Translater

02 نومبر 2019

شرد پوار نے ثابت کر دکھایا کہ وہ ہاری بازی جیتنا جانتے ہیں

کسی ایک چناﺅ سے کسی بھی سیاسی پارٹی کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ۔آپ مراٹھا گرو شرد پوار کی پارٹی این سی پی کو ہی لے لیں ،اس نے حال ہی میں ہوئے مہاراشٹر اسمبلی چناﺅ میں اپنی کارکردگی سے یہ بات ثابت کر دی ہے ۔چناﺅ سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ این سی پی کے لئے اس مرتبہ حالات اچھے نہیں ہیں ،اور حالات یہ تھے کہ اتحادی کانگریس پارٹی کی بڑی لیڈر شپ نے مہاراشٹر کے چناﺅ میں بہت زیادہ جوش اور دلچسپی نہیں دکھائی خود اپنے ہی پارٹی کے نیتاﺅں پر مرکزی ایجنسیوں کے چھاپے اور خاندان کی اندورنی لڑائی بھی شرد پوار کے لئے درد سر بن گئی ۔حالانکہ ان سبھی حالات کے درمیان شرد پوار اکیلے ہی ڈٹے رہے ۔مراٹھا ٹائیگر کے نام سے مشہور 79سالہ شرد پوار نے اکیلے ہی کمپین کی اور نریندر مودی ،امت شاہ،و دیوندر فڑنویس پر براہ راست تنقیدیں کیں ۔ستارہ لوک سبھا سیٹ پر بھی این سی پی نے بڑھ بنائی ہے ۔اس سیٹ پر بی جے پی امیدوار ادین راجے بھوسلے کے مقابلے پر این سی پی نے سری نواس پارٹیل نے کامیابی حاصل کی اس چناﺅ میں شرد پوار نے بارش میں بھی ایک ریلی کی پی ایم مودی اس چیز پر ان کے خود نہ اترنے تک کو بزدلی تک کہہ ڈالا تھا لیکن نتیجے سے شرد پوار نے ثابت کر دیا کہ وہ بازی جیتنے میں ماہر ہیں ۔پوار کے آگے آنے کی ہی وجہ تھی کہ ان کے گھڑ میں جنتا نے ان پر ایک بار پھر بھروسہ دکھایا دوسری طرف این سی پی کا نمبر 45پر رک گیا ۔پچھلے چناﺅ میں کانگریس کو 42سیٹیں ملیں تھی اس طرح کانگریس کی پرفارمینس 2014اسمبلی چناﺅکے مقابلے بقدر بہتر رہی ۔یہ اس لئے بھی معنی رکھتا ہے کیونکہ اب تک این سی پی کو کانگریس جونیر پارٹنر مانتی تھی لیکن مراٹھا لیڈر شرد پوار نے سیٹیں ہی نہیں بڑھائیں بلکہ کانگریس کے بدلے بڑھت حاصل کی ای ڈی ،سی بی آئی کے ذریعہ پریوار کو نشانہ بنایا جانا بھی ان کے حق میں گیا اور لوگوں میں ان کے تیں ہمدردی بڑھ گئی اور ان میں یہ پیغام چلا گیا کہ مرکز میں بھاجپا سرکار اپوزیشن کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہی ہے ۔2019کے اسمبلی چناﺅ میں شرد پوار کی نہ صرف شخصی ساکھ بڑھی ہے بلکہ ان کی پارٹی مہاراشٹر میں بھاجپا شیو سینا کو ہر طرح کی ٹکر دینے میں اہل ہے ۔شاید وہ شیو سینا ،و کانگریس کے ساتھ مہاراشٹر میں بھی اگلی سرکار بنا لیں ۔

(انل نریندر)

ایک دیش ،ایک آئین، ایک نشان !

جموں و کشمیر کی تاریخ اور جغرافیہ 173برس کے بعد بدل گئے اب جموں وکشمیر میں ستر سال پرانا نظام کے خاتمے کے بعد نیا انتظامیہ سسٹم نافذ ہو گیا ہے ۔اور سیاست کے ساتھ متحدنئے دور کی شروعات ہوئی ہے ۔ایک نئے تاریخی واقعہ کے تحت جموں و کشیر کو خصوصی ریاست کا درجہ جمعرات کو ختم ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی با قاعدہ طور سے مرکزی حکمراں ریاست میں بانٹ دیا گیا ۔اگلے 370کے تقاضوں کو بے اثر کرنے کی 87دن بعد31اکتوبر2019کو جموں و کشمیر اور لداخ کو دو مرکزی حکمراں خطوں کی شکل میں آگئے ہیں جسے بھارت اور سابقہ ریاست کی تایخ میں میل کا پتھر کہا جا سکتا ہے ۔دونوں مرکزی حکمراں ریاست دیش کے پہلے وزیر داخلہ اور 560سے زیادہ ریاستوں کا انظمام کرانے والے سردار بلھ بھائی پٹیل کی جینتی کے موقعہ پر وجود میں آگئے ۔کل ریاست 28اب مرکزی حکمراں ریاستوں کی تعداد نو ہو گئی ہے ۔یہ پہلی بار ہے جب کسی ریاست کو دو مرکزی حکمراں ریاستوں میں بانٹا گیا ہے ۔دونوں جگہ رنویر قانون کی جگہ ہندوستانی آئین آئی پی سی اور کرمنل پروسیجر کورٹ (سی آر پی سی)کی دفعات نافذ ہوں گی ۔نئے جموں و کشمیر میں پولس و قانو ن نظام مرکزی سرکار کے ماتحت رہے گا جبکہ زمینی نظام کی دیکھ ریکھ کا ذمہ منتخب سرکار کے تحت ہوگا ۔موٹے طور پر اب یہ رد و بدل ہوگی پولس :جموں و کشمیر میں پولس میں ڈائرکٹر جنرل کا عہدہ قائم رہے جبکہ لداخ میں اسپیکٹر جنرل پولس کا سربراہ ہوگا پولس مرکزی کی ہدایت پر کام کرئے گی ۔کورٹ:فی الحال جموں وکشمیر کی سری نگر اور جموں بنچ موجودہ سسٹم کے تحت ہی کام کریں گی لداخ کے معاملوں کی سماعت بھی پہلے جیسے ہوگی ۔مرکزی نیم فورس :دونوں مرکزی حکمراں ریاستوں میں مرکز کی ہدایت پر ہی سینٹرل سیکورٹی فورس تعینات ہوگی ۔کمیشن:جموں و کشمیر کے لداخ میں کام کر رہا کمیشن کی جگہ مرکزی سرکار کے کمیشن اپنا کردار نبھائیں گے ۔افسر شاہی:اعلیٰ انتظامی اور اعلیٰ پولس افسر اور دوسرے مرکزی حکام اور کرپشن مخالف بیورو لیفٹ نینٹ گورنر کے کنٹرول میں رہیں گے نہ کہ جموں وکشمیر مرکز حکمراں ریاست کی منتخب سرکار کی تحت ہوں گے ۔مستقبل میں جموں و کشمیر اور لداخ میں افسران کی تقرریاں ارونچال پردیش ،گوا،میوزرم،اور یونین کیڈر سے ہی کی جائیں گی ۔اب ہر جگہ ایک ہی جھنڈا ہوگا جو ترنگا۔تشکیل نو کے باوجود وجود میں آئے نئے جموں و کشمیر میں دھائیوں سے شہریت کو ترس رہے لاکھوں لوگوں کو نئی زندگی ملے گی ۔مغربی پاکستان سے آئے ریفیوجی ،بالمیکی سماج ،گورکھا ،دوسرے ریاستوں میں بھی گئی جموں و کشمیر کی بیٹیوں کو شادی کے بعد بھی تمام حقوق ملیں گے ۔35اے کے تحت دوسری ریاست میں شادی کرنے والی بیٹیوں کو اپنی ریاست کی شہریت کھونی پڑتی تھی شہریت ثبوت نامہ جموں وکشمیر میں زمین خریدنے یا پھر آبائی جائیداد سے حق کھو بیٹھتی تھیں نئے جموں وکشمیر میں یہ سب قانون ختم ہو گئے ہیں ۔اس فیصلے سے جہاں ریاست میں ترقی کا راستہ کھلے گا وہیں لاکھوں بے روزگاروں کو روزگار ملے گا لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور اس کے پٹھو اس فیصلے کی جم کر مخالفت بھی کریں گے جموں کشمیر میں جس طرح سے غیر ریاستی مزدوروں اور سیب کی ڈھلائی کرنے والے ٹرکوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس سے عام حالات کی بحالی کے چیلنج کو سمجھا جا سکتا ہے ۔پانچ اگست کو جموں وکشمیر کی تقیسم کے بعد سے وہاں بڑی تعداد میں سیکورٹی فورس کی تعیناتی کی گئی ہے ۔اس کے باوجود دہشتگردی کے واقعات میں کمی نہیں ہوئی ہے ۔وہ ہو رہے ہیں ۔گولے پھینکے جا رہے ہیں ،جبکہ کشمیر میں مکمل طور پہ تالا بندی ہے ۔یہ پتہ نہیں کتنے دن تک چلے گی ۔کھلے کے بعد کیا حالات بنتے ہیں یہ بھی ایک برنگ سوال ہے ۔پھر پاکستان لاک ڈاﺅن کے خلاف دنیا میں جو ماحول بنا رہا ہے اس سے نمٹنا بھی ایک چیلنج ہوگا سرحد پار سے جس طرح سے بھڑکانے والی کارروائی ہو رہی ہے اس سے صاف ہے کہ کشمیر وادی میں عام زندگی پوری طرح سے بحا ل ہونے میں وقت لگے گا ۔اس بارے میں مرکزی حکومت اور مقامی انتظامیہ کو دوہری چنوتی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔نئے حالات میں جموں وکشمیر میں عام زندگی کو پٹری پر لانا اور دوسرے بین الا اقوامی برادری کا اعتماد حاصل کرنا در اصل جموں وکشمیر اور لداخ میں نئی صبح کا آغا ز تو ہو گیا ہے لیکن ساتھ ہی ایک بڑی ضرورت سبھی طبقات میں اعتماد کی بحالی کی بھی ہے ۔

(انل نریندر)

01 نومبر 2019

Frauders known your old passwords. Access data must be changed.

Hello!

I am a hacker who has access to your operating system.
I also have full access to your account.

I've been watching you for a few months now.
The fact is that you were infected with malware through an adult site that you visited.

If you are not familiar with this, I will explain.
Trojan Virus gives me full access and control over a computer or other device.
This means that I can see everything on your screen, turn on the camera and microphone, but you do not know about it.

I also have access to all your contacts and all your correspondence.

Why your antivirus did not detect malware?
Answer: My malware uses the driver, I update its signatures every 4 hours so that your antivirus is silent.

I made a video showing how you satisfy yourself in the left half of the screen, and in the right half you see the video that you watched.
With one click of the mouse, I can send this video to all your emails and contacts on social networks.
I can also post access to all your e-mail correspondence and messengers that you use.

If you want to prevent this,
transfer the amount of $943 to my bitcoin address (if you do not know how to do this, write to Google: "Buy Bitcoin").

My bitcoin address (BTC Wallet) is: 1CMBC1Mj86GHmbwzcMMP8xUe1hQTwk4Ds7

After receiving the payment, I will delete the video and you will never hear me again.
I give you 50 hours (more than 2 days) to pay.
I have a notice reading this letter, and the timer will work when you see this letter.

Filing a complaint somewhere does not make sense because this email cannot be tracked like my bitcoin address.
I do not make any mistakes.

If I find that you have shared this message with someone else, the video will be immediately distributed.

Best regards!

کتے کی موت مرا ابو بکر البغدادی

پوری دنیا میں خوف اور بربریت کی علامت بن چکا اسلامک اسٹیٹ آف عراق اور شام ایرانی آئی ایس آئی ایس کا سرغنہ ابو بکر البغدادی کے مارے جانے کی خبر بین الا اقوامی سیاست اور دہشت کی علامت ایک بڑا واقعہ کے طور پر یاد کیا جائے گا ۔شاید اسامہ بن لادین کی موت کے بعد یہ دہشتگردی کے خلاف لڑائی میں سب سے اہم ترین کارنامہ ہے ۔اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ اس کے مارے جانے کی متزاد خبریں آئیں لیکن اس مرتبہ امریکی سیکورٹی فورس ڈیلٹا کمانڈوز کی ایک خفیہ کارروائی کے بعد جس طرح کے حقایق سامنے آئے ہیں ان سے یہی لگتا ہے کہ اس مرتبہ دنیا کو بغدادی اور اس کی دہشت سے نجات ملی ہے ۔بغدادی کا خاتمہ بھی بہت ہی دردناک طریقے سے ہوا بتایا جاتا ہے کہ امریکی کمانڈو اور ڈبو اسکوائیرڈ کو دیکھ وہ خود کش جیکٹ پہن کر اپنے ٹھکانے کی سرنگ سے نکل بھاگا اس نے اپنے تین بچوں کو بچنے کے لئے ڈھال بنایا لیکن امریکی ملیٹری کے اسپیشل ٹرینڈ کے 9کتے اس کے پیچھے بھاگے اس دوران بغدادی روتا چیختا بلبلاتا جب وہ سرنگ کے آخر میں پہنچا تو اس نے محسوس کیا کہ اب اس کے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔تو اس نے اپنے تین بچوں کو سینے سے لگا کر خود کو فدائی بیلٹ سے اڑا لیا ۔دھماکہ میں وہ خود تو مرا ہی ساتھ وہ اپنے تین بچوں کو لے مرا ۔بغدادی کے جسم کے چیتھڑے اڑ گئے ۔لیکن ڈی این اے ٹیسٹ سے اسکی پہنچان ہوئی ابو بکر البغدادی کے خفیہ ٹھکانے کی راز دینی والے مخبر نے اس کی موت کے بعد لاش کے ڈی این اے ٹیسٹ میں بھی بڑی مدد کی دلچسپ بات یہ ہے کہ بغدادی کی لاش کے سو فیصد تصدیق کے لئے اس کے گندے انڈر ویر سے ملان کیا گیا تھا مخبر نے جسے چر اکر اپنے پاس رکھا ہوا تھا امریکی فوج نے بتایا کہ طے قواعد اور قانونی مصلحہ ایکٹ کے تحت بغدادی کی لاش کو ٹھکانے لگا دیا گیا ۔ذرائع نے صا ف کرتے ہوئے کہا کہ اس کی موت کے بعد اس کا ڈی این اے کرایا گیا اور پھر لاش کو سمندر میں پھینک دیا گیا ٹھیک اسی طرح جیسے 2011میں خونخار دہشتگرد اسامہ بن لادین کو کیا گیا تھا ۔بغدادی لادین سے کافی رغبت رکھتا تھا اور اسی کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے لادین کی موت کا بدلہ لینا چاہتا تھا ۔اس طرح دنیا کو دو خطرناک دہشتگردوں سے نجات ملی جنہوںنے اپنے خونی کھیل سے پوری انسانیت کو تھرا دیا تھا ۔اسلامی دہشتگردی کا نفرت بھرنے کے سبب ہی شروع ہوئی ان کی کرتوت کے سبب ہی پوری دنیا میں مسلم فرقہ کو مشتبہ ساکھ کا شکار ہونا پڑا ۔بغدادی در اصل اس وہابی نظریہ سے متاثر تھا جو دنیا میں اسلامی مسئلوں پر مبنی ایک اسلامی ریاست دوبارہ قائم کرنا چاہت ا تھا وہ اپنے نظریات کوبھی پھیلانے میں بھی کچھ حد تک کامیاب رہا کیونکہ بے شک وہ مر تو گیا ہے لیکن دنیا کے کئی حصوں میں اس کے نظریات سے متاثر چھوٹے چھوٹے دہشتگرد ی سیل بن چکے ہیں ۔بھارت میں بھی اس کی جڑیں سننے کو ملتی رہتی ہیں ۔اس کے مرنے سے دنیا محفوظ ہو گئی ہے ۔اسامہ بن لادین کے مارے جانے کے بعد بغدادی کا صفایہ امریکہ اور اس کے ساتھیوں کے لئے ایک بڑا کارنامہ ضرور ہے ۔

(انل نریندر) 

تنازعات میں گھرا یورپی ممبران پارلیمنٹ کا وادی دورہ

جموں و کشمیر کے کلگامیں دہشتگردوں نے منگل کی رات پونے نو بجے غیر کشمیری مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔یہ واردات ایسے وقت ہوئی جب یورپی یونین کے 23ممبران پارلیمنٹ کا نمائندہ وفد کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کےلئے ریاست کے دو دن کے دورے پر تھا ۔جموں وکشمیر کے چیف سیکریٹری بی بی آر سبرامنیم نے سری نگر میں جس جگہ ان ممبران پارلیمنٹ کے ڈنر رکھا تھا وہاں سے 68کلو میٹر دور دہشتگردوں نے اس حملے کو انجام دیا ۔یورپی یونین کے وفد کے کشمیر دورے پر کافی ہنگامہ ہو رہا ہے ۔یورپی یونین کے کل 27ممبرا ٓئے تھے لیکن 23ہی کشمیر گئے 4دہلی سے ہی لوٹ گئے ۔حکام نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی ۔لیکن بتایا جاتا ہے کہ ان چاروں ممبران بغیر سیکورٹی کے مقامی لوگوںسے ملاقات کی مانگ رکھی تھی جسے حکومت نے نہیں مانا یورپی یونین کے لبرل ڈیموکریٹ ممبر برطانیہ کے کرس ڈیوس نے الزام لگایا کہ یہ بھارت سرکار کا پی آر اسٹنٹ ہے اور اس کا حصہ نہیں بننا چاہتا ۔اس لئے انڈیا سے واپس آگیا ۔مرکزی حکومت نے یورپی ممبران پارلیمنٹ کے دورے کو ذات نوعیت کا بتایا ۔ومینس اکنومک اینڈ سوشل تھنک ٹینک نامی این جی او نے اس دورے پر خرچ کیا ہے ۔16سال پرانی این جی او کو مادی شرما چلاتی ہیں اس دورے کو لے کر اپوزیشن پارٹی کانگریس،کمنسٹوں کے علاوہ بھاجپا کے سینر لیڈر اور ایم پی ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے بھی سوال اُٹھائے ہیں ۔سوامی نے سیدھے طو ر پر یورپی یونین کے نمائندہ وفد کے کشمیر دورے پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری قومی پالیسی سے الٹ ہے ۔کانگریس سیکریٹری جنرل پرینکا واڈرا نے سرکار کے اس قدم پر نکتہ چینی کی ہے انہوںنے مودی سرکار کو اڑے ہاتھوں لینے ہوئے کہا کہ ہندوستانی ممبران پارلیمنٹ کو وہاں جانے سے روکنا غیر ملکی ممبران پارلیمٹ کو اجازت دینا انوکھا راشٹر واد ہے ۔انہون نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ کشمیرمیں یورپی ممبران پارلیمنٹ کو سیر سپاٹا اور مداخلت کی اجازت ہے لیکن ہندوستانی ممبران پارلیمنٹ اور نیتاﺅں کے کشمیر ہوائی اڈے پر پہنچتے ہی واپس بھیجا جاتا ہے ۔بسپا صدر مایاوتی نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو کشمیر جانے کی اجازت دی جاتی تو اچھا ہوتا انہوںنے کہا کہ جموں و کشمیر میں لاگو رہے ارٹیکل 370کو ختم کرنے کے بعد وہاں کی موجودہ حالات کا تجزیہ کرنے کے لئے یورپی فیڈریشن کے ممبران پارلیمنٹ کو جموں کو کشمیر بھیجنے سے پہلے سرکار اپنے ملکی اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ کو وہاں جانے کی اجازت دیتی تو اچھا ہوتا ۔منگل کو جب 27یورپی یونین کا گروپ سری نگر گیا تو ہندوستانی فوج کے حکام سے ملاقات کی اور ریاست کی ڈل جھیل میں کھڑے شکاروں میں بیٹھ کر ڈل جھیل کی سیر کی اور یہ سب بھاری سیکورٹی میں ہوا ۔بدھ کے روز کشمیر ی دورے کے بعد ان ممبران پارلیمنٹ نے میڈیا سے خطاب کیا اور میڈیا سے اپنی رائے ظاہر کی ۔سری نگر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگا ر ریاض مسرور کا کہنا تھا کہ اس پریس کانفرنس میں مقامی میڈیا کو نہیں آنے دیا گیا ۔اور ممبران پارلیمنٹ کے وفد کے کشمیر آتے ہی یہ وفد فوج کے ہیڈ کوارٹر لے جایا گیا اور فوج نے ہی کنٹرول لائن دکھای نیشنل کانفرنس کے ایم پی اکبر لون کا کہنا تھا کہ بین الا اقوامی برادری کو دھوکے میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے وفد میں شامل ایک برطانیوی ایم نے بتایا کہ یہ لو گ بین الا اقوامی نمائندہ وفد کا حصہ ہیں ۔بھارت قیام امن کے لئے دہشتگردی کو ختم کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے اور ہم اس کی پوری کوشش میں لگا ہوا ہے ۔ہم اس کی پوری حمایت کرتے ہیں ۔ہم حکومت ہند اور مقامی انتظامیہ کے ذریعہ گرمجوشی سے کئے گئے استقبال کے لئے شکریہ ادا کرتے ہیں یہ پہلی مرتبہ ہے جب جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد کسی بین الاقوامی ٹیم کو جموں وکشمیر جانے کی اجازت دی گئی ہے ۔پانچ اگست کو ارٹیکل 370کو ہٹانے کے بعد جموں و کشمیر کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا تھا مرکزی سرکار کے اس یورپی یونین وفد کے دورے پر دلیل ہے کیونکہ پاکستان کشمیر کو لے کر کس طرح دنیا کے ذہن میں گمراہی پیدا کر رہا ہے ۔اور آرٹیکل 370ہٹانے کے بعد سے وہ وادی کشمیر میں کس طرح کی سازشیں رچ رہا ہے اس کا بخوبی علم دنیا کے کافی ملکوں کو ہے اور مرکزی حکومت کی منشا ہے کہ یورپی یونین کا نمائندہ وفد صوبے کا دورہ کرے اور وہاں جاری ترقیاتی کاموں اور بحالی امن کے لئے سنجیدہ کوششوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھے بے شک اس میں کوئی برائی نہیں ہے ۔لیکن حکومت کو ایسی فراخ دلی دیش کی سیاسی پارٹیوں کے نیتاﺅں کو لے کر بھی دکھانی چاہیے ۔غیر ملکی وفد کے اور اپنے دیش کے نیتاﺅں کے دورے پر روک لگانے کا غلط سندیش جا رہا ہے ۔یورپی یونین کے وفد کے دورے کے دوران وادی کشمیر میں مختلف حصوں میں تشدد او ر مظاہرے بھی ہوئے ہیں ،سری نگر نے مضافاتی اور 90فٹ روڈ سے کم پانچ سڑکوں پر پتھر اور دوسری طرح کی چیزوں سے ناکا بندی کی تھی ۔لوگوں کے پتھراﺅ سے نمٹنے کے لئے مقامی پولس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا جس میں کئی لوگ کئی لوگ زخمی ہوئے تھے ۔سوال یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ یہ مادی شرما کون ہیں ؟جس نے اس دورے کا انتظام کیا ؟اس دورے کا خرچ کس نے برداشت کیا ؟

(انل نریندر)

31 اکتوبر 2019

ہریانہ کے نتیجے دہلی میں بھاجپا کےلئے خطرے کی گھنٹی

مہاراشٹر اور ہریانہ میں چلی منفی ہوا راجدھانی دہلی کی سیاست میں ہلچل مچا سکتی ہے ۔خاص کر ہریانہ کے چناﺅی نتیجے اگلے سال ہونے والے دہلی اسمبلی کے سیاسی مجاز کو بھی متاثر کر سکتے ہیں ۔بے شک ہریانہ کے چناﺅی نتیجے بی جے پی کی حکمت عملی سے تقریبا الٹ آئے ہیں یہاں پارٹی نے راشٹرواد ،کشمیر میں آٹیکل 370سمیت دیگر قومی اشوز کو اپنا اہم چناﺅی ہتھیار بنایا تھا ۔حکمت عملی میں تبدیلی نہیں ہوتی تو یہ دہلی کی سیاست کے لئے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی ثابت ہوگی ۔معلوم ہو کہ دہلی کے اقتدار سے بی جے پی 20برسوں سے دور ہے عام آدمی پارٹی(عآپ)نے گزشتہ چناﺅ میں ہریانہ چناﺅ میں منفی پرچار کیا تھا ۔لیکن اس مرتبہ چناﺅ میں عآپ کے قومی کنوینر اروند کجریوال نے قومی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے ۔اس مرتبہ عآپ پارٹی سیدھا ٹارگیٹ دہلی کے چناﺅ ہیں ۔عآپ بجلی،پانی ،پبلک ٹرانسپورٹ،محلہ کلینک ،اور عورتوں کو بس میں مفت سفر جیسے مسئلوں پر چناﺅی ماحول تیار کر رہی ہے ۔جن کا توڑ اب تک بی جے پی کے پاس نہیں ہے ۔اور نہ ہی کانگریس کے پاس عآپ کے حکمت عملی ساز مان رہے ہیں کہ ہریانہ مہاراشٹر کے چناﺅ نتائج سے ثابت ہو گیا ہے کہ اسمبلی چناﺅ قومی مسئلوں پر نہیں لڑا جاتا ۔اسی لئے راشٹر واد ،آرٹیکل 370اور قومی سلامتی جیسے اشو اسمبلی انتخابات میں اب زیادہ اثر نہیں دکھایں گے ۔دہلی اسمبلی چناﺅ بھی مقامی اشوز پر لڑا جائے گا۔آپ سرکار کے پچھلے پانچ سال کے کاموں کا جم کر پرچار کر رہی ہے ۔اور کمپین میں بھی کرئے گی ۔اس سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا کجریوال سرکار نے عوام سے سیدھے جڑے اشوز پر موثر ڈھنگ سے کام کیا ہے ۔دوسری طرف دہلی کانگریس کا خیال ہے کہ ہریانہ کا چناﺅ ثابت کرتا ہے کہ لوگ موجودہ حکمراں پارٹی سے ناراض ہیں اور وہ متبادل تلاش کر رہے ہیں ۔ان کو پرانے کانگریسی حکومت خاص کر شیلا دکشت کے عہد کی یاد آرہی ہے ۔کانگریس کا کہنا بھاجپا کی طرح دہلی میں عآپ نے بھی دہلی والوں سے جھوٹے وعدے کئے ہیں ۔2015میں اسمبلی چناﺅ کے بعد ہوئے چناﺅ میں کانگریس کا ووٹ فیصد بڑھا ہے ۔ہریانہ نتیجوں سے نہ صرف کانگریسی ورکروں میں جوش بڑھا ہے بلکہ عام ووٹروں کو بھی کانگریس میں بھروسہ بڑھے گا ۔ادھر بی جے پی ہریانہ اسمبلی چناﺅ کے نتیجوں کو اپنی جیت مان رہی ہے ۔ان کااثر ہریانہ سے لگے علاقوں پر بھی پڑنے کی امید بی جے پی کو ہے ۔اس لئے اب پارٹی نے راشٹرواد کے اشو کو چھوڑ کر مقامی اشوز پرکام شروع کر دیا ہے ۔کچی کالونیوں کو پکہ کرنے کا بڑا وعدہ بی جے پی کا ماسٹر کارڈ ہے ہریانہ مہاراشٹر کے چناﺅ کے فوراََ بعد جو حالات سامنے آئے ہیں اس میں پارٹی کی سینر لیڈر شپ کا رویہ سخت رہا ہے ۔دہلی کی پوزیشن میں پارٹی کو پرانے لیڈروں کی ناراضگی کو دھیان میں رکھنا چاہیے ۔کیونکہ نئے نیتاﺅں کو جوڑنے کے چکرمیں پارٹی کا بنیادی کیڈر چھوٹ رہا ہے ۔اس وجہ سے بھاجپا کی پرانی سیٹوں پر بھی لگاتار منتھن ہو رہا ہے دہلی کی 25سے 30سیٹیں ایسی ہیں جو جاٹ پنجابی گوجر فرقہ کے وابسطہ ہیں ان سیٹوں پر محنت کر کے ہی دہلی کے اقتدار کا راستہ صاف ہوگا ۔2020میں ہونے والے اسمبلی چناﺅ میں بی جے پی کا اہم مقابلہ عآپ سے ہونے والا ہے ۔

(انل نریندر)

ہم دشینت نہیں ہیں جس کے پتا جیل میں ہیں

2014کے پہلے اتحادی حکومتوں کی کھینچ تان ان دنوں مہاراشٹر میں دیکھنے کو مل رہی ہے ۔چناﺅ نتائج آنے کے اتنے دن بعد بھی مہاراشٹر میں حکومت نہیں بن سکی بھاجپا اور شیو سینا ایک دوسرے پر الزام تراشیوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہیں۔شیو سینا کہہ رہی ہے کہ بھاجپا کو یہ تحریری طور پر گارنٹی دینی ہوگی کہ ہم 50-50فارمولے کے مطابق سرکار کی تشکیل کریں گے یعنی ڈھائی سال بھاجپا کا وزیر اعلیٰ اور ڈھائی سال شیو سینا کا اس پر منگلوار کو وزیر اعلیٰ دویندر فڑنیویس نے دو ٹوک کہہ دیا کہ شیو سینا کے ساتھ ڈھائی ڈھائی سال وزیر اعلیٰ کے عہدے پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔انہوںنے صاف کیا کہ وزیر اعلیٰ تو پانچ سال کے لئے بی جے پی کا ہی ہوگا اور اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے ۔اس بیان کے بعد شیو سینا نے تلخ تیور دکھانے شروع کر دیئے۔بی جے پی کے ساتھ منگل کو ہونے والی میٹنگ منسوخ کر دی گئی ۔پارٹی نیتا سنجے راوت کے مطابق مرکزی وزیر پرکاش جاویڈکر اور شیو سینا کے سینئر لیڈروں کے درمیان ہونے والی میٹنگ کو منسوخ کر دیا گیا اور یہ ادھو ٹھاکرے کے ہدایت پر ٹل گئی ہے ۔اس سے پہلے سنجے راوت نے بی جے پی پر تلخ نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کوئی دشینت نہیں جس کے پتا جیل میں ہیں ۔یہاں ہم جو دھرم اور سچائی کی سیاست کرتے ہیں 288ممبری اسمبلی میں بی جے پی کے 105شیو سینا کو 50سیٹیں ملیں ہیں ۔شیو سینا نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر طے معاہدے کے تحت وزیر اعلیٰ کا عہدہ ڈھائی ڈھائی سال کے لئے نہیں ملا تو وہ سرکار کی تشکیل کے لئے دوسرا متبادل بھی دیکھ سکتی ہے ۔یہ این سی پی کانگریس کی حمایت لینے کی طرف اشارہ تھا ۔چناﺅ میں این سی پی کو 54سیٹیں اور کانگریس کو 41سیٹیں ملی ہیں ۔آزاد کو تیس سیٹیں ملیں ہیں اگر دونوں پارٹیوں نے مل کر شیو سینا کو سپورٹ کیا تو اس کی سرکار بن سکتی ہے ۔حالانکہ بھاجپا کو ایسا کوئی امکان نہیں دکھائی دے رہا ہے ۔شیو سینا کا یہ موقوف حقیقت میں مہاراشٹر کے چناﺅ نتائج کا ہی ایک حکمت عملی ہے ۔اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیٹیں 135یا 140تک پہنچ گئی ہوتی تو شیو سینا ایسی مانگ نہیں رکھ سکتی تھی ۔شیو سینا کا نظریہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ان کے ساتھ سرکار بنانا اس کی مجبوری ہے ۔اس لئے اس میں جتنا مول بھاﺅ کر سکتے ہیں کر لینا چاہیے ۔ذرائع کے مطابق بھاجپا سرکار کی تشکیل کے لئے شیو سینا کو آفر دینے کو تیار ہے ۔اس کے تحت بی جے پی نے سمجھوتے کے کئی متبادل پیش کئے ہیں ۔اس میں ایک ہے ۔دیوندر فڑنویس کے بعد نمبر دو پر فل ٹرن ڈپٹی سی ایم کا عہدہ شیو سینا کو دینا اگر شیو سینا سی ایم عہدے کے لئے اڑی رہی تو اس کے لئے بھی متبادل تیار رکھا گیا ہے ۔کامیاب سیٹیوں کے نمبروں کے حساب سے بی جے پی پہلے چار سال تو آخری سال میں شیو سینا کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا متبادل دے سکتی ہے ۔وہیں پچھلی بار کے مقابلے کچھ اہم وزارتیں شیو سینا کو دی جا سکتی ہیں ۔لیکن شیو سینا سی ایم عہدے میں برابری حصہ لینے پر اڑی ہوئی ہے ۔شیو سینا کے ذرائع کے مطابق اگر آدھا آدھا نہیں ہوا تو 3سال 2سال کے فارمولے سے کم پر بات نہیں ہوگی مطلب پہلے دو سال شیو سینا کا ہوگا ۔یہ نورہ کشتی آٹھ دس دن اور چلے گی ۔جب تک سرکار بننے کی آخری طے معیاد ختم ہونے والی ہوگی ۔

(انل نریندر)

30 اکتوبر 2019

یوپی ،بہار میں این ڈی اے کو نقصان کیوں ہوا ؟

دیش کی 16ریاستوںاور مرکزی حکمراں ریاست پوڈو چیری کی51 اسمبلی سیٹوںکے لئے ہوئے ضمنی چناو ¿ میں یوپی بہار میں حکمراں این ڈی اے کو زبردست جھٹکا لگاہے ۔یوپی کی گیارہ سیٹوں میں بھاجپا 7،سپا 3اور اپنا دل 1سیٹ پر کامیاب ہوئی ۔وہیں بہار میں 4سیٹوں پر چناو ¿ لڑ رہی جے ڈی یو کو ایک سیٹ ملی جبکہ اپوزیشن آر جے ڈی نے 4سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے ان میں 2پرا ن کو کامیابی ملی ایک سیٹ پر اویسی کی پارٹی نے جیت کر ریاست میں خاطہ کھولا ہے یوپی میں وسپا کو اپنی ایک سیٹ ہارنے کا بڑا جھٹکا لگاہے جبکہ بھاجپا کو ایک سیٹ کا نقصان ہوا ہے ۔جبکہ بڑی اپوزیشن پارٹی سماج وادی پارٹی کو پچھلے انتخابات کے مقابلے 2سیٹوں کا فائدہ ہواہے ان انتخابات میں سپا چیف اکھیلیش یادو کو سنجیونی دی ہے انہوں نے رام پور میں اپنی سیٹ بچائی بلکہ بھاجپا اور بسپا سے ایک ایک سیٹ چھین کر تین سیٹوں پر کامیابی حاصل کی اتنا ہی نہیں پارٹی کے امیدوار 4جگہ پر ووٹ کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہے ۔اگر بسپا اور سپا کا اتحاد جاری رہتا تو دونوں کو کہیں زیادہ سیٹیں ملتی اور بھاجپا کو زیادہ نقصان ہوتا لیکن بہن جی کو سب سے زیادہ نقصان ہوا ۔بہر حال یوپی میں اکیلے چل پڑے اکھلیش یادو کی سائےکل بیشک امیدوں کی پٹری پر آگئی ہے ۔بہار میں لوک سبھا سمیت 6سیٹوں کے لئے ہوئے ضمنی چناو ¿ کا نتیجہ این ڈی اے کے لئے اگلے اسمبلی چناو ¿ میں لال بتی کے برابر ہے ان چھ سیٹوں پر اپوزیشن کے لئے کھونے کے لئے کچھ نہیںتھا پھر بھی این ڈی اے سے سیٹیںچھین کر اپوزیشن نے جتا دیا کہ اگلے اسمبلی چناو ¿ میں چناو ¿ی جنگ زبردست ہوگی ۔بہار میں جنتا نے جے ڈی یو اور آر جے ڈی دونوں کو ٹھکرا کر آزاد امیدواروں کو جتایا اسی طرح کشن گنج اسمبلی ضمنی چناو ¿ں میں بھی کسی پارٹی کی جیت نہیں ہوئی ہے دونوں بھاجپا آر جے ڈی کے امیدوار ہارے ہیں ۔اویسی کے امیدوار کی جیت سے ان کی پارٹی کو کھاتا کھولنے کا موقع دے دیا ہے ۔بھاجپا و جے ڈی یو دونوں کو احساس ہو گیا ہے کہ دونوں کے درمیان مشترکہ اتحاد پر ہر وقت اپوزیشن قہر بنائے گی حالانکہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو اپنا روایتی دوست مانتے ہیں اسی لئے دونوں کے ساتھ رہنے میں ہی فائدہ ہے ۔یہ نتیجے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے لئے خطرے کا اشارہ دے رہے ہیں سوشاسن بابو کا جادو اترنے لگا ہے پردیش میں دونوں پارٹیوںکے ورکر ادھیڑبن میں نظرآئے اگر بھاجپا کی قومی لیڈر شپ بھاجپا اور جے ڈی یو کے جوڑ کر لے کر پوزیشن صاف نہیں کرتی تو ضمنی چناو ¿ میں این ڈی اے کا صفایہ ہو جاتا ۔بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ جب تک قدم اٹھاتے بہار میں بھاجپا جے ڈی یو ورکروں کے درمیان کچھ الگ پیغام چلا گیا ہوتا ۔بہار میں جے ڈی یو بھاجپا اتحاد کو ضمنی چناو ¿ میں ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے تو اس کے لئے خود سوشاسن بابو کسی حد تک خود ذمہ دار ہیں ۔

(انل نریندر)

پرانے گھاگ نیتا ہی بن رہے کانگریس کے سنکٹ موچک!

حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ کانگریس ابھی زندہ ہے اورا گرزور لگائے تو پھر سے کھڑی ہو سکتی ہے ۔بے شک اس مرتبہ پارٹی کو اپنے ہی گھاگ نیتاو ¿ں کا سہارا لینا پڑا ۔معلق ہریانہ اسمبلی نتیجوں کے بعد نمبروں کے ترازو بھلے ہی بھاجپا کے حق میں جھک جائے مگر ہریانہ کے گھاگ نیتا بھوپندر سنگھ ہڈا نے ہریانہ میں کانگریسی سیاست کے ترازو کو ایک بار پھر مضبوطی سے پکڑ لیاہے اگر ہڈاکو ہائی کمان تھوڑا اگر پہلے وقت دے دیتا تو شاید وہ اس سے بہتر نتیجے لا سکتے تھے ہریانہ کے نتائج کے بعد شاید اس لئے ہڈا کو صوبہ کانگریس کی کمان آخری وقت میں دینے کی کانگریسی لیڈرشپ کی حکمت عملی پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں ہائی کمان نے کافی مشقت کے بعد ہڈا کو کمان سونپی جب چناو ¿ میں مہینے بھرکاوقت رہ گیا تھا ویسے یہ فیصلہ بھی سونیا گاندھی کے دوبارہ کانگریس صدر بننے کے بعد تب لیا گیا جب ہڈا نے کانگریس چھوڑنے کی وارننگ دے ڈالی ۔ہریانہ کے پڑوسی ریاست پنجاب میں بھی 2017کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی جیت کی کہانی بھی کم دلچسپ نہیں رہی تھی ۔پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے بڑھتے گراف کی گونج کے درمیان کیپٹن امریندرسنگھ نے اکالی بھاجپا کے ساتھ عام آدمی پارٹی کی دوہری چنوتی کو پست کرتے ہوئے کانگریس کی جیت کا پرچم لہرایا۔پنجاب کی چار اسمبلی سیٹوں پر 21اکتوبر کو ہوئے ضمنی چناو ¿ نتائج کے مطابق کیپٹن کی ڈھائی سال کی کار گزاری پر ووٹروں نے فتویٰ درج کراتے ہوئے کانگریس کے سر پر جمہوریت کا پرچم پھر لہرا دیا جبکہ انہیں چناو ¿ نتیجوں کے مطابق کیپٹن کے انتہائی بھروسے مند مانی جانی والی سیاسی مشیر اور کانگریس کی سکریٹری جنرل چھوٹے کیپٹن سندیپ سندھو لدھیانہ کے داکھا اسمبلی ضمنی چناو ¿ میں ہار کا منھ دیکھنے کے لئے مجبور ہوئے جبکہ شرو منی اکالی دل (بادل) کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ سکھویر بادل کی شخصی سیاسی مضبوط حلقہ جلال آبادمیں پہلی بار چناو ¿ لڑ رہے کانگریسی امیدوار رویندر آولا نے سیند ھ ماری کر ان کا قلعہ قمع کردیا ۔کانگریس نے 4میں سے تین اسمبلی سیٹیں جیتی ۔چھتیس گڑھ میں بھی پارٹی کے پرانے بھروسے مند نیتا بھوپیش بگلیل پر داو ¿ لگانا کانگریس کے لئے فائدہ مند رہا ۔صوبے میں 15سال بعد پارٹی کی اقتدار میں واپسی ہی نہیں ہوئی بلکہ بھاجپا کو صوبے میں اپنی سب سے بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔کرناٹک میں بیشک کانگریس کو پچھلے چناو ¿ میں اقتدار گنوانا پڑا مگر سدا رمیا کی وجہ سے پارٹی کی سیاسی طاقت برقرار رہی شاید اسی لئے یدی یورپا سرکار بننے کے بعد سونیا گاندھی نے صوبے کے تمام اعتراض کو درکنار کرتے ہوئے سدا رمیاکو کرناٹک اسمبلی میں اپوزیشن کا لیڈر بنا کر ایک بار پھر اپنے پرانے علاقائی گھاگ نیتاو ¿ں پر ہی بھروسہ کرنے کا پیغام دیا ۔ہڈا نے ہریانہ میں کمال دکھا کر پرانے علاقائی سرکردہ گھاگ نیتاو ¿ں کے اب بھی کانگریس کے سنکٹ موچک بنے رہنے سے ہی طور پر مشکل کو بھی ختم کرد یا ۔کانگریس نے مہاراشٹر ،ہریانہ اسمبلی چناو ¿ کے نتیجوں کا بھاجپا کی اخلاقی ہار قرار دیتے ہوئے اس نتیجہ نے حکمراں پارٹی کے جھونٹے دعووں کا پردہ فاش کیا ہے سینئر لیڈر آنند شرما نے کہا کہ بھاجپا نے نا صرف ہریانہ میںاپنی سیٹیںکھوئی ہیںبلکہ لوک سبھا چناو ¿ کے مقابلہ اس کا ووٹ فیصد میں بھی 32فیصدی کی گراوٹ آئی ہے ۔

(انل نریندر)

29 اکتوبر 2019

The decision to suspend your account. Waiting for payment.

Hi, dear user of blogger.com

We have installed one RAT software into you device
For this moment your email account is hacked too.
I know your password. I logged in to your account and wrote this letter to you from there.

Changed your password? You're doing great!
But my software recognizes every such action. I'm updating passwords!
I'm always one step ahead....

So... I have downloaded all confidential information from your system and I got some more evidence.
The most interesting moment that I have discovered are videos records where you masturbating.

I posted Spelevo Exploit modification on porn site, and then you installed my malicious code (trojan) on your operation system.
When you clicked the button Play on porn video, at that moment my trojan was downloaded to your device.
After installation, your front camera shoots video every time you masturbate, in addition, the software is synchronized with the video you choose.

For the moment, the software has harvrested all your contact information from social networks and email addresses.
If you need to erase all of your collected data and videos, send me $728 in BTC (crypto currency).

This is my Bitcoin wallet: 13yAsTuS6MyjNUYde4EBabTZJFfZBRTZu1
You have 48 hours after reading this letter.

After your transaction I will erase all your data.
Otherwise, I will send a video with your sweepstakes to all your colleagues, friends and relatives!!!

P.S. I ask you not to reply to this email, this is impossible (the sender's address is your own address).

And henceforth be more careful!
Please visit only secure sites!
Bye,Bye...

دیوی لال کی دوسری ،تیسری ،چوتھی ،پیڑھی ایکساتھ اسمبلی پہنچی

مئی میں لوک سبھا چناﺅ کے دوران جس طرح مودی میجک نے ہریانہ میں بھاجپا کو ریکارڈ جیت نصیب کرائی تھی وہیں پانچ مہینے بعد ہی حکمراں بھاجپا کو جھٹکا لگا ہے ۔75پار کا نشانہ لے کر چل رہی ہریانہ بھاجپا 40سیٹوں کا نمبر بھی بشمل ہی چھو پائی اس کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت وزیر داخلہ امت شاہ ،یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی ،اسمرتی ایرانی،ہما مالنی ،سنی دیول،راجناتھ سنگھ،نتن گڈکری جیسے بڑ ے چہروں سمیت چالیس اسٹار کمپینروں نے اپنی پوری طاقت جھونکی تھی ۔باوجود اس کے بھاجپا اپنے نشانے سے کامیابی سے دور رہی ۔اور آخرکار اسے جے جے پی کے ساتھ اتحادی سرکار بنانی پڑی ۔ہریانہ کے آخری کنارے پر بسے چوٹالہ گاﺅں کے پانچ ممبراسمبلی چودھویں اسمبلی میں پہنچے ہیں ۔چودھری دیو ی لال کے بیٹے رنجیت سنگھ سے ،پوتے اجے سنگھ ،پوتے کی بہو نیہا چوٹالہ ڈاکٹر ،پڑ پوتے دشینت چوٹالہ ،اچانا اور امت سہاگ ڈبوالی سے ممبراسمبلی بنے ہیں یہ ریاست اور دیش کا شاید پہلا خاندان ہے جس کے چودھری دیو ی لال کی دوسری ،تیسری،اور چوتھی پیڑھی ایک ساتھ اسمبلی پہنچی ہے ۔بھاجپا نے ہریانہ میں دشینت چوٹالہ کی جن نائک پارٹی سے اتحاد کر جاٹوں کو ایک بار پھر شیشے میں اتارنے کی کوشش کی ہے ایسا کرنے سے جاٹ فرقہ کابھاجپا کے تئیں پھر بھروسہ لوٹے گا ۔اسے ہریانہ ہی نہیں آنے والی دہلی اسمبلی چناﺅ اور دیگر ریاستوں میں بھی اس کوشش کا فائدہ مل سکتا ہے ۔بتا دیں کہ پچھلے جمعرات کی رات سے ہی ۔بھاجپا کے ساتھ ایک الگ چینل سے بھاجپا نے بات شروع کی تھی اسے وزیر مملکت انورائے ٹھاکر کروا رہے تھے ،انوراگ ٹھاکر کے دشینت چوٹالہ سے قریبی تعلقات بھی ہیں ۔اور دونوں نوجوان لیڈروں نے کئی دور کی بات چیت کر بھاجپا اور جے جے میں اتحاد طے کرا لیا تھا ۔ساری باتیں طے ہونے کے بعد احمد آباد گئے پارٹی صدر امت شاہ کو پیغام بھیجا گیا اس کے بعد انہوںنے دہلی آکر دشینت چوٹالہ سے فائنل بات کی ۔اس بات چیت میں مسئلہ نائب وزیر اعلیٰ کا رہا جس پر بھاجپا نے رضا مندی جتا دی بھاجپا ویسے بھی گوپال کانڈا سے حمایت لینے سے کترانے لگی تھی کیونکہ کانڈا کے خلاف اپوزیشن کو چھوڑ پارٹی کے اندربھی مخالفت ہونے لگی تھی اس لئے اسے لگا کہ جے جے پی سے اتحاد کرنے میں ہی پارٹی کو زیادہ فائدہ ہے ۔ہریانہ کی سیاست میں مخالفوں کے ساتھ اتحادکر کے اقتدار کی سیڑھی چڑھنے کی روایت ریاست کی تشکیل کے ساتھ ہی شروع ہوئی تھی سیاسی طور سے امرجنسی میں دیوی لال،بنسی لال،بھجن لال،جیسے دبنگ لیڈروںنے اتحاد کر کے اقتدار حاصل کیا ۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہریانہ کو کبھی بھی اتحا دکی سیاست راس نہیں آئی 1977میں چودھیر دیوی لال کی قیادت میں پہلی بار یہ اتحاد بنا کچھ وقت بعد بھجن لال نے دیوی لال سرکار گر ادی اور 1980میں بھجن لال کانگریس میں شامل ہوئے اور سرکار بنا لی 1987میں دیو ی لال نے بھاجپا سے اتحاد کر سرکار بنائی ان میںاوم پرکاش چوٹالہ سرکار بنے بھاجپا نے سرکار توڑ دیا اور سرکار اقلیت میں آگئی 1996میں بنسی لال نے ہریانہ وکاس پارٹی بنائی ۔بھاجپا کے ساتھ اتحادک کرکے ایکشن میں آگئے 1999 میں بھاجپا نے حمایت واپس لے لی تو بنسی لال سرکار گر گئی 2009میں جن ہت کانگریس بھاجپا اتحاد شروع ہوا ،نظریاتی اختلاف ہونے کے سبب اور 2014میں جن ہت کانگریس اور بی ایس پی کا اتحاد ہوا یہ بھی اتحا دنہیں چلا اب حال ہی میںبی ایس پی اور آئی این ایل ڈی نے پھر اتحاد کیا پھر انڈین نیشنل لوک دل اور بی جے پی کا اتحاد ہوا تو اوم پرکاش چوٹالہ بھی اقتدار کی سیڑھی چڑھ گئے لیکن یہ اتحاد بھی لمبا نہیں چلا اور ہریانہ میں لوک دل سرکار اقلیت میں آگئی ،مرکز میں بھاجپا سے حمایت واپس لے لی اس درمیان ہوئے لوک سبھا چناﺅ کے درمیان لوک دل میں بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کیا ۔یہ اتحاد بھی نہیں چلا اگر ہریانہ میں اتحادی حکومتوں کی بات کریں تو یہ تجربہ اچھا نہیں رہا ۔بھاجپا کا ٹریک ریکارڈ بھی اتحادی حکومتوں کا اچھا نہیں رہا ۔لیکن امید کرتے ہیں اس مرتبہ بھاجپا اور جے جے پی کی بنی اتحادی سرکار لمبی چلے ۔

(انل نریندر)

سریو تٹ پر دیپ اتسوکی نئی تاریخ رقم کی گئی

معجزاتی ...تصوراتی ....چھوٹی دیوالی پر آستھا کے دیپوں سے رام نگری ایسی جگمگائی ....مانو تریتا یگ لوٹ آیا ۔پشپک جہاز سے سیارام لکھن اترے ۔گورنر آنندی بین پٹیل ،سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ اور یو پی کی ڈپٹی اسپیکر وینا بھٹناگر نے ان کا استقبال کیا رام کتھا پارک میں راجا رام چندر کا دربار سجا ،وزیر اعلیٰ نے مہنت نرتیہ گوپال داس کے ساتھ راج ابھیشیک کیا اس کے کچھ دیر بعد سریو ندی کے ساحل پر ہوئی اور پاون نگری ایودھیا کو 5.51لاکھ دیپوں سے روشن کیا گیا ۔رام نگری میں شری رام پوڑی پر دیر شام دیپ جلانے کا پروگرام شروع ہو گیا شری رام پوڑی پر اودھ یونیورسٹی کے چھ ہزار رضا کار دیپ جلانے میں لگے رہے اس کے ساتھ ہی پوڑی پر دیپ جلانے کا ورلڈ ریکارڈ بن گیا ۔اودھ یونیورسٹی نے اپنا پچھلا ریکارڈ توڑتے ہوئے دیپ استو میں آدھی ساجھے داری کی ۔حالانکہ ٹارکیٹ چار لاکھ دیپ جلانے کا تھا لیکن اس نے چار لاکھ دس ہزار دیپوں کو جگمگا دیا ۔پچھلی مرتبہ 3.21لاکھ دیپوں کا ورلڈ ریکارڈ بنا تھا اس مرتبہ تقریب پر نگاہ رکھ رہی گنیس بک آف دی ورلڈ دیکارڈ کی ٹیم اسے ایک نایاب معجزہ بتاتے ہوئے ورلڈ ریکارڈ بنے کا اعلان کرتی ہے ۔دیوالی پر ایودھیا بھگوان رام کے رنگ سے رنگی ہوئی تھی یہاں 3ڈی تکینک سے رام کتھا کا منچن ہوا ۔رام نگری کو رام کے رنگ میں پرونے کے لئے ہزاروں اسکولی بچوںنے بھگوان رام کی زندگی پر مبنی پینٹنگ سے ایودھیا کو ایک عجوبا بنا دیا ۔پچھلے دو سال سے ایودھیا میں تاریخی دیوالی منانے والی یوگی سرکار نے اس مرتبہ ریکارڈ بنایا ۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ایودھیا میں مندر مسجد گزرے زمانے کی بات ہے ۔شری رام ابھیشک و دیپ استو کے ساتھ دھارمک نگری کو نئی پہنچان مل گئی ہے انہوں نے کہا کہ کلیگ میں تریتا یگ دیویہ درشن کرا کر رام نگری کی روحانی پہچان دینے کی جو کوشش کی وہ رنگ لائی ۔رام نگری کو ورلڈ سطح پر سیاحت کے لے مقبول بنانے کے لئے وزیر اعلیٰ یوگی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔مسلم فرقہ کے لوگ بھی اس پروگرام میں شریک ہوئے ۔بابری مسجد کے روح رواں محمد اقبال انصاری نے دھرم کانٹا میں واقع رہائش پر شوبھا یاترا میں شامل شری رام دربار کا استقبال کیا یوگی جی نے ایودھیا کو نئی پہچان دینے کی جو کوشش دو پہلے شروع کی تھی وہ دھارمک نگری کے لئے میل کا پتھر ثابت ہونے لگی ہے سی ایم یوگی نے پچھلی حکومتوںپر ایودھیا کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پہلے کی حکومتیں ایودھیا کے نام سے ڈرتی تھیں اور یہاں آنا نہیں چاہتی تھیں ۔انہوںنے کہا کہ ایودھیا میں وکاس کی گنگا بہانے کی یوجنا ہے اور ایودھیا کو نئی پہچان دلانی ہے ۔جے شری رام ۔

(انل نریندر)

27 اکتوبر 2019

اسمبلی چناﺅ نتیجے سے ملے تھے اہم سندیش !

دو ریاستوں ہریانہ اور مہاراشٹر کے اسمبلی چناﺅ نتائج کم سے کم یہ تو سندیش دیتے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی بے شکست نہیں ہے ۔اور جنتا ریاستی حکومتوں کی غلطیوں کے لئے سزا دینے کو تیار ہے ،دوسرا سندیش بھی اتنا ہی واضح ہے کہ ووٹر اب لوک سبھا اور اسمبلی چناﺅمیں الگ الگ طریقے سے حالات کو دیکھتا ہے حالانکہ مہاراشٹر میں شیو سینا کے اتحاد کے ساتھ اس کی ایکتا بن گئی ہے ۔ہریانہ اسمبلی میں اسے کراری ہار ملی ہے ۔ب شک جوڑ توڑ سے بھاجپا سرکار بنا لے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ریاست میں ووٹ ان کے خلاف پڑا ہے ۔محض پانچ مہینے پہلے لوک سبھا چناﺅ میں بھاجپا نے اپنے دم پر تین سو سے زیادہ سیٹیں جیتیں تھیں لیکن اسے پچھلی مرتبہ کے مقابلے میں قریب 20سیٹیں کم ملی ہیں وہیں ہریانہ میں بھاجپا نے 75سیٹیں پانے کا دعوی کیا تھا لیکن وہ ٹارگیٹ سے بہت دور رہی ۔سچ کہا جائے تو یہ اس کے لئے بہت بڑا دھکا ہے ۔دونوں ریاستوں میں یہ لگ نہیں رہا تھا کہ کانگریس پورے من سے چناﺅ لڑ رہی ہے ۔کانگریسی لیڈر شپ کی طرف سے چناﺅ میں کوئی مورچہ بندی کی جھلک نہیں تھی ۔باوجود اس کے ہریانہ میں کانگریس کی پرفارمینس اتنی اچھی ہوئی ہے تو یقینی ہے کہ یہ بھاجپا کی پردیش سرکار کے خلاف ناراضگی کی علامت ہے منوہر لال کھٹر سرکار کے زیادہ وزراءکی ہار بتا رہی ہے کہ سرکار کو لے کر عام جنتا کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر بھی ناراضگی تھی ۔چناﺅ میں ووٹر جب ووٹ ڈالتے ہیں تو وہ صرف امیدوار کو جتاتے یا ہراتے نہیں ہیں ۔وہ امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کو صاف پیغام بھی دیتے ہیں ۔چناﺅ کے دوران پولنگ کے بعد تک یہ مانا جا رہا تھا کہ دونوں ہی ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی زوردار طریقہ سے اقتدار میں واپسی کرئے گی ۔یہاں تک کہ پولنگ کے بعد کے تمام سروے ایک کو چھوڑ کر یہی دعوی کر رہے تھے ایسے نتیجوں پر پہنچنا سب سے آسان بھی بہت تھا سبھی یہی اشارہ دے رہے تھے کہ دونوں ریاستوں میں بھاجپا کی شاندار واپسی ہو گی ۔اور یہ بھی اشارہ تھا مودی کے کرشمے اکیلے پر اسمبلی چناﺅ پر نہیںجیتے جا سکتے ۔مودی کا جادو گھٹنے کا یہ واضح اشارہ کہ اسمبلی چناﺅ اور لوک سبھا انتخابات میں ایک بنیادی فرق ہے ۔وہ ہے الگ الگ اشو ہونا مثال کے طورپر ہریانہ جہاں تقریبا ہر گاﺅں سے فوجی آتے ہیں میں راشٹرواد کا اشو نہیں چلا ریاستی حکومت نے پچھلے پانچ سال میں کیا کام کیا ہے اس پر ووٹ پڑے ہیں خو دوزیر اعظم مودی اور بھاجپا کے نیتا امت شاہ نے مہاراشٹر ہریانہ میں جموں و کشمیر میں ارٹیکل 370کو بے اثر کرنے اور قومی سلامتی جیسے اشوز کو زوردار ڈھنگ سے اُٹھایا تھا لیکن نیتجے بتاتے ہیں کہ ووٹروں کے لئے اقتصادی مندی بے روزگاری اور زراعت سیکٹر میں مایوسی جیسے اشو زیادہ ہاوی رہے ۔اپوزیشن بھی خاص کر دیش کی سب سے پرانی کانگریس پارٹی چناﺅ سے پہلے تک سب سے بڑی مینڈیٹ والی ہوتی تھی کو یہ بھی نتیجے پیغام دیتے ہیں ؟کیا وہ اپنے اس مینڈیٹ کو واپس لانے پر پھر سے غور کرئے گی ۔اور اپنی اہمیت کو اجاگر کرئے گی تو کیا جو پیغام عوام نے دیا ہے وہ صحیح کرنے کے لئے تھا آنے والے دنوں میں نوجوان لیڈر آدتیہ ٹھاکرے ،دشینت چوٹالہ کی قیادت میں شیو سینا اور جے جے پی کو اپنی بنیاد مضبوط کر نی ہوگی ۔کیونکہ اتحادی بھاجپا اتحادیوں کی بنیاد پر ہی اپنے مفاد کی تکمیل کرنے میں ماہر رہی ہے ۔مقابلے میں جو سیاسی پارٹی ہے وہ آج بھلے ہی اس کی اکیلی قیادت رہ گئی ہو لیکن بنیادی طور سے آئیڈیا لوجی اور کیڈر اور عزم والی پارٹی رہی ہے ۔لوک سبھا چناﺅ میں بھاجپا سے ملی کراری ہار سے مایوس بھلے ہی اپوزیشن کو مہاراشٹر ہریانہ میں اور کئی ریاستوں کے ضمنی چناﺅ نتائج سے نہ صرف سنجیونی ملی ہے ۔بلکہ یہ انہیں پیغام دینے میں بھی کامیاب رہی ہیں ۔اگر اپوزیشن پوری تیاری سے چناﺅ میں اترے تو بھاجپا کے قلوں کو ڈھا سکتی ہے ۔ہریانہ اور مہاراشٹر اور کئی ریاستوں میں ضمنی چناﺅ میں اپوزیشن میدان میں تو تھی لیکن آدھی ادھوری تیاری سے حال ہی میں لوک سبھا چناﺅ میں کراری ہار کے بعد صدمے میں ڈوبی اپوزیشن پوری طرح نکل نہیں پا رہی ہے ۔رہی سہی کسر چناﺅ سے پہلے کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں ،میں بھاجپا کی سیندھ ماری ،سی بی آئی ،ای ڈی کے ذریعہ کی گئی کارروائی کو پوری طرح سے مایوسی میں ڈال دیا تھا اور اخلاقی طور سے بڑھت حاصل کر لی تھی لیکن چناﺅ میں جس طرح اب نتیجے آئے ہیں وہ یہ بھی اشارہ دے رہے ہیں کہ مقامی سطح پر لوگوں کا بھروسہ بھاجپا سے اُٹھ رہا ہے اور اسے ٹھوس متابادل کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے ۔اگر ایسے آنے والے دیگر ریاستوں کے چناﺅ میں اپوزیشن متحد ہو رک پوری شدت سے چناﺅ میدان میں کودی تو یقینی طور سے بھاجپا کو مات دی جا سکتی ہے ۔نتیجوں سے ہمیں کئی پیغام ملتے ہیں ۔راشٹر واد مذہبی اشو پر ہر چناﺅ جیتنے کی گارنٹی نہیں ہو سکتی مقامی اشوز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔اگر کروگے تو وہ بازی مار سکتا ہے ۔خاص کر اسمبلی انتخابات میں مندی اور مہنگائی اور بے روزگاری سے پیدا مایوسی اور ناراضگی کہیں نہ کہیں عوام میں جگہ بنا رہی ہے ان تینون مسئلوں کو بھلانا غلط ثابت ہوگا ۔نتیجوں سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پی ایم مودی نریندر مودی کی مقبولیت میں کمی آئی ہے لیکن بی جے پی حکمراں ریاستی سرکار وں کے خلاف اقتدار مخالف لہر بھی ہے ذات پات کی گول بندی سے سیاسی صورت بدل سکتی ہے ۔ہریانہ میں جاٹ بنام غیر جاٹ مہاراشٹر میں برہمن بنام مراٹھا کے درمیان خیمے بازی نے نتیجوں کو کافی متاثر کیا ہے ۔مہاراشٹر اور ہریانہ بھاجپا کو ہوئے نقصان کی کچھ وجوہات واضح ہیں۔مقامی اشوز کے بجائے کشمیر ،راشٹرواد ،پاکستان،سلامتی اشو ،اٹھائے نہ تو ریاستی سرکارکی کامیابیاں اور نہ ہی سرکار مخالف سیکٹر پر توجہ دی گئی بڑھتی خو دا عتمادی نے بھی بھاجپا کو نقصان پہنچایا ایسے میں تازہ نتیجے بھاجپا کو اپنی حکمت عملی پر پھر سے غور کرنے کی طرف اشارہ دے رہے ہیں ۔

(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...