Translater

01 ستمبر 2018

راہل جن سماجی۔ سیاسی اشوز کو اٹھا رہے ہیں انہیں خارج نہیں کیا جاسکتا

کانگریس صدر راہل گاندھی بیشک وزیر اعظم بنیں یا نہ بنیں مگر مشترکہ اپوزیشن کے 2019 میں نیتا بنیں یا نہ بنیں پر جو سوال وہ اٹھا رہے ہیں انہیں مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اور ان کے جواب نہیں مل رہے۔ ادھر ادھر کے الزام لگائے جارہے ہیں لیکن اصل اشوز پر کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل پا رہا ہے۔ حال ہی میں راہل نے اپنے جرمنی اور لندن میں مودی سرکار پر تلخ حملے کئے۔ انہوں نے آر ایس ایس ، 1984 کے سکھ فسادات اور مودی سرکار پر تلخ حملے کئے اور بیباکی سے اپنے نظریات رکھے۔ راہل الزام لگایا کہ بھاجپا سرکار میں عدلیہ اور چناؤ کمیشن کو بانٹا جارہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی دیش کے سامنے اٹھ رہے سنگین اشوز پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور کسی بھی اشو کا جواب نہیں دے رہے ہیں۔ لندن میں واقع انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں منعقدہ ایک پروگرام میں آر ایس ایس کا موازنہ مسلم برادر ہڈ سے کیا جس پر بھاجپا اور آر ایس ایس کی طرف سے تلخ رد عمل سامنے آیا۔ مسلم برادر ہڈ کا قیام 1928 میں مصر میں ہوا تھا۔ پچھلے کچھ برسوں سے کانگریس سنگھ کے خلاف بھگوا دہشت گردی جیسے سخت اور جارحانہ الفاظ کا استعمال کرتی آرہی ہے۔ اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے راہل نے سنگھ کے ساتھ مسلم برادر ہڈ کا موازنہ کیا ہے اور دونوں تنظیموں میں حالانکہ کچھ یکسانیت بھی ہے۔ مثلاً آر ایس ایس کی طرح مسلم برادر ہڈ بھی اپنے کو سماجی اور ثقافتی انجمن ہونے کا دعوی کرتی ہے۔ سنگھ کا قیام ہندو سماج کے مفادات کی حفاظت کے لئے ہوا ہے تو مسلم برادر ہڈ کے نام سے ہی صاف ہے اس کا مقصد اخلاقی اقدار کو فروغ کرنا ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی کے لندن میں کئی پروگرام تھے۔ انڈین اوور سیز کانگریس کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مودی سرکار پر کئی الزام لگائے۔ راہل نے کہا کہ سپریم کورٹ ،چناؤ کمیشن ، بھارتیہ ریزرو بینک جیسے ادارہ جو ہمارے دیش کے ستون ہیں انہیں بانٹا جارہا ہے۔ پہلی بار عدالت عظمیٰ کے چار سینئر ججوں کو پبلک طور پر یہ بات کہنی پڑی کہ انہیں کام نہیں کرنے دیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم یہ کہہ کر ہر ایک ہندوستانی کی بے عزتی کرتے ہیں کہ پچھلے 70 سالوں میں بھارت میں کچھ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے بھارت عالمی برادری کو مستقبل دکھاتا ہے۔ بھارت کے لوگوں نے اسے ممکن کیا ہے۔ اس میں کانگریس نے بھی مدد کی ہے۔ راہل نے کہا اگر وزیر اعظم کا یہ کہنا ہے کہ ان کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے کچھ نہیں ہوا تو وہ کانگریس پر رائے زنی نہیں کررہے بلکہ وہ دیش کے ہر شخص کی بے عزتی کررہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا حال ہی میں بھارت میں دلتوں، کسانوں ،قبائلی لوگوں، اقلیتوں اور غریبوں کو کہا جاتا ہے کچھ نہیں ملے گاآواز اٹھانے پر ان کی پٹائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا درج فہرست ذاتیں اور درج قبائل (ظلم انسداد) ایکٹ کو تباہ کیا جاتا رہا ہے۔ وظیفے بند کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا آج بھارت میں لوگوں کے ساتھ ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز برتا جارہا ہے۔ حاشیے پر پڑے لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا جارہا ہے جبکہ انل امبانی جیسے لوگوں کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب وزیر اعظم کی پارٹی کے ممبر اسمبلی نے مہلا کے ساتھ آبروریزی کی تو وہ خاموشی اختیار کئے رہے۔ جب نیرو مودی جنتا کا پیسہ لیکر بھاگ گیا تب بھی وہ خاموش رہے۔ کانگریس صدر نے کہا چین روزانہ 50 ہزار نوکریاں پیدا کرتا ہے جبکہ بھارت میں محض 450 لوگوں کو ہی نوکری ملتی ہے۔ ہمارے کسانوں کو مدد چاہئے۔ ہمارے نوجوانوں کو تعلیم ، بزرگوں کو صحت خدمات لیکن ان اشوز پر کوئی بحث نہیں ہوتی۔ راہل نے کہا کہ میں وزیر اعظم کے لئے غلط زبان کا استعمال نہیں کرتا اگر آپ نے رافیل سودے پر پارلیمنٹ میں بحث سنی ہوگی تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ وزیر اعظم میرے ایک بھی سوال کا جواب نہیں دے پائے۔ بیرون ملک میں مقیم ہندوستانیوں کے دیش کی ترقی میں دئے گئے اشتراک کی سراہنا کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا مہاتما گاندھی، بی آر امبیڈکر اور جواہر لعل نہرو سبھی این آر تھے۔ انہوں نے دنیا کا دورہ کیا اور نئے نظریات کے ساتھ بھارت کی مدد کی۔ جرمنی کے ہمبرگ میں واقع بکارس سمر اسکول میں دی گئی راہل کی تقریر کافی سرخیوں میں رہی۔ راہل نے دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا ترقی عمل سے بڑی تعداد میں لوگوں کو باہر رکھنے سے دنیا میں کہیں بھی دہشت گرد تنظیم پیدا ہوسکتی ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ مرکز کی بھاجپا سرکار نے ترقی کے عمل سے آدی واسیوں ، دلتوں اور اقلیتوں کو باہر رکھا ہے اور یہ ایک خطرناک بات بن سکتی ہے۔ اگر آپ 21 ویں صدی میں لوگوں کو کوئی ویژن نہیں دیتے تو کوئی اور دے گا۔ترقی کے عمل سے بڑی تعداد میں لوگوں کو باہر رکھنے کا یہ اصلی خطرہ ہے۔ کانگریس صدر نے دعوی کیا کہ بھارت میں بھیڑ کے ذریعے لوگوں کو پیٹھ پیٹھ کر مارڈالے جانے کے واقعات، بے روزگاری حکمراں بھاجپا کے ذریعے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کو خراب طریقے سے لاگو کئے جانے سے چھوٹے کاروباروں کے چوپٹ ہوجانے کی وجہ سے غصے کے اسباب پیدا ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا چھوٹے کاروبار میں کام کرنے والے بڑی تعداد میں لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں اور مجبور ہوکر اپنے اپنے گاؤں لوٹ رہے ہیں۔ راہل نے پاکستان کے اشو پر کہا پاکستان کو لیکر پی ایم مودی کے پاس کوئی سنجیدہ سوچی سمجھی حکمت عملی نہیں ہے۔ چین کے ساتھ مودی سرکار کی خارجہ پالیسی پر بولتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ پی ایم مودی ڈوکلام کو محض ایک ایونٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اقتدار کی لامرکزیت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بھارت تبھی کامیاب ہوا جب اقتدار کا سینٹرلائزیشن ہوا۔ پچھلے چار برسوں میں بڑے پیمانے پر اقتدار کا سینٹرلائزیشن ہوا۔ آج اقتدار کی پوری طاقت پی ایم او کے پاس ہوگئی ہے۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے راہل گاندھی کی حمایت میں اترتے ہوئے کہا کہ اگر آر ایس ایس اور بھاجپا قیادت والی این ڈی اے حکومت اور یہاں تک کہ وزیراعظم نریندر مودی کی تنقید بھارت پر حملہ کے برابر نہیں ہے۔ بھاجپا کے ترجمان سنبت پاترا نے راہل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ان کو فوراً معافی مانگی چاہئے۔ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا بول رہے ہیں۔ وہ سپاری لے کر ہندوستان کو ختم کرنے کی کوشش بند کریں۔ وہیں سدھانشو ترویدی نے کہا کہ راہل گاندھی نا سمجھ ہیں اور نا دان نیتا ہیں وہ دیش کو اسی مقام پر پہنچانا چاہتے ہیں جس پر اپنی پارٹی کو پہنچایا ہے۔ ایک ووٹ کی خاطر کانگریس نے دیش کو مذہب ، ذات پات کے نام پر بانٹا ہے ۔ بھاجپا کو اپنی بات کرنے اور نکتہ چینی کا پورا حق ہے لیکن سوال پھر وہی آتا ہے جو سوال جن کا میں نے تفصیل سے تذکرہ کیا ہے اہم سوال ہیں جن کا صحیح جواب نہ تو وزیر اعظم دے رہے ہیں اور نہ ہی بھاجپا دے رہی ہے۔ دیش ان سوالوں کا جواب چاہتا ہے نہ کہ الزام تراشی۔ راہل آہستہ آہستہ ایک سنجیدہ مقرر لیڈر بنتے جارہے ہیں۔
(انل نریندر)

31 اگست 2018

ڈونلڈ ٹرمپ اور امپیچمنٹ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب سے چنے گئے ہیں تب سے ہی تنازعات میں ہیں۔ نومبر 2016 میں چننے کے بعد انہیں کئی جھٹکے بھی لگ چکے ہیں۔اب ٹرمپ امپیچمنٹ کا سامنا کرسکتے ہیں۔ فلوریڈا سے ڈیموکریٹ ایم پی ٹیڈڈائچ نے ٹوئٹ کر کہا ہے کہ انصاف نظام میں مداخلت امپیچمنٹ کا سامنا کرنے لائق جرم ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دستک دینے کے بعد سے ہی الزامات کی جھڑی لگی ہوئی ہے۔ ان الزامات کی بنیاد پر امپیچمنٹ لفظ اچھلنے لگا ہے۔ کمان سنبھالنے سے پہلے ٹرمپ مخالف امپیچمنٹ کا اندیشہ جتا رہے تھے لیکن اب اسے کسی کے ذریعے پیش کیا جانا ہے۔ امریکی میڈیا نے الزام لگایا ہے کہ ٹرمپ نے ایف بی آئی چیف جیمس کومی سے روس اور امریکہ کے سابق قومی صلاحکار کے درمیان رشتوں کی جانچ روکنے کو کہا تھا۔امریکی میڈیا میں یہ بھی دعوی کیا جارہا ہے کہ ٹرمپ نے روسی سفیر کو اہم خفیہ جانکاری دی تھی۔ سوال یہ ہے کہ صدر پر امپیچمنٹ چلانا کتنا آسان ہے؟ ماضی میں کس نے امپیچمنٹ کا سامنا کیا ہے؟ ان سوالوں کے جواب سے شاید آپ حیران ہوسکتے ہیں۔ امپیچمنٹ کیا ہے؟ جب کسی صدر پر سنگین الزامات لگتے ہیں تو اس پر امپیچمنٹ چلانا جاتا ہے۔ امپیچمنٹ کے بعد صدر کو عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ امریکہ میں امپیچمنٹ کی کارروائی ہاؤس آف نمائندگان سے شروع ہوتی ہے اور اسے پاس کرنے کے لئے عام اکثریت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس پر ایک سماعت سینٹ میں ہوتی ہے لیکن امپیچمنٹ کو منظوری دینے کے لئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت پڑتی ہے۔ امریکی تاریخ میں اسے میل کے پتھر تک ابھی تک نہیں پہنچایا جاسکا۔ کئی بار امپیچمنٹ کے بادل گہرائے لیکن صرف دو صدور کو اس کا سامنا کرنا پڑا۔ اس معاملے میں سب سے حالیہ مثال ہے امریکہ کے 42 ویں صدر بل کلنٹن کی۔ بل کلنٹن کو ایک بڑی جیوری کے سامنے جھوٹی گواہی دینے اور انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کے معاملہ میں امپیچمنٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مونیکا لیونسکی سے پریم رشتوں کے معاملے کو لیکر انہوں نے جھوٹ بولا تھا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی الزام ہے کہ بل کلنٹن نے مونیکا لیونسکی کو بھی اس معاملہ میں جھوٹ بولنے کے لئے کہا تھا لیکن پہلے الزام کو لیکر کلنٹن کے امپیچمنٹ کے حق میں ہاؤس میں 228 ووٹ پڑے تھے جبکہ مخالفت میں 206 ووٹ پڑے۔ الزام کو لیکر حکمراں فریق 221 ووٹ اور مخالفت میں 212 ووٹ پڑے۔ کلنٹن کے بعد انڈریوز جانسن ایک واحد صدر ہیں جنہیں امپیچمنٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جانسن امریکہ کے 17 ویں صدر تھے۔ ان کی میعاد 1865 سے1869 تک تھی۔ ان کے خلاف 1868 میں ہاؤس میں امپیچمنٹ لایا گیا تھا۔ تب کے وزیر دفاع ایڈون اسٹنچین کے ہٹنے کے11 دن بعد ہی امپچمنٹ لایا گیا تھا۔ ایڈون صدر کی پالیسیوں سے متفق نہیں تھے۔ باقاعدہ طور پر دیکھیں تو ٹرمپ کے خلاف امپیچمنٹ ممکن نہیں ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار اینٹیزرتھر کا کہنا ہے کہ اگر ڈیموکریٹک اکثریت والا ہاؤس آف نمائندگان ہوتا تو امپچمنٹ کی کارروائی شروع ہوسکتی تھی۔ حقیقت میں یہ اس لئے ممکن نہیں کیونکہ یہاں ریپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔ ہاؤس میں 238 ریپبلکن ہیں جبکہ ٹرمپ مخالف ڈیموکٹ193 ہیں اور سینٹ میں 52 اور 46 کی پوزیشن ہے۔
(انل نریندر)

ای وی ایم کو لیکر پھر اٹھے سوال

کیا اگلا چناؤ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے ہونا چاہئے یا بیلٹ پیپر سے؟ اگر ای وی ایم سے ہوتا ہے تو اس کے لئے کیا پیرامیٹر ہوں؟ کیا دیش ون نیشن ون چناؤ کے لئے تیار ہے؟ پیر کو چناؤ کمیشن کی طرف سے بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ میں بنیادی طور سے یہی اشو چھائے رہے۔ میٹنگ میں تقریباً سبھی قومی اور علاقائی پارٹیوں کے نمائندوں نے حصہ لیا۔ میٹنگ میں کانگریس نے ای وی ایم پر سوال اٹھایا جس کی کچھ علاقائی پارٹیوں نے بھی حمایت کی۔ کانگریس نے چناؤ کمیشن سے درخواست کی کہ چناؤ میں شامل ہونے والی کم سے کم 30 فیصدی وی وی پیٹ کی جانچ کرائی جائے۔ کئی پارٹیوں نے ووٹنگ کے دوران جلنے والی لائٹ کی مدت کو بڑھانے کی بھی مانگ کی۔ کانگریس نے دعوی کیا کہ 70 فیصدی سیاسی پارٹیوں نے ای وی ایم پر سوال اٹھائے اور اس پر اپنی بے اعتمادی ظاہر کی۔ وہیں بی جے پی سمیت کچھ پارٹیوں نے ای وی ایم کی حمایت کرتے ہوئے پرانے زمانے کی بوتھ کیپچرنگ کی بات کی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے وی وی پیٹ کے بارے میں چناؤ کمیشن سے اب تک کی تیاری کے بارے میں جانکاری دی۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے بتایا کہ پارٹی نے چناؤ کمیشن سے یہ بھی کہا کہ اگر بیلٹ پیپر سے چناؤ کرانا ممکن نہیں ہو تو متبادل کے طور پر ای وی ایم کے ساتھ لگے 30 فیصدی وی وی پیٹ کی جانچ سے دیش میں آزادانہ و منصفانہ چناؤ یقینی ہوسکے گا۔ وہیں کانگریس کے سکریٹری جنرل مکل واسنک نے کہا کہ ای وی ایم کے تئیں جنتا کا رجحان منفی ہوتا جارہا ہے کیونکہ زیادہ ترریاستوں میں پولنگ کے دوران اس میں گڑبڑیاں سامنے آئی ہیں۔ یہاں تک کہ کئی بار دیکھنے کو ملا ہے کہ ووٹ دینے کے لئے کوئی بھی بٹن دباؤ تو وہ ایک نشان زد سیاسی پارٹی کو ہی جاتا ہے۔ ترنمول کانگریس نے تو بیلٹ پیپروں سے ہی چناؤ کرانے کی مانگ کی۔ میٹنگ کے بعد چیف الیکشن کمشنر اوپی راوت نے اخبار نویسوں سے کہاسیاسی پارٹیوں کی تجاویز کو نوٹ کرلیا گیا ہے اور ان کے بارے میں جائزہ لیا جائے گا۔ پھر ان پر کوئی غور ہوگا۔ راوت کا کہنا ہے بیلٹ پیپر کے واپس لوٹنے سے بوتھ کیپچرنگ کا دور واپس آئے ہم یہ نہیں چاہتے۔ حالانکہ کچھ پارٹیوں کی طرف سے ای وی ایم اور وی وی پیٹ میں کچھ پریشانیاں ہونے کی بات کہی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس بارے میں چناؤ کمیشن تشفی بخش حل نکالنے کے لئے یقینی دہانی کراتا ہے اور جلد شکایتیں دور کرلی جائیں گی۔ آل پارٹی میٹنگ میں 7 قومی اور 57 ریاستی سطح کی منظور شدہ پارٹیوں کے 40 نمائندوں نے شرکت کی۔ سیاسی پارٹیوں کے بھارت میں چناوی سسٹم کو شفاف و بھروسے مند اور بہتر بنانے کی مانگ کی ہم بھی حمایت کرتے ہیں۔ چناؤ کارروائی بالکل غیر متنازع ہونی چاہئے یہ ہماری جمہوریت کی جڑ ہے۔ پچھلے چناؤ سے اس میںآنچ آئی ہے۔ یہاں تک کہا جارہا ہے چناؤ کمیشن حکمراں پارٹی کے دباؤ میں کام کررہا ہے۔ چناؤ کمیشن ایک منصفانہ ،آزادانہ و آئینی ادارہ ہے۔ اس کی پہلی جوابدہی بھارت کی عوام کے تئیں ہے۔ وقت کی مانگ ہے کہ چناؤ کمیشن چاہے جونسا سسٹم اپنائے وہ بالکل صحیح ہونا چاہئے۔ اس پر دیش کے مستقبل کی سمت طے ہوگی۔
(انل نریند)

30 اگست 2018

وسندھرا راجے کی گورو یاترا پر پتھراؤ

راجستھان کے جودھپور میں وزیر اعلی وسندھرا راجے کی گورو یاترا پر پتھراؤ بیحد چونکانے والی واردات ہے۔ پردیش میں سیاست کے ابھرتے ہوئے اس روپ کو شاید کبھی پہلے نہیں دیکھا ہوگا۔ پہلی بار کسی سیاسی پروگرام میں اس طرح کی پتھربازی ہوئی ہے۔ وزیر اعلی وسندھرا راجے کی گورویاترا کے دوسرے مرحلہ کے دوسرے دن سنیچر کو جودھپور ضلع میں گورو رتھ پر پتھراؤ اور احتجاجی مظاہرہ کے معاملہ میں پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔ ویڈیو گرافی کی بنیاد پر پولیس نے اب تک 17 لوگوں کو پکڑا ہے۔ راجستھان میں اسمبلی چناؤ سے پہلے اس طرح وزیر اعلی کے خلاف احتجاج دکھاتا ہے کہ بھاجپا کے لئے ماحول اچھا اشارہ نہیں دے رہا ہے۔ وزیر اعلی کو جودھپور کے کئی علاقوں میں لوگوں نے کالے جھنڈے بھی دکھائے تو ایک جگہ پر ناراض بھیڑ نے جم کر پتھراؤ بھی کیا۔ اس سے وزیر اعلی کے قافلے میں چل رہی کچھ گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ پولیس نے یاترا کی مخالفت کرنے والوں پر لاٹھیاں برسا کر انہیں بھگادیا۔ وسندھرا راجے سنیچر وار کو ہی یاترا روک کر رات کو ہی جودھپور آگئیں۔یاترا کی مخالفت کرنے والوں کو چیلنج کرتے ہوئے وسندھرا راجے نے کہا تھا کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے احتجاج کیلئے سابق وزیر اعلی اشوک گہلوت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ احتجاج کرنے والے گہلوت کے حق میں نعرہ لگا رہے تھے۔ دوسری طرف سابق وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کہا کہ احتجاج اور کالے جھنڈے دکھانے کا ٹرینڈ بھاجپا نے ہی شروع کیا ہے۔ راجے گورو یاترا میں جو کالے جھنڈے دکھائے گئے ہیں ہوسکتا ہے وہ بھاجپا کی ہی سازش ہو۔ انہوں نے اس کی مذمت بھی کی۔ گہلوت کا کہنا ہے جمہوریت میں احتجاج کو سہنے کی طاقت ہونی چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ سرکار لوگوں کی طرف سے دکھائے گئے کالے جھنڈوں سے ہی تلملا گئی ہے۔ انہوں نے آگے کہا کہ وزیر اعلی وسندھرا راجے اپنے ساڑھے چار سالہ عہد میں جب بھی جودھپور آئیں ایک بار بھی سرکٹ ہاؤس میں نہیں ٹھہریں۔ ایسے میں اپنے مسئلہ کو لیکر آنے والے فریادی اپنی شکایت ان سے کہاں مل کر کرتے؟ اس طرح کے حالات میں لوگوں کی ناراضگی ہونا جائز ہے۔ یہ وزیر اعلی اور ان کی سرکار کے گئیں ناراضگی کا مظاہرہ ہے۔ سرکار کی طرف سے پارلیمانی وزیرراجندر سنگھ راٹھور نے ایتوار کو کہا کانگریس بوکھلاہٹ میں آگئی ہے۔ وسندھرا کی گورو یاترا کو بڑی پبلک حمایت مل رہی ہے جس سے کانگریس گھبرا گئی ہے اور وہ اس طرح کے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔ راٹھور نے دعوی کیا کہ بھاجپا کو جنتا کا ساتھ مل رہا ہے وہیں کانگریس پردیش صدر سچن پائلٹ نے کہا کہ سنکلپ یاترا میں وزیر اعلی نے بہت بڑے سپنے دکھائے اور وہ پورے نہیں ہوئے نہ ہونے تھے۔ جنتا ناراض و مایوس ہے لیکن احتجاج ظاہر کرنے والوں کو مریادا اور راجستھان کی گوروشالی روایت کا پالن کرنا چاہئے۔ سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
(انل نریندر)

لالو کو دوہرا جھٹکا، خاندان بھی مشکلوں میں

آج جے ڈی چیف لالو پرساد اور ان کے خاندان کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کے ساتھ ان کی بیوی و سابق وزیر اعلی رابڑی دیوی ، ان کے لڑکے اپوزیشن کے لیڈر تیجسوی یادو کے خلاف بھی چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ ریلوے ہوٹل ٹنڈر میں چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ اب انہیں دہلی کی عدالت میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہیں جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے ذریعے لالو پرساد یادو کو صحت کی بنیاد پر ملی عارضی ضمانت نہ بڑھنے سے یہ سنکٹ مزید گہرا ہوگیا۔ اب لالو کو 30 اگست کو سرنڈر کرنا پڑے گا۔ علاج کرانے کی بنیاد بناکر ڈالی گئی انترم ضمانت بڑھانے کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس اپریش کمار سنگھ نے ریاستی سرکار کو ضرورت پڑنے پر لالو پرساد کو میڈیکل سہولت مہیا کرانے کی ہدایت بھی دی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے آئی آر سی ٹی سی ہوٹل الاٹمنٹ منی لانڈرنگ میں جمعہ کو لالو پرساد یادو ، رابڑی دیوی و بیٹے تیجسوی یادو سمیت دیگر کے خلاف پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے اسپیشل جج اروند کمار سنگھ کی عدالت میں جو منی لانڈرنگ کا کیس درج کیا ہے اس میں لارا پروجیکٹس نام کی ایک کمپنی و 10 دیگر کے خلاف پیسہ کمانے روک تھام قانون (پی ایم ایل اے) کی دفعات کے تحت چارج شیٹ شامل ہے۔ ریلوے ٹنڈر معاملہ میں فوری مقدمے کی صورت میں سال 2019 کے لوک سبھا چناؤ اور 2020 کے بہار اسمبلی چناؤ کو دیکھتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل کے سامنے قیادت کا بحران کھڑا ہوسکتا ہے۔ پارٹی میں پہلی لائن کے سینئر لیڈروں کو کنارے کرکے تیجسوی اور تیج پرتاپ کو لالو نے آگے کردیا تھا لیکن حالات اگر خطرناک شکل لے لیتے ہیں تو تنظیم میں پارٹی کے سینئر لیڈروں کا رول ہی اہم ہوگا۔ ایسے میں آر جے ڈی کا ووٹ بینک سنبھالنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں آر جے ڈی کے سینئر لیڈر جکتانند سنگھ ،رگھوونش پرتاپ سنگھ، شیوا نند تیواری، جے پرکاش نارائن یادو، ڈاکٹر رام چندر دوبے و عبدالوارث صدیقی پر ذمہ داری آ جائے گی۔ چارہ گھوٹالہ معاملہ میں سزا سے پہلے لالو پرساد نے تنظیمی حکمت عملی کے تحت پارٹی کی قومی ایگزیکٹو میٹنگ میں رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو کو آگے کردیا تھا۔ ساتھ ہی لالو پرساد نے تب آر جے ڈی کے ساتھ پہلی اور دوسری لائن کے لیڈروں کو ملا کر سابق مرکزی وزیر رگھوونش پرساد سنگھ کی سربراہی میں قومی سنگھرش کمیٹی بنانے کا اعلان کیا لیکن ای ڈی کی چارج شیٹ سے تیجسوی اور رابڑی دیوی کے ساتھ ہی تنظیم کی پریشانی بڑھ سکتی ہے۔ لالو پرساد کی بیماری کے سبب ان کا پریوار اور تنظیم پہلے سے ہی پریشانی میں ہے اب اس نئے معاملہ سے یہ سنکٹ اور بڑھ گیا ہے۔
(انل نریندر)

28 اگست 2018

اٹل جی کی موت کی ہاٹیک پیکیجنگ

بھارتیہ جنتا پارٹی اٹل جی کی موت کا پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہ رہی ہے۔ان کی موت کی ہاٹیک پیکیجنگ کی جارہی ہے۔ یہ سلسلہ اٹل جی کے جنم دن یعنی دسمبر 2018 تک جاری رہے گا اور تب تک 2019 کے لوک سبھا چناؤ بھی قریب آجائیں گے۔ 25 دسمبر کو گڈ گورننس دیوس کی شکل میں اس دن تمام پروگرام تو ہوں گے ہی ساتھ ہی کئی فلاحی اسکیموں کے اعلانات بھی ہوسکتے ہیں۔ چار ریاستوں میں اسمبلی چناؤ کی تیاری شروع ہوچکی ہے ایسے میں بھاجپا کا ہر نیتا چھوٹے سے بڑا اپنے پریہ نیتا کو شدت سے یاد کرے گا۔ اٹل بہاری واجپئی کی استھی کلش یاترا بھی اس ڈھنگ سے آرگنائزڈ کی جارہی ہے کہ جس میں بھاجپا کو اس کا زیادہ سے زیادہ سیاسی فائدہ مل سکے۔دیش بھر میں اس یاترا سے پارٹی ورکروں کا حوصلہ بڑھانے کو تقویت ملے گی۔ بی جے پی جانتی ہے کہ اٹل جی دیش کے کونے کونے میں بہت زیادہ مقبول تھے۔ وہ اسی مقبولیت کو بھنانا چاہتی ہے۔ بھاجپا کیلئے یہ سمرد وراثت کتنا فائدہ دے گی اس پر اپوزیشن پارٹیاں بھی نظر لگائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس حساس معاملہ پر بولنا نہیں چاہتے۔ پی ایم مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ استھی کلش کو سبھی پردیش صدور کو سونپ رہے ہیں۔ استھی کلش سبھی ریاستوں کی راجدھانی میں لے جایا جارہاہے۔ پردیش صدور اور عہدیداران سے یہ بھی کہا جارہ ہے کہ استھی کلش یاترا سبھی راجدھانیوں کے علاوہ ضلعوں اور بلاکوں تک نکالی جائے گی۔ بھاجپا حکمراں ریاستوں میں اٹل کی یاد میں کئی قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ مدھیہ پردیش حکومت نے پہلے ہی کچھ فیصلے لئے ہیں۔ایم پی کی طرح جلداسمبلی چناؤ کے لئے تیار ہورہی چھتیس گڑھ سرکار بھی کئی فیصلے لے رہی ہے۔ نئی راجدھانی نیا رائے پور کا نام اٹل نگر کیا جارہا ہے۔ واجپئی کے نام پر کئی تعلیمی اداروں کے نام رکھنے کے علاوہ پانچ ایکڑ زمین میں اٹل یادگار بنانے کا بھی پلان ہے۔ اس سب پر کانگریس سمیت سبھی اپوزیشن پارٹیوں کی نظریں ہیں لیکن اٹل کی ساکھ اور ان کی مقبولیت کو دیکھ کر سبھی چپ ہیں۔ یہ بولتے ہیں تو بی جے پی پلٹ وار کے لئے تیار ہے۔ خود کو سیاسی نقصان نہ ہوجائے اس اندیشے سے فی الحال ساری اپوزیشن چپ ہے اور اب جوابی حکمت عملی بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ بلا شبہ سیاسی اسباب سے بی جے پی سے الگ ہوئی سورگیہ اٹل بہاری واجپئی کی بھتیجی کانگریس کی سینئر لیڈر کرونا شکلا کو اس بات سے خاصی ناراضگی ہے کہ اٹل جی کی موت کے بعد بھاجپا ان کے نام کو سیاسی فائدہ کے لئے بھنا رہی ہے۔ کروناشکلا نے دل کا غبار نکالتے ہوئے کہا کہ اٹل جی کی شو یاترا میں نریندر مودی پانچ کلو میٹر پیدل چلنے کے بجائے اٹل جی کے بتائے راستے پر دو قدم بھی چلتے تو دیش کا بھلا ہوجاتا۔ ان کا کہنا ہے کہ چار ریاستوں میں ہونے والے چناؤ کو دھیان میں رکھتے ہوئے بھاجپا اٹل جی کے نام کو بھنانے کا سامان بنا یا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2004 میں جب واجپئی جی کی سرکار نہیں بنی اور وہ صرف ایم پی رہ گئے اس کے بعد کیا ہوا؟ آہستہ آہستہ سب انہیں بھول گئے۔ بھاجپا پھر اٹل مے سے مودی مے ہوگئی۔ اڈوانی کو بھی پارٹی لیڈر شپ نے کنارے کردیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان دس برسوں میں جن ریاستوں میں چناؤ ہوئے وہاں بھی اٹل جی کا نام لینا تو دور سیاسی پوسٹر یا بینر تک میں ان کی تصویر نہیں چھاپی گئی۔ کیونکہ اب چار ریاستوں اور 2019 کے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کی نیا ڈوبتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے تو یکا یک بھاجپا کو اٹل جی ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کی طرح دکھائی دے رہے ہیں۔
(انل نریندر)

جہیز قتل، رشتے داروں کوراحت

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا کہ ازدواجی جھگڑوں اور جہیز قتل کے معاملوں میں شوہر کے رشتے داروں کو تب تک نامزد نہیں کیا جانا چاہئے جب تک ان کااس جرم میں رول واضح نہ ہوجائے۔ جسٹس ایس اے ویبڑے اور جسٹس ایل ناگیشور راؤ کی ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ ایک شخص کے ماموں کے ذریعے دائر عرضی کو قبول کرتے ہوئے دیا۔ عرضی میں ان لوگو نے حیدر آباد ہائی کورٹ کے جنوری 2016 کے اس فیصلے کو چنوتی دی ہے کہ ہائی کورٹ نے ایک ازدواجی معاملے میں اس کے خلاف مجرمانہ کارروائی ختم کرنے کی اپیل کو خارج کردیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چنوتی دی۔ بنچ نے کہا چارج شیٹ پر غور کرنے کے بعد کورٹ کی رائے ہے کہ شادی شدہ عورت سے بے رحمانہ جرم اور سازش ،دھوکہ دھڑی اور اغوا کے الزامات کے لئے شوہر کے ماماؤں کے خلاف پہلی نظر میں معاملہ نہیں بنتا۔ اس معاملہ میں شکایت کنندہ نے پولیس میں دی گئی شکایت میں شوہر اور اس کے ماماؤں سمیت رشتے داروں پر اذیت پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔ ساتھ ہی متاثرہ نے دعوی کیا تھا کہ شوہر نے اس کے بیٹے کا اغوا بھی کیا تھا جس میں اس کے ماماؤں نے بھی مدد کی تھی۔ بنچ نے کہا کہ عرضی گزاروں کے ذریعے بیوی کو اذیت دینے والے شوہر کی حمایت کرنے اور اپنے بچے کو امریکہ لے جانے میں بھانجے کی مدد کے علاوہ ان کے خلاف جرم میں ملوث ہونے کا کوئی دیگر ثبوت نہیں ہے۔ جب تک عدالتی کارروائی بیجا استعمال نہیں ہوتا تب تک مجرمانہ کارروائی کے طور پر ہم معاملے میں مداخلت نہیں کرتے ۔ لیکن انصاف کو محفوظ کرنے کے لئے یہ عدالت معاملہ میں دخل دینے سے بھی کوئی قباحت نہیں کرتی۔ سپریم کورٹ نے یہ بالکل صحیح کہا کہ شادی سے متعلق جھگڑوں اور جہیز قتل کے معاملوں میں جرم میں ملوث ہونے کی تصدیق کے بغیر شوہر کے ساتھیوں کو نامزد نہیں کیا جانا چاہئے۔ اسی کے ساتھ سپریم کورٹ نے عدالتوں کو بھی یہ ہدایت دی کہ وہ ایسے معاملوں میں شوہر کے دور کے رشتے داروں کے خلاف کارروائی میں احتیاط برتیں لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ صرف اتنے سے بات نہیں بنے گی اور بنیادی حقیقت بدل جائے گی۔ صاف ہے کہ اگر پولیس اپنا کام صحیح طرح نہیں کرے گی تو پھر ازدواجی جھگڑے اور جہیز قتل کے معاملوں میں بے قصور لوگ جھوٹے الزام کی زد میں آکر پریشانی اٹھاتے رہیں گے۔ پالیسی اور انصاف کا تقاضہ یہی کہتا ہے کہ کسی بھی معاملہ میں کسی کو صرف الزامات کی بنیاد پر گرفتار نہیں کیا جانا چاہئے۔ لیکن بدقسمتی سے جہیز اذیت کے ساتھ دیگر کئی معاملوں میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ بیوی کو اذیت اور جہیز قتل کے معاملوں میں عام طور پر شوہر کے ساتھ اس کے ماں باپ اور پریوار کے دیگر افراد او ر کئی بار تو دور کے رشتے داروں کو بھی ملزم بنا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ جھوٹے الزامات کی بنیاد پر پھنسائے گئے ایسے لوگوں کو عدالت سے راحت مل جاتی ہے لیکن جب تک ایسا ہوتا ہے تب تک وہ بدنامی کے ساتھ ساتھ دیگر پریشانیوں سے دوچار ہوچکے ہوتے ہیں۔ آج تہاڑ جیل میں کئی پورے کے پورے کنبے بند ہیں۔ سپریم کورٹ کے تازہ فیصلہ سے متاثرہ بے قصور افراد کو ضرور بچایا جاسکتا ہے۔

(انل نریندر)

26 اگست 2018

ہندوستانی کھلاڑیوں نے تاریخ رقم کی

ہندوستانی کھیلوں کے لئے پچھلا بدھوار کا دن تاریخ رقم کرنے والا رہا۔ ایک ساتھ تین کھیلوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں نے اپنے کھیل کے مظاہرے سے کھیل کی دنیا میں اپنی بالادستی جمائی۔راہی سرنوبل ایشین گیمس میں گولڈ میڈل جیتنے والی پہلی خاتون نشانے باز رہیں۔انڈونیشیا میں چل رہے 18 ویں ایشین گیمس میں راہی نے 25 میٹر ایئر پسٹل میں دیش کے لئے گولڈ جیتا وہیں مرد ہاکی میں ہندوستانی ٹیم نے ہانگ کانگ کی کمزور ٹیم کو 26-0 سے ہراکر ہندوستانی ہاکی کی تاریخ میں سب سے بڑی جیل درج کی۔ اس کے علاوہ انگلینڈ میں ٹیم انڈیا نے 0-2 سے پچھڑنے کے بعد تیسرے ٹیسٹ میں شاندار واپسی کرتے ہوئے سالوں بعد انگلینڈ کی ہی ٹیم کو ان کے گھر میں ہرایا۔رنوں کے حساب سے یہ ٹیم انڈیا کی دوسری بڑی جیت تھی۔ انڈونیشیا میں جاری 18 ویں ایشین گیمس میں سشیل کمار جیسے سرکردہ پہلوان کے پہلے دور میں ہی باہر ہونے کے بعد پورے دیش کو جہاں مایوسی ملی وہیں بجرنگ پنیا، بنیش پوگٹ اور سورو چودھری نے سونے کے تمغے جیت کر ہندوستانی ٹیم کے ساتھی کھلاڑیوں کو بھی بہتر پرفارمینس کے لئے تلقین کی ہے۔ میرٹھ کے 16 سال کے سورو چودھری نشانے بازی میں کئی عمر دراز سرکردہ کھلاڑیوں کو پچھاڑتے ہوئے گولڈ میڈل جیت کر سب سے کم عمر کے ہندوستانی بن گئے ہیں۔ ایک کسان کے بیٹھے سورو نے اپنے پہلے ہی بڑے مقابلہ میں یہ کمال کیا جس میں 2010 کے ورلڈ چمپئن میں ماتوسدا کو ہرایا۔ ہریانہ کی 23 سالہ بنیش پوگٹ دو ایشیائی کھیلوں میں گولڈ میڈل جیت چکی ہیں۔ کامن ویلتھ کھیلوں میں گولڈ میڈل جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون پہلوان ہیں۔ پیر کو جاپانی پہلوان کو پٹخنی دے کر وہ ایشارڈ میں بھی کشتی میں گولڈ میڈل جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بن گئی ہیں۔ ان نوجوان کھلاڑیوں کی پرفارمینس خاص طور سے سورو اور 15 سالہ دسویں کلاس کی طالبہ شاردل کی پرفارمینس یہ دکھاتی ہے کہ اگر موقعہ ملے، پوری سہولیات میسر ہوں، صحیح ٹریننگ ملے تو چھوٹی عمر میں ہی ہمارے کھلاڑی نہ صرف ورلڈ سطح پر شاندار کھیل دکھا سکتے ہیں بلکہ دیش کے لئے میڈل بھی جیت سکتے ہیں۔ حقیقت میں اب وقت آگیا ہے جب ایسی کھیل پالیسی بنائی جائے جس میں کم عمر میں ہی نئے افراد کو اپنے پسندیدہ کھیل کے ٹیلنٹ کو تراشنے کا بھرپور موقعہ مل سکے۔ ابھی ایشیائی کھیل چل رہا ہے بھارت اور کئی میڈل جیتے گا۔ ہاں کبڈی جیسے کھیل میں بھارت کا ہارنا چونکانے والا ضرور رہا۔ کہاں تو محدود گولڈ میڈل کی امید لگائے بیٹھے تھے اور کہاں تامبے تک لینے کے لالے پڑجائیں۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ کیا ہندوستانی ٹیم 2010 کے ایشارڈکے 65 میڈل جیتنے کے اپنے ریکارڈ کو توڑ پائے گا یا نہیں؟ تمام میڈل جیتنے والوں کو ہماری مبارکباد اور نہ جیتنے والوں کو یہی پیغام ہوگا کہ محنت کرتے رہو کامیابی ضرور ملے گی۔
(انل نریندر)

بوفورس کی بدنامی کا رافیل سودے سے بدلہ

پچھلے کچھ عرصہ سے جس طرح کانگریس صدر راہل گاندھی مودی حکومت کو رافیل سودے پر گھیر رہے ہیں اس سے تو یہی لگتا ہے کہ کانگریس نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اس مسئلہ کو پہلے تو چار ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں اور پھر 2019 کے لوک سبھا چناؤ میں بھنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کانگریس رافیل کو ایک بڑا اشو بنانا چاہتی ہے۔ راہل گاندھی نے رافیل سودے کی اصلیت سامنے لانے کے لئے سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر جے پال ریڈی کی سربراہی میں ایک 6 رکنی ٹیم بنائی ہے جو صرف اس مسئلہ پر بھاجپا اور مودی سرکار پر حملہ کرے گی۔ کانگریس کو لگتا ہے کہ حکمت عملی یہ ہے کہ ایک طرف میڈیا کے ذریعے لگاتار مودی سرکار پر دباؤ بنا کر نہ صرف اسے اس مسئلہ پر جواب مانگا جائے بلکہ اس معاملہ پر دیش کے کونے کونے میں تحریک کے ذریعے لوگوں کے درمیان اشو بنایا جائے۔ کانگریس کی رافیل کو اشو بنانے کے پیچھے وجہ کہیں نہ کہیں بی جے پی سے بوفورس ڈیل پر ہوئی فضیحت کا بدلہ لینا بھی مانا جارہا ہے۔ بوفورس کی آنچ نہ صرف اس وقت کے پی ایم راجیو گاندھی اور سرکار بلکہ سیدھے گاندھی پریوار کے دامن تک پہنچی تھی اس لئے رافیل سودے کو اچھال کر کانگریس بی جے پی کو ٹھیک اسی طرح گھیرنا چاہ رہی ہے جیسے بی جے پی نے بوفورس پر راجیو گاندھی سرکار کو گھیرا تھا۔ کانگریس کے ترجمان تو اب سیدھے وزیر اعظم پر تنقید کررہے ہیں۔کانگریس کے ترجمان آر پی این سنگھ نے رافیل سودے کو لیکر وزیر اعظم نریندر مودی پر سیدھے حملہ کرتے ہوئے جمعرا ت کو الزام لگایا کہ اس سودے کو ایک صنعتکار کیلئے بدلہ گیا ہے اور اس کا سیدھا فائدہ مودی کو ہوا ہے اور ان کی جیب میں گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ مودی نے کانگریس سرکار کے وقت رافیل جہازوں کی خرید کو لیکر کئے گئے سودے کو بدل کر ایک صنعتکار کو 130 لاکھ کروڑ روپے کا کام دلوایا ہے ۔ اس بات کو نظر انداز کیا گیا ہے کہ اس صنعتکار کی کمپنی کو اس سیکٹر میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اس نے جنگی جہاز سودہ طے ہونے سے محض 12 دن پہلے ہی اس کمپنی کو بنایا تھا۔ حکومت نے اس بات پر توجہ نہیں دی کہ صنعتکار کی کمپنیوں و بینکوں کا 45 ہزار کروڑ روپے کا قرض ہے۔ ادھر بی جے پی کے سابق وزراء ارون شوری، یشونت سنہا اور سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے رافیل سودے کو اب تک کا سب سے بڑا ڈیفنس گھوٹالہ بتایا ہے۔ ان تینوں نے میڈیا کے سامنے کچھ دستاویزات پیش کئے ۔ شوری نے بوفورس گھوٹالہ کے مقابلہ میں رافیل کو اب تک کا سب سے بڑا ڈیفنس گھوٹالہ بتایا۔ انہوں نے اس کی سی اے جی سے تین مہینے میں جانچ کرانے کی مانگ کی۔ دہلی کے پریس کلب میں بلائی گئی پریس کانفرنس میں شوری سنہا اور بھوشن نے دعوی کیا جس رافیل سودے کو کم خرید کی بات بتائی جارہی ہے وہ سراسر غلط ہے۔ انہوں نے کہا جس رافیل سودے میں 126 جہاز 679 کروڑ روپے سے لیکر 715 کروڑ روپے کے درمیان خریدے جانے کا سودا مودی سرکار نے وہ1660 کروڑ روپے فی جہاز خریدنے کا سودا کیا ہے۔ سرکار اس کی اصل قیمت چھپا رہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ 36 جہاز بھی 2022 تک بھارت کو ملیں گے۔ اس میں میک ان انڈیا کی بات غائب ہے۔ شوری نے کہا کہ سرکار کی گائڈ لائنس کہتی ہیں کہ ایسا کوئی معاہدہ چاہے وہ جس قیمت کا ہو ڈیفنس وزیر کی منظوری سے ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ معاہدہ غلط ہے اور اگر ہوا تو سرکار یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ محض ریلائنس یا ڈیسالٹر کے درمیان کا سودا ہے۔ جیسے جیسے اسمبلی چناؤ اور لوک سبھا چناؤ قریب آتے جائیں گے کانگریس اس اشو پر مودی سرکار پر اور تلخ حملے کرے گی۔ اس کے ذریعے مودی سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کرے گی۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...