Translater

15 اگست 2020

امریکہ میں کھلا کمل!

امریکہ میں نائب صدد کے عہدے کےلئے ہندوستانی خاتون کملا ہیرس بطور امیدوار چنی گئی ہیں امریکی ڈیموکریسی اور سیاست میں اس قدم کو میل کا پتھر مانا جا رہا ہے ۔محترمہ کملا ہیرس اس عہدے کی ریس میں شامل ہونے والی سیاہ فام خاتون ہیں اگر وہ امریکہ کی نائب صدر چنی جاتی ہیں تو وہ اور بھی کئی ریکارڈ بنائیں گی اور وہ پہلی خاتون ہوں گی جو ملک کی نائب صدر کا عہدہ سنبھالیں گی بلکہ پہلی ہندوستانی امریکی اور افریقی امریکی بھی ہوں گی ۔55سالہ کملا ہیرس کے والد افریقی ہیں ۔ان کی ماں ہندوستان کی ریاست تمل ناڈو سے تعلق رکھتی تھیں جن کی 2009میں موت ہو چکی ہے ۔فیصلے کے بعد ہیرس حمایتیوں نے کمپین شروع کر دی ہے جس کا نام ہے امریکہ میں کھلا کنول ،)لوٹس بلوم ان دی یو ایس(اس مہم کا اعلان کرنے کے بعد ملک گیر طور سے با قاعدہ کمپین شروع ہو گئی ہے ۔جوائے بیڈین کے اس فیصلے کی ہندوستانی امریکی فرقہ نے کافی تعریف کی ہے پینسکو چیف رہ چکی اندرا نومی نے اسے بے حد اچھا فیصلہ بتایا اس کے علاوہ انڈیا پوسٹ کے بانی رنگا سوامی نے اسے ہندوستانیوں کے لئے ایک فخر کا لمحہ بتایا ہے ۔کملا نے ٹوئٹ کیا ہے کہ امریکی سیاست میں سیاہ فام خواتین کو مناسب نمائندگی نہیں ملی ہے اب امریکہ کو بدلنے کا وقت آگیا ہے ۔امریکہ میں مین اسٹریم کے میڈیا نے لکھا ہے کہ کملا ہیرس کو نائب صدر کے عہدے کا امیدوار بنایا جانا ایک تاریخی قدم ہے ۔اور میڈیا نے فیصلے کا خیر مقدم کیا جیسے کہ براک اوبامہ کو 2008میں صدارتی عہدے کا امیدوار بنائے جانے پر کیا تھا ۔واضح ہو کہ کملا ہیرس کا بھارت سے گہرا رشتہ ہے وہ ہندوستانی نژاد امریکی شہری ہیں ان کے ناناپی وی گوپالن ایک مجاہد آزادی اور جنتا کے سیوک تھے ان کی ماتا شیامہ گوپالن ہیرس کی پیدائش تمل ناڈو کے چنئی شہر میں ہوئی تھی ۔کملا نے اپنا گریجویشن دہلی یونیورسٹی سے پورا کیا اس کے بعد انہوںنے یونیورسٹی آف کیلفورینا برکلے سے پی ایچ ڈی کی ۔انہوںنے جمائکہ کے باشندے ڈونیڈ ہیرس سے پیار کی شادی کی تھی ۔کملا کے والد ڈونلڈ ہیرس اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں لیکچرار تھے ۔کملا کی ماں شیامہ ہیرس کا دیہانت ہو گیا تھا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیڈین کے اس فیصلے پر حیرانی ظاہر کی ہے انہوںنے وائٹ ہاﺅس میں میڈیا سے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ وہ کیسے کام کرتی ہیں ۔انہوںنے شروعات میں بے حد خراب مظاہرہ کیا تھا اب وہ کئی چیزوں کو لے کر سرخیوں میں تھیں اس لئے مجھے بیڈن کے ذریعہ ان کا انتخاب کرنے پر تھوڑا تعجب ہو رہا ہے ۔نائب صدر کے عہدے کے لئے کسی خاتون امیدوار کو نامزد کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔مئی میں گورے افسر کے ہاتھوں مارے گئے جارج پلائڈ کی موت کے بعد ان پر سیاہ فام خاتون کو چننے کا دباﺅ پڑنے لگا سیاہ فام لوگوں کے خلاف پولیس کے برتاﺅ کو لے کر افریقی امریکیوں کی ٹرمپ کے خلاف ناراضگی ہے ۔اس لئے برڈین میں کملا پر داﺅں لگا کر ایک تیر سے دو نشانے لگائے ہیں ۔کملا ہیرس کے اس عہدے کے لئے انتخاب کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اور کملا کو مبارکباد دیتے ہیں ۔ (انل نریندر)

کیا قانون بیٹیوں کو ان کا حق دلا سکتا ہے؟

یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ تمام دعووں و قوانین کے باوجود خواتین کو برابری سے نہیں دیکھا جاتا مرد اکثریتی ملک میں خواتین کو اپنی حق کے لئے ہر سطح پر لڑنا پڑتا ہے ۔گھرمیں جب بچہ پیدا ہونا ہوتا ہے تو ماں باپ یہی امید کرتے ہیں کہ بیٹا ہو مگر بیٹی ہو تو اس کو ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے ۔آج بھی حمل میں بچے کے مارے جانے کی خبریں آتی رہتی ہیں ۔والد کے املاک میں بیٹے کے برابر بیٹی کو بھی حق ملنا چاہیے اسے لے کر ہمارے سماج میں ایک طرح سے منفی نظریہ رہا ہے ۔حالانکہ قانون کے مطابق قریب 15سال پہلے بیٹیوں کو والد کی وراثت میں بیٹوں کے برابر حق یقینی بنایا گیا تھا لیکن اب بھی اسے لے کر کہیں نہ کہیں تنازعہ جاری تھا اب دیش کی 74ویں یوم آزادی سے ٹھیک پہلے منگل کے روز سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں بڑا فیصلہ دے دیا ہے اور اسے ایک طرح سے ساری الجھنیں دور ہو گئی ہیں ویسے تو ہندو عورتوں کو والد کی پراپرٹی پیدائشی حق ہے ۔لیکن ہندو جانشین ترمیم قانون 2005کے قانون میں عمل میں آنے کے بعد ہی مل گیا تھا اس معاملے میں بڑی عدالت کا یہ فیصلہ 2005کے قانون کی ہی توسیع سوال آخر یہ ہے کہ سپریم کورٹ کو 2005کے قانون میں ترمیم کرنے کی ضرورت پڑی ؟حقیقت میں بڑی عدالت کے ہی دو متاضاد فیصلوں کے بعد اُٹھے پیچدگی کو دور کرنے کے لئے یہ فیصلہ دینا پڑا اب سپریم کورٹ کے تین ججوں کی بنچ نے اس متضاد فیصلوں پر روک لگاتے ہوئے صاف کیا ہے کہ مشترکہ ہندو خاندان کی پراپرٹی میں بیٹی کا یکساں حق ہوگا بھلے ہی 2005کے قانون کے عمل میں آنے سے پہلے ہی اس کے والد کی موت ہو گئی ہو ۔حقیقت میں ہندو سماج پراپرٹی کا مسئلہ بہت پیچیدہ رہا ہے ۔عورتوں کو والد کی پراپرٹی میں حق اس لئے نہیں دیا گیا تھا کہ سماجی سسٹم کے تحت یہ مانا جاتا تھا کہ بیٹیوں کا حصہ اسے شادی کے وقت جہیز میں دے دیا گیا ہے اور جب شادی ہو گئی تو وہ دوسرے گھر کی بہو بن گئی ۔اس لئے والد کی پراپرٹی پر اس کا کوئی حق نہیں رہتا آج عدالتوں میں کئی شادی شدہ خوشحال عورتیں اپنے والد کی پراپرٹی میں حق کے لئے بھائیوں کے خلاف لڑ رہی ہیں پتا کے گھر کے ساتھ اس کا صرف جذباتی تعلق رہ جاتا تھا اب مسئلہ یہ ہے کہ والد کی پراپرٹی پر قانونی طور پر بیٹی کا حق بھلے ہی ہو لیکن عام طور پر آج بھی پرانا چلا آرہا ہے ۔کہ والد کی پراپرٹی پر لڑکوں کا ہی حق رہتا ہے اس پورے مسئلے کے سماجی پہلو پر بھی غور کرنا ضروری ہوگا والد کے کنبے کی جتنی ذمہ داری ہوتی ہے اس کو بھی لڑ کے کو ہی پوری کرنی ہوتی ہے ۔مگر بد قسمتی سے والد کوئی قرضہ اپنے اوپر چھوڑ جاتا ہے تو اسے ادا کرنے کا کام بھی بیٹا ہی کرتا ہے ۔اس لئے جانشینی کے مسئلے پر لڑکوں کی شکایت یہی رہتی ہے کہ خرچ تو وہ برداشت کرتے اور پراپرٹی لڑکی لینے چلی آتی ہے ایسی صورت میں لڑکی کے ساتھ برابر سامان کا بٹوارہ لڑکوں کو تکلیف ضرور دیتا ہے جب تک اس کا سماجی حل نہیں نکلتا تب تک اس قانون سے بہت زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی ۔74ویں یوم آزادی پر ہم تمام ملک کے شہریوں کو مبارکباد دیتے ہیں ۔ (انل نریندر)

14 اگست 2020

منچلوں کی وجہ سے طالبہ کی سڑک حادثہ میں موت!

ایک بے حد تکلیف دہ واقعہ میں ایک بہت ہونہار و نوجوان لڑکی ایک سڑک حادثہ میں موت ہو گئی بے حد غریب خاندان کی لڑکی شوکشا کو امریکہ میں 3.80کروڑ روپئے کی اسکوالر شپ ملی تھی 20اگست کو اس کی امریکہ واپسی کی فلائٹ تھی وہ امریکہ کے بیٹسن کالج میں اسکوالر شپ پر بی بی اے کر رہی تھی لڑکی شوکشا کی سڑک حادثے میں نہیں بلکہ منچلوں کے سبب موت ہو گئی اس کے والد جتندر بھاٹی نے الزام لگایا کہ بلٹ پر سوار دو لڑکوں نے دو کلو میٹر تک اس کا پیچھا کیا اور چھیڑ خانی کی پیر کو ان دونوں نے اپنے ماما کے اوشنگ آباد گڑھ مکتیشور میں مینی ہائی وے پر جا رہی تھی شویکشا کے ساتھ سڑک پر بائک سوار منچلوں نے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی پہلے تو ان لڑکوں نے ان کی بائک کو اوور ٹیک کر کے اچانک بریک لگا دی چھیڑ چھاڑ سے بچنے کی کوشش میں شویکشا بائک سے گر گئی موقعہ پر ہی موت ہو گئی لڑکی کے ماما سمت نے بتایا کہ حادثہ کی اطلاع کے باوجو د پولیس آدھے گھنٹے بعد پہنچی دوسری طرف ایس پی سٹی اتل کمار شری واستو نے بتایا کہ طالبہ واردات کے وقت رشتہ دار نے چھیڑ چھاڑ جیسی کوئی واردات نہیں بتائی تھی ۔پولیس نے لڑکی کے والد جتیندر بھاٹی کی تحریر پر دیر رات دو نا معلوم بلیٹ سواروں پر اور اورنگ آباد پولیس سی او لائن راگوندر مشرا کی رہنمائی میں ٹیم صبح ہی دادری پہنچ گئی انہوںنے پولیس کو دی گئی تحریر میں بتایا کہ ان کی بیٹی ،بھائی ستندر اور بھتیجے نگم بھاٹی کے ساتھ اپنے ماما کے گھر جا رہی تھی اسی دوران اورنگ آباد علاقہ کے چروٹا مصطفی آباد کے پاس بلیٹ سوار وں نے جان بوجھ کر لڑکی کی بائک کو اوور ٹیک کیا اور اچانک بریک لگانے سے اس کی گاڑی کا بیلنس بگڑ گیا بیٹی کے سر پر سنگین چوٹیں آئی تھیں جس کے چلتے اس کی موت ہوگئی ۔تھانہ انچارج سبھاش سنگھ نے بتایا کہ نا معلوم بائک سوار لوگوں کے خلاف دفعہ 279,304Aاور موٹر ویکل ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔ملزمان کی تلاش جاری ہے ۔پولیس نے ابتدائی جانچ میں کسی چھیڑ چھاڑ سے انکار کیا ہے ۔اب ایس آئی ٹی ٹیم کی جانچ کی بنیاد پر آگے کی کارروائی ہوگی ۔وجہ کچھ بھی رہی ہو لیکن افسوسناک ہے ایک ہونہار طالبہ جس کے سامنے پوری زندگی پڑی ہو اس کی اس طرھ سے اچانک موت ہو جائے بہت افسوسناک ہے ۔شویکشا امریکہ میں چار سال کا کورس کرنے گئی تھی۔اس کے والد چائے کی دکان کرتے ہیں امریکہ سے آکر متوفی لڑکی بھارت میں کوئی بڑا بجنس کرنا چاہتی تھی بھگوان اس کی آتما کو شانتی دے۔ (انل نریندر)

وسندھرا راضی نہیں تھیں ،اس لئے خالی گیا بھاجپا کا وار!

راجستھان میں قریب 31دنوں سے چلا آرہا سیاسی بحران فی الحال ٹلتا نظر آرہا ہے ۔باغی ہوئے سچین پائلٹ کی دہلی میں راہل گاندھی اور کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی سے دو دو مرتبہ ملاقات کے بعد نہ صرف راجستھان کی اشوک گہلوت سرکار پر چھایا سیاسی بحران ٹل گیا ہے اور پارٹی میں بڑی پھوٹ کا اندیشہ غلط ثابت ہو گیا ہے ۔42سالہ سچین پائلٹ نے 12جولائی کو اچانک وزیر اعلیٰ گہلوت کے خلاف بغاو ت کا بگل پھونکتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ان کی سرکار اقلیت میں آگئی ہے لیکن وہ 19سے زیادہ ممبر ان نہیں اکھٹا کر پائے بے شک بھاجپا اس کھیل میں براہ راست طور سے شامل نہیں تھی لیکن پائلٹ پر وہ داﺅں تب نہ لگائی جب وہ گہلوت سرکار گرانے کی پوزیشن میں ہوتے اس لئے اس لحاظ سے دیکھیں تو فوری طور پر گہلوت سرکار بچ گئی ہے ۔دوسری جانب پائلٹ کا کہنا ہے کہ کانگریس اعلیٰ کمان نے ان کی بات ہمدردانہ طریقے سے سنی اور ان کے ممبران کی شکایتوں کو سننے کے لئے احمد پٹیل،کیسی وینو گوپال،اور پرینکا کی رہنمائی میں ایک تین نفری کمیٹی بھی بنائی گئی ہے ۔حیرانی اس بات کو لے کر ہے کہ یہ کام پہلے ہی کر لیا ہوتا تو مہینے بھر چلی سیاسی اتھل پتھل کی نوبت نہیں آتی ۔ویسے تو پارٹی میں دو گروپ بنانا اپنے آپ میں مضحکہ خیز بات ہوتی ہے ۔مگر راجستھان کے موجودہ حالات اس ناطے سے زیادہ موضوع بحث رہے کہ کانگریس اعلیٰ کمان پورے نتائج سے شروعاتی بحران کے وقت لا پرواہ دکھائی دی ۔اس پورے پس منظر میں راجستھان میں بی جے پی کی زمینی حقیقت اور طاقتور سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا کا بھی اہم رول رہا ہے ۔سچین اور باغی ممبران کے ٹوٹ کے معاملے میں حکمراں پارٹی نے بی جے پی کو ذمہ دار مانتے ہوئے چنی ہوئی سرکار گرانے کی سازش کرنے کا الزام لگایا۔لیکن بی جے پی سرکاری طور سے یہی ظاہر کرتی رہی اس کا کانگریس کے بحران سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔اور نہ ہی وہ اسمبلی میں طاقت آزمائی کی خواہش مند ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جے پی کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا ۔کیونکہ اس سے راجستھان کے پاور ہاﺅس وسندھرا راجے سندھیا نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔اور انہوںنے گہلوت سرکار کو گرانے کے لئے باغی ممبران کے ساتھ کوئی منسوبہ بنانے سے انکار کر دیا بی جے پی کی ایک میٹنگ کو مجبوراََ منسوخ کر دیا گیا تھا ۔جس میں انہیں حصہ لینا تھا راجستھان میں ایسا کوئی منسوبہ وسندھرا کے تعاون کے بغیر بی جے پی کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وسندھرا راجے راجستھان میں کسی سرکار کی تبدیلی کے معاملے میں راضی نہیں تھیں اس لئے بی جے پی کا وار خالی چلا گیا ۔اب بغیر ایک لمحہ گنوائے کانگریس کی لیڈر شپ کو دیگر ریاستوں میں بھی اپنے کیل کانٹے درست کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔کئی نوجوان لیڈر پارٹی چھوڑ چکے ہیں اس ناطے سے اعلیٰ کمان کو زیادہ سرگرم اور سخت اتفاق رائے کے ساتھ تنظیم کو مضبوطی دینے کی حکمت عملی بنانی ہوگی اگر اب بھی کانگریس نہیں جاگی تو بھگوان ہی بچائے ۔تازہ حالات راجستھان میں تیزی سے بدل رہے ہیں ۔آج سے اسمبلی کا سیشن شروع ہو رہا ہے ۔جس میں بھاجپا گہلوت سرکار کے خلا ف تحریک عدم اعتماد لا سکتی ہے ۔فی الحال تو گہلوت سرکار کو جیون دان مل گیا ہے ۔ (انل نریندر)

13 اگست 2020

پہلے ڈونر لاﺅ پھر ملے گا پلازمہ!

دیش کے پہلے پلازمہ بینک کو کھلے ہوئے کئی ہفتے گزر چکے ہیں دو جولائی کو وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے وسنت کنج کے آئی ایل بی ایس میں پلازمہ بینک کا آغاز کیا تھا لیکن اس میں پلازمہ لینے والوں کی تعداد ضرور بڑھ رہی لیکن دینے والوں کی نہیں ایسے میں پلازمہ بینک میں پلازمہ کی کمی نہ ہو اس لئے ایک سسٹم بنایا گیا ہے جس کے تحت اب جس اسپتال کو اپنے کورونا مریض کے لئے پلازمہ درکار ہوگا اُس کو پہلے پلازمہ ڈونر بھی بھیجنا ہوگا ڈونر کسی بھی بلڈ گروپ کا ہو سکتا ہے ۔جب پلازمہ بینک میں ڈونر پلازمہ دے گا اس کے بعد اسپتال کے ذریعہ مجاز شخص یا مریض خود کے خاندان کو پلازمہ دیا جائے گا۔ایل بی ایس اسپتال کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ایس کے سرین نے بتایا کہ پلازمہ لینے والوں اسپتالوں کے لئے اب رپلیس منٹ ڈونر دینا ہوگا جو اسپتال پلازمہ لینے کے لئے کسی کو بھیجے گا اس کے بعد اس کے ساتھ خون دینے والا بھی بھیجنا ہوگا ۔اس بات سے ظاہر ہے کہ جو لوگ بڑی تعداد میں پلازمہ دینے کے لئے نہیں پہنچ رہے ہیں یہ چنتا کی بات ہے ۔ڈاکٹر سرین کہتے ہیں کہ سال 1962میں جب چین سے لڑائی ہوئی تھی تب نہرو جی نے لوگوں کو خون دینے کی اپیل کی تھی ۔اس کے بعد خون دینے والوں کی لائنیں لگ گئیں ۔جو لوگ آج پلازمہ دینے سے کترا رہے ہیں ہزاروں لوگ پلازمہ کی خاطر کورونا سے ٹھیک ہو چکے ہیں ۔اِدھر اسپتال میں بلڈ لینے کے شعبے کی چیف ڈاکٹر مینو باجپائی کہتی ہیں کہ ابھی تک پلازمہ بینک سے 300سے زیادہ مریضوں کا پلازمہ جا چکا ہے لیکن ابھی تک اتنے لوگ بھی خون دینے نہیں آئے انہوںنے بتایا کہ پلازمہ بینک میں ڈونر کو خون دینے کے لئے فون کرتے ہیں تو وہ نہیں آتے اسپتال کے ایک دوسرے ڈاکٹر شانو دوبے کہتے ہیں کہ یہاں روزانہ تقریباکچھ پلازمہ ڈونر اپنی مرضی سے آتے ہیں جبکہ آدھے پلازمہ لینے کے بدلے ڈونر آتے ہیں ۔پلازمہ بینک میں پلازمہ کی کمی کے چلتے اسپتالوں کے لئے بدلے میں ڈونر بھیجنا ضروری کر دیا گیا ہے ۔تاکہ پلازمہ کا اسٹاک بنائے رکھا جا سکے ۔جو شش و پیج کے چلتے پلازمہ دینے کے لئے آگے نہیں آرہے ہیں دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو تین مرتبہ خون دے چکے ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ خون دان کرنے کے بعد کیسا لگتا ہے تو وہ بولے کورونا یودھا جیسے ۔ (انل نریندر)

کشمیر میں سیاسی قتلوں کو روکنا بڑی چنوتی

تمام کوششوں کے باوجود کشمیر وادی میں سیاسی ورکروں کے قتل کا سلسلہ رک نہیں رہا ہے ،سیاسی قتل کے تحت بھلے ہی بھاجپا ورکروں و سرپنچوں و مقامی لیڈروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن دہشتگردوں کے ذریعہ قومی دھارا سے جڑے سیاسی نیتاﺅں کے قتل کی وادی کشمیر میں لمبی تاریخ رہی ہے اب تک جتنی بھی حکومتیں یا انتظامیہ رہے کم و بیش ہر دور میں سیاسی ورکر دہشتگردوں کے نشانے پر رہے ہیں ۔نئے ایل جی منوج سنہا کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ان سیاسی قتلوں پر لگام لگانا ہوگا ۔جموں و کشمیر میں بی جے پی لیڈروں پر حملوں کا سلسلہ رک نہیں رہا ہے ۔وسطی کشمیر کے بڑگام میں ہوئے حملے میں زخمی بی جے پی نیتا و او بی سی مورچہ کے ضلع صدر عبدالحمید نظر زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے بی جے پی نیتا اس حملے سے ناراض پارٹی لیڈروں کے استعفی کا سیلاب سا آگیا ہے ۔اوراب تک جو خبریں آئی ہیں نو لیڈروں نے اور ورکروں نے ہائی کمان کو استعفیٰ بھیج دئے ہیں ۔وہیں پچھلے مہینے بی جے پی ورکر وسیم باری اور ان کے والد و بھائی کے ساتھ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ علاقے میں آتنکی حملے میں ہلاک کر دئے گئے تھے ۔بی جے پی کے کئی لیڈروں نے بار بار اپنے لیڈروں کی حفاظت کی مانگ کی ہے ۔جموں و کشمیر میں بی جے پی کے نائب صدر سیفی یوسف کا کہنا ہے کہ ان کے جسم پر چار گولیاں داغی گئی تھیں جس وجہ سے ان کو شدید نقصان ہوا ہم اپنے پارٹی وکروں کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن جو دل بدلی کے لئے استعفیٰ دے رہے ہیں وہ موقع پرست اور بے بھروسہ ہیں ۔ساﺅتھ کشمیر کے پلوامہ میں دیر شام دہشتگردوں نے پنچایت کے نمائندے کو نشانہ بنایا اسی طرح ترال علاقے میں پی ڈی پی سے وابسطہ جیتندر سنگھ کو گھر پر حملہ کر کے نقصان پہنچانے کی کوشش کی اُدھر بڈگام میں اتوار کو عبد النظر کی موت ہوئی کچھ مہینے پہلے ہی پارٹی میں شامل ہوئے تھے ۔دہشتگردوں نے سرپنچ کو نشانہ بنایا تھا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کے ذریعہ ان تمام لوگوں کو تمام سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی جا رہی ہے جو سیکورٹی فورس سرکاری نوکری،یا بھاجپا سے جڑے ہیں ۔یہی وجہ بتائی گئی ہے کہ ابھی حالیہ دنوں میں ان دھمکیوں سے گھبرا کر مقامی نیتا اور ورکر پارٹی سے استعفیٰ دینے لگے ہیں ۔کہا جا رہا ہے کہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370و 35اے کو ختم کئے جانے کے سبب وادی میں موجود ملک دشمن طاقتیں اور سرحد پار بیٹھے ان کے پاکستانی آقا پوری طرح سے بوکھلائے ہوئے ہیں ۔اس لئے وہ تیزی سے قتلوں کو انجام دے رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

12 اگست 2020

ایودھیا بھاجپا کی ووٹوں کی بھی فصل ہے

ایودھیا صرف آستھا و شردھا کا مرکز نہیں ہے بلکہ یہ ووٹوں کی فصل کے لئے کھاد پانی کا کام بھی کرتا ہے ۔بھاجپا کو اقتدار تک پہنچانے میں ایودھیا کے رام مندر اشو کا اہم کردار رہا ہے اور مندر تعمیر کام کا آغاز ہو جانے سے ریاست کی سیاست میں بھاجپا کو مقبولیت ملی ہے ۔لیکن حملے کی دھار اب پہلے جیسی نہیں ہے ۔بھاجپا کے لئے ووٹوں کا پولورائزیشن کرانے کی چنوتی ہوگی تو اپوزیشن پارٹیوں کے سپنے اس کو روکنے کے ہوں گے رام مندر کے شیلا نیاس پر سپا ،بسپا و کانگریس کا جیسا رخ رہا ہے اس سے بھاجپا کو حملہ آور ہونے کا موقعہ شاید ہی ملے کچھ نیتاﺅں نے رام مندر ٹرسٹ میں پس ماندہ ااور غیر فہرست ذاتوں کے لوگوں کی شرکت نہ ہونے پر سوال کھڑے کر کے مستقبل میں سیاست کے سمت کے اشارے بھی دے دئے ہیں اپوزیشن کو رام مندر مسئلے پر بھاجپا کی کاٹ کے لئے عوامی سروکاروں سے جڑنا ہوگا مذہبی بنیاد پر پولارائزیشن نہ ہو اس کے لئے انہیں حکمت عملی بنانی ہوگا ۔سپا کے قومی جنرل سیکریٹری و چیف ترجمان راجیندر چودھری کہتے ہیں کہ رام آستھا اور شردھا کا معاملہ ہے بھاجپا کو ان پر سیاست نہیں کرنی چاہیے آج اترپردیش میں کسان نوجوان طالب علم کاروباری ،سبھی پریشان ہیں ۔حکومت کورونا کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے ۔معیشت زمیں پر آگئی ہے ۔کسانوں کی زمین کو سرمایہ داروں کو سونپنے کی سازش چل رہی ہے ان سبھی اشوز پر بھاجپا و اس کی سرکار کی گھیرا بندی کی جائے گی جس ایودھیا و رام مندر اشو کو لے کر بھاجپا نے سیاسی سیڑھیاں چڑھیں اس کا عزم پورا کرنا ہے ۔پانچ اگست کو وزیر اعظم نے بھومی پوجن اور مندر کے کام کا آغاز کیا ہے ۔اس کے لئے کورونا ماحول کے باوجود بھاجپا نے ایودھیا سمیت دیش بھر میں جشن جیسا ماحول بنایا اس سے بھگوا خیمے کی اس اشو پر سیاسی توقعات کو بھی سمجھا جا سکتا ہے ۔ظاہر ہے ڈھیڑھ سال بعد اترپردیش میں اسمبلی چناﺅ ہونے ہیں ان میں بھاجپا رام مندر کی تعمیر کا سیاسی فائدہ لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی اس کی کوشش چناﺅ میں فرقہ وارانہ بنیاد پر پولارائزیشن کرنے کی ہوگی ایسے میں نظریں اپوزیشن پارٹیوں کی حکمت عملی پر ہوگی و بھاجپا کے منصوبوں کی کاٹ کر پاتے ہیں یا نہیں ووٹوں کا پولارائزیشن روک پاتے ہیں یا نہیں ۔ (انل نریندر)

کورونا انفیکشن رکتا نظر نہیں آرہا

تما م اقدامات ااور احتیاط و سختی کے باوجود کورونا انفیکشن کے معاملے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں اور بھارت میں کورونا کا قہر انتہا پر ہے ۔روزانہ 60سے65ہزار کے قریب مریض سامنے آرہے ہیں ۔پیر کے روز بھارت میں کورونا کے 62064نئے مریض سامنے آئے اس طرح مریضوں کی کل تعداد 22لاکھ کو پار کر گئی ہے ۔اور ٹھیک ہونے والے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ کر 15.35لاکھ ہو گئی ہے ۔یہ معلومات وزارت صحت نے دی ہے ۔جبکہ وائرس انفیکشن سے 1007مریضوں کی موت ہونے یہ تعداد44386ہو گئی ہے ۔وزارت کا کہنا ہے کہ فی الحال 634945مریض زیر علا ج ہیں ۔بہتر امبولینس سرویسز اور دیکھ بھال کے کام پر توجہ دینے سے قابل قدر نتیجے ملے ہیں ۔اورپچھلے 24گھنٹوں میں ریکارڈ 54859مریض ٹھیک ہوئے ہیں اور مریضوں کی ٹھیک ہونے کی شرح 70فیصد پہنچ گئی ہے ۔یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن جس رفتار سے بھارت میں کورونا متاثرین کی تعداد روزانہ سامنے آرہی ہے اس سے تو ہم کورونا مریضوں کی تعداد میں دنیا میں نمبر ون دیش نہ بن جائے ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ انفیکشن تیزی سے دیش میں پاﺅں پھیلا رہا ہے ۔اور مرنے والوں کی تعداد بھی اسی حساب سے بڑھ رہی ہے لیکن زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اب یہ وائرس ان لوگوں کو اپنا شکار بنا رہا ہے جو زیادہ چوکس اور گائڈ لائنس کی تعمیل کرتے ہیں ہم نے کئی ایسے مریضوں کے بارے میں سنا ہے جو ہر طرح سے احتیاط برط رہے ہیں گھر سے باہر نہیں نکل پار ہے ہیں ان کو بھی یہ منحوس کورونا ہو گیا ہے ۔اس سے بھی ستر فیصد بچنے کا فارمولہ نہیں ہو سکتا ۔آپ بے شک گھر پر بیٹھے ہیں لیکن آپ کو کوئی سامان باہر سے منگایا تو بس آپ کا کام ہو گیا ۔اب تو سیاستداں بھی اس کی زد میں آرہے ہیں ۔اترپردیش کی کیبنٹ وزیر سمیت کئی ااور وزراءاور نیتاﺅں کو کورونا انفیکشن ہونے سے موت کی دہشت ستانے لگی ہے ۔کیونکہ مریض بڑھتے جا رہے ہیں ۔لہذا صرف یہ کہہ دینے سے پریشانیاں دور نہیں ہونگی کیس زیادہ ہونے سے مریض بڑھ رہے ہیں ۔یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کی ہم سرکار کے ان قواعد اور ہدایتوں کی تعمیل اچھی طرح سے کر رہے ہیں یا نہیں جس سے کورونا انفیکشن کو روکا جا سکے ۔آج کل روزانہ ہم اخباروں میں پڑھ رہے ہیں پولیس بغیر ماسک جانے والوں کا چالان کاٹ رہی ہے ۔جانتے ہوئے بھی لوگ بنا ماسک میں گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں کئی جگہوں پر سماجی دوری کی بھی تعمیل نہیں ہو رہی ہے ۔بے شک کورونا سے لڑنے کے لئے کارگر انتظامات کئے جا رہے ہیں ۔اسپتالوں میں بہتر سہولیات مل رہی ہیں ۔لیکن جب تک عوام سنجیدگی اور پابندی سے کورونا ہدایتوں کی تعمیل نہیں کرتی تب تک وائرس بڑھنے کا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں حکومت اپنی طرف سے سب کچھ کر رہی ہے ۔جب تک گائڈ لائنس کی تعمیل نہیں کروگے یہ رکنے والا نہیں ہے ۔ (انل نریندر)

11 اگست 2020

سعودی عرب نے دیا پاکستان کو تگڑا جھٹکا!

کشمیر ی مسئلے پر اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی دو حصوں میں بانٹ دینے کی دھمکی دینا پاکستان کو مہنگا پڑ گیا سعودی عرب نے پاکستان کو ادھار تیل دینا بند کر دیاہے ۔پاکستان اب گڑ گڑا رہا ہے لیکن سعودی عرب کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے دونوں ملکوں کے درمیان اس بارے میں 3.2ارب ڈالر کے معاہدے کی معیاد دو مہینے پہلے ہی ختم ہو چکی ہے دی ایکسپریس ٹیون میں جمع کو شائع رپورٹ میں سعودی عرب نے نومبر 2018میں پاکستان کی باہری خطے کی پریشانی دور کرنے کے لئے 6.2ڈالر سے 3.2ارب ڈالر کچے تیل کی سہولت اسی پیکج کا حصہ ہے ۔پاکستان نے سعودی عرب سے اس معاہدے کو آگے بڑھانے کی درخواست کی لیکن ابھی تک اس کا اسے جواب نہیں ملا ہے ۔مالی بدحالی سے لڑ رہے پاکستان نے دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لئے 2018میں سعودی عرب سے قریب 46ہزار کروڑ روپئے کا قرض لیا تھا جس میں پاکستان کو 24ہزار کروڑ روپئے کا تیل دینے کی بھی سہولت دی گئی تھی یہ میعاد دو مہینے پہلے ہی ختم ہو چکی ہے اب معاہدے کی تجدید نہیں ہوئی ۔پاکستان نے سعودی عرب سے لئے قرض میں ایک ارب ڈالر یعنی قریب ساڑھے سات ہزار کروڑ روپئے کی قسط و قت سے چار مہینے پہلے ہی دے دی تھی اس کے لئے اسے چین سے ادھار لینا پڑا تھا اب وہ باقی قرض چکانے کے لئے چین کی طرف دیکھ رہا ہے پچھلے دنوں پاکستان کے وزیر خارجہ شان محمود قریشی نے ایک ٹی وی پروگرام میں سعودی عرب کو دھمکی دے ڈالی تھی کہ اگر سعودی عرب نے او آئی سی کے وزیر خارجہ کی ہنگامی میٹنگ نہیں بلائی تو پاکستان خود یہ میٹنگ بلا سکتا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان یہ درخواست کرنے کے لئے مجبو رہو جائیں گے کہ وہ ان اسلامی ملکوں کی میٹنگ بلائیں جو کشمیر ی مسئلے پر ہمارا ساتھ دینے کو تیار ہیں دنیا کے سب سے بڑے اسلامک ملکوں کی انجمن او آئی سی پاکستان کی درخواست کو کئی بار مسترد کر چکا ہے ۔کشمیر ہتھیانے کے لئے پاکستانی فوج چار بار حملہ کر چکی ہے اب اس نے تین دہائی سے بھارت کے خلاف در پردہ جنگ چھیڑی ہوئی ہے ۔5اگست 2019میں بھارت نے جموں کشمیر کا اسپیشل درجہ ختم کرکے اسے دو ریاستوں میں بانٹ دیا تھا عمران سرکار تبھی سے اس مسئلے کو اوآئی سی کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے لیکن اس کی حمایت نا ملنے کی ایک بڑی وجہ پاکستان اور ترکی کے درمیان بڑھتی قربت ہے جس سے سعودی عرب چڑھا ہوا ہے در اصل ترکی کے صدر اردغان سعودی عرب کو ٹکر دے کر سنی مسلم دیسوں کو رہنما بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں سعودی عرب کو بھلا یہ کیسے منظور ہو سکتا ہے ؟ (انل نریندر)

پائلٹ نے طیارے کو بچانے کےلئے بہت کوشش کی !

وندے بھارت مشن کی اڑان سے وطن لوٹ رہے کئی لوگوں کے لئے یہ سفر موت کا قہر بن کر سامنے آیا۔بھاری بارش کے درمیان لنڈنگ کرنے کی کوشش میں جہاز حادثہ نے کئی سوال تو کھڑے کر دئیے ہیں لیکن ائیر پورٹ حکام کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس افسوس ناک پرواز کے کمانڈر ڈی وی ساٹھے نے طیارے کو بچانے کی آخری سانس تک کوشش کی لیکن اپنی جان دے کر بھی طیارے کے زیادہ تر مسافروں کی جان بچانے میں کامیاب رہے ۔جان گنوانے والے پائلٹ کیپٹن دیپک ساٹھے اور کو پائلٹ اکھلیش کمار تھے سابق ائیر فور س آفیسر نے آخری وقت تک جہاز کو بچانے کی پوری کوشش کی وہ 1981میں ائیر فورس میں بھرتی ہوئے تھے اور 2003میں اسکوائڈر لیڈر کی شکل میں رٹائر ہوئے تھے ۔ان کو اسکواڈ آف اونر سے بھی نوازا گیا تھا وہ گوئنگ 737بھی اڑا چکے ہیں میڈیا رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے لنڈنگ سے پہلے آسمان میں کئی چکر لگائے اور طیارے کوبچانے کی بھی کوشش کی مگر آخری وقت میں اترنا ہی پڑا بھار ی جمع پانی اور پھسلن کی وجہ سے حادثہ ٹالا نہیں جا سکا ۔ایک مسافر ریاو¿ نے بتایا کہ میں پچھلی سیٹ پر تھا اچانک زور کا جھٹکا لگا ایک دوسری مسافر فاطمہ نے بتایا کہ جہاز بہت تیزی سے زمین سے ٹکر ا کر تیزی سے دوڑاتا چلا گیا بہر حال ڈی جی سی اے نے حادثہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ہم تمام مرنے والوں کو سردھانجلی دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ووہ اپنے پیارے لوگوں کو جانے کا صدمہ برداشت کر پائیں گے ۔ (انل نریندر)

نربھیا کیس میں پھانسی سے نہیں رکی درندگی!

پچھم وہار ویسٹ علاقے میں ایک لڑکے کی حیوانت کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔نربھیا کانڈ کے بعد بھی حیوانیت کے معاملے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔امید تھی کہ نربھیا کے گنہگاروں کو پھانسی پر لٹکانے کا کچھ تو اثر ہوا ہوگا لیکن بدقسمتی سے لگتا ہے کہ زیادہ اثر نہیں ہوا ۔حیوانیت کی شکارہوئی 13سالہ بچی کی حالت ابھی بھی بے حدنازک بنی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس کا بیان نہیں لیا جا سکا ۔بچی کے جسم پر ملزم کی حیوانیت صاف جھلکتی ہے اس کے جسم پر کیچی سے حملے اور جگہ جگہ سے دانت سے کاٹنے کے نشان ملے ہیں یہ نشان صاف بتاتے ہیں کہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی زبردستی بھی کی گئی ہے حالانکہ ڈی سی پی باہری دہلی ڈاکٹر ایکتھام کا کہناہے کہ اس معاملے میں فی الحال پاسکو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے میڈیکل رپورٹ میں آگے کی کاروائی ہوگی ۔پچھم وہار ویسٹ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیاہے وہ منگول پوری کا باشندہ ہے پتہ چلا ہے کہ وہ گھروں میں نقب زنی کیا کرتا تھا واردات والے دن بھی اس گھر کو کھالی سمجھ کر اندر گھنسا تھا لیکن اندر لڑکی کو دیکھ کر اس سے بدتمیزی شروع کر دی ۔جب لڑکی نے احتجاج کیا تو ملزم نے اس پر تاوڑتوڑ حملہ کر دیا اور اسے مرا ہوا سمجھ کر بھاگ گیا ۔پتہ چلا ہے کئی سال پہلے بھی ایک گھر میں واردات کرنے پہونچا تھا تب اس نے ایک عورت کو مار ڈالا تھا جوائنٹ سی پی سالنی سنگھ نے بتایا کہ اس ملزم کو گرفتار کرنے کے لئے آو¿ٹر ڈی سی پی کی نگرانی میں پولیس کی 20ٹیمیں بنائی گئیں تھیں جنہوں نے 100سے زیادہ سی سی ٹی وی فوٹیز دیکھنے کے بعد ملزم کشن کو گرفتار کیا ۔پولیس نے پہلے ہی پاسکو اقدام قتل سمیت الگ الگ دفعات میں مقدمہ درج کر لیا ہے بتادیں 4اگست کی شام ویسٹ تھانہ علاقے کے تین مزلہ مکان کے کمرے میں موجود لڑکی پر حملہ کیا تھا جیسے تیسے لڑکی پڑوسی تک پہونچی جس کے پاس معاملے کی اطلاع پولیس کو دےدی گئی ۔پولیس نے موقع واردات پر پہونچ کر سنجے گاندھی اسپتال میں داخل کرایا جہاں سے اسے ایمس میں بھیج دیا گیا ۔پولیس نے اتنے کم وقت میں درندے کو گرفتار کر لیا اس کے لئے مبارک باد کے مستحق ہیں ۔جوائنٹ سی پی سالنی سنگھ و ڈی سی پی ڈاکٹر اکان و تمام ٹیم کی سراہنا ہونی چاہیے لیکن اب دیکھنا یہ ہوگا کہ سنجے کو کتنی جلدی پھانسی پر لٹکایا جائےگا ؟نربھیا جیسا کیس اب نہیں ہونا چاہیے ۔ (انل نریندر)

09 اگست 2020

آستھا :بی او کے جا کر لائے پوتر مٹی !

رام جنم بھومی میں بیٹھے رام للا بھومی پوجن میں ایک ہزار پوتر مقامات سے مٹی لائی گئی انہیں میں سے ایک جگہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر(پی او کے)میں واقع شاردا پیٹھ ہے یہاں سے پوتر مٹی لائی جانے کی کہانی بھی دلچسپ ہے پو او کے میں ہندوستانی شہریوں کو جانے کی اجاز ت نہیں ہے اس لئے چین کے پاس پورٹ پر ہندوستانی میاں بیوی سے ہانگ کانگ کے راستے سے منگوایا گیا۔ کرناٹک کے باشندے وینکٹیشن رمن اور ان کی اہلیہ چین میں رہتے ہیں ۔سیو شاردا پیٹھ ان سے رابطہ قائم کیا اور پی او کے میں ہندوستانیوں کے جانے پر پابندی کے رہتے وینکٹیشن اور انکی بیوی چینی پاسپورٹ پر پی او کے بھیجا گیا اور یہ دونوں راجدھانی مظفرآباد پہونچے اور وہاں سے شاردا پیٹھ گئے پھر وہاں کا پرساد و مٹی لیکر ہانگ کانگ کے راستے ہوتے ہوئے دلی آگئے اور اس میاں بیوی نے سیو شاردا پیٹھ کو ممبر کو مٹی اور پرساد سپرد کیا انہوں نے بتیا کہ وہ شاردا پیٹھ کے چیف پجاری اروندپنڈت کی ہدایت پر اجودھیا گئے شرما اپنے ساتھ کرناٹک کے انجنا پروت کا بھی جل لائے یہیں ہنمان جی کا جنم استھا ن مانا جاتا ہے انہوں نے بتایا کی کونکن سے بھی پوتر جل لایا گیا ۔ سری لنکا اور نیپال سے بھی پوتر مٹی استعمال کی گئی مقبوضہ کشمیر میں واقع پیٹھ کشمیری پنڈتوں کے لئے تین مشہور پوتر مقامات میںسے ایک ہے ۔ یہ نیلم ندی کے کنارے پر بنا ہے بھارت کے علاقے اوری قریب 70کلومیٹر دور ہے۔ جے شری رام! (انل نریندر)

کشمیر میں بندوق نہیں روزی روٹی بڑا مسئلہ !

آرٹیکل 370ختم ہونے کے ایک سال بعد کشمیر میں کئی نئے رنگ نظر آنے لگے ہیں اور بڑی تبدیلی کے بعد مقامی سرکار تیزی سے ڈیولپمینٹ کے محذپر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے کا دعویٰ تو کر رہی ہے لیکن ایک سال بعد بھی کشمیر میں روزی روٹی کا سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے اور مقامی لوگ روزی روٹی اور روز گار کے سوال کو ترضیح دے رہے ہیں مسلسل گمراہ کن پرو پیگنڈہ کا ایجنڈا چلانے میں لگے پاکستا ن اور علیحدگی پسندوں کو لیکر وادی میں زیادہ تر لوگوں میں اس پر کوئی توضح نہیں دی جا رہی ہے مقامی لوگوں سے بات چیت میںقومی دھار ا کے کشمیروں کا کشمیری نیتاو¿ںسے بیزاری ہوچکی ہے پنچایتوں کے علاوہ کئی سطحوں پر نئی لیڈر شپ ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔سرکار سے کئی معاملوں پر عوام کی شکایتیں ہیں آرٹیکل 370کے تئیں لوگوں کا جذبہ برقرار ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف بولنے لگے ہیں پاکستانی دخل کی وجہ سے عام کشمیریوں کو نشانہ بنایا جا رہاہے۔ زیادہ تر مقامی کشمیروں میں کام نہ ملنے کی شکایت ہے بہت سے لوگوں کے آرٹیکل 370کے ختم ہونے سے بحالی مداخلت کا اندیشہ بھی نظر آنے لگا ہے ۔رہایشی پالیشی کو لیکر بھی لوگوں میں کئی سوال اٹھ رہے ہیںلیکن دوسری طرف غیر کشمیری مزدور ریاست میں واپس آنا ایک بھروسے کی کہانی بیان کر رہی ہے کشمیر کے ایک شخص فاروق کا کہنا کہ پاکستان نے ریاست میں آگ لگائی ہے وہ خود تو بھوکھا ننگا ہے ہمیں کیا دے گا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوںکو روز گار ملے ادھر حکام کا کہنا کہ پنچایتوں کے ذریعے وسیع پیمانے پر کام کرائے جا رہے ہیں اور یہ صاف پیغام کی ترقی میں اب تک جو کمی رہ گئی تھی وہ پوری کی جائے بہت سے لوگوں نے ریاست میں تبدیلی کو قبول کیا ہے باقی کچھ آنے والے دنون میں فائدہ نظر آئے گا لوگوں سے جڑنے کے لئے بیک ٹو ویلیج ©©©پروگرام کامیاب ہو ا ہے یہ سرکار کا کہنا ہے لیکن اس سے لگتا ہے کی زیادہ تر کشمیری متفق نہیں ہیں ان کے لئے روٹی کپڑا مکان اور روزگا آج بھی سب سے اہم ہے ۔ (انل نریندر)

سوشانت کی موت کا سچ تو سامنے آنا چاہیے!

سپریم کورٹ نے کہا کہ سوشانت سنگھ راجپوت ایک ٹیلینٹ یافتہ ایکٹر تھے اور ان کی موت عام نہیں ہے ۔ ایسے میں سچ سامنے آناضروری ہے۔جسٹس ریسیکیس رائے کی ایک نفری بینچ نے یہ رائے زنی ریا چکرورتی کے ذریعے بہار میں درج مقدمے کو ممبئی ٹرانسفر کرنے کی مانگ والی عرضی پر سماعت کی مانگ کی ہے ۔ بدھ کے روز سرکاری وکیل تشار مہتہ نے بینچ کو بتایا بہار حکومت کی جانب سے سوشانت کی موت کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی مانگ کو مرکزی حکومت نے منظور کردیا ہے ۔ بینچ نے ریا کی عرضی پر بہار پولیس ،مہارشٹر پولیس سوشانت کے کنبے سے تین دن میںجواب مانگا ہے ممبئی پولس کو اب تک کی جانچ سے بھی واقف کرانے کو کہا ہے۔ اب سماعت اگلے ہفتے ہوگی اس درمیان مرکزی حکومت نے سی بی آئی جانچ کے لئے نوٹیفیکشن جاری کردیا ہے ۔ بنیادی سوال : کس ریاست کی پولس کو تفتیش کا اختیار:جسٹس رائے نے کہا سوشانت معاملے میں اس بات کی چان بین ضروری ہے کیا اس موت کے پیچھے کوئی جرم تو نہیں ہے ؟ اس ہائی پروفائل معاملے کو لیکر لوگوں میں اپنی اپنی رائے ہے لیکن ہم قانون کے مطابق چلیں گے اب تک شاید ممبئی پولس نے غیر فطری موت کا مقدمہ درج کیا ہے۔جب کی پٹنہ میں درج ایف آئی آرمیں کئی دوسرے ایشو اٹھائے گئے ہیں ۔ ہمارے سامنے بنیادی ایشو یہ ہے کہ اس معاملے کی تفتیش کا حق کس ریاست کی پولس کو ہے ؟ سپر یم کورٹ نے بہار کی پولس کے ذریعے انکوائری نہ کئے جانے پر ریا کو انترم راہت دینے سے منع کردیا ہے سی بی آئی کے ہاتھ میں سو شانت سنگھ کی خود کشی کی مبینہ گتھی سلجھانے سے ذمہ آتے ہی ممبئی پولس اور سیاسی گلیاروں کے ساتھ ساتھ سرکردہ فلمی ہستیوں کا بیلڈ پریشر ہائی ہو گیا ہے ویسے سی بی آئی کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ وقت کافی گزر چکا ہے اور ثبوتوں سے چھیڑ چھا ڑ ہو سکتی ہے اب اس معاملے میں اب تک چھپائے راز کو ممبئی پولس کو سامنے لانا ہوگا سی بی آئی جانتی ہے اب تک راز کو راز رہنے دو کے قدم پر وہاںکی پولس چل رہی ہے ۔اس لئے ایس آئی ڈی آئی کے گگن دیپ کی قیادت میں بنی ٹیم جلدسے جلد ریا کے ہر ٹھکانے اور اس کے رشتے داروں اور ا س کی کمپنی سمیت اور کچھ پولس والوں کے یہاں چھاپہ مار کر سی بی آئی ثبوت کے لئے اس واقع سے وابستہ کڑیوں کو جوڑے گی اور پولس والوں سے بھی پوچھ تاچھ کرے گی اور یہ جاننے کو کوشس کرے گی کی اب تک ایف آئی آر کیوں نہیں ہوئی اور بنا فورنسک جانچ کے موقع واردات پار خود کشی کیسے کہی دیا گیا؟ سی بی آئی اس راز کے پیچھے چھپے رازداروں کے نام بھی اگلوانا چاہے گی ساتھ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر سے بھی پوچھ تاچھ کرے گی ذراعے کے مطابق سی بی آئی کچھ سر کردہ ہستیوںکو بھی پوچھ تاچھ کے لئے طلب کرے گی تاکہ سوشانت سے جڑے معاملے کی گہرائی تک پہنچا جا سکے ۔ ریا کے علاوہ اس کے گھر والوں سے راز اگلوانے کے لئے پوچھ تاچھ کر معاملے کا پتہ لگائے گی ۔ (انل نریندر )

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...