Translater

‏Doctors لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Doctors لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

02 جون 2012

عامر کے ’ستیہ مے جیتے ‘ شوسے بوکھلائے ڈاکٹر


عامر خاں کے تازہ ’ستیہ مے جیتے‘ پروگرام سے ڈاکٹر برادری کا بوکھلانا فطری ہے۔ عامر نے وہ کڑوی سچائی دکھائی ہے جو آج کل ہورہی ہے۔ پیسوں کی خاطر زبردستی ٹیسٹ کروانا۔ ضرورت نہ ہونے پر بھی آپریشن کرنا، غلط سرجری کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب دھاندلیاں جاری ہیں۔ ڈاکٹروں کی جوابدہی کچھ بھی نہیں ہے۔ عامر خاں نے اپنے بیحد مقبول پروگرام ’ستیہ مے جیتے‘ میں ڈاکٹر برادری کی دکھتی رکھ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ وہ تلملا اٹھے ہیں۔ اس معاملے میں ہمارا بھی بہت خراب تجربہ ہے۔ ہمیں اپنے والد سورگیہ شری کے ۔نریندر کو مشرقی دہلی کے ایک نامور ہسپتال میں بھرتی کروانا پڑا۔ انہیں زکام کی شکایت تھی جس سے انہیں نمونیہ ہوگیا تھا اور اس کے علاج کے لئے بھرتی کرایا لیکن واپس ان کا مردہ جسم ہی ہسپتال سے لیکر آئے۔ اس چکر میں لاکھوں روپیہ کا بل بن گیا۔ بہت ناراضگی تھی۔ پہلے ہسپتال پر کیس کرنے کی سوچی، پھر ہمیں بتایا گیا کہ ہر بڑا ہسپتال کورٹ معاملوں کے لئے تیار رہتا ہے اور اس کام کے لئے انہوں نے وکیلوں کی فوج بھی رکھی ہوئی ہے۔ جہاں تک ریکارڈ کا سوال ہے وہ اتنا پکا بنا کر رکھتے ہیں کہ عدالت میں اسے غلط ثابت کرنا آسان نہیں ہے۔ ہار کر ہم چپ بیٹھ گئے۔ ہم نے ہسپتال میں دیکھا کہ کس طرح مریض کو بھرتی نہیں کیا جاتا اگر وہ ہزاروں روپے ایڈوانس نہیں دیتا۔ڈاکٹر برادری عامر خاں پر پروگرام کے بعد الٹے الزام لگا رہی ہے۔ ڈاکٹر برادری ان کے پروگرام کو سچائی سے دور مانتی ہے۔ وہ یہ الزام لگا رہی ہے کہ انہیں مرکزی وزیر صحت غلام نبی آزاد کی شے ملی ہوئی ہے۔ آزاد اور ڈاکٹروں کی سب سے بڑی تنظیم انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے درمیان طویل عرصے سے جھگڑا چل رہا ہے جو دنیا جانتی ہے۔ ڈاکٹر اتنے غصے میں ہیں کہ عامر خاں پر جوابی حملہ بھی کرسکتے ہیں۔ ان کے غصے کو دیکھ کر عامر خاں کو یہ اندیشہ لازمی ہے کہ ابھی انہیں کچھ ہوجائے تو اس کا علاج ملنا مشکل ہوجائے گا۔ کبھی بھگوان کا روپ مانے جانے والے ڈاکٹروں کی عام لوگوں میں پہلے ہی سے ساکھ خراب تھی۔ پروگرام کے بعد اپنے لئے شیطان جیسا لفظ انہیں پگھلے سیسے کی طرح لگ رہا ہے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے ذرائع کی مانیں تو ان ڈاکٹروں کی برادری کو ویژن پینٹ کرنا اچھا نہیں لگا جس کے اچھے کاموں پر پروگرام میں تالیاں بجی تھیں۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سکریٹری بنسل کلی ڈاکٹروں کے خلاف طویل عرصے سے چل رہی مہم کو دیکھ رہے ہیں۔ انہیں بھی عامر خاں کے پروگرام پر اعتراض ہے۔ کہتے ہیں کہ عامر اپنے پروگرام ’ستیہ مے جیتے‘ میں جو دکھا رہے ہیں اس کا حقیقت سے دور کا بھی واستہ نہیں۔ انہوں نے اپنی سستی مقبولیت کے لئے صرف ڈگری یافتہ ڈاکٹروں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے دیش میں لوگوں کی جانچ سے ہرسیکنڈ کھلواڑ کررہے جھولہ چھاپہ ڈاکٹروں و ایک دوا کی دوکان میں علاج کررہے کیمسٹوں کو کیوں نہیں بحث کا موضوع بنایا اور انہیں کیوں بخش دیا؟ دیش میں اگر آٹھ لاکھ ڈگری یافتہ ڈاکٹر ہیں تو15 لاکھ فرضی ڈاکٹر ہیں۔ وہ بتائیں کہ ان کی ڈگری کیسے چھنوائیں گے؟ عامر خاں بتائیں کے وہ کسے ڈاکٹر مانتے ہیں؟ کیا یووراج سنگھ کو غلط دوا دینے والے ان کے خود ساختہ فیزیو ڈاکٹر جتند چودھری کو وہ ڈاکٹر مانتے ہیںیا نہیں؟ انل بنسل کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ 90 فیصد سے زیادہ ڈاکٹر ایمانداری سے اپنا کام کررہے ہیں۔10 فیصد اگر گڑ بڑی کررہے ہیں تو انہیں سزا دینے سے کون روک رہا ہے۔ عامر خاں پہلے لاکھوں نقلی ڈاکٹروں سے دیش کو نجات دلائیں جو لوگوں کے ڈاکٹر کے نام پر لوٹ رہے ہیں ان کی جان بھی لے رہے ہیں۔ ہارٹ کیئر فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر کے۔ کے اگروال نے کہا عامر خاں کو ڈاکٹروں کی جگہ سسٹم کو نشانے پر لینا چاہئے تھا انہوں نے سرکار کو کیوں بخش دیا؟ ہیلتھ سروس کو بہتر بنانے میں کیا سرکار کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے؟ ڈاکٹر اگروال بتاتے ہیں کہ میں نے آج10 مریضوں کو جینیٹک دوا لکھی ہے۔ سب واپس آگئے انہیں وہ دوائیں کہیں نہیں ملیں۔ جینیٹک دوا کی دوکانیں سرکار کیوں نہیں کھولتی؟ مجھے تو لگتا ہے کہ پورا ’ستیہ مے جیتے‘ پروگرام ہی ڈاکٹروں کو نشانے پر لینے کیلئے بنایا گیا ہے۔ ابھی تک پروگرام گمراہ کن ہے اور ان چار میں سے تین ڈاکٹروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
(انل نریندر)

01 دسمبر 2011

میڈیکل پیشے میں اخلاقی اصولوں میں آئی گراوٹ


Published On 1st December 2011
انل نریندر
میری رائے میں جتنی اقدار میں گراوٹ میڈیکل پروفیشن میں آئی ہے شاید اتنا کسی اور پیشے میں نہیں دیکھنے کو ملی۔ آج پیسہ ہی کچھ ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے لئے سب کچھ رہ گیا ہے۔ ایک وقت تھا جب انسانی خدمت کرنا ایک بہت بڑا ثواب کا کام مانا جاتا تھا اور بیمار کا علاج کرنا ہر ڈاکٹر اور ہسپتال کا فرض تھا۔ ان کے ہاتھوں میں شفاء بھی تبھی تھی۔ آج تو کچھ ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے چکر میں ایک بار آدمی پھنس جائے تو اس کا تو علاج کراتے کراتے گھر بار سب کچھ بک سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب ہمارے پتا شری سورگیہ کے نریندرجی پچھلے برس بیمار ہوئے تھے تو انہیں ہم مشرقی دہلی کے ایک نامور پرائیویٹ ہسپتال میں اس لئے لے گئے تھے کہ نمونیا کی معمولی شکایت جلد دور ہوجائے گی اور وہ اچھی ،صاف ستھری جگہ میں صحت یاب ہوجائیں گے۔لیکن ان کی بیماری تو بڑھتی گئی اور محض 10 دنوں میں سارا کھیل ختم ہوگیا اور روزانہ بل 60 سے70 ہزار روپے بنتا چلا گیا۔ ایک بار جاکر ایسے پھنسے کہ نہ تو ہم انہیں کسی دوسرے ہسپتال میں لے جانے کی حالت میں تھے اور وہاں ان کے علاج کی بجائے بیماریاں بڑھتی جارہی تھیں۔آخر10 دن بعد انہوں نے اس ہسپتال میں اپنی آخری سانس لی۔ ہم گئے تو تھے ان کو صحت یاب کرانے کیلئے لیکن ان کے مرتے دم تک لاکھوں کا بل بن گیا۔ کرتے تو کیا کرتے؟ ایسے سینکڑوں معاملے روزانہ ہسپتالوں میں ہورہے ہیں۔ مریض اور ان کے رشتے دار ایسے پھنستے ہیں کہ انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ کریں تو کیا کریں۔ ادھر کنواں تو ادھر کھائی۔ اگر آپ کے گھٹنے میں تکلیف ہو تو آپ ہڈیوں کے کسی ڈاکٹر کے پاس دکھانے جاتے ہیں تو وہ سیدھا آپ کو کہے گا آپ کا گھٹنا خراب ہوگیا ہے۔ آپ کی نی(گھٹنا) تبدیل ہوگا۔ بیشک اس وقت آپ کے گھٹنے کے بدلنے کی شاید ضرورت نہ ہواور وہ فزیوتھریپی اور دواؤں سے ٹھیک ہو سکتا ہو لیکن سرجن مہودے صرف پیسے بنانے کے لئے آپ کا گھٹنا بدلوادیں گے۔ آپریشن کے بعد اپنے طے شدہ فزیوتھراپسٹ کے پاس بھیج دیں گے اور آپ کی فیزیو تھریپی پانچ یا چھ مہینے چلے گی۔ فزیوتھریپی کی فیس میں سرجن کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کو معمولی کھانسی ،زکام کی شکایت ہے آپ کسی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو وہ آپ کو درجنوں ٹیسٹ لکھوادے گا۔ ان ٹیسٹوں کی بیشک ضرورت نہ ہو لیکن کیونکہ خون جانچ لیب میں ان کا کمیشن مقرر ہے اس لئے وہ زبردستی آپ کا دو تین ہزار روپے کا بل بنوا دے گا۔ آج کل پانچ ستارہ ، سیون اسٹار ہسپتال کھل گئے ہیں۔ یہاں ڈاکٹروں کو سالانہ پیکیج دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی ڈاکٹر ان ہسپتالوں سے وابستہ ہونا چاہے تو انہیں سالانہ پیکیج دیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ شرط بھی ہوتی ہے کہ وہ ڈاکٹر سال کے اتنے مریض لائیں گے یعنی سال کا اس کے ذریعے سے جتنا بزنس ہوگا ۔آج میڈ یکل پیشہ پیسوں کادھندہ بن گیا ہے۔ جتنا مریض کو نچوڑ سکو نچوڑ لو۔
دہلی کی سڑکوں کے کنارے پھل، سبزیاں، کپڑے وغیرہ بکنا عام بات ہے۔ لیکن اگر فٹ پاتھ کے کنارے دانت بکتے نظر آجائیں تو چونکئے نہیں۔ دہلی کی کئی سڑکوں کے فٹ پاتھ پر ایسے ڈینٹسٹ بیٹھے مل جائیں گے جن کے پاس نہ تو کوئی ڈگری ہے اور نہ ہی سرٹیفکیٹ لیکن آپ کے دانتوں کا ہر طرح کا علاج کرنے کی گارنٹی لینے کو تیار ہیں۔ اتنا ہی نہیں یہ جھولا چھاپ ڈاکٹر آپ کے گھر آکر علاج کرنے کی بھی سہولت دیں گے۔ رستے کا مال سستے میں والی کہاوت بھی یہاں کھری اترتی ہے۔ مریضوں کی جان کو ڈھال بنا کر ان کے رشتہ داروں سے پیسہ اینٹھنے والے ایک ڈاکٹر پرشانت کمار کو دہلی کی ایک عدالت نے سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا جس طرح اس نے اپنی ڈاکٹری کے پیشے اور ان کی ذمہ داریوں کو طاق پر رکھ کر پیسہ کمانے کا نرالہ طریقہ اپنایا، اسے دیکھتے ہوئے وہ کسی طرح کی نرمی کے حقدار نہیں۔ حادثے میں شدید طور پر زخمی ہونے پر کیلاش چند کو علاج کے لئے ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا تھا۔25 مئی 2004 کو ڈاکٹر پرشانت کمار نے کیلاش چند کے بیٹھے دویندر سے بہتر علاج کے لئے پانچ ہزار روپے کی رشوت مانگی تھی۔ اسی طرح سے ایک دوسرے شخص سنجیو بترا کو بھی ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ڈاکٹر پرشانت نے سنجیو بترا کے بھائی مکیش بترا سے بھی تین ہزار روپے رشوت مانگی تھی۔ گواہ مکیش بترا نے عدالت کو بتایا کہ وہ دہلی ہائی کورٹ میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان کے بھائی سنجیو بترا کا 18 مئی 2004ء کو حادثہ ہوا تھا۔ انہیں علاج کیلئے ٹروماسینٹر میں داخل کرایا گیا۔ 27 مئی 2004 ء کو ان کے بھائی کا آپریشن ہونا تھا۔ آپریشن سے پہلے ہی ڈاکٹر پرشانت ان سے آکر ملا اور 10 ہزار روپے کی رشوت مانگی۔ اینٹی کرپشن برانچ نے ڈاکٹر پرشانت کے خلاف بدعنوانی انسداد ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔ عدالت نے ڈاکٹر پرشانت کو قصوروار قراردیا ہے اور تہاڑ جیل بھیج دیا۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس نے اپنے پیشے کا غلط استعمال کیا۔ مریض کا علاج کرنے کے لئے ایک ڈاکٹر نہ صرف سماجی بلکہ قانونی طور پر بھی پابند ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نے اپنی ذمہ داری کو ایمانداری سے نہیں پورا کیا۔ اب کتنے ڈاکٹر یہ دعوی کرسکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے پروفیشن سے ایمانداری سے کام لیا۔
Anil Narendra, Apollo Hospital, Daily Pratap, Doctors, Medical Profession, Vir Arjun

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟

ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھ...