Translater

16 جون 2018

پاکستان میں برابر گرتی جارہی ہے روپئے کی ویلیو

حالانکہ خود کنگالی کے دہانے پرکھڑا پاکستان پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے۔ اگر حالت یہ ہی چلتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان پوری طرح سے کنگال ہوجائے گا۔ عید کے تہوار سے پہلے پاکستان تشویشات بڑھ گئی ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ سے پاکستان کی معیشت مسلسل غوطے کھا رہی ہے۔ جمعرات کو ایک امریکی ڈالرکی قیمت 118.7 پاکستان روپئے ہوگئی۔ چناؤ سے پہلے پاکستان سنگین اقتصادی بحران میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان کی کرنسی میں جاری گراوٹ رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ اگر ڈالر کی کسوٹی پر بھارت سے پاکستان کا مقابلہ کریں تو بھارت کی اٹھنی پاکستان کے تقریباً ایک روپے کے برابر ہوگئی ہے۔ ایک ڈالر ابھی بھارت میں 76 روپئے کے برابر ہے۔ پاکستان کا سینٹرل بینک پچھلے سات مہینے میں تین بار روپے کی دوبارہ ویلیو کرچکا ہے لیکن اس کا اثر ابھی تک نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ عید سے پہلے اور عید کے دن پاکستان کی مالی حالت عام لوگوں کو مایوس کرنے والی ہے۔ پاکستان میں اگلے مہینے 25 جولائی کو عام چناؤ ہونے والے ہیں۔ چناؤ سے پہلے کمزور اقتصادی حالت کے مستقبل کے لئے سنگین تشویش دیکھی جارہی ہے۔ چناؤ کے دوران دیش کی معیشت بڑا اشو بن سکتی ہے۔ روپے میں بھاری گراوٹ سے صاف ہے کہ قریب 300 ارب ڈالر کی پاکستانی معیشت سنگین بحران کا سامنا کررہی ہے۔ پاکستان کی غیرملکی کرنسی ذخیرے میں ہورہی لگاتار کمی اور کرنٹ کھاتے میں خسارہ کا بنا رہنا پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ایک بار پھر اس نے بین الاقوامی کرنسی فنڈ کے پاس جانا پڑا۔ اس سے پہلے پاکستان نے 2018 میں آئی ایم ایف سے قرض لیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی این ایس کرنسی کی ویلیو گھٹانے کے لئے کہہ سکتا ہے اس لئے پاکستان یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ پہلے سے ہی اس کی تیاری کررہا ہے۔ غیرملکی کرنسی ذخیرہ پر دباؤ کم کرنے کے لئے وہ چین سے بات کررہا ہے۔ کرنسی کی ویلیو گھٹانے کا مقصد درآمد کم کرنا اور ایکسپورٹ بڑھانا ہے۔20 لاکھ کروڑ روپے (ہندوستانی) کی معیشت والے پاکستان کا چالو کھاتہ کا خسارہ (سی اے ڈی)ڈی ٹی پی کے 5.3 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ غیرم ملکی کرنسی ذخیرہ صرف 10 ارب ڈالر کا رہ گیا ہے یہ تین سال میں سب سے کم ہے اور صرف دو مہینے کے لئے درآمدات کے لائق رہ سکتا ہے اس کے مقابلے بھارت کی پاکستان سے 8 گنا بڑھی ہے جی ڈی پی ۔ پاک کی 20 لاکھ کروڑ روپے ہے تو بھارت کی 160 لاکھ کروڑ روپے جی ڈی پی ہے۔ جی ڈی پی کے مقابلہ سی اے ڈی (جی ڈی پی کے مقابلہ) بھارت کی 1.5 فیصدی ہے جبکہ پاکستان کی 5.3فیصدی ۔ پاکستان کا غیر ملکی کرنسی ذخیرہ 412 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ پاکستان کا صرف10 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ آنے والے دن پاکستان کے لئے چیلنج بھرے ہونے والے ہیں۔
(انل نریندر)

دنیا کے 100 امیر کھلاڑیوں میں اکلوتا وراٹ کوہلی

نامور میگزین فوربیس نے دنیا بھر میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والے 100 کھلاڑیوں کے لئے جو لسٹ جاری کی ہے اس میں نام درج کرانے والے اکلوتے ہندوستانی کھلاڑی وراٹ کوہلی بھی شامل ہیں۔ یہ کہنا مزید نہیں ہوگا کہ آج کی تاریخ میں وراٹ کوہلی ہندوستانی کھیل دنیا کے سب سے چمکدار کھلاڑی ہیں۔ ان کا واسطہ کرکٹ سے ہے جس کو بھارت میں سب سے زیادہ اہمیت کا ردجہ حاصل ہے۔ ہندوستانی کپتان اس فہرست میں 83 ویں نمبر پر ہیں۔ سال2017-18 میں وراٹ کوہلی کی کل کمائی 50 ملین ڈالر (قریب 1.6 ارب روپے) رہی۔ اس فہرست میں پہلے نمبر پر پیشہ ور امریکی مکہ باز فلوایڈ چمیدر کا نام ہے جن کی 285 بلین ڈالر کی کمائی کے آگے اگر وراٹ کوہلی کا مقابلہ کیا جائے تو وہ کافی بونے نظر آتے ہیں پھر بھی یہ بڑی بات ہے کہ اس فہرست میں وراٹ ہی اکیلے ہندوستانی کھلاڑی ہیں۔ حالانکہ اپنے پیشہ ورانہ زندگی کی طرح وراٹ اس فہرست میں بھی ابھی اس جگہ نہیں پہنچے جہاں سچن تندولکر پہنچے تھے۔سال2013 میں سچن اس فہرست میں 22 ملین ڈالر کی کمائی کے ساتھ 57 ویں نمبر پر تھے۔ اس سے ٹھیک دو سال بعد مہندر سنگھ دھونی میں اس فہرست کو 38 بلین ڈالر کی کمائی کے ساتھ تیسرے مقام پر پہنچے تھے۔ اس لحاظ سے وراٹ ابھی کافی پیچھے ہیں لیکن وراٹ ابھی نوجوان ہیں اور ان کے کرکٹ میں بہت سال ابھی باقی ہیں۔ ہمیں امید ہی نہیں یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں وراٹ اپنا نام روشن کریں گے اور فوربیس کی قومی فہرست میں اوپر پہنچیں گے۔ وراٹ کو ابھی سچن اور دھونی کے جو تمام طرح کے ریکارڈ توڑنے والے ہیں ان میں سے ایک فوربیس کی لسٹ والا ہے جو شاید سب سے مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔ باقی کھیلوں میں اپنا سب کچھ جھونک پر اونچا مقام حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کے دل میں اکثر اس بات کا افسوس رہ جاتا ہے کہ ہاکی ، بیٹ منٹن، نشانہ بازی، کشتی، بلیرسٹ میں اپنی زندگی لگانے کے بجائے کرکٹ سے جڑے ہوتے تو ان کی شہرت اور پیسہ کا لیول کچھ اور ہی ہوتا۔ سب سے زیادہ کمائی کرنے والے ان 100 کھلاڑیوں میں سے 40 باسکٹ بال،18 امریکن فٹبالر (رگبی) سے 14 بیس بال سے9 فٹبال سے اور 5 گولف سے جڑے ہوئے ہیں۔ باکسنگ اور ٹینس سے بھی 4-4 کھلاڑی اس فہرست میں آئے ہیں لیکن کرکٹ سے صرف ایک ہی اس فہرست میں ہے۔ ہمیں اس بات کا اندازہ لگتا ہے کہ جس کرکٹ کو لیکر بھارت میں ایسا پاگل پن دکھائی پڑتا ہے دنیا میں اس کی اوقات و درجہ بڑھا ہے۔ اس فہرست میں ہمیں ایک الگ ڈھنگ سے دیکھنا ہوگا۔ اس میں چین کا ایک بھی کھلاڑی نہیں ہے حالانکہ چین کھیلوں میں دنیا میں دوسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ چین کا فوکس کمائی و چکاچوند والے کھیلوں پر نہیں بلکہ ان کھیلوں پر زیاہ ہے جو اولمپک جیسے مقابلوں میں کھیلے جاتے ہیں۔ بھارت کے کھلاڑیوں کا آگے بڑھنے کا سب سے اچھا راستہ یہ ہی ہوسکتا ہے۔
(انل نریندر)

15 جون 2018

1 مہینہ، 3 ہستیاں، 1 گولی اور زندگی ختم

پچھلے ایک مہینے سے خودکشیوں نے ہمیں تو چونکادیا ہے۔ منگلوار کو گلیمر کی چکاچوند چھوڑ کر سکون کی تلاش میں روحانیت کی راہ اپنانے والے بھییو جی مہاراج نے گولی مارکر خودکشی کرلی۔ اس سے پہلے ممبئی کے جانباز پولیس افسر مہاراشٹر کرائم برانچ کی جوائنٹ کمشنر و انسداد دہشت گردی دستے (اے ٹی ایس) جیسی ذمہ داریاں نبھا چکے ہمانشو رائے نے اپنی جان لے لی۔ پولیس محکمہ میں راجیش سہانی ایسے چند افسروں میں شمار تھے جو جنون کے لئے مشہور ہونے کے باوجود اکیلے پن کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ان تینوں ہستیوں کو دیکھیں تو شاید ہی کوئی کمی نظر آئے۔ ایک انسان کو جس عہدہ، ساکھ اور دھن دولت کی چاہ ہوتی ہے وہ بھییو جی مہاراج سے لیکر سہانی تک تینوں کے پاس تھی۔ بھییو جی مہاراج دنیا کو زندگی کا منتر دینے والے ہائی پروفائل روحانی گورو نے گذشتہ منگلوار کی دوپہر کو اندور میں واقع اپنے گھر میں خودکو گولی مار لی۔ پولیس کے مطابق ان کے کمرہ سے ملے نوٹ پیڈ پر لکھا ایک سوسائڈ نوٹ میں لکھا ہے کہ خاندان کی دیکھ بھال کرنے کے لئے کوئی ہونا چاہئے، میں جا رہا ہوں۔ بہت زیادہ تناؤ ہے، میں تنگ آچکا ہوں۔ بھییو جی مہاراج نے اپنی لائسنسی ریوالور سے دائیں کان کے نیچے گولی مار لی۔ انہوں نے اندر نے دروازہ بند کرلیا تھا جسے توڑ کر انہیں باہر نکالا گیا۔ سلور اسکرین میں واقع گھر سے ان کو ہسپتال لے گئے لیکن تب تک کافی دیر ہوچکی تھی۔ ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ بڑی ہستیوں سے رشتوں اور اپنے شوق کی وجہ سے بھی بھییو جی مہاراج سرخیوں میں رہتے تھے۔پہلے انہوں نے کپڑوں کے ایک برانڈ کے اشتہار کے لئے ماڈلنگ بھی کی تھی بعد میں وہ سنت بن گئے۔ 2011 میں انا تحریک کے وقت قومی سطح پر سرخیوں میں آئے تھے۔ پی ایم نریندر مودی، سابق صدر پرتیبھا پاٹیل، آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت، شر د پوار، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے و سورگیہ ولاس راؤ دیشمکھ ، شیو سینا چیف اودھو ٹھاکرے، ایم این ایس کے لیڈر راج ٹھاکرے کے علاوہ کئی ہستیوں سے ان کے تعلقات تھے۔ بھییو جی مہاراج کی خودکشی کے معاملہ میں پولیس کئی نکتوں پر جانچ کررہی ہے۔ وہ کئی دنوں سے کنبہ جاتی جھگڑے کی وجہ سے کشیدگی میں تھے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ دوسری شادی کے بعدبیوی کا دخل ان کی زندگی میں کافی بڑھ گیا تھا۔ بھییو جی مہاراج کی پہلی بیوی سے ہوئی بیٹی سے بہت پیار کرتے تھے۔ دوسری شادی ہونے کے بعد بیٹی نے ان سے دوری بنا لی۔ بیٹی پنے سے منگلوار کو ہی اندور آئی تھی۔ اپنے کمرہ میں اتھل پتھل دیکھ کر کی دوسری بیوی سے بحث ہوئی تھی۔ 50 لاکھ کی پراپرٹی کے تنازعہ اور کنبہ جاتی رسہ کشی کو لیکر وہ بھی کشیدگی میں تھی۔ بھییو جی کی موت کے بعد بیٹی نے کہا میں انہیں ماں نہیں مانتی۔ انہی کہ سبب میرے پاپا نے یہ قدم اٹھایا ہے ، انہیں جیل میں بند کرو۔ ہم اپنی شردھانجلی پیش کرتے ہیں اس مہان سنت کو۔
(انل نریندر)

گنا کسانوں کو پیکیج سے کتنی راحت

مرکزی سرکار نے گنا کسانوں کو اور چینی ملک مالکوں کو راحت دینے کے لئے 8500 کروڑ روپے کا جو پیکیج جاری کیا ہے وہ کسانوں کے بقایاجات کی ادائیگی کے علاوہ چینی ملکوں کی پیداوار صلاحیت بڑھانے وغیرہ پرمرکوز ہے جس سے بیشک پچھلے کچھ وقت سے جاری پریشانی دور ہوگی۔ حالانکہ اس وقت کہنا مشکل ہے لیکن اس پیکیج سے حالات کتنے سدھریں گے۔ اس وقت چینی صنعت مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ پیداوار اور زیادہ اسٹاک ہونے سے چینی کے دام بازار میں کافی گر گئے ہیں۔ بھارت میں چینی کھپت 2.50 کروڑ ٹن کے آس پاس ہے جبکہ پیداوار 3.15 کروڑ ٹن سے زیادہ ہورہی ہے۔ ملکوں کے لئے گنا کسانوں کا قریب 22 ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ اس پیکیج سے چینی ملکوں کی حالت تو بہتر ہوگی لیکن اس میں گنا کسانوں کی بھلائی کے لئے بہت زیادہ رقم نظر نہیں آتی۔ اسی پیسے سے چینی ملکوں کی پیداوار صلاحیت بڑھانے کے لئے سستا قرض مہیا کرایا جانا ہے۔ چینی کا 30 لاکھ ٹن بہت زیادہ اسٹاک بھی بنایا جانا ہے۔ اس پر 1200 کروڑ روپے خرچ ہوں گے لیکن گنا کسانوں کے بقائے کی ادائیگی کے لئے صرف 1 ہزار 540 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ گنا کسانوں کے لئے اس فوری راحت سے کچھ زیادہ کچھ نہیں ہے۔ حالانکہ امدادی رقم سے مل مالکوں کو بڑی راحت ملے گی۔ چینی ملکوں پر کسانوں کا بقایا کوئی آج کا مسئلہ نہیں ہے۔ مل مالکوں کا ہمیشہ سے یہی رویہ رہا ہے کہ گنا کسانوں کو کبھی وقت سے پیسہ نہیں د یا جاتا۔ سالوں سال کسان بقایا کے انتظار میں گزار دیتے ہیں۔ تحریک اور کئی بار خودکشی جیسے قدم بھی اٹھا لیتے ہیں۔ ملکوں کے لئے گنا کسانوں کا قریب22 ہزار کروڑ روپے ادائیگی کرنا مشکل ہوگیا تو سب سے پہلی ضرورت قیمت کو اس سطح پر لانے کی ہے جس سے کسانوں کو کم سے کم ان کی لاگت تو ملے کیونکہ گنا کسانوں کے بقایا چینی ملکوں کے ذریعے ہی ہونا ہے۔ ایسے میں اس کی گارنٹی ہونی چاہئے ان کو بقائے کی پوری ادائیگی وقت پر ہو۔سرکار اس پیکیج کو تاریخی بتا رہی ہے جبکہ اس کے بجائے اس کو یہ فیصلہ چینی صنعت سے جڑے تضاد اور سرکار کے بدلتے عزم کی مثال ہے۔ ابھی زیادہ وقت نہیں ہوا اس نے دیش میں چینی کا اسٹاک ہوتے ہوئے بھی صارفین کے مفاد میں سستی چینی برآمد کی تھی لیکن اب گناکسانوں کے مفاد میں آناً فاناً میں ایکسائز ٹیکس دوگنا کرکے ایکسپورٹ ٹیکس ختم کردیا ہے۔اقتصای پالیسی کے دور میں یہ سرکاری سرپرستی کی بہتر مثال ہی نہیں بلکہ اس کا ثبوت بھی ہے کہ سرکار ممکنہ طور پر اس سیکٹر کے مسئلہ کو سمجھنا ہی نہیں چاہتی۔ گنا کسانوں کی ٹریجڈی یہ ہے کہ زیادہ پیداوار کے باوجود انہیں نہ تو اس کی منافع قیمت مل پاتی ہے اور نہ ہی ملوں سے وقت پر پیسہ ملتا ہے۔
(انل نریندر)

14 جون 2018

ٹرمپ کا شاندار کارنامہ، کم جانگ اُن کو بات چیت کیلئے رضامند کرنا

ابھی چند ماہ پہلے ہی کی بات ہے دہشت پورے ایشیا پر حاوی تھی۔ نارتھ کوریا ایک کے بعد ایک نیوکلیائی بم اور انٹرکونٹینینٹل میزائلیں داغ رہاتھا۔ آئے دن وہ امریکہ کو دھمکیاں دیتا تھا کہ ہم تمہیں تباہ کردیں گے۔ دوسری طرف امریکہ کی دھمکیوں سے ایسا لگ رہا تھا کہ اس کے بمبار بس نارتھ کوریا پرحملہ بولنے والے ہیں لیکن وقت ایسا پلٹا کہ قریب 70 سال پرانی دشمنی بھلا کر امریکہ اور نارتھ کوریا کے نیتا منگل کے روز آپس میں ملے تو دنیا میں امن قائم رہنے کی امید کو نئے پنکھ لگ گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نارتھ کوریا کے لیڈر کم جانگ اُن کے درمیان قریب 45 منٹ تک تاریخی چوٹی کانفرنس ہوئی۔ سنگاپور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نارتھ کوریا کے صر کم جانگ ان کی ملاقات پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئیں تھی تو یہ فطری ہی تھا۔ پچھلے کئی برسوں سے دنیا کا یہ وہ سب سے خطرناک زون بنا ہواتھا۔ نارتھ کوریا کے ذریعے مسلسل ایٹمی تجربوں سے صرف جزیرے میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں کھلبلی مچی ہوئی تھی۔ تناؤ کے اس ماحول میں اچانک ہی سمجھداری کہاں سے آگئی یہ کہنا تو مشکل ہے لیکن منگلوار کو سنگاپور میں جب نارتھ کوریا کے نیتا کم جانگ ان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدہ پر دستخط کئے تو ساری قیاس آرائیاں دور ہوگئیں۔ یقینی طور پر یہ ایک تاریخی معاہدہ تھا اور تاریخی موقعہ بھی۔ نارتھ کوریا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ بہت جلد اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کی شروعات کرے گی حالانکہ جس رضامندی پر دونوں میں دستخط ہوئے اس میں یہ واضح نہیں ہے کہ نیوکلیائی ہتھیاروں کے خاتمے یعنی ڈی نیوکلیئرائزیشن کا کیا مطلب ہے؟ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دونوں ہی دیش اس لفظ کی الگ الگ تشریح کرسکتے ہیں لیکن فی الحال یہ تکنیکی اشو اہم نہیں ہے اہم ترین یہ ہے کہ دونوں دیشوں کے نیتا ایک ساتھ بیٹے۔ دونوں نے پانچ گھنٹے تک بات چیت کی اور بات چیت بڑی امید افزا ماحول میں ختم ہوئی۔ اسے پرامن رشتوں کی منزل تک پہچانے کیلئے ابھی لمبا سفر طے کرنا ہوگا لیکن باوجود اس کے یہ ملاقات ایسی شروعات ہے جسے ڈپلومیٹک سطح پر ٹرمپ کی مجموعی انتظامیہ کی سب سے بڑی کامیابی مانا جاسکتا ہے۔ نارتھ کوریا پر لگی سخت بین الاقوامی پابندیوں نے بھی اس کے پیچھے یقینی طور پر ایک اہم رول نبھایا ہوگا۔ یقینی طور سے کشیدگی کی تاریخ کے پیچھے پھوٹ بھی دکھائی دے رہی ہے لیکن پوری طرح پیچھا چھوٹے گا یہ دونوں ملکوں پر منحصر ہے۔ کم جانگ ان کو اپنی بات پر قائم رہنا پڑے گا اور سمجھوتے کو پوری طرح نافذ کرنا ہوگا۔ تبھی یہ معاہدہ صحیح معنوں میں تاریخی رہے گا۔
(انل نریندر)

دہلی سرکار کی ٹکراؤ کی حکمت عملی

دیش کی تاریخ میں پہلی بار کوئی وزیر اعلی اپنے وزراء کو لیکر پوری رات دھرنے پر بیٹھا رہا۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اپنی مانگوں کو منوانے کے لئے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کے گھر پر دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ ایل جی ہاؤس کے باہر ان کے ممبران اسمبلی دھرنے پر بیٹھ چکے ہیں۔ سارا جھگڑا یا تنازع حکام کو لیکر زیادہ ہے۔ اروند کیجریوال نے پیر کو ایل جی کو ان کے گھر میں جا کر میمورنڈم سونپتے ہوئے کہا کہ دہلی میں بدامنی کے حالات ہیں۔ افسران پچھلے چار مہینے سے کوئی کام نہیں کررہے ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ حکام جو کررہے ہیں وہ ان کے سروسز رول کے خلاف ہے کیونکہ سروسز ایل جی کے پاس ہے تو آپ قصوروار حکام پر کارروائی کریں۔ ایل جی حکام کو تحریری حکم جاری کریں ۔ اگر تب بھی وہ نہیں مانتے تو ایسما نافذ کر ان کے خلاف کارروائی ہو۔ اس کے برعکس لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے وزیر اعلی پر پلٹ وار کرتے ہوئے پیر کو کہا بغیر کسی وجہ کے دھرنا دیا جارہا ہے۔ راج نواس نے صفائی دی ہے راشن کی ڈور اسٹیپ ڈلیوری سسٹم کو لاگو کرنے کے لئے سرکار کے منصوبے کو تین ماہ پہلے ہی وزیر خوراک و سپلائی کے پاس بھیجا جاچکا ہے۔ چیف سکریٹری انشو پرکاش سے ہوئی مار پیٹ کے واقعہ کے بعد سے دہلی سرکار کا کوئی بھی آئی ایس افسر ہڑتال پر ہیں ہے۔ سبھی افسران اپنے کام کو صحیح طرح سے انجام دے رہے ہیں۔ دہلی سرکار کے آئی ایس افسران پیرکو یہ بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ 19 فروری کی دیر رات کو چیف سکریٹری سے ہوا ہاتھا پائی کا واقعہ افسوسناک تھا۔اس کے بعد مختلف طریقوں جیسے کینڈل مارچ و خاموش مظاہرہ کے ذریعے احتجاج درج کرا یا گیا۔ چھٹی کے دن بھی جاکرسبھی سرکاری دفتروں نے کام کیا۔ پیر کو ہی دہلی ہائی کورٹ نے دہلی اسمبلی سے کہا کہ وہ تین افسروں کے خلاف13 جون تک کوئی سزا دینے والی کارروائی نہ کرے۔ اسمبلی اسپیکر نے عام آدمی پارٹی کے ممبران کو تحریری سوالوں کا جواب نہیں دینے پر تینوں افسروں کو ایوان میں پیش ہونے کی ہدایت دی تھی۔ بیشک عام آدمی پارٹی کی سرکار کی کچھ مانگیں جائز ہوں لیکن اس طرح کی تحریک چلانا سرکار کا کام نہیں ہے۔ اس کا کام انتظامیہ چلانا ہے۔ آندولن پارٹی کا کام ہے۔ پچھلے دنوں کیجریوال نے کئی معاملوں میں معافی مانگ کر مقدمے بازی سے بچنے کا راستہ اپنایا تھا تاکہ سرکار چلانے پر توجہ مرکوز کرسکیں۔ اس کا اگلا مرحلہ اگر ٹکراؤکا دائرہ کم کرنے کی شکل میں دیکھیں تو دہلی کے لئے راحت کی بات ہوگی۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے دہلی سرکار کو کام کرنے میں دلچسپ کم ہے، جھگڑا، تحریک چلانے میں زیادہ ہے۔
(انل نریندر)

13 جون 2018

پبلک سیکٹربینکوں کی حالت مسلسل خستہ ہوتی جارہی ہے

سرکاری بینکوں کی حالت انتہائی مایوس کن بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف بڑھتا ڈوبا قرض (این پی اے) جارہا ہے تو دوسری طرف ہزاروں کروڑ روپے کا خسارہ ہورہا ہے۔ اس لحاظ سے ہم اپنی معیشت کی صحت کو مسلسل گرتی مان سکتے ہیں۔ 1 دسمبر 2016 میں یہ دونوں بینکوں میں جو این پی اے 8 لاکھ40 ہزار 900 کروڑ روپے تھا وہ 31 مارچ 2018 کو بڑھ کر 10 لاکھ 25 ہزار کروڑ تک پہنچ گیا ہے۔ ان میں چار لاکھ کروڑ دیش کے بڑے صنعت کاروں کے بھی ڈوبے قرض شامل ہیں۔ ہماری معیشت اور بینکنگ سیکٹر کی افراتفری دیکھ کر غیر ملکی سرمایہ کار بھی جنوری سے مارچ 2018 تک کے بیچ 32 ہزار 78 کروڑ روپے نکال چکے ہیں اور یہ نکالنا جاری ہے۔ اب چونکانے والی خبر آئی ہے پبلک سیکٹر بینکوں کا مجموعی کرنسی خسارہ مالی سال 2017-18 میں بڑھ کر 85370 کروڑ روپے ہوگیا ہے۔ گھوٹالہ کی مار جھیل رہے پنجاب نیشنل بینک کو سب سے زیادہ نقصان ہوا جبکہ آئی ڈی بی آئی بینک اس معاملہ میں دوسرے پائیدان پر ہے۔ بینکوں کے ذریعے جاری سہ ماہی اعدادو شمار کے مطابق مالی برس کے دوران انڈین بینک اور وجے بینک کو چھوڑ کر باقی بینکوں کو کل ملا کر 85370 کروڑ روپے کا خسارہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے مالی سال2016-17 میں ان 21 بینکوں کو کل 473.72 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا۔ اعدادو شمار میں بتایا گیا ہے کہ 14 ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالہ کی مارجھیل رہے پنجاب نیشنل بینک کو اس بار سب سے زیادہ خسارہ ہوا ہے۔ جبکہ مالی برس 2016-17 میں اس نے 1324.8 کروڑ روپے کا منافع کمایاتھا۔ پبلک سیکٹروں کی بدحالی کو دیکھتے ہوئے اب لوگ اپنے پیسوں کو بینکوں میں محفوظ نہیں مانتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت دیش کی جنتا میں نقدی کی سطح 18.5 لاکھ روپے سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ یہ اب تک کی سب سے زیادہ سطح ہے۔ یہ نوٹ بندی کے دور کے مقابلہ میں دوگنے سے زیادہ ہے۔ نوٹ بندی کے بعد جنتا کے ہاتھ میں کرنسی سمٹ کر قریب 7.8 لاکھ کروڑ روپے رہ گئی تھی۔ بھارتیہ ریزرو بینک کے اعدادو شمار سے یہ جانکاری سامنے آئی ہے۔ آر بی آئی کے مطابق چلن میں موجودہ کل کرنسی سے بینکوں کے پاس پڑی نقدی کو گھٹا دینے پر پتہ چلتا ہے کہ چلن میں کتنی کرنسی لوگوں کے ہاتھوں میں پڑی ہے۔ قابل ذکر ہے کچھ مہینے پہلے دیش کے مختلف حصوں میں نقدی بحران کی خبریں بھی آئی تھیں جبکہ اس کے برعکس لوگوں کے پاس بڑی مقدار میں نقدی موجود ہے۔ غور طلب ہے کہ نوٹ بندی کے بعد قریب 99 فیصد کرنسی بینکنگ سسٹم میں واپس آگئی تھی۔ تازہ اعدادو شمار کے مطابق لگتا ہے کہ جنتا کا بینکوں سے بھروسہ اٹھتا جارہا ہے اور وہ اپنا پیسہ گھروں میں زیادہ محفوظ مانتے ہیں۔ اس سے تمام صنعتی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں اور بینکوں کی حالت لگاتار خستہ ہوتی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

دہلی میں اب تک کا سب سے بڑا انکاؤنٹر

راجدھانی کا چھترپور علاقہ سنیچر کی دوپہر قریب 1 بجے اچانک گولیوں کی آواز سے تھرا اٹھا۔ چھتر پور کے کھڑگ چندن ہولا روڈ پر زبردست مڈ بھیڑ چل رہی تھی۔ دہلی این سی آرمیں پچھلے دو دہائی سے دہشت کی علامت بنے دو لاکھ روپے کے انعامی بدمعاش راجیش بھارتی سمیت چار بدمعاشوں کو دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے مار گرایا۔ دہلی اور ہریانہ میں ان بدمعاشوں پر قتل اور لوٹ مار ،اقدام قتل ، جبری وصولی سمیت درجنوں معاملے درج تھے۔ 30منٹ تک چلی اس مڈ بھیڑ میں دونوں طرف سے 150 گولیاں داغی گئیں۔ مڈ بھیڑ میں 8 پولیس والے بھی زخمی ہوئے حالانکہ دو بدمعاش بھاگنے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس کو سنیچر کی صبح اطلاع ملی تھی کہ راجیش بھارتی اپنے گروہ کے ساتھ کھڑگ گاؤں کی طرف آرہا ہے۔ اسے کسی فارم ہاؤس میں جانا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے ناکابندی کرکے دوپہر قریب ایک بجے بدمعاش سفید فورڈ ایڈوینچر آئی ٹوئینٹی گاڑی سے پہنچے۔ پولیس نے گھیرا بندی کر انہیں پکڑنے کی کوشش کی تو بدمعاش فائرننگ کرنے لگے۔ پولیس نے بھی جوابی فائرننگ کی جس میں پانچ بدمعاشوں کو گولی لگی۔ ان میں خطرناک بدمعاش راجیش بھارتی،سنجیو وپروہی، امیش ڈان اور وریش رانا عرف بھکو نے موقعہ پر ہی دم توڑدیا جبکہ ایک بدمعاش کپل زخمی ہوگیا ،اسے ایمس میں بھرتی کرایا گیا ہے حالانکہ دہلی میں پہلے کئی انکاؤنٹر ہوچکے ہیں 19 ستمبر 2008 کو دہلی پولیس نے جامعہ نگر میں چھاپہ کے دوران انڈین مجاہدین کے دو مشتبہ آتنکو ادیوں عتیق ضامن اور محمد ساجد کو مار گرایا جبکہ سیف محمد، عارف خان بھاگنے میں کامیاب ہوگئے، اسے بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کچھ دن پہلے ہی 5 جون 2018 کو شاہدرہ کے وویک وہار میں پولیس نے مڈ بھیڑ میں گاڑی چور نور محمد کو ڈھیر کردیا جبکہ گولی لگنے سے اس کا ساتھی روی کلدیپ زخمی ہوگیا۔ حالانکہ ان کا تیسرا ساتھی بھاگنے میں کامیاب رہا۔ چھتر پور کے اس تازہ انکاؤنٹر کا دہلی میں اب تک کا سب سے بڑا انکاؤنٹربتایا جارہا ہے۔ جانکاروں کے مطابق اب تک ایک ساتھ اتنی بڑی تعدادمیں بدمعاش پہلے کبھی نہیں مارے گئے۔ راجیش بھارتی اور سندیپ وپروہی ہریانہ کے ٹاپ بدمعاشوں میں شامل تھے۔ راجیش پر ہریانہ اور دہلی میں ایک لاکھ روپے کا انعام تھا۔ مڈ بھیڑ میں زخمی کانسٹیبل کو مڈ بھیڑ کے دوران چار گولیاں لگیں۔ فورٹیز اسپتال میں بھرتی کانسٹیبل گردھر کی حالت خطرہ سے باہر ہے وہیں کانسٹیبل گردیپ ایمس ٹروما سینٹر میں ان کی چھاتی میں بائیں طرف اور ہاتھ میں گولیاں لگی ہیں۔ وہیں اے ایس آئی کرشن کمار بھی اسپتال میں بھرتی ہیں۔ اے ایس آئی ہری کرشن ٹراما سینٹر میں بھرتی ہیں۔ پولیس ڈپٹی کمشنر پرمود سنگھ کشواہا مڈ بھیڑ کررہی ٹیم کو ہدایت دے رہے تھے۔ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کو اس شاندار کارنامے پر بدھائی۔
(انل نریندر)

12 جون 2018

راجیوگاندھی کی طرح مودی کو مارنے کی سازش

بھیما گورے گاؤں میں تشدد بھڑکانے کے الزام میں انہیں پولیس کی جانب سے نکسلیوں کے خلاف کارروائی میں چونکانے والے ایک خط ہاتھ لگا ہے۔ اس کے مطابق نکسلیوں کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی کے قتل کی سازش کا انکشاف ہوا ہے۔ پنے کے بھیما گورے گاؤں میں جنوری میں ہوئے دنگے میں پانچ مشتبہ نکسلیوں (ماؤوادی) کی گرفتاری کے بعد پولیس نے یہ انکشاف کیا ہے۔ دہلی میں گرفتار رونا کیب ولسن کے منریکا میں واقع فلیٹ سے برآمد لیپ ٹاپ میں یہ خط ملا ہے جس میں مودی کو نشانہ بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ پنے پولیس کے مطابق نکسلیوں نے وزیر اعظم کے روڈ شو کو نشانہ بنانے کی بات لکھی ہے۔ اس درمیان مہاراشٹر کے وزیر اعلی دویندر پھڑنویس اور ان کے خاندان کوبھی دھمکی بھرے خط ملے ہیں۔ دیویندر پھڑنویس کا دعوی ہے کہ پولیس کے پاس درکار ثبوت ہیں۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ مودی اسی طرح کامیاب ہوتے رہے تو ہمیں مشکل ہوگی۔ راجیو گاندھی کی طرح ان کا قتل کرنا ہوگا۔ نریندر مودی 15 ریاستوں میں بھاجپا کی سرکار بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو سبھی ریاستوں پر پارٹی کے لئے پریشانی کھڑی ہوجائے گی۔ کامریڈ کسن اور کچھ دیگر سینئر ماؤ وای کامریڈوں نے مودی راج ختم کرنے کے لئے کارگر مشورہ دئے ہیں۔ ہم اس کے لئے راجیو گاندھی جیسے قتل پر غور کررہے ہیں۔ یہ خودکش جیسا حملہ ہوگا اور اس کے کامیاب ہونے کا امکان بھی زیادہ ہے۔ انہیں روڈ شو میں ٹارگیٹ کرنا اثر دار حکمت عملی ہوسکتی ہے۔ پارٹی کا وجود کسی قربانی سے اوپر ہے، باقی اگلے خط میں (یہ ولسن کے فلیٹ سے ملے ہیں ) کانگریس نیتا سنجے نروپم نے اس خط پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہاہوں کہ یہ معاملہ پوری طرح سے جھوٹا ہے لیکن مودی کا پرانا ہتھکنڈہ بھی رہا ہے جب وہ وزیر اعلی تھے اس وقت مقبولیت کم ہونے لگی تو قتل کی سازشیں پھیلائی جاتی رہی ہیں۔دوسری طرف مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے اسے حکمراں این ڈی اے کے خلاف کچھ سیاسی پارٹیوں کی سازش قرار یا ہے۔ انہوں نے مودی کی قیادت والی این ڈی اے سرکار کے خلاف نکسلیوں کا بھی تعاون لینے سے گریز کرنے والی سیاسی پارٹیوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ارون جیٹلی نے نکسلیوں کے اس تعاون کو شیر کی سواری قراردیا ہے جس میں شیر سب سے پہلے اپنے سوار کو شکار کرتا ہے۔ ہماری رائے میں اس دھمکی کو ہلکے سے نہیں لیا جاسکتا۔ وزیر اعظم مودی کے قتل کی سازش اس لئے بھی زیادہ سنگین بات ہے کیونکہ نکسلی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ بڑے نیتاؤں کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔ سبھی اس سے واقف ہیں کہ اگر نکسلیوں نے کچھ برس پہلے سکھما میں کس طرح سے چھتیس گڑھ کانگریس کے بڑے نیتاؤں کا قتل کیا تھا۔ معاملہ میں پوری چوکسی برتنی ہوگی۔
(انل نریندر)

اور اب جے ڈی (یو ) نے آنکھیں دکھانی شروع کردیں

چار لوک سبھا دس اسمبلی ضمنی چناؤ کے بعد جہاں اپوزیشن کے متحد ہونے کی قیاس آرائیاں لگی ہیں وہیں این ڈی اے متح نظر نہیں آرہا ہے۔ اکالی دل ، جے ڈی (یو) ، لوک جن شکتی پارٹی، راشٹریہ لوک سماجوادی پارٹی اور سہیلدیو بھارتیہ سماج جیسی پرانی اور نئی اتحای پارٹیوں نے اپنے اپنے ڈھنگ سے ناراضگی ظاہر کرنا شروع کردی ہے۔ اس میں ایک طرح کی سودے بازی بھی ہے تو دوسری طرف 2019 کے لئے محفوظ مستقبل کی تلاش بھی ہے۔ شیو سینا ، اکالی دل، جے ڈی (یو) کو معلوم ہے کہ قومی سطح پر بھاجپا ایک بڑی طاقت ہی رہے گی لیکن علاقائی سطح پر وہ اپنی طاقت کیسے بچائیں گے اس لئے جے ڈی (یو) نے پکاارادہ کرلیا ہے کہ بہار کی سطح پر اتحاد کا چہرہ وزیراعلی نتیش کمار ہی رہیں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کا وجود علاقائیت اور وقاریت پر ٹکا ہے۔ جمعرات کو این ڈی اے نے اتحادی پارٹیوں کے نیتاؤں کے ساتھ پٹنہ میں ڈنر کیا تھا اس میں راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کے صدر اوپیندر کشواہا نے شرکت سے منع کردیا تھا۔ ان کا کہناتھا کہ یہ این ڈی اے کی میٹنگ نہیں ہے اس میں ان کی اسٹیٹ لیڈر شپ شامل نہیں بلکہ مرکزی لیڈر شپ سے بات چیت ہے۔ کشواہا نے مانگ کی کہ میٹنگ این ڈی اے کی بلائی جانی چاہئے تھی جو کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ بلاتے ہیں۔ جمعرات کو اس میٹنگ سے ٹھیک پہلے جے ڈی (یو) نے اپنے تیور اور تلخ کر لئے ہیں۔ جے ڈی (یو) کے قومی سکریٹری جنرل کے سی تیاگی نے میٹنگ سے ایک دن پہلے بدھوار کو کہا کہ این ڈی اے کی بہار ہی نہیں پورے دیش میں پوزیشن بہت خراب ہے۔ جنتا دل (یو) کو پریشان کیا جارہا ہے۔ اس نے بہار میں بھاجپا کو سانجھیدار بنایا لیکن مرکز میں جنتادل (یو) کو نہ تو کیبنٹ میں جگہ ملی اور نہ ہی این ڈ ی اے نے پارٹی کی پالیسی سازی میں اہمیت دی۔ بھاجپا کو نتیش کمار کے چہرے کا استعمال کرنا چاہئے۔ اگر سال2014 جیسے حالات نہیں پیدا ہوئے تو مرکز میں این ڈی اے کی واپسی مشکل ہوگی جس دن پٹنہ میں این ڈی اے کی میٹنگ ہورہی تھی اسی دن آرجے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کانگریس صدر راہل گاندھی سے ملاقات کررہے تھے۔ راہل اور تیجسوی کی یہ ملاقات 40 منٹ سے زیادہ دیر تک چلی۔ بہار میں لوک سبھا کی 40 سیٹیں ہیں۔ یہاں این ڈی اے میں چار پارٹیاں شامل ہیں۔ 2014 میں بھاجپا 29 سیٹوں پر لڑی تھی۔ اسے 22 سیٹوں پرکامیابی ملی تھی۔ اس کی ساتھی پارٹی ایل جے پی نے 7 پر چناؤ لڑا تھا اور 6 پر کامیابی ملی تھی وہیں راشٹریہ سماجوادی پارٹی 4 سیٹوں پر لڑی تھی اسے 3 سیٹیں ملی تھیں تب این ڈی اے سے الگ جے ڈی (یو)40 سیٹوں پر لڑی تھی اور صرف2 پر جیتی تھی۔ جنتادل (یو ) کے لیڈر کے سی تیاگی نے کہا کہ جنتادل (یو )بہار میں اہم رول نبھا رہی ہے ہم 25 سیٹوں پر چناؤ لڑ رہے ہیں اور انہیں ہمیں 25 سیٹیں دینی ہوں گی۔ بھاجپا اگر اگلے لوک سبھا چناؤ میں اپنے ساتھیوں کی بات مانتی ہے تو صرف اسے چار سیٹیں ملی گی یہ ہمیں لگتا ہے کہ شاید بی جے پی کویہ منظور ہو۔
(انل نریندر)

10 جون 2018

کیا کانگریس مکت نعرہ بھاجپا پر بھاری پڑنے لگا ہے

بھاجپا پردھان امت شاہ نے پچھلے دنوں کہا تھا کہ پارٹی 2019 میں 400 سیٹیں جیتے گی اور 50 فیصد ووٹ حاصل کرے گی لیکن اگر حالیہ 14 ضمنی چناؤ نتائج کو دیکھیں تو یہ نشانہ مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ نیتاؤں کو اندر خانے اس بات کی تشویش ضرور ستا رہی ہوگی کہ ان کی تو مقبولیت گھٹ ہی رہی ہے اور اپوزیشن مسلسل منظم ہوتی جارہی ہے۔ ان ضمنی چناؤ میں بھاجپا کی ہار نے اپوزیشن کیلئے یہ امید پیدا کردی ہے کہ اگر ہم متحدہوکر لڑے تو بھاجپا کو 2019 میں ہرایا جاسکتا ہے۔ کرناٹک اور اس کے بعد کے واقعات نے کانگریس صدر راہل گاندھی کی لیڈر شپ کو پختہ کردیا ہے۔ راہل مسلسل مودی سرکار پر حملے کررہے ہیں۔ کچھ دن پہلے راہل نے پی ایم مودی پر سیدھا حملہ کرتے ہوئے مندسور میں کہا کہ انہوں نے 15 لوگوں کا ڈھائی لاکھ کروڑ روپیہ معاف کیا لیکن کسانوں کو کچھ نہیں دیا۔ راہل نے مند سورکے پپلیامنڈی میں کسان گولی کانڈ کی برسی پر منعقدہ کسان اسمرتی سنکلپ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صنعت کاروں کے پیسے معاف کرنے اور کسانوں کے قرض معاف نہ کرنے کو لیکریہ بات کہی۔ لوک سبھا کی چار اور اسمبلی کی 10 سیٹوں کے ضمنی چناؤ میں اپوزیشن اتحاد سے آئے نتائج سے گد گد کانگریس نے کہا بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہار یقینی کرنے کے لئے مختلف پارٹیاں بھاجپا مخالف ووٹوں کو بکھرنے سے روکنے کی حکمت عملی مل کر بنائیں۔ اپوزیشن اتحاد کا مقصد بھاجپا کو ہرانا ہے اور اس کے لئے کانگریس۔ بھاجپا مخالف ووٹوں کو بٹنے سے روکنے کی حکمت عملی پر سب سے مل کر کام کرے گی۔ مودی سرکار کو کسانوں کے لئے زیادہ ہی غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھاجپا نے کسان کو اس کی لاگت کی ڈیڑھ گنا ادائیگی کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اسے پورا نہیں کیا گیا۔ کسانوں کو کم از کم قیمت دی جارہی ہے انہوں نے الزام لگایا کہ مودی 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کی بات تو کہتے ہیں لیکن یہ کام 2052 تک بھی پورا نہیں ہوگا۔ راہل نے بغیر کسی کا نام لئے پارٹی کی مدھیہ پردیش یونٹ کے نیتاؤں کو زمینی سطح پر کام کرنے کی نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ جو جنتا سے جڑے گا اسی کی اگلی سرکار بنے گی۔ نریندر مودی کے جادوئی کشش کے رتھ پر سوار بی جے پی نے 2014 کی جنگ فتح کرنے کے بعد جو پولیٹکل ایجنڈاسیٹ کیا تھا وہ تھا ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ ۔ شروعات میں تو لگا کہ انہوں نے اپنے حریفوں پر سائیکلوجیکل بڑھت حاصل کرلی ہے اور جب پارٹی اسے عملی جامہ پہنانے اتری تو ہار کا ماحول صرف مخالف خیمے میں ہی نہیں دکھائی دیا بلکہ خود این ڈی اے اتحادی پارٹیوں کو بھی بے چین کرنے لگا۔ جہاں تک کانگریس مکت نعرہ کا تعلق ہے کانگریس پارٹی کو کرناٹک و ضمنی چناؤ میں کانگریس کو نئی سنجیونی دی ہے اور راہل گاندھی نئے اوتار میں دکھائی دینے لگے ہیں۔ بھاجپا کی جارحانہ پالیسی کا نتیجہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنے دوست کم کئے ہیں اور دشمن زیادہ تیار کرلئے ہیں۔ اس صورت میں سیاسی فائدہ کم نقصان زیادہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس طرح ایک طرف تو خود بی جے پی نے کانگریس کو پھر سے زندہ کردیا ہے دوسری طرف پورے دیش میں اپوزیشن کو متحد ہونے کا موقعہ دے دیا ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ اگلے سال ہونے والے لوک سبھا چناؤ میں 50 فیصد ووٹ حاصل کرنے کا ٹارگیٹ رکھا ہے حالانکہ آج تک کی تاریخ میں بھاجپا اس نمبر کو کبھی چھو نہیں پائی۔ اسمبلی چناؤ میں بھی نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسمبلی چناؤ میں گجرات کی جنتا نے چار پار اسی پارٹی کو آدھے سے زیادہ ووٹ دئے مگر ہر بار یہ پارٹی کانگریس رہی۔
(انل نریندر)

فیفا ورلڈ کپ 2018 کی الٹی گنتی شروع

کھیلوں کی دنیا کا مہا کنبھ کہلانے والے ورلڈ کپ فٹبال کو شروع ہونے میں مشکل سے چار دن باقی ہیں۔ 14 جون سے 15 جولائی تک روس میں منعقد ہونے والا فیفا ورلڈ کپ دنیا میں سب سے بڑا کھیل ایوینٹ ہوتا ہے۔ روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے میچوں کا انعقاد 11 شہروں کے 12 اسٹیڈیموں میں 32 ٹیمیں کل 64 میچ کھیلیں گی۔ 32 سال میں پہلی بار امریکہ اس ورلڈ کپ میں نہیں ہوگا۔ اٹلی اور نیدر لینڈ جیسی سرکردہ ٹیمیں بھی اس بار اس مقابلے میں کوالیفائی نہیں کرپائیں۔پیرو کی ٹیم دوسری اور 36 سال بعد واپسی ہوگی۔ روس میں ورلڈ کپ سے پہلے کھیل کا خمار چڑھنے لگا ہے۔ سب سے مقبول کھیل کو لیکر دنیا میں جوش اور جنون کا ماحول بن دیا ہے۔ ورلڈ کپ کا فائنل ماسکو کے لزنیکی اسٹیڈیم میں ہوگا۔ ہر چار سال میں ہونے والے ورلڈ کپ کی جنگ میں داؤ پر صرف فٹبال کی بادشاہت اور 18 کیرٹ کی چمچاتی ٹرافی نہیں ہوگی بلکہ جیتنے والی ٹیموں پر ڈالر کی ریکارڈ برسات ہونے والی ہے۔ 14 جون سے 15 جولائی تک جب 32 ٹیمیں فٹبال کے اس مہا سمر میں ٹکرائیں گی تو ان انگنت انعام کھلاڑیوں کے نام لکھے جائیں گے۔ اس بار فیفا ورلڈ کپ 2018 میں کچھ انعامی رقم 89 کروڑ 10 لاکھ ڈالر (791 ملین ڈالر یعنی 53 ارب روپے سے زیادہ ہے) جو پچھلی بار 2014 میں برازیل میں ہوئے ورلڈ کپ سے 40 فیصد زیادہ ہے۔ 15 جولائی کو لزنیکی اسٹیڈیم پر جو ٹیم جیتے گئی اسے 3 کروڑ80 لاکھ الر ملیں گے جو پچھلی بار سے 30 لاکھ ڈالر زیاہ ہیں وہیں رنر ٹیم کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر اور تیسرے مقام پر رہنے والی ٹیم کو 2 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ملیں گے۔ فیفا کلب کے پروگرام کے تحت 20 کروڑ 9 لاکھ ڈالر ان کلبوں کو دئے جائیں گے جنہوں نے ورلڈ کپ کے کھلاڑیوں کو چھوڑا۔ 13.4 کروڑ ڈالر سکیورٹی پروگرام کے تحت دئے جائیں گے جس میں ورلڈ کپ کے دوران کھلاڑی کے چوٹل ہونے سے ہوئے نقصان کی بھرپائی ہوگی۔ سبھی 32 ٹیموں کی تیاری فیس کے طور پر 15 لاکھ ڈالر ملیں گے۔ پہلے مرحلہ میں باہر ہونے والی ٹیم بھی 80 لاکھ ڈالر پائے گی۔ اگر ہم کچھ انعامی رقم کو دوسرے مقابلوں سے ملائیں تو آئی پی ایل 11 میں 25.8 کروڑ روپے ونر کو ملے۔ اس میں 12.9 کروڑ روپے رنر کو ملے اور 6.4 کروڑ روپے تیسرے چوتھے مقام پر رہنے والی ٹیموں کو ملے۔ کرکٹ ورلڈ کپ 2015 میں 25.17 کروڑ روپے آئی سی سی ورلڈ کپ چمپئن کو ملے جبکہ رنر کو 11.74 کروڑ روپے ملے۔ اب آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ورلڈ کپ فٹ بال کتنا بڑا ایوینٹ ہوتا ہے۔ یہ کھیل دنیا میں سب سے زیاہ مقبول ہے اور روس کے اس ورلڈ کپ کو اربوں لوگ ٹی وی پر دیکھیں گے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...