Translater

L K Advani لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
L K Advani لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

27 مئی 2012

دنیا جھکتی ہے جھکانے والا چاہئے


بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن گڈکری اورآر ایس ایس دونوں پرگجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی بھاری پڑ گئے۔ پارٹی کو سنگھ کے چہیتی سنجے جوشی کو بھاجپا ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے پہلے باہر کا راستہ دکھانا پڑا۔ مودی کے دباؤ میں گڈکری اور سنگھ سرخم دکھے۔ پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ مودی نے صاف کہا کہ اگر ورکنگ کمیٹی میں سنجے جوشی آئے تو وہ میٹنگ سے خود کو دور رکھنے کے لئے مجبور ہوں گے۔ گڈکری نے بدھوار کی شام فون سے بات کی تھی۔ گڈکری نے کور کمیٹی کی میٹنگ میں مودی سے بات چیت کی تفصیل رکھی۔ ذرائع کے مطابق کچھ سینئر لیڈر بھاجپا نیتا مودی کی دھمکی کو قبول کرنے کے خواہش مند نہیں تھے مگر گڈکری اور آر ایس ایس کے دباؤ کے چلتے سنجے جوشی کو دو لائن کا استعفیٰ فیکس سے بھیجنا پڑا۔ دراصل مودی اور گڈکری میں سودے کی خوشبو آرہی ہے۔ مودی نے شرط رکھی کے جوشی کو باہر کرو اور گڈکری نے شرط رکھی کے مجھے دوسری میعاد دینے کیلئے آپ حمایت کریں۔ اب لگتا ہے کہ گڈکری کی دوسری میعاد ملنے میں تمام رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں۔ انہیں اب دوبارہ صدر بنانا طے ہوچکا ہے۔ گڈکری کی تین سالہ میعاد25 دسمبر کو پوری ہونے جارہی ہے۔ اس تجویز کے لئے باقاعدہ بھاجپا کے آئین میں ترمیم کی گئی جسے عملی جامہ پہنا دیا گیا ہے۔ پارٹی کے سابق صدر راجناتھ سنگھ نے رسمی طور پر میٹنگ میں صدر کی میعاد میں توسیع کے لئے ایک تجویز رکھی جس کی دوسرے سابق صدر وینکیانائیڈو توثیق کردی۔ جس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مرکزی لیڈرشپ میں جلدی ہی یہ منظور کرلی گئی۔یہ نہ تو بھاجپا کے لئے اچھا اشارہ ہے اور نہ ہی آر ایس ایس کے لئے۔ قومی پارٹی کی ساکھ کو لیکر جس بھاجپا کو قومیت اور ڈسپلن کے لئے جانا جاتا تھا اب وہ بے اصولی راستے پر چلتی نظر آرہی ہے۔ بھاجپا کی بونی ہوتی لیڈر شپ اور اس پر حاوی ہوتے ریاستی نیتا سنگھ کے لئے چنوتی بن گئے ہیں۔ راجستھان میں بیک فٹ پر وسندھرا راجے ،گجرات میں نریندر مودی، کرناٹک میں بی ایس یدی یروپا سے تو چنوتی مل رہی ہے وہ بھاجپا کو کانگریس کے متبادل کے طور پر ابھر نے میں آڑے آرہی ہے۔ بھاجپا صدر گڈکری کی میعاد کو بڑھا کر سنگھ بھاجپا پر اپنی پکڑ ضرور ثابت کرنا چاہ رہی ہے لیکن وہ شعور اور وہ استقبال نہیں نظر آرہا ہے جو بھاجپا میں پہلے ہوا کرتا تھا۔ بھاجپا کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے جب بھاجپا کو سنگھ کی جانب سے مقرر کرائے گئے شخص کو ہرانا پڑا ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے سنگھ کی بھاجپا پر پکڑ کمزور ہوتی جارہی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ بھاجپا کے اوپر ایسے بھی لیڈر ہیں جو چاہتے ہیں کہ سنگھ کی بھاجپا معاملوں میں دخل اندازی کم ہو۔ پورے معاملے میں جہاں نریندر مودی کی جیت ہوئی ہے وہیں آر ایس ایس کی ایک معنی میں ہار بھی ہوئی ہے۔ اس سے نریندر مودی کا عہدہ اور قد بڑھے گا اور دنیا کے سامنے انہوں نے ثابت کردیا ہے کہ دنیا جھکتی ہے جھکانے والا چاہئے۔
(انل نریندر)

24 اپریل 2012

بھاجپا میں اقتدار کی تین دھریاں



Published On 24 March 2012
انل نریندر

بھارتیہ جنتا پارٹی میں دہلی میونسپل کارپوریشن جیتنے کے بعد ایک نیا حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی بازی مار سکتی ہے لیکن سب سے بڑی کمی جو سامنے آرہی ہے وہ ہے کلیئر لیڈر شپ کی کمی۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں پارٹی کے ایک بڑے گروپ خاص کر ممبران پارلیمنٹ کے دل میں یہ ایک سوال بار بار گھر کر رہاتھا کہ آخر یوپی اے II- میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیاد ت والی حکومت مہنگائی، کرپشن اور گھپلوں کے اشو پر گھری رہی لیکن سرکار کی ناکامی کا بھاجپا کو توقع سے زیادہ فائدہ نہیں مل سکا۔ اس کے چلتے مرکزی سرکار کے خلاف ماحول کو بھنانے کے لئے پارٹی کو لوک سبھا چناؤ سے پہلے اپنا وزیر اعظم کا امیدوار اعلان کرنے ہے۔ یہ وقت اور یہ صورتحال ہے کہ بھاجپا تین دھریوں پر چل رہی ہے۔ سب سے پہلے شری نتن گڈکری جو پارٹی کے صدر ہیں انہیں آر ایس ایس کی حمایت ہے۔ دوسری طرف ڈی فور نیتا ان میں اڈوانی جی، سشما سوراج، ارون جیٹلی قابل ذکر ہیں تیسری دھری نریندر مودی ہیں جو اپنے آپ کو پارٹی سے بالاتر مانتے ہیں اور خود کو وزیر اعظم کے عہدے کا سب سے مضبوط دعویدارمانتے ہیں۔ ان تینوں دھریوں میں سبھی نیتا اپنی الگ الگ سمت میں چل رہے ہیں۔ نتن گڈکری کے ایک طرف نریندر مودی سے اختلافات ہیں اور دوسری طرف دیگر سے اکثر کھینچ تان ہوتی رہتی ہے۔ تازہ مثال سریندر سنگھ اہلووالیہ کی ہے جن کا پہلے راجیہ سبھا سے ٹکٹ کٹنا پھر جب ڈی فور نے زور دار مخالفت کی تو انہیں پھر سے امیدوار اعلان کرنا۔ کئی ماہ سے گڈکری اور نریندر مودی کے درمیان بات چیت تک نہیں ہورہی ہے۔ بات چیت کی کمی کی اس حالت کو گڈکری نے خود تسلیم کیا ہے۔ سوال یہ بھی کیا جارہا ہے کہ گڈکری نے مودی سے نہ ہوئی بات چیت کے بارے میں عام کیوں نہیں کیا؟ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ نریندر مودی بھاجپا کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری سنجے جوشی کو دوبارہ سے بھاجپا میں سرگرم کئے جانے کے فیصلے سے ناراض ہیں۔ گڈکری نے سنجے جوشی کو اترپردیش اسمبلی چناؤ میں خاص اہمیت دی تھی۔ اسی کے بعد دونوں میں 'کٹی' ہوگئی۔ اس سوال کا جواب بھاجپا کی جانب سے کون دے گا۔ وزیر اعظم کے امیدواری کے بارے میں بھاجپا کے سینئر لیڈر وینکیانائیڈونے حیدر آباد میں کہا کہ اگلے عام چناؤ سے پہلے پارٹی اپنے وزیر اعظم عہدے کے لئے امیدوار کا نام اعلان کردے گی ابھی اس کا صحیح وقت نہیں آیا ہے۔ادھر نریندر مودی نے مرکزی سیاست میں آنے کے واضح اشارے کردئے ہیں۔
پچھلے دنوں مجوزہ قومی انسداد دہشت گردی سینٹر کی مخالفت میں سارے وزراء اعلی دہلی میں جمع ہوئے تھے مودی نے خاص طور سے تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا اور بیجو جنتا دل کے چیف اور اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ حالانکہ اعلی سطح پرتو یہ میٹنگ مرکزی سرکار کے مجوزہ این سی ٹی سی کو لیکر تھی لیکن اندر خانے یہ وزراء اعلی 2014ء میں ہونے والے عام چناؤ کے بارے میں غور وخوص کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ مودی نے اپنے آپ کو وزیر اعظم کا امیدوار دکھانے کی چالیں چلنی شروع کردی ہیں۔ آنے والے دنوں میں رسہ کشی اور تیز ہونا ممکن ہے۔
Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Daily Pratap, Jayalalitha, L K Advani, Manmohan Singh, Narender Modi, NCTC, Nitin Gadkari, Sanjay Joshi, Sushma Swaraj, Tamil Nadu, UPA, Vir Arjun

31 جنوری 2012

کیا دیش کے اگلے وزیر اعظم نریندر مودی ہوسکتے ہیں؟


Published On 31st January 2012
انل نریندر
آج اگر لوک سبھا چناؤ ہوجائیں تو ایک عوامی ریفرنڈم کے دعوے کے مطابق یوپی اے محاذ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے اور کانگریس کی قیادت والے راہل گاندھی کے مقابلے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو وزیر اعظم کی شکل میں بڑھت مل سکتی ہے۔ او آر جی نیلسن کی جانب سے کرائے گئے ملک گیر سروے کے جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ آج کی حالت میں چناؤ ہونے پر این ڈی اے کو 180 سے190 سیٹیں اور تیسرے مورچے کو بھی اتنی ہی سیٹیں ملیں گی جبکہ یوپی اے کو 168 سے177سیٹیں ملنے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ سروے میں ایک دلچسپ سوال یہ بھی تھا کہ اگر انا ہزارے اور راہل گاندھی آمنے سامنے ایک ہی سیٹ پر مقابلہ کررہے ہوں تو آپ کس کو ووٹ دیں گے؟ اس سوال پر60 فیصد لوگوں نے انا ہزارے کی حمایت میں اپنا ووٹ دیا۔سب سے دلچسپ سوال تھا کہ وزیر اعظم کس کو دیکھنا چاہیں گے؟ وزیراعظم کے امیدوار کی شکل میں اگست2010 ء کے سروے کے مقابلے راہل گاندھی کی مقبولیت کا گراف 24 فیصد سے گھٹ کر17 فیصد آگیا ہے جبکہ نریندر مودی کا گراف12 سے بڑھ کر 45 فیصد تک پہنچ گیا ہے باقی لیڈر بہت نیچے ہیں۔ مثال کے طور پر اس سروے کے مطابق بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کی مقبولیت حالانکہ 4 سے بڑھ کر10 فیصد ہوگئی ہے لیکن مودی کے وہ بہت پیچھے ہیں۔ تازہ سروے میں اڈوانی، منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی کی مقبولیت ایک ساتھ یعنی10-10 فیصد پر آگئی ہے۔ یہ سروے ایسے وقت آیا ہے جب پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات جاری ہیں۔ سروے میں 19 ریاستوں میں اندازاً90 فیصد پارلیمانی حلقوں کے 12 ہزار سے زیادہ لوگوں کی رائے لی گئی۔ نریندر مودی آج جنتا کی نمبرون پسند ہیں۔ نریندر مودی کو ماننا پڑے گا کہ ان کے ستارے روشن ہیں۔ بدقسمتی دیکھئے کے مودی کی سب سے کٹر سیاسی مخالف پارٹی کانگریس نے بھی غلطی سے ان کی تعریف کر ڈالی۔خبر پھیل گئی لیکن ایسا ہوا ہے کہ یوم جمہوریہ کے موقعہ پر بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے گجرات کے کچھ حصوں میں اخبارات کے ساتھ دو صفحے کا ایک اشتہار شائع کروایا اس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ گجرات وجود میں آنے کے ساتھ ہی ترقی یافتہ ریاست بن گیا۔ اس میں نریندر مودی سمیت ریاست کے سبھی وزراء اعلی کے اشتراک کو دکھایاگیا ہے۔اس میں مودی کی تصویر کے ساتھ انہیں با صلاحیت تنظیمی منتظم اور ماہر چناوی حکمت عملی بتایا گیا ہے۔گجرات میں اس سال دسمبر میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ چناؤ مہم تقریباً شروع ہوچکی ہے۔ اشتہار میں مودی کی اہم کامیابیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مودی گجرات کو طاقتور ریاست میں تبدیل کرنے کے لئے بڑی محنت کررہے ہیں ۔ انہوں نے بایو ٹیکنالوجی کے لئے الگ محکمہ بنایا ہے۔ اس اشتہار کے شائع ہوتے ہی کانگریس میں گھماسان مچنا فطری ہی تھا۔ پارٹی کے بڑے لیڈر جہاں اسے بیوقوفی بھرا قدم بتا رہے ہیں تو وہیں ہائی کمان نے پردیش یونٹ اور انچارج موہن پرکاش سے جواب طلب کیا ہے۔ حالانکہ کانگریس لیڈر و مرکزی وزیر راجیو شکلا نے اسے مودی کی تعریف والا نہیں بلکہ ان پر ایک بڑا تنقید کرنے والا قراردیا ہے۔ اس اشتہار میں طنز کہاں ہے، اپنی سمجھ سے تو باہر ہے۔ اس میں سیدھی مودی کی تعریف بیان کی گئی ہے۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Manmohan Singh, Narender Modi, Vir Arjun

25 نومبر 2011

چدمبرم کا بائیکاٹ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ہے


Published On 25th November 2011
انل نریندر
پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہوتے ہی پہلے ہی دن سے سیاسی سرگرمی کی آنچ تیزی دکھانے لگی ہے۔ اجلاس کے آغاز میں اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بائیکاٹ سے لوک سبھا میں لیفٹ پارٹیوں کے نوٹس پر مہنگائی پر ہونے والی بحث میں بھی ایوان کا پارہ گرم ہوگیا۔ بڑھتی مہنگائی کے مسئلے پر اپوزیشن پارٹیوں کے تحریک التوا کے نوٹس پر بحث کے درمیان وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے اعتراف کیا کہ امید کے مطابق نتیجے حاصل نہیں ہوسکے۔ انہوں نے جیسا کہ اب ان کی عادت سی بن گئی ہے مہنگائی کا ٹھیکرہ ڈیمانڈ اور سپلائی میں عدم توازن، ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں گراوٹ اور دیگر بین الاقوامی اسباب پر پھوڑدیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے افراط زر شرح مارچ2012ء کے آخر تک 6.7 فیصد تک آجائے گی۔ پرنب دا کے بیان سے اپوزیشن بھڑک اٹھا۔ سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے پرنب مکھرجی کے بیان کو نمبروں کا کھیل اور جنتا کو مایوس کرنے والا بتاتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مہنگائی کا یہی حال رہا تو لوگ جلد ہی تشدد پر اتر آئیں گے۔ این ڈی اے ایوان کے پہلے ہی دن یہ اشارہ دے چکا ہے ۔وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بائیکاٹ کے اپنے فیصلے پر پوری طرح عمل کریں گے۔ حالانکہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنے وزیر داخلہ کو بچانے کی پوری کوشش کی۔ انہوں نے کہا جہاں تک وزیر داخلہ کے بائیکاٹ کی بات ہے مجھے امید ہے سیاسی پارٹیاں اس طرح کے کسی قدم سے بچیں گی۔ کیونکہ وزیر داخلہ کے بائیکاٹ کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ دوسری طرف این ڈی اے کی جانب سے چدمبرم کے بائیکاٹ کو پوری طرح سے واجب قراردیتے ہوئے بھاجپا نے کہا یہ اپوزیشن کا جمہوری حق ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں وزیر اعظم کے نام لکھے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے پرچے کو عام ہونے کے پیش نظرایسا کیا جانا فطری قدم ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر وینکیانائیڈو نے اخبار نویسوں سے کہا کانگریس ماضی گذشتہ میں جارج فرنانڈیز کے ساتھ ایسا کرچکی ہے جب بے قصور جارج فرنانڈیز کو انہوں نے چھ مہینے تک بولنے نہیں دیا تھا۔ اب یہ ایک اتفاق ہی ہے کہ اگر چدمبرم نے پہل کی ہوتی تو یہ گھوٹالہ روکا جاسکتا تھا۔چدمبر کو بھاجپا ٹوجی گھوٹالے میں اتنا ہی ذمہ دار مانتی ہے جتنا اے راجہ کو۔ اس کا کہنا ہے جب چدمبرم وزیر خزانہ ہوا کرتے تھے اس وقت راجہ جی جو بھی کررہے تھے ۔اس سبھی کے بارے میں نہ صرف چدمبرم کو واقفیت تھی بلکہ انہوں نے راجہ کی حمایت بھی کی تھی۔ انہوں نے راجہ کے اٹھائے گئے اقدامات کو اپنی رضامندی دی اگر وہ چاہتے تو اسی وقت اس گھوٹالے کو ہونے سے روک سکتے تھے۔ بھاجپا نے اپنے الزامات کی بنیاد پر وزارت مالیات کے پچھلے سال وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجے گئے اس نوٹ کو بھی جواز بنایا جو اس سال 25 مارچ کو بھیجا گیا تھا۔ اس نوٹ سے صاف ہوجاتا ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کی نیلامی کے بجائے ''پہلے آؤ پہلے پاؤ'' کی پالیسی بنانے کے لئے بھی وزیر خزانہ کی شکل میں چدمبرم نے اپنی منظوری دی تھی۔ یہ ہی نہیں راجہ نے باقاعدہ چدمبرم کو اس بارے میں خط بھی لکھا اور میٹنگ بھی کی تھی۔ ایسے میں چدمبرم اس گھوٹالے کیلئے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے راجہ۔ دراصل چدمبرم کا بائیکاٹ کرکے این ڈی اے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت اور چدمبرم کے لئے ایک عجیب و غریب صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ وہیں چدمبرم کو پسند نہ کرنے والے ٹیم انا کے لوگ بابا رام دیو اور تاملناڈو کی چیف منسٹر جے للتا تک نے بھی ایک میسج بھیجا ہے۔ بائیکاٹ کا وقت ماننا پڑے گا کہ اچھا ہے جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی اپیل پر یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ چدمبرم کی لوک سبھا سیٹ بھی خطرے میں ہے کیونکہ ان کے چناؤ کے خلاف ایک عرضی کا فیصلہ کبھی بھی آسکتا ہے۔ ڈاکٹر سوامی کی ڈیمانڈ پر سی بی آئی کو ٹی جی سے وابستہ کاغذات دینے پڑے ہیں۔ سوامی دعوی کررہے ہیں کہ چدمبرم کو پوری جانکاری تھی اور وہ اسے دستاویزات کے ساتھ ثابت بھی کرسکتے ہیں۔ این ڈی اے نے نہ صرف دباؤ بنایا بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی دے دیا ہے۔ بابا رام دیو اور ان کے ساتھ رام لیلا میدان میں بیٹھے لوگوں پر پولیس کارروائی کے پیچھے بھی وزیر داخلہ کا حکم مانا جارہا تھا۔ بابا رام دیو کے حمایتیوں کی طرح ٹیم انا کے بھی کافی لوگ مانتے ہیں کہ انا اور ساتھیوں کی گرفتاری اور اس کے بعد معاملے کو الجھانے میں وزیر داخلہ اور وزیر انسانی وسائل کپل سبل کا خاص رول رہا۔ ادھر تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کو اپنی ہی ریاست کے چدمبرم کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔یہ بھی غور طلب ہے کہ گذشتہ ایتوار کو جے للتا کی پہل پر انا ڈی ایم کے کے تھمبی دورئی رام لیلا میدان میں ایل کے اڈوانی کی ریلی میں آئے تھے۔ اس کے ایک دن بعد چدمبرم کے بائیکاٹ کا فیصلہ ہوگیا۔ جے للتا ممکن ہے مستقبل میں این ڈی اے سے جڑ جائیں۔ کل ملاکر بھاجپا کو لگتا ہے ان کے بائیکاٹ کی پالیسی صحیح سمت میں صحیح قدم ہے۔
2G, A Raja, Anil Narendra, BJP, CBI, Congress, Daily Pratap, Jayalalitha, L K Advani, P. Chidambaram, Rath Yatra, Vir Arjun

23 نومبر 2011

مسلم پرسنل لاء قانون میں اصلاح کی مانگ




Published On 23rd November 2011
انل نریندر
ملک میں مسلم فیملی قانون میں اصلاح اور مسلم نجی قانون سیکشن میں دئے جانے کی مانگ اب زور پکڑ رہی ہے اس لئے بھارتیہ مسلم مہلا تحریک سے جڑی مسلم مہلا شکشا ، سلامتی، روزگار، قانون و صحت کے اشوز پر بیداری لانے و سیاسی چیتنا قائم کرنے میں لگی ہے۔ اب اترپردیش کے کئی شہروں میں بھارتیہ مسلم مہلا آندولن و پرچیہ سنستھا مشترکہ طور سے خواتین کے درمیان جا کر انہیں بااختیار بننے کی راہ دکھارہی ہے دیش میں مسلم خواتین کی حالت ہمیشہ سے بحث کاموضوع رہی ہے۔ مسلم خواتین کی حالت اور مسلم کنبہ قانون میں اصلاح کے امکان پچھلے کافی عرصہ سے مسلم آندولن وپرچیہ سنستھا چلارہی ہے۔ لکھنؤ ، سہارنپور، مظفر نگر سمیت اترپردیش کے کئی مختلف شہروں میں اس منچ کی طرف سے جو اشوز اٹھائے جارہے ہیں ان میں مسلم مہلا اب کافی دلچسپی لینے لگی ہے اب وہ خود چاہتی ہیں کہ ان کی زندگی کے فیصلے خاندانی اشو پر انہیں بھی سہارا ملے تاکہ اپنے فیصلے وہ خود کرسکے۔ بھارتیہ مسلم آندولن اب دیش کے پندرہ راجیوں میں سرگرم ہے اس آندولن سے وابستہ نائش حسن نے بتایا کہ وہ اس مسئلے کو ہرجگہ جا کر مسلم خواتین میں بیداری پیدا کررہی ہے۔ اس تحریک کو گاؤں تک لے جایا گیا ہے۔ قومی سطح پر وہ ایم پی پر دباؤ بنانے کے لئے بیداری وسیاسی چیتنا قائم کرنے کاکام کررہا ہے۔ وہ مانتی ہے کہ کوئی بھی سماج پسماندہ نہیں رہناچاہئے۔ آندولن بھارتیہ آئین کے دائرے میں اپنے اختیارات اور ترقی کی مانگ کو آگے بڑھانے میں بھروسہ رکھتا ہے۔ حسن نے بتایا کہ ایک طرفہ بھارتیہ آئین کی دفعہ 14,14,21,26,29,30 اور350اے ہندوستان کے سبھی شہریوں کے لئے یکساں مواقعوں کا اعلان کرتی ہے۔ ایک طرف قانونی برابری کی بات کرتی ہے تووہی دوسری طرف دیکھاجائے تو ان دفعات کو غیرضروری طورپر عمل میں نہیں لایاجارہا ہے۔ کسی بھی مذہب کے نجی قانون خواتین کو سیکورٹی نہیں دیتے جہاں تک مسلم پرسنل لاء کاسوال ہے وہ ایک آئینی عہد بند نہیں ہے۔ یہ قانون عورتوں کو سیکورٹی نہیں دیتا۔ تین طلاق کے واقعات آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں مسلم شادی سیکشن ایکٹ 1939 میں مسلم خواتین کو اختیار تو دیا لیکن مردوں کوایک طرف زبانی تین طلاق کے حق پر پابندی نہیں لگائی۔ جہاں مسلم مرد ثالثی کی کوئی کوشش کئے بغیر اپنی بیوی کو ایک طرفہ طلاق دے سکتا ہے شریعت میں کیا انتظامات کئے گئے ہیں اس سے وابستہ تشریحات کئی بہت سی جانی مانی قانونی ہستیوں نے بھی کی ہے لیکن کوئی آئینی قانون نہیں ہے۔ قانون کی تشریح کب تک قانون نہیں بنتا جب تک اسے پارلیمنٹ پاس نہیں کرتی۔ پارلیمنٹ صرف 1937,1939 و1986 کے قانون کو پاس کیا ہے۔نائش حسن نے بتایا کہ الجرائز میں خاندانی کورٹ 1984 ، مصرمیں یہ شخصی حالات ( ترمیم )قانون 1985 عراق میں شخصی حالات کا قانون (ترمیم) 1987 میں اردن میں شخصی حالات کاقانون 1976 کویت میں 1984 لیبیا میں بھی 1984 وغیرہ کئی ممالک میں نئی ترمیمات ہوئی ہے۔ لیکن بھارت میں ایسانہیں ہوا۔ ملکی مسلم فرقے اور مسلم خواتین کی خراب حالات کو دور کرنے میں بھروسہ کررہی ہے۔ لیکن مسلم پرسنل لاء پر بحث مسلم سماج کے سبھی طبقے دور بھاگتے ہیں اب دیش میں مسلم پرائیویٹ قانون کی دفعہ بنائے جانے کی ہر سطح پر مانگ اٹھائی جائے گی۔ سرکار مسلم خواتین کے لئے بات نہیں کرناچاہتی۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, L K Advani, Manmohan Singh, Rath Yatra, Sushma Swaraj, Vir Arjun

جن چیتنا یاترا کا شاندار اختتام




Published On 23rd November 2011
انل نریندر
بھاجپا کے سینئر لیڈر شری لال کرشن اڈوانی میں ماننا پڑے گا غضب کا جذبہ ہے۔ اتنی عمر ہونے پر بھی وہ نوجوانوں سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ ایتوار کے روز اڈوانی نے اپنی سات ہزار کلو میٹر 22 ریاستوں،5 مرکزی ریاستوں سے ہوتی ہوئی جن چیتنا یاترا پوری کی۔ دہلی میں ان کاشاندار خیر مقدم ہوا۔رام لیلا میدان یا تو اتنا انا کی تحریک کے وقت بھرا تھا یا پھر جن چیتنا یاترا کے اختتام پر۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اڈوانی جی کا خیر مقدم کرنے کیلئے آئے تھے۔ ایم سی ڈی چناؤ سے پہلے شری اڈوانی کی جن چیتنا یاترا کے اختتام کو راجدھانی کی بھاجپا سیاست میں طاقت کی آزمائش کے طور پر دیکھا جارہا ہے اور اس پروگرام پر سبھی کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں کیونکہ یہاں کا پیغام دور تک جانا تھا۔ دہلی بھاجپا پردھان وجیندر گپتا نے لگتا ہے کہ ایتوار کو یاترا کے اختتام کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ اس کامیاب پروگرام سے ان کا نجی قد بھی بڑھا ہے۔ بہت کم جذباتی شری اڈوانی یہ کہنے سے اپنے آپ کو نہیں روک پائے کہ دہلی میں اتنا بڑا عوامی سیلاب دیکھ کر میں بہت حیرت زدہ ہوں اور دہلی سرحد سے رام لیلا میدان تک 30 کلو میٹر کے راستے میں جو قابل قدر خیر مقدم ہوا ہے اسے وہ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔ اڈوانی جی کا یہ کہنا اپنے آپ میں کئی معنوں میں اور بھی اہم ہے کیونکہ وہ اس وقت پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں اور دہلی کے لئے انجام نہیں ہیں۔ ان کی پوزیشن یہاں تک ہے کہ دہلی بھاجپا ہی نہیں منڈل سے لیکر مورچے کے عہدیداران تک کے نام جانتے ہیں۔ کس علاقے میں پوزیشن کیا ہے انہیں آج بھی پتہ ہے۔ اس لئے اگر تیاریوں کو سراہتے ہیں تو وہ صحیح ہیں۔ اڈوانی کی اس طویل یاترا نے تمام دیش میں بھاجپا کے ورکروں کو جگانے میں مدد کی ہے۔ جس طریقے سے دیش کے مختلف حصوں میں جنتا کا سیلاب امڑا ہے مقامی ورکروں اور نیتاؤں نے بہت محنت کی ہے۔ جو لاکھوں ورکر مایوس ہوکر گھر بیٹھ گئے تھے وہ ایک بار پھر سرگرم ہوئے اور سڑکوں پر اتر آئے۔ اڈوانی جی سے میں نے راجستھان کے چورو کے سجان گڑھ ریلی کے بعد پوچھا کہ آپ اتنے ہجوم کا کیا تجزیہ کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا آج پورے دیش میں اس منموہن سنگھ کی یوپی اے سرکار کے خلاف بھاری ناراضگی ہے غصہ ہے۔ اس غصے کو وہ ظاہر کرنے کے لئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مجھے تاملناڈو، آندھرا پردیش کے فوٹو دکھائے۔ ان ریاستوں میں تو بھاجپا کی زیادہ سے زیادہ سیاسی موجودگی نہیں ہے لیکن یہاں بھی دیکھ کر میں بھی حیران ہوگیا۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ سیاسی طور سے اس یاترا کا بھاجپا کو کیا فائدہ ہونے والا ہے۔ تو ان کا کہنا تھا یہ بھیڑ ضروری نہیں ہمیں سب ووٹ دے ، یہ ایک ماحول دکھاتی ہے۔ باقی چناؤ میں ابھی وقت ہے ہم کوشش کریں گے کہ چناؤ تک یہ اثر بنا رہے۔ اس یاترا سے بھاجپا کی این ڈی اے اتحادیوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش رنگ لاتی نظر آنے لگی ہے۔ اڈوانی اپنی یاترا کے لئے این ڈی اے کی پارٹیوں کو ساتھ لانے میں کچھ حد تک کامیاب بھی رہے۔ شرد یادو، نتیش کمار، بادل پریوار تو یاترا میں ساتھ ہی تھا۔ ایتوار کو اختتامی ریلی میں جے للتا نے اپنے نمائندے کو بھیج کر سیاسی اشارہ دے دیا ہے۔ دہلی میں اپنی تقریر میں اڈوانی جی نے کہا یہ یاترا ختم ہوئی ہے لیکن کرپشن کے خلاف جنگ پوری نہیں ہوئی ہے۔ دیش کو تسلی ملنے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ صبح جب میں غازی آباد سے چلا تھا تو کہرا تھا جو خوشگوار موسم کے سبب چھٹ بھی گیا لیکن جو کہرا آج بھارت کی سیاست پر دیش کی اب تک کی سب سے کرپٹ سرکار کی وجہ سے چھایا ہوا ہے وہ موسم کے سبب نہیں ہٹے گا بلکہ وہ جن چیتنا اور عوامی ریفرنڈم سے ہی دور ہوگا۔ کرپشن کے معاملے میں گھری مرکزی سرکار پر دباؤ بنانے کے لئے نئی حکمت عملی کے تحت انہوں نے بھاجپا اتحاد کے سبھی ممبران پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ این ڈی اے کے سبھی ایم پی لوک سبھا اسپیکر یا راجیہ سبھا کے چیئرمین کو یہ لکھ کر دیں کہ وہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ بھارت کے باہر کسی بھی بینک میں ان کا کوئی ناجائز کھاتا نہیں ہے نہ ہی کوئی ناجائز پیسہ ہے۔ میں اپیل کرتا ہوں کہ ایک ہفتے کے اندر اس طرح کا خط سونپ دیا جائے۔
ایتوار کو رام لیلا میدان میں لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے بھی سما باندھ دیا۔ اپنی تقریر میں سشما نے کہا جب پردھان منتری منموہن سنگھ کو کسی بھی معاملے میں کوئی جانکاری نہیں ہے تو وہ کس مرض کی دوا ہیں؟ اور ایسے وزیر اعظم کی رہبری پر ہمیں ملال ہے۔ سبھی معاملوں میں وزیر اعظم اپنے ساتھیوں پر معاملہ ٹال کر بری ہونا چاہتے ہیں۔ گھوٹالہ ہونے پر وہ کہتے ہیں کہ راجہ سے پوچھو اور مہنگائی کے مسئلے پر شرد پوار سے پوچھو۔ جب وزیر اعظم کو کچھ پتہ ہی نہیں تو آخر وہ کس مرض کی دوا ہیں۔ سشما سوراج نے کہا میں نے لوک سبھا میں وزیر اعظم سے ایک نوٹ کے ذریعے سوال کیا تھا کہ ''تو ادھر ادھر کی بات نہ کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا۔ مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تیری رہبری کا سوال ہے'' اس پر وزیر اعظم نے ایک غیر رسمی شعر کے ذریعے جواب دیا انہوں نے کہا ''لیکن اپنے شعر کا ہی میںآج پردھان نتری کو یہ کہہ کر جواب دیتی ہوں میں بتاؤں کہ قافلہ کیوں لٹا، تیرا رہزنوں سے واسطہ تھااو ر اسی کا ہمیں ملال ہے''۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, L K Advani, Manmohan Singh, Rath Yatra, Sushma Swaraj, Vir Arjun

21 اکتوبر 2011

کیا نریندر مودی پارٹی سے اوپر ہوچکے ہیں؟




Published On 21st October 2011
انل نریندر
کچھ وقت پہلے سے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی اور ان کی پارٹی بھاجپا کے درمیان کچھ حساب کتاب ٹھیک نہیں لگ رہا ہے۔ بھاجپا میں مودی کو لیکردونوں ناراضگی اور علیحدگی پسندی کا جذبہ پیدا ہونے لگا ہے۔ بھاجپا کی لیڈر شپ کا ماننا ہے کہ نریندر مودی کو اب غرور ہوگیا ہے اور وہ اپنے آپ کو پارٹی سے اوپر ماننے لگے ہیں۔ پارٹی نے مودی کو ان کی حیثیت کا احساس کروانا شروع کردیا ہے۔ لال کرشن اڈوانی کی جن چیتنا یاترا پر آنکھیں دکھانے والے نریندر مودی کو اس یاترا میں بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے۔ وہ کہیں نظر نہیں آرہے ہیں اور اب اخباروں میں ان کی سرخیاں بھی کم دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ اڈوانی جی نے اپنی یاترا میں بھاجپا کی طرف اور تمام وزیر اعلی کے کام کاج اور کارناموں کا ذکر کیا ہے لیکن انہوں نے ابھی تک کسی بھی بڑے جلسے میں نریندر مودی کا نام تک نہیں لیا ہے۔ یہ ہی اڈوانی پہلے نریندر مودی کو ایک مثالی وزیر اعلی کے طور پر پیش کرتے نہیں تھکتے تھے۔ بھاجپا لیڈر شپ کا خیال ہے کہ مودی کا سیاسی قد کافی بڑا ہوسکتا ہے اور انہیں احساس کرانے کی ضرورت ہے ۔پارٹی ان کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ پارٹی سے ہیں۔ اس مسئلے پر اب غور کیا جارہا ہے کہ اگلے سال اترپردیش و دیگر ریاستوں میں اسمبلی انتخابات میں مودی کو پرچار کے لئے نہ بلایا جائے۔ پارٹی کو لگتا ہے کہ وہ اپنی کٹر پسند ہندوتو ساکھ کے سبب اگر مودی پرچار کرتے ہیں تو تمام مسلمان بکھرجائیں گے۔ بھاجپا کا مودی کی وجہ سے اختلاف کرنا شروع کردیں گے۔ بھاجپا کو یہ معلوم ہے ایک بھی مسلمان ووٹ اسے ملنے والا نہیں لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتی کہ بلاوجہ مسلمان پارٹی کے خلاف جارحانہ رویہ اختیارکرلے۔ پارٹی اترپردیش میں پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقے کو اپنے ساتھ جوڑنے کیلئے نتیش کمار کی مدد لینا بہتر متبادل سمجھنے لگی ہے۔ نتیش کمار نریندر مودی کے کٹر مخالف مانے جاتے ہیں یہ محض اتفاق نہیں کہ مسٹر اڈوانی نے اپنی جن چیتنا یاترا کو بہار سے شروع کیا اور اس یاترا کو ہری جھنڈی بھی نتیش کمار نے ہی دکھائی تھی۔ بہار اسمبلی چناؤ کے دوران بھی انہوں نے مودی کو ریاست میں نہ بھیجنے کی وارننگ دی تھی۔ بھاجپا نے اس پر عمل کیااور نتیجے سب سامنے ہیں۔آج نتیش کمار این ڈی اے کے سب سے طاقتور امیدوار بن کر ابھرے ہیں۔ بھاجپا کو بھی یہ اچھا لگتا ہے کہ وہ این ڈی اے کو آگے بڑھائے اور اس راستے سے وہ اقتدار تک پہنچے۔ مودی کا قد چھوٹا کرنے کے لئے بھاجپا لیڈر شپ اور سنگھ نے مل کر جان بوجھ کر سنجے جوشی کو ذمہ داری سونپی ہے۔ نریندر مودی سنجے جوشی کو بیحد نا پسند کرتے ہیں۔ انہیں تنظیمی سکریٹری کے عہدے سے ہٹوانے میں ان کا بہت اہم کردار رہا۔ ویسے تو لال کرشن اڈوانی بھی سنجے جوشی کو پسند نہیں کرتے کیونکہ جناح معاملے میں سنجے جوشی نے ہی اڈوانی کو پارٹی صدارت سے استعفیٰ دینے کو کہا تھا۔ عام طور پر پردھان اپنا استعفیٰ نائب پردھان کو دیتا ہے لیکن اڈوانی نے اپنا استعفیٰ سنجے جوشی کو بھیجا تھا۔
شری نریندر مودی کی پریشانیاں بڑھتی جارہی ہیں وہ اپنے گھر میں ہی گھرتے جارہے ہیں۔ گجرات دنگوں کے معاملے میں نریندر مودی کو پھنسانے کے لئے جھوٹے ثبوت گھڑنے والے معطل اور پھر گرفتار کئے گئے آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو مقامی عدالت نے تمام اختلاف کے باوجود ضمانت دے دی۔ عدالت نے اس معاملے پرشبہ ظاہر کیا جس کے تحت اسے گرفتار کیا گیا۔ رہا ہوتے ہی بھٹ نے مودی پر حملہ بول دیا اور ان کو مجرم بتاتے ہوئے کہا کہ میرے لئے مودی صرف ایک مجرم ہیں جو وزیر اعلی بن گئے ہیں۔ مودی اور ان کے لوگ خود کو بچانے کے لئے میرا قتل کروا سکتے ہیں جیسا کہ ہریند پانڈیہ کا کرایا گیا تھا۔
یہ یقینی ہے کانگریس جو سنجیو بھٹ کو اکسارہی ہے۔ ان کو ضمانت پر چھڑوانے اور باہر آنے کا پورا فائدہ وہ اٹھائے گی۔ حیرانگی تو اس بات پر بھی ہے کہ گجرات کے تین سینئر پولیس افسران نے سنجیو بھٹ کی کھلی حمایت کی ہے۔ 30 ستمبر کو بھٹ کی گرفتاری کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب افسران بھٹ کے خاندان سے ملنے گھر گئے اور سنجیو کی بیوی شویتا سے ملاقات کی، جو دو گھنٹے چلی۔ شویتا نے بتایا کہ تینوں افسران نے سنجیو کے ساتھ ہورہی نا انصافی پر افسوس ظاہر کیا اور مدد کا یقین دلایا۔ آنے والے دنوں میں لگتا ہے کہ نریندر مودی کی پریشانیاں بڑھنے والی ہیں گھٹنے والی نہیں۔
Anil Narendra, Bihar, BJP, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Nitin Gadkari, Nitish Kumar, Rath Yatra, Sanjay Joshi, Sanjeev Bhatt, Vir Arjun

18 اکتوبر 2011

اڈوانی جی کی جن چیتنا یاترا کو لگ رہے ہیں جھٹکے



Published On 18th October 2011
انل نریندر
جن چیتنا یاترا پر نکلے شری لال کرشن اڈوانی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یاترا کے آغاز میں ہیں انہیںمشکلوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ کبھی رتھ میں تکنیکی خرابی آجاتی ہے تو کبھی پل سے گذرنے میں اسے دقت آتی ہے۔ جیسے جیسے یاترا آگے بڑھتی گئی نئی نئی مصیبتیں آتی گئیں۔ پہلے مدھیہ پردیش کے ستنا میں یاترا کی اچھی کوریج کے لئے اخبار نویسوں کو لفافے میں پیسے دینے کا معاملہ بے نقاب ہوا۔ اب زمین گھوٹالے میں کرناٹک کے سابق وزیر اعلی یدی یرپا کی گرفتاری سے جن چیتنا یاترا کو جھٹکا لگا ہے کیونکہ اڈوانی جی نے اپنی جن چیتنا یاترا کا مقصد کرپشن کے اشو کو بنایا ہے۔ لہٰذا ان حالات میں پارٹی کی کرکری ہونا فطری ہے۔ بدعنوانی پر سخت رویہ اپنانے کا اشارہ دینے کے لئے پارٹی نے ستنا سے وابستہ مدھیہ پردیش کے پبلک ورکس وزیر یعنی ناگیندر سنگھ پر کڑی کارروائی کا ارادہ بنا لیا ہے۔ صاف ستھری ساکھ رکھنے والے شری اڈوانی اس واقعے سے بہت خفا ہیں۔ اڈوانی جی نے وزیراعلی شیو راج سنگھ چوہان و پردیش چوہان پربھات جھا کو اس کی گہری جانچ کے آدیش دے دئے ہیں۔ان کے غصے کی وجہ بھی ہے کہ مدھیہ پردیش میں یاترا کے دوران بھاری عوامی حمایت ملنے کے باوجود اس واقعے نے سارے جذبے پر پانی پھیردیا ہے۔ اڈوانی جی نے اپنی یاترا میں سب سے زیادہ وقت مدھیہ پردیش کے لئے دیا ہے۔ ریاست میں اس کے لئے زبردست تیاریاں کی گئی ہیں لیکن ابتدا میں ہیں ۔اس واقعے نے سارا مزہ خراب کردیا ہے۔ یاترا کی کوریج کے لئے پیسہ بانٹنے کے الزام میں کٹہرے میں کھڑے پردیش سرکار کے وزیر ناگیندر سنگھ و ممبر پارلیمنٹ گنیش سنگھ نے حالانکہ ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے لیکن اپنی ریلیوں میں لوگوں کو رشوت دینے یا لینے سے پرہیز کرنے کا بھروسہ دلا رہے اڈوانی کویہ واقعہ بےحد ناگوار گذرا ہے۔
کرناٹک کے سابق وزیر اعلی بی ایس یدی یرپا کی گرفتاری ایسے وقت ہوئی جب اڈوانی اپنی جن چیتنا یاترا پر نکلے ہوئے ہیں۔ یدی یرپا بھاجپا کے پہلے سابق وزیر اعلی ہیں جنہیں جوڈیشیل حراست میں بھیجا گیا ہے۔ کرناٹک میں لوک آیکت عدالت نے یدی یرپا کو ایسے موقع پر جیل بھیجا ہے جب اڈوانی کرپشن، کالی کمائی اور بدانتظامی اور صاف ستھری سیاست کو لیکر اپنی یاترا کررہے ہیں۔ ان کا رتھ 30 اکتوبر کو بینگلور پہنچے گا۔ ایسے میں اب شری اڈوانی سمیت بھاجپا نیتاﺅں کو یدی یروپا کے معاملے پر اٹھنے والے تلخ سوالوں سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ بھاجپا اب تک ٹو جی اسکینڈل، کامن ویلتھ گیمس اور نوٹ کے بدلے ووٹ جیسے معاملوں کی مثالیں دے کر کانگریس سمیت یوپی اے سرکار پر حملہ کرتی رہی ہے اب یدی یروپا کے جیل جانے سے کانگریس کو حملہ کرنے کا ایک اور موقعہ مل گیا ہے۔ کانگریس طویل عرصے سے کرپشن کے مسئلے پر بچاﺅ میں رہی ہے۔ اب نوٹ بانٹنے کا موقعہ اس کے لئے کارگر ثابت ہوگا۔ پارٹی نے حملہ بولنے میں کوئی دیری نہیں کی۔ پارٹی کے ترجمان ابھیشیک سنگھوی کا کہنا ہے کہ یہ مثال بھاجپا کی قول و عمل میں فرق بتاتی ہے۔ ان کے ساتھی منیش تیواری نے کہا کہ زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ اڈوانی کی کرپشن مخالف یاترا پہلے کرناٹک، اتراکھنڈ ،پنجاب سے نکالی جاتی جہاں بھاجپا کے وزیرو عہدیداران پر کرپشن کے الزامات لگے ہیں۔ بھاجپا میں اڈوانی کی اس یاترا کو لیکر پہلے سے ہی کوئی جوش نہیں تھا۔ اس واقعے کے بعد پارٹی کوجواب دینا مشکل ہورہا ہے۔ منیش تیواری نے کہا نیتاﺅں کا یہ بھی اندیشہ ہے کہ یدی یروپا کی گرفتاری کے بعد کرناٹک میں پارٹی و سرکار کا بحران بڑھ سکتا ہے۔ریاست کی سیاست میں یدی یروپا کے کٹر مخالف مانے جانے والے اننت کمار جن چیتنا یاترا کے کرتا دھرتا ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ جب تک اڈوانی جی کا رتھ کرناٹک میںداخل ہو جنوبی ہندوستان کی واحد بھاجپا سرکار کی حالت ڈانواڈول ہو رہی ہو۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Punjab, Rath Yatra, Uttara Khand, Vir Arjun

11 اکتوبر 2011

لال کرشن اڈوانی کی جن چیتنا یاترا



Published On 11th October 2011
انل نریندر
 سینئر بھاجپا لیڈر شری لال کرشن اڈوانی کی بدعنوانی مخالف جن چیتنا یاترا11 اکتوبر (یعنی آج سے) شروع ہورہی ہے۔ یہ طویل یاترا38 دنوں میں 23 ریاستوں چار مرکز کے زیر انتظام ریاستوں سے ہوکر گذرے گی۔چھ مرحلوں میں پوری ہونے والی اس یاترا کے درمیان میں دیوالی کے سبب تین دنوں کے لئے آرام ہے۔اس دوران دیش کے دور دراز علاقوں تک پہنچنے کے لئے اڈوانی جی بیچ بیچ میں ہوائی راستے کا سہارا لیں گے۔ وہ اپنی اس یاترا میں4600 کلو میٹر کا سفر طے کریں گے۔ ان کے لئے ہر بار کی طرح ایک بس کو رتھ کی شکل میں تیار کیا جارہا ہے جس میں ایک لفٹ بھی ہوگی جس سے وہ بس کے اوپر تک پہنچ کرنکڑ سبھاؤں کو خطاب کریں گے۔ وہ ہر روز تین چار بڑی ریلیوں کو بھی خطاب کریں گے۔ صبح سویرے10 بجے سے لیکر رات10 بجے تک ان کی یاترا چلے گی جس میں وہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے 6-7 گھنٹے روزانہ سفر کریں گے۔ ایتوار کو اڈوانی جی نے اپنی رہائشگاہ پر ایک الوداعی پروگرام کا انعقاد کیا ہے۔ اس میں جن چیتنا یاترا تھیم سانگ بھی 'بس اب اور نہیں' ریلیز کیا گیاتھا۔ بھاجپا کو امید ہے کہ خاص طور سے بنایا گیا یہ گانا پورے دیش میں مقبول ہوگا۔ خاص کر نوجوان طبقے میں۔ اس موقعے پر شری اڈوانی نے کہا ہم کرپشن برداشت نہیں کریں گے۔ ہم زیادہ ذیاتی بھی نہیں سہیں گے جو دیش میں آزادی کے 60 سال بعد بھی جاری ہے۔ اور ہم کالی کمائی کے مسئلے پر کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا اپنی یاترا کے ذریعے سے وہ دیش کو جگانے کی کوشش کریں گے اور یہ بتائیں گے کہ دنیا میں پہلے نمبر کا دیش بننے کے لئے بھارت کے پاس کافی مسائل اور اہلیتیں ہیں۔ سابق نائب وزیر اعظم کی رتھ یاترا کے کالے دھن کا اشو اٹھانے کے لئے بالی ووڈ گلوکار راجہ حسن نے ساڑھے چار منٹ کا گیت گا کر سنایا۔ اسے فلم پروڈیوسر منی شنکر نے تیار کیا ہے۔ اس گیت کی شروعات اور آخر میں اڈوانی جی کو کالی کمائی اور کرپشن کے اشو پر کچھ لائن کہتے سنا جاسکے گا۔ شری اڈوانی کی جن چیتنا یاتراپر کچھ تنازعہ ہونا فطری تھا۔ بھاجپا کا ایک طبقہ جو اس یاترا سے خوش نہیں ہے، کا کہنا ہے کہ اس بار رتھ یاترا نہ تو سومناتھ جائے گی اور نہ ہی ایودھیا۔ اڈوانی کا رتھ اس بار اجمیر شریف بھی جائے گا اور امرتسر بھی جائے گا۔ گودھرا کانڈ کے بعد نریندر مودی کے اہم دور میں کٹر ہندوتوواد کی لیباریٹری کی شکل میں ابھرے گجرات میں بھی اڈوانی جی کا رتھ کم گھومے گا۔ مودی کے گجرات کے بجائے شوراج چوہان کے مدھیہ پردیش میں زیادہ گھومے گا۔ مدھیہ پردیش میں اڈوانی اس لئے بھی زیادہ وقفے رہیں گے کیونکہ شوراج سنگھ چوہان نے کرپشن کے خلاف ایسے قانون بنائے ہیں جو دوسری ریاستوں کے لئے مثال بن رہے ہیں۔ اس مرتبہ کی یاترا میں کسی طرح کا کوئی فرقہ وارانہ ایجنڈا نہیں ہے۔ شاید شری اڈوانی امید رکھتے ہیں کہ کرپشن اور کالی کمائی کے اشو سے سبھی متاثر ہوں گے۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب یا فرقے یا کسی بھی برادری کا ہو۔ اس لئے انہوں نے اپنی اس یاترا کو سیکولر شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ اڈوانی جی کی جن چیتنا یاترا کا ایک مقصد آنے والے پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہیں اور 2014 میں ہونے والے لوک سبھا چناؤ تک کانگریس مخالف لہر کو برقرار رکھنے کا ہے۔ کرپشن اور کالی کمائی کے اشوز کو زندہ رکھنا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہزاروں کلو میٹر کی یاترا سے اڈوانی کے حق میں ایک ماحول بنے گا اور انہیں امید ہے کہ وہ بھاجپا کے سب سے قد آور نیتا بن کر ابھریں گے۔ باقی تو یاترا کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ جہاں تک جنتا کی حمایت کا سوال ہے جس طرح اس وقت کرپشن اور کالی کمائی نے دیش میں ماحول انا ہزارے نے بنایا ہے اس سے کہا جاسکتا ہے کہ رد عمل اچھا ہوگا۔ اس بات کی تعریف کرنی ہوگی کہ اتنی عمر ہونے کے باوجود اڈوانی جی میں آج بھی نوجوانوں جیسا جوش بھرا پڑا ہے۔ بیسٹ آف لک اڈوانی جی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, L K Advani, Rath Yatra, Vir Arjun

09 اکتوبر 2011

آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ ہیرو یا ولین


Published On 9th October 2011
انل نریندر
گجرات کے آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ پچھلے کچھ دنوں سے بحث کے موضوع بنے ہوئے ہیں۔گجرات کے یہ متنازعہ پولیس افسر جو آج کل معطل ہے دراصل ایک ہیرو ہے یا ایک ولین ۔ کانگریس کی نظروں میں تووہ ہیرو ہے سنجیو بھٹ کانگریس کے پسندیدہ بنتے جارہے ہیں۔ کانگریس کاایک طبقہ یہاں تک کہنے لگاہے کہ سنجیو بھٹ کی گرفتاری مودی حکومت کے زوال کی شروعات مانی جاسکتی ہے۔ اس طبقہ کاکہناہے کہ بدلے کے جذبہ سے بھٹ کے خلاف کی جارہی انتقامی کارروائی مودی حکومت کو بھاری پڑے گی۔ دراصل نریندرمودی کانگریس کی آنکھ میں کانٹا بنے ہوئے ہیں اور کانگریس کو ہمیشہ کوئی ایسا اشو ضرور چاہئے ہوتا ہے جس سے وہ مودی پر حملہ کرسکیں۔ کبھی مودی کے اپواس میں ایڈوانی سمیت دوسرے بڑے بھاجپا نیتاؤں کی غیرموجودگی کو ہوا دی جاتی ہے تو کبھی ایڈوانی کی گجرات سے اپنی یاترا شروع نہ کرنے کو اشو بنایا جاتا ہے۔ وزیراعظم کے عہدے کی دعوی داری کو لے کر بھاجپا میں جاری گھمسان لڑائی کوا چھالا جاتا ہے اب سنجیو بھٹ معاملے کو طول دیاجارہا ہے ۔ کہاں جارہا ہے کہ مودی حکومت کے بدلے کے جذبے سے کام کررہی ہے اور سنجیو بھٹ کو اس لئے نشانہ بنایاجارہا ہے کیونکہ وہ مودی کے خلاف کھل کر الزام لگارہے ہیں۔ بھٹ کی اہلیہ کے وزیرداخلہ پی چدمبرم کو ایک خط لکھ کرکہاہے کہ گجرات پولیس ان کے شوہر کے ساتھ دہشت گردوں کے ساتھ برتاؤ کررہی ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے ریاستی حکومت پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ وہ بھٹ کی ضمانت نہ ملنے پانے کے لئے طر ح طرح کے ہتھکنڈے اپنارہی ہے کچھ دن پہلے بھٹ کی بیوی نے شویتا نے چدمبرم کو ایک اور خط لکھا تھا جس میں اپنے شوہر کی جان کو خطرہ بتایا تھا۔
سوال یہ ہے کہ سنجیو بھٹ کیا ایک وفادار ایمان دار اور صاف ستھری ساکھ کے افسر ہے جنہیں مودی سرکار جان بوجھ کر نشانہ بنارہی ہے اور بدلہ لے رہی ہے کیونکہ انہوں نے مودی کے خلاف مہم چھیڑی ہوئی ہے یا پھر وہ ایک داغ دار افسر ہے جو اپنی سرگرمیوں کے پردہ فاش ہونے سے اس لئے حملہ کررہے ہیں تاکہ ان کے خلاف لگے الزامات سے بچا سکے۔ سنجیو بھٹ کے پولیس ریکارڈ پر اگر ہم نظر ڈالے تو پائیں گے ان پر وقتا فوقتا سنگین الزام لگتے رہے ہیں 30 اکتوبر 1990 جام نگر ضلع کے جمود پور تعلقہ میں ایک فرقہ وارانہ فساد ہوا اس میں 133 لوگوں کو گرفتارکیا گیا۔ وشنو ہندو پریشدکے پریم بربھو داس ویش نانی پکڑے جانے کے 11دن بعد پولیس حراست میں مرگئے۔ کیونکہ پولیس ان کی ضرورت سے زیادہ پٹائی کردی تھی۔ ان کے بڑے بھائی امرت لال ویش نانی نے حراست میں موت سے متعلق جو مقدمہ کیا اس میں وہ اس وقت کے بنیادی ملزم ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجیو بھٹ کوبنایا گیا تھا۔ جام نگر کے اس وقت کے ایڈیشنل سیشن جج این ٹی سولنکی نے بھٹ کے خلاف ایک گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا۔
بھٹ کے خلاف گجرات سی آئی ڈی نے سی آر پی سی کی دفعہ (9) کے تحت مقدمہ چلانے کے لئے باقاعدہ ریاستی حکومت سے اجازت مانگی تھی لیکن 1995میں مودی حکومت نے عدالت میں بھٹ کابچاؤ کیا عدالت نے یہ کیس بند کرنے کی حکومت کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ معاملہ چلانے لائق ہے اس لئے اسے بند نہیں کیاجاسکتا ہے لیکن مودی سرکارنے 1996 کی اس عرضی کو واپس لے لیا۔ اب بھی عدالتی کارروائی بھٹ کے خلاف جاری ہے سنجیو بھٹ ایک اور داغی چہرہ ہے 1995 میں وہ احمد آباد ضلع پولیس کے ایس پی تھے وہیں ایک سیشن جج آر کے جین تھے ان کی بہن کے ایک کرایہ دار تھے جن کے خلاف مقدمہ چل رہاتھا۔ لیکن کرایہ دار مقدمہ جیت گئے اور گھر خالی کرانے کے لئے سبھی قانونی راستے بند ہوگئے۔ جسٹس جین نے سنجیو بھٹ سے پھر سے گھر کسی بھی طریقے سے خالی کروانے کی اپیل کی۔ بھٹ نے کرایہ دار کوبلایا اور گھر خالی کرنے کو کہا اس نے کہاکہ اگر اس نے گھر خالی نہیں کیاتو اسے نتیجہ بھگتنے ہوں گے پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ سنجیو بھٹ نے کرایہ دار کے گھر پر منشیات رکھوا کر اسے گرفتار کروادیا او رگرفتار ہوتے ہی زبردستی گھر خالی کرالیا بعد میں یہ ضلع جج کی عدالت میں کرایہ دار نے دعوی پیش کیا تو اس میں سنجیو بھٹ کو پارٹی بنایا گیا۔سنجیو بھٹ کے خلاف ایک لاکھ پچاس ہزار کا جرمانہ لگا جس کی ادائیگی آپ کو سن کر تعجب ہوگا کہ ریاستی حکومت نے کی اور وہ پیسہ ان کی تنخواہ قسطوں میں کٹتا رہا۔ اس معطل آئی پی ایس افسر کی مودی سرکار سے دشمنی اور اسکے مخالفوں سے سانٹھ کانٹھ پرانی ہے ایسی کئی مثالیں ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کانگریس سنجیو بھٹ کو مودی سرکار اور وہ خود وزیراعلی کے خلاف اکساتی رہی ہے اور اکساتی رہے ہیں سنجیو بھٹ کاریکارڈ عدالتوں کے سامنے ہے اور ہوسکتاہے کہ اگلی اسمبلی چناؤ وہ امیدوار بنے اور اب آپ خودفیصلہ کرلیں۔ سنجیو بھٹ ایک ایماندار اور صاف ستھری ساکھ کے شخص ہے جسے مودی سرکار جان بوجھ کر نشانہ بنارہے ہیں یا پھر وہ کانگریسی شطرنجی چال میں ایک مہرہ بنے ہوئے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, P. Chidambaram, Sajeev Bhatt, Vir Arjun

05 اکتوبر 2011

سونیا کو بلا تاخیر حکومت اور پارٹی کو صحیح لائن پر لانا ہوگا



Published On 5th October 2011
انل نریندر
ایتوار کو ہر کانگریسی نے راحت کی سانس لی ہوگی جب مہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری کی جینتی پر تقریباً دو مہینے کے بعد محترمہ سونیا گاندھی کو دیکھا ہوگا۔ بیرون ملک میں سرجری کرانے کے بعد پہلی بار انہوں نے کسی عوامی پروگرام شرکت کی۔ خیال رہے وہ ماہ ستمبر میں ہندوستان لوٹ آئیں تھیں لیکن میڈیا کے سامنے ابھی تک مخاطب نہیں ہوئیں تھیں۔ ان کی صحت کو لیکر میڈیا میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں لگائی جاتی رہی ہیں۔ دیکھنے میں سونیا گاندھی ٹھیک ٹھاک لگ رہی تھیں ، تھوڑی کمزور ضرور لگیں لیکن کل ملاکر پہلے کی طرح ان میں خود اعتمادی دکھائی دے رہی تھی۔ لال کرشن اڈوانی سمیت کئی لیڈروں نے ان کی صحتیابی کے بارے میں پوچھا۔ پھر سونیا پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں مہاتما گاندھی اور سورگیہ وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی تصویر پر گلہائے عقیدت پیش کرنے کے پروگرام میں انہوں نے حصہ لیا۔ قریب15 منٹ چلی اس تقریب میں کئی نیتا ان کی طبیعت معلوم کرنے کے لئے پہنچے تھے۔ اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے سونیا سے پوچھا اب آپ نے اپنی پوری ذمہ داریاں نبھانی شروع کردی ہیں؟ سونیا نے ہنستے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جواب دیا ہاں۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان راشد علوی نے کہا محترمہ گاندھی پوری طرح سے تندرست ہیں اور 2014ء کا اگلا لوک سبھا چناؤ بھی انہی کی رہنمائی میں لڑا جائے گا۔ سونیا گاندھی نے اب پوری طرح سے فورم میں آکر پارٹی متعلق ذمہ داریوں کو نبھانا شروع کردیا ہے۔ جمعرات کو پارٹی کے دو سینئر وزراء کے درمیان پیدا تنازعے جیسے قومی مسئلے کو سلجھانے کے بعد وہ پوری طرح سے ریاستی اور علاقائی معاملوں میں سرگرم ہوگئی ہیں۔ سونیا مہاراشٹر، راجستھان، تلنگانہ کے معاملوں پر حکومت اور پارٹی کے پروگراموں سے روبرو ہوئیں۔ سب سے پہلے ان کی ملاقات مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان، پارٹی کے مہاراشٹر یونٹ کے پردھان منک راؤ گاوت سے ہوئی۔ اس کے بعد سونیا نے راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت سے بھی ملاقات کی۔ بھانوری دیوی معاملے میں اور بھرت پور دنگوں کے بارے میں کی گئی کارروائی سے وزیر اعلی سے تفصیلات حاصل کی ہیں۔
سونیا کے لئے سب سے بڑی چنوتی کانگریس میں چل رہی رسہ کشی حکومت کی گرتی ساکھ کو سنبھالنا ہوگا۔ مرکز میں اقتدار میں رہنے کے باوجود کانگریس اور حکومت ان دنوں اپنے سب سے برے دور سے گذر رہی ہے۔ مرکز کے علاوہ اس کی ریاستی حکومتیں بھی سنگین بحران سے گھری ہوئی ہیں اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے سونیا کے علاوہ شاید ہی اور کوئی انہیں سلجھا سکے اور پارٹی کی نیا کو پار لگا سکے۔کانگریس کی125 سالہ تاریخ میں پہلی بار ہے کہ ان کے زیادہ تر نیتا تنازعوں اور کرپشن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مرکزی حکومت کی مقبولیت اپنے سب سے نچلے سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ریاستوں میں بھی پارٹی کی صحت تسلی بخش نہیں ہے۔ کانگریس کا سب سے مضبوط گڑھ آندھرا پردیش ان دنوں مرکزی حکومت کی طرح سب سے بری حالت میں ہے۔ الگ تلنگانہ کی تشکیل کو لیکر اس کی مکمل اکثریت والی کرن ریڈی حکومت نے دو گروپ ہونے کے دہانے پر ہے۔ راجستھان میں اشوک گہلوت سرکار بھی برے دور سے گذر رہی ہے۔ خود وزیراعلی گہلوت اور ان کے رشتے داروں پر زمین الاٹمنٹ میں دھاندلی کے الزام لگ رہے ہیں۔ ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات ہورہے ہیں جس کے چلتے نریندر مودی کے خلاف کانگریس کی جارحانہ دھار کچھ تیز ہورہی ہے۔ ساتھ ہی پارٹی کی سیکولر ساکھ بھی داغدار ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بھنوری دیوی کا پتہ نہیں چل رہا ہے۔ سرکار کے سینئر وزیر مہیپال مردگنا سیدھے کٹہرے میں ہیں۔ دہلی میں شیلا دیکشت سرکار بھی مرکزی حکومت کی طرح بھاری ناراضگی سے دوچار ہے۔ کامن ویلتھ گھوٹالوں کے علاوہ مہنگائی کی مار نے دہلی کی کانگریس سرکار کو جنتا کا دشمن نمبر ون بنا دیا ہے۔ ہریانہ سرکار کے لئے اروند کیجریوال سردرد بنے ہوئے ہیں۔ انا ہزارے اپنا پہلا تجربہ حصار پارلیمانی سیٹ پر ہونے والے ضمنی چناؤ سے کررہے ہیں۔ سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے پر بھی وہ سروے کرارہے ہیں۔ گووا سے بھی کان گھوٹالے کی خبروں میں دہلی میں بیٹھے آقاؤں کا درد سر بڑھا دیا ہے۔مرکز کا تو بہت برا حال ہے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بعد خود وزیر اعظم ٹو جی گھوٹالے کی جانچ کی رپورٹ میں شامل ہیں۔ کل ملاکر سرکاراور پارٹی کے سامنے کئی چنوتیاں اور مسائل ہیں جنہیں سونیا گاندھی کو سلجھانا ہوگا۔ میڈم خود بھی ان حالات سے دکھی ہوں گی۔ بھگوان انہیں اچھی صحت بخشے اور وہ ان منہ پھاڑتی چنوتیوں کا ہمت اور حوصلے اور صبر سے مقابلہ کرسکیں۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, L K Advani, Mahatma Gandhi, Rajassthan, Sonia Gandhi, Vir Arjun

02 اکتوبر 2011

اڈوانی اور نریندر مودی میں ٹکراؤ بڑھ رہا ہے



Published On 2nd October 2011
انل نریندر
منموہن سنگھ کی کیبنٹ میں اندرونی رسہ کشی اور ٹکراؤ کا الزام لگانے والی بھاجپا بھی خود ایسی صورتحال سے دوچار ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی دو روزہ قومی ایگزیکٹو کی میٹنگ میں پارٹی صدر نتن گڈکری کی اپیل کے باوجود گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی سمیت کرناٹک اور اتراکھنڈ کے سابق وزراء اعلی بی ایس یدی یرپا اور رمیش پوکھریال نشنک میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔ بھاجپا پردھان نتن گڈکری نے حالانکہ یہ کہا کہ پارٹی کوشش کررہی ہے کہ مودی میٹنگ میں شامل ہو جائیں۔ کچھ ہی لوگ شاید اس دلیل کو مانیں گے کے مودی نوراتری کا برت رکھ رہے ہیں اس لئے وہ میٹنگ میں نہیں آ پائے۔ اصلی وجہ کچھ وار ہی ہے8 ستمبر کو پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے اچانک مل گیر رتھ یاترا کرنے کا اعلان کردیا۔ اس سے بھاجپا لیڈر شپ بھی حیران رہ گئی۔ اس اعلان کے ساتھ ہی چترماس لگنے لگے کے اڈوانی کی اس رتھ یاترا کا مطلب ایک بار پھر پی ایم ان ویٹنگ کا پیغام دینا ہے۔ آر ایس ایس نے 2009ء کے چناؤ میں ہار کے بعد شری اڈوانی کو پیچھے کرکے نمبر دو کے لیڈروں کو آگے کرنے کی اسکیم بنائی۔ اس میں نریندر مودی سشما سوراج ، ارون جیٹلی اور خود نتن گڈکری شامل تھے۔ لیکن اڈوانی کی اچانک رتھ یاترا کے اعلان نے یہ سارے تجزیئے بگاڑ دئے۔ اڈوانی کی یاترا کا سب سے زیادہ جھٹکا گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو لگا ہے۔ طویل عرصے تک ان کی پہچان اڈوانی کے خاص سپہ سالار کی شکل میں ہورہی تھی لیکن اب مودی بڑے استاد بن گئے ہیں۔ کچھ معنوں میں وہ اپنے آپ کو پارٹی سے اوپر سمجھنے لگے ہیں۔ بھاجپا کے ذرائع کے مطابق بھاجپا میں وزیر اعظم کے عہدے کے ان دو امکانی دعویداروں مودی اور اڈوانی کے درمیان ٹکراؤ بڑھتا جارہا ہے۔ اڈوانی کی مجوزہ رتھ یاترا مودی کو راس نہیں آرہی ہے۔ اسی کے چلتے انہوں نے بھی اڈوانی کی طرز پر پچھلے دنوں احمد آباد میں ایک بڑا سیاسی شو کرڈالا تھا۔ گورنر کے خلاف حال ہی میں گجرات میں منعقدہ مودی کی ریلی میں اڈوانی سمیت کسی بڑے نیتا نے شرکت نہیں کی تھی۔ احمد آباد میں مودی اپواس کا جس طرح سے پروپگنڈہ کیا گیا اس سے پارٹی کی سینئر لیڈر شپ خوش نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مودی خود کو بھاجپا کی طرف سے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ ادھر آر ایس ایس نے اڈوانی پر دباؤ ڈالا کہ وہ یہ صاف کردیں کہ ان کی یاترا کا ان کی وزیر اعظم کی امیدواری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سنگھ کے ناگپور میں واقع ہیڈ کوارٹر میں آر ایس ایس کی لیڈر شپ سے ملاقات کے بعد مسٹر اڈوانی نے اعلان کیا تھا کہ وزیر اعظم کے عہدے کی امیدواری کو لیکر وہ یہ یاترا نہیں کررہے۔ سب سے پہلے مودی نے ہی ان کی یاترا کی مخالفت کی تھی۔ ذرائع کے مطابق جب اڈوانی نے ان سے اس یاترا کے بارے میں بات کی تو مودی نے اپنی عادت کے مطابق ان سے دو ٹوک پوچھ لیا کے اس سے کیا فائدہ؟ آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اتنا ہی نہیں مودی نے گجرات میں یاترا شروع کرنے میں مدد کرنے معذوری ظاہر کردی۔ آخر کار مسٹر اڈوانی نے اپنی یاترا بہار سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے پیچھے ایک اور مقصد بھی نظر آتا ہے ۔ شاید اڈوانی جی این ڈی اے کی طرز پر سیاست کو بڑھا وا دینا چاہتے ہیں۔ پہلے بھی انہوں نے محمد علی جناح کی تعریف کرکے اسی لائن پرچلنے کی کوشش کی تھی جس پر اٹل جی چلتے تھے۔ اڈوانی جی کی کوشش ہے کہ وہ این ڈی اے کی طرز پر پھر سے مرکز میں سرکار بنائیں اور اس کی قیادت کریں۔ اس مقصد کو نہ تو آر ایس ایس حمایت کرے گا اور نہ ہی مودی جیسے تلخ لیڈر۔ جن کی پہچان ہندوتو لیڈر کی ہے۔ مسٹر اڈوانی کی مجوزہ یاترا کو لیکر جو تنازعہ کھڑا ہوا ہے یہ رکنے والا نہیں۔ بھاجپا لیڈر شپ میں اس وقت زبردست ٹکراؤ ہے اور اس رتھ یاترا نے فوکس میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔ ادھر کانگریس لیڈر شپ میں گھماسان ہو رہا ہے۔ رہی سہی کثر بھاجپا کی اندرونی رسہ کشی نے پوری کردی ہے۔
Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Daily Pratap, L K Advani, Narender Modi, Nishank, Nitin Gadkari, Sushma Swaraj, Vir Arjun, Yadyurappa

21 ستمبر 2011

مودی کے سدبھاونا مشن پر ’’ٹوپی‘‘ پہنانے کی کوشش



Published On 21th September 2011
انل نریندر
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کا تین روزہ انشن پیر کو ختم ہوگیا۔ گجرات یونیورسٹی کے کنونشن ہال میں تین دنوں کے لئے سدبھاونا برت پر بیٹھے مودی نے پیر کی شام 6:15 بجے دھرم گوروؤں کے ہاتھوں لیموں پانی پی کر انشن ختم کردیا۔ نریندر مودی کے اپواس کو جس طرح سے پارٹی کے اندر سے لیکر پورے دیش میں حمایت ملی ہے اس سے صاف ہے کہ لال کرشن اڈوانی کے بعد وہ بھاجپا کے سب سے بڑے لیڈربن کر ابھرے ہیں۔ حالانکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے مودی اب بھاجپا کی جانب سے اگلے وزیر اعظم بننے کے سب سے قد آور نیتا بن گئے ہیں اور شری مودی نے اپنی خواہش بھی نہیں چھپائی۔ وزیراعظم بننے کی خواہش کھل کر ظاہر کئے بغیر مودی نے سنیچر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک نیا نعرہ دیا ۔’’سب کا ساتھ ۔سب کا وکاس‘‘ اگلے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی پرچار کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اپنا اپواس توڑنے کے ساتھ ہی نریندر مودی نے گجرات میں چناؤ سے ایک سال پہلے ہی اپنی مہم کا رتھ شروع کردیا ہے۔ تین دن کے اپواس کے بعد گجرات کے سبھی 26 ضلعوں میں باری باری سے سارا دن اپواس پر بیٹھنے کے پلان کے ساتھ نریندر مودی نے اب بڑے مشن کا بھی شری گنیش کردیا ہے۔منفی سیاست کے مقابلے ترقی کے مورچے پر خوشحالی رپورٹ کارڈ کی بدولت آگے بڑھنے کے ایجنڈے کو بھی مودی نے دیش کے سامنے رکھ دیا۔ اتنا ہی نہیں اپواس کے تینوں دنوں میں وزیر اعظم کے عہدے پر اپنی دعویداری کی ہوا بنا کر گجراتیوں کے وقار کی شکل میں بھی خود کو ابھارا ہے۔ ساتھ ہی سدبھاونا مشن کے سہارے ایک پاؤں مسلموں کی طرف بڑھایا لیکن کہیں بھی اپنی بنیادی طاقت ہندوتو کی زمین نہیں چھوٹنے دی۔ احمد آباد شہر کے پاس واقع پیرانا گاؤں میں ایک چھوٹی سی درگاہ کے شاہی امام مولانا سید نے ایتوار کو مودی کے اپواس کی جگہ اسٹیج پر جاکر ان سے ملاقات کی تھی۔ مولانا نے مودی کو ایک ٹوپی پہننے کی پیشکش کی لیکن وزیر اعلی نے بڑی معذوری سے ٹوپی پہننے سے منع کردیا اور اس کے بجائے شال اڑھانے کو کہا۔ امام نے مودی کو شال اڑھایا جسے انہوں نے منظور کرلیا۔ نریندر مودی نے بغیر کسی پر الزام لگائے اور حملے کئے اور خود پر لگنے والے فرقہ وارانہ الزامات کا جواب گجرات میں ترقی اور امن کے ریکارڈ کے ساتھ دیا۔ مودی نے صاف کہا کہ لیڈر شپ کی کسوٹی ایکشن پر منحصر کرتی ہے۔ آج ہم نے دنیا کو دکھا دیا کہ یہ راستہ ہے سب کو جوڑ کر، سب کو ساتھ لیکرچلنے کا۔ جب تک ووٹ بینک کی سیاست سے اٹھ کر ترقی کی سیاست نہیں اپناتے تب تک بھارت اوپر نہیں اٹھ پائے گا۔ اسی کڑی میں گجرات کے وزیر اعلی نے ہی سچر کمیٹی کے ساتھ کچھ سال پہلے ہوئی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میری سرکار اقلیتوں یا اکثریتوں کے لئے کچھ نہیں کرتی میری سرکار چھ کروڑ گجراتیوں کے لئے کام کرتی ہے۔ میں ہر چیز کو اکثریتی یا اقلیتی میں نہیں تولتا۔ میرے ساتھ میری ریاست کے شہری سبھی ایک ہیں۔
مودی کے اپواس ختم ہونے کے دن پیر کے روز بھاجپا نے زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اب کانگریس کی باری ہے۔ مودی کے اپواس کے خلاف گاندھی آشرم کے سامنے جوابی انشن پر بیٹھے کانگریس لیڈر شنکر سنگھ واگھیلا نے منگل کی صبح اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی۔ کانگریس کے مرکزی عہدیدار کی شکل میں گجرات کانگریس کے انچارج موہن پرکاش نے مودی سرکار پر جم کر حملہ بولا۔ گجرات سرکار پر برستے ہوئے موہن پرکاش نے کہا کہ 100 کروڑ روپے قرض لیکر نریندر مودی کونسی سدبھاونا دکھانا چاہتے ہیں۔ موہن پرکاش نے کہا مودی سرکار بدعنوانی میں انتہا تک ڈوبی ہوئی ہے۔ کیگ کی رپورٹ میں گجرات سرکار کا کرپشن پوری طرح اجاگر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کانگریس مودی سرکار کے بھرشٹاچار کو اجاگر کرنے کیلئے جنتا کی عدالت میں جائے گی۔ واگھیلا نے کہا اخباروں میں بڑے بڑے اشتہار دیکر اپواس نہیں کیا جاتا۔ مودی کا اپواس محض ایک دکھاوا ہے اور ایک سیاسی تکڑم بازی ہے۔ واگھیلا الزام لگایا کہ مودی نے پہلے 72 گھنٹے کے اپواس کا اعلان کیا تھا لیکن 55 گھنٹوں میں ہی انہوں نے انشن توڑدیا۔ کل ملاکر دیکھا جائے تو نریندر مودی کا یہ سیاسی انشن ویسے تو کامیاب رہا۔ جہاں تک اس کے ہندوستانی سیاست میں اثر کا سوال ہے وہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
Anil Narendra, BJP, CAG, Congress, Corruption, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Vir Arjun

15 ستمبر 2011

کیااڈوانی کی مجوزہ یاترا ایک ماسٹر سٹروک ہوگا



Published On 15th September 2011
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر83 سالہ شری لال کرشن اڈوانی ایک مرتبہ پھر رتھ یاترا پر نکلیں گے۔ انہوں نے یوپی اے سرکار کے اقتدار میں رہنے کا جواز کھو دینے اور اس کا جن آدیش ختم ہوجانے کا دعوی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اس کرپٹ حکومت کے خلاف نومبر سے پہلے ملک بھر میں رتھ یاترا کریں گے۔ ووٹ کے بدلے نوٹ جس طرح سے اس حکومت نے بربادکیا ہے اس کا بھی جنتا میں وہ رتھ یاترا کے دوران پردہ فاش کریں گے۔ بھاجپا کور گروپ کی میٹنگ میں مجوزہ رتھ یاترا پر غور و خوض ہوا۔ یاترا کے دوران تقریباً 6 ہزار کلو میٹر کا سفر طے کیا جاسکتا ہے۔ اڈوانی جی کا نظریہ ہے کہ یاترا کا زور صاف ستھری سیاست اور بہتر انتظامیہ پر ہونا چاہئے جبکہ کچھ بھاجپا نیتاؤں کا نظریہ ہے کہ اسے کرپشن مخالف یاترا ہونا چاہئے کیونکہ پورے دیش میں بدعنوانی کا اشو مرکز بنا ہوا ہے۔پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اور اترپردیش جیسی ریاستوں کے کچھ لیڈر چاہتے ہیں کہ یاترا ان ریاستوں سے ہوکر ضرور گذرے کیونکہ ان ریاستوں میں اگلے سال چناؤ ہونے والے ہیں۔ وہیں کچھ لیڈر اس نظریئے سے متفق نہیں نظر آتے۔
اڈوانی جی کی اس مجوزہ یاترا کی حمایت اور تنقید دونوں ہی ہو رہی ہیں۔ پہلے تنقید کی بات کرتے ہیں۔ انا ہزارے اور ان کی ٹیم محسوس کرتی ہے کہ یہ یاترا ان کی تحریک کی اہمیت کم کرنے کے لئے کی جارہی ہے۔ انا نے خود یاترا کو دکھاوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تب تک بھاجپا کی حمایت نہیں کریں گے جب تک وہ پارلیمنٹ میں جن لوکپال بل کی حمایت نہیں کرتی۔ اس کی ریاستی حکومتیں لوکپال کی تقرری کا قانون نہیں بناتیں۔ انا نے ٹی وی چینلوں سے کہا کہ اگر کرپشن کے اشو پر اڈوانی سنجیدہ ہیں تو یاترا کرنے کے بجائے انہیں بھاجپا حکمراں سبھی ریاستوں میں لوک آیکت کی تقرری کے لئے قانون بنانے کو کہنا چاہئے۔ گذشتہ دنوں رالے گن سدھی میں انا کی ٹیم کی ایک اہم میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں میدھا پاٹیکر نے جم کر اڈوانی کی رتھ یاترا کی مخالفت کی ہے۔پاٹیکر نے صاف کہا کہ اڈوانی کی رتھ یاتراکو کسی بھی حالت میں انا ہزارے کی حمایت نہیں ملنی چاہئے۔میدھا پاٹیکر نے آگاہ کیا کہ یہ ایک سیاسی یاترا ہے، جس کا مقصد سیاسی ہے۔ سماجی بھلائی یا کرپشن کو دور کرنا نہیں ہے۔ جہاں تک کانگریس پارٹی کے رد عمل کا سوال ہے وہ اس سے ناخوش ہے۔ ایک نیتا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ اڈوانی کا ماسٹر سٹروک ہے۔ انا ہزارے کی تحریک کے ٹھیک بعد مرد آہن کہے جانے والے بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا، عدالت عظمیٰ کے ذریعے نریندر مودی کو دی گئی راحت اور وسط مدتی چناؤ کی افواہوں نے کانگریس کے کان کھڑے کردئے ہیں۔ کرپشن کے اشو پر سرکار دباؤ میں ہے۔ پہلے گاندھی وادی انا ہزارے اور اس کے بعد بھاجپا نیتا ایل کے اڈوانی نے کرپشن کے مسئلے پر ایک رتھ یاترا کی بات کہہ کر حکومت اور کانگریس تنظیم دونوں کے لئے مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ کانگریس کو اصلی فکر آنے والے مہینوں میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کی ہے۔ ان میں سب سے اہم اترپردیش ریاست ہے۔ پنجاب اور اتراکھنڈ میں بھی کانگریس اس مرتبہ سرکار کی امیدیں لگائے ہوئے ہے۔ کانگریس کو بڑی پریشانی یہ ہے کہ انا کی تحریک سے جنتا میں یہ پیغام گیا ہے کہ سرکار اور تنظیم ان کو لیکر سنجیدہ نہیں ہے اور یہ پارٹی کے ماتھے پرشکن ڈالنے کے لئے کافی ہے۔ پارٹی کو یہ فکر بھی ستا رہی ہے کہیں انا کی بوئی فصل کو کاٹنے کیلئے اڈوانی نے جو ماسٹر سٹروک کھیلا ہے وہ کامیاب نہ ہوجائے؟ حکومت کے لئے اور کانگریس کے لئے پریشانی میں ڈالنے والے اڈوانی اکیلے نہیں ہے۔ ادھرانا ہزارے بھی گاؤں گاؤں گھومنے کی اسکیم بنا رہے ہیں۔ یوگ گورو بابا رام دیو بھی حکومت سے خفا بیٹھے ہیں اور نئے سرے سے یاترا کرنے جارہے ہیں۔ تینوں کی یاترائیں کرپشن کے اشو پر ہیں، ایسے میں کرپشن کا اشو نہ صرف اسمبلی انتخابات تک زندہ رہے گا بلکہ اگر ان انتخابات میں کانگریس ہار جاتی ہے تو 2014ء میں ہونے والے عام چناؤپر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ اڈوانی جی بھی یہ ہی چاہتے ہیں سرکار اور پارٹی دونوں پر دباؤ بنا رہے ہیں۔ اڈوانی جی کی اس رتھ یاترا سے بھاجپا کی دوسری صف کے نیتا اندر خانے خوش نہیں ہیں انہیں لگتا ہے اگر2014 ء میں بھاجپا لیڈر شپ والے این ڈی اے کو اقتدار مل جاتا ہے تو ان کا وزیراعظم بننے کا خواب پورا نہیں ہوگا اور اڈوانی بھاجپا کے نمبر ون پسندیدہ شخص ہوں گے جبکہ بھاجپا ورکر اس یاترا سے خوش ہیں اور گرمجوشی سے اس کا استقبال کرے گا۔ یاترا کے دوران ورکر سرگرم ہوجائے گا جو اڈوانی کا ایک مقصد بھی ہے لیکن پارٹی کے اندر رام جیٹھ ملانی جیسے لیڈر بھی موجود ہیں جو یاترا شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی ہوا نکالنے میں لگے ہوئے ہیں۔ تہاڑ جیل میں بند امر سنگھ کی پیروی کررہے رام جیٹھ ملانی نے پیر کے روز تیس ہزاری عدالت میں کہا کیونکہ یہ اسٹنگ آپریشن بھاجپا نے کرایا تھا اس لئے ممبران کو دئے گئے پیسے کا انتظام بھی اسی نے کیا ہوگا۔جیٹھ ملانی پہلے بھی بھاجپا کے لئے اس طرح کی دقتیں پیدا کرتے رہے ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں ایک طرف بھاجپا یوپی حکومت کے خلاف مورچہ کھولے ہوئے ہے تو دوسری طرف جیٹھ ملانی تہاڑ جیل میں بندڈی ایم کے کی راجیہ سبھا ممبر کنی موجھی کی پیروی بھی کررہے تھے۔
ایک طرف تو اڈوانی اس مسئلے کو لیکر سڑکوں پر اترنے کا اعلان کرتے ہیں تو دوسری طرف انہیں کی پارٹی کا ممبر یہ الزام لگا تا ہے کہ ووٹ کے بدلے نوٹ معاملے میں پیسہ بھاجپا نے ہی دیا ہوگا۔ جیٹھ ملانی کی یہ دلیلیں اڈوانی کی یاترا کی دھار کو کمزور کرسکتی ہیں کیونکہ نوٹ کے بدلے ووٹ معاملے میں بھاجپا شروع سے ہی کانگریس یوپی اے سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کرتی رہی ہے۔ تہاڑ جیل میں بند اپنے دو سابق ممبران کو بھاجپا ’’وسل بلوور‘‘ بتاتی رہی ہے اور اڈوانی اس معاملے میں کہہ چکے ہیں کہ وہ جیل جانے کو تیار ہیں۔ البتہ مجوزہ رتھ یاترا کا مرکزی نکتہ تو رام مندر ہے اور نہ ہی ہندوتو بلکہ بدانتظامی اور صاف ستھری سیاست کے اشو کو لیکر ہے اور یہ اشو سبھی طبقوں ،مذاہب ،فرقوں کو پسند آئے گا۔ آخر اس یاترا کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس کی دو وجوہات نظر آتی ہیں ایک کے بعد ایک گھوٹالوں نے یوپی اے حکومت کو دفاع میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔ پھر انا کی تحریک نے اسے گھر گھر کا موضوع بنا دیا ہے۔ سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے بھاجپا کو لگتا ہے کہ اس ماحول کا سب سے زیادہ فائدہ اسی کو مل سکتا ہے۔ دوسرے ووٹ کے بدلے نوٹ کانڈ میں دہلی پولیس کی کارروائی نے بھاجپا کی بے چینی بڑھا دی ہے۔ اس کے دو سابق ممبران کو عدالت نے تہاڑ بھیج دیا ہے۔ پھر عدالت نے اس معاملے میں اڈوانی کے قریبی رہے سدھیندر کلکرنی کو نوٹس دیا ہوا ہے اور دہلی پولیس نے بھاجپا کے ایک موجودہ ایم پی کے خلاف کارروائی کے لئے لوک سبھا اسپیکر سے اجازت مانگی ہے جبکہ بھاجپا کا دعوی ہے کہ ان کے جن لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے وہ اصل میں تو خریدوفروخت کے ذریعے اکثریت حاصل کرنے کیلئے کانگریس کی سازش کو بے نقاب کرنے میں جٹے ہوئے تھے۔
بھاجپا لیڈرشپ کو یہ محسوس ہوا ہوگا کہ اگر پارٹی اس معاملے میں چپ بیٹھ گئی تو اسے کافی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اب اپنی سیاسی زندگی کے غروب ہونے کے دہانے پر کھڑے انہیں سینئر عہدے پر پہنچنے کیلئے ایک موقعہ ضرور نظر آرہا ہے۔ اس کے لئے انہیں اپنی پارٹی کو دوبارہ سے زندہ کرنے اور اس میں اصلاح کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ اڈوانی جی کے لئے سب سے بڑی چنوتی شاید یہ رہے گی کہ وہ بھارت کی جنتا میں یہ بھروسہ پیدا کریں کہ واقعی وہ کرپشن کے خلاف ہے اور وہ پوری ایمانداری سے کرپشن کو دور کرنے کیلئے حمایتی ہے۔ بیشک کچھ داغی لیڈروں کو حال ہی میں ہٹایا گیا ہے لیکن ابھی’’ تھیلی‘‘ لینے والے نیتا پارٹی میں موجود ہیں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اڈوانی جیسی صاف ستھری ساکھ والے نیتا بھاجپا میں ضرور ہیں لیکن داغی بھی موجود ہیں۔ اڈوانی جی کو سب سے زیادہ خطرہ اندر سے ہے باہر سے نہیں۔
Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, Corruption, Daily Pratap, L K Advani, Rath Yatra, Vir Arjun

14 ستمبر 2011

نریندرمودی کی اگنی پریکشا



Published On 14th September 2011
انل نریندر
گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی کے سیاسی حریفوں کو بہت امیدتھی کہ سپریم کورٹ پیر کے روز مودی کو2002 کے گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے دنگوں پرمقدمے میں لپیٹ لے گی اور انہیں کٹہرے میں کھڑا کردے گی۔ وزیر اعلی نریند مودی اور یگر 62 افسران پر الزام لگایاگیا تھا انہوں نے2002ء میں ہوئے گلبرگ سوسائٹی فسادات کو روکنے کیلئے جان بوجھ کر کوئی قدم نہیں اٹھایا اور تشدد کو فروغ دیا۔ لیکن مودی کو نیچا دکھانے کی کوشش کررہے ان کے حریفوں کو سپریم کورٹ سے مایوسی ہاتھ لگی۔ بڑی عدالت نے دنگا روکنے میں ان کے کردار میں لاپرواہی پر کوئی فیصلہ سنانے سے انکارکردیا۔جسٹس ڈی کے جین کی سربراہی والی تین ججوں کی ڈویژن بنچ نے مودی اور دیگر سرکاری افسران کے خلاف مقدمہ درج کرانے کیلئے کوئی بھی خاص ہدایت دینے سے انکارکردیا۔مودی اور ان سرکار حکام کو سابق کانگریس ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ کے ذریعے شکایت میں بتایا گیا تھا جعفری کی احمد آباد فسادات میں گلبرگ سوسائٹی قتل عام میں جان چلی گئی تھی۔ جسٹس پی سداشیورام اور جسٹس آفتاب عالم کی بنچ نے بڑی عدالت کے حکم پر اسپیشل جانچ عدالت (ایس آئی ٹیٌ) کے ذریعے جانچ کی انترم رپورٹ مجسٹریٹ کے سامنے داخل کرنے کو کہا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی جانچ کے لئے مخصوص اسپیشل جانچ کمیٹی یعنی ایس آئی ٹی کو ہدایت دی کہ وہ اپنی رپورٹ گجرات کی نچلی عدالت کو سونپے۔ یعنی اب نچلی عدالت یہ طے کرے گی کہ گجرات دنگوں میں وزیر اعلی نریندر مودی کے خلاف معاملہ بنتا ہے یا نہیں؟ فیصلے پر اپنے اپنے ڈھنگ سے رد عمل سامنے آیا ہے۔ اس فساد میں مارے گئے احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری نے عدالت کے اس فیصلے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بیحد مایوس کن ہے۔ میرے پاس ایک بار پھر اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ 2002ء میں جو بھی کچھ ہوا تھا اس کے بارے میں تفصیل میں نے ایس آئی ٹی کو دے دی تھی۔ اتنے برسوں کے بعد ایک ہی حقیقت کو میں کب تک دوہراؤں گی؟ ذکیہ جعفری کا کہنا ہے کہ ریاست کی عدالت کو اس معاملے کو سونپ دئے جانے کا مطلب یہ ہی ہے کہ نریندر مودی کے حق میں فیصلہ آئے گا۔ حالانکہ سماجی ورکر اور نریندر مودی کی کٹر حریف تستا سیتل واد نے کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا اس فیصلے کو کلین چٹ کی شکل میں نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا یہ لڑائی بہت لمبی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا غلط مطلب نکالا جارہا ہے۔ اب ہماری عرضی ایس آئی ٹی کی رپورٹ اور راجو رامچندر کی رپورٹ گجرات کے مجسٹریٹ دیکھیں گے۔ ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ نریندر مودی اور دیگر لوگوں کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے ۔ اگر مودی یا کسی اور کے خلاف معاملہ بند ہونے کی بات ہوتی تو ذکیہ جی اور ہماری دلیل سنی جائے گی۔ ہمیں بھروسہ ہے کہ گجرات کی عدالت اس معاملے میں جائز فیصلہ سنائے گی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نریندر مودی نے محض تین لفظوں میں اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ ’’ایشور مہان ہے‘‘ بھاجپا نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا پارٹی کو یقین تھا کہ مودی کو بدنام کرنے کی مہم زیادہ دن تک ٹک نہیں پائے گی۔ پارٹی کے ترجمان پرکاش جاویڈکر نے مسکراتے ہوئے کہا ’’مودی سے نفرت کرنے والوں اور انہیں نشانہ کی تاک میں رہنے والوں کی موجودہ حالات میں سمجھ سکتا ہوں۔ قانون نے وہ راستہ اپنایا ہے جو بالکل صحیح ہے۔ ‘‘کانگریس نے اس مسئلے پر بہت ہی سوجھ بوجھ والا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے مودی کو کلین چٹ نہیں دی ہے۔ ترجمان شاہد علوی نے کہا ’’اس سے مایوسی کی کوئی بات نہیں ہے ۔ نریندر مودی کو کلین چٹ تھوڑے ہی ملی ہے؟ ہماری قانونی کارروائی میں اصلاح کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ذکیہ جی اور ان کے خاندان کے لئے میں ہمدردی جتانا چاہوں گا‘‘۔
 Anil Narendra, Arun Jaitli, Godhra, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Supreme Court, Sushma Swaraj

01 جولائی 2011

بھاجپا کے اسمبلی ضمنی چناؤ میں کامیابی کے اسباب


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 1st July 2011
انل نریندر
دو ریاستوں میں ہوئے اسمبلی ضمنی چناؤ میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے دونوں سیٹوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ مدھیہ پردیش کی جبیڑا سیٹ پر بھاجپا کے امیدوار دشرت لودھی نے کانگریس کی ڈاکٹر تانیہ سالومن کو 11738 ووٹوں کے فرق سے ہرایا۔ بھاجپا نے یہ سیٹ کانگریس سے چھینی ہے۔ ادھر بہار میں پورنیہ صدر سیٹ پر بھاجپا کی کرن کیسری نے کانگریس کے رام چرتر یادو کو23665 ووٹوں سے ہرایا۔ اس سیٹ پر بھاجپا کا قبضہ برقرار ہے۔ان شاندار کامیابیوں سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کانگریس کی ساکھ اور حالت اتنی خراب ہوگئی ہے اس کی ایک اور اہم وجہ ہے کے ان ریاستوں میں طاقتور لیڈر شپ بھاجپا حکمراں ریاستوں میں اچھی ساکھ کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ وہاں پارٹی کے لیڈر کی ساکھ صاف ستھری اور ایماندارانہ اور جنتا کے تئیں حساس اور افسرشاہی پر کنٹرول و صحیح ترجیحات کو رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ نیتا پروگراموں کو اپنے پاس رکھیں اور اقتدار میں ان سے سانجھے دار کریں۔ مجھے بی جے پی کے وفادار اور ہارڈ کور ورکر نے ایک پتے کی بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا اور کانگریس میں ایک بڑا بنیادی فرق کیا ہے؟ کانگریس جب اقتدار میں آتی ہے تو وہ ستہ کا سکھ اور فائدہ، انعام اپنے ورکروں سے بانٹتی ہے ۔ یعنی ورکر کو اقتدار کا فائدہ ملتا ہے۔ دوسری طرف بھاجپا نیتا چناؤ سے پہلے تو ورکروں کو بھائی ، باپ بنا لیتے ہیں اور چناؤ جیتنے کے بعد جب اقتدار کا فائدہ بانٹنے کی باری آتی ہے تو وہ اپنے ایئر کنڈیشننگ روم میں بند ہوکر رہ جاتے ہیں، ورکر ان کے پاس دفتر میں گھس بھی نہیں سکتا۔ وہ اقتدار کا فائدہ ، اقتدار کا سکھ اور پرساد خود ہی بھوگنا چاہتے ہیں، ورکروں سے بانٹنے کو تیار نہیں ہوتے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اگلے چناؤ میں وہ ورکر گھر پر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہماری بلا سے یہ جیتے یا ہارے ہمیں کیا لینا دینا ہے؟ دوسری جانب کانگریس ورکر اگلے چناؤ میں پورا دم خم لگا دیتا ہے۔ اس لئے کیونکہ اپنے نیتا کو جتانے میں اس کا مفاد وابستہ ہوتا ہے۔ جب تک بھاجپا مرکزی لیڈر شپ کو یہ معمولی سی بات سمجھ میں نہیں آتی وہ شاید ہی اقتدار میں آسکے۔ اگر مدھیہ پردیش ، بہار یا گجرات میں بھاجپا کو اتنی کامیابی مل رہی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ وہاں پارٹی کے وزیر اعلی ہیں۔ عام ورکر اپنے آپ کو اپنے نیتا سے شناخت بیان کرتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ اس کا کوئی بھی مسئلہ ہو گا یا اس کا کوئی کام ہوگا تو وہ اپنے نیتا پر بھروسہ کر سکتا ہے۔ کانگریس میں کچھ نیتا چاہے جتنی بھی برعکس ہوا ہو ، چناؤ جیت جاتے ہیں کیونکہ ان کے ورکر انہیں جتانے کے لئے دن رات ایک کردیتے ہیں۔
آج بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی لیڈر شپ میں اتنی گروپ بندی ہے کہ پردھان منتری بننے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ انہیں سوائے اپنا جوڑ توڑ کرنے کے کسی کی فرصت نہیں ہے۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا، نمبر گھٹانے کے کھیل میں یہ دن رات لگے ہوئے ہیں۔ یہ بات میں اکیلا نہیں کہہ رہا خود پارٹی کے سرکردہ لیڈر لال کرشن اڈوانی نے حال ہی میں کہی ہے۔ سابق نائب وزیر اعظم اور بھاجپا پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین لال کرشن اڈوانی فرماتے ہیں کہ ایمانداری کے معاملے میں پارٹی کی ساکھ گری ہے۔ انہوں نے کہا پارٹی میں اب گروپ بندی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سے بھاجپا کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ بھاجپا کے اندرونی ذرائع کے مطابق اڈوانی نے دہلی میونسپل کارپوریشن کے بھاجپاکونسلروں کے لئے دہلی کے چھتر پور مندر میں منعقدہ ٹریننگ کیمپ کے افتتاحی اجلاس میں کہا کہ پارٹی کی کارپوریشن کے کاموں میں تو کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے ۔ ایمانداری کے معاملے میں پارٹی کی ساکھ گری ہے۔ اس معاملے میں انہوں نے احمد آباد میونسپل کارپوریشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ایمانداری سے کام ہورہا ہے۔ انہوں نے دہلی پردیش بھاجپا میں پہلے بھی گروپ بندی تھی اور اب بھی یہ گروپ بازی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے صاف کہا کہ پارٹی کی ساکھ گرانے کے لئے خود پارٹی کے کچھ لیڈر ہی ذمہ دار ہیں۔ اڈوانی جی نے بیشک یہ باتیں دہلی پردیش بھاجپا کے لیڈروں کے لئے کہی ہوں لیکن اشاروں اشاروں میں وہ ایک تیر سے کئی شکار کر گئے ہیں۔ آج کی ضرورت یہ ہے کہ بھاجپا کی مرکزی لیڈر شپ کو دوسری لائن کے لیڈر پردھان منتری بننے کا خواب چھوڑیں اور بھاجپا ایسے شخص کو وزیر اعظم کے طور پر سامنے لائے جو پوری پارٹی کو ساتھ لیکر چل سکے۔ موجودہ لیڈر شپ میں تو مجھے ایسے تین متبادل نظر آتے ہیں جنہیں تجربہ ہے ،جو ایماندار ساکھ کے ہیں جو پارٹی ورکروں کو ساتھ لیکر چل سکتے ہیں۔ ان میں غرور اتنا نہیں آیا ہے کہ وہ اپنی زمین ہی بھول جائیں یہ ہیں شری لال کرشن اڈوانی، شری مرلی منوہر جوشی اور شری نریندر مودی۔
Tags: Anil Narendra, Bihar, BJP, Daily Pratap, L K Advani, Madhya Pradesh, Murli Manohar Joshi, Narender Modi, Vir Arjun

25 جون 2011

نتن گڈکری کو دھول چٹانے میں جٹے انہیں کہ پارٹی لیڈر


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
25جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ایک ہفتے کے ڈرامے کے بعد آخر بھاجپا نیتا شری گوپی ناتھ منڈے مان ہی گئے ہیں۔ کہا جارہا ہے لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج سے ملنے کے بعد مہاراشٹر میں بھاجپا کے چہرے اور لوک سبھا میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈر گوپی ناتھ منڈے نے اپنے تیور نرم کرلئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی صدر نتن گڈکری کے خلاف منڈے کی بغاوت سے پیدا بحران فی الحال ٹلنے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔ ایک مرتبہ پھر اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ بھاجپا جو ایک وقت میں اپنے آپ کو ’پارٹی ود دی ڈفرنس ‘کہا کرتی تھی وہ کتنی نیچے آگئی ہے اور دوسری پارٹیوں کی طرح بن کر رہ گئی ہے۔ گوپی ناتھ منڈے اتنے اہم نہیں جتنا اہم ہے پارٹی میں ڈسپلن بنائے رکھنا۔ گوپی ناتھ منڈے نے کیا کیا نہیں کیا؟ انہوں نے کھل کر پارٹی صدر نتن گڈکری کو گالی دے ڈالی۔ پہلے شیو سینا میں جانے کی کوشش کی وہاں سے ان کے دروازے بند کردئے گئے۔ پھر کانگریس میں گھسنے کی کوشش کی۔ منڈے ہیں تو پرمود مہاجن کے بہنوئی اس لئے سودے بازی میں تو اپنے آپ کو ماہر سمجھتے ہیں۔ کانگریس سے انہوں نے اپنے آنے کی شرط رکھی۔ مجھے کیبنٹ کا درجہ چاہئے۔ رپورٹوں کے مطابق وہ سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر و سکریٹری احمد پٹیل سے اور مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان سے بھی ملے۔ کانگریس نے الٹا شرط رکھی کہ آپ پہلے بھاجپا کی ٹکٹ پر بیڈ لوک سبھا سیٹ سے استعفیٰ دیں اور بطور کانگریس امیدوار وہاں سے ضمنی چناؤ جیتیں پھر آپ کو وزیر بنانے کی بات سوچی جائے گی۔ گوپی ناتھ منڈے اس کے لئے شاید تیار نہیں تھے ۔ وہ چاہتے تھے کہ انہیں پرتھوی راج چوہان کی خالی ہوئی راجیہ سبھا کی سیٹ دے دی جائے۔ جب کانگریس سے لات پڑی تو منہ بچانے کے لئے منڈے نے واپس آنے کا راستہ تلاش کرنا شروع کردیا۔ یہاں سشما سوراج کام آگئیں۔ کیونکہ منڈے نے نتن گڈکری کو کھلی چنوتی دی تھی اس لئے بھاجپا کا ایک گروپ کی انہیں خفیہ حمایت مل رہی تھی۔ اس گروپ کے صدر نتن گڈکری کو نیچا دکھانے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑتے۔بھاجپا کا آج ہائی کمان کیا ہے؟ کون ہے ہائی کمان؟ کانگریس میں تو سونیا گاندھی جو پارٹی صدر ہیں وہی ہائی کمان ہیں۔ ان کے فیصلے کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ اچھے اچھوں کو آنکھیں دکھانے پر پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے لیکن بھاجپا میں حساب الٹا ہی ہے۔ صدر کو گالی نکالو اور ہیرو بنو۔ بھاجپا کو مضبوط کرنے میں لگے گڈکری کو پارٹی کے اندر ہی ایک گروپ روکنا چاہتا ہے تاکہ وہ پارٹی میں اپنی پکڑ مضبوط نہ کر پائیں۔ مہاراشٹر کی سیاست میں الجھا کر بھاجپا کی یہ لابی گڈکری کو کمزور صدر ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ جس سے وہ بڑے فیصلے نہ لے سکیں۔ منڈے نے بھاجپا میں بنے رہنے کا کوئی شکھانند نہیں کیا بلکہ گڈکری کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے لئے ایک چال چلی۔ بھاجپا میں یہ لابی سرگرم ہے۔ گڈکری کے بھاجپا میں پرانے لوگوں کو لانا انہیں راس نہیں آرہا ہے۔ گڈکری نے حال ہی میں اپنے کئی انٹرویو میں جو سخت سندیش دیا اس سے بھاجپا کی دوسری لائن کے لیڈر پریشان ہیں۔ گڈکری نے صاف کہا کہ وہ پارٹی کو مضبوط کرنے کیلئے اپنے ایجنڈے پر قائم رہیں گے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ پرانے جمے لوگوں کو تکلیف ہورہی ہے۔ گڈکری کے ساتھ ساتھ سنگھ پوری طرح کھڑا ہے۔ سنگھ چاہتا ہے کہ بھاجپا کی کھوئی ہوئی ساکھ واپس آجائے۔ گوپی ناتھ منڈے کی لڑائی اشوز پر نہیں ہے دراصل اشو ان کے لئے یہ ہے کہ ان سے جونیئر نتن گڈکری دسمبر2009 ء میں صدر بننے کے بعد ان سے اوپر کیسے پہنچ گئے۔ وہ آج بھی اپنے آپ کو گڈکری سے اوپر مانتے ہیں۔ وہ خود کو نظرانداز محسوس کررہے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پارٹی کے اندر لیڈروں کے آپسی ٹکراؤ بڑھ رہے ہیں جو خود کو دوسروں سے الگ بتاتی آئی ہے۔ زیادہ دن نہیں ہوئے جب کرناٹک کے ریڈی بھائیوں کو لیکر سشما سوراج اور ارون جیٹلی کی تکرار سرخیوں میں چھائی ہوئی تھی۔ ایسا لگتا ہے پارٹی اٹل جی کے سرگرم سیاست سے الگ ہونے اور اڈوانی جی کی سرپرستی کے کردار میں آنے کے بعد سے لیڈر شپ بحران کا شکار ہے۔اصل میں پانچ سات برس پہلے تک جو لیڈر دوسری اور تیسری لائن میں گنے جاتے تھے وہ اب پہلی لائن میں شمار کئے جانے لگے ہیں اور ان میں آگے بڑھنے کی دوڑ لگ گئی ہے۔ یہ بدقسمتی ہی ہے کہ ایسے وقت جب دیش گھوٹالوں کے غیر متوقع دور سے گذر رہا ہے ، مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی شباب پر ہے اور مرکزی سرکار کی مقبولیت سب سے نچلے پائیدان پر آگئی ہے۔ بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے بھاجپا کا ان سب سے لڑنے کیلئے نہ تو کوئی ٹھوس پروگرام ہے اور نہ ہی طاقتور لیڈر شپ۔ کل کو جنتا پوچھ سکتی ہے اگر جنتا آپ کو متبادل کی طرح چنے تو آپ کا پردھان منتری کا امیدوار کون ہوگا؟ آپ کی لیڈر شپ کیا ہے؟ ہماری رائے میں تو شری گوپی ناتھ منڈے کو نکال کر باہر کرنا چاہئے تھا تاکہ دوسروں کو بھی سبق ملے۔ اپنے آپ کو ’پارٹی ود دی ڈفرنس‘ کہلانے والی پارٹی سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ اس طرح کے سمجھوتے کرتی پھرے گی۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Gopinath Munde, L K Advani, Maharashtra, Nitin Gadkari, Parmod Mahajan, Prithvi Raj Chavan, Sushma Swaraj, Vir Arjun

19 جون 2011

کیا اتنے مناسب ماحول کا بھاجپا فائدہ اٹھا پائے گی؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
19 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
کسی بھی اپوزیشن پارٹی کے لئے نہ تو یوپی اے حکومت سے بہتر اور کوئی حکمراں سرکار ہوسکتی تھی اور نہ ہی اتنی خراب ہے سیاسی ماحول جتنا منموہن سنگھ سرکار نے کردیا ہے۔ کوئی بھی اپوزیشن پارٹی ایسے سیاسی ماحول کا انتظار کرتی رہتی ہے جب اتنی متنازعہ مرکزی حکومت ہو جتنی یہ حکومت ہے اس حکومت نے دیش کو کیا نہیں دیا ؟ بڑھتی مہنگائی بڑھتی قیمتیں ایک کے بعدایک گھوٹالہ اور دہشت گردی جیسے برننگ اشو پر ٹال مٹول کی پالیسی، نکسلیوں سے لڑنے کا قوت ارادی، تاناشاہی رویہ وغیرہ وغیرہ۔ کہنا کامطلب ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی وہ بڑی پارٹی ہے وہ اس سے بہتر سیاسی ماحول کی امید نہیں کرسکتی تھی۔ حود بھاجپا نیتا ارون جیٹیلی فرماتے کہ کانگریس لیڈر شپ والی مرکزی حکومت کو سیاست داں نہیں بلکہ افسر شاہی چلارہی ہے۔ آزادی کے بعد سے اتنی بدعنوان، نکمی اور کٹر حکومت جنتا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ یہ سرکار اپنے پانچ سال پورے نہیں کرپائے گی کیونکہ اب جنتا کانگریس سرکار کو پھوٹی آنکھ میں نہیں بھارہی ہے۔ یہ سخت تذکرہ اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے پردیش بھاجپا کی جانب سے منعقدہ سنگھرش کے ایک سال پروگرام میں حال ہی میں کیا تھا۔ جیٹیلی نے کہا کہ بھاجپا کو تحریک چلانے کا شوق نہیں ہے لیکن منموہن سنگھ سرکار ایک کے بعدایک سنگین غلطیاں کررہی ہے کہ بھاجپا کو سڑک پر اترنے کے علاوہ کوئی راستہ اس کے پاس نہیں تھا۔ دیش کو ایسا وزیراعظم چلارہاہے جو ایک کٹ پتلی ہے ۔ پردہ کے پیچھے اقتدار کی بھاگ دوڑ دوسرے کے ہاتھوں میں ہے ۔تاریخ میں ایسا کئی دیکھنے کو نہیں ملتا جہاں سورہے ہزاروں نہٹے لوگوں پر رات کی تنہائی میں پولیس ٹوٹ پڑتی ہے بچوں اورعورتوں پر لاٹھیاں برسائے جائے۔ آنسو گیس کے گولے چھوڑے جائے۔ ارون جیٹیلی نے اس سرکار کوہیٹ لیس چکن کہاہے کہ اس کا مطلب ہے کہ اس سرکار کا کوئی سر پیر نہیں ہے کوئی وارث نہیں ہے۔
اب منموہن سنگھ سرکار کی جو رپورٹ جیٹیلی صاحب نے پیش کی ہے وہ بہت بڑی حد تک صحیح لگتی ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب منموہن سنگھ سرکار کی بری حالت بن گئی ہے تو اس کا سیاسی فائدہ بڑی اپوزیشن پارٹی کے ناتے بھاجپااٹھاپارہی ہے۔؟ ہم نے دیکھا بھاجپااپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن کاکردار صحیح طریقہ سے نہیں نبھا پائی۔ میں یوپی اے 1- ایک کی بات کررہا ہو۔ جب بھاجپا نہیں لیفٹ پارٹیاں بڑی اپوزیشن کا کردار بہتر طریقہ سے نبھا رہی تھی۔ یوپی اے 2میں کامریٹ موجود نہیں ہے سارا اپوزیشن کادارو مدار بھاجپا پر ہوتا ہے لیکن ایمانداری سے بھاجپانیتاؤں کو سوال کرناہوگا کہ وہ کیوں نہیں حالات کافائدہ اٹھاپارہے ہیں؟کیا وجہ ہے کہ اتنا مناسب ماحول ہونے کے بعد بھی جنتا میں وہ اتنا بھروسہ پیدا نہیں کرپائی کہ جنتا انہیں مرکز میں دوبارہ سے اقتدار سونپنے کی ہمت دکھائے۔؟ اس میں کوئی شک نہیں ریاستوں میں بھاجپا کی سرکاریں اچھاکام کررہی ہے ان کی ساکھ بھی اچھی ہے اور جنتا سے کہنے کو کہہ سکتے ہیں کہ مرکز میں اچھااقتدار دیے سکتے ہیں۔ ایک بار ہمیں موقعہ ضرور دے ۔ ریاستوں میں اگر بھاجپا سرکاریں اچھاکام کررہی ہے تواس کی بنیادی وجہ ہے ہرریاست میں ایک مضبوط وزیراعلی ہے اور اسی وزیراعلی کے رہتے اس کی وجہ سے ریاست میں اچھی حکومت چل رہی ہے۔ گجرات میں نریندر مودی، مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان، اتراکھنڈ میں رمیش چند پوگھیریال اور ہماچل میں پریم کمار بھومل وغیرہ ان کی شخصیت اور ساکھ اور کارگزاری اوران کے اقتدار کی اہم خوبیاں ہیں۔ جن کی وجہ سے مرکزی لیڈر شپ ہے۔ مرکز میں تو بھاجپا لیڈر شپ نہ کے برابر ہے۔ دکھ سے کہن اپڑتا ہے کہ یہ دوسری صف کے نوجوان لیڈر آپس میں ہی ایک دوسرے کی کاٹ کرنے سے باز نہیں آتے ان کی نظرو ں میں پارٹی کی کوئی اہمیت ہے اورنہ ہی اس بات کی پرواہ وکر کیا سوچتا ہے۔ جنتا کی بات تو چھوڑوں۔ ان کے اپنے اپنے نجی ایجنڈے پارٹی ایجنڈے سے بالاتر ہے نجی خواہشات ہے اور جو ان کے آڑے آرہی ہے یہی وجہ ہے کہ اتنااچھا ماحول ہونے کے باوجود جنتا میں بھروسہ نہیں کرپارہی ہے جو انہیں کرناچاہئے۔ اٹل جی اور اڈوانی کی رہنمائی میں بھاجپانے جو سنہرے دور دیکھا ان کے رہتے پارٹی ہوا کرتی تھی۔ اور ان کی اپنی ساکھ تھی ورکروں سے وہ جڑے ہوئے تھے جنتا کی نبض کو سمجھتے تھے لیکن آج کی لیڈر شپ اپنے ایئرکنڈیشنوں کے کمرے میں ہی بیٹھ کر اپنے ہی گن گان کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔
دکھ کی بات یہ ہے کہ لیکن سچائی بھی یہ ہے کہ آج بھارت کی عوام کو سبھی سیاسی پارٹیوں سے نیتاؤں سے بھروسہ اٹھ گیا ہے ان کی نظر میں سبھی برابر ہے یعنی ایک حمام میں سبھی ننگے ہے۔ وہ بھاجپاسے جاننا چاہتے ہیں۔ جو مسائل آج دیش کے سامنے ہے منہ پھاڑ رہے ان سے کیسے نبٹا جائے ۔ وہ جنتا چاہتی ہے کہ بھاجپا لیڈر شپ کون کونسے ایسے قدم اٹھائے گی۔ جن سے گھوٹالہ رکے۔ قیمتوں پر قابو ہو۔مہنگائی گھٹے۔ بے روزگاری گھٹے، قانون نظم سدھرے، بجلی پانی جیسے پیچیدہ مسائل جیسے حل ہو کیا جنتا ان پر زیادہ بھروسہ کرے۔ ؟یہ ہے کچھ سوال جن کا میری رائے میں بھاجپا لیڈر شپ کوجواب دینا ہوگا۔جنتا کوبتاناہوگا۔ ہمیں اقتدار میں لائے تو ان مسائل کو کیسے حل کریں گے۔ لیکن اس کے لئے سب سے پہلے بھاجپا کو اپناگھر ٹھیک کرنا ہوگا۔ اسے صحیح لیڈر شپ طے کرنی ہوگی۔ اپنی ترجیحات بتانی ہوگی۔ اب تو بھاجپا یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ آر ایس ایس ان کے کام کاج میں دخل اندازی کرتی ہے۔ جب سے آر ایس ایس کی بالا دستی موہن بھاگوت کے ہاتھ میں آئی ہے سیاست کے کچھ حد تک وہ الگ ہوگئی ہے اب سنگ روز مرے کے معاملے میں دخل نہیں دیتا ہوسکتاہے کہ بھاجپاکے کچھ لیڈروں کے میرے نظریات کچھ اچھے نہ لگیں۔ لیکن انہیں سمجھناچاہئے میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ ایک طرح سے جنتا کی آواز ہے اور آج بہت سے لوگ یہ ہی چاہتے ہیں کہ بھاجپا اپناگھر ٹھیک کریں۔ تاکہ جلد سے جلد آنے والے موقعہ کاپورا فائدہ اٹھاسکے.
Tags:  Anil Narendra, Arun Jaitli, Congress, Corruption, Daily Pratap, L K Advani, Modi, RSS, Vir Arjun

17 مئی 2011

بھاجپا کی شرمناک کارکردگی کا ذمہ دار کون؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
شائع17 مئی2011
انل نریندر
بھاجپا کیلئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ بیحد مایوس کن رہے۔ آسام، کیرل، پڈوچیری، تاملناڈو اور مغربی بنگال میں بھاجپا قومی پارٹی کی شکل میں پہچان کے لئے ترس گئی ہے۔ کرناٹک میں ضمنی چناؤ میں وزیر اعلی یدی یورپا نے ضرور اپنا دبدبہ بنائے رکھا ہے اور انتخابات میں پہلی بار بھاجپا کے بڑے لیڈروں کو اپنی حکمت عملی کی سوجھ بوجھ دکھانے کیلئے ڈیوٹی لگائی گئی تھی لیکن کوئی بھی لیڈر اپنا چمتکار نہیں دکھا سکا۔ بھاجپا کو آسام اور مغربی بنگال میں اچھے نتیجے کی امید تھی مگر پارٹی کو کیرل میں بھی اپنا کھاتہ کھلنے کی امید تھی ۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج کے پاس جنوبی ہندوستان کی ریاستوں تاملناڈو ، کیرل کی کمان تھی۔ وجے گوئل کے پاس آسام اور چندر مترا کے پاس مغربی بنگال کی ذمہ داری تھی۔ ان کے اوپر سپر باس ارون جیٹلی تھے۔
بھاجپا کو سب سے بڑا جھٹکا آسام میں لگا ہے۔سوال کھڑا ہورہا ہے آخر مشرقی ان ریاستوں میں بھاجپا کیوں پٹی؟ وہ بھی تب جب سب سے زیادہ طاقت بھاجپا لیڈر شپ نے اسی راجیہ میں لگائی تھی۔ پارٹی کے چار لیڈر آسام میں ڈیرہ ڈالے رہے، پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی سے لیکر ارون جیٹلی تک لوگوں سے ووٹ مانگنے کے لئے اترے۔ پارٹی صدرنتن گڈ کری نے جلسوں سے خطاب کیا لیکن اس سب کے بعد بھی پارٹی لٹیا ڈوب گئی۔ راجیہ میں سرکار بنانے کا سپنا پہلے بھاجپا کے نیتاؤں کو امید تھی کہ آسام گن پریشد (اے جی پی) کے ساتھ مل کر چناؤ لڑنے کے بعد سرکار بن جائے گی اور سرکار نہ بھی بنی تو پارٹی ایک بڑی طاقت کے روپ میں ابھرے گی مگر پارٹی پچھلے ودھان سبھا چناؤ میں جیتی10 سیٹوں کا آنکڑا بھی نہیں چھوپائی اور آسام کی ودھان سبھا میں پارٹی کی طاقت آدھی ہوگئی۔
پشچم بنگال ، کیرل، تاملناڈو اور پڈوچیری میں بھاجپا کھاتہ کھولنے کے لئے ہی چناؤ لڑ رہی تھی پر کیرل میں اس کا یہ سپنا اس بار بھی پورا نہیں ہوسکا۔ کانگریس کے سینئر لیڈر پرنب مکھرجی نے تو طنز بھی کیا ہے کہ بھاجپا خود کو راشٹریہ پارٹی کہتی ہے لیکن پانچ ریاستوں کی لگ بھگ 800 ودھان سبھا سیٹوں میں سے وہ 8 سیٹیں بھی نہیں جیت پائی۔ پشچم بنگال میں بھاجپا کو 1 سیٹ ملی ہے جبکہ آسام میں4 سیٹوں سے ہی سنتوش کرنا پڑے گا۔ باقی کہیں کھاتہ نہیں کھل سکا ہے۔ اب بھاجپا حکومت بھلے ہی یہ کہہ کر اپنی جھینپ مٹا رہی ہو کہ ہمیں تو پہلے سے ہی بہت امیدیں نہیں تھیں۔ بھاجپا نیتاؤں نے کیرل میں اپنی پوری طاقت اس لئے لگائی تھی کہ اگر وہاں کمل کھل جاتا تو وہ اس بات کا ڈھنڈورا پیٹ سکتی تھی کہ دکشن کے لال گڑھ میں بھی ہم پہنچ گئے ہیں۔ بھاجپا کو کیرل میں 9فیصدی ووٹ ضرور ملے پر کھاتہ نہیں کھول پائی۔ آسام اور پشچم بنگال میں بھاجپا کے لئے سب سے بڑی راج نیتک ناکامی یہ رہی کہ دونوں ہی ریاستوں میں پارٹی کا کسی دل یا گٹھ بندھن کے ساتھ تال میل نہیں ہو پایا۔ اس شرمناک مظاہرے کیلئے جواب کون دے گا؟ ریاست کے انچارج اور جنرل سکریٹری وجے گوئل ، ارون جیٹلی، سشما سوراج، ورون گاندھی یا پھر خود ادھیکش نتن گڈ کری؟

اور اب ایران بنام یوکرین

مغربی ایشیا کی دو بڑی لڑائیاں اب ایک دوسرے سے وابستہ دکھائی دے رہی ہیں ۔ایک طرف پچھلے کئی ماہ سے امریکہ ایران کے درمیان کشیدگی اور فوجی کارو...