Translater

Naxalite لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Naxalite لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

20 مارچ 2012

سچن کاکبھی نہ ٹوٹنے والا سینکڑوں کا ریکارڈ



Published On 20 March 2012
انل نریندر
جمعہ کادن اس لئے بھی تاریخی بن گیا اس لئے نہیں کہ اس دن پرنب مکھرجی نے بجٹ پیش کیا تھا۔ بلکہ اس لئے کہ اس دن سچن تندولکر نے اپنی مہاسینچری پوری کی۔ پتہ نہیں ان بجٹ کاان سنچریوں سے کیاتعلق ہے۔ کیونکہ انہوں نے پہلے بھی ریل بجٹ کے دن دوہری سنیچری پوری کی تھی۔دن کاآغاز پارلیمنٹ میں پرنب مکھر جی نے جنتا کو سخت بجٹ کادرددینے کے ساتھ کیاتھا۔لیکن شام ڈھلتے ڈھلتے سچن کی سینچری نے اس درد کو دور کردیا ۔بجٹ تقریب ختم ہونے کے بعد سبھی اپنے ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئے۔ سچن کے بلے سے نکلنے والے ایک ایک رن پر ان کے پرستاروں کی دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی گئیں۔ میرپور کے شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں جیسے ہی سچن کی سویں سینچری پوری ہوئی توپورا دیش جھوم اٹھا۔ اس میچ میں بھلے ہی دیش ہار گیا ہو۔ لیکن یہ دن دونوں ملکوں کے لئے اپنے اپنے اسباب سے تاریخی بن گیا ہے۔ کھیل میں ہارجیت تو چلتی رہتی ہے ۔ بیشک اس دن بنگلہ دیش نے کمال کا کھیل دکھاتے ہوئے ٹیم انڈیا کوہرا دیا۔ لیکن شاید ہی کوئی کرکٹ پریمی ایسا ہو جو یہ چاہتا ہو سچن 96-95 رن بناکر آؤٹ ہوجاتے اور میچ جیت جاتا اس میچ کو آخر کارسچن کی سویں سینچری کیلئے یاد کیا جائیگا نہ کہ بنگلہ دیش کرکٹ کے لئے۔ سیاست داں سیاست داں ہی ہوتے ہیں۔ اس دن بھی وزیرخزانہ پرنب مکھرجی پیچھے نہیں رہے۔ کہیں کہ پچھلے سال جب بھارتیہ ٹیم نے28 سال بعد کرکٹ کاورلڈ کپ جیتا تھا تب بھی میں ہی وزیر خزانہ تھا۔ اور آج بھی جب سچن نے سویں سنچری پار کی جب بھی میں ہی دیش کاوزیرخزانہ ہوں۔ مطلب وزیرخزانہ ہوناٹیم انڈیا کے لئے خوش قسمت ثابت ہوا۔ اب دیکھنایہ ہے کہ وہی قسمت فیکٹر منموہن سنگھ کو کتنا نصیب ہوتا ہے۔جنہیں فی الحال اس کی سخت ضرورت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ریکارڈ بنتے ہیں اورٹوٹتے ہیں لیکن کچھ ریکارڈ ایسے ہوتے ہیں جہاں تک پہنچنا خاص مشکل ہوتا ہے۔ سچن کی مہاسنچری کا ریکارڈ بھی کچھ ایسا ہی ہے اصل میں اس تک پہنچنے کے لئے کسی بھی کھلاڑی کو مسکسل دودہائی تک (کم سے کم) اچھی کارگردی دکھانے کی ضرورت پڑے گی اور موجودہ وقت میں ایسا کوئی کھلاڑی نظر نہیں آرہا ہے۔ سچن کے بعد رکی پونٹنگ ہے جنہوں نے شاید 71 سنچریاں بنائی ہیں اب وہ ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں۔ سچن پر اس سویں سنچری کا اتنابوجھ رہا ہوگا۔ا ن کے اس تبصرے سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ جب یہ سنچری لگانے کے بعد سچن کہاکہ مجھے اب تک سویں سنچری کایقین نہیں ہورہا ہے لیکن یقینی طور پر میرے سر پر سے پچاس کلو کا بوجھ ہٹ گیا ہے۔ سچن کونیا ہیئراسٹائل زیب دے رہا ہے۔ سچن نے اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیئریر کے دوران کئی مرتبہ اپنے بالوں کا انداز اوراپنا چہرہ بدلا ہے لیکن ان کا نیا ہیر اسٹائل شاید ان کی سویں انٹر نیشنل مہاسنچری کیلئے لکی ثابت ہوا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اب کھل کر کھلیں گے بغیرکسی دباؤ وکشیدگی کے۔ ویسے ان کے پرستار بھی انہیں ٹینشن فری نہیں رکھنا چاہتے ۔ایک سال چار دن کے انتظار کے بعد سویں سنچری پوری کرتے ہی سچن پر نیا دباؤ بننے لگا ہے۔ اب ان پر انٹر نیشنل ون ڈے میچوں میں ہاف سینچری کی سنچری بنانے کا دباؤآئے گا۔ بنگلہ دیش کے خلاف بنائی گئی سنچری ون ڈے میچوں میں ان کی ہاف 49 ویں سنچری ہے۔ اس کے ان کے فینس کے خواہشات فطری ہیں۔ وہ ان سے ون ڈے کی ہاف50ویں سنچری پوری کرائے اور اس طرح ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ون ڈے میں بھی 50-50 سنچری کا ریکارڈ پورا کریں۔ سچن کو ہم دل سے مبارک باد دیتے ہیں ابھی انہیں لمبا سفر طے کرنا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Orissa, Italy, Naxalite,

معاملہ ماؤ وادیوں کے ذریعہ اطالوی شہریوں کے اغوا کا



Published On 20 March 2012
انل نریندر
اڑیسہ کے قبائلی علاقے میں گھومنے گئے اٹلی کے دوشہریوں کو ماؤوادیوں نے اغوا کرنے کی خبر نے تشویش پیدا کردی ہے۔ نکسلیوں کی جانب سے غیرملکیوں کو اغواکرنے کا یہ پہلا معاملہ ہے ۔ماؤوادیوں نے ایک آڈیو ٹیپ بھیج کر نکسلی مخالف آپریشن بند کرنے جیل میں بند نکسلیوں کو چھوڑنے سمیت تیرہ مطالبات رکھے ہیں۔ اور اتوار کی شام تک الٹی میٹم دیا تھا۔ چیف سکریٹری بی کے پٹنائک نے بھونیشور میں اخبار نویسوں سے کہاہے کہ اب پوری میں ٹورآپریٹر کے طور پر کام کرنے والے اٹلی کے سیاح سرحد پر ٹریکنک ٹور کررہے تھے۔ جن کو سنچر کو ماؤوادیوں نے اغوا کرلیا تھا۔انہوں نے کہا ہے کہ وہ پوری سے باہر آئے تھے اور درنک واڑی تھانے کی ماؤوادی خطرے کی وارننگ دیئے جانے کے باوجود وہ جنگلوں میں گئے۔ انہوں نے کہاکہ وہ پوری سے گاڑی سے آئے تھے۔ اور درنک واڑی تھانے کی وارننگ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے ڈرائیور کے ساتھ جنگلوں میں چلے گئے۔ ماؤوادیوں نے ڈرائیور اورباورچی کو توچھوڑ دیا لیکن اطالوی شہری اپنے قبضے میں لے لیا۔ ماؤوادیوں نے پہلی بار اپنی اس خانہ جنگی میں غیرملکی سیاحوں کو مہرا بنانے کی کوشش کی۔ اڑیسہ میں ماؤوادیوں نے پہلے بھی اغوا کو مہرہ بنایاہے لیکن وہ ایڈمنسٹریٹو افسر تھے۔ 2006میں گجا پتی ضلع کے ایک جیلر اور سب انسپکٹر کا اغوا کیا۔ 2010میں ایک سب انسپکٹر (جے پور ضلع) کااغوا ہوا تھا اور 2011میں ملکان گیری کے کلکٹر آر وینل کرشنا اور جونیئر انجینئر پی مانجھی کااغوا کیاتھا۔اس بار بھی ماؤوادیوں کی مانگیں تقریباً وہی ہیں جو 2011میں کلکٹر وینل کرشنا کے اغوا کے بعد رکھی گئی تھیں۔ اٹلی میڈیاکے مطابق تریم نژاد شہری بسٹکو ٹورسٹ گائیڈ ہیں وہ دس سال سے پوری میں رہ کر ایڈوانچر ٹورسٹ کا گائیڈ کا کام کررہے ہیں۔ وہ کلاڈیوں روم کے باشندے ہیں ماؤوادیوں نے ٹی وی چینلوں کو بھیجے ایک آڈیو ٹیپ میں دعوی کیا ہے یہ غیرملکی ممنوع علاقے میں ندی میں نہارہی قبائلی عورتوں کے فوٹو کھینچ رہے تھے۔ اڑیسہ کے وزیراعلی نوین پٹنائک ماؤوادیوں سے انسانی بنیاد پر غیرملکی سیاحوں کو رہاکرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے حکومت قانون کے دائرے میں بات چیت کو تیار ہے۔ وزارت خارجہ اٹلی کے مطابق افسران کے رابطے میں ہے تاکہ تعاون کیاجاسکے۔ اغوا کے معاملے میں اسے نئی جانکاریاں دی جاتی رہیں۔ پٹنائک نے کہا کہ میں انتہاپسندوں کے پھرا پیل کرتا ہوں وہ کوئی انتقامی قدم نہ اٹھائے۔ میں اس گھناؤنے جرائم کی مذمت کرتا ہوں۔ مہذب سماج میں کوئی اس طرح کی گندی حرکت معاف نہیں کرسکتا۔ اس درمیان اٹلی کے کونسل جرنل جے ایل میلاچواری بھونیشور گئے ہیں اورانہیں اڑیسہ کے حکام سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے دعوی کیاہے کہ ماؤوادیوں نے معیادطے کرتے ہوئے سیکورٹی فورس سے آپریشن روکنے کی مانگ کی ہے اور ان قبائلیوں کے خلاف معاملے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے جنہیں ماؤوادیوں کی شکل میں گرفتار کیاہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں اٹلی کے سیاحوں کی رہائی جلد ہوجائے گی اور بین الاقوامی بدنامی سے بچا جائے گا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Orissa, Italy, Naxalite,

29 نومبر 2011

کشن جی نے مرنے سے پہلے اپنی اے کے 47 سے 41 گولیاں داغی تھیں



Published On 29th November 2011
انل نریندر
جس دن ماؤ وادی لیڈر کشن جی کی مڈبھیڑ میں موت کی خبر آئی تھی کہ اسی دن اس بات کا اندیشہ تھا کہ اس کے کچھ حمایتی ضرور یہ کہیں گے کہ یہ مڈبھیڑ فرضی تھی۔ ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ کشن جی کی مڈبھیڑ پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ماؤوادیوں اور کشن جی کے خاندان کے علاوہ کئی سیاسی پارٹیوں نے بھی اس مڈبھیڑ کو فرضی قراردیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اس معاملے پر پوزیشن صاف کرنے اور واقعہ کی جانچ کرانے کی مانگ کی ہے۔ ماؤوادیوں کے ترجمان آکاش نے کہا کہ کشن جی کو حراست میں لینے کے بعد ہلاک کیا گیا۔تیلگو شاعر اور ماؤ وادیوں سے ہمدردی رکھنے والا واروٹا راؤ نے کہا کہ کشن جی کو دو دن پہلے ہی حراست میں لیا گیا تھا بعد میں اس کو مارا گیا۔ مارکسوادی لیڈر گوروداس داس گپتا نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو خط لکھ کر پوچھا ہے کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ کرشن جی کو جمعرات کی دوپہر 12 بجے ہی حراست میں لیا گیا تھا اور بعد میں اس کوگولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ داس گپتا نے چدمبرم سے فون پر بھی اس سلسلے میں بات کی۔ سپا جنرل سکریٹری موہن سنگھ نے بھی مڈبھیڑ کو فرضی بتایا ہے ۔ انہوں نے کہا بڑے نکسلیوں کے قتل عام سے ماؤ وادکا مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ حقیقت تو یہ ہے بڑیشول کے جنگل میں جس جگہ سکیورٹی فورس کے ساتھ مڈبھیڑ میں کشن جی کی مڈبھیڑ ہوئی اس جگہ سے مڈبھیڑ کے ثبوتوں سے فرضی ہونے کے دعوؤں کی ہوا نکل جاتی ہے۔ واردات کی جگہ پر ملے کارتوس کے خالی کھوکھے ، دستی بموں کے خول اور پیڑوں پر گولیوں کے نشان اور گولیوں سے پتیوں میں ہوئے سراخ اور آپریشن میں کشن جی اور اس کے ساتھیوں کا سامنا کرنے والے کوبرا فورس کے جوانوں سے صاف ہوگیا ہے کہ اس جگہ آمنے سامنے کی لڑائی ہوئی ہوگی۔ مغربی بنگال پولیس کی کرائم برانچ کو سنیچر سے سرکاری طور سے مڈ بھیڑ کی جانچ سونپی گئی ہے۔ پورسٹ مارٹم میں بھی مڈبھیڑ میں موت کی پہلی نظرمیں تصدیق ہوئی ہے۔ کشن جی کے پیٹ اور چہرے پر گولیوں کے نشان ہیں ۔ اس کی ہڈی میں تین گولیاں لگیں۔ پیر اور ہاتھ کے کچھ حصوں میں دستی بم پھٹنے سے زخم ہیں۔ مڈبھیڑ کے دوران کشن جی کی اے کے 47 رائفلز سے 41 گولیاں چلائی گئیں۔ اس رائفلز سے چلے کارتوس کے یہ خول کشن جی کی لاش کے آس پاس پڑے ملے۔ کشن جی کی ساتھی رہی سمترا مہتو خود کو گھرتے دیکھ اپنی رائفل اور بیگ چھوڑ کر بھاگی تھی۔ اس کو ایک دو گولیاں لگیں۔ اب تک اس کو تلاش نہیں کیا جاسکا۔ کوبرا فورس کے جوانوں میں دو ماؤوادیوں کو گولی لگنے سے گرتے دیکھا گیاتھا ۔ کشن جی آخری مرتبہ جس پیڑ کے نیچے چھپ کر گولیاں چلا رہا تھا اس کا تنا گولیاں لگتے ہی پوری طرح چھل گیا تھا۔ کشن جی کے پیر اور ٹھڈی پر گولیاں مارنے والے کوبرا فورس کے کمانڈو ناگیندر سنگھ کے داہنے پنجے سے چلائی گئی گولی بند گئی تھی۔کشن جی وہاں اپنے زونل کمانڈروں جے انت اور رنجن منڈا، آکاش، وکاس وغیرہ کے ساتھ میٹنگ کرنے کے لئے پہنچا تھا۔اس کے ساتھ75 دیگر ماؤ وادیوں کا سکیورٹی گھیرا تھا۔ لیکن آخری موقع پر جب بڑیشول گاؤں میں کساولی کھال کی طرف سے45کمانڈو کی ٹیم نے اسے گھیرلیا ، تب اس کے ساتھ میں صرف15 لوگ رہ گئے تھے۔ سکیورٹی فورس کے پیروں تلے آئے سوکھے پتے جب کھڑکے تو ماؤوادی کی ٹیم نے گولیاں چلانی شروع کردیں۔ جوابی گولیاں چلیں تو گلابی رنگ کی شلوار قمیص پہنے ایک عورت ماؤوادی اپنی رائفل چھوڑ کر بھاگ نکلی اور اس کے پیچھے پیچھے باقی سب الگ الگ سمتوں میں فرار ہوگئے۔ کشن جی کا انتم سنسکار یڈوپلی میں ہوا۔ اس سے پہلے کشن جی کی بھانجی پیپا راؤ نے مدناپور میڈیکل کالج ہسپتال میں رکھی اس کی لاش کی پہچان کی۔ کشن جی کی مڈ بھیڑ تو ایسے ہوئی اب سیاسی اسباب سے اسے فرضی کہیں یا کچھ اور کہیں یہ الگ بات ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Kishanji, Naxalite, Vir Arjun

27 نومبر 2011

حکومت کو نکسل مخالف آپریشن میں ملی اہم کامیابی



Published On 27th November 2011
انل نریندر
سرکار کواپنی اینٹی نکسلی آپریشن میں ایک شاندار کامیابی ملی ہے۔ سی پی آئی (ماؤوادی) کی ملٹری یونٹ کے چیف پولٹ بیورو کے ممبر کوٹیشور راؤ عرف کشن جی کو سکیورٹی فورس نے مڈ بھیڑ میں مار گرایا ہے۔ وزارت داخلہ نے اس مڈ بھیڑ کی تصدیق کے ساتھ ہی بھارت میں نکسل تحریک کا ایک باب کا صفایا ہوگیاہے۔ سی آر پی ایف کی نکسل مخالف کمانڈو بٹالین 207 کوبرا کے جوانوں نے کشن جی کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ بنیادی طور سے آندھرا پردیش کا باشندہ کوٹیشور راؤ عرف کشن جی طویل عرصے سے نکسل تحریک سے جڑا تھا۔ پچھلے تین سال سے اس نے مغربی بنگال حکومت اور مرکزی حکومت کی ناک میں دم کیا ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق کشن جی نے دو نکسلی ماؤ وادی کمیونسٹ پارٹی اور پیپلز وار گروپ کے آپس میں انضمام میں اہم کردار نبھایا تھا۔ قریب چھ سال پہلے ہوئے اس انضمام کے سبب نکسلیوں کی طاقت کافی بڑھ گئی تھی۔ کشن جی کے دونوں نیپال کے ماؤ وادی کے ذریعے چین سے بھی روابط میں تھا۔ پریم گنج ضلع کے ناگپلی گاؤں سے نکسلواد کا سفر شروع کرنے والا کشن جی گوریلا جنگ کا ماہر تھا۔ اس نے بنگال سے مہاراشٹر تک کمان سنبھال رکھی تھی۔ اس کا خاص مقصد تھا کہ مغربی مدنا پور ،باکوڑہ اور پرولیا بیلٹ کو جھارکھنڈ، اڈیسہ اور چھتیس گڑھ سے جوڑنا تھا۔ کشن جی کی موت کے بعد نکسلی تشدد سے متاثرہ ریاستوں بہار، اڈیسہ، چھتیس گڑھ و اترپردیش میں جمعہ کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ نکسلی حملے کے اندیشے کو دیکھتے ہوئے ایسا کیا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل رام نواس نے بتایا کہ نکسلی بدلے کی کارروائی کرسکتے ہیں۔ نکسلی 40 ہزار کلو میٹر علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں اور بستر علاقے میں وہ عام لوگوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ وہاں ان کی یکساں حکومت چلتی ہے۔ کشن جی کی موت سے نکسلی ماؤ وادی مسئلہ تو ختم نہیں ہوگا لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ ان کے لئے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے جس سے انہیں نکلنے میں وقت ضرور لگے گا۔ سرکار کی نکسل مخالف کارروائی میں یہ ایک شاندار کارنامہ ضرور ہے۔
Andhra Pradesh, Anil Narendra, Chhattis Garh, China, Daily Pratap, Kishanji, Maharashtra, Naxalite, Nepal, Odisa, Vir Arjun, West Bengal

12 اکتوبر 2011

نکسلیوں اور آتنکیوں کو آئی ایس آئی کی پوری حمایت



Published On 12th October 2011
انل نریندر
 پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ نکسلیوں اور منی پور کے آتنک وادیوں کی ملی بھگت کا بڑا خلاصہ حکومت ہند کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ لشکر طیبہ اور کشمیری آتنک وادی اثر بھارت میں پھیلانے کیلئے نکسلیوں اور ماؤ وادیوں کے ساتھ آئی ایس آئی گٹھ جوڑ کر چکی ہے۔ ان کا مقصد 2050 ء تک بھارت سرکار کا تختہ پلٹنا ہے۔ یہ خلاصہ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے سامنے منی پور کی آتنک وادی تنظیم پی ایل اے (پیپلز لبریشن آرمی) کے دو لوگوں نے کیا ہے۔سیل کے اسپیشل کمشنر پی این اگروال کے مطابق این دلیپ سنگھ اور ارون کمارسنگھ کو ایک اکتوبر کو پہاڑ گنج میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جھاڑکھنڈ کے جنگلوں میں پی ایل اے کے ممبران چین اور برما سے مل رہے ہیں۔گرینیڈ لانچر اور باقی ہتھیاروں کو پہنچانے کے علاوہ انہیں چلانے کی ٹریننگ بھی نکسلیوں کو دے رہا ہے۔ کشمیری آتنک وادی تنظیموں کے ذریعے سے آئی ایس آئی نکسلیوں کو ہتھیار اور کمیونی کیشن وسائل مہیا کرا رہی ہے۔ نکسلیوں اور کشمیری آتنک وادی تنظیم میں کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ آئی ایس آئی کی جانب سے ان کا ایجنٹ مدنی بنگلہ دیش کے راستے جھاڑکھنڈ میں جاکر نکسلیوں کے لیڈر کشن جی سے ملا تھا۔ اس بات چیت کے بعد کشن جی اور لشکر طیبہ میں گٹھ جوڑ ہوا تھا۔ دلیپ اور ارون سے برآمد لیپ ٹاپ اور سی ڈی کے مطابق آئی ایس آئی کی پہل پر شمال مشرقی ریاستوں کی سات آتنک وادی تنظیموں نے یونائیٹڈ فرنٹ بنا لیا ہے۔
آئی ایس آئی نے بھارت کی اہم آتنک تنظیموں میں جس میں کشمیری تنظیم بھی شامل ہے پورا تال میل قائم کیا ہوا ہے۔ اس کا اور ثبوت دہلی ہائیکورٹ بم دھماکے سے بھی ملتا ہے۔ آئی ایس آئی کا دعوی ہے کہ اس کانڈ میں حال ہی میں پکڑے گئے شخص وسیم نے بتایا کہ دھماکے کو حزب المجاہدین اور القاعدہ نے مشترکہ طور سے انجام دیا تھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پوچھ تاچھ میں وسیم نے مانا کے اس نے ہجی کے تین بنگلہ دیشی آتنکیوں کے ساتھ اس کانڈ کو انجام دیا۔ ان آتنک وادیوں کو القاعدہ نے ٹریننگ دی تھی۔ آئی ایس آئی اب وسیم کے بھائی جنید کے ساتھ حزب الکمانڈر جہانگیر سعودی اور اس کے قریبی عامر حسین عرف اکرم کی تلاش کررہی ہے۔ وسیم 7 ستمبر کو ہائی کورٹ کے باہر دھماکے کو انجام دے کر جموں بھاگ گیا تھا۔ یہاں گھروالوں کے ساتھ دو دن رہ کر9 ستمبر کو واپس چلا گیا تھا۔ وسیم نے دھماکے سے دو مہینے پہلے دہلی ہائی کورٹ کا جائزہ لیا تھا وہ تب ایک بڑا دھماکہ کرنا چاہتا تھا لیکن اس وقت جنید دھماکو سامان مہیا نہیں کرا پایا۔ اس کے بعد وہ بنگلہ دیش چلا گیا ۔ حالانکہ جنید نے دھماکے کے45 دن پہلے ہی بم تیار کرلیا تھا۔ اب یہ صاف ہوتا جارہا ہے کہ آئی ایس آئی ایک طرف القاعدہ اور دوسری طرف بھارت میں سرگرم آتنک وادیوں کو منظم کرنے میں لگا ہے۔ اس کام میں اسے چین اور بنگلہ دیش دونوں سے مدد مل رہی ہے۔ بھارت کو ہر طرف سے گھیرنے میں لگی ہے آئی ایس آئی۔
Anil Narendra, Bangladesh, Daily Pratap, ISI, Maoist, Naxalite, Salwa Judam, Vir Arjun

26 مئی 2011

نکسلیوں کے پاس جدید ہتھیاروں سے تشدد بڑھنے کا اندیشہ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

26مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ 26/11 ممبئی حملے کے بعد سے بھارت کے اوپر کوئی بڑا آتنکی حملہ نہیں ہوا لیکن وہیں بڑھتانکسلی تشدد تشویش کا موضوع ضرور ہے۔ ابھی دو دن پہلے چھتیس گڑھ کے گاریابند پولیس ضلع کے اڑیسہ جوڑی سرحدی علاقے میں گشت پر گئے ایک پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیت12 پولیس والوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ خبروں کے مطابق سبھی نکسلیوں کے حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔ پچھلے دنوں وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا تھا نکسلی مسئلہ بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دیش کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ اس نکسلی تحریک سے متاثر ہے۔ نکسلی کھلے عام کہتے ہیں کہ ہماری لڑائی تو نظم بدلنے کے لئے ہے، اقتدار بدلنے کے لئے نہیں۔ ہزاروں لوگ نکسلی اور ماؤوادی تشدد کا شکار ہوچکے ہیں۔ سرکار کی ٹال مٹول کی پالیسی کے سبب ان کا اثر بڑھتا جارہا ہے۔تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے جدید ہتھیاروغیرہ خرید رہے ہیں۔ اب تو نکسلی بھی ہتھیار استعمال کرنے لگے ہیں جو بھارتیہ فوج یا نیم فوجی فورس استعمال کرتے ہیں۔
بستر کے گھر نکسلی متاثرہ علاقوں میں نکسلیوں کے پاس موجود تکنیک سے ہماری خفیہ ایجنسیوں کی نیند اڑ گئی ہے۔ نکسلی اب صرف بارودی سرنگ دھماکہ و اے کے 47- تک محدود نہیں رہ گئے ہیں۔ ذرائع کے دعوؤں پر یقین کریں تو خفیہ رپورٹ میں نکسلیوں کے پاس انتہائی جدید راکٹ لانچر ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ وہیں خبر تو یہ بھی ہے کہ اب ان کے پاس دستی بموں کا ذخیرہ ہے اور زہریلی گیس چھوڑنے والے وسائل دستیاب ہیں۔ نکسلیوں کو چینی ہتھیار مل رہے ہیں۔ ان میں دستی بم، راکٹ لانچر وغیرہ شامل ہیں۔ سکیورٹی فورس کو حال میں قابل ذکر کامیابی ملی ہے اور اس سے نکسلی بوکھلا اٹھے ہیں۔ گذشتہ مہینوں میں گنجان جنگلوں میں مڈ بھیڑ اور تلاشی کارروائی کے دوران بھی نکسلیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس سے پہلے بغیر روک ٹوک کی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہے تھے ۔ نکسلیوں کی اس بوکھلاہٹ کو پولیس کی کامیابی مانا جارہا ہے۔
2010 ء نکسلی تشدد کا سب سے خونی برس رہا ہے۔ پچھلے ایک سال میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ نکسلی تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔44 برس پہلے 1967 میں شروع ہوئی نکسلی تحریک کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا خونی سال تھا۔2010ء میں نکسلی متاثرہ 9 ریاستوں میں انہوں نے998 لوگوں کی جان لی ہے۔ ان میں پولیس ملازمین اور700 سے زیادہ عام شہری تھے۔ جموں کشمیر اور مشرقی ریاستوں میں دہشت گردانہ وارداتوں میں مارے گئے لوگوں سے یہ تعداد پانچ گنا زیادہ ہے۔ نکسلی تشدد کا شکار زیادہ تر وہ غریب قبائلی اور دیہاتی ہوئے جنہوں نے ان کی مخالفت کی یا پولیس کے مخبر بنے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم نے گذشتہ دسمبر میں اپنی رپورٹ میں ایک بار پھر نکسلی تشدد کو دیش کی سلامتی کے لئے زیادہ سنگین خطرہ بتا یا ہے۔ چدمبرم نے سکیورٹی فورس سے کہا کہ انہیں دفاعی ہونے کے بجائے جاریحانہ ہونے کی ضرورت ہے۔ مشکل یہ ہے کہ چدمبرم صاحب اور وزیراعظم کبھی تو سختی کی بات کرتے ہیں تو کبھی بات چیت کی اپیل کرتے ہیں نتیجہ یہ ہے سکیورٹی فورس کا یہ نہیں پتہ لگتا کہ سرکار کی پالیسی آخر کیا ہے۔
 Tags: 26/11, Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, Naxalite, P. Chidambaram, Terrorist, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...