Translater

Delhi Bomb Case لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Delhi Bomb Case لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

22 مارچ 2012

کیا سید محمد کاظمی پر دہلی پولیس جھوٹا کیس بنا رہی ہے؟



Published On 22 March 2012
انل نریندر
اسرائیلی سفارتخانے کی کارمیں دھماکے کے معاملے میں گرفتار صحافی سید محمد کاظمی کیا بے قصور ہے یا انہیں زبردستی دہلی پولیس نے گرفتار کیا ہے یا یہ حملے میں ایک اہم کڑی ہے؟ یہ سوال کاظمی کی گرفتاری کے بعد سے ہی اخباروں میں بنا ہواہے۔ ایک سینئر صحافی نے کہا کہ دہلی پولیس نے اسرائیل او امریکہ کے کہنے پر کاظمی کو گرفتار کیا اور اس کی گرفتاری کی اصل وجہ تھی ۔وہ اپنی رپورٹوں میں مشرقی وسطیٰ کے صحیح حالات پیش کرتا تھا جس سے دونوں اسرائیل اور امریکہ ناراض ہیں۔ اسے روکنے کیلئے دہلی پولیس نے یہ ڈرامہ رچا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر اور سرکردہ شیعہ عالم مولانا کلب جواد نے لکھنؤ میں کہا کہ دہلی پولیس کمشنراسرائیلی ایجنٹ ہیں اور ان کی پراپرٹی کی جانچ ہونی چاہئے۔ مولانا جواد نے میڈیا سے کہا دیش میں پچھلے قریب 20 برسوں سے بے قصور مسلمانوں کو دہشت گردی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ 13 فروری کو دہلی میں ہوئے دھماکے میں سینئر صحافی سید محمد کاظمی کی گرفتاری اس کی نئی کڑی ہے۔ دوسری طرف دہلی پولیس نئے نئے ثبوت پیش کررہی ہے۔ معاملے کی جانچ میں لگے ذرائع نے بتایا کاظمی کے ایران سے گہرے رشتے ہونے کے پکے ثبوت ملے ہیں۔ کاظمی کئی بار ایران گیا تھا۔ اس دوران اس نے دھماکے سے وابستہ دوسرے ایرانیوں سے ملاقات کی تھی۔ کاظمی نے پولیس کو بتایا کہ وہ 7 جنوری2011ء کو ایران گیا تھا۔ اس بار اس کی ملاقات سید علی اور علی رضا سے ہوئی تھی۔ سید علی نے اسے ایرانی سائٹ پر موت کا بدلہ لینے کی بات کہی تھی۔ سید نے اسے تہران میں 3 ہزار ڈالر اور ایک موبائل فون بھی دستیاب کرایا تھا اور واپس دہلی لوٹنے پر اس کی کئی بار سید سے فون پر بات چیت ہوئی۔مئی2011ء میں ایران سے اسے سید نے فون کر اسرائیلی ڈپلومیٹ کو نشانے بنانے کی بات کہی۔ اسے اس حملے کے لئے ایران سے آنے والے لوگوں کے لئے دہلی میں مدد کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ پولیس کا دعوی ہے کہ پلاننگ کے مطابق ایرانی حملہ آوروں کو دہلی آنے پر کاظمی نے انہیں صرف قرولباغ میں واقع فیض روڈ پر ہوٹل میں ٹھہرایا تھا بلکہ اسرائیلی ڈپلومیٹ کے آنے جانے کا روٹ پتہ کرنے میں بھی ان کی مدد کی تھی اس کے لئے کرائے پر لی گئی موٹر سائیکلوں کا استعمال کیا گیا۔
خیال رہے کہ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے جور باغ کے کربلا علاقے میں مقیم اس فری لانس صحافی محمد کاظمی کو 6 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ 2011ء میں جب کاظمی ایران گیا تھا تو اس کی ملاقات سید علی مہدیانی اور محمد رضا و ایرانی افسر سے ہوئی تھی۔ ملیشیا میں سرگرم گینگ کے ماسٹر مائنڈ محمد مسعود کی ہدایت پر سید علی اور محمد رضا نے دہلی میں اسرائیلی سفارتکارپر حملہ کروانے میں کاظمی کو پیسے کا لالچ دیا اس کے لئے 5500 ڈالر دینے کی بات کہی گئی۔ کاظمی تیار ہوگیا اور پھر ایرانی افسر کے ساتھ دہلی آگیا۔ 10 فروری کو سید احمد، محمد رضا خان اور عبدالفجی مہدیانی بھی دہلی آگئے۔ تینوں کاظمی کے یہاں رکے ہوئے تھے ۔اگلے دن کاظمی کی آلٹو کار میں بیٹھ کر تینوں نے اسرائیلی سفارتخانے کے ساتھ ساتھ نئی دہلی رینج کے علاقے کا جائزہ لیا اور حملے کا خاکہ تیار کیا۔ ادھر افسر ایرانی نے قرولباغ میں رہنے والے ایک لڑکے کے تعاون سے ایک اسکوٹی خریدی تھی اس کا استعمال کار میں اسٹیکی بم لگانے کے لئے کیا گیا تھا۔ افسر ملیشیا میں بیٹھا اس کا آقا مسعود کے رابطے میں تھا۔ ادھر مسعود کی رضامندی پر 14 فروری کو بینکاک اور جارجیہ میں حملہ کیا گیا۔ حملے کو مرادی سعید اور محمد قاضی نے انجام دیا تھا۔ محمدقاضی کو بینکاک پولیس نے گرفتار کرلیا ہے وہیں ملیشیا پولیس کے ہتھے سبھی دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ مسعود بھی چڑھ گیا۔ دہلی میں ہوئے دھماکے کے 24 گھنٹے میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی ایک ٹیم دہلی پہنچ گئی تھی اور مسلسل جانچ کررہی ہے۔دہلی پولیس کے ذرائع کے مطابق موساد کے ایجنٹ جلد ہی ریمانڈ پر چل رہے کاظمی سے پوچھ تاچھ کرسکتے ہیں وہیں دہلی پولیس پورے معاملے سے پردہ اٹھانے کے لئے ملیشیا میں گرفتار مسعود سے بھی پوچھ تاچھ کرنے کے لئے ملیشیا سرکار سے رابطے میں ہے۔ اب دہلی پولیس صحیح کہہ رہی ہے یا یہ ساری کہانی زبردستی بنائی گئی ہے اس کا فیصلہ تو عدالت میں ہی ہوگا۔ امید ہے کہ سچائی کی جیت ہوگی۔ ویسے دہلی پولیس کویہ کیس عدالت میں ثابت کرنا ہوگا۔ اس سے دہلی پولیس کی ساکھ وابستہ ہے۔ یہ معاملہ اب پوری طرح سے بین الاقوامی رنگ اختیار کرچکا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Mohd. Ahmed Kazmi, delhi Police, Iran, Israil, Bomb Blast, Delhi Bomb Case,

17 فروری 2012

دہلی،طبلس وبنکاک دھماکوں کا کوئی آپسی رشتہ ہے؟


Published On 17th February 2012
انل نریندر
دہلی کے انتہائی محفوظ ترین مانے جانے والے علاقے میں اسرائیلی سفارت خانے کی کار کو نشانہ بنانے اور جارجیا کی راجدھانی میں ناکام بم دھماکے کی کوشش کے24 گھنٹے بعد تھائی لینڈکی راجدھانی بنکاک میں مسلسل تین دھماکے ثابت کرتے ہیں کہ یہ دہشت گرد جب چاہیں جہاں چاہیں حملہ کرسکتے ہیں۔ یہ بھی ایک بار پھر سے ثابت ہوگیا ہے کہ پوری دنیاآج دہشت گردی کی جکڑ میں پھنس چکی ہے۔ منگلوار کو بنکاک میں محض 100 میٹر کے دائرے میں تین دھماکے ہوئے۔ واقعہ میں حملہ آور سمیت پانچ لوگ زخمی ہوئے۔ موقعہ سے ملے شناختی کارڈ سے حملہ آور کے ایرانی ہونے کااندیشہ ہے اس کی شناخت یوہادی کی شکل میں ہوئی ہے۔ اس نے راجدھانی بنکاک کے بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں بم پھینکے۔تیسرا بم پیڑ سے ٹکرانے کے سبب یوہادی کے ہی پیر کے پاس آکر پھٹا۔ جس سے وہ بھی زخمی ہوگیا۔ اس کے ایک اور ایرانی مددگار محمد ایزائی کو بھی گرفتار کیاگیا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں نے حملے کی دہلی وجارجیا کے واقعہ سے تار جڑے ہونے کا اندیشہ ظاہر کیاہے۔ اس واردات میں حملہ آور سمیت تین تھائی مرد اور خاتون بھی زخمی ہوئی ہے۔ تھائی وزیراعظم چنگلک شیونراترا نے پولیس اور دیش کی قومی خفیہ ایجنسیوں کے تہرے دھماکے کی جانچ کے احکامات دیئے ہیں۔ تھائی وزیرخارجہ کو ایران سے بات کرنے کو کہا ہے ۔تھائی وزیراعظم شیونراترا یوم جمہوریہ پر نئی دہلی میں مہمان خصوصی کے طور پر تشریف لائی تھی۔ کیا ان کا دورہ دہلی میں پہلے دھماکے پھر بنکاک میں دھماکے ان میں کوئی آپسی کنکشن ہے؟ تھائی پولیس کے جنرل جاسٹی پرناکت نے بتایا کہ سیکورٹی فورسیز نے راجدھانی میں حملہ آور کے کرایہ کے مکان سے بھی دھماکوں سامان برآمد کئے ہیں۔ مقامی میڈیاکے مطابق ایرانی نژاد شہری نے ٹیکسی روک کر ڈرائیور سے کہیں چلنے کو کہا لیکن ڈرائیور کے منع کرنے سے وہ ناراض ہوگیا اور اس نے ٹیکسی پر بم سے حملہ کردیا۔ وہاں کھڑے پولیس ملازم نے جب یہ واقعہ دیکھا تو وہ ٹیکسی کے پاس پہنچے حملہ آور نے پولیس ملازمین پر بموں سے حملہ کردیا لیکن سیکورٹی ملازمین کی قسمت اچھی تھی اور یہ بم ایک پیڑ سے ٹکرا گیا اور خودحملہ آور آگرا۔ حملہ آور دھماکے سے حملہ آور کا پیر اڑ گیا اورحملہ آور کو پکڑ لیاگیا۔ موقعہ واردات سے ایک پاسپورٹ برآمد ہوا ہے جس سے پتہ چلا کہ حملہ آور کانام سائیریب یوہادی ہے۔ اور وہ ایران کارہنے والا ہے اس سے پہلے وسطی بنکاک کے اقامائی علاقے میں ایک گھر میں دھماکہ ہوا۔ حملہ آور سمیت دواور ایرانی اسی گھر میں کرایہ دار کی شکل میں رہتے تھے۔ سرکاری ترجمان کیتیا یاسنک نے کہا کہ پولیس نے رپورٹ دی ہیں کہ مکان کااستعمال بم بنانے کے لئے کیا جاتا تھا۔ یہاں سے دھماکو سامان اور ریموٹ کنٹرول ڈیٹونیشن ڈیوائس ملے ہیں۔ فی الحال بنکاک کے واقعہ اور نئی دہلی اور جارجیا کے واقعہ اگرکوئی تعلق نہیں قائم ہوسکا لیکن اسرائیل کے محکمہ خارجہ کے ترجمان چنگال پالمود نے یروشلم میں کہا کہ ہم کسی بھی امکان سے انکار نہیں کررہے ہیں۔ ان حملوں سے ایران ساری دنیا کی نظروں میں آگیا ہے۔ پہلے سے ہی اپنے متنازعہ نیوکلیائی پروگرام کے وجہ سے مغربی ملکوں کی آنکھوں کی کرکری بنے ایران کے لئے اب یہ نئی مشکل کھڑی ہوگئی ہے۔ امریکہ ایران پر اور دباؤ ڈالے گا۔
Bangkok, Bomb Blast, Delhi, Delhi Bomb Case, Iran, Israil, Tiblis

16 فروری 2012

زیادہ ترآتنکی حملے 13تاریخ کو کیوں؟


Published On 16th February 2012
انل نریندر
اسے محض اتفاق ہی ماناجائے کہ ہندوستان میں زیادہ ترآتنکی بم دھماکوں کی وارداتیں 13 تاریخ کو ہی ہوتی ہے یا پھر اس 13کی کچھ خاص اہمیت ہے؟ زیادہ بم واقعہ 13فروری کو ہوا ہے تقریباً ہردھماکہ کی تاریخ 13ہی ہے ستمبر 2008 کو بھی راجدھانی میں 13تاریخ کو ہی بم دھماکہ ہوا تھا۔ ممبئی میں پچھلے سال جولائی میں بھی 13 تاریخ کو سلسلہ وار دھماکے ہوئے تھے۔ پنے میں جرمن بیکری بھی دھماکہ بھی 13کو ہواتھا۔ 2001میں پارلیمنٹ کمپلیکس احاطے میں بھی 13تاریخ دسمبر کو بھی آتنکی حملہ ہوا تھا۔ ہمارے ماہرین اب اس بات کی جانچ میں لگے ہوئے ہیں 13 تاریخ کی ان آتنکوادیوں کے لئے کیا خاص اہمیت ہے۔ وزیراعظم رہائش گاہ کے پاس جو حملہ ہوا ٹھیک اسی طرح کا تھا جو اسی سال 11جنوری کو ایران کی راجدھانی تہران میں ہواتھا۔ جس میں ایران کے ایک نیوکلیائی سائنس داں مستعفی احمدی روشن کاقتل ہوگیا تھا۔ اس حملے میں بھی دو موٹر سائیکل سوار قاتلوں نے روشن کی پجیرو کار پر اسی طرح کا اسٹیکی بم لگادیا تھا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ سائنس داں کی موقعہ پر موت ہوگئی تھی۔ نئی دہلی کے واقعہ میں انوا سوار سبھی مسافر خوش قسمتی سے بچ گئے تھے کہ جلدی میں نوجوان صحیح جگہ پر بم نہیں لگاسکا۔ جانچ کرنے والے حکام کی مانے تو اگر یہی بم کار کے پیچھے بجائے کسی دروازے پر لگایا گیا ہوتا اس سے کہیں زیادہ نقصان ہوتا۔ بتایاجارہا ہے کہ حملہ آور دروازے پر لگانے میں کامیاب نہیں ہونے کی وجہ سے پیچھے لگاگئے ۔ دھماکے کاسارا اثر کار کی پچھلی سیٹ پر ہی پڑا۔ حملہ اتنازور دار تھاکہ کارکے ٹکڑے اور بم کے ٹکڑے اسرائیلی ڈپلومیٹ کی بیوی تال یہوشوا کی پیٹھ میں جاگھسے۔ اگر یہی بم کار کے دروازے یا ایندھن کے ٹینک کے قریب لگایاگیا ہوتا توان کابچنا ناممکن تھا۔ داد دینی ہوگی انوا کار ڈرائیور منوج شرماکی۔ خودزخمی ہونے کے باوجود اپناحوصلہ نہیں چھوڑا۔ اور گاڑی سے خاتون ڈپلومیٹ کو نکالا ایک آٹو روک کر سب سے پہلے وہ اسے محفوظ مقام پر لے گیا۔اسرائیلی سفارت خانے میں پہنچانے کے بعد تال یہوشوا کو پاس کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرایاگیا۔ جہاں ڈاکٹرو ں نے اس کے پیٹھ سے لوہے کے کچھ ریزوں کو آپریشن سے نکالا۔ راجدھانی میں اورنگ زیب روڈ پر انوا گاڑی میں اسٹیکی بم سے دھماکہ کامعاملے بھلے ہی دیش میں پہلا ہو۔ ہالی ووڈ کی فلموں میں یہ عام ہے ایک یقینی نشانے کو لگانے کے لئے اس کا استعمال کیاجاتا ہے۔ ہالی ووڈ سے متاثر ہو کر بالی ووڈ میں اب یہ استعمال میں آنے لگا ہے۔ اسٹیکی بم کااستعمال جیمز بونڈ سریز کی فلموں کے علاوہ جاسوسی فلموں میں بھی دکھایاجاتا ہے۔ سلویسٹر سلون کی فلم اسپیشلسٹ میں اسٹیکی بم کا استعمال دکھایا گیا ہے اس بم کی خاصیت یہ ہے کہ اپنے نشانے کو ہی نقصان پہنچانا آس پاس اس کا کم اثر ہوتا ہے۔ سائز میںیہ بہت چھوٹاہوتا ہے۔ اور اسے چھپانے کا طریقہ آسان ہوتا ہے۔ بالی ووڈ میں اس بم کا استعمال سنی دیول کی فلم ''جو بولے سو نہال '' میں حال ہی شاہ رخ خاں کی فلم ''ڈان نمبر2میں کیاگیا۔ پولیس کے اعلی افسر بھی مان رہے ہیں کہ غیرملکی سفارت کاروں کی گاڑی کو اڑانے کافارمولہ فلموں سے لیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے۔ حالانکہ نکسلی اس طرح کے بم کا استعمال کرتے ہیں لیکن آتنک وادی جنگ میں اوریہ بھارت میں پہلی بار استعمال کیاگیا ہے.
Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Delhi Bomb Case, Hizbullah, Iran, Israil, Vir Arjun

15 فروری 2012

بے شک دھماکہ دہلی میں ہوا لیکن نشانے پر اسرائیل تھا


Published On 15th February 2012
انل نریندر
دہلی میں پچھلے کئی مہینوں سے کوئی آتنکی واقعہ نہیں ہوا تھا۔ اورہمیں لگنے لگا تھا آخر کار ہماری سیکورٹی ایجنسیوں نے آتنک واد پر کچھ حد تک قابو پالیا ہے ۔7ستمبر 2011 کو دہلی ہائی کورٹ میں بم دھماکہ ہواتھا جس میں 15لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے بے شک جو دھماکہ ہوا وہ انتہائی سنگین ہے اس میں حالانکہ کسی کی موت تو نہیں ہوئی لیکن یہ کئی پہلوؤں سے ہائی کورٹ کمپلیکس کے باہر ہوئے دھماکے سے زیادہ تشویش کا باعث ہے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ دھماکہ ایسی جگہ ہوا جو دیش کا سب سے انتہائی محفوظ ترین علاقہ مانا جاتا ہے وزیراعظم کی رہائش گاہ سے محض 500 میٹر کی دوری پر پیر کے روز دوپہر اسرائیلی سفارت خانہ کی کار میں زور داردھماکہ ہوا دھماکے بعد کار میں آگ لگ گئی جس سے اس میں سوار ایک اسرائیلی خاتون ڈپلومیٹ افسر سمیت چار افراد زخمی ہوگئے ۔موٹر سائیکل سوار آتنکی نے میکنٹک ڈیوائس ( اسٹیکی بم) سے چلتی ہوئی انوا گاڑی میں دھماکہ کیا۔ اس کار کے بگل میں چل رہی ہے دو دیگرکاروں کو نقصان پہنچا۔ اس واردات میں اسرائیلی سفارت کار اس کا ڈرائیور انڈیکا کار میں سوار دو دیگر لوگ زخمی ہوئے ہیں۔زخمی سفارت کار کو چندرگپت مارگ پر واقع پرائمر اسپتال کے آئی سی یو میں رکھاگیا ہے باقی تینوں زخمیوں کو رام منوہر لوہیا اسپتال میں داخل کرایاگیا ہے جس جگہ یہ دھماکہ ہوا وہ انتہائی وی آئی پی علاقہ ہے جہاں دونوں طرف بڑے نیتا اور وزراء کے بنگلے ہیں۔پولیس کمشنر بی کے گپتاکے مطابق سفارت خانے میں ایڈمنسٹریٹو اتاشی کے عہدے پر مامور خاتون ڈپلومیٹ یہوا تین اورنگ زیب روڈ پرواقع امریکن اسکول میں پڑھ رہے اپنے بچوں کو لینے جارہی تھی تب ہی دوپہر بعد قریب سوا تین بجے اورنگ زیب روڈ پر واقع مرکزی وزیر مکل واسنک کے بنگلے کے سامنے ان کی چلتی انووا کار (109 سی ڈی 35) میں دھماکہ ہوگیا۔ پولیس کو ملے ایک چشم دید گواہ نے بتایا کہ لال رنگ کی موٹر سائیکل پر سوار ہیلٹ میٹ لگائے لڑکے نے چلتی کار میں پیچھے سے میکنٹ ڈیوائس چپکائی اور تیزی سے فرار ہوگیا۔ پولیس افسران کے مطابق جس طرح کا بم استعمال اس حملے میں ہوا ہے وہ پہلی بار دیکھاگیا ہے اسے اسٹیکی بم کہاجاتا ہے۔ عام طور پر فوج ہی اس کااستعمال کرتی ہے۔اسٹیکی بم ایسا بم ہوتا ہے جسے چلتے چلتے کسی بھی گاڑی پر چپکا دیاجاتا ہے۔اس میں چپکن کا کام بم کے ساتھ لگی میکٹنٹ یعنی چبنک کرتی ہے جو کارلوہے کی باڈی پر ہلکے سے چھوتے ہی چپک جاتی ہے دہلی پولیس کے سینئر بتاتے ہیں کہ اس میں پلاسٹک دھماکوں کااستعمال ہلکے بن کے لئے کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بم پھٹنے کی ٹائم سیٹنک میکانیزیم بھی اپنے میں نہیں ہے۔ اس طرح بم کا استعمال ہونا ہماری فوج سیکورٹی کے لئے ایک سنگین چنوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بم یا تو بیرونی ملک سے لایاگیا ہے یا پھر فوج کے کسی ڈپو سے چرایاگیا ہے میں نے فلموں میں دیکھا ہے اس طرح کے بم کو چلتے ٹینک پر چپکا دیا جاتا ہے جسے ٹینک اڑ جاتا ہے یہ دھماکہ محص اتفاق نہیں تھا۔ پیر کو ہی جارجیا کی راجدھانی تبلسی میں واقع اسرائیل سفارت خانے پر ایسا ہی حملے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیلی ریڈیوں نے کہا ہے کہ ایک ملازم نے دھماکوں سے مسلح ایک بار سفارت خانے کے پاس کار کودیکھا تھا اور اس نے پولیس کو خبر دی تھی پولیس نے وہاں پہنچ کر بم کوناکارہ کردیا بعد میں اس میں واقعہ کے جانکاری سفارت خانے کو دی گئی۔ اس کے بعد دنیا بھر اسرائیلی سفارت خانوں کو ہائی الرٹ جاری کردیاگیاتھا۔ قابل غور ہے کہ حالیہ مہینوں میں آذر بائیجان ،تھائی لینڈ اوردیگر مقامات پر بھی اسرائیلی عمارتوں پر حملے کی سازش ناکام کی گئی ہے۔ تھائی لینڈ میں تو پچھلے ماہ ایک حزب اللہ وابسطہ لبنان کے ایک شخص کو گرفتار کیاگیا ہے اس کے پاس سے دھماکہ کا سامان بھی برآمد ہواتھا۔ چونکہ نشانے پر اسرائیلی تھے اس لئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ اس کے پیچھے اسلامی کٹر پسندوں کاہاتھ ہوسکتا ہے۔ا سرائیلی وزیراعظم نے واردات کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ اس کے پیچھے آتنکی تنظیم حزب اللہ اور ایران کاہاتھ ہے اس سے پہلے 25/11 کے ممبئی آتنکی حملے میں رباب ہاؤس کونشانہ بنایاگیا تھا جہاں سات اسرائیلی مارے گئے تھے حزب اللہ لبنان کی مسلم کٹر پسند تنظیم ہے اور سیاسی پارٹی ہے۔ اتوار کو اس کے ایک بڑے لیڈر عماد مغنی کی چوتھی برسی تھی مغنی ایک میزائل حملے میں مارا گیا تھا۔ حزب اللہ نے مغنی کی موت کے لئے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو ذمے دار ٹھہرا کر بدلا لینے کی قسم کھائی ہے ایران میں بھی ایک بڑے قانون ساز کو پچھلے دنوں میزائل حملے میں ماردیاگیاتھا۔ ایران نے بھی اسرائیل کے ہاتھ ہونے کا الزام لگایا تھا اس حملے میں ایک ایرانی آتنکی تنظیم عمادموچھیا کانام بھی آرہا ہے اب تک دیش میں کتنے آتنکی واقعات ہوئے ہیں اس میں کبھی اس تنظیم کا نام نہیں آیا ہے۔ حالانکہ پولیس کا خیال ہے کہ تنظیم کا خاص مقصد اسرائیلی شہریوں کو نقصان پہنچانا تھا کچھ لوگ تو یہ بھی کہے رہے ہیں ایران نے پاکستانی آتنکیوں کے ذریعہ واردات کوانجام دیا ہوگا۔ اس سلسلے میں زیادہ شبہ حزب المجاہدین اورلشکر طیبہ پر جاتا ہے ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ 26/11حملے میں بھی اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنایاگیاتھا۔واردات کے پیچھے کوئی بھی ہو۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ انہیں مقامی مدد ضرور ملی ہے کیونکہ موٹر سائیکل سوار ایک ہندوستانی ہی ہوگا۔میکنٹ بم کا استعمال نہ صرف دہلی پولیس بلکہ تمام سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے تشویش کا باعث ہونی چاہئے۔ بلکہ ابتک اس طرح کے بموں کااستعمال ایران اور کچھ عرب ممالک میں ہوتا آیا ہے۔ ذرائع کی مانے تو دہلی میں ہوئے اس حملے میں نائٹروگلیسرین، سلفر ،پوٹاشیم کیروریٹ کااستعمال کیاگیا ہے۔ نائٹروگلیسرین کااستعمال اسی طرح کے دھماکوں میں کیا جاتا ہے۔عرب ممالک اوراسرائیل کے درمیان لڑائی میں اب بھارت بھی آگیا ہے۔ پیر کو یہ واقعہ ہمارے اندرونی اسباب سے نہیں ہوا ہے یہ تشویش کی بات ہے اسرائیل اس حملے کا بدلہ ضرور لے گا۔ عیسائی بنام اسلام لڑائی آج کی نہیں بلکہ ہزاروں برس پرانی چلی آرہی ہے۔ ایران پر کسی بھی وقت اب اسرائیل ، امریکہ، حملہ کرسکتاہے۔ کہیں دہلی کے اس دھماکے سے معاملے اور زیادہ نہ بڑھ جائے؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi Bomb Case, Delhi High Court, Israil, Terrorist, Vir Arjun

21 ستمبر 2011

بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی تیسری برسی


Published On 21th September 2011
انل نریندر
تین سال پہلے 19 ستمبر کا وہ دن جب ساؤتھ دہلی کے بٹلہ ہاؤس علاقے میں ایک مکان میں روپوش آتنکیوں کے بارے میں خبر کے بعد دہلی پولیس کے تیز طرار انسپکٹر موہن چند شرما نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خطرناک آتنکیوں سے لوہا لیا اور وہ اس کارروائی میں شہید ہوگئے تھے۔ دوسری طرف کچھ کٹر پسند نیتا اور کچھ سیاستداں اس واقعے پر سیاست سے باز نہیں آتے۔ اسے فرضی انکاؤنٹر کہہ کر ہر سال بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کو یاد کیا جاتا ہے۔ بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑ کی تیسری برسی پر پیر کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ مڈ بھیڑ کی سی بی آئی انکوائری کرائی جائے۔اس مظاہرے میں اعظم گڑھ سے اسپیشل ٹرین میں آئے راشٹریہ علما کونسل کے ممبروں نے حصہ لیا۔ کونسل نے کہا آتنک واد کے نام پر اعظم گڑھ کو بدنام کیا گیا اور کیا جارہا ہے ،جو بند ہونا چاہئے۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ علماؤں نے ہزاروں حمایتیوں کے درمیان کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ پر بھی خاص نشانہ لگایا۔ دگوجے سنگھ نے کچھ مہینے پہلے اعظم گڑھ ضلع کے سنجر پور گاؤں کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑ پر سوال اٹھائے تھے۔ قابل غور ہے کہ19 ستمبر 2008 ء کو ہوئی مڈ بھیڑ میں مارے گئے دو مشتبہ لڑکوں عتیق امین اور محمد ساجد کا تعلق اسی گاؤں سے تھا۔ علما کونسل کے قومی چیئرمین مولانا ذاکررشید مدنی نے کہا کہ یہ کتنی عجب بات ہے کہ دگوجے سنگھ سنجر پور جاکر اس مڈ بھیڑ پر سوال کھڑے کرتے ہیں لیکن دہلی میں ان کی سرکار ہے جو اس معاملے کی اعلی سطحی جانچ نہیں کروا رہی ہے۔ انہوں نے کہا دگوجے سنگھ نے مجھ سے خود کہا تھا کہ انہوں نے اس مڈ بھیڑ کے فرضی ہونے کی بات کانگریس صدر سونیا گاندھی، وزیر اعظم منموہن سنگھ سے کہی تھی لیکن ان کی کسی نے نہیں سنی۔ مجھے لگتا ہے دگوجے سنگھ صرف نوٹنکی کرتے ہیں، انہیں مسلمانوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ احتجاجی مظاہرے میں شامل لوگوں نے سونیا، منموہن سنگھ اور راہل گاندھی کے خلاف بھی جم کر نعرے بازی کی۔ حالانکہ لوگوں کے نشانے پر سب سے زیادہ دگوجے سنگھ رہے۔
جنتر منتر میں علماؤں کا مظاہرہ ہو رہا تھا تو دہلی کے دوسرے کونے میں بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں شہید ہوئے دہلی پولیس کے افسر موہن چند شرما کے گھر پر ان کا کنبہ انہیں اکیلا ہی یاد کررہا تھا۔ ان کے خاندان نے کسی سے بھی بات نہیں کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے میڈیا سے بھی دور رہنا ٹھیک سمجھا۔ ان کے گھر پر پولیس ملازمین کا پہرہ تھا۔ ان کے گھر میں گئے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ان کے ماتا پتا کے سامنے آج بھی 2008 کا منظر آتا ہے تو ان کی آنکھوں میں آنسو چھلک پڑتے ہیں۔ یہ ہمارے دیش کی بدقسمتی ہی ہے کہ اس مڈ بھیڑ کو محض ووٹوں کی خاطر فرضی قراردیا جارہا ہے اور اس پر سیاست ہورہی ہے۔ قانونی نقطہ نظر سے کئی عدالتوں نے اسے صحیح کارروائی قراردیا ہے لیکن اس کے باوجود اس پر سیاست جاری ہے۔ ان سیاستدانوں اور مذہبی لیڈروں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ اس سے ہماری سکیورٹی فورسز پر کیا اثر پڑے گا؟ انسپکٹر موہن چند شرما کی شہادت کے بعد جس طرح نیتاؤں نے منفی سیاست کے چلتے اس انکاؤنٹر پر شبہ کیا اور آتنکیوں کی سرپرستی کی زبان بولی اور جانباز انسپکٹر کی شہادت کو شبے کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، اس سے یقینی طور پر دہلی پولیس کے جانباز جوانوں کا ہی نہیں بلکہ پوری دیش کی فورسز کا حوصلہ ٹوٹا ہوگا۔ اس کا منفی اثر یہ ضرور ہوا کہ پولیس اور دیگر فورسز کے جوان اچھی طرح سے سمجھ چکے ہیں کہ آتنک کے خلاف چپ بیٹھنا اور سانپ نکلنے کے بعد لکیر پیٹنا ان کا پہلا فرض ہے آتنکیوں کو پکڑنا نہیں۔ نتیجے کے طور پراب راجدھانی دہلی میں کوئی بھی بم دھماکہ ہو اس میں پولیس کے ہاتھ خالی تھے اور خالی ہیں۔ اور ہوں بھی کیوں نہ اگر وہ اپنی جانبازی سے آتنکی کو پکڑ بھی لیں تو سرکار مقدمے میں لگ جائے گی اور پھانسی کی سزا ہوگی تو اسے لیٹ کرایا جائے گا اور آتنکیوں کو سرکاری مہمان بنا کر ان کی خاطر داری میں لگی ہوگی۔ بہرحال بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی تیسری برسی پر دہلی پولیس کے جانباز انسپکٹر چندر موہن شرما کو تمام دیش واسیوں کی طرف سے شت شت نمن:
آج ان کی سمادھی پر ایک دیا بھی نہیں۔ جن کے چراغوں سے جلا کرتے تھے اہل وطن
دئے جلتے ہیں ان کی قبر پر، جو بیچا کرتے ہیں شہیدوں کا کفن
Anil Narendra, Batla House Encounter, Daily Pratap, Delhi Bomb Case, delhi Police, Digvijay Singh, Manmohan Singh, Terrorist, Vir Arjun

03 جون 2011

بھلر تو بہانہ ہے اصل نشانہ اسمبلی انتخابات ہیں


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
3 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ ہمارے دیش میں سلامتی اور قانون و نظم سبھی کا ووٹ بینک پالیٹکس کباڑہ کررہی ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک آتنک وادی صرف آتنک وادی ہوتا ہے جس کا واحد مقصد ہوتا ہے اپنے مقصد کی تکمیل۔ اس کے لئے وہ نہ تو سامنے والے کے مذہب کو دیکھتا ہے اور نہ ہی شخصیت کو۔ایک دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ان کا مذہب ہے تو بندوق یا بارود۔ تازہ تنازعہ دویندر سنگھ بھلر کو لیکر ہے۔ صدر کی جانب سے دویندر پال سنگھ بھلر کی رحم کی عرضی خارج کئے جانے کے بعد کچھ سیاسی پارٹیوں کو آنے والے اسمبلی انتخابات کے لئے اپنی اپنی سیاست چمکانے کا موقعہ مل گیا ہے۔ پنجاب میں اگلے سال فروری میں چناؤ ہونے ہیں۔ حالانکہ پچھلی ڈیڑھ دہائی میں پنجاب میں کوئی بڑی دہشت گردانہ واردات نہیں ہوئی ہے لیکن علیحدگی پسندی اور 1984ء کے دنگوں سے وابستہ اشو چناؤ کے دوران ہمیشہ سر اٹھا لیتے ہیں۔ خاص کر کچھ یوروپی ملکوں اور امریکہ میں بسے خالصتانی نظریات کے حمایتی ہمیشہ ایسے مسئلوں کی تلاش میں رہتے ہیں جس سے پنجاب میں پھر علیحدگی پسندی کا دور شروع کیا جاسکے۔ ان کی مدد کو ہمیشہ آئی ایس آئی جیسی تنظیم تیار بیٹھی رہتی ہے۔ بیشک پنجاب کی جنتا نے علیحدگی پسندی کو سرے سے مسترد کردیا ہے اور امن چین خراب ہونے نہیں دیا لیکن پھر بھی کچھ مذہبی مسئلے پنجابیوں کے طبقے کے لئے ایک دکھتی رگ کی طرح ضرور رہے ہیں۔ بھلر پر ہوئے فیصلے نے جو برسوں بعد اچانک آگیا ہے نے پھر سے بحث چھیڑ دی ہے جس کا اثر آگے دکھائی دے سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگلے کچھ مہینوں میں یہ مسئلہ مزید گرما سکتا ہے کیونکہ کچھ سیاسی پارٹیاں چناؤ مہم کیلئے اسے بھنانے کے لئے لگی ہوئی ہیں۔
پھانسی کی سزا کا انتظار کررہے بھلر کی رحم کی عرضی کو خارج ہونے کے بعد سکھوں کے مختلف پنتھک گروپ بھی ساتھ ہوگئے ہیں۔ اس طرح کی درجن بھر تنظیموں نے میٹنگ کرکے رحم کی اپیل خارج کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو سنگین نتائج بھگتنے تک کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ ان انجمنوں کا کہنا ہے کہ پیشے سے الیکٹرانک انجینئر اور گورو نانک دیو انجینئرنگ کالج کا سابق پروفیسر بھلر سے خالصتانی نظریات کے تھے۔ اس نے سرگرم طور سے کسی بھی آتنکی واردات میں حصہ نہیں لیا۔ دہلی بم کانڈ میں بھی اس کے خلاف کوئی گواہ نہیں تھا بعد میں عدالت میں وہ اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔ دہلی بم کانڈ کے فوراً بعد بھلر جرمنی بھاگ گیا تھا لیکن وہاں پناہ نہیں ملی اور اس کی حوالگی کرکے بھارت لایاگیا اور اس کی سزا بدلنے کے حق میں یہ دلیل بھی دی جارہی ہے کہ دہلی ہائیکورٹ کے فیصلے کو قائم رکھنے کے وقت سپریم کورٹ کی ڈویژن بنچ یا عدالت متفق نہیں تھی۔ تین ججوں میں سے ایک نے اسے الزام سے بری الزماں قراردیا اور آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کیلئے یہ آئینی شق وجہ بن سکتی ہے۔
بم دھماکے کے قصوروار خالصتان لبریشن فورس کے آتنکی دویندر سنگھ بھلر کی رحم کی عرضی خارج ہونے کے بعد ویسے اب اس کے لئے آئین میں کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ صدر کی جانب سے رحم کی اپیل خارج ہونے کے بعد ہندوستانی آئین میں قصوروار ثابت ہونے والے شخص کی سزا کے خلاف اپیل کرنے کے اختیارات ختم ہوجاتے ہیں۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ مرکزی سرکار اس پیچیدہ مسئلے پر کیا قدم اٹھاتی ہے؟
Tags: Anil Narendra, Bhullar, Daily Pratap, Delhi Bomb Case, Khalistan, Punjab, Sikh Terrorist, Terrorist, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...