چاہے پارلیمنٹ کے باہر یا پارلیمنٹ کے اندر۔

Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, Daily Pratap, Lokpal Bill, Vir Arjun

24 اگست 2011

ان اہم مسئلوں پر اختلاف کا جلد حل نکالنا ہوگا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 24th August 2011
انل نریندر
 جیسا کہ میں نے کل قارئین کوبتایا تھا کہ جن لوکپال بل میں کیا ہیں اہم نکتے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ حکومت اور ٹیم انا کے درمیان کن کن مسئلوں پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ جنہیں بلا تاخیر حل کرنا ہوگا۔اس تعطل کو ہر حالت میں توڑنا ہوگا۔ سب سے بڑا اختلاف وزیر اعظم کو لوکپال بل کے دائرے میں لانے پر ہے۔ سرکاری لوکپال بل میں وزیر اعظم کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ جب وہ عہدہ چھوڑیں گے تب کرپشن کے الزامات کی جانچ لوکپال کرسکتا ہے۔ انا کی ٹیم اس کے لئے تیار نہیں۔ وہ کہتی ہے کہ وزیراعظم کو بھی لوکپال کے دائرے میں آنا چاہئے۔ اس پر وزیر اعظم کو پہل کرنی ہوگی۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے خود کئی بار یہ کہا ہے کہ وزیر اعظم کو اس کے دائرے میں ہونا چاہئے۔ 20 ستمبر2004 ء دہرہ دون میں آل انڈیا لوک آیکت اور ڈپٹی لوک آیکت کانفرنس میں شامل ہوتے ہے وزیر اعظم نے کہا ’’اس بات پر وسیع طور پر اتفاق رائے ہے کہ براہ راست یا غیر براہ راست طور پر عوام کے چنے نمائندوں کو لوکپال کے دائرے میں لایا جائے۔ اس میں پارلیمنٹ ، وزیر اور خود وزیر اعظم کا عہدہ بھی شامل ہو۔‘‘ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ لوکپال کی ضرورت اب پہلے سے کہیں زیادہ ہوگئی ہے۔ اس کے لئے وقت نہ گنوائیں۔ اس سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ منموہن سنگھ نے آگے کہا تھا کہ متحدہ ترقی پسندمحاذ یا یوپی اے سرکار نے مشترکہ کم از کم پروگرام میں لوکپال بل لانے پر اتفاق رائے ظاہر کیا گیا ہے اور یہ اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ یہ بات عام طور پر تسلیم کرلی جاتی ہے کہ کرپشن کی ایک خاص وجہ عام زندگی میں شفافیت کی کمی ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کو اب اپنے وزرا کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ وہ کیا چاہتے ہیں ، اور ان سے جنتا کیا چاہتی ہے اس کی زیادہ پرواہ کرنی چاہئے اور خود سے اعلان کردینا چاہئے کہ لوکپال کے دائرے میں وزیر اعظم، وزیر اور پارلیمنٹ سبھی آئیں گے۔ دوسرا بڑا اختلاف عدلیہ کو لیکر ہے۔ سرکار کا موقف ہے کہ عدلیہ میں اصلاحات کے لئے ہم الگ سے قانون لا رہے ہیں اس لئے جوڈیشیری کو ان جن لوکپال بل میں شامل نہیں کرنا چاہئے۔ حالانکہ انا چاہتے ہیں کہ عدلیہ بھی اس میں شامل ہو لیکن میری رائے میں انا کو اس اشو کو ترک کردینا چاہئے اور جوڈیشری کے لئے مجوزہ اصلاحات قانون کی حمایت کردینا چاہئے۔ ایک اختلاف سی بی آئی اور سی بی سی کس کے ماتحت ہو اس کو لیکر ہے۔ ٹیم انا چاہتی ہے سی بی آئی ہر حالت میں لوکپال کے دائرے میں ہو۔ سرکار اس کے لئے تیار نہیں۔ یہ ایک بہت اہم اشو ہے۔ اس میں کوئی ایسا بیچ کا راستہ نکل سکتا ہے کے سی بی آئی اور سی بی سی مختار ہو اور سرکار کے ماتحت نہ ہو۔ سرکار اس کے کام کاج میں مداخلت نہ کرسکے۔ ایک اشو پارلیمنٹ کے اندر ممبران پارلیمنٹ کا برتاؤ۔ جن لوکپال بل میں ممبران پارلیمنٹ کا ایوان کے اندر کا برتاؤ بھی دائرے میں آئے گا جبکہ حکومت نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں ممبران کا برتاؤ لوکپال کے دائرہ اختیار میں نہیں آئے گا۔ البتہ پارلیمنٹ سے باہر کے کاموں پر لوکپال جانچ کرسکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس پر ٹیم انا کو سرکار کی بات مان لینی چاہئے۔ ہندوستان کا آئین بھی ممبران کو پارلیمنٹ کے اندر جو کچھ ہوتا ہے اس سے پروٹکٹ کرتا ہے ،سپریم کورٹ نے بھی یہ مانا ہے۔ اس لئے اس پر انا کو سمجھوتہ کرلینا چاہئے۔ ایک بڑا اختلاف افسر شاہی کو لیکر ہے۔سرکار چاہتی ہے گروپ اے سے نیچے کی افسرشاہی جانچ کے دائرے سے باہر ہو ۔ اس کے لئے الگ سسٹم ہوگا۔ اوپر کے افسران کی جانچ لوکپال کرسکتا ہے۔ جن لوکپال میں پوری افسرشاہی شامل ہے۔ چاہے وہ مرکز کی ہو یا ریاستی حکومتوں کی۔ اپر سکریٹری اور اس سے اوپر کے سطح کے افسران کے خلاف شکایتوں کی جانچ کا اختیار جن لوکپال کے دائرے میں ہے اس میں سرکار کو نرم ہونا پڑے گا۔ زیادہ تر عوام نچلی افسر شاہی سے پریشان ہے۔ کرپٹ افسروں کو سزا دینے کی شق میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ لوکپال کرپٹ سرکاری ملازمین کے خلاف اسپیشل عدالت میں مقدمہ کرسکے گا۔ ساتھ ہی حکومت کو ڈسپلنری کارروائی کی سفارش کرنے کا بھی حق ہونا چاہئے۔ جانچ کے بعد سرکار ضرورت پڑنے پرملازم کو برخاست کرسکے گی۔ اگر کارروائی نہیں کی گئی تو لوکپال کو اس کا سبب بتانا ہوگا۔ جانچ کے دوران ملازم کو لوکپال کی سفارش پر ملازم کا تبادلہ یا معطلی کے اختیار پر سرکار کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ اگر اسپیشل عدالت میں ملازم ملزم پایا جاتا ہے تو قانون اپنا کام کرے گا۔ مرکز میں لوکپال کے طرز پر لوک آیکت قانون کے لئے ریاستوں کو ماڈل کی شکل میں اس بل کو بھیجا جاسکتا ہے۔ ٹیم انا کو یہ پوزیشن قابل قبول ہونی چاہئے کیونکہ آئین ریاستوں کو کئی اختیار دیتا ہے اور مرکز اپنے سارے قوانین ریاستوں پر نہیں تھونپ سکتا۔ حکومت نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو سرپرستی دینے والوں کے لئے الگ سے بل پیش کیا ہے۔ بل میں الگ سہولت دینے کی ضرورت نہیں۔ شکایت کے جھوٹی یا فرضی نکلنے پر سزا کو کم کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ لوکپال بل کے مسودے میں آزادانہ جانچ سسٹم کا انتظام کیاگیا ہے تب تک سی بی آئی و دیگر متعلقہ ایجنسیوں سے افسران کی خدمات سونپی جا سکتی ہیں اس پر رائے بنانے کی کوشش ہونی چاہئے۔ ایک مقررہ میعاد میں (6 مہینے ) میں حکومت ایک آزاد انکوائری ایجنسی قائم کردے گی۔ جس کے ماتحت سی بی آئی ، سی بی سی آ سکتی ہیں۔ ایک بڑا اختلاف لوکپال میں کون کون ہوگا اس پر بھی ہے۔ جن لوکپال بل میں اس کے لئے دو مرحلے کی کارروائی ہے۔ایک تفتیشی کمیٹی ان میں10 ممبران کا سلیکشن ہوگا ان میں سے پانچ بھارت کے چیف جسٹس ،چیف الیکشن کمشنر، کمپٹرولر آڈیٹر جنرل نہیں لئے جائیں گے اور یہ پانچ ممبر سول سوسائٹی سے چنے جائیں گے۔ سرکاری بل میں ایک آسان پروسیس ہے۔ سلیکشن کمیٹی نے وزیر اعظم ، اپوزیشن لیڈر( دونوں ہاؤس کے) ایک سپریم کورٹ کے جج، ہائی کورٹ کا ایک جج اور ایک جانے مانے ماہر عدلیہ اور سماج کی ایک نامور شخصیت۔ یہ ایک ایسا اشو ہے جس پر غور کیا جانا ضروری ہے۔ اس کے لئے دونوں فریق تین مہینے کا وقت لے سکتے ہیں تاکہ یہ پروسیس طے ہوسکے۔
باقی اشو تو اور بھی ہیں لیکن میں نے اپنی سمجھ سے اہم اشوز کو یہاں لیا ہے۔ میں کوئی ماہر نہیں ہوں ہوسکتا ہے کہ میں پوری طرح سے صحیح بھی نہ ہوں۔ لیکن میری کوشش یہ ہے کہ سمجھوتہ ہونا چاہئے اور بھی جلد۔ اس کے لئے بیچ کا کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔ دونوں فریقین کو اپنا موقف نرم کرنا ہوگا۔ یہ تعطل اب زیادہ دن تک نہیں چل سکتا۔ ہرگذرتا دن نہ تو دیش کے لئے اچھا ہے اور نہ ہی ٹیم انا کیلئے اور نہ حکومت کے لئے۔
 Anil Narendra, Anna Hazare, Daily Pratap, Lokpal Bill, Vir Arjun

زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟

پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی ...